Thursday, October 8, 2026

 

فلائی دبئی کا واقعہ: دہشت گردی، مذہب اور انتخابی سیاست

فضائی سانحہ یا  اسلام دشمن  بیانیہ

دبئی سے تل ابیب جانے والی فلائی دبئی کی پرواز FZ1073 پر پائلٹ اور نائب پائلٹ کے درمیان پُر تشدد تصادم کی کہانی نے اب 'اسلامی دہشت گردی' کا رخ دھار لیا ہے۔ واقعے کی تفصیل کچھ اسطرح ہے کہ 30 ستمبر کو بوئنگ 737 MAX-8کی پرواز  174 مسافروں اور عملے کے چھ افراد کو لے کر ابوظہبی سے روانہ ہوئی۔ تقریباً ڈھائی گھنٹے بعد نائب پائلٹ حمام الحمامی  اور پائلٹ سمت مچھر کے درمیان مبینہ طور پر لڑائی شروع ہوگئی۔ پائلٹ کا کہنا ہے کہ نائب کپتان نے اس پر کلہاڑے سے حملہ کیا تھا۔ اس کشکمش میں پرواز ناہموار ہوگئی اور جہاز چند لمحوں میں 33 ہزار فٹ سے 17 ہزار فٹ پر آگیا۔ زخمی کپتان نے ساری قوت جمع کرکے کاک پٹ کا دروازہ کھولدیا اور بہت سے مسافر اندر پہنچ گئے۔ اسرائیلی وزیراعظم کے مطابق جہاز میں موجود ایک پلمبر نے طیارے کو سنبھالنے میں مدد دی۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی اس "پلمبر" کی تعریف کی۔ بعض اطلاعات میں ایک دندان ساز سمیت دیگر مسافروں کے کردار کا ذکر بھی کیا گیا ہے جنہوں نے مبینہ حملہ آور کو قابو کرنے اور زخمی کپتان کی مدد کرنے میں حصہ لیا۔ بعد ازاں طیارے کو سعودی عرب کے تبوک ایئرپورٹ پر بحفاظت اتار لیا گیا اور خوش قسمتی سے تمام مسافر محفوظ رہے۔

ایک فضائی واقعے کا دہشت گردی کے بیانیے میں تبدیل ہونا

یہ تو واقعے کی بیان کردہ روداد ہے، لیکن اس کے بعد رونما ہونے والی پیش رفت زیادہ اہم ہے۔ روزانہ نئی کہانیاں سامنے آ رہی ہیں اور کاک پٹ میں ہونے والی مبینہ لڑائی دھیرے دھیرے روایتی "اسلامک ٹیررازم" کے سانچے میں ڈھالی جا رہی ہے۔ بعض حلقے اسے 11 ستمبر 2001ء کے حملوں کی نئی شکل قرار دینے لگے ہیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ پائلٹوں کی مکمل شناخت سامنے آنے سے پہلے ہی اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے عندیہ دیا کہ واقعے کے پیچھے دہشت گردی کا امکان مسترد نہیں کیا جا سکتا۔ ان کے بقول عمانی معاون پائلٹ " انتہاپسندانہ ذہن سازی" کا شکار تھا۔ ساتھ ہی انہوں نے اعتراف بھی کیا کہ تحقیقات ابھی جاری ہیں اور یہ واضح نہیں کہ وہ اکیلا کارروائی کر رہا تھا یا کسی نیٹ ورک کا حصہ تھا۔

ابوظبی اور تل ابیب کے بیانیوں میں تضاد

اس معاملے میں ایک اور دلچسپ پہلو متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے مؤقف میں دکھائی دینے والا فرق ہے۔ اسرائیلی چینل 12 کے مطابق اماراتی حکومت کے قریب ایک ذریعے نے الزام لگایا کہ اسرائیلی قیادت اس واقعے کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کر رہی ہے اور اس معاملے میں "منطق سے زیادہ انتخابات کارفرما ہیں"۔ اسی ذریعے کا کہنا تھا کہ امارات اپنے طور پر تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہے اور معاملے کو منطقی انجام تک پہنچانا چاہتا ہے، جبکہ اسرائیل کی جانب سے رکاوٹیں پیدا کی جا رہی ہیں۔ تاہم اگلے ہی روز متحدہ عرب امارات کے سفارتی مشیر انور قرقاش نے اس واقعے کو دہشت گردی سے تعبیر کر دیا، جس کے بعد معاملہ مزید پیچیدہ ہوگیا۔

انتہاپسندی کی تعریف یا مذہبی شناخت؟

عمانی نائب پائلٹ کے بارے میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ وہ مذہبی انتہاپسند تھا۔ مگر جو علامات بطور ثبوت پیش کی جا رہی ہیں، وہ غیر معمولی نہیں۔ بتایا گیا کہ وہ نماز کا پابند تھا اور خواتین سے مصافحہ نہیں کرتا تھا۔ مزید یہ کہ اس کی مبینہ دوہری شہریت کی بات بھی کی جا رہی ہے لیکن یہ واضح نہیں کیا گیا کہ دوسری شہریت کس ملک کی تھی۔سوال یہ ہے کہ جب ابھی تک اس شخص کی مکمل شناخت اور شہریت کے بارے میں غیر یقینی صورتحال موجود ہے تو اس کی نظریاتی وابستگی کے بارے میں اس قدر قطعی رائے کیسے قائم کر لی گئی؟ مزید یہ کہ جن اوصاف کو انتہاپسندی کی علامات قرار دیا جا رہا ہے، وہ دنیا کے ہر پابند شریعت مسلمان میں پائی جاتی ہیں۔

انتخابی سیاست کا تناظر

اس واقعے کو وسیع سیاسی تناظر میں بھی دیکھنے کی ضرورت ہے۔ اسرائیل میں 27 اکتوبر کو عام انتخابات ہورہے ہیں اور نیتن یاہو قومی سلامتی اور بیرونی خطرات کو اپنی انتخابی مہم کا بنیادی موضوع بنا چکے ہیں۔ چند روز قبل انہوں نے خبردار کیا تھا کہ انتخابات سے پہلے اسرائیل پر حملے کے اشارے مل رہے ہیں اور ساتھ ہی یہ پیغام بھی دیا گیا کہ اسرائیل کا "لمبا ہاتھ" اپنے دشمنوں تک کسی بھی وقت پہنچ سکتا ہے۔ اتنے سنسنی خیز انکشاف کے حق میں نیتن یاہو نے کسی مخصوص دشمن، حملے یا انٹیلی جنس معلومات کی تفصیل نہیں دی۔فلائی دبئی کے واقعے کو اس دھمکی سے جوڑنا محض قیاس ہوگا۔ لیکن اس واقعے نے اسرائیل کے انتخابی ماحول میں سلامتی کے سوال کو مزید نمایاں کردیا ہے۔

نیتن یاہو کا خفیہ دورۂ ابوظبی

اس تمام پس منظر میں نیتن یاہو کا حالیہ دورۂ ابوظبی بھی توجہ کا مستحق ہے۔ انہوں نے 27 ستمبر کو متحدہ عرب امارات کا دورہ کیا۔ تل ابیب اور ابوظبی دونوں نے اس دورے کو خفیہ رکھنے کی کوشش کی، تاہم سوشل میڈیا کے عہد میں ایسی معلومات کو پوشیدہ رکھنا آسان نہیں رہا۔ بالآخر اماراتی خبر رساں ایجنسی WAM کو اس ملاقات کی تصدیق کرنا پڑی۔ اہم سوال یہ ہے کہ اس ملاقات میں کیا گفتگو ہوئی اور وہ ایساکون سا معاملہ تھا جس کے لئے اسرائیلی وزیراعظم انتخابی مصروفیات کے باوجود ابوظبی پہنچے؟ اگر موضوع معمول کا سفارتی رابطہ تھا تو پھر اتنی رازداری کیوں برتی گئی؟ کچھ تو ہے جسکی پردہ داری ہے؟

سعودی عرب کا کردار اور غیر معمولی اجازت

ایک عجیب اتفاق یہ بھی ہے کہ طیارہ سعودی فضائی حدودکے قریب پہنچا اور اسرائیل کے ساتھ باضابطہ سفارتی تعلقات نہ ہونے کے باوجود سعودیوں نے ہنگامی صورتحال میں اسرائیلی مسافروں کے طیارے کو اپنی سرزمین پر اترنے کی اجازت دیدی۔

میڈیا کی دیومالائی داستانیں یا اسلاموفوبیا

فلائی دبئی کے نائب پائلٹ حمام الحمّامی کی انتہاپسندی کے بارے میں دیومالائی حکائتوں سے امریکی و اسرائیلی میڈیا بھرا پڑا پے۔ ساتھ ہی جہاز پر سوار اسرائیلی مسافروں کی بے مثال جرات کی کہانیاں الگ کہ ایک پلمبر نے دندان ساز کی مدد سے بے قابو جہاز کو ہموار کردیا۔ جہاز اڑانے کا باتصویر قاعدہ دیکھ کر پائلٹ بن جانیوالے پلمبر، شاباش لینے  مقبوضہ یروشلم کے امریکی سفارت خانے پہنچے۔ اس موقع پر امریکی سفیر مائک ہکابی نے انھیں صدر ٹرمپ کی MAGA ٹوپی پیش کی۔ اسرائیلی مسافروں کی بہادری کی علامت کے طور پر  خون آلود قیمصوں کی نمائش بھی جاری ہے۔ گویا برادران یوسفؑ کی طرح جھوٹ موٹ خون کے دھبے دکھانے کا ہزاروں سال پرانا حربہ استعمال ہورہاہے۔ اسرائیل میں بھارتی نژاد کپتان کو ہیرو کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے اور نیتن یاہو نے اسے اسرائیل کے لئے بھارتی قوم کے اخلاص کی ایک روشن و قابلِ تقلید مثال قرار دیا ہے۔اس حوالے سے تازہ ترین انکشاف عبرانی ذرایع ابلاغ کے ذریعہ آیا ہے، جسکے مطابق حمام الحمامی کا ارادہ تھا کہ پائلٹ کو قتل کرنے کے بعد جہاز کا کنٹرول سنبھال کر اسے تل ابیب میں کسی بلند وبالا عمارت یا بن گوریان ائرپورٹ پرکھڑے جہازوں سے ٹکرادے۔ ٹائمز آف اسرائیل نے 4 اکتوبر کو یہ خبر ان اماراتی حکام کے حوالے سے شایع کی ہے جو مبینہ طور پر نائب پائلٹ سے تفتیش کررہے ہیں۔

یوں محسوس ہوتا ہے کہ ایک مخصوص عوامی تاثر پیدا کرنے کے لئے خوفناک مفروضے اور علامتی منظرنامے تشکیل دیے جا رہے ہیں۔ اس پوری مہم کا ہدف صرف ایک فضائی واقعے کی تشریح نہیں بلکہ یہ مسلمانوں کے خلاف عالمی سطح پر پھیلائے گئے شکوک اور خدشات کو مزید تقویت دینے کی ایک منظم کوشش نظر آرہی ہے جسے سنسنی خیز صحافت کہہ کر نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔عمانی نائب پائلٹ کے انتہا پسند مسلمان ہونے کی کہانیاں مسلمان پائلٹوں پر عالمی فضا بندکردینے کی پیش بندی لگ رہی ہے۔

ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل کراچی 11 اکتوبر 2026

ہفت روزہ دعوت دہلی 11 اکتوبر 2026

ہفت روزہ رہبر سرینگر 13 اکتوبر 2026


 

غزہ جو ایک شہر تھا

تباہ شدہ پٹی اور ’’امن‘‘ کے نام پر جاری سفارتی نشست و برخاست

ملبے سے اٹھتے سوالات

سات اکتوبر کو غزہ پر ڈھائی جانیوالی وحشت کے تین سال مکمل ہوگئے۔ یہ کوئی مختصر مدت نہیں ہوتی۔اس عرصے میں پیداہونے والا بچہ اسکول جانے کے قابل ہوجاتا ہے، شہر میں نئی سڑکیں بنتی ہیں، اجڑے گھر آباد ہوجاتے ہیں اور جنگوں کے زخم بھی آہستہ آہستہ مندمل ہونے لگتے ہیں۔ لیکن تین سال گزرجانے کے بعد بھی انسانیت کے ماتھے پر لگے اس زخم سے ملبے، خیموں، قبروں اور گمشدہ انسانوں کی صورت متعفن مواد ٹپک رہا ہے۔

یہ تین سال صرف کیلنڈر کے تین سال نہیں بلکہ ایک پوری آبادی کی زندگی کے تین سال ہیں۔ ان میں ہزاروں خاندان اجڑ گئے، لاکھوں لوگ بار بار بے گھر ہوئے اور ایک ایسا علاقہ جسے پہلے ہی طویل محاصرے اور پابندیوں نے کمزور کردیا تھا، تباہ شدہ شہروں اور ناکارہ بنیادی ڈھانچے کے ایک وسیع منظرنامے میں تبدیل ہوگیا۔

اعداد جو انسانوں کی کہانی ہیں

یکم اکتوبر تک غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق اسرائیلی حملوں میں کم از کم 74040 فلسطینی جاں بحق اور 175168 زخمی ہوچکے تھے۔ ان اعداد میں وہ ہزاروں لوگ شامل نہیں جو ملبے تلے لاپتا ہیں یا جن کی لاشیں ابھی تک نکالی نہیں جاسکیں۔ انھیں محض اعداد سمجھنا کٹھوردلی ہوگا۔ یہ 74 ہزار خاندانوں، گھروں، والدین، بچوں، بہن بھائیوں اور دوستوں کے درمیان پیدا ہونے والے خلا کا نام ہے۔زخمیوں کی تعداد اس سے بھی زیادہ ہولناک ہے۔ ایک لاکھ 75 ہزار سے زیادہ زخمیوں میں ہزاروں ایسے ہیں جو زندگی بھر کے لیے معذوری، اعضا سے محرومی یا شدید جسمانی صدمے کے ساتھ زندہ رہیں گے۔ اقوام متحدہ کے مطابق 2026 کے آغاز تک ہی 43 ہزار سے زیادہ فلسطینی ایسی زندگی بدل دینے والی چوٹوں کا شکار ہوچکے تھے جنہیں طویل مدتی بحالی کی ضرورت تھی، جبکہ  غزہ میں صحت کا پورا نظام اسرائیلی فوج تباہ کرچکی ہے۔

ملبے میں دبا ہوا غزہ

غزہ کی تباہی صرف گھروں کی تباہی نہیں۔ اپریل 2026 میں اقوام متحدہ، عالمی بینک اور یورپی یونین کے مشترکہ جائزے میں بتایا گیا کہ 371888 رہائشی یونٹس تباہ یا متاثر ہوچکے ہیں۔ نصف سے زیادہ ہسپتال غیر فعال ہیں اور تقریباً تمام اسکول کسی نہ کسی درجے میں تباہ یا متاثر ہوئے ہیں۔ غزہ کی معیشت 84 فیصد سکڑ چکی ہے اور انسانی ترقی کو اندازاً 77 سال پیچھے دھکیل دیا گیا ہے۔شہری ڈھانچے کو پہنچنے والے نقصان کا تخمینہ 35 ارب   ارب ڈالر لگایا گیا ہے، جبکہ تعمیرِ نو اور بحالی کی مجموعی ضرورت 71 ارب ڈالر سے زیادہ  ہے۔ یعنی مسئلہ صرف یہ نہیں کہ غزہ کے لوگوں کے گھر دوبارہ بنائے جائیں؛ مسئلہ یہ ہے کہ ایک پوری زندگی کو دوبارہ تعمیر کرنا ہوگا۔

اسکول، ہسپتال اور پانی بھی ملبے میں

جنگ میں فوجی اہداف اور شہری تنصیبات کے درمیان فرق بین الاقوامی انسانی قانون کا بنیادی اصول ہے۔ ہسپتال، اسکول، رہائشی عمارتیں، آبنوشی کی تنصیبات اور امدادی مراکز اپنی شہری حیثیت کی وجہ سے خصوصی تحفظ رکھتے ہیں۔ کسی شہری عمارت کو صرف اس دعوے کی بنیاد پر فوجی ہدف نہیں بنایا جاسکتا کہ وہاں کوئی جنگجو موجود ہوسکتا ہے۔ فوجی کارروائی میں امتیاز، تناسب اور احتیاط کے اصول بہرحال لاگو رہتے ہیں۔غزہ میں مسئلہ اس لئے بھی سنگین ہے کہ پانی اور صفائی کا بنیادی ڈھانچہ بھی تباہی کا شکار ہے۔ ستمبر کی ایک رپورٹ میں اقوام متحدہ نے بتایا کہ غزہ کی 94 فیصد آبادی کو فوری پناہ اور بنیادی گھریلو امداد کی ضرورت ہے جبکہ 65 فیصد گھرانے اب بھی خیموں یا عارضی پناہ گاہوں میں زندگی گزار رہے ہیں۔

کیا یہ صرف جنگ ہے؟

یہ سوال اب محض سیاسی بحث نہیں رہا کہ غزہ میں جو کچھ ہوا اسے کس قانونی اصطلاح میں بیان کیا جائے۔ جنگی جرائم، جرائمِ انسانیت، نسل کشی اور نسلی تطہیر الگ الگ قانونی تصورات ہیں اور ہر ایک کے اپنے عناصر ہیں۔کسی شہری آبادی کو جان بوجھ کر نشانہ بنانا، بھوک کو جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا، جبری منتقلی یا شہری آبادی کے خلاف وسیع پیمانے پر حملے بین الاقوامی قانون کے تحت سنگین جرائم ہیں۔ کسی نسلی یا مذہبی اکائی کو مکمل یا جزوی طور پر تباہ کرنے کا مخصوص ارادہ منشورِ روم (Rome Statute)کے تحت ’’نسلی تطہیر‘‘ ہے۔ گویا جذباتی اندازِ گفتگو کے ساتھ قانونی زبان میں بھی اسرائیل انسانیت سوز جرائم کا مرتکب ہورہا ہے۔

عدالت کا وارنٹ، مگر جنگ جاری

بین الاقوامی فوجداری عدالت (ICC)نے 21 نومبر 2024 کو اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو اور اس وقت کے وزیر دفاع یوآو گیلنٹ کے خلاف گرفتاری کے وارنٹ جاری کئے۔ عدالت نے ان کے خلاف مبینہ جنگی جرائم اور جرائمِ انسانیت سے متعلق الزامات بیان کئے، جن میں شہری آبادی کو جان بوجھ کر نشانہ بنانے اور بھوک کو جنگی طریقے کے طور پر استعمال کرنے کے الزامات بھی شامل ہیں۔ لیکن اس قانونی پیش رفت کے باوجود غزہ کی تباہی رک نہیں سکی اور رکتی بھی کیسے کہ وارنٹ کی تعمیل کے بجائے امریکہ نے فیصلہ سنانے والے ججوں پر ہی تادیبی پابندیاں عائد کردیں اور اقوام متحدہ کے سربراہی اجلاس میں صدر ٹرمپ نے بہت ہی جارحانہ انداز میں ICC کی مذمت کی۔اسی پشت پناہی کا نتیجہ ہے کہ اکتوبر 2025 میں جنگ بندی کے بعد بھی ہلاکتیں اور حملے مکمل طور پر ختم نہیں ہوئے۔ اس سال یکم اکتوبر تک جنگ بندی کے بعد 1439 فلسطینی جاں بحق اور 5052 زخمی رپورٹ کئے جاچکے ہیں۔شرمناک بات کہ امریکی صدر نے اقوام متحدہ میں اس 'جنگ بندی' کو اپنی کامیاب سفارتکاری کے ثبوت کے طور پر پیش کیا۔

کاغذی امن  

امریکہ کی سرپرستی میں قائم بورڈ آف پیس سے امید تھی کہ وہ غزہ کے لئے جنگ کے بعد کا سیاسی اور انتظامی راستہ ہموار کرے گا۔ جنوری 2026 میں اس کا باقاعدہ ڈھانچہ تشکیل پایا، نیشنل کمیٹی فار دی ایڈمنسٹریشن آف غزہ بنائی گئی اور بین الاقوامی استحکام فوج کے لئے بھی منصوبہ بندی شروع ہوئی۔ لیکن ایک سال گزرجانے کے بعد بھی زمینی حقیقت یہ ہے کہ فلسطینی انتظامی کمیٹی غزہ میں اپنی حکومتی ذمہ داریاں سنبھالنے کے قابل ہوئی اور نہ بین الاقوامی استحکام فورس کے اہلکار زمین پر تعینات ہوئے۔ستمبر میں بورڈ نے 66 منصوبوں پر مشتمل ڈھائی ارب ڈالر کا ابتدائی تعمیرِ نو پروگرام بھی پیش کیا۔ یہ منصوبے کاغذ پر ضرور اہم ہیں، لیکن اہلِ غزہ کے لئے اصل سوال یہ ہے کہ خیمہ کب گھر بنے گا، بچہ کب اسکول جائے گا، مریض کو دوا کب ملے گی اور ملبے کے نیچے اپنے پیاروں کو تلاش کرنے والا خاندان کب اپنے مردے دفن کرسکے گا؟

غزہ کے معاملے میں دنیا نے قراردادیں منظور کیں، کانفرنسیں کیں، بیانات جاری کئے، وفود بھیجے، اجلاس بلائے اور نئے ادارے قائم کئے۔ لیکن 1096 دن بعد بھی ایک عام فلسطینی کے لئے امن کا مطلب شاید اتنا ہی ہے کہ اگلی رات اس کا خیمہ میزائل کا نشانہ نہ بنے۔یہ سوال ان تمام طاقتوں سے ہے جو جنگ روکنے، انسانی امداد پہنچانے اور غزہ کی تعمیرِ نو کا اختیار اور اثر و رسوخ رکھتی ہیں۔ اگر ہزاروں بچوں کی موت، لاکھوں زخمیوں، بے شمار بے گھر انسانوں، تباہ ہسپتالوں، اسکولوں، پانی کے نظام اور ملبے کے پہاڑوں کے بعد بھی غزہ والے ’’اگلے اجلاس‘‘ کا انتظار کرینگے تو پھر سفارت کاری اور بے بسی میں فرق کیا رہ جاتا ہے؟ اس جنگ کی تیسری برسی پر شاید سب سے زیادہ تکلیف دہ تصویر کوئی بمباری یا ملبے کا منظر نہیں بلکہ ایک ایسا بچہ ہے جو تین سال بعد بھی نہیں جانتا کہ اس کا گھر کہاں تھا۔تین سال پہلے غزہ میں گھر تھے، اسکول تھے، ہسپتال تھے، مسجدیں اور گرجا گھر تھے، بازار تھے، سڑکیں تھیں اور ان سب کے درمیان معمول کی زندگی تھی۔ آج سب کچھ ملبے میں تبدیل ہوچکا ہے۔ غزہ کی تیسری برسی کا سب سے بڑا سوال یہی ہے کہ کیا دنیا ان انسانوں کو صرف اعداد کی صورت میں یاد رکھے گی، یا کبھی ایسا دن بھی آئے گا جب انصاف، سفارتی نشست و برخاست سے نکل کر زمین پر اترے گا؟

ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل کراچی 11 اکتوبر 2026

ہفت روزہ دعوت دہلی 11 اکتوبر 2026

ہفت روزہ رہبر سرینگر 13 اکتوبر 2026


Thursday, October 1, 2026

 

ہرمز کی چابی، جنگ کا دروازہ اور کھیل کے میدان میں غزہ کی گونج

چوبیس (24) ستمبر کو ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اقوام متحدہ میں صحافیوں کو بتایا کہ تہران نے قطر کے ذریعے واشنگٹن کو ایک منصوبہ پیش کیا ہے جس کے تحت امریکی اقدامات کے جواب میں سات روز کے اندر آبنائے ہرمز کو معمول کی تجارتی جہاز رانی کے لئے کھولا جاسکتا ہے۔ ایرانی شرائط میں تمام محاذوں پر جنگ بندی، امریکی ناکہ بندی کا خاتمہ، ایرانی تیل کی برآمدات پر پابندیوں میں نرمی اور تقریباً 12 ارب ڈالر کے منجمد ایرانی اثاثوں کی بازیابی شامل تھی۔اس کے بعد ساتویں روز ہرمز کھولنے اور حتمی معاہدے کے لئے مذاکرات کا آغاز تجویز کیا گیا۔بظاہر یہ کوئی بالکل نیا فارمولہ نہیں بلکہ جون میں یادادشتِ اسلام آباد کی صورت امریکہ ان شرائط کو تسلیم کرچکاہے لیکن صدر ٹرمپ نے اسے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ایران جنگ میں پئے در پئے نقصان اٹھانے کے باعث معاہدے کی پیشکش کررہا ہے۔ دوسری طرف وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق نومبر کے وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران کے خلاف نئی بمباری کا امکان بھی زیرِ غور ہے۔ صدر ٹرمپ اقوام متحدہ میں یہ بھی کہہ چکے ہیں کہ معاہدہ نہ ہونے کی صورت میں ایران کو ’’فنا‘‘ کرنے کا راستہ موجود ہے۔

ہرمز صرف ایران کا مسئلہ نہیں

ہرمز صرف ایران اور امریکہ کا مسئلہ نہیں۔ یہ عالمی توانائی کی ترسیل کی اہم شاہراہ ہے۔ اس کی بندش نے جنگ کے اثرات کو دونوں ملکوں سے کہیں آگے پہنچا دیا ہے۔ ایران کی سات روزہ پیشکش میں جوہری مسئلے پر مذاکرات بھی شامل ہیں۔ گویا یہ صرف ہرمز کھولنے کی پیشکش نہیں بلکہ جنگ سے نکلنے کے لئے ایک سفارتی دروازہ بھی ہے۔ سوال یہی ہے کہ شدید ترین بمباری کے باوجود اگر مطلوبہ سیاسی اہداف حاصل نہیں ہوئے تو نئی بمباری ان کے حصول کی کیا نئی ضمانت فراہم کرے گی؟

ایرانی صدر: میدانِ جنگ اور میزِ مذاکرات کہیں سے فرار نہیں ہونگے

اقوام متحدہ میں ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے کہا کہ ایران نے جنگ شروع نہیں کی بلکہ اس پر جنگ مسلط کی گئی، تاہم ایران نہ میدانِ جنگ سے بھاگا ہے اور نہ مذاکرات کی میز سے۔ ان کا یہ مؤقف دفاع کے عزم کے ساتھ مذاکرات کا دروازہ کھلا رکھنے کا واضح اظہار تھا۔ تازہ ایرانی پیشکش میں جوہری معاملے پر بات چیت بھی شامل ہے، اس لئے اسے جنگ سے نکلنے کی ایک سفارتی کوشش بھی سمجھا جاسکتا ہے۔

نیتن یاہو کا فاتحانہ بیانیہ

دوسری طرف اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے اقوام متحدہ میں ایران کے خلاف کارروائی کو فیصلہ کن کامیابی کے طور پر پیش کیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکی مدد سے ایران کی بحریہ، فضائیہ اور زمینی فوج کو تباہ کردیا گیا اور ایرانی قیادت کے متعدد اہم افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ انہوں نے ایران پر حملے کو اپنے وزیراعظم بننے کے بعد کئے گئے ’’آسان ترین فیصلوں‘‘ میں شمار کیا۔ یوں ایک طرف ایران مذاکرات کی پیشکش کررہا ہے اور دوسری جانب اسرائیل کیلئے یہ فیصلہ کن فتح ہے۔

سعودی عرب کا دفاع اور مکہ معاہدہ

اسی دوران یمن کے حوثیوں اور سعودی عرب کے درمیان کشیدگی نے ایک نیا علاقائی پہلو اختیار کرلیا ہے۔ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان دفاعی تعاون کو عملی شکل دینے کے لیے ریاض میں تینوں ملکوں کے فوجی سربراہوں کی ملاقات ہوئی۔اس معاہدے کا بنیادی تصور یہ ہے کہ کسی ایک رکن کے خلاف حملہ تینوں کے خلاف حملہ تصور کیا جائے۔ تاہم ابھی یہ واضح نہیں کہ حوثیوں کے حملوں کی صورت میں پاکستان یا ترکیہ کس نوعیت کی عملی فوجی مدد فراہم کریں گے۔ اقوام متحدہ کے اجلاس کے موقع پر پاکستان، ترکیہ، سعودی عرب اور مصر نے بھی سعودی عرب کے اپنے دفاع کے حق کی حمایت کرتے ہوئے مذاکرات اور سفارت کاری کو پائیدار حل کا راستہ قرار دیا تھا۔

اسلام آباد کا مشکل توازن

پاکستان کے لیے معاملہ خاصا پیچیدہ ہے۔ جہاں سعودی عرب اس کا قریبی دفاعی اور معاشی شراکت دار تو ایران کے ساتھ اس کا ہمسائیگی کا رشتہ ہے۔ مزید اہم بات یہ ہے کہ اسلام آباد، امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لئے ثالثی کا کردار بھی ادا کررہا ہے۔ چنانچہ سعودی عرب کی سلامتی کی حمایت اور ایران کے ساتھ سفارتی رابطے کو بیک وقت برقرار رکھنا پاکستان کے لیے ایک نازک توازن ہے۔ سعودی عرب کے دفاعی حق کی حمایت اور کسی براہِ راست جنگ میں شریک ہونے کے درمیان ایک واضح فرق موجود ہے، اور اسلام آباد کے لئے اس فرق کی اہمیت بڑھ گئی ہے۔ حوثی تحریک ایران کے قریب سمجھی جاتی ہے، لیکن ہر حوثی کارروائی کو براہِ راست ایرانی حکم کا نتیجہ قرار دینا بھی درست نہیں ہوگا۔اگر پاکستان سعودی دفاعی معاہدے کے تحت کسی عملی فوجی کارروائی میں شریک ہوتا ہے تو تہران اسے محض سعودی عرب کی دفاعی مدد کے طور پر دیکھے گا یا ایران مخالف علاقائی صف بندی کے حصے کے طور پر، یہ ایک اہم سفارتی سوال ہے۔

افغانستان کے بعد ایک اور محاذ؟

پاکستان کو اس پہلو سے بھی محتاط رہنا ہوگا کہ افغانستان کے ساتھ اس کے تعلقات پہلے ہی کشیدہ ہیں۔ ایسے میں ایران کے ساتھ تعلقات میں مزید تناؤ پاکستان کے لئے اضافی تزویراتی دباؤ پیدا کرسکتا ہے۔قریبی دوست کی حیثیت سے سعودی عرب کا ساتھ دینا پاکستان کے لئے اہم ہے، لیکن ساتھ دینے کی صورت بھی کم اہم نہیں۔ اگر اسلام آباد سعودی عرب کے دفاعی حق کی حمایت کرتے ہوئے سفارتی اور سیاسی کردار برقرار رکھتا ہے تو وہ دونوں فریقوں کے درمیان رابطے کا راستہ کھلا رکھ سکتا ہے۔ اس کے برعکس اگر پاکستانی فوج براہِ راست حوثیوں کے خلاف جنگ کا حصہ بن جاتی ہے تو ایران کے ساتھ اعتماد اور پاکستان کی ثالثی کی ساکھ متاثر ہونے کا امکان پیدا ہوسکتا ہے۔ پاکستان کے لیے شاید اصل سوال یہ نہیں کہ سعودی عرب کا ساتھ دینا ہے یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ سعودی عرب کی سلامتی کے ساتھ کھڑے ہوتے ہوئے اسلحہ اٹھائے بغیر سفارتی کردار کیسے برقرار رکھا جائے۔ ایران اور سعودی عرب دونوں سے تعلقات رکھنے والے پاکستان کے لئے مذاکرات کی میز پر اثرانداز ہونا شاید میدانِ جنگ میں اترنے سے کہیں زیادہ اہم سفارتی اثاثہ ثابت ہوسکتا ہے۔

فٹبال کا میدان ۔۔ غزہ کا قبرستان

آجکل یورپین فٹبال فیڈریشن (UEFA)کے میچ ہورہے ہیں۔ لیگ کی صورت میں کھیلے جانیوالے میچ، اگلے برس جون تک جاری رہینگے۔ ترکیہ سمیت 54 ممالک یورپ کے اس سب سے بڑے کھیل میلے میں حصہ لے رہے ہیں۔ اسرائیل، یہودا السامرہ (غرب اردن) کو اپنی ارض موعود (Promised Land)قرار دیتا ہے لیکن سیاسی و معاشرتی حوالے اُسے یورپین ہونے پر اصرار ہے۔ اتوار (27ستمبر) کو ہنگری کے شہر ڈیبرسن (Debrecen)میں آئرلینڈ اور اسرائیل کے درمیان میچ اس شان سے ہوا کہ اسٹیڈیم تقریباً خالی تھا۔ آئرلینڈ کے گول کیپر گیون بازونو نے غزہ میں بے گناہوں کے قتل کے خلاف ہوئے میچ سے دستبرداری اختیار کرلی اورمیدان میں اترنے والے آئرش کھلاڑیوں نے اپنے بازووں پر سیاہ پٹیاں باندھ رکھی تھیں۔ اسرائیلی قومی ترانے کے دوران انھوں نے سر جھکا لئے اور دونوں ٹیموں کے درمیان روایتی مصافحہ بھی نہیں ہوا۔ آئرش ٹیم کے کپتان دارا اوشے جب میچ کے آغاز پر ٹاس کیلئے میدان میں آئے تو روائتی انداز میں تماشائیوں کی طرف ہاتھ ہلانے اور V کا نشان بنانے کے بجائے مشکیں کسے فلسطینی قیدیوں سے ہم اہنگی کیلئے انکے ہاتھ انکی پشت پر تھے۔ انھوں نے ٹاس سے پہلے ریفری سے مصافحہ کیا اور جب اسرائیلی کپتان نے ہاتھ بڑھایا تو اوشے نے اپنے دونوں ہاتھ پیچھے کرکے منہہ دوسری طرف پھیرلیا۔اسرائیلی کھلاڑیوں نے اس توہین آمیز روئے کے خلاف احتجاج کیا لیکن آئرش کوچ اور کھلاڑیوں نے اسے غزہ کے حالات پر اپنے احتجاج اور آگاہی کا اظہار کرتے ہوئے مسترد کردیا۔

خاموش نشریات

آئرلینڈ کا سرکاری نشریاتی ادارہ RTÉ بھی معمول کی کوریج سے پیچھے ہٹ گیا۔ معاہداتی ذمہ داری کے باعث میچ نشر تو کیا گیا، مگر نہ اسٹوڈیو پروگرام تھا، نہ تجزیہ کار اور نہ RTÉ کا اپنا کمنٹیٹر؛ UEFA کی عالمی فیڈ استعمال کی گئی۔یوں خالی نشستیں، سیاہ پٹیاں، جھکے ہوئے سر اور خاموش نشریات غزہ کے المیے کی علامتی تصویر بن گئی۔ آئرلینڈ نے تین گول کئے لیکن تالیاں، شائقین کے رقص اور نہ فاتحانہ نعرے۔اس میچ کی سب سے نمایاں آواز شاید وہ خاموشی تھی جو خالی نشستوں اور بے رنگ نشریات میں سنائی دے رہی تھی۔ خموشی گفتگو ہے، بے زبانی ہے زباں میری۔

ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل کراچی 2 اکتوبر 2026

ہفت روزہ دعوت دہلی 2 اکتوبر 2026

ہفت روزہ رہبر سرینگر 4 اکتوبر 2026


 

اقوام متحدہ کی تقریریں، فلسطین کی زمینی حقیقت

اقوامِ عالم کا دو ریاستی حل پر اصرار۔ بمباری، آبادکاری، گرفتاری اور بے دخلی کا سلسلہ جاری

اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کے حالیہ اجلاس میں فرانس، چین، آئرلینڈ، برطانیہ اور دیگر ممالک کے رہنماؤں نے غزہ کی تباہی، فلسطینی ریاست اور دو ریاستی حل کے حق میں مؤثر آواز اٹھائی۔ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے بھی واضح کیا کہ اسرائیل اور فلسطین کی 1967 سے پہلے کی حدود  پر دو خودمختار ریاستیں پائیدار امن کا بنیادی راستہ ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ غربِ اردن میں آبادکاری، زمین پر قبضے اور بے دخلی کی پالیسیاں ایک قابلِ عمل فلسطینی ریاست کے امکانات کو محدود کر رہی ہیں۔

میکراں کا سوال اور دنیا کی خاموشی

فرانسیسی صدر ایمانوئل میکراں نے غزہ کی صورتِ حال پر انتہائی جذباتی انداز میں سوال اٹھایا کہ اگر دنیا غزہ کے المئے پر خاموش اور غیرمتحرک رہے گی تو عالمی برادری کی ساکھ کیا رہ جائے گی۔ چینی نائب صدر ہان ژینگ نے فلسطینی خودمختاری اور فلسطینیوں کے ذریعے غزہ کی تعمیر نو پر زور دیا، جبکہ اسپین کے وزیراعظم پیدرو سانچیز نے اسرائیلی وزیراعظم پر غزہ میں ’’نسل کشی جاری رکھنے‘‘ کا الزام عائد کیا۔ تاہم ان تقاریر کے باوجود ایسا کوئی مشترکہ عملی قدم سامنے نہیں آیا جو غزہ میں فوری طور پر انسانی امداد کی راہ کھول سکے یا غربِ اردن میں فلسطینیوں کے لئے حقیقی تحفظ پیدا کرے۔ یہی وہ فرق ہے جو تقریر اور پالیسی کے درمیان نمایاں ہوتا ہے۔ جناب گوتریس نے خود کہا کہ فلسطین کی حمایت تقریروں اور قراردادوں سے آگے بڑھ کر پالیسی، فیصلوں اور عملی اقدامات میں تبدیل ہونی چاہئے۔

تقریروں کے جواب میں سفارتی دباؤ

اس کے برعکس اسرائیل نے بعض یورپی اقدامات کا جواب سفارتی پابندیوں سے دیا۔ نیدرلینڈز کی جانب سے مقبوضہ علاقوں کی اسرائیلی بستیوں سے درآمدات پر پابندی کے بعد اسرائیل نے رام اللہ میں تعینات ولندیزی (ڈچ) سفارت کاروں کو سات روز میں اسرائیلی جاری کردہ سفارتی دستاویزات واپس کرنے کا حکم دیا ہے۔

ٹرمپ اور نیتن یاہو: دو مختلف تقریریں، ایک دفاعی بیانیہ

صدر ٹرمپ کی تقریر، 7 اکتوبر 2023 کے واقعے کی مذمت اور غزہ سے اسرائیلی قیدیوں کی رہائی کیلئے اپنی تعریف تک محدود رہی۔ ٹرمپ انتظامیہ نے دہشت گردوں کی سہولت کاری کے الزام میں مقتدرہ فلسطین (PA)کے سربراہ محمود عباس کو جنرل اسمبلی سے خطاب کیلئے ویزا دینے سے انکار کردیا۔ امریکہ نے گزشتہ برس بھی محمود عباس کو ویزا نہیں دیا تھا۔

اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی تقریر اس سے بھی زیادہ دفاعی اور جارحانہ لہجے میں تھی۔ انکی تقریر شروع ہونے سے قبل جب 70کے قریب وفود ایوان سے باہر چلے گئے تو نیتن یاہو نے باقی ماندہ مندوبین کو بھی ’’اخلاقی بزدل‘‘ کہہ کر مخاطب کیا۔ انہوں نے غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کو ’’حقِ دفاع‘‘ اور نسل کشی کے الزام کو ’’صدی کا سب سے بڑا جھوٹ‘‘ قراردیا۔انکے خطاب کا بڑا حصہ اسرائیل کے دفاع اور ایران، قطر و ترکیہ  کے خلاف دلائل پر مشتمل تھا نیتن یاہو کی تقریر کے دوران اقوامِ متحدہ کے ہیڈکواٹر کے باہر بھی زبردست مظاہرہ ہوا۔غیرقانونی دھرنے کے الزام میں آسکر ایوارڈ یافتہ اداکارہ سوزن سارینڈن اور ایمی ایوارڈ یافتہ ہنا آئن بائنڈر سمیت کم از کم 30 افراد کو پولیس نے گرفتارکرلیا۔

تاریخ اور موجودہ سیاست

نیتن یاہو نے گولان کی پہاڑیوں کے حوالے سے کہا کہ یہودی وہاں حضرت موسیٰؑ کے زمانے سے موجود رہے ہیں۔ قدیم اسرائیلیوں اور یہودا/یہودی شناخت کی تاریخ ایک پیچیدہ علمی موضوع ہے۔ ’’اسرائیلی‘‘، ’’بنی اسرائیل‘‘، ’’یہودا‘‘ اور ’’یہودی‘‘ کی اصطلاحات مختلف تاریخی ادوار میں مختلف معنوں میں استعمال ہوئی ہیں۔ اس لئے قدیم مذہبی یا تاریخی وابستگی کو موجودہ سیاسی حاکمیت کا براہِ راست ثبوت قرار دینا ایک الگ سیاسی و قانونی دعویٰ ہے۔

اسی طرح نیتن یاہو نے 1967 کی جنگ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت اسرائیل غربِ اردن، غزہ اور گولان میں موجود نہیں تھا اور جنگ کے نتیجے میں وہ ان علاقوں تک پہنچا۔ لیکن جدید بین الاقوامی قانون کا بنیادی اصول یہ ہے کہ جنگ کے ذریعے کسی علاقے پر قبضہ اس کی قانونی ملکیت منتقل نہیں کرتا۔ اقوام متحدہ بھی مسلسل دو ریاستی حل کو 1967 سے پہلے کی حدود کی بنیاد پر پیش کرتی ہے۔

زمین پر تقریروں کا جواب

اقوام متحدہ میں امن اور دو ریاستی حل کی آوازوں کے باوجود غزہ اور غربِ اردن میں تشدد کا سلسلہ جاری رہا۔ غزہ میں 24 ستمبر کو ایک اسرائیلی فوجی FPV ڈرون ’’عَطَلَف‘‘، یعنی چمگادڑ، فوجی اڈے کے اندر گر کر پھٹ گیا، جس سے دو اسرائیلی ریزرو فوجی ہلاک ہوئے۔

غربِ اردن کی صورتِ حال بھی تشویش ناک ہے۔ اقوام متحدہ کے دفتر برائے رابطۂ انسانی امور (OCHA) کے مطابق جنوری سے اگست 2026 کے دوران اسرائیلی فوج یا آبادکاروں کے ہاتھوں 82 فلسطینی جاں بحق اور تقریباً 1900 زخمی ہوئے۔ آبادکاروں کے حملوں سے فلسطینیوں کے زخمی ہونے کی اوسط اس سال یومیہ تین سے زیادہ  رہی۔ اسی عرصے میں آبادکاروں کے 1600 سے زیادہ ایسے حملے ریکارڈ کئے گئے جن میں فلسطینیوں کو جانی یا املاک کو نقصان پہنچا۔

بچوں کی شرارتیں؟؟

اقوامِ عالم سے خطاب کے دوران نیتن یاہو نے غرب اردن میں تشدد اور آبادکاروں کی دہشت گردی کو 'بچوں کی شرارتیں' قراردیا تھا۔اس تقریر کے بعد سے پچھلے چاردنوں کی شرارتیں کچھ اسطرح ہیں:

  • نابلوس کے گاوں قریوط پر قبضہ گردوں کا حملہ۔ ایک خاتون کو چھرا گھونپ دیا گیا۔
  • نابلوس ہی کے ایک اور گاوں جالود میں کچھ عرصہ پہلے آبادکاروں نے تیں مکانون پر قبضہ کرلیا تھا۔ عدالت نے اشک شوئی کیلئے یہ قبضہ غیر قانونی قراردیدیا۔جب  28 ستمبر کو عدالت کے حکم پر فوج قبضہ چھڑانے پہنچی تو قابض دہشت گرد ان مکانوں کو آگ لگاکر فوجی سرپرستی میں 'فرار' ہوگئے۔

گھر چھن جائے، وطن نہیں

تشدد، بے دخلی اور آبادکاری کے باوجود بہت سے فلسطینی اپنا علاقہ چھوڑنے پر آمادہ نہیں۔ تلکرم کی خدیجہ کا گھر قبضہ گردوں نے چھین لیا تو اس نے سایہِ دیوار اپنا نیا ٹھکانہ بنا لیا۔ یہ واقعات شاید اس حقیقت کی علامت ہیں کہ فلسطینیوں کے لیے گھر صرف ایک عمارت نہیں؛ زمین اور وطن سے تعلق بھی ان کی شناخت کا حصہ ہے۔

الخلیل سے الاقصیٰ تک

الخلیل میں مسلح قبضہ گردوں کے ہاتھوں فلسطینی خواتین کی ہراسانی کی تصویر شایع ہوئی۔ اسی دوران فلسطینی قیدیوں پر ہونے والے تشدد کا بصری تراشہ اسرائیلی ذرائع ابلاغ پر عام ہوا۔ انتہائی حساس قید خانے میں یہ فلم بندی فوج کی مرضی سے بغیر ممکن نہیں اور سیاسی کارکنوں کا خیال ہے کہ فلسطینیوں کوخوفزدہ کرنے کیلئے قیدیوں پر تشدد کے یہ  تراشے خود اسرائیلی فوج جاری کرتی ہے۔ مسجد اقصیٰ میں دراندازی کے واقعات بھی جاری ہیں۔ ستمبر کے آخری سبت( 26 ستمبر) کو ایک ہزار کے قریب انتہاپسند مسجد کے احاطے میں داخل ہوگئے۔ اس دوران سارا یروشلم ہمارا ہے، مسجد اقصیٰ کو مکہ منتقل کروکے لگائے گئے۔

انتخابی مہم کے دوران اشتعال انگیز تقاریر میں عرب نمائندگی کا سوال

فلسطین کا مسئلہ اسرائیل کی داخلی سیاست پر بھی اثرانداز ہورہا ہے۔ انتہا پسند جماعت کے سربراہ اور وزیرخزانہ بیزلیل اسموترچ نے ایک جلسے میں فوج سے مطالبہ کیا کہ غرب اردن میں بمباری سمیت غزہ کی طرح بھرپور عسکری کاروائی کی جائے۔عام انتخابات میں بھی عربوں اسے متیازی سلوک واضح نظر آرہا ہے۔بدھ 23 ستمبر کو اسرائیل کی مرکزی الیکشن کمیٹی نے عرب اکثریتی جماعت رعم (Ra'am) اور جوائنٹ لسٹ (Joint List) کو 27 اکتوبر کے انتخابات میں حصہ لینے کی قراداد پیش کی۔ فیصلے کیلئے ہونے والی سماعت میں وزیراندرونی سلامتی اتامر بن گوئر نے نکتہ اٹھایا کہ ان جماعتوں کے نمائندے اجلاس کیلئے خطرے کا سبب بن سکتے ہیں چنانچہ الیکشن کمیشن نے ان جماعتوں کو اپنا موقف مجازی (online)بیان کرنے کا حکم دیا۔ رعم نے آن لائن آنے سے انکار کردیا جبکہ بلد کے سربرہ سمیع ابو شہادہ نے کمیشن سے مواصلاتی خطاب کیا۔ جسکے بعد سیاسی جماعتوں نے 5 کے مقابلے میں 18 ووٹوں سے عرب متحدہ محاذ اور رعم کو انتخابات کیلئے نااہل قراردیدیا.تاہم  یہ فیصلہ حتمی نہیں اور جماعتوں کو اپیل کا حق حاصل ہے ۔

زیتون کا درخت: ایک علامت

فلسطینی زمین کی شناخت سمجھی جانے والی زیتون کی فصلوں کو اجاڑنے اور پودے اکھاڑنے کا سلسلہ جاری ہے۔ٹائمز آف اسرائیل میں شائع ہونے والی تصاویر سے اندازہ ہوتا ہے کہ کئی جگہ اس کام کیلئے فوجی بلڈوزر استعمال ہوئے۔ دوسری طرف اسرائیلی وزیراعظم کی نیویارک آمد پر رئیسِ شہر زہران ممدانی نے اپنی سرکاری رہائش گاہ پر ایک فلسطینی خاندان کے ہاتھوں زیتون کا پودا لگوایا۔ ایک طرف درخت اکھاڑنے کا منظر ہے، دوسری طرف درخت لگانے کا عمل؛ شاید یہی دو متضاد تصویریں آج فلسطین کے مستقبل کی دو مختلف سمتوں کی نمائندگی کرتی ہیں۔

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں اس سال فلسطین کے حق میں آوازیں پہلے سے زیادہ بلند دکھائی دیں۔ دو ریاستی حل، فلسطینی خودمختاری اور غزہ کی تعمیر نو پر عالمی اتفاقِ رائے بھی پہلے سے زیادہ نمایاں ہے۔لیکن  جب زمین پر آبادکاری، بے دخلی، گرفتاری اور تشدد کا سلسلہ جاری رہے تو قراردادیں اور تقاریر اپنی معنویت کھو دیتی ہیں۔فلسطین کے مسئلے کا فیصلہ تقریروں سے نہیں بلکہ عملی پالیسی، بین الاقوامی قانون کے احترام اور شہریوں کے تحفظ سے ہوگا۔ دنیا اگر واقعی دو ریاستی حل کو امن کا راستہ سمجھتی ہے تو پھر  صرف اقوام متحدہ کے ایوان میں اس کا ذکر نہیں، بلکہ زمین پر اس کے لیے راستہ بھی بنانا ہوگا۔

ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل کراچی 2 اکتوبر 2026

ہفت روزہ دعوت دہلی 2 اکتوبر 2026

ہفت روزہ رہبر سرینگر 4 اکتوبر 2026


Thursday, September 24, 2026

 

تین برس سے جاری تباہی، مزاحمت اور دنیا کا بدلتا ضمیر

راحت کا وعدہ، عذاب کا تسلسل

غزہ پر اسرائیلی فوج کشی کو تین برس مکمل ہونے کو ہیں، مگر بمباری میں کمی آئی اور نہ امن کے وعدوں میں کوئی سنجیدگی دکھائی دی۔ عالمی اداروں کے اجلاس، سفارتی بیانات اور انسانی حقوق کی اپیلیں سب بے اثر دکھائی دیتے ہیں۔ غزہ آج بھی بارود، بھوک، خوف اور بے بسی کے درمیان سانس لینے کی کوشش کر رہا ہے۔

غزہ میں خوف کی نئی مہم

اسرائیلی فوج نے گزشتہ ہفتوں میں اہلِ غزہ کو خوفزدہ کرنے کی ایک نئی حکمتِ عملی اختیار کی ہے۔ رہائشیوں کے مطابق اسرائیلی ڈرون مکانوں کی کھڑکیوں تک آکر لوگوں کو خوف زدہ کر رہے ہیں۔اگرچہ ان ڈرونوں سے فائرنگ کا کوئی واقعہ سامنے نہیں آیا، مگر شہریوں کا خیال ہے کہ یہ غزہ خالی کرانے کی نئی مہم ہے۔ بین الاقوامی اداروں کے مطابق غزہ اب انسانی زندگی کے قابل نہیں رہا۔ بارود نے زمین کو زہر آلود کر دیا ہے؛ صاف پانی ہے، نہ غذا، نہ دوا اور نہ نکاسیِ آب کا نظام۔ مگر اہلِ غزہ اپنا وطن  چھوڑنے پر تیار نہیں۔

ڈاکٹر بسان: ایک خواب، ایک ڈائری، ایک المناک انجام

انہی لوگوں میں طب کے آخری سال کی طالبہ، 19 سالہ بسان حلاسہ بھی تھی۔ بچپن سے ڈاکٹر بننے کا خواب دیکھنے والی بسان کو گھر والے محبت سے ’’ڈاکٹر بسان‘‘ کہتے تھے۔ اسے مشورہ دیا گیا کہ غزہ چھوڑ دے، مگر اس نے انکار کر دیا۔ اپنی ڈائری میں اس نے لکھا'میں اپنے پیارے شہر غزہ میں پیدا ہوئی، یہیں پلی بڑھی اور اسی شہر میں مر جاؤں گی'  چند دن بعد اس کا گھر بمباری کا نشانہ بنا اور وہ اپنی والدہ، بہن بھائی، دادی سمیت 12 عزیزوں کے ساتھ جاں بحق ہوگئی۔ عمارتیں شاید دوبارہ تعمیر ہو جائیں، مگر بسان جیسے نوجوانوں کی چھینی ہوئی زندگیاں کبھی واپس نہیں آ سکتیں۔

اسکول کی کھڑکی اور بھوک سے لڑتا بچہ

گزشتہ ہفتے وسطی غزہ کے علاقے نصیرات سے آنے والی ایک تصویر میں ایک فلسطینی لڑکا بستہ پیٹھ پر لٹکائے اپنے اجڑے ہوئے اسکول کی کھڑکیوں سے اندر جھانکتا دکھائی دیا۔ جنگ نے غزہ کے تعلیمی اداروں کو ختم کرکے رکھدیا ہے۔ اسی دوران 16 سالہ ابراہیم ابو سرایا کی تصویر نے بھی دنیا کی توجہ حاصل کی۔ شدید غذائی قلت اور دماغی فالج میں مبتلا ابراہیم کا وزن محض ساڑھےسات کلوگرام رہ گیا ہے۔ غزہ میں کوئی اسپتال ایسا نہیں بچا جہاں اس کا علاج ممکن ہو۔

خستہ عمارتیں، ملبہ اور بے بسی

لوگ تباہ شدہ عمارتوں کے بچے کھچے حصوں میں سر چھپانے پر مجبور ہیں۔ گزشتہ ہفتے ایک چھ منزلہ خستہ عمارت گر گئی، جس میں عورتوں اور بچوں سمیت 22 افراد جاں بحق اور تقریباً 100 لاپتہ ہوگئے۔ بلدیہ غزہ کی امدادی مشینری تباہ ہو چکی ہے۔ چند خستہ کرینیں ملبہ ہٹانے کی کوشش کررہی ہیں، خدشہ ہے کہ ملبے میں دبے لوگوں کی بڑی تعداد زندہ دفن ہوچکی ہے ۔ امدادی کارکنوں کو نشانہ بنانے کے لئے اسرائیلی ڈرونوں کی پروازیں الگ خوف پیدا کر رہی ہیں۔مزید نقصان سے بچنے کیلئے بلدیہ غزہ نے 220 مخدوش عمارتوں کو منہدم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

غربِ اردن میں آگ، قبضے اور تشدد

غربِ اردن میں مکانوں پر قبضے اور آتشزنی کا سلسلہ جاری ہے۔ زیتون کی فصلیں جلائی جا رہی ہیں۔ الخلیل کے گاؤں توانہ میں آبادکاروں نے مویشیوں کے چارہ گودام کو آگ لگا دی۔ ٹائمز آف اسرائیل کے ایک بصری تراشے میں ایک مسلح آبادکار کو مسافر یطہ میں مویشی چرانے اور مزاحمت کرنے والی خاتون کو لاٹھی سے پیٹتے دیکھا جا سکتا ہے۔ رام اللہ کے گاؤں بئیرنبالا میں گھر گھر تلاشی کے دوران درجنوں افراد گرفتار کئے گئے۔

قاتل فوجی کو صدارتی معافی

تقریباً دس سال پہلے الخلیل میں زخمی اور بے بس پڑے فلسطینی عبدالفتاح الشریف کو اسرائیلی فوجی ایلور ازاریہ نے سر میں گولی مار کر قتل کیا۔ بصری شواہد سامنے آنے پر عدالت نے اسے 18 ماہ قید کی سزا سنائی، لیکن وہ 9 ماہ بعد رہا ہوگیا۔ گزشتہ ہفتے اسرائیلی صدر اسحاق ہرزوگ نے اسے صدارتی معافی دے کر اس کا مجرمانہ ریکارڈ حذف کرنے کا حکم جاری کر دیا۔

چھینی ہوئی زمین پر عبادت گاہ

جنین کے قریب سیلات الظہر میں فلسطینیوں سے چھینی زمین پر پہلے حومش نامی بستی آباد ہوئی اور اب وہاں یہودی معبد قائم کر دیا گیا ہے۔ یعنی چھینی ہوئی زمین پر خدا کی عبادت کی جائے گی۔

استقامت: ایک غار میں آباد خاندان

اتنی سختیوں کے باوجود فلسطینی اپنی سرزمین چھوڑنے پر تیار نہیں۔ مسافر یطہ کے محمد عمار کے دو گھر مسمار کئے گئے تو اس نے علاقہ چھوڑنے کے بجائے پتھریلی غار کے فرش پر کنکریٹ ڈالا، دیواروں پر چونا کیا، شمسی پینل سے بجلی اور کنویں سے پانی کا انتظام کیا اور اسی غار کو اپنے خاندان کا گھر بنا لیا۔ اس کے دو خاندان اور گیارہ بچے اسی جگہ زندگی گزار رہے ہیں۔ یہ خاموش پیغام ہےکہ ہمیں مکان سے محروم کیا جا سکتا ہے، مگر اپنے وطن سے نہیں۔

یوروویژن کا بائیکاٹ: ثقافت کا احتجاج

آئرلینڈ نے اسرائیل کی شرکت کے خلاف مسلسل دوسری بار یوروویژن (Eurovision)کا بائیکاٹ کیا ہے۔ سرکاری نشریاتی ادارہ RTÉ، نہ فنکار بھیجے گا، نہ مقابلہ نشر کرے گا۔ نیدرلینڈز (ہالیند) بھی 2027 میں شرکت نہیں کرے گا۔ یہ بائیکاٹ اسرائیل کو مقابلے سے باہر نہیں کرے گا، مگر اس کا علامتی اثر نمایاں ہے۔ گزشتہ برس پانچ ممالک کے بائیکاٹ کے بعد یوروویژن کی ناظرین تعداد میں کمی آئی تھی۔ یوروویژن محض موسیقی کا مقابلہ نہیں بلکہ یورپی ثقافتی روابط کا ایک بڑا پلیٹ فارم ہے۔ اسلئے ان فیصلوں کا فوری عسکری اثر نہ بھی ہو، تو بھی یہ ظاہر کرتے ہیں کہ غزہ کا معاملہ ثقافتی اور عوامی سطح پر یورپ کے اندر بھی بحث کا موضوع بنا ہوا ہے۔

امریکی سینیٹ میں سوالات اور اعتراضات

امریکی سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی میں ڈیموکریٹ سینیٹر محترمہ جین شاہین نے اسرائیل کو 40 ہزار بموں کی فروخت پر سوال اٹھایا ہے کہ یہ ہتھیار کہاں استعمال ہوں گے۔ اس اعتراض کے باعث دو ارب 80 کروڑ ارب ڈالر کا سودا عارضی طور پر رک گیا ہے۔ دوسری جانب سینیٹر برنی سینڈرز نے دستاویزی فلم NAZA کے فلم سازوں کے خلاف اسرائیلی کاروائی کو آزادیِ صحافت پر حملہ قرار دیتے ہوئے اسرائیل کی فوجی امداد معطل کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

محمود عباس کا امریکہ میں داخلہ ممنوع

امریکہ نے مقتدرہ فلسطین کے صدر محمود عباس کو اقوامِ متحدہ اجلاس میں شرکت کے لیے ویزہ دینے سے ایک بار پھر انکار کر دیا ہے۔ گزشتہ برس بھی ان کی درخواست مسترد کی گئی تھی۔ اس بار امریکی وزارتِ خارجہ نے ویزہ ضابطے Section 212(a)(3)(B) کا حوالہ دیا ہے، جس کے تحت ’’دہشت گرد یا سہولت کار‘‘ افراد ویزے کے لیے نااہل قرار پاتے ہیں۔

غزہ کی تباہ شدہ عمارتیں، بھوک سے لڑتا ابراہیم، ڈاکٹر بننے کا خواب دیکھنے والی بسان، مسافر یطہ کے غار کو  مسکن بنالینے  والا عمار سب ایک ہی حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ فلسطینیوں کی جدوجہد محض زمین کا مسئلہ نہیں، یہ انسانیت کی بقا کا سوال ہے۔ بم، میزائیل اور ڈرون عمارتیں گرا سکتے ہیں لیکن فلسطینیوں کے عزمِ خودمختاری کو وحشت سے ختم کرنا آسان نہیں۔

ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل کراچی 25 ستمبر 2026

ہفت روزہ دعوت دہلی 25 ستمبر 2026

ہفت روزہ رہبر سرینگر 25 ستمبر 2026