Saturday, March 21, 2026

 

جلتے خیمے، سویا ضمیر

غزہ، غربِ اردن اور لبنان میں جنگ، سینسر اور انسانی ضمیر کا امتحان

اہلِ غزہ کا تیسرا رمضان بارود اور دھماکوں کے سائے میں گزرگیا۔ افطار کے دسترخوان پر کھجوروں کے ساتھ خوف بھی رکھا گیا اور تراویح کی صفوں کے اوپر ڈرون طیاروں کی گھن گرج سنائی دیتی رہی۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اس خطے میں وقت بھی زخموں کے ساتھ بہتا ہے۔اگر مشرقِ وسطیٰ میں جاری اس خونریزی کا سرسری جائزہ لیا جائے تو منظر نہایت ہولناک دکھائی دیتا ہے۔ خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق مارچ کے پہلے پندرہ دنوں میں 1270 ایرانی، لبنان کے 488 شہری اور غزہ کے 36 فلسطینی اپنی جانوں سے گئے۔ اگر اس خطے کے مغربی کنارے کو بھی شامل کر لیا جائے تو پاک افغان سرحدی جھڑپوں نے بھی سینکڑوں بے گناہ جانیں لے لیں۔موت کے ماتم کے ساتھ بے گھری کا عذاب بھی کم نہیں۔ رہائشی علاقوں پر بمباری کے نتیجے میں تقریباً دس لاکھ لبنانی اور سینکڑوں افغان اپنے گھروں سے محروم ہو چکے ہیں۔

رمضان میں آگ اور راکھ

غزہ میں رمضان کے دوران بھی بمباری کا سلسلہ جاری رہا۔جمعۃ الوداع کی صبح وسطی غزہ کے علاقے الزوائیدہ میں اسرائیلی فضائی حملے سے خیموں میں آگ بھڑک اٹھی جس میں 12 سالہ بچی اور خاتون صحافی امل شمالی سمیت تین افراد زندہ جل گئے۔ اگلے ہی دن خان یونس پر بمباری میں ایک بچے سمیت چھ افراد جاں بحق ہو گئے غزہ اور غربِ اردن میں آزادی اور وقار کی جدوجہد کو زندہ رکھنے میں جہاں مزاحمت کاروں کی قربانیاں اہم ہیں، وہیں اہلِ قلم کا کردار بھی کم نہیں۔ انہی کی بدولت دنیا کو ان واقعات کی خبر ملتی ہے، ورنہ سخت سنسر کے پردے میں یہ سب کچھ شاید خاموشی سے دفن ہو جاتا۔ قلم کی حرمت کیلئےامل شمالی کی قربانی ہمیشہ یاد رکھی جائیگی۔جنگ کے شور میں سچائی کی آواز اکثر دب جاتی ہے، مگر کبھی کبھی ایک قلم ہزار توپوں پر بھاری پڑ جاتا ہے۔

سیاہ اتوار

اتوار (15 مارچ) کی صبح وسطی غزہ کے علاقے الزویدہ میں اسرائیلی ڈرون نے ایک پولیس جیپ کو نشانہ بنایا جس سے گاڑی میں سوار پولیس کمشنر اور آٹھ پولیس افسران جاں بحق ہوگئے۔ حملے میں قریب کھڑے 14 افراد زخمی ہوئے۔ ٹھیک اسی وقت نصیرات خیمہ بستی پر حملے میں ایک شخص، اسکی پرامید بیوی اور معصوم بچہ جان سے گئے۔

غربِ اردن: خوف کا پہرہ

اسی دن غربِ اردن میں تشدد کی ایک نئی لہر دیکھی گئی۔ درجنوں مسلح آبادکار شمالی وادی اردن کے گاؤں خومسہ میں تراویح کے دوران گھس آئے۔ اندھا دھند فائرنگ اور لاٹھیوں کی ضربوں سے متعدد افراد زخمی ہوئے اور حملہ آور جاتے ہوئے 14 کسانوں کے ہاتھ پاؤں باندھ کر ان کی 360 بھیڑیں بھی ہنکا لے گئے۔

جنوبی غربِ اردن کے علاقے ام الخیر میں ایک چھ سالہ فلسطینی بچی کو گاڑی تلے روند دیا گیا۔ڈرائیور کو گرفتار کرنے کے بجائے پولیس نے احتجاج کرنے والے مقامی افراد کے خلاف ہی مقدمہ درج کر لیا۔ظلم کی یہ کہانی انسانوں تک محدود نہیں رہی۔ بیت اللحم کے قریب ایک فارم پر حملے میں مرغیوں کے ڈربوں کو آگ لگا دی گئی اور ہزاروں چوزے جل کر مر گئے۔

ایک کھیت، دو بیٹے اور گولیوں کی بارش

اس ہفتے غرب اردن نے دوایسی لرزہ خیر وارادت کا مشاہدہ کیا جسے قتل عام کہنا زیادہ مناسب ہے۔ الخلیل (Hebron)کے گاوں مسافر یطہ میں مسلح آبادکاروں نے 57 سالہ محمد شِذَن کے کھیت کی باڑھ توڑ کر چرنے کیلئےاپنے مویشی چھوڑدئے۔ اس وقت کھیت میں جو(Barley) کی فصل تیار کھڑی تھی۔ محمد شذن اور اس کے بیٹوں عامر اور خالد نے اعتراض کیا کہ تیار فصل مویشی چرانے کی جگہ نہیں۔ عامر نے مویشیوں کو ہنکا کر کھیت سے باہر نکالنے کی کوشش کی جس پر آبادکاروں نے عامر پر گولی چلادی۔ بیٹے کو زخمی دیکھ کر محمد اس کی طرف لپکا ہی تھا کہ ایک دوسرے مسلح آبادکار نے چند گز کے فاصلے سے عامر کے بھائی خالد کو گولی ماردی۔عامر تھوڑی دیر تڑپنے کے بعد دم توڑ گیا، جبکہ خالد کو ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں اس کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔یہ واقعہ محض ایک خاندان کی المناک کہانی نہیں بلکہ غربِ اردن میں روزمرہ پیش آنے والے واقعات کی ایک جھلک ہے۔

ایک خاندان کی خاموش موت

دوسری واردات14  مارچ کی شب طمون میں پیش آئی جب 57 سالہ خالد بن ابی عودہ اپنی اہلیہ وعد اور دو کمسن بیٹوں کے ساتھ تراویح کے لیے مسجد جا رہے تھے کہ ایک فوجی چوکی سے ان کی گاڑی پر گولیاں برسا دی گئیں۔ پورا خاندان موقع پر ہی دم توڑ گیا۔جنگ میں صرف سپاہی نہیں مرتے، کبھی کبھی پورے خاندان تاریخ کے حاشیے پر دفن ہو جاتے ہیں۔

لبنان میں بھی آگ

غزہ کی طرح جنوبی لبنان میں بھی عبادتگاہیں اسرائیل کا نشانہ ہیں۔ گزشتہ ہفتے ایک مارونی گرجا کو نشانہ بنایا گیا جس میں پادری پیئر الراعی ہلاک ہوگئے۔مارونی( Maronite)  مسیحی پانچویں صدی کے ایک شامی راہب Saint Maron سے منسوب ہیں۔لبنان کی سیاسی ساخت میں مارونی مسیحیوں کو خاص مقام حاصل ہے۔ لبنان کا صدر مارونی، وزیراعظم سنی اور اسپیکر شیعہ ہوتے ہیں۔

اسی دوران عالمی تنظیم Human Rights Watch نے انکشاف کیا ہے کہ جنوبی لبنان میں سفید فاسفورس استعمال کیا گیا۔ یہ آتش گیر کیمیائی مادہ انسانی جسم کو شدید جلا دیتا ہے اور شہری علاقوں میں اس کا استعمال بین الاقوامی قانون کے تحت ممنوع سمجھا جاتا ہے۔ اسرائیل اس سے پہلے غزہ میں بھی سفید فاسفورس استعمال کرچکا ہے۔ عالمی قوانین کی ان صریح خلاف ورزیوں پر اقوام عالم کی خاموشی افسوسناک ہے۔

یہاں تو بات کرنے کو ترستی ہے زباں میری

ایران ، غزہ، غرب اردن اور لبنان میں جارحیت کے بارے میں بدترین سینسر کیساتھ اسرائیلی حکومت نے اسکے مظاہروں خلاف مظاہروں پربھی پابندی لگارکھی ہے۔ گزشتہ ہفتے تل ابیب میں نوجوانوں نے بے مقصد جنگوں کے خلاف جلوس نکالا۔ مظاہرین نیتن یاہو کی تصویر والے پلے کارڈ اٹھائے ہوئے تھے جس پر عبرانی میں لکھاتھا הגיע הזמן: נתניהוחזור לחירות یعنی نیتن یاہو کو جیل بھیجو۔ پولیس نے پلے کارڈ چھین کر مظاہرہ منتشر کرنے کیساتھ کئی منتظمین کو گرفتار کرلیا، جن پر غداری کے الزام میں قدمہ چلے گا۔

سفارتی محاذ بھی گرم

اسرائیلی جارحیت پر بطور احتجاج ، اسپین نے تل ابیب سے اپنا سفیر واپس بلالیا۔ہسپانوی حکومت کے سرکاری اعلامئےکے مطابق تل ابیب میں سفیر کا منصب ختم کر دیا گیا ہے اور آئندہ اسپین کے سفارتی مشن کی قیادت ناظم الامور (Chargé d’Affaires) کریں گے۔ سفارتی اصطلاح میں کسی ملک سے سفیر واپس بلا کر مشن کو ناظم الامور کے سپرد کرنا دراصل دوطرفہ تعلقات کو کم درجے پر لانا (downgrade) کہلاتا ہے، جو عموماً شدید سیاسی اختلاف یا احتجاج کا اشارہ ہے۔

مشرقِ وسطیٰ کی اس آگ میں روز نئی قبریں کُھد رہی ہیں۔ اگر رمضان کی راتیں بھی بارود کی روشنی میں گزریں اور بچوں کے کھیل کے میدان قبرستان میں بدل جائیں تو پھر تہذیب کے اس سفر پر فخر کیسے کیا جائے؟ تاریخ آنے والی نسلوں سے ضرور پوچھے گی کہ اس زمانے میں جب ہر خبر لمحوں میں دنیا کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک پہنچ سکتی تھی، تب انسانیت کی آواز اتنی مدھم کیوں تھی۔

ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل کراچی 20 مارچ 2026

ہفت روزہ دعوت دہلی 20 مارچ 2026

ہفت روزہ رہبر سرینگر 22 مارچ 2026


 

خون، تیل اور طاقت کی بساط

محدود کارروائی یا ایک نئے علاقائی بحران کی ابتدا؟

ایران کے خلاف جاری جنگ تیسرے ہفتے میں داخل ہو چکی ہے، مگر اس خونریزی کو اب تک کوئی واضح نام نہیں دیا جا سکا۔ امریکی کانگریس کے اسپیکر اسے معمول کی محدود کاروائی سمجھتے ہیں۔صدر ٹرمپ نے اسے  Excursion کہا،جس کا ایک مفہوم مختصر مہم اور دوسرا سیر و تفریح  ہے۔ دوسری طرف اسرائیلی وزیر اعظم بن یامین نیتن یاہو کے لئے  یہ انکی چالیس سال پرانی آرزو کی تکمیل ہے، جبکہ امریکی وزیر جنگ اسے فیصلہ کن اور بے رحم جنگ قرار دے رہے ہے۔

صدر ٹرمپ کی یہ خونی سیر تادم تحریر اسکول کی معصوم بچیوں سمیت 1270 نہتے شہریوں کی جان لے چکی ہے اور ہزاروں لوگ زخمی ہیں۔ہسپتال، دواخانے، بجلی گھر، ایندھن کے ذخائر، آبنوشی و آبپاشی کے وسائل، پُل اور سڑکیں بنیادی ہدف ہیں۔ وہی منظر جو پہلے غزہ اور لبنان میں دیکھا جا چکا ہے۔ جنگ کی لغت طاقتور جنگجولکھتے اور اس کی قیمت عام لوگ ادا کرتے ہیں۔

منہہ پر لگنے والا پہلا گھونسہ

تلون مزاج اور انا کے گنبد میں بند امریکی صدر کا دعویٰ ہے کہ ایران کو کچل دیا گیا۔ لیکن معروف امریکی مبصر Howard Kurtz نے اپنے ایک حالیہ کالم میں کہا ہے کہ جیسے جیسے جنگ طول پکڑ رہی ہے اور امریکی فوجیوں کی ہلاکتوں کی خبریں سامنے آ رہی ہیں، ویسے ویسے واشنگٹن میں اس جنگ کے انجام اور اس کی قیمت کے بارے میں سوالات بڑھتے جا رہے ہیں۔جناب کُرٹز کا خیال ہے کہ ایران نے بھی ایسے طریقے تلاش کر لئے ہیں جن کے ذریعے وہ جوابی ردعمل دے سکتا ہے، جس سے یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ جنگ کا نقشہ اتنا یک طرفہ نہیں رہا جتنا ابتدا میں تصور کیا جا رہا تھا۔انھوں نے اپنے کالم کے آغاز میں باکسنگ کے عالمی چمپین مائک ٹائسن کا یہ جملہ نقل کیا ہے کہ 'منہہ پر پہلا گھونسہ پڑتے ہی سارے منصوبے دھرے کے دھرے رہ جاتے ہیں'۔ انکے حالیہ مضمون کا مرکزی خیال یہی ہے کہ جیسے باکسنگ کے رنگ میں پہلا مُکّا پورے مقابلے کی سمت بدل دیتا ہے۔ ویسے ہی میدانِ جنگ میں حقیقت کا پہلا جھٹکا پورے منظرنامے کو بدل کر مستکبرین کے کس بل نکال دیتا ہے۔

فوجی پیش رفت اور بڑھتے خدشات

امریکی ٹیلی ویژن ABCکے مطابق تقریباً 5500 میرینز پر مشتمل ایک تیز رفتار مہماتی دستہ یا Marine Expeditionary Unit (MEU) تین بحری جہازوں پر جاپان سے مشرقِ وسطیٰ کی طرف روانہ کر دیا گیاہے۔ یہ پیش رفت ایران پر دباؤ بڑھانے کی حکمت عملی ہو سکتی ہے، مگر خدشہ یہ بھی ہے کہ کہیں یہ تنازع ایک وسیع علاقائی جنگ میں تبدیل نہ ہو جائے۔ امریکی فوجی تاریخ میں ایسی مثالیں پہلے بھی ملتی ہیں۔جنگ ویتنام  بھی محدود مشیروں کی تعیناتی سے شروع ہوئی تھی، مگر بعد میں ایک طویل اور مہنگی جنگ بن گئی۔

توانائی کی جنگ

گزشتہ ہفتے خلیج فارس میں جزیرہ خارگ پر امریکہ نے بمباری کی۔ جسکا اعلان صدر ٹرمپ نے خود کیا۔ اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر انھوں نے لکھا کہ 'ازراہ مہربانی' ہم نے ایرانی تیل تنصبات کوخاک نہیں کیا لیکن اگر ایران نے آبنائے ہرمز کو بند کرنے کی کوشش کی تو میں اپنے فیصلے پر نظرِ ثانی کرسکتا ہوں۔ایرانی تیل کی 90 فیصد برآمدات اسی جزیرے پر قائم ٹرمنل سے ہوتی ہیں۔ پچیس مربع کلومیٹر رقبے کا یہ جزیرہ، آبنائے ہرمز سے شمال مغرب کی جانب 483 کلومیٹر دور ہے۔ جواباً ایران نے فجیرہ (متحدہ عرب امارات) میں خام تیل کی تنصیبات پر زبردست حملہ کیا۔یوں یہ لڑائی صرف فوجی نہیں بلکہ توانائی اور عالمی معیشت کی جنگ بن چکی ہے۔

صرف مزے کے لئے

دوسرے دن NBC News سے باتیں کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے اپنے مخصوص متکبرانہ لہجے میں کہا کہ امریکہ نے ایران کے اہم تیل برآمدی مرکز جزیرہ خرگ مکمل طور پر تباہ کردیا ہے۔ ساتھ ہی مسکراتے ہوئے بولے کہ اگر ضرورت پڑی تو اس پر “چند مزید حملے بھی کئے جا سکتے ہیں،  صرف مزہ لینے کے لئے۔” we may hit it a few more times just for fun ۔ یہ الفاظ سن کر تاریخ کے ایک اور کردار کی یاد تازہ ہو جاتی ہے۔تیمور نے اپنی خودنوشت  سوانحعمری میں لکھا ہے کہ جنگ کے دوران سر قلم ہوتے سپاہی کی گردن سے پھوٹتے خون کے فوارے سے زیادہ دل آویز منظر میں نے کبھی نہیں دیکھا۔ وہ مناظر مجھے آج تک یاد ہیں اور ان کے تصور سے اب بھی میرے لبوں پر مسکراہٹ آ جاتی ہے۔ کیا انسانیت،  تہذیب کے سفر میں آگے بڑھی ہے، یا صرف ہتھیار جدید ہوئے ہیں؟

افواہوں کا بازار گرم

اس جنگ میں افواہوں کا بازار بھی گرم ہے۔سوشل میڈیا پر یہ خبر تیزی سے گردش کر رہی ہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم بن یامین نیتن یاہو ہلاک ہو چکے ہیں ۔لیکن اب تک کسی معتبر عالمی خبر رساں ادارے نے اس خبر کی تصدیق نہیں کی۔

ایسی ہی ایک سنسنی خیز مہم کا آغاز 15 مارچ کو ہوا جب ایران نے امریکی طیارہ بردار جہاز USS Abraham Lincoln (CVN-72) پر کامیاب میزائیل حملے اور اسے ناکارہ کردینے کا دعویٰ کردیا۔امریکی مرکزی کمان نے اس کی واضح تردید کرتے ہوئے کہا کہ جہاز معمول کے مطابق اپنی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔ یوں یہ جنگ میدان کے ساتھ ساتھ اطلاعات کے محاذ پر بھی لڑی جا رہی ہے۔

منزل ہے کہاں تیری؟؟؟

اس بے مقصد جنگ کے بارے میں امریکیوں کی بیچینی بڑھتی دکھائی دے رہی ہے۔امریکی سینیٹ کو دی گئی خفیہ آگاہی (Classified Briefing) کے بعد کئی ڈیموکریٹ سینیٹروں نے اعتراف کیا ہے کہ انہیں اس جنگ کے مقاصد اور انجام کے بارے میں اب بھی واضح جواب نہیں ملا۔ سینیٹر Chris Murphy نے بریفنگ کے بعد کہا کہ حکمتِ عملی “بالکل غیر واضح” ہے، جبکہ سینیٹر Richard Blumenthal کے مطابق اس جنگ کا کوئی واضح اختتامی منصوبہ (Endgame) نظر نہیں آ رہا۔اسی دوران سینیٹر Elizabeth Warren نے سوال اٹھایا کہ جب کروڑوں امریکیوں کے لئےصحت کے وسائل میسر نہیں تو ایران پر بمباری کے لیے روزانہ اربوں ڈالر کہاں سے آرہے ہیں۔ بعض قانون سازوں کو یہ خدشہ بھی ہے کہ یہ جنگ آگے چل کر امریکی زمینی فوج کی تعیناتی تک پہنچ سکتی ہے۔کچھ سینیٹرز نے مطالبہ کیا کہ اس معاملے کو عوام کے سامنے پیش کیا جائے تاکہ امریکیوں کو معلوم ہو کہ انکے خون پسینے کی کمائی کہاں خرچ ہورہی ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ اسرائیل کی خوشنودی کے لئے جنگ تو چھیڑ دی گئی، مگر اس کے مقصد، مدت اور انجام کا نقشہ ابھی تک کسی کے پاس نہیں۔

معاملہ یکطرفہ نہیں

جنگ میں ایران کے بھاری شہری نقصان کیساتھ زمینی حقائق امریکہ کیلئے بھی خوش کُن نہیں ۔ جنگ کے آغاز پر ہی کویت میں تین F-15دوستانہ فائر کا شکار ہوکر زمین پر آرہے۔ سعودی عرب کے امریکی اڈے پر ایک میزائیل حملے میں سات فوجی ہلاک ہوگئے۔ عراق کی فضائی حدود میں امریکی لڑاکا طیاروں کو ایندھن فراہم کرتے ہوئے دو KC-135طیارے آپس میں ٹکرا گئے۔ایک طیارہ مکمل طور پر تباہ اور اسکا چھ رکنی عملہ ہلاک ہوگیا، دوسرا جہاز بھی ناکارہ ہوچکا ہے، دوسرے دن سعودی عرب کے اڈے پر میزائیل حملے میں پانچ KC-135طیاروں کونقصان پہنچا۔ یعنی پندرہ دن میں امریکہ کے 10 طیارے تباہ یا ناقابل استعمال ہوگئے۔ امریکی اڈوں پر حملوں میں 13ہلاکتوں کے علاوہ 240 فوجی زخمی ہوچکے ہیں

توانائی کی کلیدی شاہرہ بند

ایران آبنائے ہرمز کو مسدود کرنے میں اب تک کامیاب نظر آرہاہے۔ صدر ٹرمپ نے چین سمیت اقوام عالم سے درخواست کی ہے کہ وہ 'معاشی خطِ حیات' کو چالو رکھنے کیلئے اپنی ذمہ داری اداکریں۔ بادی النظر میں یہ اس بات کا اعتراف ہے کہ قوت قاہرہ کے باوجود امریکہ اس اہم آبی شاہراہ کو تن تنہا محفوظ نہیں بناسکتا۔ہرمز کو بند رکھنے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے ایرانی وزیرخارجہ سید عباس عراقچی نے کہا کہ جب تک ہماری سرزمین اور اثاثوں پر حملے بند نہیں ہوجاتے ہم اس علاقے سے تیل برآمد نہیں ہونے دینگے۔

اسرائیل اور امریکی تنصیبات پر ایران کے حملے

علاقے میں امریکی اڈوں اور اسرائیل پر ایران کے ڈرون اور میزائیل حملے جاری ہیں۔ بغداد میں امریکی سفارتخانے کی عمارت پر نصب امریکی ریڈار، قطر میں امریکی تنصیبات، بحرین کے امریکی بحری اڈے، سعودی عرب اور کوئت میں امریکی فوج کے ٹھکانوں کیساتھ دوبئی کو ایرانی میزائیل نشانہ بنارہے ہیں۔ ایرانی خاتم الانبیا(ص) مرکزی کمان کے ترجمان نے  امریکی عسکری مفادات پر حملے جاری رکھنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ  علاقے میں جہاں سے بھی ایران کی طرف میزائیل داغے گئے یا امریکی و اسرائیلی طیاروں نے اڑان بھری وہ ہمارا ہدف ہے۔

ایران میں Regime Change۔۔ ایں خیال است و محال است و جنوں

ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو ایران میں تبدیلی اقتدار (Regime Change)کے حوالے سے مایوس ہیں اور نہیں جانتے کہ آیا ایرانی عوام اپنےنظام کو بدل پائیں گے؟ اسی کیساتھ امریکی خفیہ اداروں کی حالیہ رپورٹوں میں اعتراف کیا گیا ہے کہ ایرانی حکومت ابھی مضبوط ہے اور اسکی فوری تحلیل ممکن نظر نہیں آتی۔ ان ماہرین کا خیال ہے کہ سخت فوجی یا سیاسی کارروائیوں کے باوجود ریاستی گرفت مضبوط اور ممکنہ عوامی بغاوت یا انقلاب کے امکانات کمزور ہیں۔یعنی بیانات اور حقائق کے درمیان خلا واضح ہے۔ ایک طرف جذباتی، جارح اور امید بھرا بیانیہ؛ دوسری طرف حقیقت پسندانہ، مضبوط ریاستی ڈھانچے کی تصویر۔

مفلوج سلامتی کونسل

سلامتی کونسل میں ایران کے حملوں کی مذمت کی قرارداد بلا بحث و مباحثہ تیرہ ووٹوں کی حمایت سے منظور ہوگئی۔ جواب میں ایران پر ہونے والے حملوں کے بارے میں روس کی جانب سے ایک نہایت محتاط مسودۂ قرارداد سامنے آیا، اتنا محتاط کہ کسی کا نام لینے کی جرأت بھی نہ کی گئی۔ گویا یہ سفارت کاری کی ہومیوپیتھک خوراک تھی؛ اثر کی امید بہت، مگر مقدار نہ ہونے کے برابر۔ تاہم یہ بے ضرر قرارداد بھی اپنے مجوز کنندہ،  روس کے علاوہ صرف پاکستان اور چین کے ووٹ حاصل کرسکی اور چچا سام کے ویٹو کی نوبت نہ آئی۔

ترکش خالی ہورہے ہیں    یا کاسہ؟؟

امریکی خبر رساں پلیٹ فارم Semafor نے ایک رپورٹ میں امریکی حکام کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیل کے فضائی دفاعی نظام کے لئے استعمال ہونے والے interceptors تیزی سے کم ہو رہے ہیں۔ یہ وہ میزائل ہیں جو دشمن کے راکٹ یا میزائل کو فضا ہی میں تباہ کرنے کے لیے داغے جاتے ہیں۔خبر کے مطابق مسلسل حملوں کی وجہ سے اسرائیلی دفاعی نظام پر بوجھ بڑھ رہا ہے اور ذخائر میں کمی محسوس کی جا رہی ہے۔بین الاقوامی سیاست میں بعض اوقات ایسی اطلاعات دفاعی صورتحال بیان کرنے کے بجائے اتحادیوں کو متوجہ کرنے کے لئے سامنے آتی ہیں۔ خاص طور پر جب معاملہ اربوں ڈالر کی فوجی امداد اور ہتھیاروں کی فراہمی سے جڑا ہو۔ممکن ہے  کہ خطرہ حقیقی ہو، لیکن عالمی سیاست میں یہ بھی ایک پرانا اصول ہے کہ مدد مانگنے سے زیادہ مؤثر طریقہ، کمی کی خبر پھیلانا ہے۔

پاک بحریہ کی مہم

سمندری آمدورفت (maritime)سے وابستہ حلقے پاک بحریہ کی محافظ البحر مہم سے متاثر ہیں۔اس مہم کے ذریعے پاک بحریہ، بحیرہ احمر سے پاکستان تک کے بحری راستے کو تحفظ فراہم کررہی ہے۔ امریکی اصرار کے باجوود آبنائے ہرمز کو رواں رکھنا محافظ البحر کے فرائض میں شامل نہیں لہذا پاکستانی جہاز خلیج فارس سے فاصلے پر ہیں۔ اس مہم کا بنیادی ہدف تیل کی ترسیل کیلئے سعودی بندرگاہ ینبوع سے کراچی تک کا بحری سفر محفوظ بنانا ہے۔یہ راستہ بھی سو فیصد محفوظ نہیں کہ اگر حوثیوں نے آبنائے باب المندب پر نشانہ بازی شروع کردی تو بس نہر سوئز کا راستہ ہی کھلا رہ جائیگا

تیل کی کی پیداوار میں کٹوتی اور امریکی کمپنیوں کی چاندی

خلیج فارس کا راستہ مخدوش ہونے کی بنا پر سعودی عرب نے تیل کی پیداوار 25 لاکھ، متحدہ عرب امارات نے 8 لاکھ ، کویت نے 5 لاکھ اور عراق نے 29لاکھ بیرل یومیہ کی کمی کردی ہے۔ مزے کی بات کہ امریکہ میں تیل کی پیداوار پانچ فیصد بڑھ چکی ہے اور نقل و حرکت  معمول کے مطابق ہے۔لیکن امریکہ کاWTIبرانڈ بھی عرب لائٹ اور اوپیک مشرق وسطی باسکیٹ کے دام بک رہا ہے ۔ اسے کہتے ہیں منافع خوری

ہفت روزہ دعوت دہلی 20 مارچ 2026


Thursday, March 12, 2026

 

کیا واشنگٹن کی جنگ تل ابیب کا ایجنڈا ہے؟

روبیو کے اعتراف اور نیتن یاہو کے بیان سے اٹھتے سوالات

سیاست دان کبھی کبھی وہ بات خود ہی کہہ دیتے ہیں جس کے بارے میں خدشات زباں زدِ عام ہوتے ہیں۔امریکی وزیر خارجہ کا ایک بیان اور اسرائیلی وزیراعظم کے بصری پیغام نے ایسے ہی ایک 'سوال' کو بے نقاب کردیا ہے  جسے طویل عرصے سے دبانے کی کوشش کی جا رہی تھی یعنی امریکہ مشرقِ وسطیٰ میں اپنی سلامتی کی جنگ لڑ رہا ہے یا کسی اور کی حکمتِ عملی کو قوت فراہم کر رہا ہے؟

"ہمیں معلوم تھا…" — مارکو روبیو کا بیان

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے واشنگٹن میں صحافیوں کو بتایا ہمیں معلوم تھا کہ اسرائیل کاروائی کرنے والا ہے اور ہم زیادہ نقصان برداشت نہیں کرنا چاہتے تھے، اس لیے ہم نے پہلے حملہ کیا تاکہ بڑے جانی نقصان سے بچا جا سکے یعنی فیصلہ امریکی مفاد کی روشنی میں نہیں بلکہ اسرائیلی حکمتِ عملی کو مدنظر رکھ کر کیا گیا۔

چالیس سالہ آرزو” — نیتن یاہو کا اعتراف

اسی دوران اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے ایک بصری پیغام میں کہا (امریکہ اور اسرائیل کے) فوجی اتحاد نے مجھے وہ طاقت فراہم کردی جس سے میری وہ آرزو پوری ہوگئی جسے میں پچھلے چالیس سالوں سے اپنے دل میں لئے بیٹھا تھا'

چالیس سالہ آرزو۔۔۔؟، اس فقرے نے حقیقت آشکار کردی کہ یہ وقتی دفاعی کارروائی نہیں بلکہ ایک طویل المدت نظریاتی منصوبے  بلکہ شیطانی آرزو و تمنا کی تکمیل ہے۔

اگر اسرائیلی قیادت اسے تاریخی موقع سمجھ رہی ہے اور امریکی وزیر خارجہ اس بات کا اعتراف کر رہے ہیں کہ حملے کی ساعت (timing) اسرائیلی منصوبے سے متاثر تھی، تو یہ بات بالکل واضح ہوگئی ہے کہ  حالیہ وحشت کے اصل محرکات کیا ہیں

آئت اللہ خامنہ ای کا قتل  ۔۔ پرانا منصوبہ

اب نیتن یاہو کے وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے انکشاف کیا ہے کہ گزشتہ سال نومبر ہی میں آئت اللہ سید علی خامنہ ای کو نشانہ بنانے کا ہدف طے کیا جا چکا تھا، اور ایران میں حکومت مخالف مظاہروں نے اس منصوبے کی رفتار تیز کر دی، جس سے امریکہ اور اسرائیل کی مشترکہ کارروائی کے حالات پیدا ہوئے۔یعنی یہ محض حالات کا جبر نہیں تھا، بلکہ درندگی کی یہ خواہش چاردہائیوں سے دل میں چھپی تھی۔

خطیر  امریکی امداد اور جنگ کا تسلسل

غزہ پر اسرائیلی حملے کے  بعد سے امریکہ، اسرائیل کو تقریباً 21 ارب ڈالر کی اضافی فوجی مدد فراہم کر چکا ہے۔جبکہ حالیہ عسکری مہم پر امریکی فوج کے خرچ کا تخمینہ 90 کروڑ ڈالر روزانہ ہے۔ اسرائیل کے اخراجات اس سے کہیں زیادہ ہیں کیونکہ اسے ایرانی میزائیل حملوں سے دفاع کا خرچ بھی برداشت کرنا پڑہا ہے۔ اسرائیل کے اخراجات کی ادائیگی بھی امریکی خزانے سے ہی ہوگی۔ ایسے وقت جب خود امریکہ میں افراطِ زر، بیرورگاری، صحت عامہ، اور بنیادی ڈھانچے کے مسائل شدت اختیار کئے ہوئے ہیں، ٹیکس دہندگان کے سرمائے کو بے گناہ ایرانیوں کے قتل عام و بربادی کیلئے استعمال کرنے کا کیامقصد ہے؟

ہتھیار ڈالنے کی انوکھی تعریف

امریکی صدر کا اصرار ہے کہ ایران غیر مشروط طور پر ہتھیار ڈال دے۔ہتھیار ڈالنے کی تعریف بیان کرتے ہوئے انہوں نے کہا غیر مشروط ہتھیار ڈالنے کا مطلب اس صورت میں بھی ہو سکتا ہے جب وہ مزید لڑنے کے قابل نہ رہیں، یعنی ان کے پاس لڑنے والے باقی ہوں اور نہ اسلحہ

اب امریکی صدر کو کون سمجھائے کہ آخری سپاہی اور آخری گولی تک لڑنے کو ہتھیار ڈالنا نہیں کہا جاتا۔ یہ تو شجاعت اور عزم کی وہ معراج ہے جس میں سپاہی اپنے خون کے آخری قطرے تک آزادی کا دفاع کرتا ہے۔ تاریخ شاہد ہے کہ ایسے جذبے سے لڑنے والی قوموں نے کبھی شکست نہیں کھائی۔ہتھیار ڈالنے کی ایک نمایاں مثال تو خود صدر ٹرمپ نے اپنے پہلے دورِ اقتدار میں قائم کی تھی، جب انہوں نے قطر میں ملا عبدالغنی برادر کو فون کر کے افغانستان میں تعینات امریکی فوجیوں کی بحفاظت واپسی کی درخواست کی۔ طے یہ پایا کہ امریکی سپاہ اپنا بھاری اسلحہ وہیں چھوڑ کر صرف ذاتی ہتھیاروں کے ساتھ واپس جائے گی۔یادش بخیر 14 سوسال ایسی ہی شرائط پر بنونضیر اور بنوع قیننقاع کی جاں بخشی ہوئی تھی۔

ایران، غزہ اور پھیلتی ہوئی جنگ

ایران پر حملہ اور غزہ کی تباہی ایک مربوط زنجیر کا حصہ ہے۔ غزہ خونریزی ابھی جاری ہی ہے کہ اس کا دائرہ مزید وسیع کردیا گیا۔امریکی وزیرخارجہ کے اعتراف اور نیتن یاہو کے اظہارِ تمنا نے امریکی عوام کی بدنصیبی اور قیادت کے فتورِ نیت پر پڑے پردے کو تارتار کردیاہے۔اس بات میں اب کوئی شبہہ باقی نہیں رہا کہ واشنگٹن کی حالیہ عسکری پیش رفت،  اسرائیلی منصوبہ بندی سے ہم آہنگ اور ڈانلڈ ٹرمپ و نیتن یاہو کی مسلم نفرت پر مبنی مشترکہ تزویراتی (اسٹریٹیجک) مہم ہے۔

بیچارے امریکی ٹیکس دہندگان

امریکہ ایک جمہوری ریاست ہے جہاں خارجہ پالیسی بالآخر عوامی احتساب کے دائرے میں آتی ہے۔جب اربوں ڈالر بیرونِ ملک فوجی مہمات پر خرچ ہوں اور خود وزراء یہ عندیہ دیں کہ فیصلے کی گھڑی کسی اتحادی ملک کی حکمتِ عملی سے متاثر ہے، تو سوال محض نظریاتی نہیں رہتا بلکہ یہ مالی اور آئینی مسئلہ بھی بن جاتا ہے۔کیا امریکی شہری اس خطے کی طویل المدت فوجی کشمکش کی قیمت ادا کرنے کے لیے تیار ہیں؟یا یہ فیصلہ ان سے پوچھے بغیر کیا جا رہا ہے؟

لمحہِ فکریہ

یہ درست کہ عالمی اتحاد مفادات کی بنیاد پر ہی بنتے ہیں، مگر جب اتحاد کے ایک رکن کی جانب سے “چالیس سالہ آرزو” کا ذکر اور دوسرا ساتھی وقت کے انتخاب  میں اس کے اثر کا اعتراف کرے، تو معاملہ محض دفاعی کارروائی نہیں رہتا۔ یہ وقتی ردِعمل نہیں بلکہ اسکا ہدف خطے کے جغرافئےاور سیاسی توازن کو مستقل طور پر بدلنا ہے

ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل کراچی 13 مارچ 2026

ہفت روزہ دعوت دہلی 13 مارچ 2026

ہفت روزہ رہبر سرینگر 15 مارچ 1026


 

 

آبنائے ہرمز — عالمی معیشت کی شہ رگ

ایران کے خلاف امریکہ و اسرائیل کی مشترکہ جارحیت نے دنیا،  خاص طور سے ایشیائی ممالک کو تیل کے سنگین بحران میں مبتلا کردیا ہے۔اس کی وجہ ایک تنگ مگر انتہائی اہم سمندری گزرگاہ، آبنائے ہرمز (Hormuz Strait)کی ممکنہ بندش ہے۔ یہ آبی راستہ، خلیج فارس کو خلیج عمان اور پھر بحرِ ہند سے ملاتا ہے۔ اس کے شمال میں ایران اور جنوب میں عمان اور متحدہ عرب امارات واقع ہیں جغرافیائی اعتبار سے یہ گزرگاہ زیادہ وسیع نہیں, تنگ ترین مقام پر اس کی چوڑائی تقریباً 34 کلومیٹر ہے، لیکن عالمی معیشت کے لیے اس کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ روزانہ تقریباً دوکروڑ بیرل تیل اس راستے سے عالمی منڈیوں تک پہنچتا ہے، جو دنیا کی کل یومیہ کھپت کا تقریباً بیس فیصد ہے۔ سمندری راستوں سے ہونے والی عالمی تیل تجارت کا تقریباً ایک چوتھائی حصہ اسی آبنائے سے گزرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب بھی خلیج میں کشیدگی بڑھتی ہے تو عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتیں فوراً بے چینی کا شکار ہو جاتی ہیں۔ ماہرین، آبنائے ہرمز کو توانائی کی “شہ رگ” قرار دیتے ہیں۔

خلیجی ریاستوں کی معیشت بڑی حد تک اسی راستے پر منحصر ہے۔ سعودی عرب، عراق، متحدہ عرب امارات، کویت، قطر اور ایران اپنے تیل کی بڑی مقدار اسی آبی گزرگاہ کے ذریعے دنیا بھر میں بھیجتے ہیں۔قطر کی مائع قدرتی گیس (LNG) کی برآمدات بھی اسی راستے سے ہوتی ہیں۔ ایران نے دھمکیوں کے باوجود باضابطہ طور پرآبنائے ہرمز کو بند کرنے کا اب تک اعلان نہیں کیا، لیکن عملی طور پر جہاز رانی شدید متاثر ہے اور بہت حد تک راستہ بند جیسی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔جسکی وجہ سے  توانائی کی عالمی منڈیاں بحران کا شکار ہیں اور 8 مارچ کو تیل کی قیمت 110 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرگئی۔

اس راستے کی بندش کا سب سے بڑااور بُرا اثر پاکستان، بنگلہ دیش اور ایشیا کی بڑی معیشتوں پر پڑرہا ہے۔ چین، بھارت اور جنوبی کوریا اپنی توانائی کی ضروریات کا بڑا حصہ خلیج سے حاصل کرتے ہیں۔جاپان اپنی ضرورت کا تقریباً ستر فیصد تیل اسی راستے سے درآمد کرتا ہے۔ چنانچہ آبنائے ہرمز میں رکاوٹ نے ایشیا کی صنعتی معیشتوں کو بحران سے دوچار کردیا ہے۔

اسی خطرے کے پیش نظر سعودی عرب نے کئی سال پہلے ایک متبادل راستہ تیار کیا تھا۔ اسے “ایسٹ ویسٹ پائپ لائن” کہا جاتا ہے۔ اس پائپ لائن کے ذریعے خلیج کے ساحل سے نکلنے والا تیل سعودی عرب کے مغربی ساحل پر واقع بندرگاہ ینبع تک پہنچایا جا سکتا ہے، جہاں سے اسے بحیرہ احمر کے ذریعے عالمی منڈیوں تک بھیجا جاتا ہے۔ اس طرح تیل کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی ضرورت نہیں رہتی۔

مگر یہ راستہ بھی مکمل طور پر محفوظ نہیں۔ بحیرہ احمر سے گزر کر ایشیا کی طرف سفر کیلئےجہازوں کو آبنائے باب المندب سے گزرنا پڑتا ہے جو یمن اور افریقہ کے ساحلوں کے درمیان واقع ہے ۔حالیہ برسوں میں یمن کے حوثی جنگجوؤں نے اس علاقے میں جہازوں کو نشانہ بنایا ہے جس کے باعث اس راستے کی سلامتی بھی غیر یقینی ہو چکی ہے۔ ادھر کچھ عرصے سے آبنائے باب مندب پر کوئی بڑی کاروائی نہیں دیکھی گئی لیکن اس نوعیت کی کاروائیاں خارج از امکان نہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پراعتماد ہیں کہ امریکی بحریہ آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ بلاشبہ امریکی بحریہ دنیا کی سب سے طاقتور بحری قوت ہے اور ماضی میں اس نے خلیج میں جہازوں کی حفاظت کے لیے کارروائیاں کی ہیں۔ تاہم عسکری ماہرین اس معاملے کو اتنا سادہ نہیں سمجھتے۔ آبنائے ہرمز ایک تنگ آبی راستہ ہے جہاں سینکڑوں تجارتی جہاز مسلسل آمد و رفت کرتے ہیں۔ اگرایران بارودی سرنگیں بچھانے میں کامیاب ہوگیا یا ساحلی میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے حملے شروع کر دئے تو ہر جہاز کو محفوظ راستہ فراہم کرنا ممکن نہیں ہوگا۔

ماہرین خبردار کررہے ہیں کہ اگر ہرمز میں چند دن کے لیے بھی جہاز رانی متاثر ہو جائے تو عالمی تیل کی قیمتیں آسمان کو چھونے لگیں گی۔ توانائی کی منڈیوں میں عدم استحکام کا یہ سلسلہ نہ صرف تیل درآمد کرنے والے ممالک بلکہ عالمی معیشت کے ہر شعبے کو متاثر کرے گا۔

حقیقت یہ ہے کہ آبنائے ہرمز عالمی معیشت کی دھڑکن ہے۔ اس کی بندش کا مطلب صرف خلیج میں بحران نہیں بلکہ دنیا بھر میں معاشی بے یقینی کا طوفان ہے۔ اس لئےخلیج میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پس منظر میں سب سے بڑا سوال یہی ہے کہ کیا عالمی طاقتیں اس شہ رگ کو کھلا رکھنے میں کامیاب رہیں گی یا دنیا ایک نئے توانائی بحران کی طرف بڑھ رہی ہے؟ امریکہ و اسرائیل کی جارحیت کا راستہ روک ہی اس کلیدی آبی گزرگاہ کو محفوظ اور کھلا رکھا جاسکتا ہے۔ دیکھنا ہے کہ اقوام عالم اس معاملے پر اپنا کردار کیسے نبھاتی ہیں۔

ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل کراچی 13 مارچ 2026

ہفت روزہ دعوت دہلی 13 مارچ 2026

ہفت روزہ رہبر سرینگر 15 مارچ 2026


 

جنگ کا پھیلتا دائرہ: غزہ سے ایران تک

القدس، جنگ اور مذہبی آزادی کے نئے سوال

مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ اب محض غزہ تک محدود نہیں رہی۔اس جارحیت کا دائرہ بتدریج لبنان اور ایران تک پھیل چکا ہے۔ اگرچہ شام، لبنان، یمن اور ایران پر مختلف نوعیت کے حملے پہلے بھی ہوتے رہے ہیں، لیکن ایران اور لبنان کے محاذ پر حالیہ شدت کا آغاز 28 فروری کو سبتِ ذکر (Shabbat Zachor) پر ہوا۔ یہودی تہوار پیورم (Purim) سے پہلے آنے والے ہفتے کو سبتِ ذکر(یاددہانی) کہا جاتا ہے۔

پیورم یہودی مذہب کا ایک قدیم تہوار ہے جس کی بنیاد کتابِ استر (Book of Esther) میں بیان کردہ اس واقعے پر ہے جب روایت کے مطابق قدیم فارس میں ملکہ استر اور مردخائی کی کوششوں سے یہودیوں کو ایک منصوبہ بند قتلِ عام سے نجات ملی تھی۔ اسی یاد میں اس تہوار کے دوران عبادات، جلوس، خیرات اور خوشی کی تقریبات منعقد کی جاتی ہیں۔

جنگ کا ایک جیسا نقشہ

غزہ میں جس منظم انداز سے اسکولوں، ہسپتالوں، عبادت گاہوں، آبی وسائل، ایندھن، بجلی گھروں اور بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا گیا، اسی نوعیت کی ترجیحات اب ایران اور لبنان کے محاذ پر بھی دکھائی دے رہی ہیں۔ لبنان میں بمباری کی شدت کے باعث شہری آبادی براہِ راست متاثر ہو رہی ہے۔ اندازوں کے مطابق تقریباً پانچ لاکھ افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔ بیروت کے پارکوں اور سڑکوں کے کنارے خیمہ بستیاں آباد ہو رہی ہیں، ایک ایسا منظر جو کچھ عرصہ پہلے تک صرف غزہ کا مقدر سمجھا جا رہا تھا۔

ایران پر حملوں کے آغاز کے ساتھ ہی اسرائیل نے غزہ کی سرحد پر واقع رفح پھاٹک بند کردیا ، جس سے روزوں کے دوران اہلِ غزہ کی مشکلات مزید بڑھ گئیں۔فلسطینی ذرائع کے مطابق 6 مارچ سے  کریم سلام (Karem Shalom) پھاٹک کو امدادی سامان کے لیے جزوی طور پر کھول دیا گیاہے۔ اب اسرائیلی حکام اس بات پر زور دے رہے کہ غزہ کے لیے امدادی سامان اسرائیل سے خریدا جائے۔یعنی اہل غزہ کو برباد کرنے کے بعد  انکی آبادکاری کے نام پر اسرائیل میں سرمایہ کاری کے نئے راستے تلاش کئے جارہے ہیں۔

غزہ پر بمباری کا سلسلہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا

ایران اور لبنان پر نئی جارحیت کے ساتھ غزہ پر بمباری میں کوئی کمی نہیں آئی۔ جمعہ کو سحری کے وقت ڈرون حملے میں خان یونس کا ایک آدمی اپنے معصوم بچی سمیت جان سے گیا۔ غزہ شہر کے التفاح محلے پر شدید بمباری کیساتھ بحیرہ روم میں تعینات جہازوں سے گولے برسائے گئے جس سے کئی افراد جاں بحق اور ایک درجن کے قریب لوگ زخمی ہوگئے۔ اسی دوران اسرائیلی ٹینکوں نے فائربندی کی لکیر سے آگے بڑھ کرمورچے سنبھال لئے۔ اکتوبر کی نام نہاد جنگ بندی کے بعد  سے اسرائیلی حملوں میں اب تک 640 افراد جاں بحق اور 17000 سے زیادہ افراد زخمی ہوئے ہیں۔

ایران ، لبنان اور اسرائیل ۔۔ خوف کی فضا

ایران پر اسرائیل و امریکہ کی شدید بمباری کے جواب میں ایران کے میزائیل اور ڈرون حملوں نے اسرائیل میں خوف اور بے چینی کی فضا پیدا کر دی ہے۔ تل ابیب اور یروشلم سمیت کئی علاقوں میں شہری زیرزمین پناہ گاہوں میں چھپے ہوئے ہیں۔ایک واقعے میں تل ابیب کے قریب ایرانی میزائل زیرزمین پناہ گاہ کے نزدیک جا گرا جس نے وہاں خوف کو مزید بڑھا دیا۔ لبنان میں قابض اسرائیلی فوج کی چوکی پر راکٹ حملے میں ایک اسرائیلی سپاہی ہلاک اور انتہا پسند وزیرخزانہ بیزلیل اسموترچ کے بیٹے سمیت آٹھ سپاہی شدید زخمی ہوگئے جن میں سے پانچ کی حالت نازک ہے ۔

مسجد اقصیٰ: سیکیورٹی یا پابندی؟

اس کشیدہ صورتحال میں اسرائیلی حکومت نے سیکیورٹی کے نام پر مسجد اقصیٰ تک رسائی محدود کر دی ہے،  6 مارچ کو وہاں نمازِ جمعہ بھی ادا نہیں ہو سکی۔ مغربی کنارے میں شہریوں کے لئے، نہ تو پناہ گاہوں کا کوئی اہتمام ہے اور نہ ہی دیگر حفاظتی انتظامات دکھائی دیتے ہیں، لیکن مسجد اقصیٰ کے دروازے بند کر دیے گئے۔

اسی دوران اسرائیلی ذرائع ابلاغ میں ایسی تصاویر بھی شائع ہوئیں جن میں انتہا پسند عناصر کو احاطۂ اقصیٰ میں عبادت اور چہل قدمی کرتے دکھایا گیا۔ اس صورتحال نے القدس کی مذہبی حیثیت سے متعلق جاری تنازع کو مزید گہرا کر دیا ہے۔ عجیب تضاد کہ حفاظت کے نام پر مسجد اقصیٰ مقفل ہے، لیکن پیورم کی تقریبات معمول کے مطابق جاری ہیں۔

مسجد ابراہیمی کی مثال

یہ صورتحال فلسطینیوں کے لیے نئی نہیں۔ مقبوضہ شہر الخلیل میں واقع مسجد ابراہیمی اس کی ایک واضح مثال ہے۔ روایت کے مطابق یہاں حضرت ابراہیمؑ اور ان کے خاندان کی قبریں موجود ہیں اور اسی وجہ سے یہ مقام تینوں ابراہیمی مذاہب کے ماننے والوں کے لیے مقدس سمجھا جاتا ہے۔

اسلامی روایت میں اسے فلسطین کے اہم ترین مذہبی مراکز میں شمار کیا جاتا ہے اور بعض مؤرخین کے نزدیک تقدس کے اعتبار سے یہ مکہ، مدینہ اور القدس کے بعد چوتھا اہم مقام ہے۔ مگر گزشتہ دہائیوں میں یہ مسجد سخت پابندیوں اور انتظامی تقسیم کا شکار ہو چکی ہے، جہاں مختلف اوقات میں مختلف مذاہب کے پیروکاروں کو عبادت کی اجازت دی جاتی ہے۔

اسی پس منظر میں انسانی حقوق کے حلقے خدشہ ظاہر کر رہے ہیں کہ اگر مسجد ابراہیمی کی طرح مسجد اقصیٰ پر بھی بتدریج پابندیاں بڑھتی گئیں تو اس کے مذہبی اور تاریخی تشخص پر گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

جنگ کے سائے میں بڑھتا تشدد

جنگ کے شور کے پیچھے ایک اور کہانی بھی چل رہی ہے۔ مغربی کنارے میں کام کرنے والی انسانی حقوق کی تنظیم Yesh Din کے مطابق ایران کے ساتھ جاری جنگ کے ابتدائی چار دنوں (28 فروری سے 3 مارچ) میں فلسطینیوں پر حملوں کے 50واقعات پیش آئے۔اس دوران37 فلسطینی بستیوں کو نشانہ بنایا گیا۔ دہشت گرد وارداتوں میں فائرنگ، تشدد، املاک کی تباہی اور دھمکیاں شامل ہیں۔

تنظیم کے مطابق جنگی فضا کے پردے میں تشدد کی شدت میں اضافہ ہو رہا ہے اور زمینی حقائق کو طاقت کے ذریعے تبدیل کرنے کی کوششیں تیز ہو گئی ہیں۔ عالمی توجہ چونکہ اس وقت ایران کی جانب مرکوز ہے، اس لئے مقبوضہ علاقوں میں ہونے والے واقعات اکثر عالمی خبروں میں جگہ نہیں بنا پاتے۔اتوار 8 مارچ کو رام اللہ کے گاوں ابوفلاح پر قبضہ گردوں نے اسرائیلی فوج کی حفاظت اور سرپرستی میں حملہ کیا۔ اس دوران مکانوں اور زرعی اراضی کو آگ لگادی گئی۔ فائرنگ سے 24 سالہ ثائر حمائل اور 57 سالہ فارع حمائل جاں بحق ہوگئے

امن کی شاہراہ یا جنگ کا تسلسل؟

اس ہفتے بھی مجلس السلام یا Board of Peaceکی سرگرمیاں عملاً معطل نظر آئیں جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ صدر ٹرمپ کیلئے  یہ شغلِ فراغت کے سوا کچھ اور نہیں۔ واشنگٹن کی موجودہ ترجیح اسرائیل سے ایران تک ایک نئی شاہراہِ امن یا Road to Peace تعمیر کرنا ہے، اگرچہ زمینی حقائق اس تصور سے ہم آہنگ دکھائی نہیں دیتے۔یہ کہنا قبل ازوقت ہے کہ مجلس السلام کی طرح پاکستانی حکمرانوں کو اس شاہراہ پر خیمہ زنی کی اجازت بلکہ سعادت ملے گی یا نہیں جو امریکہ کے حکم پر افغانستان میں شاہراہ امن تعمیر کررہے ہیں۔

ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل کراچی 13 مارچ 2026

ہفت روزہ دعوت دہلی 13 مارچ 2026

ہفت روزہ رہبر سرینگر 15 مارچ 2026