Thursday, October 1, 2026

 

ہرمز کی چابی، جنگ کا دروازہ اور کھیل کے میدان میں غزہ کی گونج

چوبیس (24) ستمبر کو ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اقوام متحدہ میں صحافیوں کو بتایا کہ تہران نے قطر کے ذریعے واشنگٹن کو ایک منصوبہ پیش کیا ہے جس کے تحت امریکی اقدامات کے جواب میں سات روز کے اندر آبنائے ہرمز کو معمول کی تجارتی جہاز رانی کے لئے کھولا جاسکتا ہے۔ ایرانی شرائط میں تمام محاذوں پر جنگ بندی، امریکی ناکہ بندی کا خاتمہ، ایرانی تیل کی برآمدات پر پابندیوں میں نرمی اور تقریباً 12 ارب ڈالر کے منجمد ایرانی اثاثوں کی بازیابی شامل تھی۔اس کے بعد ساتویں روز ہرمز کھولنے اور حتمی معاہدے کے لئے مذاکرات کا آغاز تجویز کیا گیا۔بظاہر یہ کوئی بالکل نیا فارمولہ نہیں بلکہ جون میں یادادشتِ اسلام آباد کی صورت امریکہ ان شرائط کو تسلیم کرچکاہے لیکن صدر ٹرمپ نے اسے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ایران جنگ میں پئے در پئے نقصان اٹھانے کے باعث معاہدے کی پیشکش کررہا ہے۔ دوسری طرف وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق نومبر کے وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران کے خلاف نئی بمباری کا امکان بھی زیرِ غور ہے۔ صدر ٹرمپ اقوام متحدہ میں یہ بھی کہہ چکے ہیں کہ معاہدہ نہ ہونے کی صورت میں ایران کو ’’فنا‘‘ کرنے کا راستہ موجود ہے۔

ہرمز صرف ایران کا مسئلہ نہیں

ہرمز صرف ایران اور امریکہ کا مسئلہ نہیں۔ یہ عالمی توانائی کی ترسیل کی اہم شاہراہ ہے۔ اس کی بندش نے جنگ کے اثرات کو دونوں ملکوں سے کہیں آگے پہنچا دیا ہے۔ ایران کی سات روزہ پیشکش میں جوہری مسئلے پر مذاکرات بھی شامل ہیں۔ گویا یہ صرف ہرمز کھولنے کی پیشکش نہیں بلکہ جنگ سے نکلنے کے لئے ایک سفارتی دروازہ بھی ہے۔ سوال یہی ہے کہ شدید ترین بمباری کے باوجود اگر مطلوبہ سیاسی اہداف حاصل نہیں ہوئے تو نئی بمباری ان کے حصول کی کیا نئی ضمانت فراہم کرے گی؟

ایرانی صدر: میدانِ جنگ اور میزِ مذاکرات کہیں سے فرار نہیں ہونگے

اقوام متحدہ میں ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے کہا کہ ایران نے جنگ شروع نہیں کی بلکہ اس پر جنگ مسلط کی گئی، تاہم ایران نہ میدانِ جنگ سے بھاگا ہے اور نہ مذاکرات کی میز سے۔ ان کا یہ مؤقف دفاع کے عزم کے ساتھ مذاکرات کا دروازہ کھلا رکھنے کا واضح اظہار تھا۔ تازہ ایرانی پیشکش میں جوہری معاملے پر بات چیت بھی شامل ہے، اس لئے اسے جنگ سے نکلنے کی ایک سفارتی کوشش بھی سمجھا جاسکتا ہے۔

نیتن یاہو کا فاتحانہ بیانیہ

دوسری طرف اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے اقوام متحدہ میں ایران کے خلاف کارروائی کو فیصلہ کن کامیابی کے طور پر پیش کیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکی مدد سے ایران کی بحریہ، فضائیہ اور زمینی فوج کو تباہ کردیا گیا اور ایرانی قیادت کے متعدد اہم افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ انہوں نے ایران پر حملے کو اپنے وزیراعظم بننے کے بعد کئے گئے ’’آسان ترین فیصلوں‘‘ میں شمار کیا۔ یوں ایک طرف ایران مذاکرات کی پیشکش کررہا ہے اور دوسری جانب اسرائیل کیلئے یہ فیصلہ کن فتح ہے۔

سعودی عرب کا دفاع اور مکہ معاہدہ

اسی دوران یمن کے حوثیوں اور سعودی عرب کے درمیان کشیدگی نے ایک نیا علاقائی پہلو اختیار کرلیا ہے۔ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان دفاعی تعاون کو عملی شکل دینے کے لیے ریاض میں تینوں ملکوں کے فوجی سربراہوں کی ملاقات ہوئی۔اس معاہدے کا بنیادی تصور یہ ہے کہ کسی ایک رکن کے خلاف حملہ تینوں کے خلاف حملہ تصور کیا جائے۔ تاہم ابھی یہ واضح نہیں کہ حوثیوں کے حملوں کی صورت میں پاکستان یا ترکیہ کس نوعیت کی عملی فوجی مدد فراہم کریں گے۔ اقوام متحدہ کے اجلاس کے موقع پر پاکستان، ترکیہ، سعودی عرب اور مصر نے بھی سعودی عرب کے اپنے دفاع کے حق کی حمایت کرتے ہوئے مذاکرات اور سفارت کاری کو پائیدار حل کا راستہ قرار دیا تھا۔

اسلام آباد کا مشکل توازن

پاکستان کے لیے معاملہ خاصا پیچیدہ ہے۔ جہاں سعودی عرب اس کا قریبی دفاعی اور معاشی شراکت دار تو ایران کے ساتھ اس کا ہمسائیگی کا رشتہ ہے۔ مزید اہم بات یہ ہے کہ اسلام آباد، امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لئے ثالثی کا کردار بھی ادا کررہا ہے۔ چنانچہ سعودی عرب کی سلامتی کی حمایت اور ایران کے ساتھ سفارتی رابطے کو بیک وقت برقرار رکھنا پاکستان کے لیے ایک نازک توازن ہے۔ سعودی عرب کے دفاعی حق کی حمایت اور کسی براہِ راست جنگ میں شریک ہونے کے درمیان ایک واضح فرق موجود ہے، اور اسلام آباد کے لئے اس فرق کی اہمیت بڑھ گئی ہے۔ حوثی تحریک ایران کے قریب سمجھی جاتی ہے، لیکن ہر حوثی کارروائی کو براہِ راست ایرانی حکم کا نتیجہ قرار دینا بھی درست نہیں ہوگا۔اگر پاکستان سعودی دفاعی معاہدے کے تحت کسی عملی فوجی کارروائی میں شریک ہوتا ہے تو تہران اسے محض سعودی عرب کی دفاعی مدد کے طور پر دیکھے گا یا ایران مخالف علاقائی صف بندی کے حصے کے طور پر، یہ ایک اہم سفارتی سوال ہے۔

افغانستان کے بعد ایک اور محاذ؟

پاکستان کو اس پہلو سے بھی محتاط رہنا ہوگا کہ افغانستان کے ساتھ اس کے تعلقات پہلے ہی کشیدہ ہیں۔ ایسے میں ایران کے ساتھ تعلقات میں مزید تناؤ پاکستان کے لئے اضافی تزویراتی دباؤ پیدا کرسکتا ہے۔قریبی دوست کی حیثیت سے سعودی عرب کا ساتھ دینا پاکستان کے لئے اہم ہے، لیکن ساتھ دینے کی صورت بھی کم اہم نہیں۔ اگر اسلام آباد سعودی عرب کے دفاعی حق کی حمایت کرتے ہوئے سفارتی اور سیاسی کردار برقرار رکھتا ہے تو وہ دونوں فریقوں کے درمیان رابطے کا راستہ کھلا رکھ سکتا ہے۔ اس کے برعکس اگر پاکستانی فوج براہِ راست حوثیوں کے خلاف جنگ کا حصہ بن جاتی ہے تو ایران کے ساتھ اعتماد اور پاکستان کی ثالثی کی ساکھ متاثر ہونے کا امکان پیدا ہوسکتا ہے۔ پاکستان کے لیے شاید اصل سوال یہ نہیں کہ سعودی عرب کا ساتھ دینا ہے یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ سعودی عرب کی سلامتی کے ساتھ کھڑے ہوتے ہوئے اسلحہ اٹھائے بغیر سفارتی کردار کیسے برقرار رکھا جائے۔ ایران اور سعودی عرب دونوں سے تعلقات رکھنے والے پاکستان کے لئے مذاکرات کی میز پر اثرانداز ہونا شاید میدانِ جنگ میں اترنے سے کہیں زیادہ اہم سفارتی اثاثہ ثابت ہوسکتا ہے۔

فٹبال کا میدان ۔۔ غزہ کا قبرستان

آجکل یورپین فٹبال فیڈریشن (UEFA)کے میچ ہورہے ہیں۔ لیگ کی صورت میں کھیلے جانیوالے میچ، اگلے برس جون تک جاری رہینگے۔ ترکیہ سمیت 54 ممالک یورپ کے اس سب سے بڑے کھیل میلے میں حصہ لے رہے ہیں۔ اسرائیل، یہودا السامرہ (غرب اردن) کو اپنی ارض موعود (Promised Land)قرار دیتا ہے لیکن سیاسی و معاشرتی حوالے اُسے یورپین ہونے پر اصرار ہے۔ اتوار (27ستمبر) کو ہنگری کے شہر ڈیبرسن (Debrecen)میں آئرلینڈ اور اسرائیل کے درمیان میچ اس شان سے ہوا کہ اسٹیڈیم تقریباً خالی تھا۔ آئرلینڈ کے گول کیپر گیون بازونو نے غزہ میں بے گناہوں کے قتل کے خلاف ہوئے میچ سے دستبرداری اختیار کرلی اورمیدان میں اترنے والے آئرش کھلاڑیوں نے اپنے بازووں پر سیاہ پٹیاں باندھ رکھی تھیں۔ اسرائیلی قومی ترانے کے دوران انھوں نے سر جھکا لئے اور دونوں ٹیموں کے درمیان روایتی مصافحہ بھی نہیں ہوا۔ آئرش ٹیم کے کپتان دارا اوشے جب میچ کے آغاز پر ٹاس کیلئے میدان میں آئے تو روائتی انداز میں تماشائیوں کی طرف ہاتھ ہلانے اور V کا نشان بنانے کے بجائے مشکیں کسے فلسطینی قیدیوں سے ہم اہنگی کیلئے انکے ہاتھ انکی پشت پر تھے۔ انھوں نے ٹاس سے پہلے ریفری سے مصافحہ کیا اور جب اسرائیلی کپتان نے ہاتھ بڑھایا تو اوشے نے اپنے دونوں ہاتھ پیچھے کرکے منہہ دوسری طرف پھیرلیا۔اسرائیلی کھلاڑیوں نے اس توہین آمیز روئے کے خلاف احتجاج کیا لیکن آئرش کوچ اور کھلاڑیوں نے اسے غزہ کے حالات پر اپنے احتجاج اور آگاہی کا اظہار کرتے ہوئے مسترد کردیا۔

خاموش نشریات

آئرلینڈ کا سرکاری نشریاتی ادارہ RTÉ بھی معمول کی کوریج سے پیچھے ہٹ گیا۔ معاہداتی ذمہ داری کے باعث میچ نشر تو کیا گیا، مگر نہ اسٹوڈیو پروگرام تھا، نہ تجزیہ کار اور نہ RTÉ کا اپنا کمنٹیٹر؛ UEFA کی عالمی فیڈ استعمال کی گئی۔یوں خالی نشستیں، سیاہ پٹیاں، جھکے ہوئے سر اور خاموش نشریات غزہ کے المیے کی علامتی تصویر بن گئی۔ آئرلینڈ نے تین گول کئے لیکن تالیاں، شائقین کے رقص اور نہ فاتحانہ نعرے۔اس میچ کی سب سے نمایاں آواز شاید وہ خاموشی تھی جو خالی نشستوں اور بے رنگ نشریات میں سنائی دے رہی تھی۔ خموشی گفتگو ہے، بے زبانی ہے زباں میری۔

ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل کراچی 2 اکتوبر 2026

ہفت روزہ دعوت دہلی 2 اکتوبر 2026

ہفت روزہ رہبر سرینگر 4 اکتوبر 2026


 

اقوام متحدہ کی تقریریں، فلسطین کی زمینی حقیقت

اقوامِ عالم کا دو ریاستی حل پر اصرار۔ بمباری، آبادکاری، گرفتاری اور بے دخلی کا سلسلہ جاری

اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کے حالیہ اجلاس میں فرانس، چین، آئرلینڈ، برطانیہ اور دیگر ممالک کے رہنماؤں نے غزہ کی تباہی، فلسطینی ریاست اور دو ریاستی حل کے حق میں مؤثر آواز اٹھائی۔ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے بھی واضح کیا کہ اسرائیل اور فلسطین کی 1967 سے پہلے کی حدود  پر دو خودمختار ریاستیں پائیدار امن کا بنیادی راستہ ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ غربِ اردن میں آبادکاری، زمین پر قبضے اور بے دخلی کی پالیسیاں ایک قابلِ عمل فلسطینی ریاست کے امکانات کو محدود کر رہی ہیں۔

میکراں کا سوال اور دنیا کی خاموشی

فرانسیسی صدر ایمانوئل میکراں نے غزہ کی صورتِ حال پر انتہائی جذباتی انداز میں سوال اٹھایا کہ اگر دنیا غزہ کے المئے پر خاموش اور غیرمتحرک رہے گی تو عالمی برادری کی ساکھ کیا رہ جائے گی۔ چینی نائب صدر ہان ژینگ نے فلسطینی خودمختاری اور فلسطینیوں کے ذریعے غزہ کی تعمیر نو پر زور دیا، جبکہ اسپین کے وزیراعظم پیدرو سانچیز نے اسرائیلی وزیراعظم پر غزہ میں ’’نسل کشی جاری رکھنے‘‘ کا الزام عائد کیا۔ تاہم ان تقاریر کے باوجود ایسا کوئی مشترکہ عملی قدم سامنے نہیں آیا جو غزہ میں فوری طور پر انسانی امداد کی راہ کھول سکے یا غربِ اردن میں فلسطینیوں کے لئے حقیقی تحفظ پیدا کرے۔ یہی وہ فرق ہے جو تقریر اور پالیسی کے درمیان نمایاں ہوتا ہے۔ جناب گوتریس نے خود کہا کہ فلسطین کی حمایت تقریروں اور قراردادوں سے آگے بڑھ کر پالیسی، فیصلوں اور عملی اقدامات میں تبدیل ہونی چاہئے۔

تقریروں کے جواب میں سفارتی دباؤ

اس کے برعکس اسرائیل نے بعض یورپی اقدامات کا جواب سفارتی پابندیوں سے دیا۔ نیدرلینڈز کی جانب سے مقبوضہ علاقوں کی اسرائیلی بستیوں سے درآمدات پر پابندی کے بعد اسرائیل نے رام اللہ میں تعینات ولندیزی (ڈچ) سفارت کاروں کو سات روز میں اسرائیلی جاری کردہ سفارتی دستاویزات واپس کرنے کا حکم دیا ہے۔

ٹرمپ اور نیتن یاہو: دو مختلف تقریریں، ایک دفاعی بیانیہ

صدر ٹرمپ کی تقریر، 7 اکتوبر 2023 کے واقعے کی مذمت اور غزہ سے اسرائیلی قیدیوں کی رہائی کیلئے اپنی تعریف تک محدود رہی۔ ٹرمپ انتظامیہ نے دہشت گردوں کی سہولت کاری کے الزام میں مقتدرہ فلسطین (PA)کے سربراہ محمود عباس کو جنرل اسمبلی سے خطاب کیلئے ویزا دینے سے انکار کردیا۔ امریکہ نے گزشتہ برس بھی محمود عباس کو ویزا نہیں دیا تھا۔

اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی تقریر اس سے بھی زیادہ دفاعی اور جارحانہ لہجے میں تھی۔ انکی تقریر شروع ہونے سے قبل جب 70کے قریب وفود ایوان سے باہر چلے گئے تو نیتن یاہو نے باقی ماندہ مندوبین کو بھی ’’اخلاقی بزدل‘‘ کہہ کر مخاطب کیا۔ انہوں نے غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کو ’’حقِ دفاع‘‘ اور نسل کشی کے الزام کو ’’صدی کا سب سے بڑا جھوٹ‘‘ قراردیا۔انکے خطاب کا بڑا حصہ اسرائیل کے دفاع اور ایران، قطر و ترکیہ  کے خلاف دلائل پر مشتمل تھا نیتن یاہو کی تقریر کے دوران اقوامِ متحدہ کے ہیڈکواٹر کے باہر بھی زبردست مظاہرہ ہوا۔غیرقانونی دھرنے کے الزام میں آسکر ایوارڈ یافتہ اداکارہ سوزن سارینڈن اور ایمی ایوارڈ یافتہ ہنا آئن بائنڈر سمیت کم از کم 30 افراد کو پولیس نے گرفتارکرلیا۔

تاریخ اور موجودہ سیاست

نیتن یاہو نے گولان کی پہاڑیوں کے حوالے سے کہا کہ یہودی وہاں حضرت موسیٰؑ کے زمانے سے موجود رہے ہیں۔ قدیم اسرائیلیوں اور یہودا/یہودی شناخت کی تاریخ ایک پیچیدہ علمی موضوع ہے۔ ’’اسرائیلی‘‘، ’’بنی اسرائیل‘‘، ’’یہودا‘‘ اور ’’یہودی‘‘ کی اصطلاحات مختلف تاریخی ادوار میں مختلف معنوں میں استعمال ہوئی ہیں۔ اس لئے قدیم مذہبی یا تاریخی وابستگی کو موجودہ سیاسی حاکمیت کا براہِ راست ثبوت قرار دینا ایک الگ سیاسی و قانونی دعویٰ ہے۔

اسی طرح نیتن یاہو نے 1967 کی جنگ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت اسرائیل غربِ اردن، غزہ اور گولان میں موجود نہیں تھا اور جنگ کے نتیجے میں وہ ان علاقوں تک پہنچا۔ لیکن جدید بین الاقوامی قانون کا بنیادی اصول یہ ہے کہ جنگ کے ذریعے کسی علاقے پر قبضہ اس کی قانونی ملکیت منتقل نہیں کرتا۔ اقوام متحدہ بھی مسلسل دو ریاستی حل کو 1967 سے پہلے کی حدود کی بنیاد پر پیش کرتی ہے۔

زمین پر تقریروں کا جواب

اقوام متحدہ میں امن اور دو ریاستی حل کی آوازوں کے باوجود غزہ اور غربِ اردن میں تشدد کا سلسلہ جاری رہا۔ غزہ میں 24 ستمبر کو ایک اسرائیلی فوجی FPV ڈرون ’’عَطَلَف‘‘، یعنی چمگادڑ، فوجی اڈے کے اندر گر کر پھٹ گیا، جس سے دو اسرائیلی ریزرو فوجی ہلاک ہوئے۔

غربِ اردن کی صورتِ حال بھی تشویش ناک ہے۔ اقوام متحدہ کے دفتر برائے رابطۂ انسانی امور (OCHA) کے مطابق جنوری سے اگست 2026 کے دوران اسرائیلی فوج یا آبادکاروں کے ہاتھوں 82 فلسطینی جاں بحق اور تقریباً 1900 زخمی ہوئے۔ آبادکاروں کے حملوں سے فلسطینیوں کے زخمی ہونے کی اوسط اس سال یومیہ تین سے زیادہ  رہی۔ اسی عرصے میں آبادکاروں کے 1600 سے زیادہ ایسے حملے ریکارڈ کئے گئے جن میں فلسطینیوں کو جانی یا املاک کو نقصان پہنچا۔

بچوں کی شرارتیں؟؟

اقوامِ عالم سے خطاب کے دوران نیتن یاہو نے غرب اردن میں تشدد اور آبادکاروں کی دہشت گردی کو 'بچوں کی شرارتیں' قراردیا تھا۔اس تقریر کے بعد سے پچھلے چاردنوں کی شرارتیں کچھ اسطرح ہیں:

  • نابلوس کے گاوں قریوط پر قبضہ گردوں کا حملہ۔ ایک خاتون کو چھرا گھونپ دیا گیا۔
  • نابلوس ہی کے ایک اور گاوں جالود میں کچھ عرصہ پہلے آبادکاروں نے تیں مکانون پر قبضہ کرلیا تھا۔ عدالت نے اشک شوئی کیلئے یہ قبضہ غیر قانونی قراردیدیا۔جب  28 ستمبر کو عدالت کے حکم پر فوج قبضہ چھڑانے پہنچی تو قابض دہشت گرد ان مکانوں کو آگ لگاکر فوجی سرپرستی میں 'فرار' ہوگئے۔

گھر چھن جائے، وطن نہیں

تشدد، بے دخلی اور آبادکاری کے باوجود بہت سے فلسطینی اپنا علاقہ چھوڑنے پر آمادہ نہیں۔ تلکرم کی خدیجہ کا گھر قبضہ گردوں نے چھین لیا تو اس نے سایہِ دیوار اپنا نیا ٹھکانہ بنا لیا۔ یہ واقعات شاید اس حقیقت کی علامت ہیں کہ فلسطینیوں کے لیے گھر صرف ایک عمارت نہیں؛ زمین اور وطن سے تعلق بھی ان کی شناخت کا حصہ ہے۔

الخلیل سے الاقصیٰ تک

الخلیل میں مسلح قبضہ گردوں کے ہاتھوں فلسطینی خواتین کی ہراسانی کی تصویر شایع ہوئی۔ اسی دوران فلسطینی قیدیوں پر ہونے والے تشدد کا بصری تراشہ اسرائیلی ذرائع ابلاغ پر عام ہوا۔ انتہائی حساس قید خانے میں یہ فلم بندی فوج کی مرضی سے بغیر ممکن نہیں اور سیاسی کارکنوں کا خیال ہے کہ فلسطینیوں کوخوفزدہ کرنے کیلئے قیدیوں پر تشدد کے یہ  تراشے خود اسرائیلی فوج جاری کرتی ہے۔ مسجد اقصیٰ میں دراندازی کے واقعات بھی جاری ہیں۔ ستمبر کے آخری سبت( 26 ستمبر) کو ایک ہزار کے قریب انتہاپسند مسجد کے احاطے میں داخل ہوگئے۔ اس دوران سارا یروشلم ہمارا ہے، مسجد اقصیٰ کو مکہ منتقل کروکے لگائے گئے۔

انتخابی مہم کے دوران اشتعال انگیز تقاریر میں عرب نمائندگی کا سوال

فلسطین کا مسئلہ اسرائیل کی داخلی سیاست پر بھی اثرانداز ہورہا ہے۔ انتہا پسند جماعت کے سربراہ اور وزیرخزانہ بیزلیل اسموترچ نے ایک جلسے میں فوج سے مطالبہ کیا کہ غرب اردن میں بمباری سمیت غزہ کی طرح بھرپور عسکری کاروائی کی جائے۔عام انتخابات میں بھی عربوں اسے متیازی سلوک واضح نظر آرہا ہے۔بدھ 23 ستمبر کو اسرائیل کی مرکزی الیکشن کمیٹی نے عرب اکثریتی جماعت رعم (Ra'am) اور جوائنٹ لسٹ (Joint List) کو 27 اکتوبر کے انتخابات میں حصہ لینے کی قراداد پیش کی۔ فیصلے کیلئے ہونے والی سماعت میں وزیراندرونی سلامتی اتامر بن گوئر نے نکتہ اٹھایا کہ ان جماعتوں کے نمائندے اجلاس کیلئے خطرے کا سبب بن سکتے ہیں چنانچہ الیکشن کمیشن نے ان جماعتوں کو اپنا موقف مجازی (online)بیان کرنے کا حکم دیا۔ رعم نے آن لائن آنے سے انکار کردیا جبکہ بلد کے سربرہ سمیع ابو شہادہ نے کمیشن سے مواصلاتی خطاب کیا۔ جسکے بعد سیاسی جماعتوں نے 5 کے مقابلے میں 18 ووٹوں سے عرب متحدہ محاذ اور رعم کو انتخابات کیلئے نااہل قراردیدیا.تاہم  یہ فیصلہ حتمی نہیں اور جماعتوں کو اپیل کا حق حاصل ہے ۔

زیتون کا درخت: ایک علامت

فلسطینی زمین کی شناخت سمجھی جانے والی زیتون کی فصلوں کو اجاڑنے اور پودے اکھاڑنے کا سلسلہ جاری ہے۔ٹائمز آف اسرائیل میں شائع ہونے والی تصاویر سے اندازہ ہوتا ہے کہ کئی جگہ اس کام کیلئے فوجی بلڈوزر استعمال ہوئے۔ دوسری طرف اسرائیلی وزیراعظم کی نیویارک آمد پر رئیسِ شہر زہران ممدانی نے اپنی سرکاری رہائش گاہ پر ایک فلسطینی خاندان کے ہاتھوں زیتون کا پودا لگوایا۔ ایک طرف درخت اکھاڑنے کا منظر ہے، دوسری طرف درخت لگانے کا عمل؛ شاید یہی دو متضاد تصویریں آج فلسطین کے مستقبل کی دو مختلف سمتوں کی نمائندگی کرتی ہیں۔

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں اس سال فلسطین کے حق میں آوازیں پہلے سے زیادہ بلند دکھائی دیں۔ دو ریاستی حل، فلسطینی خودمختاری اور غزہ کی تعمیر نو پر عالمی اتفاقِ رائے بھی پہلے سے زیادہ نمایاں ہے۔لیکن  جب زمین پر آبادکاری، بے دخلی، گرفتاری اور تشدد کا سلسلہ جاری رہے تو قراردادیں اور تقاریر اپنی معنویت کھو دیتی ہیں۔فلسطین کے مسئلے کا فیصلہ تقریروں سے نہیں بلکہ عملی پالیسی، بین الاقوامی قانون کے احترام اور شہریوں کے تحفظ سے ہوگا۔ دنیا اگر واقعی دو ریاستی حل کو امن کا راستہ سمجھتی ہے تو پھر  صرف اقوام متحدہ کے ایوان میں اس کا ذکر نہیں، بلکہ زمین پر اس کے لیے راستہ بھی بنانا ہوگا۔

ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل کراچی 2 اکتوبر 2026

ہفت روزہ دعوت دہلی 2 اکتوبر 2026

ہفت روزہ رہبر سرینگر 4 اکتوبر 2026


Thursday, September 24, 2026

 

تین برس سے جاری تباہی، مزاحمت اور دنیا کا بدلتا ضمیر

راحت کا وعدہ، عذاب کا تسلسل

غزہ پر اسرائیلی فوج کشی کو تین برس مکمل ہونے کو ہیں، مگر بمباری میں کمی آئی اور نہ امن کے وعدوں میں کوئی سنجیدگی دکھائی دی۔ عالمی اداروں کے اجلاس، سفارتی بیانات اور انسانی حقوق کی اپیلیں سب بے اثر دکھائی دیتے ہیں۔ غزہ آج بھی بارود، بھوک، خوف اور بے بسی کے درمیان سانس لینے کی کوشش کر رہا ہے۔

غزہ میں خوف کی نئی مہم

اسرائیلی فوج نے گزشتہ ہفتوں میں اہلِ غزہ کو خوفزدہ کرنے کی ایک نئی حکمتِ عملی اختیار کی ہے۔ رہائشیوں کے مطابق اسرائیلی ڈرون مکانوں کی کھڑکیوں تک آکر لوگوں کو خوف زدہ کر رہے ہیں۔اگرچہ ان ڈرونوں سے فائرنگ کا کوئی واقعہ سامنے نہیں آیا، مگر شہریوں کا خیال ہے کہ یہ غزہ خالی کرانے کی نئی مہم ہے۔ بین الاقوامی اداروں کے مطابق غزہ اب انسانی زندگی کے قابل نہیں رہا۔ بارود نے زمین کو زہر آلود کر دیا ہے؛ صاف پانی ہے، نہ غذا، نہ دوا اور نہ نکاسیِ آب کا نظام۔ مگر اہلِ غزہ اپنا وطن  چھوڑنے پر تیار نہیں۔

ڈاکٹر بسان: ایک خواب، ایک ڈائری، ایک المناک انجام

انہی لوگوں میں طب کے آخری سال کی طالبہ، 19 سالہ بسان حلاسہ بھی تھی۔ بچپن سے ڈاکٹر بننے کا خواب دیکھنے والی بسان کو گھر والے محبت سے ’’ڈاکٹر بسان‘‘ کہتے تھے۔ اسے مشورہ دیا گیا کہ غزہ چھوڑ دے، مگر اس نے انکار کر دیا۔ اپنی ڈائری میں اس نے لکھا'میں اپنے پیارے شہر غزہ میں پیدا ہوئی، یہیں پلی بڑھی اور اسی شہر میں مر جاؤں گی'  چند دن بعد اس کا گھر بمباری کا نشانہ بنا اور وہ اپنی والدہ، بہن بھائی، دادی سمیت 12 عزیزوں کے ساتھ جاں بحق ہوگئی۔ عمارتیں شاید دوبارہ تعمیر ہو جائیں، مگر بسان جیسے نوجوانوں کی چھینی ہوئی زندگیاں کبھی واپس نہیں آ سکتیں۔

اسکول کی کھڑکی اور بھوک سے لڑتا بچہ

گزشتہ ہفتے وسطی غزہ کے علاقے نصیرات سے آنے والی ایک تصویر میں ایک فلسطینی لڑکا بستہ پیٹھ پر لٹکائے اپنے اجڑے ہوئے اسکول کی کھڑکیوں سے اندر جھانکتا دکھائی دیا۔ جنگ نے غزہ کے تعلیمی اداروں کو ختم کرکے رکھدیا ہے۔ اسی دوران 16 سالہ ابراہیم ابو سرایا کی تصویر نے بھی دنیا کی توجہ حاصل کی۔ شدید غذائی قلت اور دماغی فالج میں مبتلا ابراہیم کا وزن محض ساڑھےسات کلوگرام رہ گیا ہے۔ غزہ میں کوئی اسپتال ایسا نہیں بچا جہاں اس کا علاج ممکن ہو۔

خستہ عمارتیں، ملبہ اور بے بسی

لوگ تباہ شدہ عمارتوں کے بچے کھچے حصوں میں سر چھپانے پر مجبور ہیں۔ گزشتہ ہفتے ایک چھ منزلہ خستہ عمارت گر گئی، جس میں عورتوں اور بچوں سمیت 22 افراد جاں بحق اور تقریباً 100 لاپتہ ہوگئے۔ بلدیہ غزہ کی امدادی مشینری تباہ ہو چکی ہے۔ چند خستہ کرینیں ملبہ ہٹانے کی کوشش کررہی ہیں، خدشہ ہے کہ ملبے میں دبے لوگوں کی بڑی تعداد زندہ دفن ہوچکی ہے ۔ امدادی کارکنوں کو نشانہ بنانے کے لئے اسرائیلی ڈرونوں کی پروازیں الگ خوف پیدا کر رہی ہیں۔مزید نقصان سے بچنے کیلئے بلدیہ غزہ نے 220 مخدوش عمارتوں کو منہدم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

غربِ اردن میں آگ، قبضے اور تشدد

غربِ اردن میں مکانوں پر قبضے اور آتشزنی کا سلسلہ جاری ہے۔ زیتون کی فصلیں جلائی جا رہی ہیں۔ الخلیل کے گاؤں توانہ میں آبادکاروں نے مویشیوں کے چارہ گودام کو آگ لگا دی۔ ٹائمز آف اسرائیل کے ایک بصری تراشے میں ایک مسلح آبادکار کو مسافر یطہ میں مویشی چرانے اور مزاحمت کرنے والی خاتون کو لاٹھی سے پیٹتے دیکھا جا سکتا ہے۔ رام اللہ کے گاؤں بئیرنبالا میں گھر گھر تلاشی کے دوران درجنوں افراد گرفتار کئے گئے۔

قاتل فوجی کو صدارتی معافی

تقریباً دس سال پہلے الخلیل میں زخمی اور بے بس پڑے فلسطینی عبدالفتاح الشریف کو اسرائیلی فوجی ایلور ازاریہ نے سر میں گولی مار کر قتل کیا۔ بصری شواہد سامنے آنے پر عدالت نے اسے 18 ماہ قید کی سزا سنائی، لیکن وہ 9 ماہ بعد رہا ہوگیا۔ گزشتہ ہفتے اسرائیلی صدر اسحاق ہرزوگ نے اسے صدارتی معافی دے کر اس کا مجرمانہ ریکارڈ حذف کرنے کا حکم جاری کر دیا۔

چھینی ہوئی زمین پر عبادت گاہ

جنین کے قریب سیلات الظہر میں فلسطینیوں سے چھینی زمین پر پہلے حومش نامی بستی آباد ہوئی اور اب وہاں یہودی معبد قائم کر دیا گیا ہے۔ یعنی چھینی ہوئی زمین پر خدا کی عبادت کی جائے گی۔

استقامت: ایک غار میں آباد خاندان

اتنی سختیوں کے باوجود فلسطینی اپنی سرزمین چھوڑنے پر تیار نہیں۔ مسافر یطہ کے محمد عمار کے دو گھر مسمار کئے گئے تو اس نے علاقہ چھوڑنے کے بجائے پتھریلی غار کے فرش پر کنکریٹ ڈالا، دیواروں پر چونا کیا، شمسی پینل سے بجلی اور کنویں سے پانی کا انتظام کیا اور اسی غار کو اپنے خاندان کا گھر بنا لیا۔ اس کے دو خاندان اور گیارہ بچے اسی جگہ زندگی گزار رہے ہیں۔ یہ خاموش پیغام ہےکہ ہمیں مکان سے محروم کیا جا سکتا ہے، مگر اپنے وطن سے نہیں۔

یوروویژن کا بائیکاٹ: ثقافت کا احتجاج

آئرلینڈ نے اسرائیل کی شرکت کے خلاف مسلسل دوسری بار یوروویژن (Eurovision)کا بائیکاٹ کیا ہے۔ سرکاری نشریاتی ادارہ RTÉ، نہ فنکار بھیجے گا، نہ مقابلہ نشر کرے گا۔ نیدرلینڈز (ہالیند) بھی 2027 میں شرکت نہیں کرے گا۔ یہ بائیکاٹ اسرائیل کو مقابلے سے باہر نہیں کرے گا، مگر اس کا علامتی اثر نمایاں ہے۔ گزشتہ برس پانچ ممالک کے بائیکاٹ کے بعد یوروویژن کی ناظرین تعداد میں کمی آئی تھی۔ یوروویژن محض موسیقی کا مقابلہ نہیں بلکہ یورپی ثقافتی روابط کا ایک بڑا پلیٹ فارم ہے۔ اسلئے ان فیصلوں کا فوری عسکری اثر نہ بھی ہو، تو بھی یہ ظاہر کرتے ہیں کہ غزہ کا معاملہ ثقافتی اور عوامی سطح پر یورپ کے اندر بھی بحث کا موضوع بنا ہوا ہے۔

امریکی سینیٹ میں سوالات اور اعتراضات

امریکی سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی میں ڈیموکریٹ سینیٹر محترمہ جین شاہین نے اسرائیل کو 40 ہزار بموں کی فروخت پر سوال اٹھایا ہے کہ یہ ہتھیار کہاں استعمال ہوں گے۔ اس اعتراض کے باعث دو ارب 80 کروڑ ارب ڈالر کا سودا عارضی طور پر رک گیا ہے۔ دوسری جانب سینیٹر برنی سینڈرز نے دستاویزی فلم NAZA کے فلم سازوں کے خلاف اسرائیلی کاروائی کو آزادیِ صحافت پر حملہ قرار دیتے ہوئے اسرائیل کی فوجی امداد معطل کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

محمود عباس کا امریکہ میں داخلہ ممنوع

امریکہ نے مقتدرہ فلسطین کے صدر محمود عباس کو اقوامِ متحدہ اجلاس میں شرکت کے لیے ویزہ دینے سے ایک بار پھر انکار کر دیا ہے۔ گزشتہ برس بھی ان کی درخواست مسترد کی گئی تھی۔ اس بار امریکی وزارتِ خارجہ نے ویزہ ضابطے Section 212(a)(3)(B) کا حوالہ دیا ہے، جس کے تحت ’’دہشت گرد یا سہولت کار‘‘ افراد ویزے کے لیے نااہل قرار پاتے ہیں۔

غزہ کی تباہ شدہ عمارتیں، بھوک سے لڑتا ابراہیم، ڈاکٹر بننے کا خواب دیکھنے والی بسان، مسافر یطہ کے غار کو  مسکن بنالینے  والا عمار سب ایک ہی حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ فلسطینیوں کی جدوجہد محض زمین کا مسئلہ نہیں، یہ انسانیت کی بقا کا سوال ہے۔ بم، میزائیل اور ڈرون عمارتیں گرا سکتے ہیں لیکن فلسطینیوں کے عزمِ خودمختاری کو وحشت سے ختم کرنا آسان نہیں۔

ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل کراچی 25 ستمبر 2026

ہفت روزہ دعوت دہلی 25 ستمبر 2026

ہفت روزہ رہبر سرینگر 25 ستمبر 2026


 

میدانِ جنگ اور تزویراتی تعطل

ایران جنگ کے 200 دن، فنا کردینے کی نئی دھمکی

جس جنگ کو صدر ٹرمپ نے چند ہفتوں کا Excursion کہہ کر شروع کیا تھا، وہ دو سو دن بعد بھی جاری ہے اور اس کے اختتام کی کوئی صورت دکھائی نہیں دیتی۔ یہ لڑائی صرف ایران اور امریکہ کے درمیان نہیں رہی بلکہ اب اس نے بحیرہ احمر، آبنائے باب المندب، سعودی عرب، خلیجی ریاستوں اور عالمی تجارت کے راستوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ گزشتہ ہفتے ریاض کے شاہ خالد ائرپورٹ پر میزائل حملے سے ایندھن کے ذخیرے میں آگ بھڑک اٹھی۔

جنگ کا پھیلاؤ اور صدر ٹرمپ کا "بڑا فیصلہ"

صدر ٹرمپ نے اسرائیلی چینل 12 کے صحافی براک راوید کو دئے گئے انٹرویو میں کہا ہے کہ انہیں جلد ایک ’’بڑا فیصلہ‘‘ کرنا ہے اور وہ خلیجی ممالک کے رہنماؤں سے بھی مشاورت کریں گے۔ ان کے الفاظ میں سوال یہ ہے کہ ’’ میں ایرانی حکومت کو فنا کردوں یا نہیں؟‘‘ بیس ستمبر کو فاکس نیوز سے باتیں کرتے ہوئے انھوں نے دوبارہ کہا کہ ان کے سامنے تین راستے ہیں: ایران کو ’’ختم‘‘ کرنا، اسے اقتصادی طور پر ’’سڑنے دینا‘‘ یا معاہدہ کرنا۔ معلوم نہیں یہ خود کلامی تھی یا میزبان سے سوال کہ اپنے مخصوص لہجے میں امریکی صدر نے پوچھا کہ ’’میں پورے ملک کو کب اور کیسے اڑاوں؟ ‘‘۔

امریکہ کی فوجی طاقت پر کوئی شبہ نہیں، لیکن اگر شدید فوجی کارروائیوں کے باوجود ایران کی میزائل اور ڈرون صلاحیت برقرار ہے، آبنائے ہرمز کا مسئلہ مکمل طور پر حل نہیں ہوا اور اب بحیرۂ احمر و باب المندب بھی علاقائی کشیدگی کی زد میں ہیں، تو نئی بمباری سے مختلف نتیجہ کیسےحاصل ہوگا؟عسکری مبصرین نے موجودہ صورتِ حال کو میدانِ جنگ میں فوجی کامیابی اور وسیع تر تزویری تعطل کے امتزاج کے طور پر بیان کیا ہے۔ نئی مہم میں کتنے مزید مقامات کو نشانہ بنایا جائے گا؟ کتنے بم استعمال ہوں گے؟ اصل مقصد کیا ہوگا اور اس مقصد کے حصول کی ضمانت کیا ہوگی؟ دوسری طرف ایرانی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی نے الجزیرہ کو بتایا ہے کہ امریکہ کی خواہش پر ایران نے جنگ کے خاتمے کی شرائط قطر کے ذریعے واشنگٹن کو بھیج دی ہیں، جن میں تمام محاذوں پر جنگ بندی، منجمد ایرانی اثاثوں کی واپسی اور بحری ناکہ بندی کا خاتمہ شامل ہے۔ جنگ کا خاتمہ بالآخر مذاکرات کی میز پر ہی ہونا ہے۔ مزید بمباری اس میز تک پہنچنے کا راستہ مختصر کرے گی یا مزید پیچیدہ اور طویل، یہی اصل سوال ہے۔

امریکی نقصانات کی نئی تفصیل: "ہم کس سے لڑ رہے ہیں؟"

امریکی نشریاتی ادارے CBS News نے مشرقِ وسطیٰ میں امریکی فوجی تنصیبات کو پہنچنے والے نقصانات کی نئی تصاویر جاری کی ہیں۔ یہ تصاویر وہاں تعینات امریکی فوجیوں نے اپنی شناخت ظاہر کئے بغیر بھیجی ہیں۔ ایک فوجی نے سوال کیا: "آخر ہم کس سے لڑ رہے ہیں؟" امریکی محکمہ دفاع کے انسپیکٹر جنرل کی رپورٹ کے مطابق تباہ شدہ اسلحے کا تخمینہ 3 ارب 70 کروڑ ڈالر ہے، جن میں 60 طیارے بھی شامل ہیں۔ کویت، بحرین، قطر، امارات، سعودی عرب، عراق، عُمان اور اردن میں امریکی اڈوں کو نقصان پہنچا۔ سفارتی تنصیبات کو پہنچنے والا نقصان 18 کروڑ 40 لاکھ ڈالر بتایا گیا ہے۔ اگر یہ جنگ ’’محدود‘‘ ہے تو امریکی اڈوں اور سازوسامان کو پہنچنے والے نقصانات کی یہ تصاویر کیا بتا رہی ہیں؟ ٹرمپ انتظامیہ گمنام فوجیوں کے بیانات کو ’’Fake News‘‘ کہہ کر مسترد کر سکتی ہے، مگر اپنے ہی محکمہ دفاع کی رپورٹ کو سوشل میڈیا پروپیگنڈا قرار دینا آسان نہیں۔ رپورٹ سے ایران کے اس دعوے کی بھی تصدیق ہوتی ہے کہ اس نے عرب ممالک کو نہیں بلکہ عرب سرزمین پر موجود امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا ہے۔ امریکی ہلاکتوں کے بارے میں بھی نئے انکشافات سامنے آئے ہیں۔ واشنگٹن پوسٹ کے مطابق امریکی وزارتِ جنگ کے پانچ اعلیٰ افسران نے شناخت خفیہ رکھنے کی شرط پر بتایا کہ ایران کے حملوں میں 18 نہیں بلکہ 22 امریکی فوجی مارے گئے ہیں، جبکہ چھٹے افسر کے مطابق آنجہانیوں کی تعداد 23 ہے۔

میڈیا پر حملہ: وائٹ ہاؤس سے اخراج

ان انکشافات پر صدر ٹرمپ سخت برہم ہیں۔انھوں نے CNN، MSNBC اور Politico کے نمائندوں کی وائٹ ہاؤس میں داخلے پر پابندی لگادی ہے۔ الزام ہے کہ یہ ادارے مسلسل ’’Fake News‘‘ پھیلا رہے ہیں۔ ماضی میں بھی ٹرمپ انتظامیہ نے صحافتی رسائی محدود کرنے کی کوشش کی تھی، مگر عدالتوں نے اسے غیر آئینی قرار دے دیا۔ حکومت کو غلط صحافت پر تنقید کا حق ہے، مگر غلط خبر کا جواب دلیل اور شواہد سے دیا جاتا ہے۔ آئینہ توڑ دینے سے چہرہ نہیں بدلتا۔

حوثیوں کے حملے اور F-35

ٹرمپ انتظامیہ  نے سعودی عرب کو 48 جدید F-35A جنگی طیاروں کی ممکنہ فروخت کے بارے میں کانگریس کو آگاہ کردیا ہے۔ تقریباً 24 ارب تیس کروڑ ڈالر کے اس پیکیج میں طیاروں کے ساتھ انجن، مواصلاتی نظام، پرزے اور دیگر معاون سامان شامل ہے۔ کانگریس کے پاس اس سودے کے جائزے کے لئے 30 دن کی قانونی مہلت  ہے۔بظاہر یہ سودا سعودی دفاعی صلاحیت مضبوط کرنے کی کوشش ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب حوثی حملے سعودی سرزمین اور بحیرۂ احمر کے راستوں کو متاثر کر رہے ہیں۔ تاہم F-35 جدید ترین جنگی طیارہ ہونے کے باوجود ڈرون اور بیلسٹک میزائل حملوں کا اکیلا حل نہیں۔ اس کے لئے فضائی دفاع، ریڈار، انٹیلی جنس اور میزائل شکن نظام بھی ضروری ہیں۔ دلچسپ سوال یہ ہے کہ کیا حوثیوں کا بڑھتا ہوا خطرہ اس تاریخی امریکی سودے کو کانگریس میں زیادہ قابلِ قبول بنائے گا؟ اور اگر سعودی عرب F-35 حاصل کرلیتا ہے تو کیا یہ صرف سعودی دفاعی صلاحیت میں اضافہ ہوگا یا مشرقِ وسطیٰ کے عسکری توازن پر بھی اثر پڑے گا؟ یہ سوال اس لئے بھی اہم ہے کہ امریکہ ایک طرف اسرائیل کی معیاری عسکری برتری  یا Qualitative Military Edge برقرار رکھنے کی پالیسی پر قائم ہے تو دوسری طرف سعودی عرب سمیت اپنے عرب اتحادیوں کی دفاعی صلاحیت بڑھا رہا ہے۔ اسی دوران سعودی عرب، ایران کے ساتھ براہِ راست تصادم سے گریز اور سفارتی راستوں کو کھلا رکھنے کی کوشش کرتا دکھائی دے رہا ہے۔ حالیہ علاقائی کشیدگی میں چین نے بھی سعودی عرب اور ایران کے درمیان سفارتی رابطوں میں پہلے کردار ادا کیا ہے۔

’’مشتری ہشیار باش‘‘

امریکی اسلحے کی خریداری کا معاملہ خاصا پیچیدہ ہے۔ معاہدہ،  خریدار اور امریکی حکومت/اسلحہ ساز اداروں کے درمیان طے ہونے کے بعد بھی حساس ٹیکنالوجی کی فراہمی مختلف قانونی اور سیاسی شرائط سے مشروط رہتی ہے۔ پاکستان کو اس صورتِ حال کا تلخ تجربہ ہوچکا ہے، جب 1990ء میں جوہری پروگرام کے باعث Pressler Amendment کے تحت F-16 طیاروں کی فراہمی روک دی گئی تھی۔ ستم ظریفی کہ اد کی گئی رقم کی واپسی تو درکنار طیاروں کو گودام میں رکھنے کا کرایہ بھی پاکستان کے سرپڑا۔ اس تجربے کا سبق یہی ہے کہ جدید ترین اسلحہ خرید لینا اور اس کی  دستیابی یقینی بنانا دو الگ معاملات ہیں۔

جنگ کے بیچ تہذیب کی آواز: یومِ فارسی شاعری

معاشی پابندیوں، میزائلوں کی گھن گرج اور روزمرہ مشکلات کے باوجود ایران میں آج بھی شعر و ادب کو یاد کیا جا رہا ہے۔ اٹھارہ ستمبر کو ایران میں یومِ فارسی شاعری و ادب منایا گیا، جو معروف شاعر سید محمد حسین بہجت تبریزی تخلص شہریار کی یاد سے منسوب ہے۔ شہریار فارسی اور آذری دونوں زبانوں میں شاعری کرتے تھے۔ ان کے کلام میں محبت، سماج، ثقافت اور انسانی جذبات کے ساتھ اپنے عہد کے سیاسی حالات کی جھلک بھی ملتی ہے۔ جنگ کے دوران ایک شاعر کو یاد کرنا محض رسمی تقریب نہیں، بلکہ یہ یاد دہانی ہے کہ تہذیبیں صرف شہروں سے نہیں، اپنی زبان، شاعری اور یادداشت سے زندہ رہتی ہیں۔ میزائل جنگ لڑ سکتے ہیں، مگر تہذیب کی بقا کا فیصلہ میدانِ جنگ میں نہیں ہوتا۔

دو سو دن کی جنگ نے خطے کو ایک نئے دوراہے پر لا کھڑا کیا ہے۔ امریکی فیصلے، ایرانی مزاحمت، حوثیوں کے حملے، سعودی دفاعی حکمتِ عملی، میڈیا کی جنگ اور تہذیب کی آوازسب مل کر یہ بتاتے ہیں کہ یہ لڑائی محض عسکری نہیں بلکہ سیاسی، سفارتی، معاشی اور تہذیبی سطح پر بھی جاری ہے۔ ہر جنگ مذاکرات پر ختم ہوتی ہے۔ معلوم نہیں اس میز تک پہنچنے سے پہلے مزید کتنی زندگیاں، کتنی عمارتیں اور کتنی تہذیبی یادداشتیں خاک ہونی ہیں۔

ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل کراچی 25 ستمبر 2026

ہفت روزہ دعوت دہلی 25 ستمبر 2026

ہفت روزہ رہبر سرینگر 25 ستمبر 2026