Thursday, December 26, 2019

بھارت کا متنازعہ شہریت بل


بھارت کا متنازعہ شہریت بل
بھارت کے قانونِ شہریت مجریہ 1955میں متنازعہ ترمیم کی منظوری کے بعد سے سارے ہندوستان میں ہنگامے جاری ہیں۔ ہنگاموں کی شدت کا یہ عالم کہ جاپانی وزیراعظم نے دورہ ہندوستان منسوخ کردیا اور بہت سے مغربی ممالک نے اپنے شہریوں کو ہندوستان کے غیر ضروری سفر سے گریز کی ہدائت کی ہے۔Citizenship Amendment ActیاCAAکے نام سے مشہور اس بل کا مقصد 1955 کے قانونِ شہریت میں ترمیم کرکے پاکستان، بنگلہ دیش اور افغانستان سے مذہب کی بنیاد پر ستائے ہوئے لوگوں کے لئے ہندوستانی شہریت کا راستہ ہموار کرنا ہے۔ نئے قانون کا اطلاق ان لوگوں پر ہوگا جو 31 دسمبر 2014 سے قبل ان تین ملکوں سے بھارت آئے ہیں۔ایسے غیر ملکیوں کو بھارتی شہریت کیلئے اب 11 کے بجائے پانچ سال انتطار کرنا ہوگا۔ مودی سرکار نے یہ بل گزشتہ پارلیمان میں  بھی  پیش کیا تھا جسے ایوان زیریں یا لوک سبھا نے منظور کرلیا لیکن راجیہ سبھا(ہندوستانی سینیٹ) میں بی جے پی کے پاس پارلیمانی اکثریت نہ تھی چنانچہ شکست کےخوف سے اسے ایوانِ بالا میں پیش ہی نہیں کیا گیااور یہ بل کالعدم ہو گیا۔
بادی النظر میں تو یہ ایک اچھی تجویز ہے کہ مظلوموں کو مکمل شہری حقوق کے ساتھ ہندوستان میں باوقار زندگی گزارنے کا موقع ملے گا لیکن مسودہ قانون میں بہت صراحت کیساتھ لکھ دیا گیا ہے کہ یہ سہولت ہجرت کرکے بھارت آنے والے ہندو، سکھ، بودھ، جین، پارسی اور عیسائی برادری کے افراد تک محدود ہوگی۔ یعنی مسلمان اس سے مستثنیٰ ہیں۔بھارتی صدر کے دستخط کے بعد  یہ ترمیم اب ہندوستانی آئین کا حصہ بن چکی ہے۔ مسلمانوں اور دوسرے طبقات کی جانب سے CAAکے خلاف سپریم کورٹ میں 18 دارخواستیں دائر کی گئی ہیں۔سپریم کورٹ نے ترمیم کے خلاف حکم امتناعی کی درخواست کو مسترد کردیا ہے جسکی بنا پر اسکے نفاذ کی ر اہ میں کسی عارضی رکاوٹ کا کوئی امکان نہیں۔ ہندوستانی عدالت عظمیٰ ان درخواستوں پر سماعت کا آغاز 22 جنوری 2020 سے کریگی۔
بھارتی حزب اختلاف نے اس بل کو آئین کے منافی قراردیا ہے انکا کہنا ہے کہ اس کا مقصد ہندونسل پرستی کی حوصلہ افزائی اور مسلم اقلیت کو دیوار سے لگانا ہے۔ بائیں بازو کی رہنما اور مغربی بنگال کی وزیراعلیٰ شریمتی ممتا بنڑجی نے تو یہاں تک کہدیا کہ اس قانون عملدرآمد کیلئے مودی کو میری لاش پر سے گزرناہوگا۔اسی طرح پنجاب، کیرالہ۔ مدھیہ پردیش اور چھتیس گڑھ کی صوبائی حکومتوں نے بھی اپنے صوبوں میں اس قانون کے اطلاق سے انکار کردیاہے۔ترمیم کے مجوز اور وزیر داخلہ امیت شاہ نے حزبِ اختلاف کے الزام کو غلط قرار دیتے ہوئے کہا کہ ترمیم مسلمانوں کے خلاف نہیں۔ اپنے موقف کی مزید وضاحت کرتے ہوئے انکا کہنا ہے کہ اسلام کا بطور مذہب اس ترمیم میں ذکر نہیں لیکن اگر ان ملکو ں سے کوئی احمدی، شیعہ، صوفی یا ہزارہ مسلمان ضابطے کے مطابق درخواست دے تو اس کو بھی شہریت دی جاسکتی ہے۔
اپنی تقریر میں امیت شاہ نے جذباتی انداز میں سرحد پار ہندو و سکھ برادری پر ظلم و تشدد کا ذکر کیا۔ انکا کہنا تھا کہ پاکستان، بنگلہ دیش اور افغانستان میں ہندوبرادری کے افراد کی تعداد تشویش ناک حد تک کم ہو رہی ہے۔ امیت شاہ نے پاکستان میں ہندو اور سکھ برادری کی خواتین کے مبینہ اغوا اور ان کے جبراً تبدیلی مذہب کے اعداد و شمار بھی پیش کیے۔ ہندوستانی وزیرداخلہ نے  کہا کہ ان مظلوم شرنارتھیوں (پناہ گزین) کو دستاویزات کی غیر موجودگی میں بھی بھارت کی شہریت دی جائیگی۔اس موقع پر امیت شاہ مسلمانوں کے خلاف اپنے دل کا بغض نہ چھپا سکے اور کہا کہ ستائے ہوئے ہندووں اور سکھوں کو انکی دھرتی ماتا اپنے سینے سے لگائیگی اور اسی کے ساتھ غیر قانونی گھس بیٹھیوں کو نکال باہر کردیا جائیگا۔
گھس بیٹھیو ں سے امیت شاہ کی مراد آسام کے وہ 40 لاکھ مسلمان ہیں جنھیں ملک سے بیدخل کرنے کی تیاری مکمل ہو چکی ہے۔ان لوگوں کو دیس نکالا دینے کیلئے وہی مجرب حکمت عملی استعمال کے جارہی ہے جو برما روہنگیا مسلمانوں کو انکے گھروں سے نکالنے کیلئے کامیابی سے استعمال کرچکا ہے۔کہا جارہا ہے کہ آسام میں آباد مسلمانوں کی اکثریت ان لوگوں پر مشتمل ہے جو1971 میں بنگلہ دیش کی تحریک آزادی کے دوران ہجرت کرکے آسام آگئے تھے چنانچہ انکی دستاویزات کی بہت باریک بینی سے جانچ پڑتال کی جارہی ہے۔ برمی حکومت کا بھی روہنگیا مسلمانوں کے بارے میں یہی موقف ہے کہ یہ دراصل بنگالی ہیں جو بنگلہ دیش سے ہجرت کرکے برما آئے ہیں۔
ہمالیہ کے مشرق میں واقع آسام میں مسلمانوں کا تناسب 34 فیصد سے زیادہ ہے اور یہاں اسلام بہت تیزی سے پھیل رہا ہے۔ تحریک پاکستان کے دوران آسام بے حد سرگرم تھا اور اسکے دوبڑے شہر سلہٹ اور کریم گنج تحریک آزادی کا گڑھ تھے۔ ریفرنڈم کے دوران سلہٹ کے 99 فیصد لوگوں نے پاکستان کے حق میں ووٹ دیا۔ اکثریت تو کریم گنج کی بھی پاکستان کے حق میں تھی لیکن بارڈر کمیشن کے بے ایمان سربراہ ریڈ کلف Radcliffeنے اسکا الحاق ہندوستان سے کردیا اور اس ناانصافی پر پاکستان کے پہلے وزیرخارجہ سر ظفراللہ خان نے اپنی زبان مصلحتاً بندرکھی۔
بھارتیہ جنتا پارٹی کے حکم پر National Register of Citizens (NRC)کی چھان بین شروع کی گئی اورگزشتہ برس جولائی میں رجسٹرار کی جانب سے جاری ہونے والے اعلان کے مطابق جن 3 کروڑ 29 لاکھ افراد کی شہریت کی تحقیق کی گئی ان میں سے 2 کروڑ 89 لاکھ کے کاغذات درست پائے گئے یعنی پاسپورٹ، شناختی کارڈ اور شہری صداقت ناموں کے حامل 40 لاکھ افراد نہ صرف غیر قانونی تارکین وطن ہیں بلکہ ان پر جعلسازی کا مقدمہ بھی قائم کیا جاسکتا ہے۔ خیال ہے کہ ان لوگوں کے خلاف وہی ہتھکنڈے استعمال ہونگے جو امریکہ میں صدر ٹرمپ کی Immigration Control and Enforcementیا بدنام زمانہ ICEاستعمال کرتی ہے یعنی  جعلسازی کے الزام میں گرفتاری اور پھر شہریت اور ویزے کی درخواست پر مزید کاروائی سے دستبرداری کی شرط پر رہائی کے بعد ملک سے بیدخلی۔ جن 40 لاکھ افراد کی شہریت 'مشکوک' پائی گئی ہے وہ سب کے سب مسلمان ہیں۔مشتبہ شہریت کے حامل ان افراد میں ہندوستانی فوج کے ایک 50 سالہ ریٹائرڈ فوجی اعظم الحق بھی شامل ہیں۔مسلمانوں کا کہنا ہے کہ نسل پرست آل آسام اسٹوڈنٹس یونین AASU کے کارکن اور جنتا پارٹی کے انتہاپسند جانچ پڑتال کے دفاتر میں بیٹھے ہیں۔ یہ لوگ NRC دستاویزات میں درج محمد، احمد، عبدل  اور دوسرے مسلمان ناموں کے آگے سوالیہ نشان لگا کر انکی دستاویز کو جعلی قراردے رہے ہیں،
ابتدا میں حکومت کا کہنا تھا کہ جو لوگ اپنی شہریت ثابت کرنے میں ناکام رہے انھیں اضافی دستاویزات اور شہادتیں فراہم کرنے کا ایک  اور موقعہ دیا جائیگا۔ لیکن ان لوگوں کی نئی دستاویزات بھی غیر مصدقہ قراردیکر مسترد کردی گئیں۔ پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ ان 40 لاکھ لوگوں کو بنگلہ دیش کی طرف دھکیلنے کے انتظامات کئے جارہے ہیں اور ریاست نے وفاق سے فوج طلب کرلی ہے۔ خیال ہے کہ ان لوگوں کو پہلے مرحلے میں گھروں سے نکال کر بنگلہ دیش کی سرحد کے قریب بیگار کیمپوں میں منتقل کیا جائیگا۔گویا 1948 میں فلسطین اور 2015 میں برما کے بعد اس کامیاب حکمت عملی کا آسامی مسلمانوں پر تجربے کا فیصلہ ہوچکا ہے۔ بنگالی مسلمانوں کی بیدخلی سے پہلے CAAکے ذریعے پناہ گزینوں کیلئے ملک کے دروازے کھول دینے کا اعلان کرکے دہلی دنیا کے سامنے اپنا ملائم چہرہ پیش کرنا چاہتا ہے
تاہم  بل کی انتہا پسندانہ تدوین نے سارے ملک میں آگ لگادی ہے۔ مسلمانوں کیلئے یہ زندگی اور موت کا معاملہ ہے کہ امیت شاہ گھس بیٹھیوں کے نام پر مسلمانوں کو ملک سے نکال دینے کیلئے پرعزم نظر آتے ہیں۔ آسام کے ساتھ کیرالہ میں بھی NRCکی جانچ پڑتال شروع ہوچکی ہے جہاں 'شبہہ' ظاہر کیا جارہا ہے کہ خانہ جنگی کے دوران سری لنکا سے بہت بڑی تعداد میں تامل مسلمان یہاں آئے جنھوں نے جعلی دستاویزات بناکر ہندوستانی شہریت حاصل کرلی ہے۔ CAAکے دفاع میں تقریر کرتے ہوئے امیت شاہ نے عندیہ دیا کہ انکی پارٹی NRCکو مزید موثر بنانے کیلئے NRCترمیمی بل پر کام کررہی ہے جسکے تحت سارے ہندوستان میں شہری دستاویزات کی نئے سرے سے چھان بین کی جائیگی۔ انکا کہنا تھا کہ بی جے پی سرکار دھرتی کو غیر قانونی گھس بیٹھیوں سے پاک کرنےکے لئے پرعزم ہے۔
ہندوستانی انتہاپسندوں نے  ایک عرصے سے مسلمانوں کو ہدف بنایا ہوا ہے۔ گزشتہ انتخابی مہم کے دوران امیت شاہ کی سربراہی میں قائم ہونے والے انتخابی سیل نے سنسنی خیز اعدادوشمار جاری کئے جنکی بڑے پیمانے پر تشہیر کی گئی۔ رنگین چارٹس اور گراف کی مدد سے بتایا گیا کہ اگلے پندرہ سالوں میں یہاں مسلمانوں کی آبادی بڑھ کر 93 کروڑ ہوجائیگی جبکہ 2035 میں ہندووں کی متوقع آبادی 92 کروڑ سے کچھ زیادہ ہوگی اور اگر مسلمان آبادی کی موجودہ شرح افزائش برقرار رہی تو 2050 میں ہندوستان 1 ارب 89 کروڑ مسلمانوں کیساتھ دنیا کا سب سے بڑاملک بن جائیگا۔ اعدادوشمار سے ثابت کیا گیا کہ ضبط ولادت سے کراہیت اورکثرت ازدواج کی بنا پر مسلمان گھرانوں میں اوسطاً 10 بچے پیدا ہوتے ہیں۔ اسکے مقابلے میں ہندو خواتین جہیزکی لعنت اور ساس بہو کے جھگڑوں سے خوفزدہ ہوکر شادی سے گریز کررہی ہیں۔ یہ خواتین اعلیٰ تعلیم اورمعاشی استقلال کی تلاش میں شادی کے کھکھیڑ سے دور رہنا چاہتی ہیں جسکی وجہ سے ہندوآبادی سکڑتی جارہی ہے۔ آر ایس ایس نے چار بچے فی گھرانے کی تحریک شروع کی ہے۔انتہا پسندوں کو شکوہ ہے کہ ہندو نوجوان اس معاملے میں سنجیدہ نہیں۔
اس متنازعہ بل کے خلاف مسلمانوں کے ساتھ متعدل مزاج ہندو اور خاص طور سے کم تر ذات کے اچھوت یا دلت بھی سخت برہم ہیں۔ انکا خیال ہے کہ امیت شاہ اور نریندر مودی ہندوستان کو برہمن سلطنت میں تبدیل کردینا چاہتے ہیں۔ ان لوگوں کا کہنا ہے کہ مذہبی اور ثقافتی تنوع ہندوستان کا بقا کیلئے ضروری ہے کہ دنیا کے کئی بڑے مذاہب نے یہاں جنم لیا ہے اور ان سب مذاہب کے ماننے والوں کو یہاں مل جل کر رہناہوگا۔ ہندومت کی بالادستی کا خبط اس خطے کو برباد کردیگا۔
شمالی مشرقی ہندوستان کی معاشرتی اکائیوں کو ڈر ہے کہ CAAکاسہارا لے کر بڑی تعداد میں بنگالی ہندو یہاں آجائینگے جسکی وجہ سے علاقائی شناخت اور ثقافت کے دھندلا جانے کا خدشہ ہے۔اسی بناپر مغربی بنگال، آسام، اننچل پردیش، میگھالایا، ناگالینڈ، منی پور، میزو رام اور تریپورہ میں بھی مظاہرے ہوئے رہے ہیں۔ ان ریاستوں کا خیال ہے کہ ملک کو ہندو ریاست بنانے کے ہونکے میں مودی سرکار بھارتی سرحدوں کو غیر قانونی تارکین وطن کیلئے چوپٹ کھولدینا چاہتی ہے اور CAA کے نفاذ سے ایمیگریشن اور سرحد پر افرادواسباب کی آمد و رفت پر عائد تمام پابندیاں کالعدم ہوجائینگی۔ وفاقی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ اس بل کا اطلاق تریپورہ، میزورام، آسام اور میگھالایا کے قبائلی علاقوں پر نہیں ہوگا لیکن اس بات کی کیا ضمانت ہے کہ تارکین وطن دہلی میں ابتدائی 5 سال گزارنے کے بعد شہریت لیکر ان علاقوں کا رخ نہیں کرینگے 
لوک سبھا میں بحث کے دوران کانگریس کے ارکان نے CAAکو آئینِ ہندوستان کی بنیادی دفعات 14/ 15/ 21/ 25 اور 26 کی خلاف ورزی قراردیا جن میں مساوات کی ضمانت دی گئی ہے۔ کانگریس کے سینئر رہنما ششی تھرور نے جذباتی انداز میں کہا کہ یہ ملک تمام مذاہب کے ماننے والوں کا ہے اور مذہبی بنیادوں پر کسی کیلئے بھی  بھارت کے دروازے بند نہیں کئے جاسکتے جبکہ یہ بل بہت صراحت کے ساتھ شہریت کو مذہب سے جوڑتا ہے۔
بل کے دفاع میں امیت شاہ نے کہا کہ یہ بل صرف تین ملکوں سے متعلق ہے جہاں مسلمان اقلیت میں نہیں لہذا اس بل کا مسلمانوں سے کوئی تعلق نہیں ہے۔انھوں نے ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا کہ میانمار، نیپال اور سری لنکا بھی پڑوسی ملک ہیں ان کی اقلیتوں کو اس میں شامل نہیں کیا گیا اور روہنگیا کو بھی شہریت نہیں دی جا رہی ہے۔ جس پر آل انڈیا مجلس اتحادالمسلمین کے سربراہ اسدالدین اویسی نے کہا کہ اسی سے حکومت کی بدنیتی کا اظہار ہوتا ہے۔ اگر مودی سرکار مذہب کی بنیاد پر بدسلوکی کا شکار ہونے والوں کو مکمل شہری حقوق کے ساتھ باقار ٹھکانہ فراہم کرنا چاہتی ہے تو اس فیاضی کے سب سے زیادہ مستحق نسل کشی کا شکار روہنگیا ہیں۔
پولیس اور نیم فوجی دستوں کی جارحانہ کاروائیوں کے باوجود سارے ہندوستان میں ہنگامے جاری ہیں۔جلاوگھیراو کے ساتھ بی جے پی کے رہنماوں کے گھر پر حملوں کی اطلاعات بھی آرہی ہیں۔کشیدگی سے آسام سب سے زیادہ متاثر ہے جہاں 40 لاکھ مسلمانوں کو بیدخلی کاخطرہ ہے۔ دلچسپ بات کہ ان ہنگاموں میں وہ انتہا پسند ہندو پیش پیش ہیں جو بنگالی مسلمانوں کو آسام سے نکالنا چاہتے ہیں۔ اب انھیں ڈر ہے کہ CAAکے نفاذ کے بعد بنگلہ دیش سے پناہ گزینوں کی فوج ظفر موج آسام کا رخ کریگی۔ مظاہرین نے آسام کے وزیر اعلیٰ سربنندا سونووال کےگھر پر بھی حملہ کیا اور اسکی بیرونی دیواروں کو منہدم کردیا۔
CAAکا نشانہ بنیادی طور پر ہندوستانی مسلمان اور پاکستان ہیں۔ دہلی انسانی حقوق کی تنظیموں کو یہ تاثر دینا چاہتا ہے کہ پاکستان کی غیر مسلم اقلیت بدترین امتیازی سلوک کا شکار ہے جنکے تحفظ کیلئے بھارت اپنی سرحدیں کھول رہا ہے۔ ساتھ ہی اسرائیل کے  عالیہ (Aliyah)پروگرام کی طرح ملک میں ہندووں کا تناسب بڑھانے کیلئے دنیا بھر کے ہندووں کو ملک میں بسانے کی جامع حکمت عملی اختیارکی جارہی ہے۔ صیہونی اصولوں کے مطابق یہودیوں کیلئے اسرائیل میں بسنا انکی معراج ہے اورمعراج کیلئے عبرانی میں عالیہ یا بلندی کا لفظ استعمال ہوتا ہے۔ عالیہ قانون کے تحت ساری دنیا سے کوئی بھی یہودی جب چاہے اسرائیل آکر آباد ہوسکتا ہے اور اسرائیلی حکومت اسکی منتقلی کے اخراجات اداکرنے کی پابند ہے۔
CAAکے تحت شرنارتھی یا پناہ گزین پروگرام کے ساتھ ہی مسلمانوں کی بیدخلی کیلئے NRCکی چھان بین کا سلسلہ تین سال سے جاری ہے۔ فی الحال جانچ پڑتال کا کام آسام کے بنگالی مسلمانوں تک محدود ہے لیکن جیسا کہ ہم نے پہلے عرض کیاامیت شاہ NRCمیں ترمیم کے ذریعے چھان بین کا دائرہ سارے ملک تک پھیلانے پر غور کررہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس بل سے ہندوستانی مسلمانوں کے ساتھ عیسائی اور کمتر ذات کے ہندو وں(دلت) میں بھی خوف پیدا ہوگیا ہے۔دوسری طرف آسام میں بنگالی مسلمانوں کو دیوار سے لگادینے کے خلاف بنگلہ دیشیوں میں شدید ردعمل ہے۔ حسینہ واجد کے جبر کی وجہ سے لوگ کھل کر کچھ کہنے کا حوصلہ نہیں کرپارہے لیکن سوشل میڈیا پر ہندوستان کے خلاف مہم عروج پر ہے۔ شمال مشرقی قبائلی علاقوں پر شرنارتھیوں کی آمد کا خوف طاری ہے جو ناگالینڈ، میزورام اور چھتیس گڑھ میں پہلے سے جاری علیحدگی کی تحریکو ں کیلئے مہمیز کاکام دے سکتا ہے۔
ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل کراچی 27 دسمبر
2019

Wednesday, December 25, 2019

انکے شعروں میں گلوں کی خوشبو !! محترمہ پروین شاکر


انکے شعروں میں گلوں کی خوشبو !! محترمہ پروین شاکر
 آج  26دسمبر   مشہور شاعرہ پروین شاکر کا25 واں یوم وفات ہے۔ پروین شاکر کے آباواجداد کو تعلق ضلع دربھنگہ بہار سے تھا۔ اس اعتبار سے ہم ان کو دبستان عظیم آباد سے وابستہ شاعرہ کہہ سکتے ہیں تاہم انکی ولادت کراچی میں ہوئی۔ شاعری میں وہ اپنے والد جناب ثاقب حسین  شاکر سے اصلاح لیتی تھیں  اور اسی وجہ انھوں نے شاکر کا تخلص اختیار کیا۔ کچھ عرصہ انھوں نے مینا بھی بطور تخلص استعمال کیا۔جب وہ صرف 15 برس کی تھیں تو انکی شادی کردی گئی ۔ انھوں نے شادی کے بعد تعلیم جاری رکھی اور جامعہ کراچی سے انگریزی ادب اور لسانیت میں ایم اے کیا۔  انھوں نے ابلاغ عامہ میں پی ایچ ڈی کے علاوہ جامعہ ہارورڈ سے بینکنگ ایڈمنسٹریشن میں ایم اےبھی کیا۔ پروین شاکر نے عملی زندگی کا آغاز معلمی سے کیا اورعبداللہ گرلز کالج میں انگریزی کی لکچرر مقرر ہوئیں۔ اسکی کے ساتھ انھوں نے سول سروس کاامتحان امتیاز سے ساتھ پاس کیا اور محکمہ کسٹمز میں  کلکٹرتعینات ہوئیں۔پروین شاکر احمد ندیم قاسمی سے بے حد متاثر تھیں اور انہیں عمو جان کہا کرتی تھیں۔پہلا مجموعہ خوشبو انہی کے نام منسوب ہے ۔ انکے مجموعہ ہائے کلام خوشبو، خودکلامی، صدبرگ، انکار، ماہِ تمام اور کفِ آئینہ کے عنوان سے شایع ہوئے اور سب ہی  کو پزیرائی نصیب ہوئی۔ انکی نثری تخلیق  گوشہِ چشم بھی خاصہ مقبول ہوئی۔  پروین شاکر  26دسمبر 1994کو اسلام آباد کے نزدیک ایک ٹریفک حادثے میں انتقال کرگئیں۔ اسوقت انکی عمر  42 برس تھی۔
پروین شاکر کی ایک غزل کے چند اشعار
بارش ہوئی تو پھولوں  کے تن چاک ہوگئے
موسم کے ہاتھ بھیگ کے سفاک ہو گئے
بادل کو کیا خبر ہے کہ بارش کی چاہ میں
کیسے بلند و بالا شجر خاک ہو گئے
جگنو کو دن کے وقت پرکھنے کی ضد کریں
بچے ہمارے عہد کے چالاک ہو گئے
لہرا رہی ہے برف کی چادر ہٹا کے گھاس
سورج کی شہ پہ تنکے بھی بے باک ہو گئے
بستی میں جتنے آب گزیدہ تھے سب کے سب
دریا کے رخ بدلتے ہی تیراک ہو گئے
سورج دماغ لوگ بھی ابلاغ فکر میں
زلف شب فراق کے پیچاک ہو گئے
جب بھی غریب شہر سے کچھ گفتگو ہوئی
لہجے ہوائے شام کے نمناک ہو گئے

Friday, December 20, 2019

'برطانوی ٹرمپ' بورس جانسن کی کامیابی ۔۔ بریکزٹ کی عوامی توثیق


'برطانوی ٹرمپ' بورس جانسن کی کامیابی ۔۔ بریکزٹ کی عوامی توثیق
برطانیہ کے پارلیمانی انتخابات میں بورس جانسن کی قدامت پسند ٹوری پارٹی نے تاریخی کامیابی حاصل کرلی۔ 12 دسمبر کو ہونے والے انتخابات میں 'برطانوی ٹرمپ' کے لقب سے مشہور قدامت پسند و متعصب رہنما نے 650 رکنی داالعوام (قومی اسمبلی) کی 365 نشستیں جیت کر خود کو آنجہانی مارگریٹ تھیچر کے بعد جدید برطانیہ کا مقبول ترین رہنما ثابت کردیا۔ 1979 کے انتخابات میں تھیچر صاحبہ نے ٹوریوں کو 339 نشستوں پر کامیابی دلائی تھی ۔
برطانیہ گزشتہ ڈھائی سال سے سیاسی اضطراب  بلکہ عذاب کا شکار ہے۔ فارسی کہاوت 'خودکردہ را علاج نیست' کی طرح یہ مصیبت انکی اپنی لائی ہوئی ہے۔ مشرقی یورپ کے غریب و نادار اور غیر ملکی تارکین وطن سے پیچھا چھڑانے کیلئے برطانیہ کے گوروں نے یورپی یونین (EU)سے علیحدگی کا فیصلہ کرلیا۔ علیحدگی کے حامیوں نے ریفرنڈم کی مہم تحریک آزادی کے طور پر چلائی اور ایسا تاثر دیا گیاکہ یورپ نے 'گریٹ برطانیہ' کو اپنا غلام بنایا ہوا ہے۔  انگریز عظمت رفتہ اور  نشاۃ ثانیہ کی تلاش میں  ' انگریزوں' نے یونین سے علیحدگی یعنی British Exit from EUیا BREXITکے حق میں  فیصلہ دیدیا۔ 23 جون 2016 کو ہونے والے ریفرنڈم میں 52 فیصد لوگوں نے برطانیہ کی یورپی یونین سے علیحدگی کی حمائت کی۔
اس ریفربڈم کا پہلا شکار وزیراعظم ڈیوڈ کمیرون بنے جو یونین میں رہنے کے حامی تھے۔ ریفرنڈم کے نتائج کو انھوں نے اپنے خلاف عدم اعتماد سمجھتے ہوئے وزارت عظمیٰ سے استعفیٰ دیدیا۔ تھریسا مے نے اقتدار سنبھالتے ہی نئے انتخابات کروائے جس میں کوئی بھی پارٹی اکثریت حاصل نہ کرسکی۔ اورٹوریوں  نے  اقلیتی حکومت قائم کرلی۔
انگریزوں نے یورپی یونین سے علیحدگی کا فیصلہ تو بڑے طمطراق سے کیا تھا لیکن جب علیحدگی کے مضمرات سامنے آئے یعنی برآمدات پر قدغن، یورپ کے دوسرے ملکوں میں قائم برطانوی اداروں کیلئے اضافی ٹیکس، سفر کیلئے ویزا فیس اور دوسرے اخراجات تو یاروں کے چودہ طبق روشن ہوگئے۔ مذااکرات کے دوران  برطانوی برآمدات کیلئے خصوصی مراعات کی درخواست کو یورپی یونین نے ترنت  مسترد کردیا۔ انکا کہنا ہے کہ برطانوی تجارت ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن یا WTOکی شرائط پر ہوگی جسکے تحت جیسے کو تیسا کا اصول نافذ ہے یعنی تجارت کرنے والے دونوں ممالک ایکدوسرے پر یکساں شرح  محصول عائد کرینگے۔  
ریفرنڈم کئ بعد EU نے علیحدگی کی تکمیل کیلئے  29 مارچ 2019 کا ہدف طئے کیا تھا لیکن جب وزیراعظم نے  'طلاق کی دستاویز'پارلیمنٹ میں پیش کی تو اسے بھاری اکثریت سے مسترد کرتے ہوئے وزیراعظم کو ہدائت کی گئی کہ وہ یورپی یونین سے کچھ مراعات حاصل کرنے کی کوشش کریں۔ دوسری طرف یورپی یونین 'تم روٹھے ہم چھوٹے' کے موقف پر قائم رہی تاہم ازراہ عنائت  علیحدگی کی تاریخ میں 31 اکتوبر کی کی توسیع کردی گئی۔
پرکشش معاہدے کے حصول میں ناکامی پر تھریسا مے مستعفی ہوگئیں اور جولائی کے آخر میں وزارت عظمیٰ کا منصب سنبھالتے ہی وزیراعظم بورس جانسن نے اعلان کیا کہ معاہدہ ہو یا نہ ہو برطانیہ 31 اکتوبر کوEUسے علیحدہ ہوجائیگا۔ اسکے لئے انھوں  نے No deal, Hard exitکی اصطلاح استعمال کی۔ جناب بورس جانسن علیحدگی کی تحریک کے قائدین میں سے تھے اور ریفرنڈٓم کے دوران انھوں نے قدامت پسند و قوم پرست رہنما نائیجل فراج کے ساتھ مل کر علیحدگی کی زبردست مہم چلائی تھی۔ علیحدگی کے عزم کے باوجود بورس جانسن BREXITمعاہدے کو پارلیمان سے منظور کرانے میں ناکام رہے۔ انکی پارٹی کے پاس 317 نشستیں تھیں جبکہ قراداد کی منظوری کیلئے کم ازکم 326 ووٹ درکار تھے۔ اس ناکامی پر بورس جانسن نے EU سے علیحدگی کی تکمیل کیلئے 31 جنوری 2020 تک کی مہلت حاصل کرلی اور ساتھ ہی عوامی اعتماد کی تجدید کیلئے پارلیمان میں قبل ازوقت انتخاب کی تجویز پیش کردی جسے معمولی بحث و مباحثے کے بعد منطور کرلیاگیا۔ چنانچہ 2015 کے بعد جمعرات  کو تیسرے عام انتخابات منعقد ہوئے۔
انتخابی مہم کے آغاز پر بورس جانسن نے برطانیہ کے لوگوں سے کہا کہ نئے انتخابات تین سال سے جاری سیاسی ڈیڈ لاک اور غیر یقینی صورت حال کے خاتمے کا آخری موقع ہے۔ GET BREXIT DONE انکے انتخابی منشور کا بنیادی نعرہ تھا۔ دوسری طرف لیبر پارٹی کے سربراہ جیریمی کوربن نے وعدہ کیا کہ اگر انکی پارٹی برسراقتدار آگئی تووہ BREXITپر دوبارہ ریفرنڈم کروائینگے۔ انکا خیال تھا کہ علیحدگی کے مضمرات سامنے آنے کے بعد BREXITکے حوالے سے برطانوی عوام کی رائے تبدیل ہوچکی ہے۔
ان انتخابات میں 2 درجن سے زیادہ جماعتوں نے حصہ لیا لیکن اصل مقابلہ ٹوری اور لیبر کے درمیان تھا۔لبرل ڈیموکریٹس (LD) نے محدود نشستوں پر قسمت آزمائی کی۔ سکاٹ لینڈ نیشنل پارٹی (SNP)کی مہم اسکاٹ لینڈ تک محدود رہی جبکہ ڈیموکریٹک یونینسٹ پارٹی (DUP)اور Sinn Feinنے صرف شمالی آئر لینڈ میں اپنے امیدوار کھڑے کئے۔
انتخابی مہم کی بنیاد تو BREXITمعاہدہ تھا لیکن اسرائیل نواز ترغیب کار وں (Lobby)نے جریمی کوربن کے خلاف زہریلی مہم چلائی۔ جناب کوربن متوازن خارجہ پالیسی کے حامی ہیں اور انکا خیال ہے کہ امریکہ اور یورپ کی اندھی حمائت  اور بے جا لاڈو پیار نے اسرائیل کو شتر بے مہار بنادیا ہے۔ جناب کوربن نے اسرائیل میں امریکہ کے سفارتخانے کو بیت المقدس منتقل کرنے اور گولان کو اسرائیل کا حصہ تسلیم کرنے کی سخت مخالفت کی۔ انھیں غزہ اور دریائے اردن کے مغربی کنارے پر آباد فلسطینیوں کی حالت زار پر سخت تشویش ہے اور وہ سمجھتے ہیں کہ ایک آزاد و مختار فلسطینی ریاست کے بغیر علاقے میں پائیدار امن ناممکن ہے۔
انتخابی مہم کے دوران جیریمی کو یہودی دشمن (Anti Semitic) کہا گیا۔ ٹوری پارٹی کے رہنما اور وزیر خزانہ ساجد جاوید اس مہم کے روحِ رواں تھے۔ 50 سالہ ساجد جاوید کا کہنا ہے کہ انھیں اور انکے چاروں بچوں کو ساری دنیا میں اسرائیل سب سے اچھا ملک لگتا ہے۔جناب ساجد جاوید کو برطانیہ میں اسرائیل کا سب سے پرجوش حامی سمجھا جاتا ہے۔ ساجد صاحب نے الزام لگایا کہ جیریمی کوربن نے اپنے دورہ  فلسطین میں جن لوگوں کی قبروں پر پھول چڑھائے ہیں ان میں دہشت گرد بھی شامل تھے۔ انکے والدین ٹوبہ ٹیک سنگھ سے برطانیہ آئے تھے لیکن ساجد صاحب کو غیر ملکیوں کا برطانیہ آنا پسند نہیں۔ اپنی وزارت داخلہ کے زمانے میں انھوں نے کہا تھاکہ برطانوی بچوں پر مجرمانہ حملےکرنے والے زیادہ تر پاکستانی ہیں جس پر انھیں شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ سیاسی تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ عام انتخابات میں لیبر پارٹی کی خراب کارکردگی کی بنیادی وجہ جریمی کوربن کے خلاف اسرائیلی لابی کی زبردست مہم تھی۔ اسرائیلی اخبارات میں بھی انکے خلاف مضامین تواتر سے شایع ہوتے رہے۔
نتائج کے مطابق ٹوری پارٹی نے 43.6 فیصد ووٹ لیکر  365 نشستیں اپنے نام کرلیں جو گزشتہ انتخابات کے مقابلے میں 47 زیادہ ہیں۔ لیبر پارٹی کو 32.2فیصد ووٹ اور 203 نشستیں حاصل ہوئیں۔ جریمی کوربن اپنی نشست تو اطمینان سے جیت گئے لیکن انکی پارٹی کو 2017 کے مقابلے میں 59 نشستیں کم ملیں۔ اسکاٹ لینڈ نیشنل پارٹی نے گزشتہ انتخابات کے مقابلے میں 13 نشستیں زیادہ لے کر اپنا پارلیمانی حجم 48 کرلیا۔ لبرل ڈیموکریٹس 11 نشستوں پر کامیاب رہے اور اسکی سربراہ محترمہ جو سونسن کو SNPکی امیدوار نے 149 ووٹوں سے شکست دیدی۔ اعلیٰ ظرفی کا مظاہرہ کرتے ہوئے جو صاحبہ نے پارٹی کی صدارت سے استعفیٰ دیدیا۔   
برطانیہ میں پاکستان نژاد آبادی کاتخمینہ 15 لاکھ ہے اور اس بار 6 خواتین سمیت 15 پاکستانی نژاد امیدوار دارالعوام کے رکن منتخب ہوئے۔ گزشتہ پارلیمان میں یہ تعداد 12 تھی۔  کامیاب ہونے والے10 پاکستانیوں کو لیبر اور 5 کو ٹوری پارٹی نے ٹکٹ جاری کئے تھے۔ ۔مجموعی طور پر 70 پاکستانیوں نے انتخابات میں حصہ لیا۔ 15بھارتی نژاد بھی ایوان زیریں تک پہچنے میں کامیاب ہوئے۔نئی برطانوی پارلیمان میں غیر برطانوی نژاد ارکان کا تناسب 10 فیصد ہے۔
لیبر پارٹی کی ٹکٹ پر زہرا سلطانہ، طاہر علی، خالد محمود،  شبانہ محمود، ناز شاہ، عمران حسین، محمد یاسین، یاسمین قریشی، ڈاکٹر روزینہ علی خان اور افضل خان منتخب ہوئے جبکہ ٹوری پارٹی کی جانب سے ۔ ثاقب بھٹی، ساجد جاوید، نصرت غنی، رحمٰن چشتی اور عمران احمد خان کو کامیابی نصیب ہوئی۔
اپنی فقید المثال کامیابی پر بورس جانسن بہت خوش ہیں۔ برطانیہ کی  یورپی یونین سے علیحدگی انکی پہلی ترجیح ہے اور اب انھیں پارلیمان کی جانب سے کسی مزاحمت کا سامنا نہیں۔ اسی بنا پر وہ پر امید ہٰیں کہ علیحدگی کے معاہدہ کو برطانوی پارلیمان جلد ہی منظور کرلیگی۔ یورپی یونین نے علیحدگی کیلئے 31 جنوری کی مہلت دی ہے لیکن بورس جانسن اس سے پہلے ہی یہ مرحلہ مکمل کرلینا چاہتے ہیں۔ صدر ٹرمپ نے BREXITکے بعد برطانیہ اور امریکہ کے مابین ایک پرکشش تجارتی معاہدےکا اشارہ دیاہے۔
BREXITکے معاملے پر جاری ڈھائی سالہ تعطل کا خاتمہ اب ہفتوں کی بات لگتی ہے لیکن اس  علیحدگی کے بعد اسکاٹ لینڈ اور شمالی آئرلینڈ میں آزادی کی تحریک زور پکڑ سکتی ہے۔ انتخابی نتائج سے اندازہ ہوتا ہے کہ قومی وحدت کے حوالے سے برطانیہ کی لسانی و ثقافتی اکائیاں یکسو نہیں۔ بورس جانسن کی کامیابی انگلستان میں انکی زبردست حمائت کی مرہون منت ہے جہاں 533 میں سے 345 نشستیں ٹوری پارٹی نے جیت لیں۔ شمالی آئر لینڈ سے انھیں ایک بھی نشست نہ مل سکی اور تمام کی تمام 18 سیٹیں علاقائی جماعتوں نے جیتیں جنکی اکثریت برطانیہ سے علیحدگی کی حامی ہے۔ یہی حال اسکاٹ لینڈ کا ہے جہاں کی 59 میں سے صرف 6 نشستوں پر ٹوری پارٹی کامیاب ہوئی اور 48 نشستیں علیحدگی کی حامی اسکاٹ لینڈ نیشنل پارٹی نے جیت لیں۔ یعنی بورس جانسن  محض انگلستان اور ویلز ' کے رہنما بن کر ابھرے ہیں۔
کچھ اسی قسم کے نتائج  BREXIT  ریفرنڈم کے بھی تھے جب انگلینڈ، مڈلینڈ اور ویلز  کے گوروں نے علیحدگی کے حق میں رائے دی جبکہ اسکاٹ لینڈ کے 62 اور شمالی آئرلینڈ کے 56 فیصد لوگوں نے EU میں رہنے پر اصرار  کیا۔ اور تو اور لندن شہر میں بھی 60 فیصد لوگ علیحدگی کے خلاف تھے۔ مجموعی طور پر صرف 52 فیصد برطانویوں نے علیحدگی کی حمائت کی۔
برطانیہ چاروں طرف سے پانی میں گھرا ہواہے۔ یورپ سے اسکا زمینی راستہ صرف شمالی آئرلینڈ سے ہے جسکی سرحدیں ریپبلک آف آئرلینڈ سے ملتی ہیں۔ یورپی ممالک کے درمیان واقع سرحد پر افراد و اسباب کی آمدوروفت پر کوئی روک ٹوک نہیں اسی بنا پر اسے نرم سرحد یا Soft Borderکہتے ہیں۔ برطانیہ کی خواہش ہے کہ یورپی یونین سے علیحدگی کے بعد بھی آئرلینڈ سے متصل سرحد کو نرم ہی رہنے دیا جائے لیکن یورپی یونین برطانیہ کے  دونوں ہاتھ میں لڈو دینےکو تیار نہیں۔ BREXITمعاہدے کے تحت شمالی آئرلینڈ برطانیہ کی کسٹم حدود میں رہے گا اور برطانیہ سے شمالی آئرلینڈ کے ذریعے آئرلینڈ اور یورپ جانے والے سامان پر نہ صرف ٹیکس وصول کیا جائے گا بلکہ سرحد پار کرنے والے سیاحوں کو ویزا فیس بھی اداکرنی ہوگی۔ ان پابندیوں سے شمالی آئر لینڈ کی سیاحت اور اقتصادیات پر منفی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں ۔ اسی بنیاد پر آئرش جماعتوں نے بریگڑٹ کے وزن پر IREEXIT  تحریک شروع کرنے کا عندیہ دیا ہے۔
انتخابی کامیابی کے بعد اپنے حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے بورس جانسن نے بہت فخر سے کہا تھا کہ  انتخابائی نتائج دراصل BREXITریفرنڈم کی تجدید اور EUسے علیحدگی کیلئے برطانوی عوام کے غیر متزلزل عزم کا اظہار ہے اور اب یورپی یونین چھوڑنے سے انکار ممکن نہیں کہ یہ برطانوی عوام دوٹوک  فیصلہ ہے۔
تاہم اسکاٹ لینڈ، شمالی آئرلینڈ اور انگلستان میں آباد 'غیرانگریز' بورس جانسن کی منطق کو غیر حقیقت پسندانہ سمجھتے ہیں انکا خیال ہے کہ EU سے علیحدگی گی کا فیصلہ صرف انگریزوں کا ہے جو یورپ سے علیحدہ ہوکر نسلی بنیادوں پر ریاست کی تنظیم نو کرنا چاہتے ہیں چنانچہ برطانیہ میں آباد مختلف نسلی، لسانی، اور ثقافتی اکائیوں کے درمیان ایک ایک نئے عمرانی معاہدے کی ضرورت ہے۔
اسکاٹ لینڈ میں ایک عرصے سے علیحدگی کی تحریک چل رہی ہے اور  2014میں یہاں اس سوال پر ریفرنڈم بھی ہوچکا ہے جس میں 55 فیصد ووٹروں نے علیحدگی کی تجویز مسترد کردی تھی ۔ SNPکی رہنما اور اسکاٹ لینڈ کی فرسٹ منسٹر (وزیراعلیٰ) محترمہ نکولا اسٹرجن کا کہنا ہے کہ ریفرنڈم کے وقت برطانیہ EUکا حصہ تھا اور اب  وفاق نے اسکاٹ لینڈ کی واضح مخالفت کے باوجودیورپ سے علیحدہ ہونے کا فیصلہ کرلیا ہے جو اسکاٹ عوام کیلئے قابل قبول نہیں۔  ہم یورپی یونین کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں۔ انتخابی نتائج کا حوالہ دیتے ہوئے محترمہ نکولا اسٹڑجن نے کہا کہ انتخابات میں عوام نے اسکاٹ لینڈ کو یورپی یونین سے نکالنے کا مینڈیٹ نہیں دیا اور EUسے آزادی کے بعد اسکاٹش عوام آزادانہ استصواب رائے کے بعد اپنے مستقبل کا فیصلہ کرینگے۔
بورس جانسن نے SNPکے موقف کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ 2014 کا ریفرنڈم فیصلہ کن تھے جسکی پاسداری ضروری ہے۔ انھوں نے غیر مبہم انداز میں کہا کہ جب تک وہ برسراقتدار ہیں کوئی ریفرنڈم نہیں ہوگا۔ تاہم نکولا اسٹرجن 2020 میں ریفرنڈم کرنے کیلئے پرعزم نظر آرہی ہیں۔
 کشمیر، فلسطین اور جبرالٹر  کو عوام کی مرضی کے بغیر غاصبوں کے حوالے کرنے والے برطانیہ کو اب خود اپنے ملک کے اندر آزادی کی تحریکو ں کا سامنا ہے اور مطلق العنان انگریز بادشاہوں کی طرح منتخب بورس جانسن بھی اسکاٹ لینڈ اور شمالی آئرلینڈ کے لوگوں کو حق خود ارادی دینے سے انکار کررہے ہیں۔
ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل کراچی 20 دسمبر
2019