Thursday, September 24, 2026

 

تین برس سے جاری تباہی، مزاحمت اور دنیا کا بدلتا ضمیر

راحت کا وعدہ، عذاب کا تسلسل

غزہ پر اسرائیلی فوج کشی کو تین برس مکمل ہونے کو ہیں، مگر بمباری میں کمی آئی اور نہ امن کے وعدوں میں کوئی سنجیدگی دکھائی دی۔ عالمی اداروں کے اجلاس، سفارتی بیانات اور انسانی حقوق کی اپیلیں سب بے اثر دکھائی دیتے ہیں۔ غزہ آج بھی بارود، بھوک، خوف اور بے بسی کے درمیان سانس لینے کی کوشش کر رہا ہے۔

غزہ میں خوف کی نئی مہم

اسرائیلی فوج نے گزشتہ ہفتوں میں اہلِ غزہ کو خوفزدہ کرنے کی ایک نئی حکمتِ عملی اختیار کی ہے۔ رہائشیوں کے مطابق اسرائیلی ڈرون مکانوں کی کھڑکیوں تک آکر لوگوں کو خوف زدہ کر رہے ہیں۔اگرچہ ان ڈرونوں سے فائرنگ کا کوئی واقعہ سامنے نہیں آیا، مگر شہریوں کا خیال ہے کہ یہ غزہ خالی کرانے کی نئی مہم ہے۔ بین الاقوامی اداروں کے مطابق غزہ اب انسانی زندگی کے قابل نہیں رہا۔ بارود نے زمین کو زہر آلود کر دیا ہے؛ صاف پانی ہے، نہ غذا، نہ دوا اور نہ نکاسیِ آب کا نظام۔ مگر اہلِ غزہ اپنا وطن  چھوڑنے پر تیار نہیں۔

ڈاکٹر بسان: ایک خواب، ایک ڈائری، ایک المناک انجام

انہی لوگوں میں طب کے آخری سال کی طالبہ، 19 سالہ بسان حلاسہ بھی تھی۔ بچپن سے ڈاکٹر بننے کا خواب دیکھنے والی بسان کو گھر والے محبت سے ’’ڈاکٹر بسان‘‘ کہتے تھے۔ اسے مشورہ دیا گیا کہ غزہ چھوڑ دے، مگر اس نے انکار کر دیا۔ اپنی ڈائری میں اس نے لکھا'میں اپنے پیارے شہر غزہ میں پیدا ہوئی، یہیں پلی بڑھی اور اسی شہر میں مر جاؤں گی'  چند دن بعد اس کا گھر بمباری کا نشانہ بنا اور وہ اپنی والدہ، بہن بھائی، دادی سمیت 12 عزیزوں کے ساتھ جاں بحق ہوگئی۔ عمارتیں شاید دوبارہ تعمیر ہو جائیں، مگر بسان جیسے نوجوانوں کی چھینی ہوئی زندگیاں کبھی واپس نہیں آ سکتیں۔

اسکول کی کھڑکی اور بھوک سے لڑتا بچہ

گزشتہ ہفتے وسطی غزہ کے علاقے نصیرات سے آنے والی ایک تصویر میں ایک فلسطینی لڑکا بستہ پیٹھ پر لٹکائے اپنے اجڑے ہوئے اسکول کی کھڑکیوں سے اندر جھانکتا دکھائی دیا۔ جنگ نے غزہ کے تعلیمی اداروں کو ختم کرکے رکھدیا ہے۔ اسی دوران 16 سالہ ابراہیم ابو سرایا کی تصویر نے بھی دنیا کی توجہ حاصل کی۔ شدید غذائی قلت اور دماغی فالج میں مبتلا ابراہیم کا وزن محض ساڑھےسات کلوگرام رہ گیا ہے۔ غزہ میں کوئی اسپتال ایسا نہیں بچا جہاں اس کا علاج ممکن ہو۔

خستہ عمارتیں، ملبہ اور بے بسی

لوگ تباہ شدہ عمارتوں کے بچے کھچے حصوں میں سر چھپانے پر مجبور ہیں۔ گزشتہ ہفتے ایک چھ منزلہ خستہ عمارت گر گئی، جس میں عورتوں اور بچوں سمیت 22 افراد جاں بحق اور تقریباً 100 لاپتہ ہوگئے۔ بلدیہ غزہ کی امدادی مشینری تباہ ہو چکی ہے۔ چند خستہ کرینیں ملبہ ہٹانے کی کوشش کررہی ہیں، خدشہ ہے کہ ملبے میں دبے لوگوں کی بڑی تعداد زندہ دفن ہوچکی ہے ۔ امدادی کارکنوں کو نشانہ بنانے کے لئے اسرائیلی ڈرونوں کی پروازیں الگ خوف پیدا کر رہی ہیں۔مزید نقصان سے بچنے کیلئے بلدیہ غزہ نے 220 مخدوش عمارتوں کو منہدم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

غربِ اردن میں آگ، قبضے اور تشدد

غربِ اردن میں مکانوں پر قبضے اور آتشزنی کا سلسلہ جاری ہے۔ زیتون کی فصلیں جلائی جا رہی ہیں۔ الخلیل کے گاؤں توانہ میں آبادکاروں نے مویشیوں کے چارہ گودام کو آگ لگا دی۔ ٹائمز آف اسرائیل کے ایک بصری تراشے میں ایک مسلح آبادکار کو مسافر یطہ میں مویشی چرانے اور مزاحمت کرنے والی خاتون کو لاٹھی سے پیٹتے دیکھا جا سکتا ہے۔ رام اللہ کے گاؤں بئیرنبالا میں گھر گھر تلاشی کے دوران درجنوں افراد گرفتار کئے گئے۔

قاتل فوجی کو صدارتی معافی

تقریباً دس سال پہلے الخلیل میں زخمی اور بے بس پڑے فلسطینی عبدالفتاح الشریف کو اسرائیلی فوجی ایلور ازاریہ نے سر میں گولی مار کر قتل کیا۔ بصری شواہد سامنے آنے پر عدالت نے اسے 18 ماہ قید کی سزا سنائی، لیکن وہ 9 ماہ بعد رہا ہوگیا۔ گزشتہ ہفتے اسرائیلی صدر اسحاق ہرزوگ نے اسے صدارتی معافی دے کر اس کا مجرمانہ ریکارڈ حذف کرنے کا حکم جاری کر دیا۔

چھینی ہوئی زمین پر عبادت گاہ

جنین کے قریب سیلات الظہر میں فلسطینیوں سے چھینی زمین پر پہلے حومش نامی بستی آباد ہوئی اور اب وہاں یہودی معبد قائم کر دیا گیا ہے۔ یعنی چھینی ہوئی زمین پر خدا کی عبادت کی جائے گی۔

استقامت: ایک غار میں آباد خاندان

اتنی سختیوں کے باوجود فلسطینی اپنی سرزمین چھوڑنے پر تیار نہیں۔ مسافر یطہ کے محمد عمار کے دو گھر مسمار کئے گئے تو اس نے علاقہ چھوڑنے کے بجائے پتھریلی غار کے فرش پر کنکریٹ ڈالا، دیواروں پر چونا کیا، شمسی پینل سے بجلی اور کنویں سے پانی کا انتظام کیا اور اسی غار کو اپنے خاندان کا گھر بنا لیا۔ اس کے دو خاندان اور گیارہ بچے اسی جگہ زندگی گزار رہے ہیں۔ یہ خاموش پیغام ہےکہ ہمیں مکان سے محروم کیا جا سکتا ہے، مگر اپنے وطن سے نہیں۔

یوروویژن کا بائیکاٹ: ثقافت کا احتجاج

آئرلینڈ نے اسرائیل کی شرکت کے خلاف مسلسل دوسری بار یوروویژن (Eurovision)کا بائیکاٹ کیا ہے۔ سرکاری نشریاتی ادارہ RTÉ، نہ فنکار بھیجے گا، نہ مقابلہ نشر کرے گا۔ نیدرلینڈز (ہالیند) بھی 2027 میں شرکت نہیں کرے گا۔ یہ بائیکاٹ اسرائیل کو مقابلے سے باہر نہیں کرے گا، مگر اس کا علامتی اثر نمایاں ہے۔ گزشتہ برس پانچ ممالک کے بائیکاٹ کے بعد یوروویژن کی ناظرین تعداد میں کمی آئی تھی۔ یوروویژن محض موسیقی کا مقابلہ نہیں بلکہ یورپی ثقافتی روابط کا ایک بڑا پلیٹ فارم ہے۔ اسلئے ان فیصلوں کا فوری عسکری اثر نہ بھی ہو، تو بھی یہ ظاہر کرتے ہیں کہ غزہ کا معاملہ ثقافتی اور عوامی سطح پر یورپ کے اندر بھی بحث کا موضوع بنا ہوا ہے۔

امریکی سینیٹ میں سوالات اور اعتراضات

امریکی سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی میں ڈیموکریٹ سینیٹر محترمہ جین شاہین نے اسرائیل کو 40 ہزار بموں کی فروخت پر سوال اٹھایا ہے کہ یہ ہتھیار کہاں استعمال ہوں گے۔ اس اعتراض کے باعث دو ارب 80 کروڑ ارب ڈالر کا سودا عارضی طور پر رک گیا ہے۔ دوسری جانب سینیٹر برنی سینڈرز نے دستاویزی فلم NAZA کے فلم سازوں کے خلاف اسرائیلی کاروائی کو آزادیِ صحافت پر حملہ قرار دیتے ہوئے اسرائیل کی فوجی امداد معطل کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

محمود عباس کا امریکہ میں داخلہ ممنوع

امریکہ نے مقتدرہ فلسطین کے صدر محمود عباس کو اقوامِ متحدہ اجلاس میں شرکت کے لیے ویزہ دینے سے ایک بار پھر انکار کر دیا ہے۔ گزشتہ برس بھی ان کی درخواست مسترد کی گئی تھی۔ اس بار امریکی وزارتِ خارجہ نے ویزہ ضابطے Section 212(a)(3)(B) کا حوالہ دیا ہے، جس کے تحت ’’دہشت گرد یا سہولت کار‘‘ افراد ویزے کے لیے نااہل قرار پاتے ہیں۔

غزہ کی تباہ شدہ عمارتیں، بھوک سے لڑتا ابراہیم، ڈاکٹر بننے کا خواب دیکھنے والی بسان، مسافر یطہ کے غار کو  مسکن بنالینے  والا عمار سب ایک ہی حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ فلسطینیوں کی جدوجہد محض زمین کا مسئلہ نہیں، یہ انسانیت کی بقا کا سوال ہے۔ بم، میزائیل اور ڈرون عمارتیں گرا سکتے ہیں لیکن فلسطینیوں کے عزمِ خودمختاری کو وحشت سے ختم کرنا آسان نہیں۔

ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل کراچی 25 ستمبر 2026

ہفت روزہ دعوت دہلی 25 ستمبر 2026

ہفت روزہ رہبر سرینگر 25 ستمبر 2026


 

میدانِ جنگ اور تزویراتی تعطل

ایران جنگ کے 200 دن، فنا کردینے کی نئی دھمکی

جس جنگ کو صدر ٹرمپ نے چند ہفتوں کا Excursion کہہ کر شروع کیا تھا، وہ دو سو دن بعد بھی جاری ہے اور اس کے اختتام کی کوئی صورت دکھائی نہیں دیتی۔ یہ لڑائی صرف ایران اور امریکہ کے درمیان نہیں رہی بلکہ اب اس نے بحیرہ احمر، آبنائے باب المندب، سعودی عرب، خلیجی ریاستوں اور عالمی تجارت کے راستوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ گزشتہ ہفتے ریاض کے شاہ خالد ائرپورٹ پر میزائل حملے سے ایندھن کے ذخیرے میں آگ بھڑک اٹھی۔

جنگ کا پھیلاؤ اور صدر ٹرمپ کا "بڑا فیصلہ"

صدر ٹرمپ نے اسرائیلی چینل 12 کے صحافی براک راوید کو دئے گئے انٹرویو میں کہا ہے کہ انہیں جلد ایک ’’بڑا فیصلہ‘‘ کرنا ہے اور وہ خلیجی ممالک کے رہنماؤں سے بھی مشاورت کریں گے۔ ان کے الفاظ میں سوال یہ ہے کہ ’’ میں ایرانی حکومت کو فنا کردوں یا نہیں؟‘‘ بیس ستمبر کو فاکس نیوز سے باتیں کرتے ہوئے انھوں نے دوبارہ کہا کہ ان کے سامنے تین راستے ہیں: ایران کو ’’ختم‘‘ کرنا، اسے اقتصادی طور پر ’’سڑنے دینا‘‘ یا معاہدہ کرنا۔ معلوم نہیں یہ خود کلامی تھی یا میزبان سے سوال کہ اپنے مخصوص لہجے میں امریکی صدر نے پوچھا کہ ’’میں پورے ملک کو کب اور کیسے اڑاوں؟ ‘‘۔

امریکہ کی فوجی طاقت پر کوئی شبہ نہیں، لیکن اگر شدید فوجی کارروائیوں کے باوجود ایران کی میزائل اور ڈرون صلاحیت برقرار ہے، آبنائے ہرمز کا مسئلہ مکمل طور پر حل نہیں ہوا اور اب بحیرۂ احمر و باب المندب بھی علاقائی کشیدگی کی زد میں ہیں، تو نئی بمباری سے مختلف نتیجہ کیسےحاصل ہوگا؟عسکری مبصرین نے موجودہ صورتِ حال کو میدانِ جنگ میں فوجی کامیابی اور وسیع تر تزویری تعطل کے امتزاج کے طور پر بیان کیا ہے۔ نئی مہم میں کتنے مزید مقامات کو نشانہ بنایا جائے گا؟ کتنے بم استعمال ہوں گے؟ اصل مقصد کیا ہوگا اور اس مقصد کے حصول کی ضمانت کیا ہوگی؟ دوسری طرف ایرانی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی نے الجزیرہ کو بتایا ہے کہ امریکہ کی خواہش پر ایران نے جنگ کے خاتمے کی شرائط قطر کے ذریعے واشنگٹن کو بھیج دی ہیں، جن میں تمام محاذوں پر جنگ بندی، منجمد ایرانی اثاثوں کی واپسی اور بحری ناکہ بندی کا خاتمہ شامل ہے۔ جنگ کا خاتمہ بالآخر مذاکرات کی میز پر ہی ہونا ہے۔ مزید بمباری اس میز تک پہنچنے کا راستہ مختصر کرے گی یا مزید پیچیدہ اور طویل، یہی اصل سوال ہے۔

امریکی نقصانات کی نئی تفصیل: "ہم کس سے لڑ رہے ہیں؟"

امریکی نشریاتی ادارے CBS News نے مشرقِ وسطیٰ میں امریکی فوجی تنصیبات کو پہنچنے والے نقصانات کی نئی تصاویر جاری کی ہیں۔ یہ تصاویر وہاں تعینات امریکی فوجیوں نے اپنی شناخت ظاہر کئے بغیر بھیجی ہیں۔ ایک فوجی نے سوال کیا: "آخر ہم کس سے لڑ رہے ہیں؟" امریکی محکمہ دفاع کے انسپیکٹر جنرل کی رپورٹ کے مطابق تباہ شدہ اسلحے کا تخمینہ 3 ارب 70 کروڑ ڈالر ہے، جن میں 60 طیارے بھی شامل ہیں۔ کویت، بحرین، قطر، امارات، سعودی عرب، عراق، عُمان اور اردن میں امریکی اڈوں کو نقصان پہنچا۔ سفارتی تنصیبات کو پہنچنے والا نقصان 18 کروڑ 40 لاکھ ڈالر بتایا گیا ہے۔ اگر یہ جنگ ’’محدود‘‘ ہے تو امریکی اڈوں اور سازوسامان کو پہنچنے والے نقصانات کی یہ تصاویر کیا بتا رہی ہیں؟ ٹرمپ انتظامیہ گمنام فوجیوں کے بیانات کو ’’Fake News‘‘ کہہ کر مسترد کر سکتی ہے، مگر اپنے ہی محکمہ دفاع کی رپورٹ کو سوشل میڈیا پروپیگنڈا قرار دینا آسان نہیں۔ رپورٹ سے ایران کے اس دعوے کی بھی تصدیق ہوتی ہے کہ اس نے عرب ممالک کو نہیں بلکہ عرب سرزمین پر موجود امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا ہے۔ امریکی ہلاکتوں کے بارے میں بھی نئے انکشافات سامنے آئے ہیں۔ واشنگٹن پوسٹ کے مطابق امریکی وزارتِ جنگ کے پانچ اعلیٰ افسران نے شناخت خفیہ رکھنے کی شرط پر بتایا کہ ایران کے حملوں میں 18 نہیں بلکہ 22 امریکی فوجی مارے گئے ہیں، جبکہ چھٹے افسر کے مطابق آنجہانیوں کی تعداد 23 ہے۔

میڈیا پر حملہ: وائٹ ہاؤس سے اخراج

ان انکشافات پر صدر ٹرمپ سخت برہم ہیں۔انھوں نے CNN، MSNBC اور Politico کے نمائندوں کی وائٹ ہاؤس میں داخلے پر پابندی لگادی ہے۔ الزام ہے کہ یہ ادارے مسلسل ’’Fake News‘‘ پھیلا رہے ہیں۔ ماضی میں بھی ٹرمپ انتظامیہ نے صحافتی رسائی محدود کرنے کی کوشش کی تھی، مگر عدالتوں نے اسے غیر آئینی قرار دے دیا۔ حکومت کو غلط صحافت پر تنقید کا حق ہے، مگر غلط خبر کا جواب دلیل اور شواہد سے دیا جاتا ہے۔ آئینہ توڑ دینے سے چہرہ نہیں بدلتا۔

حوثیوں کے حملے اور F-35

ٹرمپ انتظامیہ  نے سعودی عرب کو 48 جدید F-35A جنگی طیاروں کی ممکنہ فروخت کے بارے میں کانگریس کو آگاہ کردیا ہے۔ تقریباً 24 ارب تیس کروڑ ڈالر کے اس پیکیج میں طیاروں کے ساتھ انجن، مواصلاتی نظام، پرزے اور دیگر معاون سامان شامل ہے۔ کانگریس کے پاس اس سودے کے جائزے کے لئے 30 دن کی قانونی مہلت  ہے۔بظاہر یہ سودا سعودی دفاعی صلاحیت مضبوط کرنے کی کوشش ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب حوثی حملے سعودی سرزمین اور بحیرۂ احمر کے راستوں کو متاثر کر رہے ہیں۔ تاہم F-35 جدید ترین جنگی طیارہ ہونے کے باوجود ڈرون اور بیلسٹک میزائل حملوں کا اکیلا حل نہیں۔ اس کے لئے فضائی دفاع، ریڈار، انٹیلی جنس اور میزائل شکن نظام بھی ضروری ہیں۔ دلچسپ سوال یہ ہے کہ کیا حوثیوں کا بڑھتا ہوا خطرہ اس تاریخی امریکی سودے کو کانگریس میں زیادہ قابلِ قبول بنائے گا؟ اور اگر سعودی عرب F-35 حاصل کرلیتا ہے تو کیا یہ صرف سعودی دفاعی صلاحیت میں اضافہ ہوگا یا مشرقِ وسطیٰ کے عسکری توازن پر بھی اثر پڑے گا؟ یہ سوال اس لئے بھی اہم ہے کہ امریکہ ایک طرف اسرائیل کی معیاری عسکری برتری  یا Qualitative Military Edge برقرار رکھنے کی پالیسی پر قائم ہے تو دوسری طرف سعودی عرب سمیت اپنے عرب اتحادیوں کی دفاعی صلاحیت بڑھا رہا ہے۔ اسی دوران سعودی عرب، ایران کے ساتھ براہِ راست تصادم سے گریز اور سفارتی راستوں کو کھلا رکھنے کی کوشش کرتا دکھائی دے رہا ہے۔ حالیہ علاقائی کشیدگی میں چین نے بھی سعودی عرب اور ایران کے درمیان سفارتی رابطوں میں پہلے کردار ادا کیا ہے۔

’’مشتری ہشیار باش‘‘

امریکی اسلحے کی خریداری کا معاملہ خاصا پیچیدہ ہے۔ معاہدہ،  خریدار اور امریکی حکومت/اسلحہ ساز اداروں کے درمیان طے ہونے کے بعد بھی حساس ٹیکنالوجی کی فراہمی مختلف قانونی اور سیاسی شرائط سے مشروط رہتی ہے۔ پاکستان کو اس صورتِ حال کا تلخ تجربہ ہوچکا ہے، جب 1990ء میں جوہری پروگرام کے باعث Pressler Amendment کے تحت F-16 طیاروں کی فراہمی روک دی گئی تھی۔ ستم ظریفی کہ اد کی گئی رقم کی واپسی تو درکنار طیاروں کو گودام میں رکھنے کا کرایہ بھی پاکستان کے سرپڑا۔ اس تجربے کا سبق یہی ہے کہ جدید ترین اسلحہ خرید لینا اور اس کی  دستیابی یقینی بنانا دو الگ معاملات ہیں۔

جنگ کے بیچ تہذیب کی آواز: یومِ فارسی شاعری

معاشی پابندیوں، میزائلوں کی گھن گرج اور روزمرہ مشکلات کے باوجود ایران میں آج بھی شعر و ادب کو یاد کیا جا رہا ہے۔ اٹھارہ ستمبر کو ایران میں یومِ فارسی شاعری و ادب منایا گیا، جو معروف شاعر سید محمد حسین بہجت تبریزی تخلص شہریار کی یاد سے منسوب ہے۔ شہریار فارسی اور آذری دونوں زبانوں میں شاعری کرتے تھے۔ ان کے کلام میں محبت، سماج، ثقافت اور انسانی جذبات کے ساتھ اپنے عہد کے سیاسی حالات کی جھلک بھی ملتی ہے۔ جنگ کے دوران ایک شاعر کو یاد کرنا محض رسمی تقریب نہیں، بلکہ یہ یاد دہانی ہے کہ تہذیبیں صرف شہروں سے نہیں، اپنی زبان، شاعری اور یادداشت سے زندہ رہتی ہیں۔ میزائل جنگ لڑ سکتے ہیں، مگر تہذیب کی بقا کا فیصلہ میدانِ جنگ میں نہیں ہوتا۔

دو سو دن کی جنگ نے خطے کو ایک نئے دوراہے پر لا کھڑا کیا ہے۔ امریکی فیصلے، ایرانی مزاحمت، حوثیوں کے حملے، سعودی دفاعی حکمتِ عملی، میڈیا کی جنگ اور تہذیب کی آوازسب مل کر یہ بتاتے ہیں کہ یہ لڑائی محض عسکری نہیں بلکہ سیاسی، سفارتی، معاشی اور تہذیبی سطح پر بھی جاری ہے۔ ہر جنگ مذاکرات پر ختم ہوتی ہے۔ معلوم نہیں اس میز تک پہنچنے سے پہلے مزید کتنی زندگیاں، کتنی عمارتیں اور کتنی تہذیبی یادداشتیں خاک ہونی ہیں۔

ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل کراچی 25 ستمبر 2026

ہفت روزہ دعوت دہلی 25 ستمبر 2026

ہفت روزہ رہبر سرینگر 25 ستمبر 2026


Thursday, September 17, 2026

 

خلیج فارس سے باب المندب ۔۔۔ گولہ بارود بمقابلہ جغرافیہ

جنگ کا پھیلتا ہوا دائرہ

خلیج فارس کی جنگ اب بحیرۂ احمر اور آبنائے باب المندب تک پھیلتی دکھائی دے رہی ہے۔ گزشتہ ہفتے ایران نواز انصاراللہ المعروف حوثیوں نے سعودی حمایت یافتہ یمنی سرکاری فوج کو پیچھے دھکیلتے ہوئے المخا (Mokha) بندرگاہ پر قبضہ کیا اور اگلے ہی روز آبنائے باب المندب کے اہم جزیرے میون (Perim/Mayun) پر بھی اپنا کنٹرول قائم کرلیا۔ یہ پیش رفت محض یمن کی خانہ جنگی کا ایک اور واقعہ نہیں، بلکہ عالمی تجارت اور تیل کی رسد کے لئے اہم بحری راستوں کے بدلتے ہوئے جغرافیے کی علامت ہے۔

میون: باب المندب کا جغرافیائی مہرہ

تقریباً اٹھارہ میل چوڑی آبنائے باب المندب ایشیا، خلیج عرب، بحیرۂ احمر اور نہرِ سویز کے درمیان عالمی تجارت کا اہم دروازہ ہے۔ میون اسی آبنائے کے اندر واقع ہے اور اسے دو بحری راستوں میں تقسیم کرتا ہے۔ اس جزیرے پر قابض قوت کو وہاں سے گزرنے والی بحری آمدورفت کی نگرانی اور اسے خطرے میں ڈالنے کے لئے ایک اہم جغرافیائی پوزیشن حاصل ہوجاتی ہے۔

یوں ایک طرف آبنائے ہرمز اور دوسری طرف باب المندب میں ایران اور اس کے اتحادیوں کا دباؤ بڑھتا دکھائی دے رہا ہے۔ تاہم میون پر حوثیوں کے قبضے کو ایران کی مکمل بحری بالادستی قرار دینا قبل از وقت ہوگا، کیونکہ خطے میں امریکی، سعودی اور دوسری بحری و فضائی قوتیں بھی موجود ہیں۔ حوثیوں کو سعودی عرب کی جانب سے شدید جوابی کارروائی کا بھی سامنا ہے۔ اس لیے ان کامیابیوں کو ایران کی فیصلہ کن فتح کے بجائے تہران کی تزویراتی سودے بازی کی قوت میں اضافے کے طور پر دیکھنا زیادہ مناسب ہوگا۔

بارود بمقابلہ جغرافیہ

محلِ وقوع اور جغرافیے کے تناظر میں معاملہ اب Ammunition vs Location یعنی گولہ بارود بمقابلہ جغرافیہ تک پہنچ گیا ہے۔ امریکہ کے پاس غیر معمولی فوجی قوت، فضائی طاقت، میزائل، بحری بیڑے اور گولہ بارود ہے۔ ایران کے پاس امریکہ جیسی روایتی فوجی طاقت نہیں، لیکن اس کے پاس ایک ایسی چیز ہے جسے بموں سے تباہ نہیں کیا جاسکتا اور وہ ہے جغرافیہ۔امریکہ بم برسا سکتا ہے، میزائل داغ سکتا ہے اور فوجی تنصیبات تباہ کرسکتا ہے، لیکن چچا سام جغرافیہ کو مٹا نہیں سکتے۔ جنگی حکمتِ عملی، جنگجو زیادہ بہتر جانتے ہیں، مگر جغرافیہ کے ہم جسے  طالب علموں کے لئے بنیادی سوال یہی ہے کہ کیا گولہ بارود جغرافیے کو شکست دے سکتا ہے؟

سعودی تیل بھی جنگ کی زد میں

باب المندب کے گرد طاقت کی کشمکش کے ساتھ سعودی تیل کی تنصیبات بھی اس جنگ کے حصار میں آتی دکھائی دے رہی ہیں۔ گزشتہ ہفتے سعودی عرب کی East-West Pipeline کو ڈرون حملے کا نشانہ بنایا گیا، جس کے بعد سعودی عرب نے اسے احتیاطاً عارضی طور پر بند کردیا۔ تقریباً 1,200 کلومیٹر طویل یہ پائپ لائن سعودی عرب کے مشرقی تیل میدانوں سے خام تیل بحیرۂ احمر کی بندرگاہ ینبع تک پہنچاتی ہے۔ اس کی موجودہ گنجائش تقریباً 70 لاکھ بیرل یومیہ ہے، جبکہ حالیہ مہینوں میں اس کے ذریعے تقریباً 40 سے 50 لاکھ بیرل یومیہ تیل منتقل کیا جارہا تھا۔

بحیرۂ احمر سے جنوب کی جانب جانے والے تیل بردار ٹینکر باب المندب سے گزر کر بحیرۂ عرب اور بحرِ ہند کے راستے ایشیائی منڈیوں تک پہنچتے ہیں، جبکہ شمال کی راہ اختیار کرنے والے ٹینکر نہرِ سویز عبور کرکے بحیرۂ روم کے راستے یورپی منڈیوں کی راہ لیتے ہیں۔یوں معاملہ صرف ہرمز اور باب المندب تک محدود نہیں رہا، بلکہ سعودی عرب کا وہ زمینی راستہ بھی زد میں آگیا جو آبنائے ہرمز کے متبادل کے طور پر اہمیت رکھتا تھا۔

سعودی عرب پر حملہ اور مکہ معاہدہ

آٹھ ستمبر کو حوثیوں نے سعودی عرب کے جنوبی شہروں ابہا، خمیس مشیط، نجران اور جازان پر ڈرونز اور میزائلوں سے بڑا حملہ کیا، جس میں کم از کم 73 افراد زخمی ہوئے۔ سعودی حکام کے مطابق توانائی کے بعض مراکز میں آگ لگی اور کچھ کارروائیاں عارضی طور پر روکنا پڑیں۔ اس کاروائی سے مکہ دفاعی معاہدے کا امتحان بھی شروع ہوگیا ہے۔اس بڑے حملے سے صرف ایک ماہ پہلے، 7 اگست کو سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ نے مکہ میں مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کئے تھے، جس کی بنیادی شق کے مطابق تین میں سے کسی ایک ملک پر مسلح حملہ، تینوں پر حملہ تصور ہوگا۔ کیا سعودی عرب پر حوثیوں کے یہ حملے مکہ معاہدے کی اجتماعی دفاعی شق کو حرکت میں لاسکتے ہیں؟ فی الحال اس کا جواب ’’نہیں‘‘ کہنا زیادہ محتاط ہوگا، کیونکہ معاہدہ اجتماعی دفاع کا اصول تو واضح کرتا ہے، لیکن یہ سوال الگ ہے کہ حملے کی صورت میں پاکستان اور ترکیہ کے لیے براہِ راست فوجی کارروائی لازم ہوگی یا وہ سیاسی، دفاعی، انٹیلی جنس یا دیگر معاونت کے ذریعے اپنا کردار ادا کرسکیں گے۔پاکستان کے لئے معاملہ خاصا حساس ہے۔ اسلام آباد ایک طرف سعودی عرب کی سلامتی کے لئے پر عزم ہے تو دوسری طرف ایران اور امریکہ کے درمیان ثالثی کا کردار بھی ادا کررہا ہے۔ ترکیہ بھی براہِ راست فوجی مداخلت سے گریز کی پالیسی پر گامزن ہے۔ تاہم اگر سعودی سرزمین پر حملے مسلسل بڑھتے ہیں، انسانی اور معاشی نقصان وسیع ہوتا ہے یا سعودی فوجی تنصیبات براہِ راست نشانہ بنتی ہیں تو مکہ معاہدے کی اصل آزمائش شروع ہوجائے گی۔

امریکی نقصانات کے متضاد بیانات

خلیج فارس کی جنگ میں امریکی نقصانات کی خبریں بھی سامنے آرہی ہیں۔ دس ستمبر کو ایران نے اردن کے موفق السلطی (Muwaffaq Salti) اڈے پر حملے میں امریکی فوج کو بھاری نقصان پہنچانے کا دعویٰ کیا۔ امریکی ٹیلی ویژن CBS کے مطابق اس حملے میں تقریباً آٹھ F-15 طیاروں کو معمولی نقصان پہنچا جبکہ ایک A-10 Thunderbolt کا ایک بازو ضائع ہوگیا۔ صدر ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایرانی حملہ غیر مؤثر رہا اور امریکہ کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔

بحرین کا امریکی بحری اڈہ بھی محفوظ نہ رہا

دوسری طرف امریکی بحریہ کے قائم مقام سیکریٹری ہَنگ کاؤ (Hung Cao) نے ایک انٹرویو میں کہا کہ بحرین میں موجود امریکی بحری تنصیبات کو ایرانی حملوں سے ’’بری طرح نقصان پہنچا‘‘۔ ان کے مطابق صورتِ حال یہاں تک پہنچ گئی کہ طیارہ بردار جہاز ابراہام لنکن کے عملے کے لئے وہاں واپس آکر قیام یا جہاز کو لنگر انداز کرنے کی مناسب جگہ بھی باقی نہیں رہی۔ بحرین امریکہ کے لئے خلیج میں محض ایک فوجی اڈہ نہیں بلکہ اس کی بحری حکمتِ عملی کا اہم مرکز ہے۔ اس لئے اگر کسی فوجی کارروائی کے نتیجے میں وہاں امریکی بحری جہازوں کی آمدورفت اور قیام متاثر ہوجائے تو یہ معمولی نقصان نہیں۔

ایران کے ’’آنکھوں والے‘‘ میزائل

اسی دوران ایران کی جانب سے جدید electro-optical میزائلوں کے استعمال کی خبریں بھی سامنے آئی ہیں۔ ان میزائلوں میں ہدف کی شناخت اور نشاندہی کیلئے خصوصی کیمرے اور حساس شعاعِ نور آلات (Light sensors) استعمال کئے جاتے ہیں۔ امریکی مرکزی کمان نے دعویٰ کیا ہے کہ ایرانی میزائیل انکے کسی اثاثے تک پہنچننے میں ناکام رہے لیکن الیکٹروآپٹیکل میزائیلوں کے استعمال سے اندازہ ہوتا ہے کہ امریکا و اسرائیل کی شدید ترین بمباری، ایرانی فوج کی تحقیقی تنصیبات اور میزائیل فیکٹریوں کو تباہ کرنے میں ناکام رہی ہے۔

زیرِ آب ڈرون: دعویٰ، پھر امریکی اعتراف

اسی سلسلے میں 8 ستمبر کو ایران نے آبنائے ہرمز کے قریب ایک امریکی زیرِ آب ڈرون (underwater drone) پکڑنے کا دعویٰ کیا۔ ابتدا میں امریکی حکام نے اس دعوے کو مسترد کیا، لیکن بعد میں امریکی مرکزی کمان نے تسلیم کیا کہ ایک Anduril Dive-LD زیرِ آب ڈرون سے رابطہ منقطع ہوا تھا۔ امریکی وضاحت کے مطابق یہ نسبتاً پرانا ماڈل تھا، جو ایک دن پہلے خراب ہوچکا تھا اور اس میں حساس یا درجہ بند سونار و ریڈار موجود نہیں تھا۔ ڈرون بنانے والی امریکی کمپنی Anduril نے بھی ایک Dive-LD کے ضائع ہونے کی تصدیق کی۔ تقریباً 19 فٹ طویل یہ خودکار زیرِ آب نظام سمندری تہہ کا نقشہ بنانے، بارودی سرنگوں کی تلاش اور زیرِ آب تنصیبات و کیبلز کی نگرانی جیسے کام انجام دے سکتا ہے۔ ممکن ہے کہ اس میں موجود کوئی انتہائی حساس عسکری ٹیکنالوجی ایرانی ہاتھ نہ لگی ہو، لیکن امریکی اعتراف نے کم از کم یہ ضرور واضح کردیا کہ ایران کی دفاعی صلاحیت کے مکمل طور پر ختم ہوجانے کا دعویٰ حقیقت سے کہیں زیادہ بڑا تھا۔

ایران اور افغانستان: پابندیوں کا معاشی جواب

عسکری محاذ کے ساتھ ایران معاشی پابندیوں کا مقابلہ کرنے کے لیے اپنے پڑوسی ملکوں کے ساتھ تجارت بڑھانے کی کوشش بھی کررہا ہے۔ کابل میں ایرانی سفارت خانے کے قائم مقام سربراہ علیرضا بیکدلی نے طلوع نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران اور افغانستان باہمی تجارت کا حجم موجودہ تقریباً 4 ارب ڈالر سے بڑھا کر 10 ارب ڈالر سالانہ کرنے کا ہدف رکھتے ہیں۔ بیکدلی کے مطابق دوغارون، ماہیرود، ابونصر فراہی، میلک اور ابریشم سرحدی گزرگاہوں کی گنجائش بڑھانے، سڑکوں اور ریل کے نظام کو بہتر بنانے اور تجارتی رکاوٹیں دور کرنے پر کام ہورہا ہے۔ دونوں ملکوں کے درمیان بڑھتی ہوئی تجارت اس بات کی علامت ہے کہ ایران جنگ اور پابندیوں کے ماحول میں اپنے گرد ایک ایسا معاشی حلقہ بنانے کی کوشش کررہا ہے جو اس کی بیرونی تجارت کے لیے متبادل راستے فراہم کرسکے۔

خلیج فارس سے باب المندب تک پھیلتی ہوئی جنگ ایک نئی حقیقت سامنے لارہی ہے، یعنی جدید جنگ صرف میزائل، بم اور طیاروں کی جنگ نہیں ہوتی۔ بندرگاہیں، جزیرے، آبنائے، پائپ لائنیں، تجارتی راستے اور سرحدی گزرگاہیں بھی جنگ کے اہم ہتھیار بن سکتے ہیں۔امریکہ کے پاس گولہ بارود کی غیر معمولی طاقت ہے، مگر ایران اور اس کے اتحادیوں کے پاس خطے کا پیچیدہ جغرافیہ ہے۔ دیکھنا ہے کہ عسکری قوتِ قاہرہ،  جغرافئے کو شکست دے پائیگی یا جغرافیہ گولہ بارود کی طاقت کو مفلوج کرسکے گا؟

ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل کراچی 18 ستمبر 2026

ہفت روزہ دعوت دہلی 18 ستمبر 2026

ہفت روزہ رہبر سرینگر 20 ستمبر 2026


 

فلسطین سے ٹیکساس : دستاویزی فلم، نصاب اور تعصب کی نئی لکیریں

اسرائیل اور فلسطین کا تنازعہ اب صرف غزہ اور غربِ اردن تک محدود نہیں رہا۔ اسرائیلی حکومت کی پالیسیوں کے خلاف عالمی سطح پر سیاسی، سفارتی اور عوامی ردعمل بڑھتا جارہا ہے۔ برطانیہ، فرانس اور کینیڈا نے غربِ اردن کی اسرائیلی آبادیوں سے آنے والی اشیا کی درآمد پر پابندیوں کا اعلان کیا ہے، جبکہ مزید ممالک بھی ایسی پابندیوں کی حمایت کررہے ہیں۔ دوسری طرف اسرائیل نے برطانیہ کے مشرقی یروشلم میں قونصل خانے کو بند کرنے کا حکم دے دیا ہے۔

آبادکاری کے خلاف برطانوی اقدام

برطانوی وزیر خارجہ ایڈ ملی بینڈ (Ed Miliband) نے دارالعوام (پارلیمان) سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ برطانیہ غربِ اردن پر اسرائیلی قبضے کو غیر قانونی سمجھتا ہے۔ انھوں نے فلسطینی علاقوں سے مقامی افرادکی جبری بے دخلی اور قبضہ گردوں کے تشدد کو نسلی تطہیر قراردیا۔ برطانیہ نے ان آبادیوں سے آنے والی اشیا پر پابندی کے ساتھ ان کی توسیع میں مدد دینے والی بعض کمپنیوں اور افراد کے خلاف بھی پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کیا ہے۔ فرانس اور کینیڈا نے بھی اسی نوعیت کے اقدامات کئے، جبکہ مزید نو ممالک نے مشترکہ طور پر ایسی پابندیوں کی حمایت یا ان پر 'غور' کا اعلان کیا ہے۔

یہود دشمنی (Antisemitism)کے بیانئے کا سیاسی استعمال

ملی بینڈ کے بیانات پر اسرائیل اور اس کے بعض حامیوں کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا اور انہیں یہود دشمنی  سے جوڑا گیا، حالانکہ ملی بینڈ خود ایک یہودی ہیں۔ ان کے خاندان نے نازی دور میں یہودیوں پر ہونے والے مظالم کا سامنا کیا تھا۔ کیا اسرائیلی حکومت کی پالیسیوں، قبضے یا آبادکاری کی مخالفت کو یہود دشمنی قرار دینا درست ہے؟

غربِ اردن میں گرفتاریوں اور آبادکاروں کا تشدد

الجزیرہ کے مطابق گزشتہ ہفتے غربِ اردن کے مختلف علاقوں سے بچوں سمیت تقریباً 100 فلسطینی گرفتار کئے گئے۔ طولکرم میں یتیم و بے سہارا بچوں کی دیکھ بھال میں معروف سماجی کارکن محترمہ روی ابراہیم کو ان کے گھر سے حراست میں لےلیا گیا۔ روی پر بچوں کو دہشت گردی کی تعلیم دینے کا الزام عائد کیا گیاہے۔ رام اللہ کے قصبے بیت إلّو میں آبادکاروں کے حملے میں ایک 23 سالہ نوجوان شدید زخمی ہوا، جبکہ قصریٰ میں آبادکاروں کی ناکہ بندی کے دوران امدادی سامان لے جانے والے ٹرک پر حملہ کرکے سامان لوٹنے کی بھی اطلاعات سامنے آئیں۔

غزہ میں بمباری، آئرلینڈ میں ٹرمپ سے سوال

غزہ میں اسرائیلی بمباری اور ڈرون حملوں کا سلسلہ  جاری رہا۔ خان یونس میں ایک رہائشی عمارت پر حملے میں 9 افراد جاں بحق ہوئے، جبکہ غزہ شہر کی ایک خیمہ بستی پر بمباری سے متعدد افراد زندہ جل گئے۔ غزہ کی صورتحال پر صدر ٹرمپ سے ان کے دورۂ آئرلینڈ میں بھی سوال کیا گیا۔ ایک صحافی نے پوچھا کہ ان آئرش شہریوں کو وہ کیا جواب دیں گے جو سمجھتے ہیں کہ امریکہ، غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں اور غربِ اردن میں اسرائیلی دہشت گردوں کو سہولت فراہم کررہا ہے؟ صدر ٹرمپ نے جواب دیا کہ امریکہ اسرائیلیوں اور فلسطینیوں کے درمیان امن معاہدے کی کوشش کررہا ہے۔ ان کے دورے کے موقع پر آئرلینڈ کے بڑے شہروں میں غزہ، غربِ اردن اور ایران جنگ کے خلاف مظاہرے بھی ہوئے۔

غزہ کی جنگ پر عالمی احتجاج

نیویارک میں نائن الیون کی یادگاری تقریب کے دوران ایک نوجوان فلسطینی پرچم لے کر میدان میں داخل ہوا جسے پولیس نے گرفتار کرلیا۔ یورپی ملک سلووینیا میں اسرائیلی سفارتخانے کے افتتاح کے موقع پر بھی احتجاج ہوا۔ یہ واقعات اس بات کی علامت ہیں کہ فلسطین کا مسئلہ اب صرف مشرقِ وسطیٰ کی سفارت کاری تک محدود نہیں بلکہ عالمی رائے عامہ کا مستقل موضوع بنتا جارہا ہے۔

غربِ اردن سے  جنوب ایشیا تک قبضہ گردی کی لہر

اسی دوران تھائی لینڈ میں اسرائیلی سیاحوں کے مبینہ نامناسب رویے اور تھائی لینڈ میں تل ابیب کی بڑھتی ہوئی کاروباری و جائیدادی سرگرمیوں کے خلاف مقامی سطح پر احتجاج شدت اختیار کرگیا ہے۔ سیاحتی مقام پھیوکیت (Phuket) میں مقامی گروہوں نے اسرائیلی سیاحوں پر مقامی قوانین کی خلاف ورزی، دکانداروں اور ٹیکسی ڈرائیوروں سے نامناسب رویے اور بعض مواقع پر خدمات کی ادائیگی سے متعلق شکایات عائد کی ہیں۔ دس ستمبر کو بنکاک میں اسرائیلی سفارتخانے کے باہر سینکڑوں افراد نے احتجاج کیا اور اسرائیلی تاجروں کی جانب سے مقامی زمینوں پر قبضے کے خلاف نعرے لگائے۔ مظاہرین نے ’’تھائی لینڈ برائے فروخت نہیں‘‘ اور ’’یہ تمہاری سرزمینِ موعود نہیں‘‘ کے نعرے لگائے۔

اسرائیلیوں کی اپنی دستاویزی فلم

اسرائیلی فلم ساز یووال ابراہام اور ریشل زور کی دستاویزی فلم NAZA نے وینس (اٹلی) فلم میلے میں خصوصی جیوری انعام حاصل کیا ہے۔ فلم میں 24 اسرائیلی فوجی اور انٹیلی جنس اہلکاروں کی گمنام گواہیاں شامل ہیں، جنہوں نے شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ غزہ میں مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے رہائشی علاقوں میں فون پر ہونے والی گفتگواور بچوں کی آواز کی تصدیق کے بعدایسے گھروں کو نشانہ بنایا گیا جہاں خواتین اور بچے موجودتھے۔

فلم کا نام NAZAدراصل اسرائیلی عسکری و انٹیلی جنس نظام میں استعمال ہونے والی ایک اصطلاح ہے، جو کسی فضائی حملے میں متوقع شہری ہلاکتوں یا ’’ضمنی نقصان‘‘ کی تعداد کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ فلم نے اسی اصطلاح کو اپنا عنوان بنا کر یہ سوال اٹھایا ہے کہ جنگی منصوبہ بندی میں جب انسانی جانیں بھی محض اعداد و شمار یا ایک عسکری کوڈ بن جائیں تو اس کے اخلاقی اور انسانی مضمرات کیا ہوتے ہیں

جب 10 ستمبر کو اسکی افتتاحی نمائش کے بعد فلم ساز اسٹیج پر آئے تو سارا مجمع کھڑا ہوکو 25 منٹ تک تالیاں بجاتا رہا۔ یہ وینس فلم میلے میں کسی بھی فلم کی طویل ترین پذیرائی تھی۔ اس موقع پر یووال ابراہام نے کہا کہ NAZA  محض ایک فلم نہیں بلکہ ایک ایسی دستاویزی کاوش ہے کہ جس میں غزہ کی جنگ کو اسرائیلی فوجی اہلکاروں کی زبان سے بیان کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔اس فلم سے ابھرتی AIٹیکنالوجی کے بارے میں دنیا تشویش کا شکار ہوگئی ہے۔لگتا ہے کہ جدید ٹیکنالوجی نے انسان کو محض ایک data point یا ہدف میں تبدیل کردیا ہے۔ اس حوالے سے تازہ پیش رفت یہ ہے کہ اسرائیلی وزیرِ ثقافت مکی ظہر نے دونوں فلم سازوں کی اسرائیلی شہریت منسوخ کرنے کا اعلان کیاہے جبکہ وزیراعظم نیتن یاہو نے NAZA کو "بدترین اشتعال انگیزی" قرار دیا۔ یہ ردعمل خود اس بات کی علامت ہے کہ فلم نے اسرائیل کے اندر بھی ایک غیر معمولی سیاسی تنازع کھڑا کردیا ہے اور اس جابرانہ طرز عمل سے مشرق وسطیٰ کی 'اکلوتی جمہوریت'  بے نقاب ہوگئی ہے۔

ایک جوتا اور ایک نیا اسرائیلی تنازع

اسرائیل نے اہلِ غزہ کو برباد کردیا، لیکن حکمرانوں کی وحشت کی بھاری قیمت اس کے سپاہی اب تک ادا کررہے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق پانچ ہزار سے زیادہ اسرائیلی فوجی ایک یا دونوں پیروں سے محروم ہوگئے ہیں۔ جوتے بنانے والے ادارے Adidas نے ایک پیر والے افراد کے لئے خصوصی جوتے تیار کئے ہیں، جس کے اشتہار میں اسرائیل کے ایک معذور فوجی کو اس جوتے کے ساتھ دوڑتے دکھایا گیا ہے۔ اسرائیلی انتہا پسند اس پر سخت ناراض ہیں اور فوجیوں کی جانب سے Adidas کے بائیکاٹ کی مہم شروع کی گئی ہے۔

ٹیکساس کا نیا نصاب: تاریخ یا تعصب؟

ادھر ریاست ٹیکساس (Texas) کے تعلیمی بورڈ نے ہائی اسکول کے سماجی علوم کے نئے نصاب کی منظوری دی ہے، جس میں 11 ستمبر 2001 کے حملوں کو ’’Radical Islam‘‘ سے جوڑ کر پڑھانے اور ابتدائی اسلامی تاریخ کے بعض پہلوؤں کو جنگ، غلامی اور خواتین قیدیوں کے تناظر میں بیان کرنے کی ہدایات شامل ہیں۔ یہ تبدیلیاں 2030-31 کے تعلیمی سال سے نافذ ہونا شروع ہوں گی۔ اگر تاریخ پڑھاتے ہوئے کسی ایک مذہب کو مسلسل منفی مثالوں کے ذریعے پیش کیا جائے گا تو تاریخی شعور پیدا کرنے کے بجائے بین المذاہب بداعتمادی اور معاشرتی کشیدگی بڑھ سکتی ہے۔ اعتراض صرف مسلم تنظیموں یا ناقدین کی طرف سے نہیں آیا۔ بورڈ کے مقرر کردہ کم از کم تین ماہرین نے بھی نصاب میں اسلام سے متعلق بعض بیانیوں پر تحفظات ظاہر کیے۔ ممتاز ماہر تعلیم محترمہ آندریا ہچنسن (Andrea Hutchinson) نے کہا کہ متعلقہ مواد ’’قریب سے تاریخی جانچ پڑتال‘‘ پر پورا نہیں اترتا، جبکہ جامعہ ٹیکساس، آسٹن  میں فلسفے کے پروفیسر رابرٹ کونز نے بھی بعض دعوؤں کے ماخذ کی علمی حیثیت پر سوال اٹھایا۔ پروفیسر صاحب کا کہنا تھا کہ تاریخ کا بنیادی اصول یہی ہے کہ طالب علم کو واقعات، شواہد اور مختلف نقطۂ نظر سے آگاہ کیا جائے، اُسے پہلے سے کسی نتیجے کا پابند بنانا علمی بددیانتی ہے۔ اگر اسلام کی تاریخ میں جنگیں، غلامی یا دوسرے متنازع پہلو پڑھانا ضروری ہے تو ان کا پورا تاریخی پس منظر بھی بیان ہونا چاہیے۔ غلامی کو صرف اسلامی دنیا سے منسوب کرنا تاریخی تصویر کو ادھورا کردے گا، کیونکہ غلامی اسلام سے بہت پہلے بھی مختلف معاشروں میں موجود تھی۔ اور تو اور خود امریکہ میں 1865 تک غلامی کو آئینی تحفظ حاصل تھا۔

اسرائیل اور فلسطین کے تنازع سے لے کر ٹیکساس کے کلاس روم تک الفاظ اور بیانئے اسلام مخالف مہم کا حصہ بن چکے ہیں۔ اسرائیلی حکومت کی پالیسیوں پر تنقید کو یہود دشمنی اور دہشت گردی کو اسلام سے جوڑ دیا گیا ہے۔ اب اسکولوں میں تاریخ، تحقیق، شواہد اور غیر جانب داری کے بجائے مسلمانوں سے خوف اور شک کے ساتھ پڑھائی جائے گی۔جسکی بناپر کمرہِ  تدریس علم کا مرکز بننے کے بجائے معاشرتی تقسیم کا میدان بن سکتا ہے۔ تاریخ کا کام کسی مذہب کو کٹہرے میں کھڑا کرنا نہیں، بلکہ انسان کو ماضی سے سچ سیکھنے کے قابل بنانا ہے۔

ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل کراچی 18 ستمبر 2026

ہفت روزہ دعوت دہلی 18 ستمبر 2026

ہفت روزہ رہبر سرینگر 20 ستمبر 2026