Thursday, March 5, 2026

 

جب میزوں پر سفارت مر جائے

جنیوا کی مسکراہٹ سے بمباری تک — ایک سوالیہ منظرنامہ

جمعہ 27 فروری کو جنیوا میں مسودے کھلے،لہجے محتاط اور کیمرے تھکے ہوئے مذاکرات کاروں کی آنکھوں میں امید کی جھلک ڈھونڈ رہے تھے۔ ایرانی وزیر خارجہ سیدعباس عراقچی اور صدر ٹرمپ کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکاف نے ملاقات کے بعد اطمینان کا اظہار کیا۔ امریکہ کے دامادِ اول جیرڈ کشنر نے پراعتماد لہجے میں کہا ہم تنازعے کے حل کے قریب ہیں۔دنیا نے سمجھا شاید ایک اور بحران ٹل گیا۔

لیکن اگلے ہی دن فضا میں جنگی طیاروں کی گھن گرج تھی۔ سفارت کی میز پر رکھی فائل بند ہونے سے پہلے بارود نے گفتگو کا گلا گھونٹ دیا اور Epic Fury(قہرِ عظیم) کے عنوان سے متکبرانہ آپریشن بلکہ انسانیت کے قتل عام کا آغاز ہوگیا۔ صدر ٹرمپ کے قہر کا پہلا نشانہ ایرانی صوبے ہرموزگان کے شہر میناب میں لڑکیوں کا پرائمری اسکول بنا جہاں 140 کے قریب ننھی بچیاں اور انکی روزہ دار استانیاں اسکول کے ملبے تلے زندہ دفن ہوگئیں۔ اسی کیساتھ رہبرِ ایران ، 86 سالہ حضرت آئت اللہ سید خامنہ ای اپنی رہائش گاہ پر امریکہ اور اسرائیلی فضائیہ کی خوفناک بمباری سے بیٹی، داماد اور کم عمر نواسی کے ساتھ اپنے عقیدے پر قربان ہوگئے۔ یہ درس کربلا کا ہے کہ خوف بس خدا کا ہے۔

پہلا سوال: کیا یہ بین الاقوامی قانون کی روح کے خلاف ہے؟

اقوام متحدہ کے منشور کا آرٹیکل 2(4) طاقت کے استعمال کی ممانعت کرتا ہے، سوائے اس صورت میں کہ جب سلامتی کونسل اجازت دے یا براہِ راست دفاع درپیش ہو۔ یہاں تنازعے کے سفارتی حل پر نہ صرف گفتگو کامیابی سے جاری تھی بلکہ ایران و امریکہ دونوں معاملے کے جلد حل کے بارے انتہائی پرامید نظر آرہے تھے۔

یہ کاروائی امریکی قانون War Powers Resolution (1973) کی بھی صریح خلاف ورزی ہے کہ کسی ملک کے خلاف جنگ چھیڑنے سے پہلے کانگریس (پارلیمان) کو اعتماد میں لینا ضروری ہے۔ جنگیں صرف سرحدوں پر نہیں ہوتیں۔ مہذب دنیا میں یہ قوانین کی کتابوں میں بھی لڑی جاتی ہیں۔

دوسرا سوال: مقصد کیا ہے ،  سلامتی، جمہوریت یا نظام کی تبدیلی؟

امریکی صدر ڈانلڈ ٹرمپ نے ایران کی جوہری صلاحیتوں کے خاتمے اور ایک “آزاد، جمہوری ایران” کے قیام کو مقصد قرار دیا۔

یہاں تاریخ طنزیہ مسکراہٹ کے ساتھ سامنے آتی ہے۔ سات دہائی پہلے 1953 میں امریکی سی آئی اے اور برطانوی ٓ ٓM16 کی مشترکہ کاروائی کے نتیجے میں ایرانی تاریخ کے پہلے منتخب وزیر اعظم محمد مصدق کو معزول کیا گیا۔ اس وقت regime changeکا مقصد جمہوریت کی بساط لپیٹ کر شاہی اقتدار کو مضبوط کرنا تھا۔

آج دلیل بدلی ہوئی ہے یعنی مذہبی حکومت ہٹاکر جمہوری بندوبست قائم کیا جائے۔ سوال یہ ہے کہ کیا بیرونی عسکری مداخلت سے جمہوریت برآمد ہوتی ہے؟ عراق، لیبیا اور افغانستان کی مثالیں ابھی تاریخ کے گرد سے باہر نہیں آئیں۔ جبکہ وینیزویلا تو کل ہی کی بات ہے۔

تیسرا سوال: ایران کا جوہری باب — کہاں سے شروع ہوا؟

ایران نے جوہری توانائی کی تلاش 1957 میں امریکی تعاون سے شروع کی۔ اسوقت امریکی  صدر آئزن ہاور  کے “Atoms for Peace” پروگرام کے تحت تہران کو تیکنیکی معاونت فراہم کی گئی۔اسلامی بم کا شور اٹھنے پر 2015 میں ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان Joint Comprehensive Plan of Action (برجام) طے پایا۔ اس معاہدے کو نہ صرف اقوام متحدہ کی قرارداد 2231 کی تائید حاصل تھی بلکہ امریکی کانگریس نے بھی اسکی بھاری اکثریت سے توثیق کی، لیکن 2018 میں صدر ٹرمپ نے خود ہی امریکہ کو اس معاہدے سے علیحدہ کرلیا۔ گزشتہ سال 22جون کو فردو، نطنز اور اصفہان کی جوہری تنصیبات کو30 سے زیادہ بنکر بسٹر بم گراکر تباہ کردیاگیا۔اس تیشہِ نصف شب آپریش(Operation Midnight Hammer) کے بعد قوم سے خطاب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے فخر سے کہا کہ ایران کا جوہری پروگرام Obliterateیا خاک کردیا گیا۔اگر وہ دعویٰ درست تھا تو کریدتے ہو جو اب راکھ،  جستجو کیا ہے؟

چوتھا سوال: فلسطین، طاقت کا توازن اور بیانیہ

اس حملے کے محرکات پر سب سے اچھا تبصرہ اقوام متحدہ میں  عرب  لیگ کے نمائندے ماجد عبدالعزیز کا ہے۔ جنھوں نے  ایران کے مسئلے پر بلائی گئےسلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس میں کہا کہ اسرائیل اس کشیدگی کے ذریعے فلسطینی علاقوں پر اپنے قبضے کے خاتمے سے گریز، ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام،  دو ریاستی حل اور بین الاقوامی قانونی اصولوں کے نفاذ کے تحت اقوامِ متحدہ میں فلسطین کی رکنیت کی راہ میں رکاوٹ ڈالنا چاہتا ہے۔یہ موقف ایک بڑے جغرافیائی بیانیے کی عکاسی کرتا ہے، جس میں ایران کا مسئلہ فلسطین اور اسرائیل کی سلامتی کے مباحث سے جڑا ہوا نظر آرہا ہے۔

پانچواں سوال: کیا ایران کی تقسیم کا کوئی منصوبہ ہے؟

ایران کی نئی صورت گری کے بارے میں امریکہ اور اسرائیلی منصوبے  میں اختلاف نظر آتاہے۔ صدر ٹرمپ ایک آزاد و خودمختار جمہوری ایران چاہتے ہیں جبکہ نیتن یاہو نے حملے کے آغاز پر ایرانیوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا 'ائےاہلِ فارس، کردو، آذریو، بلوچو اور اہوازیو کھڑے ہوجاو'۔اسرائیل سے خبریں آرہی ہیں کہ ایران کو  پانچ خودمختار ممالک یعنی فارس،  کردستان، ایرانی آذربائیجان، بلوچستان اور اہواز میں تقسیم کردیا جائیگا۔

چھٹا سوال: یہ جنگ ہے یا سارے علاقے میں وحشت کا ناچ؟

جمعہ 28 فروری کو شروع ہونے والی خونریز جنگ اب تک جاری ہے۔ امریکہ اور اسرائیلی طیارے سارے ایران پر بمباری اور خلیج  میں تعینات امریکہ جہاز میزائیل برسارہے ہیں امریکیوں کے مطابق ان حملوں کا ہدف ایران کی عسکری تنصیات خاص طور سے ایرانی بحریہ اور میزائل لانچرز ہیں لیکن ایرانیوں کا کہنا ہے کہ حملے میں ہزاروں شہری مارے گئے۔جواب میں ایران نے اسرائیل کے مختلف شہروں کے ساتھ متحدہ عرب امارات، کوئت، سعودی عرب، بحرین، قطر اور عُمان میں امریکہ کے فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا۔ اسرائیلی دارالحکومت اور یروشلم میں ایرانی میزائیل حملوں میں کئی شہری ہلاک ہوئے۔علاقے میں فضائی ٹریفک معطل ہے اور پروازیں منسوخ ہونے کی وجہ سے لاکھوں مسافر پھنسے ہوئےہیں۔

پاکستان اور خطے کا کڑا امتحان

پاکستان پہلے ہی سرحدی اور داخلی دباؤ کا سامنا کر رہا ہے۔ بلوچستان میں شورش، افغانستان کی غیر یقینی صورتحال اور گوادر بندرگاہ کی تزویراتی اہمیت کے علاوہ چین کا Belt and Road Initiative جنوبی ایشیا کو عالمی جغرافیائی سیاست کے مرکز میں لے آیا ہے۔ ایران کے حصے بخرے اور سرحد پر ایک آزاد بلوچ ریاست کاقیام، اسلام آباد کے دردِ سر میں اضافے کے ساتھ سارے علاقے کو  عدم استحکام میں مبتلا کرسکتا ہے

بارود کا مختصر شور اور تاریخ کی طویل گونج

جنگی طیارے چند منٹوں میں اہداف تباہ کر سکتے ہیں، مگر قوموں کے شعور کو نہیں۔سفارت کی شکست عارضی جوش کو جنم دیتی ہے، مگر پائیدار امن صرف سیاسی تدبر سے آتا ہے۔ایران کی سرزمین پر گرنے والا ہر بم مشرقِ وسطیٰ کے مستقبل پر ایک سوالیہ نشان ثبت کر رہا ہے۔کیا امریکہ اور اسرائیل کی  مشترکہ جارحیت، استحکام و  سلامتی کا راستہ کھولے گی یا اپنے نام کی طرح  یہ آپریشن علاقے پر مداخلت، مزاحمت اور عدم استحکام کی شکل میں قہرِ عظیم نازل کریگا؟؟؟

ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل کراچی 6 مارچ 2026


No comments:

Post a Comment