Friday, April 3, 2026

 

غزہ سے لبنان تک آگ و خون—اور اب قانون کے نام پر موت

جنگ کبھی ایک محاذ تک محدود نہیں رہتی۔ جب بارود بھڑکتا ہے تو اس کی تپش سرحدوں کو نہیں مانتی۔ آج یہی منظر مشرقِ وسطیٰ میں دکھائی دے رہا ہے، جہاں ایران کے ساتھ غزہ، غربِ اردن اور لبنان سبھی خون کی لپیٹ میں ہیں اور انسانی المئے کی یہ داستان ہر گزرتے دن کے ساتھ مزید دردناک ہوتی جا رہی ہے۔

مشرقی یروشلم کا خونی دن

گزشتہ ہفتے مشرقی یروشلم میں 24 گھنٹوں کے دوران ایک کم سن بچے سمیت تین افراد جان سے گئے۔ صبح مکانوں سے بے دخلی کے خلاف احتجاج کرنے والوں پر فائرنگ سے محمد حماد جاں بحق ہوا۔ شام کو اس کی تدفین کے بعد قبرستان سے واپس آتے لوگوں پر فائرنگ کی گئی، جس کے نتیجے میں ایک 15 سالہ لڑکا موقع پر ہی دم توڑ گیا، جبکہ شدید زخمی ہونے والا 46 سالہ سفیان ابو لیل زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے کچھ دیر بعد چل بسا۔ اس واقعے میں 14 افراد زخمی بھی ہوئے۔

مسجد  و کلیسا مقفل : پابندیاں اور تضاد

رمضان کے دوسرے جمعے سے مسجد اقصیٰ بند ہے اور اب ایرانی میزائیل حملوں کو جواز بناکر یروشلم کے کلیسائے قبر مقدس (Church of the Holy Sepulture) تک رسائی بھی مسدود کردی گئی۔ تاریخ میں پہلی بار یہاں  پام سنڈے (29 مارچ) کی تقریبات نہیں ہوئیں۔ مسیحی عقائد کے مطابق یہی وہ جگہ ہے جہاں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو مصلوب کیا گیا اور اور اسی مقام پر ان کی تدفین اور واپسی (Resurrection) ہوئی۔

اقوام متحدہ کی لرزا دینے والی رپورٹ

اسی ہفتے اقوام متحدہ کی خصوصی نمائندہ (Special Rapporteur) محترمہ فرانسیسکا البانیز نے اسرائیلی جیلوں میں فلسطینی قیدیوں پر ہونے والے تشدد پر مبنی ایک تفصیلی رپورٹ پیش کی۔ پریس کانفرنس کے دوران انکشافات سن کر صحافی بھی سہم گئے۔ تشدد کے طریقے ایسے ہیں کہ ان کا بیان کرنا بھی شرمناک محسوس ہوتا ہے۔

فلسطینیوں کے لئے سزائے موت

اسرائیلی کنیسہ (پارلیمان) نے 30 مارچ کو  48 کے مقابلے میں 62 ووٹوں سے ایک مسودۂ قانون منظور کر لیا، جس کے مطابق دہشت گردی میں ملوث فلسطینیوں کو پھانسی کے ذریعے سزائے موت دی جا ئیگی۔

قانون کے اہم نکات:

  • الزام ثابت ہونے پر سزائے موت لازمی ہوگی۔ تاہم بعض استثنائی صورتوں میں جج عمر قید کی سزا تجویز کر سکتے ہیں، جس کے لیے انہیں خصوصی وجوہات بیان کرنا ہوں گی۔
  • دہشت گردی کے مقدمات کا فیصلہ بینچ کی سادہ اکثریت سے ہوگا، اور فیصلے کے خلاف نظرِ ثانی یا رحم کی اپیل کی کوئی گنجائش نہیں ہوگی۔

برسراقتدار لیکود، انتہاپسند جماعتوں پاسبانِ توریت (Shas)، متحدہ جماعتِ توریت (UTJ) اور عظمتِ یہود (Utzma Yehudit) کے ساتھ ساتھ سیکولر جماعت اسرائیل مادرِ وطن (Yisrael Beytenu) کے اویگدور لیبرمین نے بھی اس قانون کے حق میں ووٹ دیا۔ قدامت پسند حلقوں میں سے صرف Agudat Yisrael نے اس کی مخالفت کی۔

اسرائیلی جیلوں میں قید فلسطینیوں کو جس بدترین تشدد کا سامنا ہے، اس کے مقابلے میں سزائے موت بعض کے لیے شاید “نجات” کا تاثر رکھتی ہو اور یہی اس قانون کا سب سے ہولناک پہلو ہے۔

غزہ: خیموں پر برستی موت

غزہ میں بمباری، ڈرون حملے اور ٹارگٹ کلنگ کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔ عید کے دوسرے دن خان یونس اور المواصی کے پناہ گزین خیموں پر فائرنگ کی گئی، جبکہ بحیرہ روم سے اسرائیلی جنگی جہازوں نے بھی گولہ باری کی۔ المواصی میں ایک معصوم بچے کا سر دھماکے سے فضا میں بکھر گیا۔ دیرالبلاح کی خیمہ بستی پر بمباری سے متعدد افراد جاں بحق ہوئے۔شجاعیہ پر بمباری نے  دو سگے بھائیوں کی جان لے لی۔

لبنان: خاموشی کے بعد مزاحمت کی واپسی

جنوبی لبنان میں بھی فضائی حملوں کے ساتھ زمینی کارروائیاں جاری ہیں۔ گزشتہ سال 17 ستمبر کو پیجر دھماکوں میں حزب اللہ کے ہزاروں کارکن زخمی ہوئے، اور دس دن بعد اس کے قائد حسن نصراللہ کو نشانہ بنایا گیا۔ اس کے بعد شدید بمباری سے بظاہر ایسا لگا کہ مزاحمت کی کمر ٹوٹ گئی ہے۔ تاہم ایران پر حملوں کے بعد لبنانی مزاحمت ایک بار پھر سرگرم ہوگئی ہے۔اسرائیل پر روزانہ راکٹ اور میزائل حملے ہو رہے ہیں، جبکہ جنوبی لبنان میں در آنے والی فوج کو بھی مسلسل نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ گزشتہ ہفتے جھڑپوں میں کم از کم پانچ اسرائیلی فوجی ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے۔

تباہی کا پھیلتا دائرہ

دوسری جانب اسرائیلی بمباری میں بھی شدت آئی ہے۔ وزیر دفاع کی جانب سے جنوبی بیروت کو “غزہ بنانے” کی دھمکی کے بعد شہر کا بڑا علاقہ کھنڈر بنادیا گیا۔ لاکھوں افراد بے گھر ہیں اور یہ تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے۔

قیامت کے دن: قلیلیا اور حارۃ الحریک

ہفتہ27 مارچ کو طائر شہر کے گاؤں قلیلیا پر شدید بمباری میں درجنوں افراد جاں بحق ہوئے۔ تین روز بعد جنوبی بیروت کے حارۃ الحریک محلے پر قیامت ٹوٹی اور پورا علاقہ ملبے کا ڈھیر بن گیا۔

سیاسی و سیاسی ستم ظریفی

اس وحشت پر اسرائیلی جارحیت کی مذمت کے بجائے لبنانی حکومت نے ایرانی سفیر رضا شیبانی کو ناپسندیدہ شخصیت قرار دے کر ملک چھوڑنے کا حکم دے دیا۔

مت قتل کرو آوازوں کو

ہفتہ 28 مارچ کی صبح المنار ٹی وی کے صحافی علی شعیب کو جنوبی لبنان میں ڈرون حملے میں قتل کر دیا گیا۔ غزہ، غربِ اردن اور لبنان میں صحافی مسلسل نشانے پر ہیں۔

مشرق وسطی میں آگ و خون  کی سرحدیں پھیلتی اور انسانی جان کی قیمت سکڑتی جا رہی ہے۔ جب بیانئےحقائق پر غالب آ جائیں اور طاقت انصاف کی جگہ لے لے، تو پھر خون صرف زمین پر نہیں بہتا، تاریخ کے صفحات بھی سرخ ہو جاتے ہیں۔ آگ کے شعلے سب کو نظر آرہے ہیں مگر اسے بجھانے والا کوئی نہیں؟

ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل کراچی 3 اپریل 2026

ہفت روزہ دعوت دہلی 3 اپریل 2026

ہفت روزہ رہبر سرینگر 5 اپریل 2026


No comments:

Post a Comment