Friday, June 12, 2026

 

شاخِ زیتون اور شعلۂ جنگ

امن کے وعدے، جنگ کے سائے۔ دھمکیوں اور سفارت کاری کا متضاد منظرنامہ

ایران کے خلاف اسرائیلی و امریکی کارروائیوں اور اس کے بعد شروع ہونے والے بحران کو ایک سو دن مکمل ہوچکے ہیں۔ اگرچہ پاکستان کی ثالثی سے طے پانے والی جنگ بندی 8 اپریل سے نافذ العمل ہے، لیکن بحری ناکہ بندی، آبنائے ہرمز کی بندش، وقفے وقفے سے ہونے والے حملوں اور دونوں جانب سے جاری سخت بیانات نے اس جنگ بندی کو شاخِ نازک پر بنے آشیانے سے زیادہ مضبوط نہیں ہونے دیا۔

گزشتہ ہفتے لبنان پر اسرائیلی حملوں میں شدت آنے کے بعد ایرانی پارلیمان کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے خبردار کیا کہ امریکہ اور اسرائیل نے ناکہ بندی اور بیروت پر بمباری کے ذریعے ثابت کردیا ہے کہ وہ سفارت کاری نہیں بلکہ طاقت کی زبان پر یقین رکھتے ہیں۔ ان کے بقول اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو خطے میں امریکی اڈے اور اسرائیلی اثاثے ایران کے نزدیک جائز عسکری اہداف تصور ہوں گے۔

اسی روز NBC ٹیلی ویژن کے پروگرام Meet the Press میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نسبتاً مفاہمانہ لہجہ اختیار کرتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن, ایران کے ساتھ معاہدے کے بہت قریب پہنچ چکا ہے اور صرف ایسی واضح ضمانتیں چاہتا ہے جو ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے مستقل طور پر روک سکیں۔ تاہم چند ہی لمحوں بعد وہ اپنے روایتی انداز میں واپس آتے ہوئے بولے کہ اگر معاہدہ نہ ہوا تو وہ ایران پر ’’جہنم کے دروازے کھول دیں گے‘‘۔

اس کے فوراً بعد کشیدگی نے ایک اور خطرناک موڑ لیا۔ بیروت پر حملوں کے ردعمل میں ایران نے شمالی اسرائیل کی جانب میزائل داغے۔ اسرائیلی کابینہ نے جوابی کارروائی پر غور شروع کردیا اور وزیرِ قومی سلامتی ایتامر بن گوئر نے یہاں تک کہہ دیا کہ ’’آج رات تہران جل رہا ہوگا‘‘۔ تاہم امریکی ذرائع کے مطابق صدر ٹرمپ کی مداخلت پر وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے فوری جوابی حملہ مؤخر کردیا۔ دوسری جانب تہران نے بھی اشارہ دیا کہ اگر لبنان پر مزید حملے نہ ہوئے تو وہ تحمل کا مظاہرہ کرے گا۔

امن اور جنگ کے درمیان

لیکن نیتن یاہو اپنے انتہا پسند ساتھیوں کا دباو برداشت نہ کرسکےاور اسرائیلی طیاروں نے تہران، اصفہان، تبریز و دیگر مقامات پر حملے کئے۔ ان کارروائیوں میں ڈرون تنصیبات اور خوزستان کے ماہشہر پیٹروکیمیکل کمپلیکس کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ جواباً ایران نے وسطی اسرائیل میں تل نوف فضائی اڈے اور حیفا کے صنعتی علاقے پر میزائل داغے۔

ایران اور لبنان کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے یمن کے حوثیوں نے بھی شمالی اسرائیل کی جانب میزائل برسائے اور باب المندب سے اسرائیلی جہازوں کی آمدورفت روکنے کا اعلان کردیا۔ چونکہ آبنائے ہرمز کی بندش کے بعد ایشیا کی جانب توانائی کی ترسیل کا بڑا بوجھ اسی بحری راستے پر منتقل ہوچکا ہے، اس لیے مبصرین کو خدشہ ہے کہ اگر باب المندب بھی غیر محفوظ ہوگیا تو عالمی تجارت اور توانائی کی رسد کو ایک نئے بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

پیر کی صبح صورتحال اس قدر کشیدہ دکھائی دے رہی تھی کہ ایک وسیع ایران۔اسرائیل جنگ کا خدشہ پیدا ہوگیا۔ اسی دوران صدر ٹرمپ نے اسرائیلی چینل 12 سے گفتگو کرتے ہوئے دونوں فریقوں سے تحمل کی اپیل کی اور خبردار کیا کہ اگر اسرائیل نے کشیدگی میں مزید اضافہ کیا تو وہ سفارتی طور پر تنہا پڑ سکتا ہے۔ اس کے فوراً بعد ایران کے خاتم الانبیا ہیڈکوارٹر (GHQ)نے اعلان کیا کہ اگر اسرائیل مزید حملوں سے گریز کرے تو تہران بھی تحمل کا راستہ اختیار کرے گا۔ بعد ازاں اسرائیلی وزیراعظم نے اعلان کیا کہ صدر ٹرمپ کے کہنے پر ہم نے ایران پر حملہ موخر کردیا تاہم حزب اللہ کے خلاف کاروائی جاری رہیگی۔

یہ تمام واقعات ایک بار پھر اس حقیقت کو اجاگر کرتے ہیں کہ اگرچہ جنگ بندی کاغذ پر موجود ہے، لیکن خطے میں امن اور جنگ کے درمیان فاصلہ اب بھی چند فیصلوں، چند بیانات اور چند میزائلوں سے زیادہ نہیں۔ایران اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی کے پرامن خاتمے کی کوئی واضح صورت فی الحال دکھائی نہیں دیتی۔

جلد ختم ہونے والی جنگ جو ختم نہیں ہورہی

گزشتہ ہفتے ریاست وسکونسن (Wisconsin)میں کسانوں سے خطاب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے معاملے سے "بہت جلد" نمٹ لیا جائے گا اور اس کے نتیجے میں کھاد کی قیمتیں دوبارہ کم ہوجائیں گی۔ اس سے قبل NBC کو دئے گئے ایک انٹرویو میں انہوں نے ایرانیوں کو "مضبوط"، "خودمختار" اور "باعزت" قوم قرار دیتے ہوئے اعتراف کیا کہ معاملات توقع سے زیادہ وقت لے رہے ہیں۔ اسی گفتگو میں انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایران کے پاس اب بھی اپنے میزائل ذخیرے کا قابلِ ذکر حصہ موجود ہے۔ یہ بیان ان سابقہ دعوؤں سے مختلف تھا جن میں ایرانی عسکری صلاحیتوں کو فیصلہ کن حد تک تباہ کرنے کی بات کی گئی تھی۔

مہنگی کھاد اور امریکی کسان

کشیدگی کے معاشی اثرات اب واضح ہونے لگے ہیں۔ خلیج فارس اور آبنائے ہرمز کے گرد غیر یقینی صورتحال نے توانائی کی عالمی منڈیوں کو متاثر کیا ہے، جس کا براہِ راست اثر کھاد کی قیمتوں پر پڑ رہا ہے۔زرعی ماہرین خبردار کررہے ہیں کہ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو چند ماہ بعد مہنگی کھاد کی قیمت اناج، سبزیوں اور گوشت کی بڑھتےدام کی صورت میں عام صارف تک منتقل ہوجائے گی۔ وسکونسن میں صدر ٹرمپ کی تقریر دراصل دیہی امریکہ کو یہ یقین دلانے کی کوشش تھی کہ بحران قابو میں ہے، مگر زمینی حقائق اس قدر سادہ نہیں۔

خلیج فارس میں جنگ بندی کی نازک کیفیت

ادھر خلیج فارس میں جنگ بندی کی صورتحال مسلسل دباؤ کا شکار ہے۔ قصرِ مرمریں کی جانب سے شاخ زیتون لہرائی جارہی ہے تو خلیجِ فارس میں امریکی جہاز اور بمبار شعلے اگل رہے ہیں۔گزشتہ ہفتے امریکی فضائیہ نے آبنائے ہرمز، جزیرہ قشم اور ساحلی شہر گروک میں ایرانی جہازوں اور تنصیبات پر حملے کئے تو جواباً ایران نے امریکی جنگی جہاز (Destroyer)کے طرف میزائیل داغے اور ایرانی میزائیلوں نے کوئت اور بحرین میں امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا۔کوئت پر مبینہ ایرانی حملے میں انٹرنیشنل ائرپورٹ کو نقصان پپہنچا۔ ایک شخص جاں بحق اور 63افراد زخمی ہوگئے۔ خبروں کے مطابق ایران نے کوئتی پانیوں میں ام قصر کے قریب کنٹینروں سے لدے پانامہ پرچم بردار جہاز MSC Sariska کو میزائیل حملے میں ناکارہ کردیا۔

تہران کا وسیع تر ایجنڈا

تنازع کا ایک اہم پہلو اس کی جغرافیائی حدود سے متعلق ہے۔ واشنگٹن اس بحران کو بنیادی طور پر ایران اور امریکہ کے درمیان تنازع سمجھتا ہے، جبکہ تہران اسے غزہ، لبنان، یمن، غربِ اردن اور خلیج فارس سمیت پورے خطے سے جوڑ کر دیکھتا ہے۔ ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے واضح کیا ہے کہ پابندیوں کے خاتمے، منجمد اثاثوں کی واپسی اور غزہ و لبنان سے اسرائیلی افواج کے انخلا کے بغیر پائیدار امن ممکن نہیں۔ وزیر خارجہ عباس عراقچی بھی بارہا اشارہ دے چکے ہیں کہ لبنان اور غزہ میں کشیدگی بڑھنے کی صورت میں سفارتی عمل متاثر ہوسکتا ہے۔

منجمد اثاثوں کا نیا تنازع

منجمد اثاثون کے بارے میں تازہ ترین خبر نے ایران کو مزید مضطرب بلکہ مشتعل کردیا ہے۔ رائٹرز کے مطابق امریکہ، ایران کے منجمد اثاثے اپنے خلیجی اتحادیوں کو دستیاب کرنے پر غور کررہا ہے تاکہ ایرانی میزائیل اور ڈرون حملوں سے پہنچنے والے نقصان کی مرمت و بحالی میں مدد دی جا سکے۔امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے اپنی وزارت کے حکام کو مبینہ طور پر ہدایت کی ہے کہ وہ خلیجی اتحادیوں کو ایران کی جانب سے پہنچائے گئے  نقصانات کی لاگت کا جائزہ لے۔جوہری بم کی تیاری کو بہانہ بناکر امریکہ نے ایرانی اثاثے منجمد کئے تھے۔ انھیں کسی اور ملک کے حوالے کرنا نہ صرف عالمی قوانین کی صریح خلاف ورزی ہے بلکہ یہ قدم ایران اور خلیجی ممالک کے تعلقات کو کشیدہ اور خطے غیر ضروری تناؤ پیدا کرنے کا سبب بن سکتا ہے۔اسوقت جبکہ خطے کو سب سے زیادہ ضرورت استحکام اور سفارتی توازن کی ہے یہ فیصلہ بگاڑ کی طرف ایک نپا تلا اور جانا بوجھا قدم لگتا ہے

سفارت کاری یا دھونس؟

صدر ٹرمپ کی تلون مزاجی، بیانات میں تضاد اور بیانئے میں عاجلانہ ترمیم امریکی کی سفارتی ساکھ کو متاثر کررہی ہے چار جون کو  صدر ٹرمپ نے واشنگٹن میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بہت ہی شائستہ انداز میں کہا کہ اگر موقع ملا تو وہ حضرت مجتبیٰ خامنہ ای سے ملاقات کو اپنے لئےاعزاز سمجھیں گے کہ وہ ایک قابل احترام شہرت " (Good Reputation) کے مالک ہیں۔ صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ اگر خامنہ ای صاحب سے ملاقات ہوئی تو وہ ان سے پورے احترام کے ساتھ پیش آئیں گے۔تاہم اسی سانس میں وہ یہ متکبرانہ دعویٰ کرگئے کہ امریکہ اگر ایران کا افزودہ یورینیم حاصل کرنا چاہے تو پاسداران ہمیں روک نہیں سکتے۔ اس قسم کی زبان کسی خوددار قوم کے ساتھ کامیاب سفارت کاری کی بنیاد نہیں بن سکتی۔بین الاقوامی تعلقات میں احترام صرف الفاظ سے نہیں بلکہ رویّوں سے ظاہر ہوتا ہے۔ قیادت کی تعریف اور اظہارِ احترام کیساتھ یہ تاثر کہ ہم جب چاہیں ایران کے تزویراتی اثاثوں پر قبضہ کرسکتے ہیں، مہمل سفارتکاری کی ایک بُری مثال ہے۔

امریکی کانگریس کی بے چینی

امریکی سیاسی حلقوں میں بھی اس جنگ کے بارے میں بے چینی بڑھ رہی ہے۔ ایوانِ نمائندگان نے ایران سے متعلق جنگی اختیارات محدود کرنے کی قرارداد 208 کے مقابلے میں 215 ووٹوں سے منظور کرلی۔ اہم بات یہ تھی کہ چار ریپبلکن ارکان نے بھی اپنی جماعت کی قیادت سے اختلاف کیا۔ یہ محض ایک پارلیمانی کارروائی نہیں بلکہ اس احساس کا اظہار بھی ہے کہ طویل کشیدگی کے معاشی اور سیاسی اثرات امریکی عوام تک پہنچ رہے ہیں۔ پارٹی ٹکٹ جیتنے کیلئے صدر ٹرمپ کی حمایت کافی ہوسکتی ہے، لیکن عام انتخابات میں ووٹر مہنگائی، ایندھن اور خوراک کی قیمتوں کے بارے میں جواب بھی مانگتے ہیں۔

جنگیں ہمیشہ میدانِ جنگ میں نہیں جیتی جاتیں۔ بعض اوقات عسکری کامیابیوں سے زیادہ اہم سوال یہ ہوتا ہے کہ سیاسی تصفیہ کس قیمت پر اور کن شرائط کے ساتھ ممکن ہوگا۔ آج ایران، امریکہ اور ان کے اتحادی اسی دوراہے پر کھڑے دکھائی دیتے ہیں۔ ایک طرف جنگ بندی کو پائیدار امن میں تبدیل کرنے کی کوششیں جاری ہیں تو دوسری طرف عدم اعتماد، معاشی دباؤ اور متضاد سیاسی ترجیحات اس راستے میں رکاوٹ بنی ہوئی ہیں۔ اگر سفارت کاری واقعی کامیاب ہونی ہے تو اسے طاقت کے اظہار سے زیادہ اعتماد سازی پر انحصار کرنا ہوگا، وگرنہ مہنگے پیٹرول و ڈیزل اور مہنگی کھاد سے شروع ہونے والی شکایتیں مہنگی جنگ کے طویل سیاسی اور معاشی نتائج میں تبدیل ہوسکتی ہیں۔

ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل کراچی 12 جون 2026

ہفت روزہ دعوت دہلی 12 جون 2026

ہفت روزہ رہبر سرینگر 14 جون 2026


Thursday, June 4, 2026

 

خیموں کی دنیا اور خاموش ضمیر

غزہ سے لبنان تک، پھیلتی جنگ اور دنیا کی خاموشی

وقت گزرنے کے ساتھ غزہ کی صورتحال مزید سنگین ہوتی جارہی ہے اور اس کا سب سے افسوس ناک پہلو اقوامِ عالم کی بے حسی ہے۔ اب وزیراعظم نیتن یاہو نے اپنی فوج کو ہدایت دی ہے کہ غزہ پر اسرائیلی قبضے کا رقبہ 70 فیصد تک بڑھایا جائے۔ گزشتہ برس اکتوبر میں ہونے والے جنگ بندی معاہدے کے بعد سے اسرائیلی افواج مسلسل پیش قدمی کررہی ہیں اور فلسطینی آبادی کو ساحلی علاقوں کی طرف دھکیلا جارہا ہے۔

چند روز قبل مجلسِ امن (Board of Peace) کے سربراہ نکولائی ملادینوف (Nickolay Mladenov) نے سلامتی کونسل کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا تھا کہ غزہ کے تقریباً ساٹھ فیصد علاقے پر اسرائیلی فوج قابض ہے اور 25 لاکھ فلسطینی صرف ڈیڑھ سو مربع کلومیٹر کے محدود خطے میں محصور ہوچکے ہیں۔ اگر مزید دس فیصد رقبہ بھی ان کے ہاتھ سے نکل گیا تو فلسطینیوں کیلئے سانس لینا بھی دشوار ہوجائے گا۔ اس پیش رفت پر عالمی سطح پر کوئی مؤثر ردعمل سامنے نہیں آیا۔

ہم کہیں جانیوالے نہیں

اسرائیلی فوج نے نیتن یاہو کے حکم پر عمل درآمد شروع کردیا ہے اور پوری غزہ پٹی بمباری، ڈرون حملوں اور فائرنگ کی زد میں ہے۔ لیکن نہتے فلسطینی ہتھیار ڈالنے یا نقل مکانی کیلئے تیار نہیں۔گزشتہ جمعہ خان یونس میں ایک گھر بمباری کا نشانہ بنا۔ شام تک اس کے مکین ٹوٹی دیواروں اور شکستہ چھت پر چادریں تان کر اپنا آشیانہ دوبارہ آباد کرچکے تھے۔ ملبے پر ایک جملہ بھی لکھ دیا گیا کہ  "ہم یہاں سے کہیں جانے والے نہیں۔" یہ الفاظ غزہ کی اجتماعی نفسیات کی ترجمانی کرتے ہیں۔

غربِ اردن میں روزمرہ کی درندگی

غربِ اردن میں بھی بے دخلی، آتش زنی، فصلوں کی تباہی اور تشدد کا سلسلہ جاری ہے۔جمعہ 29 مئی کو نابلوس کے گاؤں مادما میں نماز سے واپس آنے والے فلسطینیوں پر قبضہ گردوں نے دھاوا بول دیا۔ چاقوؤں اور ڈنڈوں کے حملوں میں 72 سالہ بزرگ، دو خواتین اور دیگر افراد شدید زخمی ہوئے۔ وہاں تعینات اسرائیلی فوج حملہ آوروں کو روکنے کے بجائے تماشائی بنی رہی اور حملہ آوروں کے واپس جانے کے بعد فلسطینی نوجوانوں کو گرفتار کرلیا گیا۔

لبنان میں جنگ کا نیا مرحلہ

غزہ کے ساتھ ساتھ لبنان بھی ایک بار پھر جنگ کی لپیٹ میں ہے۔ گزشتہ ہفتے اسرائیلی فضائیہ نے بیروت کے مضافاتی علاقے الشویفات میں کثیر المنزلہ رہائشی عمارتوں کو نشانہ بنایا۔ادھر جنوبی لبنان میں زمینی کارروائیوں کا دائرہ بھی وسیع ہورہا ہے۔ اسرائیلی افواج نہرِ لطانی عبور کرکے نبطیہ کے علاقے تک پہنچ چکی ہیں۔ نہرِ لطانی جنوبی لبنان کی زراعت، پینے کے پانی اور بجلی کے منصوبوں کیلئے شہ رگ کی حیثیت رکھتی ہے۔ لبنانی حلقوں کو خدشہ ہے کہ ان وسائل پر قبضہ کرکے اسرائیل غزہ کی طرح یہاں بھی بھوک اور معاشی دباؤ کو بطور ہتھیار استعمال کرنا چاہتا ہے۔

اسرائیل کی اپنی مشکلات

بیرونی محاذوں پر جارحیت کے ساتھ اسرائیل کو بھی اندرونی مسائل کا سامنا ہے۔ گزشتہ ہفتے قدامت پسند حریدی (Ultra-Orthodox) بریگیڈ سے خطاب کرتے ہوئے نیتن یاہو نے اعلان کیا کہ جو نوجوان مکمل طور پر مذہبی تعلیم میں مصروف نہیں، اسے فوجی خدمت انجام دینا ہوگی۔انہوں نے حریدی نوجوانوں کو یقین دلانے کی کوشش کی کہ فوج میں شامل ہونے کے باوجود وہ اپنی مذہبی شناخت برقرار رکھ سکیں گے۔اس موقع پر اسرائیلی پارلیمان کی خارجہ و دفاعی امور کمیٹی کے سربراہ بوعز بسموتھ (Boaz Bismuth) نے کہا:"ہماری دو مقدس ترین اقدار توریت اور اسرائیلی فوج ہیں۔"

یہ بیانات دراصل ایک تلخ حقیقت کی نشاندہی کرتے ہیں۔ متعدد محاذوں پر طویل جنگ نے اسرائیلی فوج کو افرادی قوت کے بحران سے دوچار کردیا ہے۔ ایک ایسی ریاست جسے مشرقِ وسطیٰ کی مضبوط ترین عسکری قوت قرار دیا جاتا ہے، اب اپنے مذہبی طبقے کو میدانِ جنگ کیلئے قائل کرنے کی کوشش کررہی ہے۔

جنسی تشدد کے الزامات اور ہر طرف خاموشی

اقوامِ متحدہ کی تازہ رپورٹ میں پہلی مرتبہ اسرائیلی فوج اور پولیس کو اُن فریقوں کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے جن پر مسلح تنازعات کے دوران جنسی تشدد کے قابلِ اعتبار الزامات عائد ہوئے ہیں۔رپورٹ میں فلسطینی قیدیوں کے ساتھ جبری برہنگی، توہین آمیز سلوک، جنسی تشدد اور عصمت دری کے متعدد واقعات کا ذکر کیا گیا ہے۔ یہ الزامات اقوامِ متحدہ کی سابقہ تحقیقات اور خصوصی ماہرین کی رپورٹوں سے بھی مطابقت رکھتے ہیں۔ قافلۂ صمود" کے کئی کارکن بھی رہائی کے بعد اسی نوعیت کے الزامات سامنے لاچکے ہیں۔

ان شکایات کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کرانے کے بجائے اسرائیل نے اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس سے تعلقات منقطع کرنے کا اعلان کردیا ہے جبکہ امریکہ اور اسرائیل پہلے ہی عالمی فوجداری عدالت (ICC)، اقوامِ متحدہ کے خصوصی نمائندگان اور دیگر بین الاقوامی اداروں پر دباؤ ڈالنے کی پالیسی اختیار کئے ہوئے ہیں۔اگر یہ الزامات غلط ہیں تو آزادانہ تحقیقات سے خوف کیوں؟ اور اگر تحقیقات کرنے والے اداروں ہی کو سزا دی جائے تو انصاف کہاں سے ملے گا؟

مذہبی آزادی کا مغربی معیار؟

اسی دوران امریکی ریاست ٹیکساس میں شیما الزوبی کا معاملہ بھی توجہ کا مرکز بنا محترمہ شیما الزوبی کو فورٹ ورتھ (امریکی ریاست ٹیکساس) کے ویسٹرن ہِل ہائی اسکول میں بطور پرنسپل تعینات کیا گیا۔ پرنسل کے عہدے پر انکی ترقی اسکولوں کی مقتدرہ ISDنے منظور کی ہے۔ شیما کا تعلیمی پس منظر اور درس و تدریس کا تجربہ دس برس سے طویل عرصے پر محیط اور وہ کئی سالوں سے ساوتھ ویسٹ ہائی اسکول میں نائب پرنسپل کی ذمہ داری نباہ رہی ہیں۔ لیکن وہ حجاب لیتی ہیں اور ماضی میں فلسطین اور شریعت سے متعلق سوشل میڈیا پوسٹس بھی کرچکی ہیں۔گزشتہ ہفتے انکا تقرر معطل کردیا گیا۔ٹیکساس میں اس وقت “شریعت نامنطور” ریپبلکن سیاست کا ایک بڑا انتخابی نعرہ ہے۔ انتخابی اشتہارات دیکھ کر یوں محسوس ہوتا ہے جیسے انکا مقابلہ ڈیموکریٹک پارٹی سے نہیں بلکہ جماعت اسلامی سے ہو۔ امریکہ بہادر دنیا کو مذہبی آزادی، تنوع اور انسانی حقوق کا درس دیتے پیں، لیکن اگر کسی شخص کی پیشہ ورانہ صلاحیت کے بجائے اس کی مذہبی شناخت، لباس یا سیاسی رائے اس کی ترقی میں رکاوٹ بن جائے تو پھر مذہبی آزادی اور تنوع کے دعوے کس حد تک معتبر رہ جاتے ہیں؟

بدلتا ہوا سفارتی توازن

ایران امریکہ جنگ امن مذاکرات کا محور آبنائے ہرمز، اقتصادی پابندیاں اور جوہری پروگرام تھاجسکی وجہ سے اہل لبنان و فلسطین خود کو تنہا محسوس کررہے تھے لیکن تہران اب مذاکرات کے دائرے کو توسیع دیکر غزہ اور لبنان جیسے تنازعات کو بھی اس میں شامل کرنے کی کوشش کررہا ہے۔ایرانی قیادت کا خیال ہے کہ غزہ، لبنان، یمن، غربِ اردن اور خلیج فارس ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ اگر یہ حکمت عملی کامیاب ہوتی ہے تو مشرقِ وسطیٰ میں امن کی بحث صرف کسی ایک تنازع کے حل تک محدود نہیں رہے گی بلکہ ایک جامع علاقائی بندوبست کی طرف بڑھ سکتی ہے۔

مشرقِ وسطیٰ اس وقت صرف جنگ کا میدان نہیں بلکہ انسانی ضمیر اور عالمی سیاست دونوں کا امتحان بن چکا ہے۔ خیموں میں پناہ لینے والے بے گھر انسان اس بات کی علامت ہیں کہ بحران صرف زمین کا نہیں بلکہ انصاف اور انسانی وقار کا بھی ہے۔کیا دنیا اس خاموشی کو برقرار رکھے گی، یا پھر کسی نئے سیاسی و سفارتی توازن کی طرف بڑھنے پر مجبور ہوگی؟

ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل کراچی 5 جون 2026

ہفت روزہ دعوت دہلی 5 جون 2026

ہفت روزہ رہبر سرینگر 7 جون 2026


 

عسکری دباؤ، سفارتکاری اور وسیع امن ایجنڈا

خلیجِ فارس سے بحیرہ روم  ۔۔ تہران ہو گر عالم مشرق کا جنیوا

مشرقِ وسطیٰ میں ایران اور امریکہ کے درمیان جاری جنگ کو تین ماہ ہونے کو آئے، لیکن متعدد مثبت اشاروں اور سفارتی سرگرمیوں کے باوجود امن معاہدے کا اونٹ کسی کروٹ بیٹھتا دکھائی نہیں دیتا۔ ایک طرف جنگ بندی اور مفاہمت کی خبریں گردش کررہی ہیں تو دوسری طرف عسکری کارروائیاں، دھمکی آمیز بیانات اور نئی شرائط سے یہ تاثر ابھرتا ہے کہ فریقین فیصلہ کن مرحلے سے خاصے دور ہیں۔

مفاہمتی یادداشت یا برجام کا نیا ایڈیشن؟

جمعرات 28 مئی کو Axios نے امریکی حکام کے حوالے سے خبر دی کہ ایران اور امریکہ کے درمیان 60 روزہ جنگ بندی پر مبنی ایک مفاہمتی یادداشت (MOU) کے خدوخال پر اتفاق ہوچکا ہے۔ رپورٹ کے مطابق آبنائے ہرمز کو بحری آمدورفت کیلئے کھول دیا جائے گا، ایران تیس دن کے اندر اپنی بچھائی ہوئی بحری بارودی سرنگیں صاف کرے گا اور جوہری ہتھیار نہ بنانے کی یقین دہانی کرائے گا۔ اس کے بدلے امریکہ پابندیوں میں نرمی اور ایرانی منجمد اثاثوں کی واپسی پر آمادہ ہوگا۔

تاہم اس مبینہ دستاویز میں افزودہ یورینیم کے ذخائر کا کوئی واضح ذکر موجود نہیں تھا۔ اسی لئے کئی مبصرین کو یہ مسودہ ایک دہائی قبل طے پانے والے جوہری معاہدے (JCPOA) کا کسی حد تک نیا روپ محسوس ہوا۔خبر سامنے آنے کے فوراً بعد اطلاع ملی کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے مشیروں کا اجلاس طلب کرلیا ہے۔ ابتدا میں مقام کیمپ ڈیوڈ بتایا گیا لیکن بعد میں مشاورت وائٹ ہاؤس کے Situation Room میں منتقل کردی گئی۔ اجلاس سے قبل صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے اعتماد کے ساتھ کہا کہ "آبنائے ہرمز کھل رہی ہے"۔

پردہ اٹھنے کی منتظر سفارتکاری

اسی دوران اسلام آباد سے ایک غیر معمولی سفارتی اشارہ ملا۔ پاکستانی وزارتِ خارجہ نے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کے دورۂ واشنگٹن کے حوالے سے ایک اخباری اعلامیہ جاری کی جسے "Curtain Raiser" کا عنوان دیا گیا۔یہ اصطلاح تھیٹر سے مستعار ہے اور اس مرحلے کو ظاہر کرتی ہے جب اصل ڈرامہ شروع ہونے سے قبل ماحول سازی کی جاتی ہے۔ سفارتی حلقوں میں اسے کسی اہم پیش رفت سے پہلے "Scene Setting" کیلئے استعمال کیا جاتا ہے۔اعلامئے کی زبان اگرچہ روایتی تھی، لیکن علاقائی امن و استحکام، مکالمے اور سفارتکاری پر خصوصی زور اور اسی روز واپسی کا ذکر یہ تاثر دے رہا تھا کہ یہ محض رسمی ملاقات نہیں بلکہ کسی اہم سفارتی مشن کا حصہ ہے۔ ایران۔امریکہ رابطوں پر نظر رکھنے والے مبصرین کا خیال تھا کہ پاکستان بعض ایسے حساس نکات پر فریقین کو قریب لانے کی کوشش کررہا ہے جن پر براہِ راست اور بالمشافہ گفتگو ناگزیر ہے۔

امید اور مایوسی کے درمیان

لیکن یہ خوش فہمیاں زیادہ دیر برقرار نہ رہ سکیں۔ ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی نے واضح کردیا کہ مفاہمتی یادداشت پر ابھی اتفاق نہیں ہوا تاہم مذاکرات جاری ہیں۔ ادھر واشنگٹن میں ہونے والی مشاورت بھی کسی نمایاں پیش رفت کے بغیر ختم ہوگئی۔

عسکری کشیدگی کی شدت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ بلومبرگ کے مطابق بندر عباس کے قریب امریکی کارروائیوں کے بعد ایران نے کویت کے علی السالم اڈے کے اس حصے کو نشانہ بنایا جو مبینہ طور پر امریکی فوج کے زیر استعمال تھا۔ اطلاعات کے مطابق امریکی دفاعی نظام نے میزائل کو فضا ہی میں تباہ کردیا، تاہم ملبہ گرنے سے چند فوجی زخمی ہوئے اور دو MQ-9 Reaper ڈرون متاثر ہوئے۔ اسی دوران خلیج کے سمندری راستوں پر بھی کشیدگی برقرار رہی اور دونوں فریق ایک دوسرے کے جہازوں اور بحری سرگرمیوں پر اعتراضات اٹھاتے رہے۔ یوں جنگ بندی کی باتوں کے باوجود محاذ عملی طور پر پوری طرح خاموش نہیں ہوا۔

اسی دوران امریکی مرکزی کمان (CENTCOM) نے بندر عباس کے قریب ایرانی ڈرون تنصیبات پر حملوں کا اعلان کردیا۔ ایران نے جواباً خطے میں امریکی مفادات کو نشانہ بنایا۔گویا مذاکرات اور محاذ آرائی ایک ساتھ چل رہے ہیں؛ دروازے بھی کھلے ہیں اور توپیں بھی خاموش نہیں ہوئیں۔

اصل رکاوٹ: یورینیم یا اعتماد؟

اتوار کے روز صدر ٹرمپ نے ایک بار پھر کہا کہ وہ معاہدے کے بارے میں پرامید ہیں اور مسودے کی بس "نوک پلک درست کرنے" کی ضرورت ہے۔امریکی حکام کے مطابق واشنگٹن ایران سے جوہری ہتھیار نہ بنانے کے واضح وعدے اور افزودہ یورینیم کے مستقبل کے بارے میں قابلِ تصدیق ضمانتیں چاہتا ہے۔ دوسری جانب تہران کا موقف ہے کہ سب سے پہلے آبنائے ہرمز کھولی جائے، ناکہ بندی ختم اور منجمد اثاثے واپس کئے جائیں تاکہ اعتماد سازی کا عمل شروع ہوسکے۔

دلچسپ بات کہ صدر ٹرمپ اب افزودہ یورینیم کے ذخائر کو "Nuclear Dust" یعنی جوہری خاک قرار دے رہے ہیں۔ اسکی وجہ غالباً یہ ہے کہ ذخیرہ مبینہ طور پر فردو پلانٹ کے تہہ خانے میں تھا اور خوفناک بمباری سے پوری عمارت ریت کا ڈھیر بن گئی ہے۔ تہہ خانے کو جانے والے راستے بند اور سرنگیں منہدم ہوچکی ہیں اور ماہرین کا خیال ہے کہ یہ مواد اب ناقابل استعمال ہے۔ سرنگوں کی صفائی میں اگر سال نہیں تو کئی ماہ لگیں گے۔ اگر واقعی یہ مواد ملبے تلے دب چکا ہے تو پھر اس کی حوالگی کو معاہدے کی پیشگی شرط بنانا خود مذاکرات کو کئی ماہ کیلئے تعطل کا شکار کرسکتا ہے۔

آبنائے ہرمز: صرف علاقائی نہیں، عالمی بحران

اس تعطل کے اثرات اب مشرقِ وسطیٰ سے کہیں آگے محسوس کئے جارہے ہیں۔ عالمی مالیاتی فنڈ (IMF)، عالمی بینک اور بین الاقوامی توانائی ایجنسی (IEA) نے مشترکہ طور پر خبردار کیا ہے کہ اگر آبنائے ہرمز میں تیل بردار جہازوں کی آمدورفت جلد معمول پر نہ آئی تو موسمِ گرما کے دوران عالمی ایندھن منڈی شدید دباؤ کا شکار ہوسکتی ہے۔یہ محض تیل کی قیمتوں کا مسئلہ نہیں۔ اس کے اثرات خوراک، صنعت، نقل و حمل، مہنگائی اور سیاسی استحکام تک پھیل سکتے ہیں۔ ترقی یافتہ ممالک شاید مہنگا تیل خریدنے کی سکت رکھتے ہوں، لیکن افریقہ، جنوبی ایشیا اور لاطینی امریکہ کے کمزور ممالک کیلئے یہ بحران معاشی تباہی کی شکل اختیار کرسکتا ہے۔

امریکی عوام بھی اس صورتحال کی قیمت ادا کررہے ہیں۔ مختلف معاشی جائزوں کے مطابق گزشتہ چند ماہ کے دوران ہر امریکی خاندان کے ایندھن کے اخراجات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے جبکہ مہنگی توانائی نے دیگر اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کو بھی متاثر کیا ہے۔

جنگ، منافع اور سیاسی الزامات

صدر ٹرمپ کے ناقدین کا الزام ہے کہ متضاد بیانات مالیاتی منڈیوں میں غیر یقینی صورتحال پیدا کررہے ہیں۔ ایک دن کشیدگی کا تاثر ابھرتا ہے، اگلے دن مفاہمت کی امید پیدا ہوجاتی ہے۔ نتیجتاً تیل اور حصص کی قیمتوں میں شدید اتار چڑھاؤ آتا ہے۔ان الزامات کے حق میں کوئی قطعی ثبوت موجود نہیں، لیکن امریکی سیاست میں یہ بحث زور پکڑ رہی ہے کہ آیا مسلسل غیر یقینی کیفیت بعض مالیاتی حلقوں کیلئے غیر معمولی منافع کا ذریعہ تو نہیں بن رہی۔

یہ چیز بُری ہے مست مست

صدر ٹرمپ کی زبان اور لہجہ بھی کئی مرتبہ مذاکراتی عمل کیلئے مشکلات پیدا کررہے ہیں۔ ایک حالیہ پیغام میں انہوں نے ایرانی جوہری پروگرام کے حوالے سے متعدد بار لفظ "must" استعمال کیا۔ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے اس پر دلچسپ ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ایران نے تقریباً نصف صدی قبل دوسروں کے "must" کو قبول کرنا چھوڑ دیا ہے اور اسلامی جمہوریہ اپنے فیصلے قومی مفاد کے مطابق خود کرتی ہے۔یہ مختصر تبصرہ دراصل دونوں فریقوں کے نفسیاتی فاصلے کی عکاسی کرتا ہے۔ مسئلہ صرف جوہری پروگرام کا نہیں بلکہ وقار، خودمختاری اور سیاسی بیانئے کا بھی ہے۔

ہرمز سے بیروت تک: مذاکرات کا بدلتا ہوا دائرہ

حالیہ ہفتوں میں ایک اور اہم تبدیلی بھی سامنے آئی ہے۔ ابتدا میں تاثر تھا کہ مذاکرات کا محور آبنائے ہرمز، پابندیاں اور جوہری پروگرام ہوں گے، لیکن تہران اب بتدریج غزہ اور لبنان کو بھی اسی سفارتی عمل کا حصہ بنانے کی کوشش کررہا ہے۔ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے واضح کیا ہے کہ تہران، لبنان کو الگ مسئلہ نہیں سمجھتا بلکہ غزہ، لبنان اور خطے کی مجموعی صورتحال کو ایک ہی تنازع کے مختلف پہلو تصور کرتا ہے۔ ان کے مطابق صرف جنگ بندی کافی نہیں بلکہ لبنان اور غزہ سے اسرائیلی افواج کی واپسی بھی پائیدار امن کیلئے ضروری ہے۔

اسی تناظر میں صدر ٹرمپ کا یہ بیان غیر معمولی اہمیت اختیار کرگیا کہ "بیروت کی طرف کوئی فوج نہیں جائے گی، اور جو دستے راستے میں تھے انہیں بھی واپس موڑ دیا گیا ہے۔" بعد ازاں انہوں نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر مزید لکھا: "اُس نے اپنے دستے واپس موڑ لئے۔ شکریہ بی بی( نیتن یاہو)!"

اگر واقعی اسرائیلی پیش قدمی روکی گئی ہے تو یہ صرف لبنان سے متعلق پیش رفت نہیں بلکہ ایران۔امریکہ سفارتی عمل کیلئے بھی ایک اہم اشارہ ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اب خطے کے مختلف تنازعات ایک دوسرے سے الگ نہیں رہے۔ بیروت، غزہ، صنعا، خلیج فارس اور تہران ایک دوسرے پر اثر انداز ہورہے ہیں اور کسی ایک محاذ پر کشیدگی پورے سفارتی عمل کو متاثر کرسکتی ہے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ ایرانی پارلیمانی ذرائع کے مطابق پاکستان کی ثالثی میں جاری رابطوں کا فوری ہدف جوہری تنازع نہیں بلکہ جنگ بندی اور آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی بحالی ہے۔ اگر یہ تاثر درست ہے تو موجودہ مذاکرات شاید جوہری معاہدے سے زیادہ ایک وسیع تر علاقائی استحکام کے فارمولے کی تلاش بن چکے ہیں۔

مشرقِ وسطیٰ اس وقت ایک غیر معمولی عبوری مرحلے سے گزر رہا ہے۔ جنگ بندی کی باتیں بھی ہورہی ہیں اور میزائل بھی چل رہے ہیں۔ مفاہمت کی امیدیں بھی موجود ہیں اور عدم اعتماد بھی برقرار ہے۔ بظاہر صدر ٹرمپ اس جنگ کو سمیٹنے کے خواہاں دکھائی دیتے ہیں، لیکن امن کی سیاسی قیمت ادا کرنے کیلئے ابھی پوری طرح آمادہ نظر نہیں آتے۔

دوسری طرف تہران محض جوہری پروگرام یا پابندیوں تک محدود رہنے کے بجائے غزہ، لبنان اور خطے کے دیگر تنازعات کو بھی اسی سفارتی عمل کا حصہ بنانے کی کوشش کررہا ہے۔ اگر یہ حکمتِ عملی کامیاب ہوئی تو موجودہ مذاکرات صرف ایران اور امریکہ کے درمیان ایک مفاہمتی یادداشت تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ مشرقِ وسطیٰ کے مستقبل کے سیاسی بندوبست کی بنیاد بھی بن سکتے ہیں۔ تازہ ترین صورتحال یہ ہے کہ میز پر مفاہمت کا مسودہ رکھا ہے، مگر قلم ابھی تک ہاتھوں میں نہیں آیا۔ اور جب تک ایسا نہیں ہوتا، آبنائے ہرمز سے لے کر عالمی معیشت تک سب کچھ غیر یقینی کے اسی دھندلکے میں معلق رہے گا۔

ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل کراچی 5 جون 2026

ہفت روزہ دعوت دہلی 5 جون 2026

ہفت روزہ رہبر سرینگر 7 جون 2026