ہرمز کی چابی، جنگ کا دروازہ اور کھیل کے میدان میں غزہ کی گونج
چوبیس
(24) ستمبر کو ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اقوام متحدہ میں صحافیوں کو بتایا
کہ تہران نے قطر کے ذریعے واشنگٹن کو ایک منصوبہ پیش کیا ہے جس کے تحت امریکی
اقدامات کے جواب میں سات روز کے اندر آبنائے ہرمز کو معمول کی تجارتی جہاز رانی کے
لئے کھولا جاسکتا ہے۔ ایرانی شرائط میں تمام محاذوں پر جنگ بندی، امریکی ناکہ بندی
کا خاتمہ، ایرانی تیل کی برآمدات پر پابندیوں میں نرمی اور تقریباً 12 ارب ڈالر کے
منجمد ایرانی اثاثوں کی بازیابی شامل تھی۔اس کے بعد ساتویں روز ہرمز کھولنے اور
حتمی معاہدے کے لئے مذاکرات کا آغاز تجویز کیا گیا۔بظاہر
یہ کوئی بالکل نیا فارمولہ نہیں بلکہ جون میں یادادشتِ اسلام آباد کی صورت امریکہ
ان شرائط کو تسلیم کرچکاہے لیکن صدر ٹرمپ نے اسے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ
ایران جنگ میں پئے در پئے نقصان اٹھانے کے باعث معاہدے کی پیشکش کررہا ہے۔ دوسری
طرف وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق نومبر کے وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران کے خلاف
نئی بمباری کا امکان بھی زیرِ غور ہے۔ صدر ٹرمپ اقوام متحدہ میں یہ بھی کہہ چکے
ہیں کہ معاہدہ نہ ہونے کی صورت میں ایران کو ’’فنا‘‘ کرنے کا راستہ موجود ہے۔
ہرمز صرف ایران کا مسئلہ نہیں
ہرمز
صرف ایران اور امریکہ کا مسئلہ نہیں۔ یہ عالمی توانائی کی ترسیل کی اہم شاہراہ ہے۔
اس کی بندش نے جنگ کے اثرات کو دونوں ملکوں سے کہیں آگے پہنچا دیا ہے۔ ایران کی
سات روزہ پیشکش میں جوہری مسئلے پر مذاکرات بھی شامل ہیں۔ گویا یہ صرف ہرمز کھولنے
کی پیشکش نہیں بلکہ جنگ سے نکلنے کے لئے ایک سفارتی دروازہ بھی ہے۔ سوال یہی ہے کہ
شدید ترین بمباری کے باوجود اگر مطلوبہ سیاسی اہداف حاصل نہیں ہوئے تو نئی بمباری
ان کے حصول کی کیا نئی ضمانت فراہم کرے گی؟
ایرانی صدر: میدانِ جنگ اور میزِ مذاکرات
کہیں سے فرار نہیں ہونگے
اقوام
متحدہ میں ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے کہا کہ ایران نے جنگ شروع نہیں کی
بلکہ اس پر جنگ مسلط کی گئی، تاہم ایران نہ میدانِ جنگ سے بھاگا ہے اور نہ مذاکرات
کی میز سے۔ ان کا یہ مؤقف دفاع کے عزم کے ساتھ مذاکرات کا دروازہ کھلا رکھنے کا
واضح اظہار تھا۔ تازہ ایرانی پیشکش میں جوہری معاملے پر بات چیت بھی شامل ہے، اس لئے
اسے جنگ سے نکلنے کی ایک سفارتی کوشش بھی سمجھا جاسکتا ہے۔
نیتن یاہو کا فاتحانہ بیانیہ
دوسری
طرف اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے اقوام متحدہ میں ایران کے خلاف
کارروائی کو فیصلہ کن کامیابی کے طور پر پیش کیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکی
مدد سے ایران کی بحریہ، فضائیہ اور زمینی فوج کو تباہ کردیا گیا اور ایرانی قیادت
کے متعدد اہم افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ انہوں نے ایران پر حملے کو اپنے وزیراعظم بننے
کے بعد کئے گئے ’’آسان ترین فیصلوں‘‘ میں شمار کیا۔ یوں ایک طرف ایران مذاکرات کی
پیشکش کررہا ہے اور دوسری جانب اسرائیل کیلئے یہ فیصلہ کن فتح ہے۔
سعودی
عرب کا دفاع اور مکہ معاہدہ
اسی
دوران یمن کے حوثیوں اور سعودی عرب کے درمیان کشیدگی نے ایک نیا علاقائی پہلو
اختیار کرلیا ہے۔ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے
درمیان دفاعی تعاون کو عملی شکل دینے کے لیے ریاض میں تینوں ملکوں کے فوجی
سربراہوں کی ملاقات ہوئی۔اس معاہدے کا بنیادی تصور یہ ہے کہ کسی ایک رکن کے خلاف
حملہ تینوں کے خلاف حملہ تصور کیا جائے۔ تاہم ابھی یہ واضح نہیں کہ حوثیوں کے
حملوں کی صورت میں پاکستان یا ترکیہ کس نوعیت کی عملی فوجی مدد فراہم کریں گے۔
اقوام متحدہ کے اجلاس کے موقع پر پاکستان، ترکیہ، سعودی عرب اور مصر نے بھی سعودی
عرب کے اپنے دفاع کے حق کی حمایت کرتے ہوئے مذاکرات اور سفارت کاری کو پائیدار حل
کا راستہ قرار دیا تھا۔
اسلام
آباد کا مشکل توازن
پاکستان
کے لیے معاملہ خاصا پیچیدہ ہے۔ جہاں سعودی عرب اس کا قریبی دفاعی اور معاشی شراکت
دار تو ایران کے ساتھ اس کا ہمسائیگی کا رشتہ ہے۔ مزید اہم بات یہ ہے کہ اسلام
آباد، امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لئے ثالثی کا کردار بھی ادا
کررہا ہے۔ چنانچہ سعودی عرب کی سلامتی کی حمایت اور ایران کے ساتھ سفارتی رابطے کو
بیک وقت برقرار رکھنا پاکستان کے لیے ایک نازک توازن ہے۔ سعودی عرب کے دفاعی حق کی
حمایت اور کسی براہِ راست جنگ میں شریک ہونے کے درمیان ایک واضح فرق موجود ہے، اور
اسلام آباد کے لئے اس فرق کی اہمیت بڑھ گئی ہے۔ حوثی تحریک ایران کے قریب سمجھی
جاتی ہے، لیکن ہر حوثی کارروائی کو براہِ راست ایرانی حکم کا نتیجہ قرار دینا بھی
درست نہیں ہوگا۔اگر پاکستان سعودی دفاعی معاہدے کے تحت کسی عملی فوجی کارروائی میں
شریک ہوتا ہے تو تہران اسے محض سعودی عرب کی دفاعی مدد کے طور پر دیکھے گا یا
ایران مخالف علاقائی صف بندی کے حصے کے طور پر، یہ ایک اہم سفارتی سوال ہے۔
افغانستان
کے بعد ایک اور محاذ؟
پاکستان
کو اس پہلو سے بھی محتاط رہنا ہوگا کہ افغانستان کے ساتھ اس کے تعلقات پہلے ہی
کشیدہ ہیں۔ ایسے میں ایران کے ساتھ تعلقات میں مزید تناؤ پاکستان کے لئے اضافی
تزویراتی دباؤ پیدا کرسکتا ہے۔قریبی دوست کی حیثیت سے سعودی عرب کا ساتھ دینا
پاکستان کے لئے اہم ہے، لیکن ساتھ دینے کی صورت بھی کم اہم نہیں۔ اگر اسلام آباد
سعودی عرب کے دفاعی حق کی حمایت کرتے ہوئے سفارتی اور سیاسی کردار برقرار رکھتا ہے
تو وہ دونوں فریقوں کے درمیان رابطے کا راستہ کھلا رکھ سکتا ہے۔ اس کے برعکس اگر
پاکستانی فوج براہِ راست حوثیوں کے خلاف جنگ کا حصہ بن جاتی ہے تو ایران کے ساتھ
اعتماد اور پاکستان کی ثالثی کی ساکھ متاثر ہونے کا امکان پیدا ہوسکتا ہے۔ پاکستان
کے لیے شاید اصل سوال یہ نہیں کہ سعودی عرب کا ساتھ دینا ہے یا نہیں، بلکہ یہ ہے
کہ سعودی عرب کی سلامتی کے ساتھ کھڑے ہوتے ہوئے اسلحہ اٹھائے بغیر سفارتی کردار
کیسے برقرار رکھا جائے۔ ایران اور سعودی عرب دونوں سے تعلقات رکھنے والے
پاکستان کے لئے مذاکرات کی میز پر اثرانداز ہونا شاید میدانِ جنگ میں اترنے سے
کہیں زیادہ اہم سفارتی اثاثہ ثابت ہوسکتا ہے۔
فٹبال کا میدان ۔۔ غزہ کا قبرستان
آجکل یورپین فٹبال فیڈریشن (UEFA)کے میچ ہورہے ہیں۔ لیگ کی
صورت میں کھیلے جانیوالے میچ، اگلے برس جون تک جاری رہینگے۔ ترکیہ سمیت 54 ممالک
یورپ کے اس سب سے بڑے کھیل میلے میں حصہ لے رہے ہیں۔ اسرائیل، یہودا السامرہ (غرب
اردن) کو اپنی ارض موعود (Promised Land)قرار دیتا ہے لیکن سیاسی و معاشرتی حوالے اُسے یورپین ہونے پر
اصرار ہے۔ اتوار (27ستمبر) کو ہنگری کے شہر ڈیبرسن (Debrecen)میں آئرلینڈ اور اسرائیل کے
درمیان میچ اس شان سے ہوا کہ اسٹیڈیم تقریباً خالی تھا۔ آئرلینڈ کے گول کیپر گیون
بازونو نے غزہ میں بے گناہوں کے قتل کے خلاف ہوئے میچ سے دستبرداری اختیار کرلی
اورمیدان میں اترنے والے آئرش کھلاڑیوں نے اپنے بازووں پر سیاہ پٹیاں باندھ رکھی
تھیں۔ اسرائیلی قومی ترانے کے دوران انھوں نے سر جھکا لئے اور دونوں ٹیموں کے
درمیان روایتی مصافحہ بھی نہیں ہوا۔ آئرش ٹیم کے کپتان دارا اوشے جب میچ کے آغاز
پر ٹاس کیلئے میدان میں آئے تو روائتی انداز میں تماشائیوں کی طرف ہاتھ ہلانے اور V کا نشان بنانے کے بجائے
مشکیں کسے فلسطینی قیدیوں سے ہم اہنگی کیلئے انکے ہاتھ انکی پشت پر تھے۔ انھوں نے
ٹاس سے پہلے ریفری سے مصافحہ کیا اور جب اسرائیلی کپتان نے ہاتھ بڑھایا تو اوشے نے
اپنے دونوں ہاتھ پیچھے کرکے منہہ دوسری طرف پھیرلیا۔اسرائیلی کھلاڑیوں نے اس توہین
آمیز روئے کے خلاف احتجاج کیا لیکن آئرش کوچ اور کھلاڑیوں نے اسے غزہ کے حالات پر
اپنے احتجاج اور آگاہی کا اظہار کرتے ہوئے مسترد کردیا۔
خاموش نشریات
آئرلینڈ
کا سرکاری نشریاتی ادارہ RTÉ بھی
معمول کی کوریج سے پیچھے ہٹ گیا۔ معاہداتی ذمہ داری کے باعث میچ نشر تو کیا گیا،
مگر نہ اسٹوڈیو پروگرام تھا، نہ تجزیہ کار اور نہ
RTÉ کا اپنا کمنٹیٹر؛
UEFA کی عالمی فیڈ استعمال کی گئی۔یوں خالی
نشستیں، سیاہ پٹیاں، جھکے ہوئے سر اور خاموش نشریات غزہ کے المیے کی علامتی تصویر
بن گئی۔ آئرلینڈ نے تین گول کئے لیکن تالیاں، شائقین کے رقص اور نہ فاتحانہ نعرے۔اس
میچ کی سب سے نمایاں آواز شاید وہ خاموشی تھی جو خالی نشستوں اور بے رنگ نشریات
میں سنائی دے رہی تھی۔ خموشی گفتگو ہے، بے زبانی ہے زباں میری۔
ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل کراچی 2 اکتوبر 2026
ہفت
روزہ دعوت دہلی 2 اکتوبر 2026
ہفت روزہ رہبر سرینگر 4 اکتوبر 2026