ریجیم چینج، منشیات یا وسائل؟
وینزویلا اور لاطینی امریکہ میں امریکی
مداخلت کی پرانی کہانی
بین
الاقوامی سیاست میں بعض واقعات اپنی نوعیت میں اتنے واضح ہوتے ہیں کہ اُن پر سوال
اٹھانا محض حق نہیں بلکہ ذمہ داری بن جاتا ہے۔ وینزویلا میں امریکی فوجی مداخلت بلکہ
جارحیت اور اس کے فوراً بعد صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیانات نے اس سوال کو زندہ کر دیا
ہے کہ کیا امریکہ واقعی دنیا میں جمہوریت، استحکام اور انسانی حقوق کا علمبردار
ہے، یا پھر یہ سب قدرتی وسائل کے حصول کے لیے اختیار کیے گئے دلکش نعرے ہیں؟
صدر
ٹرمپ نے قوم سے خطاب میں اعلان کیا کہ امریکہ وینزویلا کو اُس وقت تک “خود چلائے
گا” جب تک وہاں ایک “محفوظ، مناسب اور دانشمندانہ سیاسی منتقلی” ممکن نہیں ہو
جاتی۔ اسی خطاب میں یہ بھی کہا گیا کہ امریکی تیل کمپنیاں وینزویلا میں اربوں ڈالر
کی سرمایہ کاری کریں گی، تباہ شدہ انفراسٹرکچر کو درست کریں گی اور تیل کی پیداوار
بڑھائیں گی۔ یہ اعلانات خود اس مداخلت کے اصل محرک کی نشاندہی کر دیتے ہیں۔
اقتدار اور تیل: اصل تصویر
سوال یہ
نہیں کہ نکولس مادورو اچھے حکمران تھے یا برے۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا کسی ملک کی
حکومت گرا کر اس کے قدرتی وسائل کو اپنی کمپنیوں کے حوالے کر دینا جمہوریت ہے؟۔جب
اقتدار کی باگ ڈور “عارضی طور پر” سنبھالنے کا اعلان، اور اسی سانس میں تیل
کمپنیوں کے لیے دروازے کھولنے کی بات ہو، تو نیت اور دعوے کے درمیان فاصلہ خود
بخود نمایاں ہو جاتا ہے۔
اندھیروں میں کی گئی کارروائی
صدر
ٹرمپ کے مطابق، امریکی فوج نے آپریشن کے دوران وینزویلا کے دارالحکومت کراکس کی
بجلی منقطع کر دی تاکہ عسکری کارروائی باآسانی کی جا سکے۔ ایک خودمختار ملک کو
اندھیروں میں دھکیل کر اس کی حکومت کا تختہ الٹ دینا، کسی انسدادِ منشیات آپریشن
یا امن مشن سے زیادہ کنٹرول اور اجارہ داری کا روایتی حربہ دکھائی دیتا ہے، یعنی وہی
سامراجی حربے جو دنیا ماضی میں بارہا دیکھ چکی ہے۔
ٹرمپ–مادورو ذاتی مخاصمت
یہ
حقیقت بھی نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ صدر ٹرمپ اور نکولس مادورو کے تعلقات
ابتدا ہی سے کشیدہ رہے۔ ٹرمپ انتظامیہ نے مادورو کو طویل عرصے تک “ناجائز حکمران”
قرار دیا، سخت پابندیاں عائد کیں اور کھلے عام فوجی مداخلت کی دھمکیاں دیتی رہی۔ لیکن
یہ مخاصمت محض سیاسی نہیں تھی۔ یہ اس انکار پر مبنی تھی جو مادورو نے امریکی اثر و
رسوخ، معاشی اجارہ داری اور خارجہ دباؤ کے سامنے کیا۔
تیل: اصل محرک
وینزویلا
دنیا کے ان چند ممالک میں شامل ہے جہاں تیل کے بڑے ذخائر موجود ہیں۔ماہرین کے
مطابق یہاں دریافت شدہ ذخائر کا تخمینہ تین سو ارب بیرل سے زیادہ ہے۔ان ذخائر نے وینزویلا
کو عالمی توانائی کی سیاست میں غیر معمولی مقام عطا کیا ہے۔ایسے میں یہ سوال بالکل
فطری ہے کہ کیا مسئلہ وینزویلا کی سیاست تھی، یا اُس کی دولت؟۔امریکی صدر کا یہ
کہنا کہ “ہم اپنی بڑی تیل کمپنیوں کو وہاں بھیجیں گے اور وہ ملک کے لیے پیسہ
کمائیں گی” اس دعوے کو کمزور کر دیتا ہے کہ یہ مداخلت عوامی فلاح یا جمہوری بحالی
کے لیے تھی۔
لاطینی امریکہ: ایک آزمودہ تجربہ
وینزویلا
کوئی پہلا ملک نہیں۔ لاطینی امریکہ کی تاریخ ایسی مثالوں سے بھری پڑی ہے جہاں
جمہوریت اور انسانی حقوق کے نام پر امریکہ کی جانب سے فوجی مداخلت کی گئی۔ چند
مثالیں نذرِ قارئین ہیں۔
·
پاناما میں
سربراہِ حکومت کی گرفتاری۔۔۔ 1989
·
چلی میں منتخب صدر
کا خاتمہ۔۔۔ 1973
·
گوئٹے مالا (1954)
اور نکاراگوا(1981) میں بے نام یا مجازی (Proxy) جنگیں
·
ڈومینیکن ریپبلک (1965) اور ہونڈوراس (2009) میں فوجی بغاوتیں
ہر بار
بیانیہ مختلف رہا، مگر طریقہ اور نتیجہ تقریباً ایک جیسا۔
آج امریکی
برسراقتدار ریپبلکن پارٹی کے انتہا پسند حلقے کھلے عام کیوبا اور میکسیکو کے بارے
میں مداخلت کی زبان استعمال کر رہے ہیں۔ خود صدر ٹرمپ نہرِ پاناما پر کنٹرول اور
گرین لینڈ کو امریکہ کا حصہ بنانے کی خواہش کا برملا اظہار کر چکے ہیں۔
یہ
سب اس بات کی یاد دہانی ہے کہ طاقتور ریاستوں کی توسیع پسندانہ خواہشات وقت کے
ساتھ ختم نہیں ہوتیں، صرف ان کے نعرے بدل جاتے ہیں۔
تاریخ خود کو دہرا رہی ہے
عراق
میں “تباہ کن ہتھیار”، لیبیا میں “انسانی تحفظ”،افغانستان
میں “دہشت گردی کے خلاف جنگ” ، ہر بار جواز نیا تھا، مگر اصل محرک وہی:
کمزور ریاستیں، بکھرا معاشرہ، اور قدرتی وسائل پر بیرونی کنٹرول۔
اب
وینزویلا بھی اسی فہرست میں شامل ہوتا دکھائی دیتا ہے، جہاں جمہوریت کے نام پر
طاقت اور امن کے وعدوں کے پیچھے معاشی مفادات کارفرما ہیں۔ اگر مقصد واقعی جمہوریت
کی بحالی تھا، تو سب سے پہلا اعلان انتخابات کا ہونا چاہیے تھا، تیل کمپنیوں کا
نہیں۔اگر مقصد عوامی فلاح تھا، تو اندھیروں میں بمباری کیوں؟ یہ سوال اب صرف
وینزویلا کے عوام کا نہیں، بلکہ پوری دنیا کا ہے کہ کیا اکیسویں صدی میں بھی عالمی
سیاست وسائل کی بندربانٹ ہی کے گرد گھومے گی، یا کبھی اصول، خودمختاری اور انصاف
کو بھی حقیقت کا روپ ملے گا؟
ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل کراچی 9 جنوری 2026
ہفت روزہ دعوت دہلی 9 جنوری 2026