Saturday, May 30, 2026

 

خیموں کی دنیا، مشترک انسانیت

غزہ، لبنان اور غربِ اردن میں جاری المیے پر عالمی سیاست کی بے حسی

ایران کے محاذ پر وقتی خاموشی اور مفاہمتی یادداشت (MOU) کی خبروں نے خلیج فارس کے گرد ایک محتاط سی امید پیدا کردی ہے، لیکن بحیرۂ روم کے مشرقی ساحل پر ظلم، محاصرہ اور خونریزی کا حبس بدستور قائم ہے۔ غزہ، لبنان اور غربِ اردن اب بھی خوف، بے گھری اور اجتماعی اذیت کی علامت بنے ہوئے ہیں۔

غزہ: امن کے نام پر ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ

غزہ میں مجلسِ امن (Board of Peace) کی توجہ اب بھی مزاحمت کاروں کے ہتھیار ڈالنے پر مرکوز ہے۔ گزشتہ ہفتے بورڈ کے سربراہ نکولائی ملادینوف (Nickolay Mladenov) نے سلامتی کونسل کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ اگر مزاحمت کار غیر مسلح نہ ہوئے تو اسرائیل کو غزہ پر مکمل قبضے کا جواز مل جائے گا۔ ان کے مطابق اس وقت غزہ کے تقریباً ساٹھ فیصد علاقے پر اسرائیلی فوج قابض ہے جبکہ پچیس لاکھ فلسطینی صرف ڈیڑھ سو مربع کلومیٹر کے محدود خطے میں محصور ہوچکے ہیں۔

المیہ یہ ہے کہ قیامِ امن کے دعوے دار ادارے جارح سے انخلا کا مطالبہ کرنے کے بجائے مظلوم سے ہتھیار ڈالنے کا تقاضا کررہے ہیں، حالانکہ مزاحمت کار واضح کرچکے ہیں کہ اسرائیلی افواج کی واپسی کے بعد وہ اپنی تلواریں نیام میں رکھ لیں گے۔ اہلِ غزہ کا سوال سادہ مگر تلخ ہے کہ جب زمین پر دشمن قابض ہو تو غیر مسلح ہوکر خود کو بے دست و پا کیسے کردیا جائے؟

قافلۂ صمود اور کھلے سمندر میں طاقت کا مظاہرہ

اسی ہفتے “قافلۂ صمود” (Flotilla) کے ساتھ پیش آنے والا واقعہ عالمی ضمیر کیلئے ایک اور آزمائش بن گیا۔ اسرائیلی بحریہ نے بین الاقوامی پانیوں میں کارروائی کرتے ہوئے سینکڑوں کشتیوں پر سوار تقریباً چار سو پچاس کارکنوں کو حراست میں لے لیا۔ قافلے میں شامل عمر رسیدہ اسرائیلی خاتون زہر رجب کو ہتھکڑی لگا کر جیل بھیج دیا گیا، جہاں ان پر “غداری” کا مقدمہ چلانے کی تیاری کی جارہی ہے۔اس سے بھی زیادہ تشویشناک پہلو گرفتار کارکنوں کے ساتھ مبینہ سلوک ہے۔ رہائی کے بعد استنبول پہنچنے والے متعدد کارکن زخمی حالت میں اسپتال منتقل کئے گئے جبکہ کم از کم پندرہ افراد نے جنسی تشدد، حتیٰ کہ عصمت دری، جیسے سنگین الزامات عائد کئے ہیں۔ اگرچہ اسرائیلی جیل سروس نے ان الزامات کی تردید کی ہے، لیکن متاثرین کے جسموں پر موجود نشانات ان دعوؤں کو مزید سنگین بناتے ہیں۔

چند ماہ قبل اقوامِ متحدہ کی خصوصی نمائندہ فرانسسکا البانیز (Francesca Albanese) اسرائیلی جیلوں میں فلسطینی قیدیوں پر تشدد سے متعلق ایک تفصیلی رپورٹ پیش کرچکی ہیں۔ اب تازہ الزامات اس امر کے متقاضی ہیں کہ آزادانہ، غیر جانب دار اور شفاف تحقیقات کسی بین الاقوامی ادارے کے ذریعے کرائی جائیں۔دلچسپ اور حیرت انگیز بات یہ ہے کہ بدترین تشدد کا شکار ہونے والے یہی کارکن دوبارہ غزہ جانے کیلئے پُرعزم ہیں۔

ملبے پر زندگی کی ضد

غزہ پر بمباری، ڈرون حملوں اور نشانہ بازوں کی فائرنگ کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔ بیت لاہیہ میں سڑک پر کھیلتے بچوں کو ڈرون حملے میں نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں ایک کم سن بچہ جاں بحق جبکہ متعدد زخمی ہوگئے۔ اسرائیلی فوج نے وضاحت پیش کی کہ بچوں کے ہاتھ میں موجود فٹبال “غلطی سے دستی بم محسوس ہوئی”۔قانون نافذ کرنے والے فلسطینی ادارے بھی مسلسل نشانے پر ہیں۔ شمالی غزہ میں پولیس کی ایک گاڑی پر ڈرون حملے میں پانچ فلسطینی پولیس افسران اور قریب موجود تیرہ سالہ بچہ جاں بحق ہوگیا۔

لیکن تباہی کے اس منظرنامے میں بھی اہلِ غزہ نے زندگی سے دستبردار ہونے سے انکار کردیا ہے۔ ملبے کے درمیان نئے تعلیمی سال کی کلاسیں سج رہی ہیں جبکہ ایڈورڈ سعید میوزک سینٹر کی تباہ شدہ عمارت کے بچے کھچے حصے میں موسیقی کا مدرسہ قائم کردیا گیا ہے جہاں نوجوان راک موسیقی کی دھنیں ترتیب دے رہے ہیں۔ غزہ اب صرف موت کی علامت نہیں بلکہ زندگی کی ضد کا استعارہ بھی بنتا جارہا ہے۔

لبنان اور غربِ اردن: پھیلتی ہوئی آگ

جنوبی لبنان پر بمباری اور ڈرون حملے جاری ہیں جبکہ مزاحمتی کارروائیاں بھی کمزور نہیں پڑیں۔ متعدد اسرائیلی فوجیوں کے ہلاک و زخمی ہونے کی اطلاعات سامنے آئیں۔ غزہ کی طرح بیروت کے ساحل پر بھی خیمہ بستیاں آباد ہورہی ہیں۔یہ خیمے صرف عارضی پناہ گاہیں نہیں بلکہ جنگ، بے دخلی اور عالمی بے حسی کے ایسے نشان ہیں جو انسانیت کے ماتھے پر مستقل داغ بنتے جارہے ہیں۔

غربِ اردن میں بھی قبضہ گردی اور تشدد کا سلسلہ جاری ہے۔ الجزیرہ کے مطابق گزشتہ ایک برس میں37 ہزار فلسطینی اپنے گھروں سے بے دخل کئے جاچکے ہیں۔ حلحول میں حملہ آوروں نے توڑ پھوڑ اور آتشزنی کے بعد دیواروں پر عبرانی زبان میں “נקמהیعنی “انتقام” لکھ دیا۔ المغیر میں فلسطینیوں کے کھیت جلادیئے گئے جبکہ حملہ آوروں کے خلاف کارروائی کے بجائے مقامی فلسطینیوں کی گرفتاریاں شروع کردی گئیں۔اس دوران آٹھ اور دس برس کے بچوں کو بھی “دہشت گردی” کے الزامات میں گرفتار کیا گیا۔ رام اللہ کے گاؤں عطارہ میں حملہ آوروں نے نہ صرف فلسطینیوں بلکہ ان کے پالتو جانوروں تک کو تشدد کا نشانہ بنایا۔ کھیتوں کی حفاظت کرنے والے کتوں کو ڈنڈوں سے مارا گیا اور گھروں کی بلیوں کو اذیت دی گئی۔ سنگدلی کا یہ عالم کہ ان واقعات کے بصری تراشے خود حملہ آوروں نے جاری کئے۔

سیاستدان خاموش، فنکار ماتم کناں، عالمی فوجداری عدالت سرگرم

امریکہ، یورپ اور مغربی دنیا کے اکثر سیاستدان اسرائیلی ترغیب کاری (Lobbying) کے دباؤ میں خاموش دکھائی دیتے ہیں، لیکن وہ فنکار، گلوکار اور اداکار جنہیں مسلم معاشروں میں اکثر سطحی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے، فلسطینیوں کے حق میں زیادہ بلند آواز بن کر سامنے آرہے ہیں۔

فرانس کے معروف کانز فلم فیسٹیول (Cannes Film Festival) میں آسکر یافتہ ہسپانوی ہدایتکار پیڈرو المودووَر (Pedro Almodóvar) نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو اور روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کو “عفریت” قرار دیا۔ انہوں نے فلسطینیوں سے اظہارِ یکجہتی کیلئے اپنی جیکٹ پر “Free Palestine” کا بیج بھی آویزاں کررکھا تھا۔

ادھر عالمی فوجداری عدالت (ICC) نے غربِ اردن میں انسانی حقوق کی مبینہ خلاف ورزیوں کے معاملے پر اسرائیلی وزیرِ خزانہ بیزلیل اسموٹرچ کے وارنٹِ گرفتاری جاری کردیئے ہیں۔ اس سے قبل اسرائیلی وزیراعظم، سابق وزیرِ دفاع اور فوجی قیادت کے خلاف بھی وارنٹ جاری ہوچکے ہیں۔

بیت اللحم: جہاں کلیسا نے دروازے کھول دیئے

اس تمام تاریکی کے درمیان عیدالاضحیٰ کے موقع پر بیت اللحم (Bethlehem) سے آنے والا ایک منظر انسانیت کیلئے امید کی نرم روشنی بن کر ابھرا۔اس برس ہزاروں فلسطینی مسلمانوں نے تاریخی Church of the Nativity کے باہر عید کی نماز ادا کی۔ یہ وہ مقدس مقام ہے جسے دنیا بھر کے مسیحی حضرت عیسیٰؑ کی جائے پیدائش مانتے ہیں۔مسجد اقصیٰ، مشرقی یروشلم اور مغربی کنارے میں پابندیوں کے باعث ہزاروں فلسطینی اس بار عید کی نماز ادا نہ کرسکے۔ ایسے میں بیت اللحم کی مسیحی برادری نے اپنے مقدس ترین مقام کے دروازے مسلمانوں کیلئے کھول دیئے۔

یہ منظر صرف مذہبی رواداری نہیں بلکہ مظلوم انسانوں کے ساتھ کھڑے ہونے کی ایک عظیم مثال بھی تھا۔ حضرت عیسیٰؑ مسلمانوں کیلئے بھی اللہ کے جلیل القدر رسول ہیں جبکہ ان کی والدہ حضرت مریمؑ کو قرآن مجید “تمام جہانوں کی عورتوں سے برتر” قرار دیتا ہے۔ شاید اسی لئے بیت اللحم میں ادا ہونے والی یہ نماز کسی اجنبیت کا منظر نہیں بلکہ مشترکہ روحانی ورثے کی ایک خوبصورت جھلک محسوس ہوتی ہے۔بیت اللحم کا یہ منظر قرآن کی اُس دعوت کی عملی تفسیر ہے کہ :

اے اہلِ کتاب! آؤ ایک ایسی بات کی طرف جو ہمارے اور تمہارے درمیان مشترک ہے، یہ کہ ہم اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کریں۔ سورۂ آلِ عمران ، آئت 64

ایک ایسے وقت میں جب نفرت کے سوداگر دیواریں کھڑی کررہے ہیں، بیت اللحم کے اس کلیسا نے انسانیت کیلئے ایک دروازہ کھول دیا۔

تاریخ ضرور یاد رکھے گی کہ جب دنیا کے طاقتور لوگ خاموش تھے، تب ملبے پر بیٹھے بچے، خیموں میں رہنے والے خاندان، سمندر میں سفر کرنے والے کارکن، اور بیت اللحم میں کلیسا کے دروازے کھولنے والے لوگوں نے انسانیت کا چراغ بجھنے نہیں دیا۔

ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل کراچی 29 مئی 2026

ہفت روزہ دعوت دہلی 29 مئی 2026

ہفت روزہ رہبر سرینگر 31 مئی 2026


 

عسکری سفارتکاری، اسرائیلی دباؤ اور ٹرمپ کی الجھن

کیا ایران۔امریکہ مفاہمت مشرقِ وسطیٰ کو نئی جنگ سے بچاسکے گی؟

مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر تاریخ کے ایک نازک موڑ پر کھڑا ہے، جہاں جنگی تیاریوں، خفیہ سفارتکاری، معاشی مفادات اور داخلی سیاسی دباؤ نے مل کر ایک ایسا ماحول پیدا کردیا ہے جس میں ہر بیان، ہر خاموشی اور ہر تاخیر اپنے اندر کئی معنی سمیٹے ہوئے ہے۔ گزشتہ چند ہفتوں کے دوران ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی نے جس تیزی سے رخ بدلے ہیں، اس نے یہ واضح کردیا کہ خطہ مکمل جنگ اور محدود مفاہمت کے درمیان ایک خطرناک عبوری مرحلے میں ہے۔

منگل 19 مئی کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے پاس معاہدے کیلئے “چند دن” باقی رہ گئے ہیں، جبکہ اسرائیلی چینل 12 نے دعویٰ کیا کہ ایران پر ممکنہ حملے کیلئے اسرائیلی فوجی تیاریوں کو آخری شکل دے دی گئی ہے۔ اسی روز ایرانی ذرائع ابلاغ میں یہ خبر گردش کرتی رہی کہ رہبرِ معظم آیت اللہ خامنہ ای نے افزودہ یورینیم ایران سے باہر منتقل نہ کرنے کی ہدایت جاری کی ہے۔ ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزیشکیان نے اس مؤقف کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ سفارتی حل کے تمام راستے کھلے ہیں، لیکن دباؤ اور جبر کے ذریعے ایران کو ہتھیار ڈالنے پر مجبور کرنے کا خیال محض ایک فریب ہے۔

مکتوبِ ارادہ اور پسِ پردہ رابطے

اسی کشیدہ ماحول میں قطر اور پاکستان کی پسِ پردہ سفارتکاری سے متعلق اطلاعات سامنے آئیں۔ بتایا گیا کہ دونوں ممالک نے واشنگٹن اور تہران کو ایک “مکتوبِ ارادہ” (Letter of Intent) کا ابتدائی مسودہ بھیجا ہے، جو ممکنہ طور پر جنگ کے خاتمے کا سیاسی فریم ورک بن سکتا ہے۔ اطلاعات کے مطابق اس مسودے پر دستخط کے بعد 30 روزہ مذاکراتی عمل شروع ہونا تھا، جس میں آبنائے ہرمز کی بحالی، ایران کے جوہری پروگرام کی حدود اور خطے میں کشیدگی کم کرنے جیسے معاملات زیرِ بحث آتے۔ ان سفارتی کوششوں میں سعودی عرب، ترکیہ اور مصر سے بھی مشاورت کی گئی۔

اس خبر کو اس وقت مزید تقویت ملی جب صدر ٹرمپ نے اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کو فون پر بتایا کہ وہ سفارتکاری کو ایک موقع دینے کیلئے حملے روک رہے ہیں۔ تاہم صرف دو روز بعد ان کا لہجہ بدل گیا۔وہ 21 مئی کی شب یہ کہتے سنے گئے کہ “فیصلہ کن فتح” کیلئے ایران پر مزید حملوں کے سوا شاید کوئی راستہ باقی نہیں رہا۔ معاہدۂ امن اور جنگ کے امکانات “ففٹی ففٹی” قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر کوئی معاہدہ طے نہ پاسکا تو ایران کے خلاف بھرپور عسکری کارروائی دوبارہ شروع کی جاسکتی ہے۔

صورتحال اس وقت مزید سنسنی خٰیز ہوگئی جب یہ خبر سامنے آئی کہ صدر ٹرمپ نے  اپنے صاحبزادے ڈونلڈ ٹرمپ جونیئر کی بہاماس میں ہونے والی شادی میں شرکت سے معذرت کرلی ہے تاکہ وہ بحران پر مسلسل نظر رکھ سکیں۔

 تہران میں عاصم منیر کی سفارتکاری، مجوزہ MOU اور باہمی فائدے کا بندوبست

اس دوران فیلڈ مارشل سید عاصم منیر تہران پہنچے، جہاں انہوں نے ایرانی قیادت سے تفصیلی ملاقاتیں کیں۔ انہی ملاقاتوں کے دوران ایک مفاہمتی یادداشت (MOU) کا ابتدائی خاکہ سامنے آنے کی اطلاعات ملیں۔ ایرانی پارلیمان کے اسپیکر باقر قالیباف نے جنرل عاصم سے ملاقات کے بعد کہا کہ ایران میز اور میدان دونوں کیلئے تیار ہے، تاہم اگر واشنگٹن نے دوبارہ حملہ کیا تو ایران کا جواب پہلے سے زیادہ شدید ہوگا۔

آن لائن خبر رساں ادارے Axios نےاس یادداشت کے جو مندرجات نکات شائع کئے، اسکے مطابق ساٹھ روزہ جنگ بندی کے دوران آبنائے ہرمز بغیر کسی اضافی محصول یا Toll کے کھلی رہے گی، جبکہ ایران اپنی بچھائی گئی بحری بارودی سرنگیں صاف کرے گا تاکہ عالمی تجارت متاثر نہ ہو۔ اس کے بدلے امریکہ ایران کی بحری ناکہ بندی ختم کردیگا اور ایرانی تیل کی فروخت پر پابندیوں میں جزوی نرمی لائی جائے گی۔

اگر مجوزہ MOU کا غیر مصدقہ متن درست ہے تو یہ بظاہر ایک ایسا “باہمی فائدے کا بندوبست” محسوس ہوتا ہے جسے دونوں فریق اپنی اپنی کامیابی کے طور پر پیش کرسکتے ہیں۔ تہران یہ دعویٰ کرسکتا ہے کہ شدید عسکری دباؤ کے باوجود اس نے اپنے جوہری پروگرام سے مکمل دستبرداری اختیار نہیں کی، لہٰذا یہ “مزاحمت کی کامیابی” ہے۔ دوسری طرف صدر ٹرمپ اپنے حامیوں کو یہ باور کراسکتے ہیں کہ ایران کو عالمی نگرانی، محدود افزودگی اور آبنائے ہرمز کھولنے پر آمادہ کرلیا گیا ہے۔ گویا یہ مفاہمت ایرانی سخت گیر حلقوں اور امریکی قدامت پسندوں، دونوں کیلئے “فتح کے بیانئے” کی بنیاد بن سکتی ہے۔

اسرائیلی تشویش اور ریپبلکن دباؤ

تاہم اسرائیل اور امریکہ کے قدامت پسند حلقے اس ممکنہ MOU سے مطمئن دکھائی نہیں دیتے۔ اس معاہدے میں فوری توجہ جنگ بندی، آبنائے ہرمز کی بحالی اور معاشی دباؤ میں نرمی پر مرکوز ہے، جبکہ ایران کے جوہری پروگرام کا بنیادی تنازع آئندہ مذاکرات تک مؤخر کردیا گیا ہے۔ اہم بات یہ بھی ہے کہ امریکہ نے اسرائیل کو ان مذاکرات سے عملاً دور رکھا، جس سے تل ابیب کے خدشات مزید بڑھ گئے ہیں۔

اسرائیلی حزبِ اختلاف کے رہنما ایوگڈور لائبرمین نے چینل 12 سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ نیتن یاہو نے اسرائیل کو “Banana Republic” یا ایک ناکام ریاست میں تبدیل کردیا ہے۔ ان کے مطابق یہ معاہدہ اسرائیل کیلئے تباہ کن ثابت ہوسکتا ہے کیونکہ اس کے نتیجے میں تہران کی سخت گیر قیادت مزید مضبوط ہوگی۔ دوسری طرف امریکی ریپبلکن پارٹی کے اسرائیل نواز سینیٹرز، خصوصاً ٹیڈ کروز اور لنڈسے گراہم، بھی اس مجوزہ MOU پر شدید تحفظات کا اظہار کررہے ہیں۔ امریکی سیاست میں مشرقِ وسطیٰ سے متعلق پالیسیوں پر ترغیب کاری (Lobbying) کے اثرات ایک ناقابلِ تردید حقیقت ہیں، لہٰذا ان بیانات کو اسی سیاسی تناظر میں سمجھنا ہوگا۔

ہیں اس بتِ پُر فن کی ہر بات کے سوپہلو

اسی دوران صدر ٹرمپ کے تازہ بیانات نے پورے سفارتی منظرنامے میں نئی پیچیدگیاں پیدا کردی ہیں۔ انہوں نے اپنے مذاکرات کاروں کو ہدایت کی ہے کہ ایران کے ساتھ معاہدے میں “جلد بازی نہ کی جائے کیونکہ وقت ہمارے حق میں ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے واضح کیا کہ آبنائے ہرمز میں امریکی ناکہ بندی اُس وقت تک برقرار رہے گی جب تک معاہدے پر دستخط نہ ہوجائیں۔منگل 26 مئی کو کابینہ اجلاس سے پہلے  صدر ٹرمپ نے مجوزہ MOU کے بارے میں ایک بار پھر متضاد اور مبہم مؤقف اختیار کیا۔ انہوں نے مفاہمتی یادداشت کو “پائیدار امن کیلئے اچھی بنیاد” کہا اور اسی سانس میں اس خبر کو “تراشہ ہوا افسانہ” کہہ کر مسترد بھی کردیا۔ یہ تضاد محض سفارتی ابہام نہیں بلکہ داخلی سیاسی دباؤ کی علامت محسوس ہوتا ہے۔

عمان، ابراہیم معاہدہ اور نئی شرائط

زیادہ حیرت انگیز پہلو عمان کے بارے میں ان کا سخت لہجہ تھا، حالانکہ یہی عمان برسوں سے امریکہ اور ایران کے درمیان ایک باوقار اور قابلِ اعتماد ثالث کا کردار ادا کرتا رہا ہے۔ خود امریکی ایلچی اسٹیو وٹکاف ماضی میں مسقط کی خاموش سفارتکاری اور دیانت دار ثالثی کی تعریف کرچکے ہیں۔اسی دوران صدر ٹرمپ نے ایران کے ساتھ کسی ممکنہ معاہدے کو “معاہدۂ ابراہیم” سے جوڑنے کی کوشش بھی کی۔انہوں نے قطر، سعودی عرب اور پاکستان پر زور دیا کہ ایران سے معاہدے کے بعد وہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات بحال کریں۔ تاہم غزہ، مسجد اقصیٰ اور فلسطینی صورتحال کے موجودہ تناظر میں یہ مطالبہ حقیقت پسندانہ نہیں دکھائی دیتا۔

ایران، صدر ٹرمپ کے گلے میں پھنسی چھجھوندر بن گیا ہے جسے نگلنامشکل تو اگلنا بھی آسان نہیں۔ایران کے خلاف عسکری دباؤ انھیں کامیابی نہ دلاسکا اورامریکی عسکری حلقوں کو بخوبی اندازہ ہے کہ جوہری اثاثوں پر مکمل کنٹرول کسی وسیع زمینی مہم کے بغیر ممکن نہیں۔ افغانستان کے تجربات ابھی امریکی حافظے سے محو نہیں ہوئے، جبکہ ایران،  افغان طالبان کے مقابلے میں نہ  صرف کہیں  بڑی عسکری قوت ہے بلکہ اس کے علاقائی اتحادی بھی پورے خطے میں سرگرم ہیں۔ دوسری طرف اسرائیل نواز ریپبلکن حلقوں کا اصرار ہے کہ ایران کے ساتھ کوئی بھی مفاہمت “کمزوری” دکھائی نہ دے۔

لبنان: مفاہمت کا سب سے نازک محاذ

لبنان بھی اس پوری مفاہمتی کوشش کا ایک حساس اور ممکنہ طور پر خطرناک پہلو بنتا جارہا ہے۔ الجزیرہ کے مطابق ایران نے امریکہ کو خبردار کیا ہے کہ اگر اسرائیل نے بیروت پر بڑا حملہ کیا تو جنگ بندی اور علاقائی مفاہمت کیلئے جاری مذاکرات خطرے میں پڑسکتے ہیں۔ یہ محض ایک سفارتی انتباہ نہیں بلکہ ایران۔امریکہ مفاہمتی عمل کیلئے ایک سنجیدہ اشارہ ہے۔ مجوزہ MOU میں جنگ بندی کا دائرہ لبنان تک بڑھانے پر زور دیا جارہا ہے، جبکہ دوسری طرف اسرائیلی فوج جنوبی لبنان سے کارروائیوں کا دائرہ وسیع کرکے بیروت تک لے جانے کی تیاری کرتی دکھائی دے رہی ہے۔

یوں محسوس ہوتا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ اس وقت صرف ایران اور امریکہ کے درمیان مفاہمت یا محاذ آرائی کے سوال سے نہیں گزر رہا، بلکہ اصل کشمکش اس بات پر ہے کہ خطے کا مستقبل جنگی غلبے سے طے ہوگا یا سفارتی توازن سے۔ لبنان، غزہ، آبنائے ہرمز اور تہران اب ایک ہی تزویراتی زنجیر کی کڑیاں بن چکے ہیں۔ چنانچہ بیروت میں بھڑکنے والی ایک چنگاری بھی واشنگٹن اور تہران کے درمیان جاری مفاہمت کو راکھ بناسکتی ہے۔ خطہ اس وقت مکمل امن اور کھلی جنگ کے درمیان ایک ایسے عبوری مرحلے میں داخل ہوچکا ہے جہاں میز پر سفارتکاری جاری ہے، مگر میز کے نیچے انگلیاں اب بھی لبلبی پر ہیں۔

ہفت روزہ فرائیڈے اسہیشل کراچی 29 مئی 2026

ہفت روزہ دعوت دہلی 29 مئی 2026

ہفت رزہ رہبر سرینگر 31 مئی 2026


Thursday, May 21, 2026

 

ایران، چین اور امریکہ

سفارتکاری، آبنائے ہرمز، خلیجی ثالثین اور ایک ممکنہ نئے تصادم کی آہٹ

امریکہ کی 14 نکاتی مفاہمتی یادداشت (MOU) کے ایرانی جواب کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مسترد کرتے ہوئے آبنائے ہرمز بزورِ طاقت کھلوانے کیلئے “Operation Freedom Plus” شروع کرنے کا عندیہ دیا تھا، مگر ایک ہفتہ گزر جانے کے باوجود اس ضمن میں کوئی بڑی عسکری پیش رفت سامنے نہیں آئی۔ تاہم امریکی بحریہ کی حالیہ سرگرمیوں اور اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو کی ہنگامی کابینہ اجلاسوں کو دیکھتے ہوئے یہ تاثر ضرور پیدا ہورہا ہے کہ ایران پر اچانک اور شدید حملے کا امکان مکمل طور پر خارج از امکان نہیں۔

چین سے واپسی پر 16 مئی کو صدر ٹرمپ نے اپنے نجی سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر “طوفان سے پہلے کا سکوت” کے عنوان سے ایک علامتی تصویر پیش کی، جس میں وہ اپنے امیرالبحر کے ساتھ آبنائے ہرمز میں دشمن کو للکارتےنظر آرہے ہیں۔اس پوسٹ نے تجزیہ نگاروں کے اس خدشے کو مزید تقویت دی کہ ایران کے خلاف کسی بڑے عسکری اقدام کی تیاری جاری ہوسکتی ہے۔ دوسری طرف امریکی نائب صدر جے ڈی وینس مسلسل یہ کہہ رہے ہیں کہ ایران کے ساتھ بات چیت جاری ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ واشنگٹن ایک ہی وقت میں سفارتکاری اور عسکری دباؤ، دونوں راستے کھلے رکھنا چاہتا ہے۔

دورہ چین اور ایران  ۔۔ مفاہمت کے ساتھ مقابلہ کی نئی حکمتِ عملی

بعض ماہرین کے مطابق صدر ٹرمپ کے حالیہ دورۂ چین کے ایجنڈے میں ایران ایک اہم موضوع تھا۔ خیال کیا جارہا ہے کہ صدر ٹرمپ نہ صرف اقتصادی اور تجارتی معاملات پر بات کرنا چاہتے تھے بلکہ وہ یہ بھی جاننا چاہتے تھے کہ ایران پر کسی نئے حملے کی صورت میں بیجنگ کا ردعمل کیا ہوگا۔صدر ٹرمپ ایسے وقت چین پہنچے جب ایران، باہمی تجارت، تائیوان اور عالمی معیشت کے معاملات پر واشنگٹن اور بیجنگ کے درمیان اختلافات شدید دکھائی دے رہے تھے۔ مگر ان اختلافات کے باوجود دونوں قیادتوں کے لہجوں میں براہِ راست محاذ آرائی کے بجائے “مفاہمت کے ساتھ مقابلہ” کا رجحان نمایاں نظر آیا۔صدر شی جن پنگ نے صدر ٹرمپ کو “دوست” قرار دیتے ہوئے دونوں ممالک کے درمیان “تعمیری، تزویراتی اور مستحکم تعلقات” کی خواہش ظاہر کی، جبکہ صدر ٹرمپ نے بھی تعاون اور بات چیت کی اہمیت پر زور دیا۔ بظاہر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ایران، عالمی تجارت اور دیگر بین الاقوامی معاملات پر دونوں رہنما مکمل اتفاقِ رائے نہ ہونے کے باوجود تصادم کے بجائے مذاکرات کے دروازے کھلے رکھنا چاہتے ہیں۔

تائیوان: چین کی سرخ لکیر

تاہم تائیوان کے معاملے پر چین نے ایک مرتبہ پھر اپنا مؤقف انتہائی سخت انداز میں دہرایا۔ صدر شی نے واضح کیا کہ اگر واشنگٹن نے اس “سرخ لکیر” کو چھیڑا تو دونوں طاقتیں خطرناک تصادم کی طرف بڑھ سکتی ہیں۔ بیجنگ تائیوان کو اپنے قومی وجود اور علاقائی سالمیت کا حصہ سمجھتا ہے، اسلئے اس معاملے پر کسی قسم کی نرمی دکھانے کیلئے تیار نظر نہیں آتا۔دوسری طرف امریکہ کیلئے تائیوان صرف جغرافیائی یا عسکری مسئلہ نہیں بلکہ جدید صنعتی معیشت، خصوصاً الیکٹرانک اور نیم موصل (Semi-Conductor) صنعت کا کلیدی ستون ہے۔ اسی وجہ سے واشنگٹن ایک آزاد اور محفوظ تائیوان کو اپنی صنعتی اور تزویراتی ضرورت سمجھتا ہے۔

اس دورے میں ٹیسلا (Tesla)، ایپل (Apple)، بوئنگ (Boeing)، میٹا (Meta)، جنرل الیکٹرک (GE) اور گولڈمین سیکس (Goldman Sachs) سمیت دو درجن سے زیادہ بڑی کمپنیوں کے سربراہان بھی صدر ٹرمپ کے وفد میں شامل تھے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ایران اور عالمی سیاست کے ساتھ ساتھ تجارت اور معیشت دونوں قیادتوں کی اولین ترجیح ہیں۔ بیجنگ میں صدر ٹرمپ کا والہانہ استقبال بھی اس حقیقت کی نشاندہی کرتا ہے کہ دنیا کی دو بڑی اقتصادی طاقتیں سخت مقابلے کے باوجود تعاون اور مفاہمت کی خواہش رکھتی ہیں۔

نایاب معدنیات  ۔۔ ترپ کا چینی پتہ

دورے کے بعد آنے والی خبروں کے مطابق چین بوئنگ طیاروں اور امریکی کسانوں سے سویابین کی خریداری دوبارہ شروع کرنے پر آمادہ ہوگیا ہے، جبکہ نایاب معدنیات Rare Earth Elements یا REEs کی امریکہ برآمدات پر عائد پابندیاں نرم کرنے پر بھی غور کیا جارہا ہے۔ یہ 17 نایاب معدنیات سمارٹ فون، کمپیوٹر، لیتھیم بیٹری، طبی آلات اور جدید دفاعی صنعت کیلئے ناگزیر سمجھی جاتی ہیں۔ ان کے تقریباً 90 فیصد ذخائر چین میں موجود ہیں۔ چینی درآمدات پر امریکی محصولات کے جواب میں بیجنگ نے ان معدنیات کی برآمد محدود کردی تھی، جس نے امریکی صنعت کو شدید تشویش میں مبتلا کردیا۔

ایران پر بات ہوئی یا نہیں؟

چین روانگی سے قبل صدر ٹرمپ نے واشنگٹن میں دوٹوک انداز میں کہا تھا کہ ایران کے خلاف جنگ ختم کرنے کیلئے انہیں چین سے کسی مدد کی ضرورت نہیں اور امریکہ یہ جنگ “ایک نہ ایک طریقے سے جیت ہی جائے گا”۔ تاہم ملاقات کے بعد فوکس نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے دعویٰ کیا کہ صدر شی نے ایران کو اسلحہ نہ دینے کی یقین دہانی کرائی ہے۔اگرچہ چینی سرکاری ذرائع نے اس دعوے کی تصدیق یا تردید نہیں کی لیکن امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے بھی یہ تسلیم کیا کہ مذاکرات کے دوران ایران پر گفتگو ہوئی۔ ان کا کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ نے بیجنگ سے براہِ راست مدد طلب نہیں کی۔ عالمی سیاست اور توانائی کی منڈیوں کو دیکھتے ہوئے یہ ماننا مشکل ہے کہ ایران اس ملاقات کا مرکزی موضوع نہیں تھا۔ چین ایرانی تیل کا سب سے بڑا خریدار ہے اور وینزویلا میں امریکی مداخلت کے بعد بیجنگ کا انحصار ایرانی توانائی پر مزید بڑھ گیا ہے۔

ٹرمپ کے لہجے میں تبدیلی ۔ مستقل خاتمے سے 20 سالہ معطلی تک

چین سے واپسی پر ایئر فورس ون میں صحافیوں نے جب صدر ٹرمپ سے پوچھا کہ کیا ایران کے جوہری پروگرام کی 20 سالہ معطلی ان کیلئے قابل قبول ہوگی؟ تو انہوں نے کہا بیس سال کافی ہیں، مگر ضمانت حقیقی ہونی چاہیے۔

یہ بیان غیرمعمولی اہمیت رکھتا ہے، کیونکہ ماضی میں صدر ٹرمپ یورینیم افزودگی بالکل ختم کرنے کا مطالبہ کرتے رہے ہیں۔ اب ان کے لہجے میں نسبتاً لچک محسوس ہورہی ہے۔چین کیلئے ایرانی تیل کی خریداری پر ممکنہ نرمی اور جوہری پروگرام کی عارضی معطلی پر آمادگی سے اندازہ ہوتا ہے کہ بیجنگ میں ایران پر تفصیلی گفتگو ہوئی ہے۔ شاید واشنگٹن کو یہ احساس ہورہا ہے کہ ایران کے مکمل جوہری انخلا کا مطالبہ عملی طور پر ناقابلِ حصول ہے، اسلئے اب ایک ایسا معاہدہ تلاش کیا جارہا ہے جسے سیاسی کامیابی کے طور پر پیش کیا جاسکے۔ تاہم اصل اور شاید سب سے اہم سوال یہ ہے کہ کیا اس قسم کی مفاہمت اسرائیل کیلئے قابل قبول ہوگی؟ نیتن یاہو، جوہری پروگرام کے ساتھ ایران کے اسلامی تشخص، جغرافیائی وحدت اور ایرانی تزویراتی طاقت کا مکمل خاتمہ چاہتے ہیں۔ اور یہ بھی ایک عملی حقیقت ہے کہ صدر ٹرمپ درحقیقت نیتن یاہو کی جنگ لڑ رہے ہیں۔

اسرائیل اور امارات ۔۔ نئی صف بندیاں اور بڑھتی ہوئی بداعتمادی

اسی دوران متحدہ عرب امارات کے حوالے سے ایرانی قیادت کے بیانات بھی سخت ہوتے جارہے ہیں۔ گزشتہ ہفتے وال اسٹریٹ جرنل پر یہ انکشاف سامنے آیا کہ ایران کے خلاف امریکی واسرائیلی حملوں کے دوران امارات نے خفیہ فضائی کارروائیوں میں حصہ لیاتھا۔ اس پر ردعمل دیتے ہوئے ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ ایران کے خلاف عسکری مہم کے دوران نیتن یاہو نے ابوظہبی کا خفیہ دورہ کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ایران کے عظیم عوام سے دشمنی ایک احمقانہ جُوا ہے، اور اس مقصد کیلئے اسرائیل سے گٹھ جوڑ ناقابلِ معافی ہے۔یہ بیانات اس تاثر کو مضبوط کرتے ہیں کہ خلیج میں بداعتمادی کی نئی لہر جنم لے رہی ہے۔

پاکستان کا بڑھتا ہوا سفارتی کردار ۔۔

ادھر پاکستان کے ثالثی کردار پر بھی سوالات اٹھنا شروع ہوگئے ہیں۔ بعض امریکی ذرائع ابلاغ نے دعویٰ کیا کہ ایران نے اپنے بعض فوجی طیارے پاکستانی فضائی اڈوں پر منتقل کئے تھے۔ پاکستانی دفترِ خارجہ نے ان خبروں کو “گمراہ کن اور سنسنی خیز” قرار دیتے ہوئے وضاحت کی کہ یہ آمد صرف لاجسٹک ضروریات کیلئے تھی۔ریپبلکن سینیٹر لنڈسے گراہم نے اس معاملے کو سینیٹ کی دفاعی کمیٹی میں اٹھاتے ہوئے کہااگر واقعی ایرانی طیارے پاکستان میں موجود ہیں تو ہمیں کوئی اور ثالث تلاش کرنا چاہیے۔امریکی وزیرِ جنگ پیٹ ہیگسیتھ اور چیئرمین جوائنٹ چیفس جنرل ڈین کین نے اس معاملے پر تبصرے سے گریز کیا، جبکہ صدر ٹرمپ نے پاکستان کے کردار کا دفاع کرتے کہا کہوہ بہت اچھے لوگ ہیں۔ فیلڈ مارشل اور وزیراعظم absolutely great ہیں۔

شدید پروپیگنڈے کے باوجود پاکستان کا سفارتی اثر و رسوخ بڑھتا دکھائی دے رہا ہے۔ رائٹرز کے مطابق عراق اور پاکستان نے ایران کے ساتھ توانائی اور تجارتی راہداریوں پر اہم سمجھوتے کئے ہیں، جبکہ آبنائے ہرمز اور LNG رسد کے معاملات میں بھی اسلام آباد متحرک کردار ادا کررہا ہے۔

اسی دوران صدر ٹرمپ نے اپنے ایک ٹویٹ میں کہا کہ وہ امیرِ قطر، سعودی ولی عہد اور متحدہ عرب امارات کے صدر، اپنے “عظیم خلیجی دوستوں” اور اتحادیوں کے مشورے پر ایران کے خلاف مجوزہ بھرپور حملہ مؤخر کررہے ہیں تاکہ سفارتکاری کو ایک اور موقع دیا جاسکے۔ تاہم انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ “ایک لمحے کے نوٹس پر بھرپور حملے” کی تیاری برقرار رکھی جائے گی۔ گویا واشنگٹن عسکری دباؤ اور سفارتی مذاکرات کو بیک وقت آگے بڑھانے کی حکمتِ عملی اختیار کئے ہوئے ہے۔ یعنی سجی سنوری میزِ مذاکرات کے ساتھ طیارہ بردار بحری بیڑے بھی پوری تیاری کے ساتھ موجود رہیں گے۔قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے قائدین کو ثالث اور ضامن کے طور پر پیش کرنے سے یہ تاثر بھی ابھرتا ہے کہ خلیجی ریاستیں محض تماشائی نہیں رہیں بلکہ ممکنہ معاہدے کی شریکِ کار بنتی جارہی ہیں۔ شاید خطے میں ایک نئی علاقائی سفارتکاری جنم لے رہی ہے جس میں عرب دارالحکومت، واشنگٹن اور تہران کے درمیان رابطہ کار اور دباؤ کے توازن کا کردار ادا کریں گے۔ بعض ماہرین کے مطابق خلیجی قیادت کو یہ خدشہ لاحق ہے کہ اگرچہ امریکی یا اسرائیلی حملے کا براہِ راست عسکری جواب ایران کیلئے آسان نہ ہوگا، لیکن تہران جوابی حکمتِ عملی کے طور پر خلیجی ممالک کی تیل تنصیبات، آب نوشی کے مراکز اور دیگر اہم تنصیبات کو نشانہ بناکر جنگ کا دائرہ وسیع کرسکتا ہے، تاکہ عالمی طاقتوں کو جنگ بندی کیلئے امریکہ پر دباؤ ڈالنے پر مجبور کیا جاسکے۔

ایران، امریکہ اور چین کی یہ کشمکش اب صرف عسکری تنازع نہیں رہی۔ اس میں عالمی تجارت، توانائی، تائیوان، خلیجی سیاست اور بین الاقوامی سفارتکاری سب ایک دوسرے سے جڑ چکے ہیں۔ صدر ٹرمپ ایک طرف عسکری دباؤ بڑھاتے دکھائی دیتے ہیں تو دوسری جانب مذاکرات کیلئے گنجائش بھی باقی رکھنا چاہتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اگر واشنگٹن واقعی کسی درمیانی راستے کی طرف بڑھتا ہے تو کیا اسرائیل اس لچک کو قبول کرے گا؟ اور اگر نہیں، تو کیا “سکوتِ قبلِ طوفان” واقعی ایک بڑے تصادم کا پیش خیمہ ہے، یا پھر دنیا ایک نئی طاقتور مفاہمت کے دہانے پر کھڑی ہے؟

ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل کراچی 21 مئی 2026

ہفت روزہ دعوت دہلی 21 مئی 2026

ہفت روزہ رہبر سرینگر 23 مئی 2026


Thursday, May 14, 2026

 

ایران۔امریکہ کشمکش: سفارتکاری، جنگ بندی اور اعصاب کی جنگ

تہران کا مدلل جواب، ٹرمپ کی دھمکیاں اور مشرقِ وسطیٰ میں طاقت کے توازن کی نئی کشمکش

ایران نے 10 مئی کو امریکہ کی 14 نکاتی مفاہمتی یادداشت (MOU) کا جواب پاکستان کے ذریعے واشنگٹن پہنچا دیا۔ سرکاری خبر رساں ایجنسی IRNA کے مطابق تہران نے واضح کیا ہے کہ کسی بھی پیش رفت کیلئے لبنان سمیت سارے مشرق وسطیٰ میں غیر مشروط جنگ بندی، آبنائے ہرمز پر تہران کا مکمل اختیار اور ایرانی تیل پر عائد پابندیوں کا خاتمہ ضروری ہے۔ایران کے جوہری پروگرام پر گفتگو کو خطے میں امن کی بحالی سے مشروط کیا گیا ہے۔

ایران کا یہ جواب زبان اور اسلوب، دونوں اعتبار سے شائستہ، مدلل اور منطقی دکھائی دیتا ہے۔ تہران کا بنیادی مؤقف یہ ہے کہ جب پورا خطہ جنگ کے دہانے پر کھڑا ہو تو ایسے ماحول میں کسی کلیدی قومی منصوبے پر بامقصد مذاکرات کیسے ممکن ہیں؟ جہاں تک جوہری ہتھیار نہ بنانے کا تعلق ہے تو ایران 2015 کے معاہدہِ برجام (JCPOA) کی صورت میں امریکہ سمیت عالمی طاقتوں کو یہ یقین دہانی پہلے ہی کراچکا ہے۔ ایرانی سندیسہ ملتے ہی اپنے نجی سوشل میڈیا پلیٹ فارم TRUTH پر صدر ٹرمپ نے لکھا: “یہ جواب یکسر ناقابلِ قبول ہے۔” اس سے قبل اخباری نمائندوں سے گفتگو میں امریکی صدر مفاہمتی یادداشت کا “تسلی بخش جواب” نہ ملنے کی صورت میں “Project Freedom PLUS” شروع کرنے کی دھمکی بھی دے چکے تھے۔ اسرائیل کی جانب سے اگرچہ تاحال کوئی باضابطہ ردِعمل سامنے نہیں آیا، تاہم نیتن یاہو مسلسل یہ دہرا رہے ہیں کہ “جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی”۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ سفارتکاری اور عسکری دباؤ ایک ساتھ استعمال ہورہے ہیں؛ ایک ہاتھ میں مفاہمتی یادداشت، دوسرے میں چمکتے ہتھیار۔

جواب میں تاخیر اور پھر جوہری پروگرام کے معاملے کو پورے مشرقِ وسطیٰ میں مکمل جنگ بندی سے مشروط کرنے کا مطلب یہ ہے کہ تہران وقت کو اپنے حق میں استعمال کررہا ہے۔امریکی خفیہ ادارے CIA کے بعض تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ نصف صدی سے پابندیوں، دباؤ اور معاشی آزمائشوں کی عادی ایرانی معیشت امریکی ناکہ بندی کا بوجھ طویل عرصے تک برداشت کرسکتی ہے۔ ایران کے وزیرِ تیل محسن پاک نژاد نے دعویٰ کیا ہے کہ بمباری اور بعض تنصیبات کو نقصان پہنچنے کے باوجود تیل و گیس کی پیداوار اور برآمدات معمول کے مطابق جاری ہیں۔ اگرچہ اس دعوے کی آزادانہ تصدیق ممکن نہیں، لیکن پابندیوں کے طویل تجربے نے ایرانیوں کو متبادل نظام، فوری مرمت اور محدود وسائل میں بقا کا ہنر ضرور سکھا دیا ہے۔

دوسری طرف آبنائے ہرمز کی ممکنہ بندش سے پیدا ہونے والا عالمی دباؤ، تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور مہنگائی کے خدشات خود امریکی عوام کیلئے بھی ایک نئی آزمائش بنتے جارہے ہیں۔ واشنگٹن کے بعض حلقوں میں یہ سوال ابھر رہا ہے کہ صدر ٹرمپ امریکی قوم کو “بس چند دن اور” کے لالی پاپ پر آخر کب تک مطمئن رکھ سکیں گے؟

صدر ٹرمپ کے آتشیں بیانات اور ایرانی قیادت، خصوصاً پارلیمان کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کی طنزیہ چٹکیوں کے باوجود ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی ابھی تک ایک نازک توازن کے ساتھ قائم ہے۔ گزشتہ ہفتے صورتحال اس وقت اچانک بگڑتی محسوس ہوئی جب صدر ٹرمپ نے “Project Freedom” کے نام سے ایک نئی بحری مہم کا اعلان کیا، جس کے تحت آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں کو امریکی بحری تحفظ فراہم کرنے کی پیشکش کی گئی۔ اپنے مخصوص جارحانہ انداز میں امریکی صدر نے خبردار کیا کہ “اگر ہمارے جہازوں پر حملہ ہوا تو ایران کو دنیا کے نقشے سے مٹا دیا جائے گا۔

آبنائے ہرمز: طاقت آزمائی کا نیا مرحلہ

اطلاعات کے مطابق دو امریکی پرچم بردار جہاز بخیریت آبنائے سے گزر گئے، تاہم ایرانی کشتیوں کی مبینہ فائرنگ کے بعد کئی تجارتی جہازوں نے سفر مؤخر کردیا۔ ایرانی بحریہ کا دعویٰ ہے کہ امریکی جنگی جہازوں نے جاسک بندرگاہ کی جانب پیش قدمی کی کوشش کی جسے ناکام بنادیا گیا۔ اس کے بعد امریکی فضائیہ نے بندر عباس اور جزیرہ قشم کے اطراف اہداف پر حملے کئے، جبکہ جواباً ایران نے  متحدہ عرب امارات کے فجیرہ آئل ٹرمینل اور آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بعض جہازوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا۔ خلیجِ عمان میں تیل بردار جہاز Ocean Koi پر قبضے اور فرانسیسی جہاز CMA-CGM San Antonio کو نقصان پہنچنے کی اطلاعات نے عالمی منڈیوں میں بے چینی پیدا کردی۔

بحری مہم Project Freedom کی معطلی اور سفارتکاری کا دباؤ

سات مئی کو صدر ٹرمپ نے اچانک “Project Freedom” معطل کرنے کا اعلان کردیا۔ ان کے مطابق یہ فیصلہ پاکستان کے فیلڈ مارشل عاصم منیر کی درخواست پر کیا گیا، جنہوں نے سفارتکاری کو مزید موقع دینے کا مشورہ دیا تھا۔ تاہم امریکی میڈیا، خصوصاً NBCنے دعویٰ کیا کہ سعودی عرب نے ایران کے خلاف کارروائی کیلئے اپنی فضائی حدود اور اڈے استعمال کرنے سے انکار کردیا تھا، جس کے بعد واشنگٹن کو قدم پیچھے ہٹانا پڑا۔

اس پر ایرانی پارلیمان کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے طنزیہ انداز میں X پر لکھا “Operation Trust Me Bro ناکام ہوگیا، اب معاملات ‘Operation Fauxios’ کے ساتھ معمول پر آرہے ہیں۔یعنی پہلے “بھائی جان یقین کرو” والا آپریشن ناکام ہوا، اب “خبروں اور دعووں” کے ذریعے ماحول بنایا جارہا ہے،  Fauxios غالباً Fox News اور Axios کی طرف اشارہ تھا۔ ایرانی قیادت کے بیانات طنز، اعتماد اور شگفتگی سے مزین نظر آتے ہیں  جبکہ واشنگٹن کے بیانات میں غصہ اور اضطراب جھلک رہا ہے۔ شکست خوردگی اکثر سب سے پہلے متانت اور شائستگی کو متاثر کرتی ہے۔

قطر، پاکستان اور ممکنہ بڑا امن منصوبہ

اس دوران ایک اہم سفارتی پیشرفت بھی سامنے آئی۔امریکی وزیرخارجہ مارکو روبیو اور صدر ٹرمپ کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکاف  نے امریکی شہر میامی (Miami)میں قطری وزیراعظم محمد بن عبدالرحمان الثانی سے ملاقات کی، جہاں ایران مذاکرات سمیت خطے کی مجموعی صورتحال پر گفتگو ہوئی۔

بظاہر یہ ایک رسمی ملاقات تھی، مگر اس کے پس منظر میں کہیں بڑی تصویر ابھرتی دکھائی دیتی ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ صدر ٹرمپ، پاکستان کے ثالثی کردار کو برقرار رکھتے ہوئے قطر اور ایران کے تعلقات سے فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں۔ دوحہ اس سے قبل غزہ، افغانستان اور ایران۔امریکہ قیدیوں کے تبادلوں میں اہم کردار ادا کرچکا ہے۔ سفارتی حلقوں کے مطابق واشنگٹن اب ایک ایسے جامع فریم ورک کی تلاش میں ہے جس میں غزہ، ایران، افغانستان اور خلیجی سلامتی کے معاملات کو ایک بڑی مفاہمتی ترتیب میں سمویا جاسکے۔

امریکی حلقے یہ تاثر دے رہے ہیں کہ ایران کی خاموشی اندرونی اختلافات کا نتیجہ ہے، مگر بظاہر ایسا لگتا ہے کہ تہران خود کو میدان اور میز، دونوں جگہ نسبتاً بہتر پوزیشن میں محسوس کررہا ہے اور تنازعے کا اختتام اپنی شرائط کے قریب تر چاہتا ہے۔

جنگی جرائم کا خوف اور فوجی قیادت کو پیغام

واشنگٹن میں ایک اور دلچسپ بحث بھی جنم لے رہی ہے۔ امریکی سینیٹ کے 12 ڈیموکریٹ ارکان نے اسرائیلی فوج کی جانب سے ایران اور لبنان میں بڑے پیمانے پر “Mass Evacuation Orders” پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے براہِ راست امریکی مرکزی کمان CENTCOM کے سربراہ امیر البحر (ایڈمرل) بریڈ کوپر کو خط لکھا ہے۔

اہم بات یہ ہے کہ یہ خط صدر، وزیرِ جنگ یا وزیرِ خارجہ کو نہیں بلکہ براہِ راست فوجی کمانڈر کو بھیجا گیا۔ بعض مبصرین کے مطابق اس کا مقصد عسکری قیادت کو یہ باور کرانا ہے کہ “صرف احکامات کی تعمیل” مستقبل میں قانونی یا اخلاقی ذمہ داری سے بری الذمہ ہونے کیلئے کافی نہیں ہوگی۔ یہ پیشرفت اس امر کی علامت ہے کہ واشنگٹن میں پہلی بار یہ خوف سنجیدگی سے محسوس کیا جارہا ہے کہ اگر کل جنگی جرائم کے سوالات اٹھے تو تاریخ صرف سیاسی قیادت ہی نہیں بلکہ فوجی کمان سے بھی جواب طلب کرسکتی ہے۔

اوباما کا اعتراف اور امریکی سیاست پر اسرائیلی اثر

امریکی حکومت کے فیصلوں پر اسرائیلی حکومت کس قدر اثر انداز ہوتی ہے ہے۔ اسکا اندازہ سابق صدر بارک حسین اوبابا کے ایک بیان سے ہوتا ہے۔ امریکی جریدے  The New Yorkerکو انٹرویو دیتے ہوئے انھوں نے انکشاف کیا  کہ اسرائیلی وزیرِ اعظم بن یامین نیتن یاہو نے ایک دہائی قبل انہیں بھی ایران پر حملے کیلئے قائل کرنے کی کوشش کی تھی۔انکا خیال ہے کہ اسرائیلی وزیراعظم نے ایران کے خلاف جنگ شروع کرنے کیلئے صدر ٹرمپ کو انھیں دلائل سے آمادہ  کیا جو نیتن یاہو نے انھیں پیش کئے تھے۔جناب اوباما کو اس بات پر شدید تحفظات تھے کہ ایران کے خلاف فوجی کارروائی مؤثر ثابت ہوگی، اور ان کے بقول وقت نے ان کے اس تجزیے کو درست ثابت کیا۔ سابق امریکی صدر نے یہ اہم سوال بھی اٹھایا کہ آیا ایسی پالیسی امریکہ اور اس کے عوام کے مفاد میں ہے یا نہیں۔ یہ سوال صرف امریکہ کیلئے نہیں بلکہ پوری دنیا کیلئے اہم ہے، کیونکہ جب عالمی طاقتوں کے فیصلے جنگ اور امن کے بجائے سیاسی دباؤ اور مفادات کے تابع ہوجائیں تو اس کی قیمت ہمیشہ عام انسان ادا کرتا ہے۔

ایران اور امریکہ کی یہ کشمکش اب صرف عسکری یا جغرافیائی تنازع نہیں رہی، بلکہ یہ اعصاب، برداشت، معیشت اور بیانئے کی جنگ بن چکی ہے۔ صدر ٹرمپ ایک ساتھ دو راستوں پر چلتے دکھائی دیتے ہیں؛ ایک طرف دھمکیاں، بحری ناکہ بندی اور فوجی دباؤ، دوسری طرف پسِ پردہ سفارتکاری، ثالثی اور مفاہمت کی کوششیں۔دیکھنا ہے کہ کون زیادہ دیر اعصاب قابو میں رہ کر کھڑا رہ سکتا ہے۔

ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل کراچی 15 مئی 2026

ہفت روزہ دعوت دہلی 15 مئی 2026

ہفت روزہ رہبر سرینگر 17 مئی 2026