جنگ
بندی کا فریب، لبنان پر قیامت
عبوری معاہدہ یا سفارتی دھوکہ
ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ بندی نے بظاہر ایک بڑے تصادم کو روک دیا،
مگر اس کے فوری بعد جو منظر لبنان میں ابھرا، اس نے اس معاہدے کی روح پر ہی سوال
اٹھا دئے ہیں۔ کیا یہ واقعی امن کی جانب پیش رفت تھی، یا محض ایک محاذ خاموش کرکے
دوسرے کو مزید بھڑکانے کی حکمتِ عملی؟
جنگ
بندی کے سائے میں لبنان پر قیامت
ایران امریکہ جنگ بندی کے فوراً بعد
اسرائیل نے لبنان پر حملے تیز کر دیے۔ منگل کو ایرانی محاذ پر توپیں ٹھنڈی پڑتے ہی
لبنان پر قیامت ٹوٹ پڑی۔ اہلِ لبنان کے لیے یہ “سیاہ بدھ” تھا، جب بیروت کی بلند و
بالا عمارتیں تباہ کن بنکر بسٹر بموں سے زمین بوس کر دی گئیں۔
لبنانی ہلالِ احمر کے مطابق اس روز 254
افراد جاں بحق اور 1165 زخمی ہوئے۔ بمباری سے ہسپتالوں اور طبی مراکز کو بھی شدید
نقصان پہنچا، جس کے باعث زخمیوں کی دیکھ بھال مزید مشکل ہو گئی۔ بعض عسکری تجزیہ
کاروں کے مطابق یہ حملے ایک روز قبل سرحدی جھڑپ میں زخمی ہونے والے اسرائیلی
فوجیوں کے ردِعمل میں کئے گئے۔ اسی روز جنوبی لبنان
میں اقوام متحدہ امن فوج کا اطالوی دستہ بھی اسرائیلی فوج کا نشانہ بنا۔ حملے میں
کوئی جانی نقصان تو نہ ہوا لیکن اطالوی فوج کی گاڑی تباہ ہوگئی۔گزشتہ ہفتے اقوام
متحدہ کے امن مشن کے اہلکاروں پر اسرائیلی فائرنگ سے انڈونیشیا کے تین فوجی جاں
بحق ہوگئے تھے۔
جنگ
بندی: مفہوم کا تنازع
پاکستانی وزیرِاعظم کی جانب سے جاری کردہ
بیان میں واضح طور پر کہا گیا تھا کہ جنگ بندی “ہر جگہ، بشمول لبنان” نافذ ہوگی۔
تاہم صدر ٹرمپ نے اس کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ لبنان اس معاہدے کا حصہ نہیں۔ اسکی مزید وضاحت کرتے ہوئے امریکی
نائب صدر جے ڈی وانس بولےکہ “ایک جائز غلط
فہمی” (Legitimate
Misunderstanding) کے باعث ایران نے یہ سمجھ لیا کہ کل اعلان کی گئی دو ہفتوں کی جنگ
بندی میں لبنان بھی شامل ہے، حالانکہ واشنگٹن نے کبھی ایسی کسی شرط سے اتفاق نہیں
کیا تھا۔
سفارتکاری کی یہ ناکامی انسانی المئے کا ماتم ہے، وہ خونریز حقیقت
جو لبنان کی گلیوں میں بکھری پڑی ہے۔کیا انسانی جانوں کی قیمت محض بیانات اور
“تشویش” تک محدود رہ گئی ہے؟معاملہ صرف جنگ بندی کا نہیں، بلکہ انسانیت کے مستقبل
کا ہے۔طاقتور ممالک کی وعدہ خلافی کے نتیجے میں آج معصوم لاشوں کیساتھ انسانی ضمیر
لبنان کے ملبے تلے دفن ہورہا ہے۔
غزہ:
ایک اور جلتا ہوا محاذ
غزہ پر حملوں کیساتھ مصر میں مجلس السلام یا Board of Peace کے
اجلاس بھی جاری ہیں۔مجلس کا سارا زور مزاحمت کاروں سے اسلحہ رکھوانے پر ہے۔ دوسری
طرف مزاحمت کار کہتے ہیں کہ مسلسل حملوں
کے دوران ہتھیار رکھنا ممکن نہیں۔
اسرائیلی فوج کے ساتھ اسرائیل نواز ملیشیا کی
سرگرمیاں بھی بڑھتی جارہی ہیں۔ گزشتہ ہفتے وسطی غزہ کے علاقے مغازی میں لڑکیوں کے خیمہ اسکول میں گھس
کرملیشیاکے غندوں نے معصوم بچیوں کو اغوا کرنے کی کوشش کی۔ نہتی طالبات اور انکے
والدین نے غنڈوں کو ماربھگایا۔ جواب میں اسرائیل نے اسکول پر بمباری کردی، جس میں
بچیوں سمیت دس سے زیادہ افراد جاں بحق ہوگئے۔ مسلسل بمباری و ڈرون حملوں نے
زندگی کو عذاب بنا دیا ہے۔
غربِ
اردن: خاموش تصادم
غرب اردن میں فوج کی فائرنگ، انتہا پسندوں کے حملے اور جبری بیدخلی
کا سلسلہ جاری ہے۔ شمالی وادی اردن کے
قصبے تیسر میں قبضہ گرد علاقے کے مکینیوں کو انکے گھروں سے نکال رہے تھے جس پر
تصادم ہوا اور سادہ کپڑوں میں وہاں موجود ایک اسرائیلی فوجی نے 19 سالہ اعلیٰ خالد
کے سینے میں گولی ماردی۔ بعد میں مقتول کے خلاف پسِ مرگ دہشت گردی کا مقدمہ قائم
کردیا گیا تاکہ الزام ثابت ہوجانے کی صورت
میں اعلیٰ کے آبائی گھر کو مسمار کیا جاسکے۔ وادی
اردن ہی کے ایک اور شہر عین الشباب پر اسرائیلی فوج کی کاروائی میں ایک 15 سالہ بچہ زخمی ہوگیا جبک درجنوں نوجوان گرفتار
کرلئے گئے۔ نابلوس کے گاوں لبن الشرقیہ پر اسرائیلی قبضہ گردوں نے حملہ
کرکے مکانوں، گاڑیوں اور مویشی کے باڑوں کو آگ لگادی گئی۔ جیسا کہ نام سے ظاہر ہے
یہ گاوں دودھ کی پیداوار کیلئے مشہور ہے۔پولیس کاروائی میں درجنوں نوجوان گرفتار
کرکے ان سب کے خلاف دہشت گردی کے پرچے کاٹ دئے گئے
بستیاں،
انتہا پسندی اور سرکاری سرپرستی
اس ہفتےاسرائیلی حکومت نے فلسطینیوں کو انکی آبائی زمینوں سے بیدخل
کرکے 34 نئی اسرائیلی بستیاں تعمیر کرنے کی منظوری دیدی۔اس پر تبصرہ کرتے ہوئے اسرائیلی
ڈیموکریٹک پارٹی کے ترجمان نے کہا کہ نیتن یاہو کے جنگی جنون کی وجہ سے سارا ملک
غیر محفوظ ہوچکا ہے اور اسرائیل کو نئی بستیوں کی نہیں میزائیل حملوں سے دفاع
کیلئے مزید پناہ گاہوں کی ضرورت ہے۔
الاقصیٰ:
امید کی ایک کرن
چالیس دن کی بندش کے بعد 8 اپریل کو مسجدِ
اقصیٰ کے دروازے کھولدئے گئے۔ پہلے جمعے کو ایک لاکھ سے زائد افراد کی شرکت اور
“القدس لنا” کے نعروں نے یہ بات ظاہر کردی کہ مزاحمت صرف ہتھیاروں سے نہیں، ایمان اور امید سے
بھی جاری رہتی ہے۔
ایک اور صحافی جان سے گیا۔
غزہ شہر پر اسرائیلی ڈرون نے الجزیرہ کے ایک صحافی محمد وشاح کی
جان لے لی۔ غزہ میں سچ شایع کرنے کے الزام میں تین سو سے زیادہ صحافی قلم کی حرمت
پر قربان ہوچکے ہیں
فائربندی کے ٹویٹ اور میدانِ جنگ کی
حقیقتوں میں ایک گہری خلیج موجود ہے۔ اگر جنگ بندی کے معاہدے زمینی حقائق کو نہ
بدل سکیں تو وہ محض الفاظ رہ جاتے ہیں۔آج لبنان اور غزہ میں جو کچھ ہو رہا ہے، وہ
اس تلخ حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ طاقتوروں کی سفارت کاری اکثر کمزوروں کے لئے
تباہی کا پیش خیمہ بن جاتی ہے۔کیا یہ جنگ بندی واقعی امن کی جانب قدم ہے، یا ایک مختصر
سی مہلت، نئے طوفان سے پہلے؟
ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل کراچی 17 اپریل 2026
ہفت روزہ دعوت دہلی 17 اپریل 2026
ہفت روزہ رہبر سری نگر 19 اپریل 2026
No comments:
Post a Comment