Friday, June 12, 2026

 

شاخِ زیتون اور شعلۂ جنگ

امن کے وعدے، جنگ کے سائے۔ دھمکیوں اور سفارت کاری کا متضاد منظرنامہ

ایران کے خلاف اسرائیلی و امریکی کارروائیوں اور اس کے بعد شروع ہونے والے بحران کو ایک سو دن مکمل ہوچکے ہیں۔ اگرچہ پاکستان کی ثالثی سے طے پانے والی جنگ بندی 8 اپریل سے نافذ العمل ہے، لیکن بحری ناکہ بندی، آبنائے ہرمز کی بندش، وقفے وقفے سے ہونے والے حملوں اور دونوں جانب سے جاری سخت بیانات نے اس جنگ بندی کو شاخِ نازک پر بنے آشیانے سے زیادہ مضبوط نہیں ہونے دیا۔

گزشتہ ہفتے لبنان پر اسرائیلی حملوں میں شدت آنے کے بعد ایرانی پارلیمان کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے خبردار کیا کہ امریکہ اور اسرائیل نے ناکہ بندی اور بیروت پر بمباری کے ذریعے ثابت کردیا ہے کہ وہ سفارت کاری نہیں بلکہ طاقت کی زبان پر یقین رکھتے ہیں۔ ان کے بقول اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو خطے میں امریکی اڈے اور اسرائیلی اثاثے ایران کے نزدیک جائز عسکری اہداف تصور ہوں گے۔

اسی روز NBC ٹیلی ویژن کے پروگرام Meet the Press میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نسبتاً مفاہمانہ لہجہ اختیار کرتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن, ایران کے ساتھ معاہدے کے بہت قریب پہنچ چکا ہے اور صرف ایسی واضح ضمانتیں چاہتا ہے جو ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے مستقل طور پر روک سکیں۔ تاہم چند ہی لمحوں بعد وہ اپنے روایتی انداز میں واپس آتے ہوئے بولے کہ اگر معاہدہ نہ ہوا تو وہ ایران پر ’’جہنم کے دروازے کھول دیں گے‘‘۔

اس کے فوراً بعد کشیدگی نے ایک اور خطرناک موڑ لیا۔ بیروت پر حملوں کے ردعمل میں ایران نے شمالی اسرائیل کی جانب میزائل داغے۔ اسرائیلی کابینہ نے جوابی کارروائی پر غور شروع کردیا اور وزیرِ قومی سلامتی ایتامر بن گوئر نے یہاں تک کہہ دیا کہ ’’آج رات تہران جل رہا ہوگا‘‘۔ تاہم امریکی ذرائع کے مطابق صدر ٹرمپ کی مداخلت پر وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے فوری جوابی حملہ مؤخر کردیا۔ دوسری جانب تہران نے بھی اشارہ دیا کہ اگر لبنان پر مزید حملے نہ ہوئے تو وہ تحمل کا مظاہرہ کرے گا۔

امن اور جنگ کے درمیان

لیکن نیتن یاہو اپنے انتہا پسند ساتھیوں کا دباو برداشت نہ کرسکےاور اسرائیلی طیاروں نے تہران، اصفہان، تبریز و دیگر مقامات پر حملے کئے۔ ان کارروائیوں میں ڈرون تنصیبات اور خوزستان کے ماہشہر پیٹروکیمیکل کمپلیکس کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ جواباً ایران نے وسطی اسرائیل میں تل نوف فضائی اڈے اور حیفا کے صنعتی علاقے پر میزائل داغے۔

ایران اور لبنان کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے یمن کے حوثیوں نے بھی شمالی اسرائیل کی جانب میزائل برسائے اور باب المندب سے اسرائیلی جہازوں کی آمدورفت روکنے کا اعلان کردیا۔ چونکہ آبنائے ہرمز کی بندش کے بعد ایشیا کی جانب توانائی کی ترسیل کا بڑا بوجھ اسی بحری راستے پر منتقل ہوچکا ہے، اس لیے مبصرین کو خدشہ ہے کہ اگر باب المندب بھی غیر محفوظ ہوگیا تو عالمی تجارت اور توانائی کی رسد کو ایک نئے بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

پیر کی صبح صورتحال اس قدر کشیدہ دکھائی دے رہی تھی کہ ایک وسیع ایران۔اسرائیل جنگ کا خدشہ پیدا ہوگیا۔ اسی دوران صدر ٹرمپ نے اسرائیلی چینل 12 سے گفتگو کرتے ہوئے دونوں فریقوں سے تحمل کی اپیل کی اور خبردار کیا کہ اگر اسرائیل نے کشیدگی میں مزید اضافہ کیا تو وہ سفارتی طور پر تنہا پڑ سکتا ہے۔ اس کے فوراً بعد ایران کے خاتم الانبیا ہیڈکوارٹر (GHQ)نے اعلان کیا کہ اگر اسرائیل مزید حملوں سے گریز کرے تو تہران بھی تحمل کا راستہ اختیار کرے گا۔ بعد ازاں اسرائیلی وزیراعظم نے اعلان کیا کہ صدر ٹرمپ کے کہنے پر ہم نے ایران پر حملہ موخر کردیا تاہم حزب اللہ کے خلاف کاروائی جاری رہیگی۔

یہ تمام واقعات ایک بار پھر اس حقیقت کو اجاگر کرتے ہیں کہ اگرچہ جنگ بندی کاغذ پر موجود ہے، لیکن خطے میں امن اور جنگ کے درمیان فاصلہ اب بھی چند فیصلوں، چند بیانات اور چند میزائلوں سے زیادہ نہیں۔ایران اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی کے پرامن خاتمے کی کوئی واضح صورت فی الحال دکھائی نہیں دیتی۔

جلد ختم ہونے والی جنگ جو ختم نہیں ہورہی

گزشتہ ہفتے ریاست وسکونسن (Wisconsin)میں کسانوں سے خطاب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے معاملے سے "بہت جلد" نمٹ لیا جائے گا اور اس کے نتیجے میں کھاد کی قیمتیں دوبارہ کم ہوجائیں گی۔ اس سے قبل NBC کو دئے گئے ایک انٹرویو میں انہوں نے ایرانیوں کو "مضبوط"، "خودمختار" اور "باعزت" قوم قرار دیتے ہوئے اعتراف کیا کہ معاملات توقع سے زیادہ وقت لے رہے ہیں۔ اسی گفتگو میں انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایران کے پاس اب بھی اپنے میزائل ذخیرے کا قابلِ ذکر حصہ موجود ہے۔ یہ بیان ان سابقہ دعوؤں سے مختلف تھا جن میں ایرانی عسکری صلاحیتوں کو فیصلہ کن حد تک تباہ کرنے کی بات کی گئی تھی۔

مہنگی کھاد اور امریکی کسان

کشیدگی کے معاشی اثرات اب واضح ہونے لگے ہیں۔ خلیج فارس اور آبنائے ہرمز کے گرد غیر یقینی صورتحال نے توانائی کی عالمی منڈیوں کو متاثر کیا ہے، جس کا براہِ راست اثر کھاد کی قیمتوں پر پڑ رہا ہے۔زرعی ماہرین خبردار کررہے ہیں کہ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو چند ماہ بعد مہنگی کھاد کی قیمت اناج، سبزیوں اور گوشت کی بڑھتےدام کی صورت میں عام صارف تک منتقل ہوجائے گی۔ وسکونسن میں صدر ٹرمپ کی تقریر دراصل دیہی امریکہ کو یہ یقین دلانے کی کوشش تھی کہ بحران قابو میں ہے، مگر زمینی حقائق اس قدر سادہ نہیں۔

خلیج فارس میں جنگ بندی کی نازک کیفیت

ادھر خلیج فارس میں جنگ بندی کی صورتحال مسلسل دباؤ کا شکار ہے۔ قصرِ مرمریں کی جانب سے شاخ زیتون لہرائی جارہی ہے تو خلیجِ فارس میں امریکی جہاز اور بمبار شعلے اگل رہے ہیں۔گزشتہ ہفتے امریکی فضائیہ نے آبنائے ہرمز، جزیرہ قشم اور ساحلی شہر گروک میں ایرانی جہازوں اور تنصیبات پر حملے کئے تو جواباً ایران نے امریکی جنگی جہاز (Destroyer)کے طرف میزائیل داغے اور ایرانی میزائیلوں نے کوئت اور بحرین میں امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا۔کوئت پر مبینہ ایرانی حملے میں انٹرنیشنل ائرپورٹ کو نقصان پپہنچا۔ ایک شخص جاں بحق اور 63افراد زخمی ہوگئے۔ خبروں کے مطابق ایران نے کوئتی پانیوں میں ام قصر کے قریب کنٹینروں سے لدے پانامہ پرچم بردار جہاز MSC Sariska کو میزائیل حملے میں ناکارہ کردیا۔

تہران کا وسیع تر ایجنڈا

تنازع کا ایک اہم پہلو اس کی جغرافیائی حدود سے متعلق ہے۔ واشنگٹن اس بحران کو بنیادی طور پر ایران اور امریکہ کے درمیان تنازع سمجھتا ہے، جبکہ تہران اسے غزہ، لبنان، یمن، غربِ اردن اور خلیج فارس سمیت پورے خطے سے جوڑ کر دیکھتا ہے۔ ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے واضح کیا ہے کہ پابندیوں کے خاتمے، منجمد اثاثوں کی واپسی اور غزہ و لبنان سے اسرائیلی افواج کے انخلا کے بغیر پائیدار امن ممکن نہیں۔ وزیر خارجہ عباس عراقچی بھی بارہا اشارہ دے چکے ہیں کہ لبنان اور غزہ میں کشیدگی بڑھنے کی صورت میں سفارتی عمل متاثر ہوسکتا ہے۔

منجمد اثاثوں کا نیا تنازع

منجمد اثاثون کے بارے میں تازہ ترین خبر نے ایران کو مزید مضطرب بلکہ مشتعل کردیا ہے۔ رائٹرز کے مطابق امریکہ، ایران کے منجمد اثاثے اپنے خلیجی اتحادیوں کو دستیاب کرنے پر غور کررہا ہے تاکہ ایرانی میزائیل اور ڈرون حملوں سے پہنچنے والے نقصان کی مرمت و بحالی میں مدد دی جا سکے۔امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے اپنی وزارت کے حکام کو مبینہ طور پر ہدایت کی ہے کہ وہ خلیجی اتحادیوں کو ایران کی جانب سے پہنچائے گئے  نقصانات کی لاگت کا جائزہ لے۔جوہری بم کی تیاری کو بہانہ بناکر امریکہ نے ایرانی اثاثے منجمد کئے تھے۔ انھیں کسی اور ملک کے حوالے کرنا نہ صرف عالمی قوانین کی صریح خلاف ورزی ہے بلکہ یہ قدم ایران اور خلیجی ممالک کے تعلقات کو کشیدہ اور خطے غیر ضروری تناؤ پیدا کرنے کا سبب بن سکتا ہے۔اسوقت جبکہ خطے کو سب سے زیادہ ضرورت استحکام اور سفارتی توازن کی ہے یہ فیصلہ بگاڑ کی طرف ایک نپا تلا اور جانا بوجھا قدم لگتا ہے

سفارت کاری یا دھونس؟

صدر ٹرمپ کی تلون مزاجی، بیانات میں تضاد اور بیانئے میں عاجلانہ ترمیم امریکی کی سفارتی ساکھ کو متاثر کررہی ہے چار جون کو  صدر ٹرمپ نے واشنگٹن میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بہت ہی شائستہ انداز میں کہا کہ اگر موقع ملا تو وہ حضرت مجتبیٰ خامنہ ای سے ملاقات کو اپنے لئےاعزاز سمجھیں گے کہ وہ ایک قابل احترام شہرت " (Good Reputation) کے مالک ہیں۔ صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ اگر خامنہ ای صاحب سے ملاقات ہوئی تو وہ ان سے پورے احترام کے ساتھ پیش آئیں گے۔تاہم اسی سانس میں وہ یہ متکبرانہ دعویٰ کرگئے کہ امریکہ اگر ایران کا افزودہ یورینیم حاصل کرنا چاہے تو پاسداران ہمیں روک نہیں سکتے۔ اس قسم کی زبان کسی خوددار قوم کے ساتھ کامیاب سفارت کاری کی بنیاد نہیں بن سکتی۔بین الاقوامی تعلقات میں احترام صرف الفاظ سے نہیں بلکہ رویّوں سے ظاہر ہوتا ہے۔ قیادت کی تعریف اور اظہارِ احترام کیساتھ یہ تاثر کہ ہم جب چاہیں ایران کے تزویراتی اثاثوں پر قبضہ کرسکتے ہیں، مہمل سفارتکاری کی ایک بُری مثال ہے۔

امریکی کانگریس کی بے چینی

امریکی سیاسی حلقوں میں بھی اس جنگ کے بارے میں بے چینی بڑھ رہی ہے۔ ایوانِ نمائندگان نے ایران سے متعلق جنگی اختیارات محدود کرنے کی قرارداد 208 کے مقابلے میں 215 ووٹوں سے منظور کرلی۔ اہم بات یہ تھی کہ چار ریپبلکن ارکان نے بھی اپنی جماعت کی قیادت سے اختلاف کیا۔ یہ محض ایک پارلیمانی کارروائی نہیں بلکہ اس احساس کا اظہار بھی ہے کہ طویل کشیدگی کے معاشی اور سیاسی اثرات امریکی عوام تک پہنچ رہے ہیں۔ پارٹی ٹکٹ جیتنے کیلئے صدر ٹرمپ کی حمایت کافی ہوسکتی ہے، لیکن عام انتخابات میں ووٹر مہنگائی، ایندھن اور خوراک کی قیمتوں کے بارے میں جواب بھی مانگتے ہیں۔

جنگیں ہمیشہ میدانِ جنگ میں نہیں جیتی جاتیں۔ بعض اوقات عسکری کامیابیوں سے زیادہ اہم سوال یہ ہوتا ہے کہ سیاسی تصفیہ کس قیمت پر اور کن شرائط کے ساتھ ممکن ہوگا۔ آج ایران، امریکہ اور ان کے اتحادی اسی دوراہے پر کھڑے دکھائی دیتے ہیں۔ ایک طرف جنگ بندی کو پائیدار امن میں تبدیل کرنے کی کوششیں جاری ہیں تو دوسری طرف عدم اعتماد، معاشی دباؤ اور متضاد سیاسی ترجیحات اس راستے میں رکاوٹ بنی ہوئی ہیں۔ اگر سفارت کاری واقعی کامیاب ہونی ہے تو اسے طاقت کے اظہار سے زیادہ اعتماد سازی پر انحصار کرنا ہوگا، وگرنہ مہنگے پیٹرول و ڈیزل اور مہنگی کھاد سے شروع ہونے والی شکایتیں مہنگی جنگ کے طویل سیاسی اور معاشی نتائج میں تبدیل ہوسکتی ہیں۔

ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل کراچی 12 جون 2026

ہفت روزہ دعوت دہلی 12 جون 2026

ہفت روزہ رہبر سرینگر 14 جون 2026


No comments:

Post a Comment