اسلام آباد
یادداشت: معاہدہ طے، مگر مفہوم ابھی باقی
ایران،
امریکہ اور اسرائیل کے درمیان مفاہمت یا تعبیرات کی نئی جنگ
امریکہ
اور ایران کے درمیان ایک عبوری مفاہمت طے پا گئی ہے۔ پیر 15 جون کو صبح سویرے اس
کا اعلان کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ دستخط کی رسمی تقریب 19 جون کو
سوئٹزرلینڈ میں ہوگی۔ صدر ٹرمپ کے مطابق اتوار کے روز امریکی نائب صدر جے ڈی وینس
اور ایرانی پارلیمان کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے ڈیجیٹل دستخط کر کے اس
یادداشت کو قانونی عہد کی شکل دے دی ہے۔ پاکستانی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ فریقین
نے لبنان سمیت تمام محاذوں پر فوجی کارروائیاں فوری اور مستقل طور پر ختم کرنے کا
عزم ظاہر کیا ہے۔
مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی، آبنائے ہرمز
کی بندش، ایران پر اقتصادی و عسکری دباؤ، اسرائیلی حملوں اور امریکی دھمکیوں کے
درمیان شاید پہلی مرتبہ ایسا موقع پیدا ہوا ہے جب فریقین کم از کم عارضی طور پر
تلواریں نیام میں رکھنے پر آمادہ دکھائی دیتے ہیں۔ اگرچہ اس مرحلے کو مکمل امن
نہیں کہا جا سکتا، لیکن یہ ایک ایسے عمل کا آغاز ضرور ہے جو خطے کو مزید تباہی سے
بچانے کی امید پیدا کرتا ہے۔ "اسلام آباد یادداشت" (Islamabad MOU) کوئی حتمی امن معاہدہ نہیں بلکہ خود صدر
ٹرمپ کے الفاظ میں “A
Deal to Make a Deal” یعنی ایک ایسے معاہدے کا معاہدہ ہے جو
مستقبل کے جامع مذاکرات کی بنیاد فراہم کرے گا۔
اس میں
لکھا کیا ہے؟
اسلام آباد یادداشت کے بارے میں سب سے بڑا
سوال یہی ہے کہ آخر اس میں لکھا کیا گیا ہے؟ اسلئے کہ دونوں فریق اس یادداشت کی مختلف تشریحات پیش کر رہے ہیں۔
واشنگٹن کے خیال میں یہ ایران کے جوہری پروگرام پر اسکی ایک بڑی کامیابی ہے، جبکہ
تہران کا مؤقف ہے کہ اس مرحلے پر اصل توجہ جنگ بندی، آبنائے ہرمز، بحری ناکہ بندی
کے خاتمے، منجمد اثاثوں اور علاقائی کشیدگی میں کمی پر ہے۔ صدر ٹرمپ نے 300 ارب
ڈالر کے بحالی فنڈ اور مالی رعایتوں کی خبروں کو "فیک نیوز" اور
ڈیموکریٹک پروپیگنڈا قرار دیا لیکن انہی کی انتظامیہ کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے
صحافیوں کو بتایا کہ منجمد اثاثوں کی واپسی، پابندیوں میں نرمی اور ایران کی
تعمیرِ نو کے لئے بڑے مالی پیکج پر بات ہوئی ہے۔ صدر ٹرمپ نے کہا کہ MOU کا متن جمعہ کی دستخطی تقریب
کے بعد جاری ہوگا، جبکہ ان کے معاونین کا کہنا ہے کہ 24 سے 48 گھنٹوں میں متن شائع
کیا جا سکتا ہے۔ نائب صدر جے ڈی وینس بھی اس سوال کا واضح جواب نہیں دے سکے کہ اگر
ایران معاہدے کی غلط تشریح کر رہا ہے تو پھر متن عوام کے سامنے کیوں نہیں لایا جا
رہا؟
تشریح
پر خود واشنگٹن یکسو نہیں
اسلام آباد یادداشت کے گرد پیدا ہونے والا
ابہام صرف واشنگٹن اور تہران کے درمیان نہیں بلکہ خود امریکی انتظامیہ کے اندر بھی
موجود دکھائی دیتا ہے۔ نائب صدر جے ڈی وینس کا کہنا ہے کہ معاہدے کی بنیادی شقوں
میں بین الاقوامی جوہری معائنہ کاروں کی ایران واپسی اور افزودہ یورینیم کے ذخائر
کے خاتمے کا واضح ذکر موجود ہے۔ ان کے مطابق یہ نکات یادداشت میں ’’بہت واضح‘‘
انداز میں درج ہیں۔ لیکن دوسری جانب امریکی خبر رساں ادارے Axios کے
مطابق سی آئی اے کے سربراہ جان ریٹکلف نے صدر ٹرمپ کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ
امریکی انٹیلی جنس کے جائزے سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران کی نیت معاہدے کے تحت کئے
گئے وعدوں سے مطابقت نہیں رکھتی۔ وزیر خارجہ مارکو روبیو اور وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ
بھی اسی نوعیت کے تحفظات کا اظہار کر چکے ہیں۔
خود صدر ٹرمپ کے بیانات میں بھی مکمل
یکسانیت نظر نہیں آتی۔ کبھی وہ کہتے ہیں کہ ایران نے ہمیشہ کے لئے جوہری ہتھیار سے
دستبردار ہونے پر اتفاق کر لیا ہے، اور کبھی یہ مؤقف سامنے آتا ہے کہ معاہدے کی
تفصیلات ابھی تکنیکی مراحل سے گزر رہی ہیں۔ اگر نائب صدر معاہدے کی درست تشریح کر
رہے ہیں تو پھر سی آئی اے کیوں مطمئن نہیں؟ اور اگر انٹیلی جنس اداروں کی تشخیص
درست ہے تو نائب صدر اتنے اعتماد سے کیسے کہہ رہے ہیں کہ افزودہ یورینیم اور
معائنہ کاروں کا معاملہ طے ہو چکا ہے؟
یوں محسوس ہوتا ہے کہ ابہام ایران کے مؤقف
میں کم اور امریکی تشریح میں زیادہ ہے۔ تہران تو مسلسل یہی کہہ رہا ہے کہ اس نے
کبھی جوہری ہتھیار بنانے کا ارادہ نہیں رکھا، لیکن واشنگٹن میں صدر، نائب صدر، سی
آئی اے، وزارتِ خارجہ اور پینٹاگون گویا ایک ہی دستاویز کو مختلف زاویوں سے پڑھ
رہے ہیں۔ شاید اسی لیے یادداشت کا مکمل متن اب تک منظرِ عام پر نہیں آ سکا۔ اگر
خود امریکی انتظامیہ اس کے مفہوم پر متفق نہیں تو کیا واقعی معاہدہ ہو چکا ہے، یا
صرف ایک ایسے معاہدے کا اعلان ہوا ہے جس کی تعبیر ابھی باقی ہے؟
جنگ
بندی پہلے، جوہری مذاکرات بعد میں
اس عبوری یادداشت کی فوری ترجیح جوہری
پروگرام کے بجائے جنگ بندی اور کشیدگی میں کمی دکھائی دیتی ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ
سید عباس عراقچی متعدد مواقع پر واضح کر چکے ہیں کہ جوہری پروگرام پر باضابطہ
مذاکرات اس وقت ہی شروع ہوں گے جب عبوری معاہدے پر عمل درآمد کا مرحلہ آگے بڑھے
گا۔
دستیاب اطلاعات سے یہی تاثر ملتا ہے کہ
موجودہ مفاہمت میں لبنان سمیت مختلف محاذوں پر جنگ بندی، آبنائے ہرمز میں جہاز
رانی کی بحالی، ایران کی بحری ناکہ بندی کا خاتمہ، منجمد اثاثوں کے معاملات اور
علاقائی کشیدگی میں کمی جیسے موضوعات کو ترجیح دی گئی ہے۔ گویا پہلے میدانِ جنگ کو
خاموش کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے اور اس کے بعد زیادہ پیچیدہ جوہری تنازع زیرِ بحث
آئے گا۔
ہرمز
اور افزودہ یورینیم: اصل اختلافات باقی ہیں
بلاشبہ MOU ایک اہم پیش رفت ہے، لیکن بنیادی اختلافات ابھی ختم نہیں
ہوئے۔ آبنائے ہرمز کے بارے میں ایرانی موقف یہ ہے کہ جنگ سے پہلے والی صورتحال من
و عن بحال نہیں ہوگی اور ایران اپنے انتظامی اور خودمختار کردار پر سمجھوتہ نہیں
کرے گا۔ اگر یہ مؤقف برقرار رہتا ہے تو اسے تہران کی ایک اہم سفارتی کامیابی سمجھا
جا سکتا ہے۔اسی طرح افزودہ یورینیم کے ذخائر کے بارے میں بھی دونوں فریق مختلف
تعبیرات پیش کر رہے ہیں۔ امریکی حلقے اسے جوہری تنازع کے حل کی جانب ایک فیصلہ کن
قدم قرار دیتے ہیں، جبکہ ایرانی حکام مسلسل اس بات کی تردید کر رہے ہیں کہ افزودہ
یورینیم کی حوالگی یا اس سے دستبرداری پر کوئی حتمی اتفاق ہو چکا ہے۔ یہی وہ نکتہ
ہے جو مستقبل کے مذاکرات میں سب سے زیادہ حساس ثابت ہو سکتا ہے۔
امن کی
راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ
اس پورے عمل کی سب سے بڑی آزمائش اسرائیل
کا ردعمل ہوگا۔ اسرائیلی سیاسی حلقوں، بالخصوص حزبِ اختلاف کے بعض رہنماؤں نے
مجوزہ مفاہمت پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ اگر ایران کے
میزائل پروگرام، علاقائی سرگرمیوں اور جوہری صلاحیت کے بارے میں واضح ضمانتیں شامل
نہیں کی جاتیں تو یہ معاہدہ مستقبل میں مزید پیچیدگیاں پیدا کر سکتا ہے۔یہ
اختلافات ظاہر کرتے ہیں کہ واشنگٹن، تہران اور تل ابیب کے مفادات اب بھی ایک دوسرے
سے مختلف ہیں اور کسی بھی لمحے یہ تفاوت مذاکراتی عمل کو متاثر کر سکتا ہے۔
پاکستان
اور خلیجی سفارت کاری
اس مفاہمتی عمل میں پاکستان کا کردار غیر
معمولی اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ مختلف سفارتی ذرائع کے مطابق اسلام آباد نے نہ صرف
امریکہ اور ایران کے درمیان رابطوں کو برقرار رکھنے میں مدد دی بلکہ خلیجی ممالک
کے ساتھ بھی مسلسل مشاورت جاری رکھی۔ قطر، متحدہ عرب امارات اور دیگر علاقائی
ریاستوں کی شمولیت نے بھی کشیدگی میں کمی کے امکانات کو تقویت دی ہے۔پاکستان کی
سفارتی کوششوں کے نتیجے میں اسلام آباد ایک مرتبہ پھر علاقائی ثالثی کے مرکز کے
طور پر سامنے آیا ہے۔ یہ پیش رفت پاکستان کے لئے نہ صرف سفارتی اعتبار سے اہم ہے
بلکہ اس سے خطے میں اس کے کردار کو نئی جہت بھی مل سکتی ہے۔
امن کی
کرن یا تعبیرات کا بحران؟
اس وقت سب سے خوش آئند بات یہ ہے کہ ایک سو
دس دن سے زائد عرصے تک جاری رہنے والی خونریزی کے بعد کم از کم جنگ کے وقفے اور
مذاکرات کے آغاز کی امید پیدا ہوئی ہے۔ تاہم یہ راستہ ابھی بھی خطرات سے خالی
نہیں۔ صدر ٹرمپ کے جارحانہ بیانات، اسرائیلی تحفظات، افزودہ یورینیم کا تنازع،
آبنائے ہرمز کا مستقبل اور علاقائی طاقتوں کے متضاد مفادات کسی بھی وقت نئی کشیدگی
کو جنم دے سکتے ہیں۔
یادداشت پر اتفاق کے بعد ایک انٹرویو میں
صدر ٹرمپ نے کہا کہ اگر ایران امریکہ کے ساتھ حتمی جوہری معاہدے تک نہ پہنچ سکا تو
فوجی کارروائی دوبارہ شروع ہو سکتی ہے۔ انہوں نے یہاں تک کہا کہ امریکہ مشرقِ
وسطیٰ کا ’’نگہبان‘‘ بن سکتا ہے۔ مذاکرات کے ابتدائی مرحلے میں طاقت کے استعمال کی
دھمکیاں کسی بھی امن عمل کے لیے نیک شگون نہیں ہوتیں۔ اس طرح کے بیانات نہ صرف
اعتماد کو مجروح کرتے ہیں بلکہ فریقین کو دفاعی پوزیشن اختیار کرنے پر بھی مجبور
کر دیتے ہیں۔ مزید
تشویش کی بات یہ ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کے وسائل یا آمدنی پر بیرونی کنٹرول کے اشارے
صرف خطے کے ممالک ہی نہیں بلکہ روس اور چین جیسی بڑی طاقتوں کے لیے بھی باعثِ
تشویش بن سکتے ہیں۔ بالخصوص چین، جو اپنی توانائی کی ضروریات کا بڑا حصہ مشرقِ
وسطیٰ سے حاصل کرتا ہے، ایسے بیانات کو خطے کے استحکام کے لیے خطرہ سمجھ سکتا ہے۔
اگر واقعی ایک تاریخی مفاہمت
جنم لے رہی ہے تو اس کا خیرمقدم باعزت اور مفاہمانہ انداز میں ہونا چاہیے۔ لیکن
تنازعے کی جڑ یعنی ایران کے جوہری پروگرام کی حقیقت ہی غیر واضح ہے۔ امریکہ ایران
سے اس بات کی ضمانت چاہتا ہے کہ وہ جوہری ہتھیار نہیں بنائےگا جبکہ تہران کہتا ہے
ہمارا جوہری ہتھیار بنانے کا کبھی ارادہ نہیں رہا۔ جوہری توانائی کے حصول و ترقی
کا پروگرام 1957 میں امریکہ کے تعاون سے شروع ہوا جسے خود صدر آئرن ہاور نے Atom for Peaceکا نام
دیا اور یہی عزم 2015 میں ایک عالمی معاہدہ برجام (JCPOA)المعروف
5+1کی
بنیاد ہے جسکی اقوام متحدہ کے علاوہ امریکی پارلیمان کے دونوں ایوانوں نے دوتہائی
اکثریت سے توثیق کی۔ گویا امریکہ ایران سے ایسا کام نہ کرنے کی ضمانت چاہتا ہے۔
جسکی ایران کو کبھی خواہش ہی نہیں رہی۔
اسوقت اسلام آباد یادداشت کے متن سے زیادہ اس کی
تشریح موضوعِ بحث بنتی نظر آرپی ہے۔ اگر معاہدے کے فریق اور اس کے ضامن ہی ابھی تک
اس کے الفاظ اور مقاصد پر یکساں رائے نہیں رکھتے تو اصل امتحان دستخط نہیں بلکہ
عمل درآمد ہوگا۔ آنے والے ہفتے یہ طے کریں گے کہ اسلام آباد یادداشت واقعی مشرقِ
وسطیٰ میں امن کا پہلا قدم ہے یا محض ایک ایسے سفر کا آغاز جس کی منزل ابھی دھند
میں چھپی ہوئی ہے
ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل کراچی 19 جون 2026
ہفت روزہ دعوت دہلی 19 جون 2026
ہفت روزہ رہبر سرینگر 21 جون 2026
No comments:
Post a Comment