غزہ، غربِ اردن
اور لبنان میں جنگ، سینسر اور انسانی ضمیر کا امتحان
اہلِ غزہ کا تیسرا رمضان بارود اور دھماکوں
کے سائے میں گزرگیا۔ افطار کے دسترخوان پر کھجوروں کے ساتھ خوف بھی رکھا گیا اور
تراویح کی صفوں کے اوپر ڈرون طیاروں کی گھن گرج سنائی دیتی رہی۔ ایسا محسوس ہوتا
ہے کہ اس خطے میں وقت بھی زخموں کے ساتھ بہتا ہے۔اگر مشرقِ وسطیٰ میں جاری اس
خونریزی کا سرسری جائزہ لیا جائے تو منظر نہایت ہولناک دکھائی دیتا ہے۔ خبر رساں
ادارے رائٹرز کے مطابق مارچ کے پہلے پندرہ دنوں میں 1270 ایرانی، لبنان کے 488 شہری
اور غزہ کے 36 فلسطینی اپنی جانوں سے گئے۔ اگر اس خطے کے مغربی کنارے کو بھی شامل
کر لیا جائے تو پاک افغان سرحدی جھڑپوں نے بھی سینکڑوں بے گناہ جانیں لے لیں۔موت
کے ماتم کے ساتھ بے گھری کا عذاب بھی کم نہیں۔ رہائشی علاقوں پر بمباری کے نتیجے
میں تقریباً دس لاکھ لبنانی اور سینکڑوں افغان اپنے گھروں سے محروم ہو چکے ہیں۔
رمضان
میں آگ اور راکھ
غزہ میں رمضان کے دوران بھی بمباری کا
سلسلہ جاری رہا۔جمعۃ الوداع کی صبح وسطی غزہ کے علاقے الزوائیدہ میں اسرائیلی
فضائی حملے سے خیموں میں آگ بھڑک اٹھی جس میں 12 سالہ بچی اور خاتون صحافی امل
شمالی سمیت تین افراد زندہ جل گئے۔ اگلے ہی دن خان یونس پر بمباری میں ایک بچے
سمیت چھ افراد جاں بحق ہو گئے غزہ اور غربِ اردن میں آزادی اور وقار کی جدوجہد کو
زندہ رکھنے میں جہاں مزاحمت کاروں کی قربانیاں اہم ہیں، وہیں اہلِ قلم کا کردار
بھی کم نہیں۔ انہی کی بدولت دنیا کو ان واقعات کی خبر ملتی ہے، ورنہ سخت سنسر کے
پردے میں یہ سب کچھ شاید خاموشی سے دفن ہو جاتا۔ قلم
کی حرمت کیلئےامل شمالی کی قربانی ہمیشہ یاد رکھی جائیگی۔جنگ کے شور
میں سچائی کی آواز اکثر دب جاتی ہے، مگر کبھی کبھی ایک قلم ہزار توپوں پر بھاری پڑ
جاتا ہے۔
سیاہ اتوار
اتوار (15 مارچ) کی صبح وسطی غزہ کے علاقے الزویدہ میں اسرائیلی
ڈرون نے ایک پولیس جیپ کو نشانہ بنایا جس سے گاڑی میں سوار پولیس کمشنر اور آٹھ
پولیس افسران جاں بحق ہوگئے۔ حملے میں قریب کھڑے 14 افراد زخمی ہوئے۔ ٹھیک اسی وقت
نصیرات خیمہ بستی پر حملے میں ایک شخص، اسکی پرامید بیوی اور معصوم بچہ جان سے
گئے۔
غربِ
اردن: خوف کا پہرہ
اسی دن غربِ اردن میں تشدد کی ایک نئی لہر
دیکھی گئی۔ درجنوں مسلح آبادکار شمالی وادی اردن کے گاؤں خومسہ میں تراویح کے
دوران گھس آئے۔ اندھا دھند فائرنگ اور لاٹھیوں کی ضربوں سے متعدد افراد زخمی ہوئے
اور حملہ آور جاتے ہوئے 14 کسانوں کے ہاتھ پاؤں باندھ کر ان کی 360 بھیڑیں بھی
ہنکا لے گئے۔
جنوبی غربِ اردن کے علاقے ام الخیر میں ایک
چھ سالہ فلسطینی بچی کو گاڑی تلے روند دیا گیا۔ڈرائیور کو گرفتار کرنے کے بجائے
پولیس نے احتجاج کرنے والے مقامی افراد کے خلاف ہی مقدمہ درج کر لیا۔ظلم کی یہ
کہانی انسانوں تک محدود نہیں رہی۔ بیت اللحم کے قریب ایک فارم پر حملے میں مرغیوں
کے ڈربوں کو آگ لگا دی گئی اور ہزاروں چوزے جل کر مر گئے۔
ایک
کھیت، دو بیٹے اور گولیوں کی بارش
اس ہفتے غرب اردن نے دوایسی لرزہ خیر وارادت کا مشاہدہ کیا جسے قتل
عام کہنا زیادہ مناسب ہے۔ الخلیل (Hebron)کے گاوں مسافر یطہ میں مسلح آبادکاروں نے 57 سالہ محمد شِذَن کے کھیت
کی باڑھ توڑ کر چرنے کیلئےاپنے مویشی چھوڑدئے۔ اس وقت کھیت میں جو(Barley) کی فصل تیار کھڑی تھی۔ محمد
شذن اور اس کے بیٹوں عامر اور خالد نے اعتراض کیا کہ تیار فصل مویشی چرانے کی جگہ
نہیں۔ عامر نے مویشیوں کو ہنکا کر کھیت سے باہر نکالنے کی کوشش کی جس پر آبادکاروں
نے عامر پر گولی چلادی۔ بیٹے کو زخمی دیکھ کر محمد اس کی طرف لپکا ہی تھا کہ ایک
دوسرے مسلح آبادکار نے چند گز کے فاصلے سے عامر کے بھائی خالد کو گولی ماردی۔عامر
تھوڑی دیر تڑپنے کے بعد دم توڑ گیا، جبکہ خالد کو ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں اس کی
حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔یہ واقعہ محض ایک خاندان کی المناک کہانی
نہیں بلکہ غربِ اردن میں روزمرہ پیش آنے والے واقعات کی ایک جھلک ہے۔
ایک
خاندان کی خاموش موت
دوسری واردات14 مارچ کی شب طمون میں پیش آئی جب 57 سالہ خالد
بن ابی عودہ اپنی اہلیہ وعد اور دو کمسن بیٹوں کے ساتھ تراویح کے لیے مسجد جا رہے
تھے کہ ایک فوجی چوکی سے ان کی گاڑی پر گولیاں برسا دی گئیں۔ پورا خاندان موقع پر
ہی دم توڑ گیا۔جنگ میں صرف سپاہی نہیں مرتے، کبھی کبھی پورے خاندان تاریخ کے حاشیے
پر دفن ہو جاتے ہیں۔
لبنان
میں بھی آگ
غزہ کی طرح جنوبی لبنان میں بھی عبادتگاہیں اسرائیل کا نشانہ ہیں۔
گزشتہ ہفتے ایک مارونی گرجا کو نشانہ بنایا گیا جس میں پادری پیئر الراعی ہلاک
ہوگئے۔مارونی( Maronite) مسیحی پانچویں صدی کے ایک شامی
راہب Saint Maron سے منسوب ہیں۔لبنان کی سیاسی ساخت میں مارونی مسیحیوں کو خاص مقام
حاصل ہے۔ لبنان کا صدر مارونی، وزیراعظم سنی اور اسپیکر شیعہ ہوتے ہیں۔
اسی دوران عالمی تنظیم Human
Rights Watch نے انکشاف کیا ہے کہ جنوبی لبنان میں سفید
فاسفورس استعمال کیا گیا۔ یہ آتش گیر کیمیائی مادہ انسانی جسم کو شدید جلا دیتا ہے
اور شہری علاقوں میں اس کا استعمال بین الاقوامی قانون کے تحت ممنوع سمجھا جاتا
ہے۔ اسرائیل
اس سے پہلے غزہ میں بھی سفید فاسفورس استعمال کرچکا ہے۔ عالمی قوانین کی ان صریح
خلاف ورزیوں پر اقوام عالم کی خاموشی افسوسناک ہے۔
یہاں
تو بات کرنے کو ترستی ہے زباں میری
ایران ، غزہ، غرب اردن اور لبنان میں جارحیت کے بارے میں بدترین
سینسر کیساتھ اسرائیلی حکومت نے اسکے مظاہروں خلاف مظاہروں پربھی پابندی لگارکھی
ہے۔ گزشتہ ہفتے تل ابیب میں نوجوانوں نے بے مقصد جنگوں کے خلاف جلوس نکالا۔
مظاہرین نیتن یاہو کی تصویر والے پلے کارڈ اٹھائے ہوئے تھے جس پر عبرانی میں لکھاتھا
הגיע הזמן: נתניהו – חזור לחירות یعنی نیتن یاہو کو جیل بھیجو۔ پولیس نے پلے کارڈ چھین کر مظاہرہ
منتشر کرنے کیساتھ کئی منتظمین کو گرفتار کرلیا، جن پر غداری کے الزام میں قدمہ
چلے گا۔
سفارتی
محاذ بھی گرم
اسرائیلی جارحیت پر بطور احتجاج ، اسپین نے تل ابیب سے اپنا سفیر
واپس بلالیا۔ہسپانوی حکومت کے سرکاری اعلامئےکے مطابق تل ابیب میں سفیر کا منصب
ختم کر دیا گیا ہے اور آئندہ اسپین کے سفارتی مشن کی قیادت ناظم الامور (Chargé d’Affaires) کریں گے۔ سفارتی اصطلاح میں
کسی ملک سے سفیر واپس بلا کر مشن کو ناظم الامور کے سپرد کرنا دراصل دوطرفہ تعلقات
کو کم درجے پر لانا (downgrade) کہلاتا ہے، جو عموماً شدید سیاسی اختلاف یا احتجاج کا اشارہ ہے۔
مشرقِ وسطیٰ کی اس آگ میں روز نئی قبریں کُھد
رہی ہیں۔ اگر رمضان کی راتیں بھی بارود کی روشنی میں گزریں اور بچوں کے کھیل کے
میدان قبرستان میں بدل جائیں تو پھر تہذیب کے اس سفر پر فخر کیسے کیا جائے؟ تاریخ
آنے والی نسلوں سے ضرور پوچھے گی کہ اس زمانے میں جب ہر خبر لمحوں میں دنیا کے ایک
کونے سے دوسرے کونے تک پہنچ سکتی تھی، تب انسانیت کی آواز اتنی مدھم کیوں تھی۔
ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل
کراچی 20 مارچ 2026
ہفت روزہ دعوت دہلی 20 مارچ
2026
ہفت روزہ رہبر سرینگر 22 مارچ 2026