Thursday, October 15, 2026

 

یمن سعودی تنازعہ : پاکستان کے لئے آزمائش

ایران، حوثی اور سعودی عرب کی کشمکش میں اسلام آباد کا راستہ کیا ہو؟

مشرقِ وسطیٰ میں سیاسی و نظریاتی صف بندی نئی نہیں۔ سرد جنگ کے زمانے میں مصر، شام، عراق اور جنوبی یمن کے سوویت یونین سے قریبی تعلقات تھے، جبکہ خلیجی بادشاہتیں امریکہ کے قریب تھیں۔ اس کے باوجود اسرائیل کے معاملے میں عرب ممالک کے درمیان اتفاق پایا جاتا تھا۔ سوویت یونین کے خاتمے، مصر اسرائیل امن معاہدے اور بعد کے علاقائی تغیرات نے یہ صورتِ حال بدل دی۔ تیونس سے 2010 میں شروع ہونے والی عرب بہار (Arab Spring)نے آمریت کے خلاف عوامی بیداری پیدا کی، لیکن شام اور یمن سمیت کئی ملکوں میں یہ تحریک فرقہ واریت، خانہ جنگی اور بیرونی مداخلت کی نذر ہوگئی۔

یمن: مقامی تنازع، علاقائی جنگ

شمالی اور جنوبی یمن کے 1990ء میں انضمام کے باوجود سیاسی اور علاقائی اختلافات ختم نہ ہوسکے۔ انصار اللہ، المعروف حوثی تحریک کی جڑیں شمالی یمن میں ہیں۔یمن انضمام کے بعد 2004ء حوثیوں کی مسلح بغاوت کا آغاز ہوااور 2014ء میں دارالحکومت صنعا پر قبضے کے بعد تنازع وسیع خانہ جنگی میں بدل گیا۔سعودی قیادت میں خلیجی ممالک نے یمن میں استحکام کیلئے اتحادی فوج تشکیل دی اور پاک فوج کے سابق سربراہ جنرل راحیل شریف اسکے سپہ سالارمقرر ہوئے۔ اس جنگ نے لاکھوں افراد کو بے گھر کیا اور یمن کی معیشت و معاشرت کو تباہ کن نقصان پہنچایا۔ غزہ جنگ کے آغاز پر حوثیوں نے اسرائیل اور بحیرۂ احمر میں جہاز رانی کو نشانہ بنایا، لیکن ان کی کارروائیوں کے علاقائی اثرات فلسطین سے کہیں آگے تک پہنچے ہیں۔

الاصلاح، عبدالمجید زندانی اور جامعہ الایمان

یمن کی اس کشمکش کا ایک اہم پہلو حوثیوں اور ان کے مخالفین کے درمیان طاقت کا عدم توازن ہے۔ حوثیوں کی پیش قدمی نے یمن کی اسلامی تحریک الاصلاح کو بھی شدید نقصان پہنچایا، اگرچہ جماعت مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی لیکن اس کے قائد شیخ عبدالمجید زندانی اور نوبل انعام یافتہ محترمہ توکل کرمان اور دوسرے رہنماوں کو جلاوطن ہونا پڑا۔ حالانکہ الاصلاح نے یمن میں سعودی مداخلت کی شدت سے مذمت کی تھی جسکی پاداش میں سیاسی پناہ گزیں زندانی صاحب سعودی عرب سے نکال دئے گئے۔

زندانی کی قائم کردہ جامعہ الایمان صنعا میں تعلیم کا نمایاں مرکز تھی، جہاں اسلامی علوم کے ساتھ جدید مضامین بھی پڑھائے جاتے تھے۔ حوثیوں کے دارالحکومت پر قبضے کے بعد جامعہ ان کے کنٹرول میں آگئی اور اس کی تعلیمی سرگرمیاں متاثر ہوئیں۔ اس طرح یمن کی جنگ نے صرف حکومت اور علاقائی طاقتوں کو نہیں، بلکہ ملک کے سیاسی اور تعلیمی اداروں کو بھی گہرے بحران میں دھکیل دیا۔

آبنائے ہرمز سے باب المندب تک

ایران پر اسرائیل اور امریکہ کے حملے میں انصاراللہ نے ایران کی حمائت کی اور سعودی عرب میں امریکی اڈوں پر راکٹ برسائے۔ ایران نے اس جنگ کو جدید اسلحہ بمقابلہ جغرافیہ و عالمی اقتصادیات میں تبدیل کرکے آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل کو مشکل کردیا۔ سعودی عرب نے آبنائے ہرمز کو مخدوش دیکھ کر اپنی ایسٹ ویسٹ پائپ لائن کے ذریعے آبنائے باب المندب کے راستے ایشائی صارفین کو تیل کی فراہمی شروع کردی۔ اس راستے کو مسدود کرنے کیلئے حوثیوں نے آبنائے باب المندب اور بحیرہ احمر سے گزرنے والے تیل ٹیکروں کیساتھ سعودی ریفاننری اور تیل پائپ لائن کو نشانہ بنایا۔

تاہم حوثیوں کو ایران کا بے اختیار آلہ سمجھنا درست نہیں۔ تہران سے ان کے قریبی تعلقات اور عسکری مدد کے شواہد موجود ہیں، لیکن ان کے اپنے یمنی مفادات اور فیصلے بھی ہیں۔ ایران نے سعودی عرب اور حوثیوں کے تنازعے کے سفارتی حل کی حمایت کا اظہار کیا ہے۔ اس لیے تہران کے مؤقف اور حوثیوں کے ہر اقدام کو ایک ہی چیز نہیں سمجھا جاسکتا ۔

مکہ دفاعی معاہدہ اور پاکستان کا مخمصہ

اگست 2026ء میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ نے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ کیا، جس میں ایک رکن پر مسلح حملے کو تینوں کے خلاف حملہ سمجھنے کی شق شامل ہے۔ حوثیوں کے حملوں کے بعد اس معاہدے کے تحت مشترکہ دفاعی اقدامات پر اتفاق نے پاکستان کو آزمائش میں ڈال دیا ہے۔ سعودی عرب پاکستان کا قریبی دوست ہے تو ایران ہمسایہ جسکے ساتھ سرحدی سلامتی، تجارت اور علاقائی استحکام کے معاملات بھی وابستہ ہیں۔ دوسری طرف ترکیہ کے ایران سے سفارتی اور معاشی تعلقات ہیں، جبکہ پاکستان کے افغانستان اور بھارت سے اختلافات کے باوجود سعودی عرب اور ترکیہ کے ان دونوں ملکوں سے قریبی تعلقات ہیں۔

لہٰذا اس معاہدے کو نیٹو کی مکمل نقل سمجھنا مناسب نہیں اسلئے کہ تینوں ممالک کے مفادات بہت سے معاملات میں مختلف ہیں۔چنانچہ حوثیوں کے خلاف زمینی جنگ میں پاکستان کی شرکت کو معاہدہِ مکہ کا قانونی و اخلاقی تقاضہ قرار نہیں دیا جاسکتا۔ پاکستان اگر یمن میں براہِ راست جنگ کا حصہ بنتا ہے تو ایران سے تعلقات متاثر ہونے، داخلی فرقہ وارانہ کشیدگی بڑھنے اور پاکستانی معیشت پر مزید دباؤ پڑنے کا خطرہ ہے۔ اس کے برعکس سعودی عرب کی سلامتی سے لاتعلقی بھی دوطرفہ اعتماد کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔

حل: دفاعی تعاون، مگر جنگ سے گریز

پاکستان کے لیے بہتر راستہ یہی ہے کہ وہ سعودی عرب کے دفاع میں واضح تعاون کرے، مگر اپنی عملی ذمہ داریوں کو دفاعی نوعیت تک محدود رکھنے کی کوشش کرے۔ فضائی دفاع، انٹیلی جنس کے تبادلے، شہری تنصیبات اور جہاز رانی کے تحفظ میں تعاون ممکنہ راستے ہیں۔ کسی جارحانہ کارروائی یا زمینی جنگ میں شرکت کا فیصلہ پارلیمانی و کل جماعتی غور و فکر کا متقاضی ہے۔ ساتھ ہی اسلام آباد کو تہران، ریاض اور انقرہ کے درمیان مسلسل رابطہ برقرار رکھنا چاہیے اور عمان و چین جیسے سفارتی کردار ادا کرنے والے ممالک کے ساتھ مل کر جنگ بندی اور مذاکرات کی کوشش کرنی چاہیے۔ باب المندب اور بحیرۂ احمر میں جہاز رانی کا تحفظ بھی کسی ایک ملک کے خلاف جنگی مہم کے بجائے وسیع علاقائی تعاون سے زیادہ پائیدار ہوسکتا ہے۔

دوست کا دفاع، ہمسائے سے دشمنی نہیں

پاکستان کو سعودی عرب کی سلامتی اور ایران کے ساتھ پُرامن ہمسائیگی میں سے کسی ایک کو چننے پر مجبور نہیں ہونا چاہیے۔ دانش مندی یہ ہے کہ دفاعی ذمہ داریوں کو سفارت کاری کا متبادل نہ بنایا جائے۔ یمن کی تاریخ بتاتی ہے کہ بیرونی عسکری مداخلت تنازع کو طویل کرسکتی ہے، جبکہ مذاکرات اور علاقائی مفاہمت ہی پائیدار امن کی بنیاد بن سکتے ہیں۔ پاکستان کا مفاد اسی میں ہے کہ وہ اپنے اتحادی کی حفاظت میں مدد دے، مگر خود ایک ایسی جنگ میں نہ الجھے جس کا کوئی واضح اختتام نظر نہیں آتا۔

ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل کراچی 16 اکتوبر 2026


 

غزہ جنگ بندی کی پہلی برسی

 طبی اخلاقیات ،سفارت کاری اور بین الاقوامی قانون کی آزمائش

غزہ پر مسلط جنگ کے تین سال مکمل ہونے کے تین دن بعد، 10 اکتوبر کو جنگ بندی کی پہلی برسی اسرائیلی فوج  نے  ایک بچے سمیت کم از کم سات افراد کو قتل کرکے منائی۔ یہاں تباہ شدہ بنیادی ڈھانچے کے ساتھ پانی کی شدید قلت بھی انسانی المیے کو بڑھا رہی ہے۔ بار بار کی نقل مکانی میں پانی ذخیرہ کرنے کے ڈرم اور بڑے برتن ضائع ہوچکے ہیں؛ بہت سے خاندان بالٹیوں میں پانی جمع کرنے پر مجبور ہیں۔ پانی کے ٹرکوں کے قریب خیمے لگانا، پانی ڈھونے سے آسان ہوچکا ہے۔ یوں بے گھر خاندان پانی کی دستیابی کے ساتھ اپنی عارضی پناہ گاہیں بھی بدلتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اہلِ غزہ کی مہاجرت کا المیہ 1948ء سے جاری ہے۔

سات اکتوبر: ہینی بال حکمنامے کا سوال

سات اکتوبر 2023ء کے واقعات کی تیسری برسی پر ایک اہم سوال زیرِ بحث ہے کہ  اسرائیلی شہریوں کی ہلاکتوں میں فوجی کارروائیوں کا کیا کردار تھا؟ اقوام متحدہ تحقیقاتی کمیشن کے مطابق اس روز حماس کے حملوں میں 809 اسرائیلی شہری ہلاک ہونے۔ اسی رپورٹ میں ہینی بال حکمنامے (Hannibal Directive) کے ممکنہ استعمال کے شواہد بھی درج ہیں۔ یہ حکمنامہ اغوا کی کوشش ناکام بنانے کے لیے ایسی فوجی کارروائیوں سے متعلق ہے جن میں مغوی کی جان کو بھی خطرہ لاحق ہوسکتا ہے۔ کمیشن نے ایک اسرائیلی ٹینک کے عملے کے بیان سمیت ایسے واقعات کا ذکر کیا جن میں فوجی کارروائی سے یرغمال بنائے گئے اسرائیلی شہریوں کی ہلاکت کا امکان سامنے آیا۔ اگر حماس کے حملے میں 809 شہری مارے گئے تو اسرائیلی دعوے کے مطابق جو ہزاروں لوگ مارے گئے، کیا وہ  اسرائیلی فوج کی Hannibal حکمت عملی کا نشانہ بنے؟؟؟ان شواہد کی مکمل اور غیر جانب دارانہ تحقیقات ضروری ہیں۔

غربِ اردن: بے دخلی اور قبضہ گردوں کے حملے

غربِ اردن میں فلسطینی خاندانوں کی بے دخلی، اسرائیلی فوج کی موجودگی یا سرپرستی میں قبضہ گردوں کے حملے، فصلوں کی تباہی اور مویشیوں پر قبضے  کاسلسلہ جاری ہے۔رام اللہ کے گاوں دیر ابو مشعل میں بہت سے فلسطینی خاندانوں کو بے گھر کردیا گیا۔ رام اللہ کے ایک اور گاوں دیر نظام میں اسرائیلی آبادکاروں نے گاڑیوں کو آگ لگادی۔ شمالی یروشلم کے قریب جبع گاوں میں بھی فلسطینیوں کے مکانات منہدم اور گاڑیاں نذرِ آتش کردی گئیں۔ نابلوس کے گاوں برقہ میں مسلح قبضہ گردوں نے فوج کی سرپرستی میں 44 سالہ علی البزاری کو اسکے بچے کے سامنے قتل کردیا۔ ایسے واقعات صرف ایک خاندان کو نہیں توڑتے، بلکہ بچوں کے ذہنوں پر بھی گہرے اور دیرپا اثرات چھوڑتے ہیں۔

زیتون کے باغات: شناخت کو مٹانے کا خطرہ

غرب اردن میں زیتون کی فصلوں اور باغات کی تباہی کا منظم سلسلہ ایک عرصے سے جاری ہے۔انتہاپسندوں کے خیال میں زیتون،  فلسطین کی شناخت ہے جس کو مٹا نا نسلی تطہیر کا حصہ سمجھا جارہا ہے۔ اب زیتون سے نفرت کا دائرہ جنوبی لبنان تک وسیع کردیا گیا ہے۔زیتون کی کاشت کیلئے مشہور جنوبی لبنان کے علاقے خیام میں  گزشتہ چند ماہ کے دوران 24کروڑ ڈالر مالیت کی فصلیں غارت کردی گئیں اور 11 اکتوبر کو اسی علاقے میں بنتِ جبیل کے گاوں فرون اور یاطر پر زیتون کی کٹانی کے دوران اسرائیلی ٹینکوں سے گولہ باری نے  دو افراد کی جان لے لی

جب مسیحا ہی زخم دینے والوں کے ساتھی بن جائیں

اسرائیلی حراستی مرکز سدی تیمان (Sde Teiman) میں فلسطینی قیدیوں کے ساتھ مبینہ تشدد، بدسلوکی اور طبی غفلت کے معاملے پر ہند رجب فاؤنڈیشن نے بین الاقوامی فوجداری عدالت (ICC) کے  مستغیث (پراسیکیوٹر) سے تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ فاؤنڈیشن کی درخواست میں اسرائیلی ڈاکٹروں، طبی اداروں اور متعلقہ حکام کے کردار کی جانچ کی استدعا کی گئی ہے۔ اس میں علاج کے دوران ہتھکڑیاں اور آنکھوں پر پٹی باندھنے، درد کش ادویات کے بغیر جراحی اور طبی نگرانی میں مبینہ بدسلوکی جیسے الزامات شامل ہیں۔

فاونڈیشن نے نام لے کر اسرائیلی میڈیکل ایسوسی ایشن کے سربراہ پروفیسر زائن ہیگے (Zion Haggay)کو نامزد کیا اور عالمی میڈیکل فاونڈیشن (WMA)سے مطالبہ کیا ہے کہ IMAکی رکنیت معطل کرکے اسکے وفد کو ڈاکٹروں کے عالمی کنونشن سے نکالا جائے۔یہ اجلاس اجکل ہالینڈ کے شہر روٹیرڈیم میں ہورہا ہے۔ معاملہ صرف فلسطینی قیدیوں کے ساتھ مبینہ سلوک کا نہیں،  یہ اس بنیادی اصول کا امتحان ہے کہ طب کا پیشہ تشدد کا سہولت کار نہیں، انسانیت کا محافظ ہونا چاہئے۔ اگر مسیحا ہی زخم دینے والوں کے ساتھی بن جائیں تو مظلوم، مرہم کے لئے کس دروازے پر دستک دے؟

امریکی سفارت کاری: کیا واشنگٹن تک مکمل حقائق پہنچ رہے ہیں؟

مسیحاوں کے ساتھ سفارتکار بھی امتیازی سلوک میں سہولت کار بنتے نظر آرہے ہیں۔ نیویارک ٹائمز کی ایک تازہ رپورٹ کے مطابق یروشلم کے امریکی سفارتخانے میں اسرائیلی اقدامات سے متعلق تیار کی جانے والی بعض رپورٹوں کو ڈیوڈ ملسٹین (David Milistein)نامی ایک اعلیٰ امریکی سفارتی معاون نے روک دیا، تبدیل کیا یا اس انداز میں دوبارہ لکھا کہ اسرائیلی حکومت زیادہ مثبت دکھائی دے۔ حتیٰ کہ مغربی کنارے میں اسرائیلی بستیوں میں غیر معمولی توسیع سے متعلق ایک ہنگامی رپورٹ واشنگٹن بھیجی ہی نہیں گئی۔ ایک اور معاملے میں امریکی سفارتخانے کے عملے نے فلسطینی نژاد امریکی شہریوں کی ہلاکتوں سے متعلق تفصیلی رپورٹ تیار کی، لیکن ملسٹین صاحب نے اسے بھی آگے بڑھنے سے روک دیا۔سفارتی اہلکار کی جانب سے اہم معلومات کو امریکی فیصلہ سازوں تک پہنچنے سے روکنامحض رپورٹ نویسی کا معاملہ نہیں، اس سے خارجہ پالیسی کی تشکیل اور سرکاری معلومات کی دیانت داری متاثر ہوسکتی ہے۔ امریکی عوام کو یہ جاننے کا حق ہے کہ ان کے نام پر فیصلے کرتے وقت فیصلہ سازوں کو مکمل حقائق فراہم کئے جارہے ہیں یا نہیں۔

بین الاقوامی فوجداری عدالت اور طاقتور ریاستوں کا رویہ

اس مہمل سفارتکاری کی وجہ امریکی وزارت خارجہ کا متعصبانہ رویہ ہے جس نے بین الاقوامی فوجداری عدالت (ICC) پر وسیع پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کیاہے۔ یہ اقدام جنوبی افریقہ کی ممتاز قانون دان اور سابق جج ڈاکٹر نیوی پلّے کو نوبل امن انعام ملنے کے چند گھنٹے بعد سامنے آیا۔ پلّے اقوام متحدہ کے اس تحقیقاتی کمیشن کی سربراہ رہ چکی ہیں جس نے غزہ میں اسرائیلی اقدامات کو نسل کشی قرار دیا تھا۔ امریکہ اور اسرائیل نے ان الزامات اور عدالت کے اقدامات کی مخالفت کی ہے۔امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے عدالت کو “Rogue” یعنی بدمعاش کورٹ قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ اس کے ساتھ لین دین روک کر اس کے وسائل اور کام کرنے کی صلاحیت محدود کرے گا۔واشنگٹن کا مؤقف ہے کہ امریکہ نے منشورِ روم کی توثیق نہیں کی اور وہ امریکی شہریوں، فوجیوں یا سیاسی رہنماؤں پر ایسی عدالت کا اختیار تسلیم نہیں کرتا۔ کسی عدالت کے فیصلے سے اختلاف کرنا ہر ایک کا حق ہے اور عدالت کے قانونی اختیار پر اعتراض بھی درست، لیکن اگر ہر ریاست اپنی ناپسندیدہ تحقیقات یا فیصلے کے جواب میں عدالت کو معاشی دباؤ کے ذریعے مفلوج کرنے لگے تو بین الاقوامی انصاف کا نظام کس طرح کام کرے گا؟

یہودیت اور صیہونیت: ایک مذہبی رہنما کا اختلاف

اسرائیل کے ممتاز حریدی ربائی (امام) ڈوو لانڈو (Rabbi Dov Lando) نے کہا ہے کہ یہودیت اور صیہونیت کو ایک ہی چیز سمجھنا تاریخی اور مذہبی طور پر درست نہیں۔ حریدی سیاسی جماعت Degel HaTorah کے روحانی رہنما، صیہونیت پر سخت تنقید کرتے ہوئے یہاں تک کہہ گئے کہ اگر اسرائیلی ریاست کے بجائے یہاں اقوام متحدہ یا عرب حکمرانی ہوتی تو حالات بہتر ہوسکتے تھے۔ ربائی صاحب نے دو ٹوک اندااز میں کہا ’’صیہونیت نے ہمیں عربوں سے نفرت کرنا سکھایا‘‘ اور اس تحریک نے یہودی قوم پر ’’جسمانی تباہیاں‘‘ بھی مسلط کیں۔ اسرائیلی انتہا پسندوں نے یہودی مذہب اور صیہونی سیاست کو گڈ مڈ کردیا ہے۔ حالانکہ یہودیت ایک مذہبی و تہذیبی شناخت اور صیہونیت ایک جدید سیاسی تحریک ہے۔ ہر یہودی ، صیہونی ہے اور نہ ہر صیہونی لازماً یہودی ۔ خود اسرائیل کے حریدی مذہبی حلقوں میں صیہونیت اور ریاست کے قیام کی مذہبی تعبیر سے اختلاف کی ایک طویل روایت موجود ہے۔ ربائی لانڈو کی موجودہ گفتگو میں بھی مذہبی صیہونیت سے ان کا اختلاف نمایاں ہے۔ انہوں نے اسرائیلی فوج میں خدمات انجام دینے والے صیہونی نوجوانوں پر بھی تنقید کی اور کہا کہ فوج کے ربائی انہیں ’’تحریف شدہ توریت‘‘ سکھاتے ہیں۔

غیر جانبدار علمائے سیاست ایک عرصے سے اسرائیل کو یہودی کے بجائے انتہا پسند و نسل پرست صیہونی ریاست کہہ رہے ہیں۔ اور اب یہودی ربائی نےخود یہ کہہ دیا کہ صیہونیت نے یہودیوں کے لیے جسمانی تباہیاں پیدا کیں اور عربوں کی دشمنی میں اضافہ کیا ۔ یعنی صیہونیت کو یہودیت کا مترادف قرار دینا خود یہودی مذہبی حلقوں کے ایک بڑے حصے کے مؤقف کی عکاسی نہیں کرتا اور اور شاید یہی اس بحث کا سب سے اہم پہلو ہے۔

فلسطینی انتخابات کا التوا

فلسطین کے پارلیمانی انتخابات ملتوی کردئے گئے، قانون ساز اسمبلی کیلئے 28 نومبر کو ووٹ ڈالے جانے تھے۔ حکام نے غزہ کی غیر یقینی صورتِ حال، اسرائیلی فوج کی موجودگی، سلامتی کے مسائل اور انتخابی عمل کے لئے درکار انتظامات میں رکاوٹوں کو فیصلے کی وجوہ میں شمار کیا ہے۔فلسطین میں آخری انتخابات 2006 میں ہوئے جس میں حماس نے بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل لیکن اسرائیل اور امریکہ کی شدید مخالفت کی بناپر محمود عباس نے وزیراعظم اسماعیل ہانیہ کی حکومت صرف پندرہ ماہ بعد معزول کرکے اسمبلی تحلیل کردی تھی۔ تقریباً دو دہائیوں سے نئے پارلیمانی انتخابات نہ ہونے کے باعث فلسطینی عوام کی جمہوری نمائندگی اور سیاسی جواب دہی معطل ہے۔ انتخابات کے مسلسل التوا نے اس بحران کو مزید گہرا کردیا ہے۔

غزہ میں جنگ بندی کی برسی پر شہریوں کی ہلاکتیں، غربِ اردن میں بے دخلی اور حملے، قیدیوں کے ساتھ مبینہ بدسلوکی، سفارتی رپورٹوں پر دباؤ اور بین الاقوامی عدالتوں کے اختیار پر تنازع ایک ہی بنیادی سوال کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ کیا انسانی حقوق اور قانون کی حکمرانی کا اصول سب کے لئے یکساں ہے؟ جنگ بندی کا مقصد محض بمباری میں کمی نہیں، بلکہ انسانی جانوں کا تحفظ، بنیادی ضروریات کی فراہمی، ذمہ داروں کا احتساب اور ایک پائیدار سیاسی حل کی راہ ہموار کرنا بھی ہے۔ جب تک فلسطینیوں کو تحفظ، انصاف اور اپنی سیاسی تقدیر کے تعین کا حقیقی موقع نہیں ملتا، امن کے دعوے ادھورے رہیں گے۔

ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل کراچی 16 اکتوبر 2026

ہفت روزہ دعوت دہلی 16 اکتوبر 2026

ہفت روزہ رہبر، سرینگر  18 اکتوبر 2026


 

امریکی وسط مدتی انتخابات

جنگ، مہنگائی، تارکینِ وطن کی پالیسی اور اسرائیل  ۔۔ اہم انتخابی نکات

امریکہ میں ان دنوں وسط مدتی انتخابات کی گہماگہمی ہے۔تین نومبر کو ہونے والے انتخابات میں ایوانِ نمائندگان کی تمام 435 اور سینیٹ کی 35 نشستوں کے لئے ووٹ ڈالے جائیں گے۔ان انتخابات کے نتائج، صدر ٹرمپ کی باقی ماندہ مدتِ صدارت کے لئے قانون سازی اور حکومتی نگرانی کے امکانات پر اثر انداز ہوں گے۔ اسی روز 26 ریاستوں میں گورنروں اور ریاستی و مقامی سطح پر بھی کئی اہم انتخابات ہوں گے۔انتخابی معرکے کا تجزیہ کرنے سے پہلے امریکی انتخابی نظام کے چند بنیادی پہلو سمجھ لینا مفید ہوگا، کیونکہ یہاں وفاقی، ریاستی اور مقامی انتخابات کے قواعد اور اختیارات میں نمایاں فرق پایا جاتا ہے۔

وفاق اور ریاستیں: اختیارات کی تقسیم

امریکہ پچاس ریاستوں پر مشتمل ایک وفاق ہے جہاں کرنسی، بین الاقوامی تعلقات اور دفاع کے علاوہ تمام اختیارات ریاستوں (صوبوں) کے پاس ہیں۔یہاں انتخابات کا انتظام چونکہ ریاستوں کی ذمہ داری ہے اور وفاق کو مداخلت کا کوئی حق نہیں اسلئے مختلف ریاستوں میں حلقہ بندی، ووٹر رجسٹریشن اور ووٹ ڈالنے کے طریقہ کار بھی ایک جیسے نہیں اور اس ضمن میں کئی جگہ مطلوبہ نتائج کیلئے جماعتی مداخلت بہت واضح ہے۔صرف چھ ریاستوں میں ایوان نمائندگان کی حلقہ بندی کیلئے آزادوخودمختار کمیشن قائم کئے گئے ہیں اور باقی اکثر ریاستوں میں حلقہ بندی کا کام ریاستی مقننہ (صوبائی اسمبلی) کی ذمہ داری ہے۔ حلقہ بندی کرتے وقت اکثریت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اس انداز میں حلقے تراشے جاتے  ہیں کہ مخالفین کے ووٹ بینک کو غیر موثر کیا جاسکے۔اس حکمت عملی کو پارلیمانی اصطلاح میں Gerrymandering  کہتے ہیں۔

وسط مدتی انتخابات کیوں کہلاتے ہیں؟

امریکہ میں کانگریس کے عام انتخابات ہر دو سال بعد، نومبر کے پہلے پیر کے بعد آنے والے منگل کو ہوتے ہیں۔ صدر کی مدتِ صدارت چار سال ہے، ایوانِ نمائندگان کے ارکان دو سال کے لئے منتخب ہوتے ہیں جبکہ سینیٹرز کی مدت چھ سال ہے۔ صدر ٹرمپ 2024 کے صدارتی انتخابات میں کامیاب ہوئے تھے۔ چونکہ 2026 کے کانگریسی انتخابات ان کی مدتِ صدارت کے درمیان میں ہورہے ہیں، اس لئے انہیں Midterm Elections، یعنی وسط مدتی انتخابات کہا جاتا ہے۔ وسط مدتی  انتخابات کو صدر کی کارکردگی، پالیسیوں اور عوامی مقبولیت کے بارے میں ایک اہم سیاسی اشارہ سمجھا جاتا ہے۔

صرف کانگریس نہیں، مقامی عہدے بھی اہم ہیں

ایک اور اہم بات کہ ریاستی ، کاونٹی اور شہری عدلیہ کے جج، اٹارنی جنرل، محتسب (کمپٹرولر)، پولیس کمشنر، شیرف (ایس ایچ او) اور اسکول بورڈ سمیت شہری انتطامیہ بھی منتخب ہوتی ہے۔ اسکے علاوہ اہم معاملات پر عوام کی رائے بھی لی جاتی ہے جسے Prepositionکہتے ہیں تاہم اسکی حیثیت ریفرنڈم کے بجائے مشورے کی ہے۔

ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ

امریکی کانگریس کے دو ایوان ہیں۔ ایوانِ نمائندگان میں نشستوں کی تعداد آبادی کے تناسب سے مقرر ہوتی ہے۔ یہ ایوان 435 ارکان پر مشتمل ہے اور ہر رکن اپنے انتخابی حلقے کی نمائندگی کرتا ہے۔ اس اعتبار سے یہ پاکستان کی قومی اسمبلی اور بھارت کی لوک سبھا سے کسی حد تک مشابہ ہے۔ سینیٹ (راجیہ سبھا) میں تمام پچاس ریاستوں کو مساوی نمائندگی حاصل ہے اور ہر ریاست سے دو سینیٹر منتخب ہوتے ہیں، خواہ اس کی آبادی کتنی ہی کم یا زیادہ ہو۔ اس طرح سینیٹ کے کل ارکان کی تعداد 100 ہے۔ تسلسل برقرار رکھنے کے لیے سینیٹرز کی چھ سالہ مدت اس انداز میں تقسیم کی گئی ہے کہ ہر دو سال بعد تقریباً ایک تہائی نشستوں پر انتخابات ہوں۔

تین نومبر کو سینیٹ کی 35 نشستوں کے لیے ووٹنگ ہوگی۔ ان میں 33 نشستیں معمول کے انتخابی دور کا حصہ ہیں، جبکہ فلوریڈا اور اوہائیو کی دو نشستوں پر خصوصی انتخابات ہورہے ہیں۔ یہ نشستیں مارکو روبیو کے وزیر خارجہ اور جے ڈی وینس کے نائب صدر بننے کے بعد خالی ہوئی ہیں۔ جن 35 نشستوں پر انتخاب ہورے ہیں ان میں سے 22 اس وقت ریپبلکن پارٹی کے پاس ہیں، جبکہ 13 پرڈیموکریٹس ارکان براجمان  ہیں۔

کانگریس میں موجودہ جماعتی پوزیشن

اس وقت ایوانِ نمائندگان میں ریپبلکن پارٹی کے 219 اور ڈیموکریٹک پارٹی کے 214 ارکان ہیں اور دو نشستیں خالی ہیں۔سینیٹ میں ریپبلکنز کے 53 اور ڈیموکریٹس کے 45 ارکان کے علاوہ دو آزاد سینیٹرز، برنی سینڈرز اور انگس کنگ، ڈیموکریٹک جماعتی صف بندی کے ساتھ کام کرتے ہیں۔ یوں ڈیموکریٹس کے ساتھ ووٹ دینے والے ارکان کی مجموعی تعداد 47 بنتی ہے۔ اسکامطلب ہواکہ ریپبلکن پارٹی اپنی جن 22 نشستوں کا دفاع کررہی ہے ان میں سے اگر 3 تنشستوں پر شکست کھاجائے تب بھی ایوان بالا پر انکی برتری قاتم رہیگی جبکہ ڈیموکریٹس کو برتری حاصل کرنے کیلئے اپنی تمام نشستوں کا دفاع کرنے کے ساتھ کم از کم چار اُن نشستوں پر جیتنا ہوگا جن پر اس وقت ریپبلکن سینیٹر بیٹھے ہیں۔ دلچسپ بات کہ ریپبلکن پارٹی کو برتری کیلئے سینیٹ کی 50 لیکن ڈیموکریٹک پارٹی کو 51 نشستیں درکار ہیں۔ اسکی وجہ یہ ہے کہ امریکی قانون کے تحت نائب صدر بر بنائے عہدہ سینیٹ کی سربراہ ہیں اور ووٹ برابر ہوجانے کی صورت میں فیصلہ کن یا tie-breakerووٹ ڈال کر اپنی پارٹی کی نیّاپار لگاسکتے ہیں لہذا حکمراں جماعت کے لئے کسی تحریک کو منظور کرانے کیلئے 50 ارکان ہی کافی ہیں۔

مہنگائی، ایران جنگ اور امیگریشن انتخابی موضوعات

ایران جنگ اور اسکے نتیجے میں تیل کی قیمتوں میں اضافے سے مہنگائی ایک اہم انتخابی نکتہ ہے۔بھاری درآمدی محصول (ٹیرف) کی وجہ بھی سے اشیائے ضرورت مہنگی ہوگئی ہیں۔سخت امیگریشن پالیسی اور امیگریشن پولیس (ICE)کی کاروائیوں پر ہسپانوی اور ایشیائی امریکنوں کو گہرے تحفظات ہیں۔اس بنا پر صدرٹرمپ کی مقبولیت میں کمی آئی ہے۔رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق 65 فیصد سے زیادہ امریکی، حکومت کی کارکردگی سے مطمئن نہیں۔ ان جائزوں کے مطابق ایوان نمائندگی کا کنٹرول ڈیموکریٹک پارٹی کے ہاتھوں میں آنے کا امکان ہے۔ سینیٹ کی جنگ میں  بھی ریپبلکن پارٹی دباو میں ہے۔ تاہم، قومی سطح کے جائزوں کو انفرادی ریاستوں کے نتائج کا متبادل نہیں سمجھنا چاہیے۔ امریکہ میں ریاستی سیاسی رجحانات، امیدواروں کی مقبولیت، مقامی مسائل اور ووٹرز کی شرکت بھی فیصلہ کن کردار ادا کرسکتے ہیں۔ اسی لئے سینیٹ کی چند ریاستوں کے مقابلے قومی سیاسی بحث کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔

الاسکا: ریپبلکن گڑھ میں ڈیموکریٹس کی امید

الاسکا (Alasak)امریکہ کی غیر متصل ریاست ہے، یعنی اس کی زمینی سرحدیں باقی امریکی ریاستوں سے نہیں ملتیں۔ الاسکا ریپبلکن پارٹی کا گڑھ ہے۔ یہاں سے سینیٹ کی نشست پر کسی ڈیموکریٹک امیدوار نے آخری بار 2008 میں کامیابی حاصل کی تھی لیکن اس مرتبہ ڈیموکریٹک پارٹی کی امیدوار میری پیلٹولا (Mary Peltola)خاصی مقبول نظر آرہی ہیں۔ دلچسپ بات کہ ریپبلکن امیدوارڈین سولیون کے ہم نام ایک آزاد امیدوار بھی میدان میں ہیں۔

آیووا: زرعی معیشت اور مہنگی توانائی کا سوال

زرعی ریاست آیوا بھی ریپبلکن پارٹی کا قلعہ ہے جہاں سے 2024کے صدارتی انتخابات میں صدر ٹرمپ نے 13 فیصد کی برتری حاصل کی تھی۔ گزشتہ دومدتوں سے سینیٹر منتخب ہونے والی جونی ارنسٹ (Joni Ernst)نے نئی مدت کا انتخاب لڑنے سے معذرت کرلی ہے۔ یہاں ریپبلکن پارٹی کی ایشلے ہنسن کا مقابلہ ڈیموکریٹک امیدوار جاش ترک سے ہے اور رائے عامہ کے جائزے کہہ رہے ہیں کہ مقابلہ خاصہ سخت ہے۔ آیووا کے کسانوں کے لئے ایندھن، کھاد اور دوسری پیداواری لاگت میں اضافہ بہت اہم ہے۔

شمالی کیرولائنا: رائے کوپر کو حاصل برتری

شمالی کیرولینا میں ریپبلکن پارٹی کے ٹام ٹلس (Tom Tllis) 2014 اور اسکے بعد 2020 میں سینیٹر منتخب ہوئے لیکن اس بار ٹلس صاحب انتخاب نہیں لڑرہے۔ یہاں مقابلہ ریپبلکن پارٹی کے ریاستی صدر مائکل وہٹلے اور سابق گورنر رائے کوپر میں ہے۔ رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق رائے کوپر کو اپنے حریف پر معمولی سی برتری حاصل ہے۔

مین: سوزن کولنز کے لیے سخت مقابلہ

مین (Maine) سیاسی اعتبار سے نسبتاً آزاد خیال ریاست سمجھی جاتی ہے. یہاں ریپبلکن سینیٹر سوزن کولنز 1996 سے مسلسل منتخب ہوتی رہی ہیں۔ اس بار ان کا مقابلہ ڈیموکریٹک امیدوار ٹرائے جیکسن (Troy Jackson) سے ہے، جو ریاستی سینیٹ کے سابق صدر رہ چکے ہیں۔کولنز نے انتخابی مہم کے دوران بعض معاملات میں صدر ٹرمپ سے اختلاف ظاہر کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ سینیٹ میں انہوں نے ٹرمپ کے موقف کے خلاف متعدد بار ووٹ دیا، اور 2021 میں ان کے پہلے مواخذے کے مقدمے میں بھی ٹرمپ کو سزا دینے کے حق میں ووٹ دیا تھا۔ تازہ جائزوں میں دونوں امیدواروں کے درمیان مقابلہ سخت دکھائی دیتا ہے۔

جنوبی کیرولائنا: لنڈسے گراہم کی خالی نشست

جنوبی کیرولائنا روایتی طور پر ریپبلکن پارٹی کا مضبوط گڑھ رہی ہے۔ طویل عرصے تک اس ریاست کی نمائندگی کرنے والے سینیٹر لنڈسے گراہم کے انتقال کے بعد ان کی ہمشیرہ،  ڈارلین گراہم (Darline Graham) ریپبلکن امیدوار ہیں۔ ان کا مقابلہ ڈیموکریٹک امیدوار اور ماہرِ اطفال ڈاکٹر اینی اینڈریوز (Annie Andrews) سے ہے۔ اگرچہ جنوبی کیرولائنا میں ریپبلکن امیدوار کو روایتی سیاسی برتری حاصل رہی ہے، لیکن قومی سیاسی ماحول اور امیدواروں کی ذاتی مقبولیت کے باعث اس نشست پر بھی نظر رکھی جارہی ہے۔

ٹیکساس: کیا ڈیموکریٹس کے لیے نئی راہ کھل سکتی ہے؟

ٹیکسس (Texas) ریپبلکن پارٹی کا مضبوط گڑھ ہے۔ یہاں سے آخری بار 1993 میں ڈیموکریٹک امیدوار باب کروگر سینیٹر منتخب ہوئے تھے۔ اس بار ڈیموکریٹک پارٹی کے جیمز ٹیلاریکو (James Talarico) اور ریپبلکن امیدوار کین پیکسٹن (Ken Paxton) کے درمیان  کانٹے کا مقابلہ ہے۔حالیہ جائزوں میں ٹیلاریکو کو برتری حاصل دکھائی گئی ہے، لیکن ٹیکسس کی روایتی سیاسی سمت اور ووٹروں کی شرکت کے فرق کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا

مشیگن: عبدالسید، مائک راجرز اور AIPAC کا کردار

مشیگن میں سینیٹ کے مقابلے کو امریکہ سے زیادہ اسرائیل میں دلچسپی سے دیکھا جارہا ہے جہاں مصر نژاد ڈاکٹر عبدالرحیم محمد السید المعروف عبدل السید ریپبلکن پارٹی کے مائک راجرز کا مقابلہ کررہے ہیں۔ عبدل السید کو پارٹی ٹکٹ سے محروم کرنے کیلئے امریکہ اسرائیل سیاسی مجلس عمل (AIPAC) نے کروڑوں ڈالر خرچ  کئے لیکن وہ بہت معمولی فرق سے اپنی مخالف کو ہرانے میں کامیاب ہوگئے۔ اب AIPAC نے ایک بار پھر عبدالسید کو ہرانے کیلئے خزانے کے منہہ کھولدئے ہیں۔عبدالسید 2018 میں ریاستی گورنر کے لئے میدان میں اترے تھے لیکن انھیں پرائمری انتخابات میں شکست ہوگئی۔

بظاہر ایسا لگ رہا ہے کہ معاشی پریشانی، امیگریشن پولیس کی کاروائیوں،  مہنگائی اور  اور ایران سے جنگ کی بنا پر وسط مدتی انتخابات کے نتائج صدر ٹرمپ کیلئے ناخوشگوار ہونگے۔اسوقت ریپبلکن پارٹی کو کانگریس کے دونوں ایوانوں میں برتری حاصل ہے۔اس تناظر میں اگر ڈیموکریٹک پارٹی دونوں یا ایک بھی ایوان سے حکمراں جماعت کی بالادستی ختم کرنے میں کامیاب ہوگئی تو اپنے اقتدار کے آخری دوسالوں میں صدر ٹرمپ کو مشکل پیش آسکتی ہے۔ تاہم یہ تجزیہ اور تاثر انتخابی جائزوں کی بنیاد پر ہے جبکہ اصل فیصلہ  رائے دہندگان نے کرنا ہے، کئی ریاستوں میں قبل ازوقت یا early voting کا آغاز ہوچکا ہے۔ موسم اور مزاجِ یار کی طرح نیرنگی سیاست کے اپنے ہی رنگ ڈھنگ ہیں اور اس باب میں تیقن سے کچھ کہنا ممکن و مناسب نہیں۔

ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل کراچی 16 اکتوبر 2026

ہفت روز دعوت دہلی 16 اکتوبر 2026

ہفت روزہ رہبر سرینگر 18 اکتوبر 2026


Thursday, October 8, 2026

 

فلائی دبئی کا واقعہ: دہشت گردی، مذہب اور انتخابی سیاست

فضائی سانحہ یا  اسلام دشمن  بیانیہ

دبئی سے تل ابیب جانے والی فلائی دبئی کی پرواز FZ1073 پر پائلٹ اور نائب پائلٹ کے درمیان پُر تشدد تصادم کی کہانی نے اب 'اسلامی دہشت گردی' کا رخ دھار لیا ہے۔ واقعے کی تفصیل کچھ اسطرح ہے کہ 30 ستمبر کو بوئنگ 737 MAX-8کی پرواز  174 مسافروں اور عملے کے چھ افراد کو لے کر ابوظہبی سے روانہ ہوئی۔ تقریباً ڈھائی گھنٹے بعد نائب پائلٹ حمام الحمامی  اور پائلٹ سمت مچھر کے درمیان مبینہ طور پر لڑائی شروع ہوگئی۔ پائلٹ کا کہنا ہے کہ نائب کپتان نے اس پر کلہاڑے سے حملہ کیا تھا۔ اس کشکمش میں پرواز ناہموار ہوگئی اور جہاز چند لمحوں میں 33 ہزار فٹ سے 17 ہزار فٹ پر آگیا۔ زخمی کپتان نے ساری قوت جمع کرکے کاک پٹ کا دروازہ کھولدیا اور بہت سے مسافر اندر پہنچ گئے۔ اسرائیلی وزیراعظم کے مطابق جہاز میں موجود ایک پلمبر نے طیارے کو سنبھالنے میں مدد دی۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی اس "پلمبر" کی تعریف کی۔ بعض اطلاعات میں ایک دندان ساز سمیت دیگر مسافروں کے کردار کا ذکر بھی کیا گیا ہے جنہوں نے مبینہ حملہ آور کو قابو کرنے اور زخمی کپتان کی مدد کرنے میں حصہ لیا۔ بعد ازاں طیارے کو سعودی عرب کے تبوک ایئرپورٹ پر بحفاظت اتار لیا گیا اور خوش قسمتی سے تمام مسافر محفوظ رہے۔

ایک فضائی واقعے کا دہشت گردی کے بیانیے میں تبدیل ہونا

یہ تو واقعے کی بیان کردہ روداد ہے، لیکن اس کے بعد رونما ہونے والی پیش رفت زیادہ اہم ہے۔ روزانہ نئی کہانیاں سامنے آ رہی ہیں اور کاک پٹ میں ہونے والی مبینہ لڑائی دھیرے دھیرے روایتی "اسلامک ٹیررازم" کے سانچے میں ڈھالی جا رہی ہے۔ بعض حلقے اسے 11 ستمبر 2001ء کے حملوں کی نئی شکل قرار دینے لگے ہیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ پائلٹوں کی مکمل شناخت سامنے آنے سے پہلے ہی اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے عندیہ دیا کہ واقعے کے پیچھے دہشت گردی کا امکان مسترد نہیں کیا جا سکتا۔ ان کے بقول عمانی معاون پائلٹ " انتہاپسندانہ ذہن سازی" کا شکار تھا۔ ساتھ ہی انہوں نے اعتراف بھی کیا کہ تحقیقات ابھی جاری ہیں اور یہ واضح نہیں کہ وہ اکیلا کارروائی کر رہا تھا یا کسی نیٹ ورک کا حصہ تھا۔

ابوظبی اور تل ابیب کے بیانیوں میں تضاد

اس معاملے میں ایک اور دلچسپ پہلو متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے مؤقف میں دکھائی دینے والا فرق ہے۔ اسرائیلی چینل 12 کے مطابق اماراتی حکومت کے قریب ایک ذریعے نے الزام لگایا کہ اسرائیلی قیادت اس واقعے کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کر رہی ہے اور اس معاملے میں "منطق سے زیادہ انتخابات کارفرما ہیں"۔ اسی ذریعے کا کہنا تھا کہ امارات اپنے طور پر تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہے اور معاملے کو منطقی انجام تک پہنچانا چاہتا ہے، جبکہ اسرائیل کی جانب سے رکاوٹیں پیدا کی جا رہی ہیں۔ تاہم اگلے ہی روز متحدہ عرب امارات کے سفارتی مشیر انور قرقاش نے اس واقعے کو دہشت گردی سے تعبیر کر دیا، جس کے بعد معاملہ مزید پیچیدہ ہوگیا۔

انتہاپسندی کی تعریف یا مذہبی شناخت؟

عمانی نائب پائلٹ کے بارے میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ وہ مذہبی انتہاپسند تھا۔ مگر جو علامات بطور ثبوت پیش کی جا رہی ہیں، وہ غیر معمولی نہیں۔ بتایا گیا کہ وہ نماز کا پابند تھا اور خواتین سے مصافحہ نہیں کرتا تھا۔ مزید یہ کہ اس کی مبینہ دوہری شہریت کی بات بھی کی جا رہی ہے لیکن یہ واضح نہیں کیا گیا کہ دوسری شہریت کس ملک کی تھی۔سوال یہ ہے کہ جب ابھی تک اس شخص کی مکمل شناخت اور شہریت کے بارے میں غیر یقینی صورتحال موجود ہے تو اس کی نظریاتی وابستگی کے بارے میں اس قدر قطعی رائے کیسے قائم کر لی گئی؟ مزید یہ کہ جن اوصاف کو انتہاپسندی کی علامات قرار دیا جا رہا ہے، وہ دنیا کے ہر پابند شریعت مسلمان میں پائی جاتی ہیں۔

انتخابی سیاست کا تناظر

اس واقعے کو وسیع سیاسی تناظر میں بھی دیکھنے کی ضرورت ہے۔ اسرائیل میں 27 اکتوبر کو عام انتخابات ہورہے ہیں اور نیتن یاہو قومی سلامتی اور بیرونی خطرات کو اپنی انتخابی مہم کا بنیادی موضوع بنا چکے ہیں۔ چند روز قبل انہوں نے خبردار کیا تھا کہ انتخابات سے پہلے اسرائیل پر حملے کے اشارے مل رہے ہیں اور ساتھ ہی یہ پیغام بھی دیا گیا کہ اسرائیل کا "لمبا ہاتھ" اپنے دشمنوں تک کسی بھی وقت پہنچ سکتا ہے۔ اتنے سنسنی خیز انکشاف کے حق میں نیتن یاہو نے کسی مخصوص دشمن، حملے یا انٹیلی جنس معلومات کی تفصیل نہیں دی۔فلائی دبئی کے واقعے کو اس دھمکی سے جوڑنا محض قیاس ہوگا۔ لیکن اس واقعے نے اسرائیل کے انتخابی ماحول میں سلامتی کے سوال کو مزید نمایاں کردیا ہے۔

نیتن یاہو کا خفیہ دورۂ ابوظبی

اس تمام پس منظر میں نیتن یاہو کا حالیہ دورۂ ابوظبی بھی توجہ کا مستحق ہے۔ انہوں نے 27 ستمبر کو متحدہ عرب امارات کا دورہ کیا۔ تل ابیب اور ابوظبی دونوں نے اس دورے کو خفیہ رکھنے کی کوشش کی، تاہم سوشل میڈیا کے عہد میں ایسی معلومات کو پوشیدہ رکھنا آسان نہیں رہا۔ بالآخر اماراتی خبر رساں ایجنسی WAM کو اس ملاقات کی تصدیق کرنا پڑی۔ اہم سوال یہ ہے کہ اس ملاقات میں کیا گفتگو ہوئی اور وہ ایساکون سا معاملہ تھا جس کے لئے اسرائیلی وزیراعظم انتخابی مصروفیات کے باوجود ابوظبی پہنچے؟ اگر موضوع معمول کا سفارتی رابطہ تھا تو پھر اتنی رازداری کیوں برتی گئی؟ کچھ تو ہے جسکی پردہ داری ہے؟

سعودی عرب کا کردار اور غیر معمولی اجازت

ایک عجیب اتفاق یہ بھی ہے کہ طیارہ سعودی فضائی حدودکے قریب پہنچا اور اسرائیل کے ساتھ باضابطہ سفارتی تعلقات نہ ہونے کے باوجود سعودیوں نے ہنگامی صورتحال میں اسرائیلی مسافروں کے طیارے کو اپنی سرزمین پر اترنے کی اجازت دیدی۔

میڈیا کی دیومالائی داستانیں یا اسلاموفوبیا

فلائی دبئی کے نائب پائلٹ حمام الحمّامی کی انتہاپسندی کے بارے میں دیومالائی حکائتوں سے امریکی و اسرائیلی میڈیا بھرا پڑا پے۔ ساتھ ہی جہاز پر سوار اسرائیلی مسافروں کی بے مثال جرات کی کہانیاں الگ کہ ایک پلمبر نے دندان ساز کی مدد سے بے قابو جہاز کو ہموار کردیا۔ جہاز اڑانے کا باتصویر قاعدہ دیکھ کر پائلٹ بن جانیوالے پلمبر، شاباش لینے  مقبوضہ یروشلم کے امریکی سفارت خانے پہنچے۔ اس موقع پر امریکی سفیر مائک ہکابی نے انھیں صدر ٹرمپ کی MAGA ٹوپی پیش کی۔ اسرائیلی مسافروں کی بہادری کی علامت کے طور پر  خون آلود قیمصوں کی نمائش بھی جاری ہے۔ گویا برادران یوسفؑ کی طرح جھوٹ موٹ خون کے دھبے دکھانے کا ہزاروں سال پرانا حربہ استعمال ہورہاہے۔ اسرائیل میں بھارتی نژاد کپتان کو ہیرو کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے اور نیتن یاہو نے اسے اسرائیل کے لئے بھارتی قوم کے اخلاص کی ایک روشن و قابلِ تقلید مثال قرار دیا ہے۔اس حوالے سے تازہ ترین انکشاف عبرانی ذرایع ابلاغ کے ذریعہ آیا ہے، جسکے مطابق حمام الحمامی کا ارادہ تھا کہ پائلٹ کو قتل کرنے کے بعد جہاز کا کنٹرول سنبھال کر اسے تل ابیب میں کسی بلند وبالا عمارت یا بن گوریان ائرپورٹ پرکھڑے جہازوں سے ٹکرادے۔ ٹائمز آف اسرائیل نے 4 اکتوبر کو یہ خبر ان اماراتی حکام کے حوالے سے شایع کی ہے جو مبینہ طور پر نائب پائلٹ سے تفتیش کررہے ہیں۔

یوں محسوس ہوتا ہے کہ ایک مخصوص عوامی تاثر پیدا کرنے کے لئے خوفناک مفروضے اور علامتی منظرنامے تشکیل دیے جا رہے ہیں۔ اس پوری مہم کا ہدف صرف ایک فضائی واقعے کی تشریح نہیں بلکہ یہ مسلمانوں کے خلاف عالمی سطح پر پھیلائے گئے شکوک اور خدشات کو مزید تقویت دینے کی ایک منظم کوشش نظر آرہی ہے جسے سنسنی خیز صحافت کہہ کر نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔عمانی نائب پائلٹ کے انتہا پسند مسلمان ہونے کی کہانیاں مسلمان پائلٹوں پر عالمی فضا بندکردینے کی پیش بندی لگ رہی ہے۔

ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل کراچی 11 اکتوبر 2026

ہفت روزہ دعوت دہلی 11 اکتوبر 2026

ہفت روزہ رہبر سرینگر 13 اکتوبر 2026


 

غزہ جو ایک شہر تھا

تباہ شدہ پٹی اور ’’امن‘‘ کے نام پر جاری سفارتی نشست و برخاست

ملبے سے اٹھتے سوالات

سات اکتوبر کو غزہ پر ڈھائی جانیوالی وحشت کے تین سال مکمل ہوگئے۔ یہ کوئی مختصر مدت نہیں ہوتی۔اس عرصے میں پیداہونے والا بچہ اسکول جانے کے قابل ہوجاتا ہے، شہر میں نئی سڑکیں بنتی ہیں، اجڑے گھر آباد ہوجاتے ہیں اور جنگوں کے زخم بھی آہستہ آہستہ مندمل ہونے لگتے ہیں۔ لیکن تین سال گزرجانے کے بعد بھی انسانیت کے ماتھے پر لگے اس زخم سے ملبے، خیموں، قبروں اور گمشدہ انسانوں کی صورت متعفن مواد ٹپک رہا ہے۔

یہ تین سال صرف کیلنڈر کے تین سال نہیں بلکہ ایک پوری آبادی کی زندگی کے تین سال ہیں۔ ان میں ہزاروں خاندان اجڑ گئے، لاکھوں لوگ بار بار بے گھر ہوئے اور ایک ایسا علاقہ جسے پہلے ہی طویل محاصرے اور پابندیوں نے کمزور کردیا تھا، تباہ شدہ شہروں اور ناکارہ بنیادی ڈھانچے کے ایک وسیع منظرنامے میں تبدیل ہوگیا۔

اعداد جو انسانوں کی کہانی ہیں

یکم اکتوبر تک غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق اسرائیلی حملوں میں کم از کم 74040 فلسطینی جاں بحق اور 175168 زخمی ہوچکے تھے۔ ان اعداد میں وہ ہزاروں لوگ شامل نہیں جو ملبے تلے لاپتا ہیں یا جن کی لاشیں ابھی تک نکالی نہیں جاسکیں۔ انھیں محض اعداد سمجھنا کٹھوردلی ہوگا۔ یہ 74 ہزار خاندانوں، گھروں، والدین، بچوں، بہن بھائیوں اور دوستوں کے درمیان پیدا ہونے والے خلا کا نام ہے۔زخمیوں کی تعداد اس سے بھی زیادہ ہولناک ہے۔ ایک لاکھ 75 ہزار سے زیادہ زخمیوں میں ہزاروں ایسے ہیں جو زندگی بھر کے لیے معذوری، اعضا سے محرومی یا شدید جسمانی صدمے کے ساتھ زندہ رہیں گے۔ اقوام متحدہ کے مطابق 2026 کے آغاز تک ہی 43 ہزار سے زیادہ فلسطینی ایسی زندگی بدل دینے والی چوٹوں کا شکار ہوچکے تھے جنہیں طویل مدتی بحالی کی ضرورت تھی، جبکہ  غزہ میں صحت کا پورا نظام اسرائیلی فوج تباہ کرچکی ہے۔

ملبے میں دبا ہوا غزہ

غزہ کی تباہی صرف گھروں کی تباہی نہیں۔ اپریل 2026 میں اقوام متحدہ، عالمی بینک اور یورپی یونین کے مشترکہ جائزے میں بتایا گیا کہ 371888 رہائشی یونٹس تباہ یا متاثر ہوچکے ہیں۔ نصف سے زیادہ ہسپتال غیر فعال ہیں اور تقریباً تمام اسکول کسی نہ کسی درجے میں تباہ یا متاثر ہوئے ہیں۔ غزہ کی معیشت 84 فیصد سکڑ چکی ہے اور انسانی ترقی کو اندازاً 77 سال پیچھے دھکیل دیا گیا ہے۔شہری ڈھانچے کو پہنچنے والے نقصان کا تخمینہ 35 ارب   ارب ڈالر لگایا گیا ہے، جبکہ تعمیرِ نو اور بحالی کی مجموعی ضرورت 71 ارب ڈالر سے زیادہ  ہے۔ یعنی مسئلہ صرف یہ نہیں کہ غزہ کے لوگوں کے گھر دوبارہ بنائے جائیں؛ مسئلہ یہ ہے کہ ایک پوری زندگی کو دوبارہ تعمیر کرنا ہوگا۔

اسکول، ہسپتال اور پانی بھی ملبے میں

جنگ میں فوجی اہداف اور شہری تنصیبات کے درمیان فرق بین الاقوامی انسانی قانون کا بنیادی اصول ہے۔ ہسپتال، اسکول، رہائشی عمارتیں، آبنوشی کی تنصیبات اور امدادی مراکز اپنی شہری حیثیت کی وجہ سے خصوصی تحفظ رکھتے ہیں۔ کسی شہری عمارت کو صرف اس دعوے کی بنیاد پر فوجی ہدف نہیں بنایا جاسکتا کہ وہاں کوئی جنگجو موجود ہوسکتا ہے۔ فوجی کارروائی میں امتیاز، تناسب اور احتیاط کے اصول بہرحال لاگو رہتے ہیں۔غزہ میں مسئلہ اس لئے بھی سنگین ہے کہ پانی اور صفائی کا بنیادی ڈھانچہ بھی تباہی کا شکار ہے۔ ستمبر کی ایک رپورٹ میں اقوام متحدہ نے بتایا کہ غزہ کی 94 فیصد آبادی کو فوری پناہ اور بنیادی گھریلو امداد کی ضرورت ہے جبکہ 65 فیصد گھرانے اب بھی خیموں یا عارضی پناہ گاہوں میں زندگی گزار رہے ہیں۔

کیا یہ صرف جنگ ہے؟

یہ سوال اب محض سیاسی بحث نہیں رہا کہ غزہ میں جو کچھ ہوا اسے کس قانونی اصطلاح میں بیان کیا جائے۔ جنگی جرائم، جرائمِ انسانیت، نسل کشی اور نسلی تطہیر الگ الگ قانونی تصورات ہیں اور ہر ایک کے اپنے عناصر ہیں۔کسی شہری آبادی کو جان بوجھ کر نشانہ بنانا، بھوک کو جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا، جبری منتقلی یا شہری آبادی کے خلاف وسیع پیمانے پر حملے بین الاقوامی قانون کے تحت سنگین جرائم ہیں۔ کسی نسلی یا مذہبی اکائی کو مکمل یا جزوی طور پر تباہ کرنے کا مخصوص ارادہ منشورِ روم (Rome Statute)کے تحت ’’نسلی تطہیر‘‘ ہے۔ گویا جذباتی اندازِ گفتگو کے ساتھ قانونی زبان میں بھی اسرائیل انسانیت سوز جرائم کا مرتکب ہورہا ہے۔

عدالت کا وارنٹ، مگر جنگ جاری

بین الاقوامی فوجداری عدالت (ICC)نے 21 نومبر 2024 کو اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو اور اس وقت کے وزیر دفاع یوآو گیلنٹ کے خلاف گرفتاری کے وارنٹ جاری کئے۔ عدالت نے ان کے خلاف مبینہ جنگی جرائم اور جرائمِ انسانیت سے متعلق الزامات بیان کئے، جن میں شہری آبادی کو جان بوجھ کر نشانہ بنانے اور بھوک کو جنگی طریقے کے طور پر استعمال کرنے کے الزامات بھی شامل ہیں۔ لیکن اس قانونی پیش رفت کے باوجود غزہ کی تباہی رک نہیں سکی اور رکتی بھی کیسے کہ وارنٹ کی تعمیل کے بجائے امریکہ نے فیصلہ سنانے والے ججوں پر ہی تادیبی پابندیاں عائد کردیں اور اقوام متحدہ کے سربراہی اجلاس میں صدر ٹرمپ نے بہت ہی جارحانہ انداز میں ICC کی مذمت کی۔اسی پشت پناہی کا نتیجہ ہے کہ اکتوبر 2025 میں جنگ بندی کے بعد بھی ہلاکتیں اور حملے مکمل طور پر ختم نہیں ہوئے۔ اس سال یکم اکتوبر تک جنگ بندی کے بعد 1439 فلسطینی جاں بحق اور 5052 زخمی رپورٹ کئے جاچکے ہیں۔شرمناک بات کہ امریکی صدر نے اقوام متحدہ میں اس 'جنگ بندی' کو اپنی کامیاب سفارتکاری کے ثبوت کے طور پر پیش کیا۔

کاغذی امن  

امریکہ کی سرپرستی میں قائم بورڈ آف پیس سے امید تھی کہ وہ غزہ کے لئے جنگ کے بعد کا سیاسی اور انتظامی راستہ ہموار کرے گا۔ جنوری 2026 میں اس کا باقاعدہ ڈھانچہ تشکیل پایا، نیشنل کمیٹی فار دی ایڈمنسٹریشن آف غزہ بنائی گئی اور بین الاقوامی استحکام فوج کے لئے بھی منصوبہ بندی شروع ہوئی۔ لیکن ایک سال گزرجانے کے بعد بھی زمینی حقیقت یہ ہے کہ فلسطینی انتظامی کمیٹی غزہ میں اپنی حکومتی ذمہ داریاں سنبھالنے کے قابل ہوئی اور نہ بین الاقوامی استحکام فورس کے اہلکار زمین پر تعینات ہوئے۔ستمبر میں بورڈ نے 66 منصوبوں پر مشتمل ڈھائی ارب ڈالر کا ابتدائی تعمیرِ نو پروگرام بھی پیش کیا۔ یہ منصوبے کاغذ پر ضرور اہم ہیں، لیکن اہلِ غزہ کے لئے اصل سوال یہ ہے کہ خیمہ کب گھر بنے گا، بچہ کب اسکول جائے گا، مریض کو دوا کب ملے گی اور ملبے کے نیچے اپنے پیاروں کو تلاش کرنے والا خاندان کب اپنے مردے دفن کرسکے گا؟

غزہ کے معاملے میں دنیا نے قراردادیں منظور کیں، کانفرنسیں کیں، بیانات جاری کئے، وفود بھیجے، اجلاس بلائے اور نئے ادارے قائم کئے۔ لیکن 1096 دن بعد بھی ایک عام فلسطینی کے لئے امن کا مطلب شاید اتنا ہی ہے کہ اگلی رات اس کا خیمہ میزائل کا نشانہ نہ بنے۔یہ سوال ان تمام طاقتوں سے ہے جو جنگ روکنے، انسانی امداد پہنچانے اور غزہ کی تعمیرِ نو کا اختیار اور اثر و رسوخ رکھتی ہیں۔ اگر ہزاروں بچوں کی موت، لاکھوں زخمیوں، بے شمار بے گھر انسانوں، تباہ ہسپتالوں، اسکولوں، پانی کے نظام اور ملبے کے پہاڑوں کے بعد بھی غزہ والے ’’اگلے اجلاس‘‘ کا انتظار کرینگے تو پھر سفارت کاری اور بے بسی میں فرق کیا رہ جاتا ہے؟ اس جنگ کی تیسری برسی پر شاید سب سے زیادہ تکلیف دہ تصویر کوئی بمباری یا ملبے کا منظر نہیں بلکہ ایک ایسا بچہ ہے جو تین سال بعد بھی نہیں جانتا کہ اس کا گھر کہاں تھا۔تین سال پہلے غزہ میں گھر تھے، اسکول تھے، ہسپتال تھے، مسجدیں اور گرجا گھر تھے، بازار تھے، سڑکیں تھیں اور ان سب کے درمیان معمول کی زندگی تھی۔ آج سب کچھ ملبے میں تبدیل ہوچکا ہے۔ غزہ کی تیسری برسی کا سب سے بڑا سوال یہی ہے کہ کیا دنیا ان انسانوں کو صرف اعداد کی صورت میں یاد رکھے گی، یا کبھی ایسا دن بھی آئے گا جب انصاف، سفارتی نشست و برخاست سے نکل کر زمین پر اترے گا؟

ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل کراچی 11 اکتوبر 2026

ہفت روزہ دعوت دہلی 11 اکتوبر 2026

ہفت روزہ رہبر سرینگر 13 اکتوبر 2026