ایران۔امریکہ کشیدگی: سفارت، دھمکی اور
اعصاب کی جنگ
امن کی پیشکشیں، جنگی تیاری اور طاقت کی نفسیات
دو ہفتے قبل اسلام آباد امن بیٹھک کی
منسوخی اور اس کے بعد امریکی صدر کے آتشیں بیانات نے خطے میں کشیدگی کو نئی شدت دے
دی تھی۔ ایسے میں 27 اپریل کو ایران کی جانب سے جوہری معاملات کو مؤخر کرکے آبنائے
ہرمز کھولنے اور بحری ناکہ بندی کے خاتمے کی مشروط پیشکش، گھٹن زدہ فضا میں ہوا کا
ایک تازہ جھونکا محسوس ہوئی۔ اگلے روز قصرِ مرمریں کی ترجمان محترمہ کیرولائں لیوٹ
نے عندیہ دیا کہ امریکی صدر اپنے قومی سلامتی کے مشیروں کے ساتھ اس پیشکش پر غور
کر رہے ہیں۔ ساتھ ہی یہ خبر بھی آئی کہ اجلاس کے
دوران ہی فون کرکے فیلڈ مارشل عاصم منیر نے صدر ٹرمپ پر زور دیا کہ ایرانی پیشکش
قبول کرکے سفارتکاری کو ایک اور موقع دیں۔ تاہم امریکی صدر نے پاکستان کے ذریعے
موصول ہونے والی جنگ بندی کیلئے تہران کی نئی پیشکش مسترد کردی اور متکبرانہ لہجے
میں فرمایا کہ اگر کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو انہیں ایران کو 'جہنم برد' کرنے کے
ممکنہ طریقوں پر بریفنگ دے دی گئی ہے۔
متضاد
اشارے: جنگ یا واپسی؟
اسی دوران رائٹرز نے انکشاف کیا کہ امریکی
قیادت ایران کے خلاف جنگ میں یکطرفہ فتح کا اعلان کرکے فوجی انخلا پر غور کر رہی
ہے، اور اس ضمن میں امریکی خفیہ ایجنسی CIA سے
ایران کے ممکنہ ردعمل کا جائزہ لینے کو کہا گیا ہے۔ اگرچہ سی آئی اے کی ترجمان Liz Lyons نے اس خبر کی تردید کی، لیکن واشنگٹن کے
سیاسی حلقوں میں اس امکان کو مکمل طور پر مسترد نہیں کیا جا رہا۔
ابھی تجزیہ نگار اس خبر کو کھنگھال ہی رہے
تھے کہ یکم جون کو ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی IRNA نے
14 نکاتی نئی تجویز کی خبر جاری کردی جس میں عدم جارحیت کی ضمانت، بحری ناکہ بندی
کے خاتمے، آبنائے ہرمز کھولنے اور لبنان سمیت تمام محاذ پر کشیدگی ختم کرنے جیسے
اقدامات تجویز کئے گئے ہیں۔ تاہم ان امور کی مکمل تفصیل تاحال سامنے نہیں آئی، جس
سے شکوک و شبہات برقرار ہیں۔
امریکی صدر کیلئے ایران کا یہ 14 نکاتی امن
منصوبہ قابل قبول نہیں لیکن انہوں نے آبنائے ہرمز کھولنے کیلئے ایک جارحانہ فوجی
منصوبہ بھی مسترد کردیا۔ بظاہر یہ فیصلہ جنگ سے گریز کی علامت ہے، مگر اسی کے ساتھ
4 مئی کو امریکی بحریہ نے
“Project Freedom” شروع کردیا،
جس کے تحت امریکی بحریہ، تجارتی
جہازوں کو محفوظ راستہ دینے کی کوشش کر رہی ہے۔ خبروں کے مطابق دو امریکی
پرچم بردار جہاز بخیریت گزر گئے، جبکہ
جنوبی کوریا کے ایک جہازکو نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں۔ ایران نے فجیرہ ( متحدہ عرب امارات)
بندرگاہ کے آئل ٹرمینل کو بھی نشانہ بنایا جس سے ٹرمینل کے کچھ حصوں میں آگ لگ
گئی۔
شاخِ
زیتون یا بارود کی پوٹلی؟
اس تمام عرصے میں صدر ٹرمپ
اپنے متصاد بیانات کے ذریعے شاخ زیتون لہراتے
اور بارود کی پوٹلی ہلاتے رہے۔ سوشل میڈیا پر انھوں نے انکشاف کیا کہ اپنی معیشت
کے تحلیل ہونے کا ایرانی اعتراف کرچکے ہیں اور وہ آبنائے ہرمز کھولنے کو بیچین
ہیں۔الجزیرہ کے مطابق صدر ٹرمپ نے کہا کہ وہ ایران کے نئے منصوبہ امن پر غور کررہے
ہیں اور ساتھ ہی فرمایا 'خوفناک حملوں' کا راستہ بھی کھلا ہے۔ جواب میں ایران کے
رہبر معظم حضرت مجتبیٰ خامنہ ای بولے 'خلیجِ فارس میں امریکیوں کی واحد مناسب جگہ 'اس کے پانیوں کی تہہ
ہے' ۔ صدر ٹرمپ کے تضادات
اور ایرانی قائد کا سخت ردعمل اس بات کی علامت ہے کہ تنازعہ اب سفارت کاری سے
زیادہ نفسیاتی دباؤ کا کھیل بن چکا ہے۔ان آتش فشانیوں
کے درمیان ایران کے نائب وزیرخارجہ کاظم غریب آبادی نے نسبتاً معتدل لہجے میں کہا کہ ہم نے معاملے کے پرامن حل کیلئے اپنی
تجاویز پیش کردیں ہیں اور گیند اب امریکہ کے کورٹ میں ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ ایران
وقت خریدنا اور امریکہ دباؤ بڑھانا چاہتا ہے۔ یاں یوں کہئے کہ تنازعہ اب اعصاب کی
جنگ میں تبدیل ہوگیا ہے۔ صدر ٹرمپ بیک
وقت دو راستوں پر چلتے دکھائی دے رہے ہیں، ایک طرف براہِ راست جنگ سے گریز، اور دوسری
جانب سخت بیانات کے ذریعے شدید دباو۔ گویا میزِ مذاکرات کے نیچے چمکتے ہتھیار۔
عسکری
تیاری: سفارت کے سائے میں جنگ
امن بات چیت میں تعطل و
تاخیر کوئی غیر معمولی بات نہیں کہ اس طویل و گنجلک تنازعے کی گتھیاں سلجھانے
کیلئے صبروضبط اور حوصلے کی ضرورت ہے اور
تجاویز کے تبادلے سے فریقین کی سنجیدگی ظاہر ہوتی ہے لیکن اسی کیساتھ خوفناک فوجی
تیاریوں کی خبریں بھی آرہی ہیں۔آن لائن خبر رساں ایجنسی Axios کے مطابق
امریکی عسکری قیادت ایران کے خلاف تیز اور فیصلہ کن کارروائی کے امکانات پر غور کر
رہی ہے، جبکہ اسرائیلی فوجی قیادت بھی متحرک ہے۔اسرائیلی
جرنیلوں کاکہنا ہے کہ اگر ایران کے افزودہ یورینیم کے ذخیرے کو ختم نہ کیا گیا تو
حالیہ جنگ کو “ایک بڑی ناکامی” تصور کیا جائے گا۔ معلوم نہیں یہ اعترافِ ناکامی ہے
یا پھر آنے والے کسی بڑے اقدام کیلئے ذہن سازی؟؟؟
معاشی
دباؤ: فیصلہ کن یا محدود؟
اگرچہ امریکہ و اسرائیل کی
طرف سے ایک فیصلہ کن فوجی کاروائی خارج از امکان نہیں تاہم صد ٹرمپ کا خیال ہے کہ
بحری ناکہ بندی ایرانی معیشت کا گلا گھونٹ رہی ہے اور تہران کیلئے بہت دن تک کھڑا
رہنا ممکن نہیں۔ جبکہ ایرانی سمجھ رہے ہیں کہ آبنائے ہرمز کی بندش سے پیدا ہونے
والا عالمی بحران صدر ٹرمپ کو معقولیت اختیار کرنے پر مجبور کردیگا۔رائٹرز نے
ماہرین سے مشوروں کے بعد جو رپورٹ جاری کی ہے اسکے مطابق ایرانی معیشت دباؤ میں تو ہے لیکن سخت
پابندیوں، تیل کی برآمدات میں رکاوٹ اور مالیاتی دباؤ کے باوجود ایرانی نظام مکمل
طور پر بکھرتا نظر نہیں آتا۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ بتائی جا رہی ہے کہ نصف صدی پر
محیط پابندیوں نے ایرانیوں کو دباو میں جینے کا سلیقہ سکھادیا ہے۔ اس کے
برعکس امریکہ کو مہنگائی، عوامی دباؤ اور وسط مدتی انتخابات کا سامنا ہے۔کچھ منچلے کہہ رہے ہیں کہ امریک و اسرائیل، ایران میں رجیم
چینج نہ کرسکے لیکن اگر ایرانی صبر سے کھڑے رہے تو نومبر میں امریکہ پارلیمانی
محاذ پر رجیم چینج کا مشاہدہ کرسکتا ہے۔ بقول جرمن چانسلر ایران نے میدان اور میز
دونوں جگہ امریکہ کو شرمندہ کردیا ہے۔
“قزاقی”
کا اعتراف؟ سیاسی بیان یااعتراف
الفاظ کا غلط استعمال بھی صدر
ٹرمپ کیلئے شر مندگی کا سبب بن رہا ہے۔ گزشتہ دنوں ایک تقریب میں انھوں نے کہا کہ
ایران کے ساتھ جنگ کے دوران ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کرتے ہوئے امریکی بحریہ
قزاقوں (Pirates)جیسا” کردار ادا کر رہی تھی۔
مزید وضاحت کرتے ہوئے انھوں نے فرمایا ہم
نے جہاز پر قبضہ کیا، ہم نے اس کا سامان لے لیا، ہم نے تیل لے لیا۔ یہ ایک بہت
منافع بخش کاروبار ہے۔ ہم قزاقوں جیسے ہیں کسی حد تک قزاق، مگر ہم کھیل نہیں کھیل
رہے۔ جب ایک ریاست کا
سربراہ خود اپنی کارروائی کو قزاقی سے تشبیہ دے، تو اسے محض سیاسی بیان سمجھا جائے
ہے یا بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کا اقرار؟
خلیج
میں نئی صف بندی: طاقت اور توانائی
رجیم چینج اور ایران کی جوہری صلاحیتوں کے خاتمے کےساتھ اسرائیل،
مشرق وسطیٰ میں توانائی کے وسائل تک رسائی کا خواہشمند ہے اور اس ضمن میں متحدہ
عرب امارات سے اسکے تعلقات بہت ہی نپے تلے انداز میں آگے بڑھ رہے ہیں۔برطانوی
اخبار Financial Times کے مطابق اسرائیل نے ایرانی
میزائیل اور ڈرونوں کے مقابلے کیلئے لیزر پر مبنی فضائی دفاعی نظام Iron Beam ، میزائیل شکن Iron Domeاور نگرانی کا ایک جدید نظام Spectro امارات منتقل کیا ہے۔ اس اسلحے کیساتھ فوجی
اہلکار بھی ہیں جنکی تعداد سینکڑوں میں ہے۔ امارات میں تیل اور گیس کے سارے بڑے میدان عملاً اب اسرائیلی
فوج کی زیر حفاظت و نگرانی آچکے ہیں۔ یہ پیش رفت محض دفاعی تعاون نہیں بلکہ خلیج
میں نئی عسکری صف بندی اور توانائی کے وسائل پر اسرائیل کے بڑھتے ہوئے اثر رسوخ کا
نقطہ آغاز نظرآرہاہے۔
ایران اور امریکہ کے درمیان کشمکش اب محض جغرافیائی یا عسکری تنازع نہیں
رہی، بلکہ یہ ارادوں، اعصاب اور بیانئے کی جنگ بن چکی ہے۔ اسوقت سوال یہ نہیں کہ
کون جیتے گا ، بلکہ یہ ہے کہ کون کب تک کھڑا رہ سکے گا؟
ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل کراچی 8 مئی 2026
ہفت
روزہ دعوت دہلی 8 مئی 2026
ہفت روزہ رہبر سری نگر 10 مئی 2026
No comments:
Post a Comment