Wednesday, February 25, 2026

 

نریندرا مودی  کا دورہ اسرائیل ۔۔ شش جہتی اتحاد کی بازگشت

ترکیہ اور پاکستان نئے ہدف؟؟؟ا

بھارتی وزیراعظم نریندرا مودی اپنا دورہ اسرائیل مکمل کرکے  وطن واپس چلے گئے۔اس دورے میں انھوں نے اسرائیلی کنیسہ (پارلیمان) سے خطاب کیا۔یاد واشیم (ہولوکاسٹ یادگار) کی زیارت، ڈرون کارخانے کا دورہ اور اسرائیلی وزارت تزویرات (Strategy)کے اعلیٰ حکام سے ملاقات انکی مصروفیات میں شامل تھی۔جناب مودی جولائی 2017 میں پہلی بار اسرائیل آئے تھے جو کسی بھی ہندوستانی وزیراعظم کا پہلا دورہ اسرائیل تھا۔

تل ابیب آمد پر استقبالی تقریب کے بعد اسرائیلی وزیراعظم نے اپنے بھارتی ہم منصب سے نجی ملاقات کی۔ اس خصوصی نشست میں نریندرا مودی کا استقبال کرتے ہوئے نیتن یاہو نے کہا ' یہ محض سفارتی تعلق نہیں بلکہ حقیقی رفاقت کا بندھن ہے۔ یہ سچی دوستی کا رشتہ ہے' ۔اسرائیلی وزیراعظم کی وارفتگی سے انکا اخلاص پھوٹا پڑرہا تھا۔ اس تناظر میں یہ جملہ محض روائتی خیرمقدم نہیں، بلکہ بدلتے عالمی منظرنامے کی عکاسی کرتا ہے۔

ان دونوں رہنماوں کی “دوستی” اب رسمی سفارت کاری سے آگے بڑھ چکی ہے۔ یہ مشترکہ مفادات، دفاعی تعاون، ٹیکنالوجی، انٹیلی جنس اشتراک، علاقائی توازن کا عنوان اور دہلی و تل ابیب کے مابین تعلقات کی نئی جہت کی علامت ہے۔

اسرائیلی کنیسہ (پارلیمان) سے مودی کا خطاب

پارلیمان سے اپنے خطاب میں نریندرا مودی نے کہا کہ “بھارت اس وقت اور آئندہ بھی اسرائیل کے ساتھ پختہ یقین کے ساتھ کھڑا ہے۔” انھوں نے 7 اکتوبر 2023 کے حملے میں ہلاک ہونے والوں کے اہلِ خانہ سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہم آپ کا درد محسوس کرتے ہیں اور آپ کے دکھ میں شریک ہیں۔ وزیراعظم مودی  نے 'دہشت گردی 'کی شدید مذمت کرتے ہوئے دوٹوک انداز میں کہا کہ کسی بھی مقصد کے لیے عام شہریوں کا قتل جائز نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔ ان کے بقول بھارت بغیر کسی دوہرے معیار کے دہشت گردی کے خلاف صفِ اول میں کھڑا ہے۔اس حوالے سے انھوں نے  26/11 ممبئی حملوں کا خصوصی ذکر کیا۔ جناب مودی کا کہنا تھا کہ اس سانحے میں اسرائیلی شہری بھی ہلاک ہوئے تھے، جس کے باعث دونوں ممالک کے تجربات اور نقطۂ نظر میں مماثلت پائی جاتی ہے۔ اپنے خطاب کے آغاز میں انہوں نے خود کو ایک قدیم تہذیب کا نمائندہ قرار دیا، گویا ہند اسرائیل تعلق کو سیاسی مفادات سے بلند تر تاریخی رشتے میں باندھنے کی کوشش کی۔

یروشلم میں ہونے والی  یہ تقریر ایک اور پہلو سے بھی معنی خیز تھی۔ بھارت طویل عرصے سے مشرقی یروشلم کو متنازعہ علاقہ قرار دیتا رہا ہے، مگر اس خطاب میں اس حساس حیثیت کا کوئی ذکر نہ تھا۔ اس سے بھی زیادہ اہم بات یہ کہ مودی نے دو ریاستی حل کا ذکر نہیں کیا، حالانکہ یہ دہلی کی سرکاری اور طویل المدتی پالیسی کا بنیادی ستون رہا ہے۔ یہ خاموشی محض سفارتی احتیاط ہے یا پالیسی کی تدریجی تبدیلی کا اشارہ؟ عالمی سیاست میں تقریریں محض الفاظ نہیں ہوتیں۔ اشارے، ترجیحات اور خاموشیاں بھی اتنی ہی معنی خیز ہوتی ہیں اور کبھی کبھی نہ کہی گئی بات کہی ہوئی باتوں سے زیادہ اثر رکھتی ہے۔

دہلی، تل ابیب اور جنوبی ایشیا کا بدلتا توازن

عالمی سیاست میں اعلانات سے زیادہ اشارے اہم ہوتے ہیں۔بسا اوقات بظاہر معمول دکھائی دینے والے دورے آنے والے زمانوں کی سمت طے کر دیتے ہیں۔ جناب مودی کا حالیہ دورۂ اسرائیل اسی نوعیت کا واقعہ محسوس ہوتا ہے۔ اسے محض رسمی سفارت کہہ کر نظر انداز کردینا شاید بدلتے ہوئے جغرافیائی حقائق سے آنکھیں چرانے کے مترادف ہوگا۔اس وقت عالمی نظام ایک نئی صف بندی کی طرف بڑھ رہا ہے۔ طاقت کے مراکز اپنی ترجیحات کو ازسرِ نو مرتب کر رہے ہیں، اور ریاستیں اپنے دیرینہ تعلقات کو نئے مفادات کے پیمانے پر پرکھ رہی ہیں۔

نظریاتی ہم آہنگی سے  تزویراتی شراکت داری تک

دہلی اور تل ابیب کے تعلقات اب محض سفارتی خیرسگالی یا محدود دفاعی تعاون تک محدود نہیں رہے۔ وزیر اعظم مودی اور اسرائیلی وزیر اعظم بن یامین نیتن یاہو کے  تعلقات طبعی و فکری مناسبت یا شخصی کیمسٹری سے کہیں آگے جا چکے ہیں۔ دونوں انتہا پسند قیادتیں داخلی سیاست میں قومی بیانیے کو سلامتی کے تصور سے جوڑتی ہیں اور خارجی خطرات کو داخلی استحکام کے استدلال کے طور پر پیش کرتی ہیں۔ بھارت اسرائیلی دفاعی ٹیکنالوجی کا نمایاں خریدار ہے۔ ڈرون نظام، میزائل دفاعی پروگرام، سرحدی نگرانی، انٹیلیجنس اشتراک اور سائبر سکیورٹی جیسے اہم شعبوں میں اسرائیل ہند تعاون خاصہ گہرا ہوچکا ہے۔

شش جہتی یا Hexagon تصور اور خاموش صف بندیاں ۔ پاکستان، ترکیہ اور ایران

گزشتہ برسوں میں ایک غیر رسمی ہم آہنگی،  شش جہت اتحاد یا Hexagon Alignment کے نام سے نمایاں ہوئی ہے، جس میں اسرائیل، بھارت، متحدہ عرب امارات، سعودی عرب، امریکہ اور اردن شامل ہیں۔بعض بیانات میں اسے چھ ملکی تزویراتی راہداری یا “Six-Nation Strategic Corridor” کہا گہا ہے۔ بظاہر یہ  کوئی فوجی اتحاد نہیں۔اب تک اس کی کوئی باقاعدہ معاہداتی شکل بھی سامنے نہیں آئی اور یہ ایک کثیرالسمتی اقتصادی و تزویراتی شراکت داری کے تصور کے طور پر پیش کیا جارہا ہے۔ لیکن مفادات ہم سمت دکھائی دے رہے ہیں۔یعنی  بحر ہند میں اثر، مشرق وسطیٰ تک رسائی، چین کے بڑھتے کردار پر نظر، اور جدید دفاعی صلاحیتوں میں شراکت داری۔ گرچہ غزہ اور غربِ اردن کی موجودہ صورتحال کے باعث یہ عمل وقتی طور پر سست پڑا ہے، لیکن باہمی مفادات کی بنیاد پر دلچسپی برقرار ہے۔ اگر اس مجوزہ راہداری میں سعودی عرب اور امارات جیسے ممالک زیادہ فعال کردار ادا کرتے ہیں تو پاکستان کے لیے خارجہ پالیسی کا توازن برقرار رکھنا مزید پیچیدہ ہوسکتا ہے، کیونکہ اسلام آباد روایتی طور پر خلیجی ریاستوں کے ساتھ قریبی تعلقات رکھتا ہے۔ اس حوالے سے یہ بات بھی مدنظر رہنی چاہیے کہ بھارت “کیمپ بندی” کے بجائے کثیر جہتی و متنوع مفاہمت کی حکمت اپنائے ہوئے ہے۔ یعنی ایک جانب وہ اسرائیل کا دوست ہے تو دوسری طرف عرب دنیا اور ایران سے بھی قریبی روابط رکھتا ہے۔ جبکہ ایک نظریاتی ریاست کی حیثیت سے پاکستان کیلئے اس نوعیت کا سفارتی تنوع کسی حد تک محدود ہے ۔

شش جہتی ڈھانچہ پہلے سے موجود آئی 2 اور یو 2 (I2U2 Group) میں توسیع تصور کی جارہا ہے۔ امریکہ، متحدہ عرب امارات، اسرائیل اور ہندوستان کے درمیان اس ہم آہنگی کو اربعہِ مشرق وسطیٰ یا Middle Eastern Quadبھی کہا جاتا ہے جو 2021 میں قائم ہوا جسکا ہدف  خلیجی اور یورپی مالک کے درمیاں تجارتی تعلقات کو فروغ دینا ہے۔

پاکستان کا جوہری پروگرام

پاکستان کا جوہری پروگرام اس خطے میں استحکام و توازن کا بنیادی ستون اورجنوبی ایشیا میں کسی بڑے عسکری تصادم کو محدود رکھنے کا سبب سمجھا جاتا ہے۔ تاہم اسرائیل اور ہندوستان کے تزویراتی برتری اور تکنیکی تفوق جیسے تصورات کو نظر انداز کرنادانشمندی نہیں۔ اسلئے کہ یہی وہ نکتہ ہے جہاں مفادات کا خاموش اشتراک جنم لے سکتا ہے یعنی دشمن کا دشمن دوست۔

ایران کا ممکنہ منظرنامہ اور نئے اندیشے

ایک اور اہم پہلو ایران کی صورت حال ہے۔ اگر امریکہ ایران کشیدگی کسی کھلے تصادم میں تبدیل ہوتی ہے اور کسی مرحلے پر تہران میں ایسی حکومت وجود میں آتی ہے جو اسرائیل سے قربت اختیار کرے، تو پورے خطے کی سیاسی بساط بدل سکتی ہے۔ایسی تبدیلی کی صورت میں مشرقِ وسطیٰ سے جنوبی ایشیا تک ایک نئی سفارتی اور دفاعی ہم آہنگی ابھرنے کا امکان ہے۔ایران کی اسرائیل نواز حکومت کے اثرات براہِ راست اسلام آباد تک محسوس ہوں گے۔ دہلی اور تہران کے مابین پہلے ہی اقتصادی روابط موجود ہیں۔ اگر ان میں اسرائیل نواز جہت شامل ہوجائے تو پاکستان کے لیے سفارتی توازن مزید پیچیدہ ہوسکتا ہے۔

پاکستان پہلے ہی بلوچستان میں منظم دہشت گردی اور سرحدی عدم استحکام کا سامنا کر رہا ہے۔ اگر مشرق اور مغرب دونوں اطراف ایسے تزویراتی مراکز ابھریں جو دہلی سے ہم آہنگ ہوں، تو اسلام آباد کے لیے داخلی سلامتی اور خارجہ حکمت عملی دونوں میدانوں میں چیلنج بڑھ سکتا ہے۔ پاکستان کیلئے یہ اندیشہ،  پریشانی کا سبب ہے کہ علاقائی سیاست کا کوئی غیر متوقع موڑ جنوبی ایشیا کے طاقت کے توازن کو نئی سمت نہ دے دے۔

ترکیہ اسرائیل کا نیا ہدف؟؟

اسرائیل میں حکومت اور حزبِ اختلاف دونوں ترکیہ کو اب محض ایک علاقائی حریف نہیں بلکہ ایک سنجیدہ تزویراتی چیلنج کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ ایسا چیلنج جس کا تقابل ایران اور غزہ کی مزاحمتی قوتوں سے کیا جا رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کچھ عرصہ قبل اسرائیل، یونان اور یونانی قبرص کا سربراہی اجلاس منعقد ہوا، جسے علاقائی سفارت کاری میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا گیا۔اب وزیراعظم بنجامن نیتن یاہو نے کھل کر اعلان کیا ہے کہ اسرائیل خطے میں اور اس کے گرد ایک ایسے ممالک کا “محور” قائم کرنا چاہتا ہے جن میں ہندوستان، یونان اور یونانی قبرض شامل ہیں۔ مجوزہ اتحاد میں کچھ ایسے عرب، افریقی اور ایشیائی ممالک بھی ہیں جن کے نام ظاہر نہیں کئے گئے ۔نیتن یاہو کے مطابق یہ وہ ریاستیں ہوں گی “جو زمینی حقائق، چیلنجز اور اہداف کو ایک ہی زاویے سے دیکھتی ہیں” اور یہ اتحاد اُن کے بقول “شدت پسند شیعہ محور” اور “ابھرتے ہوئے شدت پسند سنی محور” کے مقابل میں تشکیل دیا جائے گا۔وزیراعظم مودی نے ان محوروں کی قبل ازوقت سرکوبی کیلئے اسرائیل سے تعاون میں دلچسپی ظاہر کی۔

قابلِ غور پہلو یہ ہے کہ اسرائیل ہند دوستی، اب  جغرافیائی یا تزویراتی ترجیحات کے بجائے  صریح مذہبی رخ اختیار کرتی نظر آرہی ہے۔ “شیعہ محور” اور “سنی محور” جیسے الفاظ محض تجزیاتی اصطلاحات نہیں بلکہ عالمی سیاست کی زبان میں فرقہ وارانہ تقسیم کو رسمی حیثیت دینے کے مترادف ہیں۔

اصل امتحان: ردعمل نہیں، بصیرت

یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ کوئی کھلا محاذ وجود میں آچکا ہے۔ تاہم عالمی سیاست میں خاموش تبدیلیاں ہی سب سے زیادہ اثر انداز ہوتی ہیں۔کیا ایران، ترک اور پاکستانی قیادتیں  بدلتے جغرافیائی حقائق کو پوری گہرائی سے سمجھ رہی ہیں؟ کیا یہ ممالک سفارتی تنوع، علاقائی روابط اور پُرجوش دل لیکن ٹھنڈے دماغ  'سے اپنے  مفاد کو محفوظ بنانے کی تیاری کر رہے ہیں ؟دنیا میں طاقت کا توازن جامد نہیں رہتا۔ آج کے معاشی تعلقات کل کی عسکری ہم آہنگی میں بدل سکتے ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ تینوں ملک اپنی پالیسی کو تدبر اور پیش بینی پر استوار کریں۔



Thursday, February 19, 2026

 

غزہ: طاقت، بیانیہ اور استقامت کی کشمکش

غزہ اس وقت صرف ایک جغرافیائی خطہ نہیں بلکہ عالمی سیاست کا آئینہ بن چکا ہے۔ یہاں گرنے والا ہر بم صرف ایک عمارت کو نہیں گراتا بلکہ بین الاقوامی قانون، اخلاقی معیارات اور سفارتی توازن کو بھی آزما رہا ہے۔ طاقت کے اظہار اور مزاحمت کے عزم کے درمیان ایک ایسی کشمکش جاری ہے جس کا فیصلہ میدانِ جنگ سے زیادہ بیانیوں، عدالتوں اور سفارتی میزوں پر ہوتا دکھائی دیتا ہے۔

داخلی سیاست اور غزہ کا انسانی منظرنامہ

یہاں بمباری اور ناکہ بندی کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔ امدادی ٹرکوں کے سامنے دھرنا اب اسرائیل میں ایک معمول کی سیاسی سرگرمی بنتا جا رہا ہے۔دو فروری سے انتہا پسند عناصر کریم سلام (Kerem Shalom) پھاٹک پر امدادی سامان لے جانے والے ٹرکوں کا راستہ روکے کھڑے ہیں۔ گزشتہ ہفتے اسرائیل مادرِ وطن پارٹی (Yisrael Beiteinu) کے سربراہ اور خود کو لبرل و سیکیولر کہنے والے ایویگڈور لایبرمین (Avigdor Liberman) بھی اپنی جماعت کی اراکینِ پارلیمان یولیا مالینووسکی (Yulia Malinovsky) اور شیرن نیر (Sharon Nir) کے ہمراہ وہاں پہنچے۔ لایبرمین نے کہا کہ یہ ٹرک ٹیکس دہندگان کے پیسوں سے غزہ میں بجلی، پانی اور دیگر اشیاء پہنچا رہے ہیں، اور جب تک مزاحمتی گروہ غیر مسلح نہیں ہوتے امداد کی بحالی اسرائیلی عوام کے لیے قابلِ قبول نہیں۔یہ منظر اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ غزہ میں جاری انسانی بحران کی ذمہ داری محض مذہبی شدت پسندوں تک محدود نہیں، بلکہ اسرائیلی سیاست کے لبرل و سیکولر حلقے بھی سخت گیر پالیسی کے ساتھ کھڑے  ہیں۔

طاقت کی سیاست اور بیانیے کی جنگ

مغربی حمایت کے احساسِ تحفظ نے اسرائیلی قیادت کو اب رسمی پردہ داری سے بھی بے نیاز کردیا ہے۔ کچھ دن پہلے اسرائیلی وزارتِ قومی سلامتی کی جانب سے جیلوں میں فلسطینی قیدیوں پر تشدد اور انکے ساتھ ناروا سلوک کی تصاویر جاری کی گئیں، جنہیں ناقدین خوف کی نفسیات پیدا کرنے کی کوشش قرار دیتے ہیں۔سرکاری ذرایع یہ خبر بھی پھیلارہے ہیں کہ نئی قانون سازی کے تحت قتل اور دہشت گردی کے الزام میں نظر بند فلسطینیوں کو سزائے موت دی جائیگی جسکے لئے جلادوں کی تربیت کا کام جلد شروع ہوگا۔

جیتے جاگتے معصوم بچے بھاپ بن گئے

اسی دوران الجزیرہ پر شائع ہونے والی خبر نے ہر سلیم الفطرت انسان کے رونگٹے کھڑے کردئے۔اس تحقیقاتی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ اسرائیل نے غزہ میں انتہائی شدید حرارت اور دباؤ پیدا کرنے والےامریکی ساختہ Thermal اور Thermobaric ہتھیار استعمال کیے، جو درجۂ حرارت کو تقریباً ساڑھے تین ہزار ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچا دیتے ہیں۔ اس غیر معمولی حرارت کے نتیجے میں متعدد مقامات پر جیتے جاگتے انسانوں کے جسم بھاپ بن کر تحلیل ہو گئے، یہاں تک کہ ان کی قابلِ شناخت باقیات بھی دستیاب نہ ہو سکیں۔غزہ کی سول ڈیفنس کے مطابق سائنسی شواہد (Forensic)کی بنیاد پر ترتیب دی جانیوالی دستاویزات میں کم از کم 2,842 ایسے افراد کی نشاندہی کی گئی ہے جنہیں “evaporated” کہا جا سکتا ہے، یعنی تباہ شدہ مقامات سے ان کی کوئی قابلِ شناخت جسمانی باقیات نہیں مل سکیں۔

ان دعوؤں کی آزادانہ بین الاقوامی تصدیق ایک پیچیدہ اور متنازعہ معاملہ ہے،لیکن اگر شہری آبادی پر اس نوعیت کے ہتھیاروں کا استعمال  ثابت ہو گیا تو اس کا ذمہ دار کسے قرار دیا جائیگا اور اسکی سزا کون بھگتے گا؟

کیا عسکری دباؤ سے سیاسی نتائج نکل سکتے ہیں؟

خوفناک ہتھیاروں کے بہیمانہ استعمال، جیلوں میں تشدد کی تشہیر اور صدر ٹرمپ کی جانب سے مزاحمت کاروں کے غیرمسلح نہ ہونے کی صورت میں پٹی پر جہنم کے دروازے کھولدینے کی دھمکیوں کے باوجود مزاحمت سرنگوں ہونے کو تیار نظر نہیں آتی۔مجلسِ السلام (Board of Peace) نے بہت طمطراق سے غزہ کے انتظام کے لیے 12 رکنی قومی کمیٹی (NCAG) تشکیل دی ہے، جو غزہ جا کر پٹی کا اقتدار سنبھالے گی۔ لیکن شیر کی کچھار میں قدم رکھناآسان نہیں۔ نو فروری کو قاہرہ میں NCAG کے طویل اجلاس کے بعد فیصلہ ہوا کہ کمیٹی اس ہفتے غزہ نہیں جائے گی۔امریکہ اب تک یہ سمجھنے سے قاصر ہے کہ مزاحمت کاروں سے براہِ راست بات چیت کے بغیر کوئی تصفیہ ممکن نہیں۔ واشنگٹن میں معاہدہِ امن پر دستخط کر دینے سے امن قائم نہیں ہوگا۔

مطالبہِ تحلیل اسلحہ (Disarmament)سے پسپائی؟؟

مستضعفین کی استقامت اورمتکبرین کی جزوی پسپائی کا اندازہ نیویارک ٹائمز میں شایع ہونے والی ایک رپورٹ سے بھی ہوتا ہے، جس کے مطابق واشنگٹن میں ایک ایسے فارمولے پر غور ہوا جس کے تحت مزاحمتی قوتوں کو محدود نوعیت کے چھوٹے ہتھیار رکھنے کی اجازت ہو جبکہ بھاری اسلحہ مرحلہ وار ترک کیا جائے۔ تحلیلِ اسلحہ کے اس منصوبے میں مبینہ ترمیم امریکی و اسرائیلی تکبر میں شگاف کی علامت اور اس بات کا بالواسطہ اعتراف ہے کہ بہیمانہ فوجی کارروائی، منظم نسل کشی اور بھوک و موسم کا ہتھیار اہلِ غزہ کو جھکانے میں ناکام رہا۔یا یوں کہئے کہ  اہلِ غزہ کے پرعزم صبر نے جبر کو اپنے مؤقف میں نرمی پر مجبور کر دیا

بین الاقوامی مداخلت کی بحث اور ISF

فلسطینی مزاحمت کاروں نے غزہ میں غیر ملکی فوج کی تعیناتی مشروط انداز میں قبول کرنے کا عندیہ دیاہے۔ نیوزویک کے مطابق انکے ترجمان باسم نعیم نے کہا کہ ہمیں غزہ میں بین الاقوامی افواج کی آمد پر کوئی اعتراض نہیں، بشرطیکہ وہ سرحد کے ساتھ دونوں فریقوں کے درمیان ایک حائل (بفر) فورس کے طور پر کام کریں اور فلسطین کے شہری، عسکری و حفاظتی اور سیاسی و انتطامی معاملات میں کسی قسم کی مداخلت نہ کریں۔بیان میں متنبہ کیا گیا کہ اگر بین الاقوامی افواج نے اس حد سے تجاوز کیا تو فلسطینی انہیں “قبضے کے متبادل” کے طور پر دیکھ سکتے ہیں۔ کچھ ذرائع کے مطابق انڈونیشیا نے اصولی طور پر ISF میں کردار ادا کرنے میں دلچسپی ظاہر کی ہے، تاہم تاحال کسی وسیع البنیاد بین الاقوامی تعیناتی کا حتمی اعلان نہیں ہوا۔

مغربی کنارے کی صورتحال اور علاقائی ردعمل

مغربی کنارے  (West Bank)میں زمین کی ملکیت اور انتقالِ اراضی قوانین میں تبدیلی کے اسرائیلی فیصلے پر مسلم دنیا،یورپی یونین، حتیٰ کہ امریکہ بہادر کی 'تشویش' کے باوجود الحاق (Annexation)کے منصوبے پر کام شروع ہوچکا ہے۔ مغربی الخلیل (Western Hebron)سے بجلی کا نظام ختم کرنے کیلئے فوج نے رہائشیوں کو نوٹس جاری کردئے ہیں۔ بجلی و پانی منقطع ہونے کے بعد مکینوں کیلئے گھر خالی کے سوا چارہ ہی کیا رہا جائیگا۔

عدالتی محاذ اور اظہارِ رائے کی حدود

امریکہ کی طرح برطانیہ میں بھی فلسطینیوں کے حق میں مظاہرہ کرنے والوں کے خلاف سخت اقدامات جاری ہیں، تاہم 13 فروری کو عدالت عالیہ (High Court) نے فلسطین ایکشن پر عائد پابندی کو کالعدم قرار دے دیا۔ جسٹس وکٹوریہ شارپ کے فیصلے کو ماہرینِ قانون، آزادیِ اظہار کے باب میں اہم نظیر قرار دے رہے ہیں۔

. اسرائیل کے اندر مذہبی و سیکولر کشمکش

اسرائیل کے اندرونی منظرنامے میں بھی کشیدگی برقرار ہے۔ گیارہ فروری کو اسرائیلی حریدی جماعت یونائیٹڈ توراہ جوڈازم (United Torah Judaism) کے ایک اہم دھڑے ڈیگل ہاتوریت (پرچمِ توریت) کے روحانی پیشوا ربی ڈیو لینڈو نے دوٹوک اعلان کیا  کہ حکومت مانے یا نہ مانے ایک بھی یشیوا (حفظ توریت کے مدارس) طالب علم فوج میں نہیں جائے گا۔ توریت کے علما کی جگہ یشیوا اور کولیل (علما کی قانقاہیں) ہیں، میدان جنگ نہیں۔

 یہ کشمکش اسرائیلی سماج میں سیکولر اور مذہبی طبقوں کے درمیان پہلے سے موجود خلیج کو مزید نمایاں کرتی ہے۔

قیادت، کردار اور سیاسی اخلاقیات

قدامت پسندوں کیساتھ اسرائیلی قیادت کو Epstein Files  کے انکشافات پر بھی شرمندگی کا سامنا ہے۔ اس حوالے سے ایک ہفتہ قبل یہ خبر سامنے آئی تھی کہ سابق اسرائیلی وزیراعظم ایہود باراک (Ehud Barak) نےروسی صدر ولادیمر پیوٹن سے گفتگو میں اعتراف کیا کہ فلسطینی آبادی کا فطری اضافہ اسرائیل کے لیے ایک تزویراتی کمزوری ہے۔ جس پر تجزیہ نگاروں نے غزہ میں جاری نسل کشی اور غربِ اردن میں قبضے گردی کو اس زاوئے سے دیکھنا شروع کردیا۔حالیہ  بیان میں جناب باراک  نے  جیفری ایپسٹین سے ملاقات پر افسوس کا اظہار کیا۔ ندامت کس بات پر ہے؟ ملاقات پر؟ یا اس بات پر کہ ملاقاتیں منظرِ عام پر آ گئیں؟

غزہ کا بحران محض ایک جنگ نہیں بلکہ طاقت اور استقامت، بیانیہ اور حقیقت، اور خوف اور اعتماد کی طویل کشمکش ہے۔ عسکری قوت وقتی برتری تو فراہم کر سکتی ہے، مگر مستقل استحکام سیاسی بصیرت، قانونی توازن اور سفارتی جرات کا تقاضا کرتا ہے۔ اگر مکالمے کی راہیں مسدود رہیں تو یہ تصادم صرف سرحدوں تک محدود نہیں رہے گا بلکہ پورے خطے کے سیاسی اور سماجی مستقبل کو متاثر کرے گا۔ سوال یہ نہیں کہ کون وقتی طور پر غالب ہے، بلکہ یہ ہے کہ کون پائیدار امن کی سمت قدم بڑھانے کا حوصلہ رکھتا ہے۔

ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل کراچی 20 فروری 2026

ہفت روزہ دعوت دہلی 20 فروری 2026

ہفت روزہ  رہبر سرینگر 22 فروری 2026


 

 

سنار بنگلہ کی جماعت ۔۔ پھانسی گھاٹ سے پارلیمان

بنگلہ دیش میں حالیہ عام انتخابات کئی حوالوں سے غیر معمولی قرار دیے جا رہے ہیں۔باشبہہ 2008 کے بعد یہ پہلا نسبتاً آزاد اور مسابقتی چناو تھا۔اس سے قبل 2014 اور 2018 کے انتخابات پر نہ صرف حزبِ اختلاف بلکہ بین الاقوامی مبصرین کی جانب سے بھی سنجیدہ تحفظات کا اظہار کیا گیا تھا، 2014 میں حزب اختلاف کی بڑی جماعتوں کے بائیکاٹ اور 2018 میں بے ضابطگیوں کے الزامات نے جمہوری عمل کی ساکھ کو متاثر کیا۔

جولائی 2024 طلبہ تحریک اور سیاسی درجہ حرارت

جولائی 2024 میں طلبہ کی تحریک اور اس سے جڑے تشدد کے واقعات نے ملک کو شدید سیاسی کشیدگی میں مبتلا کر دیا تھا۔ اسی پس منظر میں خدشہ ظاہر کیا جا رہا تھا کہ عام انتخابات کے دوران وسیع پیمانے پر بدامنی پھیل سکتی ہے۔ اگرچہ بعض علاقوں میں جھڑپوں اور ہلاکتوں کے افسوسناک واقعات پیش آئے، مگر مجموعی طور پر انتخابی عمل ملک گیر انتشار میں تبدیل نہیں ہوا۔ یہ امر بذاتِ خود خود ایک اہم پیش رفت سمجھا جا سکتا ہے۔

نوجوان اور خواتین کی بھرپور شرکت

ان انتخابات کی ایک نمایاں خصوصیت نوجوانوں اور خواتین کی بڑھتی ہوئی شرکت رہی۔ نہ صرف بطور ووٹر بلکہ بطور امیدوار اور انتخابی کارکن بھی ان کی موجودگی نمایاں رہی، جو بنگلہ دیشی سیاست میں نسلی و صنفی تبدیلیوں کی علامت ہے۔

بی این پی کی واپسی اور قیادت کا سوال

نتائج کے مطابق بنگلہ دیش نیشنل پارٹی (BNP) نے نمایاں اکثریت حاصل کی اور پارلیمان میں دو تہائی سے زائد نشستیں جیت لیں۔ یہ کامیابی اسے قانون سازی میں غیر معمولی طاقت دیتی ہے۔تاہم BNP قیادت کے وراثتی پہلو پر سوالات برقرار ہیں۔ پارٹی کے رہنما طارق الرحمن مشکل سیاسی دور میں بیرونِ ملک رہے اور انتخابی مرحلے پر واپس آکر اپنی والدہ خالدہ ضیا کے سیاسی وارث کے طور پر قیادت سنبھالی۔ نوجوان سیاسی کارکنوں میں یہ پہلو مایوسی یا کم از کم سوالات کو جنم دے سکتا ہے کہ آیا BNP اندرونی جمہوریت کو مضبوط کرپائے گی یا نہیں۔

جماعتِ اسلامی: دیوار سے مرکزِ سیاست تک؟

ان انتخابات میں جماعتِ اسلامی بنگلہ دیش کی کارکردگی غیر معمولی رہی۔ اگرچہ جماعت اکثریت نہ حاصل کرسکی لیکن جماعت کی قیادت میں بننے والے 11 جماعتی اتحاد کے مجموعی ووٹوں کا تناسب  39 فیصد سے زائد ہے جبکہ کھلنا ڈویژن میں اسے واضح برتری حاصل ہوئی۔ ماضیِ قریب میں قانونی پابندیوں، شدید تنقید اور 1971 کی جنگِ آزادی میں کردار سے وابستہ منفی تاثر کے باعث جماعت اسلامی طویل عرصہ سیاسی حاشیے پر رہی۔آج بھی اس کا ماضی جماعت کے مخالفین کے لیے ایک اہم سیاسی ہتھیار ہے۔ تاہم ووٹروں کے ایک حصے کے لئے یہ مسئلہ اب فیصلہ کن عنصر نہیں رہا۔ بعض شہری طبقات جماعت کو نسبتاً کم بدعنوان متبادل اور فلاحی نیٹ ورک رکھنے والی سیاسی قوت کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ حالیہ برسوں میں جماعت کی قیادت نے اسے سخت گیر مذہبی جماعت کے بجائے ایک منظم، سماجی خدمات پر مبنی، نسبتاً معتدل سیاسی بیانیے کے ساتھ پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔

اصل امتحان: معیشت اور استحکام

بی این پی کے لیے سب سے بڑا چیلنج اب انتخابی فتح نہیں بلکہ حکمرانی ہے۔ جولائی 2024 کے ہنگاموں نے ملک کی ٹیکسٹائل صنعت کو متاثر کیا، جو بنگلہ دیشی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے۔ عالمی منڈی میں دباؤ اور امریکی ٹیرف جیسے عوامل بھی معاشی مشکلات میں اضافہ کر سکتے ہیں۔

ساتھ ہی سیاسی درجہ حرارت کم کرنا بھی حکومت کی فوری ترجیح ہونی چاہیے۔ جامعات میں طلبہ تنظیمیں،بی این پی کی چھاترو دل اور جماعت کی شِبر، طویل عرصے سے ایک دوسرے کی حریف رہی ہیں۔ صحت مند سیاسی مقابلہ جمہوریت کا حسن ہے، مگر جب یہ تشدد میں تبدیل ہو جائے تو قومی استحکام خطرے میں پڑ سکتا ہے۔

تعاون یا تصادم؟

پارلیمان میں دو تہائی اکثریت کے باعث بی این پی کو قانون سازی کے لیے جماعت اسلامی کی فوری ضرورت نہیں، لیکن اسٹریٹ پاور، طلبہ سیاست اور منظم تنظیمی قوت کے اعتبار سے جماعت حکومت کے لیے اثرانداز عنصر بن سکتی ہے۔

جشن فتح کے بجائے شکرانہ

حالیہ انتخابات میں ایک دلچسپ اور مثبت علامت قیادت کی جانب سے ضبط اور نظم و ضبط کا پیغام تھا۔ جماعتِ اسلامی کے امیر ڈاکٹر شفیق الرحمان نے نتائج سے قبل ہی کارکنوں کو ہدایت کر دی تھی کی کہ فتح صورت میں سڑکوں پر طاقت کے مظاہرے اور جلوس نکالنے کے بجائے مساجد میں سجدۂ شکر ادا کیا جائے۔ بی این پی کے رہنما طارق الرحمن نے بھی جشنِ فتح کے بجائے نمازِ جمعہ کے بعد شکرانے کی اپیل کی۔ یہ دونوں بیانات اس روایتی “اسٹریٹ پاور” سیاست سے مختلف تھے جہاں انتخابی کامیابی اکثر طاقت کے عوامی مظاہروں میں بدل جاتی ہے۔ مذہبی و روحانی اظہار کو ترجیح دینے کا یہ انداز، اگر مستقل روایت بن جائے، تو بنگلہ دیشی سیاست میں تصادم کے بجائے نظم و ذمہ داری کی ثقافت کو فروغ دے سکتا ہے۔ خاص طور پر ایسے معاشرے میں جہاں طلبہ تنظیمیں اور جماعتی وابستگیاں جلد جذباتی رخ اختیار کر لیتی ہیں۔

بنگلہ دیش کے مستقبل کا انحصار اس بات پر ہے کہ بڑی سیاسی قوتیں باہمی رقابت کے باوجود قومی مفاد پر مشترکہ حکمت عملی اختیار کر پاتی ہیں یا نہیں۔ اگر معیشت کی بحالی، سیاسی مفاہمت اور ادارہ جاتی استحکام پر توجہ دی گئی تو یہ انتخابات جمہوریت کے استحکام کا آغاز ثابت ہو سکتے ہیں۔ بصورتِ دیگر، اکثریت بھی سیاسی عدم استحکام کو روکنے کے لیے کافی نہیں ہوگی۔

آپ مسعود ابدالی  کی   پوسٹ اور اخباری کالم masoodabdali.blogspot.comاور ٹویٹر Masood@MasoodAbdaliپربھی ملاحظہ کرسکتے ہیں۔


Thursday, February 12, 2026

 

امریکی سیاہ فام — اسلامی تاریخ کا فراموش شدہ باب

فروری کا مہینہ امریکہ، کینیڈا اور یورپ کے کئی ممالک میں Black History Month کے طور پر منایا جاتا ہے۔ یہ مہینہ صرف افریقی نژاد امریکیوں کی جدوجہد اور قربانیوں کی یاد دہانی نہیں، بلکہ امریکی تاریخ کے اُس باب کو بھی نمایاں کرتا ہے جسے جان بوجھ کر یا لاعلمی میں پس منظر میں دھکیل دیا گیا، یعنی سیاہ فام امریکیوں اور اسلام کا تاریخی تعلق۔

امریکی مسلمانوں کے لیے افریقی نژاد امریکیوں کی تاریخ درحقیقت شمالی امریکہ میں اسلام کی ابتدائی تاریخ بھی ہے۔ افریقہ سے امریکہ غلاموں کی جبری منتقلی کا باقاعدہ آغاز  1619 سے جوڑا جاتا ہے، جب غلاموں سے بھرا پہلا جہاز ورجینیا (Virgina)کے ساحل پر لنگرانداز ہوا۔ بعض مورخین کے خیال میں غلامی کی ابتدائی شکلوں کا آغاز اس سے کئی دہائی پہلے ہوچکا تھ. تاہم Atlantic Slave Trade کو منظم تجارتی نظام کی حیثیت سترھویں صدی ہی میں ملی۔

اس سفاکانہ تجارت کے تحت افریقہ کے مغربی اور وسطی ساحلی علاقوں سے لاکھوں انسانوں کو پکڑ کر یورپی بندرگاہوں۔ خصوصاً ہالینڈ، پرتگال اور برطانیہ کے راستے براعظم امریکہ منتقل کیا گیا۔ دورانِ سفر تشدد، بھوک، بیماری اور دم گھٹنے کے باعث لاکھوں افریقی جان سے گئے۔ مزاحمت کرنے والوں کو زنجیروں سمیت سمندر میں پھینک دینا معمول کی بات تھی۔ یہ انسان نہیں، محض مالِ تجارت سمجھے جاتے تھے۔

تاریخی ریکارڈ اس امر کی تائید کرتے ہیں کہ افریقی غلاموں میں قابلِ ذکر تعداد اُن افراد کی تھی جو کسی نہ کسی صورت اسلامی تہذیب سے وابستہ تھے۔ مغربی افریقہ کے کئی خطے اُس وقت اسلامی تعلیم و تدریس کے مراکز سمجھے جاتے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ غلام بنا کر لائے گئے متعدد افریقی عربی لکھنا پڑھنا جانتے تھے، قرآن سے واقف تھے، اور منظم سماجی نظم و ضبط رکھتے تھے۔

غلامی کے دور میں ورجینیا، جنوبی کیرولائنا، شمالی کیرولائنا اور جارجیا جیسے علاقوں میں غلاموں کی منڈیاں قائم ہوئیں۔ اُس وقت امریکہ برطانوی سلطنت کی تیرہ کالونیوں پر مشتمل تھا، جنہوں نے 1776 میں آزادی کا اعلان کیا اور بعد ازاں ریاست ہائے متحدہ امریکہ وجود میں آیا۔ امریکی پرچم پر موجود تیرہ سرخ و سفید پٹیاں انہی ابتدائی ریاستوں کی علامت ہیں۔

آبادی کا تناسب غلام مالکوں کے لیے مستقل خطرہ بنا رہا، اسی لیے غلاموں کو قابو میں رکھنے کے لیے سخت اور غیر انسانی قوانین نافذ کیے گئے۔ بغاوت کی سزا اکثر سرِعام پھانسی ہوتی، اور یہی وہ پس منظر ہے جس سے “Get the rope” جیسی اصطلاحات امریکی سماج میں رچ بس گئیں۔

انیسویں صدی کے اختتام اور بیسویں صدی کے آغاز میں مشرقی یورپ، روس اور پولینڈ سے مسلمان تارکینِ وطن، خصوصاً تاتار، امریکہ پہنچے۔ ان کی آمد سے سیاہ فام مسلم شناخت کو نئی توانائی ملی۔ اسی دور میں Detroit صنعتی مرکز کے طور پر ابھرا جہاں مسلم تارکینِ وطن نے نمایاں کردار ادا کیا۔

1930 کی دہائی میں والیس فرد محمد نے Nation of Islam کی بنیاد رکھی، جسے بعد میں ایلیجا محمد نے منظم تحریک کی صورت دی۔ دوسری جنگِ عظیم کے دوران فوجی بھرتی کی مخالفت پر اس تحریک کو ریاستی جبر کا سامنا کرنا پڑا۔ یہی مزاحمتی روایت بعد میں محمد علی نے ویتنام جنگ میں شرکت سے انکار کر کے زندہ رکھی۔

مالکم ایکس (الحاج ملک الشہباز) کی نیشن آف اسلام میں شمولیت امریکی شہری حقوق کی تحریک میں ایک فیصلہ کن موڑ ثابت ہوئی۔ اگرچہ ان کے اور ڈاکٹر مارٹن لوتھر کنگ کے طریقِ کار مختلف تھے، لیکن مقصد مشترک تھایعنی برابری، انسانی وقار اور انصاف۔ ان تحریکوں کے نتیجے میں نسلی امتیاز کے قوانین ختم ہوئے، ووٹنگ رائٹس منظور ہوئیں، اور 1965 کا Immigration and Nationality Act نافذ ہوا جس نے یورپی اجارہ داری کو توڑ کر دنیا بھر کے لوگوں کے لیے امریکہ کے دروازے کھول دیے۔

یہ حقیقت ناقابلِ تردید ہے کہ افریقی نژاد امریکیوں کی قربانیوں نے نہ صرف امریکی جمہوریت کو مکمل کیا بلکہ اسے اخلاقی جواز بھی فراہم کیا۔ اس کے باوجود تاریخ کا ایک المناک پہلو یہ ہے کہ غلامی، نسلی تشدد اور ریاستی جبر کو امریکی تعلیمی نصاب میں ہمیشہ محدود اور محتاط انداز میں پیش کیا گیا۔

اسی ناانصافی کے ازالے کے لیے 1989 میں رکنِ کانگریس جان کونیئرز (John Conyers) نے افریقی امریکیوں کے لیے Reparations سے متعلق بل HR-40 پیش کیا۔ تین دہائیوں سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود یہ بل آج بھی کانگریس کی ذیلی کمیٹیوں میں زیرِ التوا ہے۔ جان کونیئرز 2019 میں اس ناامیدی کے ساتھ دنیا سے رخصت ہوئے کہ شاید یہ بل کبھی منظور ہو سکے۔

سیاہ فام امریکیوں کی تاریخ محض ایک نسلی داستان نہیں، بلکہ یہ امریکہ کے ضمیر کی تاریخ ہے۔ نوبل ڈریو علی، والیس فرد محمد، ایلیجا محمد، مالکم ایکس، مارٹن لوتھر کنگ اور محمد علی جیسے نام اُس جدوجہد کے درخشاں ستارے ہیں جس نے ایک نامکمل جمہوریت کو معنویت بخشی۔

یہ تاریخ یاد دلاتی ہے کہ امریکہ کی طاقت، دولت اور عالمی حیثیت محض ایوانوں میں نہیں بنی، بلکہ اُن ہاتھوں نے تراشی جو زنجیروں میں جکڑے ہوئے تھے، اور جن کی آواز آج بھی انصاف کی گونج ہے

ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل کراچی 26 فروری 2026

ہفت روزہ دعوت دہلی 26 فروری 2026

ہفت روزہ رہبر سرینگر 28 فروری 2026


 

غزہ، غربِ اردن اور عالمی ضمیر

مزاحمت، الحاق اور خاموش اتحادی

جب قبضہ مستقل ہو جائے تو مزاحمت جرم نہیں رہتی، بلکہ عزت و استقلال کیلئے ضروری ہوجاتی ہے۔ یہی وہ نکتہ ہے جو غزہ سے لے کر غربِ اردن، واشنگٹن سے دہلی اور لندن تک آج عالمی سیاست کے ضمیر کو کچوکے لگا رہا ہے۔

مزاحمت کارو ں  کا غیر مسلح ہونے سے انکار

سات فروری کو دوحہ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے فلسطینی مزاحمتی تحریک کے سینئر قائد نے ایک بار پھر واضح کر دیا کہ فلسطینی مزاحمت نہ غیر مسلح ہوگی اور نہ غزہ میں کسی غیر ملکی حکمرانی یا مداخلت کو قبول کرے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ قومی مزاحمت، اس کے ہتھیار اور کارکنوں کو مجرم یا دہشت گرد قرار دینا ناقابلِ قبول ہے۔ جب تک قبضہ برقرار ہے، مزاحمت بھی رہے گی۔ یہ ان لوگوں کا فطری حق ہے جو ایک غیر منصفانہ قبضے کے تحت زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ امریکی منصوبے Board of Peace کے بارے میں انہوں نے کہا کہ غزہ کی تعمیرِ نو اور امداد قابلِ قبول لیکن کسی بیرونی کنٹرول یا انتظامیہ کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ یہی موقف دس دن قبل الجزیرہ سے گفتگو میں بھی سامنے آیا تھا۔

امداد کے دروازے بند، قبضے کے  خیمے کھلے

دوسری طرف غزہ کے لئے امداد میں اضافے کے بجائے چند محدود ٹرکوں کا راستہ بھی روکا جا رہا ہے۔ ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق 2 فروری کو انتہا پسند آبادکاروں نے کریم سلام (Kerem Shalom) پھاٹک پر امدادی ٹرک روک دئے۔ مزید تشویشناک امر یہ ہے کہ گزشتہ ہفتے درجنوں انتہا پسند، ایک اسرائیلی خاتون رکنِ پارلیمان Limor Son Har-Melech کی قیادت میں غزہ پہنچے اور علامتی قبضے کے طور پر خیمے نصب کر دئے۔ یعنی اب غزہ میں بھی وہی نقشہ دہرانے کی کوشش ہو رہی ہے جو برسوں سے غربِ اردن میں جاری ہے۔

پمفلٹ، بمباری اور ننھے جنازے

نمازِ جمعہ کے دوران 6 فروری کو غزہ شہر کے زیتون محلے میں اسرائیلی فوج نے عربی پمفلٹ گرائے جن میں شہریوں کو عمارتوں سے دور رہنے کا حکم دیا گیااور چند ہی گھنٹوں بعد رہائشی عمارتیں زمین بوس کر دی گئیں۔ بمبار طیاروں، ڈرون، نشانہ بازوں اور ٹینکوں کے مشترکہ حملے میں پانچ ماہ کی  میرا الخباش سمیت 20 افراد جاں بحق ہوئے۔میرا کی لاش اٹھائے اس کی ماں کی تصویر نے دنیا بھر میں دل دہلا دئے، لیکن آٹھ ارب انسانوں میں سے اکثر کو یہ جنازے نظر ہی نہیں آئے۔

کھجور کی مٹھاس اور نفرت کی کڑواہٹ

اسرائیلی اخبار الارض (Haaretz) نے گزشتہ ہفتے غربِ اردن کے دو دیہات خربة الفخِیت اور خربة الحلاوة پر حملوں کی لمحہ بہ لمحہ روداد شائع کی۔شام پانچ بجے سے رات گیارہ بجے تک، فوجی تحفظ میں آبادکار، گھروں کو آگ لگاتے، مویشی ہنکاتے اور مقامی آبادی پر حملے کرتے رہے۔آتشزدگی کو حتمی انجام تک پہنچانے کیلئے فائر بریگیڈ کا راستہ بھی روکا گیا۔خربة الحلاوة انتہائی میٹھے کھجور کیلئے مشہور ہے جسکی وجہ سے یہ حلاوہ یا مٹھاس کہلایا لیکن صدیوں سے آباد اس گاوں میں شیریں کھجور کے پھلدار درخت غارت کردینے کے بعد فلسطینی کسانوں کو نئی فصل لگانے سے روکدیاگیا

آئینی راستے سے الحاق

اسی دوران اسرائیل کی  دفاعی (سیکیورٹی) کابینہ نے ایسے قوانین کی منظوری دی ہے جن کے تحت:

  • اسرائیلی شہری مغربی کنارے میں زمین و جائیداد خرید سکیں گے
  • پانی، سیوریج اور شہری سہولیات فلسطینی مقتدرہ کے بجائے اسرائیلی اداروں کے سپرد ہوں گی

یہ اقدامات مغربی کنارے کے عملی الحاق (de facto annexation) کی سمت واضح پیش رفت سمجھے جا رہے ہیں۔اس کا پہلا ہدف یروشلم سے 30 کلومیٹر جنوب میں الخلیل (Hebron) ہے، جہاں بلدیاتی اختیار اسرائیلی نظام میں ضم کیا جا رہا ہےجبکہ مسجدِ اقصیٰ سے متصل آبادیوں کو پہلے ہی انہدامی نوٹس دئے جا چکے ہیں۔

مزاحمت کاروں کا شدید ردعمل

فلسطینیوں کی مزاحمتی تحریک نے اسرائیلی حکومت کے حالیہ الحاقی اقدامات پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے اسرائیل کے خلاف عسکری کاروائیاں تیز کرنے کااعلان کیا ہے۔ اپنے ایک بیان میں مزاحمت کاروں نے کہا کہ چوری کی یہ نئی واردات، مقبوضہ فلسطین کے عملی انضمام (Annexation)کو تیز کرنے کی طرف ایک قدم ہے۔بیان میں  عرب و اسلامی ریاستوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ قبضے کے خلاف تاریخی ذمہ داری ادا کرتے ہوئے  اسرائیلی سفیروں کو اپنے دارالحکومتوں سے نکال باہر کریں، تاکہ مغربی کنارے اور بیت المقدس میں جاری قبضے، اسرائیلی آبادکاری (settlements) اور بے دخلی کو روکا جا سکے۔

صدر ٹرمپ  کی ’ہومیوپیتھک‘ مذمت

ایوانِ مرمریں (وائٹ ہاؤس) نے اسرائیلی فیصلے  کی مخالفت کرتے ہوئے علاقائی استحکام کی اہمیت پر زوردیا۔صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ  وہ غربِ اردن پر اسرائیلی قبضے (annexation) کی حمایت نہیں کرتے۔ ان کے نزدیک ایک مستحکم غربِ اردن، اسرائیل کو محفوظ رکھنے اور علاقائی استحکام کے لئے ضروری ہے۔

اسرائیلی حکومت کا  فیصلہ، عالمی قانون، اقوامِ متحدہ کی قراردادوں اور اوسلو معاہدے کی صریح خلاف ورزی ہے، مگر واشنگٹن کی جانب سے ردِعمل محض تشویش کے چند مدھم جملوں تک محدود رہا۔احتیاط کا یہ عالم کہ پورے بیان میں ہر جگہ صرف غربِ اردن استعمال ہوا اور مقبوضہ کا لفظ ہو یا فلسطین، دونوں سے مکمل اجتناب برتا گیا۔جب مزاحمت کاروں کا معاملہ ہوتا ہے تو صدر ٹرمپ کی زبان شعلے اگلتی ہے، دھمکیاں، سرخ لکیریں اور جہنم بنادینے کا وعدہ۔ قانون توڑنے پر نرمی، اور قبضے کے خلاف کھڑے ہونے پر آتشِ غضب۔ یہ ہے مغرب کا انصاف۔

آبادی: ایک تزویراتی ہتھیار

یہ تمام اقدامات حالیہ Epstein Files میں سامنے آنے والے انکشافات سے بھی جڑے نظر آتے ہیں، جہاں سابق اسرائیلی وزیراعظم ایہود باراک نے روسی صدر ولادیمر پیوٹن سے گفتگو میں اعتراف کیا کہ فلسطینی آبادی کا فطری اضافہ اسرائیل کے لیے ایک تزویراتی کمزوری ہے۔ جسے ہجرت (عَلیاہ)کے ذریعے متوازن کیا جانا چاہئے۔ جناب باراک کے مطابق روسی بولنے والے ممالک (یوکرین، بلاروس وغیرہ) سے اضافی ہجرت اسرائیل کے اندر فلسطینی آبادی کے بڑھتے ہوئے اثر کو کم کر سکتی ہے۔ اگر غزہ میں جاری نسل کشی اور غربِ اردن میں قبضے گردی کو اس زاوئے سے دیکھا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ یہ محض فوجی تصادم یا وقتی سیاسی اختلافات نہیں، بلکہ آبادیاتی توازن، ریاستی کنٹرول اور طویل المدت حکمتِ عملی کا حصہ ہیں۔ یہ صورتِ حال اس وسیع تر رجحان کی بھی عکاس ہے کہ فلسطین سےکشمیر اور بنگال سے برما تک طاقتور ریاستیں اپنے آبادیاتی اور سیاسی اہداف کو انسانی مصائب پر ترجیح دے رہی ہیں۔

آزادیِ اظہار؟ صرف نعروں تک

اسی ہفتے راجستھان کے شہر پشکر میں آزاد فلسطین کے اسٹکر لگانے پر دو برطانوی شہریوں کے سیاحتی ویزے منسوخ کر کے بھارت بدر کر دیا گیا۔ دیکھنا یہ ہے کہ آزادیِ اظہار کے علمبردار ،برطانیہ کا اس پر ردعمل کیا ہوتا ہے۔

پرامن مزاحمت: موثر ہتھیار

جہاں ریاستی تشدد کو سیاسی پشت پناہی حاصل ہے، وہیں دنیا بھر میں پُرامن بائیکاٹ مؤثر ثابت ہو رہا ہے۔گزشتہ برس اکتوبر میں امریکہ کے مقبول کوشر (یہودی حلال) ریستوران “شوق” (Shouk) نے  عوامی بائیکاٹ کی وجہ سے واشنگٹن ڈی سی اور اس کے نواحی علاقوں میں اپنی تمام شاخیں بند کر دیں۔ انہی حالات کے تناظر میں اب نیویارک کے معروف اسرائیلی ریستوران Reunion نے بھی اپنے دروازوں کو تالہ لگانے کا اعلان کیا ہے۔واشنگٹن اور نیویارک میں اسرائیلی ریستورانوں کی بندش اس حقیقت کا ثبوت ہے کہ شائستہ، مسلسل اور پرامن جدوجہد  بندوق سے زیادہ طاقتور ثابت ہو سکتی ہے۔

غزہ واپسی: مصائب اور حوصلہ

رفح پھاٹک کھلنے کے بعد واپس آنے والی خواتین کو ہراساں کیا جا رہا ہے آنکھوں پر پٹیاں، ہتھکڑی اور دھمکیاں۔ دوسری جانب مقامی لوگوں کے اعصاب بھی ناقابل شکست ہیں۔ بیوہ و بے سہارا، 73 سالہ کفایہ الاثر کو پیشکش کی گئی کہ وہ ہجرت کرکے مصر چلی جائیں جہاں انکے لئے رہائش کا بندوبست کردیا گیا ہے۔ وطن کی محبت سےسرشار اس خاتون نے صاف انکار کرتے ہوئے کہا کہ “1948 میں ہجرت غلطی تھی۔ اب ہم کہیں نہیں جائیں گے۔

ہوتا ہے جادہ پیما پھر کارواں ہمارا

Global Sumud / Freedom Flotilla کے تحت مارچ کے آخر میں ایک بڑا قافلہ خشکی اور سمندر کے راستے غزہ کی طرف روانہ ہونے والا ہے۔یہ پیغام ہے کہ طاقتوروں کی خاموشی کے باوجود دنیا غزہ کو تنہا چھوڑنے پر آمادہ نہیں۔جب سفارت کاری مفلوج ہو جائے، تو ضمیر اپنا خود راستہ بنا لیتا ہے۔

ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل کراچی 13 فروری 2026

ہفت روزہ دعوت  دہلی 13 فروری 2026

ہفت روزہ رہبر سرینگر 15 فرروری 2026