غزہ سے
لبنان تک، پھیلتی جنگ اور دنیا کی خاموشی
وقت گزرنے کے ساتھ غزہ کی صورتحال مزید سنگین ہوتی جارہی ہے
اور اس کا سب سے افسوس ناک پہلو اقوامِ عالم کی بے حسی ہے۔ اب وزیراعظم نیتن یاہو
نے اپنی فوج کو ہدایت دی ہے کہ غزہ پر اسرائیلی قبضے کا رقبہ 70 فیصد تک بڑھایا
جائے۔ گزشتہ برس اکتوبر میں ہونے والے جنگ بندی معاہدے کے بعد سے اسرائیلی افواج
مسلسل پیش قدمی کررہی ہیں اور فلسطینی آبادی کو ساحلی علاقوں کی طرف دھکیلا جارہا
ہے۔
چند روز قبل مجلسِ امن (Board of Peace) کے سربراہ نکولائی
ملادینوف (Nickolay Mladenov) نے سلامتی کونسل کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا تھا کہ غزہ کے
تقریباً ساٹھ فیصد علاقے پر اسرائیلی فوج قابض ہے اور 25 لاکھ فلسطینی صرف ڈیڑھ سو
مربع کلومیٹر کے محدود خطے میں محصور ہوچکے ہیں۔ اگر مزید دس فیصد رقبہ بھی ان کے
ہاتھ سے نکل گیا تو فلسطینیوں کیلئے سانس لینا بھی دشوار ہوجائے گا۔ اس پیش رفت پر
عالمی سطح پر کوئی مؤثر ردعمل سامنے نہیں آیا۔
ہم کہیں
جانیوالے نہیں
اسرائیلی فوج نے نیتن یاہو کے حکم پر عمل درآمد شروع کردیا
ہے اور پوری غزہ پٹی بمباری، ڈرون حملوں اور فائرنگ کی زد میں ہے۔ لیکن نہتے
فلسطینی ہتھیار ڈالنے یا نقل مکانی کیلئے تیار نہیں۔گزشتہ جمعہ خان یونس میں ایک
گھر بمباری کا نشانہ بنا۔ شام تک اس کے مکین ٹوٹی دیواروں اور شکستہ چھت پر چادریں
تان کر اپنا آشیانہ دوبارہ آباد کرچکے تھے۔ ملبے پر ایک جملہ بھی لکھ دیا گیا کہ "ہم یہاں سے کہیں جانے
والے نہیں۔" یہ الفاظ غزہ کی اجتماعی نفسیات کی ترجمانی کرتے
ہیں۔
غربِ اردن میں روزمرہ
کی درندگی
غربِ اردن میں بھی بے دخلی، آتش زنی، فصلوں کی تباہی اور
تشدد کا سلسلہ جاری ہے۔جمعہ 29 مئی کو نابلوس کے گاؤں مادما میں نماز سے واپس آنے
والے فلسطینیوں پر قبضہ گردوں نے دھاوا بول دیا۔ چاقوؤں اور ڈنڈوں کے حملوں میں 72
سالہ بزرگ، دو خواتین اور دیگر افراد شدید زخمی ہوئے۔ وہاں تعینات اسرائیلی فوج
حملہ آوروں کو روکنے کے بجائے تماشائی بنی رہی اور حملہ آوروں کے واپس جانے کے بعد
فلسطینی نوجوانوں کو گرفتار کرلیا گیا۔
لبنان میں جنگ کا نیا
مرحلہ
غزہ کے ساتھ ساتھ لبنان بھی ایک بار پھر جنگ کی لپیٹ میں
ہے۔ گزشتہ ہفتے اسرائیلی فضائیہ نے بیروت کے مضافاتی علاقے الشویفات میں کثیر
المنزلہ رہائشی عمارتوں کو نشانہ بنایا۔ادھر جنوبی لبنان میں زمینی کارروائیوں کا
دائرہ بھی وسیع ہورہا ہے۔ اسرائیلی افواج نہرِ لطانی عبور کرکے نبطیہ کے علاقے تک
پہنچ چکی ہیں۔ نہرِ لطانی جنوبی لبنان کی زراعت، پینے کے پانی اور بجلی کے منصوبوں
کیلئے شہ رگ کی حیثیت رکھتی ہے۔ لبنانی حلقوں کو خدشہ ہے کہ ان وسائل پر قبضہ کرکے
اسرائیل غزہ کی طرح یہاں بھی بھوک اور معاشی دباؤ کو بطور ہتھیار استعمال کرنا
چاہتا ہے۔
اسرائیل کی اپنی مشکلات
بیرونی محاذوں پر جارحیت کے ساتھ اسرائیل کو بھی اندرونی
مسائل کا سامنا ہے۔ گزشتہ ہفتے قدامت پسند حریدی (Ultra-Orthodox) بریگیڈ سے خطاب کرتے
ہوئے نیتن یاہو نے اعلان کیا کہ جو نوجوان مکمل طور پر مذہبی تعلیم میں مصروف
نہیں، اسے فوجی خدمت انجام دینا ہوگی۔انہوں نے حریدی نوجوانوں کو یقین دلانے کی
کوشش کی کہ فوج میں شامل ہونے کے باوجود وہ اپنی مذہبی شناخت برقرار رکھ سکیں
گے۔اس موقع پر اسرائیلی پارلیمان کی خارجہ و دفاعی امور کمیٹی کے سربراہ بوعز
بسموتھ (Boaz Bismuth) نے کہا:"ہماری دو مقدس ترین اقدار توریت اور اسرائیلی فوج ہیں۔"
یہ بیانات دراصل ایک تلخ حقیقت کی نشاندہی کرتے ہیں۔ متعدد
محاذوں پر طویل جنگ نے اسرائیلی فوج کو افرادی قوت کے بحران سے دوچار کردیا ہے۔
ایک ایسی ریاست جسے مشرقِ وسطیٰ کی مضبوط ترین عسکری قوت قرار دیا جاتا ہے، اب
اپنے مذہبی طبقے کو میدانِ جنگ کیلئے قائل کرنے کی کوشش کررہی ہے۔
جنسی تشدد کے الزامات
اور ہر طرف خاموشی
اقوامِ متحدہ کی تازہ رپورٹ میں پہلی مرتبہ اسرائیلی فوج
اور پولیس کو اُن فریقوں کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے جن پر مسلح تنازعات کے
دوران جنسی تشدد کے قابلِ اعتبار الزامات عائد ہوئے ہیں۔رپورٹ میں فلسطینی قیدیوں
کے ساتھ جبری برہنگی، توہین آمیز سلوک، جنسی تشدد اور عصمت دری کے متعدد واقعات کا
ذکر کیا گیا ہے۔ یہ الزامات اقوامِ متحدہ کی سابقہ تحقیقات اور خصوصی ماہرین کی
رپورٹوں سے بھی مطابقت رکھتے ہیں۔ قافلۂ صمود" کے کئی کارکن بھی رہائی کے
بعد اسی نوعیت کے الزامات سامنے لاچکے ہیں۔
ان شکایات کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کرانے کے بجائے
اسرائیل نے اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس سے تعلقات منقطع کرنے کا
اعلان کردیا ہے جبکہ امریکہ اور اسرائیل پہلے ہی عالمی فوجداری عدالت (ICC)، اقوامِ متحدہ
کے خصوصی نمائندگان اور دیگر بین الاقوامی اداروں پر دباؤ ڈالنے کی پالیسی اختیار
کئے ہوئے ہیں۔اگر یہ الزامات غلط ہیں تو آزادانہ تحقیقات سے خوف کیوں؟ اور اگر
تحقیقات کرنے والے اداروں ہی کو سزا دی جائے تو انصاف کہاں سے ملے گا؟
مذہبی آزادی کا مغربی
معیار؟
اسی دوران امریکی ریاست ٹیکساس میں شیما الزوبی کا معاملہ بھی توجہ کا
مرکز بنا محترمہ
شیما الزوبی کو فورٹ ورتھ (امریکی ریاست ٹیکساس) کے ویسٹرن ہِل ہائی اسکول میں
بطور پرنسپل تعینات کیا گیا۔ پرنسل کے عہدے پر انکی ترقی اسکولوں کی مقتدرہ ISDنے منظور کی ہے۔ شیما کا تعلیمی پس منظر اور درس و تدریس کا تجربہ
دس برس سے طویل عرصے پر محیط اور وہ کئی سالوں سے ساوتھ ویسٹ ہائی اسکول میں نائب
پرنسپل کی ذمہ داری نباہ رہی ہیں۔ لیکن وہ حجاب لیتی ہیں اور ماضی میں فلسطین اور
شریعت سے متعلق سوشل میڈیا پوسٹس بھی کرچکی ہیں۔گزشتہ ہفتے انکا تقرر معطل کردیا
گیا۔ٹیکساس میں اس وقت “شریعت نامنطور” ریپبلکن سیاست کا ایک بڑا انتخابی نعرہ ہے۔
انتخابی اشتہارات دیکھ کر یوں محسوس ہوتا ہے جیسے انکا مقابلہ ڈیموکریٹک پارٹی سے
نہیں بلکہ جماعت اسلامی سے ہو۔ امریکہ بہادر دنیا کو مذہبی آزادی، تنوع اور انسانی
حقوق کا درس دیتے پیں، لیکن اگر کسی شخص کی پیشہ ورانہ صلاحیت کے بجائے اس کی مذہبی شناخت، لباس
یا سیاسی رائے اس کی ترقی میں رکاوٹ بن جائے تو پھر مذہبی آزادی اور تنوع کے دعوے
کس حد تک معتبر رہ جاتے ہیں؟
بدلتا ہوا سفارتی توازن
ایران امریکہ جنگ امن مذاکرات کا محور آبنائے ہرمز، اقتصادی
پابندیاں اور جوہری پروگرام تھاجسکی وجہ سے اہل لبنان و فلسطین خود کو تنہا محسوس
کررہے تھے لیکن تہران اب مذاکرات کے دائرے کو توسیع دیکر غزہ اور لبنان جیسے
تنازعات کو بھی اس میں شامل کرنے کی کوشش کررہا ہے۔ایرانی قیادت کا خیال ہے کہ غزہ،
لبنان، یمن، غربِ اردن اور خلیج فارس ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ اگر یہ حکمت عملی
کامیاب ہوتی ہے تو مشرقِ وسطیٰ میں امن کی بحث صرف کسی ایک تنازع کے حل تک محدود
نہیں رہے گی بلکہ ایک جامع علاقائی بندوبست کی طرف بڑھ سکتی ہے۔
مشرقِ وسطیٰ اس وقت صرف جنگ کا میدان نہیں بلکہ انسانی ضمیر
اور عالمی سیاست دونوں کا امتحان بن چکا ہے۔ خیموں میں پناہ لینے والے بے گھر
انسان اس بات کی علامت ہیں کہ بحران صرف زمین کا نہیں بلکہ انصاف اور انسانی وقار
کا بھی ہے۔کیا دنیا اس خاموشی کو برقرار رکھے گی، یا پھر کسی نئے سیاسی و سفارتی
توازن کی طرف بڑھنے پر مجبور ہوگی؟
ہفت روزہ
فرائیڈے اسپیشل کراچی 5 جون 2026
ہفت روزہ
دعوت دہلی 5 جون 2026
ہفت روزہ رہبر سرینگر 7 جون 2026