Thursday, April 9, 2026

 

غزہ ، غرب اردن تا جنوبِی لبنان

 مسلسل بمباری، بڑھتی عسکریت اور سفارتی جمود

غزہ پر اسرائیلی حملوں کو ڈھائی برس سے زائد عرصہ گزر گیا جبکہ تقریباً اسی مدت سے جنوبی لبنان بھی مسلسل کشیدگی اور جھڑپوں کی زد میں ہے۔ اس طویل تنازع نے نہ صرف خطے کے امن کو یرغمال بنا رکھا ہے بلکہ عالمی ضمیر، سفارتی اداروں اور انسانی حقوق کے دعووں کی قلعی بھی کھولدی ہے۔ جنگ اب محض ایک جغرافیائی تنازع نہیں رہی بلکہ یہ ایک اخلاقی امتحان بن چکی ہے۔

سرحدی محاذ: لبنان میں بڑھتی کشیدگی

جنوبی لبنان میں اسرائیلی کارروائیوں کے ساتھ ساتھ لبنانی مزاحمتی گروہوں کی جانب سے جوابی راکٹ حملوں میں بھی شدت دیکھی جا رہی ہے۔ اطلاعات کے مطابق اسرائیلی سرحدی شہر کریات شمونہ کی سمیت حالیہ دنوں میں متعدد راکٹ داغے گئے، جن کے نتیجے میں درجنوں افراد کے زخمی ہونے کی خبریں سامنے آئیں۔ اسی دوران لبنان اور غزہ پر بمباری اور ڈرون حملوں کا سلسلہ بھی جاری رہااور 31 مارچ کو اقوام متحدہ کے امن مشن کے اہلکاروں پر فائرنگ کے واقعے میں انڈونیشیا سے تعلق رکھنے والے تین فوجی جاں بحق ہوگئے۔

غزہ: انسانی المیہ اور امدادی بحران

جمعہ 3 اپریل، اہل غزہ کیلئے انتہائی مشکل دن رہا۔ صبح سویرے جبالیہ خیمہ بستی پر اسرائیلی فوج کی اندھا دھند فائرنگ سے بچوں سمیت 6 افراد زخمی ہوئے۔ ہسپتال یا ہنگامی طبی امداد کے مراکز نہ ہونے کی وجہ سے زخمی دیر تک سڑک پر تڑپتے رہے۔ اسی دن  ساحلی علاقے مواصی پر وحشیانہ بمباری سے چار افراد جاں بحق اور درجنوں زخمی ہوئے۔ دودن بعد مشرقی غزہ شہر کی خیمہ بستی کو ایک اسرائیلی ڈرون نے نشانہ بنایا۔ خیموں میں آگ بھڑک اٹھنے سے تین افراد زندہ جل گئے۔ اکتوبر کی نام نہاد جنگ بندی کے بعد سے غزہ پر اسرائیلی حملوں میں 756افراد جاں بحق ہوئے اور 2000 زخمی ہیں۔ یہ اعدادوشمار اس بڑے انسانی بحران کی عکاسی کرتے ہیں جہاں بنیادی طبی ڈھانچہ مفلوج ہو چکا ہے۔

سفارتی محاذ: خاموشی اور غیر یقینی

بڑے دعووں کے ساتھ قائم کی جانے والی "مجلسِ امن" (Board of Peace) تاحال کوئی مؤثر کردار ادا کرتی نظر نہیں آتی۔ البتہ یہ اطلاعات سامنے آئی ہیں کہ مزاحمتی قیادت استنبول میں ترک اور مصری حکام سے رابطے میں ہے۔ذرائع کے مطابق مزاحمتی گروہوں نے اپنے اس مؤقف کو دہرایا ہے کہ آزاد فلسطینی ریاست کے قیام سے قبل ہتھیار ڈالنے یا مزاحمت ترک کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

اسرائیل: افرادی قوت کا دباؤ

اسرائیلی میڈیا کے مطابق ریزرو (reserve)فوجیوں کی خدمات کا دورانیہ بڑھایا جا رہا ہے، جو افرادی قوت کے دباؤ کی نشاندہی کرتا ہے۔ یہ پیش رفت اس بات کا عندیہ ہو سکتی ہے کہ جنگ طویل اور پیچیدہ رخ اختیار کر چکی ہے۔

امریکی پالیسی: عسکری ترجیحات کا غلبہ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں میں سفارتکاری کے مقابلے میں عسکری طاقت پر انحصار بڑھتا دکھائی دیتا ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ نے اگلے مالی سال کیلئے امریکی کانگریس (پارلیمان) کو جو بجٹ تجاویز جمع کرائی ہیں اسکےمطابق دفاع کی مد میں 1500 ارب یا 1.5 ٹریلین ڈالر تجویز کئے جارہے ہیں جبکہ سماجی بہبود کے پروگراموں میں دس فیصد کٹوتی ہوگی۔ آئندہ برسوں میں غیر عسکری اخراجات میں مزید کمی کا امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔اس رجحان سے مستقبل کے عالمی منظر نامے میں امریکی کردار پر تجزیاتی بحث کا آغاز ہوگیا ہے۔

غربِ اردن: بڑھتی قبضہ گردی اور بے دخلی

غربِ اردن میں کشیدگی اور آبادکاری کے واقعات میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ نابلوس کے علاقے میں املاک کو نقصان پہنچایا گیا اور زرعی زمینوں پر اسرائیلی فوج کی نگرانی میں نئی بستیاں قائم کی جا رہی ہیں۔اسرائیلی میڈیا پر متاثرین کے بیانات اس المیے کی شدت کو اجاگر کرتے ہیں، جہاں لوگ اپنے گھروں، زمینوں اور بنیادی وسائل سے محروم ہو رہے ہیں۔

مذہبی مقامات اور روحانی بحران

انتہاپسند عناصر فلسطینیوں کے خلاف اپنی کارروائیوں کو مذہبی جواز فراہم کرتے ہیں، مگر درحقیقت یہ طرزِ عمل بیت المقدس کی روحانی عظمت کو دیمک کی طرح چاٹ رہا ہے۔ کشیدگی اس حد تک بڑھ چکی ہے کہ مسجد اقصیٰ کے دروازے مقفل ہیں، یروشلم میں کلیسائے قبرِ مقدس (Church of the Holy Sepulcher) تک رسائی محدود و مسدود  اور دیوارِ گریہ، عیدِ فسح (Passover) جیسے اہم مذہبی موقع پر بھی غیرمعمولی سناٹے کا منظر پیش کر رہی ہے۔یہ محض سکیورٹی اقدامات نہیں، بلکہ ایک ایسے شہر کی روح پر پڑنے والی دراڑیں ہیں جو تینوں ابراہیمی مذاہب کے ماننے والوں کیلئے مقدس ہے۔ شاید اسی پس منظر میں کھجوروں کے تہوار (Palm Sunday) کے موقع پر اپنے خطبے میں کیتھولک دنیا کے روحانی پیشوا پوپ لیو چہاردہم (Pope Leo XIV) نے نہایت رقت آمیز انداز میں خبردار کیا کہ 'خدا اُن لوگوں کی دعائیں قبول نہیں کرتا جن کے ہاتھ خون سے رنگے ہوں'۔کاش دنیا کے مقتدر حلقے اس صدا کو محض ایک مذہبی وعظ نہیں بلکہ ایک عالمی اخلاقی حکم نامہ سمجھ کر سنیں۔

امید کی کرن: بحری قافلہ "صمود"

گزشتہ برس غزہ پہنچنے کی کوشش کرنے والے بحری قافلے "صمود" کے کارکن ایک نئے مشن کی تیاری کر رہے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق 12 اپریل کو بارسلونا سے اس مہم کا آغاز متوقع ہے، جس میں درجنوں کشتیوں اور سینکڑوں بین الاقوامی رضاکاروں کی شرکت کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔منتظمین کے مطابق اس اقدام کا مقصد محاصرے کے خلاف آواز بلند کرنا اور عالمی سطح پر دباؤ بڑھانا ہے۔

غزہ اور لبنان میں جاری یہ طویل جنگ محض سرحدوں کا تنازع نہیں بلکہ انسانیت، اخلاقیات اور عالمی نظام کے ضمیر کا امتحان بن چکی ہے۔ طاقت کے توازن، سفارتی ناکامیوں اور خاموش عالمی ردعمل کے بیچ سب سے بڑی قیمت عام انسان ادا کر رہا ہے۔اگر عالمی برادری نے اب بھی مؤثر اور منصفانہ کردار ادا نہ کیا تو تاریخ اس خاموشی کو ایک جرم کے طور پر یاد رکھے گی۔

ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل کراچی 10 اپریل 2026

ہفت دوزہ دعوت دہلی 10 اپریل 2026

ہفت روزہ رہبر سرینگر 12آپریل 2026


Wednesday, April 8, 2026

 

آبنائے ہرمز پر سفارت کاری کی جیت یا عارضی مہلت؟

پاکستان کی ثالثی، ٹرمپ کی پسپائی اور مشرقِ وسطیٰ میں نازک جنگ بندی کا غیر یقینی مستقبل

ایران اور امریکہ و اسرائیل کے مابین  جنگ میں عارضی وقفہ آگیا۔ انگریزی اصطلاح میں یہ 11th hourکامیابی ہے کہ ایران کو فنا کردینے کی دھمکی پر علمدرآمد واشنگٹن کے وقت کے مطابق رات 8 بجے شروع ہونا تھا کہ صدر ٹرمپ نے شام ساڑھے چھ بجے وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے 2 ہفتے کی عارضی جنگ کی تجویز پر آمادگی ظاہر کردی۔

صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ٹروتھ سوشل" (Truth Social) پر بیان دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی قیادت، بالخصوص وزیرِ اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر سے مشاورت کے بعد ایران کے خلاف طاقت کے استعمال کو عارضی طور پر معطل کیا جا رہا ہے تاکہ سفارتی حل کی راہ ہموار کی جا سکے۔

اس سے پہلے شہباز شریف نے  تجویز پیش کی تھی کہ ' امریکہ، ایران کی شہری تنصیات پر حملہ دو ہفتے کیلئے ملتوی کردے اور ہمارے ایرانی بھائی اس عرصے کیلئے آبنائے ہرمز کھول دیں'۔ اس تجویز کو ایران کی جانب سے مشروط طور پر مثبت ردعمل ملا۔ ایرانی وزیرِ خارجہ سید عباس عراقچی نے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ اگر ایران پر حملے روک دیے جائیں تو ایران بھی اپنی دفاعی کارروائیاں معطل کرنے پر آمادہ ہے، اور مخصوص شرائط کے تحت آبنائے ہرمز سے محفوظ گزرگاہ فراہم کی جا سکتی ہے۔

بعد ازاں پاکستان نے عبوری جنگ بندی کا اعلان کرتے ہوئے عندیہ دیا کہ یہ جنگ بندی نہ صرف ایران اور امریکہ بلکہ ان کے اتحادیوں پر بھی لاگو ہوگی، جس میں لبنان اور دیگر محاذ بھی شامل ہیں۔ اطلاعات کے مطابق براہِ راست امن مذاکرات 10 اپریل سے شروع ہونے کا امکان ہے۔

اگرچہ یہ پیش رفت ایک اہم سفارتی کامیابی ہے، تاہم اس کے پس منظر میں کئی پیچیدہ عوامل کارفرما تھے۔ صدر ٹرمپ کے حالیہ بیانات، جن میں غیر معمولی سختی اور اشتعال انگیزی پائی جاتی تھی، نہ صرف عالمی سطح پر تنقید کا باعث بنے بلکہ خود امریکہ کے اندر بھی بے چینی پیدا ہوئی۔ شہری تنصیبات اور بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی باتیں بین الاقوامی قانون کے مطابق جنگی جرائم کے زمرے میں آ سکتی ہیں، جس پر متعدد امریکی صحافیوں اور تجزیہ کاروں نے تشویش کا اظہار کیا۔

اسی دوران اسرائیل کی جانب سے ایران پر ایک محدود نوعیت کے تزویراتی (Tactical)جوہری حملے کی افواہیں بھی گردش کرتی رہیں، اگرچہ امریکی حکام نے اس کی تردید کی۔ تاہم صدر ٹرمپ کے بعض بیانات، جن میں "بڑا سرپرائز" اور "تہذیب کو مٹا دینا" جیسے الفاظ شامل تھے، ان خدشات کو تقویت ملی۔

امریکی یہودی حلقوں میں بھی ان بیانات پر تشویش دیکھی گئی۔ جیوش کونسل فار پبلک افیئرز کی سربراہ ایمی اسپیٹل نک (Amy Spitalnick) نے واضح کیا کہ کسی بھی قوم یا تہذیب کو مٹانے کی دھمکیاں نہ صرف غیر ذمہ دارانہ ہیں بلکہ یہ خود یہودی برادری کے لیے نقصان دہ اور سام دشمنی (antisemitism) کو ہوا دے سکتی ہیں۔

ادھر تہران میں ایک قدیم یہودی عبادت گاہ (سیناگوگ) کو اسرائیلی بمباری میں نقصان پہنچنے کی خبر بھی سامنے آئی، جسے اسرائیلی فوج نے "ضمنی نقصان" (collateral damage) قرار دیا، تاہم اس وضاحت کو مذہبی حلقوں میں پذیرائی حاصل نہ ہو سکی۔

ان تمام عوامل کے پیش نظر صدر ٹرمپ کو ممکنہ نتائج کا ادراک ہوا اور انہوں نے پسپائی اختیار کرتے ہوئے سفارتی راستہ اپنانے میں عافیت سمجھی۔ اس موقع پر پاکستان کی مداخلت نے نہ صرف کشیدگی کم کرنے میں کردار ادا کیا بلکہ دونوں فریقین کو باعزت راستہ بھی فراہم کیا۔

اس عبوری جنگ بندی کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ اس کا اطلاق لبنان اور دیگر محاذوں پر بھی ہوگا، جس کا مطلب یہ ہے کہ خطے میں جاری دیگر جھڑپوں میں بھی وقتی کمی آ سکتی ہے۔ اگر یہ مفروضہ درست ثابت ہوتا ہے تو اس کے اثرات غزہ سمیت دیگر حساس علاقوں تک محسوس کیے جا سکتے ہیں۔

بلاشبہ یہ پاکستان کے لیے ایک بڑی سفارتی کامیابی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ بعض مبصرین کے مطابق اس وقت دو متوازی جنگیں جاری تھیں: ایک عسکری اور دوسری سفارتی، اور پاکستان نے سفارتی محاذ پر بظاہر پہلا مرحلہ اپنے نام کر لیا ہے۔

تاہم اس جنگ بندی کی بنیاد نہایت کمزور ہے۔ صدر ٹرمپ کی پالیسیوں میں عدم تسلسل اور اچانک فیصلوں کی تاریخ اس معاہدے کے مستقبل پر سوالیہ نشان ہے۔ مزید برآں اسرائیل کا مؤقف بھی مکمل طور پر ہم آہنگ نظر نہیں آتا۔ اس طرح یہ جنگ بندی شاخِ نازک پر بنا آشیانہ ہے جو کسی بھی لمحے بکھر سکتا ہے۔

فی الحال یہ عارضی جنگ بندی ایک سانس لینے کا موقع ضرور فراہم کرتی ہے، مگر اسے مستقل امن کی ضمانت نہیں سمجھا جا سکتا۔ مشرقِ وسطیٰ کی سیاست میں اعتماد کا فقدان، طاقت کا عدم توازن اور علاقائی رقابتیں ایسی بارودی سرنگیں ہیں جو کسی بھی وقت اس امن کو نگل سکتی ہیں۔ تاہم اس مختصر وقفے نے یہ ضرور ثابت کیا ہے کہ سنجیدہ سفارت کاری، بندوق کی گھن گرج کو وقتی طور پر خاموش کر سکتی ہے۔ اصل امتحان اب اس خاموشی کو پائیدار امن میں بدلنے کا ہے۔خونریزی کے وقتی خاتمے کی پہلی برکت تیل کی قیمتوں میں 16 ڈالر فی بیرل کی کمی کی صورت میں ظاہرہوئی جو مشرق وسطٰی کے تیل درآمد کرنے والے ایشائی ملکوں کیلئے وقتی راحت کا باعث ہے۔

ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل کراچی، 10 اپریل 2026


Friday, April 3, 2026

 

ٹرمپ کی ‘Excursion’، پھیلتی جنگ اور بدلتی عالمی صف بندی

الفاظ کبھی کبھی حقیقت سے زیادہ خطرناک ہوتے ہیں، خاص طور پر جب انہیں طاقت کے ایوانوں سے ادا کیا جائے۔ جب جنگ کو “تفریح” یا “مختصر مہم” کہا جائے تو پھر یہ بیانیہ خون اور بارود کو معمول بنا دیتا ہے۔ آج ایران کے خلاف جاری جنگ بھی اسی تضاد کی ایک جیتی جاگتی مثال ہے۔

یہExcursion ہے یا مہنگی جنگ؟

دونوں جانب شدید نقصان کے باوجود صدر ٹرمپ کا اصرار ہے کہ ایران پر حملہ باضابطہ جنگ نہیں بلکہ “excursion” ہے۔ اس انگریزی لفظ کو عسکری اصطلاح میں “مختصر مہم” کیا جا سکتا ہے، لیکن امریکی صدر کے لب و لہجے اور رویّے کو دیکھتے ہوئے اسکا اردو متبادل “تفریح” زیادہ موزوں معلوم ہوتا ہے۔ اس “تفریح” کی بھاری جانی و مالی قیمت جہاں ایرانی ادا کر رہے ہیں، وہیں امریکی ٹیکس دہندگان کے لئے بھی یہ شوقِ کشور کشائی کچھ کم مہنگا نہیں۔ امریکی جریدے وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق امریکی طیاروں اور تنصیبات کو پہنچنے والے نقصانات تین ارب ڈالر سے تجاوز کر چکے ہیں، جبکہ اس مہم کا یومیہ خرچ 90 کروڑ سے ایک ارب ڈالر کے درمیان بتایا جا رہا ہے۔

مذاکرات یا دھوکہ؟

گزشتہ ہفتے ایسا محسوس ہوا کہ صدر ٹرمپ ایرانی تنازعے کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے پر آمادہ ہیں۔چوبیس مارچ کو انہوں نے نہ صرف مذاکرات کی تصدیق کی بلکہ یہ انکشاف بھی کیا کہ اخلاص و غیر سگالی کے طور پر ایرانیوں نے انہیں ایک “بہت قیمتی تحفہ” بھیجا ہے۔ عندیہ دیا گیا کہ ایرانیوں سے بات چیت کیلئے نائب صدر جے ڈی وینس اور وزیر خارجہ مارکو روبیو ممکنہ طور پر اسلام آباد پہنچ سکتے ہیں۔

پاکستانی وزیر خارجہ اسحاق ڈار کے مطابق  امریکہ کی 15 نکاتی شرائط تہران پہنچا دی گئیں ہیں۔ایرانی وزیرخارجہ نے امریکی پیغام کی تصدیق کی تاہم مذاکرات کو “فیک نیوز” قرار دیا، جبکہ اسپیکر محمد باقر قالیباف مذاکرات کے پروپینگنڈے کو  مالیاتی اور تیل کی منڈیوں میں ہیرا پھیری کا حربہ کہہ رہے ہیں۔

بیانات کی جنگ: طنز اور تضحیک

قصرِ مرمریں کی ترجمان کیرولائن لیوٹ نے دھمکی دی کہ اگر ایران نے شکست تسلیم نہ کی تو “جہنم کے دروازے کھول دیے جائیں گے”۔ جواب میں ایرانی فوج کے ترجمان نے کہا:“خودکلامی کو مذاکرات کا نام نہ دو… ‘Epic Fury’ اب ‘Epic Fear’ بن چکا ہے۔ یہ جملے اس جنگ کے ایک اور رخ کو بے نقاب کرتے ہیں جہاں الفاظ بھی ہتھیار بن چکے ہیں۔

امن کی شرائط یا ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ؟

جبگ بندی کیلئے امریکہ کی پندرہ نکاتی شرائط درحقیقت ایران سے غیر مشروط ہتھیار ڈالنے کا تقاضا معلوم ہوتی ہیں، جبکہ اسکا تہران سے جو پانچ نکاتی جواب سامنے آیا ہے اسکے مطابق ایران ، امریکہ سے شکست تسلیم کرنے کے ساتھ جنگی نقصانات کے ازالے (reparations) کی ادائیگی چاہتا ہے۔مزید یہ کہ جنگ بندی کا اطلاق خطے بھر میں تمام مزاحمتی گروہوں کے خلاف جنگ پر ہونا چاہئے۔

اعتماد کا بحران

امریکہ کی تجویز اور اسکے ایرانی جواب میں جو خلیج نظر آرہی ہے وہ اپنی جگہ لیکن امن کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ صدر ٹرمپ کی نیت، بیانات کا تضاد اور انکی ساکھ ہے۔ گزشتہ برس جب ایرانی جوہری پروگرام پر گفتگو “کامیابی” سے جاری تھی تو امریکی بمباروں نے فردو، نطنز اور اصفہان کی مبینہ جوہری تنصیبات کو صدر ٹرمپ کے الفاظ میںobliterate کر دیا۔پھر دوسری بار امن مذاکرات کے دوران27 فروری کو جنیوا میں ایک دور کے اختتام پر امریکی وفد کے سربراہ اسٹیو وٹکاف  نے امید ظاہر کی کہ “ہم ایک مثبت نتیجے کی طرف بڑھ رہے ہیں اور جلد ٹھوس پیش رفت متوقع ہے”۔لیکن اگلی ہی صبح امریکہ اور اسرائیل ایران پر حملہ آور ہوگئے۔ اس بار بھی سلام و پیام کیساتھ زمینی حملے کی تیاریاں عروج پر ہیں۔ ہزاروں فوجیوں پر مشتمل Marine Expeditionary Unit (MEU) ،بڑے عرشے والے جل تھل (Amphibious) جنگی جہازوں کے ساتھ خلیجِ عمان کی جانب بڑھ رہا ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ مذاکرات محض وقت حاصل کرنے کی حکمت عملی ہیں۔

اصولی و دوٹوک موقف: اسپین کی مثال

ہسپانوی وزیرِ دفاع محترمہ مارگریٹا روبلز (Margarita Robles) نے ان خبروں کی تصدیق کر دی ہے کہ ایران پر حملوں کے لیے امریکی طیارے اب اسپین کی فضائی حدود استعمال نہیں کر سکیں گے۔ ہسپانوی اخبار El País سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ امریکی قیادت کو غیرمبہم الفاظ، لہجے اور انداز میں بتادیا گیا ہے کہ اسپین میں موجود امریکی اڈوں سے کوئی طیارہ ایران پر حملے کیلئے اڑان بھرسکتا ہے اور نہ ہی ہماری فضائی حدود ایران پر حملے کیلئے استعمال ہوسکتی ہیں۔ ایرانی حملوں پر شکائت کناں خلیجی حکمران بھی تو یہی موقف اختیار کرسکتے ہیں؟

اسرائیلی عنصر: آگ پر تیل

صدر ٹرمپ کے روئیے کیساتھ، جنگ میں اسرائیل کی شمولیت نے معاملے کو دوآتشہ کردیا ہے۔ گزشتہ ہفتے  اسرائیلی اخبار الارض (Haaretz)نے خبر دی کہ امن  مذاکرات کیلئے ماحول سازگار بنانے کی غرض سے صدر ٹرمپ ایک مہینے کی یکطرفہ جنگ بندی کا اعلان کرنے والے ہیں۔ اسی دن وزیراعظم  نیتن یاہو نے اسرائیلی فضائیہ کو سارے ایران پر بھرپور حملے کا حکم دیدیا تاکہ جنگ میں مزید شدت آجائے۔ اسرائیلی بمباروں نے بوشہر کے جوہری تحقیقی مرکز کونشانہ بنایا۔جوہری توانائی کو بجلی کی پیداوار کیلئے استعمال کرنے پرتحقیق کرنے والا یہ ادارہ امریکہ کے اشتراک سے 1955 میں قائم ہوا تھا۔اسی دن دو اسٹیل ملوں پر حملوں کیساتھ رہائشی عمارات، اسکول، پل، سڑکیں، آبنوشی کے ذرائع اور بنیادی ڈھانچے پر بمباری کی گئی۔گزشتہ 26 دنوں کے دوران ایران میں 500 اسکول اور 300 ہسپتال اور شفاخانے تباہ کئے گئے۔اسرائیلی وزیردفاع کا کہنا ہے کہ جنگ کے آغاز (28 فروری) سے 26 مارچ تک  ایران پر 15000 بم برسائے گئے۔

نئے کھلاڑی: یوکرین کی خاموش پیش قدمی

ایران پر اسرائیل و امریکہ کے حملے کے بعد سے مشرق وسطیٰ میں یوکرین کا عمل دخل بڑھتا نظر آرہا ہے۔ ڈرون شکن ٹیکنالوجی پر مہارت کا دعویٰ  کرتے ہوئے صدر زیلینسکی، سعودی عرب اور قطر سے دفاعی معاہدہ کرچکے ہیں۔ دلچسپ بات کہ معاہدے میں خلیجی ریاستوں کے دفاع سے زیادہ زور یوکرین میں خلیجی سرمایہ کاری پر ہے۔ جہاں تک ڈرون شکن مہارت کا تعلق ہے تو ایران کے “شاہد” ڈرونز کے ہاتھوں یوکرینی عسکری تنصیبات کی تباہی نے اس دعوے کو مشکوک بنادیا ہے۔

عرب ذرائع یہ خدشہ بھی ظاہر کر رہے ہیں کہ اسرائیل، لبنان میں انٹیلی جنس سرگرمیوں کے لئےیوکرینی عناصر کو استعمال کر رہا ہے۔ اسی تناظر میں لبنانی سیکیورٹی کے سربراہ حسن شکور نے فرانسیسی خبر رساں ادارے AFP کو بتایا کہ حال ہی میں بیروت کے یوکرینی سفارت خانے نے اپنے ایک شہری کے انخلا کی درخواست دی، جس کا پاسپورٹ مبینہ طور پر گم ہو گیا تھا۔ تاہم شناخت کے بعد معلوم ہوا کہ مذکورہ شخص جنوبی لبنان میں اسرائیلی بمباری کے اہداف کی نشاندہی کے لیے موساد سے وابستہ تھا۔یوکرینی سفارت خانے نے اس شخص کو پناہ دے رکھی ہے، جبکہ لبنانی وزارتِ خارجہ نے اس کی حوالگی کے لیے باضابطہ درخواست جمع کرا دی ہے۔

حوثی بھی میدان میں

اس ہفتے یمن کے حوثی بھی اسرائیل پر میزائل حملوں کے ساتھ میدان میں اترآئے۔ گزشتہ برس اسرائیل اور امریکہ کی جانب سے یمن پر شدید بمباری کے نتیجے میں شہری خدمات کے بنیادی ڈھانچے کو بھاری نقصان پہنچا، مگر بحیرۂ احمر کے یمنی ساحل پر حوثیوں کی گرفت بدستور بہت مضبوط ہے۔وہ آبنائے باب المندب سے گزرنے والے جہازوں کا راستہ روکنے کی عملی صلاحیت رکھتے ہیں۔ یہی وہ تنگ سمندری گزرگاہ ہے جس کے ذریعے نہرِ سوئز اور سعودی عرب سے آنے والے جہاز خلیجِ عدن پہنچتے ہیں، اور وہاں سے بحیرۂ عرب کے راستے بحرِ ہند اور ایشیائی منڈیوں تک رسائی حاصل کرتے ہیں۔اگر آبنائے ہرمز کے بعد آبنائے باب المندب کا راستہ بھی مخدوش ہو گیا تو یہ صرف ایک علاقائی بحران نہیں رہے گا بلکہ توانائی کے حوالے سے ایک سنگین خطرہ بن سکتا ہے۔

ٹرمپ کا روائتی تلخ لہجہ اور فارسی کی مٹھاس

امریکی صدر کی زبان اور لہجہ امن کی منزل کو مزید دورکرنے کا سبب بن رہےہیں۔ وہ ایرانی قیادت کا ذکر بہت حقارت سے کرتے ہیں۔ کابینہ کے اجلاس میں انھوں نے کہا کہ ایرانی قیادت معاہدے کیلئے بیقرار ہے لیکن انھیں بولنے کی ہمت نہیں کیونکہ انتہا پسند انھیں مارڈالیں گے اور پھر اپنے مخصوص متکبرانہ لہجے میں بولے (اگر معاہدہ نہ ہوا تو) یہ ہمارے ہاتھوں مارے جائینگے۔ اسکے مقابلے میں ایرانی، مزاحمت کیلئے پرعزم اور  بات چیت کیلئے بھی تیار نظر آتے ہیں۔وہ زمینی حقیقت کے حوالے سے بہت پرامید اور ثابت قدم تو ہیں لیکن گفتگو میں تلخی یا سختی نہیں اور فارسی لہجے کی مخصوص نرمی و مٹھاس  جنگ کی سختیوں سے آلودہ ہوتی نظر نہیں آتی۔

عالمی اور داخلی ردعمل

عالمی تنہائی کیساتھ امریکہ کے اندر بھی اس جنگ کی حمایت کمزور پڑ رہی ہے۔ ایک حالیہ جائزے کے مطابق 59 فیصد امریکی ان کارروائیوں کو حد سے تجاوز سمجھتے ہیں، جبکہ اکثریت کسی بڑی زمینی جنگ کی مخالف ہے۔ حزب اختلاف کیساتھ صدر ٹرمپ ریپبلکن حلقوں میں بھی زمینی جنگ کے حوالے سے تحفظات پائے جاتے ہیں۔

ادھر میزائیل و راکٹ بازی سے اسرائیلی بھی پریشان نظر آرہے ہیں۔جنگ کے آغاز میں 78 فیصد اسرائیلی 'ایران کو کچل دو' کے حامی تھے لیکن اب یہ حمائت 50 فیصد رہ گئی ہے۔

یہ خونریز جنگ میدانوں کیساتھ الفاظ، بیانئےاور فریب کے درمیان بھی جاری ہے۔ جب “جنگ” کو “تفریح” اور “مذاکرات” کو حکمت عملی کا پردہ بنایا جائے، تو اصل نقصان صرف عمارتوں یا فوجوں کا نہیں ہوتا بلکہ انسانیت اور سچ دونوں اس کی قیمت چکاتے ہیں۔

ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل کراچی 3 اپریل 2026

ہفت روزہ دعوت دہلی 3 اپریل 2026

ہفت روزہ رہبر سرینگر 5 اپریل 2026


 

غزہ سے لبنان تک آگ و خون—اور اب قانون کے نام پر موت

جنگ کبھی ایک محاذ تک محدود نہیں رہتی۔ جب بارود بھڑکتا ہے تو اس کی تپش سرحدوں کو نہیں مانتی۔ آج یہی منظر مشرقِ وسطیٰ میں دکھائی دے رہا ہے، جہاں ایران کے ساتھ غزہ، غربِ اردن اور لبنان سبھی خون کی لپیٹ میں ہیں اور انسانی المئے کی یہ داستان ہر گزرتے دن کے ساتھ مزید دردناک ہوتی جا رہی ہے۔

مشرقی یروشلم کا خونی دن

گزشتہ ہفتے مشرقی یروشلم میں 24 گھنٹوں کے دوران ایک کم سن بچے سمیت تین افراد جان سے گئے۔ صبح مکانوں سے بے دخلی کے خلاف احتجاج کرنے والوں پر فائرنگ سے محمد حماد جاں بحق ہوا۔ شام کو اس کی تدفین کے بعد قبرستان سے واپس آتے لوگوں پر فائرنگ کی گئی، جس کے نتیجے میں ایک 15 سالہ لڑکا موقع پر ہی دم توڑ گیا، جبکہ شدید زخمی ہونے والا 46 سالہ سفیان ابو لیل زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے کچھ دیر بعد چل بسا۔ اس واقعے میں 14 افراد زخمی بھی ہوئے۔

مسجد  و کلیسا مقفل : پابندیاں اور تضاد

رمضان کے دوسرے جمعے سے مسجد اقصیٰ بند ہے اور اب ایرانی میزائیل حملوں کو جواز بناکر یروشلم کے کلیسائے قبر مقدس (Church of the Holy Sepulture) تک رسائی بھی مسدود کردی گئی۔ تاریخ میں پہلی بار یہاں  پام سنڈے (29 مارچ) کی تقریبات نہیں ہوئیں۔ مسیحی عقائد کے مطابق یہی وہ جگہ ہے جہاں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو مصلوب کیا گیا اور اور اسی مقام پر ان کی تدفین اور واپسی (Resurrection) ہوئی۔

اقوام متحدہ کی لرزا دینے والی رپورٹ

اسی ہفتے اقوام متحدہ کی خصوصی نمائندہ (Special Rapporteur) محترمہ فرانسیسکا البانیز نے اسرائیلی جیلوں میں فلسطینی قیدیوں پر ہونے والے تشدد پر مبنی ایک تفصیلی رپورٹ پیش کی۔ پریس کانفرنس کے دوران انکشافات سن کر صحافی بھی سہم گئے۔ تشدد کے طریقے ایسے ہیں کہ ان کا بیان کرنا بھی شرمناک محسوس ہوتا ہے۔

فلسطینیوں کے لئے سزائے موت

اسرائیلی کنیسہ (پارلیمان) نے 30 مارچ کو  48 کے مقابلے میں 62 ووٹوں سے ایک مسودۂ قانون منظور کر لیا، جس کے مطابق دہشت گردی میں ملوث فلسطینیوں کو پھانسی کے ذریعے سزائے موت دی جا ئیگی۔

قانون کے اہم نکات:

  • الزام ثابت ہونے پر سزائے موت لازمی ہوگی۔ تاہم بعض استثنائی صورتوں میں جج عمر قید کی سزا تجویز کر سکتے ہیں، جس کے لیے انہیں خصوصی وجوہات بیان کرنا ہوں گی۔
  • دہشت گردی کے مقدمات کا فیصلہ بینچ کی سادہ اکثریت سے ہوگا، اور فیصلے کے خلاف نظرِ ثانی یا رحم کی اپیل کی کوئی گنجائش نہیں ہوگی۔

برسراقتدار لیکود، انتہاپسند جماعتوں پاسبانِ توریت (Shas)، متحدہ جماعتِ توریت (UTJ) اور عظمتِ یہود (Utzma Yehudit) کے ساتھ ساتھ سیکولر جماعت اسرائیل مادرِ وطن (Yisrael Beytenu) کے اویگدور لیبرمین نے بھی اس قانون کے حق میں ووٹ دیا۔ قدامت پسند حلقوں میں سے صرف Agudat Yisrael نے اس کی مخالفت کی۔

اسرائیلی جیلوں میں قید فلسطینیوں کو جس بدترین تشدد کا سامنا ہے، اس کے مقابلے میں سزائے موت بعض کے لیے شاید “نجات” کا تاثر رکھتی ہو اور یہی اس قانون کا سب سے ہولناک پہلو ہے۔

غزہ: خیموں پر برستی موت

غزہ میں بمباری، ڈرون حملے اور ٹارگٹ کلنگ کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔ عید کے دوسرے دن خان یونس اور المواصی کے پناہ گزین خیموں پر فائرنگ کی گئی، جبکہ بحیرہ روم سے اسرائیلی جنگی جہازوں نے بھی گولہ باری کی۔ المواصی میں ایک معصوم بچے کا سر دھماکے سے فضا میں بکھر گیا۔ دیرالبلاح کی خیمہ بستی پر بمباری سے متعدد افراد جاں بحق ہوئے۔شجاعیہ پر بمباری نے  دو سگے بھائیوں کی جان لے لی۔

لبنان: خاموشی کے بعد مزاحمت کی واپسی

جنوبی لبنان میں بھی فضائی حملوں کے ساتھ زمینی کارروائیاں جاری ہیں۔ گزشتہ سال 17 ستمبر کو پیجر دھماکوں میں حزب اللہ کے ہزاروں کارکن زخمی ہوئے، اور دس دن بعد اس کے قائد حسن نصراللہ کو نشانہ بنایا گیا۔ اس کے بعد شدید بمباری سے بظاہر ایسا لگا کہ مزاحمت کی کمر ٹوٹ گئی ہے۔ تاہم ایران پر حملوں کے بعد لبنانی مزاحمت ایک بار پھر سرگرم ہوگئی ہے۔اسرائیل پر روزانہ راکٹ اور میزائل حملے ہو رہے ہیں، جبکہ جنوبی لبنان میں در آنے والی فوج کو بھی مسلسل نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ گزشتہ ہفتے جھڑپوں میں کم از کم پانچ اسرائیلی فوجی ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے۔

تباہی کا پھیلتا دائرہ

دوسری جانب اسرائیلی بمباری میں بھی شدت آئی ہے۔ وزیر دفاع کی جانب سے جنوبی بیروت کو “غزہ بنانے” کی دھمکی کے بعد شہر کا بڑا علاقہ کھنڈر بنادیا گیا۔ لاکھوں افراد بے گھر ہیں اور یہ تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے۔

قیامت کے دن: قلیلیا اور حارۃ الحریک

ہفتہ27 مارچ کو طائر شہر کے گاؤں قلیلیا پر شدید بمباری میں درجنوں افراد جاں بحق ہوئے۔ تین روز بعد جنوبی بیروت کے حارۃ الحریک محلے پر قیامت ٹوٹی اور پورا علاقہ ملبے کا ڈھیر بن گیا۔

سیاسی و سیاسی ستم ظریفی

اس وحشت پر اسرائیلی جارحیت کی مذمت کے بجائے لبنانی حکومت نے ایرانی سفیر رضا شیبانی کو ناپسندیدہ شخصیت قرار دے کر ملک چھوڑنے کا حکم دے دیا۔

مت قتل کرو آوازوں کو

ہفتہ 28 مارچ کی صبح المنار ٹی وی کے صحافی علی شعیب کو جنوبی لبنان میں ڈرون حملے میں قتل کر دیا گیا۔ غزہ، غربِ اردن اور لبنان میں صحافی مسلسل نشانے پر ہیں۔

مشرق وسطی میں آگ و خون  کی سرحدیں پھیلتی اور انسانی جان کی قیمت سکڑتی جا رہی ہے۔ جب بیانئےحقائق پر غالب آ جائیں اور طاقت انصاف کی جگہ لے لے، تو پھر خون صرف زمین پر نہیں بہتا، تاریخ کے صفحات بھی سرخ ہو جاتے ہیں۔ آگ کے شعلے سب کو نظر آرہے ہیں مگر اسے بجھانے والا کوئی نہیں؟

ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل کراچی 3 اپریل 2026

ہفت روزہ دعوت دہلی 3 اپریل 2026

ہفت روزہ رہبر سرینگر 5 اپریل 2026


Thursday, March 26, 2026

 

عید ملبے پر — غزہ و لبنان میں انسانیت کا امتحان

بمباری، محاصرہ اور خوف کے سائے میں عبادت، مزاحمت اور امید کی کہانی

جب دنیاخوشیوں، رنگوں اور رونقوں کے ساتھ  عید منارہی تھی، وہیں غزہ، غربِ اردن اور بیروت میں عید ملبے، آنسوؤں اور بارود کی بو میں ڈھلی ایک خاموش پکار بنی ہوئی تھی۔ یہ وہ خطہ ہے جہاں خوشی بھی مزاحمت ہے اور شکر استقامت کا دوسرا نام۔

ملبے پر عید — زندگی کا اعلان

اہلِ غزہ نے بمباری اور بے گھری کے سائے میں تیسری عیدالفطر منائی۔ ٹوٹے گھروں کے ملبے پر صفیں بنیں، تکبیریں بلند ہوئیں اور فاقوں کے باوجود اللہ کا شکر ادا کیا گیا۔ ڈھائی برس سے بھوک اور محرومی ان کا مقدر ہے۔چند دانے اور پانی کے چند گھونٹ ہی ان کی کل کائنات، مگر مایوسی ان کے قریب بھی نہیں پھٹکی۔ اہتمام سے چاند دیکھا گیا، بچیوں نے عید کے گیت گائے۔ حالات کیسے ہی کیوں نہ ہوں۔ روزوں کی تکمیل پر خوشی اور شکر کا اظہار لازم اور شُکر کا اعلان شَکر (مٹھائی) کے بغیر  ممکن نہیں چنانچہ جہاں ممکن ہوا علامتی کنافے بھی بنائے اور بانٹے گئے۔ یہ اعلان تھا کہ ہم زندہ قوم ہیں، پائندہ قوم ہیں۔

غربِ اردن — مزاحمت اور انتقام

غربِ اردن میں چھاپے، گرفتاریوں اور لوٹ مار کا سلسلہ جاری ہے۔ گزشتہ ہفتے بھیڑیں چھیننے کیلئے قبضہ گرد اسرائیلی فوج کی بکتر بند گاڑی میں سوار ہوکر غربِ اردن کا گاوں بیت عمرین آئے۔ایک فلسطینی نے اپنی گاڑی بکتر بند سے ٹکرادی۔ جس کے نتیجے میں آگ بھڑک اٹھی اور ایک حملہ آور ہلاک ہو گیا۔ اس واقعے کے بعد پورے گاؤں کو اجتماعی سزا کا سامنا ہے۔ یہ وہ سرزمین ہے جہاں مزاحمت کی ہر چنگاری، انتقام کی آگ کو مزید بھڑکا دیتی ہے۔

مسجدِ اقصیٰ — بند دروازے، کھلی پیشانیاں

مسجد اقصیٰ کے دروازے اگرچہ مقفل کر دیے گئے، مگر عقیدت کے راستے بند نہ ہو سکے۔ لوگ گلیوں، سڑکوں اور دیواروں کے سائے میں سجدہ ریز ہوئے۔ متعدد مقامات پر پولیس نے لاٹھی چارج کیا، نمازیوں کو منتشر کیا اور گرفتاریاں بھی ہوئیں، مگر نماز کا سلسلہ جاری رہا۔ ہر باجماعت نماز کے گرد مسلح سپاہیوں کی بندوقوں کا رخ نمازیوں کی طرف اور انگلیاں لبلبیوں پر تھیں۔ بقول علامہ اقبال 'کلمہ پڑھتے تھے ہم  چھاوں میں تلواروں کی۔

تراویح کی آزمائش — عبادت یا محاصرہ؟

اسی دوران CNN کی ایک رپورٹ نے ان آزمائشوں کی روشن جھلک پیش کی۔ ایک ہی رات میں نمازیوں کو بار بار جگہ بدلنے پر مجبور کیا گیا؛ جہاں صفیں بنتیں، وہیں انہیں منتشر کر دیا جاتا۔ یوں عبادت صرف عبادت نہ رہی بلکہ صبر و استقامت کا امتحان بن گئی۔

یہ عید کے دن اور ہیں عاشور سے بدتر

عید کے دوسرے دن سارے غرب اردن پر دہشت گردوں کا راج رہا۔ اتفاق سے یہ یوم سبت (ہفتہ) تھا جب توریت کے مطابق گھروں میں چھری سے سبزی کاٹنا بھی منع ہے لیکن اس دن جنوب میں الخلیل (Hebron)سے شمال میں جنین اور وادی اردن تک مسلح قبضہ گرد غارتگری میں مصروف رہے۔ بکتر بند سوار اسرائیلی فوجی ان غندوں کی پشت پناہی کو موجود تھے۔ جنین کے گاوں جالوت، سیلۃ الظہر، سلفیت شہر، نابلوس کے گاوں الفندقومیہ، اور وادی اردن کے علاقہ مسافر یطہ ان کا خاص ہدف تھا۔ اس دوران گھروں کو آگ لگادی گئی، لاٹھیوں اور لوہے کے سریوں سے خواتین پر تشدد کیساتھ معصوم بچوں کی آنکھوں میں سرخ مرچ چھڑک دی گئی۔ کھڑی فصلوں کو آگ لگانے کے بعد یہ قبضہ گرد سینکڑوں بھیڑیں بھی چرالئے گئے۔

لبنان — ملبہ، ہجرت اور خوف

غزہ اور غربِ اردن کی طرح لبنان بھی تباہی کی لپیٹ میں ہے۔ بیروت  اور اس کے اطراف میں لاکھوں افراد بے گھر ہو چکے ہیں اور یہ تعداد بڑھتی جا رہی ہے۔ غزہ اور لبنان پر ڈھائی جانے والے وحشت کا سنگدلانہ  پہلو اسرائیلی وزارت دفاع کی ابلاغی دہشت گردی ہے۔ بمباری کے بعد بلند و بالا عمارت کے زمیں بوس ہونے کے مناطر پر مشتمل سمعی و بصری تراشے اسرائیلی فوج براہ راست نشر کرتی ہے۔ گرتی عمارت کا خوفناک منظر اور ملبے تلے دبتے لوگوں کی چیخیوں سے دل ڈوبنے لگتا ہے۔ خوف کے ہتھیار سے دلوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔

بچوں کی قیمت پر جنگ

اس وحشت کی بھاری قیمت بچے ادا کررہے ہیں۔اقوام متحدہ کے ادارے UNICEF کے مطابق لبنان میں روزانہ ایک کلاس روم کے برابر بچے  جاں بحق اور زخمی ہورہے ہیں۔ ادارے کے نائب ایگزیکٹو ڈائریکٹر Ted Chaiban کے الفاظ میں یہ بچے صرف اپنی جانیں نہیں کھو رہے بلکہ ان سے معمول کی زندگی کا احساس بھی چھن چکا ہے۔ یہ اعداد و شمار محض ہندسے نہیں بلکہ ٹوٹتے خواب اور بکھرتے بچپن ہیں۔

سچائی نشانے پر

جنگ صرف جسموں کو نہیں، سچ کو بھی نشانہ بناتی ہے۔ غزہ، غرب اردن اور ایران سے لبنان تک بچوں، ہسپتالوں اور اسکولوں کیساتھ صحافی اور اہلِ قلم اسرائیل کا خاص ہدف ہیں۔ غزہ میں 200 سے زیادہ صحافیوں کو ہدف بناکر ختم کیا گیا۔بدھ 18 مارچ کو لبنانی المنار ٹی وی کے ڈائریکٹر سیاسی پروگرام حاجی محمد شریع کے گھر کو اسرائیلی ڈرون نے نشانہ بنایا جس میں حاجی صاحب کیساتھ انکی اہلیہ بھی جاں بحق ہوگئیں۔دوسرے دن جنوبی بیروت میں اسرائیلی ڈرون نے برطانوی صحافی Steve Sweeneyکو ہدف بنایا لیکن وہ اور انکے عکاس (کیمرہ مین) علی رضا بال بال بچ گئے۔منگل  17 مارچ کو تراویح کے دوران نمازیوں پر پولیس تشدد کی رپورٹنگ کرنے والے صحافیوں پر  حملہ کیا گیا۔ جب  CNN کی بیورو چیف عبیر سلمان نے احتجاج کیا تو ایک سپاہی نے انکا ہاتھ پکڑ کر زور سے جھٹکا دیا جس کی وجہ سے عبیر سلمان کی  کلائی کی ہڈی ٹوٹ گئی۔سینسر کی سختی کا یہ عالم کہ واقعے کے چار دن بعد فوج نے CNNکو یہ خبر شائع کرنےکی اجازت دی۔

حوصلہ و اعصاب شکن حالات کے باوجود اہلِ غزہ، ساکنانِ غربِ اردن اور بیروت  کے شہریوں نے روائتی جوش و خروش سے عید منائی، اور یہی اس کہانی کا سب سے روشن پہلو ہے۔یہ عید خوشیوں کی نہیں، حوصلے کی عید تھی؛ یہ جشن نہیں، اعلان تھا کہ زندگی اب بھی موجود ہے۔ ملبے پر کھڑے ہو کر شکر ادا کرنا، بھوک میں مسکرانا اور بندوقوں کے سائے میں سجدہ کرنا بڑے حوصلے کا کام ہے اوراس بات کی دلیل ہے جسم، بے جان کئے جاسکتے لیکن جذبہ و روحِ آزادی کو شکست نہیں دی جا سکتی۔

طاقت،اقتدار اور سیاست کے ایوانوں میں یہ سب شاید محض خبریں ہوں، مگر تاریخ کے اوراق میں یہ انسانیت کی سب سے بڑی گواہی بنیں گی۔ سوال صرف یہ نہیں کہ وہاں کیا ہو رہا ہے،اصل سوال یہ ہے کہ ہم کہاں کھڑے ہیں۔

ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل کراچی 27 مارچ 2026

ہفت روزہ دعوت دہلی 27 مارچ 2026

ہفت روزہ رہبر سرینگر 29 مارچ 2026