Thursday, April 30, 2026

 

غزہ و لبنان میں جاری آگ ۔۔۔  جنگ بندی یا فریبِ امن؟

بیانات میں امن، زمین پر بارود—اصل فریق کی عدم شمولیت اور بگڑتی ہوئی انسانی صورتِ حال

مشرقِ وسطیٰ ایک ایسے نازک مرحلے سے گزر رہا ہے جہاں امن کے دعوے اور جنگ کی حقیقتیں ایک دوسرے سے متصادم دکھائی دیتی ہیں۔ سفارتی بیانات میں نرمی اور زمینی حالات میں شدت اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ مسئلہ صرف جنگ بندی کا نہیں بلکہ اس کے پسِ پردہ موجود سیاسی ترجیحات اور طاقت کے توازن کا ہے۔

جنگ بندی میں توسیع: امن یا وقتی مہلت؟

صدر ٹرمپ نے اسرائیل۔لبنان جنگ بندی میں مزید تین ہفتوں کی توسیع کا اعلان کیا جو 26 اپریل کو ختم ہونے والی تھی۔ تاہم اسی کے ساتھ لبنانی مزاحمتی قوتوں کے مکمل خاتمے کے عزم کا اظہار ایک واضح تضاد کو جنم دیتا ہے۔ امن کی بات اور ایک فریق کے خاتمے کی خواہش، یہ دونوں بیانئے بیک وقت ساتھ نہیں چل سکتے۔

اصل فریق کی عدم شمولیت: مذاکرات کی کمزوری

صدر ٹرمپ بظاہر امن کے خواہاں ہیں، مگر عملی طور پر وہ اصل فریق سے براہِ راست مکالمے سے گریزاں نظر آتے ہیں۔ غزہ میں مزاحمتی قوتوں کو مذاکراتی عمل سے باہر رکھا گیا، اور لبنان میں بھی یہی طرزِ عمل برقرار ہے۔جب اصل قوت کو نظرانداز کیا جائے تو مذاکرات محض رسمی کارروائی بن جاتے ہیں۔ یہی تجربہ صدر باراک حسین اوباما نے افغانستان میں کیا۔کابل کی کٹھ پتلی حکومت سے بات چیت  کئی برس جاری رہی جبکہ زمینی حقیقت کچھ اور تھی۔ بعد ازخرابیِ بسیار ملاوں سے براہِ راست مذاکرات نے ہی راستہ نکالا۔

لبنان: لوٹ مار اور مذہبی علامات کی بیحرمتی

لبنان میں جنگ بندی کے باوجود بمباری اور ڈرون حملوں کا سلسلہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا۔ جنوبی لبنان میں نہ صرف عسکری کارروائیاں جاری ہیں بلکہ شہری املاک اور مذہبی علامات بھی محفوظ نہیں۔ ایک اسرائیلی فوجی نے ہتھوڑے کی ضربات سے حضرت عیسیٰؑ کا مجسمہ توڑ دیا۔ایک ایسا واقعہ جو عالمگیرسطح پر تشویش کا سبب بنا۔معروف جریدے الارض (Haaretz)کے مطابق اسرائیل کے فوجی  کمانڈروں نے اخبار کو بتایا کہ انکے سپاہی جنوبی لبنان کے مقبوضہ علاقوں میں گھروں سے موٹر سائیکلیں، ٹی وی، قالین، صوفے، تصویریں اور دیگر سامان چوری کررہے ہیں۔لوٹ مار کایہ  عمل اب معمول بن چکاہے۔ مقامی سطح کے کمانڈر اس سے واقف ہیں لیکن نظم و ضبط کے مؤثر اقدامات نہیں کئے جا رہے۔ اسرائیلی فوج کے ترجمان نے اس خبر کو جھوٹ اور بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ فوجی پولیس لبنان اسرائیلی سرحد پر چیکنگ کرتی ہے۔ تاہم رپورٹ کے مطابق اکثر مقامات پر چوکیاں موجود ہی نہیں اور جہاں تھیں وہاں کئی مقامات سے فوجی پولیس کی چوکیاں ہٹا دی گئیں ہیں۔یہ لبنانی مزاحمت کاروں یا اسرائیل مخالفوں کے الزامات نہیں بلکہ اسرائیلی فوجی افسروں کے اپنے مشاہدے ہیں جو انھوں نے خود ایک موقر اسرائیلی جریدے سے بیان کئے ۔ کئی جگہ گھروں کو لوٹنے کے بعد یہ درندے دیواروں پر نفرت آمیز نعرے بھی لکھ گئے یہ چاکنگ ان جرائم کا دستاویزی ثبوت ہے۔

غزہ: مسلسل تباہی اور انسانی المیہ

غزہ میں بمباری، ڈرون حملے اور فائرنگ کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔ دیرالبلاح اور خان یونس میں حالیہ حملوں میں خواتین سمیت متعدد افراد جان سے گئے۔کمال عدوان ہسپتال کے باہر ایک ماں اور اس کا بچہ بھی گولہ باری کا شکار ہوئے۔

پولیس اہلکاروں کو بھی نشانہ بنایا جا رہا ہے، جس کے نتیجے میں کئی افسران اور ایک کمسن بچہ جاں بحق ہوا۔ یہ صورتحال اس بات کی عکاس ہے کہ شہری ڈھانچہ اور نظم و نسق بھی اس جنگ کا ہدف بنتا جا رہا ہے۔

جمہوری عزم: تباہی میں بھی زندگی

ان تمام حالات کے باوجود 25 اپریل کو دیرالبلاح میں بلدیاتی انتخابات کا انعقاد ایک غیر معمولی واقعہ ہے۔ تقریباً ستر ہزار افراد نے حقِ رائے دہی استعمال کرتے ہوئے 15 رکنی کونسل کا انتخاب کیا۔یہ عمل اس حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ جمہوری اقدار صرف پرامن حالات کی مرہونِ منت نہیں ہوتیں، بلکہ آزمائش کے دور میں ہی ان کی اصل روح سامنے آتی ہے۔

ہردم رواں ہے زندگی

شدید تباہی اور بے گھر ہونے کے باوجود غزہ میں زندگی کی رمق باقی ہے۔اس ہفتے  اجتماعی شادی کے بعد  300 لڑکیاں 'پیا کے خیمے' چلی گئیں۔ بیچاروں کے گھر تو ملبہ بن چکے ہیں اسلئے رخصتی ایک خیمے سے دوسرے خیمے میں ہوئی۔ شدید مشکات لیکن امید کا چراغ پھر بھی روشن ہے۔

مغربی کنارہ: مسلسل جبر اور بے یقینی

مغربی کنارے میں بھی حالات مختلف نہیں۔ رام اللہ کے قریب مغیر گاؤں میں فائرنگ سے ایک طالب علم اور اس کا استاد جاں بحق ہوئے۔ دیواروں پر نفرت آمیز نعرے لکھنے اور بستیوں کو نذرِ آتش کئے جانے کے واقعات اس خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کی نشاندہی کرتے ہیں۔ ان وحشیانہ کاروائیوں کے دوران اسرائیل میں یومِ آزادی کی رنگا رنگ تقریبات جاری تھیں۔ ایک ایسا تضاد جو خطے کی پیچیدہ حقیقت کو عیاں کرتا ہے۔

سچائی نشانے پر

جنوبی لبنان کے شہر الطیری میں بمباری کے دوران خاتون صحافی امل خلیل جاں بحق ہو گئیں۔  فلسطین و لبنان میں قلم کے مزدور اسرائیل کا خاص ہدف ہیں

جنگ بندی کے باوجود فلسطین و لبنان میں جاری کشیدگی نے مجلس السلام (بورڑ آف پیس) اور ملاقات و مذکرات سمیت 'امن' کیلئے جاری تمام کوششوں کو مہمل ثابت کردیا ہے۔جب تک تمام فریقوں کو اعتماد میں لے کر سنجیدہ اور جامع مذاکرات نہیں کئے جاتے، اس خطے میں پائیدار امن ایک خواب ہی رہے گا۔بندوق کی گونج وقتی خاموشی تو لا سکتی ہے، مگر دیرپا سکون صرف مکالمے، انصاف اور باہمی احترام سے ہی حاصل ہوگا۔

ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل کراچی یکم مئی 2026

ہفت روزہ دعوت دہلی یکم مئی 2026

ہفت روزہ رہبر سرینگر 3 مئی 2026


 

No comments:

Post a Comment