Thursday, March 5, 2026

 

رمضانِ محاصرہ

غزہ کا دوسرا جمعہ، جنگ کا پھیلتا دائرہ اور بدلتا عالمی بیانیہ

غزہ میں  برکت و رحمت اور حسنِ بندگی سے  مزین رمضان کا مہینہ محاصرے، بمباری اور بے گھری کے سائے میں گزر رہا ہے۔ مگر ایمان کی حرارت توپ و تفنگ سے سرد ہوتی نظر نہیں آتی۔ ملبے پر افطار اور نیم منہدم مساجد میں تراویح اس عزم کا اعلان ہیں کہ پرعزم معاشروں میں زندگی کا چراغ، چاہے ہوا کتنی ہی تیز کیوں نہ ہو، جلتا ہی رہتا ہے۔

ملبے پر افطار، اذان کے سائے میں استقامت

غزہ میں رمضان کا دوسرا جمعہ بھی بمباری اور ناکہ بندی کے درمیان گزر گیا، تاہم روایتی جوش و خروش میں کوئی کمی نہ آئی۔ کئی خاندان ملبے پر افطار کرنے پر مجبور ہیں اور بمباری سے متاثر مساجد میں تراویح کا سلسلہ بھی جاری ہے۔

جمعے کو عین سحری کے وقت خان یونس پر بمباری سے پانچ فلسطینی جاں بحق ہوگئے۔ خیموں میں لگنے والی آگ نے درجنوں خاندانوں کو بے گھر کر دیا۔ سر چھپانے کے لیے نئی جگہ کی تلاش خود ایک خطرناک سفر ہے۔ ملبے میں دبے نہ پھٹنے والے بم ایک مستقل خطرہ ہیں، مگر اس سے بڑا اندیشہ یہ ہے کہ نقل مکانی کرنے والے قافلوں کو مشتبہ قرار دے کر فائرنگ کا نشانہ نہ بنا دیا جائے۔

ہفتے بھر غزہ کے مختلف علاقوں میں فضائی اور زمینی حملوں کا سلسلہ جاری رہا۔ ٹینکوں سے گولہ باری اور ڈرون حملے روزمرہ کا منظر بن چکے ہیں۔

جنگ کا پھیلتا دائرہ: ایران اور خلیج کی گونج

اس ہفتے کے آخر میں ایران پر امریکہ اور اسرائیل کا مشترکہ حملہ ابلاغ عامہ پر چھایا رہا۔ عرب رائے عامہ خلیج میں جاری اس کشیدگی کو غزہ سے شروع ہونے والی اسرائیلی جارحیت کا تسلسل سمجھتی ہے۔ اقوام متحدہ میں عرب لیگ کے نمائندے ماجد عبدالعزیز نے سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس میں کہا کہ اسرائیل اس کشیدگی کو فلسطینی علاقوں پر قبضے کے خاتمے، آزاد فلسطینی ریاست کے قیام، دو ریاستی حل اور اقوام متحدہ میں فلسطین کی مکمل رکنیت کی راہ روکنے کے لیے استعمال کرنا چاہتا ہے۔

ایران پر عالمی توجہ کے باعث صدر ٹرمپ اور ان کی مجلسِ السلام (Board of Peace)نے بھی غزہ امن منصوبے کو پسِ پشت ڈال دیا  اور سفارتی سطح پر غزہ ایک بار پھر ثانوی حیثیت اختیار کرتا دکھائی دے رہا ہے۔

سفارتی محاذ پر غیر متوقع پیش رفت

سفارتی محاذ پر ایک غیر متوقع پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب تحریک آزادی فلسطین (PLO) کے سیکرٹری جنرل عزام الاحمد نے الشروق ٹیلی ویژن سے گفتگو میں کہا کہ “غزہ کے مزاحمت کار دہشت گرد نہیں ہیں اور ہم انہیں غیر مسلح کرنے کی حمایت نہیں کرتے۔

یہ بیان داخلی فلسطینی سیاست میں اہمیت کا حامل ہے، کیونکہ اس سے سیاسی و نظریاتی اختلاف کے باوجود ایک بنیادی نکتے پر ہم آہنگی کا اشارہ ملتا ہے۔

غربِ اردن: آبادیاں، آتش زنی اور انتقامی نعرے

غزہ کے ساتھ ساتھ غربِ اردن بھی مسلسل کشیدگی کا شکار ہے۔ الخلیل (Hebron) کے علاقے مسافر یطا پر حملے کے بعد درجنوں خاندان جنوب کی جانب نقل مکانی کرکے سوسیا پہنچے، مگر تعاقب کا سلسلہ نہ رکا۔ کئی مکانات اور گاڑیاں نذرِ آتش کر دی گئیں۔

کفر کنا میں عین افطار کے وقت ایک گھر کو ڈرون سے نشانہ بنایا گیا جس سے چار افراد زخمی ہوئے۔ رام اللہ کے مضافاتی علاقے المغیر میں کچے مکان منہدم کئےگئے اور مزاحمت پر فائرنگ سے دو نوجوان زخمی ہوگئے۔

نابلوس میں جامع مسجد ابوبکر صدیق کو آگ لگا دی گئی۔ جاتے ہوئے حملہ آوروں نے دیواروں پر عبرانی میں “נקמה עזה” (غزہ کا انتقام) تحریر کیا۔ یہ فقرہ اس نفسیاتی جنگ کی علامت ہے جس میں عبادت گاہیں بھی محفوظ نہیں رہیں۔

انتہا پسند عناصر اس قدر دلیر ہو چکے ہیں کہ فلسطینیوں کے حق میں آواز اٹھانے والے اسرائیلی شہری بھی نشانہ بن رہے ہیں۔جمعہ 27 فروری کو قصریٰ گاؤں میں دو اسرائیلی شہری، جو انہدام شدہ مکانات کی خبر سن کر وہاں پہنچے تھے، شدید زخمی کر دئے گئے۔

قبلۂ اول پر پابندیاں، مگر حاضری برقرار

مسجد اقصیٰ میں پابندیوں کا سلسلہ جاری ہے، مگر فلسطینی قبلۂ اول سے دستبردار ہونے کو تیار نہیں۔ رمضان کے دوسرے جمعے کو ایک لاکھ سے زائد فلسطینیوں نے نماز جمعہ ادا کی۔ سخت تلاشی اور طویل پوچھ گچھ کے باعث خواتین نے فجر کے بعد ہی چوکیوں پر قطاریں بنا لیں۔

دوسری طرف اسرائیلی ذرائع ابلاغ میں شائع تصاویر میں انتہا پسندوں کو احاطۂ اقصیٰ میں عبادت اور چہل قدمی کرتے دکھایا گیا، جو القدس کی مذہبی حیثیت سے متعلق جاری تنازع کو مزید گہرا کرتا ہے۔

بھارت میں اختلافی آوازیں

عالمی سطح پر فلسطینیوں کو بعض ممالک میں حزبِ اختلاف کی حمایت حاصل ہو رہی ہے۔ نریندرا مودی کے حالیہ دورۂ اسرائیل پر تنقید کرتے ہوئے  آل انڈیا کانگریس کے معتمد عام جئے رام رمیش نے کہا کہ موجودہ بھارتی حکومت نے فلسطینی عوام کو تنہا چھوڑ دیا ہے اور مؤثر سفارتی موقف اختیار نہیں کیا۔

انہوں نے یاد دلایا کہ 1988 میں بھارت نے فلسطین کو تسلیم کیا تھا اور اس روایت کو برقرار رکھا جانا چاہئےتھا۔ کانگریس کی سینئر رہنما پریانکا گاندھی نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ بھارتی وزیراعظم نے اسرائیلی قیادت سے ملاقاتوں کے دوران غزہ میں شہری ہلاکتوں اور انسانی بحران کا ذکر نہیں کیا۔

صحافت پر قدغن اور سچ کی نئی راہیں

غربِ اردن میں پانچ میڈیا پلیٹ فارموں پر پابندی عائد کر دی گئی ہے، جن میں العاصمہ نیوز، معراج نیٹ ورک، القدس کمپس، میدان القدس اور قدس پلس شامل ہیں۔ یہ اقدام اس بڑھتے ہوئے دباؤ کی علامت ہے جو مقامی صحافت پر ڈالا جا رہا ہے۔

روایتی میڈیا کی سرد مہری کے باوجود سوشل میڈیا کے ذریعے عام امریکیوں تک متبادل بیانیہ پہنچ رہا ہے۔ تازہ ترین گیلپ پول کے مطابق 41 فیصد امریکی فلسطین اور 36 فیصد اسرائیل کے ساتھ ہمدردی رکھتے ہیں۔ ریپبلکن ووٹروں میں اسرائیل کے حامیوں کا تناسب زیادہ ہے، جبکہ ڈیموکریٹس میں فلسطینیوں کی حمایت نمایاں طور پر بڑھی ہے۔ ایک سال پہلے امریکی رائے عامہ کا جھکاؤ زیادہ واضح طور پر اسرائیل کی جانب تھا۔

ایمان، سیاست اور تاریخ کا موڑ

غزہ میں رمضان کا دوسرا جمعہ یہ یاددہانی ہے کہ محض توپوں کی گھن گرج تاریخ کا فیصلہ نہیں کرتی۔ جنگ کا دائرہ خواہ ایران تک پھیل جائے یا عالمی سفارت کاری کے میزوں پر نئی صف بندیاں ترتیب پائیں، اصل سوال انسانی وقار، انصاف اور حقِ خود ارادیت کا ہے۔

ملبے پر افطار کرنے والے یہ خاندان شاید عالمی سیاست کے ایوانوں میں شمار نہ ہوں، مگر تاریخ کے اوراق میں ایسے ہی لوگوں کی استقامت جگہ پاتی ہے۔ طاقت کا توازن بدلتا رہتا ہے، مگر عوامی حافظہ اور اخلاقی سوال اپنی جگہ قائم رہتے ہیں۔ رمضان کا یہ پیغام بھی شاید یہی ہے کہ اندھیری رات کتنی ہی طویل کیوں نہ ہو، سحر کو روکنا کسی کے بس میں نہیں۔ کہ رات جب کسی خورشید کو شہید کرے ۔ توصبح اک نیا سورج تراش لاتی ہے

ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل کراچی 6 مارچ 2026

ہفت روزہ رہبر سرینگر 6 مارچ 2026


 

جب میزوں پر سفارت مر جائے

جنیوا کی مسکراہٹ سے بمباری تک — ایک سوالیہ منظرنامہ

جمعہ 27 فروری کو جنیوا میں مسودے کھلے،لہجے محتاط اور کیمرے تھکے ہوئے مذاکرات کاروں کی آنکھوں میں امید کی جھلک ڈھونڈ رہے تھے۔ ایرانی وزیر خارجہ سیدعباس عراقچی اور صدر ٹرمپ کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکاف نے ملاقات کے بعد اطمینان کا اظہار کیا۔ امریکہ کے دامادِ اول جیرڈ کشنر نے پراعتماد لہجے میں کہا ہم تنازعے کے حل کے قریب ہیں۔دنیا نے سمجھا شاید ایک اور بحران ٹل گیا۔

لیکن اگلے ہی دن فضا میں جنگی طیاروں کی گھن گرج تھی۔ سفارت کی میز پر رکھی فائل بند ہونے سے پہلے بارود نے گفتگو کا گلا گھونٹ دیا اور Epic Fury(قہرِ عظیم) کے عنوان سے متکبرانہ آپریشن بلکہ انسانیت کے قتل عام کا آغاز ہوگیا۔ صدر ٹرمپ کے قہر کا پہلا نشانہ ایرانی صوبے ہرموزگان کے شہر میناب میں لڑکیوں کا پرائمری اسکول بنا جہاں 140 کے قریب ننھی بچیاں اور انکی روزہ دار استانیاں اسکول کے ملبے تلے زندہ دفن ہوگئیں۔ اسی کیساتھ رہبرِ ایران ، 86 سالہ حضرت آئت اللہ سید خامنہ ای اپنی رہائش گاہ پر امریکہ اور اسرائیلی فضائیہ کی خوفناک بمباری سے بیٹی، داماد اور کم عمر نواسی کے ساتھ اپنے عقیدے پر قربان ہوگئے۔ یہ درس کربلا کا ہے کہ خوف بس خدا کا ہے۔

پہلا سوال: کیا یہ بین الاقوامی قانون کی روح کے خلاف ہے؟

اقوام متحدہ کے منشور کا آرٹیکل 2(4) طاقت کے استعمال کی ممانعت کرتا ہے، سوائے اس صورت میں کہ جب سلامتی کونسل اجازت دے یا براہِ راست دفاع درپیش ہو۔ یہاں تنازعے کے سفارتی حل پر نہ صرف گفتگو کامیابی سے جاری تھی بلکہ ایران و امریکہ دونوں معاملے کے جلد حل کے بارے انتہائی پرامید نظر آرہے تھے۔

یہ کاروائی امریکی قانون War Powers Resolution (1973) کی بھی صریح خلاف ورزی ہے کہ کسی ملک کے خلاف جنگ چھیڑنے سے پہلے کانگریس (پارلیمان) کو اعتماد میں لینا ضروری ہے۔ جنگیں صرف سرحدوں پر نہیں ہوتیں۔ مہذب دنیا میں یہ قوانین کی کتابوں میں بھی لڑی جاتی ہیں۔

دوسرا سوال: مقصد کیا ہے ،  سلامتی، جمہوریت یا نظام کی تبدیلی؟

امریکی صدر ڈانلڈ ٹرمپ نے ایران کی جوہری صلاحیتوں کے خاتمے اور ایک “آزاد، جمہوری ایران” کے قیام کو مقصد قرار دیا۔

یہاں تاریخ طنزیہ مسکراہٹ کے ساتھ سامنے آتی ہے۔ سات دہائی پہلے 1953 میں امریکی سی آئی اے اور برطانوی ٓ ٓM16 کی مشترکہ کاروائی کے نتیجے میں ایرانی تاریخ کے پہلے منتخب وزیر اعظم محمد مصدق کو معزول کیا گیا۔ اس وقت regime changeکا مقصد جمہوریت کی بساط لپیٹ کر شاہی اقتدار کو مضبوط کرنا تھا۔

آج دلیل بدلی ہوئی ہے یعنی مذہبی حکومت ہٹاکر جمہوری بندوبست قائم کیا جائے۔ سوال یہ ہے کہ کیا بیرونی عسکری مداخلت سے جمہوریت برآمد ہوتی ہے؟ عراق، لیبیا اور افغانستان کی مثالیں ابھی تاریخ کے گرد سے باہر نہیں آئیں۔ جبکہ وینیزویلا تو کل ہی کی بات ہے۔

تیسرا سوال: ایران کا جوہری باب — کہاں سے شروع ہوا؟

ایران نے جوہری توانائی کی تلاش 1957 میں امریکی تعاون سے شروع کی۔ اسوقت امریکی  صدر آئزن ہاور  کے “Atoms for Peace” پروگرام کے تحت تہران کو تیکنیکی معاونت فراہم کی گئی۔اسلامی بم کا شور اٹھنے پر 2015 میں ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان Joint Comprehensive Plan of Action (برجام) طے پایا۔ اس معاہدے کو نہ صرف اقوام متحدہ کی قرارداد 2231 کی تائید حاصل تھی بلکہ امریکی کانگریس نے بھی اسکی بھاری اکثریت سے توثیق کی، لیکن 2018 میں صدر ٹرمپ نے خود ہی امریکہ کو اس معاہدے سے علیحدہ کرلیا۔ گزشتہ سال 22جون کو فردو، نطنز اور اصفہان کی جوہری تنصیبات کو30 سے زیادہ بنکر بسٹر بم گراکر تباہ کردیاگیا۔اس تیشہِ نصف شب آپریش(Operation Midnight Hammer) کے بعد قوم سے خطاب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے فخر سے کہا کہ ایران کا جوہری پروگرام Obliterateیا خاک کردیا گیا۔اگر وہ دعویٰ درست تھا تو کریدتے ہو جو اب راکھ،  جستجو کیا ہے؟

چوتھا سوال: فلسطین، طاقت کا توازن اور بیانیہ

اس حملے کے محرکات پر سب سے اچھا تبصرہ اقوام متحدہ میں  عرب  لیگ کے نمائندے ماجد عبدالعزیز کا ہے۔ جنھوں نے  ایران کے مسئلے پر بلائی گئےسلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس میں کہا کہ اسرائیل اس کشیدگی کے ذریعے فلسطینی علاقوں پر اپنے قبضے کے خاتمے سے گریز، ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام،  دو ریاستی حل اور بین الاقوامی قانونی اصولوں کے نفاذ کے تحت اقوامِ متحدہ میں فلسطین کی رکنیت کی راہ میں رکاوٹ ڈالنا چاہتا ہے۔یہ موقف ایک بڑے جغرافیائی بیانیے کی عکاسی کرتا ہے، جس میں ایران کا مسئلہ فلسطین اور اسرائیل کی سلامتی کے مباحث سے جڑا ہوا نظر آرہا ہے۔

پانچواں سوال: کیا ایران کی تقسیم کا کوئی منصوبہ ہے؟

ایران کی نئی صورت گری کے بارے میں امریکہ اور اسرائیلی منصوبے  میں اختلاف نظر آتاہے۔ صدر ٹرمپ ایک آزاد و خودمختار جمہوری ایران چاہتے ہیں جبکہ نیتن یاہو نے حملے کے آغاز پر ایرانیوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا 'ائےاہلِ فارس، کردو، آذریو، بلوچو اور اہوازیو کھڑے ہوجاو'۔اسرائیل سے خبریں آرہی ہیں کہ ایران کو  پانچ خودمختار ممالک یعنی فارس،  کردستان، ایرانی آذربائیجان، بلوچستان اور اہواز میں تقسیم کردیا جائیگا۔

چھٹا سوال: یہ جنگ ہے یا سارے علاقے میں وحشت کا ناچ؟

جمعہ 28 فروری کو شروع ہونے والی خونریز جنگ اب تک جاری ہے۔ امریکہ اور اسرائیلی طیارے سارے ایران پر بمباری اور خلیج  میں تعینات امریکہ جہاز میزائیل برسارہے ہیں امریکیوں کے مطابق ان حملوں کا ہدف ایران کی عسکری تنصیات خاص طور سے ایرانی بحریہ اور میزائل لانچرز ہیں لیکن ایرانیوں کا کہنا ہے کہ حملے میں ہزاروں شہری مارے گئے۔جواب میں ایران نے اسرائیل کے مختلف شہروں کے ساتھ متحدہ عرب امارات، کوئت، سعودی عرب، بحرین، قطر اور عُمان میں امریکہ کے فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا۔ اسرائیلی دارالحکومت اور یروشلم میں ایرانی میزائیل حملوں میں کئی شہری ہلاک ہوئے۔علاقے میں فضائی ٹریفک معطل ہے اور پروازیں منسوخ ہونے کی وجہ سے لاکھوں مسافر پھنسے ہوئےہیں۔

پاکستان اور خطے کا کڑا امتحان

پاکستان پہلے ہی سرحدی اور داخلی دباؤ کا سامنا کر رہا ہے۔ بلوچستان میں شورش، افغانستان کی غیر یقینی صورتحال اور گوادر بندرگاہ کی تزویراتی اہمیت کے علاوہ چین کا Belt and Road Initiative جنوبی ایشیا کو عالمی جغرافیائی سیاست کے مرکز میں لے آیا ہے۔ ایران کے حصے بخرے اور سرحد پر ایک آزاد بلوچ ریاست کاقیام، اسلام آباد کے دردِ سر میں اضافے کے ساتھ سارے علاقے کو  عدم استحکام میں مبتلا کرسکتا ہے

بارود کا مختصر شور اور تاریخ کی طویل گونج

جنگی طیارے چند منٹوں میں اہداف تباہ کر سکتے ہیں، مگر قوموں کے شعور کو نہیں۔سفارت کی شکست عارضی جوش کو جنم دیتی ہے، مگر پائیدار امن صرف سیاسی تدبر سے آتا ہے۔ایران کی سرزمین پر گرنے والا ہر بم مشرقِ وسطیٰ کے مستقبل پر ایک سوالیہ نشان ثبت کر رہا ہے۔کیا امریکہ اور اسرائیل کی  مشترکہ جارحیت، استحکام و  سلامتی کا راستہ کھولے گی یا اپنے نام کی طرح  یہ آپریشن علاقے پر مداخلت، مزاحمت اور عدم استحکام کی شکل میں قہرِ عظیم نازل کریگا؟؟؟

ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل کراچی 6 مارچ 2026


Thursday, February 26, 2026

 

غزہ کا رمضان: ملبے پر سجدے، عالمی ضمیر پر سوال

 رمضان المبارک، روحانی تجدید، تحمل و برادشت اور امید کا مہینہ ہے۔ مگر اس برس غزہ میں رمضان کا استقبال ایک ایسے پس منظر میں ہوا جہاں زندگی اور بقا خود ایک معرکہ بنی ہوئی ہے۔ بھوک، پیاس، ناکہ بندی اور مسلسل بمباری کے سائے میں یہ تیسرا رمضان ہے جسے اہلِ غزہ ملبے، خیموں اور مسمار آبادیوں کے درمیان منا رہے ہیں۔ تاہم ویرانی کے اس موسم میں بھی چراغ روشن، اذانیں بلند اور اجتماعی افطار کے دسترخوان سجے ہوئے ہیں۔

ملبے پر بچھے دسترخوان

لوگوں نے اپنے عارضی خیموں کو برقی قمقموں سے سجایا۔ دیواروں اور ٹوٹے ہوئے ڈھانچوں پر استقبالِ رمضان کے نعرے ثبت کئے گئے۔ کئی مقامات پر اجتماعی افطار کا اہتمام ہوا۔ خیموں کے درمیان ملبے پر چادریں بچھا کر روزہ افطار کیا گیا۔ نہ فلافل، نہ کنافہ، نہ بقلاوہ،  بس ایک کھجور اور پانی کے چند گھونٹ۔ اور غزہ میں پانی بھی کسی نعمت سے کم نہیں۔

رمضان کا پیغام صبر اور صبر کی مٹھاس سے اہلِ غزہ سے زیادہ کون واقف ہے؟ پیاسے لب اللہ کے ذکر سے تر ہیں۔ مسمار مساجد اور مخدوش عمارتوں کے سائے میں تراویح ادا کی جارہی ہے۔ یہ مناظر اُن دھمکیوں کا خاموش جواب ہیں جن میں “جہنم کے دروازے کھول دینے” کی باتیں کی جاتی ہیں۔ اندھیرا کتنا ہی گہرا ہو، ایمان اور یقین کے سامنے ٹھہر نہیں سکتا۔ رمضان کے دنوں اور مبارک راتوں میں بمباری کا سلسلہ بھی جاری ہے جس میں عورتوں اور بچوں سمیت ایک درجن سے زیادہ افراد جاں بحق ہوئے۔

مسجدِ اقصیٰ میں پابندیاں اور نمازیوں کا عزم

مسجد اقصیٰ کے گرد اسرائیلی فوج نے گھیرا ڈال کر جمعہ کیلئے نمازیوں کی تعداد 10 ہزار تک محدود کردی ہے۔تیس برس سے کم کے ہرنمازی کو توہین آمیز جامہ تلاشی کا سامنا ہے لیکن انجام بد کی دھمکیوں اور خوف و ہراس کے باوجود خواتین سمیت 80 ہزار فرزندان توحید نے نماز جمعہ ادا کی۔ عام طورسے جمعہ کیلئے سارے غرب اردن سے ایک لاکھ کے قریب افراد القدس شریف آتے ہیں۔

مجلسِ امن یا سیاسی برانڈنگ؟

اسی ہفتے واشنگٹن میں مجلس السلام (Board of Peace)کا ایک اجلاس منعقد ہوا۔ مجلس کی میزبانی صدر ٹرمپ  سے منسوب ڈانلڈ ٹرمپ انسٹیٹیوٹ برائے امن کے تحت کی گئی، جس نے آغاز ہی سے اس کی ادارہ جاتی شناخت اور دائرۂ کار پر سوالات کو جنم دیا۔ا امریکی صدر کے حامیوں کیلئے شاید یہ قیادت کی علامت ہو، لیکن تشہیری شناخت (برانڈنگ) نے ادارے کی وسعت اور غیر جانب داری پر سوال اٹھادیا  ہے۔ پاکستانی قیادت کے حوالے سے تعریفی جملے میڈیا میں نمایاں رہے۔صدر ٹرمپ نے امریکہ کی جانب  سے 17 ارب ڈالر کے عطیے کے اعلان اور دیگر ممالک سے تعاون کی اپیل کو تعمیرِ نو کے تناظر میں پیش کیا گیا۔

مجلس السلام کی ساکھ پر سب سے اہم اور جامع تبصرہ میکسیکو کی صدر ڈاکٹر کلاڈیا شینبام کا تھا۔ اجلاس کی دعوت مسترد کرتے ہوئے ڈاکٹر صاحبہ نے کہا کہ جب تک آزاد فلسطینی ریاست قائم نہیں ہوجاتی، اسرائیل محفوظ ہوگا نہ علاقے میں پائیدار امن ممکن ہے۔

تاوان کے بجائے چندہ؟؟؟

سوال یہ ہے کہ غزہ جس وسیع انسانی و مادی تباہی سے دوچار ہوا، اس کی قانونی و اخلاقی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے؟ اگر یہ نقصان مسلح کارروائیوں اور طویل محاصرے کے نتیجے میں ہوا اور اسرائیل کو اس دوران مغربی دنیا خصوصاً امریکہ کی غیر مشروط حمایت حاصل رہی تو کیا اس کے اثرات کا بوجھ عالمی برادری پر بطور چندہ ڈال دینا کافی ہے؟

بین الاقوامی قانون میں ایک تسلیم شدہ اصول ریاستی ذمہ داری کا ہے، جس کی تدوین International Law Commission نے اپنے مسودۂ قواعد (Articles on Responsibility of States for Internationally Wrongful Acts) میں کی ہے۔ اس کے مطابق اگر کسی ریاست کا عمل بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی قرار پائے تو اس پر مکمل ازالہ (Full Reparation) لازم ہو سکتا ہے، جس میں مالی معاوضہ، نقصانات کا ازالہ اور بعض صورتوں میں بحالی شامل ہوتی ہے۔

اسی طرح عالمی عدالتِ انصاف (ICJ)کے متعدد فیصلوں میں بھی یہ اصول دہرایا گیا ہے کہ خلاف ورزی کی صورت میں ازالہ اس حد تک ہونا چاہیے جو متاثرہ فریق کو اُس حالت کے قریب تر لے آئے جس میں وہ خلاف ورزی نہ ہونے کی صورت میں ہوتا۔ یہاں سوال چندہ جمع کرنے کا نہیں بلکہ قانونی و اخلاقی ذمہ داری کا ہے۔

عزمِ جارحیت کی تجدید

جس لمحے اجلاس میں موجود اسرائیلی وزیرخارجہ گیدون سعر (Gideon Sa’ar)امن کیلئے اپنے ملک کے اخلاص کا ذکر کررہے تھے عین اسی وقت تیل ابیب میں اسرائیل کے کابینہ سکریٹری یوسی فکس (Yossi Fuchs) نے دھمکی دی کہ اگر مزاحمت کار 60 دنوں میں غیر مسلح نہ ہوئے تو اسرائیلی فوج غزہ پر بھرپور حملہ کرکے انھیں ہلاک یا غیر مسلح کردیگی۔

الحاق اور جبری منتقلی کا سوال

غرب اردن میں بھی قبضہ گرد حملوں میں شدت آگئی ہے۔ اسرائیلی کابینہ سے انتقال اراضی کا قانون منظور ہوتے ہی، قبضہ گردوں نے الخلیل (Hebron)پر قومی پرچم لہرا کر غرب اردن کے اسرائیل سے الحاق (Annexation)کی عملی کاروائی شروع کردی۔حالانکہ یہ بل ابھی پارلیمان سے منظور بھی نہیں ہوا۔

اقوامِ متحدہ نے مغربی کنارے اور غزہ میں جاری کارروائیوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ موجودہ اقدامات جبری بے دخلی اور آبادیاتی تبدیلی کے خدشات کو جنم دے رہے ہیں۔ انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے یہ اقدامات نہ صرف خطے کی آبادیاتی ساخت پر اثر انداز ہوں گے بلکہ یہ بین الاقوامی قانون، خصوصاً مقبوضہ علاقوں کی حیثیت سے متعلق اصولوں سے بھی متصادم ہیں۔مسئلہ صرف علاقائی کنٹرول کا نہیں بلکہ انسانی تحفظ، شہری حقوق اور پائیدار امن کے امکانات کا ہے۔ جب قانون سازی زمینی حقائق بدلنے کے لئے استعمال ہو تو اس کے اثرات نسلوں تک رہ سکتے ہیں۔

جامع منصوبہ بندی

اقوام متحدہ کے خدشات کو اسرائیلی قیادت کے بیانات سے تقویت ملتی ہے۔ گزشتہ ہفتے وزیر خزانہ اور جماعتِ صیہون (Religious Zionism Party) کے سربراہ بیزلیل اسموترچ  نے کہا کہ اسرائیل کی اگلی حکومت کو چاہیے کہ وہ مغربی کنارے اور غزہ میں آباد فلسطینیوں کو علاقے سے باہر جانے کی ترغیب دے۔ سموتریچ کے مطابق فلسطینیوں کی موجودگی اسرائیل کی سلامتی اور یہودی شناخت کے لیے خطرہ ہے، اور ان کے انخلا کو فروغ دینا چاہیے۔ اسرائیلی وزیرخزانہ کے مطابق فلسطینی آبادیوں کا وجود اسرائیل کی سلامتی، معاشی ترقی اور ریاستی اہداف کے لیے “سنگین چیلنج” ہے۔

بین الاقوامی قوانین کے مطابق کسی مقبوضہ علاقے کی مقامی آبادی کی جبری منتقلی یا بیدخلی غیر قانونی سمجھی جاتی ہے۔ جنگ کے دوران شہریوں کو تحفظ فراہم دئے جانے کے حوالےسے Fourth Geneva Convention واضح طور پر شہری آبادی کے جبری انخلا اور اجتماعی سزا کی ممانعت کرتا ہے۔ اسی طرح عالمی فوجداری عدلت  (ICC)کے دائرۂ کار میں بھی جبری نقل مکانی جنگی جرم کے زمرے میں آ سکتی ہے۔

سفارتی بیانات اور غیر جانب داری کا سوال

اس حوالے سے امریکی حکومت کے موقف کا اعلان اسرائیل میں امریکہ کے سفیر مائک ہکابی کھل کر کرچکے ہیں۔ فاکس (FOX)کے سابق تجزیہ نگار اور مشہور پوڈ کاسٹر ٹکر کارلسن (Tucker Carlson)سے انٹرویو میں امریکی سفیر نے کہا کہ اگر اسرائیل پورے مشرقِ وسطیٰ پر قبضہ کر لے تو یہ اس کا حق ہے، توریت اسے یہ حق دیتی ہے۔ ایسے بیانات ثالثی کے دعووں پر سوالات اٹھاتے ہیں۔ جب ثالثی اور فریق داری کی سرحد دھندلا جائے تو امن کی میز پر اعتماد کیسے قائم رہے گا؟

سوشل میڈیا اور متبادل بیانیہ

روائتی ذرایع ابلاغ  کے برعکس، ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر فلسطینیوں اور ان کے حامیوں نے اپنی کہانیاں براہِ راست دنیا تک پہنچائیں۔ ذاتی شہادتیں، زمینی حقائق اور ثقافتی اظہار نے ایک ایسا متبادل بیانیہ تشکیل دیا جسے عالمی عوامی رائے مکمل طور پر نظرانداز نہ کر سکی۔اسی فضا میں فلسطینی موضوعات پر بننے والی دستاویزی فلمیں، خصوصاً Palestine 36، All That’s Left of You اور The Voice of Hind Rajabبین الاقوامی میلوں اور آسکر کے حلقوں میں زیرِ بحث ہیں۔ یہ پیش رفت کچھ مغربی حلقوں میں بے چینی کا باعث بھی بنی۔ معروف کالم نگار Gary Rosenblatt نے اپنے حالیہ مضمون میں ان فلموں کو “پروپیگنڈا” قرار دیتے ہوئے اس رجحان پر تشویش ظاہر کی ہے۔لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ہر وہ بیانیہ جو طاقت کے مروجہ زاوئے سے مختلف ہو، محض پروپیگنڈا ہے؟ یا یہ انسانی کہانیوں کی وہ بازگشت ہے جو بالآخر عالمی ضمیر تک پہنچ رہی ہے؟

ممکن ہے پالیسیوں میں فوری تبدیلی نہ آئے، مگر یہ واضح ہے کہ عوامی سطح پر فلسطینیوں کے حالات کو سمجھنے کا دائرہ وسیع ہوا ہے۔اصل تبدیلی ایوارڈ جیتنے میں نہیں، بلکہ اس حقیقت میں ہے کہ انسانی دکھ اب بند کمروں سے نکل کر عالمی مکالمے کا حصہ بن رہا ہے۔

رمضان کی ساعتیں گزر جائیں گی، اجلاس ختم ہو جائیں گے، بیانات ماند پڑ جائیں گے، لیکن کیا عالمی نظام محض امدادی اعلانات تک محدود رہے گا یا قانونی و اخلاقی ذمہ داری کا سامنا بھی کرے گا؟ ملبے پر سجدہ کرنے والے لوگ ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ انسانی وقار ناقابلِ تقسیم ہے۔ امن چندے سے نہیں، انصاف سے پیدا ہوتا ہے۔ اگر قانون سب پر یکساں لاگو نہ ہو تو امن کی ہر مجلس محض ایک رسمی تصویر بن کر رہ جاتی ہے۔تاریخ کا فیصلہ سفارتی اعلامیوں سے نہیں، انصاف کی میزان پر ہوگا۔

ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل کراچی 27 فروری 2026

ہفت روزہ دعوت دہلی 27 فروری 2026

ہفت روزہ رہبر سرینگر 29 فروری 2026


Wednesday, February 25, 2026

 

نریندرا مودی  کا دورہ اسرائیل ۔۔ شش جہتی اتحاد کی بازگشت

ترکیہ اور پاکستان نئے ہدف؟؟؟ا

بھارتی وزیراعظم نریندرا مودی اپنا دورہ اسرائیل مکمل کرکے  وطن واپس چلے گئے۔اس دورے میں انھوں نے اسرائیلی کنیسہ (پارلیمان) سے خطاب کیا۔یاد واشیم (ہولوکاسٹ یادگار) کی زیارت، ڈرون کارخانے کا دورہ اور اسرائیلی وزارت تزویرات (Strategy)کے اعلیٰ حکام سے ملاقات انکی مصروفیات میں شامل تھی۔جناب مودی جولائی 2017 میں پہلی بار اسرائیل آئے تھے جو کسی بھی ہندوستانی وزیراعظم کا پہلا دورہ اسرائیل تھا۔

تل ابیب آمد پر استقبالی تقریب کے بعد اسرائیلی وزیراعظم نے اپنے بھارتی ہم منصب سے نجی ملاقات کی۔ اس خصوصی نشست میں نریندرا مودی کا استقبال کرتے ہوئے نیتن یاہو نے کہا ' یہ محض سفارتی تعلق نہیں بلکہ حقیقی رفاقت کا بندھن ہے۔ یہ سچی دوستی کا رشتہ ہے' ۔اسرائیلی وزیراعظم کی وارفتگی سے انکا اخلاص پھوٹا پڑرہا تھا۔ اس تناظر میں یہ جملہ محض روائتی خیرمقدم نہیں، بلکہ بدلتے عالمی منظرنامے کی عکاسی کرتا ہے۔

ان دونوں رہنماوں کی “دوستی” اب رسمی سفارت کاری سے آگے بڑھ چکی ہے۔ یہ مشترکہ مفادات، دفاعی تعاون، ٹیکنالوجی، انٹیلی جنس اشتراک، علاقائی توازن کا عنوان اور دہلی و تل ابیب کے مابین تعلقات کی نئی جہت کی علامت ہے۔

اسرائیلی کنیسہ (پارلیمان) سے مودی کا خطاب

پارلیمان سے اپنے خطاب میں نریندرا مودی نے کہا کہ “بھارت اس وقت اور آئندہ بھی اسرائیل کے ساتھ پختہ یقین کے ساتھ کھڑا ہے۔” انھوں نے 7 اکتوبر 2023 کے حملے میں ہلاک ہونے والوں کے اہلِ خانہ سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہم آپ کا درد محسوس کرتے ہیں اور آپ کے دکھ میں شریک ہیں۔ وزیراعظم مودی  نے 'دہشت گردی 'کی شدید مذمت کرتے ہوئے دوٹوک انداز میں کہا کہ کسی بھی مقصد کے لیے عام شہریوں کا قتل جائز نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔ ان کے بقول بھارت بغیر کسی دوہرے معیار کے دہشت گردی کے خلاف صفِ اول میں کھڑا ہے۔اس حوالے سے انھوں نے  26/11 ممبئی حملوں کا خصوصی ذکر کیا۔ جناب مودی کا کہنا تھا کہ اس سانحے میں اسرائیلی شہری بھی ہلاک ہوئے تھے، جس کے باعث دونوں ممالک کے تجربات اور نقطۂ نظر میں مماثلت پائی جاتی ہے۔ اپنے خطاب کے آغاز میں انہوں نے خود کو ایک قدیم تہذیب کا نمائندہ قرار دیا، گویا ہند اسرائیل تعلق کو سیاسی مفادات سے بلند تر تاریخی رشتے میں باندھنے کی کوشش کی۔

یروشلم میں ہونے والی  یہ تقریر ایک اور پہلو سے بھی معنی خیز تھی۔ بھارت طویل عرصے سے مشرقی یروشلم کو متنازعہ علاقہ قرار دیتا رہا ہے، مگر اس خطاب میں اس حساس حیثیت کا کوئی ذکر نہ تھا۔ اس سے بھی زیادہ اہم بات یہ کہ مودی نے دو ریاستی حل کا ذکر نہیں کیا، حالانکہ یہ دہلی کی سرکاری اور طویل المدتی پالیسی کا بنیادی ستون رہا ہے۔ یہ خاموشی محض سفارتی احتیاط ہے یا پالیسی کی تدریجی تبدیلی کا اشارہ؟ عالمی سیاست میں تقریریں محض الفاظ نہیں ہوتیں۔ اشارے، ترجیحات اور خاموشیاں بھی اتنی ہی معنی خیز ہوتی ہیں اور کبھی کبھی نہ کہی گئی بات کہی ہوئی باتوں سے زیادہ اثر رکھتی ہے۔

دہلی، تل ابیب اور جنوبی ایشیا کا بدلتا توازن

عالمی سیاست میں اعلانات سے زیادہ اشارے اہم ہوتے ہیں۔بسا اوقات بظاہر معمول دکھائی دینے والے دورے آنے والے زمانوں کی سمت طے کر دیتے ہیں۔ جناب مودی کا حالیہ دورۂ اسرائیل اسی نوعیت کا واقعہ محسوس ہوتا ہے۔ اسے محض رسمی سفارت کہہ کر نظر انداز کردینا شاید بدلتے ہوئے جغرافیائی حقائق سے آنکھیں چرانے کے مترادف ہوگا۔اس وقت عالمی نظام ایک نئی صف بندی کی طرف بڑھ رہا ہے۔ طاقت کے مراکز اپنی ترجیحات کو ازسرِ نو مرتب کر رہے ہیں، اور ریاستیں اپنے دیرینہ تعلقات کو نئے مفادات کے پیمانے پر پرکھ رہی ہیں۔

نظریاتی ہم آہنگی سے  تزویراتی شراکت داری تک

دہلی اور تل ابیب کے تعلقات اب محض سفارتی خیرسگالی یا محدود دفاعی تعاون تک محدود نہیں رہے۔ وزیر اعظم مودی اور اسرائیلی وزیر اعظم بن یامین نیتن یاہو کے  تعلقات طبعی و فکری مناسبت یا شخصی کیمسٹری سے کہیں آگے جا چکے ہیں۔ دونوں انتہا پسند قیادتیں داخلی سیاست میں قومی بیانیے کو سلامتی کے تصور سے جوڑتی ہیں اور خارجی خطرات کو داخلی استحکام کے استدلال کے طور پر پیش کرتی ہیں۔ بھارت اسرائیلی دفاعی ٹیکنالوجی کا نمایاں خریدار ہے۔ ڈرون نظام، میزائل دفاعی پروگرام، سرحدی نگرانی، انٹیلیجنس اشتراک اور سائبر سکیورٹی جیسے اہم شعبوں میں اسرائیل ہند تعاون خاصہ گہرا ہوچکا ہے۔

شش جہتی یا Hexagon تصور اور خاموش صف بندیاں ۔ پاکستان، ترکیہ اور ایران

گزشتہ برسوں میں ایک غیر رسمی ہم آہنگی،  شش جہت اتحاد یا Hexagon Alignment کے نام سے نمایاں ہوئی ہے، جس میں اسرائیل، بھارت، متحدہ عرب امارات، سعودی عرب، امریکہ اور اردن شامل ہیں۔بعض بیانات میں اسے چھ ملکی تزویراتی راہداری یا “Six-Nation Strategic Corridor” کہا گہا ہے۔ بظاہر یہ  کوئی فوجی اتحاد نہیں۔اب تک اس کی کوئی باقاعدہ معاہداتی شکل بھی سامنے نہیں آئی اور یہ ایک کثیرالسمتی اقتصادی و تزویراتی شراکت داری کے تصور کے طور پر پیش کیا جارہا ہے۔ لیکن مفادات ہم سمت دکھائی دے رہے ہیں۔یعنی  بحر ہند میں اثر، مشرق وسطیٰ تک رسائی، چین کے بڑھتے کردار پر نظر، اور جدید دفاعی صلاحیتوں میں شراکت داری۔ گرچہ غزہ اور غربِ اردن کی موجودہ صورتحال کے باعث یہ عمل وقتی طور پر سست پڑا ہے، لیکن باہمی مفادات کی بنیاد پر دلچسپی برقرار ہے۔ اگر اس مجوزہ راہداری میں سعودی عرب اور امارات جیسے ممالک زیادہ فعال کردار ادا کرتے ہیں تو پاکستان کے لیے خارجہ پالیسی کا توازن برقرار رکھنا مزید پیچیدہ ہوسکتا ہے، کیونکہ اسلام آباد روایتی طور پر خلیجی ریاستوں کے ساتھ قریبی تعلقات رکھتا ہے۔ اس حوالے سے یہ بات بھی مدنظر رہنی چاہیے کہ بھارت “کیمپ بندی” کے بجائے کثیر جہتی و متنوع مفاہمت کی حکمت اپنائے ہوئے ہے۔ یعنی ایک جانب وہ اسرائیل کا دوست ہے تو دوسری طرف عرب دنیا اور ایران سے بھی قریبی روابط رکھتا ہے۔ جبکہ ایک نظریاتی ریاست کی حیثیت سے پاکستان کیلئے اس نوعیت کا سفارتی تنوع کسی حد تک محدود ہے ۔

شش جہتی ڈھانچہ پہلے سے موجود آئی 2 اور یو 2 (I2U2 Group) میں توسیع تصور کی جارہا ہے۔ امریکہ، متحدہ عرب امارات، اسرائیل اور ہندوستان کے درمیان اس ہم آہنگی کو اربعہِ مشرق وسطیٰ یا Middle Eastern Quadبھی کہا جاتا ہے جو 2021 میں قائم ہوا جسکا ہدف  خلیجی اور یورپی مالک کے درمیاں تجارتی تعلقات کو فروغ دینا ہے۔

پاکستان کا جوہری پروگرام

پاکستان کا جوہری پروگرام اس خطے میں استحکام و توازن کا بنیادی ستون اورجنوبی ایشیا میں کسی بڑے عسکری تصادم کو محدود رکھنے کا سبب سمجھا جاتا ہے۔ تاہم اسرائیل اور ہندوستان کے تزویراتی برتری اور تکنیکی تفوق جیسے تصورات کو نظر انداز کرنادانشمندی نہیں۔ اسلئے کہ یہی وہ نکتہ ہے جہاں مفادات کا خاموش اشتراک جنم لے سکتا ہے یعنی دشمن کا دشمن دوست۔

ایران کا ممکنہ منظرنامہ اور نئے اندیشے

ایک اور اہم پہلو ایران کی صورت حال ہے۔ اگر امریکہ ایران کشیدگی کسی کھلے تصادم میں تبدیل ہوتی ہے اور کسی مرحلے پر تہران میں ایسی حکومت وجود میں آتی ہے جو اسرائیل سے قربت اختیار کرے، تو پورے خطے کی سیاسی بساط بدل سکتی ہے۔ایسی تبدیلی کی صورت میں مشرقِ وسطیٰ سے جنوبی ایشیا تک ایک نئی سفارتی اور دفاعی ہم آہنگی ابھرنے کا امکان ہے۔ایران کی اسرائیل نواز حکومت کے اثرات براہِ راست اسلام آباد تک محسوس ہوں گے۔ دہلی اور تہران کے مابین پہلے ہی اقتصادی روابط موجود ہیں۔ اگر ان میں اسرائیل نواز جہت شامل ہوجائے تو پاکستان کے لیے سفارتی توازن مزید پیچیدہ ہوسکتا ہے۔

پاکستان پہلے ہی بلوچستان میں منظم دہشت گردی اور سرحدی عدم استحکام کا سامنا کر رہا ہے۔ اگر مشرق اور مغرب دونوں اطراف ایسے تزویراتی مراکز ابھریں جو دہلی سے ہم آہنگ ہوں، تو اسلام آباد کے لیے داخلی سلامتی اور خارجہ حکمت عملی دونوں میدانوں میں چیلنج بڑھ سکتا ہے۔ پاکستان کیلئے یہ اندیشہ،  پریشانی کا سبب ہے کہ علاقائی سیاست کا کوئی غیر متوقع موڑ جنوبی ایشیا کے طاقت کے توازن کو نئی سمت نہ دے دے۔

ترکیہ اسرائیل کا نیا ہدف؟؟

اسرائیل میں حکومت اور حزبِ اختلاف دونوں ترکیہ کو اب محض ایک علاقائی حریف نہیں بلکہ ایک سنجیدہ تزویراتی چیلنج کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ ایسا چیلنج جس کا تقابل ایران اور غزہ کی مزاحمتی قوتوں سے کیا جا رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کچھ عرصہ قبل اسرائیل، یونان اور یونانی قبرص کا سربراہی اجلاس منعقد ہوا، جسے علاقائی سفارت کاری میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا گیا۔اب وزیراعظم بنجامن نیتن یاہو نے کھل کر اعلان کیا ہے کہ اسرائیل خطے میں اور اس کے گرد ایک ایسے ممالک کا “محور” قائم کرنا چاہتا ہے جن میں ہندوستان، یونان اور یونانی قبرض شامل ہیں۔ مجوزہ اتحاد میں کچھ ایسے عرب، افریقی اور ایشیائی ممالک بھی ہیں جن کے نام ظاہر نہیں کئے گئے ۔نیتن یاہو کے مطابق یہ وہ ریاستیں ہوں گی “جو زمینی حقائق، چیلنجز اور اہداف کو ایک ہی زاویے سے دیکھتی ہیں” اور یہ اتحاد اُن کے بقول “شدت پسند شیعہ محور” اور “ابھرتے ہوئے شدت پسند سنی محور” کے مقابل میں تشکیل دیا جائے گا۔وزیراعظم مودی نے ان محوروں کی قبل ازوقت سرکوبی کیلئے اسرائیل سے تعاون میں دلچسپی ظاہر کی۔

قابلِ غور پہلو یہ ہے کہ اسرائیل ہند دوستی، اب  جغرافیائی یا تزویراتی ترجیحات کے بجائے  صریح مذہبی رخ اختیار کرتی نظر آرہی ہے۔ “شیعہ محور” اور “سنی محور” جیسے الفاظ محض تجزیاتی اصطلاحات نہیں بلکہ عالمی سیاست کی زبان میں فرقہ وارانہ تقسیم کو رسمی حیثیت دینے کے مترادف ہیں۔

اصل امتحان: ردعمل نہیں، بصیرت

یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ کوئی کھلا محاذ وجود میں آچکا ہے۔ تاہم عالمی سیاست میں خاموش تبدیلیاں ہی سب سے زیادہ اثر انداز ہوتی ہیں۔کیا ایران، ترک اور پاکستانی قیادتیں  بدلتے جغرافیائی حقائق کو پوری گہرائی سے سمجھ رہی ہیں؟ کیا یہ ممالک سفارتی تنوع، علاقائی روابط اور پُرجوش دل لیکن ٹھنڈے دماغ  'سے اپنے  مفاد کو محفوظ بنانے کی تیاری کر رہے ہیں ؟دنیا میں طاقت کا توازن جامد نہیں رہتا۔ آج کے معاشی تعلقات کل کی عسکری ہم آہنگی میں بدل سکتے ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ تینوں ملک اپنی پالیسی کو تدبر اور پیش بینی پر استوار کریں۔



Thursday, February 19, 2026

 

غزہ: طاقت، بیانیہ اور استقامت کی کشمکش

غزہ اس وقت صرف ایک جغرافیائی خطہ نہیں بلکہ عالمی سیاست کا آئینہ بن چکا ہے۔ یہاں گرنے والا ہر بم صرف ایک عمارت کو نہیں گراتا بلکہ بین الاقوامی قانون، اخلاقی معیارات اور سفارتی توازن کو بھی آزما رہا ہے۔ طاقت کے اظہار اور مزاحمت کے عزم کے درمیان ایک ایسی کشمکش جاری ہے جس کا فیصلہ میدانِ جنگ سے زیادہ بیانیوں، عدالتوں اور سفارتی میزوں پر ہوتا دکھائی دیتا ہے۔

داخلی سیاست اور غزہ کا انسانی منظرنامہ

یہاں بمباری اور ناکہ بندی کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔ امدادی ٹرکوں کے سامنے دھرنا اب اسرائیل میں ایک معمول کی سیاسی سرگرمی بنتا جا رہا ہے۔دو فروری سے انتہا پسند عناصر کریم سلام (Kerem Shalom) پھاٹک پر امدادی سامان لے جانے والے ٹرکوں کا راستہ روکے کھڑے ہیں۔ گزشتہ ہفتے اسرائیل مادرِ وطن پارٹی (Yisrael Beiteinu) کے سربراہ اور خود کو لبرل و سیکیولر کہنے والے ایویگڈور لایبرمین (Avigdor Liberman) بھی اپنی جماعت کی اراکینِ پارلیمان یولیا مالینووسکی (Yulia Malinovsky) اور شیرن نیر (Sharon Nir) کے ہمراہ وہاں پہنچے۔ لایبرمین نے کہا کہ یہ ٹرک ٹیکس دہندگان کے پیسوں سے غزہ میں بجلی، پانی اور دیگر اشیاء پہنچا رہے ہیں، اور جب تک مزاحمتی گروہ غیر مسلح نہیں ہوتے امداد کی بحالی اسرائیلی عوام کے لیے قابلِ قبول نہیں۔یہ منظر اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ غزہ میں جاری انسانی بحران کی ذمہ داری محض مذہبی شدت پسندوں تک محدود نہیں، بلکہ اسرائیلی سیاست کے لبرل و سیکولر حلقے بھی سخت گیر پالیسی کے ساتھ کھڑے  ہیں۔

طاقت کی سیاست اور بیانیے کی جنگ

مغربی حمایت کے احساسِ تحفظ نے اسرائیلی قیادت کو اب رسمی پردہ داری سے بھی بے نیاز کردیا ہے۔ کچھ دن پہلے اسرائیلی وزارتِ قومی سلامتی کی جانب سے جیلوں میں فلسطینی قیدیوں پر تشدد اور انکے ساتھ ناروا سلوک کی تصاویر جاری کی گئیں، جنہیں ناقدین خوف کی نفسیات پیدا کرنے کی کوشش قرار دیتے ہیں۔سرکاری ذرایع یہ خبر بھی پھیلارہے ہیں کہ نئی قانون سازی کے تحت قتل اور دہشت گردی کے الزام میں نظر بند فلسطینیوں کو سزائے موت دی جائیگی جسکے لئے جلادوں کی تربیت کا کام جلد شروع ہوگا۔

جیتے جاگتے معصوم بچے بھاپ بن گئے

اسی دوران الجزیرہ پر شائع ہونے والی خبر نے ہر سلیم الفطرت انسان کے رونگٹے کھڑے کردئے۔اس تحقیقاتی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ اسرائیل نے غزہ میں انتہائی شدید حرارت اور دباؤ پیدا کرنے والےامریکی ساختہ Thermal اور Thermobaric ہتھیار استعمال کیے، جو درجۂ حرارت کو تقریباً ساڑھے تین ہزار ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچا دیتے ہیں۔ اس غیر معمولی حرارت کے نتیجے میں متعدد مقامات پر جیتے جاگتے انسانوں کے جسم بھاپ بن کر تحلیل ہو گئے، یہاں تک کہ ان کی قابلِ شناخت باقیات بھی دستیاب نہ ہو سکیں۔غزہ کی سول ڈیفنس کے مطابق سائنسی شواہد (Forensic)کی بنیاد پر ترتیب دی جانیوالی دستاویزات میں کم از کم 2,842 ایسے افراد کی نشاندہی کی گئی ہے جنہیں “evaporated” کہا جا سکتا ہے، یعنی تباہ شدہ مقامات سے ان کی کوئی قابلِ شناخت جسمانی باقیات نہیں مل سکیں۔

ان دعوؤں کی آزادانہ بین الاقوامی تصدیق ایک پیچیدہ اور متنازعہ معاملہ ہے،لیکن اگر شہری آبادی پر اس نوعیت کے ہتھیاروں کا استعمال  ثابت ہو گیا تو اس کا ذمہ دار کسے قرار دیا جائیگا اور اسکی سزا کون بھگتے گا؟

کیا عسکری دباؤ سے سیاسی نتائج نکل سکتے ہیں؟

خوفناک ہتھیاروں کے بہیمانہ استعمال، جیلوں میں تشدد کی تشہیر اور صدر ٹرمپ کی جانب سے مزاحمت کاروں کے غیرمسلح نہ ہونے کی صورت میں پٹی پر جہنم کے دروازے کھولدینے کی دھمکیوں کے باوجود مزاحمت سرنگوں ہونے کو تیار نظر نہیں آتی۔مجلسِ السلام (Board of Peace) نے بہت طمطراق سے غزہ کے انتظام کے لیے 12 رکنی قومی کمیٹی (NCAG) تشکیل دی ہے، جو غزہ جا کر پٹی کا اقتدار سنبھالے گی۔ لیکن شیر کی کچھار میں قدم رکھناآسان نہیں۔ نو فروری کو قاہرہ میں NCAG کے طویل اجلاس کے بعد فیصلہ ہوا کہ کمیٹی اس ہفتے غزہ نہیں جائے گی۔امریکہ اب تک یہ سمجھنے سے قاصر ہے کہ مزاحمت کاروں سے براہِ راست بات چیت کے بغیر کوئی تصفیہ ممکن نہیں۔ واشنگٹن میں معاہدہِ امن پر دستخط کر دینے سے امن قائم نہیں ہوگا۔

مطالبہِ تحلیل اسلحہ (Disarmament)سے پسپائی؟؟

مستضعفین کی استقامت اورمتکبرین کی جزوی پسپائی کا اندازہ نیویارک ٹائمز میں شایع ہونے والی ایک رپورٹ سے بھی ہوتا ہے، جس کے مطابق واشنگٹن میں ایک ایسے فارمولے پر غور ہوا جس کے تحت مزاحمتی قوتوں کو محدود نوعیت کے چھوٹے ہتھیار رکھنے کی اجازت ہو جبکہ بھاری اسلحہ مرحلہ وار ترک کیا جائے۔ تحلیلِ اسلحہ کے اس منصوبے میں مبینہ ترمیم امریکی و اسرائیلی تکبر میں شگاف کی علامت اور اس بات کا بالواسطہ اعتراف ہے کہ بہیمانہ فوجی کارروائی، منظم نسل کشی اور بھوک و موسم کا ہتھیار اہلِ غزہ کو جھکانے میں ناکام رہا۔یا یوں کہئے کہ  اہلِ غزہ کے پرعزم صبر نے جبر کو اپنے مؤقف میں نرمی پر مجبور کر دیا

بین الاقوامی مداخلت کی بحث اور ISF

فلسطینی مزاحمت کاروں نے غزہ میں غیر ملکی فوج کی تعیناتی مشروط انداز میں قبول کرنے کا عندیہ دیاہے۔ نیوزویک کے مطابق انکے ترجمان باسم نعیم نے کہا کہ ہمیں غزہ میں بین الاقوامی افواج کی آمد پر کوئی اعتراض نہیں، بشرطیکہ وہ سرحد کے ساتھ دونوں فریقوں کے درمیان ایک حائل (بفر) فورس کے طور پر کام کریں اور فلسطین کے شہری، عسکری و حفاظتی اور سیاسی و انتطامی معاملات میں کسی قسم کی مداخلت نہ کریں۔بیان میں متنبہ کیا گیا کہ اگر بین الاقوامی افواج نے اس حد سے تجاوز کیا تو فلسطینی انہیں “قبضے کے متبادل” کے طور پر دیکھ سکتے ہیں۔ کچھ ذرائع کے مطابق انڈونیشیا نے اصولی طور پر ISF میں کردار ادا کرنے میں دلچسپی ظاہر کی ہے، تاہم تاحال کسی وسیع البنیاد بین الاقوامی تعیناتی کا حتمی اعلان نہیں ہوا۔

مغربی کنارے کی صورتحال اور علاقائی ردعمل

مغربی کنارے  (West Bank)میں زمین کی ملکیت اور انتقالِ اراضی قوانین میں تبدیلی کے اسرائیلی فیصلے پر مسلم دنیا،یورپی یونین، حتیٰ کہ امریکہ بہادر کی 'تشویش' کے باوجود الحاق (Annexation)کے منصوبے پر کام شروع ہوچکا ہے۔ مغربی الخلیل (Western Hebron)سے بجلی کا نظام ختم کرنے کیلئے فوج نے رہائشیوں کو نوٹس جاری کردئے ہیں۔ بجلی و پانی منقطع ہونے کے بعد مکینوں کیلئے گھر خالی کے سوا چارہ ہی کیا رہا جائیگا۔

عدالتی محاذ اور اظہارِ رائے کی حدود

امریکہ کی طرح برطانیہ میں بھی فلسطینیوں کے حق میں مظاہرہ کرنے والوں کے خلاف سخت اقدامات جاری ہیں، تاہم 13 فروری کو عدالت عالیہ (High Court) نے فلسطین ایکشن پر عائد پابندی کو کالعدم قرار دے دیا۔ جسٹس وکٹوریہ شارپ کے فیصلے کو ماہرینِ قانون، آزادیِ اظہار کے باب میں اہم نظیر قرار دے رہے ہیں۔

. اسرائیل کے اندر مذہبی و سیکولر کشمکش

اسرائیل کے اندرونی منظرنامے میں بھی کشیدگی برقرار ہے۔ گیارہ فروری کو اسرائیلی حریدی جماعت یونائیٹڈ توراہ جوڈازم (United Torah Judaism) کے ایک اہم دھڑے ڈیگل ہاتوریت (پرچمِ توریت) کے روحانی پیشوا ربی ڈیو لینڈو نے دوٹوک اعلان کیا  کہ حکومت مانے یا نہ مانے ایک بھی یشیوا (حفظ توریت کے مدارس) طالب علم فوج میں نہیں جائے گا۔ توریت کے علما کی جگہ یشیوا اور کولیل (علما کی قانقاہیں) ہیں، میدان جنگ نہیں۔

 یہ کشمکش اسرائیلی سماج میں سیکولر اور مذہبی طبقوں کے درمیان پہلے سے موجود خلیج کو مزید نمایاں کرتی ہے۔

قیادت، کردار اور سیاسی اخلاقیات

قدامت پسندوں کیساتھ اسرائیلی قیادت کو Epstein Files  کے انکشافات پر بھی شرمندگی کا سامنا ہے۔ اس حوالے سے ایک ہفتہ قبل یہ خبر سامنے آئی تھی کہ سابق اسرائیلی وزیراعظم ایہود باراک (Ehud Barak) نےروسی صدر ولادیمر پیوٹن سے گفتگو میں اعتراف کیا کہ فلسطینی آبادی کا فطری اضافہ اسرائیل کے لیے ایک تزویراتی کمزوری ہے۔ جس پر تجزیہ نگاروں نے غزہ میں جاری نسل کشی اور غربِ اردن میں قبضے گردی کو اس زاوئے سے دیکھنا شروع کردیا۔حالیہ  بیان میں جناب باراک  نے  جیفری ایپسٹین سے ملاقات پر افسوس کا اظہار کیا۔ ندامت کس بات پر ہے؟ ملاقات پر؟ یا اس بات پر کہ ملاقاتیں منظرِ عام پر آ گئیں؟

غزہ کا بحران محض ایک جنگ نہیں بلکہ طاقت اور استقامت، بیانیہ اور حقیقت، اور خوف اور اعتماد کی طویل کشمکش ہے۔ عسکری قوت وقتی برتری تو فراہم کر سکتی ہے، مگر مستقل استحکام سیاسی بصیرت، قانونی توازن اور سفارتی جرات کا تقاضا کرتا ہے۔ اگر مکالمے کی راہیں مسدود رہیں تو یہ تصادم صرف سرحدوں تک محدود نہیں رہے گا بلکہ پورے خطے کے سیاسی اور سماجی مستقبل کو متاثر کرے گا۔ سوال یہ نہیں کہ کون وقتی طور پر غالب ہے، بلکہ یہ ہے کہ کون پائیدار امن کی سمت قدم بڑھانے کا حوصلہ رکھتا ہے۔

ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل کراچی 20 فروری 2026

ہفت روزہ دعوت دہلی 20 فروری 2026

ہفت روزہ  رہبر سرینگر 22 فروری 2026