Thursday, October 29, 2026

 

فلسطین: خون، بھوک اور  شناخت کی جنگ

 نسلی تطہیر، زمین و روزگار پر حملے، امداد میں کمی

 اسرائیلی انتخابات میں فلسطین مخالف نعروں کی سیاست

غزہ میں خونریزی بدستور جاری ہے۔ اٹھارہ اکتوبر کو اسرائیلی فوج نے  صبح سویرے  المغزی کے علاقے میں ایک سات سالہ لڑکی مسک الدالو کو گولی ماردی اور کچھ ہی دیر بعد بیت لاہیہ میں ایک بچہ، تعمر صبوح ان درندوں کا نشانہ بنا۔گویا ایک ہی دن میں دو معصوم بچوں کا خون بہہ گیا۔عینی شاہدین کے مطابق، دونوں بچوں کو قریب سے گولی ماری گئی۔ اسکے دودن بعد نصیرات خیمہ بستی پر بمباری میں ایک، 21 اکتوبر کو غزہ شہر میں ایک اور پھر 25 اکتوبر کو مزید ایک فلسطینی اپنی جان سے گیا۔نام نہاد جنگ بندی کے باوجود غزہ میں فلسطینیوں کا قتل عام جاری ہے ۔

الخلیل کی نسلی تطہیر

غربِ اردن کے شہر الخلیل (ہیبرون) میں 23 اکتوبر کو ایک فوجی چوکی پر فائرنگ سے دو اسرائیلی فوجی ہلاک اور تین زخمی ہوگئے۔ فوجی اعلامئے کے مطابق دونوں مبینہ حملہ آور ماردئے گئے لیکن تحقیق و تلاش کے نام پر سارا غرب اردن تادم تحریر محصور ہے اور اس ناکہ بندی یا لاک ڈاون کا حکم براہ راست وزیراعظم نیتن یاہو نے جاری کیا ہے۔ سڑکیں بند اور غیر اعلانیہ کرفیو لگاکر الخلیل میں غرب اردن کی نسلی تطہیر (Ethnic Cleansing) کا آغاز ہوچکا ہے۔ واقعے کے دوسرے دن تک  دوسو مکانات گراکر عورتوں اور چھوٹے بچوں سمیت 1500افراد اردنی سرحد کی طرف دھکیل دئے گئے۔ خیال ہے کہ اگلے چند دنوں  میں مزید تین سو مکانات منہدم کردئے جائینگے اور اسکے نتیجے میں ہزاروں افراد بے گھر ہونگے۔

بھوک کا پھیلتا بحران اور اقوامِ متحدہ کے وسائل میں کمی

الجزیرہ کے مطابق، اقوامِ متحدہ کے عالمی غذائی پروگرام (WFP) نے فنڈز کی قلت کے باعث ستمبر سے غربِ اردن میں امداد حاصل کرنے والوں کی تعداد چار لاکھ سے گھٹا کر دو لاکھ کردی، جبکہ تقریباً نو لاکھ فلسطینی غذائی عدم تحفظ کا شکار ہیں۔ مسئلہ صرف خوراک کی کمی نہیں۔ گھر، روزگار اور معاش کے ذرائع سے محرومی نے بھی زندگی دشوار کردی ہے۔ اسرائیلی فوجی کارروائیوں سے خاندان بے گھر ہوئے، آبادکاروں کے حملوں سے کھیتوں اور زیتون کے باغات کو نقصان پہنچا، اور نقل و حرکت کی پابندیوں نے ہزاروں فلسطینی مزدوروں کے روزگار کو متاثر کیا۔

غزہ میں بھوک سے نڈھال بچوں کی تصویریں دیکھنے کی دنیا عادی ہوچکی ہے اور اب غربِ اردن میں بھی غذائی بحران سنگین صورت اختیار کررہا ہے۔ نقل و حرکت اور امدادی تنظیموں کے کام میں رکاوٹوں کی اطلاعات اپنی جگہ، لیکن WFP نے حالیہ امدادی کٹوتی کی براہِ راست وجہ فنڈز کی کمی بتائی ہے۔ سوال یہ ہے کہ خطے کے مال دار عرب اور اسلامی ممالک ہنگامی بنیادوں پر آگے کیوں نہیں آتے؟ کیا وہ عالمی غذائی پروگرام اور دوسری امدادی تنظیموں کو اضافی وسائل فراہم کرکے امداد بحال نہیں کراسکتے؟ فلسطینیوں کی حمایت کے اعلانات کرنے والی حکومتوں سے یہ سوال ضرور پوچھنا چاہیے۔ جب بے گھر خاندان روٹی خریدنے سے بھی محروم ہوں تو محض بیانات کافی نہیں۔

چار مسلم ممالک کا مشترکہ مؤقف اور عملی اقدامات کی ضرورت

اسی دوران استنبول میں سعودی عرب، ترکیہ، مصر اور پاکستان کے وزرائے خارجہ نے مشترکہ بیان میں کہا کہ اسرائیلی قبضہ مشرقِ وسطیٰ اور اس سے آگے عدم استحکام کا بنیادی سبب ہے۔ چاروں ممالک نے 1967ء سے پہلے کی سرحدوں کی بنیاد پر ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام اور مشرقی بیت المقدس کو اس کا دارالحکومت بنانے کے مؤقف کا اعادہ کیا۔وزرائے خارجہ نے غربِ اردن اور مشرقی بیت المقدس میں اسرائیلی قبضہ بستیوں کی توسیع روکنے، آبادکاروں کے حملے بند کرانے، غزہ میں انسانی امداد کی بلاتعطل فراہمی اور تعمیرِ نو تیز کرنے پر بھی زور دیا۔ یہ مطالبات اہم اور قابل تحسین ہیں،لیکن فلسطینیوں کو صرف ہمدردی کے الفاظ نہیں، خوراک، علاج، محفوظ پناہ گاہ اور اپنے گھروں کو واپس جانے کا حق بھی درکار ہے۔ عرب اور اسلامی ممالک کی سفارت کاری اسی وقت مؤثر ثابت ہوگی جب اس کے ساتھ انسانی امداد اور شہریوں کے تحفظ کے لئے ٹھوس اقدامات بھی دنیا کو نظر آئیں۔

زیتون کے بعد صبّار کے باغات بھی نشانے پر

غرب اردن اور جنوبی لبنان میں زیتون کے درخت اور باغات انتہاپسندوں کا خاص نشانہ ہیں۔ لیکن اب کانٹے دار صحرائی پودا ناک پھنی (عربی نام صبّار) بھی ان فسادیوں سے محفوظ نہیں۔ فلسطینی خبر رساں ایجنسی وفا کے مطابق قبضہ گردوں نے الخلیل کے قصبے خِربۃ صوبا  میں صبّار کے باغات پر  کام کرنے والے فلسطینی مزدوروں کو حملہ کرکے زخمی کردیا اور اسرائیلی فوج نے ایمبولینس کو زخمیوں تک پہنچنے سے روکا۔صبّار محض ایک کانٹے دار پودا نہیں۔ اس کے پھل خوراک اور تجارتی مصنوعات میں استعمال ہوتے ہیں، جبکہ اس کے بعض حصے مویشیوں کے چارے کے کام آتے ہیں۔ اس کی کاشت دیہی آبادی کے لئے آمدنی اور روزگار کا اہم ذریعہ ہے۔

صبّار: آبائی زمین اور فلسطینی شناخت کی علامت

فلسطینی معاشرے میں صبّار کی اہمیت معاشی فوائد سے کہیں آگے ہے۔ یہ دیہی زندگی، آبائی زمین اور ثابت قدمی کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ گھروں اور کھیتوں کی حدبندی کے لیے صبّار کی کانٹے دار باڑھیں لگائی جاتی ھیں۔ بعض مقامات پر آج بھی یہ پودے ان زمینوں کی یاد دلاتے ہیں جن سے فلسطینی خاندان بے دخل ہوئے یا جن سے ان کا روایتی تعلق چھن گیا۔ اسی تاریخی پس منظر میں صبّار فلسطینیوں کی اپنے وطن سے وابستگی اور واپسی کی امید کی علامت بھی بن گیا ہے۔ زیتون ہو یا صبّار، فلسطینیوں کی زمین اور اس سے وابستہ معاش ان کی زندگی اور شناخت کا حصہ ہیں جنھیں مٹانے کی منظم کوششیں کی جارہی ہیں۔

اسرائیلی انتخابات: ’’یمین یا فلسطین‘‘ کا نعرہ

جب قارئین یہ سطور پڑھ رہے ہوں گے تو ممکن ہے اسوقت تک اسرائیلی انتخابات کے نتائج سامنے آچکے ہوں۔ ان انتخابات میں فلسطین،  حکمران و حزب اختلاف دونوں کا انتخابی نکتہ بنا ہوا ہے۔ غزہ اور غربِ اردن کی مکمل تباہی کے باوجود فلسطینی ریاست اسرائیلی رہنماوں کے سرپر سوار ہے اور اسے سیاسی خوف اور مخالفت کے تناظر میں پیش کیا جارہا ہے۔

نیتن یاہو کی انتخابی مہم کا نمایاں نعرہ ״ימין או פלסטין״  ’’یمین یا فلسطین‘‘، یعنی ’’دایاں بازو یا فلسطین‘‘ ہے۔ عربی کی طرح عبرانی میں بھی دائیں کو یمین کہتے ہیں۔اس نعرے کے ذریعے فلسطینی ریاست کے قیام کو دائیں بازو کے اقتدار کے مقابل ایک خطرے کے طور پر پیش کیا جارہا ہے۔ انتخابی جائزوں کے مطابق، فلسطین کا سوال ووٹروں کو متحرک کرنے اور سیاسی مخالفین کو گھیرنے کی حکمتِ عملی کا حصہ بن چکا ہے۔

نوجوان نسل اور فلسطین مخالف سیاست

دنیا بھر میں نوجوان نسل جسے عموماً جنریشن زی (Gen Z) کہا جاتا ہے، انتہاپسندی کے بجائے انصاف، مساوات، شہری حقوق اور مذہبی رواداری کے لیے آواز اٹھا رہی ہے  لیکن حالیہ جائزے کے مطابق اسرائیلیGen Z فلسطینیوں سے شدید نفرت میں مبتلا ہیں۔ چنانچہ نیتن یاہو اور انکے مذہبی اتحادیوں نے آنے والے انتخابات میں ساری توقعات اپنے نوجوانوں سے باندھ رکھی ہیں۔ اسی لئے 'یمین یمین نہ کہ فلسطین' اسرائیل میں مقبول انتخابی نعرہ ہے

ٹرمپ کی حمایت اور مذہبی شناخت کا سوال

اسرائیلی انتخابات سے چند روز پہلے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نیتن یاہو المعروف بی بی کی کھل کر حمایت کی۔ اپنے بیان میں انہوں نے بی بی کو ’’عظیم جنگجو وزیراعظم‘‘ اور ایران کے خلاف جنگ میں ’’امن کا بڑا شراکت دار‘‘ قرار دیا۔ ٹرمپ نے یہ تاثر بھی دیا کہ ان انتخابات میں اگر نیتن یاہو شکست کھاگئے  تو ایران کے خلاف کارروائی کی ذمہ داری امریکہ کو اکیلے اٹھانا پڑسکتی ہے۔ قطع نظر اس بات سے کہ دوسرے ملک کے انتخابات میں امریکی صدر کی جانب سے کسی امیدوار کی حمائت کو ذاتی دوستی کا اظہار سمجھا جائے یا انتخابی عمل میں بیرونی مداخلت، بیان میں ٹرمپ کی زبان کا پہلو بھی قابلِ غور ہے۔ ایران کے خلاف بات کرتے ہوئے وہ بار بار اسے 'اسلامک' ریپبلک آف ایران کہتے ہیں حالانکہ عام گفتگو میں اکثر ممالک کو ان کے معروف مختصر ناموں سے پکارا جاتا ہے۔ جب یہ نام ایران کو فوجی دشمن کے طور پر پیش کرنے، اسلامی شناخت کو نمایاں کرنے اور مسلمانوں سے متعلق تضحیک آمیز بیانات کے ساتھ استعمال ہو تو اس سے صاف ظاہر ہے کہ ایرانی حکومت پر تنقید کے ساتھ مذہبی شناخت کو بھی عوامی ردعمل بھڑکانے کے لیے نمایاں کیا جارہا ہے۔ مشی گن میں سینیٹ کیلئے مسلمان امیدوار عبدالسید کے معاملے میں ٹرمپ کا رویہ اس بحث کو مزید اہم بناتا ہے۔ انہوں نے عبدل کو بار بار ’’محمد‘‘ کہہ کر پکارا، حالانکہ وہ عبدالسید کے نام سے معروف ہیں، اور کہا کہ وہ انہیں اپنی مرضی سے پکار سکتے ہیں۔یہ دراصل مسلمان شناخت کا مذاق اڑانے اور مذہبی تعصب کو سیاسی مہم میں استعمال کرنے کے مترادف ہے۔

غزہ کے بچوں کی ہلاکتیں، غربِ اردن میں بھوک اور بے گھری، زیتون اور صبّار کے باغات پر حملے اور انتخابی مہم میں فلسطینی ریاست کی مخالفت کو محض علاقائی کشیدگی کا شاخسانہ قرار دیکر نظر اندز نہیں کیا جاسکتا۔ اگر مسلم حکومتیں  فلسطینیوں کی پشت پناہ ہیں تو انہیں مذمتی بیانات سے آگے بڑھ کر شہریوں کے تحفظ، انسانی امداد کی فراہمی، قبضے کے خاتمے اور منصفانہ سیاسی حل کے لئے عملی اقدامات کرنا ہوں گے۔ تل ابیب کو بھی یہ بات سمجھ لینی چاہئے کہ فلسطینیوں کی زمین اور شناخت مٹانے کی کوششوں سے اسرائیل مضبوط ومحفوظ نہیں ہوگا۔ استحکام اور اطمینان و خوشحالی کا راستہ انصاف اور حقوق کے احترام سے ہی نکل سکتا ہے

ہفت روزہ دعوت دہلی 30 اکتوبر 2026

ہفت روزہ رہبر دہلی یکم نومبر 2026


 

لاہور سے پیرس ، دلی اور روم    ۔۔  عوامی غصے کی مشترک زبان

مہنگائی، جنگ، نجکاری، انتخابی شفافیت اور خراب طرزِ حکمرانی کے خلاف ابھرتی تحریکیں

فرانس میں مہنگائی، تعلیم اور عوامی خدمات سے متعلق پالیسیوں اور نجکاری کے خلاف احتجاج میں شدت آگئی ہے۔بعض منچلے ان مظاہروں کو ’’انقلابِ فرانس کا دوسرا ایڈیشن‘‘ قرار دے رہے ہیں۔ یہ درست کہ انقلاب محض نعروں سے برپا نہیں ہوتے۔ ان کے لئے مخصوص حالات، عوامی تنظیم، سیاسی قیادت اور نظام میں بنیادی تبدیلی کے عوامل بھی درکار ہوتے ہیں۔ لیکن ان نعروں میں عوامی بے چینی کی شدت ضرور جھلکتی ہے۔ جب لوگوں کو محسوس ہو کہ روزمرہ زندگی مسلسل مہنگی اور تعلیم و صحت سمیت بنیادی سہولتوں تک رسائی مشکل ہورہی ہے اور حکمران ان کے مسائل کو ترجیح نہیں دے رہے تو احتجاج محض وقتی غصے کے بجائے سیاسی نظام سے مایوسی کا اظہار بن جاتا ہے۔

البانیہ، اٹلی اور اسپین: مسائل مختلف، اضطراب مشترک

یورپ کے دوسرے ملکوں میں بھی عوامی احتجاج مختلف وجوہ سے جاری ہیں۔ کہیں بدعنوانی اور حکومتی طرزِ عمل پر سوال اٹھ رہے ہیں، کہیں روزگار اور اجرتوں کا مسئلہ ہے، اور کہیں نوجوانوں کے لئے رہائش کا حصول دشوار ہوتا جارہا ہے۔ ان تمام تحریکوں کو ایک ہی مقصد کے تحت چلنے والی مہم قرار دینا درست نہیں، لیکن ان میں ایک قدرِ مشترک ضرور دکھائی دیتی ہے۔ عام شہری محسوس کررہا ہے کہ معاشی ترقی کے باوجود اس کی زندگی زیادہ محفوظ، آسان اور باعزت نہیں ہورہی۔

جنگ کا خرچ کون اٹھارہا ہے؟

مشرقِ وسطیٰ میں جنگ اور کشیدگی نے عالمی معیشت، توانائی کی فراہمی اور تیل کی قیمتوں کے بارے میں خدشات کو بڑھایا ہے۔ ایندھن مہنگا ہو تو اس کے اثرات نقل و حمل، اشیائے خورونوش اور روزمرہ اخراجات تک پہنچتے ہیں۔ اسی لئے یورپ میں تقریباً ہر جگہ امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ ختم کرنے اور مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کم کرنے کے مطالبات بھی سنائی دیتے ہیں۔

فلسطین کے پرچم اور عالمی ضمیر

یورپ کے بعض مظاہروں میں فلسطینی پرچم بھی دکھائی دے رہےہیں۔ یہ منظر اس بات کی علامت ہے کہ مظاہرین اپنے مقامی مسائل کو عالمی سطح پر جنگ، قبضے اور انسانی حقوق کے سوالات سے جوڑ  رہے ہیں۔ ان کے نزدیک فلسطین کا مسئلہ محض ایک دور دراز خطے کا تنازع نہیں، بلکہ انصاف، شہری حقوق اور طاقت کے استعمال سے متعلق ایک وسیع تر سوال ہے۔ البتہ ہر ملک اور ہر مظاہرے کے مطالبات یکساں نہیں۔ کہیں فلسطین مرکزی موضوع ہے، کہیں معاشی مسائل اور کہیں بدعنوانی یا عوامی خدمات۔ اس فرق کے باوجود ایسا لگ رہا ہے کہ مغرب میں جنگ کے خاتمے، فلسطینیوں کے حقوق اور انسانی جانوں کے تحفظ کے لئے آوازیں بلند ہو رہی ہیں۔

پاکستان: بجلی اور ایندھن کے بلوں کے خلاف آواز

ان عالمی تحریکوں کے تناظر میں پاکستان کو بھی نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ حافظ نعیم الرحمان کی قیادت میں جماعتِ اسلامی بجلی کے بھاری بلوں، ایندھن کی قیمتوں، تعلیم کی نجکاری اور عوام پر بڑھتے ہوئے معاشی بوجھ کے خلاف کئی ماہ سے سڑکوں اور چوراہوں پر  ہے۔ پاکستان اور یورپی ملکوں کے سیاسی و معاشی حالات یقیناً مختلف ہیں، لیکن عام شہری کی شکایت میں مماثلت ہے۔ آمدنی کے مقابلے میں اخراجات بڑھ رہے ہیں، بنیادی سہولتیں مہنگی ہورہی ہیں اور حکمرانوں سے جواب دہی کا مطالبہ زور پکڑ رہا ہے۔

یہ تحریکیں ایک دوسرے سے مربوط ہوں یا نہ ہوں، ان کا تقابل ایک اہم حقیقت سامنے لاتا ہے۔ عوام کے بنیادی مسائل نظریاتی اختلافات سے زیادہ فوری اور محسوس ہونے والے ہوتے ہیں۔ بجلی کا بل، روزگار، تعلیم اور خوراک کا خرچ شہری سے یہ نہیں پوچھتا کہ اس کا مذہب کیا ہے یا وہ کس سیاسی نظریے کا حامی ہے۔

دہلی کا جنتر منتر: پرچے سے انتخابی شفافیت تک

بھارت میں دہلی کے جنتر منتر پر جاری دھرنے کو بھی اسی وسیع تناظر میں دیکھا جاسکتا ہے۔اس احتجاج کا آغاز امتحانی پرچے کے افشا ہونے کے معاملے سے ہوا، لیکن اب اس کے گرد انتخابی نظام کی شفافیت اور حکومتی طرزِ عمل کے سوالات بھی اہمیت اختیار کررہے ہیں۔ امتحانی پرچے کا افشا، قابلیت ، نوجوانوں کے مستقبل اور ادارہ جاتی دیانت کا مسئلہ ہے، جبکہ انتخابی شفافیت عوام کے اس حق سے متعلق ہے کہ ان کے ووٹ کی گنتی، انتخابی عمل اور سیاسی نمائندگی پر اعتماد قائم رہے۔ دونوں معاملات الگ ہیں، مگر ان کے پیچھے ایک مشترک سوال موجود ہے۔ کیا ادارے عام شہری کے ساتھ انصاف کررہے ہیں، اور کیا شکایت کی صورت میں اسے قابلِ اعتماد احتساب میسر ہے؟ اگر کسی احتجاج کے شرکا کو محسوس ہو کہ ان کی شکایات نہیں سنی جارہیں، تو مطالبات ایک محدود مسئلے سے نکل کر وسیع تر حکمرانی اور ادارہ جاتی اعتماد کے سوالات تک پہنچ سکتے ہیں۔

بنگلہ دیش: کوٹے سے حکومت کی معزولی تک

اس حوالے سے حکمرانوں کے لئے بنگلہ دیش کا تجربہ ایک اہم سبق رکھتا ہے۔ جولائی 2024 میں وہاں طلبہ کی تحریک سرکاری ملازمتوں میں کوٹے کے نظام کی اصلاح کے مطالبے سے شروع ہوئی۔ لیکن احتجاج کے خلاف حکومتی ردِعمل، مظاہرین پر وحشیانہ تشدد، گرفتاریوں اور بڑھتی ہوئی ہلاکتوں نے بحران کو مزید شدید کردیا۔ وقت گزرنے کے ساتھ تحریک کے مطالبات کوٹے کی اصلاح سے آگے بڑھ کر حکومتی جواب دہی اور شیخ حسینہ کی حکومت کے خاتمے تک پہنچ گئے۔

یہی اس واقعے کا اصل سبق ہے کہ کبھی کبھی ایک محدود اور بظاہر بے ضرر مطالبہ ان مسائل کی علامت بن جاتا ہے جنہیں لوگ طویل عرصے سے اپنے اندر دبائے ہوئے ہوتے ہیں۔ جب حکومت بروقت مکالمہ، شفاف تحقیقات اور اصلاحات کے ذریعے ان شکایات کا ازالہ نہیں کرتی تو معاملہ ابتدائی مطالبے سے کہیں آگے نکل سکتا ہے۔

مختلف نظریات، مگر بنیادی مطالبات مشترک

فرانس سے پاکستان،البنانیہ، اٹلی، اسپین اور دہلی سے ڈھاکا تک ان واقعات میں نہ قیادت ایک ہے، نہ نظریہ، نہ سیاسی نظام اور نہ ہی نتائج یکساں ہیں۔ پھر بھی ان میں بعض مشترک مطالبات نمایاں ہیں: مہنگائی سے نجات، روزگار کے منصفانہ مواقع، معیاری تعلیم، بدعنوانی کا خاتمہ، انتخابی شفافیت، بہتر طرزِ حکمرانی اور جنگ کے بجائے امن۔ یہ مماثلت اس بات کا اعلان نہیں کہ دنیا بھر میں ایک ہی نوعیت کا انقلاب آنے والا ہے۔ البتہ یہ ضرور بتاتی ہے کہ عوامی اعتماد کسی بھی سیاسی نظام کے لئے بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ جہاں شہریوں کو محسوس ہو کہ ان کی آواز بے اثر ہے، ادارے غیر شفاف ہیں اور حکمران جواب دہ نہیں، وہاں ناراضی بتدریج وسیع تر تحریک میں بدل سکتی ہے۔

ان مظاہروں کا انجام کیا ہوگا، یہ کہنا قبل از وقت ہے۔ کچھ حکومتیں اصلاحات کے ذریعے عوامی اعتماد بحال کرسکتی ہیں، کچھ محدود رعایتیں دے کر احتجاج کو ٹالنے کی کوشش کریں گی، جبکہ بعض تحریکیں وقت کے ساتھ کمزور بھی پڑسکتی ہیں۔ لیکن حکمرانوں کے لئے دانش مندی اسی میں ہے کہ وہ عوامی بے چینی کو محض وقتی شور سمجھ کر نظرانداز نہ کریں۔بنگلہ دیش کی مثال یاد دلاتی ہے کہ احتجاج کا آغاز کسی ایک مسئلے سے ہوسکتا ہے، لیکن اگر اس کے پیچھے موجود وسیع تر شکایات کو مسلسل نظرانداز کیا جائے تو سیاسی بحران کی نوعیت بدل سکتی ہے۔

پیرس ہو یا لاہور، دہلی ہو یا ڈھاکا—عوام کی زبان، مذہب اور نظریات مختلف ہوسکتے ہیں، لیکن روٹی، روزگار، تعلیم، انصاف اور باعزت زندگی کی ضرورت مشترک ہے۔ حکومتوں کے لئے اصل امتحان یہ نہیں کہ وہ احتجاج کتنی جلدی ختم کراتی ہیں، بلکہ یہ ہے کہ وہ ان شکایات کا ازالہ کس حد تک کرتی ہیں جنہوں نے لوگوں کو سڑکوں پر آنے پر مجبور کیا۔حکمرانوں کے لئے ضروری ہے کہ وہ ہر اختلاف کو محض سیاسی مخالفت نہ سمجھیں، بلکہ اس کے اسباب کا جائزہ لیں اور شفاف تحقیقات کے ذریعے اعتماد بحال کریں۔

ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل کراچی 30 اکتوبر 2026

ہفت روزہ دعوت دہلی 30 اکتوبر 2026


ہفت روزہ رہبر سرینگر یکم نومبر 

Thursday, October 22, 2026

 

غزہ سے غربِ اردن : خونریزی، قبضہ اور انصاف کا سوال

مغربی سیاست میں بدلتی ہوئی آوازیں

غزہ میں اسرائیلی حملوں کے تین سال مکمل ہونے پر الجزیرہ کے شائع کردہ اعدادوشمار کے مطابق، کم از کم 74 ہزار فلسطینی جاں بحق ہوچکے ہیں، یعنی یہاں آباد ہر 30 میں سے ایک۔ ان میں وہ ہزاروں افراد شامل نہیں جو اب بھی ملبے تلے دبے یا لاپتا ہیں۔ زخمی ہونے والوں کا تناسب 13 میں ایک ہے۔ زخمیوں کی بڑی تعداد زندگی بھر کی معذوری اور طویل بحالی کی محتاج ہے۔

اس ہفتے بھی غزہ پر بمباری، ڈرون حملے، ٹینکوں سے گولہ باری اور نشانچیوں کی فائرنگ جاری رہی۔ جامع مسجد رفح  کے قریب حملے میں دو افراد جاں بحق ہوئے، جبکہ 17 اکتوبر کو وسطی غزہ میں 14 سالہ محمد ابو حماد ڈرون حملے میں جان  سے گیا۔ اسکے دوسرے دن صبح کو المغزی کے علاقے میں ایک سات سالہ لڑکی مسک الدالو کو اسرائیلی فوج نے گولی ماردی اور کچھ ہی دیر بعد بیت لاہیہ میں ایک بچہ تعمر صبوح ان درندوں کا نشانہ بن گیا۔ دونوں بچوں پر بہت قریب سے گولی چلائی گئی۔ تفح محلے اور خان یونس پر حملوں میں بھی متعدد افراد مارے گئے۔ خان یونس کی ڈھائی سالہ مریم کی داستان اس انسانی المیے کی ایک اور تصویر ہے۔ اس کے خیمے پر حملے میں مریم کی والدہ زندہ جل گئیں۔اس کا باپ کچھ عرصہ پہلے ایسے ہی ایک حملے میں جل کر دم توڑ چکا ہے۔گویا بری طرح جھلسی یہ بچی اب بالکل بے سہارا ہے۔

زیتون کی فصل: فلسطینیوں کے لیے موسمِ برداشت یا موسمِ خوف؟

غربِ اردن میں زیتون کی کٹائی کا وقت فلسطینی کسانوں کے لئے خوشی، محنت اور شکرگزاری کا موقع ہوتا ہے۔ چند ہفتوں بعد امریکہ میں قومی تہوار Thanksgiving منایا جائے گا، جس کی روایت شمالی امریکہ میں ابتدائی آبادکاروں کی فصل کی کٹائی سے منسوب ہے۔ لیکن فلسطینی کسانوں کے لئے کٹائی کا  موسم تشدد، آتش زنی، لوٹ مار اور بے دخلی کے خوف میں بدل چکا ہے۔

جنوبی نابلس کے علاقے تلفیت میں اسرائیلی آبادکاروں نے ایک گھر پر حملہ کرکے خاتونِ خانہ اور اس کی 14 اور 18 سالہ بیٹیوں کو اغوا کرنے کی کوشش کی۔ مزاحمت پر لڑکیوں کے والد کا ہاتھ توڑ دیا گیا۔ رام اللہ کے گاؤں راس کرکر میں آبادکاروں کی مزاحمت کرنے والے فلسطینیوں پر اسرائیلی فوج نے ربڑ کی گولیاں چلائیں، جس سے دو افراد زخمی ہوئے۔ جنوبی الخلیل کے گاؤں سموع، مسافر یطّا اور رام اللہ کے قصبے برزیت میں بھی زیتون توڑنے والوں پر حملے ہوئے۔ ان واقعات میں شیرخوار بچے، چار خواتین اور ایک 70 سالہ بزرگ سمیت متعدد افراد زخمی ہوئے۔ کھڑی فصلوں کو آگ لگائی گئی اور گاڑیاں نذرِ آتش کی گئیں۔

بھیڑ بکریاں بھی تشدد سے محفوظ نہیں

سترہ اکتوبر کو رام اللہ کے گاؤں کفر ملک میں آبادکاروں نے بھیڑیں ہتھیانے کی کوشش کی۔ فلسطینیوں کی مزاحمت پر درندوں نے 20 بھیڑوں کو چھروں سے کاٹ ڈلا اور پھر زمین پر تڑپتے جانوروں کو اپنے بھاری جوتوں تلے کچل کر پیوندِ خاک کردیا۔

امریکی صحافی ہیدی لیوائن پر ہجومی تشدد

سولہ اکتوبر کو رام اللہ کے گاؤں ابو فلاح میں ہونے والا حملہ اس تشدد کی سنگینی کو دنیا کے سامنے لے آیا۔ نقاب پوش مسلح آبادکاروں نے زیتون کے باغات میں آگ لگائی، فلسطینیوں پر پتھراؤ کیا اور وہاں موجود واشنگٹن پوسٹ کی 64 سالہ فوٹو جرنلسٹ ہیدی لیوائن (Heidi Levine) کو بھی تشدد کا نشانہ بنایا۔ ان کی جیکٹ پر واضح طور پر ’’صحافی‘‘ درج تھا، لیکن اس شناخت نے بھی انہیں حملے سے محفوظ نہ رکھا۔ ہیدی کی ایک پسلی اور ریڑھ کی ہڈی کے چار مہرے ٹوٹ گئے، جبکہ ان کے  دائیں ہاتھ کی ایک انگلی اس قدر شدید زخمی ہوئی کہ جراحی کرنا پڑی۔ اسپتال سے جاری بصری  بیان میں انہوں نے بتایا کہ کم از کم 50 نقاب پوش افراد غلیلیں لئے پہاڑی سے ان کی طرف دوڑے، انہیں زمین پر گرایا اور لاتیں ماریں۔ حملہ آور ان کا موبائل فون اور کیمرے بھی لے گئے۔ عینی شاہدین کے مطابق، موقع پر موجود اسرائیلی فوجیوں نے فلسطینیوں پر آنسو گیس پھینکی، لیکن حملہ آوروں کو روکنے کی کوشش نہیں کی۔

ہیدی کے بیٹے مائیکل ملنر کے مطابق، ان کی والدہ جسمانی تکلیف کے ساتھ شدید ذہنی صدمے سے بھی دوچار ہیں۔ مائیکل کا کہنا ہے کہ اخبار کے ارب پتی مالک جیف بیزوز نے ہیدی سے بات کرنے اور حملہ آوروں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لئے ہر ممکن قدم اٹھانے  کا ارادہ ظاہر کیا ہے۔ دوسری طرف اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے  ہیڈی پر حملے کی خبر کو 'مشکوک ' قرار دیا ہے۔ وہ غزہ میں مارے جانے والے ہر صحافی کو حماس کا کارکن قرار دیکر تحقیقات سے انکار کرچکےہیں۔ ہیڈی لیوائن کوئی نوآموز صحافی نہیں۔ وہ چار دہائیوں سے جنگی علاقوں میں رپورٹنگ اور عکاسی کرتی رہی ہیں۔ انہوں نے افغانستان، شام، یوکرین اور روس سمیت مختلف جنگ زدہ علاقوں میں کام کیا، اسرائیل اور ایران کے درمیان جنگ کی عکاسی بھی کی۔ کئی جگہ ہیڈی کو ناخوشگوار حالات کا سامنا کرنا پڑا لیکن اسرائیل میں وہ ہجومی تشدد یا Lynchingکا نشانہ بنیں۔ یعنی جمہوریت کا دعوے دار اسرائیل، صحافیوں کے لئےایران، شام اور افغانستان جیسے جنگ زدہ ممالک سے بھی زیادہ خطرناک جگہ بن چکا ہے۔  

اگلے ہی روز تشدد کی زد میں سفارت کار بھی آگئے۔ فرانس، بیلجیم اور پولینڈ کے سفارت کار جب زیتون کی کٹائی کا منظر دیکھنے طیبہ پہنچے تو ان کی گاڑیوں پر پتھراؤ کیا گیا۔ یوں یہ معاملہ محض فلسطینی کسانوں یا صحافیوں کی سلامتی تک محدود نہ رہا، بلکہ اب  غیر ملکی سفارت کار بھی وحشت کا نشانہ ہیں۔

جب ملکیت پر قبضے کو مذہبی جواز دیا جائے

تشدد کے ساتھ قبضے کو مذہبی جواز دینے کی کوششیں بھی سامنے آرہی ہیں۔ ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق، سابق چیف ربی (مفتیِ اعظم) ڈوو لیور (Dov Lior) نے ایک فتویٰ  جاری کیا ہے جس میں فلسطینیوں کے زیتون توڑنے کی اجازت دے دی گئی۔ ان کا استدلال ہے کہ یہودی قوم نے اس سرزمین سے اپنا دعویٰ کبھی ترک نہیں کیا، عربوں نے یہ زمین یہودیوں سے نہیں خریدی، اس لئے زیتون کی فصل حاصل کرنا ملکیت کے دعوے کے اظہار اور اپنی زمین کا قبضہ واپس لینے کے مذہبی فریضے کی تکمیل ہے۔ مجرمانہ فعل کو مذہبی رنگ دینے کا ذکر قرآن میں بھی ہے ' وہ کہتے ہیں کہ امیوں یا غیر یہودیوں کے معاملے میں ہم پر کوئی مواخذہ نہیں' سورہ آل عمران آئت 75۔معتدل آرتھوڈوکس ربیوں کی تنظیم تسوہار (Tzohar) نے ڈوو لیور کے مؤقف کی مخالفت کرتے ہوئے واضح کیا کہ چوری کسی صورت  جائز نہیں، ملکیت خواہ یہودی کی ہو یا کسی Gentiles(اُمی یا غیر یہود ی) کی۔

اوباما اور نیتن یاہو: تاریخی تعلق یا موجودہ حقوق؟

فلسطینیوں کے حقوق کا سوال امریکی سیاست میں بھی اب زیادہ کھل کر اٹھایا جارہا ہے۔ آئرلینڈ کے دارالحکومت بیلفاسٹ میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سابق امریکی صدر باراک اوباما نے اسرائیل کے قیام اور فلسطینیوں کی بے دخلی کے مسئلے پر بات کی۔ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل نے لوگوں کو انکی آبائی زمین سے بے دخل کیا چنانچہ فلسطینیوں کا اسے ناانصافی سمجھنا اور اپنی زمین واپس مانگنا قابلِ فہم ہے۔ سابق امریکی صدر نے یہ بھی کہا کہ اگر اسرائیل اپنی فوجی اور تکنیکی برتری کے بل پر جو چاہے ہتھیالینے اور کسی کو رعایت نہ دینے کی پالیسی اپنائے گا تو اسے شائد وقتی فائدہ تو ہو لیکن وہ اخلاقی برتری کھو بیٹھے گا۔ اس بیان پر اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے سخت ردعمل  دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی ریاست چوری کی ہوئی زمین پر قائم نہیں ہوئی۔ یہ ہمارا وطن ہے۔اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ کہ قیامِ امن کی راہ میں رکاوٹ اسرائیل نہیں بلکہ اس کے دشمنوں کا رویہ ہے۔

کسی قوم کا سرزمین سے تاریخی اور مذہبی تعلق تسلیم کرلینے کا مطلب کیا یہ ہے کہ وہاں صدیوں سے آباد دوسرے لوگوں کے حقوق، ملکیت اور بے دخلی کے مسئلے کو نظرانداز کردیا جائے؟ تاریخی وابستگی اور موجودہ باشندوں کے حقوق دو الگ سوال ہیں۔ اگر تاریخی روائتوں کا ذکر ہورہا ہو تو یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ بنی اسرائیل نے حضرت موسیٰ ؑ کا ارضِ فلسطین میں داخل ہونے کا حکم نظر انداز کردیا تھا۔ (حوالہ سورہ مائدہ)۔ یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ جب خود ہی وہاں جانے سے انکار کردیا تو پھر کیسا حق؟؟؟

اس واقعے کا ایک اہم سیاسی پہلو بھی ہے۔ امریکی سیاست میں اسرائیل کے قیام، فلسطینیوں کی بے دخلی اور اسرائیلی حکومت کی پالیسیوں پر تنقید شجرِ ممنوعہ سمجھی جاتی ہے لیکن اب سابق امریکی صدر کی زبان سے بین الاقوامی اجتماع میں اس طرح کی دو ٹوک بات امریکی سیاست میں ایک مثبت تبدیلی ہے۔ تاہم اس سے یہ نتیجہ نہیں نکالا جاسکتا کہ امریکی پالیسی بھی لازماً اسی رفتار سے تبدیل ہوجائے گی۔

برطانیہ میں صہیونیت پر سیاسی بحث

اسی دوران برطانیہ کی گرین پارٹی کے ملک گیر اجتماعِ ارکان نےایک قرارداد منظور کی جس میں صہیونیت کو نسلی قوم پرستی پر مبنی سیاسی منصوبہ قرار دیتے ہوئے اس کی مخالفت، تاریخی فلسطین میں ایک جمہوری ریاست، مساوی حقوق اور فلسطینیوں اور ان کی اولاد کے حقِ واپسی کی حمایت کی گئی۔ قرارداد کے حق میں 1,022 اور مخالفت میں 813 ووٹ آئے۔ قرارداد میں  مؤقف اختیار کیاگیا ہے کہ صہیونیت کی سیاسی مخالفت کو یہودیوں سے دشمنی کے مترادف نہیں سمجھنا چاہیے۔برطانوی وزیراعظم اینڈی برنہم نے پارلیمان میں اپنے خطاب کے دوران قرارداد کو غلط اور یہود دشمن قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کی جماعت ایسا موقف رکھنے والی جماعت کے ساتھ سیاسی شراکت نہیں کرے گی۔

غزہ کی ایک بچی: ایک ڈاکٹر کی یاد میں زندہ زخم

اور آخر میں ایک مسیحا کا بیان۔اردن نژاد امریکی ڈاکٹر تانیہ حاجی حسن نے کہا کہ 'مجھے انتہائی نگہداشت کے شعبے میں کام کرنے کا وسیع تجربہ ہے اور میں نے کئی مریضوں کو دم توڑتے دیکھا ہے۔ ہر موت المناک اور میرے دل پر نقش ہے لیکن غزہ کی ایک بچی کی شکل ہر وقت میرے آنکھوں کے سامنے رہتی ہے۔ یہ گڑیامیری بانہوں میں مجھ سے ایسی چمٹی ہوئی تھی جیسے میں اسکی ماں ہوں۔ اس ننھی پری کی سانسیں اکھڑ رہی تھیں اورمیں اسے گود میں میں اٹھائے آکسیجن کیلئے بھاگتی رہی لیکن گھپ اندھیرے میں مجھے آکسیجن سلنڈر نہ مل سکا اور بچی نے تڑپ تڑپ کر میری بانہوں میں جان دے دی

تاریخ کے دعوے نہیں، انصاف کا معیار

غزہ کے ملبے تلے دبے انسان، غربِ اردن میں اپنی فصل بچانے والے کسان، حملے کا نشانہ بننے والی صحافی اور اسپتال میں آکسیجن کے لیے ترستی بچی۔ کیا تاریخ، مذہب یا طاقت کے دعوے انسان کے بنیادی حقوق سے زیادہ اہم ہوسکتے ہیں؟ تاریخی روایات پر اختلاف ہوسکتا ہے، سیاسی مؤقف مختلف ہوسکتے ہیں، لیکن انصاف کا بنیادی تقاضا نہیں بدلتا۔ کسی قوم کی شناخت اور تاریخی وابستگی کا احترام اسی وقت بامعنی ہے جب دوسری قوم کے حقِ زندگی، آزادی، ملکیت اور وقار کو بھی تسلیم کیا جائے۔ فلسطین میں پائیدار امن کا راستہ طاقت کے یک طرفہ استعمال سے نہیں، بلکہ حقوق کے تحفظ، قانون کی حکمرانی اور احساسِ جواب دہی سے ہوکر گزرتا ہے۔

ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل کراچی 23 اکتوبر 2026

ہفت روزہ دعوت دہلی 23 اکتوبر 2026

ہفت روزہ رہبر سرینگر 25 اکتوبر 2026


 

ہیگسیتھ کا خفیہ دورۂ اسرائیل: ایران پر نئے حملوں کی تمہید؟

ٹرمپ کی نیتن یاہو سے انتخابی قربت، اسرائیل میں انتخابات اور امریکی مڈٹرم کا دباؤ

امریکی وزیرِ جنگ پیٹ ہیگسیتھ (Pete Hegseth) کے خفیہ دورہ اسرائیل اور وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو سے ملاقات نے  مشرق وسطٰی میں سنسنی پیدا کردی ہے۔ امریکہ کی معتبر آن لائن خبر رساں ایجنسی Axios نے 19 اکتوبر کو یہ خبر جاری کی۔ اب سے ایک ہفتے بعد اسرائیل میں پارلیمانی اور دوہفتے بعد امریکہ وسط مدتی انتخابات ہورہے ہیں۔ امریکی انتخابات کیلئے قبل از وقت یا Early Voting کا آغاز بھی ہوچکا ہے۔ خبر کے مطابق بات چیت کے دوران  ایران کے خلاف بڑے پیمانے پر فوجی کارروائیاں دوبارہ شروع کرنے کے امکان پر گفتگو کی  گئی۔ امریکی وزارت دفاع (پینٹاگون)  اور اسرائیلی حکام نے اس دورے کی فوری تصدیق نہیں کی، لیکن اسرائیلی ذرائع ابلاغ کے خیال میں 'کچھ تو ہے جسکی پردہ داری ہے۔

اس دورے کا سیاسی پس منظر بھی خاصا اہم ہے۔ صدر ٹرمپ نے ایک دن پہلے اسرائیلی انتخابات میں نیتن یاہو کی کھل کر حمایت کی اور انہیں ایران کے خلاف جنگ میں اپنا مضبوط ساتھی قرار دیا۔ ٹرمپ کے بیان سے یہ تاثر بھی ملا کہ اگر انتخابات کے نتیجے  میں اسرائیل کی قیادت نیتن یاہو کے بجائے کسی اور کے ہاتھ میں آگئی تو ایران کے خلاف کارروائی کی ذمہ داری امریکہ کو خود اٹھانا پڑسکتی ہے۔ کسی امریکی صدر کی جانب سے اسرائیلی انتخابات میں کسی امیدوار کی اس انداز میں اعلانیہ حمایت غیر معمولی پیش رفت ہے۔

اس سے پہلے Axios کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ٹرمپ اور نیتن یاہو کے درمیان ایران کے خلاف بڑے فوجی آپریشن دوبارہ شروع کرنے کے امکان پر بات ہوئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق، ہیگسیتھ اور امریکی سینٹرل کمان کے بعض اعلیٰ عہدے دار نسبتاً سخت فوجی کارروائی کے حامی تھے، جبکہ ٹرمپ کے بعض دوسرے مشیر فی الحال اقتصادی دباؤ اور پابندیوں کو ترجیح دے رہے تھے۔ قصرِ مرمریں نے ایران پر دوبارہ جنگ شروع کرنے کی کھل کر تردید نہیں کی بلکہ یہ کہا کہ صدر ٹرمپ کا امریکی وسط مدتی انتخابات سے پہلے حملے کا ارادہ نہیں۔

یہی وہ نکتہ ہے جہاں امریکی اور اسرائیلی انتخابی سیاست کو علاقائی جنگ کے خدشات سے الگ کرکے دیکھنا مشکل ہوجاتا ہے۔ اسرائیلی انتخابات 27 اکتوبر اور امریکی کانگریس کے وسط مدتی انتخابات 3 نومبر کو ہونے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا دونوں ملکوں کی قیادت انتخابی نتائج سے پہلے یا بعد میں ایران کے معاملے پر کوئی بڑا فیصلہ کرسکتی ہے؟ بعض عرب حلقوں میں یہ خدشہ بھی ظاہر کیا جارہا ہے کہ امریکی انتخابات کے بعد ایران پر زیادہ شدید حملے ہوسکتے ہیں، حتیٰ کہ بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے   GBU-43 المعروف   MOABبموں کااستعمال بھی زیرِ بحث ہے۔صدر ٹرمپ یہ بم 13 اپریل 2017 کو افغان صوبے ننگر ہار کے شہری علاقے اچن پر گراچکے ہیں۔ امریکی صدر، ایران اور امریکی انتخابات میں مسلمان امیدواروں،  الحان عمر اور عبدل السید کے خلاف جو زبان استعمال کررہے ہیں اس سے مسلمانوں کے خلاف انکے دلی جذبات کا اندازہ ہوتا ہے۔

تادم ٹحریر اس خبر کی تصدیق نہیں ہوسکی لیکن دورے کا وقت، نیتن یاہو کیلئےٹرمپ کی غیر معمولی انتخابی حمایت اور ایران کے خلاف نئی فوجی کارروائیوں سے متعلق کچھ مصدقہ رپورٹوں کے تناظر میں اس مبینہ ملاقات کو معمول کی سفارتی سرگرمی سمجھ کر نظرانداز نہی  کیا جاسکتا  اصل سوال یہ نہیں کہ جنگ کب شروع ہوگی، بلکہ یہ ہے کہ کیا مشرقِ وسطیٰ کا مستقبل ایک بار پھر ایسے فیصلوں کے تابع ہونے جارہا ہے جن میں انتخابی مفادات اور عسکری حکمتِ عملی ایک دوسرے سے گتھم گتھا ہیں؟ فی الحال اس کا جواب واضح نہیں۔ لیکن اگر ایران کے خلاف کوئی نئی جنگ شروع ہوتی ہے تو اس کے اثرات صرف ایران یا اسرائیل تک محدود نہیں رہیں گے؛ توانائی کی عالمی منڈی، خلیجی ممالک اور عام شہریوں کو بھی اس کی بھاری قیمت ادا کرنا پڑسکتی ہے۔

 بموں کی ماں یا MOAB کیا ہے؟۔  چالیس انچ قطر کا 30 فٹ لمبا اور 10 ٹن وزنی یہ بم 2003 سے امریکی اسلحے خانے میں موجود ہے۔ بھاری وزن کی وجہ سے اسے کسی امریکی روائتی بمبار کے بجائے سامان بردار C-130 جہاز سے گرایا جاتا ہے۔ اس بم کے پھٹنے سے دھماکے کی شدت 11 ٹں بارود کے مساوی ہے۔ اقوام متحدہ اور جنیوا کنونشن کی تعبیر کے مطابق MOAB بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے نے والا ہتھیار یا WMDشمار کیا جاسکتا ہے لیکن امریکہ اور اسرائیل نہ کسی عالمی معاہدے کو مانتے ہیں نہ عالمی عدالتوں کو۔ اس لئے ان نکات پر گفتگو بے سود ہے۔

ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل کراچی


Thursday, October 15, 2026

 

یمن سعودی تنازعہ : پاکستان کے لئے آزمائش

ایران، حوثی اور سعودی عرب کی کشمکش میں اسلام آباد کا راستہ کیا ہو؟

مشرقِ وسطیٰ میں سیاسی و نظریاتی صف بندی نئی نہیں۔ سرد جنگ کے زمانے میں مصر، شام، عراق اور جنوبی یمن کے سوویت یونین سے قریبی تعلقات تھے، جبکہ خلیجی بادشاہتیں امریکہ کے قریب تھیں۔ اس کے باوجود اسرائیل کے معاملے میں عرب ممالک کے درمیان اتفاق پایا جاتا تھا۔ سوویت یونین کے خاتمے، مصر اسرائیل امن معاہدے اور بعد کے علاقائی تغیرات نے یہ صورتِ حال بدل دی۔ تیونس سے 2010 میں شروع ہونے والی عرب بہار (Arab Spring)نے آمریت کے خلاف عوامی بیداری پیدا کی، لیکن شام اور یمن سمیت کئی ملکوں میں یہ تحریک فرقہ واریت، خانہ جنگی اور بیرونی مداخلت کی نذر ہوگئی۔

یمن: مقامی تنازع، علاقائی جنگ

شمالی اور جنوبی یمن کے 1990ء میں انضمام کے باوجود سیاسی اور علاقائی اختلافات ختم نہ ہوسکے۔ انصار اللہ، المعروف حوثی تحریک کی جڑیں شمالی یمن میں ہیں۔یمن انضمام کے بعد 2004ء حوثیوں کی مسلح بغاوت کا آغاز ہوااور 2014ء میں دارالحکومت صنعا پر قبضے کے بعد تنازع وسیع خانہ جنگی میں بدل گیا۔سعودی قیادت میں خلیجی ممالک نے یمن میں استحکام کیلئے اتحادی فوج تشکیل دی اور پاک فوج کے سابق سربراہ جنرل راحیل شریف اسکے سپہ سالارمقرر ہوئے۔ اس جنگ نے لاکھوں افراد کو بے گھر کیا اور یمن کی معیشت و معاشرت کو تباہ کن نقصان پہنچایا۔ غزہ جنگ کے آغاز پر حوثیوں نے اسرائیل اور بحیرۂ احمر میں جہاز رانی کو نشانہ بنایا، لیکن ان کی کارروائیوں کے علاقائی اثرات فلسطین سے کہیں آگے تک پہنچے ہیں۔

الاصلاح، عبدالمجید زندانی اور جامعہ الایمان

یمن کی اس کشمکش کا ایک اہم پہلو حوثیوں اور ان کے مخالفین کے درمیان طاقت کا عدم توازن ہے۔ حوثیوں کی پیش قدمی نے یمن کی اسلامی تحریک الاصلاح کو بھی شدید نقصان پہنچایا، اگرچہ جماعت مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی لیکن اس کے قائد شیخ عبدالمجید زندانی اور نوبل انعام یافتہ محترمہ توکل کرمان اور دوسرے رہنماوں کو جلاوطن ہونا پڑا۔ حالانکہ الاصلاح نے یمن میں سعودی مداخلت کی شدت سے مذمت کی تھی جسکی پاداش میں سیاسی پناہ گزیں زندانی صاحب سعودی عرب سے نکال دئے گئے۔

زندانی کی قائم کردہ جامعہ الایمان صنعا میں تعلیم کا نمایاں مرکز تھی، جہاں اسلامی علوم کے ساتھ جدید مضامین بھی پڑھائے جاتے تھے۔ حوثیوں کے دارالحکومت پر قبضے کے بعد جامعہ ان کے کنٹرول میں آگئی اور اس کی تعلیمی سرگرمیاں متاثر ہوئیں۔ اس طرح یمن کی جنگ نے صرف حکومت اور علاقائی طاقتوں کو نہیں، بلکہ ملک کے سیاسی اور تعلیمی اداروں کو بھی گہرے بحران میں دھکیل دیا۔

آبنائے ہرمز سے باب المندب تک

ایران پر اسرائیل اور امریکہ کے حملے میں انصاراللہ نے ایران کی حمائت کی اور سعودی عرب میں امریکی اڈوں پر راکٹ برسائے۔ ایران نے اس جنگ کو جدید اسلحہ بمقابلہ جغرافیہ و عالمی اقتصادیات میں تبدیل کرکے آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل کو مشکل کردیا۔ سعودی عرب نے آبنائے ہرمز کو مخدوش دیکھ کر اپنی ایسٹ ویسٹ پائپ لائن کے ذریعے آبنائے باب المندب کے راستے ایشائی صارفین کو تیل کی فراہمی شروع کردی۔ اس راستے کو مسدود کرنے کیلئے حوثیوں نے آبنائے باب المندب اور بحیرہ احمر سے گزرنے والے تیل ٹیکروں کیساتھ سعودی ریفاننری اور تیل پائپ لائن کو نشانہ بنایا۔

تاہم حوثیوں کو ایران کا بے اختیار آلہ سمجھنا درست نہیں۔ تہران سے ان کے قریبی تعلقات اور عسکری مدد کے شواہد موجود ہیں، لیکن ان کے اپنے یمنی مفادات اور فیصلے بھی ہیں۔ ایران نے سعودی عرب اور حوثیوں کے تنازعے کے سفارتی حل کی حمایت کا اظہار کیا ہے۔ اس لیے تہران کے مؤقف اور حوثیوں کے ہر اقدام کو ایک ہی چیز نہیں سمجھا جاسکتا ۔

مکہ دفاعی معاہدہ اور پاکستان کا مخمصہ

اگست 2026ء میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ نے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ کیا، جس میں ایک رکن پر مسلح حملے کو تینوں کے خلاف حملہ سمجھنے کی شق شامل ہے۔ حوثیوں کے حملوں کے بعد اس معاہدے کے تحت مشترکہ دفاعی اقدامات پر اتفاق نے پاکستان کو آزمائش میں ڈال دیا ہے۔ سعودی عرب پاکستان کا قریبی دوست ہے تو ایران ہمسایہ جسکے ساتھ سرحدی سلامتی، تجارت اور علاقائی استحکام کے معاملات بھی وابستہ ہیں۔ دوسری طرف ترکیہ کے ایران سے سفارتی اور معاشی تعلقات ہیں، جبکہ پاکستان کے افغانستان اور بھارت سے اختلافات کے باوجود سعودی عرب اور ترکیہ کے ان دونوں ملکوں سے قریبی تعلقات ہیں۔

لہٰذا اس معاہدے کو نیٹو کی مکمل نقل سمجھنا مناسب نہیں اسلئے کہ تینوں ممالک کے مفادات بہت سے معاملات میں مختلف ہیں۔چنانچہ حوثیوں کے خلاف زمینی جنگ میں پاکستان کی شرکت کو معاہدہِ مکہ کا قانونی و اخلاقی تقاضہ قرار نہیں دیا جاسکتا۔ پاکستان اگر یمن میں براہِ راست جنگ کا حصہ بنتا ہے تو ایران سے تعلقات متاثر ہونے، داخلی فرقہ وارانہ کشیدگی بڑھنے اور پاکستانی معیشت پر مزید دباؤ پڑنے کا خطرہ ہے۔ اس کے برعکس سعودی عرب کی سلامتی سے لاتعلقی بھی دوطرفہ اعتماد کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔

حل: دفاعی تعاون، مگر جنگ سے گریز

پاکستان کے لیے بہتر راستہ یہی ہے کہ وہ سعودی عرب کے دفاع میں واضح تعاون کرے، مگر اپنی عملی ذمہ داریوں کو دفاعی نوعیت تک محدود رکھنے کی کوشش کرے۔ فضائی دفاع، انٹیلی جنس کے تبادلے، شہری تنصیبات اور جہاز رانی کے تحفظ میں تعاون ممکنہ راستے ہیں۔ کسی جارحانہ کارروائی یا زمینی جنگ میں شرکت کا فیصلہ پارلیمانی و کل جماعتی غور و فکر کا متقاضی ہے۔ ساتھ ہی اسلام آباد کو تہران، ریاض اور انقرہ کے درمیان مسلسل رابطہ برقرار رکھنا چاہیے اور عمان و چین جیسے سفارتی کردار ادا کرنے والے ممالک کے ساتھ مل کر جنگ بندی اور مذاکرات کی کوشش کرنی چاہیے۔ باب المندب اور بحیرۂ احمر میں جہاز رانی کا تحفظ بھی کسی ایک ملک کے خلاف جنگی مہم کے بجائے وسیع علاقائی تعاون سے زیادہ پائیدار ہوسکتا ہے۔

دوست کا دفاع، ہمسائے سے دشمنی نہیں

پاکستان کو سعودی عرب کی سلامتی اور ایران کے ساتھ پُرامن ہمسائیگی میں سے کسی ایک کو چننے پر مجبور نہیں ہونا چاہیے۔ دانش مندی یہ ہے کہ دفاعی ذمہ داریوں کو سفارت کاری کا متبادل نہ بنایا جائے۔ یمن کی تاریخ بتاتی ہے کہ بیرونی عسکری مداخلت تنازع کو طویل کرسکتی ہے، جبکہ مذاکرات اور علاقائی مفاہمت ہی پائیدار امن کی بنیاد بن سکتے ہیں۔ پاکستان کا مفاد اسی میں ہے کہ وہ اپنے اتحادی کی حفاظت میں مدد دے، مگر خود ایک ایسی جنگ میں نہ الجھے جس کا کوئی واضح اختتام نظر نہیں آتا۔

ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل کراچی 16 اکتوبر 2026


 

غزہ جنگ بندی کی پہلی برسی

 طبی اخلاقیات ،سفارت کاری اور بین الاقوامی قانون کی آزمائش

غزہ پر مسلط جنگ کے تین سال مکمل ہونے کے تین دن بعد، 10 اکتوبر کو جنگ بندی کی پہلی برسی اسرائیلی فوج  نے  ایک بچے سمیت کم از کم سات افراد کو قتل کرکے منائی۔ یہاں تباہ شدہ بنیادی ڈھانچے کے ساتھ پانی کی شدید قلت بھی انسانی المیے کو بڑھا رہی ہے۔ بار بار کی نقل مکانی میں پانی ذخیرہ کرنے کے ڈرم اور بڑے برتن ضائع ہوچکے ہیں؛ بہت سے خاندان بالٹیوں میں پانی جمع کرنے پر مجبور ہیں۔ پانی کے ٹرکوں کے قریب خیمے لگانا، پانی ڈھونے سے آسان ہوچکا ہے۔ یوں بے گھر خاندان پانی کی دستیابی کے ساتھ اپنی عارضی پناہ گاہیں بھی بدلتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اہلِ غزہ کی مہاجرت کا المیہ 1948ء سے جاری ہے۔

سات اکتوبر: ہینی بال حکمنامے کا سوال

سات اکتوبر 2023ء کے واقعات کی تیسری برسی پر ایک اہم سوال زیرِ بحث ہے کہ  اسرائیلی شہریوں کی ہلاکتوں میں فوجی کارروائیوں کا کیا کردار تھا؟ اقوام متحدہ تحقیقاتی کمیشن کے مطابق اس روز حماس کے حملوں میں 809 اسرائیلی شہری ہلاک ہونے۔ اسی رپورٹ میں ہینی بال حکمنامے (Hannibal Directive) کے ممکنہ استعمال کے شواہد بھی درج ہیں۔ یہ حکمنامہ اغوا کی کوشش ناکام بنانے کے لیے ایسی فوجی کارروائیوں سے متعلق ہے جن میں مغوی کی جان کو بھی خطرہ لاحق ہوسکتا ہے۔ کمیشن نے ایک اسرائیلی ٹینک کے عملے کے بیان سمیت ایسے واقعات کا ذکر کیا جن میں فوجی کارروائی سے یرغمال بنائے گئے اسرائیلی شہریوں کی ہلاکت کا امکان سامنے آیا۔ اگر حماس کے حملے میں 809 شہری مارے گئے تو اسرائیلی دعوے کے مطابق جو ہزاروں لوگ مارے گئے، کیا وہ  اسرائیلی فوج کی Hannibal حکمت عملی کا نشانہ بنے؟؟؟ان شواہد کی مکمل اور غیر جانب دارانہ تحقیقات ضروری ہیں۔

غربِ اردن: بے دخلی اور قبضہ گردوں کے حملے

غربِ اردن میں فلسطینی خاندانوں کی بے دخلی، اسرائیلی فوج کی موجودگی یا سرپرستی میں قبضہ گردوں کے حملے، فصلوں کی تباہی اور مویشیوں پر قبضے  کاسلسلہ جاری ہے۔رام اللہ کے گاوں دیر ابو مشعل میں بہت سے فلسطینی خاندانوں کو بے گھر کردیا گیا۔ رام اللہ کے ایک اور گاوں دیر نظام میں اسرائیلی آبادکاروں نے گاڑیوں کو آگ لگادی۔ شمالی یروشلم کے قریب جبع گاوں میں بھی فلسطینیوں کے مکانات منہدم اور گاڑیاں نذرِ آتش کردی گئیں۔ نابلوس کے گاوں برقہ میں مسلح قبضہ گردوں نے فوج کی سرپرستی میں 44 سالہ علی البزاری کو اسکے بچے کے سامنے قتل کردیا۔ ایسے واقعات صرف ایک خاندان کو نہیں توڑتے، بلکہ بچوں کے ذہنوں پر بھی گہرے اور دیرپا اثرات چھوڑتے ہیں۔

زیتون کے باغات: شناخت کو مٹانے کا خطرہ

غرب اردن میں زیتون کی فصلوں اور باغات کی تباہی کا منظم سلسلہ ایک عرصے سے جاری ہے۔انتہاپسندوں کے خیال میں زیتون،  فلسطین کی شناخت ہے جس کو مٹا نا نسلی تطہیر کا حصہ سمجھا جارہا ہے۔ اب زیتون سے نفرت کا دائرہ جنوبی لبنان تک وسیع کردیا گیا ہے۔زیتون کی کاشت کیلئے مشہور جنوبی لبنان کے علاقے خیام میں  گزشتہ چند ماہ کے دوران 24کروڑ ڈالر مالیت کی فصلیں غارت کردی گئیں اور 11 اکتوبر کو اسی علاقے میں بنتِ جبیل کے گاوں فرون اور یاطر پر زیتون کی کٹانی کے دوران اسرائیلی ٹینکوں سے گولہ باری نے  دو افراد کی جان لے لی

جب مسیحا ہی زخم دینے والوں کے ساتھی بن جائیں

اسرائیلی حراستی مرکز سدی تیمان (Sde Teiman) میں فلسطینی قیدیوں کے ساتھ مبینہ تشدد، بدسلوکی اور طبی غفلت کے معاملے پر ہند رجب فاؤنڈیشن نے بین الاقوامی فوجداری عدالت (ICC) کے  مستغیث (پراسیکیوٹر) سے تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ فاؤنڈیشن کی درخواست میں اسرائیلی ڈاکٹروں، طبی اداروں اور متعلقہ حکام کے کردار کی جانچ کی استدعا کی گئی ہے۔ اس میں علاج کے دوران ہتھکڑیاں اور آنکھوں پر پٹی باندھنے، درد کش ادویات کے بغیر جراحی اور طبی نگرانی میں مبینہ بدسلوکی جیسے الزامات شامل ہیں۔

فاونڈیشن نے نام لے کر اسرائیلی میڈیکل ایسوسی ایشن کے سربراہ پروفیسر زائن ہیگے (Zion Haggay)کو نامزد کیا اور عالمی میڈیکل فاونڈیشن (WMA)سے مطالبہ کیا ہے کہ IMAکی رکنیت معطل کرکے اسکے وفد کو ڈاکٹروں کے عالمی کنونشن سے نکالا جائے۔یہ اجلاس اجکل ہالینڈ کے شہر روٹیرڈیم میں ہورہا ہے۔ معاملہ صرف فلسطینی قیدیوں کے ساتھ مبینہ سلوک کا نہیں،  یہ اس بنیادی اصول کا امتحان ہے کہ طب کا پیشہ تشدد کا سہولت کار نہیں، انسانیت کا محافظ ہونا چاہئے۔ اگر مسیحا ہی زخم دینے والوں کے ساتھی بن جائیں تو مظلوم، مرہم کے لئے کس دروازے پر دستک دے؟

امریکی سفارت کاری: کیا واشنگٹن تک مکمل حقائق پہنچ رہے ہیں؟

مسیحاوں کے ساتھ سفارتکار بھی امتیازی سلوک میں سہولت کار بنتے نظر آرہے ہیں۔ نیویارک ٹائمز کی ایک تازہ رپورٹ کے مطابق یروشلم کے امریکی سفارتخانے میں اسرائیلی اقدامات سے متعلق تیار کی جانے والی بعض رپورٹوں کو ڈیوڈ ملسٹین (David Milistein)نامی ایک اعلیٰ امریکی سفارتی معاون نے روک دیا، تبدیل کیا یا اس انداز میں دوبارہ لکھا کہ اسرائیلی حکومت زیادہ مثبت دکھائی دے۔ حتیٰ کہ مغربی کنارے میں اسرائیلی بستیوں میں غیر معمولی توسیع سے متعلق ایک ہنگامی رپورٹ واشنگٹن بھیجی ہی نہیں گئی۔ ایک اور معاملے میں امریکی سفارتخانے کے عملے نے فلسطینی نژاد امریکی شہریوں کی ہلاکتوں سے متعلق تفصیلی رپورٹ تیار کی، لیکن ملسٹین صاحب نے اسے بھی آگے بڑھنے سے روک دیا۔سفارتی اہلکار کی جانب سے اہم معلومات کو امریکی فیصلہ سازوں تک پہنچنے سے روکنامحض رپورٹ نویسی کا معاملہ نہیں، اس سے خارجہ پالیسی کی تشکیل اور سرکاری معلومات کی دیانت داری متاثر ہوسکتی ہے۔ امریکی عوام کو یہ جاننے کا حق ہے کہ ان کے نام پر فیصلے کرتے وقت فیصلہ سازوں کو مکمل حقائق فراہم کئے جارہے ہیں یا نہیں۔

بین الاقوامی فوجداری عدالت اور طاقتور ریاستوں کا رویہ

اس مہمل سفارتکاری کی وجہ امریکی وزارت خارجہ کا متعصبانہ رویہ ہے جس نے بین الاقوامی فوجداری عدالت (ICC) پر وسیع پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کیاہے۔ یہ اقدام جنوبی افریقہ کی ممتاز قانون دان اور سابق جج ڈاکٹر نیوی پلّے کو نوبل امن انعام ملنے کے چند گھنٹے بعد سامنے آیا۔ پلّے اقوام متحدہ کے اس تحقیقاتی کمیشن کی سربراہ رہ چکی ہیں جس نے غزہ میں اسرائیلی اقدامات کو نسل کشی قرار دیا تھا۔ امریکہ اور اسرائیل نے ان الزامات اور عدالت کے اقدامات کی مخالفت کی ہے۔امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے عدالت کو “Rogue” یعنی بدمعاش کورٹ قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ اس کے ساتھ لین دین روک کر اس کے وسائل اور کام کرنے کی صلاحیت محدود کرے گا۔واشنگٹن کا مؤقف ہے کہ امریکہ نے منشورِ روم کی توثیق نہیں کی اور وہ امریکی شہریوں، فوجیوں یا سیاسی رہنماؤں پر ایسی عدالت کا اختیار تسلیم نہیں کرتا۔ کسی عدالت کے فیصلے سے اختلاف کرنا ہر ایک کا حق ہے اور عدالت کے قانونی اختیار پر اعتراض بھی درست، لیکن اگر ہر ریاست اپنی ناپسندیدہ تحقیقات یا فیصلے کے جواب میں عدالت کو معاشی دباؤ کے ذریعے مفلوج کرنے لگے تو بین الاقوامی انصاف کا نظام کس طرح کام کرے گا؟

یہودیت اور صیہونیت: ایک مذہبی رہنما کا اختلاف

اسرائیل کے ممتاز حریدی ربائی (امام) ڈوو لانڈو (Rabbi Dov Lando) نے کہا ہے کہ یہودیت اور صیہونیت کو ایک ہی چیز سمجھنا تاریخی اور مذہبی طور پر درست نہیں۔ حریدی سیاسی جماعت Degel HaTorah کے روحانی رہنما، صیہونیت پر سخت تنقید کرتے ہوئے یہاں تک کہہ گئے کہ اگر اسرائیلی ریاست کے بجائے یہاں اقوام متحدہ یا عرب حکمرانی ہوتی تو حالات بہتر ہوسکتے تھے۔ ربائی صاحب نے دو ٹوک اندااز میں کہا ’’صیہونیت نے ہمیں عربوں سے نفرت کرنا سکھایا‘‘ اور اس تحریک نے یہودی قوم پر ’’جسمانی تباہیاں‘‘ بھی مسلط کیں۔ اسرائیلی انتہا پسندوں نے یہودی مذہب اور صیہونی سیاست کو گڈ مڈ کردیا ہے۔ حالانکہ یہودیت ایک مذہبی و تہذیبی شناخت اور صیہونیت ایک جدید سیاسی تحریک ہے۔ ہر یہودی ، صیہونی ہے اور نہ ہر صیہونی لازماً یہودی ۔ خود اسرائیل کے حریدی مذہبی حلقوں میں صیہونیت اور ریاست کے قیام کی مذہبی تعبیر سے اختلاف کی ایک طویل روایت موجود ہے۔ ربائی لانڈو کی موجودہ گفتگو میں بھی مذہبی صیہونیت سے ان کا اختلاف نمایاں ہے۔ انہوں نے اسرائیلی فوج میں خدمات انجام دینے والے صیہونی نوجوانوں پر بھی تنقید کی اور کہا کہ فوج کے ربائی انہیں ’’تحریف شدہ توریت‘‘ سکھاتے ہیں۔

غیر جانبدار علمائے سیاست ایک عرصے سے اسرائیل کو یہودی کے بجائے انتہا پسند و نسل پرست صیہونی ریاست کہہ رہے ہیں۔ اور اب یہودی ربائی نےخود یہ کہہ دیا کہ صیہونیت نے یہودیوں کے لیے جسمانی تباہیاں پیدا کیں اور عربوں کی دشمنی میں اضافہ کیا ۔ یعنی صیہونیت کو یہودیت کا مترادف قرار دینا خود یہودی مذہبی حلقوں کے ایک بڑے حصے کے مؤقف کی عکاسی نہیں کرتا اور اور شاید یہی اس بحث کا سب سے اہم پہلو ہے۔

فلسطینی انتخابات کا التوا

فلسطین کے پارلیمانی انتخابات ملتوی کردئے گئے، قانون ساز اسمبلی کیلئے 28 نومبر کو ووٹ ڈالے جانے تھے۔ حکام نے غزہ کی غیر یقینی صورتِ حال، اسرائیلی فوج کی موجودگی، سلامتی کے مسائل اور انتخابی عمل کے لئے درکار انتظامات میں رکاوٹوں کو فیصلے کی وجوہ میں شمار کیا ہے۔فلسطین میں آخری انتخابات 2006 میں ہوئے جس میں حماس نے بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل لیکن اسرائیل اور امریکہ کی شدید مخالفت کی بناپر محمود عباس نے وزیراعظم اسماعیل ہانیہ کی حکومت صرف پندرہ ماہ بعد معزول کرکے اسمبلی تحلیل کردی تھی۔ تقریباً دو دہائیوں سے نئے پارلیمانی انتخابات نہ ہونے کے باعث فلسطینی عوام کی جمہوری نمائندگی اور سیاسی جواب دہی معطل ہے۔ انتخابات کے مسلسل التوا نے اس بحران کو مزید گہرا کردیا ہے۔

غزہ میں جنگ بندی کی برسی پر شہریوں کی ہلاکتیں، غربِ اردن میں بے دخلی اور حملے، قیدیوں کے ساتھ مبینہ بدسلوکی، سفارتی رپورٹوں پر دباؤ اور بین الاقوامی عدالتوں کے اختیار پر تنازع ایک ہی بنیادی سوال کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ کیا انسانی حقوق اور قانون کی حکمرانی کا اصول سب کے لئے یکساں ہے؟ جنگ بندی کا مقصد محض بمباری میں کمی نہیں، بلکہ انسانی جانوں کا تحفظ، بنیادی ضروریات کی فراہمی، ذمہ داروں کا احتساب اور ایک پائیدار سیاسی حل کی راہ ہموار کرنا بھی ہے۔ جب تک فلسطینیوں کو تحفظ، انصاف اور اپنی سیاسی تقدیر کے تعین کا حقیقی موقع نہیں ملتا، امن کے دعوے ادھورے رہیں گے۔

ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل کراچی 16 اکتوبر 2026

ہفت روزہ دعوت دہلی 16 اکتوبر 2026

ہفت روزہ رہبر، سرینگر  18 اکتوبر 2026