Thursday, March 12, 2026

 

کیا واشنگٹن کی جنگ تل ابیب کا ایجنڈا ہے؟

روبیو کے اعتراف اور نیتن یاہو کے بیان سے اٹھتے سوالات

سیاست دان کبھی کبھی وہ بات خود ہی کہہ دیتے ہیں جس کے بارے میں خدشات زباں زدِ عام ہوتے ہیں۔امریکی وزیر خارجہ کا ایک بیان اور اسرائیلی وزیراعظم کے بصری پیغام نے ایسے ہی ایک 'سوال' کو بے نقاب کردیا ہے  جسے طویل عرصے سے دبانے کی کوشش کی جا رہی تھی یعنی امریکہ مشرقِ وسطیٰ میں اپنی سلامتی کی جنگ لڑ رہا ہے یا کسی اور کی حکمتِ عملی کو قوت فراہم کر رہا ہے؟

"ہمیں معلوم تھا…" — مارکو روبیو کا بیان

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے واشنگٹن میں صحافیوں کو بتایا ہمیں معلوم تھا کہ اسرائیل کاروائی کرنے والا ہے اور ہم زیادہ نقصان برداشت نہیں کرنا چاہتے تھے، اس لیے ہم نے پہلے حملہ کیا تاکہ بڑے جانی نقصان سے بچا جا سکے یعنی فیصلہ امریکی مفاد کی روشنی میں نہیں بلکہ اسرائیلی حکمتِ عملی کو مدنظر رکھ کر کیا گیا۔

چالیس سالہ آرزو” — نیتن یاہو کا اعتراف

اسی دوران اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے ایک بصری پیغام میں کہا (امریکہ اور اسرائیل کے) فوجی اتحاد نے مجھے وہ طاقت فراہم کردی جس سے میری وہ آرزو پوری ہوگئی جسے میں پچھلے چالیس سالوں سے اپنے دل میں لئے بیٹھا تھا'

چالیس سالہ آرزو۔۔۔؟، اس فقرے نے حقیقت آشکار کردی کہ یہ وقتی دفاعی کارروائی نہیں بلکہ ایک طویل المدت نظریاتی منصوبے  بلکہ شیطانی آرزو و تمنا کی تکمیل ہے۔

اگر اسرائیلی قیادت اسے تاریخی موقع سمجھ رہی ہے اور امریکی وزیر خارجہ اس بات کا اعتراف کر رہے ہیں کہ حملے کی ساعت (timing) اسرائیلی منصوبے سے متاثر تھی، تو یہ بات بالکل واضح ہوگئی ہے کہ  حالیہ وحشت کے اصل محرکات کیا ہیں

آئت اللہ خامنہ ای کا قتل  ۔۔ پرانا منصوبہ

اب نیتن یاہو کے وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے انکشاف کیا ہے کہ گزشتہ سال نومبر ہی میں آئت اللہ سید علی خامنہ ای کو نشانہ بنانے کا ہدف طے کیا جا چکا تھا، اور ایران میں حکومت مخالف مظاہروں نے اس منصوبے کی رفتار تیز کر دی، جس سے امریکہ اور اسرائیل کی مشترکہ کارروائی کے حالات پیدا ہوئے۔یعنی یہ محض حالات کا جبر نہیں تھا، بلکہ درندگی کی یہ خواہش چاردہائیوں سے دل میں چھپی تھی۔

خطیر  امریکی امداد اور جنگ کا تسلسل

غزہ پر اسرائیلی حملے کے  بعد سے امریکہ، اسرائیل کو تقریباً 21 ارب ڈالر کی اضافی فوجی مدد فراہم کر چکا ہے۔جبکہ حالیہ عسکری مہم پر امریکی فوج کے خرچ کا تخمینہ 90 کروڑ ڈالر روزانہ ہے۔ اسرائیل کے اخراجات اس سے کہیں زیادہ ہیں کیونکہ اسے ایرانی میزائیل حملوں سے دفاع کا خرچ بھی برداشت کرنا پڑہا ہے۔ اسرائیل کے اخراجات کی ادائیگی بھی امریکی خزانے سے ہی ہوگی۔ ایسے وقت جب خود امریکہ میں افراطِ زر، بیرورگاری، صحت عامہ، اور بنیادی ڈھانچے کے مسائل شدت اختیار کئے ہوئے ہیں، ٹیکس دہندگان کے سرمائے کو بے گناہ ایرانیوں کے قتل عام و بربادی کیلئے استعمال کرنے کا کیامقصد ہے؟

ہتھیار ڈالنے کی انوکھی تعریف

امریکی صدر کا اصرار ہے کہ ایران غیر مشروط طور پر ہتھیار ڈال دے۔ہتھیار ڈالنے کی تعریف بیان کرتے ہوئے انہوں نے کہا غیر مشروط ہتھیار ڈالنے کا مطلب اس صورت میں بھی ہو سکتا ہے جب وہ مزید لڑنے کے قابل نہ رہیں، یعنی ان کے پاس لڑنے والے باقی ہوں اور نہ اسلحہ

اب امریکی صدر کو کون سمجھائے کہ آخری سپاہی اور آخری گولی تک لڑنے کو ہتھیار ڈالنا نہیں کہا جاتا۔ یہ تو شجاعت اور عزم کی وہ معراج ہے جس میں سپاہی اپنے خون کے آخری قطرے تک آزادی کا دفاع کرتا ہے۔ تاریخ شاہد ہے کہ ایسے جذبے سے لڑنے والی قوموں نے کبھی شکست نہیں کھائی۔ہتھیار ڈالنے کی ایک نمایاں مثال تو خود صدر ٹرمپ نے اپنے پہلے دورِ اقتدار میں قائم کی تھی، جب انہوں نے قطر میں ملا عبدالغنی برادر کو فون کر کے افغانستان میں تعینات امریکی فوجیوں کی بحفاظت واپسی کی درخواست کی۔ طے یہ پایا کہ امریکی سپاہ اپنا بھاری اسلحہ وہیں چھوڑ کر صرف ذاتی ہتھیاروں کے ساتھ واپس جائے گی۔یادش بخیر 14 سوسال ایسی ہی شرائط پر بنونضیر اور بنوع قیننقاع کی جاں بخشی ہوئی تھی۔

ایران، غزہ اور پھیلتی ہوئی جنگ

ایران پر حملہ اور غزہ کی تباہی ایک مربوط زنجیر کا حصہ ہے۔ غزہ خونریزی ابھی جاری ہی ہے کہ اس کا دائرہ مزید وسیع کردیا گیا۔امریکی وزیرخارجہ کے اعتراف اور نیتن یاہو کے اظہارِ تمنا نے امریکی عوام کی بدنصیبی اور قیادت کے فتورِ نیت پر پڑے پردے کو تارتار کردیاہے۔اس بات میں اب کوئی شبہہ باقی نہیں رہا کہ واشنگٹن کی حالیہ عسکری پیش رفت،  اسرائیلی منصوبہ بندی سے ہم آہنگ اور ڈانلڈ ٹرمپ و نیتن یاہو کی مسلم نفرت پر مبنی مشترکہ تزویراتی (اسٹریٹیجک) مہم ہے۔

بیچارے امریکی ٹیکس دہندگان

امریکہ ایک جمہوری ریاست ہے جہاں خارجہ پالیسی بالآخر عوامی احتساب کے دائرے میں آتی ہے۔جب اربوں ڈالر بیرونِ ملک فوجی مہمات پر خرچ ہوں اور خود وزراء یہ عندیہ دیں کہ فیصلے کی گھڑی کسی اتحادی ملک کی حکمتِ عملی سے متاثر ہے، تو سوال محض نظریاتی نہیں رہتا بلکہ یہ مالی اور آئینی مسئلہ بھی بن جاتا ہے۔کیا امریکی شہری اس خطے کی طویل المدت فوجی کشمکش کی قیمت ادا کرنے کے لیے تیار ہیں؟یا یہ فیصلہ ان سے پوچھے بغیر کیا جا رہا ہے؟

لمحہِ فکریہ

یہ درست کہ عالمی اتحاد مفادات کی بنیاد پر ہی بنتے ہیں، مگر جب اتحاد کے ایک رکن کی جانب سے “چالیس سالہ آرزو” کا ذکر اور دوسرا ساتھی وقت کے انتخاب  میں اس کے اثر کا اعتراف کرے، تو معاملہ محض دفاعی کارروائی نہیں رہتا۔ یہ وقتی ردِعمل نہیں بلکہ اسکا ہدف خطے کے جغرافئےاور سیاسی توازن کو مستقل طور پر بدلنا ہے

ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل کراچی 13 مارچ 2026

ہفت روزہ دعوت دہلی 13 مارچ 2026

ہفت روزہ رہبر سرینگر 15 مارچ 1026


 

 

آبنائے ہرمز — عالمی معیشت کی شہ رگ

ایران کے خلاف امریکہ و اسرائیل کی مشترکہ جارحیت نے دنیا،  خاص طور سے ایشیائی ممالک کو تیل کے سنگین بحران میں مبتلا کردیا ہے۔اس کی وجہ ایک تنگ مگر انتہائی اہم سمندری گزرگاہ، آبنائے ہرمز (Hormuz Strait)کی ممکنہ بندش ہے۔ یہ آبی راستہ، خلیج فارس کو خلیج عمان اور پھر بحرِ ہند سے ملاتا ہے۔ اس کے شمال میں ایران اور جنوب میں عمان اور متحدہ عرب امارات واقع ہیں جغرافیائی اعتبار سے یہ گزرگاہ زیادہ وسیع نہیں, تنگ ترین مقام پر اس کی چوڑائی تقریباً 34 کلومیٹر ہے، لیکن عالمی معیشت کے لیے اس کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ روزانہ تقریباً دوکروڑ بیرل تیل اس راستے سے عالمی منڈیوں تک پہنچتا ہے، جو دنیا کی کل یومیہ کھپت کا تقریباً بیس فیصد ہے۔ سمندری راستوں سے ہونے والی عالمی تیل تجارت کا تقریباً ایک چوتھائی حصہ اسی آبنائے سے گزرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب بھی خلیج میں کشیدگی بڑھتی ہے تو عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتیں فوراً بے چینی کا شکار ہو جاتی ہیں۔ ماہرین، آبنائے ہرمز کو توانائی کی “شہ رگ” قرار دیتے ہیں۔

خلیجی ریاستوں کی معیشت بڑی حد تک اسی راستے پر منحصر ہے۔ سعودی عرب، عراق، متحدہ عرب امارات، کویت، قطر اور ایران اپنے تیل کی بڑی مقدار اسی آبی گزرگاہ کے ذریعے دنیا بھر میں بھیجتے ہیں۔قطر کی مائع قدرتی گیس (LNG) کی برآمدات بھی اسی راستے سے ہوتی ہیں۔ ایران نے دھمکیوں کے باوجود باضابطہ طور پرآبنائے ہرمز کو بند کرنے کا اب تک اعلان نہیں کیا، لیکن عملی طور پر جہاز رانی شدید متاثر ہے اور بہت حد تک راستہ بند جیسی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔جسکی وجہ سے  توانائی کی عالمی منڈیاں بحران کا شکار ہیں اور 8 مارچ کو تیل کی قیمت 110 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرگئی۔

اس راستے کی بندش کا سب سے بڑااور بُرا اثر پاکستان، بنگلہ دیش اور ایشیا کی بڑی معیشتوں پر پڑرہا ہے۔ چین، بھارت اور جنوبی کوریا اپنی توانائی کی ضروریات کا بڑا حصہ خلیج سے حاصل کرتے ہیں۔جاپان اپنی ضرورت کا تقریباً ستر فیصد تیل اسی راستے سے درآمد کرتا ہے۔ چنانچہ آبنائے ہرمز میں رکاوٹ نے ایشیا کی صنعتی معیشتوں کو بحران سے دوچار کردیا ہے۔

اسی خطرے کے پیش نظر سعودی عرب نے کئی سال پہلے ایک متبادل راستہ تیار کیا تھا۔ اسے “ایسٹ ویسٹ پائپ لائن” کہا جاتا ہے۔ اس پائپ لائن کے ذریعے خلیج کے ساحل سے نکلنے والا تیل سعودی عرب کے مغربی ساحل پر واقع بندرگاہ ینبع تک پہنچایا جا سکتا ہے، جہاں سے اسے بحیرہ احمر کے ذریعے عالمی منڈیوں تک بھیجا جاتا ہے۔ اس طرح تیل کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی ضرورت نہیں رہتی۔

مگر یہ راستہ بھی مکمل طور پر محفوظ نہیں۔ بحیرہ احمر سے گزر کر ایشیا کی طرف سفر کیلئےجہازوں کو آبنائے باب المندب سے گزرنا پڑتا ہے جو یمن اور افریقہ کے ساحلوں کے درمیان واقع ہے ۔حالیہ برسوں میں یمن کے حوثی جنگجوؤں نے اس علاقے میں جہازوں کو نشانہ بنایا ہے جس کے باعث اس راستے کی سلامتی بھی غیر یقینی ہو چکی ہے۔ ادھر کچھ عرصے سے آبنائے باب مندب پر کوئی بڑی کاروائی نہیں دیکھی گئی لیکن اس نوعیت کی کاروائیاں خارج از امکان نہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پراعتماد ہیں کہ امریکی بحریہ آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ بلاشبہ امریکی بحریہ دنیا کی سب سے طاقتور بحری قوت ہے اور ماضی میں اس نے خلیج میں جہازوں کی حفاظت کے لیے کارروائیاں کی ہیں۔ تاہم عسکری ماہرین اس معاملے کو اتنا سادہ نہیں سمجھتے۔ آبنائے ہرمز ایک تنگ آبی راستہ ہے جہاں سینکڑوں تجارتی جہاز مسلسل آمد و رفت کرتے ہیں۔ اگرایران بارودی سرنگیں بچھانے میں کامیاب ہوگیا یا ساحلی میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے حملے شروع کر دئے تو ہر جہاز کو محفوظ راستہ فراہم کرنا ممکن نہیں ہوگا۔

ماہرین خبردار کررہے ہیں کہ اگر ہرمز میں چند دن کے لیے بھی جہاز رانی متاثر ہو جائے تو عالمی تیل کی قیمتیں آسمان کو چھونے لگیں گی۔ توانائی کی منڈیوں میں عدم استحکام کا یہ سلسلہ نہ صرف تیل درآمد کرنے والے ممالک بلکہ عالمی معیشت کے ہر شعبے کو متاثر کرے گا۔

حقیقت یہ ہے کہ آبنائے ہرمز عالمی معیشت کی دھڑکن ہے۔ اس کی بندش کا مطلب صرف خلیج میں بحران نہیں بلکہ دنیا بھر میں معاشی بے یقینی کا طوفان ہے۔ اس لئےخلیج میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پس منظر میں سب سے بڑا سوال یہی ہے کہ کیا عالمی طاقتیں اس شہ رگ کو کھلا رکھنے میں کامیاب رہیں گی یا دنیا ایک نئے توانائی بحران کی طرف بڑھ رہی ہے؟ امریکہ و اسرائیل کی جارحیت کا راستہ روک ہی اس کلیدی آبی گزرگاہ کو محفوظ اور کھلا رکھا جاسکتا ہے۔ دیکھنا ہے کہ اقوام عالم اس معاملے پر اپنا کردار کیسے نبھاتی ہیں۔

ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل کراچی 13 مارچ 2026

ہفت روزہ دعوت دہلی 13 مارچ 2026

ہفت روزہ رہبر سرینگر 15 مارچ 2026


 

جنگ کا پھیلتا دائرہ: غزہ سے ایران تک

القدس، جنگ اور مذہبی آزادی کے نئے سوال

مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ اب محض غزہ تک محدود نہیں رہی۔اس جارحیت کا دائرہ بتدریج لبنان اور ایران تک پھیل چکا ہے۔ اگرچہ شام، لبنان، یمن اور ایران پر مختلف نوعیت کے حملے پہلے بھی ہوتے رہے ہیں، لیکن ایران اور لبنان کے محاذ پر حالیہ شدت کا آغاز 28 فروری کو سبتِ ذکر (Shabbat Zachor) پر ہوا۔ یہودی تہوار پیورم (Purim) سے پہلے آنے والے ہفتے کو سبتِ ذکر(یاددہانی) کہا جاتا ہے۔

پیورم یہودی مذہب کا ایک قدیم تہوار ہے جس کی بنیاد کتابِ استر (Book of Esther) میں بیان کردہ اس واقعے پر ہے جب روایت کے مطابق قدیم فارس میں ملکہ استر اور مردخائی کی کوششوں سے یہودیوں کو ایک منصوبہ بند قتلِ عام سے نجات ملی تھی۔ اسی یاد میں اس تہوار کے دوران عبادات، جلوس، خیرات اور خوشی کی تقریبات منعقد کی جاتی ہیں۔

جنگ کا ایک جیسا نقشہ

غزہ میں جس منظم انداز سے اسکولوں، ہسپتالوں، عبادت گاہوں، آبی وسائل، ایندھن، بجلی گھروں اور بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا گیا، اسی نوعیت کی ترجیحات اب ایران اور لبنان کے محاذ پر بھی دکھائی دے رہی ہیں۔ لبنان میں بمباری کی شدت کے باعث شہری آبادی براہِ راست متاثر ہو رہی ہے۔ اندازوں کے مطابق تقریباً پانچ لاکھ افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔ بیروت کے پارکوں اور سڑکوں کے کنارے خیمہ بستیاں آباد ہو رہی ہیں، ایک ایسا منظر جو کچھ عرصہ پہلے تک صرف غزہ کا مقدر سمجھا جا رہا تھا۔

ایران پر حملوں کے آغاز کے ساتھ ہی اسرائیل نے غزہ کی سرحد پر واقع رفح پھاٹک بند کردیا ، جس سے روزوں کے دوران اہلِ غزہ کی مشکلات مزید بڑھ گئیں۔فلسطینی ذرائع کے مطابق 6 مارچ سے  کریم سلام (Karem Shalom) پھاٹک کو امدادی سامان کے لیے جزوی طور پر کھول دیا گیاہے۔ اب اسرائیلی حکام اس بات پر زور دے رہے کہ غزہ کے لیے امدادی سامان اسرائیل سے خریدا جائے۔یعنی اہل غزہ کو برباد کرنے کے بعد  انکی آبادکاری کے نام پر اسرائیل میں سرمایہ کاری کے نئے راستے تلاش کئے جارہے ہیں۔

غزہ پر بمباری کا سلسلہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا

ایران اور لبنان پر نئی جارحیت کے ساتھ غزہ پر بمباری میں کوئی کمی نہیں آئی۔ جمعہ کو سحری کے وقت ڈرون حملے میں خان یونس کا ایک آدمی اپنے معصوم بچی سمیت جان سے گیا۔ غزہ شہر کے التفاح محلے پر شدید بمباری کیساتھ بحیرہ روم میں تعینات جہازوں سے گولے برسائے گئے جس سے کئی افراد جاں بحق اور ایک درجن کے قریب لوگ زخمی ہوگئے۔ اسی دوران اسرائیلی ٹینکوں نے فائربندی کی لکیر سے آگے بڑھ کرمورچے سنبھال لئے۔ اکتوبر کی نام نہاد جنگ بندی کے بعد  سے اسرائیلی حملوں میں اب تک 640 افراد جاں بحق اور 17000 سے زیادہ افراد زخمی ہوئے ہیں۔

ایران ، لبنان اور اسرائیل ۔۔ خوف کی فضا

ایران پر اسرائیل و امریکہ کی شدید بمباری کے جواب میں ایران کے میزائیل اور ڈرون حملوں نے اسرائیل میں خوف اور بے چینی کی فضا پیدا کر دی ہے۔ تل ابیب اور یروشلم سمیت کئی علاقوں میں شہری زیرزمین پناہ گاہوں میں چھپے ہوئے ہیں۔ایک واقعے میں تل ابیب کے قریب ایرانی میزائل زیرزمین پناہ گاہ کے نزدیک جا گرا جس نے وہاں خوف کو مزید بڑھا دیا۔ لبنان میں قابض اسرائیلی فوج کی چوکی پر راکٹ حملے میں ایک اسرائیلی سپاہی ہلاک اور انتہا پسند وزیرخزانہ بیزلیل اسموترچ کے بیٹے سمیت آٹھ سپاہی شدید زخمی ہوگئے جن میں سے پانچ کی حالت نازک ہے ۔

مسجد اقصیٰ: سیکیورٹی یا پابندی؟

اس کشیدہ صورتحال میں اسرائیلی حکومت نے سیکیورٹی کے نام پر مسجد اقصیٰ تک رسائی محدود کر دی ہے،  6 مارچ کو وہاں نمازِ جمعہ بھی ادا نہیں ہو سکی۔ مغربی کنارے میں شہریوں کے لئے، نہ تو پناہ گاہوں کا کوئی اہتمام ہے اور نہ ہی دیگر حفاظتی انتظامات دکھائی دیتے ہیں، لیکن مسجد اقصیٰ کے دروازے بند کر دیے گئے۔

اسی دوران اسرائیلی ذرائع ابلاغ میں ایسی تصاویر بھی شائع ہوئیں جن میں انتہا پسند عناصر کو احاطۂ اقصیٰ میں عبادت اور چہل قدمی کرتے دکھایا گیا۔ اس صورتحال نے القدس کی مذہبی حیثیت سے متعلق جاری تنازع کو مزید گہرا کر دیا ہے۔ عجیب تضاد کہ حفاظت کے نام پر مسجد اقصیٰ مقفل ہے، لیکن پیورم کی تقریبات معمول کے مطابق جاری ہیں۔

مسجد ابراہیمی کی مثال

یہ صورتحال فلسطینیوں کے لیے نئی نہیں۔ مقبوضہ شہر الخلیل میں واقع مسجد ابراہیمی اس کی ایک واضح مثال ہے۔ روایت کے مطابق یہاں حضرت ابراہیمؑ اور ان کے خاندان کی قبریں موجود ہیں اور اسی وجہ سے یہ مقام تینوں ابراہیمی مذاہب کے ماننے والوں کے لیے مقدس سمجھا جاتا ہے۔

اسلامی روایت میں اسے فلسطین کے اہم ترین مذہبی مراکز میں شمار کیا جاتا ہے اور بعض مؤرخین کے نزدیک تقدس کے اعتبار سے یہ مکہ، مدینہ اور القدس کے بعد چوتھا اہم مقام ہے۔ مگر گزشتہ دہائیوں میں یہ مسجد سخت پابندیوں اور انتظامی تقسیم کا شکار ہو چکی ہے، جہاں مختلف اوقات میں مختلف مذاہب کے پیروکاروں کو عبادت کی اجازت دی جاتی ہے۔

اسی پس منظر میں انسانی حقوق کے حلقے خدشہ ظاہر کر رہے ہیں کہ اگر مسجد ابراہیمی کی طرح مسجد اقصیٰ پر بھی بتدریج پابندیاں بڑھتی گئیں تو اس کے مذہبی اور تاریخی تشخص پر گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

جنگ کے سائے میں بڑھتا تشدد

جنگ کے شور کے پیچھے ایک اور کہانی بھی چل رہی ہے۔ مغربی کنارے میں کام کرنے والی انسانی حقوق کی تنظیم Yesh Din کے مطابق ایران کے ساتھ جاری جنگ کے ابتدائی چار دنوں (28 فروری سے 3 مارچ) میں فلسطینیوں پر حملوں کے 50واقعات پیش آئے۔اس دوران37 فلسطینی بستیوں کو نشانہ بنایا گیا۔ دہشت گرد وارداتوں میں فائرنگ، تشدد، املاک کی تباہی اور دھمکیاں شامل ہیں۔

تنظیم کے مطابق جنگی فضا کے پردے میں تشدد کی شدت میں اضافہ ہو رہا ہے اور زمینی حقائق کو طاقت کے ذریعے تبدیل کرنے کی کوششیں تیز ہو گئی ہیں۔ عالمی توجہ چونکہ اس وقت ایران کی جانب مرکوز ہے، اس لئے مقبوضہ علاقوں میں ہونے والے واقعات اکثر عالمی خبروں میں جگہ نہیں بنا پاتے۔اتوار 8 مارچ کو رام اللہ کے گاوں ابوفلاح پر قبضہ گردوں نے اسرائیلی فوج کی حفاظت اور سرپرستی میں حملہ کیا۔ اس دوران مکانوں اور زرعی اراضی کو آگ لگادی گئی۔ فائرنگ سے 24 سالہ ثائر حمائل اور 57 سالہ فارع حمائل جاں بحق ہوگئے

امن کی شاہراہ یا جنگ کا تسلسل؟

اس ہفتے بھی مجلس السلام یا Board of Peaceکی سرگرمیاں عملاً معطل نظر آئیں جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ صدر ٹرمپ کیلئے  یہ شغلِ فراغت کے سوا کچھ اور نہیں۔ واشنگٹن کی موجودہ ترجیح اسرائیل سے ایران تک ایک نئی شاہراہِ امن یا Road to Peace تعمیر کرنا ہے، اگرچہ زمینی حقائق اس تصور سے ہم آہنگ دکھائی نہیں دیتے۔یہ کہنا قبل ازوقت ہے کہ مجلس السلام کی طرح پاکستانی حکمرانوں کو اس شاہراہ پر خیمہ زنی کی اجازت بلکہ سعادت ملے گی یا نہیں جو امریکہ کے حکم پر افغانستان میں شاہراہ امن تعمیر کررہے ہیں۔

ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل کراچی 13 مارچ 2026

ہفت روزہ دعوت دہلی 13 مارچ 2026

ہفت روزہ رہبر سرینگر 15 مارچ 2026


 

مجتبیٰ خامنہ ای — ایران کی قیادت کا نیا باب

ایران کی مجلسِ خبرگان نے مجتبیٰ خامنہ ای کو ملک کا نیا رہبرِ معظم (سپریم لیڈر) منتخب کرلیا۔ وہ ایران کے دوسرے رہبرِ انقلاب سید علی خامنہ ای  کے صاحبزادے اور اپنے والد کے بعد ایران کے تیسرے سپریم لیڈر بنے ہیں۔ اس طرح اسلامی جمہوریہ ایران کی قیادت ایک بار پھر اسی انقلابی خانوادے کے ہاتھوں میں آ گئی ہے جس کےگزشتہ چار دہائیوں سے ایران کی سیاست اور ریاستی ڈھانچے پر گہرے اثرات ہیں۔

انقلابی گھرانے میں پرورش

مجتبیٰ خامنہ ای 1969 میں ایران کے شہر مشہد میں پیدا ہوئے۔ ان کی سیاسی اور فکری تربیت ایسے ماحول میں ہوئی جہاں اسلامی انقلاب کی گونج ہر طرف سنائی دیتی تھی۔ جب 1979 کا انقلاب برپا ہوا تو وہ کم عمری ہی میں اس تحریک کے اثرات سے آشنا ہو گئے۔ بعد ازاں انہوں نے قم کے حوزۂ علمیہ میں دینی تعلیم حاصل کی اور شیعہ فقہ و اصول کے طالب علم اور استاد کے طور پر اپنی شناخت بنائی۔

جنگ اور عسکری تجربہ

نوجوانی میں انہوں نے ایران۔عراق جنگ کے دوران پاسداران انقلابِ اسلامی ایران یا Islamic Revolutionary Guard Corps میں شمولیت اختیار کی اور محاذ پر خدمات انجام دیں۔ اس تجربے نے انہیں ایران کے انقلابی اور دفاعی اداروں کے ساتھ قریبی تعلقات استوار کرنے کا موقع فراہم کیا۔ بعد کے برسوں میں ان کے روابط پاسدارانِ انقلاب اور بسیج (Basij)ملیشیا کے حلقوں میں خاصے مضبوط سمجھے جاتے رہے۔

پردے کے پیچھے اثر و رسوخ

اگرچہ مجتبیٰ خامنہ ای نے طویل عرصے تک کوئی بڑا عوامی یا انتخابی عہدہ نہیں سنبھالا، لیکن انہیں ایران کے سیاسی نظام میں ایک بااثر اور طاقتور شخصیت سمجھا جاتا ہے۔ مبصرین کے مطابق وہ اپنے والد کے دورِ قیادت میں داخلی سیاست اور ریاستی اداروں کے درمیان ایک اہم رابطہ کار کے طور پر کردار ادا کرتے رہے۔

قیادت کا مشکل مرحلہ

ہفتہ،  27 فروری کو اسرائیلی حملے میں رہبرِ معظم علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد ایران کی قیادت کا سوال اچانک سامنے آ گیا۔اس کے بعد مجلسِ خبرگان نے مجتبیٰ خامنہ ای کو ملک کی اعلیٰ ترین مذہبی و سیاسی قیادت سونپ دی۔ بہت سے تجزیہ کاروں کے نزدیک ان کی قیادت اسلامی جمہوریہ کے سیاسی ڈھانچے میں تسلسل کی علامت ہے، جبکہ بعض حلقے اسے ایک نئی اور زیادہ سخت گیر سمت کی علامت بھی قرار دیتے ہیں۔

ایک نئے باب کا آغاز

ایران کے سیاسی نظام میں رہبرِ معظم کا منصب محض علامتی نہیں بلکہ انتہائی طاقتور اور فیصلہ کن حیثیت رکھتا ہے۔ یہ منصب ملک کی خارجہ پالیسی، دفاعی حکمت عملی اور اہم ریاستی اداروں کی نگرانی میں مرکزی کردار ادا کرتا ہے۔ مجتبیٰ خامنہ ایک ایک ایسے وقت میں ایران کی قیادت سنبھال رہے ہیں جب خطہ شدید کشیدگی کا شکار ہے۔ ان کی قیادت نہ صرف ایران کی داخلی سیاست بلکہ پورے مشرقِ وسطیٰ کی تزویراتی سمت پر بھی اثر انداز ہو سکتی ہے۔اسی لیے یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ مجتبیٰ خامنہ ای کی قیادت صرف ایک شخص کی تبدیلی نہیں بلکہ ایران کی سیاسی تاریخ میں ایک نئے باب کا آغاز ہے۔

صدر ٹرمپ کا ردعمل

صدر ٹرمپ نے جناب مجتبیٰ خامنہ ای کے تقرر کو مسترد کردیا ہے۔ انکا کا کہنا ہے کہ امریکہ کی منظوری کے بغیر ایران کا اگلا رہنما زیادہ دیر نہیں ٹک سکے گا۔ اس تکبر کو مسترد کرتے ہوئے ایرانی قائدین نے کہا کہ اگر کسی قوم کی قیادت کیلئے بیرونی توثیق لازمی قرار دی جائے تو پھر اسے جمہوریت نہیں قبضہ، غلامی اور نوآبادیات کا تسلسل کہتے ہیں۔ صدر ٹرمپ یہ نہ بھولیں کہ ایران قیام امریکہ کے ہزاروں سال پہلے سے ایک آزاد و خودمختار ریاست ہے ۔اسی کیساتھ اسرائیلی وزیر دفاع نے نئے رہبر معظم کو نشانے پر رکھنے کا اعلان کیا ہے۔

ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل کراچی 13 مارچ 2026



Thursday, March 5, 2026

 

رمضانِ محاصرہ

غزہ کا دوسرا جمعہ، جنگ کا پھیلتا دائرہ اور بدلتا عالمی بیانیہ

غزہ میں  برکت و رحمت اور حسنِ بندگی سے  مزین رمضان کا مہینہ محاصرے، بمباری اور بے گھری کے سائے میں گزر رہا ہے۔ مگر ایمان کی حرارت توپ و تفنگ سے سرد ہوتی نظر نہیں آتی۔ ملبے پر افطار اور نیم منہدم مساجد میں تراویح اس عزم کا اعلان ہیں کہ پرعزم معاشروں میں زندگی کا چراغ، چاہے ہوا کتنی ہی تیز کیوں نہ ہو، جلتا ہی رہتا ہے۔

ملبے پر افطار، اذان کے سائے میں استقامت

غزہ میں رمضان کا دوسرا جمعہ بھی بمباری اور ناکہ بندی کے درمیان گزر گیا، تاہم روایتی جوش و خروش میں کوئی کمی نہ آئی۔ کئی خاندان ملبے پر افطار کرنے پر مجبور ہیں اور بمباری سے متاثر مساجد میں تراویح کا سلسلہ بھی جاری ہے۔

جمعے کو عین سحری کے وقت خان یونس پر بمباری سے پانچ فلسطینی جاں بحق ہوگئے۔ خیموں میں لگنے والی آگ نے درجنوں خاندانوں کو بے گھر کر دیا۔ سر چھپانے کے لیے نئی جگہ کی تلاش خود ایک خطرناک سفر ہے۔ ملبے میں دبے نہ پھٹنے والے بم ایک مستقل خطرہ ہیں، مگر اس سے بڑا اندیشہ یہ ہے کہ نقل مکانی کرنے والے قافلوں کو مشتبہ قرار دے کر فائرنگ کا نشانہ نہ بنا دیا جائے۔

ہفتے بھر غزہ کے مختلف علاقوں میں فضائی اور زمینی حملوں کا سلسلہ جاری رہا۔ ٹینکوں سے گولہ باری اور ڈرون حملے روزمرہ کا منظر بن چکے ہیں۔

جنگ کا پھیلتا دائرہ: ایران اور خلیج کی گونج

اس ہفتے کے آخر میں ایران پر امریکہ اور اسرائیل کا مشترکہ حملہ ابلاغ عامہ پر چھایا رہا۔ عرب رائے عامہ خلیج میں جاری اس کشیدگی کو غزہ سے شروع ہونے والی اسرائیلی جارحیت کا تسلسل سمجھتی ہے۔ اقوام متحدہ میں عرب لیگ کے نمائندے ماجد عبدالعزیز نے سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس میں کہا کہ اسرائیل اس کشیدگی کو فلسطینی علاقوں پر قبضے کے خاتمے، آزاد فلسطینی ریاست کے قیام، دو ریاستی حل اور اقوام متحدہ میں فلسطین کی مکمل رکنیت کی راہ روکنے کے لیے استعمال کرنا چاہتا ہے۔

ایران پر عالمی توجہ کے باعث صدر ٹرمپ اور ان کی مجلسِ السلام (Board of Peace)نے بھی غزہ امن منصوبے کو پسِ پشت ڈال دیا  اور سفارتی سطح پر غزہ ایک بار پھر ثانوی حیثیت اختیار کرتا دکھائی دے رہا ہے۔

سفارتی محاذ پر غیر متوقع پیش رفت

سفارتی محاذ پر ایک غیر متوقع پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب تحریک آزادی فلسطین (PLO) کے سیکرٹری جنرل عزام الاحمد نے الشروق ٹیلی ویژن سے گفتگو میں کہا کہ “غزہ کے مزاحمت کار دہشت گرد نہیں ہیں اور ہم انہیں غیر مسلح کرنے کی حمایت نہیں کرتے۔

یہ بیان داخلی فلسطینی سیاست میں اہمیت کا حامل ہے، کیونکہ اس سے سیاسی و نظریاتی اختلاف کے باوجود ایک بنیادی نکتے پر ہم آہنگی کا اشارہ ملتا ہے۔

غربِ اردن: آبادیاں، آتش زنی اور انتقامی نعرے

غزہ کے ساتھ ساتھ غربِ اردن بھی مسلسل کشیدگی کا شکار ہے۔ الخلیل (Hebron) کے علاقے مسافر یطا پر حملے کے بعد درجنوں خاندان جنوب کی جانب نقل مکانی کرکے سوسیا پہنچے، مگر تعاقب کا سلسلہ نہ رکا۔ کئی مکانات اور گاڑیاں نذرِ آتش کر دی گئیں۔

کفر کنا میں عین افطار کے وقت ایک گھر کو ڈرون سے نشانہ بنایا گیا جس سے چار افراد زخمی ہوئے۔ رام اللہ کے مضافاتی علاقے المغیر میں کچے مکان منہدم کئےگئے اور مزاحمت پر فائرنگ سے دو نوجوان زخمی ہوگئے۔

نابلوس میں جامع مسجد ابوبکر صدیق کو آگ لگا دی گئی۔ جاتے ہوئے حملہ آوروں نے دیواروں پر عبرانی میں “נקמה עזה” (غزہ کا انتقام) تحریر کیا۔ یہ فقرہ اس نفسیاتی جنگ کی علامت ہے جس میں عبادت گاہیں بھی محفوظ نہیں رہیں۔

انتہا پسند عناصر اس قدر دلیر ہو چکے ہیں کہ فلسطینیوں کے حق میں آواز اٹھانے والے اسرائیلی شہری بھی نشانہ بن رہے ہیں۔جمعہ 27 فروری کو قصریٰ گاؤں میں دو اسرائیلی شہری، جو انہدام شدہ مکانات کی خبر سن کر وہاں پہنچے تھے، شدید زخمی کر دئے گئے۔

قبلۂ اول پر پابندیاں، مگر حاضری برقرار

مسجد اقصیٰ میں پابندیوں کا سلسلہ جاری ہے، مگر فلسطینی قبلۂ اول سے دستبردار ہونے کو تیار نہیں۔ رمضان کے دوسرے جمعے کو ایک لاکھ سے زائد فلسطینیوں نے نماز جمعہ ادا کی۔ سخت تلاشی اور طویل پوچھ گچھ کے باعث خواتین نے فجر کے بعد ہی چوکیوں پر قطاریں بنا لیں۔

دوسری طرف اسرائیلی ذرائع ابلاغ میں شائع تصاویر میں انتہا پسندوں کو احاطۂ اقصیٰ میں عبادت اور چہل قدمی کرتے دکھایا گیا، جو القدس کی مذہبی حیثیت سے متعلق جاری تنازع کو مزید گہرا کرتا ہے۔

بھارت میں اختلافی آوازیں

عالمی سطح پر فلسطینیوں کو بعض ممالک میں حزبِ اختلاف کی حمایت حاصل ہو رہی ہے۔ نریندرا مودی کے حالیہ دورۂ اسرائیل پر تنقید کرتے ہوئے  آل انڈیا کانگریس کے معتمد عام جئے رام رمیش نے کہا کہ موجودہ بھارتی حکومت نے فلسطینی عوام کو تنہا چھوڑ دیا ہے اور مؤثر سفارتی موقف اختیار نہیں کیا۔

انہوں نے یاد دلایا کہ 1988 میں بھارت نے فلسطین کو تسلیم کیا تھا اور اس روایت کو برقرار رکھا جانا چاہئےتھا۔ کانگریس کی سینئر رہنما پریانکا گاندھی نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ بھارتی وزیراعظم نے اسرائیلی قیادت سے ملاقاتوں کے دوران غزہ میں شہری ہلاکتوں اور انسانی بحران کا ذکر نہیں کیا۔

صحافت پر قدغن اور سچ کی نئی راہیں

غربِ اردن میں پانچ میڈیا پلیٹ فارموں پر پابندی عائد کر دی گئی ہے، جن میں العاصمہ نیوز، معراج نیٹ ورک، القدس کمپس، میدان القدس اور قدس پلس شامل ہیں۔ یہ اقدام اس بڑھتے ہوئے دباؤ کی علامت ہے جو مقامی صحافت پر ڈالا جا رہا ہے۔

روایتی میڈیا کی سرد مہری کے باوجود سوشل میڈیا کے ذریعے عام امریکیوں تک متبادل بیانیہ پہنچ رہا ہے۔ تازہ ترین گیلپ پول کے مطابق 41 فیصد امریکی فلسطین اور 36 فیصد اسرائیل کے ساتھ ہمدردی رکھتے ہیں۔ ریپبلکن ووٹروں میں اسرائیل کے حامیوں کا تناسب زیادہ ہے، جبکہ ڈیموکریٹس میں فلسطینیوں کی حمایت نمایاں طور پر بڑھی ہے۔ ایک سال پہلے امریکی رائے عامہ کا جھکاؤ زیادہ واضح طور پر اسرائیل کی جانب تھا۔

ایمان، سیاست اور تاریخ کا موڑ

غزہ میں رمضان کا دوسرا جمعہ یہ یاددہانی ہے کہ محض توپوں کی گھن گرج تاریخ کا فیصلہ نہیں کرتی۔ جنگ کا دائرہ خواہ ایران تک پھیل جائے یا عالمی سفارت کاری کے میزوں پر نئی صف بندیاں ترتیب پائیں، اصل سوال انسانی وقار، انصاف اور حقِ خود ارادیت کا ہے۔

ملبے پر افطار کرنے والے یہ خاندان شاید عالمی سیاست کے ایوانوں میں شمار نہ ہوں، مگر تاریخ کے اوراق میں ایسے ہی لوگوں کی استقامت جگہ پاتی ہے۔ طاقت کا توازن بدلتا رہتا ہے، مگر عوامی حافظہ اور اخلاقی سوال اپنی جگہ قائم رہتے ہیں۔ رمضان کا یہ پیغام بھی شاید یہی ہے کہ اندھیری رات کتنی ہی طویل کیوں نہ ہو، سحر کو روکنا کسی کے بس میں نہیں۔ کہ رات جب کسی خورشید کو شہید کرے ۔ توصبح اک نیا سورج تراش لاتی ہے

ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل کراچی 6 مارچ 2026

ہفت روزہ رہبر سرینگر 6 مارچ 2026


 

جب میزوں پر سفارت مر جائے

جنیوا کی مسکراہٹ سے بمباری تک — ایک سوالیہ منظرنامہ

جمعہ 27 فروری کو جنیوا میں مسودے کھلے،لہجے محتاط اور کیمرے تھکے ہوئے مذاکرات کاروں کی آنکھوں میں امید کی جھلک ڈھونڈ رہے تھے۔ ایرانی وزیر خارجہ سیدعباس عراقچی اور صدر ٹرمپ کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکاف نے ملاقات کے بعد اطمینان کا اظہار کیا۔ امریکہ کے دامادِ اول جیرڈ کشنر نے پراعتماد لہجے میں کہا ہم تنازعے کے حل کے قریب ہیں۔دنیا نے سمجھا شاید ایک اور بحران ٹل گیا۔

لیکن اگلے ہی دن فضا میں جنگی طیاروں کی گھن گرج تھی۔ سفارت کی میز پر رکھی فائل بند ہونے سے پہلے بارود نے گفتگو کا گلا گھونٹ دیا اور Epic Fury(قہرِ عظیم) کے عنوان سے متکبرانہ آپریشن بلکہ انسانیت کے قتل عام کا آغاز ہوگیا۔ صدر ٹرمپ کے قہر کا پہلا نشانہ ایرانی صوبے ہرموزگان کے شہر میناب میں لڑکیوں کا پرائمری اسکول بنا جہاں 140 کے قریب ننھی بچیاں اور انکی روزہ دار استانیاں اسکول کے ملبے تلے زندہ دفن ہوگئیں۔ اسی کیساتھ رہبرِ ایران ، 86 سالہ حضرت آئت اللہ سید خامنہ ای اپنی رہائش گاہ پر امریکہ اور اسرائیلی فضائیہ کی خوفناک بمباری سے بیٹی، داماد اور کم عمر نواسی کے ساتھ اپنے عقیدے پر قربان ہوگئے۔ یہ درس کربلا کا ہے کہ خوف بس خدا کا ہے۔

پہلا سوال: کیا یہ بین الاقوامی قانون کی روح کے خلاف ہے؟

اقوام متحدہ کے منشور کا آرٹیکل 2(4) طاقت کے استعمال کی ممانعت کرتا ہے، سوائے اس صورت میں کہ جب سلامتی کونسل اجازت دے یا براہِ راست دفاع درپیش ہو۔ یہاں تنازعے کے سفارتی حل پر نہ صرف گفتگو کامیابی سے جاری تھی بلکہ ایران و امریکہ دونوں معاملے کے جلد حل کے بارے انتہائی پرامید نظر آرہے تھے۔

یہ کاروائی امریکی قانون War Powers Resolution (1973) کی بھی صریح خلاف ورزی ہے کہ کسی ملک کے خلاف جنگ چھیڑنے سے پہلے کانگریس (پارلیمان) کو اعتماد میں لینا ضروری ہے۔ جنگیں صرف سرحدوں پر نہیں ہوتیں۔ مہذب دنیا میں یہ قوانین کی کتابوں میں بھی لڑی جاتی ہیں۔

دوسرا سوال: مقصد کیا ہے ،  سلامتی، جمہوریت یا نظام کی تبدیلی؟

امریکی صدر ڈانلڈ ٹرمپ نے ایران کی جوہری صلاحیتوں کے خاتمے اور ایک “آزاد، جمہوری ایران” کے قیام کو مقصد قرار دیا۔

یہاں تاریخ طنزیہ مسکراہٹ کے ساتھ سامنے آتی ہے۔ سات دہائی پہلے 1953 میں امریکی سی آئی اے اور برطانوی ٓ ٓM16 کی مشترکہ کاروائی کے نتیجے میں ایرانی تاریخ کے پہلے منتخب وزیر اعظم محمد مصدق کو معزول کیا گیا۔ اس وقت regime changeکا مقصد جمہوریت کی بساط لپیٹ کر شاہی اقتدار کو مضبوط کرنا تھا۔

آج دلیل بدلی ہوئی ہے یعنی مذہبی حکومت ہٹاکر جمہوری بندوبست قائم کیا جائے۔ سوال یہ ہے کہ کیا بیرونی عسکری مداخلت سے جمہوریت برآمد ہوتی ہے؟ عراق، لیبیا اور افغانستان کی مثالیں ابھی تاریخ کے گرد سے باہر نہیں آئیں۔ جبکہ وینیزویلا تو کل ہی کی بات ہے۔

تیسرا سوال: ایران کا جوہری باب — کہاں سے شروع ہوا؟

ایران نے جوہری توانائی کی تلاش 1957 میں امریکی تعاون سے شروع کی۔ اسوقت امریکی  صدر آئزن ہاور  کے “Atoms for Peace” پروگرام کے تحت تہران کو تیکنیکی معاونت فراہم کی گئی۔اسلامی بم کا شور اٹھنے پر 2015 میں ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان Joint Comprehensive Plan of Action (برجام) طے پایا۔ اس معاہدے کو نہ صرف اقوام متحدہ کی قرارداد 2231 کی تائید حاصل تھی بلکہ امریکی کانگریس نے بھی اسکی بھاری اکثریت سے توثیق کی، لیکن 2018 میں صدر ٹرمپ نے خود ہی امریکہ کو اس معاہدے سے علیحدہ کرلیا۔ گزشتہ سال 22جون کو فردو، نطنز اور اصفہان کی جوہری تنصیبات کو30 سے زیادہ بنکر بسٹر بم گراکر تباہ کردیاگیا۔اس تیشہِ نصف شب آپریش(Operation Midnight Hammer) کے بعد قوم سے خطاب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے فخر سے کہا کہ ایران کا جوہری پروگرام Obliterateیا خاک کردیا گیا۔اگر وہ دعویٰ درست تھا تو کریدتے ہو جو اب راکھ،  جستجو کیا ہے؟

چوتھا سوال: فلسطین، طاقت کا توازن اور بیانیہ

اس حملے کے محرکات پر سب سے اچھا تبصرہ اقوام متحدہ میں  عرب  لیگ کے نمائندے ماجد عبدالعزیز کا ہے۔ جنھوں نے  ایران کے مسئلے پر بلائی گئےسلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس میں کہا کہ اسرائیل اس کشیدگی کے ذریعے فلسطینی علاقوں پر اپنے قبضے کے خاتمے سے گریز، ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام،  دو ریاستی حل اور بین الاقوامی قانونی اصولوں کے نفاذ کے تحت اقوامِ متحدہ میں فلسطین کی رکنیت کی راہ میں رکاوٹ ڈالنا چاہتا ہے۔یہ موقف ایک بڑے جغرافیائی بیانیے کی عکاسی کرتا ہے، جس میں ایران کا مسئلہ فلسطین اور اسرائیل کی سلامتی کے مباحث سے جڑا ہوا نظر آرہا ہے۔

پانچواں سوال: کیا ایران کی تقسیم کا کوئی منصوبہ ہے؟

ایران کی نئی صورت گری کے بارے میں امریکہ اور اسرائیلی منصوبے  میں اختلاف نظر آتاہے۔ صدر ٹرمپ ایک آزاد و خودمختار جمہوری ایران چاہتے ہیں جبکہ نیتن یاہو نے حملے کے آغاز پر ایرانیوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا 'ائےاہلِ فارس، کردو، آذریو، بلوچو اور اہوازیو کھڑے ہوجاو'۔اسرائیل سے خبریں آرہی ہیں کہ ایران کو  پانچ خودمختار ممالک یعنی فارس،  کردستان، ایرانی آذربائیجان، بلوچستان اور اہواز میں تقسیم کردیا جائیگا۔

چھٹا سوال: یہ جنگ ہے یا سارے علاقے میں وحشت کا ناچ؟

جمعہ 28 فروری کو شروع ہونے والی خونریز جنگ اب تک جاری ہے۔ امریکہ اور اسرائیلی طیارے سارے ایران پر بمباری اور خلیج  میں تعینات امریکہ جہاز میزائیل برسارہے ہیں امریکیوں کے مطابق ان حملوں کا ہدف ایران کی عسکری تنصیات خاص طور سے ایرانی بحریہ اور میزائل لانچرز ہیں لیکن ایرانیوں کا کہنا ہے کہ حملے میں ہزاروں شہری مارے گئے۔جواب میں ایران نے اسرائیل کے مختلف شہروں کے ساتھ متحدہ عرب امارات، کوئت، سعودی عرب، بحرین، قطر اور عُمان میں امریکہ کے فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا۔ اسرائیلی دارالحکومت اور یروشلم میں ایرانی میزائیل حملوں میں کئی شہری ہلاک ہوئے۔علاقے میں فضائی ٹریفک معطل ہے اور پروازیں منسوخ ہونے کی وجہ سے لاکھوں مسافر پھنسے ہوئےہیں۔

پاکستان اور خطے کا کڑا امتحان

پاکستان پہلے ہی سرحدی اور داخلی دباؤ کا سامنا کر رہا ہے۔ بلوچستان میں شورش، افغانستان کی غیر یقینی صورتحال اور گوادر بندرگاہ کی تزویراتی اہمیت کے علاوہ چین کا Belt and Road Initiative جنوبی ایشیا کو عالمی جغرافیائی سیاست کے مرکز میں لے آیا ہے۔ ایران کے حصے بخرے اور سرحد پر ایک آزاد بلوچ ریاست کاقیام، اسلام آباد کے دردِ سر میں اضافے کے ساتھ سارے علاقے کو  عدم استحکام میں مبتلا کرسکتا ہے

بارود کا مختصر شور اور تاریخ کی طویل گونج

جنگی طیارے چند منٹوں میں اہداف تباہ کر سکتے ہیں، مگر قوموں کے شعور کو نہیں۔سفارت کی شکست عارضی جوش کو جنم دیتی ہے، مگر پائیدار امن صرف سیاسی تدبر سے آتا ہے۔ایران کی سرزمین پر گرنے والا ہر بم مشرقِ وسطیٰ کے مستقبل پر ایک سوالیہ نشان ثبت کر رہا ہے۔کیا امریکہ اور اسرائیل کی  مشترکہ جارحیت، استحکام و  سلامتی کا راستہ کھولے گی یا اپنے نام کی طرح  یہ آپریشن علاقے پر مداخلت، مزاحمت اور عدم استحکام کی شکل میں قہرِ عظیم نازل کریگا؟؟؟

ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل کراچی 6 مارچ 2026