Thursday, March 26, 2026

 

عید ملبے پر — غزہ و لبنان میں انسانیت کا امتحان

بمباری، محاصرہ اور خوف کے سائے میں عبادت، مزاحمت اور امید کی کہانی

جب دنیاخوشیوں، رنگوں اور رونقوں کے ساتھ  عید منارہی تھی، وہیں غزہ، غربِ اردن اور بیروت میں عید ملبے، آنسوؤں اور بارود کی بو میں ڈھلی ایک خاموش پکار بنی ہوئی تھی۔ یہ وہ خطہ ہے جہاں خوشی بھی مزاحمت ہے اور شکر استقامت کا دوسرا نام۔

ملبے پر عید — زندگی کا اعلان

اہلِ غزہ نے بمباری اور بے گھری کے سائے میں تیسری عیدالفطر منائی۔ ٹوٹے گھروں کے ملبے پر صفیں بنیں، تکبیریں بلند ہوئیں اور فاقوں کے باوجود اللہ کا شکر ادا کیا گیا۔ ڈھائی برس سے بھوک اور محرومی ان کا مقدر ہے۔چند دانے اور پانی کے چند گھونٹ ہی ان کی کل کائنات، مگر مایوسی ان کے قریب بھی نہیں پھٹکی۔ اہتمام سے چاند دیکھا گیا، بچیوں نے عید کے گیت گائے۔ حالات کیسے ہی کیوں نہ ہوں۔ روزوں کی تکمیل پر خوشی اور شکر کا اظہار لازم اور شُکر کا اعلان شَکر (مٹھائی) کے بغیر  ممکن نہیں چنانچہ جہاں ممکن ہوا علامتی کنافے بھی بنائے اور بانٹے گئے۔ یہ اعلان تھا کہ ہم زندہ قوم ہیں، پائندہ قوم ہیں۔

غربِ اردن — مزاحمت اور انتقام

غربِ اردن میں چھاپے، گرفتاریوں اور لوٹ مار کا سلسلہ جاری ہے۔ گزشتہ ہفتے بھیڑیں چھیننے کیلئے قبضہ گرد اسرائیلی فوج کی بکتر بند گاڑی میں سوار ہوکر غربِ اردن کا گاوں بیت عمرین آئے۔ایک فلسطینی نے اپنی گاڑی بکتر بند سے ٹکرادی۔ جس کے نتیجے میں آگ بھڑک اٹھی اور ایک حملہ آور ہلاک ہو گیا۔ اس واقعے کے بعد پورے گاؤں کو اجتماعی سزا کا سامنا ہے۔ یہ وہ سرزمین ہے جہاں مزاحمت کی ہر چنگاری، انتقام کی آگ کو مزید بھڑکا دیتی ہے۔

مسجدِ اقصیٰ — بند دروازے، کھلی پیشانیاں

مسجد اقصیٰ کے دروازے اگرچہ مقفل کر دیے گئے، مگر عقیدت کے راستے بند نہ ہو سکے۔ لوگ گلیوں، سڑکوں اور دیواروں کے سائے میں سجدہ ریز ہوئے۔ متعدد مقامات پر پولیس نے لاٹھی چارج کیا، نمازیوں کو منتشر کیا اور گرفتاریاں بھی ہوئیں، مگر نماز کا سلسلہ جاری رہا۔ ہر باجماعت نماز کے گرد مسلح سپاہیوں کی بندوقوں کا رخ نمازیوں کی طرف اور انگلیاں لبلبیوں پر تھیں۔ بقول علامہ اقبال 'کلمہ پڑھتے تھے ہم  چھاوں میں تلواروں کی۔

تراویح کی آزمائش — عبادت یا محاصرہ؟

اسی دوران CNN کی ایک رپورٹ نے ان آزمائشوں کی روشن جھلک پیش کی۔ ایک ہی رات میں نمازیوں کو بار بار جگہ بدلنے پر مجبور کیا گیا؛ جہاں صفیں بنتیں، وہیں انہیں منتشر کر دیا جاتا۔ یوں عبادت صرف عبادت نہ رہی بلکہ صبر و استقامت کا امتحان بن گئی۔

یہ عید کے دن اور ہیں عاشور سے بدتر

عید کے دوسرے دن سارے غرب اردن پر دہشت گردوں کا راج رہا۔ اتفاق سے یہ یوم سبت (ہفتہ) تھا جب توریت کے مطابق گھروں میں چھری سے سبزی کاٹنا بھی منع ہے لیکن اس دن جنوب میں الخلیل (Hebron)سے شمال میں جنین اور وادی اردن تک مسلح قبضہ گرد غارتگری میں مصروف رہے۔ بکتر بند سوار اسرائیلی فوجی ان غندوں کی پشت پناہی کو موجود تھے۔ جنین کے گاوں جالوت، سیلۃ الظہر، سلفیت شہر، نابلوس کے گاوں الفندقومیہ، اور وادی اردن کے علاقہ مسافر یطہ ان کا خاص ہدف تھا۔ اس دوران گھروں کو آگ لگادی گئی، لاٹھیوں اور لوہے کے سریوں سے خواتین پر تشدد کیساتھ معصوم بچوں کی آنکھوں میں سرخ مرچ چھڑک دی گئی۔ کھڑی فصلوں کو آگ لگانے کے بعد یہ قبضہ گرد سینکڑوں بھیڑیں بھی چرالئے گئے۔

لبنان — ملبہ، ہجرت اور خوف

غزہ اور غربِ اردن کی طرح لبنان بھی تباہی کی لپیٹ میں ہے۔ بیروت  اور اس کے اطراف میں لاکھوں افراد بے گھر ہو چکے ہیں اور یہ تعداد بڑھتی جا رہی ہے۔ غزہ اور لبنان پر ڈھائی جانے والے وحشت کا سنگدلانہ  پہلو اسرائیلی وزارت دفاع کی ابلاغی دہشت گردی ہے۔ بمباری کے بعد بلند و بالا عمارت کے زمیں بوس ہونے کے مناطر پر مشتمل سمعی و بصری تراشے اسرائیلی فوج براہ راست نشر کرتی ہے۔ گرتی عمارت کا خوفناک منظر اور ملبے تلے دبتے لوگوں کی چیخیوں سے دل ڈوبنے لگتا ہے۔ خوف کے ہتھیار سے دلوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔

بچوں کی قیمت پر جنگ

اس وحشت کی بھاری قیمت بچے ادا کررہے ہیں۔اقوام متحدہ کے ادارے UNICEF کے مطابق لبنان میں روزانہ ایک کلاس روم کے برابر بچے  جاں بحق اور زخمی ہورہے ہیں۔ ادارے کے نائب ایگزیکٹو ڈائریکٹر Ted Chaiban کے الفاظ میں یہ بچے صرف اپنی جانیں نہیں کھو رہے بلکہ ان سے معمول کی زندگی کا احساس بھی چھن چکا ہے۔ یہ اعداد و شمار محض ہندسے نہیں بلکہ ٹوٹتے خواب اور بکھرتے بچپن ہیں۔

سچائی نشانے پر

جنگ صرف جسموں کو نہیں، سچ کو بھی نشانہ بناتی ہے۔ غزہ، غرب اردن اور ایران سے لبنان تک بچوں، ہسپتالوں اور اسکولوں کیساتھ صحافی اور اہلِ قلم اسرائیل کا خاص ہدف ہیں۔ غزہ میں 200 سے زیادہ صحافیوں کو ہدف بناکر ختم کیا گیا۔بدھ 18 مارچ کو لبنانی المنار ٹی وی کے ڈائریکٹر سیاسی پروگرام حاجی محمد شریع کے گھر کو اسرائیلی ڈرون نے نشانہ بنایا جس میں حاجی صاحب کیساتھ انکی اہلیہ بھی جاں بحق ہوگئیں۔دوسرے دن جنوبی بیروت میں اسرائیلی ڈرون نے برطانوی صحافی Steve Sweeneyکو ہدف بنایا لیکن وہ اور انکے عکاس (کیمرہ مین) علی رضا بال بال بچ گئے۔منگل  17 مارچ کو تراویح کے دوران نمازیوں پر پولیس تشدد کی رپورٹنگ کرنے والے صحافیوں پر  حملہ کیا گیا۔ جب  CNN کی بیورو چیف عبیر سلمان نے احتجاج کیا تو ایک سپاہی نے انکا ہاتھ پکڑ کر زور سے جھٹکا دیا جس کی وجہ سے عبیر سلمان کی  کلائی کی ہڈی ٹوٹ گئی۔سینسر کی سختی کا یہ عالم کہ واقعے کے چار دن بعد فوج نے CNNکو یہ خبر شائع کرنےکی اجازت دی۔

حوصلہ و اعصاب شکن حالات کے باوجود اہلِ غزہ، ساکنانِ غربِ اردن اور بیروت  کے شہریوں نے روائتی جوش و خروش سے عید منائی، اور یہی اس کہانی کا سب سے روشن پہلو ہے۔یہ عید خوشیوں کی نہیں، حوصلے کی عید تھی؛ یہ جشن نہیں، اعلان تھا کہ زندگی اب بھی موجود ہے۔ ملبے پر کھڑے ہو کر شکر ادا کرنا، بھوک میں مسکرانا اور بندوقوں کے سائے میں سجدہ کرنا بڑے حوصلے کا کام ہے اوراس بات کی دلیل ہے جسم، بے جان کئے جاسکتے لیکن جذبہ و روحِ آزادی کو شکست نہیں دی جا سکتی۔

طاقت،اقتدار اور سیاست کے ایوانوں میں یہ سب شاید محض خبریں ہوں، مگر تاریخ کے اوراق میں یہ انسانیت کی سب سے بڑی گواہی بنیں گی۔ سوال صرف یہ نہیں کہ وہاں کیا ہو رہا ہے،اصل سوال یہ ہے کہ ہم کہاں کھڑے ہیں۔

ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل کراچی 27 مارچ 2026

ہفت روزہ دعوت دہلی 27 مارچ 2026

ہفت روزہ رہبر سرینگر 29 مارچ 2026


 

جنگ، بیانیہ اور حقیقت — کیا “obliteration” ممکن ہے؟

تلسی گیبارڈ کا بیان،  آبنائے ہرمز، جزیرہ خارگ اور عالمی طاقتوں کی خاموش چالیں

مشرقِ وسطیٰ ایک خطرناک موڑ پر

ایران پر امریکی و اسرائیلی حملوں کو ایک ماہ گزر چکا ہے، مگر جنگ کا دھواں چھٹنے کے بجائے مزید گہرا ہوتا جا رہا ہے۔ بیانات میں “فتح” اور “obliteration” کے دعوے ہیں، مگر زمینی حقیقت اس کے برعکس پیچیدہ، غیر یقینی اور خطرناک دکھائی دیتی ہے۔ کسی کو نہیں معلوم کہ یہ خونریزی کہاں جا کر رکے گی۔

بیانیہ اور حقیقت کا تضاد

گزشتہ ہفتے امریکی کانگریس کے روبرو بیان دیتے ہوئے ڈائریکٹر نیشنل انٹیلیجنس شیریمتی تلسی گیبارڈ (Tulsi Gabbard) نے کہا  کہ امریکی انٹیلیجنس کے مطابق ایران گزشتہ سال کے حملوں کے بعد اپنی جوہری افزودگی کی صلاحیت دوبارہ بحال نہیں کر رہا۔جب سینیٹر جان آسف (jon Assoff) نے پوچھا کہ 'اگر افزودگی کا کام معطل ہوچکا تو امریکی حملہ پیشگی دفاع (preemptive strike) ہے یا خطرے کی نوعیت کو بڑھا کر پیش کیا گیا؟ جواب ملا: خطرے کا تعین صدر کی ذمہ داری ہے۔

یہ جملہ محض جواب نہیں، بلکہ پالیسی کا نچوڑ ہے۔یادش بخیر،عراق پر حملے سے پہلے “بڑے پیمانے پر تباہی کے ہتھیار” (WMD) کا بیانیہ بھی اسی انداز میں گھڑا گیا تھا اور بعد میں خود صدر ٹرمپ نے تسلیم کیا کہ یہ دعویٰ بے بنیاد تھا۔

جنگ کا پھیلاؤ اور ایٹمی سایہ

امریکی نائب صدر جی ڈی وانس کے قریبی حلقوں میں مبینہ طور پر جوہری تصادم کے خدشات زیرِ بحث ہیں۔اس حوالے سے 21 مارچ کو دو انتہائی خطرناک پیش رفت سامنے آئیں ہیں۔ ایران نے اسرائیل کے دیمونہ جوہری تحقیقی مرکز المعروف دیمونہ ری ایکٹر پر میزائیل داغے۔ اسرائیلی حکام کے مطابق میزائیل، ری ایکٹرکے رہائشی علاقے کے باہر گرے تاہم عالمی جوہری توانائی ایجنسی IAEAنے اس پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے  تابکاری مواد کی پھیلاو کا جائزہ لینے کی تلقین ہے۔کیا  IAEAکو اسرائیلی جوہری تنصیبات تک رسائی حاصل ہے؟ اور کیا ایجنسی، اسرائیل کے جوہری عدم پھیلاؤ کے انتظامات سے مطمئن ہے؟دونوں سوالوں کا جواب نفی میں ہے۔

اسی دن امریکی و اسرائیلی  طیاروں نے ایرانی شہر نطنز میں اس زیرزمین گودام کو نشانہ بنایا جہاں مبینہ طور پر افزودہ یورنیم ذخیرہ کیا گیا ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق نطنز میں تابکاری آلودگی کے کوئی شواہد نہں ملے۔ اسرائیلی اور ایرانی جوہری تنصیبات پر حملے اور امریکی قیادت میں “nuclear option” کی سرگوشیاں ایک بڑے سانحے کی پیش بندی محسوس ہوتی ہیں۔

تنہائی، اشتعال اور آبنائے ہرمز

آبنائے ہرمز کی بندش نے عالمی معیشت کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔اس معاملے پر صدر ٹرمپ خود کو تنہا محسوس کررہے ہیں۔آبنائے ہرمز بزور طاقت کھلوانے کیلئے جہاں روس اور چین صدر ٹرمپ کا ساتھ دینے کو تیار نہیں وہیں نیٹو، یورپی یونین اور جاپان و جنوبی کوریا بھی تنازعے کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے کے حامی ہیں۔ اس تنہائی سے صدر ٹرمپ جھنجھلائے اور مشتعل نظر آرہے ہیں۔انھوں نے دھمکی دی کہ اگر ایران نے  48 گھنٹوں کےاندر آبنائے ہرمز کو غیر مشروط طور پر نہ کھولا تو وہ ایران کے پاور پلانٹس کو خاک یا Obliterate  کردینگے، جسکا جواب دیتے ہوئے ایرانی فوج کے ترجمان نے کہا کہ اگر توانائی کے کسی ایرانی مرکز یا تنصیبات پر حملہ ہوا تو علاقے میں تیل و گیس کی کا کوئی اثاثہ محفوظ نہیں رہیگا۔ اسی کیساتھ ایران نے دنیا بھر میں امریکی و اسرائیلی فوج کے اہلکاروں پر حملوں کی دھمکی دی ہے۔ مسلح افواج کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا کہ ایران ،امریکی و اسرائیلی عہدیداروں اور کمانڈروں پر نظر رکھے ہوئے ہے اور اب دنیا بھر کی سیرگاہیں، تفریحی مقامات اور سیاحتی مراکز دشمنوں کیلئے محفوظ نہیں رہیں گے۔

ایران کی “rope-a-dope” حکمتِ عملی؟

امریکی ماہرِ معاشیات اور سابق صدر رونلڈ ریگن کے مشیر Steve Hanke کا خیال ہے کہ ایران عظیم باکسر محمد علی کی طرح براہِ راست تصادم کے بجائے ایک طویل کھیل کھیل رہا ہے  یعنی معاشی دباؤ، علاقائی کشیدگی اور محدود ردعمل کے ذریعے اپنے حریف کو تھکانے کی کوشش۔محمد علی نے اپنے سے کہیں زیادہ طاقتور حریف جارج فورمین کو شکست دینے کے لیے ایک غیر معمولی طریقہ اختیار کیا تھا۔ وہ خود کو کمزور ظاہر کرتے ہوئے رِنگ کی رسّیوں کے ساتھ لگ گئے اور حریف کو حملہ کرنے دیا، یہاں تک کہ اس کی طاقت جواب دے گئی اور پھر ایک بھرپور وار میں انھوں نے جارج فورمین کو ناک آوٹ کر دیا۔کیا یہ واقعی ایرانیوں کا rope-a-dope ہے؟ یا یہ محض وقتی دفاع جسے حکمتِ عملی کا نام دیا جا رہا ہے؟ اگر یہ علی کی چال ہے، تو تاریخ بتاتی ہے کہ فیصلہ کن وار ہمیشہ آخر میں آتا ہے۔ لیکن کیا ایران، علی کی طرح آخری وار کے لئے خود کو محفوظ رکھ پاۓ گا؟یا یہ حکمتِ عملی خود اس پر بھاری پڑے گی؟

چین کی خاموشی—حکمت یا مصلحت؟

چین ایرانی تیل کا سب سے بڑا خریدار اور معاشی شراکت دار ہے۔ تہران کے اس اعلان کے بعد بھی کہ ایران میں تیل کاقابل فروخت ذخٰیرہ ختم ہوچکا ہے، چین کی خاموشی و غیر جانبداری معنی خیز ہے۔ بعض تجزیوں کے مطابق یہ بھی ایک “rope-a-dope” ہے۔ امریکہ مشرقِ وسطیٰ میں ایک کے بعد ایک محاذ کھول کر خود کو الجھا رہا ہے۔اسکےخلیجی اتحادی اپنے قیمتی اثاثوں اور وسائل کو خاک ہوتا دیکھ کر اپنے معاشی اور سفارتی راستوں کا متبادل ڈھونڈھ رہے ہیں۔ اسکے مقابلے میں چین کئی  دہائیوں سے گولی و بارود کے بغیر سڑکیں، بندرگاہیں، ریل نیٹ ورک اور مالیاتی متبادل نظام تعمیر کر رہا ہے۔ یعنی بیجنگ رسّیوں سے ٹیک لگائے اس انتظار میں ہے کہ کب حریف خود تھک کر کمزور پڑ جائے۔

میدانی حقیقت: حادثات، دعوے اور ابہام

عالمی خبر رساں ادارے Reuters کے مطابق امریکی وزارتِ دفاع کے ذرائع نے ایران کے خلاف جاری جنگ میں مصروف طیارہ بردار جہاز USS Gerald R. Ford پر آتشزدگی اور مرمت کے لیے اس کی عارضی واپسی کی تصدیق کی ہے۔ جہاز کو مرمت کیلئے یونان کے جزیرے کریٹ کی Souda Bay بندرگاہ لے جانے کا امکان ہے۔امریکی وزارت دفاع کے مطابق آتشزدگی ایک حادثہ ہےلیکن ایک ہفتہ قبل پاسداران انقلاب اسلامی (IRGC) نے اس جہاز پر حملے کا دعویٰ کیا تھا جسے صدرٹرمپ نے fake news قرار دیا۔

امریکہ کے مشہور زمانہ F-35کے ناقابل تسخیر ہونے کا دعوی بھی مشکوک ہوگیاہے۔امریکی مرکزی کمان کے ترجمان کیپٹن ٹم ہاکنز کے مطابق ایک F-35کو ایران پر پرواز (بمباری) کرتے ہوئے غیردوستانہ” فائر کے نتیجے میں ہنگامی طور پر مشرق وسطیٰ کے اڈے پر اترنا پڑا۔ یہ طیارہ اپنی تاریخ میں پہلی بار اس آزمائش سے گزرا ہے۔ یہ واقعات اس جنگ کی پیچیدگی اور غیر یقینی کو ظاہر کرتے ہیں۔

توانائی کا محاذ

اسرائیل نے 17 مارچ کو خلیج فارس میں ایران اور قطر کےمشترکہ جنوب پارس گیس میدان (South Pars Gas Field)پر میزائیل حملہ کیا جس سے وہاں آگ لگ گئی۔ اس میدان سے ایران یومیہ 2 ارب مکعب فٹ گیس حاصل کرتا ہے۔ جواب میں ایران نے قطر کے راس لفاں (Ras Laffan)پلانٹ پر میزائیل برسادئے۔ جس سے تنصیابت کو بھاری نقصان پہنچا۔دنیا کا اس سب سے بڑے LNG پلانٹ کی پیداواری گنجائش سات کروڑ 70 لاکھ ٹن سالانہ ہے جو LNGکی مجموعی عالمی پیداوار کا 20 فیصد ہے۔ دو دن بعد ایران نے کوئت کی مینا الاحمدی ریفائنری پر بھی حملہ جس سے کئی جگہ آگ بھڑک اٹھی۔ اس ریفائنری میں 7 لاکھ 30 ہزار بیرل تیل روزانہ صاف ہوتا ہے۔ ایرانی حملوں کے خوف سے متحدہ عرب امارات کی سرکاری تیل کمپنی ADNOC نے حبشان پراسیسنگ پلانٹ کو عارضی طور پر بندکردیا۔ یہاں سے یومیہ 6 ارب مکعب فٹ گیس فراہم کی جاتی ہے

انسدادِ دہشت گردی کے سربراہ کا استعفیٰ

امریکی قومی انسدادِ دہشت گردی مرکز کے سربراہ Joe Kent نے ایران کے خلاف جاری جنگ پر اختلاف کرتے ہوئے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ ان کے مطابق ایران فوری خطرہ نہیں تھا، بلکہ ایک مخصوص بیانیہ تشکیل دے کر جنگ کی راہ ہموار کی گئی۔ جو کینٹ کااستعفیٰ اس جنگ کے بیانیے پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔

امریکی اسلحہ فروشوں کی چاندی

ٹرمپ انتطامیہ نے متحدہ عرب امارات کو Patriotفضائی دفاعی نظام اور CH4ہیلی کاپٹر فروخت کرنے کی منظوری دیدی۔ سودے کا محموعی حجم 7 ارب ڈالر ہے۔

تنازعے کے آغاز سے ہی لفظِ obliteration (مکمل تباہی) صدر ٹرمپ کا تکیہ کلام بناہواہے۔ ایرانی جوہری تنصیبات، اسکی بحریہ، فضائیہ، جزیرہ خرگ، ایرانی قیادت سب کو وہ اپنی تقریروں میں  Obliterateکرچکے ہیں۔ مگر تاریخ بتاتی ہے کہ جنگیں الفاظ سے نہیں جیتی جاتیں۔ عراق سے افغانستان تک، ہر “فیصلہ کن فتح” کا دعویٰ بالآخر ایک طویل اور پیچیدہ کہانی میں بدل گیا۔مشرقِ وسطیٰ بھی اسی موڑ پر کھڑا ہے، جہاں طاقت، بیانیہ اور حقیقت تین مختلف سمتوں میں چل رہے ہیں۔کیا یہ جنگ کسی واضح انجام کی طرف بڑھ رہی ہےیا ایک  طویل عدم استحکام کی تمہید لکھی جا رہی ہے؟

ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل کراچی 27 مارچ 2026

ہفت روزہ دعوت دہلی 27 مارچ 2026

ہفت روزہ رہبر سرینگر 29 مارچ 2026


Saturday, March 21, 2026

 

جلتے خیمے، سویا ضمیر

غزہ، غربِ اردن اور لبنان میں جنگ، سینسر اور انسانی ضمیر کا امتحان

اہلِ غزہ کا تیسرا رمضان بارود اور دھماکوں کے سائے میں گزرگیا۔ افطار کے دسترخوان پر کھجوروں کے ساتھ خوف بھی رکھا گیا اور تراویح کی صفوں کے اوپر ڈرون طیاروں کی گھن گرج سنائی دیتی رہی۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اس خطے میں وقت بھی زخموں کے ساتھ بہتا ہے۔اگر مشرقِ وسطیٰ میں جاری اس خونریزی کا سرسری جائزہ لیا جائے تو منظر نہایت ہولناک دکھائی دیتا ہے۔ خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق مارچ کے پہلے پندرہ دنوں میں 1270 ایرانی، لبنان کے 488 شہری اور غزہ کے 36 فلسطینی اپنی جانوں سے گئے۔ اگر اس خطے کے مغربی کنارے کو بھی شامل کر لیا جائے تو پاک افغان سرحدی جھڑپوں نے بھی سینکڑوں بے گناہ جانیں لے لیں۔موت کے ماتم کے ساتھ بے گھری کا عذاب بھی کم نہیں۔ رہائشی علاقوں پر بمباری کے نتیجے میں تقریباً دس لاکھ لبنانی اور سینکڑوں افغان اپنے گھروں سے محروم ہو چکے ہیں۔

رمضان میں آگ اور راکھ

غزہ میں رمضان کے دوران بھی بمباری کا سلسلہ جاری رہا۔جمعۃ الوداع کی صبح وسطی غزہ کے علاقے الزوائیدہ میں اسرائیلی فضائی حملے سے خیموں میں آگ بھڑک اٹھی جس میں 12 سالہ بچی اور خاتون صحافی امل شمالی سمیت تین افراد زندہ جل گئے۔ اگلے ہی دن خان یونس پر بمباری میں ایک بچے سمیت چھ افراد جاں بحق ہو گئے غزہ اور غربِ اردن میں آزادی اور وقار کی جدوجہد کو زندہ رکھنے میں جہاں مزاحمت کاروں کی قربانیاں اہم ہیں، وہیں اہلِ قلم کا کردار بھی کم نہیں۔ انہی کی بدولت دنیا کو ان واقعات کی خبر ملتی ہے، ورنہ سخت سنسر کے پردے میں یہ سب کچھ شاید خاموشی سے دفن ہو جاتا۔ قلم کی حرمت کیلئےامل شمالی کی قربانی ہمیشہ یاد رکھی جائیگی۔جنگ کے شور میں سچائی کی آواز اکثر دب جاتی ہے، مگر کبھی کبھی ایک قلم ہزار توپوں پر بھاری پڑ جاتا ہے۔

سیاہ اتوار

اتوار (15 مارچ) کی صبح وسطی غزہ کے علاقے الزویدہ میں اسرائیلی ڈرون نے ایک پولیس جیپ کو نشانہ بنایا جس سے گاڑی میں سوار پولیس کمشنر اور آٹھ پولیس افسران جاں بحق ہوگئے۔ حملے میں قریب کھڑے 14 افراد زخمی ہوئے۔ ٹھیک اسی وقت نصیرات خیمہ بستی پر حملے میں ایک شخص، اسکی پرامید بیوی اور معصوم بچہ جان سے گئے۔

غربِ اردن: خوف کا پہرہ

اسی دن غربِ اردن میں تشدد کی ایک نئی لہر دیکھی گئی۔ درجنوں مسلح آبادکار شمالی وادی اردن کے گاؤں خومسہ میں تراویح کے دوران گھس آئے۔ اندھا دھند فائرنگ اور لاٹھیوں کی ضربوں سے متعدد افراد زخمی ہوئے اور حملہ آور جاتے ہوئے 14 کسانوں کے ہاتھ پاؤں باندھ کر ان کی 360 بھیڑیں بھی ہنکا لے گئے۔

جنوبی غربِ اردن کے علاقے ام الخیر میں ایک چھ سالہ فلسطینی بچی کو گاڑی تلے روند دیا گیا۔ڈرائیور کو گرفتار کرنے کے بجائے پولیس نے احتجاج کرنے والے مقامی افراد کے خلاف ہی مقدمہ درج کر لیا۔ظلم کی یہ کہانی انسانوں تک محدود نہیں رہی۔ بیت اللحم کے قریب ایک فارم پر حملے میں مرغیوں کے ڈربوں کو آگ لگا دی گئی اور ہزاروں چوزے جل کر مر گئے۔

ایک کھیت، دو بیٹے اور گولیوں کی بارش

اس ہفتے غرب اردن نے دوایسی لرزہ خیر وارادت کا مشاہدہ کیا جسے قتل عام کہنا زیادہ مناسب ہے۔ الخلیل (Hebron)کے گاوں مسافر یطہ میں مسلح آبادکاروں نے 57 سالہ محمد شِذَن کے کھیت کی باڑھ توڑ کر چرنے کیلئےاپنے مویشی چھوڑدئے۔ اس وقت کھیت میں جو(Barley) کی فصل تیار کھڑی تھی۔ محمد شذن اور اس کے بیٹوں عامر اور خالد نے اعتراض کیا کہ تیار فصل مویشی چرانے کی جگہ نہیں۔ عامر نے مویشیوں کو ہنکا کر کھیت سے باہر نکالنے کی کوشش کی جس پر آبادکاروں نے عامر پر گولی چلادی۔ بیٹے کو زخمی دیکھ کر محمد اس کی طرف لپکا ہی تھا کہ ایک دوسرے مسلح آبادکار نے چند گز کے فاصلے سے عامر کے بھائی خالد کو گولی ماردی۔عامر تھوڑی دیر تڑپنے کے بعد دم توڑ گیا، جبکہ خالد کو ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں اس کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔یہ واقعہ محض ایک خاندان کی المناک کہانی نہیں بلکہ غربِ اردن میں روزمرہ پیش آنے والے واقعات کی ایک جھلک ہے۔

ایک خاندان کی خاموش موت

دوسری واردات14  مارچ کی شب طمون میں پیش آئی جب 57 سالہ خالد بن ابی عودہ اپنی اہلیہ وعد اور دو کمسن بیٹوں کے ساتھ تراویح کے لیے مسجد جا رہے تھے کہ ایک فوجی چوکی سے ان کی گاڑی پر گولیاں برسا دی گئیں۔ پورا خاندان موقع پر ہی دم توڑ گیا۔جنگ میں صرف سپاہی نہیں مرتے، کبھی کبھی پورے خاندان تاریخ کے حاشیے پر دفن ہو جاتے ہیں۔

لبنان میں بھی آگ

غزہ کی طرح جنوبی لبنان میں بھی عبادتگاہیں اسرائیل کا نشانہ ہیں۔ گزشتہ ہفتے ایک مارونی گرجا کو نشانہ بنایا گیا جس میں پادری پیئر الراعی ہلاک ہوگئے۔مارونی( Maronite)  مسیحی پانچویں صدی کے ایک شامی راہب Saint Maron سے منسوب ہیں۔لبنان کی سیاسی ساخت میں مارونی مسیحیوں کو خاص مقام حاصل ہے۔ لبنان کا صدر مارونی، وزیراعظم سنی اور اسپیکر شیعہ ہوتے ہیں۔

اسی دوران عالمی تنظیم Human Rights Watch نے انکشاف کیا ہے کہ جنوبی لبنان میں سفید فاسفورس استعمال کیا گیا۔ یہ آتش گیر کیمیائی مادہ انسانی جسم کو شدید جلا دیتا ہے اور شہری علاقوں میں اس کا استعمال بین الاقوامی قانون کے تحت ممنوع سمجھا جاتا ہے۔ اسرائیل اس سے پہلے غزہ میں بھی سفید فاسفورس استعمال کرچکا ہے۔ عالمی قوانین کی ان صریح خلاف ورزیوں پر اقوام عالم کی خاموشی افسوسناک ہے۔

یہاں تو بات کرنے کو ترستی ہے زباں میری

ایران ، غزہ، غرب اردن اور لبنان میں جارحیت کے بارے میں بدترین سینسر کیساتھ اسرائیلی حکومت نے اسکے مظاہروں خلاف مظاہروں پربھی پابندی لگارکھی ہے۔ گزشتہ ہفتے تل ابیب میں نوجوانوں نے بے مقصد جنگوں کے خلاف جلوس نکالا۔ مظاہرین نیتن یاہو کی تصویر والے پلے کارڈ اٹھائے ہوئے تھے جس پر عبرانی میں لکھاتھا הגיע הזמן: נתניהוחזור לחירות یعنی نیتن یاہو کو جیل بھیجو۔ پولیس نے پلے کارڈ چھین کر مظاہرہ منتشر کرنے کیساتھ کئی منتظمین کو گرفتار کرلیا، جن پر غداری کے الزام میں قدمہ چلے گا۔

سفارتی محاذ بھی گرم

اسرائیلی جارحیت پر بطور احتجاج ، اسپین نے تل ابیب سے اپنا سفیر واپس بلالیا۔ہسپانوی حکومت کے سرکاری اعلامئےکے مطابق تل ابیب میں سفیر کا منصب ختم کر دیا گیا ہے اور آئندہ اسپین کے سفارتی مشن کی قیادت ناظم الامور (Chargé d’Affaires) کریں گے۔ سفارتی اصطلاح میں کسی ملک سے سفیر واپس بلا کر مشن کو ناظم الامور کے سپرد کرنا دراصل دوطرفہ تعلقات کو کم درجے پر لانا (downgrade) کہلاتا ہے، جو عموماً شدید سیاسی اختلاف یا احتجاج کا اشارہ ہے۔

مشرقِ وسطیٰ کی اس آگ میں روز نئی قبریں کُھد رہی ہیں۔ اگر رمضان کی راتیں بھی بارود کی روشنی میں گزریں اور بچوں کے کھیل کے میدان قبرستان میں بدل جائیں تو پھر تہذیب کے اس سفر پر فخر کیسے کیا جائے؟ تاریخ آنے والی نسلوں سے ضرور پوچھے گی کہ اس زمانے میں جب ہر خبر لمحوں میں دنیا کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک پہنچ سکتی تھی، تب انسانیت کی آواز اتنی مدھم کیوں تھی۔

ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل کراچی 20 مارچ 2026

ہفت روزہ دعوت دہلی 20 مارچ 2026

ہفت روزہ رہبر سرینگر 22 مارچ 2026


 

خون، تیل اور طاقت کی بساط

محدود کارروائی یا ایک نئے علاقائی بحران کی ابتدا؟

ایران کے خلاف جاری جنگ تیسرے ہفتے میں داخل ہو چکی ہے، مگر اس خونریزی کو اب تک کوئی واضح نام نہیں دیا جا سکا۔ امریکی کانگریس کے اسپیکر اسے معمول کی محدود کاروائی سمجھتے ہیں۔صدر ٹرمپ نے اسے  Excursion کہا،جس کا ایک مفہوم مختصر مہم اور دوسرا سیر و تفریح  ہے۔ دوسری طرف اسرائیلی وزیر اعظم بن یامین نیتن یاہو کے لئے  یہ انکی چالیس سال پرانی آرزو کی تکمیل ہے، جبکہ امریکی وزیر جنگ اسے فیصلہ کن اور بے رحم جنگ قرار دے رہے ہے۔

صدر ٹرمپ کی یہ خونی سیر تادم تحریر اسکول کی معصوم بچیوں سمیت 1270 نہتے شہریوں کی جان لے چکی ہے اور ہزاروں لوگ زخمی ہیں۔ہسپتال، دواخانے، بجلی گھر، ایندھن کے ذخائر، آبنوشی و آبپاشی کے وسائل، پُل اور سڑکیں بنیادی ہدف ہیں۔ وہی منظر جو پہلے غزہ اور لبنان میں دیکھا جا چکا ہے۔ جنگ کی لغت طاقتور جنگجولکھتے اور اس کی قیمت عام لوگ ادا کرتے ہیں۔

منہہ پر لگنے والا پہلا گھونسہ

تلون مزاج اور انا کے گنبد میں بند امریکی صدر کا دعویٰ ہے کہ ایران کو کچل دیا گیا۔ لیکن معروف امریکی مبصر Howard Kurtz نے اپنے ایک حالیہ کالم میں کہا ہے کہ جیسے جیسے جنگ طول پکڑ رہی ہے اور امریکی فوجیوں کی ہلاکتوں کی خبریں سامنے آ رہی ہیں، ویسے ویسے واشنگٹن میں اس جنگ کے انجام اور اس کی قیمت کے بارے میں سوالات بڑھتے جا رہے ہیں۔جناب کُرٹز کا خیال ہے کہ ایران نے بھی ایسے طریقے تلاش کر لئے ہیں جن کے ذریعے وہ جوابی ردعمل دے سکتا ہے، جس سے یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ جنگ کا نقشہ اتنا یک طرفہ نہیں رہا جتنا ابتدا میں تصور کیا جا رہا تھا۔انھوں نے اپنے کالم کے آغاز میں باکسنگ کے عالمی چمپین مائک ٹائسن کا یہ جملہ نقل کیا ہے کہ 'منہہ پر پہلا گھونسہ پڑتے ہی سارے منصوبے دھرے کے دھرے رہ جاتے ہیں'۔ انکے حالیہ مضمون کا مرکزی خیال یہی ہے کہ جیسے باکسنگ کے رنگ میں پہلا مُکّا پورے مقابلے کی سمت بدل دیتا ہے۔ ویسے ہی میدانِ جنگ میں حقیقت کا پہلا جھٹکا پورے منظرنامے کو بدل کر مستکبرین کے کس بل نکال دیتا ہے۔

فوجی پیش رفت اور بڑھتے خدشات

امریکی ٹیلی ویژن ABCکے مطابق تقریباً 5500 میرینز پر مشتمل ایک تیز رفتار مہماتی دستہ یا Marine Expeditionary Unit (MEU) تین بحری جہازوں پر جاپان سے مشرقِ وسطیٰ کی طرف روانہ کر دیا گیاہے۔ یہ پیش رفت ایران پر دباؤ بڑھانے کی حکمت عملی ہو سکتی ہے، مگر خدشہ یہ بھی ہے کہ کہیں یہ تنازع ایک وسیع علاقائی جنگ میں تبدیل نہ ہو جائے۔ امریکی فوجی تاریخ میں ایسی مثالیں پہلے بھی ملتی ہیں۔جنگ ویتنام  بھی محدود مشیروں کی تعیناتی سے شروع ہوئی تھی، مگر بعد میں ایک طویل اور مہنگی جنگ بن گئی۔

توانائی کی جنگ

گزشتہ ہفتے خلیج فارس میں جزیرہ خارگ پر امریکہ نے بمباری کی۔ جسکا اعلان صدر ٹرمپ نے خود کیا۔ اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر انھوں نے لکھا کہ 'ازراہ مہربانی' ہم نے ایرانی تیل تنصبات کوخاک نہیں کیا لیکن اگر ایران نے آبنائے ہرمز کو بند کرنے کی کوشش کی تو میں اپنے فیصلے پر نظرِ ثانی کرسکتا ہوں۔ایرانی تیل کی 90 فیصد برآمدات اسی جزیرے پر قائم ٹرمنل سے ہوتی ہیں۔ پچیس مربع کلومیٹر رقبے کا یہ جزیرہ، آبنائے ہرمز سے شمال مغرب کی جانب 483 کلومیٹر دور ہے۔ جواباً ایران نے فجیرہ (متحدہ عرب امارات) میں خام تیل کی تنصیبات پر زبردست حملہ کیا۔یوں یہ لڑائی صرف فوجی نہیں بلکہ توانائی اور عالمی معیشت کی جنگ بن چکی ہے۔

صرف مزے کے لئے

دوسرے دن NBC News سے باتیں کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے اپنے مخصوص متکبرانہ لہجے میں کہا کہ امریکہ نے ایران کے اہم تیل برآمدی مرکز جزیرہ خرگ مکمل طور پر تباہ کردیا ہے۔ ساتھ ہی مسکراتے ہوئے بولے کہ اگر ضرورت پڑی تو اس پر “چند مزید حملے بھی کئے جا سکتے ہیں،  صرف مزہ لینے کے لئے۔” we may hit it a few more times just for fun ۔ یہ الفاظ سن کر تاریخ کے ایک اور کردار کی یاد تازہ ہو جاتی ہے۔تیمور نے اپنی خودنوشت  سوانحعمری میں لکھا ہے کہ جنگ کے دوران سر قلم ہوتے سپاہی کی گردن سے پھوٹتے خون کے فوارے سے زیادہ دل آویز منظر میں نے کبھی نہیں دیکھا۔ وہ مناظر مجھے آج تک یاد ہیں اور ان کے تصور سے اب بھی میرے لبوں پر مسکراہٹ آ جاتی ہے۔ کیا انسانیت،  تہذیب کے سفر میں آگے بڑھی ہے، یا صرف ہتھیار جدید ہوئے ہیں؟

افواہوں کا بازار گرم

اس جنگ میں افواہوں کا بازار بھی گرم ہے۔سوشل میڈیا پر یہ خبر تیزی سے گردش کر رہی ہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم بن یامین نیتن یاہو ہلاک ہو چکے ہیں ۔لیکن اب تک کسی معتبر عالمی خبر رساں ادارے نے اس خبر کی تصدیق نہیں کی۔

ایسی ہی ایک سنسنی خیز مہم کا آغاز 15 مارچ کو ہوا جب ایران نے امریکی طیارہ بردار جہاز USS Abraham Lincoln (CVN-72) پر کامیاب میزائیل حملے اور اسے ناکارہ کردینے کا دعویٰ کردیا۔امریکی مرکزی کمان نے اس کی واضح تردید کرتے ہوئے کہا کہ جہاز معمول کے مطابق اپنی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔ یوں یہ جنگ میدان کے ساتھ ساتھ اطلاعات کے محاذ پر بھی لڑی جا رہی ہے۔

منزل ہے کہاں تیری؟؟؟

اس بے مقصد جنگ کے بارے میں امریکیوں کی بیچینی بڑھتی دکھائی دے رہی ہے۔امریکی سینیٹ کو دی گئی خفیہ آگاہی (Classified Briefing) کے بعد کئی ڈیموکریٹ سینیٹروں نے اعتراف کیا ہے کہ انہیں اس جنگ کے مقاصد اور انجام کے بارے میں اب بھی واضح جواب نہیں ملا۔ سینیٹر Chris Murphy نے بریفنگ کے بعد کہا کہ حکمتِ عملی “بالکل غیر واضح” ہے، جبکہ سینیٹر Richard Blumenthal کے مطابق اس جنگ کا کوئی واضح اختتامی منصوبہ (Endgame) نظر نہیں آ رہا۔اسی دوران سینیٹر Elizabeth Warren نے سوال اٹھایا کہ جب کروڑوں امریکیوں کے لئےصحت کے وسائل میسر نہیں تو ایران پر بمباری کے لیے روزانہ اربوں ڈالر کہاں سے آرہے ہیں۔ بعض قانون سازوں کو یہ خدشہ بھی ہے کہ یہ جنگ آگے چل کر امریکی زمینی فوج کی تعیناتی تک پہنچ سکتی ہے۔کچھ سینیٹرز نے مطالبہ کیا کہ اس معاملے کو عوام کے سامنے پیش کیا جائے تاکہ امریکیوں کو معلوم ہو کہ انکے خون پسینے کی کمائی کہاں خرچ ہورہی ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ اسرائیل کی خوشنودی کے لئے جنگ تو چھیڑ دی گئی، مگر اس کے مقصد، مدت اور انجام کا نقشہ ابھی تک کسی کے پاس نہیں۔

معاملہ یکطرفہ نہیں

جنگ میں ایران کے بھاری شہری نقصان کیساتھ زمینی حقائق امریکہ کیلئے بھی خوش کُن نہیں ۔ جنگ کے آغاز پر ہی کویت میں تین F-15دوستانہ فائر کا شکار ہوکر زمین پر آرہے۔ سعودی عرب کے امریکی اڈے پر ایک میزائیل حملے میں سات فوجی ہلاک ہوگئے۔ عراق کی فضائی حدود میں امریکی لڑاکا طیاروں کو ایندھن فراہم کرتے ہوئے دو KC-135طیارے آپس میں ٹکرا گئے۔ایک طیارہ مکمل طور پر تباہ اور اسکا چھ رکنی عملہ ہلاک ہوگیا، دوسرا جہاز بھی ناکارہ ہوچکا ہے، دوسرے دن سعودی عرب کے اڈے پر میزائیل حملے میں پانچ KC-135طیاروں کونقصان پہنچا۔ یعنی پندرہ دن میں امریکہ کے 10 طیارے تباہ یا ناقابل استعمال ہوگئے۔ امریکی اڈوں پر حملوں میں 13ہلاکتوں کے علاوہ 240 فوجی زخمی ہوچکے ہیں

توانائی کی کلیدی شاہرہ بند

ایران آبنائے ہرمز کو مسدود کرنے میں اب تک کامیاب نظر آرہاہے۔ صدر ٹرمپ نے چین سمیت اقوام عالم سے درخواست کی ہے کہ وہ 'معاشی خطِ حیات' کو چالو رکھنے کیلئے اپنی ذمہ داری اداکریں۔ بادی النظر میں یہ اس بات کا اعتراف ہے کہ قوت قاہرہ کے باوجود امریکہ اس اہم آبی شاہراہ کو تن تنہا محفوظ نہیں بناسکتا۔ہرمز کو بند رکھنے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے ایرانی وزیرخارجہ سید عباس عراقچی نے کہا کہ جب تک ہماری سرزمین اور اثاثوں پر حملے بند نہیں ہوجاتے ہم اس علاقے سے تیل برآمد نہیں ہونے دینگے۔

اسرائیل اور امریکی تنصیبات پر ایران کے حملے

علاقے میں امریکی اڈوں اور اسرائیل پر ایران کے ڈرون اور میزائیل حملے جاری ہیں۔ بغداد میں امریکی سفارتخانے کی عمارت پر نصب امریکی ریڈار، قطر میں امریکی تنصیبات، بحرین کے امریکی بحری اڈے، سعودی عرب اور کوئت میں امریکی فوج کے ٹھکانوں کیساتھ دوبئی کو ایرانی میزائیل نشانہ بنارہے ہیں۔ ایرانی خاتم الانبیا(ص) مرکزی کمان کے ترجمان نے  امریکی عسکری مفادات پر حملے جاری رکھنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ  علاقے میں جہاں سے بھی ایران کی طرف میزائیل داغے گئے یا امریکی و اسرائیلی طیاروں نے اڑان بھری وہ ہمارا ہدف ہے۔

ایران میں Regime Change۔۔ ایں خیال است و محال است و جنوں

ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو ایران میں تبدیلی اقتدار (Regime Change)کے حوالے سے مایوس ہیں اور نہیں جانتے کہ آیا ایرانی عوام اپنےنظام کو بدل پائیں گے؟ اسی کیساتھ امریکی خفیہ اداروں کی حالیہ رپورٹوں میں اعتراف کیا گیا ہے کہ ایرانی حکومت ابھی مضبوط ہے اور اسکی فوری تحلیل ممکن نظر نہیں آتی۔ ان ماہرین کا خیال ہے کہ سخت فوجی یا سیاسی کارروائیوں کے باوجود ریاستی گرفت مضبوط اور ممکنہ عوامی بغاوت یا انقلاب کے امکانات کمزور ہیں۔یعنی بیانات اور حقائق کے درمیان خلا واضح ہے۔ ایک طرف جذباتی، جارح اور امید بھرا بیانیہ؛ دوسری طرف حقیقت پسندانہ، مضبوط ریاستی ڈھانچے کی تصویر۔

مفلوج سلامتی کونسل

سلامتی کونسل میں ایران کے حملوں کی مذمت کی قرارداد بلا بحث و مباحثہ تیرہ ووٹوں کی حمایت سے منظور ہوگئی۔ جواب میں ایران پر ہونے والے حملوں کے بارے میں روس کی جانب سے ایک نہایت محتاط مسودۂ قرارداد سامنے آیا، اتنا محتاط کہ کسی کا نام لینے کی جرأت بھی نہ کی گئی۔ گویا یہ سفارت کاری کی ہومیوپیتھک خوراک تھی؛ اثر کی امید بہت، مگر مقدار نہ ہونے کے برابر۔ تاہم یہ بے ضرر قرارداد بھی اپنے مجوز کنندہ،  روس کے علاوہ صرف پاکستان اور چین کے ووٹ حاصل کرسکی اور چچا سام کے ویٹو کی نوبت نہ آئی۔

ترکش خالی ہورہے ہیں    یا کاسہ؟؟

امریکی خبر رساں پلیٹ فارم Semafor نے ایک رپورٹ میں امریکی حکام کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیل کے فضائی دفاعی نظام کے لئے استعمال ہونے والے interceptors تیزی سے کم ہو رہے ہیں۔ یہ وہ میزائل ہیں جو دشمن کے راکٹ یا میزائل کو فضا ہی میں تباہ کرنے کے لیے داغے جاتے ہیں۔خبر کے مطابق مسلسل حملوں کی وجہ سے اسرائیلی دفاعی نظام پر بوجھ بڑھ رہا ہے اور ذخائر میں کمی محسوس کی جا رہی ہے۔بین الاقوامی سیاست میں بعض اوقات ایسی اطلاعات دفاعی صورتحال بیان کرنے کے بجائے اتحادیوں کو متوجہ کرنے کے لئے سامنے آتی ہیں۔ خاص طور پر جب معاملہ اربوں ڈالر کی فوجی امداد اور ہتھیاروں کی فراہمی سے جڑا ہو۔ممکن ہے  کہ خطرہ حقیقی ہو، لیکن عالمی سیاست میں یہ بھی ایک پرانا اصول ہے کہ مدد مانگنے سے زیادہ مؤثر طریقہ، کمی کی خبر پھیلانا ہے۔

پاک بحریہ کی مہم

سمندری آمدورفت (maritime)سے وابستہ حلقے پاک بحریہ کی محافظ البحر مہم سے متاثر ہیں۔اس مہم کے ذریعے پاک بحریہ، بحیرہ احمر سے پاکستان تک کے بحری راستے کو تحفظ فراہم کررہی ہے۔ امریکی اصرار کے باجوود آبنائے ہرمز کو رواں رکھنا محافظ البحر کے فرائض میں شامل نہیں لہذا پاکستانی جہاز خلیج فارس سے فاصلے پر ہیں۔ اس مہم کا بنیادی ہدف تیل کی ترسیل کیلئے سعودی بندرگاہ ینبوع سے کراچی تک کا بحری سفر محفوظ بنانا ہے۔یہ راستہ بھی سو فیصد محفوظ نہیں کہ اگر حوثیوں نے آبنائے باب المندب پر نشانہ بازی شروع کردی تو بس نہر سوئز کا راستہ ہی کھلا رہ جائیگا

تیل کی کی پیداوار میں کٹوتی اور امریکی کمپنیوں کی چاندی

خلیج فارس کا راستہ مخدوش ہونے کی بنا پر سعودی عرب نے تیل کی پیداوار 25 لاکھ، متحدہ عرب امارات نے 8 لاکھ ، کویت نے 5 لاکھ اور عراق نے 29لاکھ بیرل یومیہ کی کمی کردی ہے۔ مزے کی بات کہ امریکہ میں تیل کی پیداوار پانچ فیصد بڑھ چکی ہے اور نقل و حرکت  معمول کے مطابق ہے۔لیکن امریکہ کاWTIبرانڈ بھی عرب لائٹ اور اوپیک مشرق وسطی باسکیٹ کے دام بک رہا ہے ۔ اسے کہتے ہیں منافع خوری

ہفت روزہ دعوت دہلی 20 مارچ 2026