Thursday, May 7, 2026

 

جنگ بندی کے سائے میں جنگ

لبنان و غزہ: سفارت کاری کی ناکامی یا طاقت کی نئی حکمتِ عملی؟

عبوری جنگ بندیوں اور سفارتی بیانات کے شور میں مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر اس حقیقت کی یاد دہانی کرا رہا ہے کہ امن اور زمینی حقائق کے درمیان مہلک خلیج بہت گہری ہے۔ حالیہ جنگ بندی کوامن کی تمہید سمجھا جائے یا محض ایک وقفہ اور ایک بڑے طوفان سے پہلے کی خاموشی؟

لبنان: جنگ بندی یا جاری محاذ آرائی؟

عبوری جنگ بندی اور امن بات چیت کے باوجود لبنان اور غزہ پر اسرائیلی حملے جاری ہیں۔ لبنانی ہلال احمر کے مطابق   2 مارچ کی جنگ بندی کے بعد سے اپریل کے آخر تک اسرائیلی حملوں میں 2659 لبنانی شہری جاں بحق ہوچکے ہیں۔صدر ٹرمپ مصر ہیں کہ لبنانی صدر جوزف خلیل عون اسرائیلی وزیراعظم سے براہ راست مذاکرات کریں لیکن لبنان کی سرکاری پالیسی کے مطابق اسرائیل کو باضابطہ تسلیم نہ کرنے کی وجہ سے ایسا مکالمہ ناممکن حد تک پیچیدہ اور محدود نوعیت کا حامل ہے۔

غزہ: جنگ بندی کے باوجود بمباری اور بڑی جنگ کی تیاری

غزہ پر اسرائیلی فوج کی بمباری اور ڈرون حملے جاری ہیں۔ مختلف علاقوں پر بمباری سے متعدد افراد جاں بحق ہوئے۔خان یونس میں 9 سالہ عادل النجار اسرائیلی درندگی کا نشانہ بنا اور ڈرون حملے میں اس پھول سے بچے کا جسم بکھر گیا۔اسرائیلی فوج اب ایک بڑی فوجی کاروائی کا منصوبہ بنارہی ہے جسکی تفصیلات طئے کرنے کیلئے وزیراعظم نیتن یاہو نے اپنی ہنگامی کابینہ کا اجلاس طلب  کرلیا ہے۔ اس کی وجہ مزاحمتی گروہوں کا غیر مسلح ہونے سے انکار بتایا جا رہا ہے,،مزاحمت کار، اسرائیلی انخلا اور آزاد فلسطینی ریاست کے قیام سے پہلے غیر مسلح ہونے کو تیار نہیں۔ صدرٹرمپ کی تشکیل کردہ مجلس السلام یا Board of Peace نے مزاحمت کاروں سے11 اپریل تک ہتھیار ڈالنے کو کہا تھا جسے اہلِ غزہ نے مسترد کردیا۔ یہ نئی پیشرفت تعطل اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ مذاکراتی عمل ابھی ابتدائی اور غیر مستحکم مرحلے میں ہے۔

عبادت گاہوں اور مقدسات کی توہین

اس ہفتے  لبنان میں کئی مسیحی عبادت گاہیں اسرائیلی بمباری کا نشانہ بنیں۔ جنوبی لبنان کے شہر یارون میں بمباری سے کیتھولک مسیحیوں کی خانقاہ (Monastery) کو نقصان پہنچا۔ اس سے پہلے ایک اسرائیلی فوجی نے ہتھوڑے کے وار سے حضرت عیسیٰؑ کے مجسمے کو توڑ دیا تھا۔ انتہا پسندوں کی حوصلہ افزائی کی وجہ سے دوسرے مذاہب کے متبرکات کی توہین اور حملوں میں شدت آتی جارہی ہے۔ یکم مئی کو ایک فرانس نژاد راہبہ (nun) بیت المقدس کے بابِ داودؑ کے قریب سے گزرہی تھی کہ 36 سالہ  اسرائیلی نے  بلا اشتعال اس نہتی عورت کو لات ماردی جسکی ضرب سےیہ کمزور عورت زمین پر گرپڑی۔سفاک شخص کی اس پر بھی تسلی نہ ہوئی تو اس نے ٹھوکریں مار کر راہبہ کو زخمی کردیا۔

معذور دہشت گرد” ؟ ایک چونکا دینے والا واقعہ

مشرقی یروشلم میں شعفاط مہاجر کیمپ کے قریب ڈاون سنڈروم (Down Syndrome) کا شکار ایک لڑکا مہدی العربی فوجی ٹرک دیکھ کر خوف سے بھاگنے لگا۔ تعاقب کرکے مسلح سپاہیوں نے اسے پکڑکر تشدد کا نشانہ بنایا۔ مہدی کے خلاف دہشت گردی کا پرچہ کاٹا گیا ہے۔ ڈاؤن سنڈروم ایک پیدائشی جینیاتی کیفیت ہے جس سے جسمانی ساخت میں مخصوص خصوصیات، سیکھنے کی رفتار میں سستی اور بعض اوقات صحت سے متعلق مسائل (جیسے دل کے امراض) دیکھنے میں آ سکتے ہیں۔

سیاسی بیانیہ اور نفرت کا اظہار

انتہا پسند وزیرِاندرونی سلامتی اور عظمتِ یہود پارٹی کے سربراہ، اتامر بن گوئر نے اپنی  50 ویں پر  جو کیک کاٹا اس پر پھانسی کے پھندے کے ساتھ عبرانی میں 'دہشت گردوں کی موت 'لکھا تھا۔یہ درصل اسرائیلی کنیسہ (پارلیمان) میں چند ہفتہ قبل منظور کئے جانیوالے اس قانون کا حوالہ تھا جس کے مطابق عدالت سے دہشت گردی کا الزام ثابت ہوجانے والے فلسطینیوں کو پھانسی کے ذریعے سزائے موت دی جائیگی۔

فلسطینیوں سے یکجہتی کے اظہار کے لئےایک برطانوی نژاد اسرائیلی ماہرِ تعلیم و مصنف Alex Sinclair نے اپنی مذہبی ٹوپی، المعروف کِپّاہ پر اسرائیلی اور فلسطینی پرچم اکٹھے بُنوا کر اس کی تصویر فیس بک پر نصب کردی۔موصوف فوراً دھر لئے گئے ۔ پوچھ گچھ کے بعد انہیں اس تنبیہ کے ساتھ رہا کیا گیا کہ وہ آئندہ اس نوعیت کی “شرپسندانہ حرکت” سے گریز کریں گے۔ رہائی سے قبل ان کی ٹوپی سے فلسطینی پرچم کاٹ کر کِپّاہ انھیں واپس کی گئی۔

جنگی جنون کی ایک اور مثال لبنان کی سرحد پر واقع  شہر کریات شمعونہ میں  جنگ بندی کے خلاف مظاہرہ تھا جس کی قیادت رئیسِ شہر نے خود کی۔ موصوف پلے کارڈ لئے کھڑے تھے جس پر عبرانی میں لکھاتھا

'جنگ بندی، مزاحمت کاروں کے ہاتھ مضبوط کرنے کی ایک کوشش ہے'

قافلہ صمود

غزہ کی ناکہ بندی توڑ کر امدادی سامان پہنچانے کی ایک اور کوشش ناکام ہوگئی اور اسرائیلی بحریہ نے یونانی جزیرے کریٹ کے قرہب 58 کشتیوں پر قبضہ کرکے سینکڑوں کارکنوں کو گرفتار کرلیا۔ پاکستان کے سابق سینیڑ مشتاق احمد خان سمیت تمام کارکن  رہا کردئے گئے، لیکن  برازیل کے Thiago Avila اور فلسطین نژاد ہسپانوی شہری سیف ابوکیشک تادم تحریر زیرحراست ہیں۔ غیر انسانی ناکہ بندی کےخلاف باضمیر دنیا کی مزاحمت 2010 سے جاری ہے جب ترک کشتی ماوی مرمرہ (MV Mavi Marmara)کی قیادت میں چھ کشیتیوں پر مشتمل پہلا Freedom Flotilla غزہ روانہ ہوا۔اس قافلے میں پاکستان کے مشہور صحافی طلعت حسین بھی شامل تھے۔ جب فلوٹیلا غزہ سے 190 کلومیٹر دور تھا تو ہیلی کاپٹروں کی مدد سے اسرائیلی کمانڈو ان کشتیوں پر اترآئے، انکی اندھا دھند فائرنگ سے 10 ترک کارکن جاں بحق ہوئے تھے۔

امریکی بیانیہ: تنقید اور احتیاط

بائیڈن دور کی نائب وزیرِ خارجہ محترمہ وینڈی شرمن نے بلومبرگ ٹیلی ویژن سے باتیں کرتے ہوئےاسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو کو غزہ میں “نسل کشی” کا ذمہ دار قرار دے دیا۔ مگر اس سنگین الزام کے باوجود وہ اسرائیل کے حقِ تحفظ کے مؤقف سے پیچھے نہ ہٹیں اور کہا کہ یہ نہایت اہم ہے کہ اسرائیل امریکہ کا اتحادی رہے اور ایک یہودی ریاست کے حق کا دفاع کیا جائے۔محترمہ نے بہت ہی محتاط انداز میں کہا 'میرے لئے غزہ آپریشن کو یقینی طور پر نسل کشی کہنا مشکل ہے، لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ غزہ تباہ ہو چکا۔ فلسطینیوں کو گھر، وقار اور امن کا حق حاصل ہے اور اسرائیل بھی سلامتی اور امن کا مستحق ہے۔' یہ رویہ امریکی سیاست میں اسرائیل کے حوالے سے موجود گہرے اثر و رسوخ (lobbying) کی نشاندہی کرتا ہے، جہاں بیانیہ ایک غیر مرئی حد کے اندر رہ کر ہی تشکیل پاتا ہے۔

لبنان اور غزہ کی موجودہ صورتحال اس حقیقت کو اجاگر کرتی ہے کہ جنگ بندی محض ایک کاغذی معاہدہ نہیں بلکہ اس پیچیدہ عمل کی کامیابی کیلئے سیاسی عزم، باہمی اعتماد اور زمینی حقائق کا ادراک لازمی ہے۔ طاقت کے زور اور دھماکوں کے شور میں سفارتکاری کے ذریعے امن کی تلاش وقت کا زیاں ہے ۔

ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل کراچی 8 مئی 2026

ہفت روزہ دعوت دہلی 8 مئی 2026

ہفت روزہ رہبر سرینگر 10 مئی 2026


 

 

ایران۔امریکہ کشیدگی: سفارت، دھمکی اور اعصاب کی جنگ

امن کی پیشکشیں، جنگی تیاری اور طاقت کی نفسیات

دو ہفتے قبل اسلام آباد امن بیٹھک کی منسوخی اور اس کے بعد امریکی صدر کے آتشیں بیانات نے خطے میں کشیدگی کو نئی شدت دے دی تھی۔ ایسے میں 27 اپریل کو ایران کی جانب سے جوہری معاملات کو مؤخر کرکے آبنائے ہرمز کھولنے اور بحری ناکہ بندی کے خاتمے کی مشروط پیشکش، گھٹن زدہ فضا میں ہوا کا ایک تازہ جھونکا محسوس ہوئی۔ اگلے روز قصرِ مرمریں کی ترجمان محترمہ کیرولائں لیوٹ نے عندیہ دیا کہ امریکی صدر اپنے قومی سلامتی کے مشیروں کے ساتھ اس پیشکش پر غور کر رہے ہیں۔ ساتھ ہی یہ خبر بھی آئی کہ اجلاس کے دوران ہی فون کرکے فیلڈ مارشل عاصم منیر نے صدر ٹرمپ پر زور دیا کہ ایرانی پیشکش قبول کرکے سفارتکاری کو ایک اور موقع دیں۔ تاہم امریکی صدر نے پاکستان کے ذریعے موصول ہونے والی جنگ بندی کیلئے تہران کی نئی پیشکش مسترد کردی اور متکبرانہ لہجے میں فرمایا کہ اگر کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو انہیں ایران کو 'جہنم برد' کرنے کے ممکنہ طریقوں پر بریفنگ دے دی گئی ہے۔

متضاد اشارے: جنگ یا واپسی؟

اسی دوران رائٹرز نے انکشاف کیا کہ امریکی قیادت ایران کے خلاف جنگ میں یکطرفہ فتح کا اعلان کرکے فوجی انخلا پر غور کر رہی ہے، اور اس ضمن میں امریکی خفیہ ایجنسی CIA سے ایران کے ممکنہ ردعمل کا جائزہ لینے کو کہا گیا ہے۔ اگرچہ سی آئی اے کی ترجمان Liz Lyons نے اس خبر کی تردید کی، لیکن واشنگٹن کے سیاسی حلقوں میں اس امکان کو مکمل طور پر مسترد نہیں کیا جا رہا۔

ابھی تجزیہ نگار اس خبر کو کھنگھال ہی رہے تھے کہ یکم جون کو ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی IRNA نے 14 نکاتی نئی تجویز کی خبر جاری کردی جس میں عدم جارحیت کی ضمانت، بحری ناکہ بندی کے خاتمے، آبنائے ہرمز کھولنے اور لبنان سمیت تمام محاذ پر کشیدگی ختم کرنے جیسے اقدامات تجویز کئے گئے ہیں۔ تاہم ان امور کی مکمل تفصیل تاحال سامنے نہیں آئی، جس سے شکوک و شبہات برقرار ہیں۔

امریکی صدر کیلئے ایران کا یہ 14 نکاتی امن منصوبہ قابل قبول نہیں لیکن انہوں نے آبنائے ہرمز کھولنے کیلئے ایک جارحانہ فوجی منصوبہ بھی مسترد کردیا۔ بظاہر یہ فیصلہ جنگ سے گریز کی علامت ہے، مگر اسی کے ساتھ 4 مئی کو امریکی بحریہ نے “Project Freedom” شروع کردیا، جس کے تحت امریکی بحریہ، تجارتی جہازوں کو محفوظ راستہ دینے کی کوشش کر رہی ہے۔ خبروں کے مطابق دو امریکی پرچم بردار جہاز بخیریت گزر گئے، جبکہ  جنوبی کوریا کے ایک جہازکو نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں۔ ایران نے فجیرہ ( متحدہ عرب امارات) بندرگاہ کے آئل ٹرمینل کو بھی نشانہ بنایا جس سے ٹرمینل کے کچھ حصوں میں آگ لگ گئی۔

شاخِ زیتون یا بارود کی پوٹلی؟

اس تمام عرصے میں صدر ٹرمپ اپنے  متصاد بیانات کے ذریعے شاخ زیتون لہراتے اور بارود کی پوٹلی ہلاتے رہے۔ سوشل میڈیا پر انھوں نے انکشاف کیا کہ اپنی معیشت کے تحلیل ہونے کا ایرانی اعتراف کرچکے ہیں اور وہ آبنائے ہرمز کھولنے کو بیچین ہیں۔الجزیرہ کے مطابق صدر ٹرمپ نے کہا کہ وہ ایران کے نئے منصوبہ امن پر غور کررہے ہیں اور ساتھ ہی فرمایا 'خوفناک حملوں' کا راستہ بھی کھلا ہے۔ جواب میں ایران کے رہبر معظم حضرت مجتبیٰ خامنہ ای بولے 'خلیجِ فارس میں امریکیوں کی واحد مناسب جگہ 'اس کے پانیوں کی تہہ ہے' ۔ صدر ٹرمپ کے تضادات اور ایرانی قائد کا سخت ردعمل اس بات کی علامت ہے کہ تنازعہ اب سفارت کاری سے زیادہ نفسیاتی دباؤ کا کھیل بن چکا ہے۔ان آتش فشانیوں کے درمیان ایران کے نائب وزیرخارجہ کاظم غریب آبادی نے نسبتاً معتدل لہجے میں کہا کہ ہم نے معاملے کے پرامن حل کیلئے اپنی تجاویز پیش کردیں ہیں اور گیند اب امریکہ کے کورٹ میں ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ ایران وقت خریدنا اور امریکہ دباؤ بڑھانا چاہتا ہے۔ یاں یوں کہئے کہ تنازعہ اب اعصاب کی جنگ میں تبدیل ہوگیا ہے۔ صدر ٹرمپ بیک وقت دو راستوں پر چلتے دکھائی دے رہے ہیں، ایک طرف براہِ راست جنگ سے گریز، اور دوسری جانب سخت بیانات کے ذریعے شدید دباو۔ گویا میزِ مذاکرات کے نیچے چمکتے ہتھیار۔

عسکری تیاری: سفارت کے سائے میں جنگ

امن بات چیت میں تعطل و تاخیر کوئی غیر معمولی بات نہیں کہ اس طویل و گنجلک تنازعے کی گتھیاں سلجھانے کیلئے  صبروضبط اور حوصلے کی ضرورت ہے اور تجاویز کے تبادلے سے فریقین کی سنجیدگی ظاہر ہوتی ہے لیکن اسی کیساتھ خوفناک فوجی تیاریوں کی خبریں بھی آرہی ہیں۔آن لائن خبر رساں ایجنسی  Axios کے مطابق امریکی عسکری قیادت ایران کے خلاف تیز اور فیصلہ کن کارروائی کے امکانات پر غور کر رہی ہے، جبکہ اسرائیلی فوجی قیادت بھی متحرک ہے۔اسرائیلی جرنیلوں کاکہنا ہے کہ اگر ایران کے افزودہ یورینیم کے ذخیرے کو ختم نہ کیا گیا تو حالیہ جنگ کو “ایک بڑی ناکامی” تصور کیا جائے گا۔ معلوم نہیں یہ اعترافِ ناکامی ہے یا پھر آنے والے کسی بڑے اقدام کیلئے ذہن سازی؟؟؟

معاشی دباؤ: فیصلہ کن یا محدود؟

اگرچہ امریکہ و اسرائیل کی طرف سے ایک فیصلہ کن فوجی کاروائی خارج از امکان نہیں تاہم صد ٹرمپ کا خیال ہے کہ بحری ناکہ بندی ایرانی معیشت کا گلا گھونٹ رہی ہے اور تہران کیلئے بہت دن تک کھڑا رہنا ممکن نہیں۔ جبکہ ایرانی سمجھ رہے ہیں کہ آبنائے ہرمز کی بندش سے پیدا ہونے والا عالمی بحران صدر ٹرمپ کو معقولیت اختیار کرنے پر مجبور کردیگا۔رائٹرز نے ماہرین سے مشوروں کے بعد جو رپورٹ جاری کی ہے اسکے مطابق ایرانی معیشت دباؤ میں تو  ہے لیکن سخت پابندیوں، تیل کی برآمدات میں رکاوٹ اور مالیاتی دباؤ کے باوجود ایرانی نظام مکمل طور پر بکھرتا نظر نہیں آتا۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ بتائی جا رہی ہے کہ نصف صدی پر محیط پابندیوں نے ایرانیوں کو دباو میں جینے کا سلیقہ سکھادیا ہے۔ اس کے برعکس امریکہ کو مہنگائی، عوامی دباؤ اور وسط مدتی انتخابات کا سامنا ہے۔کچھ منچلے کہہ رہے ہیں کہ امریک و اسرائیل، ایران میں رجیم چینج نہ کرسکے لیکن اگر ایرانی صبر سے کھڑے رہے تو نومبر میں امریکہ پارلیمانی محاذ پر رجیم چینج کا مشاہدہ کرسکتا ہے۔ بقول جرمن چانسلر ایران نے میدان اور میز دونوں جگہ امریکہ کو شرمندہ کردیا ہے۔

قزاقی” کا اعتراف؟ سیاسی بیان یااعتراف

الفاظ کا غلط استعمال بھی صدر ٹرمپ کیلئے شر مندگی کا سبب بن رہا ہے۔ گزشتہ دنوں ایک تقریب میں انھوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ جنگ کے دوران ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کرتے ہوئے امریکی بحریہ قزاقوں (Pirates)جیسا” کردار ادا کر رہی تھی۔ مزید وضاحت کرتے ہوئے انھوں نے فرمایا  ہم نے جہاز پر قبضہ کیا، ہم نے اس کا سامان لے لیا، ہم نے تیل لے لیا۔ یہ ایک بہت منافع بخش کاروبار ہے۔ ہم قزاقوں جیسے ہیں کسی حد تک قزاق، مگر ہم کھیل نہیں کھیل رہے۔ جب ایک ریاست کا سربراہ خود اپنی کارروائی کو قزاقی سے تشبیہ دے، تو اسے محض سیاسی بیان سمجھا جائے ہے یا بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کا اقرار؟

خلیج میں نئی صف بندی: طاقت اور توانائی

رجیم چینج اور ایران کی جوہری صلاحیتوں کے خاتمے کےساتھ اسرائیل، مشرق وسطیٰ میں توانائی کے وسائل تک رسائی کا خواہشمند ہے اور اس ضمن میں متحدہ عرب امارات سے اسکے تعلقات بہت ہی نپے تلے انداز میں آگے بڑھ رہے ہیں۔برطانوی اخبار Financial Times کے مطابق اسرائیل نے ایرانی میزائیل اور ڈرونوں کے مقابلے کیلئے لیزر پر مبنی فضائی دفاعی نظام Iron Beam ، میزائیل شکن Iron Domeاور نگرانی کا ایک جدید  نظام Spectro  امارات منتقل کیا ہے۔ اس اسلحے کیساتھ فوجی اہلکار بھی ہیں جنکی تعداد سینکڑوں میں ہے۔ امارات میں  تیل اور گیس کے سارے بڑے میدان عملاً اب اسرائیلی فوج کی زیر حفاظت و نگرانی آچکے ہیں۔ یہ پیش رفت محض دفاعی تعاون نہیں بلکہ خلیج میں نئی عسکری صف بندی اور توانائی کے وسائل پر اسرائیل کے بڑھتے ہوئے اثر رسوخ کا نقطہ آغاز نظرآرہاہے۔

ایران اور امریکہ کے درمیان  کشمکش اب محض جغرافیائی یا عسکری تنازع نہیں رہی، بلکہ یہ ارادوں، اعصاب اور بیانئے کی جنگ بن چکی ہے۔ اسوقت سوال یہ نہیں کہ کون جیتے گا ، بلکہ یہ ہے کہ کون کب تک کھڑا رہ سکے گا؟

ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل کراچی 8 مئی 2026

ہفت روزہ دعوت دہلی 8 مئی 2026

ہفت روزہ رہبر سری نگر 10 مئی 2026