غزہ: طاقت، بیانیہ اور استقامت کی کشمکش
غزہ اس
وقت صرف ایک جغرافیائی خطہ نہیں بلکہ عالمی سیاست کا آئینہ بن چکا ہے۔ یہاں گرنے
والا ہر بم صرف ایک عمارت کو نہیں گراتا بلکہ بین الاقوامی قانون، اخلاقی معیارات
اور سفارتی توازن کو بھی آزما رہا ہے۔ طاقت کے اظہار اور مزاحمت کے عزم کے درمیان
ایک ایسی کشمکش جاری ہے جس کا فیصلہ میدانِ جنگ سے زیادہ بیانیوں، عدالتوں اور
سفارتی میزوں پر ہوتا دکھائی دیتا ہے۔
داخلی
سیاست اور غزہ کا انسانی منظرنامہ
یہاں
بمباری اور ناکہ بندی کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔ امدادی ٹرکوں کے سامنے دھرنا اب
اسرائیل میں ایک معمول کی سیاسی سرگرمی بنتا جا رہا ہے۔دو فروری سے انتہا پسند
عناصر کریم سلام (Kerem Shalom) پھاٹک پر امدادی سامان لے جانے والے ٹرکوں
کا راستہ روکے کھڑے ہیں۔ گزشتہ ہفتے اسرائیل مادرِ وطن پارٹی (Yisrael Beiteinu) کے
سربراہ اور خود کو لبرل و سیکیولر کہنے والے ایویگڈور لایبرمین
(Avigdor Liberman) بھی اپنی جماعت کی اراکینِ پارلیمان یولیا مالینووسکی
(Yulia Malinovsky) اور شیرن نیر (Sharon Nir) کے ہمراہ وہاں
پہنچے۔ لایبرمین نے کہا کہ یہ ٹرک ٹیکس دہندگان کے پیسوں سے غزہ میں بجلی، پانی
اور دیگر اشیاء پہنچا رہے ہیں، اور جب تک مزاحمتی گروہ غیر مسلح نہیں ہوتے امداد
کی بحالی اسرائیلی عوام کے لیے قابلِ قبول نہیں۔یہ منظر اس امر کی نشاندہی کرتا ہے
کہ غزہ میں جاری انسانی بحران کی ذمہ داری محض مذہبی شدت پسندوں تک محدود نہیں،
بلکہ اسرائیلی سیاست کے لبرل و سیکولر حلقے بھی سخت گیر پالیسی کے ساتھ کھڑے ہیں۔
طاقت
کی سیاست اور بیانیے کی جنگ
مغربی
حمایت کے احساسِ تحفظ نے اسرائیلی قیادت کو اب رسمی پردہ داری سے بھی بے نیاز
کردیا ہے۔ کچھ دن پہلے اسرائیلی وزارتِ قومی سلامتی کی جانب سے جیلوں میں فلسطینی
قیدیوں پر تشدد اور انکے ساتھ ناروا سلوک کی تصاویر جاری
کی گئیں، جنہیں ناقدین خوف کی نفسیات پیدا کرنے کی کوشش قرار دیتے ہیں۔سرکاری ذرایع یہ خبر بھی پھیلارہے ہیں کہ نئی قانون سازی کے
تحت قتل اور دہشت گردی کے الزام میں نظر بند فلسطینیوں کو سزائے موت دی جائیگی
جسکے لئے جلادوں کی تربیت کا کام جلد شروع ہوگا۔
جیتے
جاگتے معصوم بچے بھاپ بن گئے
اسی دوران الجزیرہ پر شائع
ہونے والی خبر نے ہر سلیم الفطرت انسان کے رونگٹے کھڑے کردئے۔اس تحقیقاتی رپورٹ
میں انکشاف کیا گیا ہے کہ اسرائیل نے غزہ میں انتہائی شدید حرارت اور دباؤ پیدا
کرنے والےامریکی ساختہ Thermal اور Thermobaric ہتھیار استعمال کیے، جو درجۂ حرارت کو تقریباً ساڑھے تین ہزار
ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچا دیتے ہیں۔ اس غیر معمولی حرارت کے نتیجے میں متعدد
مقامات پر جیتے جاگتے انسانوں کے جسم بھاپ بن کر تحلیل ہو گئے، یہاں تک کہ ان کی
قابلِ شناخت باقیات بھی دستیاب نہ ہو سکیں۔غزہ کی سول ڈیفنس کے مطابق سائنسی شواہد
(Forensic)کی
بنیاد پر ترتیب دی جانیوالی دستاویزات میں کم از کم 2,842 ایسے افراد کی نشاندہی
کی گئی ہے جنہیں “evaporated” کہا
جا سکتا ہے، یعنی تباہ شدہ مقامات سے ان کی کوئی قابلِ شناخت جسمانی باقیات نہیں
مل سکیں۔
ان
دعوؤں کی آزادانہ بین الاقوامی تصدیق ایک پیچیدہ اور متنازعہ معاملہ ہے،لیکن اگر
شہری آبادی پر اس نوعیت کے ہتھیاروں کا استعمال ثابت ہو گیا تو اس کا ذمہ دار کسے قرار دیا
جائیگا اور اسکی سزا کون بھگتے گا؟
کیا
عسکری دباؤ سے سیاسی نتائج نکل سکتے ہیں؟
خوفناک ہتھیاروں کے بہیمانہ
استعمال، جیلوں میں تشدد کی تشہیر اور صدر ٹرمپ کی جانب سے مزاحمت کاروں کے
غیرمسلح نہ ہونے کی صورت میں پٹی پر جہنم کے دروازے کھولدینے کی دھمکیوں کے باوجود
مزاحمت سرنگوں ہونے کو تیار نظر نہیں آتی۔مجلسِ السلام (Board of Peace) نے بہت طمطراق سے غزہ کے انتظام کے لیے 12 رکنی قومی کمیٹی (NCAG) تشکیل دی ہے، جو غزہ جا کر
پٹی کا اقتدار سنبھالے گی۔ لیکن شیر کی کچھار میں قدم رکھناآسان نہیں۔ نو فروری کو
قاہرہ میں NCAG کے
طویل اجلاس کے بعد فیصلہ ہوا کہ کمیٹی اس ہفتے غزہ نہیں جائے گی۔امریکہ اب تک یہ
سمجھنے سے قاصر ہے کہ مزاحمت کاروں سے براہِ راست بات چیت کے بغیر کوئی تصفیہ ممکن
نہیں۔ واشنگٹن میں معاہدہِ امن پر دستخط کر دینے سے امن قائم نہیں ہوگا۔
مطالبہِ تحلیل اسلحہ (Disarmament)سے پسپائی؟؟
مستضعفین کی استقامت اورمتکبرین کی جزوی پسپائی کا اندازہ نیویارک
ٹائمز میں شایع ہونے والی ایک رپورٹ سے بھی ہوتا ہے، جس کے مطابق
واشنگٹن میں ایک ایسے فارمولے پر غور ہوا جس کے تحت مزاحمتی قوتوں کو محدود نوعیت
کے چھوٹے ہتھیار رکھنے کی اجازت ہو جبکہ بھاری اسلحہ مرحلہ وار ترک کیا جائے۔ تحلیلِ اسلحہ کے اس منصوبے میں مبینہ ترمیم امریکی و
اسرائیلی تکبر میں شگاف کی علامت اور اس بات کا بالواسطہ اعتراف ہے کہ بہیمانہ
فوجی کارروائی، منظم نسل کشی اور بھوک و موسم کا ہتھیار اہلِ غزہ کو جھکانے میں
ناکام رہا۔یا یوں کہئے کہ اہلِ غزہ کے
پرعزم صبر نے جبر کو اپنے مؤقف میں نرمی پر مجبور کر دیا
بین
الاقوامی مداخلت کی بحث اور ISF
فلسطینی مزاحمت کاروں نے غزہ
میں غیر ملکی فوج کی تعیناتی مشروط انداز میں قبول کرنے کا عندیہ دیاہے۔ نیوزویک
کے مطابق انکے ترجمان باسم نعیم نے کہا
کہ ہمیں غزہ میں بین الاقوامی افواج کی آمد پر کوئی اعتراض نہیں،
بشرطیکہ وہ سرحد کے ساتھ دونوں فریقوں کے درمیان ایک حائل (بفر) فورس کے طور پر
کام کریں اور فلسطین کے شہری، عسکری و حفاظتی اور سیاسی و انتطامی معاملات میں کسی
قسم کی مداخلت نہ کریں۔بیان میں متنبہ کیا گیا کہ اگر
بین الاقوامی افواج نے اس حد سے تجاوز کیا تو فلسطینی انہیں “قبضے کے متبادل” کے
طور پر دیکھ سکتے ہیں۔ کچھ ذرائع کے مطابق انڈونیشیا نے اصولی طور پر ISF میں کردار ادا کرنے میں دلچسپی ظاہر کی
ہے، تاہم تاحال کسی وسیع البنیاد بین الاقوامی تعیناتی کا حتمی اعلان نہیں ہوا۔
مغربی
کنارے کی صورتحال اور علاقائی ردعمل
مغربی کنارے (West Bank)میں زمین کی ملکیت اور انتقالِ اراضی قوانین میں تبدیلی کے اسرائیلی
فیصلے پر مسلم دنیا،یورپی یونین، حتیٰ کہ امریکہ بہادر کی 'تشویش' کے باوجود الحاق (Annexation)کے منصوبے پر کام شروع ہوچکا
ہے۔ مغربی الخلیل (Western Hebron)سے بجلی کا نظام ختم کرنے کیلئے فوج نے رہائشیوں کو نوٹس جاری
کردئے ہیں۔ بجلی و پانی منقطع ہونے کے بعد مکینوں کیلئے گھر خالی کے سوا چارہ ہی
کیا رہا جائیگا۔
عدالتی
محاذ اور اظہارِ رائے کی حدود
امریکہ کی طرح برطانیہ میں بھی فلسطینیوں کے حق
میں مظاہرہ کرنے والوں کے خلاف سخت اقدامات جاری ہیں، تاہم 13 فروری کو عدالت
عالیہ (High Court) نے فلسطین ایکشن پر عائد پابندی کو کالعدم
قرار دے دیا۔ جسٹس وکٹوریہ شارپ کے فیصلے کو ماہرینِ قانون، آزادیِ اظہار کے باب
میں اہم نظیر قرار دے رہے ہیں۔
. اسرائیل کے اندر
مذہبی و سیکولر کشمکش
اسرائیل کے
اندرونی منظرنامے میں بھی کشیدگی برقرار ہے۔ گیارہ فروری کو اسرائیلی
حریدی جماعت یونائیٹڈ توراہ جوڈازم (United Torah
Judaism) کے ایک اہم دھڑے ڈیگل ہاتوریت (پرچمِ توریت) کے روحانی پیشوا ربی
ڈیو لینڈو نے دوٹوک اعلان کیا کہ حکومت
مانے یا نہ مانے ایک بھی یشیوا (حفظ توریت کے مدارس) طالب علم فوج میں نہیں جائے
گا۔ توریت کے علما کی جگہ یشیوا اور کولیل (علما کی قانقاہیں) ہیں، میدان جنگ
نہیں۔
یہ کشمکش اسرائیلی سماج میں سیکولر اور مذہبی
طبقوں کے درمیان پہلے سے موجود خلیج کو مزید نمایاں کرتی ہے۔
قیادت،
کردار اور سیاسی اخلاقیات
قدامت پسندوں کیساتھ
اسرائیلی قیادت کو Epstein Files کے انکشافات پر بھی شرمندگی کا سامنا ہے۔ اس
حوالے سے ایک ہفتہ قبل یہ خبر سامنے آئی تھی کہ سابق اسرائیلی وزیراعظم ایہود
باراک (Ehud Barak) نےروسی
صدر ولادیمر پیوٹن سے گفتگو میں اعتراف کیا کہ فلسطینی آبادی کا فطری اضافہ
اسرائیل کے لیے ایک تزویراتی کمزوری ہے۔ جس پر تجزیہ نگاروں نے غزہ میں جاری نسل
کشی اور غربِ اردن میں قبضے گردی کو اس زاوئے سے دیکھنا شروع کردیا۔حالیہ بیان میں جناب باراک نے جیفری ایپسٹین سے ملاقات پر افسوس کا اظہار
کیا۔ ندامت کس بات پر ہے؟ ملاقات پر؟ یا اس بات پر کہ ملاقاتیں منظرِ عام پر آ
گئیں؟
غزہ کا
بحران محض ایک جنگ نہیں بلکہ طاقت اور استقامت، بیانیہ اور حقیقت، اور خوف اور
اعتماد کی طویل کشمکش ہے۔ عسکری قوت وقتی برتری تو فراہم کر سکتی ہے، مگر مستقل
استحکام سیاسی بصیرت، قانونی توازن اور سفارتی جرات کا تقاضا کرتا ہے۔ اگر مکالمے
کی راہیں مسدود رہیں تو یہ تصادم صرف سرحدوں تک محدود نہیں رہے گا بلکہ پورے خطے
کے سیاسی اور سماجی مستقبل کو متاثر کرے گا۔ سوال یہ نہیں کہ کون وقتی طور پر غالب
ہے، بلکہ یہ ہے کہ کون پائیدار امن کی سمت قدم بڑھانے کا حوصلہ رکھتا ہے۔
ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل کراچی 20 فروری 2026
ہفت روزہ دعوت دہلی 20 فروری 2026
ہفت روزہ رہبر سرینگر 22 فروری 2026