Thursday, April 23, 2026

 

جنگ بندی یا وقفہ جنگ؟؟؟

متضاد بیانیہ، امید، بے یقینی اور  پاکستان کی خاموش سفارت کاری

دو ہفتے قبل ایران اور امریکہ کے درمیان ہونے والی جنگ بندی نے یہ امید پیدا کی تھی کہ شاید ایک خطرناک تصادم اپنے انجام کو پہنچنے والا ہے۔ مگر مہلت ختم ہونے پرایران کوتباہ کردینے کی دھمکی سے صدر ٹرمپ کے یوٹرن کے باوجود کشیدگی میں فوری کمی کے امکانات معدوم نہیں تو کم از کم دھندلا ضرور چکے ہیں ایرانی قیادت خدشہ ظاہر کررہی ہے کہ نامہ و پیام کی آڑ میں صدر ٹرمپ اسرائیل کی مدد سے ایک بھرپور حملے کی تیاری اور اس تنازعے کو قومی سلامتی کا معاملہ بنانے کی کوشش کررہے ہیں۔ اسی سبب 21 اپریل کو انھوں نے انکشاف کیا کہ امریکی بحریہ نے جس ایرانی جہاز پر قبضہ کیا ہے وہ روس سے 'تحفہ' لے کر یران آرہاتھا۔ صدر ٹرمپ نے اس تحفےکی تفصیل تو نہیں بتائی لیکن فرمایاکہ انھیں روس کی اس پیشرفت پر حیرت ہوئی اسلئے کہ وہ صدر ژی جن پنگ کو اپنا دوست سمجھتے ہیں۔

مذاکرات یا فاصلہ؟ — اسلام آباد میں خاموشی

ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی تسنیم کے مطابق تہران نے پاکستان میں امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے دوسرے دور میں شرکت نہ کرنے کا حتمی فیصلہ کر لیا ہے، اور پاکستانی ثالث کو اس سے آگاہ بھی کر دیا گیا ہے۔

کیا تہران واقعی دروازہ بند کر رہا ہے یا بہتر پیشکش کا منتظر ہے؟ صدر ٹرمپ کی جانب سے جنگ بندی میں یکطرفہ توسیع کو ابتدا میں ایک سفارتی رغبت کے طور پر دیکھا گیا، لیکن ایران واضح کر چکا ہے کہ ناکہ بندی کے خاتمے سے پہلے کسی بامعنی بات چیت کا امکان نہیں۔ ایسے میں اگر واشنگٹن اشتعال کے بجائے نرم اشاروں اور خاموش دعوت کی حکمتِ عملی جاری رکھتا ہے، تو شاید یہی فائر بندی مستقبل کی کسی سنجیدہ پیش رفت کا پیش خیمہ بن سکے۔

جنگ بندی کی لبنان تک توسیع، منڈیوں سے مثبت اشارے

امن کوششوں کا آغاز بڑا خوش آئند تھا کہ اسلام آباد میں بات چیت کا پہلا مرحلہ بے نتیجہ ختم ہونے کے باوجود پاکستان نے ثالثی کا سلسلہ جاری رکھا اورصدر ٹرمپ نے بات چیت کا نیا دور جلد شروع کرنے کا اعلان کیا۔ ایک مرحلے پر صدر ٹرمپ اتنے پر امید نظر آئے کہ انھوں نے بات چیت کیلئے خود اسلام آباد آنے کی خواہش ظاہر کی۔ اسرائیل و لبنان کے درمیاں 10 روزہ عارضی جنگ بندی سے امن کی کوششوں کو مزید تقویت ملی۔ امریکی صدر کے مثبت بیانات کا ایران نے خیر مقدم کیا اور آبنائے ہرمز کو کھولدی گئی۔ان مثبت اشاروں کا اثر عالمی معیشت پر بھی پڑا۔ تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی آئی اور عالمی بازارِحصص میں تیزی دیکھی گئی، گویا دنیا نے سکھ کا سانس لیا۔

متضاد بیانیہ اور ہرمز کی کشمکش

صدر ٹرمپ نے اس موقعہ پر دعویٰ کیا کہ افزودہ یورینیم کے معاملے پر اختلافات تقریباً ختم ہو چکے ہیں اور کوئی “sticky point” باقی نہیں رہا۔ تاہم ایرانی قیادت نے اس تاثر کی نفی کی۔ ایرانی پارلیمان کے اسپیکر اور مذاکراتی وفد کے قائد محمد باقر قالیباف نے کہا کہ افزودہ یورینیم کی حوالگی پر کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا۔بات چیت ابھی ابتدائی مرحلے میں ہے اور کسی ٹھوس نتیجے تک پہنچنے میں ہفتوں لگ سکتے ہیں۔ انھوں نے مذاکرات کی حمائت کرتے ہوئے کہا کہ معاملات میں پیشرفت تو ہے لیکن خلیج اب بھی کافی گہری ہے۔

صورتحال اس وقت مزید بگڑی جب امریکہ نے ایران کی بحری ناکہ بندی برقرار رکھنے کا اعلان کیا، حالانکہ ایران پہلے ہی آبنائے ہرمز کھول چکا تھا۔ اس اقدام کو تہران نے اشتعال انگیزی قرار دیتے ہوئے دوبارہ پابندیاں عائد کر دیں، اور یوں خطے کی اہم ترین گزرگاہ ایک بار پھر کشیدگی کا مرکز بن گئی۔

تاہم امریکی صدر اسکے بعد بھی پرامید نظر آئے اوراسرائیلی چینل 12 پر ایک انٹرویو میں انھوں نے بہت ہی پراعتماد لہجے میں فرمایا “(ایران سے) معاہدے کا بنیادی تصور طے پا چکا ہے۔ میرا خیال ہے کہ اسے مکمل کرنے کے ہمارے پاس بہت اچھا موقع ہے،” پھر فوراً ہی بولے “اگر ایرانی راضی نہ ہوئے تو سب کچھ تباہ کر دیں گےاس پر اسرائیلی محکہ دفاع کے ایک  اہلکار نے کہا کہ ' امریکی صدر کے بیانات میں اسقدر ابہام اور تضاد ہوتا ہے کہ انسانی دماغ کیلئے اسکی تشریح ممکن نہیں بلکہ اگر ایران سے متعلق انکے بیانات کے تجزئے کیلئے ChatGPT سے مدد لیں تو وہ بھی تضادات کے بوجھ تلے اندر سے بکھر جائے۔

جنگی تیاری اور مختلف ترجیحات

اسرائیل اور امریکہ میں جنگی تیاریوں کی خبروں سے حالات مزید سنگین ہوگئے۔ذرایع ابلاغ کے اسرائیلی اداروں Ynet, چینل 12 اور چینل 13 کے مطابق فوج کے سربراہ جنرل ایال زامیز نے اپنے کمانڈروں کو کاروائی شروع کرنے کیلئے تیار رہنے کا حکم دیدیا ہے۔ ایسا ہی تاثر امریکی وزیر جنگ پیٹ ہیگسیتھ کی جانب سے بھی موصول ہواجسکا جواب دیتے ہوئے پاسداران انقلاب اسلامی کے سربراہ حسین سلامی نے کہا کہ ایران جنگ شروع نہیں  کریگا لیکن ہم پر جنگ مسلط کرنے والے بچ کر نہیں جاسکیں گے

اس تمام صورت حال میں امریکہ اور اسرائیل کے اہداف کا فرق نمایاں ہے۔ واشنگٹن کے نزدیک مسئلہ ایران کا جوہری پروگرام ہے، جبکہ اسرائیل کیلئے  اسلامی تشخص کیساتھ ٖغیر جوہری ایران بھی قابل قبول نہیں اسی تضاد نےاس تنازعے کو مزید پیچیدہ کردیا ہے۔

پاکستان کی خاموش سفارت کاری

اس نازک مرحلے پر پاکستان نے پسِ پردہ مگر مؤثر سفارت کاری کے ذریعے ایک پل بنانے کی کوشش کی اور اسلام آباد کے اس  کردار کو علاقائی اور عالمی سطح پر سراہا گیا۔ تاہم حالیہ پیش رفت، مذکرات سے ایرانی انکار، ناکہ بندی، اور بڑھتی ہوئی عسکری تیاریوں نے ان کوششوں کے اثرات کو وقتی طور پر دھندلا دیا ہے۔

موجودہ صورتحال کا سب سے نازک پہلوصدر ٹرمپ کی ساکھ اور  ہر لمحہ بدلتے انکے بیانئے ہیں یعنی ایک ہی سانس میں معاہدے کی نوید اور تباہی کی دھمکی۔ یہ تضاد صرف سفارتی ابہام نہیں بلکہ اعتماد کے بحران کو جنم دیتا ہے۔ ان کی کسی بات پر کسی کو اعتماد نہیں جسکی ایک تازہ ترین مثال اسلام آباد مذاکرات ہیں۔بیس اپریل کی صبح صدر ٹرمپ نے نیویارک پوسٹ کو بتایا کہ نائب صدر جے ڈی وانس اسلام آباد کیلئے روانہ ہوچکے ہیں اور وہ شام تک وہاں ہونگے۔لیکن اسی لمحے CNNکی صحافی الیانہ نے نائب صدر کی واشنگتں میں موجودگی کی اطلاع دی۔ الیانہ کو  بتایا گیا کہ جناب وانس 21 اپریل کو روانہ ہونگے اور ملاقات بدھ کو متوقع ہے لیکن اسی شام نائب صدر کے دفتر نے بتایا کہ جناب وانس کی اسلام روانگی فی الحال موخر کردی گئی ہے۔

بظاہر جنگ بندی کو غیر معینہ مدت تک بڑھا دیا گیا ہے، لیکن اگر یہ مہلت ٹھوس پیش رفت میں تبدیل نہ ہو سکی تو تاریخ اسے امن کا وقفہ نہیں، بلکہ اگلی جنگ کی تمہید کے طور پر یاد رکھے گی۔

ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل کراچی 24 اپریل 2026

ہفت روزہ دعوت دہلی 24 اپریل 2026

ہفت روزہ رہبر سرینگر 26 اپریل 2026


No comments:

Post a Comment