ٹرمپ کی ‘Excursion’، پھیلتی جنگ اور بدلتی عالمی صف بندی
الفاظ کبھی کبھی حقیقت سے زیادہ خطرناک
ہوتے ہیں، خاص طور پر جب انہیں طاقت کے ایوانوں سے ادا کیا جائے۔ جب جنگ کو
“تفریح” یا “مختصر مہم” کہا جائے تو پھر یہ بیانیہ خون اور بارود کو معمول بنا
دیتا ہے۔ آج ایران کے خلاف جاری جنگ بھی اسی تضاد کی ایک جیتی جاگتی مثال ہے۔
یہExcursion ہے یا
مہنگی جنگ؟
دونوں جانب شدید نقصان کے باوجود صدر ٹرمپ
کا اصرار ہے کہ ایران پر حملہ باضابطہ جنگ نہیں بلکہ “excursion” ہے۔ اس انگریزی لفظ کو عسکری اصطلاح میں
“مختصر مہم” کیا جا سکتا ہے، لیکن امریکی صدر کے لب و لہجے اور رویّے کو دیکھتے
ہوئے اسکا اردو متبادل “تفریح” زیادہ موزوں معلوم ہوتا ہے۔ اس “تفریح” کی بھاری
جانی و مالی قیمت جہاں ایرانی ادا کر رہے ہیں، وہیں امریکی ٹیکس دہندگان کے لئے
بھی یہ شوقِ کشور کشائی کچھ کم مہنگا نہیں۔ امریکی جریدے وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق
امریکی طیاروں اور تنصیبات کو پہنچنے والے نقصانات تین ارب ڈالر سے تجاوز کر چکے
ہیں، جبکہ اس مہم کا یومیہ خرچ 90 کروڑ سے ایک ارب ڈالر کے درمیان بتایا جا رہا
ہے۔
مذاکرات
یا دھوکہ؟
گزشتہ ہفتے ایسا محسوس ہوا کہ صدر ٹرمپ
ایرانی تنازعے کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے پر آمادہ ہیں۔چوبیس مارچ کو انہوں نے
نہ صرف مذاکرات کی تصدیق کی بلکہ یہ انکشاف بھی کیا کہ اخلاص و غیر سگالی کے طور
پر ایرانیوں نے انہیں ایک “بہت قیمتی تحفہ” بھیجا ہے۔ عندیہ دیا گیا کہ ایرانیوں
سے بات چیت کیلئے نائب صدر جے ڈی وینس اور وزیر خارجہ مارکو روبیو ممکنہ طور پر
اسلام آباد پہنچ سکتے ہیں۔
پاکستانی وزیر خارجہ اسحاق ڈار کے مطابق امریکہ کی 15 نکاتی شرائط تہران پہنچا دی گئیں
ہیں۔ایرانی وزیرخارجہ نے امریکی پیغام کی تصدیق کی تاہم مذاکرات کو “فیک نیوز”
قرار دیا، جبکہ اسپیکر محمد باقر قالیباف مذاکرات کے پروپینگنڈے کو مالیاتی اور تیل کی منڈیوں میں ہیرا پھیری کا
حربہ کہہ رہے ہیں۔
بیانات
کی جنگ: طنز اور تضحیک
قصرِ مرمریں کی ترجمان کیرولائن لیوٹ نے دھمکی
دی کہ اگر ایران نے شکست تسلیم نہ کی تو “جہنم کے دروازے کھول دیے جائیں گے”۔ جواب
میں ایرانی فوج کے ترجمان نے کہا:“خودکلامی کو مذاکرات کا نام نہ دو… ‘Epic Fury’ اب ‘Epic Fear’ بن چکا
ہے۔” یہ جملے اس جنگ کے ایک اور رخ کو بے نقاب کرتے
ہیں جہاں الفاظ بھی ہتھیار بن چکے ہیں۔
امن کی
شرائط یا ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ؟
جبگ بندی کیلئے امریکہ کی پندرہ نکاتی
شرائط درحقیقت ایران سے غیر مشروط ہتھیار ڈالنے کا تقاضا معلوم ہوتی ہیں، جبکہ
اسکا تہران سے جو پانچ نکاتی جواب سامنے آیا ہے اسکے مطابق ایران ، امریکہ سے شکست
تسلیم کرنے کے ساتھ جنگی نقصانات کے ازالے (reparations) کی ادائیگی چاہتا ہے۔مزید یہ
کہ جنگ بندی کا اطلاق خطے بھر میں تمام مزاحمتی گروہوں کے خلاف جنگ پر ہونا چاہئے۔
اعتماد
کا بحران
امریکہ کی تجویز اور اسکے
ایرانی جواب میں جو خلیج نظر آرہی ہے وہ اپنی جگہ لیکن امن کی راہ میں سب سے بڑی
رکاوٹ صدر ٹرمپ کی نیت،
بیانات کا تضاد اور انکی ساکھ ہے۔ گزشتہ برس جب
ایرانی جوہری پروگرام پر گفتگو “کامیابی” سے جاری تھی تو امریکی بمباروں نے فردو،
نطنز اور اصفہان کی مبینہ جوہری تنصیبات کو صدر ٹرمپ کے الفاظ میںobliterate کر دیا۔پھر دوسری بار امن
مذاکرات کے دوران27 فروری کو جنیوا میں ایک دور کے اختتام پر امریکی وفد کے سربراہ
اسٹیو وٹکاف نے امید ظاہر کی کہ “ہم ایک
مثبت نتیجے کی طرف بڑھ رہے ہیں اور جلد ٹھوس پیش رفت متوقع ہے”۔لیکن اگلی ہی صبح
امریکہ اور اسرائیل ایران پر حملہ آور ہوگئے۔ اس بار بھی سلام و پیام کیساتھ زمینی
حملے کی تیاریاں عروج پر ہیں۔ ہزاروں فوجیوں پر مشتمل Marine Expeditionary Unit
(MEU) ،بڑے عرشے والے جل تھل (Amphibious) جنگی جہازوں کے ساتھ خلیجِ
عمان کی جانب بڑھ رہا ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ مذاکرات محض وقت حاصل
کرنے کی حکمت عملی ہیں۔
اصولی و دوٹوک موقف: اسپین کی مثال
ہسپانوی
وزیرِ دفاع محترمہ مارگریٹا روبلز (Margarita Robles) نے ان
خبروں کی تصدیق کر دی ہے کہ ایران پر حملوں کے لیے امریکی طیارے اب اسپین کی فضائی
حدود استعمال نہیں کر سکیں گے۔ ہسپانوی اخبار El País سے
گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ امریکی قیادت کو غیرمبہم الفاظ، لہجے اور انداز
میں بتادیا گیا ہے کہ اسپین میں موجود امریکی اڈوں سے کوئی طیارہ ایران پر حملے
کیلئے اڑان بھرسکتا ہے اور نہ ہی ہماری فضائی حدود ایران پر حملے کیلئے استعمال
ہوسکتی ہیں۔ ایرانی حملوں پر شکائت کناں خلیجی حکمران بھی تو یہی موقف اختیار کرسکتے
ہیں؟
اسرائیلی
عنصر: آگ پر تیل
صدر ٹرمپ کے روئیے کیساتھ، جنگ میں اسرائیل کی شمولیت نے معاملے کو
دوآتشہ کردیا ہے۔ گزشتہ ہفتے اسرائیلی
اخبار الارض (Haaretz)نے خبر دی کہ امن مذاکرات
کیلئے ماحول سازگار بنانے کی غرض سے صدر ٹرمپ ایک مہینے کی یکطرفہ جنگ بندی کا
اعلان کرنے والے ہیں۔ اسی دن وزیراعظم نیتن یاہو نے اسرائیلی فضائیہ کو سارے ایران پر
بھرپور حملے کا حکم دیدیا تاکہ جنگ میں مزید شدت آجائے۔ اسرائیلی بمباروں نے بوشہر
کے جوہری تحقیقی مرکز کونشانہ بنایا۔جوہری توانائی کو بجلی کی پیداوار کیلئے
استعمال کرنے پرتحقیق کرنے والا یہ ادارہ امریکہ کے اشتراک سے 1955 میں قائم ہوا
تھا۔اسی دن دو اسٹیل ملوں پر حملوں کیساتھ رہائشی
عمارات، اسکول، پل، سڑکیں، آبنوشی کے ذرائع اور بنیادی ڈھانچے پر بمباری کی گئی۔گزشتہ
26 دنوں کے دوران ایران میں 500 اسکول اور 300 ہسپتال اور شفاخانے تباہ کئے گئے۔اسرائیلی
وزیردفاع کا کہنا ہے کہ جنگ کے آغاز (28 فروری) سے 26 مارچ تک ایران پر 15000 بم برسائے گئے۔
نئے
کھلاڑی: یوکرین کی خاموش پیش قدمی
ایران پر اسرائیل و امریکہ کے حملے کے بعد
سے مشرق وسطیٰ میں یوکرین کا عمل دخل بڑھتا نظر آرہا ہے۔ ڈرون شکن ٹیکنالوجی پر
مہارت کا دعویٰ کرتے ہوئے صدر زیلینسکی،
سعودی عرب اور قطر سے دفاعی معاہدہ کرچکے ہیں۔ دلچسپ بات کہ معاہدے میں خلیجی
ریاستوں کے دفاع سے زیادہ زور یوکرین میں خلیجی سرمایہ کاری پر ہے۔ جہاں تک ڈرون
شکن مہارت کا تعلق ہے تو ایران کے “شاہد” ڈرونز کے ہاتھوں یوکرینی عسکری تنصیبات
کی تباہی نے اس دعوے کو مشکوک بنادیا ہے۔
عرب ذرائع یہ خدشہ بھی ظاہر کر رہے ہیں کہ
اسرائیل، لبنان میں انٹیلی جنس سرگرمیوں کے لئےیوکرینی عناصر کو استعمال کر رہا
ہے۔ اسی تناظر میں لبنانی سیکیورٹی کے سربراہ حسن شکور نے فرانسیسی خبر رساں ادارے AFP کو
بتایا کہ حال ہی میں بیروت کے یوکرینی سفارت خانے نے اپنے ایک شہری کے انخلا کی
درخواست دی، جس کا پاسپورٹ مبینہ طور پر گم ہو گیا تھا۔ تاہم شناخت کے بعد معلوم
ہوا کہ مذکورہ شخص جنوبی لبنان میں اسرائیلی بمباری کے اہداف کی نشاندہی کے لیے
موساد سے وابستہ تھا۔یوکرینی سفارت خانے نے اس شخص کو پناہ دے رکھی ہے، جبکہ لبنانی
وزارتِ خارجہ نے اس کی حوالگی کے لیے باضابطہ درخواست جمع کرا دی ہے۔
حوثی بھی میدان میں
اس ہفتے یمن کے حوثی بھی اسرائیل پر میزائل
حملوں کے ساتھ میدان میں اترآئے۔ گزشتہ برس اسرائیل اور امریکہ کی جانب سے یمن پر شدید
بمباری کے نتیجے میں شہری خدمات کے بنیادی ڈھانچے کو بھاری نقصان پہنچا، مگر بحیرۂ
احمر کے یمنی ساحل پر حوثیوں کی گرفت بدستور بہت مضبوط ہے۔وہ آبنائے باب المندب سے
گزرنے والے جہازوں کا راستہ روکنے کی عملی صلاحیت رکھتے ہیں۔ یہی وہ تنگ سمندری
گزرگاہ ہے جس کے ذریعے نہرِ سوئز اور سعودی عرب سے آنے والے جہاز خلیجِ عدن پہنچتے
ہیں، اور وہاں سے بحیرۂ عرب کے راستے بحرِ ہند اور ایشیائی منڈیوں تک رسائی حاصل
کرتے ہیں۔اگر آبنائے ہرمز کے بعد آبنائے باب المندب کا راستہ بھی مخدوش ہو گیا تو
یہ صرف ایک علاقائی بحران نہیں رہے گا بلکہ توانائی کے حوالے سے ایک سنگین خطرہ بن
سکتا ہے۔
ٹرمپ کا روائتی تلخ لہجہ اور فارسی کی
مٹھاس
امریکی صدر کی زبان اور لہجہ امن کی منزل کو مزید دورکرنے کا سبب
بن رہےہیں۔ وہ ایرانی قیادت کا ذکر بہت حقارت سے کرتے ہیں۔ کابینہ کے اجلاس میں
انھوں نے کہا کہ ایرانی قیادت معاہدے کیلئے بیقرار ہے لیکن انھیں بولنے کی ہمت
نہیں کیونکہ انتہا پسند انھیں مارڈالیں گے اور پھر اپنے مخصوص متکبرانہ لہجے میں
بولے (اگر معاہدہ نہ ہوا تو) یہ ہمارے ہاتھوں مارے جائینگے۔ اسکے مقابلے میں
ایرانی، مزاحمت کیلئے پرعزم اور بات چیت
کیلئے بھی تیار نظر آتے ہیں۔وہ زمینی حقیقت کے حوالے سے بہت پرامید اور ثابت قدم
تو ہیں لیکن گفتگو میں تلخی یا سختی نہیں اور فارسی لہجے کی مخصوص نرمی و
مٹھاس جنگ کی سختیوں سے آلودہ ہوتی نظر
نہیں آتی۔
عالمی
اور داخلی ردعمل
عالمی تنہائی کیساتھ امریکہ کے اندر بھی اس
جنگ کی حمایت کمزور پڑ رہی ہے۔ ایک حالیہ جائزے کے مطابق 59 فیصد امریکی ان
کارروائیوں کو حد سے تجاوز سمجھتے ہیں، جبکہ اکثریت کسی بڑی زمینی جنگ کی مخالف
ہے۔ حزب اختلاف کیساتھ صدر ٹرمپ ریپبلکن حلقوں میں
بھی زمینی جنگ کے حوالے سے تحفظات پائے جاتے ہیں۔
ادھر میزائیل و راکٹ بازی سے اسرائیلی بھی پریشان نظر آرہے ہیں۔جنگ
کے آغاز میں 78 فیصد اسرائیلی 'ایران کو کچل دو' کے حامی تھے لیکن اب یہ حمائت 50
فیصد رہ گئی ہے۔
یہ خونریز جنگ
میدانوں کیساتھ الفاظ، بیانئےاور فریب کے درمیان بھی جاری ہے۔ جب “جنگ” کو “تفریح”
اور “مذاکرات” کو حکمت عملی کا پردہ بنایا جائے، تو اصل نقصان صرف عمارتوں یا
فوجوں کا نہیں ہوتا بلکہ انسانیت اور سچ دونوں اس کی قیمت چکاتے ہیں۔
ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل کراچی 3 اپریل 2026
ہفت روزہ دعوت دہلی 3 اپریل 2026
ہفت روزہ رہبر سرینگر 5 اپریل 2026
No comments:
Post a Comment