Wednesday, January 7, 2026

 

ریجیم چینج، منشیات یا وسائل؟

وینزویلا اور لاطینی امریکہ میں امریکی مداخلت کی پرانی کہانی

بین الاقوامی سیاست میں بعض واقعات اپنی نوعیت میں اتنے واضح ہوتے ہیں کہ اُن پر سوال اٹھانا محض حق نہیں بلکہ ذمہ داری بن جاتا ہے۔ وینزویلا میں امریکی فوجی مداخلت بلکہ جارحیت اور اس کے فوراً بعد صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیانات نے اس سوال کو زندہ کر دیا ہے کہ کیا امریکہ واقعی دنیا میں جمہوریت، استحکام اور انسانی حقوق کا علمبردار ہے، یا پھر یہ سب قدرتی وسائل کے حصول کے لیے اختیار کیے گئے دلکش نعرے ہیں؟

صدر ٹرمپ نے قوم سے خطاب میں اعلان کیا کہ امریکہ وینزویلا کو اُس وقت تک “خود چلائے گا” جب تک وہاں ایک “محفوظ، مناسب اور دانشمندانہ سیاسی منتقلی” ممکن نہیں ہو جاتی۔ اسی خطاب میں یہ بھی کہا گیا کہ امریکی تیل کمپنیاں وینزویلا میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کریں گی، تباہ شدہ انفراسٹرکچر کو درست کریں گی اور تیل کی پیداوار بڑھائیں گی۔ یہ اعلانات خود اس مداخلت کے اصل محرک کی نشاندہی کر دیتے ہیں۔

اقتدار اور تیل: اصل تصویر

سوال یہ نہیں کہ نکولس مادورو اچھے حکمران تھے یا برے۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا کسی ملک کی حکومت گرا کر اس کے قدرتی وسائل کو اپنی کمپنیوں کے حوالے کر دینا جمہوریت ہے؟۔جب اقتدار کی باگ ڈور “عارضی طور پر” سنبھالنے کا اعلان، اور اسی سانس میں تیل کمپنیوں کے لیے دروازے کھولنے کی بات ہو، تو نیت اور دعوے کے درمیان فاصلہ خود بخود نمایاں ہو جاتا ہے۔

اندھیروں میں کی گئی کارروائی

صدر ٹرمپ کے مطابق، امریکی فوج نے آپریشن کے دوران وینزویلا کے دارالحکومت کراکس کی بجلی منقطع کر دی تاکہ عسکری کارروائی باآسانی کی جا سکے۔ ایک خودمختار ملک کو اندھیروں میں دھکیل کر اس کی حکومت کا تختہ الٹ دینا، کسی انسدادِ منشیات آپریشن یا امن مشن سے زیادہ کنٹرول اور اجارہ داری کا روایتی حربہ دکھائی دیتا ہے، یعنی وہی سامراجی حربے جو دنیا ماضی میں بارہا دیکھ چکی ہے۔

ٹرمپ–مادورو ذاتی مخاصمت

یہ حقیقت بھی نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ صدر ٹرمپ اور نکولس مادورو کے تعلقات ابتدا ہی سے کشیدہ رہے۔ ٹرمپ انتظامیہ نے مادورو کو طویل عرصے تک “ناجائز حکمران” قرار دیا، سخت پابندیاں عائد کیں اور کھلے عام فوجی مداخلت کی دھمکیاں دیتی رہی۔ لیکن یہ مخاصمت محض سیاسی نہیں تھی۔ یہ اس انکار پر مبنی تھی جو مادورو نے امریکی اثر و رسوخ، معاشی اجارہ داری اور خارجہ دباؤ کے سامنے کیا۔

تیل: اصل محرک

وینزویلا دنیا کے ان چند ممالک میں شامل ہے جہاں تیل کے بڑے ذخائر موجود ہیں۔ماہرین کے مطابق یہاں دریافت شدہ ذخائر کا تخمینہ تین سو ارب بیرل سے زیادہ ہے۔ان ذخائر نے وینزویلا کو عالمی توانائی کی سیاست میں غیر معمولی مقام عطا کیا ہے۔ایسے میں یہ سوال بالکل فطری ہے کہ کیا مسئلہ وینزویلا کی سیاست تھی، یا اُس کی دولت؟۔امریکی صدر کا یہ کہنا کہ “ہم اپنی بڑی تیل کمپنیوں کو وہاں بھیجیں گے اور وہ ملک کے لیے پیسہ کمائیں گی” اس دعوے کو کمزور کر دیتا ہے کہ یہ مداخلت عوامی فلاح یا جمہوری بحالی کے لیے تھی۔

لاطینی امریکہ: ایک آزمودہ تجربہ

وینزویلا کوئی پہلا ملک نہیں۔ لاطینی امریکہ کی تاریخ ایسی مثالوں سے بھری پڑی ہے جہاں جمہوریت اور انسانی حقوق کے نام پر امریکہ کی جانب سے فوجی مداخلت کی گئی۔ چند مثالیں نذرِ قارئین ہیں۔

·        پاناما میں سربراہِ حکومت کی گرفتاری۔۔۔ 1989

·        چلی میں منتخب صدر کا خاتمہ۔۔۔ 1973

·        گوئٹے مالا (1954) اور نکاراگوا(1981) میں بے نام یا مجازی  (Proxy) جنگیں

·        ڈومینیکن ریپبلک (1965) اور ہونڈوراس (2009) میں فوجی بغاوتیں

ہر بار بیانیہ مختلف رہا، مگر طریقہ اور نتیجہ تقریباً ایک جیسا۔

آج امریکی برسراقتدار ریپبلکن پارٹی کے انتہا پسند حلقے کھلے عام کیوبا اور میکسیکو کے بارے میں مداخلت کی زبان استعمال کر رہے ہیں۔ خود صدر ٹرمپ نہرِ پاناما پر کنٹرول اور گرین لینڈ کو امریکہ کا حصہ بنانے کی خواہش کا برملا اظہار کر چکے ہیں۔
یہ سب اس بات کی یاد دہانی ہے کہ طاقتور ریاستوں کی توسیع پسندانہ خواہشات وقت کے ساتھ ختم نہیں ہوتیں، صرف ان کے نعرے بدل جاتے ہیں۔

تاریخ خود کو دہرا رہی ہے

عراق میں “تباہ کن ہتھیار، لیبیا میں “انسانی تحفظ،افغانستان میں “دہشت گردی کے خلاف جنگ، ہر بار جواز نیا تھا، مگر اصل محرک وہی: کمزور ریاستیں، بکھرا معاشرہ، اور قدرتی وسائل پر بیرونی کنٹرول۔

اب وینزویلا بھی اسی فہرست میں شامل ہوتا دکھائی دیتا ہے، جہاں جمہوریت کے نام پر طاقت اور امن کے وعدوں کے پیچھے معاشی مفادات کارفرما ہیں۔ اگر مقصد واقعی جمہوریت کی بحالی تھا، تو سب سے پہلا اعلان انتخابات کا ہونا چاہیے تھا، تیل کمپنیوں کا نہیں۔اگر مقصد عوامی فلاح تھا، تو اندھیروں میں بمباری کیوں؟ یہ سوال اب صرف وینزویلا کے عوام کا نہیں، بلکہ پوری دنیا کا ہے کہ کیا اکیسویں صدی میں بھی عالمی سیاست وسائل کی بندربانٹ ہی کے گرد گھومے گی، یا کبھی اصول، خودمختاری اور انصاف کو بھی حقیقت کا روپ ملے گا؟

ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل کراچی 9  جنوری 2026

ہفت روزہ دعوت دہلی 9 جنوری 2026


Thursday, December 25, 2025

 

بارش، بھوک، بارود اور بے حسی کا عالمی اتحاد

غزہ میں اس وقت صرف بارود ہی نہیں برس رہا، موسم بھی بے رحم ہو چکا ہے۔ طوفانی بارشیں، سرد ہوائیں اور اسرائیلی گولیاں، تینوں ایک ساتھ حملہ آور ہیں۔ خیمے اڑ چکے ہیں، جو بچے تھے وہ پانی میں ڈوب گئے۔ مرمتی سامان کی عدم دستیابی نے ان بوسیدہ پناہ گاہوں کو دوبارہ کھڑا کرنا ناممکن بنا دیا ہے۔ وقفے وقفے سے بارش، سرد ہوائیں اور ساتھ ہی اسرائیلی نشانچیوں کی مشق۔ یہ ہے جنگ بندی کے سائے میں غزہ کی زمینی حقیقت۔

خیموں پر بارش، لاشوں پر خاموشی

خوراک کی تلاش میں دو نوجوانوں نے غلطی سے جنگ بندی کی پیلی لکیر کی دوسری طرف پاوں رکھا اور فوراًاسرائیلی نشانچیوں کا ہدف بن گئے۔ ایک دن پہلے غزہ شہر کے التفاح محلے میں شادی کی تقریب پر اسرائیلی ٹینکوں نے گولہ باری کی، چھ افراد جاں بحق ہوئے۔ حسبِ روایت وضاحت آئی کہ “غلطی” ہو گئی، ہدف دہشت گرد تھے۔ یہی منطق ایک ہفتہ قبل چھ سالہ سندس کی جان لینے والے ڈرون حملے میں بھی دی گئی تھی کہ بچوں کی دوڑ بھاگ “خطرہ” محسوس ہوئی۔

مکمل ناکہ بندی کے باعث گرم کپڑے میسر نہیں۔ پچھلے ہفتے 14 دن کا محمد خلیل ابو الخیر ماں کے سینے سے لپٹا ٹھٹھر کر دم توڑ گیا۔ امن معاہدے کی پہلی شرط امداد پر پابندیوں کا خاتمہ تھی، مگر نہ صرف ناکہ بندی برقرار ہے بلکہ خیموں اور گرم کپڑوں کی غزہ آمد پر مزید قدغنیں عائد کر دی گئی ہیں۔

آئی پی سی رپورٹ: غذائی صورتحال سنگین تر

آئی پی سی (Integrated Food Security Phase Classification) اقوامِ متحدہ اور عالمی امدادی اداروں کا تسلیم شدہ تکنیکی فریم ورک ہے، جو کسی بھی خطے میں غذائی قلت اور بھوک کی شدت کو پانچ درجوں میں تقسیم کرتا ہے:

فیز 1 (معمول)، فیز 2 (دباؤ)، فیز 3 (سنگین)، فیز 4 (ایمرجنسی) اور فیز 5 (تباہ کن/قحط)۔یہ درجہ بندی انسانی بحران کی شدت ناپنے کا عالمی معیار سمجھی جاتی ہے۔

آئی پی سی کی تازہ رپورٹ کے مطابق غزہ کی پٹی اس وقت مجموعی طور پر ایمرجنسی فیز 4 میں ہے۔ اگرچہ 10 اکتوبر کے بعد امداد میں اضافے کے باعث صورتحال جولائی اور اگست کی نسبت کچھ بہتر ہوئی ہے، مگر شدید غذائی عدم تحفظ، خوراک کی قلت اور ناقص صحت و صفائی بدستور لاکھوں افراد، خصوصاً بچوں، کو متاثر کر رہی ہے۔ رپورٹ کے مطابق ایک لاکھ سے زائد افراد اب بھی فیز 5، یعنی تباہ کن سطح پر موجود ہیں۔

اس رپورٹ کو اسرائیلی وزارتِ دفاع کے ادارے کوگاٹ (COGAT) نے مکمل طور پر مسترد کرتے ہوئے امدادی ٹرکوں اور خوراک کی بڑی مقدار کا حوالہ دیا ہے۔ جب بڑی طاقتیں پشت پر ہوں تو انکار کی راہ آسان ہو جاتی ہے۔سوال مقدار نہیں بلکہ  رسائی، منصفانہ تقسیم اور تسلسل ہے۔ خوراک کا داخل ہونا اور بھوک کا ختم ہونا ایک جیسی بات نہیں۔ جب لاکھوں انسان صرف “زندہ رہنے” کی حد تک خوراک پائیں، تو اسے بہتری نہیں کہا جا سکتا، یہ محض بحران کی طوالت ہے۔

دورِ حاضر کے غارتگر

غزہ میں جنگ بندی کے باوجود تباہی کا سلسلہ جاری ہے۔ امریکی سیٹلائٹ کمپنی Planet Labs کی تصاویر بتاتی ہیں کہ مشرقی غزہ، شجاعیہ، خان یونس اور رفح میں عمارتوں کی منظم مسماری جاری ہے، حتیٰ کہ وہ عمارتیں بھی مہندم کی جارہی ہیں جو جنگ کے دوران بڑی حد تک محفوظ رہیں۔

برطانیہ کے تحقیقی ادارے Forensic Architecture کے مطابق، جنگ بندی کے بعد اسرائیلی فوج نے “پیلی لکیر” کے ساتھ 48 نئے اڈے قائم کئے اور خان یونس و رفح میں پورے محلوں کو رہائش کے قابل نہ چھوڑا۔ اقوامِ متحدہ کے ادارے UN Satellite Centre (UNOSAT) نے تفصیلی جائزے کے بعد کہا ہے کہ غزہ کی 81 فیصد عمارتیں جزوی یا مکمل طور پر تباہ ہو چکی ہیں۔

یہ غارتگری کسی وحشی لشکر کی نہیں بلکہ ایک جدید ریاست کی ہے، جو قانون اور سلامتی کے نام پر پورے علاقے کو نقشے سے مٹا رہی ہے۔ دورِ حاضر کے غارتگر تلوار نہیں اٹھاتے۔ وہ بلڈوزر، سیٹلائٹ اور خاموش عالمی ضمیر پر انحصار کرتے ہیں۔تصویر کی صورت  خلا سے شہادت تو آجاتی ہے لیکن زمین پر جواب دہی کہیں نظر نہیں آتی۔

غزہ میں فوج؟ اسلام آباد کی آزمائش

امریکی خبر رساں اداروں کے مطابق امریکہ پاکستان پر دباؤ ڈال رہا ہے کہ وہ مجوزہ بین الاقوامی “اسٹیبلائزیشن فورس” کیلئے فوجی فراہم کرے۔اطلاعات ہیں کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر جلد ہی واشنگٹن میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کریں گے جہاں غزہ کے لیے 20 نکاتی منصوبے پر گفتگو متوقع ہے۔ اگر پاکستان نے اپنے دستے غزہ بھجنے سے انکار کیا تو صدر ٹرمپ ناراض ہو سکتے ہیں جبکہ امریکہ کا مطالبہ ماننے کی صورت میں عوام کی جانب  سے شدید ردعمل کا خدشہ ہے۔

دوسری طرف اسرائیلی میڈیا کہہ رہا کہ اسلام آباد نے اس حوالے سے  کچھ شرائط پیش کی ہیں جس کے مطابق پاکستانی فوج غزہ میں شہری مراکز سے دور امدادی سرگرمیوں اور جنگ بندی کی نگرانی کریگی۔ مزاحمت کاروں سے تصادم یا انھیں غیر مسلح کرنے کی کسی مہم میں حصہ نہیں لیا جائیگا۔ پاکستانی فوج صرف اسی صورت غزہ جائیگی جب ترک فوجی دستے بھی وہاں موجود ہوں۔فلسطینی ماہی گیروں کو تحفظ فراہم کرنے کیلئے ترک و پاک بحریہ غزہ کے ساحل پر جہاز تعینات کرینگی۔ زمینی فوج کو فضائی تحفظ (Air Cover) دینے کیلئے اردن میں فضائی اثاثے رکھے جائینگے ۔

واشنگٹن میں صحافیوں سے باتیں کرتے ہوئے امریکی وزیرخارجہ مارکو روبیو نے پاکستانی شرائط کے بارے میں تبصرے سے گریز کرتے ہوئے کہا کہ واضح مینڈیٹ اور دوٹوک(TOR)  Term of Referenceکے بغیر وہ کسی بھی ملک کی جانب سے فوجی تعیناتی کی توقع نہیں کرتے۔بظاہر لگ رہا ہے کہ پاکستان کی  شرائط امریکہ کیلئے قابل قبول نہیں اسی لئے جناب روبیو نے ایتھیوپیا سے فوج بھیجنے کی درخواست کی ہے۔ ایتھوپین وزیراعظم ابی احمد سے فون پر گفتگو میں انھوں نے مبینہ طور پر مالی منفعت کی پیشکش بھی کی۔

جو چاہے آپ کا حسنِ کرشمہ ساز کرے

گزشتہ ہفتے،  امریکہ کے ری پبلکن سینیٹر لنڈسے گراہم نے اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو سے ملاقات کے بعد کہا کہ غزہ کے مزاحمت کار نہ تو غیر مسلح ہو رہے ہیں اور نہ ہی اقتدار چھوڑنے کے موڈ میں ہیں، بلکہ وہ دوبارہ مسلح اور منظم ہو رہے ہیں۔ فاضل سینیٹر نے یہ بھی فرمایا کہ لبنان میں حزب اللہ مزید اسلحہ بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔ سینیٹر گراہم نے 2026 کو “امن ” اور “برے کردار کو ختم کرنے” کا سال قرار دینے کی خواہش کا اظہار بھی کیا۔

امریکی سینیٹر کا یہ بیان دراصل جنگی جنون کو نئی اخلاقی ملمع کاری فراہم کرنے اور خطے میں جاری خونریزی کے لیے جواز اور بیانیہ تراشنے کی ایک دانستہ کوشش ہے۔ سینیٹر صاحب نے “برے کردار” کی اصطلاح جان بوجھ کر مبہم رکھی۔ انہوں نے یہ وضاحت ضروری نہ سمجھی کہ آخر وہ کردار کون ہے جو پورے خطے کے امن کے لیے سب سے بڑا خطرہ بن چکا ہے۔ حالانکہ زمینی حقائق کسی ابہام کے محتاج نہیں۔

اس وقت غزہ کی غیر قانونی و غیر انسانی ناکہ بندی، امداد پر قدغنیں، شہری علاقوں پر مسلسل حملے، شادی کی تقریبات اور جنازوں کو نشانہ بنانا، اور غربِ اردن میں گھروں کی منظم مسماری جیسے انسانیت کش اقدامات کسی مزاحمتی گروہ کے نہیں بلکہ ایک ریاست کے ہیں۔ یہ سب وہ حقائق ہیں جن پر “برے کردار” کی تعریف پوری اترتی ہے، مگر واشنگٹن کے جنگ پسند حلقے انہیں دیکھنے سے گریزاں ہیں۔

غربِ اردن: پتھر کے جواب میں گولی

غزہ کے ساتھ ساتھ غربِ اردن میں صورتحال دن بدن سنگین ہو رہی ہے۔ جنین، قباطیہ اور نور شمس پناہ گزین کیمپ، ہر جگہ ایک ہی کہانی ہے۔ بچوں کے پتھراو کے جواب میں مشین گن، جنازوں پر فائرنگ، گھروں کی مسماری اور غیر ملکی مبصرین پر پابندیاں۔ حتیٰ کہ کینیڈا کے ارکانِ پارلیمان کو بھی غربِ اردن کے دورے سے روک دیا گیا۔ یہ سب اس وقت ہو رہا ہے جب عالمی برادری “امن” کے بیانات میں مصروف ہے۔

جہاں فصل اُگتی تھی، اُب کالونی اگے گی

اسرائیلی حکومت نے غربِ اردن میں فلسطینیوں کو بے دخل کر کے 19 اسرائیلی کالونیاں (Settlements) بنانے کی منظوری دیدی  ہے، جسکے نتیجے میں مزید کئی ہزار فلسطینی بے گھر ہوجائینگے۔ اس سال مجموعی طور پر 210 نئی کالونیاں بسائی گئی ہیں۔ جنین کے جن 19 علاقوں سے فلسطینیوں کوبے دخل کیا جارہا ہے وہاں بڑے پیمانے پر ٹماٹر، سنگترے اور سبزیوں کی کاشت ہوتی ہے۔

بحرِ روم کی گیس: فلسطین کا حق، یورپ کی سہولت

مصر و اسرائیل نے گیس برآمد کے ایک معاہدے کا اعلان کیا ہے۔ جس کے تحت لیویاتھن (Leviathan) گیس میدان سے 2040 تک 34 ارب 70 کروڑ ڈالر کے عوض 130 ارب مکعب میٹر (130bcm)گیس مصر کو فراہم کی جائیگی جو اسے LNGمیں تبدیل کرکے یورپ کو فروخت کریگا۔

جن تین گیس میدانوں، کارِش (Karish)، لیویاتھن (Leviathan) اور ثمر (Tamar) سے اسرائیل گیس حاصل کر رہا ہے، ان میں سے لیویاتھن اور ثمر غزہ کے ساحلوں سے متصل سمندری حدود میں واقع ہیں، جبکہ کارِش لبنان کے متنازع پانیوں میں آتا ہے۔ اہلِ غزہ اور لبنان کا یہ دعویٰ محض جذباتی نعرہ نہیں بلکہ اقوامِ متحدہ کے سمندری قوانین (UNCLOS) کی روح کے عین مطابق ہے۔ مگر توانائی کی عالمی منڈی میں “حق” کا تعین اب نقشوں سے نہیں، طاقت سے ہوتا ہےچنانچہ یورپی یونین  نے گیس کی ضرورت پوری کرنے کیلئےاخلاقیات کو پسِ پشت ڈال دیا ۔ مصر اور دیگر فریقین اسے “غیر سیاسی” قرار دے رہے ہیں، مگر جب ملکیت متنازع ہو تو تجارت غیر سیاسی نہیں رہتی اور مصر کا موقف عذرِ گناہ بدتر از گناہ کی ایک شکل ہے۔

غزہ کے بچے! استقامت کے کوہِ گراں

غزہ کے بچے شاید تاریخ کی سب سے مضبوط نسل ہیں۔ نو سالہ الہام، تیرہ سالہ رہف، چھ سالہ محمد، سب ملبے میں سے زندگی چن رہے ہیں۔ ماں باپ کے بغیر، چھوٹے بہن بھائیوں کے سہارے، ٹوٹے گھروں کو دوبارہ بنانے کا عزم،یہ وہ استقامت ہے جس کی مثال انسانی تاریخ میں کم ملتی ہے۔ آج چھ سالہ محمد الیازجی کا ذکر جسکا سارا خاندان  ملبے تلے آگیا لیکن اللہ نے محمد اور اسکی چھ ماہ کی بہن تالین کو سلامت رکھا۔ یہ معصوم بچہ ایک شفیق ماں کی طرح اپنی بہن کو 'پال' رہا ہے۔ الجزیرہ کے نمائندے نے جب محمد اورتالین کو دیکھا تو اس بچے کے سلیقے اور بہن کیلئے اسکی محبت دیکھ کر حیران رہ گیا۔

ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل کراچی 26 دسمبر 2025

ہفت روزہ دعوت سرینگر 26 دسمبر 2025

ہفت روزہ رہبر سرینگر 28 دسمبر 2026


Thursday, December 18, 2025

 

غزہ و غربِ اردن سے سڈنی تک۔  نفرت کا بیانیہ

وحشت کے آٹھ سو دن

سڈنی (آسٹریلیا) کے فیشن ایبل ساحل بونڈائی (Bondi) پر یہودی تہوارحنوکا (Hanukkah)منانے والوں کے خلاف دہشت گردی کا واقعہ انتہائی افسوسناک ہے۔ عبادت میں مصروف لوگوں پر اندھا دھند فائرنگ سے 12 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے۔ فلسطینیوں سمیت ساری دنیا نےاس وحشیانہ کارروائی کی مذمت کی لیکن اس انسانیت کش واقعے کو بھی جنگجو اسرائیلی قیادت غزہ اور غربِ اردن میں اپنے مجرمانہ اقدامات کے دفاع کے لیے استعمال کر رہی ہے۔

مبینہ طور پر اس حملے کے ذمہ دارہندنژاد باپ بیٹے بتائے جا رہے ہیں، تاہم اسی سانحے کی ایک اور حقیقت کو دانستہ نظرانداز کیا جا رہا ہے یعنی ایک مسلمان، احمد الاحمد، نے اپنی جان خطرے میں ڈال کر حملہ آور سے رائفل چھینی اور ممکنہ طور پر مزید جانی نقصان کو روکا۔ مارے جانے والوں میں Chabad فرقے کے ربائی ایلی شیلینجر بھی شامل ہیں، جو غزہ کے محاذ پر اسرائیلی فوج کی کھلے عام حوصلہ افزائی کرتے رہے تھے۔ آسٹریلوی وزیرِ اعظم نے واقعے کی دوٹوک مذمت کرتے ہوئے یہودی برادری سے ہمدردی اور یکجہتی کا اظہار کیا، جو ایک ذمہ دار ریاستی رویہ ہے۔ مگر انکے اسرائیلی ہم منصب نے  اس سانحے کی وجہ آسٹریلیا میں غزہ نسل کشی کے خلاف ہونے والے مظاہرے قرار دے کر اس انسانی المیے کو سیاسی اشتعال انگیزی میں بدلنے کی کوشش کی۔حنوکا کی تقریب پر حملہ جتنا قابلِ نفرت ہے، اتنے ہی قابلِ مذمت غزہ اور غربِ اردن میں مساجد، مدارس اور پناہ گاہوں پر ہونے والے حملے بھی ہیں۔ مسئلہ یہ نہیں کہ کس کا خون بہا، مسئلہ یہ ہے کہ کون سا خون سیاسی بیانیے کے لیے استعمال ہوا اور کسے بے آواز دفن کر دیا گیا۔

وحشت کے آتھ سو دن۔۔۔۔

غزہ پر آتش و آہن کی موسلا دھار برسات کو آٹھ سو دن مکمل ہو چکے ہیں، مگر نام نہاد جنگ بندی کے بعد بھی اس محصور پٹی کے باسیوں کو ایک لمحے کی راحت نصیب نہیں ہوئی۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ طاقتور دنیا نے غزہ نسل کشی کو new normal قرار دیتے ہوئے اس انسانی المیے کو ایک قابلِ قبول ضمنی نقصان (collateral damage) کے درجے میں دھکیل دیا ہے۔

سرد ہوا کا طوفان ۔۔ اہل غزہ  کی  نئی آزمائش

بمباری، بھوک اور بیماری کے بعد اب موسم بھی اہلِ غزہ کے خلاف صف آرا ہے۔جمعرات 11 دسمبر کی صبح آنے والے Byron نامی شدید طوفان اور موسلا دھار بارش نے تین لاکھ خیموں پر مشتمل اس بستی کو تہس نہس کر ڈالا۔ پندرہ لاکھ سے زائد انسان،جن میں بچوں اور خواتین کا تناسب چالیس فیصد سے زیادہ ہے، بے یارومددگار اور زندگی کی بنیادی سہولتوں سے محروم ہیں۔تیز سرد ہواؤں سے خیمے اکھڑ گئے اور ہر طرف کئی کئی فٹ پانی کھڑا ہے۔ ساحلی علاقوں میں بحیرۂ روم کی لہروں نے تباہی میں مزید اضافہ کر دیا۔ اقوامِ متحدہ کے ادارے UNICEF کے ڈائریکٹر جوناتھن کرِکس (Jonathan Crickx) نے دیر البلح سے بتایا  کہ 'ننھے بچے سرد ہواؤں میں کھلے آسمان تلے گیلے کپڑوں میں ہیں۔ بستر، کمبل، سب کچھ بھیگا ہوا اور ایک خوفناک المیہ بچوں کو نگلنے والا ہے'۔ سردی سے ٹھٹھر کر آٹھ ماہ کی رہف ابو جزر اپنی ماں کے سینے سے لپٹی ہوئی دم توڑ گئی۔ اب تک کم از کم گیارہ افراد سردی کے باعث جاں بحق ہو چکے ہیں۔

سخت سردی اور ظلم کا گرم بازار

اس آفت کے باوجود اسرائیلی فوج کا رویہ تبدیل نہ ہوا۔ رفح میں امدادی ٹرک سے کمبل لینے والے دو نوجوانوں کو گولی مار دی گئی۔ خان یونس کے علاقے بنی سہیلہ میں خیمہ اسکول پر ٹینکوں کی گولہ باری سے ایک خاتون استاد جاں بحق ہوئیں، جبالیہ میں ایک خاتون کو ٹینک تلے کچل دیا گیا۔ مواصی کے ساحلی علاقے میں فائرنگ سے تین سالہ عہد البیوک جان سے گئی، جبکہ غزہ کے ساحل پر گن بوٹ سے فائرنگ میں پانچ سالہ جنان ابو عمرہ شدید زخمی ہوگئی۔

بد ترین حالات میں بھی غزہ کی ناکہ بندی جاری ہے

بین الاقوامی امدادی ادارے Norwegian Refugee Council (NRC) کے مطابق جنگ بندی کے بعد سے اسرائیل نے صرف 15600 خیمے غزہ بھیجنے کی اجازت دی ہے جس میں بری طرح ٹھنس کر 88 ہزار افراد سماسکتے ہیں۔ یہاں ٹھکانوں کے متلاشیوں کی تعداد 13 لاکھ کے قریب ہے۔ انسانی حقوق کی اسرائیلی تنظیم B’Tselem کا کہنا ہے کہ گرم کپڑے، کمبل اور نزلہ و زکام کی دواوں سے لدے ساڑھے چھ ہزار ٹرک غزہ جانے کیلئے تیار ہیں لیکن انھیں اسرائیلی فوج نے روک رکھا ہے۔سخت سردی اور تیز ہواوں سے بچنے کیلئے ہزاروں لوگ کھنڈر بنی خطرناک عمارتوں میں پناہ لئے ہوئے ہیں جو تیز بارش اور طوفانی ہواوں میں کسی بھی وقت گرسکتی ہیں۔ برطانیہ کی سماجی تنظیم، آکسفام (Oxfam)کا کہنا ہے کہ  طوفان سے تقریبا تمام خیمہ تباہ ہوچکے ہیں۔ چھوٹے چھوٹے بچے سردی میں ٹھٹھر رہے ہیں لیکن اسرائیلی فوج نئے خیموں، گرم کپڑوں اور دواوں کی غزہ آمد کا راستہ روکے ہوئے ہے۔

دہشت گردی کا لیبل ۔۔۔  پالیسی یا ہتھیار

اسی دوران ٹرمپ انتظامیہ، اقوامِ متحدہ کے امدادی ادارے UNRWA پر دہشت گردی کے الزام میں پابندیوں پر غور کر رہی ہے، حالانکہ یہی ادارہ غزہ میں انسانی امداد کی ریڑھ کی ہڈی سمجھا جاتا ہے۔ ٹیکساس اور فلوریڈا میں CAIR پر پابندیاں، اور وزیرِ خارجہ مارکو روبیو کی جانب سے “خلافت” کے نام پر مزید قدغنوں کی باتیں، اس امر کی نشاندہی کرتی ہیں کہ دہشت گردی کا الزام اب محض سیکیورٹی اصطلاح نہیں رہا بلکہ خارجہ اور داخلی سیاست کا ہتھیار بن چکا ہے۔ سیاسی اختلافات، نظریاتی کشمکش یا مخالف بیانیے کو دبانے کے لیے "دہشت گردی" کا لیبل لگانے سے اصل نقصان اُس مشترکہ عالمی اتفاق کو ہوگاجس کی بنیاد پر حقیقی دہشت گرد گروہوں کے خلاف کارروائی ممکن ہے۔یہ طرزِ عمل نہ صرف غزہ کے انسانی بحران کو شدید تر کردیگا بلکہ اس سے عالمی سطح پر دہشت گردی کے خلاف اتفاقِ رائے کو بھی نقصان پہنچےگا۔

اسلاموفوبیا ۔۔ امریکہ کے اندر ایک اور محاذ

اسرائیلی جبر کی طرح امریکہ میں بھی اسلاموفوبیا مہم تیز ہورہی ہے۔ریاست فلورڈا سے ریپبلکن پارٹی کے رکنِ کانگریس رینڈی فائن (Randy Fine)نے ایک سماعت کے دوران کہا 'امن قائم کرنے کے لیے اُن لوگوں کو ختم کرنا ضروری ہے جو آپ کے خاتمے کے خواہاں ہوں'۔ فائن صاحب نے یہ بات کسی شدت پسند گروہ کیلئے نہیں بلکہ عام مسلمانوں یا “mainstream Muslims” کے بارے میں کہی۔صدر ٹرمپ بھی مسلم اقلیتوں کے بارے میں اچھی رائے نہیں رکھتے اور صومالی نژاد برادری کے لیے ناگوار الفاظ استعمال کرنے کے حوالے سے معروف ہیں۔

امریکہ کا آئین مذہبی آزادی، مساوات اور شہری حقوق کی ضمانت دیتا ہے۔ اس تناظر میں ایسے بیانات کے خلاف مؤثر ردعمل ضروری ہے تاکہ دیوار سے لگی مسلم اقلیت میں اعتماد بحال ہو۔ ورنہ امریکی مسلمان یہ سمجھنے پر مجبور ہوں گے کہ یہ سب ریاستی مقتدرہ کی خاموش رضا سے ہورہا ہے۔

زیتون دشمنی ۔۔۔ درختوں کے خلاف جنگ

زیتون ارضِ فلسطین کی شناخت اور مقامی کسانوں کا سب سے بڑا ذریعہ آمدنی ہے۔ اسرائیلی حکومت ایک منظم منصوبے کے تحت زیتوں کی فصل اجاڑ رہی ہے۔ پہلے یہ کام انتہا پسند گروہ فوجی تحفظ میں کرتے تھے، مگر اب یہ ذمہ داری فوج نے براہ راست اپنے ہاتھ میں لے لی ہے۔گزشتہ ہفتے مرکزی کمان کے سربراہ میجر جنرل ایوی بلُتھ (Avi Bluth) نے نابلوس کے قریب گاؤں قریوت میں 80 دونم (20 ایکڑ) رقبے پر زیتون کے درخت اکھاڑنے کا تحریری حکم جاری کیا۔ لیکن جب مسلح سپاہی اور بلڈوزر موقع پر پہنچے تو پورے علاقے کو بند کرکے کارروائی 150 دونم (37 ایکڑ) تک پھیل گئی اور سرسبز کھیت کو چٹیل میدان بنا دیا گیا۔ 'سیکیورٹی' کے نام پر یہ کاروائیاں درحقیقت فلسطینی معاش، ثقافت اور حقِ ملکیت مٹانے کی مہم ہے۔

یورپی فنکاروں کی بغاوت

غزہ نسل کشی اور غربِ اردن میں فلسطینیوں سے بدسلوکی پر شیوخانِ حرم، اصحابِ جبہ و دستار اور مغرب کے جمہوریت نواز تو مصلحتاً خاموش ہیں، لیکن وہ لوگ جنھیں حرفِ عام میں گوئیے، اداکار اور رقاص کہا جاتا ہے، اس ظلم عظیم پر بھرپور احتجاج کررہے ہیں ۔

یوروویژن 2025 کے سوئستانی فاتح نیمو میٹلر (Nemo Mettler) نے اپنا Grand Prix اعزاز واپس کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔نیمو نے انسٹاگرام پر لکھا 'اسرائیل کی 2026 کے مقابلے میں شمولیت نے یوروویژن کی بنیادی قدروں کو شدید مجروح کیا ہے۔اسی لیے میں اپنی ٹرافی واپس کررہا ہوں'۔ اس سے پہلے اسپین، ہالینڈ، آئرلینڈ، سلووینیا اور آئس لینڈ کے قومی نشریاتی ادارے،  مقابلے میں اسرائیل کی شمولیت برقرار رکھنے کے فیصلے پر یوروویژن 2026 سے دستبرداری کا اعلان کر چکے ہیں۔

بھوک یا بارود۔۔۔ اسرائیل میں بڑھتا ہوا سماجی و معاشی بحران

اسرائیلی انتہا پسندوں کے شوقِ کشور کُشائی نے جہاں اہلِ فلسطین سمیت پورے مشرقِ وسطیٰ میں قیامت برپا کر رکھی ہے، وہیں اس جارحانہ اور توسیع پسندانہ طرزِ عمل کی قیمت اب عام اسرائیلی شہری بھی چکا رہے ہیں۔ انسانی بہبود کے لیے کام کرنے والی اسرائیل کی معتبر تنظیم Latet کی  سالانہ رپورٹ کے مطابق ایک چوتھائی اسرائیلی خاندان غذائی عدم تحفظ کا شکار اور بارہ لاکھ بچے مناسب خوراک سے محروم ہیں۔

تم انکے شکستہ تیر گنو!!!

نسل کشی کی اس وحشیانہ مہم میں شہریوں کے ساتھ اسرائیلی فوجیوں کو بھی گہرے جسمانی و نفسیاتی زخم سہنے پڑ رہے ہیں۔ اسرائیلی وزارتِ دفاع کی ایک تازہ رپورٹ میں اعتراف کیا گیا ہے کہ جنگ کے نتیجے میں زخمی اور مستقل نگہداشت کے محتاج فوجیوں کی تعداد 82ہزار سے تجاوز کر چکی ہے۔ یہ صرف جسمانی زخموں کا مجموعہ نہیں بلکہ 31ہزار فوجی ذہنی و اعصابی صدمات (Mental Health Injuries) کی وجہ سے طویل علاج کے مراحل میں ہیں۔ یہ اعداد و شمار واضح کرتے ہیں کہ جنگ صرف محاذ تک محدود نہیں رہتی ۔اس کے شعلے معاشرتی فلاح، نفسیاتی صحت، معاشی استحکام اور عام شہریوں کی روزمرہ زندگی تک پھیل جاتے ہیں۔

آخر میں… ایک ننھی “دہشت گرد کا ذکر

چھ سالہ سندس شادی کی تقریب میں کھیل رہی تھی کہ اسرائیلی ڈرون نے نشانہ بنایا۔ جواز یہ دیا گیا کہ “چھت پر دوڑ دیکھ کر حملے کا خدشہ ہوا”۔ ڈرون پر نصب مصنوعی ذہانت (AI)سے مزین کیمرے تو ایک ایک فرد کی مکمل شناخت کرلیتے ہیں۔ کیا یہ جدید ڈرون پانچ سے سات سال کے بچوں کی شناخت نہیں کرسکے؟؟؟ ۔

ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل کراچی 19 دسمبر 2025

ہفت روزہ دعوت دہلی 19 دسمبر 2025

ہفت روزہ رہبر سرینگر 19 دسمبر 2025


 

بحرِ روم کی گیس، فلسطین کا ثمر اور یورپ کی سرد خاموشی

اسرائیلی وزیراعظم بن یامین  نیتن یاہو نے 17 دسمبر کو گیس برآمد کے ایک معاہدے کا اعلان کیا ہے۔ معاہدے کے تحت لیویاتھن (Leviathan) گیس میدان سے 2040 تک 34 ارب 70 کروڑ ڈالر کے عوض  130 ارب مکعب میٹر 130bcm)گیس مصر کو فراہم کی جائیگی جو اسے LNGمیں تبدیل کرکے  یورپ کو فروخت کریگا۔ یہ اسرائیل کی تاریخ کا سب سے بڑا گیس معاہدہ ہے۔

امریکی کمپنی Chevron اور اسرائیلی ادارہ NewMed Energy سمیت تمام شراکت دار اس معاہدے کے دستخط شدہ فریق ہیں، اور Chevron کی شمولیت گیس کی برآمد کو ممکن بنائے گی

جسے اسرائیلی وزیرِاعظم “تاریخی لمحہ” قرار دے رہے ہیں، وہ درحقیقت عہدِ حاضر میں قدرتی وسائل کی لوٹ مار کی ایک نہایت منظم اور مکروہ مثال ہے۔

جن تین گیس میدانوں، کارِش (Karish)، لیویاتھن (Leviathan) اور ثمر (Tamar) سے اسرائیل گیس حاصل کر رہا ہے، ان میں سے لیویاتھن اور ثمر غزہ کے ساحلوں سے متصل سمندری حدود میں واقع ہیں، جبکہ کارِش لبنان کے متنازع پانیوں میں آتا ہے۔ اہلِ غزہ اور لبنان کا یہ دعویٰ محض جذباتی نعرہ نہیں بلکہ اقوامِ متحدہ کے سمندری قوانین (UNCLOS) کی روح کے عین مطابق ہے۔ مگر توانائی کی عالمی منڈی میں “حق” کا تعین اب نقشوں سے نہیں، طاقت سے ہوتا ہے۔

ثمر: فلسطین کا درخت، اسرائیل کی فصل

یہ وہی ثمر ہے جسے 2012 میں مصر کے منتخب صدر محمد مورسی نے فلسطین اور لبنان کی مشترکہ ملکیت قرار دیا تھا۔ مرسی معزول ہوئے، قید میں مارے گئے، اور آج وہی ثمر اسرائیل کی توانائی خودکفالت اور یورپ کی گیس فراہمی کا مرکزی ستون بن چکا ہے۔

یورپ کی دوغلی اخلاقیات

روس یوکرین جنگ کے بعد یورپ کو فوری طور پر متبادل گیس درکار تھی، اور اس ضرورت نے اخلاقیات کو پسِ پشت ڈال دیا۔ قاہرہ میں دستخط ہونے والی مفاہمت کی یادداشت میں نہ غزہ کا ذکر ہے نہ فلسطین و لبنان کا، مگر انہی ساحلوں سے نکالی گئی گیس یورپی شہروں کو روشن اور گرم کرے گی۔یہ وہ مقام ہے جہاں انسانی حقوق، بین الاقوامی قانون اور قومی خودمختاری سب کچھ “انرجی سکیورٹی” کے نام پر قربان کر دیا جاتا ہے۔

اماراتی انٹری: خاموش مگر فیصلہ کن

تین سال قبل متحدہ عرب امارات کی مبادلہ پیٹرولیم نے ثمر فیلڈ میں سرمایہ کاری کی تھی۔ اس وقت اسے محض ایک کاروباری فیصلہ سمجھا گیا، مگر آج واضح ہو چکا ہے کہ یہ بحیرۂ روم میں جغرافیائی جڑیں مضبوط کرنے کی ایک سوچی سمجھی حکمتِ عملی تھی۔سونے کی خاطر سوڈانیوں کا خون بہانے والے محمد بن زید کو اب خلیج کے ساتھ ساتھ بحیرۂ روم میں بھی ایک مستقل “ٹھکانہ” مل چکا ہے، جبکہ فلسطینی ایک بار پھر نقشے سے غائب ہیں۔

قانون یا قوت؟

کارِش اور ثمر گیس فیلڈز پر لبنان کا دعویٰ آج بھی اقوامِ متحدہ کے ایجنڈے پر موجود ہے، اور امریکہ نے اس تنازع پر ثالثی کی پیشکش بھی کی تھی۔ عالمی قوانین کے مطابق لیویاتھن فلسطینیوں کی ملکیت ہے، مگر عالمی سیاست میں سوال یہ نہیں کہ دعویٰ کس کا درست ہے، سوال یہ ہے کہ بحری بیڑا کس کے پاس ہے؟ نسل کشی کا شکار اہل غزہ اپنی فریاد لے کر کہاں جائیں جب  اپنا بھائی  ان سے چوری کئے مال کو اخلاقی تحفظ دے رہاہو

ہم نے 15 جون 2022 کو اپنے ایک کالم میں جن خدشات کا اظہار کیا تھا، آج ان کی تصدیق ہو چکی ہے۔ فلسطین کی زمین ہو یا اس کا سمندر، دونوں کی لوٹ مار عالمی منڈی کی رضا مندی سے جاری ہے۔ بحرِ روم کی گیس یورپ کے گھروں کو گرم کرے گی، مگر غزہ کے ساحلوں پر سرد سناٹا ہی رہے گا۔