غزہ: جنگ بندی، جنگ کی تیاری اور خاموش
دنیا
اہلِ غزہ نے رمضان المبارک کے انتظار کا
آغاز کر دیا ہے۔ یہاں رجب کا چاند نظر آتے ہی استقبالِ رمضان کی تیاریاں شروع ہو
جاتی ہیں۔ طویل عرصے کے بعد بارش اور ابر آلود موسم کا سلسلہ تھما تو 3 جنوری
کی رات، چودھویں کا چاند تباہ حال پٹی پر پوری آب و تاب سے جگمگایا۔ مکمل تاریکی
کے باعث اہلِ غزہ نے ماہِ کامل کا بڑے اشتیاق سے نظارہ کیا۔ملبے پر کھڑے بچوں سے
جب ایک صحافی نے پوچھا کہ چاند کو دیکھتے ہوئے تم زیرِ لب کیا کہہ رہے تھے، تو ایک
لڑکے نے کہا:
“میں
تاریک غزہ پرروشنی بکھیرنے والے چاند سے کہہ رہا تھا کہ دنیا بہری ہو چکی ہے۔ ائے
خوبصورت اور روشن چاند! تو ہی ہماری فریاد اپنے اور ہمارے خالق و مالک تک پہنچا
دے۔”
وحشی تعلیم
سے خوفزدہ
اقوام متحدہ کے ادارے UNICEFکے
مطابق غزہ
کیلئےامدادی سامان کی جانچ پڑتال کے دوران اسکولوں کیلئے آنے والی نصابی کتب پر
اسرائیل نے مکمل پابندی لگارکھی ہے۔ یونیسیف کے ترجمان کاظم ابوخلف نے کہا کہ درسی
کتب کیساتھ کاپیاں، کاغذ،ربر، پینسل، مارکر تک لانے کی اجازت نہیں۔ غزہ میں اسکولوں اور اساتذہ کو چُن چُن کر
نشانہ بنایا گیا۔ تقریباً تمام تعلیمی ادارے تباہ ہو گئے، مگر زندہ دل و حوصلہ مند
فلسطینیوں نے خیموں میں اسکول قائم کر کے بچوں کی تعلیم کا سلسلہ دوبارہ شروع کر
دیا۔ اب صبح سویرے اسکول جاتے بچے گولیوں کے خطرے کا سامنا کرتے ہیں، مگر وہ سینہ
تان کر نکلتے ہیں کہ زندگی اور موت اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ ظالموں کو سب سے زیادہ
خطرہ تعلیم سے ہے، کیونکہ تعلیم سوال کرنا سکھاتی ہے۔
جنگ
بندی یا جنگ کی تیاری؟
ایک طرف صدر ٹرمپ خود کو "غزہ
امن" کا داعی ظاہر کر رہے ہیں، دوسری جانب اسرائیل ایک نئے حملے کے لیے
امریکی آشیرباد کا منتظر ہے۔ ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق اسرائیلی فوج نے
مارچ میں نئے اور شدید فوجی آپریشن کے منصوبے تیار کر لیے ہیں، جن میں غزہ شہر کو
نشانہ بنانے والی ایک بڑی زمینی کارروائی شامل ہے۔
اس آپریشن کا مقصد جنگ بندی کی حد، یعنی
ییلو لائن کو مزید مغرب کی جانب، ساحلی پٹی کی طرف دھکیلنا ہے تاکہ غزہ کے مزید
رقبے پر اسرائیلی کنٹرول قائم کیا جا سکے۔ یہ معلومات ایک اسرائیلی عہدے دار اور
ایک عرب سفارت کار کے حوالے سے سامنے آئی ہیں۔ مبینہ عرب سفارت کار کے مطابق یہ
کارروائی امریکا کی مکمل حمایت کے بغیر ممکن نہیں، کیونکہ واشنگٹن اکتوبر 2025 میں
طے پانے والی نازک جنگ بندی کو دوسرے مرحلے تک لے جانا چاہتا ہے، جس میں مزاحمت
کاروں کو غیر مسلح کرنا بھی شامل ہے۔ یوں
کہا جا سکتا ہے کہ امن مذاکرات کے سائے میں فوجی نقشے تیار کیے جا رہے ہیں۔
یہ اطلاعات محض قیاس آرائی نہیں بلکہ ایک
منظم اور پہلے سے طے شدہ حکمتِ عملی کی عکاس ہیں۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ اسرائیل
کے نزدیک جنگ بندی کسی مستقل امن کا ذریعہ نہیں بلکہ ایک عارضی وقفہ ہے۔ اگر نیت
واقعی امن ہوتی تو زمینی کنٹرول بڑھانے، نئی حد بندیوں اور بڑے فوجی آپریشنز کی
منصوبہ بندی زیرِ غور ہی نہ ہوتی۔
امریکی
کردار: سوالیہ نشان
اس پورے منظرنامے میں امریکی کردار بھی
سوالیہ نشان بنا ہوا ہے۔ صدر ٹرمپ سے اس
بھیانک جنگی منصوبے کو مسترد کئے جانے کی کسی کی توقع نہیں کہ واشنگٹن میں
اسرائیلی اثر و رسوخ رکھنے والے حلقوں کا خوف منصفانہ فیصلوں کی راہ میں سب سے بڑی
بڑی رکاوٹ ہے۔ تل ابیب اور واشنگٹن میں
جاری سفارتی سرگرمیاں اس تاثر کو مزید تقویت دے رہی ہیں کہ اصل ہدف امن نہیں بلکہ
طاقت کے ذریعے نئے زمینی حقائق مسلط کرنا ہے۔
تولیدی
نسل کُشی؟؟؟؟
انسانی حقوق کے کارکن اور اقوامِ متحدہ کے
ماہرین غزہ میں جاری قتلِ عام کے ساتھ ایک اور نہایت سنگین جرم کی نشاندہی کر رہے
ہیں، جسے Reproductive
Genocide یعنی تولیدی نسل کُشی کہا جا رہا ہے۔ اس
اصطلاح سے مراد وہ اقدامات ہیں جن کے ذریعے کسی قوم کی اولاد پیدا کرنے کی صلاحیت،
ماؤں کی صحت اور آئندہ نسلوں کے وجود کو عملاً تباہ کر دیا جائے۔
اس الزام کی بنیاد چند تلخ حقائق پر ہے:
- زچگی
وارڈز اور تولیدی صحت کے مراکز کی منظم تباہی
- حاملہ
خواتین کو بنیادی طبی سہولتوں کے بغیر ولادت پر مجبور کرنا
- نوزائیدہ
بچوں کی اموات، غذائی قلت اور سردی سے بڑھتی ہلاکتیں
- ایسا
محاصرہ جو ماں اور بچے دونوں کی بقا کے لیے خطرہ بن چکا ہے
یہ محض زندہ لوگوں پر حملہ نہیں، بلکہ آنے والی نسلوں کے راستے بند
کرنے کا عمل ہے۔اور دنیا اس عمل کو خاموشی سے دیکھ رہی ہے۔
غربِ
اردن یا وادیِ گھٹن
غرب اردن
میں بڑے پیمانے پر پکڑ دھکڑ جاری ہے۔ گزشتہ ہفتےخاتون صحافی اناس اخلاوی کو گرفتار
کرلیا گیا۔ تلکرم سے ایک 15 سالہ بچے کو بھی اسرائیلی فوجی پکڑ کر لے گئے۔ جامعہ بیرزیت طلبہ یونین کی جانب سے غزہ
میں جاں بحق ہونے والی بچی ہند رجب کے آخری لمحات پر مبنی دستاویزی فلم کی نمائش
کا اہتمام کیا گیا تھا کہ اسرائیلی فوج مرکزی دروازہ توڑ کر کیمپس میں داخل ہو گئی اور طلبہ و اساتذہ پر تشدد کیا۔ آنسو گیس اور
گولیوں سے کم از کم 11 افراد شدید زخمی ہوئے۔
عالمی فوج کی تعیناتی ۔۔ آذربائیجان کا انکار، بنگلہ دیش تیار
اسرائیلی بدنیتی کے تناظر میں جنگ بندی کی
نگرانی کے لیے بین الاقوامی فوج کی تعیناتی کا امکان کم ہی دکھائی دیتا ہے۔
آذربائیجان کے صدر الہام علیوف واضح کر چکے ہیں کہ ان کا ملک غزہ سمیت کسی بھی
بیرونی محاذ پر فوج نہیں بھیجے گا۔ دوسری جانب بنگلہ دیش کے مشیرِ سلامتی خلیل
الرحمان نے غزہ میں مجوزہ بین الاقوامی استحکامی دستے (ISF)میں شمولیت میں اصولی دلچسپی ظاہر کی ہے،
تاہم اس کی نوعیت یا دائرۂ کار واضح نہیں۔ امریکی محکمہ خارجہ نے اس پیش رفت پر
کوئی فوری تبصرہ نہیں کیا۔
بمباری کا نہ رکنے والا سلسلہ
جمعہ، 2
جنوری کی صبح وسطی غزہ کے مغازی کیمپ پرزبردست بمباری سے بچوں سمیت 13 افراد جاں
بحق اور درجنوں شدید زخمی ہوگئے۔ ستم
ظریفی کہ کئی روز سے بارش اور مطلع
ابرآلود رہنے کے بعد اسی دن دھوب نکلی تھی۔ لیکن یہ روشن صبح خون کے چھینٹوں کے
ساتھ آہوں اور سسکیوں میں شانِ غریباں بن گئی۔
درندگی کی قیمت
بمباری و فوج کشی کی اہل غزہ و غربِ اردن بھاری قیمت ادا کررہے ہیں
لیکن اسکے اثرات سے خود اسرائیل بھی محفوظ نہیں۔اسرائیلی فوج کا شعبہ بحالیِ
معذوراں (Rehabilitation
Department)شدید دباؤ کا شکار ہے۔ مزدور یونین Histadrut
کے مطابق جنگ کے نتیجے میں معذور ہونے والوں کی تعداد
تقریباً 82 ہزار تک پہنچ چکی ہے، جبکہ ہر ماہ اوسطاً 1500 نئے افراد رجوع کر رہے
ہیں۔نئے
مریضوں میں اضافے کے باوجود وزارت دفاع، عملے اور سہولتوں میں توسیع کیلئے تیار
نہیں جسکی وجہ سے معذورین کی پریشانیوں میں اضافہ ہورہا ہے۔
جنگی جنون و ہیجان سے خود اسرائیلیوں کے مابین عدم برداشت میں
اضافہ ہورہا ہے۔ لازمی فوجی بھرتی کے خلاف مظاہرہ
کرنے حفظ توریت مدارس (Yeshiva)کے طلبہ پر
تیز رفتار گاڑی چڑھادی گئی جس سے مدرسے کا ایک 18 سالہ لڑکا ہلاک ہوگیا۔
فلسطین میں تشدد پر پوپ کا اظہارِ تشویش
مسیحیوں کے روحانی پیشوا اعلیٰ حضرت پوپ لیو چہاردہم نے غربِ اردن
میں بڑھتے ہوئے تشدد اور غزہ میں جاری انسانی بحران پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے
ہوئے کہا ہے کہ فلسطینیوں کو اپنی سرزمین پر پُرامن زندگی گزارنے کا حق حاصل ہے۔
پوپ لیو نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ سفارت کاری، مکالمے اور اتفاقِ رائے
کے بجائے طاقت ، دباؤ اور جنگ قابلِ قبول بیانیہ بنتی جارہی ہے۔امریکی نژاد پوپ کے
اس بیان کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ جاتی ہے کہ غربِ اردن میں واقع بیت اللحم وہ مقدس
مقام ہے جہاں مسیحی عقیدے کے مطابق حضرت عیسیٰؑ کی ولادت ہوئی۔ اس مقدس شہر اور اس
کے گردونواح میں تشدد، جبر اور عدم تحفظ نہ صرف فلسطینی عوام بلکہ دنیا بھر کے
مسیحیوں کے لیے بھی شدید تشویش کا باعث ہے۔
عالمی ردِعمل کا تسلسل: پرتگال میں ایک ریسٹورنٹ بند
عالمی سطح پر بھی اثرات نمایاں ہیں۔ پرتگال
کے دارالحکومت لزبن میں ایک اسرائیلی ملکیتیMediterranean ریستوران
طنطورہ (Tantura)
کو مسلسل دباؤ، سوشل میڈیا مہمات اور بائیکاٹ کے باعث تالے لگ گئے۔یہی رجحان یورپ
اور امریکا کے دیگر شہروں میں بھی دیکھا جا رہا ہے، جہاں بعض کاروبار بدلتی ہوئی
عالمی رائے عامہ اور اخلاقی دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔ مشرق وسطئٰ کے مختلف ممالک
میٰں فرانسیسی ادارے Carrefour کی بندش اسکی ایک بڑی مثال ہے۔
غزہ اور غربِ اردن آج بمباری، محاصرے اور
سفارتی منافقت کی بھاری قیمت ادا کر رہے ہیں۔ لیکن تاریخ بتاتی ہے کہ طاقت کے
ذریعے مسلط کیے گئے زمینی حقائق کبھی پائیدار امن میں تبدیل نہیں ہو سکے۔ سوال یہ
نہیں کہ جنگ کہاں تک جائے گی بلکہ دیکھنا یہ ہے کہ دنیا کب سننا شروع کرے گی۔
ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل 16 جنوری 2026
ہفت روزہ دعوت دہلی 16 جنوری 2026
ہفتتوزہ رہبر سرینگر 18 جنوری 2026