خوفناک خونریزی کا ڈیڑھ سال
سیاسی بحران سے توجہ ہٹانے کیلئے جنگی جنون
میں اضافہ
مزاحمت کار پچاس دن کی عبوری جنگ بندی پر
آمادہ
ہتھیار رکھو، قیدی چھوڑو اور غزہ سے نکل
جاو۔ نیتن یاہو کا جواب
شمالی بریگیڈ کے اسرائیلی کمانڈر مستعفی
ضمیر کی خلش!! میڈیکل کور کے اہلکاروں نے غزہ
واپس جانے سے انکار کردیا
اسرائیلی فوج کے ہاتھوں ایک اور صحافی کا قتل
غزہ
نسل کشی کا دورانیہ آنے والے پیر یعنی 7 اپریل کو ڈیڑھ سال ہوجائیگا۔عید سے دودن
پہلے قطر نے امریکہ کی ایک نئی تجویز مزاحمت کاروں کے حوالے کی، جسکے
مطابق اگر غزہ سے دہری شہریت کے حامل قیدی عیدن الیگزنڈر کو رہا کردیا جائے تو صدر
ٹرمپ اسرائیلی حملے بند کرواکر مکمل و پائیدار امن کیلئے مذاکرات کا عمل شروع
کرادینگے۔مزاحمت کاروں نے جواب بھجوایا کہ امن مذکرات کے لئے حالات سازگار بنانے کی غرض سے وہ 50 دن
کی عبوری جنگ بندی پر تیار ہیں۔اہل غزہ نے اسی کے ساتھ عیدن الیگزنڈر سمیت پانچ
قیدیوں کو رہا کرنے پر بھی رضامندی ظاہر کردی۔ان قیدیوں کی رہائی غزہ کیلئےانسانی
امداد پر پابندی کے خاتمے اور نظارم راہدرای سمیت شہری علاقوں سے اسرائیلی فوج کی
واپسی سے مشروط ہے۔ اس پیشکش کے جواب میں عید کے دن نیتن یاہو نے کہا کہ مزاحمت کار اگر اسلحہ رکھ کر غزہ چھوڑنا چاہیں تو انھیں
محفوظ راستہ فراہم کیا جائیگا۔ دوسری صورت میں اسرائیل عسکری دباو برقرار رکھے گا۔
گویا
اسرائیل نے عبوری فائر بندی اور قیدیوں کی رہائی کیلئے اہلِ غزہ کی پیشکش مسترد
کردی اور غزہ میں عید الفطر اس شان سے آئی کہ شمالی و مشرقی علاقے بمباری سے
لرزتے رہے، بحیرہ روم سے اسرائیلی جہازوں نے شعلے برسائے، وسطی غزہ کے لوگوں پر
نظارم راہداری سے نشانہ بنایا گیا اور مصری سرحد پر فلاڈلفی راہداری سے ٹینک حملہ
آور ہوئے۔اسکے باوجود ہر مسجد کے ملبے پر نمازعید اداہوئی اور انھیں عید گاہوں میں
شام کو 50 سے زیادہ جنازے بھی پڑھے گئے۔
محبت میں نہیں ہے فرق جینے اور مرنےکا۔
اسرائیلی جریدے الارض (Haaretz)کے
مطابق 'نیتن یاہو عیدن الیگزنڈر کی رہائی نہیں چاہتے۔ انھیں ڈرہے امریکی قیدی چھوٹ
جانے کے بعد اس معاملے میں صدر ٹرمپ کی دلچسپی کم بلکہ شائد ختم ہوجائے گی'
حکومت کا تکبر اپنی جگہ لیکن
لبنان، غزہ اور یمن سے ہونے والے راکٹ ومیزائیل حملوں پر اسرائیلی فوج شدید تنقید
کا نشانہ بنی ہوئی ہے۔نیتن یاہو اور انکے وزیردفاع ، دعویٰ کررہے ہیں کہ لبنانی
مزاحمت کاروں کی کمر توڑدی گئی ہے۔ ایسا ہی دعوی غزہ کے بارے میں بھی کیا جارہا ہے
کہ مزاحمت کاروں کی جارحانہ صلاحیت ختم کردی گئی ہے اور اب انکی بچی کھچی قیادت
جان بچانے کیلئے سرنگوں میں چھپی بیٹھی ہے۔ وزیراعظم نے بجٹ اجلاس کے دوران
'تلواروں کے سائے میں مذاکرات' کی دھمکی دہراتے ہوئے کہا تھا کہ 'دہشت گردوں' کے
پاس ہمارے قیدی رہا کرنے کے سوا دوسرا کوئی راستہ نہیں۔ ہم انھیں ہر طرف سے گھیر
چکے ہیں۔ انھوں نے تالیاں بجاتے اپنے اتحادیوں کے سامنے کہا 'جان کی امان چاہتے ہو
تو ہتھیار رکھو، قیدی چھوڑو اور غزہ سے نکل جاو'
لیکن صحرائے نقب (Negev)، بحیرہ لوط، تل ابیب اور یروشلم سے شمال میں
کریات شمعونہ تک سارے اسرائیل میں ہوائی حملوں کے سائرن
گونج رہے ہیں۔عدالتی اصلاحات، شاباک کے سربراہ کی برطرفی، غزہ جنگ کے لئے بڑے
شہروں میں مظاہرے بھی ہورہے ہیں اور سائرن سن کر جب یہ ہزاروں کا مجمع زیرزمین
پناہ گاہوں کی طرف دوڑ لگاتا ہے تو افراتفری سے عوام میں مزید خوف و ہراس پیدا
ہورہا ہے۔ کچھ منچلوں کا خیال ہے کہ حکومت دفاعی سائرن مجمع منشر کرنے کیلئے
استعمال کررہی ہے۔ راکٹوں سے اب تک کوئی
جانی یا مالی نقصان نہیں ہوا لیکن بھگدڑ میں درجنوں افراد زخمی ہوئے اور کاروبار
زندگی بری طرح متاثر ہورہاہے۔ حزب اختلاف کے رہنما کہہ رہے ہیں کہ ڈیڑھ سال کی
مسلسل بمباری کے باوجود اسرائیلی فوج 'مٹھی بھر' دہشت گردوں کو ختم نہ کرسکی تو
غزہ کی دلدل میں وسائل کو دھنسارکھنے کی ضروت کیا ہے؟۔
طویل جنگ سے اسرائیلی فوج کے
اعصاب بھی متاثر نظر آرہے ہیں اور الزام تراشی و انگشت نمائی میں اضافہ ہوگیا ہے۔شمالی بریگیڈ کے کمانڈر کرنل ہائم کوہن نے سات اکتوبر
2023کو اہل غزہ کا حملہ روکنے میں ناکامی پر استعفی دیدیا۔کرنل صاحب کا بریگیڈ
مقابلہ کرنے کے بجائے کمانڈر سمیت موقع سے فرار ہوگیا تھاجسےکرنل کوہن نے تزویراتی
یا Strategic پسپائی
قرار دیا لیکن عسکری ماہرین اس دلیل سے مطمئن نہیں ہوئے اور کرنل صاحب کو وردی
اتارنی پڑی۔مزاحمت کاروں کو کچلنے میں ناکامی پر اس سے پہلے ، ملٹری انٹیلیجنس
ڈایریکٹوریٹ کے شعبہ ریسرچ کے سربراہ بریگیڈیر جنرل امیت سعرAmit
Saar، ملٹری انٹییلیجنس ڈایریکٹوریٹ کے سربراہ
میجر جنرل ہارون ہالویہ، ,Aharon Halivaغزہ ڈویژن کے سربراہ بریگیڈیر جنرل اوی روزن فیلڈAvi Rosenfeld،بری فوج کے سربراہ
تامر ےیارےTamir Yadaiاور اور فوج کے سربراہ جنرل
حرزی حلوی مستعفی ہوچکے ہیں
بزدلی و نا اہلی کے الزام میں جنوبی
کمان کے سربراہ کرنل ابراہیم ایونی (Ephraim Avni) کی ترقی روک دی گئی۔ کرنل صاحب کو فوج کے سابق سربراہ نے پیراٹروپر
بریگیڈ کا سربراہ مقرر کیا تھا اور وہ نئی ذمہ داریاں سنبھالنے کیلئے جنوبی کمان
کی قیادت بھی چھوڑ چکے تھے۔ جمعرات 26 مارچ کو وزیردفاع اسرائیل کاٹز سے ملاقات کے
بعد جنرل ضمیر نے کرنل ابراہیم کا تقرر منسوخ کردیا۔تحقیقاتی اداروں کا خیال ہے کہ
7 اکتوبر 2023 کو مزاحمت کاروں کے حملے کامقابلہ کرنے میں کرنل ابراہیم سے سنگین
'کمزوریاں' سرزد ہوئیں۔
غزہ
میں ہونے والے مظالم پر خود اسرائیلی فوجیوں کا ضمیر بھی اب جاگ رہا ہے۔ اسرائیلی (Reserve)میڈیکل
کور کے درجنوں اہلکاروں نے لڑائی کیلئے غزہ واپس جانے سےانکارکردیاہے۔اپنےایک خط میں
ڈاکٹروں، پیرا میڈکس، مینٹل ہیلتھ افسران اور نرسوں سمیت مختلف عہدوں پر فائزافراد
نے کہا ہے کہ اس جنگ میں نہ صرف دونوں اطراف کے معصوم شہری مارے جارہے ہیں بلکہ اس
سے ہماری اخلاقی اقدار اور ملک کی طویل مدتی بقا کو نقصان پہنچ رہا ہے۔ڈاکٹروں نے
اپنے خط میں مزید کہا کہ اہل غزہ کوجلاوطن کرکے وہاں اسرائیلیوں کی آبادکاری بین
الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہوگی۔ حوالہ KAN News
اسرائیل
اور امریکہ نے عالمی فوجداری عدالت (ICC)کی جانب سے جاری ہونے والے اسرائیلی
وزیراعظم، سابق وزیردفاع اورفوج کے سابق سربراہ کے پروانہ گرفتاری کو مسترد کردیا
ہے لیکن نیتن یاہو اس حوالے سے شدید خوف میں مبتلا ہیں جسکا انکشاف گزشتہ ہفتہ
ہوا۔ معاملہ کچھ طرح ہے کہ فروری میں
اسرائیلی وزیراعظم جب صدر ٹرمپ سے ملاقات کیلئے امریکہ آئے تو انکے خصوصی طیارے کو
تل ابیب سے واشنگٹن پہنچنے میں ساڑھے تیرہ گھنٹے لگے جبکہ یہ 12 گھنٹے کا سفر ہے۔
لوگوں کو اس تاخیر پر حیرت تھی۔امریکہ میں اسرائیل کے سفیر یخیل لیٹر (Yechiel
Leiter) نے 26 مارچ کو اس راز سے پردہ اٹھادیا۔ اسرائیلی سفیر کا
کہنا تھا کہ نیتن یاہو غدودِ مثانہ (Prostate)کی جراحی کے 6 ہفتے بعد ایک لمبا سفر
کررہے تھے اور انکے معالجین کو ڈر تھا کہ سفر کے دوران انکے زخم دوبارہ کھِل سکتے
ہیں لہذا حفظ ماتقدم کے طور پر اصلاحی
سرجری کیلئے ماہرین کی ایک ٹیم انکے ساتھ تھی۔ اسوقت سوال پیدا ہوا کہ اگر ضرورت
پیش آئی تو اس جہاز کو کہاں اتارا جائے؟۔ قانونی ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا کہ اگر
جہاز کسی یورپی ملک میں اترا تو بی بی کے خلاف عالمی فوجداری عدالت (ICC)کے پروانہ گرفتاری پر تعمیل کا مرحلہ پیش
آسکتا ہے۔ چنانچہ وزیراعظم کا خصوصی طیارہ راستے میں آنے والے امریکی اڈووں کے
اوپر اڑتا رہا تاکہ ہنگامی صوتحال میں اسےعام ایر پورٹ کے بجائے کسی امریکہ اڈے پر
اتارا جائے۔ اسی بنا پر سفر ڈیڑھ گھنٹہ طویل ہوگیا۔منفی تاثر کے سد باب کیلئے
اسرائیلی وزیراعظم اس ہفتے ہنگری جارہےہیں۔ہنگری
یورپی یونین کا واحد ملک ہے جس نے ICCکے حالیہ فیصلے کو تسلیم نہیں کیا۔ مجرموں
کا تعاقب کرنے والی ہند رجب فاونڈیشن نے نیتن یاہو کی گرفتاری کیلئے ہنگری کی
عدالت سے رجوع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ فاونڈیشن کے مطابق عالمی عدالت کے احکامات کی
تعمیل وزیراعظم وکٹر اوربن کی آئینی ذمہ داری ہے۔ ایمنسٹی انٹر نیشنل نے بھی ایک
'مفرور ملزم' کو سرکاری مہمان بنانے پر وزیراعظم اوربن کی مذمت کی ہے۔
بین الاقوامی سطح پر شرمندگی کیساتھ نین یاہو حکومت کو شدید بحران کا سامنا
ہے۔ عدالت عظمیٰ کی جانب سے قطر گیٹ
اسکینڈل پر حکمِ زباں بندی یا Gag Orderمنسوخ کردینے کے بعد سنسنی
خیز و شرمناک انکشافات سے ذرایع ابلاغ بھرے پڑے ہیں۔حکومتی اتحادیوں کی باہمی
لڑائی اب میڈیا پر ہورہی ہے۔ عظمتِ یہود
جماعت کے سربراہ اتامر بن گوئر کے روئے سے جھلا کر جماعتِ صیہون کے سربراہ اسموترچ
نے وزیر خزانہ کے عہدے سے استعفیٰ دیدیا۔خفیہ
ادارے شاباک (Shin Bet)کے
سربراہ رونن بار کو برطرف کردینے کے بعد وزیراعظم نے یہ منصب نائب امیر البحر (ر)
ایلی شروت کو پیش کیا، اسکا اعلان بھی کردیا گیالیکن اتحادیوں کے شدید احتجاج پر
نیتن یاہو نے نامزدگی واپس لے لی۔ رونن بار کی برطرفی کے خلاف عدالت نے حکم
امتناعی جاری کر رکھا ہے۔ سیاسی مشکلات سے نکلنے کے لئے حکومت جنگی جنون میں اضافہ
کررہی ہے۔یکم فروری کو اسرائیلی فوج نے ر فح میں ٹینک کے بہت بڑے حملے کا اغاز کردیا۔تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ رشوت ستانی اور بے ایمانی سے قوم کی توجہ ہٹانے کیلئے نیتن یاہو
نے غزہ، بیروت، غرب اردن اور شام پر “جہنم
کے دروازے کھول دئے ہیں”
دوسری طرف غزہ نسل کشی کی
پشت پناہی کیلئے ٹرمپ انتظامیہ کا جوش و خروش بڑھتا جارہا ہے۔ جامعات میں نسل کشی
کے خلاف مظاہرہ کرنے والے طلبہ کی پکڑ دھکڑ جاری ہے اور اس معاملے میں عدالتی
احکام نظر انداز ہورہے ہیں۔ منگل 25 مارچ کو جامعہ ٹف (Tufts University)میں پی ایچ ڈی کی ترک طالبہ رومیسا ازترک کو عین افطار کے وقت
گرفتار کرلیا گیا۔رمیسہ کے خلاف کوئی الزام نہیں لیکن جامعہ کے سربراہ ڈاکٹر سنیل
کمار کے مطابق وزارت خارجہ نے رمیسہ کا ویزا منسوخ کردیا ہے۔رمیسہ کی گرفتاری پر
تبصرہ کرتے ہوئے وزیرخارجہ مارکو روبیو نے کہا 'جب بھی ایسا کوئی پاگل مجھے (امریکہ میں) نظر آتا ہے، میں اسکا
ویزہ منسوخ کردیتا ہوں'۔ رمیسہ کی گرفتاری کے
بعد اسکی درخواست پر وفاقی جج اندرا تلوانی نے تحریری حکم جاری کیا کہ عدالت سے
اجازت کے بغیر رمیسا کو کہیں اور منتقل نہ کیا جائے لیکن اسے لوزیانہ میں ایمیگریشن کی حوالات بھیج
دیا گیا۔
صدر ٹرمپ کے نامزد سفیر
برائے اسرائیل مائک ہکابی (Mike Huckabee)کی توثیق کیلئے امریکی سینیٹ میں سماعت کا آغاز ہوگیا۔ انہتر
(69)سالہ ہکابی امریکی ریاست آرکنسا (Arkansas)کے گورنر رہ چکے ہیں۔ انکی
نامزدگی پر کچھ ریپبلکن سینیٹرز کو بھی اعتراض ہے۔موصوف
کے اقوال زریں ملاحظہ فرمائیں:
- دنیا میں فلسطینی نام کی کوئی قوم یا
چیز نہیں۔
- کچھ الفاظ میں کبھی استعمال نہیں کرتا
جیسے غربِ اردن یا West Bank۔یہ علاقہ Yehuda VeShomron یعنی
يہودا والسامرة ہے
- میں اس سارے علاقے کو یہودیوں کی
سرزمین کہنا اپنی اخلاقی ذمہ داری اور دیانت داری کا تقاضہ سمجھتا ہوں
- اسلام ایک ایسا مذہب ہے جو اپنے 'مقدس
ترین دنوں' میں قتل عام اور غارتگری کی حوصلہ افزائی کرتا ہے
آخر میں اسرائیلی فوج کے
ہاتھوں قلم کے ایک مزدور کے بہیمانہ قتل کا ذکر: 25
مارچ کو اسرائیلی فوج نے الجزیرہ کے 23 سالہ صحافی حسام شبات کو مارڈالا۔اس کی کار کو ڈرون سے نشانہ بنایا گیا، حالانکہ
گاڑی پر جلی حروف میں
PRESS لکھا تھا۔حسام کو ایک عرصے سے دھمکیاں مل رہی
تھیں ۔ غزہ میں سات اکتوبر 2023 کے بعد سے اب تک 170 صحافی حرمتِ قلم اورحقِ آزادیِ اظہار
پر قربان ہوچکے ہیں، ان میں 2 اسرائیلی بھی شامل ہیں۔ زخمی ہونے والے صحافیوں کی تعداد 59، لاپتہ2 اور 75 اسرائیل کی قید میں
ہیں۔
ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل کراچی، 4 اپریل 2025
ہفت روزہ دعوت دہلی، 4 اپریل 2025
روزنامہ امت کراچی 4 اپریل 2025
ہفت روزہ رہبر سرینگر 6 اپریل 2025