Thursday, April 3, 2025

 

خوفناک خونریزی کا ڈیڑھ سال

سیاسی بحران سے توجہ ہٹانے کیلئے جنگی جنون میں اضافہ

مزاحمت کار پچاس دن کی عبوری جنگ بندی پر آمادہ

ہتھیار رکھو، قیدی چھوڑو اور غزہ سے نکل جاو۔ نیتن یاہو کا جواب  

 شمالی بریگیڈ کے اسرائیلی کمانڈر مستعفی

ضمیر کی خلش!! میڈیکل کور کے اہلکاروں نے غزہ واپس جانے سے انکار کردیا

اسرائیلی فوج کے ہاتھوں ایک اور صحافی کا قتل

غزہ نسل کشی کا دورانیہ آنے والے پیر یعنی 7 اپریل کو ڈیڑھ سال ہوجائیگا۔عید سے دودن پہلے قطر نے امریکہ کی ایک نئی تجویز مزاحمت کاروں کے حوالے کی، جسکے مطابق اگر غزہ سے دہری شہریت کے حامل قیدی عیدن الیگزنڈر کو رہا کردیا جائے تو صدر ٹرمپ اسرائیلی حملے بند کرواکر مکمل و پائیدار امن کیلئے مذاکرات کا عمل شروع کرادینگے۔مزاحمت کاروں نے جواب بھجوایا کہ امن مذکرات  کے لئے حالات سازگار بنانے کی غرض سے وہ 50 دن کی عبوری جنگ بندی پر تیار ہیں۔اہل غزہ نے اسی کے ساتھ عیدن الیگزنڈر سمیت پانچ قیدیوں کو رہا کرنے پر بھی رضامندی ظاہر کردی۔ان قیدیوں کی رہائی غزہ کیلئےانسانی امداد پر پابندی کے خاتمے اور نظارم راہدرای سمیت شہری علاقوں سے اسرائیلی فوج کی واپسی سے مشروط ہے۔ اس پیشکش کے جواب میں عید کے دن نیتن یاہو نے کہا کہ مزاحمت کار اگر اسلحہ رکھ کر غزہ چھوڑنا چاہیں تو انھیں محفوظ راستہ فراہم کیا جائیگا۔ دوسری صورت میں اسرائیل عسکری دباو برقرار رکھے گا۔

گویا اسرائیل نے عبوری فائر بندی اور قیدیوں کی رہائی کیلئے اہلِ غزہ کی پیشکش مسترد کردی اور غزہ میں عید الفطر اس شان سے آئی کہ شمالی و مشرقی علاقے بمباری سے لرزتے رہے، بحیرہ روم سے اسرائیلی جہازوں نے شعلے برسائے، وسطی غزہ کے لوگوں پر نظارم راہداری سے نشانہ بنایا گیا اور مصری سرحد پر فلاڈلفی راہداری سے ٹینک حملہ آور ہوئے۔اسکے باوجود ہر مسجد کے ملبے پر نمازعید اداہوئی اور انھیں عید گاہوں میں شام کو 50 سے زیادہ جنازے  بھی پڑھے گئے۔ محبت میں نہیں ہے فرق جینے اور مرنےکا۔

اسرائیلی جریدے الارض (Haaretz)کے مطابق 'نیتن یاہو عیدن الیگزنڈر کی رہائی نہیں چاہتے۔ انھیں ڈرہے امریکی قیدی چھوٹ جانے کے بعد اس معاملے میں صدر ٹرمپ کی دلچسپی کم بلکہ شائد ختم ہوجائے گی'

حکومت کا تکبر اپنی جگہ لیکن لبنان، غزہ اور یمن سے ہونے والے راکٹ ومیزائیل حملوں پر اسرائیلی فوج شدید تنقید کا نشانہ بنی ہوئی ہے۔نیتن یاہو اور انکے وزیردفاع ، دعویٰ کررہے ہیں کہ لبنانی مزاحمت کاروں کی کمر توڑدی گئی ہے۔ ایسا ہی دعوی غزہ کے بارے میں بھی کیا جارہا ہے کہ مزاحمت کاروں کی جارحانہ صلاحیت ختم کردی گئی ہے اور اب انکی بچی کھچی قیادت جان بچانے کیلئے سرنگوں میں چھپی بیٹھی ہے۔ وزیراعظم نے بجٹ اجلاس کے دوران 'تلواروں کے سائے میں مذاکرات' کی دھمکی دہراتے ہوئے کہا تھا کہ 'دہشت گردوں' کے پاس ہمارے قیدی رہا کرنے کے سوا دوسرا کوئی راستہ نہیں۔ ہم انھیں ہر طرف سے گھیر چکے ہیں۔ انھوں نے تالیاں بجاتے اپنے اتحادیوں کے سامنے کہا 'جان کی امان چاہتے ہو تو ہتھیار رکھو، قیدی چھوڑو اور غزہ سے نکل جاو'

لیکن صحرائے نقب (Negev)، بحیرہ لوط، تل ابیب اور یروشلم سے شمال میں کریات شمعونہ تک سارے اسرائیل  میں ہوائی حملوں کے سائرن گونج رہے ہیں۔عدالتی اصلاحات، شاباک کے سربراہ کی برطرفی، غزہ جنگ کے لئے بڑے شہروں میں مظاہرے بھی ہورہے ہیں اور سائرن سن کر جب یہ ہزاروں کا مجمع زیرزمین پناہ گاہوں کی طرف دوڑ لگاتا ہے تو افراتفری سے عوام میں مزید خوف و ہراس پیدا ہورہا ہے۔ کچھ منچلوں کا خیال ہے کہ حکومت دفاعی سائرن مجمع منشر کرنے کیلئے استعمال کررہی ہے۔ راکٹوں  سے اب تک کوئی جانی یا مالی نقصان نہیں ہوا لیکن بھگدڑ میں درجنوں افراد زخمی ہوئے اور کاروبار زندگی بری طرح متاثر ہورہاہے۔ حزب اختلاف کے رہنما کہہ رہے ہیں کہ ڈیڑھ سال کی مسلسل بمباری کے باوجود اسرائیلی فوج 'مٹھی بھر' دہشت گردوں کو ختم نہ کرسکی تو غزہ کی دلدل میں وسائل کو دھنسارکھنے کی ضروت کیا ہے؟۔

طویل جنگ سے اسرائیلی فوج کے اعصاب بھی متاثر نظر آرہے ہیں اور الزام تراشی و انگشت نمائی میں اضافہ ہوگیا ہے۔شمالی بریگیڈ کے کمانڈر کرنل ہائم کوہن نے سات اکتوبر 2023کو اہل غزہ کا حملہ روکنے میں ناکامی پر استعفی دیدیا۔کرنل صاحب کا بریگیڈ مقابلہ کرنے کے بجائے کمانڈر سمیت موقع سے فرار ہوگیا تھاجسےکرنل کوہن نے تزویراتی یا Strategic پسپائی قرار دیا لیکن عسکری ماہرین اس دلیل سے مطمئن نہیں ہوئے اور کرنل صاحب کو وردی اتارنی پڑی۔مزاحمت کاروں کو کچلنے میں ناکامی پر اس سے پہلے ، ملٹری انٹیلیجنس ڈایریکٹوریٹ کے شعبہ ریسرچ کے سربراہ بریگیڈیر جنرل امیت سعرAmit Saar، ملٹری انٹییلیجنس ڈایریکٹوریٹ کے سربراہ میجر جنرل ہارون ہالویہ، ,Aharon Halivaغزہ ڈویژن کے سربراہ بریگیڈیر جنرل اوی روزن فیلڈAvi Rosenfeld،بری فوج کے سربراہ تامر ےیارےTamir Yadaiاور اور فوج کے سربراہ جنرل حرزی حلوی مستعفی ہوچکے ہیں

بزدلی و نا اہلی کے الزام میں جنوبی کمان کے سربراہ کرنل ابراہیم ایونی (Ephraim Avni) کی ترقی روک دی گئی۔ کرنل صاحب کو فوج کے سابق سربراہ نے پیراٹروپر بریگیڈ کا سربراہ مقرر کیا تھا اور وہ نئی ذمہ داریاں سنبھالنے کیلئے جنوبی کمان کی قیادت بھی چھوڑ چکے تھے۔ جمعرات 26 مارچ کو وزیردفاع اسرائیل کاٹز سے ملاقات کے بعد جنرل ضمیر نے کرنل ابراہیم کا تقرر منسوخ کردیا۔تحقیقاتی اداروں کا خیال ہے کہ 7 اکتوبر 2023 کو مزاحمت کاروں کے حملے کامقابلہ کرنے میں کرنل ابراہیم سے سنگین 'کمزوریاں' سرزد ہوئیں۔

غزہ میں ہونے والے مظالم پر خود اسرائیلی فوجیوں کا ضمیر بھی اب جاگ رہا ہے۔ اسرائیلی (Reserve)میڈیکل کور کے درجنوں اہلکاروں نے لڑائی کیلئے غزہ واپس جانے سےانکارکردیاہے۔اپنےایک خط میں ڈاکٹروں، پیرا میڈکس، مینٹل ہیلتھ افسران اور نرسوں سمیت مختلف عہدوں پر فائزافراد نے کہا ہے کہ اس جنگ میں نہ صرف دونوں اطراف کے معصوم شہری مارے جارہے ہیں بلکہ اس سے ہماری اخلاقی اقدار اور ملک کی طویل مدتی بقا کو نقصان پہنچ رہا ہے۔ڈاکٹروں نے اپنے خط میں مزید کہا کہ اہل غزہ کوجلاوطن کرکے وہاں اسرائیلیوں کی آبادکاری بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہوگی۔ حوالہ KAN News

اسرائیل اور امریکہ نے عالمی فوجداری عدالت (ICC)کی جانب سے جاری ہونے والے اسرائیلی وزیراعظم، سابق وزیردفاع اورفوج کے سابق سربراہ کے پروانہ گرفتاری کو مسترد کردیا ہے لیکن نیتن یاہو اس حوالے سے شدید خوف میں مبتلا ہیں جسکا انکشاف گزشتہ ہفتہ ہوا۔ معاملہ کچھ طرح ہے کہ فروری میں اسرائیلی وزیراعظم جب صدر ٹرمپ سے ملاقات کیلئے امریکہ آئے تو انکے خصوصی طیارے کو تل ابیب سے واشنگٹن پہنچنے میں ساڑھے تیرہ گھنٹے لگے جبکہ یہ 12 گھنٹے کا سفر ہے۔ لوگوں کو اس تاخیر پر حیرت تھی۔امریکہ میں اسرائیل کے سفیر یخیل لیٹر (Yechiel Leiter)  نے 26 مارچ کو اس راز سے پردہ اٹھادیا۔ اسرائیلی سفیر کا کہنا تھا کہ نیتن یاہو غدودِ  مثانہ (Prostate)کی جراحی کے 6 ہفتے بعد ایک لمبا سفر کررہے تھے اور انکے معالجین کو ڈر تھا کہ سفر کے دوران انکے زخم دوبارہ کھِل سکتے ہیں لہذا حفظ ماتقدم کے طور پر  اصلاحی سرجری کیلئے ماہرین کی ایک ٹیم انکے ساتھ تھی۔ اسوقت سوال پیدا ہوا کہ اگر ضرورت پیش آئی تو اس جہاز کو کہاں اتارا جائے؟۔ قانونی ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا کہ اگر جہاز کسی یورپی ملک میں اترا تو بی بی کے خلاف عالمی فوجداری عدالت (ICC)کے پروانہ گرفتاری پر تعمیل کا مرحلہ پیش آسکتا ہے۔ چنانچہ وزیراعظم کا خصوصی طیارہ راستے میں آنے والے امریکی اڈووں کے اوپر اڑتا رہا تاکہ ہنگامی صوتحال میں اسےعام ایر پورٹ کے بجائے کسی امریکہ اڈے پر اتارا جائے۔ اسی بنا پر سفر ڈیڑھ گھنٹہ طویل ہوگیا۔منفی تاثر کے سد باب کیلئے اسرائیلی وزیراعظم اس ہفتے  ہنگری جارہےہیں۔ہنگری یورپی یونین کا واحد ملک ہے جس نے  ICCکے حالیہ فیصلے کو تسلیم نہیں کیا۔ مجرموں کا تعاقب کرنے والی ہند رجب فاونڈیشن نے نیتن یاہو کی گرفتاری کیلئے ہنگری کی عدالت سے رجوع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ فاونڈیشن کے مطابق عالمی عدالت کے احکامات کی تعمیل وزیراعظم وکٹر اوربن کی آئینی ذمہ داری ہے۔ ایمنسٹی انٹر نیشنل نے بھی ایک 'مفرور ملزم' کو سرکاری مہمان بنانے پر وزیراعظم اوربن کی مذمت کی ہے۔

بین الاقوامی سطح پر شرمندگی کیساتھ نین یاہو حکومت کو شدید بحران کا سامنا ہے۔ عدالت عظمیٰ کی جانب سے  قطر گیٹ اسکینڈل پر حکمِ  زباں بندی یا Gag Orderمنسوخ کردینے کے بعد سنسنی خیز و شرمناک انکشافات سے ذرایع ابلاغ بھرے پڑے ہیں۔حکومتی اتحادیوں کی باہمی لڑائی اب میڈیا پر ہورہی ہے۔ عظمتِ یہود جماعت کے سربراہ اتامر بن گوئر کے روئے سے جھلا کر جماعتِ صیہون کے سربراہ اسموترچ نے وزیر خزانہ کے عہدے سے استعفیٰ دیدیا۔خفیہ ادارے شاباک (Shin Bet)کے سربراہ رونن بار کو برطرف کردینے کے بعد وزیراعظم نے یہ منصب نائب امیر البحر (ر) ایلی شروت کو پیش کیا، اسکا اعلان بھی کردیا گیالیکن اتحادیوں کے شدید احتجاج پر نیتن یاہو نے نامزدگی واپس لے لی۔ رونن بار کی برطرفی کے خلاف عدالت نے حکم امتناعی جاری کر رکھا ہے۔ سیاسی مشکلات سے نکلنے کے لئے حکومت جنگی جنون میں اضافہ کررہی ہے۔یکم فروری کو اسرائیلی فوج نے    ر فح میں ٹینک کے بہت بڑے حملے کا اغاز کردیا۔تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ رشوت ستانی اور بے ایمانی سے قوم کی توجہ ہٹانے کیلئے نیتن یاہو نے  غزہ، بیروت، غرب اردن اور شام پر “جہنم کے دروازے کھول دئے ہیں

دوسری طرف غزہ نسل کشی کی پشت پناہی کیلئے ٹرمپ انتظامیہ کا جوش و خروش بڑھتا جارہا ہے۔ جامعات میں نسل کشی کے خلاف مظاہرہ کرنے والے طلبہ کی پکڑ دھکڑ جاری ہے اور اس معاملے میں عدالتی احکام نظر انداز ہورہے ہیں۔ منگل 25 مارچ کو جامعہ ٹف (Tufts University)میں پی ایچ ڈی کی ترک طالبہ رومیسا ازترک کو عین افطار کے وقت گرفتار کرلیا گیا۔رمیسہ کے خلاف کوئی الزام نہیں لیکن جامعہ کے سربراہ ڈاکٹر سنیل کمار کے مطابق وزارت خارجہ نے رمیسہ کا ویزا منسوخ کردیا ہے۔رمیسہ کی گرفتاری پر تبصرہ کرتے ہوئے وزیرخارجہ مارکو روبیو نے کہا 'جب بھی ایسا کوئی پاگل مجھے (امریکہ میں) نظر آتا ہے، میں اسکا ویزہ منسوخ کردیتا ہوں'۔ رمیسہ کی گرفتاری کے بعد اسکی درخواست پر وفاقی جج اندرا تلوانی نے تحریری حکم جاری کیا کہ عدالت سے اجازت کے بغیر رمیسا کو کہیں اور منتقل نہ کیا جائے  لیکن اسے لوزیانہ میں ایمیگریشن کی حوالات بھیج دیا گیا۔

صدر ٹرمپ کے نامزد سفیر برائے اسرائیل مائک ہکابی (Mike Huckabee)کی توثیق کیلئے امریکی سینیٹ میں سماعت کا آغاز ہوگیا۔ انہتر (69)سالہ ہکابی امریکی ریاست آرکنسا (Arkansas)کے گورنر رہ چکے ہیں۔ انکی نامزدگی پر کچھ ریپبلکن سینیٹرز کو بھی اعتراض ہے۔موصوف کے اقوال زریں ملاحظہ فرمائیں:

  • دنیا میں فلسطینی نام کی کوئی قوم یا چیز نہیں۔
  • کچھ الفاظ میں کبھی استعمال نہیں کرتا جیسے غربِ اردن یا West Bank۔یہ علاقہ Yehuda VeShomron یعنی يہودا والسامرة ہے
  • میں اس سارے علاقے کو یہودیوں کی سرزمین کہنا اپنی اخلاقی ذمہ داری اور دیانت داری کا تقاضہ سمجھتا ہوں
  • اسلام ایک ایسا مذہب ہے جو اپنے 'مقدس ترین دنوں' میں قتل عام اور غارتگری کی حوصلہ افزائی کرتا ہے

آخر میں اسرائیلی فوج کے ہاتھوں قلم کے ایک مزدور کے بہیمانہ قتل کا ذکر: 25 مارچ کو اسرائیلی فوج نے الجزیرہ کے  23 سالہ صحافی حسام شبات کو مارڈالا۔اس کی کار کو ڈرون سے نشانہ بنایا گیا، حالانکہ گاڑی پر جلی حروف میں PRESS لکھا تھا۔حسام کو ایک عرصے سے دھمکیاں مل رہی تھیں ۔ غزہ میں سات اکتوبر 2023 کے بعد سے  اب تک 170 صحافی حرمتِ قلم اورحقِ آزادیِ اظہار پر قربان ہوچکے ہیں، ان میں 2 اسرائیلی بھی شامل ہیں۔ زخمی ہونے والے صحافیوں کی تعداد 59، لاپتہ2 اور 75 اسرائیل کی قید میں ہیں۔

ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل کراچی، 4 اپریل 2025

ہفت روزہ دعوت دہلی، 4 اپریل 2025

روزنامہ امت کراچی 4 اپریل 2025

ہفت روزہ رہبر سرینگر 6 اپریل 2025


Thursday, March 27, 2025

 

بمباری میں شدت، ہسپتال خصوصی ہدف، تازہ دم ٹینک ڈویژن غزہ بھیج دیا گیا

ویزے کی حامل جامعہ براون ہسپتال کی لبنان نژاد اسسٹنٹ پروفیسر امریکہ بدر

غزہ کے ایک سابق افسر کا ہندوستانی داماد گرفتار

ایندھن ختم۔۔ کتابیں کاپیاں جلا کر چولہے دہکائے جارہے ہیں

 امن مذاکرات اب تلواروں کے سائے میں ہونگے۔ نیتن یاہو

دوپاکستانی صحافیوں کا دورہ اسرائیل

غزہ پر 17 مارچ سے خوفناک بمباری کا جو سلسلہ دوبارہ شروع ہوا ہے اس میں ہر روز شدت آتی جاری ہے۔اہل غزہ کو فضا سے برسنے والی آتش و آہن کی بارش کیساتھ ٹینک کے گولوں اور بحیرہ روم میں تعینات جنگی جہازوں سے برستےشعلوں کا سامنا ہے۔ایسوسی ایٹیڈ پریس کے مطابق گزشتہ ایک ہفتے کے دوران ہزاروں افراد جاں بحق ہوئے جن میں عورتوں اور بچوں کی اکثریت ہے۔ اہل غزہ 19 جنوری کو ہونے والی عارضی جنگ بندی کےبعد اپنے تباہ حال  گھروں میں واپس آگئے ہیں اور بمباری کا براہ رست نشانہ نہ بننے پر بھی محض خوفناک دھماکوں سے ہی یہ بوسیدہ ومخدوش اور گری و ادھڑی عمارتیں مہندم ہوکر مکینوں کی مدفن  بن رہی ہیں۔

امریکہ نے غزہ پر دوبارہ حملے کی بھرپوراورغیرمشروط حمائت کا اعلان کیا ہے۔ قصر مرمریں کی ترجمان محترمہ کیرولائن لیوٹ نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ 'صدر ٹرمپ غزہ میں اسرائیل کے حالیہ اقدامات کی مکمل حمائت کرتے ہیں' قوم سے اپنے خطاب میں اسرائیلی وزیراعظم نے بہت دوٹوک لہجے میں کہا کہ اب امن مذاکرات تلواروں کے سائے (Under the Fire)میں ہونگے۔ جنگی جنون کے نتیجے میں نیتن یاہو کے خلاف کرپشن کے مقدمے کی سماعت غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کردی گئی۔انکے وکیل نے عدالت کو درخواست دی تھی کہ نازک ملکی صورتحال کی بناپر وزیراعظم کے اصالتاً یا وکالتاً مقدمے کی پیروی ممکن نہیں۔

حملوں کے دوبارہ آغاز پر دنیا کا ردعمل اظہارِ تشویش سے آگے نہ بڑھ سکا۔ جرمن وزیرخارجہ محترمہ انالینا بئیر بک نے کہا کہ اسرائیل کی جانب سے لڑائی کے دوبارہ آغاز نے  علاقے میں امن کی امید کو خاک کردیا ہے، جبکہ یورپی یونین کی نگراں خارجہ امور محترمہ Kaja Kallas نے فون پر اپنےاسرائیلی ہم منصب کو باور کرایا کہ غزہ میں اسرائیل کی حالیہ عسکری مہم یورپی عوام کیلئے“ناقابل قبول” ہے۔ ایک عرب سفیر نے ٹائمز آف اسرائیل کو بتایا کہ جنگ کے دوبارہ آغاز کے محرکات نیتن یاہو کے ذاتی اور سیاسی مفادات ہیں۔ احتیاط کا یہ عالم کہ فاضل سفیر نے اپنی شناخت پوشییدہ رکھنے کی شرط پر یہ بیان جاری کیا۔ اقوام متحدہ کے ادارے UNICEFکی ڈائریکٹر کیتھرین رسل نے انکشاف کیا ہے کہ اسرائیل کی بمباری سے صرف ایک دن میں 126 بچے جاں بحق ہوئے۔ عمران خان کی سابق اہلیہ جمائمہ خان نے UNICEEFکی اس رپورٹ کا خلاصہ انسٹا گرام پر دیتے ہوئے لکھا کہ  غزہ پر (اسرائیلی) حملے کے بعد نظر آنے والے مناظر لرزہ خیز ہیں۔

عبوری جنگ بندی تحلیل کرنے کا بنیادی محرک غزہ خالی کرانا معلوم ہوتا ہے۔کرپشن کے مقدمات سے نیتن یاہو کی گلو خلاصی، اندرون ملک سراغرساں ادارے شاباک (Shin Bet)کے سربراہ کی برطرفی سے پیدا ہونے والے عوامی  ردعمل کو ٹھنڈا کرنا، اٹارنی جنرل کی معزولی اور مقامی و جماعتی سیاست گری کے اضافی فوائد کا حصول اس وحشت کے ثانوی مقاصد ہیں۔حملے کے دوبارہ آغاز پر وزیردفاع  اسرائیل کاٹز نے عسکری کاروائی کا ہدف بیان کرتے ہوئے کہا کہ اگر ہمارے قیدی رہا نہ کئے گئے تو رہائشی علاقوں سے شہریوں کو جنوب کی طرف دھکیل پر غزہ کے بڑے علاقے کا اسرائیل سے الحاق کرلیا جائیگا۔ انکا کہنا تھا کہ اسرائیل، صدر ٹرمپ کے 'غزہ خالی کرو' منصوبے پر علمدرآمد کیلے تمام عسکری، شہری اور سفارتی وسائل استعمال کریگا۔اہل غزہ کی جبری جلاوطنی کیلئے بریگیڈیر جنرل عفر ونٹر کی سربراہی میں Depopulation Directorateقائم کردیا گیاہے۔ ساتھ ہی لبنانی جریدے الاخبار نے انکشاف کیا ہےکہ مصر کے جنرل السیسی پانچ لاکھ اہل غزہ کو صحرائے سینائی میں بسانے پر آمادہ ہوگئے ہیں۔اور تواور مقتدرہ فلسطین (PA) اور الفتح (PLO) مزاحمت کاروں سے غزہ چھوڑنے کا مطالبہ کررہی ہے۔ الفتح کے ترجمان منصورالحق نے کہا حماس غزہ کا اقتدار چھوڑ کر اہل غزہ کی نسل کشی رکواسکتی ہے۔

لیکن مزاحمت کار ہتھیار رکھنے یا غزہ خالی کرنےکو تیار نہیں۔ گزشتہ دنوں 'صفحہ ہستی سے مٹادینے' کے موقف میں نرمی پیدا کرتے ہوئے صدر ٹرمپ کے نمائندہِ خصوصی اسٹیو وٹکاف نے بیان جاری کیا کہ 'اگر غزہ مزاحمت کار سیاسی طاقت کے طور پر باقی رہنا چاہتے ہیں تو انھیں اسلحہ رکھ کر عسکریت سے اجتناب کرنا ہوگا'، مزاحمت کاروں نے فاضل ایلچی صاحب کے بیان کو مہمل قرار دیتے ہوئے کہا کہ 'یہ عسکریت نہیں مزاحمت ہے، فلسطینی عوام یہ ہتھیار غاصبوں کی مزاحمت کیلئے استعمال کررہے پیں۔ اپنے بنیادی حق کیلئے ہتھیاروں کا استعمال بین الاقوامی قوانین اور کنونشنز کے عین مطابق ہے'

غزہ خالی کرانے کیلئے بھرپور نفسیاتی مہم شروع کردی گئی ہے۔ اسرائیلی طیاروں سےغزہ میں پمفلٹ گرائے جارہے ہیں، جسمیں لکھا ہے 'دنیا کو تمہاری کوئی پروا نہیں ہے۔ تم سب مٹا بھی دیئے جاؤ تو دنیا کے نقشے پر کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ لہٰذا خود ہی اپنے بارے میں سوچو۔ امریکہ اور نہ یورپ کو کوئی پرواہ نہیں۔حتی کہ تمہارے عرب ممالک کی بھی ساری ہمدردیاں ہمارے ساتھ ہیں، وہ ہمیں مال اور اسلحہ بھیجتے ہیں اور تمہیں کفن۔ جلدی نکلو، کھیل ختم ہونے والا ہے'۔ ایک اور پمفلٹ میں عوامی جائزے کا ذکر کرتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ نصف سے زیادہ اہل غزہ نقل مکانی پر رضامند ہیں۔

غزہ کو شمال و جنوب میں تقسم کرنے کیلئے اسرائیلی فوج نے نظارم راہداری (Netzarim Corridor) بنائی تھی۔ جنگ بندی کی ایک شرط کے طور پر اسرائیل نے یہ راہ داری خالی کردی تھی لیکن اب اس پر دوبارہ قبضہ کرلیاگیا ہے۔دوسری طرف مصر کی سرحد پر قائم فلاڈیلفی راہداری کو بھی وسعت دی جارہی ہے۔ عسکری کاروائی میں شدت لانے کو ایک تازہ دم ٹینک ڈویژن غزہ بھیج دیا گیا ہے۔ شدید ناکہ بندی کی وجہ سے سارے غزہ میں قحط کا عالم ہے۔ فرانسیسی خبر رساں ایجنسی AFPکے مطابق ایندھن ختم ہونے کی بناپر پرانی کتابیں جلا کر چولہے دہکائے جارہے ہیں۔ گزشتہ دس دنوں میں مزاحمت کارقیادت کے بہت سے سینئر رہنماجاں بحق ہوگئے۔

تازہ اسرائیلی کاروائی کا مرکزی ہدف اسپتال اور طبی سہولیت کے بچےکچھے مراکز ہیں۔نصر ہسپتال کے ایمرجنسی وارڈ کو اسرائیلی ٹینکوں نے گولہ باری، کرکے تباہ کردیا، اسکا اعلان کرتے ہوئے اسرائیلی وزیرخارجہ نے ڈھٹائی سے کہا کہ وہاں دہشت گرد چھپے ہوئے تھے۔ غزہ کے واحد انسدادِکینسر مرکز Turkish-Palestinian Friendship Hospital  کو بمباری کرکے ریت کا ڈھیر بنادیاگیا۔ اسرائیلی فوج نے  اسپتال کی تباہی سے پہلے اور بعد کی تصاویر فخریہ انداز میں جاری کیں۔ اقوام متحدہ کے امدادی کیمپوں کو خاص طور سے نشانہ بنایا جارہا ہے۔ گزشتہ ہفتے  ر فح کے قریب زخمیوں کو لے کر جانے والی ایمبیولنس پر بمباری کی گئی۔

امریکہ نے بھی علاقے میں عسکری موجودگی کو مزید تقویت دینے کا اعلان کیاہے۔ بحرجاپان میں تعینات جوہری ایندھن سے لیس طیارہ بردار جہاز USS Carl Vinsonکو بحیرہ احمر کی طرف روانہ کیا جارہا ہے۔طیارہ بردار جہاز ہیری ٹرومین پہلے ہی وہاں موجود ہے۔کچھ عسکری ماہرین کا خیال ہے کہ حوثیوں کو کچلنے کیلئے صدر ٹرمپ وہاں زمینی فوج اتارنا چاہتے ہیں جبکہ اسرائیلی عسکری ماہرین کی دانست میں اضافی بحری اثاثے'غزہ خالی کرو مہم'میں معاونت  کیلئے استعمال ہونگے۔

غزہ خالی کرانے ساتھ غرب اردن سے فلسطینیوں کو بیدخل کرنے کا سلسلہ جاری ہے، 23 مارچ کو اسرائیلی ٹینکوں کے آڑ لیکر قبضہ گردوں (Settlers)کا ہجوم الخلیل (Hebron)کے قصبے سوسیۃ پر چڑھ دوڑا۔ ان اوباشوں نے  فلسطینیوں کے مکانوں، دوکانوں اور گاڑیوں کو آگ لگادی گئی۔فسادیوں کے واپس جانے کے بعد پولیس آپریشن شروع ہوا اور 'دہشت گردی' کے الزام میں آسکر ایوارڈ یافتہ حمدان بلال سمیت سوسیہ کے تین رہائشی گرفتار کرلئے گئے۔حمدان بلال اور اسکے فلسطینی ساتھی نے اسرائیلی فلمساز کے ساتھ مل کر غرب اردن میں قبضہ گردوں کی دہشت گردی پر No other landکے عنوان سے ایک دستاویزی فلم بنائی ہے جسے گزشتہ ماہ آسکر ایوارڈ ملا تھا۔

سخت بے سروسامانی اور مشکل حالات میں بھی غزہ کی جانب سے مزاحمت کا سلسلہ جاری ہے۔اسرائیلی حملہ شروع ہونے کے دوسرے ہی دن  غزہ سے راکٹ داغ دئے گئے۔امریکی ساختہ آئرن ڈوم نے ان راکٹوں کو فضا ہی میں غیر موثر کردیا۔ایک راکٹ کا ملبہ تل ابیب کے فیشن ایبل مضافاتی علاقے رشان لیتزیوں Rishon Lezionمیں گرا۔ کوئی جانی اور مالی نقصان تو نہ ہوا لیکن علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔امریکہ کی شدید بمباری کے باوجود حوثیوں کے میزائیل حملے بھی جاری ہیں۔بحیرہ مردار کے آس پاس اور یروشلم میں ہوائی حملے کے سائرن نے عوام کا سکون غارت کردیا ہے، 19 مارچ کو بن گوریان ائرپورٹ پر میزائیل حملے کا سائرن اسوقت بجا جب لوگ حکومت کے خلاف مظاہرہ کررہے تھے۔ مظاہرین نے جان بچانے کیلئے زیرزمین پناہ گاہوں کی طرف دوڑ لگادی۔اس بھگدڑ میں کئی لوگ زخمی ہوئے۔ اسرائیل نے لبنانی مزاحمت کاروں کی عسکری صلاحیت مکمل طور پر کچل دینے کا دعویٰ کیا تھا۔ لیکن 22 مارچ کو لبنان سے اسرائیی شہر المطلۃ پر 5 راکٹ برسائے گئے۔  آئرن ڈوم نے پانچوں راکٹ فضا ہی میں ناکارہ کردئے لیکن علاقے میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا۔

دوبارہ جنگ شروع کرنے پر اسرائیلی قیدیوں کے لواحقین سخت پریشان ہیں۔  غزہ سے رہا ہونے والے 40قیدیوں نے حکومت کے نام ایک کھلے خط میں لکھا کہ نیتن یاہو نے ایک بے مقصد اور کبھی نہ ختم ہونے والی جنگ کاراستہ منتخب کرلیا ہے۔ یہ راستہ قیدیوں کو موت کے گھاٹ اتار سکتا ہے۔ بات چیت کے ذریعے قیدیوں کی رہائی اور پائیدار امن میں سب کا فائدہ ہے۔ اسرائیل کے سابق چیف جسٹس ہارون باراک نے  چینل 12 اور Ynetکو انٹرویو دیتے ہوئے غزہ جنگ اور سیاسی کشیدگی کو انتہائی خطرناک قراردیا۔ انکاکہنا ہے کہ سیاسی تناؤ تشویشناک حدوں کو چھو رہا ہے، غزہ امن اور ملک کے اند مفاہمت کیلئے فوری اقدامات نہ کیے گئے تو اسرائیل بہت جلد خانہ جنگی کا شکار ہوجائیگا۔

نسل کشی کے خلاف اٹھنے والی آوازوں کو دبانے کا سلسلہ جاری ہے۔ مشرقی یروشلم سے فلسطینی صحافی محترمہ لطیفہ عبدالطیف کو گرفتار کرلیا گیا۔رائٹرز،ABC، BBC، الجزیرہ اور دوسرے ادارے خبروں و تجزیوں کیلئے فری لانس لطیفہ کی خدمات حاصل کرتے ہیں۔ چند روز قبل انھیں گھرآتے ہوئے دہشت گردوں سے ہمدردی کے الزام میں گرفتار کرکے جب مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیا گیا تو جج صاحب نے ہنستے ہوئے کہا کہ کسی دہشت گرد کا نام لینا کب سے دہشت گردی ہوگیا۔ لیکن مجسٹریٹ کےحکم کے باوجود لطیفہ کو رہا نہیں کیا گیا۔

گزشتہ ہفتے مشہور درسگاہ جامعہ براون (Brown University, RI)کی اسسٹنٹ پروفیسر، ماہر امراضِ گردہ لبنانی نژاد ڈاکٹر ارشہ الواح کو امریکہ واپس آتے ہوئے بوسٹن ائرپورٹ سے گرفتار کرکے ملک بدر کردیا گیا، ڈاکٹر صاحبہ کے پاسپورٹ پر لگے H1B ویزا کی مدت 2028 تک ہے۔ ڈاکٹر ارشہ الواح پر الزام ہے کہ انھوں نے حسن نصراللہ کے جنازے میں شرکت کی تھی جودہشت گردوں سے سہولت کاری کی ایک شکل ہے۔

جامعہ جارج ٹاون میں سفارتکاری کے ہندوستانی طالب علم بدرخان سوری کو گرفتار کرکے جلاوطنی کا پروانہ تھمادیاگیا۔ سوری کا قصور یہ ہے کہ اسکی فلسطینی نژاد امریکی اہلیہ کے والد غزہ حکومت کے ایک سابق افسر ہیں۔سوری کی ملک بدری کے خلاف وفاقی جج محترمہ پیٹریشیا گائلس نے حکم امتناعی جاری کردیا تاہم یہ بےگناہ فی الحال جیل ہی میں رہیگا کہ عزیزِ مصر ہوں یا دورِ حاضر کے فرعون  لوگوں کو بلاوجہ جیل میں ڈالنا بے ایمان حکمرانوں کا پرانا ہتھکنڈا ہے۔جامعہ کولمبیا کے طالب علم محمود خلیل کے مقدمے کی سماعت اگلے ماہ ہوگی۔غزہ نسل کشی کیخلاف مظاہروں کے اس پرعزم قائد پر سام دشمنی (Antisemitism) کا الزام ہے، جسکی پاداش میں  گرین کارڈ (مستقل رہائشی ویزا) منسوخ کرکے جلاوطنی کیلئے اسے 8 مارچ کو گرفتار کیا گیا۔ وفاقی جج نے حکم امتناعی جاری کرکے اسکی جلا وطنی تو معطل کردی لیکن محمود ابھی تک جیل میں ہے۔جامعہ کورنیل (Cornell University)میں پی ایچ ڈی کے طالب علم ممدو طعل کو غزہ نسل کشی کے خلاف مظاہرے میں شرکت پر جامعہ کی انتظامیہ کی طرف سے دھمکیاں مل رہی تھیں۔ چنانچہ حفظ ماتقدم کے طور پر اس نے عدالت سے رجوع کرلیا۔ اپنی درخواست میں ممدو نے استدعا کی ہے کہ ایمیگریشن حکام کو اسکے خلاف کاروائی سے روکا جائے۔پیر24 مارچ کو ملنے والے ایک نوٹس میں اسےفوری طور پر ایمگریشن حکام کے سامنے پیش ہونے کا حکم دیاگیا ہے۔ دوسری طرف محکمہ انصاف نے عدالت کے نام مکتوب میں فاضل جج کو مطلع کیا کہ مظاہروں میں حصہ لینے کی بنا پر ممدو طعل کا اسٹوڈنٹ ویزا منسوخ کیا جاچکا ہے۔

پکڑ دھکڑ کے باوجود اسرائیل کا تعاقب جاری ہے۔ گزشتہ ہفتے ہالی ووڈ میں اسرائیلی اداکارہ غال گیدت (Gal Gadot) کی Walk of Fameایوارڈ تقریب کے دوران غزہ نسل کشی کیخلاف زبردست مظاہرہ کیا گیا۔نعروں کی وجہ سے تقریب میں بار بار خلل آیا۔

گزشتہ نشست میں ہم نے ایک باضمیر پاکستانی آرکیٹیکٹ محترمہ یاسمین لاری کا ذکر کیا تھا جنھوں نےاسرائیلی ادارے وولف فاونڈیشن کا ایوارڈ اور ایک لاکھ ڈالر یہ کہہ کر ٹھکرادیا کہ میں اسرائیلیوں سے اعزازوصول کرکے اہل غزہ کے زخموں پر نمک نہیں چھڑکوں گی۔ اُسی پاکستان کے دو صحافیوں قیصر عباس اور شبیر خان نے اسرائیل کا دورہ کیا۔دورے کا مقصد دونوں ملکوں کے عوام کے درمیان رابطہ پیدا کرنا ہے۔ قیام اسرائیل کے دوران وہ تل ابیب میں Hostage Squareگئے اور غزہ کے قریب ان علاقوں کی 'زیارت'  کی جہاں سات اکتوبر 2023کو مزاحمت کاروں نے کاروائی کی تھی۔ ان دونوں کو معصوم اسرائیلیوں کے خلاف  'دہشت گرد' کاروائی کے اثار دیکھ شدید صدمہ پہنچا۔

ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل کراچی 28 مارچ 2025

ہفت روزہ دعوت دہلی 28 مارچ 2025

روزنامہ امت کراچی 28 مارچ 2025

ہفت روزہ رہبر سرینگر 30 مارچ 2025


Wednesday, March 26, 2025

 

اسرائیل کا قطر گیٹ اسکینڈل

آجکل اسرائیل میں قطر  گیٹ اسکینڈل کا بڑا چرچا ہے۔ اندرون ملک سراغرساں ادارے شاباک (Shin Bet) کے مطابق، اسرائیلی قیدیوں کی رہائی کیلئے دوحہ میں ہونے والے مذاکرات کے دوران  وزیراعظم نیتن یاہو کے مشیر  اور ترجمان ایلی  فیلڈسٹائن  (Eli Feldstien)نے قطری حکام سے رشوت وصولکی۔اس اسکینڈل کا انکشاف وزارت اطلاعات کے  سابق ڈائریکٹر جنرل ، سلام فلبر (Shlomo Filber)نے کیا تھا ۔ سلام فلبر نے الزام لگایا کہ حقیقت  طشت از بام کرنے پر  وزیراعظم کے تین دوسرے مددگاروں   جوناتھن  اورخ (Yonathan Orich)،عفر گولان (Ofer Golan)اور اسرائیل آئن ہارن (Israel Einhorn)نے انھیں اسقدر  ڈرایا اور دھمکایاکہ موصوف کو اپنے عہدے سے استعفٰی دینا پڑا۔ جبکہ ان تین افراد کا کہنا ہے کہ سارا فساد وزیراعظم کے چہیتے ایلی فیلڈسٹائن نے پھیلایا ہے۔ ہمارا اس معاملے سے کوئی تعلق ہے نہ ہمیں کسی کو ڈرانے دھمکانے کی ضرورت۔

نیتن یاہو  نے معاملے کی 'حساسیت'  کا ہواکھڑا کرکے عدالت سے زباں بندی یا Gag Orderحاصل کرلیا۔ یعنی  تاحکم ثانی  اس معاملے کی کوئی تفصیل افشا نہیں  جاسکتی،  چانچہ  اب تک یہ  نہیں معلوم نہ ہوسکا کہ قطری حکام نے  اسرائیلی افسر  (یا افسران)کو کس کام کیلئے رشوت پیش کی۔ شاباک نےاٹارنی جنرل  کے نام اپنی ابتدائی رپورٹ میں  ایلی فلیڈسٹائن پر  جو الزمات عائد کئے ہیں ان میں  رشوت  خوری، غیر ملکی ایجنٹ سے رابطہ، عوامی اعتماد کی پامالی، منی لانڈرنگ اور ٹیکس جرائم شامل ہیں۔ شاباک کے مطابق رشوت بہت مہین طریقے سے حاصل کی گئی۔ یعنی   مذاکرات کے دوران چونکہ ایلی فیلڈاسٹائن قطر کے مہمان تھے لہٰذا انھیں اعزازیہ عطاکیا گیا۔ حوالہ:عبرانی  اخبار معارف (Maariv)

سیاسی مبصرین کہہ رہے ہیں کہ اعزازیہ تو   دودھ کی بالائی ہے۔ اصل آمدنی اس سے بہت زیادہ ہے  اور اس بہتی گنگا میں نیتن یاہو اور انکی اہلیہ نے  جی بھر کے اشنان فرمایا۔دوسری طرف وزیراعظم کا کہنا ہے کہ ادارے کے سابق سربراہ رونن بار کی نااہلی پرانگلیاں اٹھ رہی تھیں اور نیتن یاہو نے انھیں متنبہ کردیا تھا کہ اگر شاباک  کی کارکردگی میں واضح بہتری نہ آئی تو رونن بار کو برطرف کردیا  جائیگا۔ ذلت آمیز سبکدوشی  کو 'دیانتی شہادت' کا رنگ دینے کیلئے رونن بار نے رشوت خوری کا افسانہ تراشہ ہے۔ رونن بار کی برطرفی پرشدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے   حزب اختلاف نے ملک گیر تحریک چلارکھی ہے۔ اٹارنی  جنرل محترمہ غالی بہراف معیارہ (Gali Baharaav-Miara)  نے رونن بار کی برطرفی کو خلاف ضابطہ قراردیا اور اس کو بنیاد بناتے ہوئےاسرائیلی عدالت عالیہ نے جناب بار کی برطرفی کے خلاف حکم امتناعی جاری کردیا  جس پر مشتعل ہوکر نیتن یاہو اٹارنی جنرل کو بھی برطرف کرنا چاہتے ہیں۔ اسرائیلی کابینہ نے 23 مارچ کو اٹارنی جنرل کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک منظور کرلی۔ خیال ہے کہ موصوفہ بہت جلد برطرف کردی جائینگی۔

شاباک کے سربراہ اور اٹارنی جنرل کی برطرفی  اسرائیل کا اندرونی معاملہ جس سے بیرونی دنیا کو کوئی سروکار نہیں لیکن  اگر قطر گیٹ اسکینڈل میں کوئی حقیقت ہے تو  یہ بات معلوم ہونی چاہئے کہ قطری حکام نے نیتن یاہو کے ترجمان کو کس خدمت کے عوض رشوت دی ؟۔ تاہم عدالت کی جانب سے جاری ہونے والے Gag order کی بناپر اس راز تک پہنچنا ممکن نہیں ۔

ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل کراچی 28 مارچ 2025

ہفت روزہ دعوت دہلی 28 مارچ 2025


Thursday, March 20, 2025

 

غزہ پر بمباری کا سلسلہ دوبارہ شروع

فلسطین کے بارے میں اپنی زبان بند رکھو۔ کلیہ صحافت، جامعہ کولمبیا کا اپنے طلبہ کو انتباہ

اہل غزہ کو بسانے کیلئےسوڈان، صومالیہ اور صومالی لینڈ کے بعد شام سے گفتگو

امریکہ کے اعتراض پر G-7 تنظیم، فلسطینی ریاست کے موقف سے دستبردار

غزہ خالی کرنے کے سوا مزاحمت کاروں کےپاس اورکوئی راستہ نہیں۔ اسٹیو وٹکاف

شدید بمباری اور حملوں کے باوجود غزہ میں زیرِ زمین سرنگوں کا نظام محفوظ

پاکستانی آرکیٹیکٹ نے اسرائیلی انعام وصول کرنے سے انکار کردیا

انیس جنوری کو شروع ہونے والی عارضی جنگ بندی اسرائیل نے ختم کردی۔ منگل  18 مارچ کو سحری کے وقت ساری پٹی پر شدید بمباری سے جنگ  کے دوسرے مرحلے کا آغاز ہوگیا۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق ڈیڑھ سو افراد جاں بحق اور تین سو سے زیادہ زخمی ہیں۔اسرائیلی وزیردفاع نے بمباری کیساتھ بری فوج کو بھی پیشقدمی کا حکم دیدیا ہے۔ حسب توقع امریکہ نے اسکا الزام اہل غزہ کے سر دھردیا۔ قصر مرمریں کی سیکیورٹی کونسل کے ترجمان برائن ہیوز نے کہا کہ مزاحمت کاروں نے قیدیوں کو رہا نہ کرکے جنگ بندی میں توسیع کے بجائے جنگ کا خود انتخاب کیا ہے۔

بمباری دوبارہ شروع کرنے کی پیشبندی کئی ہفتوں سے جاری تھی۔امن مذاکرات کیلئے امریکی صدر کے خصوصی نمائندے اسٹیو وٹکاف کے لب و لہجے میں تبدیلی سے اندازہ ہورہاتھا کہ امریکہ کو معاملے کے پرامن حل سے دلچسپی نہیں اور صدر ٹرمپ غزہ کو بزور طاقت خالی کرانےکا عزم کرچکے ہیں۔قطر سے واپس جاتے ہوئے جناب وٹکاف نے بہت دوٹوک لہجے میں دھمکی دی کہ 'مزاحمت کار تمام قیدی فوراً رہا کردیں، ورنہ انھیں اس کی بھاری قیمت ادا کرنی پڑیگی'۔ انھوں نے کہا کہ 'دہشت گرد' سمجھ رہے ہیں کہ وقت انکے ساتھ ہے، ایسا ہرگز نہیں، ہر گزرتے دن کیساتھ غزہ پر جہنم کے دروازے وا ہونے کے امکانات بڑھتے جارہے ہیں'۔اس سے ایک دن پہلے مجوزہ غزہ امن منصوبے پر FOX ٹیلی ویژن کے بل ہیمر Bill Hemmerسے گفتگو کرتے ہوئے جناب وٹکاف بہت اعتماد سے بولے 'مزاحمت کاروں کے ہتھیار ڈال کر غزہ خالی کردینے سے پٹی پر امن کا آغاز ہوگا'۔ جب میزبان نے پوچھا'کیامزاحمت کار یہ شرائط قبول کرلیں گے؟۔ تو موصوف بلاتوقف بولے 'ان کے پاس متبادل کیا ہے؟ غزہ خالی کردینے کے سوا مزاحمت کاروں کے پاس اور کوئی راستہ یا چارہ نہیں'

برطرف ہونے سے پہلے خصوصی امریکی ایلچی آدم بوہلر نے اعتماد سازی کیلئے امریکی شہری ایڈن الیگزندڑ کو رہااور چار امریکیوں کی لاشوں کی حوالگی کی تجویزپیش کی تھی۔مزاحمت کاروں نے یہ درخواست قبول کرلی لیکن وزیراعظم نیتن یاہو نے اس پیشکش کو چالاکی اور نفسیاتی حربہ قرار دیکر مسترد کردیا۔ امریکی وزیرخارجہ کے خیال میں ایک امریکی قیدی اور چار لاشوں کے بدلے اسرائیلی جیلوں سے 400 فلسطیینوں کی رہائی ایک 'احمقانہ فارمولا' ہے۔ شائد فاضل وزیرخارجہ کو یہ معلوم ہی نہیں کہ امریکی ثالثی میں وضع کئے جانیوالے معاہدے کے دوران یہ فارمولا طئے ہواتھا۔

غزہ کے بارے میں صدر ٹرمپ کے موقف میں ابہام و تضاد سے ایسا لگا کہ وہ اس معاملے میں سنجیدہ نہیں اور انکے آتشیں بیانات انتہاپسندوں کو مطمئن رکھنے کی ایک کوشش ہے، لیکن تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ امریکی صدر غیر یقینی صورتحال پیدا کرکے غزہ پر قبضے کو یقینی بناناچاہتے ہیں۔ آئرلینڈ کے وزیراعظم سے ملاقات کے دوران جب وہاں موجود ایک صحافی نے وزیراعظم مارٹن سے پوچھا 'فلسطینیوں کو غزہ سے بے دخل کرنے کے (صدر ٹرمپ)  منصوبے کے بارے میں آپ کیا کہیں گے ؟ تومارٹن صاحب کے کچھ کہنے سے پہلے ہی جناب ٹرمپ بولے 'کوئی بھی کسی فلسطینی کو بے دخل نہیں کر رہا'۔ اس بات پر فلسطینیوں نے اطمینان کا اظہار کیا لیکن اس یقین دہانی کی بازگشت ختم بھی نہ ہونے پائی تھی کہ اہل غزہ کو بسانے کیلئے سوڈان ، صومالیہ اور صومالی لینڈ سے رابطوں کی خبرسامنے آگئی۔ اسکا انکشاف سب سے پہلے ٹائمز آف اسرائیل نے کیا جسکے مطابق امریکہ اور اسرائیل ان ممالک سے رابطے میں ہیں۔صومالی لینڈ کو اب تک دنیا نے آزاد ملک تسلیم نہیں کیا اور جیسے سوڈان کو دہشت گردوں کی اعانت کرنے والے ممالک کی فہرست سے نکالنے کے وعدے پر خرطوم کو اسرائیل سے سفارتی تعلقات قائم کرنے پر آمادہ کیا گیا تھا ویسے ہی فلسطینیوں کی میزبانی کے عوض صومالی لینڈ کو اقوام متحدہ کی رکنیت پیش کی جائیگی۔دوسرے دن عبرانی چینل 12 نے بتایاکہ 25 لاکھ اہل غزہ کو بسانے کیلئےشام سے بات چیت شروع کردی گئی ہے۔ شام کے عبوری  صدر احمد الشرع نے مغرب سےاچھے تعلقات کی خواہشمند ظاہر کی ہے چنانچہ چچا سام پیشکش کررہے ہیں کہ اگر دمشق اہل غزہ کو لینے پر راضی ہوجائے تو ہماری مہرومحبت کے دروازے وا ہوجائینگے۔ انکار کی صورت میی جہنم کے دروازے کھل سکتے ہیں۔

اسی دوران اسرائیل میں ایک داخلی بحران پیدا ہوگیا۔ داخلی ادارہ سراغرسانی،  شاباک (Shin Bet)کے سربراہ رونن بار اور وزیراعظم کے درمیان اختلافات شدت اختیار کرگئے۔ شاباک کے سربراہ کا کہنا ہے کہ وزیراعظم سیاسی مفادات کیلئے غزہ امن معاہدے کی راہ میں نہ صرف روڑے اٹکارہے ہیں بلکہ حکمت عملی سے اختلاف کی بناپر نیتن یاہومجھے برطرف کرنا چاہتے ہیں۔ اس افواہ کی 16 مارچ کی شام اسوقت تصدیق ہوگئی جب وزیراعظم نے رونن بار کو برطرف کرنے کیلئے کابینہ کا اجلاس بلالیا۔ کابینہ اجلاس کا نوٹس آتے ہی اٹارنی جنرل محترمہ غالی بہراف معیارا Gali Baharav-Miara نے وزیراعظم آفس کیخلاف قطری حکام کو رشوت کھلانے کا کھاتہ کھول دیا۔جواب میں وزیراعظم کے انتہا پسند اتحادیوں کی طرف سے شاباک کے سربراہ کیساتھ اٹارنی جنرل کو بھی برطرف کرنے کا مطالبہ سامنے آگیا۔اسوقت کشیدگی مزید بڑھ گئی جب حزب اختلاف نے 18مارچ کو  بھرپور احتجاج کا اعلان کردیا۔ تل ابیب کے مرکزی چوک پر ہونے والے مظاہرے کی قیادت شاباک کے سابق سربراہ جورام کوہن، موساد کے سابق سربراہ تمرپاردو اور سابق پولیس کمشنر Roni Alsheich کرینگے۔ حزب اختلاف کے تمام ارکان پارلیمان کو شرکت کی ہدائت کی ہے۔

فلسطینیوں سے کشیدگی کو ہوا دیکر سیاسی دباو کا مقابلہ نیتن یاہو کی آزمائی ہوئی حکمت عملی ہے چنانچہ یہ افواہ اڑادی گئی کہ مزاحمت کار ایک بڑے حملے کی تیاری کررہے ہیں۔عسکری حلقوں کے حوالے سے چینل 12 نے انکشاف کیا کہ  اسرائیلی فوج نے حالیہ دنوں میں غزہ اسرائیل سرحد پر 'مشکوک' سرگرمیوں کا مشاہدہ کیا ہے اور ایسالگ رہا ہے کہ مزاحمت کار 7 اکتوبر 2023 کی طرح سرحدی دیہاتوں پر ایک بڑے حملے کی تیاری کررہے ہیں۔سنسنی پیدا کرنے کیلئے فوج کے سربراہ جنرل ایال ضمیر نے غزہ سرحد پر واقع تمام اسکول بند کرنے کے ساتھ ریلوں کو بھی معطل کرنے کا حکم دیدیا۔غیر جانبدار عسکری مبصرین نے اسی وقت یہ خیال ظاہر کیا تھا کہ جنگی جنون پھیلاکر نیتن یاہو اور انکے انتہا پسند اتحادی غزہ پر اسرائیل کے نئے حملوں کا جواز پیدا کرنا چاہتے ہیں کہ کرپشن کے سنگین الزامات میں ملوث وزیراعظم کیلئے شرمندگی سے بچنے کا یہ سب سے آسان راستہ ہے۔

غزہ سے رہا ہونے والے ایک قیدی تل شوہام (Tal Shoham)کے اس انکشاف کی بھی بڑے پیمانے پر تشہیر کی گئی کہ شدید بمباری اور ہلاکت خیز حملوں کے باوجود غزہ میں سرنگوں کا نظام نہ صرف صحیح سلامت ہے بلکہ لڑائی کے دوران بھی اسکی مرمت، تعمیر نو اور توسیع کا کام جاری رہا۔ شوہام نے  Foxٹیلی ویژن کو بتایا کہ گرفتاری کے دوران اس نے سرنگوں کے توسیع کے کام میں ایک دن کا وقفہ بھی نہیں دیکھا۔اسرائیلی محکہ سراغرسانی کا خیال ہے کہ غزہ میں زیرزمین سرنگوں کی مجموعی لمبائی ساڑھے تین سو میل سے زیادہ ہے۔ سوا سال کی مسلسل بمباری کے باوجود یہ زیرزمین نظام بالکل ٹھیک ہے اور متاثر ہونے والی اکثر سرنگوں کی مرمت بھی کرلی گئی ہے۔ اس نوعیت کے خودساختہ انکشافات سے جنگی جنون و خوف کی فضا بناکر نیتن یاہو نے غزہ پر بھرپور حملہ کردیا۔

گزشتہ دس دنوں سے غزہ تاریکی میں ڈوباہوا ہے۔ امدادی سامان پر مکمل پابندی کی وجہ ساری پٹی شدید عذائی قلت کا شکار ہے۔ بمباری سے صورتحال مزید سنگین ہوگئی ہے جس  میں بہتری کی کوئی امید  نظر نہیں آتی اور تبدیلی آئے بھی کیسے کہ دنیا کو اسکی پرواہ تک نہیں۔ خوف کا یہ عالم کہ امریکی جامعات کے شعبہ ہائے صحافت اور ابلاغ عامہ اپنے طلبہ کوفلسطین کے بارے زباں بندی کا مشورہ دے رے ہیں۔ جامعہ کولمبیا کے رئیس کلیہِ صحافت و ابلاغ عامہ جے کوب (J. Cob)اور سینئر پروفیسر ڈاکٹر اسٹیورٹ کارل (Stuart Karle)نے امریکہ میں زیرتعلیم غیر ملکی طلبہ کو نصیحت فرمائی ہے کہ 'اگر آپ سماجی رابطے کے پلیٹ فارم پر سرگرم ہیں تو اس بات کو یقینی بنائیں کہ آپکے پیج پر مشرق وسطیٰ کا بہت زیادہ ذکر نہ ہو۔ یہ بڑا خطرناک وقت ہے، کوئی بھی آپ کی حفاظت نہیں کر سکتا'۔

ایسے ہی خوف کا شکار G-7کی قیادت نظر آرہی ہے۔کیینڈا کے وزرائے خارجہ اجلاس میں غرب اردن پر فوجی آپریشن اور فلسطینیوں پر قابضین کے حملوں پر تشویش کا اظہار ہوا۔ مسئلے کے پائیدار حل کیلئے دوریاستی حل تجویز کیا گیا لیکن امریکہ کے اعتراض پر مشترکہ اعلامئے میں دوریاستی فارمولاحذف کردیا گیا اور غرب اردن میں فلسطینیوں پر قابضین کے حملوں کی مذمت کے بجائے 'تشدد پرتحفظات' جیسا مبہم لفظ ٹانک دیا گیا۔ مہذب دنیا نے ابھی سچ بولنے کی تہذیب نہیں سیکھی۔

اسرائیل کے مذہبی عناصر 'ٹرمپ سرکار' کو حصولِ عظمتِ اسرائیل کی نشانی قراردے رہے ہیں۔ وزیر ماحولیات نے ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا 'ٹرمپ انتظامیہ،  خدا نے ہماری نصرت کو بھیجی ہے اور خدا ہمیں واضح طور پر بتا رہا ہے کہ اب زمین (غزہ) کا وارث بننے کا وقت آ گیا ہے۔ حوالہ: عبرانی ریڈیو رشدِ بیت انگریزی ترجمہ روزنامہ الارض

غزہ اور غرب اردن کیساتھ اب دوسرے علاقوں کی عرب آبادیوں میں بھی عسکری آپریش کا آغاز کردیا گیا ہے۔ گزشتہ ہفتہ الخلیل الاسفل (Lower Galilee) کے شہر عرّابہ پر اسرائیلی فوج نے دھاوہ بولا جس میں تین نوجوان جاں بحق اور درجنوں زخمی ہوئے ۔ گھر گھر چھاپوں میں  100 سے زیادہ افراد گرفتار کرلئے گئے۔غرب اردن میں فلسطینیوں کے خلاف قابضین کے خلاف حملوں میں شدت آگئی ہے۔ نابلوس کے قریب دوما میں فلسطینیوں کے گھروں کو آگ لگادی گئی۔ رات کو کی جانیوالی اس وحشیانہ کاروائی میں دیاسلائی دکھانے سے پہلے گھروں کو باہر سے مقفل کردیا گیاتھا۔ شاید یہ ٹرمپ صاحب کی دھمکی 'جہنم کے دروازے کھولدینے' کا عملی مظاہرہ تھا۔ بھرپور جنگ سے چار دن پہلے، نمازِ جمعہ کے دوران شمالی غزہ میں بیت لاہیہ پر بمباری کی گئی جس میں ترک خبر رساں ایجنسی Anadoluکے صحافی محمد اسلام سمیت 9 افراد جاں بحق ہوگئے۔

امریکہ میں غزہ نسل کشی کے خلاف آوازاٹھانے والوں کے گرد گھیرا تنگ کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔ محکمہ انصاف کے اس الزام کے بعد کہ جامعہ کولمبیا کی انتظامیہ نے مطلوب افراد کو پناہ دے رکھی ہے، طلبہ کے ہاسٹل اور تدریسی عملے کی رہائش گاہیں کھنگالی گئیں۔ چھاپے کے دوران کوئی گرفتارعمل میں نہیں آئی لیکن دوسرے دن  گھر سے فلسطینی طالبہ لقیٰ قرضیہ کو گرفتار کرلیا گیا جبکہ پی ایچ ڈی کی ایک تامل (ہندوستانی) طالبہ  رنجھن سرینیواسن، تعلیم ادھوری چھوڑکر خود ہی کینیڈا چلی گئی۔اسکے سوشل میڈیا اکاونٹ پر غزہ کے حق میں مواد دیکھ کر جامعہ نے اسکا ویزا منسوخ کرادیا تھا۔ملزمان کو پناہ دینے کے الزامات اور وفاقی گرانٹ میں کٹوٹی سے گھبرا کرجامعہ نے گزشتہ سال مظاہرے کرنے والے کئی طلبہ کو جامعہ سے خارج کرنے کے علاوہ بہت سے فارغ التحصیل طلبہ کی اسناد معطل کردیں۔ان اقدامات کے خلاف یہودی صدائے امن (Jewish Voice for Peace)کے زیراہتمام نیویارک کے ٹرمپ ٹاور پر 14 مارچ کو طلبہ نے دھرنا دیا۔مظاہرین نے سرخ رنگ کی ٹی شرٹ پہن رکھی تھی جس پر لکھا تھا Not in Our Nameیعنی ہم یہودیوں کے نام پر ظلم نہ کرو۔گروپ کی قائد سونیا نوکس نے تقریر کرتے ہوئے امریکی یہودیوں سے کہا کہ آج فلسطینیوں کے حقوق کی پامال برداشت کرلی گئی تو کل کوئی اور اقلیت نشانہ بنے گی۔اگر آج آواز نہ اٹھائی تو کل آواز اٹھ ہی نہ سکے گی۔ پولیس نے پرتشدد کاروائی کرکے دھرنا دینے والوں کومنتشر کردیا اور 100 افراد گرفتا کرئے گئے جن پر نجی عمارت میں بلااجازت داخل ہونے اور کاروبار میں خلل ڈالنے کے پرچے کاٹے گئے ہیں۔

بڑی طاقتوں کی بے ضمیری اور مہذب دنیا کے دوغلے کردار کا ماتم اپنی جگہ لیکن ظلم و جبر کے سامنے سینہ سپر افراد کی بھی دنیا میں کمی نہیں۔معروف پاکستانی آرکیٹیکٹ یاسمین لاری کو اسرائیلی ادارے وولف فاونڈیشن نے ایوارڈ اور ایک لاکھ ڈالر انعام سے نوازا۔ ایوارڈ کیلئے لاری صاحبہ نے کسی مقابلے میں شرکت نہیں کی تھی بلکہ ادارے نے دنیا بھر کے آرکیٹیکٹ کے ڈیزائن کا جائزہ لینے کے بعد چند ماہرین کو انعام دینے کا فیصلہ کیا۔ جب یاسمین لاری کو اطلاع ملی تو انھوں نے انعام لینے سے انکار کردیا۔ اپنے مختصر پیغام میں انھوں نے کہا 'افسوس کہ ہم مظلوم فلسطینیوں کیلئے کچھ نہیں کرسکے لیکن اسرائیلی مظالم کے خلاف میں اتنا ضرور کرونگی جتنی مجھ میں سکت ہے۔اسرائیلی ادارے سے انعام وصول کرکے میں فلسطینیوں کے زخموں پر نمک نہیں چھڑک سکتی'

ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل کراچی 21 مارچ 2025

ہفت روزہ دعوت دہلی 21 مارچ 2025

روزنامہ امت کراچی 21 مارچ 2025


ہفت روزہ رہبر سرینگر 23 مارچ 2025