Thursday, January 15, 2026

 

غزہ: جنگ بندی، جنگ کی تیاری اور خاموش دنیا

اہلِ غزہ نے رمضان المبارک کے انتظار کا آغاز کر دیا ہے۔ یہاں رجب کا چاند نظر آتے ہی استقبالِ رمضان کی تیاریاں شروع ہو جاتی ہیں۔ طویل عرصے کے بعد بارش اور ابر آلود موسم کا سلسلہ تھما تو 3 جنوری کی رات، چودھویں کا چاند تباہ حال پٹی پر پوری آب و تاب سے جگمگایا۔ مکمل تاریکی کے باعث اہلِ غزہ نے ماہِ کامل کا بڑے اشتیاق سے نظارہ کیا۔ملبے پر کھڑے بچوں سے جب ایک صحافی نے پوچھا کہ چاند کو دیکھتے ہوئے تم زیرِ لب کیا کہہ رہے تھے، تو ایک لڑکے نے کہا:

میں تاریک غزہ پرروشنی بکھیرنے والے چاند سے کہہ رہا تھا کہ دنیا بہری ہو چکی ہے۔ ائے خوبصورت اور روشن چاند! تو ہی ہماری فریاد اپنے اور ہمارے خالق و مالک تک پہنچا دے۔

وحشی تعلیم سے خوفزدہ

اقوام متحدہ کے ادارے UNICEFکے مطابق غزہ کیلئےامدادی سامان کی جانچ پڑتال کے دوران اسکولوں کیلئے آنے والی نصابی کتب پر اسرائیل نے مکمل پابندی لگارکھی ہے۔ یونیسیف کے ترجمان کاظم ابوخلف نے کہا کہ درسی کتب کیساتھ کاپیاں، کاغذ،ربر، پینسل، مارکر تک لانے کی اجازت نہیں۔ غزہ میں اسکولوں اور اساتذہ کو چُن چُن کر نشانہ بنایا گیا۔ تقریباً تمام تعلیمی ادارے تباہ ہو گئے، مگر زندہ دل و حوصلہ مند فلسطینیوں نے خیموں میں اسکول قائم کر کے بچوں کی تعلیم کا سلسلہ دوبارہ شروع کر دیا۔ اب صبح سویرے اسکول جاتے بچے گولیوں کے خطرے کا سامنا کرتے ہیں، مگر وہ سینہ تان کر نکلتے ہیں کہ زندگی اور موت اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ ظالموں کو سب سے زیادہ خطرہ تعلیم سے ہے، کیونکہ تعلیم سوال کرنا سکھاتی ہے۔

جنگ بندی یا جنگ کی تیاری؟

ایک طرف صدر ٹرمپ خود کو "غزہ امن" کا داعی ظاہر کر رہے ہیں، دوسری جانب اسرائیل ایک نئے حملے کے لیے امریکی آشیرباد کا منتظر ہے۔ ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق اسرائیلی فوج نے مارچ میں نئے اور شدید فوجی آپریشن کے منصوبے تیار کر لیے ہیں، جن میں غزہ شہر کو نشانہ بنانے والی ایک بڑی زمینی کارروائی شامل ہے۔

اس آپریشن کا مقصد جنگ بندی کی حد، یعنی ییلو لائن کو مزید مغرب کی جانب، ساحلی پٹی کی طرف دھکیلنا ہے تاکہ غزہ کے مزید رقبے پر اسرائیلی کنٹرول قائم کیا جا سکے۔ یہ معلومات ایک اسرائیلی عہدے دار اور ایک عرب سفارت کار کے حوالے سے سامنے آئی ہیں۔ مبینہ عرب سفارت کار کے مطابق یہ کارروائی امریکا کی مکمل حمایت کے بغیر ممکن نہیں، کیونکہ واشنگٹن اکتوبر 2025 میں طے پانے والی نازک جنگ بندی کو دوسرے مرحلے تک لے جانا چاہتا ہے، جس میں مزاحمت کاروں  کو غیر مسلح کرنا بھی شامل ہے۔ یوں کہا جا سکتا ہے کہ امن مذاکرات کے سائے میں فوجی نقشے تیار کیے جا رہے ہیں۔

یہ اطلاعات محض قیاس آرائی نہیں بلکہ ایک منظم اور پہلے سے طے شدہ حکمتِ عملی کی عکاس ہیں۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ اسرائیل کے نزدیک جنگ بندی کسی مستقل امن کا ذریعہ نہیں بلکہ ایک عارضی وقفہ ہے۔ اگر نیت واقعی امن ہوتی تو زمینی کنٹرول بڑھانے، نئی حد بندیوں اور بڑے فوجی آپریشنز کی منصوبہ بندی زیرِ غور ہی نہ ہوتی۔

امریکی کردار: سوالیہ نشان

اس پورے منظرنامے میں امریکی کردار بھی سوالیہ نشان بنا ہوا ہے۔ صدر ٹرمپ سے  اس بھیانک جنگی منصوبے کو مسترد کئے جانے کی کسی کی توقع نہیں کہ واشنگٹن میں اسرائیلی اثر و رسوخ رکھنے والے حلقوں کا خوف منصفانہ فیصلوں کی راہ میں سب سے بڑی  بڑی رکاوٹ ہے۔ تل ابیب اور واشنگٹن میں جاری سفارتی سرگرمیاں اس تاثر کو مزید تقویت دے رہی ہیں کہ اصل ہدف امن نہیں بلکہ طاقت کے ذریعے نئے زمینی حقائق مسلط کرنا ہے۔

تولیدی نسل کُشی؟؟؟؟

انسانی حقوق کے کارکن اور اقوامِ متحدہ کے ماہرین غزہ میں جاری قتلِ عام کے ساتھ ایک اور نہایت سنگین جرم کی نشاندہی کر رہے ہیں، جسے Reproductive Genocide یعنی تولیدی نسل کُشی کہا جا رہا ہے۔ اس اصطلاح سے مراد وہ اقدامات ہیں جن کے ذریعے کسی قوم کی اولاد پیدا کرنے کی صلاحیت، ماؤں کی صحت اور آئندہ نسلوں کے وجود کو عملاً تباہ کر دیا جائے۔

اس الزام کی بنیاد چند تلخ حقائق پر ہے:

  • زچگی وارڈز اور تولیدی صحت کے مراکز کی منظم تباہی
  • حاملہ خواتین کو بنیادی طبی سہولتوں کے بغیر ولادت پر مجبور کرنا
  • نوزائیدہ بچوں کی اموات، غذائی قلت اور سردی سے بڑھتی ہلاکتیں
  • ایسا محاصرہ جو ماں اور بچے دونوں کی بقا کے لیے خطرہ بن چکا ہے

یہ محض زندہ لوگوں پر حملہ نہیں، بلکہ آنے والی نسلوں کے راستے بند کرنے کا عمل ہے۔اور دنیا اس عمل کو خاموشی سے دیکھ رہی ہے۔

غربِ اردن یا وادیِ گھٹن

غرب اردن میں بڑے پیمانے پر پکڑ دھکڑ جاری ہے۔ گزشتہ ہفتےخاتون صحافی اناس اخلاوی کو گرفتار کرلیا گیا۔ تلکرم سے ایک 15 سالہ بچے کو بھی اسرائیلی فوجی پکڑ کر لے گئے۔ جامعہ بیرزیت طلبہ یونین کی جانب سے غزہ میں جاں بحق ہونے والی بچی ہند رجب کے آخری لمحات پر مبنی دستاویزی فلم کی نمائش کا اہتمام کیا گیا تھا کہ اسرائیلی فوج مرکزی دروازہ توڑ کر کیمپس میں داخل ہو گئی اور طلبہ و اساتذہ پر تشدد کیا۔ آنسو گیس اور گولیوں سے کم از کم 11 افراد شدید زخمی ہوئے۔

عالمی فوج کی تعیناتی ۔۔ آذربائیجان کا انکار، بنگلہ دیش تیار

اسرائیلی بدنیتی کے تناظر میں جنگ بندی کی نگرانی کے لیے بین الاقوامی فوج کی تعیناتی کا امکان کم ہی دکھائی دیتا ہے۔ آذربائیجان کے صدر الہام علیوف واضح کر چکے ہیں کہ ان کا ملک غزہ سمیت کسی بھی بیرونی محاذ پر فوج نہیں بھیجے گا۔ دوسری جانب بنگلہ دیش کے مشیرِ سلامتی خلیل الرحمان نے غزہ میں مجوزہ بین الاقوامی استحکامی دستے (ISF)میں شمولیت میں اصولی دلچسپی ظاہر کی ہے، تاہم اس کی نوعیت یا دائرۂ کار واضح نہیں۔ امریکی محکمہ خارجہ نے اس پیش رفت پر کوئی فوری تبصرہ نہیں کیا۔

بمباری کا نہ رکنے والا سلسلہ

جمعہ، 2 جنوری کی صبح وسطی غزہ کے مغازی کیمپ پرزبردست بمباری سے بچوں سمیت 13 افراد جاں بحق اور  درجنوں شدید زخمی ہوگئے۔ ستم ظریفی کہ کئی روز  سے بارش اور مطلع ابرآلود رہنے کے بعد اسی دن دھوب نکلی تھی۔ لیکن یہ روشن صبح خون کے چھینٹوں کے ساتھ آہوں اور سسکیوں میں شانِ غریباں بن گئی۔

درندگی کی قیمت

بمباری و فوج کشی کی اہل غزہ و غربِ اردن بھاری قیمت ادا کررہے ہیں لیکن اسکے اثرات سے خود اسرائیل بھی محفوظ نہیں۔اسرائیلی فوج کا شعبہ بحالیِ معذوراں (Rehabilitation Department)شدید دباؤ کا شکار ہے۔ مزدور یونین Histadrut کے مطابق جنگ کے نتیجے میں معذور ہونے والوں کی تعداد تقریباً 82 ہزار تک پہنچ چکی ہے، جبکہ ہر ماہ اوسطاً 1500 نئے افراد رجوع کر رہے ہیں۔نئے مریضوں میں اضافے کے باوجود وزارت دفاع، عملے اور سہولتوں میں توسیع کیلئے تیار نہیں جسکی وجہ سے معذورین کی پریشانیوں میں اضافہ ہورہا ہے۔

جنگی جنون و ہیجان سے خود اسرائیلیوں کے مابین عدم برداشت میں اضافہ ہورہا ہے۔ لازمی فوجی بھرتی کے خلاف مظاہرہ کرنے حفظ توریت مدارس (Yeshiva)کے طلبہ پر تیز رفتار گاڑی چڑھادی گئی جس سے مدرسے کا ایک 18 سالہ لڑکا ہلاک ہوگیا۔

فلسطین میں تشدد پر پوپ کا اظہارِ تشویش

مسیحیوں کے روحانی پیشوا اعلیٰ حضرت پوپ لیو چہاردہم نے غربِ اردن میں بڑھتے ہوئے تشدد اور غزہ میں جاری انسانی بحران پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ فلسطینیوں کو اپنی سرزمین پر پُرامن زندگی گزارنے کا حق حاصل ہے۔ پوپ لیو نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ سفارت کاری، مکالمے اور اتفاقِ رائے کے بجائے طاقت ، دباؤ اور جنگ قابلِ قبول بیانیہ بنتی جارہی ہے۔امریکی نژاد پوپ کے اس بیان کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ جاتی ہے کہ غربِ اردن میں واقع بیت اللحم وہ مقدس مقام ہے جہاں مسیحی عقیدے کے مطابق حضرت عیسیٰؑ کی ولادت ہوئی۔ اس مقدس شہر اور اس کے گردونواح میں تشدد، جبر اور عدم تحفظ نہ صرف فلسطینی عوام بلکہ دنیا بھر کے مسیحیوں کے لیے بھی شدید تشویش کا باعث ہے۔

عالمی ردِعمل کا تسلسل: پرتگال میں ایک ریسٹورنٹ بند

عالمی سطح پر بھی اثرات نمایاں ہیں۔ پرتگال کے دارالحکومت لزبن میں ایک اسرائیلی ملکیتیMediterranean ریستوران طنطورہ (Tantura) کو مسلسل دباؤ، سوشل میڈیا مہمات اور بائیکاٹ کے باعث تالے لگ گئے۔یہی رجحان یورپ اور امریکا کے دیگر شہروں میں بھی دیکھا جا رہا ہے، جہاں بعض کاروبار بدلتی ہوئی عالمی رائے عامہ اور اخلاقی دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔ مشرق وسطئٰ کے مختلف ممالک میٰں فرانسیسی ادارے Carrefour کی بندش اسکی ایک بڑی مثال ہے۔

غزہ اور غربِ اردن آج بمباری، محاصرے اور سفارتی منافقت کی بھاری قیمت ادا کر رہے ہیں۔ لیکن تاریخ بتاتی ہے کہ طاقت کے ذریعے مسلط کیے گئے زمینی حقائق کبھی پائیدار امن میں تبدیل نہیں ہو سکے۔ سوال یہ نہیں کہ جنگ کہاں تک جائے گی بلکہ دیکھنا یہ ہے کہ دنیا کب سننا شروع کرے گی۔

ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل 16 جنوری 2026

ہفت روزہ دعوت دہلی 16 جنوری 2026

ہفتتوزہ رہبر سرینگر 18 جنوری 2026


 

Wednesday, January 14, 2026

 

ایران : تاریخ، پابندیاں، بیچینی — آگ کو ہوا دیتی عالمی سیاست

ایران میں حالیہ عوامی بیچینی کو محض داخلی معاملہ یا وقتی ردِعمل قرار دینا تاریخ سے صرفِ نظر کے مترادف ہے۔ یہ اضطراب نہ اچانک پیدا ہوا اور نہ ہی اس کی جڑیں صرف حالیہ مہنگائی یا کرنسی کی گراوٹ تک محدود ہیں۔ ایران کی موجودہ کیفیت ایک طویل تاریخی عمل، بیرونی مداخلت، معاشی پابندیوں اور مسلسل دباؤ کا منطقی نتیجہ ہے۔ جو قوتیں آج ایرانی عوام کے نام پر بیانات دے رہی ہیں، وہی ممالک گزشتہ سات دہائیوں سے اس ملک کے زخموں پر نمک چھڑکتے آئے ہیں۔

تیل کی قومی تحویل اور مغربی دنیا کی پہلی خفگی

ایران اور مغربی دنیا کے درمیان کشیدگی کا آغاز اس وقت ہوا جب ایران کے پہلے منتخب وزیراعظم محمد مصدق نے 1951 میں ملک کے تیل کے وسائل کو قومی ملکیت میں لینے کا فیصلہ کیا۔ اس وقت ایرانی تیل اور گیس کے تمام اثاثے  BPکے ذیلی ادارے اینگلو ایرانی آئل کمپنی (AIOC)کے پاس تھے۔ مصدق کا یہ فیصلہ ایرانی خودمختاری کا علامتی اظہار تھا، مگر لندن اور واشنگٹن کیلئے ناقابلِ قبول ثابت ہوا۔ امریکی صدر ڈوائٹ آئزن ہاور اور برطانوی وزیراعظم ونسٹن چرچل اس نتیجے پر پہنچے کہ مصدق اب فرمانبردار نہیں رہے اور کمیونسٹ تودہ پارٹی کے زیرِ اثر آچکے ہیں۔ اسی سوچ نے ایران کی پہلی جمہوریت کے خاتمے کی بنیاد رکھی۔

ایجیکس اور بوٹ: ایران کی پہلی جمہوریت کا خاتمہ

اگست 1953 میں امریکی سی آئی اے اور برطانوی ایم آئی 6 نے خفیہ آپریشن کے ذریعے مصدق حکومت کا تختہ الٹ دیا۔ سی آئی اے نے اسے آپریشن کوایجیکس (AJAX)جبکہ ایم آئی 6 نے بوٹ (BOOT)کا نام دیا۔ پندرہ اگست سے شروع ہونے والے اس نسبتاً پُرامن مگر فیصلہ کن کاروائی نے ایران کی پہلی جمہوری حکومت کو محض دو برس بعد ختم کر دیا۔ یہی وہ موڑ تھا جس نے ایرانی عوام کے اجتماعی شعور میں مغرب کے بارے میں مستقل بداعتمادی کو جنم دیا۔ دلچسپ اور معنی خیز بات یہ ہے کہ وینیزویلا اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کی بنیاد بھی تیل کمپنیوں کو قومی تحویل میں لینے کا فیصلہ ہی بنا۔

شاہ ایران، مغربی حمایت اور عوامی ردِعمل

 اس مداخلت کے بعد شاہ ایران کو مکمل مغربی سرپرستی حاصل رہی۔ تاہم یہ حمایت عوامی تائید میں تبدیل نہ ہو سکی اور 1978 میں اٹھنے والی عوامی تحریک کے نتیجے میں بھرپور امریکی حمایت کے باوجود 1979 میں شاہ کو ملک چھوڑنا پڑا۔ ایران، جمہوری اسلامی ریاست میں تبدیل ہو گیا اور اسی لمحے سے امریکہ اور ایران کے تعلقات معمول کی سفارتی کشیدگی سے بڑھ کر کھلی دشمنی میں داخل ہو گئے۔

ایران۔عراق جنگ: ایک طویل زخم

ایرانی موقف کے مطابق ستمبر 1980 میں عراق کا حملہ بھی امریکی اشارے پر ہوا۔ آٹھ برس جاری رہنے والی اس جنگ نے ایران کو انسانی اور معاشی دونوں اعتبار سے کھوکھلا کر دیا۔ امریکہ کے خلیجی اتحادیوں خصوصاً سعودی عرب نے اس جنگ میں عراق کی بھرپور مالی معاونت کی، جس سے خطے میں طاقت کا توازن ایران کے خلاف رکھنے کی کوشش کی گئی۔

جوہری پروگرام: تعاون سے تنازعے تک

 ایرانی جوہری پروگرام  کسی خفیہ ایجنڈے کا حصہ نہیں تھا۔ یہ 1950 کی دہائی میں امریکی تعاون سے شروع ہوا اور 1957 میں صدر آئزن ہاور نے ’ایٹم برائے امن‘ منصوبے کے تحت اس کی توثیق کی۔ مگر وقت کے ساتھ یہی پروگرام عالمی خوف کی علامت بنا دیا گیا اور اس صدی کے آغاز میں ایران پر سخت پابندیاں عائد کر دی گئیں۔

برجام: امید کی ایک مختصر کھڑکی

 مسلسل دباؤ کے باعث ایران مذاکرات پر آمادہ ہوا اور طویل بات چیت کے بعد 14 جولائی 2015 کو برجام (JCPOA)طے پایا۔ سلامتی کونسل کے پانچوں مستقل ارکان یعنی امریکہ، برطانیہ، فرانس، روس اور چین کے علاوہ جرمنی  بھی برجام  میں فریق تھے چانچہ اسے5+1معاہدہ بھی کہا جاتاہے۔ بعد میں ضامن کی حیثیت سے یورپی یونین نے بھی اس پر دستخط کئے۔برجام کی امریکی سینیٹ سے 1 کے مقابلے میں 98 اور ایوان زیریں سے 25 کے مقابلے میں 400 ووٹوں سے توثیق ہوچکی ہے۔اس معاہدے کے تحت ایران نے اپنے جوہری پروگرام کو محدود کرنے پر رضامندی ظاہر کی جبکہ بدلے میں پابندیاں اٹھانے کا وعدہ کیا گیا۔ اقوام متحدہ اور صدر اوباما نے اسے سفارتکاری کی بڑی کامیابی قرار دیا لیکن اسرائیل اس معاہدے کا سخت مخالف تھا۔

برجام سے دستبرداری اور نئی پابندیاں

 اقتدار میں آنے کے بعد صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 8 مئی 2018 کو برجام سے یکطرفہ علیحدگی اختیار کر لی اور ایران پر سخت پابندیاں دوبارہ نافذ کر دیں۔ ان پابندیوں نے ایرانی معیشت کو مفلوج کر دیا، کرنسی کی قدر گر گئی اور افراطِ زر نے عام آدمی کی زندگی کو شدید متاثر کیا۔ یہی معاشی دباؤ حالیہ عوامی بیچینی کی بنیادی وجہ ہے۔

حالیہ ہنگامے اور بیرونی کردار کے الزامات

 ابتدا میں یہ مظاہرے مہنکائی کےخلاف تھے لیکن اسرائیلی وزیراعظم اور امریکی صدر ٹرمپ نے مظاہروں کے حق میں جوشیلے بیانات دیکر یہ تاثر دیا کہ گویا ایرانی عوام ملاوں سے آزادی چاہتے ہیں۔ ایرانی حکومت الزام لگارہی ہے کہ ان ہنکاموں کی پشت پر اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد ہے۔ مظاہروں کے دوران 100 سے زیادہ سیکیورٹی افسران مارے جاچکے ہیں، جنھیں ننھے ڈرون، چھوٹے دستی بموں اور زہر میں بجھے چھروں سے نشانہ بنایا گیا۔یہ ہتھیار مبینہ طور پر اسرائیلی فوج فراہم کررہی ہے۔ سابق امریکی وزیرخارجہ مائک پومپیو نے بھی ایک نجی چینل کو انٹرویو میں کہا کہ کئی جگہ حکومت مخالف مظاہرین کی قیادت موساد کے ایجنٹ کررہے ہیں۔

پابندیاں، عوام اور دوہرا معیار

 یہ حقیقت ناقابلِ تردید ہے کہ ایرانی عوام کی مشکلات کی بنیادی وجہ امریکی پابندیاں ہیں۔ اگر واشنگٹن کو ایرانی عوام سے واقعی ہمدردی ہے تو پابندیاں ختم یا نرم کر کے انہیں راحت فراہم کی جا سکتی ہے۔ مگر اس کے برعکس، دھمکی آمیز بیانات اور اشتعال انگیزی نےامن کے بجائے کشیدگی میں اضافہ کردیا ہے۔

عدم استحکام کسی کے حق میں نہیں

 کسی ملک میں پیدا ہونے والی بیچینی سے فائدہ اٹھانا اچھی سفارتکاری نہیں۔ آج کی دنیا ایک عالمی گاؤں بن چکی ہے، جہاں کسی ایک ملک کا عدم استحکام پورے خطے بلکہ دنیا کو متاثر کرتا ہے۔ ایران کے معاملے میں تاریخ بار بار یہ بتاتی ہے کہ طاقت اور پابندیاں مسئلے کا حل نہیں بلکہ فساد کی جڑ ہیں۔ اگر عالمی امن مطلوب ہے تو آگ کو ہوا دینے کے بجائے اسے بجھانے کی سنجیدہ کوشش وقت کی ضرورت ہے

ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل کراچی 16 جنوری 2026

ہفت روزہ دعوت دہلی 16 جنوری 2026

ہفت روزہ رہبر سرینگر 18 جنوری 2026




Friday, January 9, 2026

 

یمن: علاقائی طاقتوں کی کشمکش، ٹوٹتا اتحاد اور آگ میں گھرا خطہ

فیلڈ مارشل عاصم منیر کی عسکری سفارتکاری؟؟؟؟

 جزیرۂ عرب کا جنوبی کنارہ، جسے تاریخ میں وادیِ رحمت اور سرزمینِ یُمن کہا جاتا تھا، آج بھی خون، بھوک اور بارود کی نذر ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ 2022 میں اس جنگ کے کردار واضح تھے، جبکہ 2025 میں وہی اتحادی ایک دوسرے کے مدِمقابل کھڑے دکھائی دے رہے ہیں۔

یمن کی تباہی کا آغاز کسی ایک دن یا ایک فریق سے نہیں ہوا۔ یہ ایک طویل سلسلہ ہے جس میں مقامی محرومیوں کو عالمی و علاقائی طاقتوں کی ہوسِ اقتدار نے ایندھن فراہم کیا۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے 2015 میں عاصفہ الحزم کے نام سے جو عسکری مہم شروع کی، اس کا اعلان تو یمن کی “قانونی حکومت” کی بحالی تھا، مگر عملی میدان میں یہ مداخلت یمن کو ایک اجتماعی قبر میں بدلتی چلی گئی۔

امارات: اتحادی سے حریف تک

اب ایک دہائی بعد، وہی خلیجی اتحاد خود اندر سے ٹوٹتا دکھائی دے رہا ہے۔ حالیہ دنوں میں سعودی جنگی طیاروں کی جانب سے یمنی بندرگاہ مکلا میں اماراتی فوجی سازوسامان کو نشانہ بنانا محض ایک عسکری واقعہ نہیں، بلکہ ایک کھلا سیاسی پیغام تھا۔ اس حملے کے بعد ریاض نے ابوظبی کو ایک سخت الٹی میٹم دیا:
یمن سے فوراً تمام افواج نکالی جائیں اور ملک کے اندر تمام دھڑوں کی حمایت بند کی جائے۔

امارات نے بظاہر اس دباؤ کو تسلیم کر لیا اور اعلان کیا کہ وہ یمن سے اپنی باقی ماندہ فوج بھی واپس بلا رہا ہے۔ اگرچہ ابوظبی نے حسبِ روایت اسے “اپنا خودمختار فیصلہ” قرار دیا اور سعودی الٹی میٹم کا ذکر تک نہ کیا، مگر سفارتی زبان کے پردے میں چھپا تناؤ کسی سے مخفی نہیں۔

اماراتی وزارتِ دفاع کا کہنا ہے کہ اس کی اصل فوجی موجودگی تو 2019 میں ہی ختم ہو چکی تھی اور باقی اہلکار صرف انسدادِ دہشت گردی کے لیے تھے۔ مگر سوال یہ ہے کہ اگر سب کچھ معمول کے مطابق تھا تو سعودی طیاروں نے اماراتی اہداف کیوں بمباری کی؟ اور ریاض کو 24 گھنٹے کی ڈیڈ لائن دینے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟

مسکراہٹوں میں ملفوف گرم اشارے؟؟

یہ پیش رفت ایک ایسے وقت پر ہوئی ہے جب صرف ایک دن پہلے اماراتی صدر نے اسلام آباد میں فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقات کی اور اسی حوالے سے  سعودی پاکستان دفاعی تعاون میں پیش رفت کی بھی خبریں ہیں۔ اگرچہ کوئی سرکاری بیان ان نکات کو براہِ راست جوڑ نہیں رہا، مگر علاقائی سیاست میں ایسے اتفاقات اکثر محض اتفاق نہیں ہوتے۔کیا ٰیمن سے امارات کا بلا مزاحمت  انخلا فیلڈ مارشل صاحب کی سفارتی کامیابی مسکراہٹوں میں ملفوف گرم اشاروں کا نتیجہ ہے؟

سقطریٰ، عدن اور مفادات کی جنگ

حقیقت یہ ہے کہ یمن میں جنگ اب صرف حوثیوں یا منصور ہادی کی واپسی کا مسئلہ نہیں رہی۔ یہ جنگ بندرگاہوں، آبی شاہراہوں اور تنگ گزرگاہوں یا Choke Points پر کنٹرول کی ہے۔امارات کی نظریں شروع دن سے عدن، المکلا اور خصوصاً جزیرہ سقطریٰ پر تھیں۔ خلیجِ عدن اور بحرِ عرب کے سنگم پر واقع یہ جزیرہ خطے کی بحری سیاست میں سونے کی کنجی سمجھا جاتا ہے۔ یہی مفادات سعودی عرب اور امارات کو ایک ہی مورچے میں زیادہ دیر اکٹھا نہ رکھ سکے۔

سوڈان سے یمن تک ایک ہی کہانی

یہی فساد سوڈان میں بھی نظر آتا ہے، جہاں امارات مختلف عسکری دھڑوں کی سرپرستی کے ذریعے بندرگاہوں اور سونے کی کانوں تک رسائی چاہتا ہے۔ یمن ہو یا سوڈان، نیت و حکمت ایک ہی ہے یعنی ریاست کو کمزور اور بغل بچہ دھڑوں کو مضبوط کرکے وسائل ہتھیائے جائیں۔

حوثی، اسرائیل اور باب المندب

حوثی تحریک اب محض یمنی خانہ جنگی کا فریق نہیں رہی۔ غزہ پر اسرائیلی جارحیت کے بعد بحیرۂ احمر اور باب المندب میں اسرائیلی و مغربی مفادات کو نشانہ بناکرحوثی خود کو ایک موثر و پرعزم علاقائی کھلاڑی ثابت کرچکے ہیں۔دوسری طرف یمن کی جنگ اب ایران سعودی مخاصمت سے بلند ہوکر اسرائیل، امریکہ اور خلیج کے وسیع تر تنازعہ کا حصہ ہے۔

تباہی کا اصل چہرہ

ان تمام جغرافیائی شطرنجی چالوں کا خمیازہ یمنی عوام بھگت رہے ہیں جن کے لیے اب زندہ رہنا بھی ایک جنگ بن چکا ہے۔ہسپتال خالی، ایمبولینس ناپید، پینے کا پانی زہر آلود اور بھوک ایک ہتھیار کی صورت استعمال ہو رہی ہے۔ اتحادی بدل رہے ہیں، بیانات کی زبان نرم و گرم ہو رہی ہے، مگر یمن کے لیے کچھ نہیں بدلا۔ سعودی–اماراتی دراڑ یہ واضح کر رہی ہے کہ یہ اتحاد اصولی نہیں  بلکہ علاقاتی بالا دستی اور وسائل کی بندربانٹ کیلئے تھا۔جب تک یمن کو علاقائی طاقتوں کی تجربہ گاہ بنائے رکھا جائے گا، امن محض ایک سراب رہے گا۔

ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل کراچی 9 جنوری 2026

ہفت روزہ دعوت دہلی 9 جنوری 2026


غزہ سے مغربی کنارے تک: نئے سال میں بند ہوتے امن کے دروازے

اہلِ غزہ نے 2024 اور 2025 کی طرح موجودہ نئے سال کو بھی بمباری اور گولہ باری کی گھن گرج میں خوش آمدید کہا۔ مائیں شدید سردی، بارش اور تیز ہوا میں کھلے آسمان تلے اپنے بچوں کو سینے سے لگائے بیٹھی تھیں، کیونکہ یہاں شیر خواروں کیلئے سردی سے بچاؤ کا واحد ذریعہ مامتا کی حرارت ہے۔

نئے سال پر “New Year’s Resolution” کا شور عموماً وزن کم کرنے، صحت بہتر بنانے یا بری عادات چھوڑنے کے گرد گھومتا ہے۔ مگر جب الجزیرہ کے رپورٹر نے سات بچوں کے ساتھ ایک خیمے میں بیٹھی غزہ کی ثنا سے اس کا نیا عہد پوچھا تو تو اس نے سادگی سے کہا اگر ہر ہفتے پانچ کلو آٹا مل جائے تو یہی میرا رزولوشن ہے۔ یہ ایک جملہ غزہ کی پوری الم ناک حقیقت بیان کرنے کیلئے کافی ہے۔

اعدادوشمار جو لرزا دیتے ہیں

نام نہاد جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی کارروائیاں جاری رہیں۔ گزشتہ سال کے دوران:

  • انتیس   ہزار سے زائد فلسطینی جاں بحق ہوئے، جن میں اکثریت خواتین، بچوں اور بزرگوں کی تھی۔
  • پانچ سو فلسطینی بھوک سے دم توڑ گئے، جن میں 165 بچے شامل ہیں۔
  • ساٹھ ہزار  افراد شدید زخمی ہوئے۔
  • گردوں کے 600 مریض ڈائیلاسس نہ ملنے سے ٹڑپ تڑپ کر مرگئے۔
  • طبی سہولتوں کی عدم فراہمی  کے باعث ساڑھے سات ہزار اسقاطِ حمل (miscarriages) ریکارڈ ہوئے
  • شدید سردی میں نوزائیدہ بچوں سمیت ساڑھے 4 ہزار افراد جاں بحق ہوئے
  • طوفان سے عمارتیں گرنے کے باعث 19 افراد زندہ دفن ہو گئے

یہ سب اعداد نہیں، انسان تھے۔

جب خیمے بھی محفوظ نہ رہیں

رہائشی عمارتیں مسمار کرنے کے بعد اب خیمے نشانہ بن رہے ہیں۔ غزہ میں ہر سمت وہ مناظر بکھرے ہیں جہاں سینکڑوں خاندان اپنا کل اثاثہ سروں پر رکھے ایک نئی پناہ کی تلاش میں بھٹک رہے ہیں۔اپنے ہی وطن میں دربدر ہونا شاید سب سے گہرا انسانی زخم ہے۔

تعلیم سے خوف: کتاب دشمنی کی سیاست

اسرائیلی جارحیت نے تعلیم کو بھی جنگی ہدف بنا لیا ہے۔ اساتذہ، تعلیمی عملہ، اسکول اور جامعات سب نشانے پر ہیں۔ شاید اس لیے کہ تعلیم سوال کرنا سکھاتی ہے جو طاقتوروں کوناگوار ہیں۔ گزشتہ برس اسرائیل نے غزہ میں 7488 طالب علموں کو قتل کیا اوران حملوں میں 10577 طلبہ و طالبات زخمی ہوئے، غرب اردن میں 38 طلبہ اپنی جانوں سے گئے، 327 زخمی اور 324 عقوبت کدوں کی زینت بنے۔ غزہ میں اساتذہ اور غیر تدریسی عملے کی 45 افراد پیوند خاک ہوئے، 912 معماران قوم زخمی ہیں جبکہ غرب اردن میں 48 اساتذہ گرفتار کئے گئے۔

ثالث یا فریق؟ “جہنم” کی دھمکی اور امریکی دوہرا معیار

دوسری طرف غزہ کو جہنم بنادینے کی رٹ جاری ہے۔ اپنی پُرتعیش تفریح گاہ میں اسرائیلی وزیرِاعظم سے ملاقات کے دوران صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر خبردار کیا کہ اگر غزہ میں مزاحمت کار غیر مسلح نہ ہوئے تو “جہنم کے دروازے کھول دیے جائیں گے۔ ستم ظریفی کہ جہنم کی دھمکیاں اس قوت کی جانب سے آ رہی ہیں جس کی سیاسی، عسکری اور سفارتی سرپرستی نے پہلے ہی اس خطے کو جہنم بنا رکھا ہے۔ طاقتور جب ثالثی کا لبادہ اوڑھ لے تو اس کی حقیقت الفاظ سے نہیں، اعمال سے عیاں ہوتی ہے۔ یہ حقیقت بھی نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ قیدیوں کی رہائی صدر ٹرمپ کی دی گئی یقین دہانیوں پر ہوئی، مگر اس کے باوجود نہ جارحیت رکی، نہ محاصرہ ختم ہوا۔ جنگ بندی کے اعلان کے بعد بھی سینکڑوں فلسطینی مارے جا چکے ہیں، جبکہ شدید سردی میں لاکھوں انسان بنیادی ضروریات سے محروم ہیں۔ مزاحمت کاروں کو غیر مسلح کرنے کے حوالے سے انتہائی منصفانہ موقف نیویارک کے رئیس شہر زہران ممدانی کا ہے جو کہتے ہیں کہ مزاحمت کار اور اسرائیل دونوں کو اپنا اسلحہ رکھدینا چاہئے کہ یہی جنگ بندی کی حقیقی روح ہے۔

یورپ کی تشویش اور بے بسی

عالمی سطح پر تشویش کے بیانات کی کمی نہیں۔، فرانس، کینیڈا اور جاپان سمیت دس ممالک کے وزرائے خارجہ نے باضابطہ طور پر خبردار کیا ہے کہ غزہ کی انسانی صورتِ حال “تباہ کن” سطح پر پہنچ چکی ہے۔ شدید سردی، بارش، تباہ شدہ بنیادی ڈھانچہ، ناکارہ اسپتال اور لاکھوں بے گھر انسان, اب محض رپورٹس نہیں بلکہ ایک کھلی ہنگامی صورتحال ہے۔تاہم  معاملہ تشویش کے بیانات سے آگے نہیں بڑھ رہا ور اسرائیل کو عملی، ٹھوس و مؤثر دباؤ کا سامنا نہیں، جبکہ محاصرہ، پابندیاں اور امدادی کاموں میں رکاوٹیں بدستور جاری ہیں۔

دو ریاستی حل کا جنازہ

یورپی یونین کے زعما کو کچھ ایسی ہی تشویش غرب اردن میں اسرائیل کی توسیع پسندانہ پالیسیوں پر بھی ہے۔ برطانیہ، کینیڈا، فرانس، جرمنی، ڈنمارک اور اسپین سمیت 14 یورپی ممالک نے مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیل کی جانب سے 19 نئی بستیوں (Settlements) کی منظوری پر سخت تشویش اور مذمت کا اظہار کیا ہے۔ ان ممالک کے مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ یہ اقدام بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہے۔ اس قسم کی قبضہ گرد کاروائیوں سے غزہ کی جنگ بندی کیساتھ خطے میں طویل المدت امن و سلامتی کے امکانات مزید کمزورہورہے ہیں۔

اسرائیلی حکومت نے اس بین الاقوامی مذمت کو مسترد کرتے ہوئے اسے یہودیوں کے خلاف امتیازی رویّہ قرار دیا۔ اسرائیلی وزیرِ خارجہ گیڈیون ساعر کا کہنا تھا کہ غیر ملکی حکومتیں یہودیوں کے اسرائیلی سرزمین پر رہنے کے حق کو محدود نہیں کر سکتیں۔ اس خبر کا سب سے اہم اور چونکا دینے والا پہلو اسرائیلی وزیرِ خزانہ بیزالیل سموترچ کا کھلا اعتراف ہے، جنہوں نے صاف صاف  کہا کہ'ہم زمین پر فلسطینی ریاست کے قیام کو روک رہے ہیں۔' یہ بیان اس حقیقت پر آخری مہر ہے کہ مغربی کنارے میں بستیوں کی توسیع کوئی وقتی یا سیکیورٹی نوعیت کا اقدام نہیں بلکہ ایک منظم ریاستی پالیسی ہے، جس کا واحد مقصد دو ریاستی حل کو ہمیشہ کے لیے دفن کرنا ہے۔

یورپی ممالک، اسرائیلی جارحیت پر تو محض لفظی مذمت تک محدود ہیں، لیکن اپنے ملکوں میں انھوں نے غزہ سے ہم آہنگی کیلئے ہونے والے مظاہروں پر Antisemitism اور امنِ عامہ کے نام پر پابندیاں عائد کررکھی ہے یعنی سفارتی دباؤ کے بجائے اسرائیل کو مکمل سیاسی تحفظ فراہم کیا جارہا ہے۔یہ تضاد اس حقیقت کو بے نقاب کرتا ہے کہ اصل کھیل طاقت، مفادات اور ترجیحات کا ہے ، حسین بیانات، مشغلہ زبان سے زیادہ کچھ نہیں۔

اسلامی دنیا: تشویش بہت، اقدام کم

اسلامی ممالک کو بھی غزہ کی صورتحال پر سخت تشویش ہے، دو جنوری کو پاکستان، مصر، انڈونیشیا، اردن، قطر، ترکیہ، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے وزرائے خارجہ نے غزہ کی پٹی میں بگڑتی ہوئی انسانی صورتحال پر اپنی گہری تشویش کا اظہار کیا ہے جو شدید، سخت اور غیر مستحکم موسمی حالات بشمول موسلا دھار بارشوں اور طوفانوں کے باعث مزید سنگین ہو چکی ہے۔لیکن یہاں بھی معاملہ گفتند و برخواستند سے آگے نہ بڑھا۔ جب دنیا ایک انسانی بحران کو “catastrophic” کہہ رہی ہو تو مطالبہ و مذمت میں مظلوموں کیلئے راحت کا کوئی سامان نہیں

روشن سنگِ میل

سال کے اختتامی ہفتے الشفا ہسپتال کے ملبے پر نئے ڈاکٹروں کا جلسہ تقسیم اسناد منعقد ہوا اور آتش آہن کی کبھی نہ رکنے والی بارش میں طب کی تعلیم مکمل کرلینے والے 170 حوصلہ مند حضرات و خواتین کو طب کی اسناد عطاہوئیں۔

جہاں اسرائیل کی انتہا پسند حکومت اخلاقیات کے زوال کو چھو رہی ہے وہیں یہودی مذہب سے تعلق رکھنے والے سلیم الفطرت افراد ان مظالم پر آواز بھی بلند کررہے ہیں۔ گزشتہ ہفتے یہودی اداکارہ Odessa A’Zion نے کہا کہ 'میں یہودی ہوں، مگر صیہونیت یا کسی سرکاری پالیسی کی حامی نہیں' ۔ سوشل میڈیا پر جوانسال اوڈیسا نے دوٹوک اعلان کیا کہ وہ اسرائیلی فوج، کسی حکومتی قیادت یا وزیرِ اعظم کے فیصلوں کی حامی نہیں، اور انسانی سطح پر ان کی ہمدردی فلسطینی عوام کے ساتھ ہے۔اوڈیسا نے یہ بھی اعتراف کیا کہ پانچ سال قبل اسرائیلی فوج کی ٹی شرٹ پہن کر تصویر پوسٹ کرنا ایک ایسی چیز تھی، جس پر آج وہ ندامت محسوس کرتی ہیں، اور کہتی ہیں کہ کاش وہ ایسا نہ کرتیں

غزہ صرف فلسطینیوں کا زخم نہیں، یہ عالمی ضمیر کا امتحان ہے۔تاریخ یہ ضرور یاد رکھے گی کہ نئے سال کی شب جب دنیا آتش بازی کے نظارے دیکھ رہی تھی وہیں بمباری کے شور میں سردی سے ٹھٹھرتی غزہ کی مائیں اپنے بچوں کو سینوں سے لگائےانکی زندگی کی دعائیں مانگ رہی تھیں۔

ہفت روزہ فرائیڈے اسیشل کراچی 9 جنوری 2026

ہفت روزہ دعوت دہلی 9 جنوری 2026

ہفت روزہ رہبر سرینگر 11 جنوری 2026


 



Wednesday, January 7, 2026

 

ریجیم چینج، منشیات یا وسائل؟

وینزویلا اور لاطینی امریکہ میں امریکی مداخلت کی پرانی کہانی

بین الاقوامی سیاست میں بعض واقعات اپنی نوعیت میں اتنے واضح ہوتے ہیں کہ اُن پر سوال اٹھانا محض حق نہیں بلکہ ذمہ داری بن جاتا ہے۔ وینزویلا میں امریکی فوجی مداخلت بلکہ جارحیت اور اس کے فوراً بعد صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیانات نے اس سوال کو زندہ کر دیا ہے کہ کیا امریکہ واقعی دنیا میں جمہوریت، استحکام اور انسانی حقوق کا علمبردار ہے، یا پھر یہ سب قدرتی وسائل کے حصول کے لیے اختیار کیے گئے دلکش نعرے ہیں؟

صدر ٹرمپ نے قوم سے خطاب میں اعلان کیا کہ امریکہ وینزویلا کو اُس وقت تک “خود چلائے گا” جب تک وہاں ایک “محفوظ، مناسب اور دانشمندانہ سیاسی منتقلی” ممکن نہیں ہو جاتی۔ اسی خطاب میں یہ بھی کہا گیا کہ امریکی تیل کمپنیاں وینزویلا میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کریں گی، تباہ شدہ انفراسٹرکچر کو درست کریں گی اور تیل کی پیداوار بڑھائیں گی۔ یہ اعلانات خود اس مداخلت کے اصل محرک کی نشاندہی کر دیتے ہیں۔

اقتدار اور تیل: اصل تصویر

سوال یہ نہیں کہ نکولس مادورو اچھے حکمران تھے یا برے۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا کسی ملک کی حکومت گرا کر اس کے قدرتی وسائل کو اپنی کمپنیوں کے حوالے کر دینا جمہوریت ہے؟۔جب اقتدار کی باگ ڈور “عارضی طور پر” سنبھالنے کا اعلان، اور اسی سانس میں تیل کمپنیوں کے لیے دروازے کھولنے کی بات ہو، تو نیت اور دعوے کے درمیان فاصلہ خود بخود نمایاں ہو جاتا ہے۔

اندھیروں میں کی گئی کارروائی

صدر ٹرمپ کے مطابق، امریکی فوج نے آپریشن کے دوران وینزویلا کے دارالحکومت کراکس کی بجلی منقطع کر دی تاکہ عسکری کارروائی باآسانی کی جا سکے۔ ایک خودمختار ملک کو اندھیروں میں دھکیل کر اس کی حکومت کا تختہ الٹ دینا، کسی انسدادِ منشیات آپریشن یا امن مشن سے زیادہ کنٹرول اور اجارہ داری کا روایتی حربہ دکھائی دیتا ہے، یعنی وہی سامراجی حربے جو دنیا ماضی میں بارہا دیکھ چکی ہے۔

ٹرمپ–مادورو ذاتی مخاصمت

یہ حقیقت بھی نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ صدر ٹرمپ اور نکولس مادورو کے تعلقات ابتدا ہی سے کشیدہ رہے۔ ٹرمپ انتظامیہ نے مادورو کو طویل عرصے تک “ناجائز حکمران” قرار دیا، سخت پابندیاں عائد کیں اور کھلے عام فوجی مداخلت کی دھمکیاں دیتی رہی۔ لیکن یہ مخاصمت محض سیاسی نہیں تھی۔ یہ اس انکار پر مبنی تھی جو مادورو نے امریکی اثر و رسوخ، معاشی اجارہ داری اور خارجہ دباؤ کے سامنے کیا۔

تیل: اصل محرک

وینزویلا دنیا کے ان چند ممالک میں شامل ہے جہاں تیل کے بڑے ذخائر موجود ہیں۔ماہرین کے مطابق یہاں دریافت شدہ ذخائر کا تخمینہ تین سو ارب بیرل سے زیادہ ہے۔ان ذخائر نے وینزویلا کو عالمی توانائی کی سیاست میں غیر معمولی مقام عطا کیا ہے۔ایسے میں یہ سوال بالکل فطری ہے کہ کیا مسئلہ وینزویلا کی سیاست تھی، یا اُس کی دولت؟۔امریکی صدر کا یہ کہنا کہ “ہم اپنی بڑی تیل کمپنیوں کو وہاں بھیجیں گے اور وہ ملک کے لیے پیسہ کمائیں گی” اس دعوے کو کمزور کر دیتا ہے کہ یہ مداخلت عوامی فلاح یا جمہوری بحالی کے لیے تھی۔

لاطینی امریکہ: ایک آزمودہ تجربہ

وینزویلا کوئی پہلا ملک نہیں۔ لاطینی امریکہ کی تاریخ ایسی مثالوں سے بھری پڑی ہے جہاں جمہوریت اور انسانی حقوق کے نام پر امریکہ کی جانب سے فوجی مداخلت کی گئی۔ چند مثالیں نذرِ قارئین ہیں۔

·        پاناما میں سربراہِ حکومت کی گرفتاری۔۔۔ 1989

·        چلی میں منتخب صدر کا خاتمہ۔۔۔ 1973

·        گوئٹے مالا (1954) اور نکاراگوا(1981) میں بے نام یا مجازی  (Proxy) جنگیں

·        ڈومینیکن ریپبلک (1965) اور ہونڈوراس (2009) میں فوجی بغاوتیں

ہر بار بیانیہ مختلف رہا، مگر طریقہ اور نتیجہ تقریباً ایک جیسا۔

آج امریکی برسراقتدار ریپبلکن پارٹی کے انتہا پسند حلقے کھلے عام کیوبا اور میکسیکو کے بارے میں مداخلت کی زبان استعمال کر رہے ہیں۔ خود صدر ٹرمپ نہرِ پاناما پر کنٹرول اور گرین لینڈ کو امریکہ کا حصہ بنانے کی خواہش کا برملا اظہار کر چکے ہیں۔
یہ سب اس بات کی یاد دہانی ہے کہ طاقتور ریاستوں کی توسیع پسندانہ خواہشات وقت کے ساتھ ختم نہیں ہوتیں، صرف ان کے نعرے بدل جاتے ہیں۔

تاریخ خود کو دہرا رہی ہے

عراق میں “تباہ کن ہتھیار، لیبیا میں “انسانی تحفظ،افغانستان میں “دہشت گردی کے خلاف جنگ، ہر بار جواز نیا تھا، مگر اصل محرک وہی: کمزور ریاستیں، بکھرا معاشرہ، اور قدرتی وسائل پر بیرونی کنٹرول۔

اب وینزویلا بھی اسی فہرست میں شامل ہوتا دکھائی دیتا ہے، جہاں جمہوریت کے نام پر طاقت اور امن کے وعدوں کے پیچھے معاشی مفادات کارفرما ہیں۔ اگر مقصد واقعی جمہوریت کی بحالی تھا، تو سب سے پہلا اعلان انتخابات کا ہونا چاہیے تھا، تیل کمپنیوں کا نہیں۔اگر مقصد عوامی فلاح تھا، تو اندھیروں میں بمباری کیوں؟ یہ سوال اب صرف وینزویلا کے عوام کا نہیں، بلکہ پوری دنیا کا ہے کہ کیا اکیسویں صدی میں بھی عالمی سیاست وسائل کی بندربانٹ ہی کے گرد گھومے گی، یا کبھی اصول، خودمختاری اور انصاف کو بھی حقیقت کا روپ ملے گا؟

ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل کراچی 9  جنوری 2026

ہفت روزہ دعوت دہلی 9 جنوری 2026