ایران۔امریکہ
کشیدگی: جنگ کے سائے میں سفارت کاری کی آخری کھڑکی
تعطل، صف بندی اور آبنائے ہرمز پر نئی پیشکش—طاقت اور مفاہمت کی
کشمکش
ایران اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی
ایک بار پھر ایسے موڑ پر آ کھڑی ہوئی ہے جہاں سفارت کاری اور عسکری دباؤ ساتھ ساتھ
چلتے دکھائی دیتے ہیں۔ بظاہر مذاکرات کے دروازے کھلے ہیں، مگر پسِ پردہ طاقت کی صف
بندی اس خطے کو ایک نئے عدم استحکام کی طرف دھکیلتی محسوس ہوتی ہے۔تنازعے
کے پرامن اختتام کی کوششوں کو اسوقت شدید دھچکا لگا جب 25 اپریل کو صدر ٹرمپ نے اسٹیو وٹکوف اور
جیرڈ کشنر کا اسلام آباد کا دورہ یہ کہتے ہوئے منسوخ کردیا کہ “سفر میں بہت وقت ضائع ہو رہا
ہے” اور ایرانی قیادت میں “ابہام” پایا جاتا ہے۔ یہ فیصلہ ایک ایسے وقت میں سامنے
آیا جب پاکستان کی ثالثی میں جاری مذاکرات پہلے ہی تعطل کا شکار تھے اور ایرانی وزیر
خارجہ کسی پیش رفت کے بغیر واپس جا چکے تھے۔
ایک قدرے مثبت اشارہ دیتے ہوئے امریکی صدر
نے کہا کہ مذاکرات میں تعطل کا مطلب یہ نہیں کہ جنگ دوبارہ شروع ہو جائے گی۔تاہم ماضی کے تجربے کی بنیاد پر امریکی صدر کی یقین دہانی
مشکوک لگ رہی ہے۔ اس حوالے سے خلیج میں غیر
معمولی فوجی کمک بھی معنی خیز ہے۔ امریکہ نے ایک اور طیارہ بردار جنگی جہاز
خلیج فارس کی جانب روانہ کر دیا ہے۔چھ ہزار اضافی فوجیوں کیساتھ USS George H. W. Bush کے ہمراہ متعدد تباہ کن جنگی
جہاز اور ایک جوہری آبدوز بھی محو سفر ہیں۔طیارہ بردار جہاز USS Abraham Lincoln اور USS Gerald R. Ford خطے میں پہلے سے ہی موجود
ہیں۔ اگرچہ جیرالڈ فورڈ کو حالیہ دنوں میں مرمت کے لیے یونان کے جزیرے کریٹ کی
بندرگاہ بھیجا گیا تھا، تاہم مجموعی طور پر امریکی بحری موجودگی میں واضح اضافہ
دیکھا جا رہا ہے۔ یہ
محض عسکری نقل و حرکت نہیں بلکہ سفارت کاری کے ساتھ ساتھ دباؤ بڑھانے کی ایک منظم
حکمتِ عملی کا حصہ معلوم ہوتی ہے۔
واشنگٹن میں یہ اطلاعات بھی گشت کررہی ہیں کہ امریکہ واسرائیل،
ایران کے خلاف بمباری کی ایک نئی مہم شروع کرنے والے ہیں۔اسرائیلی وزیردفاع نےکہا
ہے کہ امریکہ سے گرین سگنل ملتے ہی رہبر معظم کا نشانہ بنایا جائیگا۔ کشیدگی کے
ماحول میں اسرائیل سے آنے والے بیانات جلتی ہر تیل کا کام کررہے ہیں کہ جب قتل کی
دھمکیاں اور انتہا پسندانہ زبان سفارت کاری کی جگہ لے لے، تو مصالحت کے دروازے خود
بخود تنگ ہونے لگتے ہیں۔
ایران میں قیادت کی منتقلی کا ایک باقاعدہ
آئینی نظام موجود ہے، جسے مجلسِ خبرگانِ رہبری جیسے ادارے آگے بڑھاتے ہیں۔ ایسے میں کسی ایک
شخصیت کو ہدف بنا کر مسئلے کے حل کی امید رکھنا نہ صرف سادہ لوحی بلکہ عملی طور پر
غیر مؤثر حکمت عملی ہے۔یہ افراد کا نہیں بلکہ نظام، مفادات اور بیانیوں کا تصادم
ہے، جسے صرف مکالمے سے ہی حل کیا جا سکتا ہے۔
بحری
ناکہ بندی اور جوابی اقدامات
حالیہ کشیدگی کی اصل وجہ ایران کی بحری ناکہ بندی ہے جسکا دائرہ اب ساری دنیا تک بڑھادیا
گیا ہے۔ گزشتہ ہفتے بحر ہند سے گزرتےایران کے ایک آئل ٹینکر پر امریکی بحریہ نے
قبضہ کرلیا۔ اس معاملے میں ایران بھی پیچھے نہیں۔ ایرانی بحریہ نے دوجہاز قبضے میں
لے لئے ہیں جن میں سے ایک جہاز MSC Francesca اسرائیل سے وابستہ بتایا جارہا ہے۔ اس معاملے میں ایرانی موقف بہت
ہی غیر مبہم اور منطقی ہے، تہران کا کہنا ہے کہ ناکہ بندی اور دھمکی کے ماحول میں
میزِ مذاکرات سجانے کا کیا فائدہ؟
فیصلہ
سازی کا فرق: واشنگٹن بمقابلہ تہران
دوسری طرف صدر ٹرمپ ایرانی قیادت میں
اختلافات کو تعطل کی وجہ قرار دیتے ہیں، مگر یہ تاثر ایران کے نظامِ حکومت کی مکمل
تفہیم کے بغیر قائم کیا جا رہا ہے۔ ایران میں فیصلے مشاورت سے ہوتے ہیں، اور
اتفاقِ رائے تک بحث جاری رہتی ہے۔ ایرانی طرز سیاست
میں دوستوں اور اتحادیوں کو بھی اعتماد میں لیا جاتا ہے ۔ وزیر خارجہ سید
عباس عراقچی کے مختلف ممالک، خصوصاً پاکستان، عمان اور روس کے دورے اسی مشاورتی
عمل کا حصہ ہیں۔
گھڑی اور وقت: ایک تاریخی سبق
جنگ کی طوالت کسی کے حق میں
نہیں اور امریکہ کو یہ گمان ہے کہ وہ طویل کشیدگی برداشت
کر سکتا ہے، مگر تاریخ اس مفروضے کی تردید کرتی ہے۔ امریکہ کوایسی ہی غلط فہمی
افغانستان میں تھی اور اس حوالے سے ملا عبدالغنی برادر کا یہ جملہ آج بھی گونج رہاہے کہ گھڑی آپ کے اور
وقت ہمارے پاس ہے۔ایران 1979 سے پابندیوں اور دباؤ کا سامنا کر رہا ہے۔ صدر ٹرمپ کو سوچنا چاہئے کہ وہ کب تک امریکی عوام کو
مہنگائی اور ہیجان میں مبتلا رکھ سکتے ہیں۔ سات ماہ بعد امریکی حکومت کو وسط مدتی
انتخابات کا سامنا ہے ۔ایران جنگ کو امریکی عوام کی غالب اکثریت پسند نہیں کرتی اور کہیں ایسا نہ ہو کہ صدر ٹرمپ آبنائے ہرمز کے کنارے Bulletکی جنگ ہارنے کے ساتھ گھر
میں Ballotکی جنگ بھی ہار جائیں ۔
اسلحہ،
معیشت اور جنگی منافع
ایران کے خلاف امریکہ بہادر نے اس شدت سے میزائیل اور میزائیل و
ڈرون شکن گولے استعمال کئے ہیں کہ ان ہتھیاروں کے ذخیرے میں تشویشناک حد تک کمی
ہوگئی ہے۔ دفاعی امور کے تحقیقاتی ادارے Center for Strategic and International
Studies کی ایک تجزیاتی رپورٹ کے مطابق، ایران کے ساتھ جنگ میں حملہ اور Precision Strike
Missiles کے ذخیرے کا ایک بڑا حصہ پھونکا جا چکا ہے، کچھ اندازوں میں یہ شرح
تقریباً 40 سے 45 فیصد تک بتائی جا رہی ہے۔دفاعی ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اگر
اسی رفتار سے وسائل استعمال ہوتے رہے تو امریکہ کو رسد، پیداوار اور ترجیحات کے
محاذ پر سنجیدہ مشکلات پیش آسکتی ہیں۔امریکہ کی عسکری قیادت اس معاملے پر اپنی فکر
کا اظہار کررہی ہے اور کچھ لوگ خیال ظاہر کررہے ہیں کہ وزیربحریہ جان فیلن کی برطرفی
اسی اندرونی بحث و مباحثے کا نتیجہ ہے
اسی کیساتھ متاثرہ توانائی تنصیبات کی مرمت کیلئے ٹھیکوں کی بات
بھی شروع ہوچکی ہے۔یورپ کے آن لائن جریدے Middle East Eye (MEE) کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ
خلیجی ممالک پر دباؤ ڈال رہی ہے کہ وہ ایرانی حملوں سے متاثر ہونے والی توانائی
تنصیبات کی مرمت امریکی اداروں سے کروائیں۔متحدہ عرب امارات، بحرین اور کویت میں
تیل و گیس کی تنصیبات کو پہنچنے والے نقصان کی مرمت کا تخمینہ تقریباً 39 ارب ڈالر
لگایا جا رہا ہے۔ یہ اعداد و شمار اس تلخ حقیقت کی طرف اشارہ
کرتے ہیں کہ جنگ کے ملبے سے بھی کاروبار جنم لیتا ہے۔جب بارود گرتا ہے تو صرف شہر
نہیں بکھرتے،بلکہ کہیں نہ کہیں معاہدوں، ٹھیکوں اور منافع کی نئی فائلیں بھی کھل
جاتی ہیں۔
نئی
پیشکش: بند دروازوں پر دستک
اسی تناظر میں Axios کے مطابق ایران نے آبنائے ہرمز کھولنے اور
کشیدگی کم کرنے کی ایک نئی تجویز پیش کی ہے، جس میں جوہری مذاکرات کو بعد کے مرحلے
تک مؤخر کرنے کی بات کی گئی ہے۔اس پر تبصرہ کرتے ہوئے 27 اپریل
کو قصرِ مرمریں کی ترجمان کیرولائن لیوٹ نے
بتایا کہ پاکستان کے ذریعے موصول ہونے والی اس تجویز پر صدر ٹرمپ اپنے رفقا کے
ساتھ Situation Room میں مشاورت کر رہے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق
فیلڈ مارشل عاصم منیر نے بھی صدر ٹرمپ سے مواصلاتی گفتگو میں اس پیشکش کو قبول
کرنے پر زور دیا ہے۔اسرائیلی ذرائع کہہ رہے ہیں کہ صدر ٹرمپ اس تجویز سے 'خوش'
نہیں، لیکن سوچ بچار کے طویل
دورانئے نے اس تنازعے کے پرامن حل کی ایک ہلکی سی امید ضرور پیدا کر دی ہے۔
ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل کراچی یکم مئی 2026
ہفت روزہ دعوت دہلی یکم مئی 2026
ہفت روزہ رہبر سرینگر 3 مئی 2026
No comments:
Post a Comment