لبنان
و غزہ: سفارت کاری کی ناکامی یا طاقت کی نئی حکمتِ عملی؟
عبوری جنگ بندیوں اور سفارتی بیانات کے شور
میں مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر اس حقیقت کی یاد دہانی کرا رہا ہے کہ امن اور زمینی
حقائق کے درمیان مہلک خلیج بہت گہری ہے۔ حالیہ جنگ بندی کوامن کی تمہید سمجھا جائے
یا محض ایک وقفہ اور ایک بڑے طوفان سے پہلے کی خاموشی؟
لبنان:
جنگ بندی یا جاری محاذ آرائی؟
عبوری جنگ بندی اور امن بات
چیت کے باوجود لبنان اور غزہ پر اسرائیلی حملے جاری ہیں۔ لبنانی ہلال احمر کے
مطابق 2 مارچ کی جنگ بندی کے بعد سے
اپریل کے آخر تک اسرائیلی حملوں میں 2659 لبنانی شہری جاں بحق ہوچکے ہیں۔صدر ٹرمپ
مصر ہیں کہ لبنانی صدر جوزف خلیل عون اسرائیلی وزیراعظم سے براہ
راست مذاکرات کریں لیکن لبنان
کی سرکاری پالیسی کے مطابق اسرائیل کو باضابطہ تسلیم نہ کرنے کی وجہ سے ایسا
مکالمہ ناممکن حد تک پیچیدہ اور محدود نوعیت کا حامل ہے۔
غزہ:
جنگ بندی کے باوجود بمباری اور بڑی جنگ کی تیاری
غزہ پر اسرائیلی فوج کی بمباری اور ڈرون حملے جاری ہیں۔ مختلف
علاقوں پر بمباری سے متعدد افراد جاں بحق ہوئے۔خان یونس میں 9 سالہ عادل النجار
اسرائیلی درندگی کا نشانہ بنا اور ڈرون حملے میں اس پھول سے بچے کا جسم بکھر گیا۔اسرائیلی
فوج اب ایک بڑی فوجی کاروائی کا منصوبہ بنارہی ہے جسکی تفصیلات طئے کرنے کیلئے
وزیراعظم نیتن یاہو نے اپنی ہنگامی کابینہ کا اجلاس طلب کرلیا ہے۔ اس
کی وجہ مزاحمتی گروہوں کا غیر مسلح ہونے سے انکار بتایا جا
رہا ہے,،مزاحمت کار، اسرائیلی انخلا
اور آزاد فلسطینی ریاست کے قیام سے پہلے غیر مسلح ہونے کو تیار نہیں۔ صدرٹرمپ کی
تشکیل کردہ مجلس السلام یا Board of Peace نے مزاحمت کاروں سے11 اپریل تک ہتھیار ڈالنے کو کہا تھا جسے اہلِ
غزہ نے مسترد کردیا۔ یہ نئی پیشرفت تعطل اس بات کی نشاندہی کرتی
ہے کہ مذاکراتی عمل ابھی ابتدائی اور غیر مستحکم مرحلے میں ہے۔
عبادت
گاہوں اور مقدسات کی توہین
اس ہفتے
لبنان میں کئی مسیحی عبادت گاہیں اسرائیلی بمباری کا نشانہ بنیں۔ جنوبی
لبنان کے شہر یارون میں بمباری سے کیتھولک مسیحیوں کی خانقاہ (Monastery) کو نقصان پہنچا۔ اس سے پہلے
ایک اسرائیلی فوجی نے ہتھوڑے کے وار سے حضرت عیسیٰؑ کے مجسمے کو توڑ دیا تھا۔
انتہا پسندوں کی حوصلہ افزائی کی وجہ سے دوسرے مذاہب کے متبرکات کی توہین اور
حملوں میں شدت آتی جارہی ہے۔ یکم مئی کو ایک فرانس نژاد راہبہ (nun) بیت المقدس کے بابِ داودؑ
کے قریب سے گزرہی تھی کہ 36 سالہ اسرائیلی نے
بلا اشتعال اس نہتی عورت کو لات ماردی جسکی ضرب سےیہ کمزور عورت زمین پر
گرپڑی۔سفاک
شخص کی اس پر بھی تسلی نہ ہوئی تو اس نے ٹھوکریں مار کر راہبہ کو زخمی کردیا۔
“معذور دہشت گرد” ؟ ایک چونکا دینے والا
واقعہ
مشرقی یروشلم میں شعفاط مہاجر کیمپ کے قریب ڈاون سنڈروم (Down Syndrome) کا شکار ایک لڑکا مہدی
العربی فوجی ٹرک دیکھ کر خوف سے بھاگنے لگا۔ تعاقب کرکے مسلح سپاہیوں نے اسے پکڑکر
تشدد کا نشانہ بنایا۔ مہدی کے خلاف دہشت گردی کا پرچہ کاٹا گیا ہے۔ ڈاؤن سنڈروم
ایک پیدائشی جینیاتی کیفیت ہے جس سے جسمانی ساخت میں مخصوص خصوصیات، سیکھنے کی
رفتار میں سستی اور بعض اوقات صحت سے متعلق مسائل (جیسے دل کے امراض) دیکھنے میں آ
سکتے ہیں۔
سیاسی
بیانیہ اور نفرت کا اظہار
انتہا پسند وزیرِاندرونی سلامتی اور عظمتِ یہود پارٹی کے سربراہ،
اتامر بن گوئر نے اپنی 50 ویں پر جو کیک کاٹا اس پر پھانسی کے پھندے کے ساتھ
عبرانی میں 'دہشت گردوں کی موت 'لکھا تھا۔یہ درصل اسرائیلی کنیسہ (پارلیمان) میں
چند ہفتہ قبل منظور کئے جانیوالے اس قانون کا حوالہ تھا جس کے مطابق عدالت سے دہشت
گردی کا الزام ثابت ہوجانے والے فلسطینیوں کو پھانسی کے ذریعے سزائے موت دی جائیگی۔
فلسطینیوں سے یکجہتی کے اظہار کے لئےایک برطانوی نژاد اسرائیلی
ماہرِ تعلیم و مصنف Alex Sinclair نے اپنی مذہبی ٹوپی، المعروف کِپّاہ پر اسرائیلی اور فلسطینی پرچم
اکٹھے بُنوا کر اس کی تصویر فیس بک پر نصب کردی۔موصوف فوراً دھر لئے گئے ۔ پوچھ
گچھ کے بعد انہیں اس تنبیہ کے ساتھ رہا کیا گیا کہ وہ آئندہ اس نوعیت کی
“شرپسندانہ حرکت” سے گریز کریں گے۔ رہائی سے قبل ان کی ٹوپی سے فلسطینی پرچم کاٹ
کر کِپّاہ انھیں واپس کی گئی۔
جنگی جنون کی ایک اور مثال لبنان کی سرحد پر واقع شہر کریات شمعونہ میں جنگ بندی کے خلاف مظاہرہ تھا جس کی قیادت رئیسِ
شہر نے خود کی۔ موصوف پلے کارڈ لئے کھڑے تھے جس پر عبرانی میں لکھاتھا
'جنگ بندی، مزاحمت کاروں کے ہاتھ مضبوط کرنے کی ایک کوشش ہے'
قافلہ
صمود
غزہ کی ناکہ بندی توڑ کر امدادی سامان پہنچانے کی ایک اور کوشش
ناکام ہوگئی اور اسرائیلی بحریہ نے یونانی جزیرے کریٹ کے قرہب 58 کشتیوں پر قبضہ
کرکے سینکڑوں کارکنوں کو گرفتار کرلیا۔ پاکستان کے سابق سینیڑ مشتاق احمد خان سمیت
تمام کارکن رہا کردئے گئے، لیکن برازیل کے Thiago Avila اور
فلسطین نژاد ہسپانوی شہری سیف ابوکیشک تادم تحریر زیرحراست ہیں۔ غیر انسانی ناکہ بندی کےخلاف باضمیر دنیا کی
مزاحمت 2010 سے جاری ہے جب ترک کشتی ماوی مرمرہ (MV Mavi Marmara)کی قیادت میں چھ کشیتیوں پر
مشتمل پہلا Freedom Flotilla غزہ روانہ ہوا۔اس قافلے میں
پاکستان کے مشہور صحافی طلعت حسین بھی شامل تھے۔ جب فلوٹیلا غزہ سے 190 کلومیٹر
دور تھا تو ہیلی کاپٹروں کی مدد سے اسرائیلی کمانڈو ان کشتیوں پر اترآئے، انکی
اندھا دھند فائرنگ سے 10 ترک کارکن جاں بحق ہوئے تھے۔
امریکی
بیانیہ: تنقید اور احتیاط
بائیڈن دور کی نائب وزیرِ خارجہ محترمہ وینڈی شرمن نے بلومبرگ ٹیلی
ویژن سے باتیں کرتے ہوئےاسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو کو غزہ میں “نسل کشی” کا
ذمہ دار قرار دے دیا۔ مگر اس سنگین الزام کے باوجود وہ اسرائیل کے حقِ تحفظ کے
مؤقف سے پیچھے نہ ہٹیں اور کہا کہ یہ نہایت اہم ہے کہ اسرائیل امریکہ کا اتحادی
رہے اور ایک یہودی ریاست کے حق کا دفاع کیا جائے۔محترمہ نے بہت ہی محتاط انداز میں
کہا 'میرے لئے غزہ آپریشن کو یقینی طور پر نسل کشی کہنا مشکل ہے، لیکن اس میں کوئی
شک نہیں کہ غزہ تباہ ہو چکا۔ فلسطینیوں کو گھر، وقار اور امن کا حق حاصل ہے اور اسرائیل
بھی سلامتی اور امن کا مستحق ہے۔' یہ رویہ امریکی سیاست میں اسرائیل کے حوالے
سے موجود گہرے اثر و رسوخ (lobbying) کی
نشاندہی کرتا ہے، جہاں بیانیہ ایک غیر مرئی حد کے اندر رہ کر ہی تشکیل پاتا ہے۔
لبنان اور غزہ کی موجودہ صورتحال اس حقیقت
کو اجاگر کرتی ہے کہ جنگ بندی محض ایک کاغذی معاہدہ نہیں بلکہ اس پیچیدہ عمل کی
کامیابی کیلئے سیاسی عزم، باہمی اعتماد اور زمینی حقائق کا ادراک لازمی ہے۔ طاقت
کے زور اور دھماکوں کے شور میں سفارتکاری کے ذریعے امن کی تلاش وقت کا زیاں ہے ۔
ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل کراچی 8 مئی 2026
ہفت روزہ دعوت دہلی 8 مئی
2026
ہفت روزہ رہبر سرینگر 10 مئی 2026
No comments:
Post a Comment