Thursday, January 31, 2019

Black History Month


امریکی سیاہ فاموں کی روشن تاریخ
فروری کا مہینہ امریکہ اور یورپ کے کئی ممالک میں Black History Monthکے طور پر منایا جاتا ہے۔ امریکی مسلمانوں کیلئے سیاہ فام امریکیوں کی تاریخ دراصل شمالی امریکہ کی اسلامی تاریخ ہے۔ امریکہ میں افریقیوں کی آمد کا آغاز1619 میں ہوا جب افریقہ کے ساحلوں سے لاکھوں کی تعداد میں افریقیوں کو پکڑ کر یہاں لایا گیا۔ بعض مورخین کا کہنا ہے کہ سیاہ فام غلاموں کی امریکہ آمد کا سلسلہ 1555میں شروع ہوا جب سیرالیون سے پکڑے ہوئے غلام امریکہ میں فروخت کئے گئے۔ افریقہ کے ساحلوں سے پکڑے ہوئے غلام 'گلوں' کی صورت میں پہلے ہالینڈ کی بندرگاہوں پر پہنچائے جاتے جہاں سے بحر اوقیانوس کے راستے انھیں امریکہ لایا جاتا تھا۔ اسی بنا پریہ گھناونا کاروبار Atlantic Slave Tradeکہلاتا تھا۔ افریقہ سے براہ راست امریکہ آنے والا غلاموں سے لدا پہلا جہاز 1619 میں ورجنیا میں لنگر انداز ہوا۔ اسکے بعد سے 'افریقیوں کا شکار' ایک قومی کھیل بن گیا۔ غلاموں کی تجارت اور ہلاکوو تیمور جیسے غارتگروں کے ہاتھوں مفتوحہ آبادیوں کو غلام بنانے کی مثالیں موجود ہیں مگر یہاں طریقہ وارادت بالکل ہی انوکھی تھی کہ جہاز ساحل پر لنگرانداز ہوتے اور نہتی بستیوں کو منہہ اندھیرے گھیرکر عورتوں بچوں سمیت سارےلوگ ہانک کر جہاز پر لاد دئے جاتے۔ دوران سفر مردوں اور عورتوں کو علیحدہ کرکے یہ  قزاق کمسن بچیاں آپس میں تقسیم کرلیتے اور پھر انکے  درمیان'کثرت اولاد' کا مقابلہ ہوتا تاکہ غلاموں کی نئی کھیپ حاصل کی جائے۔  
1898 تک ایک کروڑ افریقی غلام بناکر امر یکہ لائے گئے۔ سفر کے دوران تشدد، بیماری اور دم گھٹنے سے 20لاکھ سے زیادہ غلام ہلاک ہوگئے جبکہ 'گڑبڑ' کرنے والے بہت سے سرکش غلاموں کو انکے پیروں میں وزن باندھ کر سمندر میں پھینک دیا گیا۔ زیادہ تر غلام بحر احمر اور افریقہ کے مغربی اور وسطی ساحلوں سے پکڑے گئے۔ ان غلاموں کی نصف تعداد نائیجیریا کے علاقے بیافرا، گبون اور سیرالیون کے باشندوں پر مشتمل تھی۔اسکے علاوہ سینیگال، لائیبیریا، کانگو اور گھانا کے لوگ بھی پکڑے گئے۔ بحراحمر سے آنے والے قزاقوں نے سوڈانیوں اور حبشیوں کا شکار کیا۔ عمدہ خدوخال کی بنا پر حبشی بچیاں ان اوباشوں کو بہت محبوب تھیں۔
پکڑے جانے والے افریقی غلاموں کی ایک تہائی تعداد مسلمانوں پر مشتمل تھی تاہم شمالی امریکہ میں اسلام کولمبس کے آنے سے پہلے ہی پہنچ چکا تھا اور قدیم انڈین قبائل میں بھی مسلمان موجود تھے۔
ان غلاموں کی فروخت کیلئے ورجنیا، شمالی کیرولینا۔ جنوبی کیرولینا اور جارجیا میں غلاموں کی منڈیاں قائم کی گئیں۔ اسوقت امریکہ بحراوقیانوس کے ساحل پر واقع ان 13 کالونیوں پر مشتمل تھا جنھوں نےبرطانیہ سے آزادی کا اعلان کردیا تھا۔ 1776 میں انھیں 13 کالونیوں نے ریاستوں کی شکل اختیار کرکے ریاست ہائے متحدہ امریکہ یا USAکی شکل اختیار کرلی ۔امریکہ کے پرچم پر  13 سرخ و سفید پٹیاں انھیں ابتدائی ریاستوں کو ظاہر کرتی ہیں۔1625 میں ان کالونیوں کی مجموعی آبادی 1980 نفوس پر مشتمل تھی جبکہ 1660 تک غلاموں کی تعداد 2000 سے زیادہ ہوگئی یعنی عددی اعتبار سے غلام مالکوں سے زیادہ تھے جنھیں قابو میں رکھنے کیلئے بدترین ہتھکنڈے اور ظلم کے ضابطے وضع کئے گئے۔ سرکشی کی فوری سزا پھانسی تھی اور یہ سزا اس شدت و کثرت سے دی جاتی تھی کہ پھندے کی تیاری کیلئے رسی کی فروخت ایک نفع بخش کاروبار بن گیا۔ جلادی کا کام 'مجرم' کے خونی رشتے دار سے لیا جاتا تھا یعنی بھائی اپنے بھائی کو یا باپ اپنے بیٹے کو پھندہ لگاتا۔ اس دور میں get the ropeیعنی (پھانسی کیلئے) رسی لاو دھمکی کا استعارہ تھا جو اب بھی یہاں ضرب المثل ہے۔ پھانسی کے علاوہ بورے میں بند کرکے ڈنڈوں کی ضربات سے  مارڈالنا، خنجر بھونک کر ہلاک کرنا،  زندہ جلانا، غلامو ں کوتیزاب کے ڈرم میں ڈال دینا اور پیروں میں وزن باندھ کر دریابرد کردینا بھی اس دور کی عام سزا تھی۔ بس یوں سمجھئے کہ افریقہ سے پکڑکر امریکہ لائے جانیوالے غلاموں پر جو مظالم توڑے گئے اسکا ذکر کرتے ہوئے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں۔
پکڑے جانیوالے مسلمانوں نے امریکہ اترتے ہی دعوت و تبلیغ کا آغازکردیا۔ ان غلاموں کی اکثریت نسبتاً تعلیمیافتہ تھی چنانچہ 1898 میں 'کوکب امریکہ' کے نام سے ایک عربی اخبار کا اجرا ہوا۔ کوکب کو امریکہ کا ایک قدیم اخبار ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔ یہاں کاقدیم ترین اخبار غالباً نیویارک ٹائمز ہے جسکی اشاعت کا آغاز 1851 میں ہوا۔ 1907میں پولینڈ، روس اور مشرقی یورپ سے تاتاروں کی آمد شروع ہوئی جنکے آنے سے سیاہ فام لوگوں کو تقویت ملی اور امریکن محمڈن سوسائیٹی کا قیام عمل میں آیاجو امریکی مسلمانوں کی پہلی انجمن تھی۔
امریکہ کی سیاہ فام آبادی نے بلاامتیاز مذہب نئے آنے والوں کا کھلی بانہوں سے استقبال کیا۔ تارکین وطن کی اکثریت انجنیروں اور کاریگروں پر مشتمل تھی چنانچہ مقامی مسلمانوں کے مشورے پر ان لوگوں کی بڑی تعداد نے مشیگن کے شہر ڈیٹرائٹ کا رخ کیا جہاں اسوقت کار کی صنعت اپنے عروج پر تھی۔ ڈیٹرائٹ کی آبادکاری میں مسلم تارکین وطن کا بہت بڑا حصہ ہے۔1934 میں ایک عرب نژاد سیاہ فام مسلمان والس فرد محمد نے Lost-Found  Nation of Islamکی بنیاد رکھی جو بعد میں نیشن آف اسلام بن گئی۔ جنگ عظیم دوم کے آغاز پر لازمی لام بندی کا حکم جاری ہوا جسکی نیشن آف اسلام نے مخالفت کی۔ انکا موقف تھا کہ اسلام نسل، قومیت اور رنگ کی بنیاد پر جنگ کو فساد قراردیتا ہے لہٰذا مسلمان اس جنگ کا حصہ نہیں بن سکتے۔ اس فیصلے سے کشیدگی کا آغاز ہوا اور نیشن آف اسلام کے سربراہ عالیجاہ محمد ساتھیوں سمیت گرفتار کرلئے گئے۔
 1950 میں مالکم ایکس  (الحاج ملک الشہباز) کی نیشن آف اسلام میں شمولیت اور اسکے ساتھ شہری آزادیوں کی ملک گیر تحریک امریکی تاریخ کا ایک انقلابی موڑ ثابت ہوئی۔ نیشن آف اسلام اور ساوتھ کرسچین لیڈر شپ کانفرنس SCLCکے مشترکہ محاذ نے سارے امریکہ کے جمہویت پسندوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کردیا۔ مالکم ایکس اور ڈاکٹر مارٹن لوتھر کنگ شہری آزادیوں، برابری کے حقوق، انصاف اور آزادی کی علامت  بن گئے اور جلد ہی سیاہ فام، خواتین اور دوسری لسانی و ثقافتی اقلیتوں کو ووٹ کا حق مل گیا۔ اسکولوں، کالجوں، پارکوں اور تفریح گاہوں کی سیاہ و سفید بنیادوں پر تقسیم ختم ہوگئی اور امریکہ حقیقی معنوں میں ONE NATION UNDER GODقرار پایا۔ سیاہ فام امریکیوں کی جدوجہد سے 1965 میں امیگریشن اور قومیت ایکٹ یا Immigration and Nationality Actمنظور ہوا جس کے تحت یوروپی ممالک کے ساتھ ساری دنیا کے لوگوں کیلئے امریکہ کے دروازے کھولدئے گئے۔اس سے پہلے امیگریشن (گرین کارڈ) کیلئے یورپی باشندوں کو ترجیح دی جاتی تھی۔ 
سیاہ فام تاریخ امریکہ کا فخروافتخار ہے یہ دراصل امریکہ کی اسلامی تاریخ ہے کہ جسکا ہر پہلو باوقار اور بے مثال جدوجہد کا مظہر ہے۔ جہموریت، غلامی کے خاتمے، آزادی، یکساں حقوق، اور سماجی انصاف کیلئے افریقی نژاد امریکیوں کی قربانیاں ناقابل فراموش ہیں۔ نوبل ڈریو علی، والس فردمحمد، عالیجاہ محمد، مالکم ایکس، ڈاکٹر مارٹن لوتھر کنگ، محمد علی کلے وغیرہ اس قافلہ سخت جان کے وہ پھول ہیں جنکی یاد سےشاہراہ آزادی  اب تک معطر  ہے۔ امریکہ کے انصاف پسند سفید فام بھی اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ امریکہ کی ثروت و طاقت، جاہ و جلال اور ترقی و خوشحالی سب کی سب غلاموں، افریقی نژاد امریکیوں اور تارکینِ وطن کی محنت کا نتیجہ ہے۔
افریقی نژادامریکیوں کو خراج تحسین اپنی طرف لیکن امریکہ میں سیاہ فام لوگوں کے ساتھ جو سلوک ہوا اسکا سب سے دردناک پہلو یہ ہے کہ ان مظالم کو تاریخ کے صفحات پر جگہ نہیں دی گئی اور امریکی بچوں کے نصاب میں اسکا کوئی ذکر نہیں۔1989میں  ایک امریکی رکن کانگریس جان کانیرز John Conyersنے افریقی امریکیوں کیلئے تلافی کمیشن ایکٹ یاCommission to Study Reparation Proposals for African-Americans Actکے عنوان سے ایک مسودہ قانون ایوان زیریں سے پیش کیا تھا۔ بل کے ابتدائئے میں اسکا مقصد بیان کرتے ہوئے کہا گیا تھا کہ 1619 سے 1865 کے دوران 13 امریکی ریاستوں (ابتدائی اکائیاں جنھوں نے USAی بنیاد رکھی) میں سیاہ فام لوگوں کو غلام بناکر رکھا گیا، ان پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے گئے اور یہ پوری نسل بدترین ناانصافی کاشکار ہوئی۔ ان جرائم کی تحقیق کیلئے ایک اعلیٰ اختیاراتی کمیشن ترتیب دینے کی ضرورت ہے جو غلام بناکر امریکہ لائے جانیوالے افریقیوں کے نقصانات کا اندازہ لگائے۔ یہ دیکھنا بھی ضروری ہے کہ آزاد انسانوں کی نفسیات پر غلامی کی ذلت نے کیا منفی اثر ڈالا ہے؟ غلامی ختم ہونے کے بعد بھی سیاہ فام بدترین نسلی تعصب اور حقارت کا نشانہ بنائے گئے جسکے اثرات اج تک نمایاں ہیں۔ یہ کمیشن ناانصافیوں اور سیاہ فام لوگوں کے ساتھ روا رکھے جانے والے غیر انسانی سلوک کا غیرجانبدارانہ جائزہ لے اور اسکی تلاقی کیئے اقدامات تجویز کرے۔ بل میں کہا گیا ہے کہ افریقیوں کا غلام بنانے کے ذمہ دار صرف وہ قزاق نہیں جنھوں نے افریقیوں کو انکے گھروں سے پکڑا بلکہ ملک میں قائم غلام منڈیوں کو امریکی حکومت کا تحٖفظ حاصل تھا اور غلاموں کی خرید و فروخت کے بعد انکا انتقالِ ملکیت سرکاری دستاویز پر ہوتا تھا چنانچہ اس بدترین ظلم کی ذمہ داری براہ راست امریکی کانگریس اور حکومت پر  عائد ہوتی ہے۔
مسٹر کونئرز کی قرارداد کو سپیکر نے منظور کرکے اسے بل کی شکل میں HR-40کی حیثیت سے درج کرلیا۔ اسوقت سے یہ بل مجلس قائمہ برائے انصاف کی سماجی انصاف ذیلی کمیٹی کے پاس ہے لیکن  اسے سماعت کیلئے پیش نہیں کیا گیا بحث اور رائے شماری تو دور کی بات ہے۔ہر دوسال بعدبار یہ قراداد کانگریس کی مدت ختم ہوجانے پر غیر موثر ہوجاتی ہے۔ہر دوسال بعدبار یہ قراداد کانگریس کی مدت ختم ہوجانے پر غیر موثر ہوجاتی ہے۔ تاہم جناب کانئیرز بھی بہت مستقل مزاجی کے ساتھ اسے ہر نئی کانگریس میں اسے پیش کرتے رہے۔ گزشتہ برس جان کانیر ایک جنسی اسکینڈل میں ملوث ہوجانے کی بنا پر کانگریس سے باہر ہوگئے۔ یعنی قرارداد  کامجوز مستعفی ہوگیا لیکن 30 سال گزرجانے کے بعد بھی یہ بل ذیلی کمیٹی ہی کے پاس ہے اور اسے بحث کیلئے پیش نہیں کیا گیا۔

گدھے کی تجارت


گدھے کی تجارت
شائد ہماری پوسٹ احباب کو عجیب سی محسوس ہو لیکن رحمت العالمین کے امتی کی حیثیت سے جانوروں کے حقوق کی حفاظت بھی ہماری ذمہ داری ہے۔ آج شایع ہونے والی خبروں میں بتایا گیا ہے کہ خیبرپختونخوا کے محکمہ لائیو اسٹاک نے گدھوں کی چین برآمد کے منصوبے پر کام شروع کردیا ہے  اور افزئشِ نسل کیلئے  مانسہرہ اور ڈی آئی خان میں گدھوں کے فارمز بنانے جارہے ہیں۔
زرمبادلہ کمانے کیلئے جانوروں کی فروخت بری بات نہیں۔ لیکن چین میں جانوروں کو انتہائی ظالمانہ طریقے پر ذبح کیا جاتا ہے خاص طور سے گدھوں کو جس طرح ہتھوڑے مار مار کر ہلاک کیا جاتا ہے اسکے بارے میں دنیا بھرکے  انسداد بیرحمئ حیوانات نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ہتھوڑوں سے سرکچلنے اور سارے جسم سے خون نکالنے کیلئے زندہ جانور کو نوکدار کیلیں گھونپی جاتی ہیں۔ چینیوں کا خیال ہے کہ اسطرح گوشت نرم اور لذیز ہوجاتا ہے۔بہیمت کے یہ مناظر یو ٹیوب پر موجود ہیں جنھیں  دیکھنا بھی ممکن نہیں۔کچھ عرصہ پہلے چینیوں نے آسٹریلیا سے گدھوں کی خریداری کا ایسا ہی معاہدہ کرنے کی کوشش کی لیکن انسدادِ بیرحمیِ حیوانات کی مخالفت پر بات نہ بن سکی۔ امریکہ بھی اسی بنا پر چین کو زندہ سور فراہم نہیں کرتا حالانکہ امریکہ سے چین  کو  سور کے گوشت کی برآمد اربوں ڈالر میں ہے۔ 
کیا یہ ممکن نہیں کہ زندہ گدھے فراہم کرنے کے بجائے انھیں اچھے انداز میں ذبح یا گیس چیمبر میں ہلاک کرکے انکا گوشت برآمد کیا جائے۔ اسکی وجہ سے ایک طرف تو گدھے اذیت سے بچ جائینگے تو دوسری جانب خام مال کے مقابلے میں Processed Meatکی قیمت بھی زیادہ ملے گی۔ ایک ذمہ دار مسلمان ملک کی حیثیت سے جانوروں کے حقوق کا تحفظ بھی ہماری اجتماعی ذمہ دار ی ہے۔

وینزویلا میں امریکہ کی مداخلت


وینزویلا میں  امریکہ کی مداخلت 
مسعود ابدالی
براعظم جنوبی امریکہ کا ملک وینزویلا آجکل شدید سیاسی و معاشی بحران میں ہے اور سب بلاوں کا ہے جہاں سے نزول،  یہ بلا بھی وہیں سے آئی ہے کے مصداق سو اتین کروڑ نفوس پر مشتمل وینزویلا کے لوگ بھی امریکی قیادت کے شوقِ کشور کشائی کا نشانہ بنے ہوئے ہیں۔
 شمالی بحراوقیانوس اوربحر کریبین کے ساحلوں پر واقع اس ملک کو 1498میں کرسٹوفر کولمبس نے دریافت کیا جو 'نئی دنیا' المعروف امریکہ ڈھونڈنے نکلا تھا۔ اسکی جماعت میں چند اطالوی مہم جو بھی تھے جنھیں اسکا ساحل اطالوی شہر وینس (Venice)جیسا لگا چنانچہ اسکا نام وینی زویلا(Veniziola) یا 'چھوٹا وینس' رکھدیاگیا جو ہسپانوی تلفظ میں وینزویلا (Venezuela)ہوگیا۔کولمبس وینزویلااور ٹرینیڈاد (Trinidad)کے درمیان حائل خلیج پاریا (Gulf of Paria)کے ساحل سے ٹکراتے شفاف پانی اور تاحد نگاہ نیلگوں سمندر کو دیکھ کر مبہوت رہ گیا اور فوراً اپنے ہسپانوی آقا کو پیغام بھیجا کہ ”اگر زمین پر جنت دیکھنی ہو تو یہاں آجاو' چنانچہ وینزوئیلا 1522میں ہسپانوی سلطنت کا حصہ بن گیا اور اکثریت نے کیتھولک مذہب اختیار کرلیا۔
1800کے آغاز سے مقامی لوگوں میں ہسپانوی قبضے کے خلاف بیچینی کا آغاز ہوااور خونریز خانہ جنگی میں ہزاروں لوگ مارے گئے۔ ساری دنیا کی طرح برطانیہ نے بھی اسکے کچھ علاقوں پر قبضہ جمایا اور یہ علاقہ اسپین، برطانیہ، اٹلی اور جرمنوں کی باہمی چپقلش کا نشانہ بنارہا۔ تیل کی دریافت نے وینزویلا کو بیرونی طاقتوں کیلئے اور اور بھی پرکشش بنادیا تاہم بھرپور جمہوری جدوجہد کے نتیجے میں 15 نومبر 1945 کو اقوام متحدہ نے وینزویلاکو ایک آزاد ملک کی حیثی سے تسلیم کرلیا۔
اس ملک میں تیل کے دریافت شدہ ذخائر کا حجم 300 ارب بیرل سے زیادہ ہے اور اپنے ذخائر کے اعتبار سے وینزویلا کا دنیا میں پہلا نمبر ہے۔ چند ماہ پہلے تک وینزویلا 22لاکھ بیرل تیل یومیہ برآمد کرتا تھا۔ اوپیک کے دوسرےممالک کی طرح وینزویلا نے بھی تیل کی دریافت کے بعد اس سیال سونے کو اپنی معیشت کی بنیاد بنالیا اور تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاو کی وجہ سے اسکی اقتصادیات کئی بار عدم استحکام کا شکار ہوئی جسکے نتیجے میں بیروزگاری میں اضافہ ہوا۔ دوسری طرف حکمراں طبقے کی لوٹ مار اور وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم نے تیل کی دولت سے مالامال اس ملک کو بیروزگاری اور غربت کی آماجگاہ بنادیا۔
1980 میں فوج کے ایک جونیر افسر ہیوگو شاویز(Hugo Chávez)نے روائتی سیاست سے بیزار ہوکر ایک MBR-200کے عنوان نے ایک انقلابی سوشلسٹ تحریک کی بنیادرکھی جسکا نعرہ 'قوم کی دولت عوام کیلئے' تھا۔شاویز کی تحریک بے حد مقبول ہوئی لیکن 1992میں انھیں جمہوری حکومت کا تختہ الٹنے کے الزام میں گرفتار کرلیاگیا۔دو سال بعد رہائی پر ہیوگو شاویز نے First Republic Movementکے نام سے ایک سیاسی جماعت قائم کرلی۔ ہیوگو عوام میں بے حد مقبول تھے چنانچہ 1998انتخابات میں وہ وینزویلا کے صدر منتخب ہوگئے اور انھوں نے ملک کی معیشت کو سوشلسٹ بنیادوں پر استوار کرنا شروع کیا۔ اپنے نعرے 'قوم کی دولت عوام کیلئے' کو عملی جامہ پہنانے ہوئے انھوں نے پیٹرول اور گیس کی قیمتیں برائے نام کردیں۔ صدر شاویز  نے قومی تیل کمپنی کو ہدائت کی کہ منافع اور ٹیکس ختم کرکے پٹرول اور گیس کی صرف پیداواری لاگت عوام سے وصول کی جائے۔ 1999میں نئے دستور کی منظوری کے بعد تمام بڑی صنعتیں قومی ملکیت میں لے لی گئیں اور قومی دولت کا بڑاحصہ سماجی بہبود کی مد میں خرچ کیا گیا۔ جسکے نتیجے میں 2010 تک وینزویلا جنوبی امریکہ کا سب سے خوشحال ملک بن گیا جہاں جامعہ تک تعلیم مفت تھی اور کینسر جیسے مرض کا علاج بھی بلامعاوضہ ہوتا تھا۔ ضعیفوں، بیروزگاروں اور معذوروں کو عام لوگوں کی تنخواہ کے برابر امدادی رقم فراہم کی جاتی تھی۔ 
شاویزکی سوشلسٹ پالیسی امریکہ کو بالکل پسند نہ تھی۔ دوسری طرف ہیوگو شاویز نے کیوبا کے فیڈل کاسترو، ایکوڈور، بولیویا اور نکاراگوا کی امریکہ مخالف سوشلسٹ حکومتوں سے دوستی پکی کرلی۔ امریکی سی آئی اے کا کہنا تھا کہ شاویز جنوبی امریکہ کو مارکس ازم کا قلعہ بنانے کا خواب دیکھ رہے ہیں۔ انھوں نے تیل کی قومی کمپنی PDSVAکے بورڈآف ڈائریکٹرز میں سوشلسٹ دانشوروں اور ماہرین کو نامزد کرکے کمپنی کی  نظریاتی بنیادوں پر تشکیلِ نو کا آغاز کیا۔
اپریل 2002 میں انکی سوشلسٹ پالیسیوں کے خلاف مظاہرے شروع ہوئے اور تصادم میں درجنوں افراد ہلاک ہوئے۔ اسی دوران  انکے خلاف فوجی بغاوت بھی ہوئی اور فوجی افسروں نے انھیں گرفتار کرکے ایک امریکہ نواز تاجر پیڈرو کارمونا (Pedro Carmona)کو عبوری صدر بنادیا جنھوں نے وینزویلا کے دستور کو منسوخ کرکے سوشلٹ پالیسیاں ختم کرنے کا اعلان کیا لیکن سارے ملک میں ہیوگو کے حامی سڑکوں پر نکل آئے۔ عوام کے دباو پر فوجی جنتا نے ہیوگو کو رہا کردیا اور صرف 4 دن بعد انکی حکومت بحال ہوگئی۔ ہیوگو شاویزنے الزام لگایا کہ فوجی بغاوت کے پیچھے امریکہ کا ہاتھ تھا۔ سابق امریکی صدر بش نے ہیوگو شاویزکے خلاف مظاہرے کی بھرپور حمائت کی جس سے ان کے شکوک و شبہات کو تقویت ملتی ہے۔
فوجی بغاوت کی ناکامی کے بعد ہیوگو شاویز نے بھی اپنے روئے کو تبدیل کیا اور PDSVAکے سوشلسٹ بوڑدآف ڈائریکٹر کو معزول کرکے سابق افسران کو بحال کردیا۔اس اکھاڑ پچھاڑ نے PDVSAکو سخت نقصان پہنچایا۔ پیدوارای لاگت میں غیر معمولی اضافے کے ساتھ پیداوار میں کمی واقع ہوئی۔ ملازمین کی ہڑتال نے معاملہ اور خراب کردیا۔ اس ہڑتال پر صدر شاویز نے شدید ردعمل کا اظہار کیا اور اعلٰی افسران کی شدید مخالفت کے باوجود 17000 ہڑتالی ملازمین کو برطرف کردیا۔ اس جذباتی فیصلے سے PDVSA عملاً مفلوج ہو کر رہ گئ جسکے ملکی معیشت پر انتائی منفی اثرات مرتب ہوئے۔ پیدوار میں تعطل سے آمدنی میں بھاری کمی ہوئی اور کمپنی مقروض ہوگئی۔ قرض اتارنے کیلئے PDVSAنے اپنے کئی منافع بخش اثاثے فروخت کردئے لیکن قرض کا جن قابو نہ آسکا اور نوبت یہاں تک آگئی کہ پیداوار کیلئے نئے کنویں بھی نہ کھودے جاسکے کہ خدمت رساں اداروں کی ادائیگی کیلئے پیسے نہ تھے۔
اسی کے ساتھ انھوں نے بغاوت سے سبق سیکھتے ہوئے فوج کو مضبوط بنانا شروع کیا اور روس سے بھاری اسلحہ خریدا۔ چین سے تعلقات کو مزید بہتر کیا اور سی آئی اے کے حلقوں نے الزام لگایا کہ ایران کے پاسداران انقلاب نے شاویز کے ذاتی محافظوں کو تربیتی خدمات فراہم کیں۔ تیل کی پیدوار میں کمی سے معیشت پہلے ہی دباو کا شکار تھی دفاعی اخراجات میں اضافے نے معاملے کو اور خراب کردیا۔
اسکے باوجود 2006 میں یوگو شاویز تیسری مدت کیلئے بھاری اکثریت سے ملک کے صدر منتخب ہوگئے۔ انھوں نے ایک بار پھر الزام لگایا کہ ان انتخابات میں سی آئی اے نے انھیں ہرانے کی کوشش کی تھی۔ انتخابات کے بعد انھوں نے معیشت کی بہتری کیلئے بہت سے فیصلے کئے جس میں PDVSAکی تشکیلِ نو شامل ہے لیکن مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی۔ اکتوبر 2012کے انتخابات میں انھیں شدید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑ۔ وہ بہت ہی معمولی اکثریت سے یہ انتخابات جیتنے میں کامیاب تو ہوگئے  لیکن شدید بیماری کی وجہ سے وہ حلف نہ اٹھاسکے۔ کینسر کے علاج کیلئے انھیٓں کیوبا جانا پڑاجہاں 5 مارچ 2013 کو انکا انتقال ہوگیا۔
انکی موت پر ایک نیا بحران شروع ہوا۔ حزب اختلاف کا مطالبہ تھا کہ چونکہ صدر کا انتقال انکے حلف سے پہلے ہی ہوگیا ہے لہٰذا نئے انتخابات کرائے جائیں لیکن نائب صدر نکولس مدورو Nicola Maduroنے صدرات سنبھال لی۔
قیادت میں تبدیلی کے باجود ملکی معیشت کا زوال جاری رہا۔ اسی دوران 2016 کے پارلیمانی انتخابات میں حزب اختلاف نے بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کرلی دوسری طرف امریکہ میں صدر ٹرمپ نے ملک کی باگ ڈور سنبھال لی۔ امریکی حکومت ہمیشہ ہی سے وینزویلا کی سوشلسٹ حکومت کی مخالف رہی ہے لیکن صدر کلنٹن، صدر بش اور صدر اوباما سفارتی رکھ رکھاو کے قائل تھے جبکہ اقبال کے مردقلندر طرح صدر ٹرمپ کی زبان انکے دل کی  ترجمان ہے چنانچہ انھوں نے اقتدار سنبھالتے ہی وینزویلاکی سوشلٹ حکومت کو اپنے نشانے پر رکھ لیا۔
 دوسری طرف وینزویلابھی معاشی اعتبار سے بالکل کنگال ہوچکا ہے۔ بیروزگاری عروج پر ہے اور غربت کی وجہ سے قتل، ڈکیٹی اور دوسرے سنگین جرائم نے پورے ملک کو اپنی لپیٹ میں لیا ہوا ہے۔ ہزاروں کی تعداد میں وینزویلا کے شہری بہتر زندگی کی تلاش میں ملک چھوڑ چکے ہیں۔
ملک کو بحران سے نکالنے کیلئے صدر مدورو نے صدارتی انتخابات 6 ماہ قبل یعنی20 مئی 2018 کو کرانے کا اعلان کردیاجس میں وہ 67.8فیصد ووٹ لیکر کامیاب ہوگئے۔حزب اختلاف نے دھاندھلی کا الزام لگاکر نتائج کو مسترد کردیا۔ امریکہ، کینیڈا، یورپی یونین،ارجنٹینا، برازیل اورکئی دوسرے ملکوں نے بھی ان انتخابات کو جانبداارنہ قراردیتے ہوئے صدر مدوروکو وینزویلا کا صدر تسلیم کرنے سے انکار کردیا۔ جمہوریت کے ان علمبرداروں کادہرا معیار ملاحظہ فرمائیں کہ وینزویلا کے انتخابات کے 7 ماہ بعد بنگلہ دیش میں انتخابات کا خونی ڈرامہ کھیلا گیا جہاں سینکڑوں لوگ قتل ہوئے اور ہزاروں نوجوان غائب کردئے گئے۔ اسوقت بھی ایک لاکھ سے زیادہ سیاسی کارکن جیلوں میں بدترین تشددکا نشانہ بن رہے ہیں لیکن دنیا کو اس پر کوئی پریشانی نہیں بلکہ کییڈا کے ایک مندوب کو تو وہ انتخانات اتنے شفاف نظر آئے کہ انھوں نے امریکہ اور یورپی ممالک کے انتخابی عملے کو تربیت کیلئے بنگلہ دیش بھیجنے کی سفارش کی۔
صدر مدورو کی انتخابی کامیابی کے خلاف حزب اختلاف نے مظاہروں کا سلسلہ شروع کیا  اور پولیس تصادم میں درجنوں افراد ہلاک ہوئے۔دارالحکومت کراکس (Caracas)میں لاکھون افراد کے مظاہرے کی قیادت پارلیمینٹ کے صدر (اسپیکر) وان گیدو Juan Guaido  نے کی۔ 35 سالہ وان گیدو ایک انجنیئر اور سماجی کارکن کے ساتھ شعلہ بیان مقرر ہیں۔ تاہم صدر مدودرو نے انتخابات کی شفافیت پر اعتراضات کو مسترد کرتے ہوئے 10 جنوری کو نئی مدت کیلئے وینزویلا کی صدارت کا حلف اٹھالیا۔
صدر ٹرمپ اور نکولس مدورو کے درمیان ذاتی مخاصمت کسی سے چھپی ہوئی نہیں اور دونوں کے درمیان الفاظ کی جنگ اور جملے بازی ایک عرصے سے جاری ہیں۔صدر ٹرمپ نے حزب اختلاف کے مظاہروں کی مکمل حمائت کی۔ امریکہ کی شہہ پر وان گیدو کے حوصلے بلند ہوئے اور انھوں نے 23 جنوری کو  صدارتی حلف اٹھاکر متوازی حکومت قائم کرلی۔ امریکہ نے وان گیدو کو ملک کا صدر تسلیم کرلیا جس پر مشتعل ہوکر نکولس مدورو نے امریکہ سے سفارتی تعلقات ختم کرتے ہوئے امریکی سفارتکاروں کو فوری طورپر وینزویلا سے نکل جانے کا حکم دیدیا۔ صدر ٹرمپ نے مدورو کے فیصلے کو مسترد کردیالیکن امریکی وزارت خارجہ کراکس سے اپنے سفارتی عملے کو واپس بلالیا۔
صدر مدورو الزام لگارہے ہیں کہ انکے خلاف تحریک امریکی سی آئی اے نے شروع کرائی ہے۔ماضی میں  سی آئی اے کئی جگہ حکومتوں کو الٹنے پلٹنے میں ملوث پائی گئی ہے۔ 1953 میں ایران کے وزیراعظم محمد مصدق کی برطرفی ، 1958 میں ایوب خان کی عسکری تاجپوشی، ترکی میں عدنان میندریس کی برطرفی و پھانسی اور مصر میں صدر مورسی کی معزولی سے لے کر 2016میں صدرایردوان کے خلاف ناکام فوجی بغاوت تک سیانوں کو ہر جگہ امریکی سی آئی آے کا ہاتھ صاف نظر آرہا ہے۔
اب وینزویلا کا سیاسی بحران عالمی حیثیت اختیار کرگیا ہے۔ امریکہ نے اس معاملے کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں لے جانے کا اعلان کیا ہے۔دوسری طرف چین، روس اور ترکی خم ٹھونک کر صدر مدورو کی پشت پر ہیں۔ روس کے ویٹو کے ڈر سے امریکی، برطانیہ اور فرانس اس مسئلے کو سلامتی کونسل میں پیش کرنے سے ہچکچارہے ہیں۔ترک صدر اردوان نے اپنے امریکی ہم منصب کے روئے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ دوسرے ملکوں کے معاملات میں مداخلت جمہوریت کی کوئی خدمت نہیں۔ روسی حکومت نے بھی وینزویلا میں امریکی مداخلت کی مذمت کرتے ہوئے سلامتی کونسل میں مدورو کو اپنی حمائت کو یقین دلایا ہے۔
اب امریکہ اور اسکے حلیفوں نے صدر مدورو کے خلاف معاشی ناکہ بندی کا آغاز کردیا ہے۔جیسا کہ ہم نے پہلے عرض کیا وینزویلا کی معیشت کا دارومدار تیل کی برآمد پر ہے اور امریکہ اسکے تیل کا سب سے بڑا خریدار ہے ۔ اپنے کاروبار کو مزید منافع بخش بنانے کیلئے PDVSAنے 1986میں امریکی تیل کمپنی سٹی سروسز یا CITGOخرید لی تھی۔امریکہ میں سٹی سروس کے پیدواری اثاثے قابل ذکر نہیں لیکن ٹیکسس (Texas) اور لوزیانہ (Louisiana)میں تیل صاف کرنے کے کئی بڑے کارخانے (Refineries)اسکی ملکیت ہیں۔اور وینزویلا سے درآمد کیا جانیوالا خام تیل سٹی سروس کی ریفاینریوں میں صاف کرکے CITGOکے پیٹرول پمپوں پر بیچا جاتا ہے۔ سعودی عرب سمیت خلیجی ممالک تو صرف اپنا خام تیل بیچتے ہیں جبکہ وینزویلا تیل صاف کرکے پیٹرولیم مصنوعات فروخت کرتا ہے جس میں منافع کی شرح خام مال سے بہت زیادہ ہے۔ خیال ہے کہ CITGOکی سالانہ آمدنی 10 ارب ڈالر ہے۔ٹرمپ انتظامیہ نے عندیہ دیا ہے کہ CITGOکی امریکہ سے ہونے والی آمدنی وان گیدو کے حوالے کردی جائیگی لیکن وینزویلا کے اسٹیٹ بینک پر ابھی تک صدر مدورو کا کنٹرول ہے اسلئے فی الحال CITGOکی آمدنی اور مالیاتی آثاثے منجمد کئے جاسکتے ہیں یعنی وینزویلا کے اربوں ڈالر امریکہ کے بینکوں میں پھنسے رہیں گے اور انجماد کے دوران سود سے امریکہ کے ساہوکاروں کی چاندی ہوگی۔ وینزویلا کے یورپی گاہکوں نے بھی خریدے جانیوالے تیل کی قیمت وان گیدو حکومت کو دینے اعلان کیا ہے اور جب تک وینزویلا کا اسٹیٹ بینک انکی گرفت میں نہیں آجاتا یہ رقوم یورپی بینکوں میں منجمد رہینگی۔
ایران پر دباو کیلئے امریکہ نے ایرانی تیل کی خریداری پر پابندی لگائی ہے لیکن اس بار سانپ کو مارنے کے ساتھ لاٹھی کی حفاظت کا بھرپور بندوبست کیا گیا ہے اور تیل کی خریداری پر پابندی کے بجائے اخراجات کی ادائیگی روک لی گئی ہے۔ یعنی وینزویلا سے  تیل کا بہاو برقرار ہے جبکہ وان گیدو کے نام پر تیل کی قیمت امریکہ اور یورپ کے بینکوں میں لمبے عرصے تک پڑی پر رہیگی۔ منجمد فنڈ پر سود کی آمدنی کروڑوں میں ہوگی۔ اسے کہتے ہیٓں آم کے آم اور گٹھلیوں کے دام۔ 
ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل کراچی  یکم فروری
2019