Thursday, September 3, 2026

 

اسرائیل کی امریکی حمایت میں دراڑیں

مشرقِ وسطیٰ میں جاری خونریزی کو تین سال مکمل ہونے کو ہیں، مگر نہتے انسانوں کا قتل عام رکنے کے کوئی آثار دکھائی نہیں دیتے۔ لبنان سے غزہ اور غربِ اردن تک ہر طرف آگ، دھواں، بربادی اور بے بسی کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ جاری ہے۔ اس ہفتے بھی جنگ کے مختلف محاذوں پر ہونے والی کارروائیاں اس حقیقت کو مزید نمایاں کرتی ہیں کہ یہ تنازعہ اب محض عسکری نہیں رہا بلکہ انسانی، سیاسی اور اخلاقی بحران کی شکل اختیار کر چکا ہے۔

جنوبی لبنان—آگ جو دو دن نہ بجھی

جنوبی لبنان پر بمباری کا سلسلہ اس ہفتے بھی جاری رہا۔ لبنانی قصبے مرجیعون پر 25 اگست  کی بمباری سے لگنے والی آگ دو دن تک بجھائی نہ جاسکی۔ اسی دوران صور کے قصبے بیوت السید اور النبطیہ الفوق پر بمباری اور ڈرون حملوں نے فصلوں اور باغات کو شدید نقصان پہنچایا۔ جنگ کا یہ پہلو کم ہی زیرِ بحث آتا ہے کہ بمباری صرف انسانوں کو نہیں، بلکہ ان کی روزی، زمین اور معاشی زندگی کو بھی جلا کر راکھ کر دیتی ہے۔

غزہ کے آسمان پر بچوں کی پتنگیں۔ خطرے کی گھنٹیاں   

غزہ میں بچوں کے کھیل اب اسرائیلی نشانے پر ہیں۔ اسکول تباہ ہوچکے، لائبریریاں ملبے میں بدل گئیں، کھیل کے میدان اجڑ گئے۔ بچوں نے کھیلنے کو کچھ نہ پایا تو پتنگیں اڑانا شروع کردیں۔ ساحلی ہوائیں غزہ کی ’’گڈی‘‘ کو چند لمحوں میں آسمان پر پہنچا دیتی ہیں۔ کبھی ڈور ہاتھ سے چھوٹ جائے تو پتنگ اسرائیلی چوکیوں کے قریب جاگرتی ہے۔ اب تک کسی پتنگ سے کوئی دھماکہ نہیں ہوا، نہ کسی جانی نقصان کی اطلاع ہے، مگر اسرائیلی حکام اسے ’’ممکنہ خطرہ‘‘ اور ’’نئے 7 اکتوبر‘‘ کی پیش بندی کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ نتیجتاً غزہ کے ساحلی خیمہ بستیوں میں ’’پتنگ فیکٹریوں‘‘ کو تباہ کرنے کے لئے بمباری اور ڈرون حملے شروع کر دیے گئے ہیں۔ بورڈ آف پیس نے اسرائیلی ردِعمل کو غیر ضروری قرار دیا ہے، مگر غزہ کے بڑوں سے مطالبہ کیا ہے کہ پتنگ بازی بند کی جائے۔ جس انداز میں ان معمولی پتنگوں کو پیش کیا جا رہا ہے، یوں محسوس ہوتا ہے جیسے آسمان پر بچوں کی گڈیاں نہیں بلکہ ڈرون اور میزائل پرواز کر رہے ہوں۔

خان یونس اور شیخ رضوان—خیمہ بستیاں اور مسجدیں بھی محفوظ نہیں

خان یونس میں بے گھر فلسطینیوں کے خیموں پر بمباری جاری رہی۔ غزہ کے شیخ رضوان محلے کی مرکزی جامع مسجد اور پانی صاف کرنے کے پلانٹ (Desalination Plant) کو نشانہ بنایا گیا۔ ان حملوں میں ایک بچے سمیت چھ افراد جاں بحق ہوئے، جبکہ علاقے میں پینے کے پانی کی شدید قلت پیدا ہوگئی۔ الزویدہ اور دیرالبلاح پر بمباری سے متعدد افراد جان سے گئے۔ غزہ میں اب نہ عبادت گاہ محفوظ ہے، نہ پانی، نہ گھر، نہ کھیل، زندگی کا ہر پہلو جنگ کے نشانے پر ہے۔

مذہبی حساسیت یا انسانی حساسیت؟ اسرائیلی فوجیوں کا انکار

اسرائیلی فوج کی گیواتی بریگیڈ کے روتم بٹالین کے کچھ سپاہیوں نے غزہ میں ایک آپریشن کے لئے اس بکتر بند گاڑی میں سوار ہونے سے انکار کردیا جس میں ایک خاتون طبی کارکن بھی موجود تھی۔ کمانڈر کی ہدایات کے باوجود فوجی اپنی اختلاطِ مردوزن کے بارے میں تلمود و توریت کا  کا حوالہ دیتے رہے اور بالآخر مشن منسوخ کردیا گیا۔ مذہبی اصولوں کا احترام اپنی جگہ، مگر سوال یہ ہے کہ مذہبی حساسیت صرف اپنے طرزِ زندگی تک محدود رہتی ہے یا میدانِ جنگ میں دوسرے انسانوں کی جان کے احترام تک بھی پہنچتی ہے؟ تورات میں پاکیزگی اور عصمت کی تعلیم کے ساتھ انسانی جان اور انصاف کی حرمت بھی بنیادی اصول ہے۔ ایک خاتون پیرامیڈک کے ساتھ بیٹھنا ناقابلِ قبول، مگر نہتے شہریوں کی جان اور گھروں کی تباہی پر مذہبی حساسیت خاموش۔ حضرت عیسیٰؑ نے کیا خوب فرمایا تھا  "تم مچھر چھانتے اور سموچے اونٹ نگل جاتے ہو۔"

غربِ اردن—قبضے، حملے اور یادگاروں کی مسماری

غربِ اردن میں فلسطینی مکانوں پر قبضے، حملے اور لوٹ مار جاری ہے۔ نابلوس کے قصبے قصریٰ میں کئی گھروں پر آبادکاروں نے قبضہ کرلیا، اور فلسطینی ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی فوجی نگرانی میں ہوئی۔ مدما قبرستان میں شہدا کی یادگار بھی محفوظ نہ رہ سکی۔ عظمتِ یہود جماعت کے رکنِ پارلیمان زوی یدیدیا سوکوٹ نے خود تیشہ چلا کر یادگار کو مسمار کیا اور کتبے پر درج قرآنی آیات کی بے حرمتی کی۔ تصاویر میں فوجی جوان بھی موجود تھے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ کارروائی حکومتی سرپرستی میں ہوئی۔

صحافیوں اور کارکنوں پر حملے—تشدد کی نئی حدیں

نابلوس کے قصبے جالود میں آبادکاروں نے ایک پچاس سالہ خاتون کو تشدد کا نشانہ بنایا اور واقعے کی تصویر کشی کرنے والے NBC کے صحافیوں پر حملہ کیا۔جب 25 اگست کو جناتۃ میں اسرائیلی انسانی حقوق کے کارکن اور AFP کے صحافی فلسطینی گھروں کے گرد حفاظتی باڑ لگانے میں مدد کے لیے پہنچے تو نقاب پوش آبادکاروں نے ان پر دھاوا بول دیا۔ ڈنڈے برسائے، پتھر پھینکے، مرچوں کا اسپرے کیا۔ ایک 70 سالہ اسرائیلی کارکن کو شدید تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ چار گاڑیوں کے شیشے توڑے گئے، ٹائر پھاڑ دیے گئے۔اس ہفتے 28 اگست کو جنین پر ڈرون حملے میں تین نوجوان جاں بحق ہوئے۔

امریکی سینیٹ کا خط—بدلتی رائے عامہ کا اشارہ

غربِ اردن میں تشدد اور بیدخلی پر واشنگٹن میں بھی بے چینی بڑھ رہی ہے۔ امریکی سینیٹ میں ڈیموکریٹک پارٹی کے تمام 45 سینیٹروں نے وزیراعظم نیتن یاہو کو مشترکہ خط لکھ کر آبادکاروں کے تشدد، فلسطینیوں کی گرفتاریوں اور نئی آبادکاریوں پر سخت تشویش ظاہر کی۔ چشم کشا پہلو یہ ہے کہ دستخط کنندگان میں چک شومر، آدم شِف، کوری بوکر اور نو یہودی سینیٹرز شامل ہیں، یعنی وہ لوگ جو روایتی طور پر اسرائیل کے مضبوط حامی سمجھے جاتے ہیں۔ اس سال اپریل کے Pew سروے کے مطابق ڈیموکریٹک امیدواروں کو ووٹ دینے کا عندیہ دینے والے 80 فیصد افراد نے اسرائیل کے بارے میں منفی رائے ظاہر کی ہے ، جو گزشتہ سال 69 فیصد اور 2022 میں 53 فیصد تھی۔

انتخابی نتائج—نئی نسل کا بدلتا مزاج

ظہران ممدانی، عبدل السید اور عائشہ وہاب کی کامیابیاں اس بات کا اشارہ ہیں کہ ڈیموکریٹک حلقوں میں اسرائیل کے بارے میں پرانی غیر مشروط حمایت کمزور پڑ رہی ہے۔ کیا یہ کامیابیاں اسرائیل نواز ڈیموکریٹس کو اپنی حکمتِ عملی پر نظرثانی پر مجبور کر رہی ہیں؟ کچھ تجزیہ نگار اسے عارضی رجحان کہتے ہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ نئی نسل کے ووٹر، غزہ و غربِ اردن کی تصاویر، اور اسرائیلی پالیسیوں پر بڑھتی تنقید سب مل کر سیاسی فضا بدل رہے ہیں۔ اگر چک شومر جیسے دیرینہ حامی بھی اب نیتن یاہو حکومت سے بازپرس کر رہے ہیں تو یہ معمولی واقعہ نہیں بلکہ ایک بڑا سیاسی اشارہ ہے۔

نیتن یاہو کی انتخابی حکمتِ عملی—خوف کو ووٹ میں بدلنا

دوسری طرف نیتن یاہو نے خوف اور دشمنی کو اپنی انتخابی مہم کا عنوان بنالیا ہے۔ تل ابیب کی سڑک پر نصب ایک بڑے بل بورڈ پر رہبرِ ایران آئت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای، نیویارک کے رئیسِ شہر زہران ممدانئ، ترک صدر طیب اردوان اور حزب اللہ کے سربراہ شیخ نعیم قاسم کی تصویر کیساتھ عبرانی میں لکھا ہے ’’وہ چاہتے ہیں کہ نیتن یاہو ہار جائیں، انہیں جیتنے نہ دیں۔‘‘ یعنی نیتن یاہو کی شکست کو اسرائیل کے دشمنوں کی کامیابی کے طور پر پیش کیا جارہا ہے۔ دلچسپ بات کہ 2019 کے انتخابات میں نیتن یاہو،  ٹرمپ، پوتن اور مودی جیسے عالمی رہنماؤں کے ساتھ اپنی قربت کو طاقت کے نشان کے طور پر پیش کرتے تھے اور اس بار وہ اپنے مخالفین کو خوف کے استعاروں کے طور پر پیش کررہے ہیں تاکہ  خوف اور دشمنی کو ووٹ میں تبدیل کیا جائے۔

تین سال کی خونریزی نے یہ ثابت کردیا ہے کہ فوجی طاقت کسی ملک کو تباہ کرسکتی ہے، مگر سیاسی مسئلے کو لازماً حل نہیں کرتی۔ غزہ کے بچے اگر ملبے کے درمیان بھی پتنگ اڑانے کی خواہش رکھتے ہیں تو یہ صرف ایک بچے کا کھیل نہیں؛ یہ اس انسانی جبلت کی علامت ہے جو جنگ کے باوجود زندگی کی طرف لوٹنا چاہتی ہے۔ دوسری طرف واشنگٹن میں اسرائیل کے دیرینہ حامیوں کی زبان بدل رہی ہے، امریکی ووٹر کا مزاج تبدیل ہورہا ہے اور اسرائیل کے اندر انتخابی سیاست پہلے سے زیادہ خوف، دشمنی اور ’’وجودی خطرے‘‘ کے گرد گھوم رہی ہے۔ اسرائیل اور امریکہ  کو یہ جان لینا چاہئے کہ  فتح  ہمیشہ  طاقتور کی نہیں ہوتی بلکہ جیتتا وہ ہے جو یہ جان لے کہ طاقت کی بھی ایک حد ہوتی ہے۔ جنگ میدانِ جنگ میں جیتی جاسکتی ہے، مگر پائیدار امن صرف سیاست اور انصاف کی میز پر حاصل ہوتا ہے۔

ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل کراچی 4 ستمبر 2026

ہفت روزہ دعوت دہلی 4 ستمبر 2026

ہفت روزہ رہبر سرینگر 6 ستمبر 2026


 

ایران، اسرائیل امریکہ جنگ

معیشت، میزائیل اور مذاکرات

امریکہ کی جانب سے ایران کی “Economic Asphyxiation” یعنی ’’معاشی گلا گھونٹنے‘‘ کی مہم عروج پر پہنچتی دکھائی دے رہی ہے۔ جنگ اب صرف میزائیلوں اور بموں تک محدود نہیں رہی بلکہ بینکوں، تجارت، تیل، گیس اور عالمی مالیاتی نظام تک رسائی بھی اس کشمکش کا اہم میدان بن چکی ہے۔ واشنگٹن ایک طرف ایران کے مالیاتی راستے بند کرنے کی کوشش کررہا ہے تو دوسری طرف ایک ماہ کی خاموشی کے بعد 30 ا گست کو بموں اور میزائیلوں کی گونج بھی سنائی دی۔

گزشتہ ہفتے مصر کے سرکاری بینک Banque Misr کی متحدہ عرب امارات میں قائم شاخوں کو امریکی مالیاتی نظام سے کاٹنے کی کارروائی شروع کردی گئی ہے۔ امریکی وزارتِ خزانہ کا الزام ہے کہ بینک مصر کی اماراتی شاخوں نے جنوری 2024 سے جون 2026 کے دوران ایران کے متوازی یا Shadow Banking نیٹ ورک سے وابستہ 103 کمپنیوں کے لئے تقریباً 1.8 ارب ڈالر کے مالیاتی لین دین کئے۔ مجوزہ کارروائی کے تحت امریکی مالیاتی ادارے ان شاخوں کے ساتھ مراسل بینکاری (Correspondent Banking) کے تعلقات قائم یا برقرار نہیں رکھ سکیں گے، جس کے نتیجے میں ان کی ڈالر اور امریکی مالیاتی نظام تک رسائی شدید متاثر ہوگی۔ تاہم مصری مرکزی بینک نے واضح کیا ہے کہ امریکی اقدام صرف بینک مصر کی متحدہ عرب امارات میں قائم شاخوں تک محدود ہے اور مصر میں بینک کے مرکزی آپریشن اس سے براہِ راست متاثر نہیں ہوں گے۔ البتہ اماراتی شاخوں کے لیے یہ ایک بڑا دھچکا ہے، کیونکہ مراسل بینکاری اور ڈالر کلیئرنگ سے محرومی بین الاقوامی تجارت اور مالیاتی لین دین کو خاصا مشکل بنا سکتی ہے۔

متحدہ عرب امارات بھی ایران سے دور

دلچسپ بات یہ ہے کہ متحدہ عرب امارات 19 اگست سے ایران کے ساتھ تمام تجارتی اور مالیاتی لین دین ’’تا اطلاعِ ثانی‘‘ معطل کرچکا ہے۔ جب امارات نے ایران کے ساتھ تجارت کا دروازہ خود بند کردیا تو امریکہ نے وہاں موجود ایک مصری بینک کی شاخ کو نشانہ کیوں بنایا؟۔ اسکا جواب دیتے ہوئے امریکی وزیرِ خزانہ نے کہا کہ واشنگٹن صرف موجودہ تجارت کو نہیں دیکھ رہا بلکہ گزشتہ اور بالواسطہ مالیاتی روابط کو بھی ہدف بنا رہا ہے۔ امریکی موقف ہے کہ پابندیوں سے بچنے کے لئے ایران طویل عرصے سے دوسرے ملکوں کے بینکوں، Exchange Houses اور Front Companies کا نیٹ ورک استعمال کرتا رہا ہے۔ چنانچہ اب امریکی پیغام یہ ہے کہ ایران کے ساتھ براہِ راست کاروبار ہی نہیں بلکہ اس کے لئے مالیاتی راستے فراہم کرنا بھی قابلِ سزا ہوگا۔

اصل ہدف مالیاتی راستے ہیں

یہ دراصل ’’Economic D-Day‘‘ حکمتِ عملی کا اہم پہلو ہے۔ امریکہ ایران کو صرف اس کے اپنے بینکوں سے محروم نہیں کرنا چاہتا بلکہ ان دروازوں کو بھی بند کرنا چاہتا ہے جو اسے عالمی مالیاتی نظام سے جوڑتے ہیں۔ اگر امریکہ ایران کے مالیاتی راستے ایک ایک کرکے بند کرتا گیا تو کیا تہران واقعی گھٹنے ٹیک دے گا، یا چین، روس، ترکیہ، عراق اور دیگر ممالک کے ذریعے متبادل مالیاتی راستے مزید تیزی سے تشکیل پائیں گے؟ ایران کے خلاف امریکی معاشی جنگ کی کامیابی کا فیصلہ صرف پابندیوں کی تعداد اور شدت سے نہیں ہوگا؛ اصل امتحان یہ ہے کہ ایران کے کتنے متبادل راستے باقی رہتے ہیں اور اس کے تجارتی شراکت دار واشنگٹن کے دباؤ کے مقابلے میں کب تک اور کس حد تک اس کے ساتھ کھڑے رہتے ہیں۔

شکنجے کا اثر، معیشت پر دباؤ

معاشی شکنجہ کسنے کے اثرات ایرانی معیشت پر واضح ہیں۔ ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزیشکیان کے مطابق ایران کی غیر ملکی تجارت کا حجم کم از کم 35 فیصد سکڑ چکا ہے۔ ایرانی ذرائع ابلاغ سے گفتگو کرتے ہوئے صدر پزیشکیان نے بتایا کہ پاکستانی ثالثی میں طے پانے والے انتظام کے مختصر عرصے کے دوران ایران نے تقریباً نو کروڑ ڈالر مالیت کا خام تیل فروخت کیا، لیکن اب یہ فروخت عملاً معطل ہے۔ تاہم تہران کا موقف ہے کہ معاشی دباؤ کے باوجود ایران امریکی شرائط قبول نہیں کرے گا۔ پابندیوں کا مقابلہ کرنے کے ساتھ ساتھ خود انحصاری کے عمل کو تیز کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ جہاں امریکہ ایران کے بیرونی مالیاتی راستے محدود کررہا ہے، وہیں تہران اندرونی پیداوار اور متبادل تجارتی ذرائع پر انحصار بڑھانے کی کوشش میں ہے۔

نئی گیس، پرانے وسائل کا نیا سہارا

اس حکمتِ عملی میں تیل و گیس کے شعبے پر خصوصی توجہ دی جارہی ہے۔ گزشتہ ہفتے ایرانی وزیرِ پٹرولیم محسن پاک نژاد نے جنوبی صوبے فارس میں 7.5 ٹریلین مکعب فٹ سے زیادہ قدرتی گیس کے نئے ذخیرے کی دریافت کا اعلان کیا۔ ان کے مطابق پاژان گیس فیلڈ میں قابلِ استخراج (Recoverable) گیس کا تخمینہ تقریباً 5.7 ٹریلین مکعب فٹ ہے، جو جنوبی پارس کے ایک مرحلے کی تقریباً 15 سالہ پیداوار کے برابر بتایا گیا ہے۔

یہ دریافت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران پر معاشی دباؤ بڑھایا جارہا ہے اور توانائی کا شعبہ اس کی معیشت اور آمدنی کا بنیادی ستون ہے۔ قطر اور ایران کا مشترکہ South Pars/North Dome گیس میدان اپنے حجم کے اعتبار سے دنیا کا سب سے بڑا گیس ذخیرہ سمجھا جاتا ہے۔ چنانچہ نئی دریافتیں ایران کے لئے محض توانائی کے نئے ذخائر نہیں بلکہ طویل مدتی معاشی مزاحمت کا ممکنہ ذریعہ بھی ہیں۔

جنگ کے زخم، مرمت کا کام جاری

اسی دوران جنوبی پارس کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو پہنچنے والے نقصان کی مرمت بھی جاری ہے۔ فیز 14 گیس ریفائنری کی تقریباً 70 فیصد مرمت مکمل ہوچکی ہے اور اسے رواں سال کے اختتام تک مکمل طور پر بحال کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ایران کی مشکلات اور جنگ کی بھاری قیمت اپنی جگہ، لیکن مشکل ترین حالات میں بھی زندگی اور معیشت کا پہیہ مکمل طور پر رک نہ جانا بذاتِ خود ایک اہم تزویراتی صلاحیت ہے۔ جنگ کسی ملک کی عمارتیں اور تنصیبات تباہ کرسکتی ہے، لیکن اگر وہ قوم اپنے پیداواری نظام کو دوبارہ کھڑا کرنے کی صلاحیت برقرار رکھے تو جنگ کے نتائج  حملہ آور کی خواہش کے مطابق نہیں نکلتے۔

معاشی جنگ کے ساتھ عسکری محاذ بھی گرم

ایران کے خلاف امریکی کارروائی صرف اقتصادی محاذ تک محدود نہیں رہی۔ اتوار، 27 اگست کی شب امریکہ نے ایرانی جزیرہ لارک اور آبنائے ہرمز کے علاقے میں میزائیل اور بم برسائے۔ ایرانی خبر رساں ایجنسی فارس کے مطابق حملے میں چندایرانی فوجی جاں بحق ہوئے۔ جواباً ایرانی میزائلوں اور ڈرونز نے اردن میں شاہ حسین اور الازرق کے امریکی فوجی اڈوں پر امریکی تنصیبات کو نشانہ بنایا۔ پاسدارانِ انقلاب کے مطابق متحدہ عرب امارات میں موجود امریکی اڈے کی جانب بھی ایرانی میزائل داغے گئے۔ صدر ٹرمپ نے اردن میں امریکی اڈے پر حملے کا جواب دینے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے جزیرہ خارگ کو ’’ریزہ ریزہ‘‘ کیا جارہا ہے۔یوں معاشی شکنجے کے ساتھ عسکری محاذ بھی ایک بار پھر فعال ہوگیا ہے۔ دیکھنا ہے کہ یہ 'محدود عسکری کارروائیاں' کسی بڑے تصادم کا پیش خیمہ بنتی ہیں یا دونوں فریق ایک ایسی حد پر رک جائیں گے جہاں سے مذاکرات کا راستہ کھلا رہے؟

اپنی فوج بھی طویل جنگ سے پریشان

اس سوال کی اہمیت اس لئے بھی بڑھ گئی ہے کہ خود امریکی فوجی قیادت، اپنی وزارت جنگ کو ایران کے خلاف طویل جنگ کے خطرات سے خبردار کررہی ہے۔ واشنگٹن پوسٹ کے مطابق امریکی فوج کے اعلیٰ کمانڈروں نے وزیرِ جنگ پیٹ ہیگسیتھ کو متنبہ کیا ہے کہ ایران کے خلاف بڑے پیمانے کی فوجی کارروائیوں کو طول دینا امریکی عسکری صلاحیت کے لیے نقصان دہ ہوسکتا ہے اور اس سے دنیا کے دوسرے محاذوں، حتیٰ کہ امریکی سرزمین کے دفاع کی تیاری بھی متاثر ہوسکتی ہے۔ یہ انتباہ 14 اگست کے Secretary of Defense Orders Book (SDOB) میں درج ہے۔ اس اعلیٰ سطحی عسکری دستاویز میں بری فوج، بحریہ اور فضائیہ کے سربراہوں کے علاوہ یورپ، ایشیا اور لاطینی امریکا میں امریکی فوجی کارروائیوں کی نگرانی کرنے والے چار ستارہ کمانڈروں کی آراء بھی شامل ہیں۔واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ یورپی کمان، بحرالکاہل کمان اور جنوبی کمان کے سربراہوں اور امریکی بحریہ کے اعلیٰ ترین افسران نے ایران جنگ کے لئےاپنے وسائل اور فوجی دستے مزید عرصے تک برقرار رکھنے کے احکامات پر اختلاف، یا عسکری اصطلاح میں “non-concur” کیا، تاہم جرنیلوں نے احکامات کے نفاذ پر آمادگی ظاہر کی۔ امریکی بحریہ کے سربراہ ایڈمرل Daryl Caudle نے مؤقف اختیار کیا کہ ایران جنگ کے لئے موجودہ سطح کی فوجی مدد برقرار رکھنا ممکن نہیں، کیونکہ جنگ کے خاتمے کی کوئی واضح مدت نظر نہیں آرہی۔ دوسری طرف بری فوج اور فضائیہ کی قیادت نے بھی اضافی تعیناتی سے پیدا ہونے والے سنگین خطرات کی نشاندہی کی۔ یہ محض فوجی افسران کی معمول کی احتیاط نہیں۔ جب مختلف محاذوں کے چار ستارہ کمانڈر اور عسکری سربرایان (سروس چیفس) یہ بتانے لگیں کہ ایک جنگ دوسرے محاذوں پر امریکی تیاری کو کمزور کرسکتی ہے تو معاملے کی نزاکت کو سمجھنا مشکل نہیں۔ایران جنگ نے امریکی بحری جہازوں، طیاروں، میزائلوں اور دیگر وسائل پر بھی خاصا دباؤ ڈالا ہے۔ یعنی جنگ کا ایک محاذ ایران ہے اور دوسرا خود امریکی فوج کی برداشت کی حد۔

پابندیاں بمقابلہ مذاکرات

ایران 1979 سے امریکی پابندیوں کا سامنا کرتا چلا آرہا ہے۔ اسی لئے بعض تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ معاشی پابندیوں کے ذریعے صدر ٹرمپ اپنے تمام اہداف حاصل نہیں کرسکیں گے اور بالآخر معاملہ مذاکرات کی میز پر ہی طئے ہوگا۔ علاقائی ممالک نے بھی سفارتی سرگرمیاں تیز کردی ہیں۔ قطر کے وزیراعظم و وزیرِ خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمان بن جاسم الثانی نے 27 اگست کو تہران میں ایرانی قیادت سے ملاقات کی، جس میں تنازع کے سفارتی حل اور آبنائے ہرمز کھولنے کے امکانات پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔ ایرانی وزیرِ خارجہ سید عباس عراقچی نے ان مذاکرات کو ’’جدت پر مبنی‘‘ قرار دیا۔

طلائی گولیاں یا روایتی بندوق؟

بظاہر امریکہ نے ایران کے خلاف معاشی دباؤ کو جنگ کا ایک اہم ہتھیار بنا لیا ہے، لیکن حالیہ میزائل حملوں نے یہ واضح کردیا ہے کہ واشنگٹن نے روایتی عسکری متبادل کو مکمل طور پر ترک نہیں کیا۔ یوں ایران کے خلاف امریکی حکمتِ عملی اب ’’طلائی گولی‘‘ اور ’’روایتی بندوق‘‘ دونوں کا امتزاج دکھائی دیتی ہے۔فرق صرف یہ ہے کہ معاشی پابندیوں کا اثر نسبتاً بتدریج ظاہر ہوتا ہے، جبکہ میزائل فوری تباہی لاتے ہیں۔ مگر دونوں میں ایک بنیادی مسئلہ مشترک ہے: ان کا حتمی نتیجہ ایران کے عزم، صبر، اقتصادی حکمت عملی اور مزاحمت پر منحصر ہے۔ اگر معاشی دباؤ تہران کو مذاکرات کی میز تک لاتا ہے تو واشنگٹن اسے کامیابی قرار دے سکتا ہے، لیکن اگر یہی دباؤ ایران کو مزید سخت مزاحمت اور متبادل مالیاتی و تجارتی نظام کی طرف دھکیلتا ہے تو جنگ ایک طویل کشمکش میں تبدیل ہوسکتی ہے۔اسرائیل کے لئے معاملہ مختلف ہے۔ یروشلم میں ایک سیاسی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اسرائیلی محکمہ سراغرسانی موساد کے سابق سربراہ ڈیوڈ برنی نے کہا کہ ایران پر اس وقت تک حملے جاری رہنے چاہئیں جب تک وہاں اسلامی حکومت کا خاتمہ نہ ہوجائے۔ ان کے بقول اسرائیل کے تحفظ اور مشرقِ وسطیٰ میں پائیدار امن کا دوسرا کوئی اور راستہ نہیں۔یوں واشنگٹن میں معاشی دباؤ اور سفارت کاری کے راستے پر غور ہورہا ہے، امریکی فوجی قیادت طویل جنگ کے نقصانات گنوا رہی ہے، جبکہ اسرائیل کے بعض فیصلہ کن حلقے اب بھی عسکری دباؤ کو حتمی حل سمجھتے ہیں۔

جنگ کا اگلا مرحلہ

فی الحال یہ کہنا مشکل ہے کہ ایرانی مزاحمت کی معاشی حد کہاں ختم  اور امریکی پابندیوں کی تاثیر کی حد کہاں سے شروع ہوگی۔ایسا لگتا ہے کہ اب جنگ،  بینکوں، بندرگاہوں، تیل ٹینکروں، گیس میدانوں  اور مذاکرات کی میز پر لڑی جارہی ہے۔

ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل کراچی 4 ستمبر 2026

ہفت روزہ دعوت دہلی 4 ستمبر 2026

ہفت روزہ رہبر سرینگر 6 ستمبر 2026


Thursday, August 27, 2026

 

ایران کے خلاف  "Economic D‑Day"

عسکری زورآزمائی کے بعد معاشی محاذ کی نئی کشمکش

خلیج میں تقریباً چھ ماہ سے جاری جنگ نے مشرقِ وسطیٰ کی سیاسی حرکیات، عالمی توانائی کی منڈی اور بین الاقوامی سفارت کاری کو ایک نئے موڑ پر لاکھڑا کیا ہے۔ عسکری محاذ پر فیصلہ کن کامیابی حاصل نہ ہونے کے بعد واشنگٹن نے اب ایران کے خلاف معاشی دباؤ کو فیصلہ کن ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کا اعلان کردیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا اقتصادی محاذ وہ کامیابی دالا سکے گا جو عسکری کارروائیاں نہ لاسکیں؟ اور اگر معاشی دباؤ بھی تہران کو جھکانے میں ناکام رہا تو اس تنازعے کا اگلا باب کیا ہوگا؟

جمعرات (20 اگست) کو صدر ٹرمپ نے بمباری اور میزائل حملوں کے محدود اثرات کے بعد ایران کی اقتصادیات کا گلا گھونٹنے کیلئے تہران کے خلاف "Economic D‑Day" کا اعلان کیا۔امریکی وزیرِ خزانہ اسکاٹ بیسنٹ (Scoot Bessent) نے 24 اگست کو معاشی D-Dayکی تفصیلات بناتے ہوئے کہا کہ امریکہ کا مقصد ایران کو عالمی سطح پر موجود ہر اس معاشی ذریعے سے محروم کرنا ہے جو اس کی معیشت کو سہارا دے رہا ہے۔ ان کے الفاظ میں یہ ایران کی “economic asphyxiation” یعنی ’’معاشی گلا گھونٹنے‘‘ کی مہم ہے۔

پانچ شعبے، ساٹھ اہداف اور ایک عالمی پیغام

نئی امریکی کارروائی میں ایران کی معیشت کے پانچ اہم شعبوں کو نشانہ بنایا گیا ہے,  جن میں ڈیجیٹل اثاثے، ٹیکنالوجی، سونا، ہوا بازی اور بحری جہاز رانی شامل ہیں امریکی محکمۂ خزانہ نے تقریباً 60 افراد، اداروں اور جہازوں کو بھی پابندیوں کی زد میں لانے کا اعلان کیا ہے۔ جناب بیسنٹ نے خبردار کیا کہ جو ادارے ایران کے لئے منی لانڈرنگ یا مالیاتی منتقلی میں سہولت فراہم کریں گے انہیں امریکی ڈالر پر مبنی مالیاتی نظام سے نکال دیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ اب ایران کے ساتھ تجارت کے لئے ’’گرے ایریاز‘‘ میں رہنے کا وقت ختم ہوچکا ہے۔ گویا واشنگٹن صرف ایران کو نشانہ نہیں بنا رہا بلکہ ان ممالک اور کمپنیوں کو بھی خبردار کررہا ہے جو تہران کے ساتھ کاروباری روابط برقرار رکھیں گے۔

ایران کے دوست بھی امریکی نشانے پر

چین، ترکیہ اور متحدہ عرب امارات ایران کے بڑے تجارتی شراکت دار ہیں۔ امریکی وزیرِ خزانہ نے واضح کیا ہے کہ ایران کے ساتھ اقتصادی روابط رکھنے والے اداروں کو امریکی پابندیوں کی مکمل طاقت کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ چینی بینکوں کے بارے میں سوال پر بیسنٹ کا جواب تھا کہ کوئی بھی ادارہ امریکی پابندیوں کی پہنچ سے باہر نہیں۔ تاہم واشنگٹن نے فی الحال چین کے ان بڑے مالیاتی اداروں پر انتہائی سخت ثانوی پابندیاں عائد نہیں کیں جو ایرانی تیل کی تجارت میں سہولت فراہم کرتے ہیں۔ امریکی وزیرخزانہ نے کہا کہ امریکہ دوسرے ممالک کو ایران سے تعلقات ختم کرنے کے لیے ایک مہلت دے رہا ہے، لیکن یہ عمل بہت تیزی سے آگے بڑھے گا۔ یعنی واشنگٹن نے فی الحال بندوق چلانے کے بجائے بندوق دکھائی ہے، مگر یہ بھی واضح کردیا ہے کہ اگلا قدم زیادہ سخت ہوسکتا ہے۔ یہ دراصل ایران سے زیادہ عالمی معیشت کے لیے بھی ایک امتحان ہے۔ امریکہ دنیا کو یہ انتخاب دے رہا ہے کہ وہ تہران کے ساتھ تجارت کرے یا امریکی مالیاتی نظام تک رسائی برقرار رکھے۔ امریکی وزیرخارجہ کی اخباری کانفرنس کے فوراً بعد متحدہ عرب امارات نے ایران سے تجارتی روابط ختم کرنے کا اعلان کردیا ۔

ایران کا جواب: ہمارے پاس دو سال کا منصوبہ ہے

تہران نے نئی پابندیوں کو تسلیم کرنے کے بجائے مقابلہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ایرانی وزیرِ معیشت سید علی مدنی زادہ  نے کہا ہے کہ ایران کے پاس نئی پابندیوں سے نمٹنے کے لیے دو سالہ منصوبہ موجود ہے۔ ان کے بقول امریکہ،  ایرانی عوام اور حکومت کے عزم کو پہلے بھی آزما چکا ہے اور چچا سام ہر بار ناکام رہے۔ اس دعویٰ کو سیاسی بیان کہہ کر نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ ایران کی تاریخ یہ بتاتی ہے کہ طویل عرصے سے جاری امریکی پابندیوں کے باوجود تہران متبادل تجارتی راستے، فرنٹ کمپنیاں، متبادل جہازوں کی رجسٹریشن اور غیر ڈالر مالیاتی ذرائع استعمال کرکے پابندیوں کو غیر موثر بنانے میں بڑی حد تک کامیاب رہا ہے۔ امریکی محکمۂ خزانہ نے خود تسلیم کیا ہے کہ ایران پابندیوں سے بچنے کے لئے نئے ادارے اور جہازوں کی تیزی سے رجسٹریشن میں مہارت رکھتا ہے۔

معاشی دباؤ پہلے ہی محسوس ہورہا ہے

تاہم اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ ایران پر پابندیوں کا کوئی اثر نہیں ہورہا۔ نئی پابندیوں کے اعلان کے وقت ایرانی ریال غیر رسمی مارکیٹ میں تقریباً 2.02 ملین ریال فی ڈالر کی نئی کم ترین سطح پر پہنچ گیا۔ ایران پہلے ہی بلند افراطِ زر، منفی اقتصادی نمو اور تقریباً چھ ماہ کی جنگ کے معاشی اثرات سے دوچار ہے۔ چنانچہ دیکھنا ہے کہ تہران نئی پابندیوں کے اثرات کو کتنی دیر اور کس قیمت پر برداشت کرسکتا ہے۔

حکمتِ عملی کی الٹی ترتیب

بین الاقوامی تنازعات میں دباؤ عموماً بتدریج بڑھایا جاتا ہے۔ پہلے مذاکرات، پھر سفارتی دباؤ، اس کے بعد معاشی پابندیاں اور آخر میں فوجی طاقت۔ مگر ایران کے معاملے میں ترتیب بڑی حد تک الٹ گئی ہے۔ امریکہ اور اسرائیل نے پہلے فوجی طاقت استعمال کی، جنگ تقریباً چھ ماہ تک جاری رہی، مگر ایران واشنگٹن کی تمام شرائط ماننے پر آمادہ نہیں ہوا۔ اب جنگ کے بعد معاشی محاذ کو فیصلہ کن بنانے کی کوشش کی جارہی ہے۔

یہی وجہ ہے کہ Economic D-Day محض ایک نئی پابندیوں کا پیکیج نہیں بلکہ جنگی حکمتِ عملی کے اگلے مرحلے کا نام ہے۔ واشنگٹن اب دیکھنا چاہتا ہے کہ جو دباؤ میزائلوں اور بموں سے حاصل نہیں ہوسکا، وہ ڈالر، بینکنگ اور عالمی تجارت کے ذریعے حاصل کیا جاسکتا ہے یا نہیں۔

آبنائے ہرمز: معاشی جنگ کا سب سے حساس محاذ

ایران کے خلاف معاشی دباؤ کا سب سے خطرناک پہلو آبنائے ہرمز ہے۔ عالمی تجارت کے لئے یہ تنگ آبی راستہ پہلے ہی تنازع کا مرکزی نقطہ بن چکا ہے۔ صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر ایک نقشہ جاری کرکے آبنائے ہرمز کو امریکی علاقہ قرار دینے کا دعویٰ کیا، جسے ایران نے سختی سے مسترد کردیا۔ تہران کا موقف ہے کہ اس آبی گزرگاہ کے بارے میں امریکہ کا دعویٰ بے بنیاد ہے۔ اگر نئی اقتصادی پابندیاں ایران کے تیل اور اس کی برآمدی آمدنی کو مزید محدود کرتی ہیں تو تہران کے پاس آبنائے ہرمز کو دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کرنے کی ترغیب بھی بڑھ سکتی ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں ایران کے خلاف معاشی جنگ عالمی معیشت کے لیے بھی مسئلہ بن سکتی ہے، کیونکہ ہرمز میں کسی بڑی رکاوٹ کا اثر صرف تہران یا واشنگٹن تک محدود نہیں رہےگا۔

امریکی جانی نقصان بھی معمولی نہیں

ایران کے ساتھ جنگ میں امریکی جانی نقصان کے اعدادوشمار بھی چشم کشا ہیں۔ پینٹاگون کے مطابق 21 اگست تک 18 امریکی فوجی ہلاک اور 756 زخمی ہوچکے تھے۔ یہ اعداد اس لئے اہم ہیں کہ امریکی صدر نے جنگ کو ابتدا میں نسبتاً مختصر کارروائی کے طور پر پیش کیا تھا، مگر یہ جنگ اب ساتویں ماہ میں داخل ہوچکی ہے۔ عسکری اخراجات، جانی نقصان اور عالمی توانائی کی قیمتوں کے اثرات کے ساتھ جنگ کی سیاسی قیمت بھی بڑھ رہی ہے۔

امریکی معیشت کا بوجھ — قرض کی نئی بلند ترین سطح

دوسری طرف امریکی معیشت بھی دباؤ میں ہے۔امریکی قومی قرض نے گزشتہ روز پہلی مرتبہ 40 ٹریلین ڈالر کی حد عبور کرلی۔ مگر اصل حیرت اس ہندسے سے زیادہ اس رفتار پر ہے جس سے یہ قرض بڑھ رہا ہے۔گزشتہ برس  اکتوبر  میں امریکی قرض 38 ٹریلین ڈالر تھا جو اس سال مارچ میں بڑھ کر  39 ٹریلین ڈالر ہوگیا اور اب  40 ٹریلین کے نشان سے اوپر چلا گیا  یعنی تقریباً ہر پانچ ماہ میں مزید ایک ہزار ارب ڈالر کا نیاقرض۔ اگرگزشتہ دس ماہ کی اوسط نکالی جائے تو امریکی وفاقی قرض میں روزانہ تقریباً 6.8 ارب ڈالر کا اضافہ ہوا ہے۔اسوقت امریکہ سود کی مد میں 2.85 ارب ڈالر یومیہ خرچ کررہا ہے۔ اگرچہ امریکی معیشت ایران کے مقابلے میں کہیں زیادہ بڑی اور مضبوط ہے، لیکن جنگ جتنی طویل ہوگی، اس کی مالی اور سیاسی قیمت بھی اتنی ہی بڑھے گی۔

جنگ کے ممکنہ تزویراتی اثرات

ایران کے خلاف کامیابی کے دعووں کے باوجود جنگ کے ممکنہ تزویراتی نتائج صدر ٹرمپ کیلئے حوصلہ افزا نہیں۔ امریکی ذرائع ابلاغ کے مطابق پینٹاگون اور امریکی مرکزی کمان خلیج میں فوجی موجودگی پر نظرثانی کر رہے ہیں۔ ایران کے حملوں سے متعدد امریکی اڈوں کو پہنچنے والے نقصان کے بعد واشنگٹن اس امکان پر غور کر رہا ہے کہ بعض تنصیبات کو دوبارہ تعمیر نہ کیا جائے اور فوج کے کچھ حصے کو اردن یا اسرائیل کے قریب منتقل کردیا جائے۔ اگرچہ یہ پسپائی نہیں بلکہ عسکری نقشِ پا کی جغرافیائی تبدیلی ہوگی، مگر بعض تجزیہ نگاروں کے مطابق جنگ نے امریکہ کو خلیج میں اپنی حکمتِ عملی ازسرنو ترتیب دینے پر مجبور کردیا ہے، یعنی جنگ ایران کو کمزور کرنے کے بجائے خطے میں امریکی طاقت کے اندازِ موجودگی کو تبدیل کر رہی ہے۔

مذاکرات کی کوششیں — عسکری و معاشی دباؤ کے ساتھ سفارت کاری

صدر ٹرمپ کی جانب سے جنگ کو ’’طلائی گولیوں‘‘ سے لڑنے کی حکمت عملی کے ساتھ ساتھ مذاکرات کی کوششیں بھی جاری ہیں۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر، ایرانی اور امریکی قیادت سے مسلسل رابطے میں ہیں۔ گزشتہ ہفتے سید عباس عراقچی سے ان کی فون پر گفتگو کو ایرانی وزارتِ خارجہ نے ’’مثبت اور حوصلہ افزا‘‘ قرار دیا۔بات چیت کا سلسلہ آگے بڑھانے کیلئے 24 اگست کو فیلڈ مارشل تہران پہنچے۔ یہ چھ ماہ کے دوران یہ انکا تیسرا دورہ ایران تھا۔ ائرپورٹ پر جنرل عاصم منیر نے کہا کہ پاکستان امن اورعلاقائی استحکام کیلئے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔ایرانی پارلیمان کے اسپیکر باقر قالیباف نے جنرل صاحب سے ملاقات میں انکی کوششوں کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ایران،  یادداشتِ اسلام آباد کو امن کیلئے ایک معتبر اور منصفانہ دستاویز سمجھتا ہے جس پر مخلصانہ و منصفانہ عملدرآمد سے ہی علاقے میں پائیدار امن قائم ہوسکتا ہے۔ایرانی اسپیکر نے کہا کہ انکا ملک، تنازعات کے منصفانہ حل کیلئے مخلص ہے لیکن دھمکیوں اور پابندیوں سے ایران کو جھکایا نہیں جاسکتا

ایران اور امریکہ کے درمیان کشمکش اب صرف میزائلوں اور فوجی اڈوں تک محدود نہیں رہی۔ یہ بیک وقت عسکری، معاشی، سفارتی اور توانائی کے محاذوں پر لڑی جارہی ہے۔ واشنگٹن نے اب اپنی معاشی توپیں میدان میں اتار دی ہیں۔ ایران پہلے ہی کمزور کرنسی، بلند افراطِ زر اور جنگی تباہ کاریوں سے دوچار ہے، اس لئے نئی پابندیاں اس کے لیے ایک بڑا امتحان ہیں۔ مگر دوسری طرف تہران نے بھی واضح کردیا ہے کہ وہ دباؤ کے سامنے گھٹنے ٹیکنے کے بجائے متبادل راستے تلاش کرے گا اور اس کے پاس اس مقصد کے لیے دو سالہ منصوبہ موجود ہے۔اگر واشنگٹن،  چین، ترکیہ اور دوسرے ممالک کو بھی تہران سے اقتصادی تعلقات ختم کرنے پر مجبور کرلیتا ہے تو امریکی مالیاتی طاقت کی عالمی گرفت مزید واضح ہوجائے گی۔ لیکن اگر بڑے تجارتی شراکت دار امریکی دباؤ کے باوجود ایران کے ساتھ کھڑے رہے تو Economic D-Day ایران کے خلاف فیصلہ کن وار کے بجائے ایک طویل معاشی کشمکش کا آغاز ثابت ہوسکتا ہے۔ اگر معاشی دباؤ بھی مطلوبہ نتائج نہ دے سکا تو واشنگٹن کو ایک بار پھر فیصلہ کرنا ہوگا کہ اس تنازعے کا حل مزید طاقت میں ہے یا مذاکرات کی میز پر۔

ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل کراچی 28 اگست 2026

ہفت روزہ دعوت دہلی 28 اگست 2026

ہفت روزہ رہبر سرینگر 30 اگست 2026


 

غزہ کا خون، امریکی بیلٹ اور مشرقِ وسطیٰ کا پھیلتا ہوا محاذ

اسرائیل کی جنگ اب شام تک

مشرقِ وسطیٰ اس وقت ایک ایسے دوراہے پر کھڑا ہے جہاں جنگ کے محاذ، سفارتی کشمکش، انسانی بحران اور عالمی سیاست ایک دوسرے میں گتھم گتھا ہوچکے ہیں۔ اسرائیل کی عسکری کارروائیوں نے نہ صرف جغرافیائی دائرہ وسیع کیا ہے بلکہ خطے کی سیاسی بساط پر بھی نئے سوالات اٹھا دیے ہیں۔ شام سے غزہ، غربِ اردن سے امریکی سیاست تک ہر جگہ اس جنگ کے اثرات محسوس کیے جا رہے ہیں۔

شام پر حملہ — جنگ کا دائرہ مزید وسیع

اسرائیل نے اس ہفتے جنگ کے دائرے کو لبنان، غزہ و غربِ اردن سے بڑھا کر شام تک توسیع دے دی اور18 اگست کو شمالی شام میں ادلب کے ابوالظہور فوجی اڈے کو نشانہ بنایا گیا۔ اسرائیل نے حملے کی تصدیق کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ترکیہ وہاں اپنی افواج تعینات کرنے کی تیاری کر رہا تھا۔ وزیراعظم نیتن یاہو نے ترک صدر کو ’’ڈکٹیٹر‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ شام میں ترک فوج کی موجودگی ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی۔ تاہم اس جواز کو خود امریکہ نے بھی مسترد کردیا۔ شام و عراق کے لئے امریکہ کے خصوصی ایلچی ٹام باراک نے اسے ’’غیر ضروری اشتعال انگیزی‘‘ قرار دیا۔ بطور آزاد ریاست، شام کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنی سلامتی کے لیے کسی بھی ملک سے دفاعی تعاون کرے۔ اگر اسرائیل کو ترکیہ اور شام کے درمیان فوجی تعاون پر اعتراض ہے بھی تو شامی سرزمین پر حملے کا کوئی اخلاقی جواز نہیں۔ شام برسوں کی خانہ جنگی اور بیرونی مداخلت کے بعد استحکام کی طرف بڑھنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ان حالات میں اسکے خلاف جارحیت نہ صرف شام بلکہ پورے خطے کو مزید غیر مستحکم کرسکتی ہے۔ تشویش ناک پہلو یہ ہے کہ شام اب اسرائیل اور ترکیہ کے درمیان نئی کشمکش کا ممکنہ میدان بنتا نظرآرہا ہے۔

غزہ — بمباری، ڈرون حملے اور شہری نظم کا انہدام

بورڈ آف پیس کے اجلاسوں اور امریکی داماد اول جیرڈ کشنر کی اسرائیل و حماس قیادت سے ملاقاتوں کے باوجود غزہ پر بمباری اور ڈرون حملے جاری رہے۔ نصیرات خیمہ بستی اور غزہ شہر پر حملوں میں 10 فلسطینی جاں بحق اور درجنوں زخمی ہوئے۔ غزہ کے ساحل پر خیمے میں بنے ریستوران کو ڈرون نے نشانہ بنایا جس میں 6 افراد جان سے گئے۔اس ہفتے اسرائیل نے پولیس چوکیاں اور قانون نافذ کرنے والے اہلکار، اسرائیل کا خاص ہدف رہے، جس سے واضح ہے کہ اسرائیل غزہ کے شہری نظم و نسق کو جان بوجھ کر مفلوج کر رہا ہے۔

غزہ کی روزمرہ زندگی — ایک لائٹر کی قیمت

غزہ کے لوگوں کی مشکلات کا اندازہ 46 سالہ رباب کے بیان سے ہوتا ہے۔ اس نے الجزیرہ کو بتایا کہ یہاں آگ جلانا بھی ایک ’’بڑا کام‘‘ ہے۔ درخت کاٹ کر لکڑیاں جمع کی جاتی ہیں، انہی پر کھانا بنتا ہے۔ مگر آگ جلانے کے لئےلائٹر چاہیے کیونکہ ماچس بھی ممنوعہ اشیا میں شامل ہے۔ کبھی ایک ڈالر میں تین لائٹر مل جاتے تھے، اب ایک لائٹر 30 ڈالر کا ہے۔ رباب نے اپنا پرانا لائٹر 12 ڈالر میں مرمت کروایا کیونکہ نیا خریدنے کی استطاعت نہیں۔ اہلِ غزہ کی زندگی کی قیمت اور محرومی کی شدت سمجھنے کے لیے شاید یہ ایک لائٹر ہی کافی ہے۔

غزہ جنگ کے اثرات امریکی سیاست تک پہنچ گئے

غزہ میں جاری نسل کشی کے اثرات اب امریکی سیاست میں بھی دکھائی دے رہے ہیں۔ امریکہ میں اسرائیل کی حمایت کو سیاسی اثاثہ سمجھا جاتا تھا، مگر مشیگن سے آنے والی خبر مختلف ہے۔ ریپبلکن امیدوار مائک روجرز اسرائیل کے پرجوش حامی ہیں، مگر ان کی ٹیم نے امریکہ اسرائیل سیاسی مجلس عمل یا AIPAC سے درخواست کی ہے کہ وہ ان کی انتخابی مہم کے حق میں اشتہارات نہ چلائے۔ خدشہ ہے کہ AIPAC کی کھلی حمایت نومبر کے انتخابات میں فائدے کے بجائے نقصان کا باعث بن سکتی ہے۔ یہ رجحان اگر مضبوط ہوا تو یہ صرف AIPAC کی حکمتِ عملی کی ناکامی نہیں بلکہ امریکی عوامی رائے میں اسرائیل اور غزہ جنگ کے بارے میں آنے والی بڑی تبدیلی کا اشارہ ہوگا۔ گویا غزہ میں بہنے والا blood امریکی ballot کو متاثر کر رہا ہے۔

غربِ اردن — بیدخلی، گرفتاری اور نئی سزائیں

غربِ اردن میں بیدخلی، گرفتاری اور حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔ گزشتہ ہفتے پھانسی گھاٹ کا سنگِ بنیاد رکھا جہاں فلسطینی قیدیوں کو تختہ دار پر لٹکایا جائیگا۔ وزیرِ اندرونی سلامتی بن گوئر نے کہا کہ تختہ دار کے سامنے 'مجرموں' کے اہلِ خانہ کے لیے خصوصی گیلری بنائی جائے گی تاکہ وہ اپنے پیاروں کو پھانسی پر تڑپتا دیکھ کر ’’عبرت‘‘ حاصل کریں۔

آبادکاروں کا تشدد — معاشی تباہی اور انسانی المیہ

اس ہفتے بن گوئر کی جانب سے آبادکاروں میں جدید اسلحے کی تقسیم کی تصاویر بھی سامنے آئیں۔ غربِ اردن کے علاقے سعر میں 17 سالہ کریم سند شلادیح کو اسرائیلی گارڈ نے گولی مار کر قتل کردیا۔ شمالی غربِ اردن میں قبضہ گروہوں کے پتھراو سے 15 سالہ بچہ شدید زخمی ہوا۔ الخلیل میں آبادکاروں نے تعمیراتی پتھر کی کان کو آگ لگا دی۔ بھاری مشینری جل کر خاک ہوگئی، جس سے مقامی معاشی سرگرمی طویل عرصے کے لیے مفلوج ہوسکتی ہے۔ یہ واقعہ محض ایک کان کو آگ لگانے کا نہیں بلکہ مقامی لوگوں کے معاشی قتل کی ایک شکل ہے۔

معذور فلسطینی پر تشدد — انسانیت کی شکست

ٹائمز آف اسرائیل نے جنوبی الخلیل کے علاقے مسافر یطا میں آبادکاروں کے حملے کا بصری تراشہ جاری کیا، جس میں  ایک معمر و معذور فلسطینی سعید العمور کو دھاتی ڈنڈے سے پیٹاجارہا ہے۔ سب سے تکلیف دہ پہلو یہ ہے کہ سعید ایک ٹانگ سے محروم اور اپنا دفاع کرنے سے قاصر تھا۔ یہ منظر دنیا کی خاموشی اور ہومیوپیتھک ردِعمل کی عکاسی کرتا ہے۔

یورپی یونین کا ’عندیہ‘ — عملی اقدام کب؟

فلسطینیوں کے خلاف مسلسل تشدد کی ایک بڑی وجہ عالمی برادری کا وہ کمزور اور سست ردِعمل بھی ہے جو اکثر مذمت اور تشویش کے بیانات سے آگے نہیں بڑھتا۔ غربِ اردن کے متنازع E1 علاقے میں نئی اسرائیلی آبادکاری کے لیے ٹینڈرز جاری ہونے کے بعد  یورپی یونین نے سخت ردِعمل کا اظہار کرتے ہوئے اسرائیل کے خلاف ممکنہ پابندیوں کا عندیہ دیا ہے۔ یہ محض ایک نئی آبادکاری کا منصوبہ نہیں۔ یہ وہ جغرافیائی مقام ہے جو مشرقی یروشلم اور غربِ اردن کے درمیان واقع ہے۔ یہاں بڑے پیمانے پر آبادکاری مغربی کنارے کے شمالی اور جنوبی حصوں کے درمیان جغرافیائی رابطہ ختم کردیگی، جس سے ایک قابلِ عمل فلسطینی ریاست کا قیام مزید مشکل   گا۔ سوال یہ ہے کہ کیا یورپ کی مذمت عملی اقدام میں بھی تبدیل ہوگی؟ جب فلسطینی زمین پر تعمیراتی منصوبے آگے بڑھتے رہیں اور عالمی طاقتیں ’’تشویش‘‘ اور ’’مذمت‘‘ سے آگے نہ بڑھیں  تو ایسی سفارت کاری کی حیثیت محض اخلاقی بیان سے زیادہ نہیں رہتی۔ اسرائیل اصل دباؤ اس وقت محسوس کرے گا جب مذمت کے ساتھ کوئی حقیقی اقتصادی قیمت بھی وابستہ ہو۔

اسرائیلی سیاست — جمہوریت اور عدم برداشت

ترک صدر طیب رجب ایردوان کو ڈکٹیٹر کہتے ہوئے وزیراعظم نیتن یاہو نے اسرائیل کو مشرق وسطیٰ اکلوتی جمہوریت قرار دیا لیکن اس جمہوریت میں عدم برداشت کا یہ عالم کہ انتخابی مہم کے دوران پارٹی اجلاس میں اخوانی فکر سے وابستہ رعم پارٹی کے قائد منصور عباس نےکہا کہ فلسطینی ریاست ایک حقیقت ہے جسے جتنی جلد تسلیم کرلیا جائے اتنا ہی بہتر ہے۔ منصور صاحب کے اس بیان پر حکمراں اور حزب اختلاف دونوں مشتعل ہیں، نیتن یاہو نے کہا کہ اخوان المسلمون کا گھناونا چہرہ سامنے آگیا ہے، جب تک میں وزیر اعظم ہوں ایران کے زیر اثر فلسطینی ریاست کبھی قائم نہیں ہوگی۔حزب اختلاف کی سب سے بڑی جماعت Yasharپارٹی کے سربراہ آئزن کاٹ نے بھی اس پر شدید ررعمل کا اظہار کرتے ہوئے یقین دلایا کہ انکی جماعت کسی قیمت پر فلسطینی ریاست قائم نہیں ہونے دیگی۔ انتہاپسند جماعتوں نے مطالبہ کیا ہے کہ رعم پارٹی پر پابندی لگاگر اسکا نام بیلٹ سے حذف کیا جائے۔ یہ صورتِ حال اسرائیلی جمہوریت کے ایک بنیادی تضاد کو نمایاں کرتی ہے: انتخابی سیاست میں عرب شہریوں اور عرب سیاسی جماعتوں کی شرکت تو موجود ہے، مگر فلسطینی ریاست کی بات اسرائیلی سیاسی دھارے کے بڑا حصہ سننے کو بھی تیار نہیں ۔

اسرائیل کے اندر سے ضمیر کی آواز

اس تاریک صورتحال کا ایک نسبتاً امید افزا پہلو یہ ہے کہ اسرائیل کے اندر بھی ایسے لوگ موجود ہیں جو فلسطینیوں کے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک پر آواز بلند کررہے ہیں۔چند باضمیر سیاسی کارکنوں نے  19 اگست کو تل ابیب میں احتجاج کرتے ہوئے اپنے جسموں پر مصنوعی خون لگایا اور ایسے نعروں والے پلے کارڈ اٹھائے جن میں غزہ کی تباہی اور غربِ اردن میں فلسطینیوں کی بے دخلی کو ریاستی پالیسی قرار دیا گیا۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ یہ محض انفرادی غلطیاں نہیں بلکہ ایک پالیسی کا حصہ ہے۔امریکی شہری حقوق کے معروف رہنما ڈاکٹر مارٹن لوتھر کنگ کا مشہور قول ہے: ’’کہیں بھی ہونے والی ناانصافی، ہر جگہ انصاف کے لیے خطرہ ہے۔‘‘ یہی اصول فلسطین پر بھی لاگو ہوتا ہے۔

مشرقِ وسطیٰ کے موجودہ منظرنامے میں ایک عجیب تضاد نمایاں ہے۔ ایک طرف امن کے منصوبے، مذاکرات، خصوصی ایلچی، سربراہانِ حکومت کی ملاقاتیں اور سفارتی کوششیں جاری ہیں؛ دوسری طرف بمباری، آبادکاری، بیدخلی، گرفتاری، تشدد اور معاشی تباہی کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ گویا سفارت کاری کی زبان امن کی بات کررہی ہے، مگر زمین پر طاقت کی زبان فیصلہ سنا رہی ہے۔ دنیا اگر فلسطینیوں کے حقوق کی پامالی پر خاموش رہی تو یہی خاموشی کل کسی اور قوم کے لئے ظلم کا راستہ ہموار کرے گی۔ ظلم کی اصل قوت ظالم نہیں، مظلوم کی بے بسی پر دنیا کی خاموشی ہے۔

ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل کراچی 26 اگست 2026

ہفت روزہ دعوت دہلی 26 اگست 2026

ہفت روزہ رہبر سرینگر 28 اگست 2026