Thursday, June 25, 2026

 

جنگ بندی کے سائے میں جنگ

سوئٹزرلینڈ میں مذاکرات، مگر لبنان، غزہ اور غربِ اردن میں خونریزی جاری

سوئٹزرلینڈ میں ایران اور امریکہ کے درمیان جاری مذاکرات سے خطے میں امن کی نئی امیدیں وابستہ کی جا رہی ہیں، لیکن  لبنان، غزہ اور غربِ اردن میں خونریزی کا سلسلہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا۔ یہی تضاد اس پورے سفارتی عمل کا سب سے بڑا المیہ ہے کہ ایک طرف مذاکرات کی میز سج رہی ہے اور دوسری طرف میدانِ جنگ میں بارود برس رہا ہے۔

اسی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ایرانی وفد کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ یادداشتِ اسلام آباد (Islamabad MOU) کی پہلی شق کے مطابق لبنان سمیت تمام محاذوں پر جنگ کا مکمل خاتمہ ہونا چاہیے۔ ان کے بقول امریکہ کو بالآخر بارود اور بات چیت میں سے کسی ایک راستے کا انتخاب کرنا ہوگا۔ تاہم اسرائیل کے حالیہ اقدامات سے ایسا محسوس نہیں ہوتا کہ وہ اس مطالبے کو سنجیدگی سے لینے پر آمادہ ہے۔

لبنان: بمباری کے باوجود حوصلہ برقرار

مذاکرات کے آغاز سے ایک دن پہلے  جنوبی لبنان کے شہر نبیطیحہ میں متعدد مقامات پر اسرائیلی طیاروں نے بمباری کی جس میں لبنانی حکومت نے عورتوں اور بچوں سمیت 80 سے زیادہ شہریوں کے جاں بحق ہونے کا خدشہ ظاہر کیاہے۔ علاقے کی بلندو بالا رہائشی عمارات بمباری کانشانہ بنیں جسکی وجہ سے ہزاروں افراد بے گھر ہوگئے۔ تاہم یہ تباہی لبنانی شہریوں کے حوصلے پست نہ کرسکی۔ اسرائیلی ذرائع ابلاغ میں شائع ہونے والی ایک تصویر خاص طور پر توجہ کا مرکز بنی  جس میں بمباری سے تباہ ہونے والے مکان کے ملبے پر کھڑا فتح کا نشان بناتے ہوئے ایک  شخص اعلان کرتا نظر آیا کہ تم بمباری سے ہمارے گھر تباہ کرسکتے ہو لیکن وحشیانہ جبر ہمارے پُر عزم جبر کو شکست نہیں دے سکتا۔لبنان میں جاری جنگ یکطرفہ نہیں۔اسرائیلی فوج کو شدید مزاحمت کا سامنا ہے اور اسکا جانی نقصان بھی بڑھتا جارہا ہے۔ چینل 12 کے مطابق اسرائیلی جرنیلوں نے اپنی سایسی قیادت پرزور دیا ہے کہ امریکی ثالثی میں  لبنانی حکومت سے مذاکرات کرکے اس معاملے کا جلد از جلد پر امن حل تلاش کرلیا جائے۔

غزہ: جنگ بندی کے دوران بھی بچوں کی اموات

غزہ کی صورتحال وقت گزرنے کے ساتھ مزید سنگین ہوتی جا رہی ہے۔ شدید گرمی میں خیمہ بستیاں بھٹی کا منظر پیش کر رہی ہیں جبکہ پانی، خوراک اور ادویات کی قلت نے انسانی بحران کو مزید گہرا کر دیا ہے۔دوسری جانب اسرائیلی بمباری، ڈرون حملے اور فوج کی فائرنگ جاری ہے۔ اقوامِ متحدہ کی حالیہ رپورٹ کے مطابق گزشتہ آٹھ ماہ کے دوران اوسطاً روزانہ ایک فلسطینی بچہ جان سے ہاتھ دھو بیٹھا۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ اکتوبر 2025 کی جنگ بندی کے بعد کم از کم 265 فلسطینی بچے جاں بحق اور 400 سے زائد شدید زخمی ہوئے۔ ان زخمی بچوں کی بڑی تعداد ایسے ماحول میں زندگی کی جنگ لڑ رہی ہے جہاں اسپتال تباہ، ادویات نایاب اور طبی سہولیات انتہائی محدود ہیں۔ جب جنگ بندی کے ماحول میں بھی بچوں کی اموات کا یہ سلسلہ جاری رہے، امداد محدود ہو، اور زخمی بچوں کے علاج کا کوئی مؤثر انتظام موجود نہ ہو تو اسے منظم نسل کشی کے علاوہ کیا نام دیا جاسکتا ہے؟ اگر روزانہ ایک بچہ مر رہا ہو، تو جنگ بندی کہاں ہے؟

ایک دن، کئی جانیں

اس کے ساتھ فضائی حملوں، ڈرون کارروائیوں اور زمینی فائرنگ کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ اس ہفتے صرف ایک دن یعنی 20 جون کو مختلف مقامات پر بمباری اور اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے  4 اور 14 سال کی بچیوں اور دوخواتین سمیت 9 افراد اپنی جانوں سے گئے جس میں غزہ شہر کا ایک پورا خاندن شامل ہے۔ بیت لاہیہ میں اسرائیلی فوج نے ایک خاتون کو گولی ماردی۔

غزہ ورلڈ کپ: ملبے پر زندگی کا جشن

آجکل جب کہ دنیا FIFA کے بخار میں مبتلا ہے، غزہ کے نوجوانوں نے جنگ کے ملبے پر اپنی الگ دنیا آباد کر لی ہے۔ تباہ شدہ عمارتوں، ریت اور کھنڈرات کے درمیان ایک منفرد فٹبال ٹورنامنٹ منعقد کیا جا رہا ہے جس میں معذور کھلاڑی بھی بھرپور حصہ لے رہے ہیں۔ میدان میں کہیں بیساکھیوں کے سہارے دوڑتے نوجوان نظر آتے ہیں تو کہیں وہیل چیئر پر بیٹھے کھلاڑی گیند کے تعاقب میں مصروف دکھائی دیتے ہیں۔ جنگ نے ان کے جسموں کو زخمی کیا ہے، لیکن زندگی سے محبت اور کھیل کا جذبہ آج بھی سلامت ہے۔ان زندہ دل نوجوانوں نے چندہ جمع کرکے ایک ٹرافی بھی تیار کی ہے جو فاتح ٹیم کو دی جائے گی۔الجزیرہ کے مطابق مقابلوں کے انتظامات اور ریفری کے فیصلوں میں بین الاقوامی معیار کی جھلک دیکھی جا سکتی ہے۔شاید یہی غزہ کا سب سے طاقتور پیغام ہے کہ جنگ جسموں کو زخمی کر سکتی ہے، لیکن زندگی کی خواہش اور مسکراہٹ کو شکست نہیں دے سکتی۔

صحافی خاص نشانہ

غزہ، غرب اردن اور لبنان میں جہاں معصوم بچے اسرائیلی وحشت کا نشانہ بن رہے ہیں وہیں فلسطینی صحافی ان کا خاص ہدف ہیں۔ بین الاقوامی صحافتی تنظیموں کے مطابق غزہ میں صحافیوں کی ہلاکتوں کی تعداد غیر معمولی حد تک بلند رہی ہے۔ مقامی صحافی اور فوٹوگرافر عالمی ذرائع ابلاغ کی محدود رسائی کے باعث زمینی حقائق دنیا تک پہنچانے کا اہم ذریعہ بنے ہوئے ہیں۔ گزشتہ ہفتے بریج خیمہ بستی میں ایک ڈرون نے الجزیرہ کے جوانسال کیمرہ مین احمد وشاح کو نشانہ بناکر قتل کردیا

غربِ اردن: خوف کی روزمرہ زندگی

غرب اردن میں فلسطینی مکانات، فصلوں ، زرعی اراضی کے ساتھ مساجد پر حملے معمول بنے ہوئے ہیں۔ گزشتہ ہفتے رام اللہ کے قصبے جلجولیہ کی مسجد کو آگ لگانے کے بعد دہشت گرد انتہا پسند عبرانی میں “انتقام “ لکھ گئے۔ مشرقی یروشلم کے قریب معالی ادومیم میں قبضہ گردوں نے 20 سالہ فلسطینی کو کار سے کچل کر قتل کردیا

تشدد کے نئے طریقے

غربِ اردن میں تشدد کے طریقے بھی مسلسل تبدیل ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔ انسانی حقوق کے کارکنوں کے مطابق بعض علاقوں میں فلسطینی شہریوں پر تیز مرچ والے اسپرے کی اطلاعات ہیں۔ ان واقعات میں متعدد افراد، خصوصاً بچوں، کی آنکھوں کو شدید نقصان پہنچا ہے۔

ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل کراچی 26 جون 2026

ہفت روزہ دعوت دہلی 26 جون 2026

ہفت رزہ رہبر سرینگر 28 جون 2026


 

جنگ سے مذاکرات تک

یادداشتِ اسلام آباد، لبنان کا محاذ اور مشرقِ وسطیٰ کے مستقبل کی آزمائش

یادداشتِ اسلام آباد (MOU)پر امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اور ایرانی پارلیمان کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کے ابتدائی دستخط،  پھر اسکی ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزیشکیان ، انکے امریکی ہم منصب اور پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف کی توثیق کے بعد خیال تھا کہ 19 جون کو سوئٹزرلینڈ میں اس پر دستخط کی رسمی تقریب اور امن مذاکرات کا آغاز ہوگا۔ لیکن لبنان پر اسرائیل کے حملوں سے کشیدگی خطرناک حد تک بڑھ گئی اور یہ تقریب منعقد نہ ہوسکی تاہم پاکستان اور قطر نے صورتحال کو مزید خراب ہونے سے بچالیا اور  21 جون کو  برجنسٹاک (سوئستان) کے لکژری ہوٹل میں مذکرات  کا آغاز ہوا۔

یادداشتِ اسلام آباد میں کیا طئے ہوا ہے؟؟

اس 14 نکاتی یادداشت کے  آغاز میں 'تمام محاذوں' پر عسکری کارروائیاں فوری طور پر بند کرنے کیساتھ دھمکیوں سے بھی گریز کا عزم کیا گیا ہے۔ ایران کی بحری ناکہ بندی کا خاتمہ،آبنائے ہرمز سے جہازوں کی بلامعاوضہ آمدورفت، ایکدوسرے کی خومختاری کا احترام اور اندرونی معاملات میں عدم مداخلت کا وعدہ اس دستاویز کا حصہ ہے۔امریکہ اور ایران کے درمیان عسکری چپقلش ختم کرنے کیساتھ سیاسی و اقتصادی کشیدگی کم کرنے کیلئے جواقدامات تجویز کئے گئے ہیں ان میں ایران پر عائد پابندیوں کا خاتمہ، منجمد اثاثوں کی بازیابی اور اقتصادی ترقی و  تعمیرِ نو کے لئے 300 ارب ڈالر مالیت کا منصوبہ شامل ہے۔ ایران نے بہت صراحت اور غیر مبہم انداز میں جوہری ہتھیار حاصل نہ کرنے کے عہد کا اعادہ کیا ہے جبکہ افزودہ یورینیم کے موجودہ ذخائر کے  معاملے کو باہمی بات چیت سے طئے کیا جائیگا۔ اس MOU کے تحت تمام متنازعہ امور کے پرامن حل کیلئے 60 دن کی مدت طئے کی گئی ہے اور اس دستاویز پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لئے ایک مشترکہ نگرانی اور نفاذی نظام (Implementation Mechanism) قائم کرنے کی تجویز بھی اس یادداشت کا حصہ ہے۔ حتمی معاہدے کی صورت میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے اسکی توثیق لازمی التعمیل قرارداد یا  Binding Resolution کے ذریعے کرائی جائیگی

مذاکرات کے آغاز پر ہی بدمزگی

مذاکرات کیلئے امریکی وفد نائب صدر جے ڈی وانس، دامادِ اول جیررڈ کشنر اور صدر ٹرمپ کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکاف پر مشتمل تھا جبکہ ایران کی جانب سے پارلیمان کے اسپیکر محمد باقر قالیباف اور وزیرخارجہ سید عباس عراقچی کے علاوہ وزارت خزانہ و توانائی کے افسران نےبات چیت میں حصہ لیا۔پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کے علاوہ قطر کے وزیراعظم عبدالرحمان بن جاسم الثانی نے بھی افتتاحی اجلاس میں شرکت کی۔ امریکی ٹیلی ویژن CBSکے مطابق پہلے اجلاس میں لبنان کی صورتحال پر غور کیا گیا۔ ایرانی وفد کے ترجمان اسماعیل بقائی نے یاد دلایا کہ 14 نکاتی یادداشٹِ اسلام آباد کی پہلی شق کے مطابق لبنان سمیت تمام محاذوں پر جنگ کا مکمل خاتمہ ہونا چاہئے۔ انھوں نے کہا کہ امریکہ کو بارود اور بات چیت میں سے ایک کا انتخاب کرنا ہوگا۔اسکے جواب میں امریکی نائب صدر نے کہا کہ لبنان سمیت سارے خطے میں امن، امریکہ کی بھی ترجیح ہے۔

سوئٹزر لینڈ میں مذکرات کا مثبت آغاز ہوا ہی تھا کہ ٹرمپ نے اپنے ٹویٹ پیغام میں دھمکی دے دی کہ ایران، لبنان میں اپنے تنخواہ دار بغل بچوں (Proxies)کو مسائل پیدا کرنے سے روکے۔ اگر انہوں نے ایسا نہ کیا تو ہم ایران کو دوبارہ اسی طرح نشانہ بنائیں گے جیسے ہم نے گزشتہ ہفتے کیا تھا لیکن اس بار ہمارا حملہ پہلے سے سخت ہوگا۔ٹویٹ دیکھ کر ایرانی وفد کے قائد باقر قالیباف نے کہا اس ہرزہ سرائی کا فوری جواب ضروری ہے لہذا اجلاس میں وقفہ کیا جائے اور ایرانی وفد وہاں سے اٹھ کر چلا گیا۔ تھوڑی دیر بعد جناب  قالیباف کا جوابی ٹویٹ سامنے آیا جس میں انھوں نے کہا کہ امریکی دھمکیاں بے اثر ہیں اور اگر ان میں کوئی طاقت ہوتی تو امریکہ آج اس قدر کمزور اور بے بس  نہ نظر آتا۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایران امریکی دھمکیوں کو اہمیت نہیں دیتا اور اس کی مسلح افواج ہر طرح کے جواب کے لیے تیار ہیں۔ جناب قالیباف کا کہنا تھا کہ باتیں امریکہ کرتا ہے اور عملی اقدام ایران۔

ثالثوں کی کوششوں سے ایرانی وفد دوبارہ میز پر آگیا اور بات چیت دوباہ شروع ہوئی۔ لبنان کے معاملے پر دونوں فریق نے کھل کردوٹوک  لیکن انتہائی شائستگی سے بات کی۔اس دوران لبنان میں قیام امن کیلئے تصادم سے بچاوکا نظام (de infliction mechanism) وضع کیا گیا۔امریکی نائب صدر نے اسکا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ایران، قطر اور پاکستان اس میکنزم کے تحت لبنان میں امن کی نگرانی کرینگے۔ دلچسپ بات کہ اسرائیل اس میکینزم کا حصہ نہیں۔

جوہری پروگرام یا عدم اعتماد؟

اسی نشست میں ایران کے جوہری پروگرام پر تفصیلی گفتگو ہوئی اور ایرانی وفد نے کہا کہ اس معاملے پر ایران کا موقف 1957 سے بالکل ایک ہے یعنی ہمارے جوہری پروگرام کا مقصد توانائی، تحقیق اور طبی استعمال ہے نہ کہ جوہری ہتھیار۔ایران نے 2015 کے جوہری معاہدے (JCPOA) کے دوران بھی  یہی مؤقف اپنایاتھا اور بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (IAEA) متعدد بار اس امر کی تصدیق کر چکی تھی کہ تہران معاہدے کی شرائط پر عمل کر رہا ہے۔ تاہم 2018 میں صدر ٹرمپ نے امریکہ کو یکطرفہ طور پر اس معاہدے سے الگ کر لیا، جس کے بعد عدم اعتماد کی خلیج مزید گہری ہوگئی۔بات چیت کے دوران جناب عراقچی نے دلچسپ سوال کیا کہ  مسئلہ ایران کی جوہری صلاحیت ہے یا سیاسی اور تزویراتی بداعتمادی؟

افزودہ یورینیم اور اختلافات کی گرہ

توقع کے مطابق افزودہ یورینیم کا معاملہ ان مذاکرات کا سب سے حساس پہلو ثابت ہوا۔امریکی حلقے اس ذخیرے کو مستقبل کے کسی ممکنہ جوہری ہتھیار کی بنیاد سمجھتے ہیں، جبکہ ایران اسے اپنے پرامن جوہری پروگرام کا قانونی حصہ قرار دیتا ہے۔بات چیت کے دوران امریکہ کی تجویز تھی کہ ایران IAEAکے ماہرین کو ان ذخائر تک رسائی دے تاکہ اس معاملے کا دونوں کیلئے قابل قبول حل تلاش کرلیا جائے۔ گفتگو کے بعد صحافیوں سے باتیں کرتے ہوئے امریکی نائب صدر نے تاثر دیا کہ ایران IAEAماہرین کو ویزا دینے پر آمادہ نظر آرہا ہے لیکن ایرانی وفد کے ترجمان نے کہا کہ اس معاملے پر کوئی فیصلہ نہیں تاہم بات چیت جاری رہیگی۔ اسی دوران پاکستان کے حوالے سے ایک تجویز یہ بھی آئی کہ افزودہ یورنیم کے ذخیرے کو امریکہ کے حوالے یا تلف کرنے کے بجائے  افزودگی کو IAEAکی نگرانی میں کم کرکے اسے غیر عسکری مقصد کیلئے قابل استعمال بنالیا جائے۔

پہلے دور کا پروقار اور خوشگوار اختتام

صدر ٹرمپ کے ٹویٹ اور اسکے سخت ایراانی جواب سے  جو کلفت و کدورت اور کشیدگی پھوٹی تھی وہ دونوں وفود کے تدبر و معاملہ فہمی اور ثالثون کی منصفانہ سفارتکاری کی وجہ سے کسی حد تک تحلیل ہوگئی۔ پہلے دور کے اختتام پر صحافیوں سے باتیں کرتے ہوئے امریکی نائب صدر نے پراعتماد لہجے میں کہا کہ ہم نے حتمی فیصلوں کی  بنیاد رکھدی ہے جس پر ایک متفقہ معاہدے کی عمارت تعمیر ہوگی۔ دوسری طرف تہران بھی مذاکرات کے پہلے دور سے مطمئن دکھائی دیتا ہے۔ایرانی وزیرخارجہ سید عباس عراقچی نے ایک ٹویٹ میں کہا کہ پاکستان اور قطر کی انتھک ثالثی کے نتائج سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں۔لبنان میں دیرپا امن کی امید، ایران کی ناکہ بندی کا خاتمہ، ایرانی تیل اور پیٹروکیمیکل پر پابندیوں کی تنسیخ ،منجمد ایرانی اثاثوں کی جزوی  بازیابی اور ترقیاتی منصوبوں پر کام کے آغاز سے مذکرات نے مثبت رخ اختیار کرلیا ہے۔تاہم لبنان کے معاملے میں  انھوں نے محتاط انداز میں کہا کہ de infliction mechanismاصل آزمائش ہے۔ پہلے مرحلے کی دونشستوں کے بعد امریکی و ایرانی وفود اپنے اپنے ملک روانہ ہوگئے۔ اب ان اجلاسوں میں کئے جانے فیصلوں کے عملی نفاذ کی تفصیل طئے کرنے کا نازک مرحلہ درپیش ہے جس پر تیکنیکل کمیٹیوں نے کام شروع کردیا۔ امریکی نائب صدر اور ایرانی وفد کے سربراہ باقر قالیباف، دونوں نے دوباہ ملنے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔

اسرائیل کی تشویش اور سفارتی مزاحمت

خلیج فارس سے بحیرہ روم، بحیرہ احمر اور خلیج عقبہ تک اصل مسئلہ اسرائیل کی توسیع پسندی ہے۔ تل ابیب کی نظر میں ایران صرف ایک علاقائی حریف نہیں بلکہ ایک تزویراتی چیلنج ہے۔ جوہری پروگرام بہانہ جبکہ ایران کی نظریاتی شناخت و قومی وحدت اصل نشانہ ہے۔ مشرق وسطیٰ میں تیل کے ذخائر او وسائل پر قبضہ اسرائیل کا دوسرا ہدف ہے۔ تل ابیب یہ اہداف خود حاصل نہیں کرسکتا، اسکے لئےاسے امریکہ کی مکمل حمائت درکار ہے۔ امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ حملے پر تبصرہ کرتے ہوئے نیتن یاہو بول اٹھے تھے کہ یہ  انکی چالیس سالہ پرانی آرزو تھی۔ سابق امریکی صدر اوباما نے خود کہا کہ ان سے ملاقاتوں میں نیتن یاہو ایرانی جوہری پروگرام کو بزورطاقت ختم کرنے کی تجویز دیا کرتے تھے۔ ایسی ہی گفتگو سابق وزیرخارجہ محترمہ ہلیری کلنٹن بھی کر چکی ہیں۔

اسرائیل نے 2015 کے جوہری معاہدے کی بھی مخالفت کی تھی اور اب بھی ایسے کسی انتظام کو شک کی نگاہ سے دیکھتا ہے جس کے نتیجے میں ایران پر اقتصادی دباؤ کم ہو یا تہران کو سفارتی قبولیت حاصل ہو۔ امریکہ کے اندر بھی اسرائیل نواز سیاسی حلقے اور ترغیب کار ادارے (Lobbyists) موجودہ مفاہمت پر تحفظات ظاہر کر رہے ہیں۔ ان کا مؤقف ہے کہ مذاکرات کے آغاز سے پہلے ہی ایران کو اقتصادی اور سفارتی فوائد دیے جا رہے ہیں جبکہ اس کے بدلے میں حاصل ہونے والی ضمانتیں ابھی تک واضح نہیں۔

امن کی کھڑکی ابھی کھلی ہے

صدر ٹرمپ اعتراف کر چکے ہیں کہ مشرقِ وسطیٰ میں طویل جنگ "عالمی معاشی تباہی" (Economic Catastrophe) کا باعث بن سکتی ہے۔ آبنائے ہرمز، عالمی توانائی کی رسد اور بین الاقوامی تجارت کی حساسیت کو دیکھتے ہوئے یہ خدشہ غیر حقیقی نہیں۔

اسی تناظر میں یادداشتِ اسلام آباد پر اتفاق اور براہ راست  مذاکرات کی ابتدائی نشست انتہائی حوصلہ افزا تو ہے لیکن یہ  امن کی جانب پہلے قدم سے زیادہ کچھ نہیں۔اصل امتحان آئندہ ساٹھ دنوں میں ہوگا، جب فریقین کو بیانات، دھمکیوں اور باہمی بداعتمادی سے آگے بڑھ کر عملی لچک اور سیاسی بصیرت کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ اگر ایسا ہو گیا تو مشرقِ وسطیٰ ایک نئے سفارتی باب میں داخل ہو سکتا ہے؛ بصورتِ دیگر جنگ کے بادل ایک بار پھر پورے خطے پر منڈلانے لگیں گے۔

ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل کراچی 26 جون 2026

ہفت روزہ دعوت دہلی 26 جون 2026

ہفت روزہ رہبر سرینگر 28 جون 2026


Friday, June 19, 2026

 

لبنان ، غزہ، غرب اردن اور سسکتی انسانیت

یادداشتِ اسلام آباد کے بعد بھی امن سے بہت دور

یادداشتِ اسلام آباد (Islamabad MOU) پر مفاہمت کے بعد خلیج فارس میں توپیں بظاہر خاموش ہو گئی ہیں۔ ایران کی بحری ناکہ بندی میں نرمی کے بعد ایرانی عوام نے بھی کسی حد تک سکھ کا سانس لیا ہے اور خطے میں ایک وسیع جنگ کے خطرات وقتی طور پر کم ہوتے دکھائی دیتے ہیں۔ وزیراعظم شہباز شریف کے مطابق لبنان بھی اس مفاہمت کا حصہ ہے اور 14 جون کو صدر ٹرمپ نے اسرائیل کو لبنان پر مزید حملوں سے باز رہنے کی کھلی ہدایت دی۔ تاہم یہ کہنا ابھی قبل از وقت ہوگا کہ اسرائیل اس یادداشت اور امریکی ہدایات پر کس حد تک عمل کرتا ہے، کیونکہ زمینی حقائق اب بھی کئی سوالات کو جنم دے رہے ہیں۔

جنگ بندی اور لبنان کی تلخ حقیقت

لبنان میں 16 اپریل سے عملاً جنگ بندی نافذ ہے، لیکن لبنانی وزیراعظم  نواف سلام کے مطابق امن معاہدے کے بعد سے اسرائیل نے لبنان پر 3500 حملے کئے ہیں۔بمباری کے علاوہ 400 سے زیادہ شہری و دیہی آبادی پر بلڈوزر پھیردئے گئے۔یہی وجہ ہے کہ لبنان میں جنگ بندی کا تصور کاغذی دستاویزات سے آگے بڑھ کر عوامی زندگی میں  منتقل نہیں ہو سکا۔

اسرائیل اب حزب اللہ کے نام پر لبنانی افواج کو بھی نشانہ بنارہا ہے جسکی وجہ سے 13 جون کو جنوبی لبنان کے شہر نبطیحہ سے لبنانی فوج پسپا ہوگئی۔واپسی سے پہلے مقامی جرنیل نے کہا کہ ہم اسرائیلی فوج سے تصادم نہیں چاہتے۔اسرائیل کی شدید بمباری اور ٹینک حملوں کے سامنے اپنے شہریوں کو چھوڑ کر فوج کا فرارناقابل فہم ہے۔

بیروت سے دریائے لیطانی تک

بیروت، صور (Tyre) اور دریائے لیطانی کے اطراف بمباری، ڈرون حملوں اور گولہ باری کی اطلاعات مسلسل موصول ہو رہی ہیں۔ بعض شہریوں نے الزام لگایا ہے کہ اسرائیل  شہری آبادی پر Fuel Bombگرارہا ہے اور سوشل میڈیا پر شایع ہونے والی کچھ تصویروں میں نہتے شہری سڑک پر جابجا بھڑکتی آگ سے بچنے کیلئے بھاگتے نظر  آرہے ہیں۔ بعض مبصرین کا خیال ہے کہ حالیہ حملوں کا مقصد صرف عسکری اہداف کو نشانہ بنانا نہیں بلکہ خطے میں جاری سفارتی عمل کو متاثر کرنا ہے۔ ان کے مطابق لبنان میں کشیدگی بڑھنے سے ایران اور امریکہ کے درمیان جاری مفاہمت کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

غزہ: جنگ ختم نہیں ہوئی

خلیج میں کشیدگی کم ہونے کے باوجود غزہ میں انسانی بحران بدستور جاری ہے۔ اسرائیلی کارروائیوں، ناکہ بندی اور امدادی راستوں کی بندش نے مشکلات کو مزید گہرا کر دیا ہے۔ کریم سلام (Kerem Shalom) پھاٹک کی بندش کے بعد خوراک، ادویات اور دیگر ضروری اشیاء کی فراہمی شدید متاثر ہوئی، جبکہ مقامی اور بین الاقوامی ادارے انسانی بحران میں اضافے کی تنبیہ کر رہے ہیں۔

خان یونس اور جبالیہ میں بمباری کے نتیجے میں مزید جانی نقصان کی اطلاعات موصول ہوئیں ہیں۔ زخمیوں کے علاج کے لیے درکار سہولیات پہلے ہی ناکافی ہیں اور ہسپتال شدید دباؤ کا شکار ہیں۔ غزہ کی تباہ حال گلیوں سے سامنے آنے والی تصاویر اس انسانی المیے کی شدت کو واضح کرتی ہیں۔ ایک تصویر میں ایک کم سن لڑکا اپنے بیمار بھائی کو زنگ آلود ٹھیلے میں لے جاتا دکھائی دیا۔ یہ منظر محض ایک خاندان کی کہانی نہیں بلکہ پورے غزہ کی اجتماعی حالت کا استعارہ بن چکا ہے، جہاں بہت سے خاندانوں کے لیے ایک ٹھیلا ہی ایمبولینس، ٹیکسی اور زندگی کی آخری امید ہے۔

سمندر بھی بند، زمین بھی تنگ

اسرائیلی پیش قدمی کے نتیجے میں غزہ کی آبادی ساحلی پٹی تک سمٹ آنی ہے اور ماہی گیری بہت سے خاندانوں کے لیے خوراک کا واحد ذریعہ بن چکی ہے۔ گزشتہ ہفتے بھوک سے مجبور ہوکر محمد ابوجیاب مچھلی پکڑنے ساحل پر آیا لیکن اسرائیلی بحریہ کی گولی نے اس مچھیرے کا کام تمام کردیا۔

غربِ اردن: مسلسل بحران

جہاں عالمی توجہ غزہ اور لبنان پر مرکوز ہے، وہیں غربِ اردن میں بھی کشیدگی کم نہیں ہوئی۔ فلسطینی دیہات، زرعی زمینیں، دکانیں اور رہائشی مکانات مسلسل دباؤ کا شکار ہیں۔ رام اللہ، قلقیلیہ، جنین اور دیگر علاقوں میں جائیدادوں کو نقصان پہنچانے، فصلیں جلانے اور مذہبی مقامات کو نشانہ بنانے کے واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔

رام اللہ کے قصبہ بُرقہ میں مسجد النور کو آگ لگانے کی کوشش نے مقامی آبادی میں شدید تشویش پیدا کی۔ خوش قسمتی سے مقامی خواتین نے فوری کارروائی کرتے ہوئے آگ پر قابو پا لیا اور بڑا نقصان ہونے سے بچ گیا۔ ایسے واقعات صرف املاک کا نقصان نہیں بلکہ مذہبی اور سماجی ہم آہنگی کے لیے بھی خطرہ سمجھے جاتے ہیں۔

اسرائیل کا داخلی بحران

اس دوران اسرائیل کے اندر لازمی فوجی خدمت کے مسئلے پر بحث ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ کنیسہ (پارلیمان) میں ایسے قانونی اقدامات زیر غور ہیں جن کے نتیجے میں مذہبی مدارس (Yeshiva) کے طلبہ کو فوجی خدمت سے استثنیٰ حاصل کرنے کے لیے مضبوط قانونی بنیاد مل سکتی ہے۔یہ بحث ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب اسرائیلی فوج طویل جنگ، مسلسل تعیناتیوں اور افرادی قوت کے دباؤ کا سامنا کر رہی ہے۔ ناقدین کا سوال ہے کہ اگر آبادی کے ایک بڑے حصے کو فوجی خدمت سے استثنیٰ دیا جاتا ہے تو دفاعی ذمہ داری کا بوجھ کس طبقے پر پڑے گا؟ اسی کے ساتھ فوج میں خواتین کے کردار اور مخلوط یونٹوں کے بارے میں مذہبی حلقوں کے تحفظات بھی شدت اختیار کر گئے ہیں۔

قیدیوں سے سلوک اور انسانی حقوق کے سوالات

گزشتہ ہفتے الجزیرہ نے فلسطینی قیدیوں پر اسرائیلی حراستی مراکز میں جسمانی، نفسیاتی اور جنسی نوعیت کی سنگین بدسلوکی کی ایک روح فرسا رپورٹ شایع کی ہے۔ سابق قیدیوں کے انٹرویو پر مشتمل اس رپورٹ میں نصب بصرئ تراشے اتنے بھیانک ہیں کہ انھیں دیکھنا بھی ممکن نہیں۔رپورٹ میں اقوامِ متحدہ کے بعض ماہرین، انسانی حقوق کے اداروں اور سابق قیدیوں کے بیانات کا حوالہ دیا گیا ہے، جن کے مطابق یہ واقعات محض انفرادی زیادتیوں کے بجائے ایک وسیع تر مسئلے کی نشاندہی کرتے ہیں۔حسب توقع اسرائیلی حکام نے ان الزامات کو بے بنیاد اور من گھڑت قراردیا لیکن انصاف کا تقاضہ ہے کہ ان واقعاات کی آزاد، شفاف اور غیر جانبدار بین الاقوامی تحقیقات کرائی جائیں تاکہ متاثرین کو انصاف ملے۔

تحقیق تو دور کی بات یہاں یہ عالم کہ اسرائیل کے وزیر اندرونی سلامتی اتامر بن گوئر نے تجویز دی ہے کہ لبنان کے مقبوضہ علاقےسے حزب اللہ کی خواتین اور بچوں کو گرفتارکرلیا جائے۔ جنگی کابینہ کے اجلاس میں انھوں نے کہا کہ بمباری اورجنگجووں کے قتل کے ساتھ انکی عورتوں اور بچوں کو حراست میں لیاجائے۔یہ انکے لئے موت سے زیادہ تکلیف دہ ہوگا۔ دوسرے الفاظ بمباری اور قتل کافی نہیں بلکہ مزاحمت کاروں کی آبرو پر ضرب لگانے کی ضرورت ہے

فرانسیسی صحافی ایلس فروسرڈ (Alice Frousard) کو اسرائیل چھوڑنے کے حکم نے اظہارِ رائے اور صحافتی آزادی کے بارے میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ ان پر مزاحمت کاروں کی پشت پناہی کا الزام ہے۔ محترمہ ایلس گزشتہ چھ سال سے یروشلم میں تعینات تھیں اور موقر اداروں ریڈیو فرانس، Le FigaroاورTV5Monde Mediapartkکی نمائندگی کررہی تھیں۔ فرانسیسی حکومت کے ترجمان کا کہنا ہے کہ وہ اسرائیل کے اس فیصلے سے متفق تو نہیں لیکن اسکا احترام کرتے ہیں

ہفت روزہ دعوت دہلی 19 جون 2026

ہفت روزہ رہبر سرینگر 21 جون 2026


Thursday, June 18, 2026

 

 

اسلام آباد یادداشت: معاہدہ طے، مگر مفہوم ابھی باقی

ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان مفاہمت یا تعبیرات کی نئی جنگ

امریکہ اور ایران کے درمیان ایک عبوری مفاہمت طے پا گئی ہے۔ پیر 15 جون کو صبح سویرے اس کا اعلان کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ دستخط کی رسمی تقریب 19 جون کو سوئٹزرلینڈ میں ہوگی۔ صدر ٹرمپ کے مطابق اتوار کے روز امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اور ایرانی پارلیمان کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے ڈیجیٹل دستخط کر کے اس یادداشت کو قانونی عہد کی شکل دے دی ہے۔ پاکستانی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ فریقین نے لبنان سمیت تمام محاذوں پر فوجی کارروائیاں فوری اور مستقل طور پر ختم کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔

مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی، آبنائے ہرمز کی بندش، ایران پر اقتصادی و عسکری دباؤ، اسرائیلی حملوں اور امریکی دھمکیوں کے درمیان شاید پہلی مرتبہ ایسا موقع پیدا ہوا ہے جب فریقین کم از کم عارضی طور پر تلواریں نیام میں رکھنے پر آمادہ دکھائی دیتے ہیں۔ اگرچہ اس مرحلے کو مکمل امن نہیں کہا جا سکتا، لیکن یہ ایک ایسے عمل کا آغاز ضرور ہے جو خطے کو مزید تباہی سے بچانے کی امید پیدا کرتا ہے۔ "اسلام آباد یادداشت" (Islamabad MOU) کوئی حتمی امن معاہدہ نہیں بلکہ خود صدر ٹرمپ کے الفاظ میں “A Deal to Make a Deal” یعنی ایک ایسے معاہدے کا معاہدہ ہے جو مستقبل کے جامع مذاکرات کی بنیاد فراہم کرے گا۔

اس میں لکھا کیا ہے؟

اسلام آباد یادداشت کے بارے میں سب سے بڑا سوال یہی ہے کہ آخر اس میں لکھا کیا گیا ہے؟ اسلئے کہ دونوں فریق اس یادداشت کی مختلف تشریحات پیش کر رہے ہیں۔ واشنگٹن کے خیال میں یہ ایران کے جوہری پروگرام پر اسکی ایک بڑی کامیابی ہے، جبکہ تہران کا مؤقف ہے کہ اس مرحلے پر اصل توجہ جنگ بندی، آبنائے ہرمز، بحری ناکہ بندی کے خاتمے، منجمد اثاثوں اور علاقائی کشیدگی میں کمی پر ہے۔ صدر ٹرمپ نے 300 ارب ڈالر کے بحالی فنڈ اور مالی رعایتوں کی خبروں کو "فیک نیوز" اور ڈیموکریٹک پروپیگنڈا قرار دیا لیکن انہی کی انتظامیہ کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے صحافیوں کو بتایا کہ منجمد اثاثوں کی واپسی، پابندیوں میں نرمی اور ایران کی تعمیرِ نو کے لئے بڑے مالی پیکج پر بات ہوئی ہے۔ صدر ٹرمپ نے کہا کہ MOU کا متن جمعہ کی دستخطی تقریب کے بعد جاری ہوگا، جبکہ ان کے معاونین کا کہنا ہے کہ 24 سے 48 گھنٹوں میں متن شائع کیا جا سکتا ہے۔ نائب صدر جے ڈی وینس بھی اس سوال کا واضح جواب نہیں دے سکے کہ اگر ایران معاہدے کی غلط تشریح کر رہا ہے تو پھر متن عوام کے سامنے کیوں نہیں لایا جا رہا؟

تشریح پر خود واشنگٹن یکسو نہیں

اسلام آباد یادداشت کے گرد پیدا ہونے والا ابہام صرف واشنگٹن اور تہران کے درمیان نہیں بلکہ خود امریکی انتظامیہ کے اندر بھی موجود دکھائی دیتا ہے۔ نائب صدر جے ڈی وینس کا کہنا ہے کہ معاہدے کی بنیادی شقوں میں بین الاقوامی جوہری معائنہ کاروں کی ایران واپسی اور افزودہ یورینیم کے ذخائر کے خاتمے کا واضح ذکر موجود ہے۔ ان کے مطابق یہ نکات یادداشت میں ’’بہت واضح‘‘ انداز میں درج ہیں۔ لیکن دوسری جانب امریکی خبر رساں ادارے Axios کے مطابق سی آئی اے کے سربراہ جان ریٹکلف نے صدر ٹرمپ کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ امریکی انٹیلی جنس کے جائزے سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران کی نیت معاہدے کے تحت کئے گئے وعدوں سے مطابقت نہیں رکھتی۔ وزیر خارجہ مارکو روبیو اور وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ بھی اسی نوعیت کے تحفظات کا اظہار کر چکے ہیں۔

خود صدر ٹرمپ کے بیانات میں بھی مکمل یکسانیت نظر نہیں آتی۔ کبھی وہ کہتے ہیں کہ ایران نے ہمیشہ کے لئے جوہری ہتھیار سے دستبردار ہونے پر اتفاق کر لیا ہے، اور کبھی یہ مؤقف سامنے آتا ہے کہ معاہدے کی تفصیلات ابھی تکنیکی مراحل سے گزر رہی ہیں۔ اگر نائب صدر معاہدے کی درست تشریح کر رہے ہیں تو پھر سی آئی اے کیوں مطمئن نہیں؟ اور اگر انٹیلی جنس اداروں کی تشخیص درست ہے تو نائب صدر اتنے اعتماد سے کیسے کہہ رہے ہیں کہ افزودہ یورینیم اور معائنہ کاروں کا معاملہ طے ہو چکا ہے؟

یوں محسوس ہوتا ہے کہ ابہام ایران کے مؤقف میں کم اور امریکی تشریح میں زیادہ ہے۔ تہران تو مسلسل یہی کہہ رہا ہے کہ اس نے کبھی جوہری ہتھیار بنانے کا ارادہ نہیں رکھا، لیکن واشنگٹن میں صدر، نائب صدر، سی آئی اے، وزارتِ خارجہ اور پینٹاگون گویا ایک ہی دستاویز کو مختلف زاویوں سے پڑھ رہے ہیں۔ شاید اسی لیے یادداشت کا مکمل متن اب تک منظرِ عام پر نہیں آ سکا۔ اگر خود امریکی انتظامیہ اس کے مفہوم پر متفق نہیں تو کیا واقعی معاہدہ ہو چکا ہے، یا صرف ایک ایسے معاہدے کا اعلان ہوا ہے جس کی تعبیر ابھی باقی ہے؟

جنگ بندی پہلے، جوہری مذاکرات بعد میں

اس عبوری یادداشت کی فوری ترجیح جوہری پروگرام کے بجائے جنگ بندی اور کشیدگی میں کمی دکھائی دیتی ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی متعدد مواقع پر واضح کر چکے ہیں کہ جوہری پروگرام پر باضابطہ مذاکرات اس وقت ہی شروع ہوں گے جب عبوری معاہدے پر عمل درآمد کا مرحلہ آگے بڑھے گا۔

دستیاب اطلاعات سے یہی تاثر ملتا ہے کہ موجودہ مفاہمت میں لبنان سمیت مختلف محاذوں پر جنگ بندی، آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی بحالی، ایران کی بحری ناکہ بندی کا خاتمہ، منجمد اثاثوں کے معاملات اور علاقائی کشیدگی میں کمی جیسے موضوعات کو ترجیح دی گئی ہے۔ گویا پہلے میدانِ جنگ کو خاموش کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے اور اس کے بعد زیادہ پیچیدہ جوہری تنازع زیرِ بحث آئے گا۔

ہرمز اور افزودہ یورینیم: اصل اختلافات باقی ہیں

بلاشبہ MOU ایک اہم  پیش رفت ہے، لیکن بنیادی اختلافات ابھی ختم نہیں ہوئے۔ آبنائے ہرمز کے بارے میں ایرانی موقف یہ ہے کہ جنگ سے پہلے والی صورتحال من و عن بحال نہیں ہوگی اور ایران اپنے انتظامی اور خودمختار کردار پر سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ اگر یہ مؤقف برقرار رہتا ہے تو اسے تہران کی ایک اہم سفارتی کامیابی سمجھا جا سکتا ہے۔اسی طرح افزودہ یورینیم کے ذخائر کے بارے میں بھی دونوں فریق مختلف تعبیرات پیش کر رہے ہیں۔ امریکی حلقے اسے جوہری تنازع کے حل کی جانب ایک فیصلہ کن قدم قرار دیتے ہیں، جبکہ ایرانی حکام مسلسل اس بات کی تردید کر رہے ہیں کہ افزودہ یورینیم کی حوالگی یا اس سے دستبرداری پر کوئی حتمی اتفاق ہو چکا ہے۔ یہی وہ نکتہ ہے جو مستقبل کے مذاکرات میں سب سے زیادہ حساس ثابت ہو سکتا ہے۔

امن کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ

اس پورے عمل کی سب سے بڑی آزمائش اسرائیل کا ردعمل ہوگا۔ اسرائیلی سیاسی حلقوں، بالخصوص حزبِ اختلاف کے بعض رہنماؤں نے مجوزہ مفاہمت پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ اگر ایران کے میزائل پروگرام، علاقائی سرگرمیوں اور جوہری صلاحیت کے بارے میں واضح ضمانتیں شامل نہیں کی جاتیں تو یہ معاہدہ مستقبل میں مزید پیچیدگیاں پیدا کر سکتا ہے۔یہ اختلافات ظاہر کرتے ہیں کہ واشنگٹن، تہران اور تل ابیب کے مفادات اب بھی ایک دوسرے سے مختلف ہیں اور کسی بھی لمحے یہ تفاوت مذاکراتی عمل کو متاثر کر سکتا ہے۔

پاکستان اور خلیجی سفارت کاری

اس مفاہمتی عمل میں پاکستان کا کردار غیر معمولی اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ مختلف سفارتی ذرائع کے مطابق اسلام آباد نے نہ صرف امریکہ اور ایران کے درمیان رابطوں کو برقرار رکھنے میں مدد دی بلکہ خلیجی ممالک کے ساتھ بھی مسلسل مشاورت جاری رکھی۔ قطر، متحدہ عرب امارات اور دیگر علاقائی ریاستوں کی شمولیت نے بھی کشیدگی میں کمی کے امکانات کو تقویت دی ہے۔پاکستان کی سفارتی کوششوں کے نتیجے میں اسلام آباد ایک مرتبہ پھر علاقائی ثالثی کے مرکز کے طور پر سامنے آیا ہے۔ یہ پیش رفت پاکستان کے لئے نہ صرف سفارتی اعتبار سے اہم ہے بلکہ اس سے خطے میں اس کے کردار کو نئی جہت بھی مل سکتی ہے۔

امن کی کرن یا تعبیرات کا بحران؟

اس وقت سب سے خوش آئند بات یہ ہے کہ ایک سو دس دن سے زائد عرصے تک جاری رہنے والی خونریزی کے بعد کم از کم جنگ کے وقفے اور مذاکرات کے آغاز کی امید پیدا ہوئی ہے۔ تاہم یہ راستہ ابھی بھی خطرات سے خالی نہیں۔ صدر ٹرمپ کے جارحانہ بیانات، اسرائیلی تحفظات، افزودہ یورینیم کا تنازع، آبنائے ہرمز کا مستقبل اور علاقائی طاقتوں کے متضاد مفادات کسی بھی وقت نئی کشیدگی کو جنم دے سکتے ہیں۔

یادداشت پر اتفاق کے بعد ایک انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ اگر ایران امریکہ کے ساتھ حتمی جوہری معاہدے تک نہ پہنچ سکا تو فوجی کارروائی دوبارہ شروع ہو سکتی ہے۔ انہوں نے یہاں تک کہا کہ امریکہ مشرقِ وسطیٰ کا ’’نگہبان‘‘ بن سکتا ہے۔ مذاکرات کے ابتدائی مرحلے میں طاقت کے استعمال کی دھمکیاں کسی بھی امن عمل کے لیے نیک شگون نہیں ہوتیں۔ اس طرح کے بیانات نہ صرف اعتماد کو مجروح کرتے ہیں بلکہ فریقین کو دفاعی پوزیشن اختیار کرنے پر بھی مجبور کر دیتے ہیں۔ مزید تشویش کی بات یہ ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کے وسائل یا آمدنی پر بیرونی کنٹرول کے اشارے صرف خطے کے ممالک ہی نہیں بلکہ روس اور چین جیسی بڑی طاقتوں کے لیے بھی باعثِ تشویش بن سکتے ہیں۔ بالخصوص چین، جو اپنی توانائی کی ضروریات کا بڑا حصہ مشرقِ وسطیٰ سے حاصل کرتا ہے، ایسے بیانات کو خطے کے استحکام کے لیے خطرہ سمجھ سکتا ہے۔

اگر واقعی ایک تاریخی مفاہمت جنم لے رہی ہے تو اس کا خیرمقدم باعزت اور مفاہمانہ انداز میں ہونا چاہیے۔ لیکن تنازعے کی جڑ یعنی ایران کے جوہری پروگرام کی حقیقت ہی غیر واضح ہے۔ امریکہ ایران سے اس بات کی ضمانت چاہتا ہے کہ وہ جوہری ہتھیار نہیں بنائےگا جبکہ تہران کہتا ہے ہمارا جوہری ہتھیار بنانے کا کبھی ارادہ نہیں رہا۔ جوہری توانائی کے حصول و ترقی کا پروگرام 1957 میں امریکہ کے تعاون سے شروع ہوا جسے خود صدر آئرن ہاور نے Atom for Peaceکا نام دیا اور یہی عزم 2015 میں ایک عالمی معاہدہ برجام (JCPOA)المعروف 5+1کی بنیاد ہے جسکی اقوام متحدہ کے علاوہ امریکی پارلیمان کے دونوں ایوانوں نے دوتہائی اکثریت سے توثیق کی۔ گویا امریکہ ایران سے ایسا کام نہ کرنے کی ضمانت چاہتا ہے۔ جسکی ایران کو کبھی خواہش ہی نہیں رہی۔

اسوقت اسلام آباد یادداشت کے متن سے زیادہ اس کی تشریح موضوعِ بحث بنتی نظر آرپی ہے۔ اگر معاہدے کے فریق اور اس کے ضامن ہی ابھی تک اس کے الفاظ اور مقاصد پر یکساں رائے نہیں رکھتے تو اصل امتحان دستخط نہیں بلکہ عمل درآمد ہوگا۔ آنے والے ہفتے یہ طے کریں گے کہ اسلام آباد یادداشت واقعی مشرقِ وسطیٰ میں امن کا پہلا قدم ہے یا محض ایک ایسے سفر کا آغاز جس کی منزل ابھی دھند میں چھپی ہوئی ہے

ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل کراچی 19 جون 2026

ہفت روزہ دعوت دہلی 19 جون 2026

ہفت روزہ رہبر سرینگر 21 جون 2026


Monday, June 15, 2026

 

جنگ کے سائے میں امن کی تلاش

 اصل فریق کے بغیر امن مذاکرات

ہر گزرتے دن کے ساتھ غزہ، غربِ اردن اور جنوبی لبنان میں عام لوگوں کی زندگی مزید دشوار ہوتی جا رہی ہے۔ اسرائیل اپنے فوجی آپریشن کا دائرہ وسیع کر رہا ہے، شہری علاقوں پر بمباری جاری ہے اور دوسری جانب مزاحمتی تنظیمیں ہتھیار ڈالنے پر آمادہ نہیں۔ گزشتہ ہفتے غزہ مزاحمت کے رہنما حسام بدران نے الجزیرہ کو انٹرویو دیتے ہوئے دوٹوک اعلان کیا کہ مزاحمت کار ہتھیار نہیں ڈالیں گے۔ وحشیانہ کاروائیوں اور نسل کشی کے باوجود  32 مہینے بعد بھی اہل غزہ کی مزاحمت جاری ہے۔

لبنان میں بدلتا ہوا منظرنامہ

لبنان میں صورتحال اس لحاظ سے مختلف ہے کہ یہاں پہلی مرتبہ خود اسرائیلی عسکری قیادت جنگ بندی کی ضرورت پر زور دیتی دکھائی دے رہی ہے۔ اسرائیلی نشریاتی ادارے Kan کے مطابق چیف آف اسٹاف جنرل ایال ضمیر نے کابینہ کے اجلاس میں کہا کہ اگر چند ماہ بعد وہی شرائط قبول کرنی ہیں جو آج میز پر موجود ہیں تو بہتر ہے کہ جنگ بندی اب ہی کر لی جائے۔ ان کے بقول حزب اللہ مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی، تاہم اس کی قوت ماضی کے مقابلے میں کمزور ہوئی ہے اور شمالی اسرائیل کو درپیش دراندازی کا خطرہ بڑی حد تک محدود ہو چکا ہے۔

ظاہری طور پر اس مؤقف کی منطق واضح ہے: فوج اپنے بنیادی عسکری اہداف حاصل کر چکی ہے اور اب ان کامیابیوں کو سیاسی نتائج میں تبدیل کیا جانا چاہیے۔ تاہم غیر جانب دار مبصرین اسے ایک وسیع تر تناظر میں دیکھ رہے ہیں۔ کئی مہینوں سے اسرائیلی فوج میں نفسیاتی دباؤ، خودکشیوں کے واقعات، مسلسل جنگی تعیناتیوں اور افرادی قوت کی کمی کے مسائل پر بحث جاری ہے۔ خود جنرل ضمیر نے ماضی میں مذہبی مدارس کے طلبہ کی فوجی بھرتی کے تنازع اور افرادی قوت کے بحران کی نشاندہی کی ہے۔

جنگ بندی کی خواہش عسکری کامیابیوں کا نتیجہ نہیں بلکہ اس کے پیچھے جنگی تھکن اور افرادی قوت کے مسائل کارفرما ہیں۔ اگر حزب اللہ واقعی فیصلہ کن حد تک کمزور ہو چکی ہے تو پھر فوری سیاسی تصفیے پر زور کیوں دیا جا رہا ہے؟ کیا زمینی حقائق اسرائیل کو سیاسی مفاہمت کی طرف دھکیل رہے ہیں؟

امن مذاکرات کا بنیادی مسئلہ

لبنان اور غزہ کے معاملات میں ایک مشترک مسئلہ نمایاں ہے: اصل فریق مذاکراتی میز پر موجود نہیں۔ غزہ کے حوالے سے مختلف بین الاقوامی کانفرنسیں اور امن فورم منعقد ہو رہے ہیں، لیکن مزاحمتی قوتوں کو براہِ راست شریکِ گفتگو نہیں بنایا جا رہا۔ لبنان میں بھی مذاکرات اسرائیل اور لبنانی حکومت کے درمیان ہو رہے ہیں، جبکہ اصل عسکری فریق حزب اللہ ہے۔

گزشتہ ہفتے امریکی ثالثی میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان طویل مذاکرات کے بعد ایک فارمولے پر اتفاق ہوا۔ مجوزہ بندوبست میں تجویز کیا گیا ہے کہ حزب اللہ اپنی عسکری کارروائیاں روک دے، جبکہ اسرائیلی افواج اور حزب اللہ کے زیرِ اثر علاقوں کے درمیان ایک عبوری یا "پائلٹ زون" قائم کرکے وہاں لبنانی فوج تعینات کردی جائے۔المنار ٹی وی کے مطابق حزب اللہ کے سیکریٹری جنرل نعیم قاسم نے اس تجویز کو مسترد کرتے ہوئے اسے عملاً "ہتھیار ڈالنے" کے مترادف قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ جب تک لبنانی سرزمین پر اسرائیلی افواج موجود ہیں مزاحمت جاری رہے گی۔

اگرچہ واشنگٹن اور تل ابیب سیاسی پیش رفت کے خواہاں دکھائی دیتے ہیں، لیکن حزب اللہ کو اعتماد میں لئے بغیر کسی جامع معاہدے کی کامیابی مشکوک نظر آتی ہے۔ دوسری طرف ایران نے لبنان جنگ بندی کو امریکہ سے اپنے معاہدے کی بنیادی شرط قراردیدیا ہے۔امن بات چیت کیساتھ اسرائیل لبنان پر خوفناک بمباری جاری رکھے ہوے ہے۔لبنانی وزیراعظم نواف سلام نے اقوام متحدہ کو مطلع کیا کہ 16اپریل کو امن معاہدے کے بعد سے اسرائیل نے لبنان پر 3500 حملے کئے ہیں اور بمباری کے علاوہ 400 سے زیادہ شہری و دیہی آبادی پر بلڈوزر پھیردئے گئے۔

غربِ اردن: خاموش جنگ

غرب اردن میں قبضہ گردوں کے حملے،  آتشزنی اور لوٹ مار کا سلسلہ جاری ہے۔ رام اللہ  کے گاوں بیتن میں مسلح قبضہ گردوں سے بچاو کیلئے پتھراو کرنے والے فلسطینیوں پر اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے 18 سالہ لڑکا ہیثم عزالدین حمیدہ جاں بحق۔ ہوگیا ہیثم کے خلاف دہشت گردی کو پرچہ کاٹ دیا گیا تاکہ فوجی عدالت سے الزام ثابت ہونے پر اسکے گھر کو مسمار کیا جاسکے۔ نابلوس کے علاقے حوارہ پر 6 جون کو قبضہ گردوں کے حملے میں سات افراد زخمی ہوئے۔ نقاب پوش دہشت گردوں نے کاروں کو نقصان پہنچایا اور درجنوں بھیڑ اور دوسرے مویشی چراکر لے گئے۔ الخلیل (Hebron)میں فلسطینیوں کے مکانات نذرِ آتش کردئے گئے۔ فلسطینیوں کا کہنا ہے ہے کہ اس 'اپریشن' کی نگرانی اور تحفظ مسلح افواج نے فراہم کی۔ الخلیل ہی کے علاقے تل رمیدہ میں چلتی کار پر اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے سات ماہ کا فہد ابو ہیکل اپنی ماں کی گود میں جاں بحق ہوگیا۔معصوم جان کے زیاں پر اسرائیلی فوج کی طرف سے افسوس کا اظہار ہوا، جس پر فہد کی دادی نے بچے کی تصویر دکھاتے ہوئے کہا کہ  کہ تمہاری معذرت سے میرا پوتا واپس آئیگا نہ میری بہو اور بیٹے کے زخم بھرینگے۔

بیت المقدس: مذہبی آزادی کا سوال

مشرقِ وسطیٰ کے تنازعات میں بیت المقدس کی حیثیت منفرد ہے۔ یہ شہر تین بڑے مذاہب کے ماننے والوں کیلئے یکساں تقدس رکھتا ہے۔ لیکن حالیہ برسوں میں مسیحی مذہبی رہنماؤں نے بھی مقدس مقامات تک رسائی اور عبادت کی آزادی کے بارے میں تشویش کا اظہار شروع کر دیا ہے۔

یروشلم کے یونانی آرتھوڈوکس پٹریارک تھیوفیلوس سوم نے گزشتہ ہفتے امریکی صدر سے ملاقات کے دوران کہا کہ مسیحی برادری بڑھتے ہوئے دباؤ اور عدم تحفظ کا سامنا کر رہی ہے۔ ان کا مطالبہ صرف اتنا تھا کہ مقدس مقامات تک رسائی اور مذہبی آزادی کو یقینی بنایا جائے۔یہ مطالبہ اس لیے بھی اہم ہے کہ چند ماہ قبل پام سنڈے کے موقع پر بعض مسیحی مذہبی رہنماؤں کو کلیسائے مقبرۂ مقدس تک رسائی میں مشکلات پیش آئیں۔ مسلمانوں کی جانب سے بیت المقدس میں مذہبی پابندیوں کی شکایات تو عشروں سے سامنے آتی رہی ہیں، لیکن اب مسیحی برادری کی تشویش نے اس مسئلے کو ایک نئے زاویے سے اجاگر کیا ہے۔اسرائیل نے 1967ء کے بعد مقدس مقامات کے "اسٹیٹس کو" کو برقرار رکھنے کا وعدہ کیا تھا۔ اگر آج مختلف مذاہب کے ماننے والے اپنی عبادات کے حوالے سے سوالات اٹھا رہے ہیں تو یہ معاملہ صرف سیاست کا نہیں بلکہ مذہبی آزادی کے ایک بنیادی اصول کا بھی ہے۔

جنگ کی قیمت

اسرائیل کی توسیع پسندانہ جارحیت نے جہاں معصوم فلسطینیوں، شامیوں، لبنانیوں، یمنیوں اور ایرانیوں کی زندگی جہنم بنا رکھی ہے وہیں اس عذاب کا مزہ ہوائی سفر کرنے والے اسرائیلی بھی چکھ رہے ہیں۔خلیج فارس سے لے کر بحیرۂ روم کے مشرقی ساحل تک ہزاروں اہداف پر فضائی کارروائیوں کیلئے طویل فاصلے تک پرواز کرنے والے جنگی طیاروں کو فضا میں ایندھن بھرنے کی ضرورت پیش آتی ہے۔ اسی مقصد کیلئے امریکی فضائیہ نے اسرائیل کو KC-135 Refueling طیارے فراہم کئے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق 59 ایندھن برداررطیارے تقریباً ہر وقت بن گوریان ائرپورٹ پر کھڑے رہتے ہیں جبکہ اس ہوائی اڈے پر طیارے کھڑی کرنے کی مجموعی گنجائش 99 ہے، جس کے باعث ہوائی اڈے کی پارکنگ پر غیر معمولی دباؤ پیدا ہوگیا ہے۔

اس "فضائی ٹریفک جام" کی قیمت عام مسافر ادا کر رہے ہیں۔ شہری ہوابازی حکام کے مطابق رواں موسمِ گرما میں تقریباً پندرہ لاکھ مسافروں کو پروازوں کی منسوخی یا تاخیر کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ یکم جون کو بن گوریان ائیرپورٹ سے صرف 61 ہزار 600 مسافروں نے سفر کیا، جبکہ معمول کے دنوں میں یہ تعداد ایک لاکھ کے قریب ہوتی ہے۔ ریاستیں جب اپنی ترجیحات میں جنگی تقاضوں کو فوقیت دیتی ہیں تو اس کے اثرات معیشت، نقل و حمل، سیاحت اور روزمرہ زندگی تک پھیل جاتے ہیں۔ جنگ کے حقیقی اخراجات کا اندازہ صرف فوجی بجٹ سے نہیں لگایا جا سکتا۔

امید اب بھی زندہ ہے

اس تمام تاریکی کے باوجود زندگی نے ہار نہیں مانی۔ تباہ حال غزہ میں جامعہ کے سات طلبہ نے خان یونس کے قریب آئس کریم کی ایک دوکان کھول لی۔ 'مالکان' میں چار طِب، دو دندان سازی (Dentistry)اور ایک سوفٹ وئر انجینیرنگ کے طالب علم ہیں۔جنگ، محاصرہ اور تباہی کے درمیان یہ چھوٹی سی دکان محض ایک کاروبار نہیں بلکہ امید کی علامت ہے۔ شاید یہی مشرقِ وسطیٰ کا سب سے بڑا سبق بھی ہے: بمباری عمارتیں گرا سکتی ہے، لیکن زندگی کی خواہش کو مکمل طور پر ختم نہیں کر سکتی۔ جب تک ایسے نوجوان موجود ہیں جو ملبے کے درمیان مستقبل کے خواب دیکھتے ہیں، تب تک امن کی امید بھی زندہ رہے گی۔

ہفت روزہ رہبر سرینگر 14 جون 2026