سفارتکاری، آبنائے ہرمز، خلیجی ثالثین اور ایک ممکنہ نئے تصادم کی
آہٹ
امریکہ کی 14 نکاتی مفاہمتی یادداشت (MOU) کے ایرانی جواب کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مسترد
کرتے ہوئے آبنائے ہرمز بزورِ طاقت کھلوانے کیلئے “Operation Freedom Plus” شروع کرنے کا عندیہ دیا تھا، مگر ایک ہفتہ
گزر جانے کے باوجود اس ضمن میں کوئی بڑی عسکری پیش رفت سامنے نہیں آئی۔ تاہم
امریکی بحریہ کی حالیہ سرگرمیوں اور اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو کی
ہنگامی کابینہ اجلاسوں کو دیکھتے ہوئے یہ تاثر ضرور پیدا ہورہا ہے کہ ایران پر
اچانک اور شدید حملے کا امکان مکمل طور پر خارج از امکان نہیں۔
چین سے واپسی پر 16 مئی کو صدر ٹرمپ نے
اپنے نجی سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر “طوفان سے پہلے کا سکوت” کے عنوان سے ایک علامتی
تصویر پیش کی، جس میں وہ اپنے امیرالبحر کے ساتھ آبنائے ہرمز میں دشمن کو للکارتےنظر
آرہے ہیں۔اس پوسٹ نے تجزیہ نگاروں کے اس خدشے کو مزید تقویت دی کہ ایران کے خلاف
کسی بڑے عسکری اقدام کی تیاری جاری ہوسکتی ہے۔ دوسری طرف امریکی نائب صدر جے ڈی
وینس مسلسل یہ کہہ رہے ہیں کہ ایران کے ساتھ بات چیت جاری ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے
کہ واشنگٹن ایک ہی وقت میں سفارتکاری اور عسکری دباؤ، دونوں راستے کھلے رکھنا چاہتا
ہے۔
دورہ چین
اور ایران ۔۔ مفاہمت کے ساتھ مقابلہ کی
نئی حکمتِ عملی
بعض ماہرین کے مطابق صدر ٹرمپ کے حالیہ
دورۂ چین کے ایجنڈے میں ایران ایک اہم موضوع تھا۔ خیال کیا جارہا ہے کہ صدر ٹرمپ
نہ صرف اقتصادی اور تجارتی معاملات پر بات کرنا چاہتے تھے بلکہ وہ یہ بھی جاننا
چاہتے تھے کہ ایران پر کسی نئے حملے کی صورت میں بیجنگ کا ردعمل کیا ہوگا۔صدر ٹرمپ
ایسے وقت چین پہنچے جب ایران، باہمی تجارت، تائیوان اور عالمی معیشت کے معاملات پر
واشنگٹن اور بیجنگ کے درمیان اختلافات شدید دکھائی دے رہے تھے۔ مگر ان اختلافات کے
باوجود دونوں قیادتوں کے لہجوں میں براہِ راست محاذ آرائی کے بجائے “مفاہمت کے ساتھ
مقابلہ” کا رجحان نمایاں نظر آیا۔صدر شی جن پنگ نے صدر ٹرمپ کو “دوست” قرار دیتے
ہوئے دونوں ممالک کے درمیان “تعمیری، تزویراتی اور مستحکم تعلقات” کی خواہش ظاہر
کی، جبکہ صدر ٹرمپ نے بھی تعاون اور بات چیت کی اہمیت پر زور دیا۔ بظاہر ایسا
محسوس ہوتا ہے کہ ایران، عالمی تجارت اور دیگر بین الاقوامی معاملات پر دونوں
رہنما مکمل اتفاقِ رائے نہ ہونے کے باوجود تصادم کے بجائے مذاکرات کے دروازے کھلے
رکھنا چاہتے ہیں۔
تائیوان:
چین کی سرخ لکیر
تاہم تائیوان کے معاملے پر چین نے ایک
مرتبہ پھر اپنا مؤقف انتہائی سخت انداز میں دہرایا۔ صدر شی نے واضح کیا کہ اگر
واشنگٹن نے اس “سرخ لکیر” کو چھیڑا تو دونوں طاقتیں خطرناک تصادم کی طرف بڑھ سکتی
ہیں۔ بیجنگ تائیوان کو اپنے قومی وجود اور علاقائی سالمیت کا حصہ سمجھتا ہے، اسلئے
اس معاملے پر کسی قسم کی نرمی دکھانے کیلئے تیار نظر نہیں آتا۔دوسری طرف امریکہ
کیلئے تائیوان صرف جغرافیائی یا عسکری مسئلہ نہیں بلکہ جدید صنعتی معیشت، خصوصاً
الیکٹرانک اور نیم موصل
(Semi-Conductor) صنعت
کا کلیدی ستون ہے۔ اسی وجہ سے واشنگٹن ایک آزاد اور محفوظ تائیوان کو اپنی صنعتی
اور تزویراتی ضرورت سمجھتا ہے۔
اس دورے میں ٹیسلا (Tesla)، ایپل (Apple)،
بوئنگ (Boeing)، میٹا (Meta)،
جنرل الیکٹرک
(GE) اور گولڈمین سیکس (Goldman Sachs) سمیت دو درجن سے زیادہ بڑی کمپنیوں کے
سربراہان بھی صدر ٹرمپ کے وفد میں شامل تھے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ایران اور
عالمی سیاست کے ساتھ ساتھ تجارت اور معیشت دونوں قیادتوں کی اولین ترجیح ہیں۔
بیجنگ میں صدر ٹرمپ کا والہانہ استقبال بھی اس حقیقت کی نشاندہی کرتا ہے کہ دنیا
کی دو بڑی اقتصادی طاقتیں سخت مقابلے کے باوجود تعاون اور مفاہمت کی خواہش رکھتی
ہیں۔
نایاب
معدنیات ۔۔ ترپ کا چینی پتہ
دورے کے بعد آنے والی خبروں کے مطابق چین
بوئنگ طیاروں اور امریکی کسانوں سے سویابین کی خریداری دوبارہ شروع کرنے پر آمادہ
ہوگیا ہے، جبکہ نایاب معدنیات
Rare Earth Elements یا REEs کی
امریکہ برآمدات پر عائد پابندیاں نرم کرنے پر بھی غور کیا جارہا ہے۔ یہ 17 نایاب
معدنیات سمارٹ فون، کمپیوٹر، لیتھیم بیٹری، طبی آلات اور جدید دفاعی صنعت کیلئے
ناگزیر سمجھی جاتی ہیں۔ ان کے تقریباً 90 فیصد ذخائر چین میں موجود ہیں۔ چینی
درآمدات پر امریکی محصولات کے جواب میں بیجنگ نے ان معدنیات کی برآمد محدود کردی
تھی، جس نے امریکی صنعت کو شدید تشویش میں مبتلا کردیا۔
ایران
پر بات ہوئی یا نہیں؟
چین روانگی سے قبل صدر ٹرمپ نے واشنگٹن میں
دوٹوک انداز میں کہا تھا کہ ایران کے خلاف جنگ ختم کرنے کیلئے انہیں چین سے کسی
مدد کی ضرورت نہیں اور امریکہ یہ جنگ “ایک نہ ایک طریقے سے جیت ہی جائے گا”۔ تاہم
ملاقات کے بعد فوکس نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے دعویٰ کیا کہ صدر شی نے
ایران کو اسلحہ نہ دینے کی یقین دہانی کرائی ہے۔اگرچہ چینی سرکاری ذرائع نے اس
دعوے کی تصدیق یا تردید نہیں کی لیکن امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے بھی یہ
تسلیم کیا کہ مذاکرات کے دوران ایران پر گفتگو ہوئی۔ ان کا کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ
نے بیجنگ سے براہِ راست مدد طلب نہیں کی۔ عالمی سیاست اور توانائی کی منڈیوں کو
دیکھتے ہوئے یہ ماننا مشکل ہے کہ ایران اس ملاقات کا مرکزی موضوع نہیں تھا۔ چین
ایرانی تیل کا سب سے بڑا خریدار ہے اور وینزویلا میں امریکی مداخلت کے بعد بیجنگ
کا انحصار ایرانی توانائی پر مزید بڑھ گیا ہے۔
ٹرمپ
کے لہجے میں تبدیلی ۔ مستقل خاتمے سے 20 سالہ معطلی تک
چین سے واپسی پر ایئر فورس ون میں صحافیوں
نے جب صدر ٹرمپ سے پوچھا کہ کیا ایران کے جوہری پروگرام کی 20 سالہ معطلی ان کیلئے
قابل قبول ہوگی؟ تو انہوں نے کہا بیس سال کافی ہیں، مگر ضمانت حقیقی ہونی چاہیے۔
یہ بیان غیرمعمولی اہمیت رکھتا ہے، کیونکہ
ماضی میں صدر ٹرمپ یورینیم افزودگی بالکل ختم کرنے کا مطالبہ کرتے رہے ہیں۔ اب ان
کے لہجے میں نسبتاً لچک محسوس ہورہی ہے۔چین کیلئے ایرانی تیل کی خریداری پر ممکنہ
نرمی اور جوہری پروگرام کی عارضی معطلی پر آمادگی سے اندازہ ہوتا ہے کہ بیجنگ میں
ایران پر تفصیلی گفتگو ہوئی ہے۔ شاید واشنگٹن کو یہ احساس ہورہا ہے کہ ایران کے
مکمل جوہری انخلا کا مطالبہ عملی طور پر ناقابلِ حصول ہے، اسلئے اب ایک ایسا
معاہدہ تلاش کیا جارہا ہے جسے سیاسی کامیابی کے طور پر پیش کیا جاسکے۔ تاہم اصل اور شاید سب سے اہم
سوال یہ ہے کہ کیا اس قسم کی مفاہمت اسرائیل کیلئے قابل قبول ہوگی؟ نیتن یاہو،
جوہری پروگرام کے ساتھ ایران کے اسلامی تشخص، جغرافیائی وحدت اور ایرانی تزویراتی
طاقت کا مکمل خاتمہ چاہتے ہیں۔ اور یہ بھی ایک عملی حقیقت ہے کہ صدر ٹرمپ درحقیقت
نیتن یاہو کی جنگ لڑ رہے ہیں۔
اسرائیل
اور امارات ۔۔ نئی صف بندیاں اور بڑھتی ہوئی بداعتمادی
اسی دوران متحدہ عرب امارات کے حوالے سے
ایرانی قیادت کے بیانات بھی سخت ہوتے جارہے ہیں۔ گزشتہ ہفتے وال اسٹریٹ جرنل پر یہ
انکشاف سامنے آیا کہ ایران کے خلاف امریکی واسرائیلی حملوں کے دوران امارات نے
خفیہ فضائی کارروائیوں میں حصہ لیاتھا۔ اس پر ردعمل دیتے ہوئے ایرانی وزیرِ خارجہ
عباس عراقچی نے کہا کہ ایران کے خلاف عسکری مہم کے دوران نیتن یاہو نے ابوظہبی کا
خفیہ دورہ کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ایران کے عظیم عوام سے دشمنی ایک احمقانہ جُوا
ہے، اور اس مقصد کیلئے اسرائیل سے گٹھ جوڑ ناقابلِ معافی ہے۔یہ بیانات اس تاثر کو مضبوط
کرتے ہیں کہ خلیج میں بداعتمادی کی نئی لہر جنم لے رہی ہے۔
پاکستان
کا بڑھتا ہوا سفارتی کردار ۔۔
ادھر پاکستان کے ثالثی کردار پر بھی سوالات
اٹھنا شروع ہوگئے ہیں۔ بعض امریکی ذرائع ابلاغ نے دعویٰ کیا کہ ایران نے اپنے بعض
فوجی طیارے پاکستانی فضائی اڈوں پر منتقل کئے تھے۔ پاکستانی دفترِ خارجہ نے ان
خبروں کو “گمراہ کن اور سنسنی خیز” قرار دیتے ہوئے وضاحت کی کہ یہ آمد صرف لاجسٹک
ضروریات کیلئے تھی۔ریپبلکن سینیٹر لنڈسے گراہم نے اس معاملے کو سینیٹ کی دفاعی
کمیٹی میں اٹھاتے ہوئے کہااگر واقعی ایرانی طیارے پاکستان میں موجود ہیں تو ہمیں کوئی
اور ثالث تلاش کرنا چاہیے۔امریکی وزیرِ جنگ پیٹ ہیگسیتھ اور چیئرمین جوائنٹ چیفس
جنرل ڈین کین نے اس معاملے پر تبصرے سے گریز کیا، جبکہ صدر ٹرمپ نے پاکستان کے
کردار کا دفاع کرتے کہا کہ“وہ بہت اچھے لوگ ہیں۔ فیلڈ مارشل اور
وزیراعظم absolutely great ہیں۔”
شدید پروپیگنڈے کے باوجود پاکستان کا
سفارتی اثر و رسوخ بڑھتا دکھائی دے رہا ہے۔ رائٹرز کے مطابق عراق اور پاکستان نے
ایران کے ساتھ توانائی اور تجارتی راہداریوں پر اہم سمجھوتے کئے ہیں، جبکہ آبنائے
ہرمز اور LNG رسد
کے معاملات میں بھی اسلام آباد متحرک کردار ادا کررہا ہے۔
اسی دوران صدر ٹرمپ نے اپنے ایک ٹویٹ میں
کہا کہ وہ امیرِ قطر، سعودی ولی عہد اور متحدہ عرب امارات کے صدر، اپنے “عظیم
خلیجی دوستوں” اور اتحادیوں کے مشورے پر ایران کے خلاف مجوزہ بھرپور حملہ مؤخر
کررہے ہیں تاکہ سفارتکاری کو ایک اور موقع دیا جاسکے۔ تاہم انہوں نے یہ بھی واضح
کیا کہ “ایک لمحے کے نوٹس پر بھرپور حملے” کی تیاری برقرار رکھی جائے گی۔ گویا
واشنگٹن عسکری دباؤ اور سفارتی مذاکرات کو بیک وقت آگے بڑھانے کی حکمتِ عملی
اختیار کئے ہوئے ہے۔ یعنی سجی
سنوری میزِ مذاکرات کے ساتھ طیارہ بردار بحری بیڑے بھی پوری تیاری کے ساتھ موجود رہیں
گے۔قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے قائدین کو ثالث اور ضامن کے طور پر پیش
کرنے سے یہ تاثر بھی ابھرتا ہے کہ خلیجی ریاستیں محض تماشائی نہیں رہیں بلکہ ممکنہ
معاہدے کی شریکِ کار بنتی جارہی ہیں۔ شاید خطے میں ایک نئی علاقائی سفارتکاری جنم
لے رہی ہے جس میں عرب دارالحکومت، واشنگٹن اور تہران کے درمیان رابطہ کار اور دباؤ
کے توازن کا کردار ادا کریں گے۔ بعض ماہرین کے مطابق خلیجی قیادت کو یہ خدشہ لاحق
ہے کہ اگرچہ امریکی یا اسرائیلی حملے کا براہِ راست عسکری جواب ایران کیلئے آسان
نہ ہوگا، لیکن تہران جوابی حکمتِ عملی کے طور پر خلیجی ممالک کی تیل تنصیبات، آب
نوشی کے مراکز اور دیگر اہم تنصیبات کو نشانہ بناکر جنگ کا دائرہ وسیع کرسکتا ہے،
تاکہ عالمی طاقتوں کو جنگ بندی کیلئے امریکہ پر دباؤ ڈالنے پر مجبور کیا جاسکے۔
ایران، امریکہ اور چین کی یہ کشمکش اب صرف
عسکری تنازع نہیں رہی۔ اس میں عالمی تجارت، توانائی، تائیوان، خلیجی سیاست اور بین
الاقوامی سفارتکاری سب ایک دوسرے سے جڑ چکے ہیں۔ صدر ٹرمپ ایک طرف عسکری دباؤ
بڑھاتے دکھائی دیتے ہیں تو دوسری جانب مذاکرات کیلئے گنجائش بھی باقی رکھنا چاہتے
ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اگر واشنگٹن واقعی کسی درمیانی راستے کی طرف بڑھتا ہے تو کیا
اسرائیل اس لچک کو قبول کرے گا؟ اور اگر نہیں، تو کیا “سکوتِ قبلِ طوفان” واقعی
ایک بڑے تصادم کا پیش خیمہ ہے، یا پھر دنیا ایک نئی طاقتور مفاہمت کے دہانے پر کھڑی
ہے؟
ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل کراچی 21 مئی 2026
ہفت
روزہ دعوت دہلی 21 مئی 2026
ہفت روزہ رہبر سرینگر 23 مئی 2026
No comments:
Post a Comment