Friday, June 19, 2026

 

لبنان ، غزہ، غرب اردن اور سسکتی انسانیت

یادداشتِ اسلام آباد کے بعد بھی امن سے بہت دور

یادداشتِ اسلام آباد (Islamabad MOU) پر مفاہمت کے بعد خلیج فارس میں توپیں بظاہر خاموش ہو گئی ہیں۔ ایران کی بحری ناکہ بندی میں نرمی کے بعد ایرانی عوام نے بھی کسی حد تک سکھ کا سانس لیا ہے اور خطے میں ایک وسیع جنگ کے خطرات وقتی طور پر کم ہوتے دکھائی دیتے ہیں۔ وزیراعظم شہباز شریف کے مطابق لبنان بھی اس مفاہمت کا حصہ ہے اور 14 جون کو صدر ٹرمپ نے اسرائیل کو لبنان پر مزید حملوں سے باز رہنے کی کھلی ہدایت دی۔ تاہم یہ کہنا ابھی قبل از وقت ہوگا کہ اسرائیل اس یادداشت اور امریکی ہدایات پر کس حد تک عمل کرتا ہے، کیونکہ زمینی حقائق اب بھی کئی سوالات کو جنم دے رہے ہیں۔

جنگ بندی اور لبنان کی تلخ حقیقت

لبنان میں 16 اپریل سے عملاً جنگ بندی نافذ ہے، لیکن لبنانی وزیراعظم  نواف سلام کے مطابق امن معاہدے کے بعد سے اسرائیل نے لبنان پر 3500 حملے کئے ہیں۔بمباری کے علاوہ 400 سے زیادہ شہری و دیہی آبادی پر بلڈوزر پھیردئے گئے۔یہی وجہ ہے کہ لبنان میں جنگ بندی کا تصور کاغذی دستاویزات سے آگے بڑھ کر عوامی زندگی میں  منتقل نہیں ہو سکا۔

اسرائیل اب حزب اللہ کے نام پر لبنانی افواج کو بھی نشانہ بنارہا ہے جسکی وجہ سے 13 جون کو جنوبی لبنان کے شہر نبطیحہ سے لبنانی فوج پسپا ہوگئی۔واپسی سے پہلے مقامی جرنیل نے کہا کہ ہم اسرائیلی فوج سے تصادم نہیں چاہتے۔اسرائیل کی شدید بمباری اور ٹینک حملوں کے سامنے اپنے شہریوں کو چھوڑ کر فوج کا فرارناقابل فہم ہے۔

بیروت سے دریائے لیطانی تک

بیروت، صور (Tyre) اور دریائے لیطانی کے اطراف بمباری، ڈرون حملوں اور گولہ باری کی اطلاعات مسلسل موصول ہو رہی ہیں۔ بعض شہریوں نے الزام لگایا ہے کہ اسرائیل  شہری آبادی پر Fuel Bombگرارہا ہے اور سوشل میڈیا پر شایع ہونے والی کچھ تصویروں میں نہتے شہری سڑک پر جابجا بھڑکتی آگ سے بچنے کیلئے بھاگتے نظر  آرہے ہیں۔ بعض مبصرین کا خیال ہے کہ حالیہ حملوں کا مقصد صرف عسکری اہداف کو نشانہ بنانا نہیں بلکہ خطے میں جاری سفارتی عمل کو متاثر کرنا ہے۔ ان کے مطابق لبنان میں کشیدگی بڑھنے سے ایران اور امریکہ کے درمیان جاری مفاہمت کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

غزہ: جنگ ختم نہیں ہوئی

خلیج میں کشیدگی کم ہونے کے باوجود غزہ میں انسانی بحران بدستور جاری ہے۔ اسرائیلی کارروائیوں، ناکہ بندی اور امدادی راستوں کی بندش نے مشکلات کو مزید گہرا کر دیا ہے۔ کریم سلام (Kerem Shalom) پھاٹک کی بندش کے بعد خوراک، ادویات اور دیگر ضروری اشیاء کی فراہمی شدید متاثر ہوئی، جبکہ مقامی اور بین الاقوامی ادارے انسانی بحران میں اضافے کی تنبیہ کر رہے ہیں۔

خان یونس اور جبالیہ میں بمباری کے نتیجے میں مزید جانی نقصان کی اطلاعات موصول ہوئیں ہیں۔ زخمیوں کے علاج کے لیے درکار سہولیات پہلے ہی ناکافی ہیں اور ہسپتال شدید دباؤ کا شکار ہیں۔ غزہ کی تباہ حال گلیوں سے سامنے آنے والی تصاویر اس انسانی المیے کی شدت کو واضح کرتی ہیں۔ ایک تصویر میں ایک کم سن لڑکا اپنے بیمار بھائی کو زنگ آلود ٹھیلے میں لے جاتا دکھائی دیا۔ یہ منظر محض ایک خاندان کی کہانی نہیں بلکہ پورے غزہ کی اجتماعی حالت کا استعارہ بن چکا ہے، جہاں بہت سے خاندانوں کے لیے ایک ٹھیلا ہی ایمبولینس، ٹیکسی اور زندگی کی آخری امید ہے۔

سمندر بھی بند، زمین بھی تنگ

اسرائیلی پیش قدمی کے نتیجے میں غزہ کی آبادی ساحلی پٹی تک سمٹ آنی ہے اور ماہی گیری بہت سے خاندانوں کے لیے خوراک کا واحد ذریعہ بن چکی ہے۔ گزشتہ ہفتے بھوک سے مجبور ہوکر محمد ابوجیاب مچھلی پکڑنے ساحل پر آیا لیکن اسرائیلی بحریہ کی گولی نے اس مچھیرے کا کام تمام کردیا۔

غربِ اردن: مسلسل بحران

جہاں عالمی توجہ غزہ اور لبنان پر مرکوز ہے، وہیں غربِ اردن میں بھی کشیدگی کم نہیں ہوئی۔ فلسطینی دیہات، زرعی زمینیں، دکانیں اور رہائشی مکانات مسلسل دباؤ کا شکار ہیں۔ رام اللہ، قلقیلیہ، جنین اور دیگر علاقوں میں جائیدادوں کو نقصان پہنچانے، فصلیں جلانے اور مذہبی مقامات کو نشانہ بنانے کے واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔

رام اللہ کے قصبہ بُرقہ میں مسجد النور کو آگ لگانے کی کوشش نے مقامی آبادی میں شدید تشویش پیدا کی۔ خوش قسمتی سے مقامی خواتین نے فوری کارروائی کرتے ہوئے آگ پر قابو پا لیا اور بڑا نقصان ہونے سے بچ گیا۔ ایسے واقعات صرف املاک کا نقصان نہیں بلکہ مذہبی اور سماجی ہم آہنگی کے لیے بھی خطرہ سمجھے جاتے ہیں۔

اسرائیل کا داخلی بحران

اس دوران اسرائیل کے اندر لازمی فوجی خدمت کے مسئلے پر بحث ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ کنیسہ (پارلیمان) میں ایسے قانونی اقدامات زیر غور ہیں جن کے نتیجے میں مذہبی مدارس (Yeshiva) کے طلبہ کو فوجی خدمت سے استثنیٰ حاصل کرنے کے لیے مضبوط قانونی بنیاد مل سکتی ہے۔یہ بحث ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب اسرائیلی فوج طویل جنگ، مسلسل تعیناتیوں اور افرادی قوت کے دباؤ کا سامنا کر رہی ہے۔ ناقدین کا سوال ہے کہ اگر آبادی کے ایک بڑے حصے کو فوجی خدمت سے استثنیٰ دیا جاتا ہے تو دفاعی ذمہ داری کا بوجھ کس طبقے پر پڑے گا؟ اسی کے ساتھ فوج میں خواتین کے کردار اور مخلوط یونٹوں کے بارے میں مذہبی حلقوں کے تحفظات بھی شدت اختیار کر گئے ہیں۔

قیدیوں سے سلوک اور انسانی حقوق کے سوالات

گزشتہ ہفتے الجزیرہ نے فلسطینی قیدیوں پر اسرائیلی حراستی مراکز میں جسمانی، نفسیاتی اور جنسی نوعیت کی سنگین بدسلوکی کی ایک روح فرسا رپورٹ شایع کی ہے۔ سابق قیدیوں کے انٹرویو پر مشتمل اس رپورٹ میں نصب بصرئ تراشے اتنے بھیانک ہیں کہ انھیں دیکھنا بھی ممکن نہیں۔رپورٹ میں اقوامِ متحدہ کے بعض ماہرین، انسانی حقوق کے اداروں اور سابق قیدیوں کے بیانات کا حوالہ دیا گیا ہے، جن کے مطابق یہ واقعات محض انفرادی زیادتیوں کے بجائے ایک وسیع تر مسئلے کی نشاندہی کرتے ہیں۔حسب توقع اسرائیلی حکام نے ان الزامات کو بے بنیاد اور من گھڑت قراردیا لیکن انصاف کا تقاضہ ہے کہ ان واقعاات کی آزاد، شفاف اور غیر جانبدار بین الاقوامی تحقیقات کرائی جائیں تاکہ متاثرین کو انصاف ملے۔

تحقیق تو دور کی بات یہاں یہ عالم کہ اسرائیل کے وزیر اندرونی سلامتی اتامر بن گوئر نے تجویز دی ہے کہ لبنان کے مقبوضہ علاقےسے حزب اللہ کی خواتین اور بچوں کو گرفتارکرلیا جائے۔ جنگی کابینہ کے اجلاس میں انھوں نے کہا کہ بمباری اورجنگجووں کے قتل کے ساتھ انکی عورتوں اور بچوں کو حراست میں لیاجائے۔یہ انکے لئے موت سے زیادہ تکلیف دہ ہوگا۔ دوسرے الفاظ بمباری اور قتل کافی نہیں بلکہ مزاحمت کاروں کی آبرو پر ضرب لگانے کی ضرورت ہے

فرانسیسی صحافی ایلس فروسرڈ (Alice Frousard) کو اسرائیل چھوڑنے کے حکم نے اظہارِ رائے اور صحافتی آزادی کے بارے میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ ان پر مزاحمت کاروں کی پشت پناہی کا الزام ہے۔ محترمہ ایلس گزشتہ چھ سال سے یروشلم میں تعینات تھیں اور موقر اداروں ریڈیو فرانس، Le FigaroاورTV5Monde Mediapartkکی نمائندگی کررہی تھیں۔ فرانسیسی حکومت کے ترجمان کا کہنا ہے کہ وہ اسرائیل کے اس فیصلے سے متفق تو نہیں لیکن اسکا احترام کرتے ہیں

ہفت روزہ دعوت دہلی 19 جون 2026

ہفت روزہ رہبر سرینگر 21 جون 2026


Thursday, June 18, 2026

 

 

اسلام آباد یادداشت: معاہدہ طے، مگر مفہوم ابھی باقی

ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان مفاہمت یا تعبیرات کی نئی جنگ

امریکہ اور ایران کے درمیان ایک عبوری مفاہمت طے پا گئی ہے۔ پیر 15 جون کو صبح سویرے اس کا اعلان کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ دستخط کی رسمی تقریب 19 جون کو سوئٹزرلینڈ میں ہوگی۔ صدر ٹرمپ کے مطابق اتوار کے روز امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اور ایرانی پارلیمان کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے ڈیجیٹل دستخط کر کے اس یادداشت کو قانونی عہد کی شکل دے دی ہے۔ پاکستانی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ فریقین نے لبنان سمیت تمام محاذوں پر فوجی کارروائیاں فوری اور مستقل طور پر ختم کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔

مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی، آبنائے ہرمز کی بندش، ایران پر اقتصادی و عسکری دباؤ، اسرائیلی حملوں اور امریکی دھمکیوں کے درمیان شاید پہلی مرتبہ ایسا موقع پیدا ہوا ہے جب فریقین کم از کم عارضی طور پر تلواریں نیام میں رکھنے پر آمادہ دکھائی دیتے ہیں۔ اگرچہ اس مرحلے کو مکمل امن نہیں کہا جا سکتا، لیکن یہ ایک ایسے عمل کا آغاز ضرور ہے جو خطے کو مزید تباہی سے بچانے کی امید پیدا کرتا ہے۔ "اسلام آباد یادداشت" (Islamabad MOU) کوئی حتمی امن معاہدہ نہیں بلکہ خود صدر ٹرمپ کے الفاظ میں “A Deal to Make a Deal” یعنی ایک ایسے معاہدے کا معاہدہ ہے جو مستقبل کے جامع مذاکرات کی بنیاد فراہم کرے گا۔

اس میں لکھا کیا ہے؟

اسلام آباد یادداشت کے بارے میں سب سے بڑا سوال یہی ہے کہ آخر اس میں لکھا کیا گیا ہے؟ اسلئے کہ دونوں فریق اس یادداشت کی مختلف تشریحات پیش کر رہے ہیں۔ واشنگٹن کے خیال میں یہ ایران کے جوہری پروگرام پر اسکی ایک بڑی کامیابی ہے، جبکہ تہران کا مؤقف ہے کہ اس مرحلے پر اصل توجہ جنگ بندی، آبنائے ہرمز، بحری ناکہ بندی کے خاتمے، منجمد اثاثوں اور علاقائی کشیدگی میں کمی پر ہے۔ صدر ٹرمپ نے 300 ارب ڈالر کے بحالی فنڈ اور مالی رعایتوں کی خبروں کو "فیک نیوز" اور ڈیموکریٹک پروپیگنڈا قرار دیا لیکن انہی کی انتظامیہ کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے صحافیوں کو بتایا کہ منجمد اثاثوں کی واپسی، پابندیوں میں نرمی اور ایران کی تعمیرِ نو کے لئے بڑے مالی پیکج پر بات ہوئی ہے۔ صدر ٹرمپ نے کہا کہ MOU کا متن جمعہ کی دستخطی تقریب کے بعد جاری ہوگا، جبکہ ان کے معاونین کا کہنا ہے کہ 24 سے 48 گھنٹوں میں متن شائع کیا جا سکتا ہے۔ نائب صدر جے ڈی وینس بھی اس سوال کا واضح جواب نہیں دے سکے کہ اگر ایران معاہدے کی غلط تشریح کر رہا ہے تو پھر متن عوام کے سامنے کیوں نہیں لایا جا رہا؟

تشریح پر خود واشنگٹن یکسو نہیں

اسلام آباد یادداشت کے گرد پیدا ہونے والا ابہام صرف واشنگٹن اور تہران کے درمیان نہیں بلکہ خود امریکی انتظامیہ کے اندر بھی موجود دکھائی دیتا ہے۔ نائب صدر جے ڈی وینس کا کہنا ہے کہ معاہدے کی بنیادی شقوں میں بین الاقوامی جوہری معائنہ کاروں کی ایران واپسی اور افزودہ یورینیم کے ذخائر کے خاتمے کا واضح ذکر موجود ہے۔ ان کے مطابق یہ نکات یادداشت میں ’’بہت واضح‘‘ انداز میں درج ہیں۔ لیکن دوسری جانب امریکی خبر رساں ادارے Axios کے مطابق سی آئی اے کے سربراہ جان ریٹکلف نے صدر ٹرمپ کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ امریکی انٹیلی جنس کے جائزے سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران کی نیت معاہدے کے تحت کئے گئے وعدوں سے مطابقت نہیں رکھتی۔ وزیر خارجہ مارکو روبیو اور وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ بھی اسی نوعیت کے تحفظات کا اظہار کر چکے ہیں۔

خود صدر ٹرمپ کے بیانات میں بھی مکمل یکسانیت نظر نہیں آتی۔ کبھی وہ کہتے ہیں کہ ایران نے ہمیشہ کے لئے جوہری ہتھیار سے دستبردار ہونے پر اتفاق کر لیا ہے، اور کبھی یہ مؤقف سامنے آتا ہے کہ معاہدے کی تفصیلات ابھی تکنیکی مراحل سے گزر رہی ہیں۔ اگر نائب صدر معاہدے کی درست تشریح کر رہے ہیں تو پھر سی آئی اے کیوں مطمئن نہیں؟ اور اگر انٹیلی جنس اداروں کی تشخیص درست ہے تو نائب صدر اتنے اعتماد سے کیسے کہہ رہے ہیں کہ افزودہ یورینیم اور معائنہ کاروں کا معاملہ طے ہو چکا ہے؟

یوں محسوس ہوتا ہے کہ ابہام ایران کے مؤقف میں کم اور امریکی تشریح میں زیادہ ہے۔ تہران تو مسلسل یہی کہہ رہا ہے کہ اس نے کبھی جوہری ہتھیار بنانے کا ارادہ نہیں رکھا، لیکن واشنگٹن میں صدر، نائب صدر، سی آئی اے، وزارتِ خارجہ اور پینٹاگون گویا ایک ہی دستاویز کو مختلف زاویوں سے پڑھ رہے ہیں۔ شاید اسی لیے یادداشت کا مکمل متن اب تک منظرِ عام پر نہیں آ سکا۔ اگر خود امریکی انتظامیہ اس کے مفہوم پر متفق نہیں تو کیا واقعی معاہدہ ہو چکا ہے، یا صرف ایک ایسے معاہدے کا اعلان ہوا ہے جس کی تعبیر ابھی باقی ہے؟

جنگ بندی پہلے، جوہری مذاکرات بعد میں

اس عبوری یادداشت کی فوری ترجیح جوہری پروگرام کے بجائے جنگ بندی اور کشیدگی میں کمی دکھائی دیتی ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی متعدد مواقع پر واضح کر چکے ہیں کہ جوہری پروگرام پر باضابطہ مذاکرات اس وقت ہی شروع ہوں گے جب عبوری معاہدے پر عمل درآمد کا مرحلہ آگے بڑھے گا۔

دستیاب اطلاعات سے یہی تاثر ملتا ہے کہ موجودہ مفاہمت میں لبنان سمیت مختلف محاذوں پر جنگ بندی، آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی بحالی، ایران کی بحری ناکہ بندی کا خاتمہ، منجمد اثاثوں کے معاملات اور علاقائی کشیدگی میں کمی جیسے موضوعات کو ترجیح دی گئی ہے۔ گویا پہلے میدانِ جنگ کو خاموش کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے اور اس کے بعد زیادہ پیچیدہ جوہری تنازع زیرِ بحث آئے گا۔

ہرمز اور افزودہ یورینیم: اصل اختلافات باقی ہیں

بلاشبہ MOU ایک اہم  پیش رفت ہے، لیکن بنیادی اختلافات ابھی ختم نہیں ہوئے۔ آبنائے ہرمز کے بارے میں ایرانی موقف یہ ہے کہ جنگ سے پہلے والی صورتحال من و عن بحال نہیں ہوگی اور ایران اپنے انتظامی اور خودمختار کردار پر سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ اگر یہ مؤقف برقرار رہتا ہے تو اسے تہران کی ایک اہم سفارتی کامیابی سمجھا جا سکتا ہے۔اسی طرح افزودہ یورینیم کے ذخائر کے بارے میں بھی دونوں فریق مختلف تعبیرات پیش کر رہے ہیں۔ امریکی حلقے اسے جوہری تنازع کے حل کی جانب ایک فیصلہ کن قدم قرار دیتے ہیں، جبکہ ایرانی حکام مسلسل اس بات کی تردید کر رہے ہیں کہ افزودہ یورینیم کی حوالگی یا اس سے دستبرداری پر کوئی حتمی اتفاق ہو چکا ہے۔ یہی وہ نکتہ ہے جو مستقبل کے مذاکرات میں سب سے زیادہ حساس ثابت ہو سکتا ہے۔

امن کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ

اس پورے عمل کی سب سے بڑی آزمائش اسرائیل کا ردعمل ہوگا۔ اسرائیلی سیاسی حلقوں، بالخصوص حزبِ اختلاف کے بعض رہنماؤں نے مجوزہ مفاہمت پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ اگر ایران کے میزائل پروگرام، علاقائی سرگرمیوں اور جوہری صلاحیت کے بارے میں واضح ضمانتیں شامل نہیں کی جاتیں تو یہ معاہدہ مستقبل میں مزید پیچیدگیاں پیدا کر سکتا ہے۔یہ اختلافات ظاہر کرتے ہیں کہ واشنگٹن، تہران اور تل ابیب کے مفادات اب بھی ایک دوسرے سے مختلف ہیں اور کسی بھی لمحے یہ تفاوت مذاکراتی عمل کو متاثر کر سکتا ہے۔

پاکستان اور خلیجی سفارت کاری

اس مفاہمتی عمل میں پاکستان کا کردار غیر معمولی اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ مختلف سفارتی ذرائع کے مطابق اسلام آباد نے نہ صرف امریکہ اور ایران کے درمیان رابطوں کو برقرار رکھنے میں مدد دی بلکہ خلیجی ممالک کے ساتھ بھی مسلسل مشاورت جاری رکھی۔ قطر، متحدہ عرب امارات اور دیگر علاقائی ریاستوں کی شمولیت نے بھی کشیدگی میں کمی کے امکانات کو تقویت دی ہے۔پاکستان کی سفارتی کوششوں کے نتیجے میں اسلام آباد ایک مرتبہ پھر علاقائی ثالثی کے مرکز کے طور پر سامنے آیا ہے۔ یہ پیش رفت پاکستان کے لئے نہ صرف سفارتی اعتبار سے اہم ہے بلکہ اس سے خطے میں اس کے کردار کو نئی جہت بھی مل سکتی ہے۔

امن کی کرن یا تعبیرات کا بحران؟

اس وقت سب سے خوش آئند بات یہ ہے کہ ایک سو دس دن سے زائد عرصے تک جاری رہنے والی خونریزی کے بعد کم از کم جنگ کے وقفے اور مذاکرات کے آغاز کی امید پیدا ہوئی ہے۔ تاہم یہ راستہ ابھی بھی خطرات سے خالی نہیں۔ صدر ٹرمپ کے جارحانہ بیانات، اسرائیلی تحفظات، افزودہ یورینیم کا تنازع، آبنائے ہرمز کا مستقبل اور علاقائی طاقتوں کے متضاد مفادات کسی بھی وقت نئی کشیدگی کو جنم دے سکتے ہیں۔

یادداشت پر اتفاق کے بعد ایک انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ اگر ایران امریکہ کے ساتھ حتمی جوہری معاہدے تک نہ پہنچ سکا تو فوجی کارروائی دوبارہ شروع ہو سکتی ہے۔ انہوں نے یہاں تک کہا کہ امریکہ مشرقِ وسطیٰ کا ’’نگہبان‘‘ بن سکتا ہے۔ مذاکرات کے ابتدائی مرحلے میں طاقت کے استعمال کی دھمکیاں کسی بھی امن عمل کے لیے نیک شگون نہیں ہوتیں۔ اس طرح کے بیانات نہ صرف اعتماد کو مجروح کرتے ہیں بلکہ فریقین کو دفاعی پوزیشن اختیار کرنے پر بھی مجبور کر دیتے ہیں۔ مزید تشویش کی بات یہ ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کے وسائل یا آمدنی پر بیرونی کنٹرول کے اشارے صرف خطے کے ممالک ہی نہیں بلکہ روس اور چین جیسی بڑی طاقتوں کے لیے بھی باعثِ تشویش بن سکتے ہیں۔ بالخصوص چین، جو اپنی توانائی کی ضروریات کا بڑا حصہ مشرقِ وسطیٰ سے حاصل کرتا ہے، ایسے بیانات کو خطے کے استحکام کے لیے خطرہ سمجھ سکتا ہے۔

اگر واقعی ایک تاریخی مفاہمت جنم لے رہی ہے تو اس کا خیرمقدم باعزت اور مفاہمانہ انداز میں ہونا چاہیے۔ لیکن تنازعے کی جڑ یعنی ایران کے جوہری پروگرام کی حقیقت ہی غیر واضح ہے۔ امریکہ ایران سے اس بات کی ضمانت چاہتا ہے کہ وہ جوہری ہتھیار نہیں بنائےگا جبکہ تہران کہتا ہے ہمارا جوہری ہتھیار بنانے کا کبھی ارادہ نہیں رہا۔ جوہری توانائی کے حصول و ترقی کا پروگرام 1957 میں امریکہ کے تعاون سے شروع ہوا جسے خود صدر آئرن ہاور نے Atom for Peaceکا نام دیا اور یہی عزم 2015 میں ایک عالمی معاہدہ برجام (JCPOA)المعروف 5+1کی بنیاد ہے جسکی اقوام متحدہ کے علاوہ امریکی پارلیمان کے دونوں ایوانوں نے دوتہائی اکثریت سے توثیق کی۔ گویا امریکہ ایران سے ایسا کام نہ کرنے کی ضمانت چاہتا ہے۔ جسکی ایران کو کبھی خواہش ہی نہیں رہی۔

اسوقت اسلام آباد یادداشت کے متن سے زیادہ اس کی تشریح موضوعِ بحث بنتی نظر آرپی ہے۔ اگر معاہدے کے فریق اور اس کے ضامن ہی ابھی تک اس کے الفاظ اور مقاصد پر یکساں رائے نہیں رکھتے تو اصل امتحان دستخط نہیں بلکہ عمل درآمد ہوگا۔ آنے والے ہفتے یہ طے کریں گے کہ اسلام آباد یادداشت واقعی مشرقِ وسطیٰ میں امن کا پہلا قدم ہے یا محض ایک ایسے سفر کا آغاز جس کی منزل ابھی دھند میں چھپی ہوئی ہے

ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل کراچی 19 جون 2026

ہفت روزہ دعوت دہلی 19 جون 2026

ہفت روزہ رہبر سرینگر 21 جون 2026


Monday, June 15, 2026

 

جنگ کے سائے میں امن کی تلاش

 اصل فریق کے بغیر امن مذاکرات

ہر گزرتے دن کے ساتھ غزہ، غربِ اردن اور جنوبی لبنان میں عام لوگوں کی زندگی مزید دشوار ہوتی جا رہی ہے۔ اسرائیل اپنے فوجی آپریشن کا دائرہ وسیع کر رہا ہے، شہری علاقوں پر بمباری جاری ہے اور دوسری جانب مزاحمتی تنظیمیں ہتھیار ڈالنے پر آمادہ نہیں۔ گزشتہ ہفتے غزہ مزاحمت کے رہنما حسام بدران نے الجزیرہ کو انٹرویو دیتے ہوئے دوٹوک اعلان کیا کہ مزاحمت کار ہتھیار نہیں ڈالیں گے۔ وحشیانہ کاروائیوں اور نسل کشی کے باوجود  32 مہینے بعد بھی اہل غزہ کی مزاحمت جاری ہے۔

لبنان میں بدلتا ہوا منظرنامہ

لبنان میں صورتحال اس لحاظ سے مختلف ہے کہ یہاں پہلی مرتبہ خود اسرائیلی عسکری قیادت جنگ بندی کی ضرورت پر زور دیتی دکھائی دے رہی ہے۔ اسرائیلی نشریاتی ادارے Kan کے مطابق چیف آف اسٹاف جنرل ایال ضمیر نے کابینہ کے اجلاس میں کہا کہ اگر چند ماہ بعد وہی شرائط قبول کرنی ہیں جو آج میز پر موجود ہیں تو بہتر ہے کہ جنگ بندی اب ہی کر لی جائے۔ ان کے بقول حزب اللہ مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی، تاہم اس کی قوت ماضی کے مقابلے میں کمزور ہوئی ہے اور شمالی اسرائیل کو درپیش دراندازی کا خطرہ بڑی حد تک محدود ہو چکا ہے۔

ظاہری طور پر اس مؤقف کی منطق واضح ہے: فوج اپنے بنیادی عسکری اہداف حاصل کر چکی ہے اور اب ان کامیابیوں کو سیاسی نتائج میں تبدیل کیا جانا چاہیے۔ تاہم غیر جانب دار مبصرین اسے ایک وسیع تر تناظر میں دیکھ رہے ہیں۔ کئی مہینوں سے اسرائیلی فوج میں نفسیاتی دباؤ، خودکشیوں کے واقعات، مسلسل جنگی تعیناتیوں اور افرادی قوت کی کمی کے مسائل پر بحث جاری ہے۔ خود جنرل ضمیر نے ماضی میں مذہبی مدارس کے طلبہ کی فوجی بھرتی کے تنازع اور افرادی قوت کے بحران کی نشاندہی کی ہے۔

جنگ بندی کی خواہش عسکری کامیابیوں کا نتیجہ نہیں بلکہ اس کے پیچھے جنگی تھکن اور افرادی قوت کے مسائل کارفرما ہیں۔ اگر حزب اللہ واقعی فیصلہ کن حد تک کمزور ہو چکی ہے تو پھر فوری سیاسی تصفیے پر زور کیوں دیا جا رہا ہے؟ کیا زمینی حقائق اسرائیل کو سیاسی مفاہمت کی طرف دھکیل رہے ہیں؟

امن مذاکرات کا بنیادی مسئلہ

لبنان اور غزہ کے معاملات میں ایک مشترک مسئلہ نمایاں ہے: اصل فریق مذاکراتی میز پر موجود نہیں۔ غزہ کے حوالے سے مختلف بین الاقوامی کانفرنسیں اور امن فورم منعقد ہو رہے ہیں، لیکن مزاحمتی قوتوں کو براہِ راست شریکِ گفتگو نہیں بنایا جا رہا۔ لبنان میں بھی مذاکرات اسرائیل اور لبنانی حکومت کے درمیان ہو رہے ہیں، جبکہ اصل عسکری فریق حزب اللہ ہے۔

گزشتہ ہفتے امریکی ثالثی میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان طویل مذاکرات کے بعد ایک فارمولے پر اتفاق ہوا۔ مجوزہ بندوبست میں تجویز کیا گیا ہے کہ حزب اللہ اپنی عسکری کارروائیاں روک دے، جبکہ اسرائیلی افواج اور حزب اللہ کے زیرِ اثر علاقوں کے درمیان ایک عبوری یا "پائلٹ زون" قائم کرکے وہاں لبنانی فوج تعینات کردی جائے۔المنار ٹی وی کے مطابق حزب اللہ کے سیکریٹری جنرل نعیم قاسم نے اس تجویز کو مسترد کرتے ہوئے اسے عملاً "ہتھیار ڈالنے" کے مترادف قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ جب تک لبنانی سرزمین پر اسرائیلی افواج موجود ہیں مزاحمت جاری رہے گی۔

اگرچہ واشنگٹن اور تل ابیب سیاسی پیش رفت کے خواہاں دکھائی دیتے ہیں، لیکن حزب اللہ کو اعتماد میں لئے بغیر کسی جامع معاہدے کی کامیابی مشکوک نظر آتی ہے۔ دوسری طرف ایران نے لبنان جنگ بندی کو امریکہ سے اپنے معاہدے کی بنیادی شرط قراردیدیا ہے۔امن بات چیت کیساتھ اسرائیل لبنان پر خوفناک بمباری جاری رکھے ہوے ہے۔لبنانی وزیراعظم نواف سلام نے اقوام متحدہ کو مطلع کیا کہ 16اپریل کو امن معاہدے کے بعد سے اسرائیل نے لبنان پر 3500 حملے کئے ہیں اور بمباری کے علاوہ 400 سے زیادہ شہری و دیہی آبادی پر بلڈوزر پھیردئے گئے۔

غربِ اردن: خاموش جنگ

غرب اردن میں قبضہ گردوں کے حملے،  آتشزنی اور لوٹ مار کا سلسلہ جاری ہے۔ رام اللہ  کے گاوں بیتن میں مسلح قبضہ گردوں سے بچاو کیلئے پتھراو کرنے والے فلسطینیوں پر اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے 18 سالہ لڑکا ہیثم عزالدین حمیدہ جاں بحق۔ ہوگیا ہیثم کے خلاف دہشت گردی کو پرچہ کاٹ دیا گیا تاکہ فوجی عدالت سے الزام ثابت ہونے پر اسکے گھر کو مسمار کیا جاسکے۔ نابلوس کے علاقے حوارہ پر 6 جون کو قبضہ گردوں کے حملے میں سات افراد زخمی ہوئے۔ نقاب پوش دہشت گردوں نے کاروں کو نقصان پہنچایا اور درجنوں بھیڑ اور دوسرے مویشی چراکر لے گئے۔ الخلیل (Hebron)میں فلسطینیوں کے مکانات نذرِ آتش کردئے گئے۔ فلسطینیوں کا کہنا ہے ہے کہ اس 'اپریشن' کی نگرانی اور تحفظ مسلح افواج نے فراہم کی۔ الخلیل ہی کے علاقے تل رمیدہ میں چلتی کار پر اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے سات ماہ کا فہد ابو ہیکل اپنی ماں کی گود میں جاں بحق ہوگیا۔معصوم جان کے زیاں پر اسرائیلی فوج کی طرف سے افسوس کا اظہار ہوا، جس پر فہد کی دادی نے بچے کی تصویر دکھاتے ہوئے کہا کہ  کہ تمہاری معذرت سے میرا پوتا واپس آئیگا نہ میری بہو اور بیٹے کے زخم بھرینگے۔

بیت المقدس: مذہبی آزادی کا سوال

مشرقِ وسطیٰ کے تنازعات میں بیت المقدس کی حیثیت منفرد ہے۔ یہ شہر تین بڑے مذاہب کے ماننے والوں کیلئے یکساں تقدس رکھتا ہے۔ لیکن حالیہ برسوں میں مسیحی مذہبی رہنماؤں نے بھی مقدس مقامات تک رسائی اور عبادت کی آزادی کے بارے میں تشویش کا اظہار شروع کر دیا ہے۔

یروشلم کے یونانی آرتھوڈوکس پٹریارک تھیوفیلوس سوم نے گزشتہ ہفتے امریکی صدر سے ملاقات کے دوران کہا کہ مسیحی برادری بڑھتے ہوئے دباؤ اور عدم تحفظ کا سامنا کر رہی ہے۔ ان کا مطالبہ صرف اتنا تھا کہ مقدس مقامات تک رسائی اور مذہبی آزادی کو یقینی بنایا جائے۔یہ مطالبہ اس لیے بھی اہم ہے کہ چند ماہ قبل پام سنڈے کے موقع پر بعض مسیحی مذہبی رہنماؤں کو کلیسائے مقبرۂ مقدس تک رسائی میں مشکلات پیش آئیں۔ مسلمانوں کی جانب سے بیت المقدس میں مذہبی پابندیوں کی شکایات تو عشروں سے سامنے آتی رہی ہیں، لیکن اب مسیحی برادری کی تشویش نے اس مسئلے کو ایک نئے زاویے سے اجاگر کیا ہے۔اسرائیل نے 1967ء کے بعد مقدس مقامات کے "اسٹیٹس کو" کو برقرار رکھنے کا وعدہ کیا تھا۔ اگر آج مختلف مذاہب کے ماننے والے اپنی عبادات کے حوالے سے سوالات اٹھا رہے ہیں تو یہ معاملہ صرف سیاست کا نہیں بلکہ مذہبی آزادی کے ایک بنیادی اصول کا بھی ہے۔

جنگ کی قیمت

اسرائیل کی توسیع پسندانہ جارحیت نے جہاں معصوم فلسطینیوں، شامیوں، لبنانیوں، یمنیوں اور ایرانیوں کی زندگی جہنم بنا رکھی ہے وہیں اس عذاب کا مزہ ہوائی سفر کرنے والے اسرائیلی بھی چکھ رہے ہیں۔خلیج فارس سے لے کر بحیرۂ روم کے مشرقی ساحل تک ہزاروں اہداف پر فضائی کارروائیوں کیلئے طویل فاصلے تک پرواز کرنے والے جنگی طیاروں کو فضا میں ایندھن بھرنے کی ضرورت پیش آتی ہے۔ اسی مقصد کیلئے امریکی فضائیہ نے اسرائیل کو KC-135 Refueling طیارے فراہم کئے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق 59 ایندھن برداررطیارے تقریباً ہر وقت بن گوریان ائرپورٹ پر کھڑے رہتے ہیں جبکہ اس ہوائی اڈے پر طیارے کھڑی کرنے کی مجموعی گنجائش 99 ہے، جس کے باعث ہوائی اڈے کی پارکنگ پر غیر معمولی دباؤ پیدا ہوگیا ہے۔

اس "فضائی ٹریفک جام" کی قیمت عام مسافر ادا کر رہے ہیں۔ شہری ہوابازی حکام کے مطابق رواں موسمِ گرما میں تقریباً پندرہ لاکھ مسافروں کو پروازوں کی منسوخی یا تاخیر کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ یکم جون کو بن گوریان ائیرپورٹ سے صرف 61 ہزار 600 مسافروں نے سفر کیا، جبکہ معمول کے دنوں میں یہ تعداد ایک لاکھ کے قریب ہوتی ہے۔ ریاستیں جب اپنی ترجیحات میں جنگی تقاضوں کو فوقیت دیتی ہیں تو اس کے اثرات معیشت، نقل و حمل، سیاحت اور روزمرہ زندگی تک پھیل جاتے ہیں۔ جنگ کے حقیقی اخراجات کا اندازہ صرف فوجی بجٹ سے نہیں لگایا جا سکتا۔

امید اب بھی زندہ ہے

اس تمام تاریکی کے باوجود زندگی نے ہار نہیں مانی۔ تباہ حال غزہ میں جامعہ کے سات طلبہ نے خان یونس کے قریب آئس کریم کی ایک دوکان کھول لی۔ 'مالکان' میں چار طِب، دو دندان سازی (Dentistry)اور ایک سوفٹ وئر انجینیرنگ کے طالب علم ہیں۔جنگ، محاصرہ اور تباہی کے درمیان یہ چھوٹی سی دکان محض ایک کاروبار نہیں بلکہ امید کی علامت ہے۔ شاید یہی مشرقِ وسطیٰ کا سب سے بڑا سبق بھی ہے: بمباری عمارتیں گرا سکتی ہے، لیکن زندگی کی خواہش کو مکمل طور پر ختم نہیں کر سکتی۔ جب تک ایسے نوجوان موجود ہیں جو ملبے کے درمیان مستقبل کے خواب دیکھتے ہیں، تب تک امن کی امید بھی زندہ رہے گی۔

ہفت روزہ رہبر سرینگر 14 جون 2026


 

Friday, June 12, 2026

 

شاخِ زیتون اور شعلۂ جنگ

امن کے وعدے، جنگ کے سائے۔ دھمکیوں اور سفارت کاری کا متضاد منظرنامہ

ایران کے خلاف اسرائیلی و امریکی کارروائیوں اور اس کے بعد شروع ہونے والے بحران کو ایک سو دن مکمل ہوچکے ہیں۔ اگرچہ پاکستان کی ثالثی سے طے پانے والی جنگ بندی 8 اپریل سے نافذ العمل ہے، لیکن بحری ناکہ بندی، آبنائے ہرمز کی بندش، وقفے وقفے سے ہونے والے حملوں اور دونوں جانب سے جاری سخت بیانات نے اس جنگ بندی کو شاخِ نازک پر بنے آشیانے سے زیادہ مضبوط نہیں ہونے دیا۔

گزشتہ ہفتے لبنان پر اسرائیلی حملوں میں شدت آنے کے بعد ایرانی پارلیمان کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے خبردار کیا کہ امریکہ اور اسرائیل نے ناکہ بندی اور بیروت پر بمباری کے ذریعے ثابت کردیا ہے کہ وہ سفارت کاری نہیں بلکہ طاقت کی زبان پر یقین رکھتے ہیں۔ ان کے بقول اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو خطے میں امریکی اڈے اور اسرائیلی اثاثے ایران کے نزدیک جائز عسکری اہداف تصور ہوں گے۔

اسی روز NBC ٹیلی ویژن کے پروگرام Meet the Press میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نسبتاً مفاہمانہ لہجہ اختیار کرتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن, ایران کے ساتھ معاہدے کے بہت قریب پہنچ چکا ہے اور صرف ایسی واضح ضمانتیں چاہتا ہے جو ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے مستقل طور پر روک سکیں۔ تاہم چند ہی لمحوں بعد وہ اپنے روایتی انداز میں واپس آتے ہوئے بولے کہ اگر معاہدہ نہ ہوا تو وہ ایران پر ’’جہنم کے دروازے کھول دیں گے‘‘۔

اس کے فوراً بعد کشیدگی نے ایک اور خطرناک موڑ لیا۔ بیروت پر حملوں کے ردعمل میں ایران نے شمالی اسرائیل کی جانب میزائل داغے۔ اسرائیلی کابینہ نے جوابی کارروائی پر غور شروع کردیا اور وزیرِ قومی سلامتی ایتامر بن گوئر نے یہاں تک کہہ دیا کہ ’’آج رات تہران جل رہا ہوگا‘‘۔ تاہم امریکی ذرائع کے مطابق صدر ٹرمپ کی مداخلت پر وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے فوری جوابی حملہ مؤخر کردیا۔ دوسری جانب تہران نے بھی اشارہ دیا کہ اگر لبنان پر مزید حملے نہ ہوئے تو وہ تحمل کا مظاہرہ کرے گا۔

امن اور جنگ کے درمیان

لیکن نیتن یاہو اپنے انتہا پسند ساتھیوں کا دباو برداشت نہ کرسکےاور اسرائیلی طیاروں نے تہران، اصفہان، تبریز و دیگر مقامات پر حملے کئے۔ ان کارروائیوں میں ڈرون تنصیبات اور خوزستان کے ماہشہر پیٹروکیمیکل کمپلیکس کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ جواباً ایران نے وسطی اسرائیل میں تل نوف فضائی اڈے اور حیفا کے صنعتی علاقے پر میزائل داغے۔

ایران اور لبنان کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے یمن کے حوثیوں نے بھی شمالی اسرائیل کی جانب میزائل برسائے اور باب المندب سے اسرائیلی جہازوں کی آمدورفت روکنے کا اعلان کردیا۔ چونکہ آبنائے ہرمز کی بندش کے بعد ایشیا کی جانب توانائی کی ترسیل کا بڑا بوجھ اسی بحری راستے پر منتقل ہوچکا ہے، اس لیے مبصرین کو خدشہ ہے کہ اگر باب المندب بھی غیر محفوظ ہوگیا تو عالمی تجارت اور توانائی کی رسد کو ایک نئے بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

پیر کی صبح صورتحال اس قدر کشیدہ دکھائی دے رہی تھی کہ ایک وسیع ایران۔اسرائیل جنگ کا خدشہ پیدا ہوگیا۔ اسی دوران صدر ٹرمپ نے اسرائیلی چینل 12 سے گفتگو کرتے ہوئے دونوں فریقوں سے تحمل کی اپیل کی اور خبردار کیا کہ اگر اسرائیل نے کشیدگی میں مزید اضافہ کیا تو وہ سفارتی طور پر تنہا پڑ سکتا ہے۔ اس کے فوراً بعد ایران کے خاتم الانبیا ہیڈکوارٹر (GHQ)نے اعلان کیا کہ اگر اسرائیل مزید حملوں سے گریز کرے تو تہران بھی تحمل کا راستہ اختیار کرے گا۔ بعد ازاں اسرائیلی وزیراعظم نے اعلان کیا کہ صدر ٹرمپ کے کہنے پر ہم نے ایران پر حملہ موخر کردیا تاہم حزب اللہ کے خلاف کاروائی جاری رہیگی۔

یہ تمام واقعات ایک بار پھر اس حقیقت کو اجاگر کرتے ہیں کہ اگرچہ جنگ بندی کاغذ پر موجود ہے، لیکن خطے میں امن اور جنگ کے درمیان فاصلہ اب بھی چند فیصلوں، چند بیانات اور چند میزائلوں سے زیادہ نہیں۔ایران اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی کے پرامن خاتمے کی کوئی واضح صورت فی الحال دکھائی نہیں دیتی۔

جلد ختم ہونے والی جنگ جو ختم نہیں ہورہی

گزشتہ ہفتے ریاست وسکونسن (Wisconsin)میں کسانوں سے خطاب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے معاملے سے "بہت جلد" نمٹ لیا جائے گا اور اس کے نتیجے میں کھاد کی قیمتیں دوبارہ کم ہوجائیں گی۔ اس سے قبل NBC کو دئے گئے ایک انٹرویو میں انہوں نے ایرانیوں کو "مضبوط"، "خودمختار" اور "باعزت" قوم قرار دیتے ہوئے اعتراف کیا کہ معاملات توقع سے زیادہ وقت لے رہے ہیں۔ اسی گفتگو میں انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایران کے پاس اب بھی اپنے میزائل ذخیرے کا قابلِ ذکر حصہ موجود ہے۔ یہ بیان ان سابقہ دعوؤں سے مختلف تھا جن میں ایرانی عسکری صلاحیتوں کو فیصلہ کن حد تک تباہ کرنے کی بات کی گئی تھی۔

مہنگی کھاد اور امریکی کسان

کشیدگی کے معاشی اثرات اب واضح ہونے لگے ہیں۔ خلیج فارس اور آبنائے ہرمز کے گرد غیر یقینی صورتحال نے توانائی کی عالمی منڈیوں کو متاثر کیا ہے، جس کا براہِ راست اثر کھاد کی قیمتوں پر پڑ رہا ہے۔زرعی ماہرین خبردار کررہے ہیں کہ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو چند ماہ بعد مہنگی کھاد کی قیمت اناج، سبزیوں اور گوشت کی بڑھتےدام کی صورت میں عام صارف تک منتقل ہوجائے گی۔ وسکونسن میں صدر ٹرمپ کی تقریر دراصل دیہی امریکہ کو یہ یقین دلانے کی کوشش تھی کہ بحران قابو میں ہے، مگر زمینی حقائق اس قدر سادہ نہیں۔

خلیج فارس میں جنگ بندی کی نازک کیفیت

ادھر خلیج فارس میں جنگ بندی کی صورتحال مسلسل دباؤ کا شکار ہے۔ قصرِ مرمریں کی جانب سے شاخ زیتون لہرائی جارہی ہے تو خلیجِ فارس میں امریکی جہاز اور بمبار شعلے اگل رہے ہیں۔گزشتہ ہفتے امریکی فضائیہ نے آبنائے ہرمز، جزیرہ قشم اور ساحلی شہر گروک میں ایرانی جہازوں اور تنصیبات پر حملے کئے تو جواباً ایران نے امریکی جنگی جہاز (Destroyer)کے طرف میزائیل داغے اور ایرانی میزائیلوں نے کوئت اور بحرین میں امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا۔کوئت پر مبینہ ایرانی حملے میں انٹرنیشنل ائرپورٹ کو نقصان پپہنچا۔ ایک شخص جاں بحق اور 63افراد زخمی ہوگئے۔ خبروں کے مطابق ایران نے کوئتی پانیوں میں ام قصر کے قریب کنٹینروں سے لدے پانامہ پرچم بردار جہاز MSC Sariska کو میزائیل حملے میں ناکارہ کردیا۔

تہران کا وسیع تر ایجنڈا

تنازع کا ایک اہم پہلو اس کی جغرافیائی حدود سے متعلق ہے۔ واشنگٹن اس بحران کو بنیادی طور پر ایران اور امریکہ کے درمیان تنازع سمجھتا ہے، جبکہ تہران اسے غزہ، لبنان، یمن، غربِ اردن اور خلیج فارس سمیت پورے خطے سے جوڑ کر دیکھتا ہے۔ ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے واضح کیا ہے کہ پابندیوں کے خاتمے، منجمد اثاثوں کی واپسی اور غزہ و لبنان سے اسرائیلی افواج کے انخلا کے بغیر پائیدار امن ممکن نہیں۔ وزیر خارجہ عباس عراقچی بھی بارہا اشارہ دے چکے ہیں کہ لبنان اور غزہ میں کشیدگی بڑھنے کی صورت میں سفارتی عمل متاثر ہوسکتا ہے۔

منجمد اثاثوں کا نیا تنازع

منجمد اثاثون کے بارے میں تازہ ترین خبر نے ایران کو مزید مضطرب بلکہ مشتعل کردیا ہے۔ رائٹرز کے مطابق امریکہ، ایران کے منجمد اثاثے اپنے خلیجی اتحادیوں کو دستیاب کرنے پر غور کررہا ہے تاکہ ایرانی میزائیل اور ڈرون حملوں سے پہنچنے والے نقصان کی مرمت و بحالی میں مدد دی جا سکے۔امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے اپنی وزارت کے حکام کو مبینہ طور پر ہدایت کی ہے کہ وہ خلیجی اتحادیوں کو ایران کی جانب سے پہنچائے گئے  نقصانات کی لاگت کا جائزہ لے۔جوہری بم کی تیاری کو بہانہ بناکر امریکہ نے ایرانی اثاثے منجمد کئے تھے۔ انھیں کسی اور ملک کے حوالے کرنا نہ صرف عالمی قوانین کی صریح خلاف ورزی ہے بلکہ یہ قدم ایران اور خلیجی ممالک کے تعلقات کو کشیدہ اور خطے غیر ضروری تناؤ پیدا کرنے کا سبب بن سکتا ہے۔اسوقت جبکہ خطے کو سب سے زیادہ ضرورت استحکام اور سفارتی توازن کی ہے یہ فیصلہ بگاڑ کی طرف ایک نپا تلا اور جانا بوجھا قدم لگتا ہے

سفارت کاری یا دھونس؟

صدر ٹرمپ کی تلون مزاجی، بیانات میں تضاد اور بیانئے میں عاجلانہ ترمیم امریکی کی سفارتی ساکھ کو متاثر کررہی ہے چار جون کو  صدر ٹرمپ نے واشنگٹن میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بہت ہی شائستہ انداز میں کہا کہ اگر موقع ملا تو وہ حضرت مجتبیٰ خامنہ ای سے ملاقات کو اپنے لئےاعزاز سمجھیں گے کہ وہ ایک قابل احترام شہرت " (Good Reputation) کے مالک ہیں۔ صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ اگر خامنہ ای صاحب سے ملاقات ہوئی تو وہ ان سے پورے احترام کے ساتھ پیش آئیں گے۔تاہم اسی سانس میں وہ یہ متکبرانہ دعویٰ کرگئے کہ امریکہ اگر ایران کا افزودہ یورینیم حاصل کرنا چاہے تو پاسداران ہمیں روک نہیں سکتے۔ اس قسم کی زبان کسی خوددار قوم کے ساتھ کامیاب سفارت کاری کی بنیاد نہیں بن سکتی۔بین الاقوامی تعلقات میں احترام صرف الفاظ سے نہیں بلکہ رویّوں سے ظاہر ہوتا ہے۔ قیادت کی تعریف اور اظہارِ احترام کیساتھ یہ تاثر کہ ہم جب چاہیں ایران کے تزویراتی اثاثوں پر قبضہ کرسکتے ہیں، مہمل سفارتکاری کی ایک بُری مثال ہے۔

امریکی کانگریس کی بے چینی

امریکی سیاسی حلقوں میں بھی اس جنگ کے بارے میں بے چینی بڑھ رہی ہے۔ ایوانِ نمائندگان نے ایران سے متعلق جنگی اختیارات محدود کرنے کی قرارداد 208 کے مقابلے میں 215 ووٹوں سے منظور کرلی۔ اہم بات یہ تھی کہ چار ریپبلکن ارکان نے بھی اپنی جماعت کی قیادت سے اختلاف کیا۔ یہ محض ایک پارلیمانی کارروائی نہیں بلکہ اس احساس کا اظہار بھی ہے کہ طویل کشیدگی کے معاشی اور سیاسی اثرات امریکی عوام تک پہنچ رہے ہیں۔ پارٹی ٹکٹ جیتنے کیلئے صدر ٹرمپ کی حمایت کافی ہوسکتی ہے، لیکن عام انتخابات میں ووٹر مہنگائی، ایندھن اور خوراک کی قیمتوں کے بارے میں جواب بھی مانگتے ہیں۔

جنگیں ہمیشہ میدانِ جنگ میں نہیں جیتی جاتیں۔ بعض اوقات عسکری کامیابیوں سے زیادہ اہم سوال یہ ہوتا ہے کہ سیاسی تصفیہ کس قیمت پر اور کن شرائط کے ساتھ ممکن ہوگا۔ آج ایران، امریکہ اور ان کے اتحادی اسی دوراہے پر کھڑے دکھائی دیتے ہیں۔ ایک طرف جنگ بندی کو پائیدار امن میں تبدیل کرنے کی کوششیں جاری ہیں تو دوسری طرف عدم اعتماد، معاشی دباؤ اور متضاد سیاسی ترجیحات اس راستے میں رکاوٹ بنی ہوئی ہیں۔ اگر سفارت کاری واقعی کامیاب ہونی ہے تو اسے طاقت کے اظہار سے زیادہ اعتماد سازی پر انحصار کرنا ہوگا، وگرنہ مہنگے پیٹرول و ڈیزل اور مہنگی کھاد سے شروع ہونے والی شکایتیں مہنگی جنگ کے طویل سیاسی اور معاشی نتائج میں تبدیل ہوسکتی ہیں۔

ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل کراچی 12 جون 2026

ہفت روزہ دعوت دہلی 12 جون 2026

ہفت روزہ رہبر سرینگر 14 جون 2026


Thursday, June 4, 2026

 

خیموں کی دنیا اور خاموش ضمیر

غزہ سے لبنان تک، پھیلتی جنگ اور دنیا کی خاموشی

وقت گزرنے کے ساتھ غزہ کی صورتحال مزید سنگین ہوتی جارہی ہے اور اس کا سب سے افسوس ناک پہلو اقوامِ عالم کی بے حسی ہے۔ اب وزیراعظم نیتن یاہو نے اپنی فوج کو ہدایت دی ہے کہ غزہ پر اسرائیلی قبضے کا رقبہ 70 فیصد تک بڑھایا جائے۔ گزشتہ برس اکتوبر میں ہونے والے جنگ بندی معاہدے کے بعد سے اسرائیلی افواج مسلسل پیش قدمی کررہی ہیں اور فلسطینی آبادی کو ساحلی علاقوں کی طرف دھکیلا جارہا ہے۔

چند روز قبل مجلسِ امن (Board of Peace) کے سربراہ نکولائی ملادینوف (Nickolay Mladenov) نے سلامتی کونسل کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا تھا کہ غزہ کے تقریباً ساٹھ فیصد علاقے پر اسرائیلی فوج قابض ہے اور 25 لاکھ فلسطینی صرف ڈیڑھ سو مربع کلومیٹر کے محدود خطے میں محصور ہوچکے ہیں۔ اگر مزید دس فیصد رقبہ بھی ان کے ہاتھ سے نکل گیا تو فلسطینیوں کیلئے سانس لینا بھی دشوار ہوجائے گا۔ اس پیش رفت پر عالمی سطح پر کوئی مؤثر ردعمل سامنے نہیں آیا۔

ہم کہیں جانیوالے نہیں

اسرائیلی فوج نے نیتن یاہو کے حکم پر عمل درآمد شروع کردیا ہے اور پوری غزہ پٹی بمباری، ڈرون حملوں اور فائرنگ کی زد میں ہے۔ لیکن نہتے فلسطینی ہتھیار ڈالنے یا نقل مکانی کیلئے تیار نہیں۔گزشتہ جمعہ خان یونس میں ایک گھر بمباری کا نشانہ بنا۔ شام تک اس کے مکین ٹوٹی دیواروں اور شکستہ چھت پر چادریں تان کر اپنا آشیانہ دوبارہ آباد کرچکے تھے۔ ملبے پر ایک جملہ بھی لکھ دیا گیا کہ  "ہم یہاں سے کہیں جانے والے نہیں۔" یہ الفاظ غزہ کی اجتماعی نفسیات کی ترجمانی کرتے ہیں۔

غربِ اردن میں روزمرہ کی درندگی

غربِ اردن میں بھی بے دخلی، آتش زنی، فصلوں کی تباہی اور تشدد کا سلسلہ جاری ہے۔جمعہ 29 مئی کو نابلوس کے گاؤں مادما میں نماز سے واپس آنے والے فلسطینیوں پر قبضہ گردوں نے دھاوا بول دیا۔ چاقوؤں اور ڈنڈوں کے حملوں میں 72 سالہ بزرگ، دو خواتین اور دیگر افراد شدید زخمی ہوئے۔ وہاں تعینات اسرائیلی فوج حملہ آوروں کو روکنے کے بجائے تماشائی بنی رہی اور حملہ آوروں کے واپس جانے کے بعد فلسطینی نوجوانوں کو گرفتار کرلیا گیا۔

لبنان میں جنگ کا نیا مرحلہ

غزہ کے ساتھ ساتھ لبنان بھی ایک بار پھر جنگ کی لپیٹ میں ہے۔ گزشتہ ہفتے اسرائیلی فضائیہ نے بیروت کے مضافاتی علاقے الشویفات میں کثیر المنزلہ رہائشی عمارتوں کو نشانہ بنایا۔ادھر جنوبی لبنان میں زمینی کارروائیوں کا دائرہ بھی وسیع ہورہا ہے۔ اسرائیلی افواج نہرِ لطانی عبور کرکے نبطیہ کے علاقے تک پہنچ چکی ہیں۔ نہرِ لطانی جنوبی لبنان کی زراعت، پینے کے پانی اور بجلی کے منصوبوں کیلئے شہ رگ کی حیثیت رکھتی ہے۔ لبنانی حلقوں کو خدشہ ہے کہ ان وسائل پر قبضہ کرکے اسرائیل غزہ کی طرح یہاں بھی بھوک اور معاشی دباؤ کو بطور ہتھیار استعمال کرنا چاہتا ہے۔

اسرائیل کی اپنی مشکلات

بیرونی محاذوں پر جارحیت کے ساتھ اسرائیل کو بھی اندرونی مسائل کا سامنا ہے۔ گزشتہ ہفتے قدامت پسند حریدی (Ultra-Orthodox) بریگیڈ سے خطاب کرتے ہوئے نیتن یاہو نے اعلان کیا کہ جو نوجوان مکمل طور پر مذہبی تعلیم میں مصروف نہیں، اسے فوجی خدمت انجام دینا ہوگی۔انہوں نے حریدی نوجوانوں کو یقین دلانے کی کوشش کی کہ فوج میں شامل ہونے کے باوجود وہ اپنی مذہبی شناخت برقرار رکھ سکیں گے۔اس موقع پر اسرائیلی پارلیمان کی خارجہ و دفاعی امور کمیٹی کے سربراہ بوعز بسموتھ (Boaz Bismuth) نے کہا:"ہماری دو مقدس ترین اقدار توریت اور اسرائیلی فوج ہیں۔"

یہ بیانات دراصل ایک تلخ حقیقت کی نشاندہی کرتے ہیں۔ متعدد محاذوں پر طویل جنگ نے اسرائیلی فوج کو افرادی قوت کے بحران سے دوچار کردیا ہے۔ ایک ایسی ریاست جسے مشرقِ وسطیٰ کی مضبوط ترین عسکری قوت قرار دیا جاتا ہے، اب اپنے مذہبی طبقے کو میدانِ جنگ کیلئے قائل کرنے کی کوشش کررہی ہے۔

جنسی تشدد کے الزامات اور ہر طرف خاموشی

اقوامِ متحدہ کی تازہ رپورٹ میں پہلی مرتبہ اسرائیلی فوج اور پولیس کو اُن فریقوں کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے جن پر مسلح تنازعات کے دوران جنسی تشدد کے قابلِ اعتبار الزامات عائد ہوئے ہیں۔رپورٹ میں فلسطینی قیدیوں کے ساتھ جبری برہنگی، توہین آمیز سلوک، جنسی تشدد اور عصمت دری کے متعدد واقعات کا ذکر کیا گیا ہے۔ یہ الزامات اقوامِ متحدہ کی سابقہ تحقیقات اور خصوصی ماہرین کی رپورٹوں سے بھی مطابقت رکھتے ہیں۔ قافلۂ صمود" کے کئی کارکن بھی رہائی کے بعد اسی نوعیت کے الزامات سامنے لاچکے ہیں۔

ان شکایات کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کرانے کے بجائے اسرائیل نے اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس سے تعلقات منقطع کرنے کا اعلان کردیا ہے جبکہ امریکہ اور اسرائیل پہلے ہی عالمی فوجداری عدالت (ICC)، اقوامِ متحدہ کے خصوصی نمائندگان اور دیگر بین الاقوامی اداروں پر دباؤ ڈالنے کی پالیسی اختیار کئے ہوئے ہیں۔اگر یہ الزامات غلط ہیں تو آزادانہ تحقیقات سے خوف کیوں؟ اور اگر تحقیقات کرنے والے اداروں ہی کو سزا دی جائے تو انصاف کہاں سے ملے گا؟

مذہبی آزادی کا مغربی معیار؟

اسی دوران امریکی ریاست ٹیکساس میں شیما الزوبی کا معاملہ بھی توجہ کا مرکز بنا محترمہ شیما الزوبی کو فورٹ ورتھ (امریکی ریاست ٹیکساس) کے ویسٹرن ہِل ہائی اسکول میں بطور پرنسپل تعینات کیا گیا۔ پرنسل کے عہدے پر انکی ترقی اسکولوں کی مقتدرہ ISDنے منظور کی ہے۔ شیما کا تعلیمی پس منظر اور درس و تدریس کا تجربہ دس برس سے طویل عرصے پر محیط اور وہ کئی سالوں سے ساوتھ ویسٹ ہائی اسکول میں نائب پرنسپل کی ذمہ داری نباہ رہی ہیں۔ لیکن وہ حجاب لیتی ہیں اور ماضی میں فلسطین اور شریعت سے متعلق سوشل میڈیا پوسٹس بھی کرچکی ہیں۔گزشتہ ہفتے انکا تقرر معطل کردیا گیا۔ٹیکساس میں اس وقت “شریعت نامنطور” ریپبلکن سیاست کا ایک بڑا انتخابی نعرہ ہے۔ انتخابی اشتہارات دیکھ کر یوں محسوس ہوتا ہے جیسے انکا مقابلہ ڈیموکریٹک پارٹی سے نہیں بلکہ جماعت اسلامی سے ہو۔ امریکہ بہادر دنیا کو مذہبی آزادی، تنوع اور انسانی حقوق کا درس دیتے پیں، لیکن اگر کسی شخص کی پیشہ ورانہ صلاحیت کے بجائے اس کی مذہبی شناخت، لباس یا سیاسی رائے اس کی ترقی میں رکاوٹ بن جائے تو پھر مذہبی آزادی اور تنوع کے دعوے کس حد تک معتبر رہ جاتے ہیں؟

بدلتا ہوا سفارتی توازن

ایران امریکہ جنگ امن مذاکرات کا محور آبنائے ہرمز، اقتصادی پابندیاں اور جوہری پروگرام تھاجسکی وجہ سے اہل لبنان و فلسطین خود کو تنہا محسوس کررہے تھے لیکن تہران اب مذاکرات کے دائرے کو توسیع دیکر غزہ اور لبنان جیسے تنازعات کو بھی اس میں شامل کرنے کی کوشش کررہا ہے۔ایرانی قیادت کا خیال ہے کہ غزہ، لبنان، یمن، غربِ اردن اور خلیج فارس ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ اگر یہ حکمت عملی کامیاب ہوتی ہے تو مشرقِ وسطیٰ میں امن کی بحث صرف کسی ایک تنازع کے حل تک محدود نہیں رہے گی بلکہ ایک جامع علاقائی بندوبست کی طرف بڑھ سکتی ہے۔

مشرقِ وسطیٰ اس وقت صرف جنگ کا میدان نہیں بلکہ انسانی ضمیر اور عالمی سیاست دونوں کا امتحان بن چکا ہے۔ خیموں میں پناہ لینے والے بے گھر انسان اس بات کی علامت ہیں کہ بحران صرف زمین کا نہیں بلکہ انصاف اور انسانی وقار کا بھی ہے۔کیا دنیا اس خاموشی کو برقرار رکھے گی، یا پھر کسی نئے سیاسی و سفارتی توازن کی طرف بڑھنے پر مجبور ہوگی؟

ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل کراچی 5 جون 2026

ہفت روزہ دعوت دہلی 5 جون 2026

ہفت روزہ رہبر سرینگر 7 جون 2026