آبنائے ہرمز پر سفارت کاری
کی جیت یا عارضی مہلت؟
پاکستان
کی ثالثی، ٹرمپ کی پسپائی اور مشرقِ وسطیٰ میں نازک جنگ بندی کا غیر یقینی مستقبل
ایران اور امریکہ و اسرائیل کے
مابین جنگ میں عارضی وقفہ آگیا۔ انگریزی
اصطلاح میں یہ 11th hourکامیابی ہے کہ ایران کو فنا کردینے کی دھمکی پر
علمدرآمد واشنگٹن کے وقت کے مطابق رات 8 بجے شروع ہونا تھا کہ صدر ٹرمپ نے شام ساڑھے
چھ بجے وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے 2 ہفتے کی عارضی جنگ کی تجویز پر آمادگی
ظاہر کردی۔
صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم
"ٹروتھ سوشل"
(Truth Social) پر
بیان دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی قیادت، بالخصوص وزیرِ اعظم شہباز شریف اور فیلڈ
مارشل عاصم منیر سے مشاورت کے بعد ایران کے خلاف طاقت کے استعمال کو عارضی طور پر
معطل کیا جا رہا ہے تاکہ سفارتی حل کی راہ ہموار کی جا سکے۔
اس سے پہلے شہباز شریف نے تجویز پیش کی تھی کہ ' امریکہ، ایران کی شہری
تنصیات پر حملہ دو ہفتے کیلئے ملتوی کردے اور ہمارے ایرانی بھائی اس عرصے کیلئے
آبنائے ہرمز کھول دیں'۔ اس تجویز کو ایران کی جانب سے مشروط طور پر
مثبت ردعمل ملا۔ ایرانی وزیرِ خارجہ سید عباس عراقچی نے پاکستان کی سفارتی کوششوں
کو سراہتے ہوئے کہا کہ اگر ایران پر حملے روک دیے جائیں تو ایران بھی اپنی دفاعی
کارروائیاں معطل کرنے پر آمادہ ہے، اور مخصوص شرائط کے تحت آبنائے ہرمز سے محفوظ
گزرگاہ فراہم کی جا سکتی ہے۔
بعد ازاں پاکستان نے عبوری جنگ بندی کا
اعلان کرتے ہوئے عندیہ دیا کہ یہ جنگ بندی نہ صرف ایران اور امریکہ بلکہ ان کے
اتحادیوں پر بھی لاگو ہوگی، جس میں لبنان اور دیگر محاذ بھی شامل ہیں۔ اطلاعات کے
مطابق براہِ راست امن مذاکرات 10 اپریل سے شروع ہونے کا امکان ہے۔
اگرچہ یہ پیش رفت ایک اہم سفارتی کامیابی
ہے، تاہم اس کے پس منظر میں کئی پیچیدہ عوامل کارفرما تھے۔ صدر ٹرمپ کے حالیہ
بیانات، جن میں غیر معمولی سختی اور اشتعال انگیزی پائی جاتی تھی، نہ صرف عالمی
سطح پر تنقید کا باعث بنے بلکہ خود امریکہ کے اندر بھی بے چینی پیدا ہوئی۔ شہری
تنصیبات اور بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی باتیں بین الاقوامی قانون کے مطابق
جنگی جرائم کے زمرے میں آ سکتی ہیں، جس پر متعدد امریکی صحافیوں اور تجزیہ کاروں
نے تشویش کا اظہار کیا۔
اسی دوران اسرائیل کی جانب سے ایران پر ایک محدود نوعیت کے تزویراتی (Tactical)جوہری حملے کی افواہیں بھی گردش کرتی رہیں،
اگرچہ امریکی حکام نے اس کی تردید کی۔ تاہم صدر ٹرمپ کے بعض بیانات، جن میں
"بڑا سرپرائز" اور "تہذیب کو مٹا دینا" جیسے الفاظ شامل تھے،
ان خدشات کو تقویت ملی۔
امریکی یہودی حلقوں میں بھی ان بیانات پر
تشویش دیکھی گئی۔ جیوش کونسل فار پبلک افیئرز کی سربراہ ایمی اسپیٹل نک (Amy Spitalnick) نے واضح کیا کہ کسی بھی قوم یا تہذیب کو
مٹانے کی دھمکیاں نہ صرف غیر ذمہ دارانہ ہیں بلکہ یہ خود یہودی برادری کے لیے
نقصان دہ اور سام دشمنی
(antisemitism) کو ہوا
دے سکتی ہیں۔
ادھر تہران میں ایک قدیم یہودی عبادت گاہ
(سیناگوگ) کو اسرائیلی بمباری میں نقصان پہنچنے کی خبر بھی سامنے آئی، جسے
اسرائیلی فوج نے "ضمنی نقصان"
(collateral damage) قرار
دیا، تاہم اس وضاحت کو مذہبی حلقوں میں پذیرائی حاصل نہ ہو سکی۔
ان تمام عوامل کے پیش نظر صدر ٹرمپ کو
ممکنہ نتائج کا ادراک ہوا اور انہوں نے پسپائی اختیار کرتے ہوئے سفارتی راستہ
اپنانے میں عافیت سمجھی۔ اس موقع پر پاکستان کی مداخلت نے نہ صرف کشیدگی کم کرنے
میں کردار ادا کیا بلکہ دونوں فریقین کو باعزت راستہ بھی فراہم کیا۔
اس عبوری جنگ بندی کا ایک اہم پہلو یہ بھی
ہے کہ اس کا اطلاق لبنان اور دیگر محاذوں پر بھی ہوگا، جس کا مطلب یہ ہے کہ خطے
میں جاری دیگر جھڑپوں میں بھی وقتی کمی آ سکتی ہے۔ اگر یہ مفروضہ درست ثابت ہوتا
ہے تو اس کے اثرات غزہ سمیت دیگر حساس علاقوں تک محسوس کیے جا سکتے ہیں۔
بلاشبہ یہ پاکستان کے لیے ایک
بڑی سفارتی کامیابی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ بعض مبصرین کے مطابق اس وقت دو
متوازی جنگیں جاری تھیں: ایک عسکری اور دوسری سفارتی، اور پاکستان نے سفارتی محاذ
پر بظاہر پہلا مرحلہ اپنے نام کر لیا ہے۔
تاہم اس جنگ بندی کی بنیاد
نہایت کمزور ہے۔ صدر ٹرمپ کی پالیسیوں میں عدم تسلسل اور اچانک فیصلوں کی تاریخ اس
معاہدے کے مستقبل پر سوالیہ نشان ہے۔ مزید برآں اسرائیل کا مؤقف بھی مکمل طور پر
ہم آہنگ نظر نہیں آتا۔ اس طرح یہ جنگ بندی شاخِ نازک پر بنا آشیانہ ہے جو کسی بھی
لمحے بکھر سکتا ہے۔
فی الحال یہ عارضی جنگ بندی
ایک سانس لینے کا موقع ضرور فراہم کرتی ہے، مگر اسے مستقل امن کی ضمانت نہیں سمجھا
جا سکتا۔ مشرقِ وسطیٰ کی سیاست میں اعتماد کا فقدان، طاقت کا عدم توازن اور
علاقائی رقابتیں ایسی بارودی سرنگیں ہیں جو کسی بھی وقت اس امن کو نگل سکتی ہیں۔
تاہم اس مختصر وقفے نے یہ ضرور ثابت کیا ہے کہ سنجیدہ سفارت کاری، بندوق کی گھن
گرج کو وقتی طور پر خاموش کر سکتی ہے۔ اصل امتحان اب اس خاموشی کو پائیدار امن میں
بدلنے کا ہے۔خونریزی کے وقتی خاتمے کی پہلی برکت تیل کی
قیمتوں میں 16 ڈالر فی بیرل کی کمی کی صورت میں ظاہرہوئی جو مشرق وسطٰی کے تیل
درآمد کرنے والے ایشائی ملکوں کیلئے وقتی راحت کا باعث ہے۔
ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل کراچی، 10 اپریل 2026