Friday, April 30, 2021

یوم مئی

 

یوم مئی

آج  ساری دنیا میں یوم مزدور منایا جارہا ہے۔ اس دن کا تاریخی پس منظر احباب کیلئے دلچسپی کا باعث ہوگا۔

 امریکہ کی آزادی کے ساتھ ہی آزادانہ معیشت کا قیام عمل میں آیا۔ اس نظام کے تحت مزدوروں کو یونین سازی کا حق نہ تھا۔ ہفتہ وار کام کا دوارانیہ 60 گھنٹہ تھا۔ چھٹی کے وقت ڈیڑھ ڈالر فی گھنٹے کے حساب سے یومیہ اجرت مزدوروں کو تھمادی جاتی۔ تعطیلات، علاج معالجے اور پنشن کی سہولت کا تصور بھی نہ تھا۔

 اکتوبر 1884 میں مزدوروں کی وفاقی انجمن کا قیام عمل میں آیا جسے غیر قانونی قرار دیتے ہوئے قائدین کی پکڑ دھکڑ کا آغاز ہوا لیکن قیادت ثابت قدم رہی اور یکم مئی 1886 کو یوم مزدور منانے کا اعلان کیا گیا۔ دھمکیوں، برطرفیوں اور گرفتاریوں کے باوجود ایک لاکھ مزدور "Eight-hour day with no cut in pay" کے نعرے لگاتے ہوئے چوک میں جمع ہوگئے۔ امن کی علامت کے طور پر ان مظاہرین نے سفید پرچم اٹھائے ہوئے تھے۔ ایسے ہی مظاہرے ڈیٹرائٹ (مشیگن)، ملواکی (وسکونسن)اور مین ہٹن (نیویارک) میں بھی ہوئے۔ شکاگو کے مزدور اپنے مطالبات کے حق میں پیر 3 مئی 1886 سے ہڑتال پر چلے گئے۔

 ہڑتال کامیاب رہی اور فیکٹریاں بند ہوگئیں۔مالکان نے ہڑتال کو غیر قانونی اور یونین رہنماوں کو انتشار پسند قراردیدیا۔ دوسری طرف لالچ دیکر کچھ مزدوروں کوکام پر بلالیا تاہم ان لوگوں کی تعداد تین فیصد سے زیادہ نہ تھی۔ شام کو جب یہ مزدور فیکٹری سے نکلے تو باہر کھڑے ہڑتالی کارکنوں نے غدار غدار کے نعرے لگائے۔ نعرے بازی کے دوران پولیس نے ہڑتالی کارکنوں پر گولی چلادی۔ جس سے چھ مزدور ہلاک ہوگئے۔ گولی کھاکر سب سے پہلے ایک پرچم بردار مزدور زمین پر گرا اور گرم گرم جوان لہو سے سفید پرچم سرخ ہوگیا۔ جب ساتھی اسے اٹھانے پہنچے تو وہ زخمی کارکن دم توڑ رہا تھا۔ اس نے خون آلود پرچم کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ لہو ہماری جدوجہد کی علامت ہےاسے مزدور تحریک کا علم بنالو یعنی

قتل گاہوں سے چن کر ہمارے علم

اور نکلیں گے عشاق کے قافلے

یہ عام غلط فہمی ہے کہ مزدور تحریک کا سرخ پرچم کمیونزم کی علامت ہے حالانکہ یہ دراصل شکاگو تحریک کا خون ہے جو کمیونزم کی ولادت سے بہت پہلےکا واقعہ ہے۔ فائرنگ کے خلاف دوسرے روز یوم سیاہ منایا گیا۔ شام کو شہر کے مرکزی مقام ہے مارکیٹ سکوائر Haymarket Squireپر جلسہ ہوا۔ شدید بارش کے باوجود ہزاروں مزدور جمع ہوگئے۔ جلسہ بالکل پرامن تھا لیکن سورج غروب ہوتے ہی پولیس کی بھاری نفری نے مجمع کو گھیر لیا اور مظاہرین کو فوری طور پر منتشر ہونے کا حکم دیا۔ ابھی اس مسئلے پر پولیس حکام اور جلسے کے منتظمین میں بحث و مباحثہ شروع ہی ہوا تھا کہ اچانک کسی جانب سے پولیس کی طرف ایک دستی بم اچھال دیا گیاجس سے ایک پولیس افسر ہلاک ہوگیا۔دھماکے کے ساتھ ہی اندھا دھند فائرنگ شروع ہوگئی۔ فائرنگ کی زد میں آگر اور قدموں تلے کچل کر سات پولیس افسران سمیت 11 افرادہلاک اور سینکڑوں زخمی ہوئے۔ مزدور رہنماوں کیخلاف قتل و غارتگری، دہشت گردی، نقص امن عامہ کے مقدمات قائم ہوئے۔ عدلیہ کا رویہ انتہائی معتعصبانہ اور جانبدارانہ تھا۔ 8 میں سے 7 رہنماو ں کو سزائے موت اور ایک کو 15 سال قید بامشقت کی سزاسنادی گئی۔ گورنر نے دو مجرموں کی سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کردیا۔ ایک مجرم نے اپنے سیل میں خودکشی کرلی جبکہ چار رہنماوں جارج اینجل، ایڈولف فشر، البرٹ پارسنز اوراگسٹ اسپائیز کو پھانسی دیدی گئی۔ تختہ دار پر یہ چاروں "Eight-hour day with no cut in pay" کے نعرے لگاتے رہے۔ گلے میں پھندا کسے جانے کے بعد اگسٹ اسپائیز نے با آواز بلند کہا
The time will come when our silence will be more powerful than the voices you strangle today
جس بات سے تم نے روکا تھا اور دار پہ ہم کو کھینچا تھا

مرنے پہ ہمارے عام ہوئی گو جیتے جی ہم کہہ نہ سکے

اسپائیز کا جملہ مکمل ہوتے ہی مجسٹریٹ نے جلاد کو اشارہ کیا، دار کا تختہ سرک گیا اور مزدور تحریک کے قائدین موت کی وادی میں اتر گئے۔


Thursday, April 29, 2021

جو چاہے آپکا حسن کرشمہ ساز کرے

جو چاہے آپکا حسن کرشمہ ساز کرے

امریکی صدر نے 1915 میں سلطنت عثمانیہ کے ہاتھوں آرمینیائی باشندوں کے قتلِ عام کو نسل کشی تسلیم کرلیا۔صدر بائیڈن کے دونوں پیش رو یعنی صدر اوباما اور صدر ٹرمپ نے کانگریس کے شدید دباو کے باوجود پہلی جنگ عظیم کے دوران آمینیائی باشندوں کو پہنچنے والے نقصانات کو نسل کشی قراردینے سے انکار کردیا تھا۔ مسلمانوں کے خلاف انتہائی منفی رویہ رکھنے والے صدر ڈونلڈ ٹرمپ  نے صاف صاف کہا تھا کہ انکی انتظامیہ جنگِ عظیم اول  کے دوران  ترک فوج کے ہاتھوں آرمینیائی باشندوں کے قتلِ عام کو نسل کشی نہیں خیال کرتی۔

ہر اپریل کی 24 تاریخ کو آرمینیائی باشندے اپنی قوم کے 15 لاکھ افراد کے قتل عام کی یا مناتے ہیں جو مبینہ طور پر ایک صدی پہلے  عثمانی فوج کے ہاتھوں مارے گئے تھے۔ آرمینائی مورخین کا کہنا ہے کہ جدید ترکی کے قائم ہونے سے قبل 1915 سے 1923تک عثمانی وزیردفاع اسماعیل انور پاشا کے حکم پر اناطولیہ المعروف ایشیائے کوچک یا Asia Minor میں آباد لاکھوں آرمینائی باشندوں کو جنوب میں صحرائے شام (بادیۃ الشام) کی طرف دھکیل دیاگیا۔اس طویل پیدل سفر میں بھوک،  پیاس کی تکلیف کے علاوہ ان لوگوں نےجبری مشقت کی اذیتیں برداشت کیں جبکہ ترک سپاہیوں پر آرمینائی خواتین کی آبروریزی کا بھی الزام ہے۔

ہفتے کے روزآرمینیائی باشندوں کے قتلِ عام کی برسی کے موقع پرجاری کردہ بیان میں صدر بائیڈن نے کہا کہ ’ہم ان تمام لوگوں کو یادکررہے ہیں جوعثمانیہ دور میں آرمینیاؤں کی نسل کشی کے وقت مارے گئے تھے۔امریکی صدر نے کہا کہ وہ  کسی کو الزام  نہیں دے رہے لیکن مہذب دنیااس بات کو یقینی بنانا چاہتی ہیں کہ جو کچھ رونما ہوا تھا،اس کا پھراعادہ نہ ہو۔

توقع کے مطابق ترکی نے امریکی صدر کے بیان پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے اسے مسترد کردیا ہے۔ صدر بائیڈن نے بیان جاری کرنے سے ایک دن  پہلے اپنے ترک ہم منصب طیب ایردوان کو اس بارے میں مطلع کردیا تھا۔ نامہ نگاروں کے مطابق ٹیلی فون پر ہونے والی یہ گفتگو بے حد ناخوشگوار تھی اور ترک صدر نے  متنبہ کردیا تھا کہ اس سے ترک امریکہ تعلقات اور باہمی اعتماد کو ناقابل نقصان پہنچے گا۔

انقرہ کا موقف ہے کہ آرمینیائی باشندے جنگ کے دوران مارے گئے جسے collateral damageکہتے ہیں۔ ترکی آرمینیا کے اس غم میں برابر کا شریک ہے اور بھاری جانی و مالی نقصان پر ترک حکومت کو شدید افسوس ہے۔ تاہم زیادہ تر ہلاکتیں روسی بمباری کا نتیجہ تھیں۔گزشتہ دنوں صدر طیب ایردوان نے استنبول میں آرمینیائی اسقف (Bishop) لیوون زکریا کے نام ایک پیغام میں درخواست کی تھی کہ وہ آرمینیائی اور ترک مورخین اور ماہرین پر مشتمل ایک ٹیم تشکیل دیں جو اس پورے واقعے کا تاریخی جائزہ لے کر اپنی رپورٹ پیش کرے۔ جناب ایردوان نے کہا کہ تحقیقات کا خرچ ترکی برداشت کرنے کو تیار ہے۔ ترک صدر کا موقف ہے کہ غیر متعلق لوگوں کی رائے زنی و الزام تراشی سے کشیدگی کو ہوا مل رہی ہے جبکہ اس معاملے پر بحث و مباحثے کا حق صرف مورخین کو ہے۔

اس معاملے کا مختصر تاریخی پس منظر کچھ اسطرح ہے کہ 1914 کے آغاز پر صلیبی چاروں طرف سے ترکی پر حملہ آور ہوئے۔ دسمبر 1914 میں روس نے مشرقی اناطولیہ پر حملہ کردیا۔ ترک شہر سرتمش Sarikamishکے قریب گھمسان کی جنگ ہوئی۔ اسی دوران بحراسود جانیوالی بحری شاہراہ یعنی آبنائے باسفورس۔بحیرہ مرمرہ۔آبنائے ڈارڈینیلس (Dardanelles)  پرقبضے کیلئے برطانیہ، فرانس،روس آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ نے جزیرہ نمائے چناکلے پر حملہ کیا جو گیلی پولی جنگ کے نام سے مشہور ہے

جنگ سرتمش میں روسی افواج کو فرانس اور ترکی کے علاوہ آرمینائی گوریلوں کی مدد حاصل تھی جس میں ترکوں کو شکست ہوئی اور یہ سارا علاقہ عثمانیوں کے ہاتھوں سے نکل گیا۔ اس جنگ کا بڑا اہم واقعہ عثمانیوں کی جانب سے ہنگامی حالت کے اعلان پر مفتی اعظم کا فتوی تھا۔ جس میں انھوں جنگی ضرورت کے تحت ' آرمینیائی ذمیوں' کے وسائل پر قبضے کو حرام قراردیتے ہوئے انکاجزیہ واپس کرنے کا حکم دیا تھا۔علامہ اقبال نے محاصرہ ادرنہ کے عنوان سے اسکا ذکر کیا ہے کہ 'ذمی کا مال لشکر مسلم پہ ہے حرام۔ فتوی تمام شہر میں مشہور ہوگیا۔ جنگ کی تباہ کاریوں سے بچنے کیلئے لاکھوں آرمینیائی باشندے شام ہجرت کرگئے۔ اس دوران سخت سردی میں بہت لوگ مارے گئے۔ آرمینیوں کا کہنا ہے کہ جبری بیدخلی کے نتیجے میں پندرہ لاکھ خواتین، بچے اور ضعیف افراد ہلاک ہوئے جو انکے خیال میں نسل کشی اور انسانیت کے خلاف عثمانیوں کا بھیانک جرم تھا۔ دوسری طرف ترکوں کا موقف ہے کہ آرمینیائی باشندوں نے محفوظ ٹھکانے کی تلاش میں خود اپنی مرضی سے شام جانے کا فیصلہ کیا تھا۔ غیر معمولی سردی سے خود ترک فوج کے 25 ہزار سپاہی ٹھٹھر کر جاں بحق ہوئے تھے۔

سرتمش اور گیلی پولی جنگوں میں مجموعی طور پر 7 لاکھ فوجی مارے گئے، شہری نقصان کا کوئی اندازہ ہی نہیں۔ ان واقعات کی غیر جانبدار تحقیقات کے بغیر نسل کشی کے الزام کی تصدیق یا تردید مشکل ہے۔ اتوار کو CNNپر فرید زکریا سے باتیں کرتے ہوئے مشہور ماہرِ قانون ڈاکٹر فلپ سینڈز نے کہا کہ نسل کشی کی اصطلاح 1945 میں وضع کی گئی تھی اور اسکا اطلاق 30 سال پہلے ہونے والے واقعے پر کرنا ناانصافی ہے۔ ڈاکٹر صاحب نے کہا کہ امریکہ کے قدیم باشندوں (Red Indians)کے ساتھ جو ہوااس پر بھی غور کرنے کی ضرورت ہے۔ بوسنیا میں بھی مذہب کی بنیاد پر قتل عام ہوا۔

ستم ظریفی دیکھیں کہ 100 سال پہلے ہونے والی ہلاکتوں کا عثمانیوں پر الزام لگانے والا امریکہ، اہل غزہ کی نسل کشی کی طرف سے آنکھیں بند کئے بیٹھا ہے۔ بلکہ واشنگٹن اور برطانیہ اس بات پر بھی تیار نہیں کہ عالمی فوجداری عدالت (ICC)اہل فلسطین کے خلاف اسرائیل کی  مبینہ جنگی جرائم کی آزادانہ تحقیقات کرے۔

ہفت روزہ  ط فرائیڈے اسپیشل  کراچی 30 اپریل


2021

 

ایشیائی نیٹو NATO؟؟؟؟؟؟

ایشیائی نیٹو NATO؟؟؟؟؟؟

 بدھ کی شام صدرجو بائیڈن نے امریکی کانگریس (پارلیمان ) کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کیا۔  اقتدار کے 100 دن مکمل ہونے پر انھیں ایوان نمائندگان کی اسپیکر محترمہ نینسی پلوسی نے دعوت دی تھی۔ یہ اجلاس اس اعتبار سے منفر د تھا کی امریکہ کی تاریخ میں پہلی  بار کانگریس کے دونوں ایوانوں کی سربراہی خواتین کے ہاتھ میں ہے، یعنی ایوان زیریں کی اسپیکر نینسی پلوسی اور سینیٹ کی صدر نشیں کملادیوی ہیرس۔ حسب توقع  اپنے خطاب میں امریکی صدر نے بائیڈن انتظامیہ کی کامرانیوں  اور مستقبل  کیلئے اپنے عزائم کااظہار کیا۔

اسی کیساتھ امریکی صدر نے مکالمہِ اربع یا Quadrilateral Security Dialogueالمعروف Quadکا سرسری سا ذکر کیا۔  جناب بائیڈن  نے کہا کہ  ہم بحرجنوبی چین میں نہ صرف  عسکری موجودگی برقراررکھیں گے بلکہ چینی صدر کو بتادیا گیاہے کہ امریکہ ہندوبحرالکاہل Indo-pacific میں نیٹو کی طرز پر موثر عسکری قوت رکھنے کا ارادہ رکھتا ہے۔اپنے خطاب میں صدر نے تفصیل نہیں بتائی لیکن اس  غیر مبہم بیان سے یہ تاثر پیدا ہورہا ہے کہ  کواڈ کو نیٹو کے انداز میں منظم کیا جائیگا۔ اس سے پاکستان، بنگلہ دیش سری لنکا اور علاقے کے دوسرے ممالک  کیلئے مشکل پیدا ہوسکتی ہے جو چین اور امریکہ دونوں سے دوستی  کے خوہشمند ہیں۔

کواڈ ممالک  کے درمیان  بحرالکاہل  کی نگرانی کیلئے  فوجی تعاون   2007 سے جاری  ہے جسے جاپان کے سابق وزیراعظم شنزو ایبے نے ایشیائی قوس جمہوریت یا Asian Arc of Democracy قراردیاتھا۔ امریکی وزیرخارجہ انٹونی بلینکن اور قومی سلامتی کیلئے صدرر بائیڈن کے مشیر جیک سالیون کا شمار کواڈ کے معماروں میں ہوتاہے۔ یہ دونوں حضرات اوباما انتظامیہ میں نائب وزیرخارجہ تھے۔

کواڈ  کا  تزویراتی  (Strategic)ہدف  بحرالکاہل خاص طور سے بحر جنوبی چین میں چینی بحریہ کے بڑھتے ہوئے اثرورسوخ کو غیر موثر کرنا ہے۔ عسکری صلاحیتوں کی جانچ پڑتال  کیلئے کواڈ ممالک وقتاً فوقتاً  بحری مشقیں  کرتے ہیں۔ اس نوعیت   کی  پہلی مشق 1992میں ہندوستان کے جنوب مشرقی ساحل پر کی گئی جس میں بھارت اور امریکہ کی بحریہ نے حصہ لیا۔ اس مناسبت  سے اسے  مالابار بحری مشق  پکارا گیا۔  بعد میں اس سرگرمی کا نام ہی مالابار مشق پڑگیا۔اب تک اس نوعیت کی 24 مشقیں ہوچکی ہیں۔ اس سلسلے کی سب سے بڑا مظاہرہ  2020 میں ہوا جب تین سے چھ نومبر کو خلیج بنگال اور  17 سے 20 نومبر تک بحرعرب میں دوستانہ میچ  ہوا۔ ان مشقوں  میں  امریکہ کےتباہ کن جہاز یوایس ایس مک کین، ہندوستان کے جہازو ں شکتی، رنجیو  اور شوالہ، آسٹریلیا کےبلیرٹ اور جاپانی تباہ کن  جہازاونامی  کے علاوہ جدید ترین آبدوزوں نے حصہ لیا۔

گزشتہ دس بارہ سالوں میں چین نے بحر جنوبی  اور مشرقی چین میں مصنوعی جزیرے بنا کراس پر اڈے قائم کردئے ہیں۔ عسکری ماہرین  نے شک ظاہر کیا ہے کہ کچھ تنصیبات جوہری نوعیت کی بھی ہیں۔امریکہ اور اسکے اتحادیوں کا خیال ہے کہ ان دونوں سمندروں میں چین سے ٹکر لیناآاسان نہیں  لہٰذا کواڈ کی توجہ بحرالکاہل سے باہر نکلنے کے راستوں پر ہے جن میں سب  سے اہم آبنائے ملاکا ہے۔

ملائیشیا اور انڈونیشی جزیرے سماٹرا کے درمیان سے گزرنے والی اس 580 میل لمبی  آبی شاہراہ کی کم سے کم چوڑائی 2 میل ہے۔ آبنائے ملاکا بحرالکاہل کو بحر ہند سے ملاتی ہے۔ کواڈ بندوبست  کے تحت اس آبنائے کے شمالی دہانے کی نگرانی ہندوستانی ناو سینا (بحریہ)  کو  سونپی گئی ہے جبکہ اسکے جنوب مشرقی کونے پر آسٹریلوی بحریہ نظر رکھتی  ہے۔ بحر انڈمان سے خلیج بنگال تک   بھارتی بحریہ کے جہاز گشت کررہے ہیں۔  جزائر انڈمان پر امریکی و بھارتی بحریہ کی تنصیبات بھی ہیں۔

گزشتہ ماہ کواڈ کا    مجازی (Virtual)سربراہی اجلاس ہوا جس میں چاروں ملکوں نے  بحرالکاہل و بحر ہند تک رسائی کو یقینی بنانے کیلئے مل کر کام کرنے کا عزم کیا۔کواڈ کی سرگرمیاں بحر الکاہل اور بحر ہند تک محدود ہیں لیکن امریکہ اور کواڈ اتحادی گوادر کو چینی مفادات کے تناظر میں دیکھتے ہیں۔گزشتہ سال ہونے والی مالابار مشقیں بحر عرب میں بھی کی گئی تھیں جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ تحفظات نہ ہو تب بھی کواڈ اتحادیوں کو گوادر سے دلچسپی ضرور ہے۔

نیٹو اتحاد کی سب سے اہم شق یہ ہے کہ کہ کسی بھی رکن پر حملہ یا اسکی سلامتی کو خطرہ تمام رکن ممالک پر حملے کے مترادف ہے  اور نیٹو اپنے رکن کے دفاع میں ہتھیار اٹھانے   کا پابند ہے۔ نائن الیون  واقعے کو امریکہ نے اپنی سلامتی کیلئے خطرہ قراردیا تھا چنانچہ افغانستان پر پوری نیٹو نے حملہ کیا حتیٰ کہ ترکی نے بھی اپنے دستے بھیجے کہ نیٹوچارٹر کے تحت انقرہ اسکا پابند تھا۔دو سال بعد  جب 2003 میں طیب ایردوان وزیراعظم بنے تب انھوں نے افغانستان میں ترک فوج کا کردار مسلح  تصادم سے   تبدیل  کرکے تعمیرِ نو اور تعلیم و ترقی کے منصوبوں تک محدود کردیا۔اسوقت شمالی افغانستان میں ترک فوج درجنوں اسکول اور ہسپتال  چلارہی ہے۔

 نیٹو کے انداز میں تنظیم پر اگر  کواڈ  نے بھی 'دوست کا دشمن ، دشمن کا اصول اپنالیا  تو پاکستان کیلئے مشکلات  پیدا ہوسکتی ہیں۔  اسلام آباد ۔ دلّی کشیدگی  ماضی میں کئی بار بھرپور جنگ  کی شکل اختیار کرچکی ہے۔ اگر مستقبل میں اس قسم کی صورتحال پیدا ہوئی تو ہندوستان کواڈ ممالک سے عملی نصرت کی درخواست کرسکتا ہے۔ یہ  صورتحال  1974میں پیدا ہوچکی ہے جب قبرص کی ترک آبادی کو دہشت گردوں اور  انتہاپسندوں  سے بچانے کیلئے ترکی نے جزیرے میں اپنی فوج اتار دی تھی۔ یونان نے ترک حملے کو اپنی سلامتی کیلئے خطرہ قراردیتے ہوئے نیٹو سے عسکری مدد کی درخواست  کی لیکن چونکہ ترکی بھی نیٹو کا رکن تھا اسلئے اجتماعی دفاع کا کلیہ غیر موثر ہوگیا۔


 

گھر پہ رہنے کو کہا اور کہہ کے کیسا پھِرگیا

گھر پہ رہنے کو کہا اور کہہ کے کیسا پھِرگیا

ڈنمارک نے شامی پناہ گزینوں کو ملک سے چلے جانے کوکہا ہے۔ ڈینش حکام نے گزشتہ سال جون میں شامی دارالحکومت دمشق کو محفوظ قراردے دیا تھا جسکے بعد سے وزیراعظم محترمہ میٹ فریڈرکسن، شامی مہاجرین پر زور دے رہی ہیں کہ وہ جلد ازجلد اپنے ملک لوٹ جائیں۔ اسوقت ڈنمارک میں شامی پناہ گزینوں کی تعداد 32000ہے۔ مسلم دنیا کے سوشل میڈیا پر ایک عرصے تک ہنگامہ برپا رہا کہ شامیوں کو انکے پڑوسی مسلم ملکوں نے بے سہارا چھوڑدیا ہے اور انسانیت کا علمبردار یورپ ان خانماں بربادوں کو محفوظ ٹھکانہ فراہم کررہا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ 70 فیصد شامی مہاجر وں کی میزبانی ترکی کررہا ہے۔ بیس فیصد کے قریب پناہ گزین اردن اور لبنان میں ہیں۔ تین سے چار فیصد دوسرے عرب اور مسلمان ملکوں میں پناہ لئے ہوئے ہیں۔ یورپ جانے والے شامی 5 سے 6 فیصد ہیں۔

اٹھاون لاکھ نفوس پر مشتمل ڈنمارک شمالی یورپ کا ایک خوشحال ملک ہے۔ بحر اوقیانوس کے شمال میں واقع ناروے، ڈنمارک، آئس لینڈ، سوئیڈن اور جزیرہ فرو Faroeکو Nordicیا شمالی ممالک کہا جاتا ہے۔مشترکہ ثقافت اور لسانی شناخت کی بنیاد پر ناروے، ڈنمارک اور سوئیڈن اسکینڈینیوین Scandinavian اکائی کا حصہ ہیں۔ ڈنمارک جزیرہ نمائے جٹ لینڈ اور چھوٹے بڑے 443 جزائر پر مشتمل ہے۔ملک کی ایک چوتھائی آبادی دارالحکومت کوپن ہیگن میں رہتی ہے۔

امریکہ و یورپ کے قوم پرست اور دائیں بازو کے قدامت پسند ایک عرصے سے رنگدار تارکینِ وطن خاص طور سے مسلمانوں کے خلاف مہم چلارہے ہیں۔ فرانس کی قائد حزب اختلاف میرن لاپین Marine Le Pen، ہالینڈ کے گیرت وائلڈرز، اورہنگری کے وزیراعظم وکٹر اوربن Victor Orbanاس مہم میں پیش پیش ہیں۔ پہلے امریکہ کے صدر ٹرمپ اس تحریک کے روح رواں تھے لیکن انتخابات میں شکست کے بعد  وہ ٹھندے پڑگئے ہیں۔

مسلم مخالف تحریک کی عوامی مقبولیت سے خوفزدہ ہوکر یورپ کے آزاد خیال لبرل رہنما بھی اب اپنا قبلہ تبدیل کررہے ہیں۔ جسکی بدترین مثال فرانس کے صدر ایمنویل میخواں اور ڈنمارک کی میٹ فریڈرکسن ہیں، جنھوں نے نوشتہ دیوار پڑھ کرنفرت انگیر بیانئے کو کلیدِ کامیابی سمجھ لیاہے۔

چار سال پہلے وزیراعظم میٹ فریڈرکسن نے قائد حزب اختلاف کی حیثیت سے پناہ گزینوں کے ویزے محدود کرنے پر زور دیناشروع کیا۔انھوں نے اعلان کیا کہ اگر وہ وزیراعظم منتخب ہوگئیں تو تمام غیر مغربی تارکین وطن کو شمالی افریقہ اور مشرق وسطیٰ واپس بھیجدینگی۔ گزشتہ برس کرونا کی وجہ سے جو سفری پابندیاں عائد کی گئیں اس سے مہاجرین کی آمد دس فیصد سے بھی کم رہ گئی۔ اس سال کے آغاز پر پناہ گزینوں کے حوالے سے نئی قانون سازی کی بات شروع ہوئی اور جلدہی صفر پناہ گزیں یا Zero Asylum Seekersپالیسی کا اعلان ہوا۔وزیراعظم صاحبہ چونکہ نظریاتی طور پر بائیں بازو کی طرف مائل ہیں اسلئے انھوں نے نکتہ اٹھایا کہ مجبوری کی بنا پرپناہ گزین کم سے کم قانونی اجرت اور سہولتوں سے بھی کم پر نوکری کو تیار رہتے ہیں جسکی وجہ سے مقامی افرادی قوت دباو کا شکار ہے۔ اس کے نتیجے میں مہنگائی کے باوجود مزدوروں کی اجرتیں مسلسل کم ہورہی ہیں۔

جمعہ (23 اپریل)کو پارلیمان سے خطاب  کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ دنیا میں مقبولیت حاصل کرنے اور 'میڈیا ڈارلنگ' بننے کیلئے ماضی کی حکومتوں نے ملک کے دروازے غیر ملکیوں پر چوپٹ کھولدئے تھے۔ ہمیں محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔ اسلےکہ بہت زیادہ غیر ملکیوں کے آجانے سے ہماری ثقافت تحلیل ہوجائیگی۔  

وزیراعظم صاحبہ کا سرکاری موقف تو یہ ہے کہ غیر ملکیوں کی ڈنمارک آمد سے مزدوروں کی اجرتیں کم ہونے کیساتھ  ملکی تہذیب 'آلودہ' ہورہی ہے۔ لیکن انکے وزیرِ امیگریشن میتھیو تاسفے Mattias Tasfayeاصل بات زبان پر لے آئے۔ جیلاند پوستن  کے نمائندے سے باتیں کرتے ہوئے انھوں نے انتہائی رعونت سے کہا کہ مسلم ممالک سے آنے والے تارکین وطن کی کچھ رسومات جمہوری اقدار کے خلاف ہیں اور حکومت عوامی امنگوں و روایات کے تحفظ کیلئے پرعزم ہے۔ مسٹر تاسفے کا کہنا تھا کہ موثرحکومتی اقدامات کے نتیجے میں پناہ گزینوں کی تعداد نصف سے کم ہوچکی ہے اور ہم اب اس نصف کو بھی نصف کررہے ہیں۔

جون 2018 میں سابق وزیراعظم راسموسین نے تجویز دی تھی کہ پناہ کے متلاشیوں کیلئے یورپی یونین سے باہر کیمپ قائم کئے جائیں، انکا کہنا تھا کہ مہاجرین ایک بار ملک میں داخل ہوجائیں تو انسانی حقوق کے علمبردار مظاہرے شروع کردیتے ہیں اور حکومت کیلئے ناپسندیدہ عناصر کو بھی  ملک سے نکالنا مشکل ہوتا ہے۔ انھوں نے جرمنی، ہالینڈ اور آسٹریا کے رہنماوں سے بھی اس معاملے پر بات کی اور راسموسین کا کہنا تھا کہ یورپ کے قائدین انکی تجویز کے حامی تو ہیں لیکن کوئی بھی بلی کے گلے میں گھنٹی ڈالنے کا حوصلہ نہیں رکھتا۔

اسوقت ایک بڑا مسئلہ کیمپ کیلئے ملک کا انتخاب تھا۔ شمالی افریقہ کے ممالک یعنی مصر، الجزائر، تیونس اور مراکش اسکے لئے تیار نہ تھے اور لیبیامیں خانہ جنگی برپا تھی۔ مشرقِ وسطیٰ کا بھی کوئی ملک یہ بکھیڑا اٹھانے کو تیار نہ تھا جبکہ صدر ایردوان کا کہنا تھا کہ شامیوں کیلئے ہماری سرحدیں کھلی ہوئی ہیں لہٰذا یہاں کیمپ قائم کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ ہمارے مہمان یورپ یا کہیں اور جانا چاہے تو ہم یہ سہولت دینے کو تیار ہیں۔

جناب راسموسین اور آسٹریا کے چانسلر سباسشن کرز Sebastian Kurz کافی عرصہ پناہ گزین کیمپ قائم کرنے کیلئے کوششیں کرتے رہے۔ اسی دوران فرانس کے صدر ایمیونل میخواں نے اس تحریک کی قیادت سنبھال لی۔کیمپوں کیلئے انھوں نے hotspotsکے لفظ استعمال کیا۔ اس سلسلے میں فرانسیسی صدر نے لیبیا، نائیجر اور چاڈ کے رہنماوں سے گفتگو بھی کی لیکن  انسانی حقوق کی تنظیموں کے شدید ردعمل پر وہ پیچھے ہٹ گئے۔ اقوام متحدہ کے ہیومن رائٹس کمیشن کا کہنا تھا کہ شام میں اپنے آرام دہ گھر سے نکلنے والوں کیلئے لیبیا یا چاڈ جانا تو گویا کڑاہی سے نکل کر چولہے پر آنے والی بات ہے۔ اردو میں ہم اسے آسمان سے گرا کھجور میں اٹکا کہتے ہیں۔

جب 2019 کے انتخابات میں اپنی سوشل ڈیموکریٹک پارٹی کی کامیابی پر محترمہ فریڈرکسن ڈنمارک کی وزیراعظم بنیں تو انھوں نے مہاجر کیمپ سے مایوس ہوکر شامی پناہ گزینوں کو ملک بدر کرنے کے ایک نکاتی ایجنڈے کو ہدف بنالیا اور اس سلسلے میں کئی جہت پر کام شروع ہوا۔

انکے رفقا نے ملک کے قدامت پسندوں کے تعاون سے پناہ گزینوں کے خلاف سوشل میڈیا پر گھناونی مہم شروع کردی۔ شامی مردوں کے بارے میں کہا گیاکہ یہ لوگ خواتین کو ذاتی جاگیر سمجھتے ہیں اور 'مالکان' کو  اپنی غیر مشروط غلامی کا یقین دلانے کیلئے عورتیں برقعے پہنتی ہیں۔ شامیوں نے اپنی خواتین کو تو گھروں اور برقعوں میں بند کردیا ہے جبکہ خود ساحل اور سوئیمنگ پول پر ندیدوں کی طرح گوری خواتین کو گھورتے ہیں۔ ان حرکتوں نے مقامی خواتین کو ذہنی کوفت میں مبتلا کردیا ہے۔اس نوعیت کی من گھڑت خبریں اور تضحیک آمیز خاکے سوشل میڈیا پر عام ہیں۔ ان سب کی تان حجاب پر آکر ٹوٹتی ہے۔

جرائم کے حوالے سے مبالغہ آمیز افواہیں پھیلائی جارہی ہیں۔ کسی شامی پر اگر ٹریفک کی خلاف ورزی پر جرمانہ ہوتو اس خبر کو بھی اس انداز میں شایع کیا جاتا ہے کہ گویا بہت بڑا جرم سرزد ہوا اور ساتھ ہی شامیوں کے گنوارپن کا ماتم کہ قبائلی فطرت کے حامل ان لوگوں کو تہذیب چھوکر نہیں گزری، گئیر اور بریک کا استعمال تو سیکھ لیا لیکن انھیں گاڑیاں چلانے کے آداب  نہیں  معلوم۔ ساتھ ہی سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور قطر کی دولت و ثروت کا ذکر دیومالائی انداز میں اسطرح کیا جاتا ہے کہ گویا وہاں دودھ شہد کی نہریں بہہ رہی ہیں۔ ہر شخص کروڑ پتی ہے اور ان روسا نے اپنے کنگلے شامی بھائیوں کو ہمارے سر ڈالدیا ہے۔

اس سال کے شروع میں وزارت داخلہ نے اعلان کیا کہ شام کی صورتحال اور شواہد کے تفصیلی تجزئے کے بعد وہ ان نتیجے پر پہنچے ہیں کہ وہاں خانہ جنگی کا زور ٹوٹ چکا اورامن و امان کی صورتحال معمول پر آگئی  ہے۔ خاص طور سے دارالحکومت اور دمشق کا پورا صوبہ اب بالکل محفوظ ہے۔ اس تصدیق کے بعد وزارت امیگریشن نے پناہ گزینوں کو ڈنمارک سے واپس جانے کی ہدائت کردی اور پناہ گزیں پرمٹ کی تجدید کیلئے وزارت امیگریشن کے دفتر  آنے والوں کو  خروج کے حکمنامے تھمادئے گئے۔

ستم ظریفی کہ 1951میں جب اقوام متحدہ کے زیراہتمام سیاسی و مذہبی امتیاز اور بدامنی کی بنا پر بے گھر ہونے والے افراد کو پناہ دینے کیلئے عالمی عہد نامہ یا Refugee Conventionترتیب دیا گیا تو ڈنمارک اس پر دستخط کرنے والا پہلا ملک تھا اور اب یہی ملک  پناہ گزینوں کے ویزے منسوخ کرنے والا یورپ کا پہلا ملک بن گیا ہے۔ بدلتا ہے رنگ آسمان کیسے کیسے؟

اب تک کسی پناہ گزین کو جبری طور پر ڈنمارک سے نہیں نکالا گیا لیکن ویزہ منسوخ ہونے والے افراد کی حیثیت اب غیر قانونی تارکین وطن کی ہوچکی ہے جو نہ ملازمت کرسکتے ہیں اور نہ سرکاری اسکول و جامعات میں تعلیم جاری رکھ سکتے ہیں۔ بہت سے مالک مکانوں نے ایسے کرائے داروں سے فلیٹ خالی کرنے کو کہدیا ہے۔

ان مصیبت زدوں کی مشکل یہ ہے کہ ان میں سے اکثر کے پاس شامی پاسپورٹ نہیں اور جنکے پاس یہ دستاویز ہیں بھی تو مدت ختم ہوجانے کی وجہ سے وہ ناکارہ ہوچکے ہیں ۔ شام اور ڈنمارک کے درمیان سفارتی تعلقات اسوقت سے کشیدہ ہیں جب 2005 میں جیلانڈ پوستن نےگستاخانہ خاکے شایع کئے۔ساری مسلم دنیا میں اسکا شدید رد عمل ہوا اور مشتعل ہجوم نے دمشق میں ڈنمارک کے سفارت خانے کو آگ لگادی۔ ڈنمارک کا موقف تھا کہ یہ سب کچھ شامی حکومت کی غفلت سے ہوا ہے۔ میزبان حکومت نے وعدہ کیا کہ عمارت کی مرمت کا خرچ وہ دیگی لیکن یہ مسئلہ آج تک حل نہ ہوسکا۔ کرونا کی بنا پر گزشتہ سال مارچ سے دونوں ملکوں کے درمیان سفارتی رابطہ بالکل ختم ہوچکا ہے اور  پناہ گزینوں کیلئے نئے پاسپورٹ اور سفری دستاویزکا حصول ممکن ہی نہیں۔ ایک اور بڑا مسئلہ مہاجرین کے بارے میں بشارالاسد کے شکوک و شبہات ہیں۔ وہ ملک سے ہجرت کرجانے والوں کو بزدل، غدار اور دشمن کاآلہِ کار گردانتے ہیں۔  ملک کےخفیہ ادارے اس خدشے کا اظہار کررہے ہیں کہ  ترکی نے  شامی پناہ گزینوں کوورغلانے اور بشار الاسد سے بدظن کرنے کیلئے ایک مربوط تربیتی پروگرام ترتیب دے رکھا ہے اور اس مقصد کیلئے ماہرین نفسیات کی خدمات حاصل کی گئی ہیں۔

سفارتی تعلقات نہ ہونے کی وجہ سے ڈنمارک کیلئے پناہ گزینوں کو جہازوں میں بھر کر واپس  شام بھیجنا ممکن نہیں چنانچہ جن لوگوں کے پرمٹ منسوخ ہوگئے ہیں انھیں جلاوطنی مراکز یا Deportation Centersمنتقل کیا جارہا ہے جو عملاً جیل خانے ہیں۔ یہ بات یقینی ہے کہ شام ان لوگوں کو واپس لینے پر کسی طور راضی نہیں ہوگا جسکا مطلب ہوا کہ یہ بیچارے ایک لمبا عرصہ ان بیگار کیمپوں میں گزارینگے جہاں خواتین، مرد اور بچوں کو الگ الگ رکھا گیا ہے یعنی چھوٹے چھوٹے بچے ماں باپ سے علیحدہ ہیں۔ صدر ٹرمپ نے بھی ہسپانوی تارکین وطن بچوں کو والدین  سے الگ رکھا تھا۔

شامیوں سے اس بدسلوکی پر یورپ کا ردعمل مِلا جُلا ہے۔ سلیم الفطرت لوگ اسکے خلاف احتجاج کررہے ہیں۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل، اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کمیشن HRCاور عالمی ادارے ہیومن رائٹس واچ HRWنے وزیراعظم فریڈرکسن سے  'معقولیت' اختیار کرنے کا مطالبہ کیا ہے

دوسری طرف یورپ کے قوم پرست خاص طور سے گیرت وائلڈرز اور فرانس کی قائد حزب اختلاف میرین لاپین ڈنمارک کے اس قدم کو بارش کا پہلا قطرہ قراردے رہے ہیں۔محترمہ لاپین نے صدر میخواں کو طعنہ دیتے ہوئے کہاکہ سلامتی کونسل کے مستقل رکن اور جوہری ہتھیار سے لیس سپر پاور سے زیادہ جرات مند تو چھوٹا سا ڈنمارک ہے جس نے معیشت اور سماج و ثقافت کے تحفط کیلئے فیصلہ کن  قدم اٹھالیا۔

چند ہی دن قبل برطانیہ اور اس سے پہلے یورپی یونین نے یغوروں سے بدسلوکی پر شدید تشویش کا اظہار کیا تھا۔ یونین کے خارجہ امور کے نمائندے جناب جوزف بوریل نے ویغور مسلمانوں کو 'ذہنی تربیت' کیلئے کیمپ منتقل کرنے کے فیصلے کو ظالمانہ قدم قراردیتے ہوئے اسکی شدید مذمت کی تھی لیکن اب یورپی یونین کا ایک سرگرم رکن وہی ظالمانہ ہتھکنڈے معصوم و مجبور شامیوں کیخلاف استعمال کررہا ہے۔

ہفت روزہ امت کراچی 30 اپریل 2021

ہفت روزہ دعوت دہلی 30 اپریل 2021

روزنامہ امت کراچی 30 اپریل 2021

ہفت روزہ رہبر سرینگر 30اپریل


2021