عسکری سفارتکاری، اسرائیلی دباؤ اور ٹرمپ
کی الجھن
کیا ایران۔امریکہ مفاہمت مشرقِ وسطیٰ کو نئی جنگ سے بچاسکے گی؟
مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر تاریخ کے ایک نازک
موڑ پر کھڑا ہے، جہاں جنگی تیاریوں، خفیہ سفارتکاری، معاشی مفادات اور داخلی سیاسی
دباؤ نے مل کر ایک ایسا ماحول پیدا کردیا ہے جس میں ہر بیان، ہر خاموشی اور ہر
تاخیر اپنے اندر کئی معنی سمیٹے ہوئے ہے۔ گزشتہ چند ہفتوں کے دوران ایران اور
امریکہ کے درمیان کشیدگی نے جس تیزی سے رخ بدلے ہیں، اس نے یہ واضح کردیا کہ خطہ
مکمل جنگ اور محدود مفاہمت کے درمیان ایک خطرناک عبوری مرحلے میں ہے۔
منگل 19 مئی
کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے پاس معاہدے کیلئے “چند دن” باقی رہ
گئے ہیں، جبکہ اسرائیلی چینل 12 نے دعویٰ کیا کہ ایران پر ممکنہ حملے کیلئے
اسرائیلی فوجی تیاریوں کو آخری شکل دے دی گئی ہے۔ اسی روز ایرانی ذرائع ابلاغ میں
یہ خبر گردش کرتی رہی کہ رہبرِ معظم آیت اللہ خامنہ ای نے افزودہ یورینیم ایران سے
باہر منتقل نہ کرنے کی ہدایت جاری کی ہے۔ ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزیشکیان نے اس
مؤقف کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ سفارتی حل کے تمام راستے کھلے ہیں، لیکن دباؤ اور
جبر کے ذریعے ایران کو ہتھیار ڈالنے پر مجبور کرنے کا خیال محض ایک فریب ہے۔
مکتوبِ
ارادہ اور پسِ پردہ رابطے
اسی کشیدہ ماحول میں قطر اور پاکستان کی
پسِ پردہ سفارتکاری سے متعلق اطلاعات سامنے آئیں۔ بتایا گیا کہ دونوں ممالک نے
واشنگٹن اور تہران کو ایک “مکتوبِ ارادہ” (Letter of Intent) کا
ابتدائی مسودہ بھیجا ہے، جو ممکنہ طور پر جنگ کے خاتمے کا سیاسی فریم ورک بن سکتا
ہے۔ اطلاعات کے مطابق اس مسودے پر دستخط کے بعد 30 روزہ مذاکراتی عمل شروع ہونا
تھا، جس میں آبنائے ہرمز کی بحالی، ایران کے جوہری پروگرام کی حدود اور خطے میں
کشیدگی کم کرنے جیسے معاملات زیرِ بحث آتے۔ ان سفارتی کوششوں میں سعودی عرب، ترکیہ
اور مصر سے بھی مشاورت کی گئی۔
اس خبر کو اس وقت مزید تقویت ملی جب صدر
ٹرمپ نے اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کو فون پر بتایا کہ وہ سفارتکاری کو
ایک موقع دینے کیلئے حملے روک رہے ہیں۔ تاہم صرف دو روز بعد ان کا لہجہ بدل گیا۔وہ
21 مئی کی شب یہ کہتے سنے گئے کہ “فیصلہ کن فتح” کیلئے ایران پر مزید حملوں کے سوا
شاید کوئی راستہ باقی نہیں رہا۔ معاہدۂ امن اور جنگ کے امکانات “ففٹی ففٹی” قرار
دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر کوئی معاہدہ طے نہ پاسکا تو ایران کے خلاف بھرپور
عسکری کارروائی دوبارہ شروع کی جاسکتی ہے۔
صورتحال اس وقت مزید سنسنی خٰیز ہوگئی جب
یہ خبر سامنے آئی کہ صدر ٹرمپ نے اپنے
صاحبزادے ڈونلڈ ٹرمپ جونیئر کی بہاماس میں ہونے والی شادی میں شرکت سے معذرت کرلی ہے
تاکہ وہ بحران پر مسلسل نظر رکھ سکیں۔
تہران میں عاصم منیر کی سفارتکاری، مجوزہ MOU اور باہمی فائدے کا بندوبست
اس دوران فیلڈ مارشل سید عاصم منیر تہران
پہنچے، جہاں انہوں نے ایرانی قیادت سے تفصیلی ملاقاتیں کیں۔ انہی ملاقاتوں کے
دوران ایک مفاہمتی یادداشت
(MOU) کا ابتدائی خاکہ
سامنے آنے کی اطلاعات ملیں۔ ایرانی پارلیمان کے اسپیکر باقر قالیباف نے جنرل عاصم
سے ملاقات کے بعد کہا کہ ایران میز اور میدان دونوں کیلئے تیار ہے، تاہم اگر
واشنگٹن نے دوبارہ حملہ کیا تو ایران کا جواب پہلے سے زیادہ شدید ہوگا۔
آن لائن خبر رساں ادارے Axios نےاس یادداشت کے جو مندرجات نکات
شائع کئے، اسکے مطابق ساٹھ روزہ جنگ بندی کے دوران آبنائے ہرمز بغیر کسی اضافی
محصول یا Toll کے
کھلی رہے گی، جبکہ ایران اپنی بچھائی گئی بحری بارودی سرنگیں صاف کرے گا تاکہ
عالمی تجارت متاثر نہ ہو۔ اس کے بدلے امریکہ ایران کی بحری ناکہ بندی ختم کردیگا
اور ایرانی تیل کی فروخت پر پابندیوں میں جزوی نرمی لائی جائے گی۔
اگر مجوزہ MOU کا
غیر مصدقہ متن درست ہے تو یہ بظاہر ایک ایسا “باہمی فائدے کا بندوبست” محسوس ہوتا
ہے جسے دونوں فریق اپنی اپنی کامیابی کے طور پر پیش کرسکتے ہیں۔ تہران یہ دعویٰ
کرسکتا ہے کہ شدید عسکری دباؤ کے باوجود اس نے اپنے جوہری پروگرام سے مکمل
دستبرداری اختیار نہیں کی، لہٰذا یہ “مزاحمت کی کامیابی” ہے۔ دوسری طرف صدر ٹرمپ
اپنے حامیوں کو یہ باور کراسکتے ہیں کہ ایران کو عالمی نگرانی، محدود افزودگی اور
آبنائے ہرمز کھولنے پر آمادہ کرلیا گیا ہے۔ گویا یہ مفاہمت ایرانی سخت گیر حلقوں
اور امریکی قدامت پسندوں، دونوں کیلئے “فتح کے بیانئے” کی بنیاد بن سکتی ہے۔
اسرائیلی
تشویش اور ریپبلکن دباؤ
تاہم اسرائیل اور امریکہ کے قدامت پسند
حلقے اس ممکنہ
MOU سے مطمئن دکھائی
نہیں دیتے۔ اس معاہدے میں فوری توجہ جنگ بندی، آبنائے ہرمز کی بحالی اور معاشی
دباؤ میں نرمی پر مرکوز ہے، جبکہ ایران کے جوہری پروگرام کا بنیادی تنازع آئندہ
مذاکرات تک مؤخر کردیا گیا ہے۔ اہم بات یہ بھی ہے کہ امریکہ نے اسرائیل کو ان
مذاکرات سے عملاً دور رکھا، جس سے تل ابیب کے خدشات مزید بڑھ گئے ہیں۔
اسرائیلی حزبِ اختلاف کے رہنما ایوگڈور
لائبرمین نے چینل 12 سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ نیتن یاہو نے اسرائیل کو “Banana Republic” یا ایک ناکام ریاست میں تبدیل کردیا ہے۔ ان
کے مطابق یہ معاہدہ اسرائیل کیلئے تباہ کن ثابت ہوسکتا ہے کیونکہ اس کے نتیجے میں
تہران کی سخت گیر قیادت مزید مضبوط ہوگی۔ دوسری طرف امریکی ریپبلکن پارٹی کے
اسرائیل نواز سینیٹرز، خصوصاً ٹیڈ کروز اور لنڈسے گراہم، بھی اس مجوزہ MOU پر
شدید تحفظات کا اظہار کررہے ہیں۔ امریکی سیاست میں مشرقِ وسطیٰ سے متعلق پالیسیوں
پر ترغیب کاری
(Lobbying) کے
اثرات ایک ناقابلِ تردید حقیقت ہیں، لہٰذا ان بیانات کو اسی سیاسی تناظر میں
سمجھنا ہوگا۔
ہیں اس بتِ پُر فن کی ہر بات کے سوپہلو
اسی دوران صدر ٹرمپ کے تازہ بیانات نے پورے
سفارتی منظرنامے میں نئی پیچیدگیاں پیدا کردی ہیں۔ انہوں نے اپنے مذاکرات کاروں کو
ہدایت کی ہے کہ ایران کے ساتھ معاہدے میں “جلد بازی نہ کی جائے کیونکہ وقت ہمارے
حق میں ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے واضح کیا کہ آبنائے ہرمز میں امریکی ناکہ بندی اُس
وقت تک برقرار رہے گی جب تک معاہدے پر دستخط نہ ہوجائیں۔منگل 26 مئی
کو کابینہ اجلاس سے پہلے صدر ٹرمپ نے
مجوزہ MOU کے
بارے میں ایک بار پھر متضاد اور مبہم مؤقف اختیار کیا۔ انہوں نے مفاہمتی یادداشت
کو “پائیدار امن کیلئے اچھی بنیاد” کہا اور اسی سانس میں اس خبر کو “تراشہ ہوا
افسانہ” کہہ کر مسترد بھی کردیا۔ یہ تضاد محض سفارتی ابہام نہیں بلکہ داخلی سیاسی
دباؤ کی علامت محسوس ہوتا ہے۔
عمان،
ابراہیم معاہدہ اور نئی شرائط
زیادہ حیرت انگیز پہلو عمان کے بارے میں ان
کا سخت لہجہ تھا، حالانکہ یہی عمان برسوں سے امریکہ اور ایران کے درمیان ایک
باوقار اور قابلِ اعتماد ثالث کا کردار ادا کرتا رہا ہے۔ خود امریکی ایلچی اسٹیو
وٹکاف ماضی میں مسقط کی خاموش سفارتکاری اور دیانت دار ثالثی کی تعریف کرچکے
ہیں۔اسی دوران صدر ٹرمپ نے ایران کے ساتھ کسی ممکنہ معاہدے کو “معاہدۂ ابراہیم” سے
جوڑنے کی کوشش بھی کی۔انہوں نے قطر، سعودی عرب اور پاکستان پر زور دیا کہ ایران سے
معاہدے کے بعد وہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات بحال کریں۔ تاہم غزہ، مسجد اقصیٰ اور
فلسطینی صورتحال کے موجودہ تناظر میں یہ مطالبہ حقیقت پسندانہ نہیں دکھائی دیتا۔
ایران، صدر ٹرمپ کے گلے میں پھنسی چھجھوندر
بن گیا ہے جسے نگلنامشکل تو اگلنا بھی آسان نہیں۔ایران کے خلاف عسکری دباؤ انھیں
کامیابی نہ دلاسکا اورامریکی عسکری حلقوں کو بخوبی اندازہ ہے کہ جوہری اثاثوں پر
مکمل کنٹرول کسی وسیع زمینی مہم کے بغیر ممکن نہیں۔ افغانستان کے تجربات ابھی
امریکی حافظے سے محو نہیں ہوئے، جبکہ ایران، افغان طالبان کے مقابلے میں نہ صرف کہیں بڑی عسکری قوت ہے بلکہ اس کے علاقائی اتحادی بھی
پورے خطے میں سرگرم ہیں۔ دوسری طرف اسرائیل نواز ریپبلکن حلقوں کا اصرار ہے کہ
ایران کے ساتھ کوئی بھی مفاہمت “کمزوری” دکھائی نہ دے۔
لبنان:
مفاہمت کا سب سے نازک محاذ
لبنان بھی اس پوری
مفاہمتی کوشش کا ایک حساس اور ممکنہ طور پر خطرناک پہلو بنتا جارہا ہے۔ الجزیرہ کے
مطابق ایران نے امریکہ کو خبردار کیا ہے کہ اگر اسرائیل نے بیروت پر بڑا حملہ کیا
تو جنگ بندی اور علاقائی مفاہمت کیلئے جاری مذاکرات خطرے میں پڑسکتے ہیں۔ یہ محض
ایک سفارتی انتباہ نہیں بلکہ ایران۔امریکہ مفاہمتی عمل کیلئے ایک سنجیدہ اشارہ ہے۔
مجوزہ MOU میں
جنگ بندی کا دائرہ لبنان تک بڑھانے پر زور دیا جارہا ہے، جبکہ دوسری طرف اسرائیلی
فوج جنوبی لبنان سے کارروائیوں کا دائرہ وسیع کرکے بیروت تک لے جانے کی تیاری کرتی
دکھائی دے رہی ہے۔
یوں محسوس ہوتا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ اس وقت
صرف ایران اور امریکہ کے درمیان مفاہمت یا محاذ آرائی کے سوال سے نہیں گزر رہا،
بلکہ اصل کشمکش اس بات پر ہے کہ خطے کا مستقبل جنگی غلبے سے طے ہوگا یا سفارتی
توازن سے۔ لبنان، غزہ، آبنائے ہرمز اور تہران اب ایک ہی تزویراتی زنجیر کی کڑیاں
بن چکے ہیں۔ چنانچہ بیروت میں بھڑکنے والی ایک چنگاری بھی واشنگٹن اور تہران کے
درمیان جاری مفاہمت کو راکھ بناسکتی ہے۔ خطہ اس وقت مکمل امن اور کھلی جنگ کے
درمیان ایک ایسے عبوری مرحلے میں داخل ہوچکا ہے جہاں میز پر سفارتکاری جاری ہے،
مگر میز کے نیچے انگلیاں اب بھی لبلبی پر ہیں۔
ہفت روزہ فرائیڈے اسہیشل کراچی 29 مئی 2026
ہفت
روزہ دعوت دہلی 29 مئی 2026
ہفت رزہ رہبر سرینگر 31 مئی 2026
No comments:
Post a Comment