Thursday, October 22, 2026

 

غزہ سے غربِ اردن : خونریزی، قبضہ اور انصاف کا سوال

مغربی سیاست میں بدلتی ہوئی آوازیں

غزہ میں اسرائیلی حملوں کے تین سال مکمل ہونے پر الجزیرہ کے شائع کردہ اعدادوشمار کے مطابق، کم از کم 74 ہزار فلسطینی جاں بحق ہوچکے ہیں، یعنی یہاں آباد ہر 30 میں سے ایک۔ ان میں وہ ہزاروں افراد شامل نہیں جو اب بھی ملبے تلے دبے یا لاپتا ہیں۔ زخمی ہونے والوں کا تناسب 13 میں ایک ہے۔ زخمیوں کی بڑی تعداد زندگی بھر کی معذوری اور طویل بحالی کی محتاج ہے۔

اس ہفتے بھی غزہ پر بمباری، ڈرون حملے، ٹینکوں سے گولہ باری اور نشانچیوں کی فائرنگ جاری رہی۔ جامع مسجد رفح  کے قریب حملے میں دو افراد جاں بحق ہوئے، جبکہ 17 اکتوبر کو وسطی غزہ میں 14 سالہ محمد ابو حماد ڈرون حملے میں جان  سے گیا۔ اسکے دوسرے دن صبح کو المغزی کے علاقے میں ایک سات سالہ لڑکی مسک الدالو کو اسرائیلی فوج نے گولی ماردی اور کچھ ہی دیر بعد بیت لاہیہ میں ایک بچہ تعمر صبوح ان درندوں کا نشانہ بن گیا۔ دونوں بچوں پر بہت قریب سے گولی چلائی گئی۔ تفح محلے اور خان یونس پر حملوں میں بھی متعدد افراد مارے گئے۔ خان یونس کی ڈھائی سالہ مریم کی داستان اس انسانی المیے کی ایک اور تصویر ہے۔ اس کے خیمے پر حملے میں مریم کی والدہ زندہ جل گئیں۔اس کا باپ کچھ عرصہ پہلے ایسے ہی ایک حملے میں جل کر دم توڑ چکا ہے۔گویا بری طرح جھلسی یہ بچی اب بالکل بے سہارا ہے۔

زیتون کی فصل: فلسطینیوں کے لیے موسمِ برداشت یا موسمِ خوف؟

غربِ اردن میں زیتون کی کٹائی کا وقت فلسطینی کسانوں کے لئے خوشی، محنت اور شکرگزاری کا موقع ہوتا ہے۔ چند ہفتوں بعد امریکہ میں قومی تہوار Thanksgiving منایا جائے گا، جس کی روایت شمالی امریکہ میں ابتدائی آبادکاروں کی فصل کی کٹائی سے منسوب ہے۔ لیکن فلسطینی کسانوں کے لئے کٹائی کا  موسم تشدد، آتش زنی، لوٹ مار اور بے دخلی کے خوف میں بدل چکا ہے۔

جنوبی نابلس کے علاقے تلفیت میں اسرائیلی آبادکاروں نے ایک گھر پر حملہ کرکے خاتونِ خانہ اور اس کی 14 اور 18 سالہ بیٹیوں کو اغوا کرنے کی کوشش کی۔ مزاحمت پر لڑکیوں کے والد کا ہاتھ توڑ دیا گیا۔ رام اللہ کے گاؤں راس کرکر میں آبادکاروں کی مزاحمت کرنے والے فلسطینیوں پر اسرائیلی فوج نے ربڑ کی گولیاں چلائیں، جس سے دو افراد زخمی ہوئے۔ جنوبی الخلیل کے گاؤں سموع، مسافر یطّا اور رام اللہ کے قصبے برزیت میں بھی زیتون توڑنے والوں پر حملے ہوئے۔ ان واقعات میں شیرخوار بچے، چار خواتین اور ایک 70 سالہ بزرگ سمیت متعدد افراد زخمی ہوئے۔ کھڑی فصلوں کو آگ لگائی گئی اور گاڑیاں نذرِ آتش کی گئیں۔

بھیڑ بکریاں بھی تشدد سے محفوظ نہیں

سترہ اکتوبر کو رام اللہ کے گاؤں کفر ملک میں آبادکاروں نے بھیڑیں ہتھیانے کی کوشش کی۔ فلسطینیوں کی مزاحمت پر درندوں نے 20 بھیڑوں کو چھروں سے کاٹ ڈلا اور پھر زمین پر تڑپتے جانوروں کو اپنے بھاری جوتوں تلے کچل کر پیوندِ خاک کردیا۔

امریکی صحافی ہیدی لیوائن پر ہجومی تشدد

سولہ اکتوبر کو رام اللہ کے گاؤں ابو فلاح میں ہونے والا حملہ اس تشدد کی سنگینی کو دنیا کے سامنے لے آیا۔ نقاب پوش مسلح آبادکاروں نے زیتون کے باغات میں آگ لگائی، فلسطینیوں پر پتھراؤ کیا اور وہاں موجود واشنگٹن پوسٹ کی 64 سالہ فوٹو جرنلسٹ ہیدی لیوائن (Heidi Levine) کو بھی تشدد کا نشانہ بنایا۔ ان کی جیکٹ پر واضح طور پر ’’صحافی‘‘ درج تھا، لیکن اس شناخت نے بھی انہیں حملے سے محفوظ نہ رکھا۔ ہیدی کی ایک پسلی اور ریڑھ کی ہڈی کے چار مہرے ٹوٹ گئے، جبکہ ان کے  دائیں ہاتھ کی ایک انگلی اس قدر شدید زخمی ہوئی کہ جراحی کرنا پڑی۔ اسپتال سے جاری بصری  بیان میں انہوں نے بتایا کہ کم از کم 50 نقاب پوش افراد غلیلیں لئے پہاڑی سے ان کی طرف دوڑے، انہیں زمین پر گرایا اور لاتیں ماریں۔ حملہ آور ان کا موبائل فون اور کیمرے بھی لے گئے۔ عینی شاہدین کے مطابق، موقع پر موجود اسرائیلی فوجیوں نے فلسطینیوں پر آنسو گیس پھینکی، لیکن حملہ آوروں کو روکنے کی کوشش نہیں کی۔

ہیدی کے بیٹے مائیکل ملنر کے مطابق، ان کی والدہ جسمانی تکلیف کے ساتھ شدید ذہنی صدمے سے بھی دوچار ہیں۔ مائیکل کا کہنا ہے کہ اخبار کے ارب پتی مالک جیف بیزوز نے ہیدی سے بات کرنے اور حملہ آوروں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لئے ہر ممکن قدم اٹھانے  کا ارادہ ظاہر کیا ہے۔ دوسری طرف اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے  ہیڈی پر حملے کی خبر کو 'مشکوک ' قرار دیا ہے۔ وہ غزہ میں مارے جانے والے ہر صحافی کو حماس کا کارکن قرار دیکر تحقیقات سے انکار کرچکےہیں۔ ہیڈی لیوائن کوئی نوآموز صحافی نہیں۔ وہ چار دہائیوں سے جنگی علاقوں میں رپورٹنگ اور عکاسی کرتی رہی ہیں۔ انہوں نے افغانستان، شام، یوکرین اور روس سمیت مختلف جنگ زدہ علاقوں میں کام کیا، اسرائیل اور ایران کے درمیان جنگ کی عکاسی بھی کی۔ کئی جگہ ہیڈی کو ناخوشگوار حالات کا سامنا کرنا پڑا لیکن اسرائیل میں وہ ہجومی تشدد یا Lynchingکا نشانہ بنیں۔ یعنی جمہوریت کا دعوے دار اسرائیل، صحافیوں کے لئےایران، شام اور افغانستان جیسے جنگ زدہ ممالک سے بھی زیادہ خطرناک جگہ بن چکا ہے۔  

اگلے ہی روز تشدد کی زد میں سفارت کار بھی آگئے۔ فرانس، بیلجیم اور پولینڈ کے سفارت کار جب زیتون کی کٹائی کا منظر دیکھنے طیبہ پہنچے تو ان کی گاڑیوں پر پتھراؤ کیا گیا۔ یوں یہ معاملہ محض فلسطینی کسانوں یا صحافیوں کی سلامتی تک محدود نہ رہا، بلکہ اب  غیر ملکی سفارت کار بھی وحشت کا نشانہ ہیں۔

جب ملکیت پر قبضے کو مذہبی جواز دیا جائے

تشدد کے ساتھ قبضے کو مذہبی جواز دینے کی کوششیں بھی سامنے آرہی ہیں۔ ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق، سابق چیف ربی (مفتیِ اعظم) ڈوو لیور (Dov Lior) نے ایک فتویٰ  جاری کیا ہے جس میں فلسطینیوں کے زیتون توڑنے کی اجازت دے دی گئی۔ ان کا استدلال ہے کہ یہودی قوم نے اس سرزمین سے اپنا دعویٰ کبھی ترک نہیں کیا، عربوں نے یہ زمین یہودیوں سے نہیں خریدی، اس لئے زیتون کی فصل حاصل کرنا ملکیت کے دعوے کے اظہار اور اپنی زمین کا قبضہ واپس لینے کے مذہبی فریضے کی تکمیل ہے۔ مجرمانہ فعل کو مذہبی رنگ دینے کا ذکر قرآن میں بھی ہے ' وہ کہتے ہیں کہ امیوں یا غیر یہودیوں کے معاملے میں ہم پر کوئی مواخذہ نہیں' سورہ آل عمران آئت 75۔معتدل آرتھوڈوکس ربیوں کی تنظیم تسوہار (Tzohar) نے ڈوو لیور کے مؤقف کی مخالفت کرتے ہوئے واضح کیا کہ چوری کسی صورت  جائز نہیں، ملکیت خواہ یہودی کی ہو یا کسی Gentiles(اُمی یا غیر یہود ی) کی۔

اوباما اور نیتن یاہو: تاریخی تعلق یا موجودہ حقوق؟

فلسطینیوں کے حقوق کا سوال امریکی سیاست میں بھی اب زیادہ کھل کر اٹھایا جارہا ہے۔ آئرلینڈ کے دارالحکومت بیلفاسٹ میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سابق امریکی صدر باراک اوباما نے اسرائیل کے قیام اور فلسطینیوں کی بے دخلی کے مسئلے پر بات کی۔ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل نے لوگوں کو انکی آبائی زمین سے بے دخل کیا چنانچہ فلسطینیوں کا اسے ناانصافی سمجھنا اور اپنی زمین واپس مانگنا قابلِ فہم ہے۔ سابق امریکی صدر نے یہ بھی کہا کہ اگر اسرائیل اپنی فوجی اور تکنیکی برتری کے بل پر جو چاہے ہتھیالینے اور کسی کو رعایت نہ دینے کی پالیسی اپنائے گا تو اسے شائد وقتی فائدہ تو ہو لیکن وہ اخلاقی برتری کھو بیٹھے گا۔ اس بیان پر اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے سخت ردعمل  دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی ریاست چوری کی ہوئی زمین پر قائم نہیں ہوئی۔ یہ ہمارا وطن ہے۔اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ کہ قیامِ امن کی راہ میں رکاوٹ اسرائیل نہیں بلکہ اس کے دشمنوں کا رویہ ہے۔

کسی قوم کا سرزمین سے تاریخی اور مذہبی تعلق تسلیم کرلینے کا مطلب کیا یہ ہے کہ وہاں صدیوں سے آباد دوسرے لوگوں کے حقوق، ملکیت اور بے دخلی کے مسئلے کو نظرانداز کردیا جائے؟ تاریخی وابستگی اور موجودہ باشندوں کے حقوق دو الگ سوال ہیں۔ اگر تاریخی روائتوں کا ذکر ہورہا ہو تو یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ بنی اسرائیل نے حضرت موسیٰ ؑ کا ارضِ فلسطین میں داخل ہونے کا حکم نظر انداز کردیا تھا۔ (حوالہ سورہ مائدہ)۔ یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ جب خود ہی وہاں جانے سے انکار کردیا تو پھر کیسا حق؟؟؟

اس واقعے کا ایک اہم سیاسی پہلو بھی ہے۔ امریکی سیاست میں اسرائیل کے قیام، فلسطینیوں کی بے دخلی اور اسرائیلی حکومت کی پالیسیوں پر تنقید شجرِ ممنوعہ سمجھی جاتی ہے لیکن اب سابق امریکی صدر کی زبان سے بین الاقوامی اجتماع میں اس طرح کی دو ٹوک بات امریکی سیاست میں ایک مثبت تبدیلی ہے۔ تاہم اس سے یہ نتیجہ نہیں نکالا جاسکتا کہ امریکی پالیسی بھی لازماً اسی رفتار سے تبدیل ہوجائے گی۔

برطانیہ میں صہیونیت پر سیاسی بحث

اسی دوران برطانیہ کی گرین پارٹی کے ملک گیر اجتماعِ ارکان نےایک قرارداد منظور کی جس میں صہیونیت کو نسلی قوم پرستی پر مبنی سیاسی منصوبہ قرار دیتے ہوئے اس کی مخالفت، تاریخی فلسطین میں ایک جمہوری ریاست، مساوی حقوق اور فلسطینیوں اور ان کی اولاد کے حقِ واپسی کی حمایت کی گئی۔ قرارداد کے حق میں 1,022 اور مخالفت میں 813 ووٹ آئے۔ قرارداد میں  مؤقف اختیار کیاگیا ہے کہ صہیونیت کی سیاسی مخالفت کو یہودیوں سے دشمنی کے مترادف نہیں سمجھنا چاہیے۔برطانوی وزیراعظم اینڈی برنہم نے پارلیمان میں اپنے خطاب کے دوران قرارداد کو غلط اور یہود دشمن قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کی جماعت ایسا موقف رکھنے والی جماعت کے ساتھ سیاسی شراکت نہیں کرے گی۔

غزہ کی ایک بچی: ایک ڈاکٹر کی یاد میں زندہ زخم

اور آخر میں ایک مسیحا کا بیان۔اردن نژاد امریکی ڈاکٹر تانیہ حاجی حسن نے کہا کہ 'مجھے انتہائی نگہداشت کے شعبے میں کام کرنے کا وسیع تجربہ ہے اور میں نے کئی مریضوں کو دم توڑتے دیکھا ہے۔ ہر موت المناک اور میرے دل پر نقش ہے لیکن غزہ کی ایک بچی کی شکل ہر وقت میرے آنکھوں کے سامنے رہتی ہے۔ یہ گڑیامیری بانہوں میں مجھ سے ایسی چمٹی ہوئی تھی جیسے میں اسکی ماں ہوں۔ اس ننھی پری کی سانسیں اکھڑ رہی تھیں اورمیں اسے گود میں میں اٹھائے آکسیجن کیلئے بھاگتی رہی لیکن گھپ اندھیرے میں مجھے آکسیجن سلنڈر نہ مل سکا اور بچی نے تڑپ تڑپ کر میری بانہوں میں جان دے دی

تاریخ کے دعوے نہیں، انصاف کا معیار

غزہ کے ملبے تلے دبے انسان، غربِ اردن میں اپنی فصل بچانے والے کسان، حملے کا نشانہ بننے والی صحافی اور اسپتال میں آکسیجن کے لیے ترستی بچی۔ کیا تاریخ، مذہب یا طاقت کے دعوے انسان کے بنیادی حقوق سے زیادہ اہم ہوسکتے ہیں؟ تاریخی روایات پر اختلاف ہوسکتا ہے، سیاسی مؤقف مختلف ہوسکتے ہیں، لیکن انصاف کا بنیادی تقاضا نہیں بدلتا۔ کسی قوم کی شناخت اور تاریخی وابستگی کا احترام اسی وقت بامعنی ہے جب دوسری قوم کے حقِ زندگی، آزادی، ملکیت اور وقار کو بھی تسلیم کیا جائے۔ فلسطین میں پائیدار امن کا راستہ طاقت کے یک طرفہ استعمال سے نہیں، بلکہ حقوق کے تحفظ، قانون کی حکمرانی اور احساسِ جواب دہی سے ہوکر گزرتا ہے۔

ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل کراچی 23 اکتوبر 2026

ہفت روزہ دعوت دہلی 23 اکتوبر 2026

ہفت روزہ رہبر سرینگر 25 اکتوبر 2026


 

ہیگسیتھ کا خفیہ دورۂ اسرائیل: ایران پر نئے حملوں کی تمہید؟

ٹرمپ کی نیتن یاہو سے انتخابی قربت، اسرائیل میں انتخابات اور امریکی مڈٹرم کا دباؤ

امریکی وزیرِ جنگ پیٹ ہیگسیتھ (Pete Hegseth) کے خفیہ دورہ اسرائیل اور وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو سے ملاقات نے  مشرق وسطٰی میں سنسنی پیدا کردی ہے۔ امریکہ کی معتبر آن لائن خبر رساں ایجنسی Axios نے 19 اکتوبر کو یہ خبر جاری کی۔ اب سے ایک ہفتے بعد اسرائیل میں پارلیمانی اور دوہفتے بعد امریکہ وسط مدتی انتخابات ہورہے ہیں۔ امریکی انتخابات کیلئے قبل از وقت یا Early Voting کا آغاز بھی ہوچکا ہے۔ خبر کے مطابق بات چیت کے دوران  ایران کے خلاف بڑے پیمانے پر فوجی کارروائیاں دوبارہ شروع کرنے کے امکان پر گفتگو کی  گئی۔ امریکی وزارت دفاع (پینٹاگون)  اور اسرائیلی حکام نے اس دورے کی فوری تصدیق نہیں کی، لیکن اسرائیلی ذرائع ابلاغ کے خیال میں 'کچھ تو ہے جسکی پردہ داری ہے۔

اس دورے کا سیاسی پس منظر بھی خاصا اہم ہے۔ صدر ٹرمپ نے ایک دن پہلے اسرائیلی انتخابات میں نیتن یاہو کی کھل کر حمایت کی اور انہیں ایران کے خلاف جنگ میں اپنا مضبوط ساتھی قرار دیا۔ ٹرمپ کے بیان سے یہ تاثر بھی ملا کہ اگر انتخابات کے نتیجے  میں اسرائیل کی قیادت نیتن یاہو کے بجائے کسی اور کے ہاتھ میں آگئی تو ایران کے خلاف کارروائی کی ذمہ داری امریکہ کو خود اٹھانا پڑسکتی ہے۔ کسی امریکی صدر کی جانب سے اسرائیلی انتخابات میں کسی امیدوار کی اس انداز میں اعلانیہ حمایت غیر معمولی پیش رفت ہے۔

اس سے پہلے Axios کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ٹرمپ اور نیتن یاہو کے درمیان ایران کے خلاف بڑے فوجی آپریشن دوبارہ شروع کرنے کے امکان پر بات ہوئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق، ہیگسیتھ اور امریکی سینٹرل کمان کے بعض اعلیٰ عہدے دار نسبتاً سخت فوجی کارروائی کے حامی تھے، جبکہ ٹرمپ کے بعض دوسرے مشیر فی الحال اقتصادی دباؤ اور پابندیوں کو ترجیح دے رہے تھے۔ قصرِ مرمریں نے ایران پر دوبارہ جنگ شروع کرنے کی کھل کر تردید نہیں کی بلکہ یہ کہا کہ صدر ٹرمپ کا امریکی وسط مدتی انتخابات سے پہلے حملے کا ارادہ نہیں۔

یہی وہ نکتہ ہے جہاں امریکی اور اسرائیلی انتخابی سیاست کو علاقائی جنگ کے خدشات سے الگ کرکے دیکھنا مشکل ہوجاتا ہے۔ اسرائیلی انتخابات 27 اکتوبر اور امریکی کانگریس کے وسط مدتی انتخابات 3 نومبر کو ہونے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا دونوں ملکوں کی قیادت انتخابی نتائج سے پہلے یا بعد میں ایران کے معاملے پر کوئی بڑا فیصلہ کرسکتی ہے؟ بعض عرب حلقوں میں یہ خدشہ بھی ظاہر کیا جارہا ہے کہ امریکی انتخابات کے بعد ایران پر زیادہ شدید حملے ہوسکتے ہیں، حتیٰ کہ بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے   GBU-43 المعروف   MOABبموں کااستعمال بھی زیرِ بحث ہے۔صدر ٹرمپ یہ بم 13 اپریل 2017 کو افغان صوبے ننگر ہار کے شہری علاقے اچن پر گراچکے ہیں۔ امریکی صدر، ایران اور امریکی انتخابات میں مسلمان امیدواروں،  الحان عمر اور عبدل السید کے خلاف جو زبان استعمال کررہے ہیں اس سے مسلمانوں کے خلاف انکے دلی جذبات کا اندازہ ہوتا ہے۔

تادم ٹحریر اس خبر کی تصدیق نہیں ہوسکی لیکن دورے کا وقت، نیتن یاہو کیلئےٹرمپ کی غیر معمولی انتخابی حمایت اور ایران کے خلاف نئی فوجی کارروائیوں سے متعلق کچھ مصدقہ رپورٹوں کے تناظر میں اس مبینہ ملاقات کو معمول کی سفارتی سرگرمی سمجھ کر نظرانداز نہی  کیا جاسکتا  اصل سوال یہ نہیں کہ جنگ کب شروع ہوگی، بلکہ یہ ہے کہ کیا مشرقِ وسطیٰ کا مستقبل ایک بار پھر ایسے فیصلوں کے تابع ہونے جارہا ہے جن میں انتخابی مفادات اور عسکری حکمتِ عملی ایک دوسرے سے گتھم گتھا ہیں؟ فی الحال اس کا جواب واضح نہیں۔ لیکن اگر ایران کے خلاف کوئی نئی جنگ شروع ہوتی ہے تو اس کے اثرات صرف ایران یا اسرائیل تک محدود نہیں رہیں گے؛ توانائی کی عالمی منڈی، خلیجی ممالک اور عام شہریوں کو بھی اس کی بھاری قیمت ادا کرنا پڑسکتی ہے۔

 بموں کی ماں یا MOAB کیا ہے؟۔  چالیس انچ قطر کا 30 فٹ لمبا اور 10 ٹن وزنی یہ بم 2003 سے امریکی اسلحے خانے میں موجود ہے۔ بھاری وزن کی وجہ سے اسے کسی امریکی روائتی بمبار کے بجائے سامان بردار C-130 جہاز سے گرایا جاتا ہے۔ اس بم کے پھٹنے سے دھماکے کی شدت 11 ٹں بارود کے مساوی ہے۔ اقوام متحدہ اور جنیوا کنونشن کی تعبیر کے مطابق MOAB بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے نے والا ہتھیار یا WMDشمار کیا جاسکتا ہے لیکن امریکہ اور اسرائیل نہ کسی عالمی معاہدے کو مانتے ہیں نہ عالمی عدالتوں کو۔ اس لئے ان نکات پر گفتگو بے سود ہے۔

ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل کراچی


Thursday, October 15, 2026

 

یمن سعودی تنازعہ : پاکستان کے لئے آزمائش

ایران، حوثی اور سعودی عرب کی کشمکش میں اسلام آباد کا راستہ کیا ہو؟

مشرقِ وسطیٰ میں سیاسی و نظریاتی صف بندی نئی نہیں۔ سرد جنگ کے زمانے میں مصر، شام، عراق اور جنوبی یمن کے سوویت یونین سے قریبی تعلقات تھے، جبکہ خلیجی بادشاہتیں امریکہ کے قریب تھیں۔ اس کے باوجود اسرائیل کے معاملے میں عرب ممالک کے درمیان اتفاق پایا جاتا تھا۔ سوویت یونین کے خاتمے، مصر اسرائیل امن معاہدے اور بعد کے علاقائی تغیرات نے یہ صورتِ حال بدل دی۔ تیونس سے 2010 میں شروع ہونے والی عرب بہار (Arab Spring)نے آمریت کے خلاف عوامی بیداری پیدا کی، لیکن شام اور یمن سمیت کئی ملکوں میں یہ تحریک فرقہ واریت، خانہ جنگی اور بیرونی مداخلت کی نذر ہوگئی۔

یمن: مقامی تنازع، علاقائی جنگ

شمالی اور جنوبی یمن کے 1990ء میں انضمام کے باوجود سیاسی اور علاقائی اختلافات ختم نہ ہوسکے۔ انصار اللہ، المعروف حوثی تحریک کی جڑیں شمالی یمن میں ہیں۔یمن انضمام کے بعد 2004ء حوثیوں کی مسلح بغاوت کا آغاز ہوااور 2014ء میں دارالحکومت صنعا پر قبضے کے بعد تنازع وسیع خانہ جنگی میں بدل گیا۔سعودی قیادت میں خلیجی ممالک نے یمن میں استحکام کیلئے اتحادی فوج تشکیل دی اور پاک فوج کے سابق سربراہ جنرل راحیل شریف اسکے سپہ سالارمقرر ہوئے۔ اس جنگ نے لاکھوں افراد کو بے گھر کیا اور یمن کی معیشت و معاشرت کو تباہ کن نقصان پہنچایا۔ غزہ جنگ کے آغاز پر حوثیوں نے اسرائیل اور بحیرۂ احمر میں جہاز رانی کو نشانہ بنایا، لیکن ان کی کارروائیوں کے علاقائی اثرات فلسطین سے کہیں آگے تک پہنچے ہیں۔

الاصلاح، عبدالمجید زندانی اور جامعہ الایمان

یمن کی اس کشمکش کا ایک اہم پہلو حوثیوں اور ان کے مخالفین کے درمیان طاقت کا عدم توازن ہے۔ حوثیوں کی پیش قدمی نے یمن کی اسلامی تحریک الاصلاح کو بھی شدید نقصان پہنچایا، اگرچہ جماعت مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی لیکن اس کے قائد شیخ عبدالمجید زندانی اور نوبل انعام یافتہ محترمہ توکل کرمان اور دوسرے رہنماوں کو جلاوطن ہونا پڑا۔ حالانکہ الاصلاح نے یمن میں سعودی مداخلت کی شدت سے مذمت کی تھی جسکی پاداش میں سیاسی پناہ گزیں زندانی صاحب سعودی عرب سے نکال دئے گئے۔

زندانی کی قائم کردہ جامعہ الایمان صنعا میں تعلیم کا نمایاں مرکز تھی، جہاں اسلامی علوم کے ساتھ جدید مضامین بھی پڑھائے جاتے تھے۔ حوثیوں کے دارالحکومت پر قبضے کے بعد جامعہ ان کے کنٹرول میں آگئی اور اس کی تعلیمی سرگرمیاں متاثر ہوئیں۔ اس طرح یمن کی جنگ نے صرف حکومت اور علاقائی طاقتوں کو نہیں، بلکہ ملک کے سیاسی اور تعلیمی اداروں کو بھی گہرے بحران میں دھکیل دیا۔

آبنائے ہرمز سے باب المندب تک

ایران پر اسرائیل اور امریکہ کے حملے میں انصاراللہ نے ایران کی حمائت کی اور سعودی عرب میں امریکی اڈوں پر راکٹ برسائے۔ ایران نے اس جنگ کو جدید اسلحہ بمقابلہ جغرافیہ و عالمی اقتصادیات میں تبدیل کرکے آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل کو مشکل کردیا۔ سعودی عرب نے آبنائے ہرمز کو مخدوش دیکھ کر اپنی ایسٹ ویسٹ پائپ لائن کے ذریعے آبنائے باب المندب کے راستے ایشائی صارفین کو تیل کی فراہمی شروع کردی۔ اس راستے کو مسدود کرنے کیلئے حوثیوں نے آبنائے باب المندب اور بحیرہ احمر سے گزرنے والے تیل ٹیکروں کیساتھ سعودی ریفاننری اور تیل پائپ لائن کو نشانہ بنایا۔

تاہم حوثیوں کو ایران کا بے اختیار آلہ سمجھنا درست نہیں۔ تہران سے ان کے قریبی تعلقات اور عسکری مدد کے شواہد موجود ہیں، لیکن ان کے اپنے یمنی مفادات اور فیصلے بھی ہیں۔ ایران نے سعودی عرب اور حوثیوں کے تنازعے کے سفارتی حل کی حمایت کا اظہار کیا ہے۔ اس لیے تہران کے مؤقف اور حوثیوں کے ہر اقدام کو ایک ہی چیز نہیں سمجھا جاسکتا ۔

مکہ دفاعی معاہدہ اور پاکستان کا مخمصہ

اگست 2026ء میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ نے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ کیا، جس میں ایک رکن پر مسلح حملے کو تینوں کے خلاف حملہ سمجھنے کی شق شامل ہے۔ حوثیوں کے حملوں کے بعد اس معاہدے کے تحت مشترکہ دفاعی اقدامات پر اتفاق نے پاکستان کو آزمائش میں ڈال دیا ہے۔ سعودی عرب پاکستان کا قریبی دوست ہے تو ایران ہمسایہ جسکے ساتھ سرحدی سلامتی، تجارت اور علاقائی استحکام کے معاملات بھی وابستہ ہیں۔ دوسری طرف ترکیہ کے ایران سے سفارتی اور معاشی تعلقات ہیں، جبکہ پاکستان کے افغانستان اور بھارت سے اختلافات کے باوجود سعودی عرب اور ترکیہ کے ان دونوں ملکوں سے قریبی تعلقات ہیں۔

لہٰذا اس معاہدے کو نیٹو کی مکمل نقل سمجھنا مناسب نہیں اسلئے کہ تینوں ممالک کے مفادات بہت سے معاملات میں مختلف ہیں۔چنانچہ حوثیوں کے خلاف زمینی جنگ میں پاکستان کی شرکت کو معاہدہِ مکہ کا قانونی و اخلاقی تقاضہ قرار نہیں دیا جاسکتا۔ پاکستان اگر یمن میں براہِ راست جنگ کا حصہ بنتا ہے تو ایران سے تعلقات متاثر ہونے، داخلی فرقہ وارانہ کشیدگی بڑھنے اور پاکستانی معیشت پر مزید دباؤ پڑنے کا خطرہ ہے۔ اس کے برعکس سعودی عرب کی سلامتی سے لاتعلقی بھی دوطرفہ اعتماد کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔

حل: دفاعی تعاون، مگر جنگ سے گریز

پاکستان کے لیے بہتر راستہ یہی ہے کہ وہ سعودی عرب کے دفاع میں واضح تعاون کرے، مگر اپنی عملی ذمہ داریوں کو دفاعی نوعیت تک محدود رکھنے کی کوشش کرے۔ فضائی دفاع، انٹیلی جنس کے تبادلے، شہری تنصیبات اور جہاز رانی کے تحفظ میں تعاون ممکنہ راستے ہیں۔ کسی جارحانہ کارروائی یا زمینی جنگ میں شرکت کا فیصلہ پارلیمانی و کل جماعتی غور و فکر کا متقاضی ہے۔ ساتھ ہی اسلام آباد کو تہران، ریاض اور انقرہ کے درمیان مسلسل رابطہ برقرار رکھنا چاہیے اور عمان و چین جیسے سفارتی کردار ادا کرنے والے ممالک کے ساتھ مل کر جنگ بندی اور مذاکرات کی کوشش کرنی چاہیے۔ باب المندب اور بحیرۂ احمر میں جہاز رانی کا تحفظ بھی کسی ایک ملک کے خلاف جنگی مہم کے بجائے وسیع علاقائی تعاون سے زیادہ پائیدار ہوسکتا ہے۔

دوست کا دفاع، ہمسائے سے دشمنی نہیں

پاکستان کو سعودی عرب کی سلامتی اور ایران کے ساتھ پُرامن ہمسائیگی میں سے کسی ایک کو چننے پر مجبور نہیں ہونا چاہیے۔ دانش مندی یہ ہے کہ دفاعی ذمہ داریوں کو سفارت کاری کا متبادل نہ بنایا جائے۔ یمن کی تاریخ بتاتی ہے کہ بیرونی عسکری مداخلت تنازع کو طویل کرسکتی ہے، جبکہ مذاکرات اور علاقائی مفاہمت ہی پائیدار امن کی بنیاد بن سکتے ہیں۔ پاکستان کا مفاد اسی میں ہے کہ وہ اپنے اتحادی کی حفاظت میں مدد دے، مگر خود ایک ایسی جنگ میں نہ الجھے جس کا کوئی واضح اختتام نظر نہیں آتا۔

ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل کراچی 16 اکتوبر 2026


 

غزہ جنگ بندی کی پہلی برسی

 طبی اخلاقیات ،سفارت کاری اور بین الاقوامی قانون کی آزمائش

غزہ پر مسلط جنگ کے تین سال مکمل ہونے کے تین دن بعد، 10 اکتوبر کو جنگ بندی کی پہلی برسی اسرائیلی فوج  نے  ایک بچے سمیت کم از کم سات افراد کو قتل کرکے منائی۔ یہاں تباہ شدہ بنیادی ڈھانچے کے ساتھ پانی کی شدید قلت بھی انسانی المیے کو بڑھا رہی ہے۔ بار بار کی نقل مکانی میں پانی ذخیرہ کرنے کے ڈرم اور بڑے برتن ضائع ہوچکے ہیں؛ بہت سے خاندان بالٹیوں میں پانی جمع کرنے پر مجبور ہیں۔ پانی کے ٹرکوں کے قریب خیمے لگانا، پانی ڈھونے سے آسان ہوچکا ہے۔ یوں بے گھر خاندان پانی کی دستیابی کے ساتھ اپنی عارضی پناہ گاہیں بھی بدلتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اہلِ غزہ کی مہاجرت کا المیہ 1948ء سے جاری ہے۔

سات اکتوبر: ہینی بال حکمنامے کا سوال

سات اکتوبر 2023ء کے واقعات کی تیسری برسی پر ایک اہم سوال زیرِ بحث ہے کہ  اسرائیلی شہریوں کی ہلاکتوں میں فوجی کارروائیوں کا کیا کردار تھا؟ اقوام متحدہ تحقیقاتی کمیشن کے مطابق اس روز حماس کے حملوں میں 809 اسرائیلی شہری ہلاک ہونے۔ اسی رپورٹ میں ہینی بال حکمنامے (Hannibal Directive) کے ممکنہ استعمال کے شواہد بھی درج ہیں۔ یہ حکمنامہ اغوا کی کوشش ناکام بنانے کے لیے ایسی فوجی کارروائیوں سے متعلق ہے جن میں مغوی کی جان کو بھی خطرہ لاحق ہوسکتا ہے۔ کمیشن نے ایک اسرائیلی ٹینک کے عملے کے بیان سمیت ایسے واقعات کا ذکر کیا جن میں فوجی کارروائی سے یرغمال بنائے گئے اسرائیلی شہریوں کی ہلاکت کا امکان سامنے آیا۔ اگر حماس کے حملے میں 809 شہری مارے گئے تو اسرائیلی دعوے کے مطابق جو ہزاروں لوگ مارے گئے، کیا وہ  اسرائیلی فوج کی Hannibal حکمت عملی کا نشانہ بنے؟؟؟ان شواہد کی مکمل اور غیر جانب دارانہ تحقیقات ضروری ہیں۔

غربِ اردن: بے دخلی اور قبضہ گردوں کے حملے

غربِ اردن میں فلسطینی خاندانوں کی بے دخلی، اسرائیلی فوج کی موجودگی یا سرپرستی میں قبضہ گردوں کے حملے، فصلوں کی تباہی اور مویشیوں پر قبضے  کاسلسلہ جاری ہے۔رام اللہ کے گاوں دیر ابو مشعل میں بہت سے فلسطینی خاندانوں کو بے گھر کردیا گیا۔ رام اللہ کے ایک اور گاوں دیر نظام میں اسرائیلی آبادکاروں نے گاڑیوں کو آگ لگادی۔ شمالی یروشلم کے قریب جبع گاوں میں بھی فلسطینیوں کے مکانات منہدم اور گاڑیاں نذرِ آتش کردی گئیں۔ نابلوس کے گاوں برقہ میں مسلح قبضہ گردوں نے فوج کی سرپرستی میں 44 سالہ علی البزاری کو اسکے بچے کے سامنے قتل کردیا۔ ایسے واقعات صرف ایک خاندان کو نہیں توڑتے، بلکہ بچوں کے ذہنوں پر بھی گہرے اور دیرپا اثرات چھوڑتے ہیں۔

زیتون کے باغات: شناخت کو مٹانے کا خطرہ

غرب اردن میں زیتون کی فصلوں اور باغات کی تباہی کا منظم سلسلہ ایک عرصے سے جاری ہے۔انتہاپسندوں کے خیال میں زیتون،  فلسطین کی شناخت ہے جس کو مٹا نا نسلی تطہیر کا حصہ سمجھا جارہا ہے۔ اب زیتون سے نفرت کا دائرہ جنوبی لبنان تک وسیع کردیا گیا ہے۔زیتون کی کاشت کیلئے مشہور جنوبی لبنان کے علاقے خیام میں  گزشتہ چند ماہ کے دوران 24کروڑ ڈالر مالیت کی فصلیں غارت کردی گئیں اور 11 اکتوبر کو اسی علاقے میں بنتِ جبیل کے گاوں فرون اور یاطر پر زیتون کی کٹانی کے دوران اسرائیلی ٹینکوں سے گولہ باری نے  دو افراد کی جان لے لی

جب مسیحا ہی زخم دینے والوں کے ساتھی بن جائیں

اسرائیلی حراستی مرکز سدی تیمان (Sde Teiman) میں فلسطینی قیدیوں کے ساتھ مبینہ تشدد، بدسلوکی اور طبی غفلت کے معاملے پر ہند رجب فاؤنڈیشن نے بین الاقوامی فوجداری عدالت (ICC) کے  مستغیث (پراسیکیوٹر) سے تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ فاؤنڈیشن کی درخواست میں اسرائیلی ڈاکٹروں، طبی اداروں اور متعلقہ حکام کے کردار کی جانچ کی استدعا کی گئی ہے۔ اس میں علاج کے دوران ہتھکڑیاں اور آنکھوں پر پٹی باندھنے، درد کش ادویات کے بغیر جراحی اور طبی نگرانی میں مبینہ بدسلوکی جیسے الزامات شامل ہیں۔

فاونڈیشن نے نام لے کر اسرائیلی میڈیکل ایسوسی ایشن کے سربراہ پروفیسر زائن ہیگے (Zion Haggay)کو نامزد کیا اور عالمی میڈیکل فاونڈیشن (WMA)سے مطالبہ کیا ہے کہ IMAکی رکنیت معطل کرکے اسکے وفد کو ڈاکٹروں کے عالمی کنونشن سے نکالا جائے۔یہ اجلاس اجکل ہالینڈ کے شہر روٹیرڈیم میں ہورہا ہے۔ معاملہ صرف فلسطینی قیدیوں کے ساتھ مبینہ سلوک کا نہیں،  یہ اس بنیادی اصول کا امتحان ہے کہ طب کا پیشہ تشدد کا سہولت کار نہیں، انسانیت کا محافظ ہونا چاہئے۔ اگر مسیحا ہی زخم دینے والوں کے ساتھی بن جائیں تو مظلوم، مرہم کے لئے کس دروازے پر دستک دے؟

امریکی سفارت کاری: کیا واشنگٹن تک مکمل حقائق پہنچ رہے ہیں؟

مسیحاوں کے ساتھ سفارتکار بھی امتیازی سلوک میں سہولت کار بنتے نظر آرہے ہیں۔ نیویارک ٹائمز کی ایک تازہ رپورٹ کے مطابق یروشلم کے امریکی سفارتخانے میں اسرائیلی اقدامات سے متعلق تیار کی جانے والی بعض رپورٹوں کو ڈیوڈ ملسٹین (David Milistein)نامی ایک اعلیٰ امریکی سفارتی معاون نے روک دیا، تبدیل کیا یا اس انداز میں دوبارہ لکھا کہ اسرائیلی حکومت زیادہ مثبت دکھائی دے۔ حتیٰ کہ مغربی کنارے میں اسرائیلی بستیوں میں غیر معمولی توسیع سے متعلق ایک ہنگامی رپورٹ واشنگٹن بھیجی ہی نہیں گئی۔ ایک اور معاملے میں امریکی سفارتخانے کے عملے نے فلسطینی نژاد امریکی شہریوں کی ہلاکتوں سے متعلق تفصیلی رپورٹ تیار کی، لیکن ملسٹین صاحب نے اسے بھی آگے بڑھنے سے روک دیا۔سفارتی اہلکار کی جانب سے اہم معلومات کو امریکی فیصلہ سازوں تک پہنچنے سے روکنامحض رپورٹ نویسی کا معاملہ نہیں، اس سے خارجہ پالیسی کی تشکیل اور سرکاری معلومات کی دیانت داری متاثر ہوسکتی ہے۔ امریکی عوام کو یہ جاننے کا حق ہے کہ ان کے نام پر فیصلے کرتے وقت فیصلہ سازوں کو مکمل حقائق فراہم کئے جارہے ہیں یا نہیں۔

بین الاقوامی فوجداری عدالت اور طاقتور ریاستوں کا رویہ

اس مہمل سفارتکاری کی وجہ امریکی وزارت خارجہ کا متعصبانہ رویہ ہے جس نے بین الاقوامی فوجداری عدالت (ICC) پر وسیع پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کیاہے۔ یہ اقدام جنوبی افریقہ کی ممتاز قانون دان اور سابق جج ڈاکٹر نیوی پلّے کو نوبل امن انعام ملنے کے چند گھنٹے بعد سامنے آیا۔ پلّے اقوام متحدہ کے اس تحقیقاتی کمیشن کی سربراہ رہ چکی ہیں جس نے غزہ میں اسرائیلی اقدامات کو نسل کشی قرار دیا تھا۔ امریکہ اور اسرائیل نے ان الزامات اور عدالت کے اقدامات کی مخالفت کی ہے۔امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے عدالت کو “Rogue” یعنی بدمعاش کورٹ قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ اس کے ساتھ لین دین روک کر اس کے وسائل اور کام کرنے کی صلاحیت محدود کرے گا۔واشنگٹن کا مؤقف ہے کہ امریکہ نے منشورِ روم کی توثیق نہیں کی اور وہ امریکی شہریوں، فوجیوں یا سیاسی رہنماؤں پر ایسی عدالت کا اختیار تسلیم نہیں کرتا۔ کسی عدالت کے فیصلے سے اختلاف کرنا ہر ایک کا حق ہے اور عدالت کے قانونی اختیار پر اعتراض بھی درست، لیکن اگر ہر ریاست اپنی ناپسندیدہ تحقیقات یا فیصلے کے جواب میں عدالت کو معاشی دباؤ کے ذریعے مفلوج کرنے لگے تو بین الاقوامی انصاف کا نظام کس طرح کام کرے گا؟

یہودیت اور صیہونیت: ایک مذہبی رہنما کا اختلاف

اسرائیل کے ممتاز حریدی ربائی (امام) ڈوو لانڈو (Rabbi Dov Lando) نے کہا ہے کہ یہودیت اور صیہونیت کو ایک ہی چیز سمجھنا تاریخی اور مذہبی طور پر درست نہیں۔ حریدی سیاسی جماعت Degel HaTorah کے روحانی رہنما، صیہونیت پر سخت تنقید کرتے ہوئے یہاں تک کہہ گئے کہ اگر اسرائیلی ریاست کے بجائے یہاں اقوام متحدہ یا عرب حکمرانی ہوتی تو حالات بہتر ہوسکتے تھے۔ ربائی صاحب نے دو ٹوک اندااز میں کہا ’’صیہونیت نے ہمیں عربوں سے نفرت کرنا سکھایا‘‘ اور اس تحریک نے یہودی قوم پر ’’جسمانی تباہیاں‘‘ بھی مسلط کیں۔ اسرائیلی انتہا پسندوں نے یہودی مذہب اور صیہونی سیاست کو گڈ مڈ کردیا ہے۔ حالانکہ یہودیت ایک مذہبی و تہذیبی شناخت اور صیہونیت ایک جدید سیاسی تحریک ہے۔ ہر یہودی ، صیہونی ہے اور نہ ہر صیہونی لازماً یہودی ۔ خود اسرائیل کے حریدی مذہبی حلقوں میں صیہونیت اور ریاست کے قیام کی مذہبی تعبیر سے اختلاف کی ایک طویل روایت موجود ہے۔ ربائی لانڈو کی موجودہ گفتگو میں بھی مذہبی صیہونیت سے ان کا اختلاف نمایاں ہے۔ انہوں نے اسرائیلی فوج میں خدمات انجام دینے والے صیہونی نوجوانوں پر بھی تنقید کی اور کہا کہ فوج کے ربائی انہیں ’’تحریف شدہ توریت‘‘ سکھاتے ہیں۔

غیر جانبدار علمائے سیاست ایک عرصے سے اسرائیل کو یہودی کے بجائے انتہا پسند و نسل پرست صیہونی ریاست کہہ رہے ہیں۔ اور اب یہودی ربائی نےخود یہ کہہ دیا کہ صیہونیت نے یہودیوں کے لیے جسمانی تباہیاں پیدا کیں اور عربوں کی دشمنی میں اضافہ کیا ۔ یعنی صیہونیت کو یہودیت کا مترادف قرار دینا خود یہودی مذہبی حلقوں کے ایک بڑے حصے کے مؤقف کی عکاسی نہیں کرتا اور اور شاید یہی اس بحث کا سب سے اہم پہلو ہے۔

فلسطینی انتخابات کا التوا

فلسطین کے پارلیمانی انتخابات ملتوی کردئے گئے، قانون ساز اسمبلی کیلئے 28 نومبر کو ووٹ ڈالے جانے تھے۔ حکام نے غزہ کی غیر یقینی صورتِ حال، اسرائیلی فوج کی موجودگی، سلامتی کے مسائل اور انتخابی عمل کے لئے درکار انتظامات میں رکاوٹوں کو فیصلے کی وجوہ میں شمار کیا ہے۔فلسطین میں آخری انتخابات 2006 میں ہوئے جس میں حماس نے بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل لیکن اسرائیل اور امریکہ کی شدید مخالفت کی بناپر محمود عباس نے وزیراعظم اسماعیل ہانیہ کی حکومت صرف پندرہ ماہ بعد معزول کرکے اسمبلی تحلیل کردی تھی۔ تقریباً دو دہائیوں سے نئے پارلیمانی انتخابات نہ ہونے کے باعث فلسطینی عوام کی جمہوری نمائندگی اور سیاسی جواب دہی معطل ہے۔ انتخابات کے مسلسل التوا نے اس بحران کو مزید گہرا کردیا ہے۔

غزہ میں جنگ بندی کی برسی پر شہریوں کی ہلاکتیں، غربِ اردن میں بے دخلی اور حملے، قیدیوں کے ساتھ مبینہ بدسلوکی، سفارتی رپورٹوں پر دباؤ اور بین الاقوامی عدالتوں کے اختیار پر تنازع ایک ہی بنیادی سوال کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ کیا انسانی حقوق اور قانون کی حکمرانی کا اصول سب کے لئے یکساں ہے؟ جنگ بندی کا مقصد محض بمباری میں کمی نہیں، بلکہ انسانی جانوں کا تحفظ، بنیادی ضروریات کی فراہمی، ذمہ داروں کا احتساب اور ایک پائیدار سیاسی حل کی راہ ہموار کرنا بھی ہے۔ جب تک فلسطینیوں کو تحفظ، انصاف اور اپنی سیاسی تقدیر کے تعین کا حقیقی موقع نہیں ملتا، امن کے دعوے ادھورے رہیں گے۔

ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل کراچی 16 اکتوبر 2026

ہفت روزہ دعوت دہلی 16 اکتوبر 2026

ہفت روزہ رہبر، سرینگر  18 اکتوبر 2026


 

امریکی وسط مدتی انتخابات

جنگ، مہنگائی، تارکینِ وطن کی پالیسی اور اسرائیل  ۔۔ اہم انتخابی نکات

امریکہ میں ان دنوں وسط مدتی انتخابات کی گہماگہمی ہے۔تین نومبر کو ہونے والے انتخابات میں ایوانِ نمائندگان کی تمام 435 اور سینیٹ کی 35 نشستوں کے لئے ووٹ ڈالے جائیں گے۔ان انتخابات کے نتائج، صدر ٹرمپ کی باقی ماندہ مدتِ صدارت کے لئے قانون سازی اور حکومتی نگرانی کے امکانات پر اثر انداز ہوں گے۔ اسی روز 26 ریاستوں میں گورنروں اور ریاستی و مقامی سطح پر بھی کئی اہم انتخابات ہوں گے۔انتخابی معرکے کا تجزیہ کرنے سے پہلے امریکی انتخابی نظام کے چند بنیادی پہلو سمجھ لینا مفید ہوگا، کیونکہ یہاں وفاقی، ریاستی اور مقامی انتخابات کے قواعد اور اختیارات میں نمایاں فرق پایا جاتا ہے۔

وفاق اور ریاستیں: اختیارات کی تقسیم

امریکہ پچاس ریاستوں پر مشتمل ایک وفاق ہے جہاں کرنسی، بین الاقوامی تعلقات اور دفاع کے علاوہ تمام اختیارات ریاستوں (صوبوں) کے پاس ہیں۔یہاں انتخابات کا انتظام چونکہ ریاستوں کی ذمہ داری ہے اور وفاق کو مداخلت کا کوئی حق نہیں اسلئے مختلف ریاستوں میں حلقہ بندی، ووٹر رجسٹریشن اور ووٹ ڈالنے کے طریقہ کار بھی ایک جیسے نہیں اور اس ضمن میں کئی جگہ مطلوبہ نتائج کیلئے جماعتی مداخلت بہت واضح ہے۔صرف چھ ریاستوں میں ایوان نمائندگان کی حلقہ بندی کیلئے آزادوخودمختار کمیشن قائم کئے گئے ہیں اور باقی اکثر ریاستوں میں حلقہ بندی کا کام ریاستی مقننہ (صوبائی اسمبلی) کی ذمہ داری ہے۔ حلقہ بندی کرتے وقت اکثریت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اس انداز میں حلقے تراشے جاتے  ہیں کہ مخالفین کے ووٹ بینک کو غیر موثر کیا جاسکے۔اس حکمت عملی کو پارلیمانی اصطلاح میں Gerrymandering  کہتے ہیں۔

وسط مدتی انتخابات کیوں کہلاتے ہیں؟

امریکہ میں کانگریس کے عام انتخابات ہر دو سال بعد، نومبر کے پہلے پیر کے بعد آنے والے منگل کو ہوتے ہیں۔ صدر کی مدتِ صدارت چار سال ہے، ایوانِ نمائندگان کے ارکان دو سال کے لئے منتخب ہوتے ہیں جبکہ سینیٹرز کی مدت چھ سال ہے۔ صدر ٹرمپ 2024 کے صدارتی انتخابات میں کامیاب ہوئے تھے۔ چونکہ 2026 کے کانگریسی انتخابات ان کی مدتِ صدارت کے درمیان میں ہورہے ہیں، اس لئے انہیں Midterm Elections، یعنی وسط مدتی انتخابات کہا جاتا ہے۔ وسط مدتی  انتخابات کو صدر کی کارکردگی، پالیسیوں اور عوامی مقبولیت کے بارے میں ایک اہم سیاسی اشارہ سمجھا جاتا ہے۔

صرف کانگریس نہیں، مقامی عہدے بھی اہم ہیں

ایک اور اہم بات کہ ریاستی ، کاونٹی اور شہری عدلیہ کے جج، اٹارنی جنرل، محتسب (کمپٹرولر)، پولیس کمشنر، شیرف (ایس ایچ او) اور اسکول بورڈ سمیت شہری انتطامیہ بھی منتخب ہوتی ہے۔ اسکے علاوہ اہم معاملات پر عوام کی رائے بھی لی جاتی ہے جسے Prepositionکہتے ہیں تاہم اسکی حیثیت ریفرنڈم کے بجائے مشورے کی ہے۔

ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ

امریکی کانگریس کے دو ایوان ہیں۔ ایوانِ نمائندگان میں نشستوں کی تعداد آبادی کے تناسب سے مقرر ہوتی ہے۔ یہ ایوان 435 ارکان پر مشتمل ہے اور ہر رکن اپنے انتخابی حلقے کی نمائندگی کرتا ہے۔ اس اعتبار سے یہ پاکستان کی قومی اسمبلی اور بھارت کی لوک سبھا سے کسی حد تک مشابہ ہے۔ سینیٹ (راجیہ سبھا) میں تمام پچاس ریاستوں کو مساوی نمائندگی حاصل ہے اور ہر ریاست سے دو سینیٹر منتخب ہوتے ہیں، خواہ اس کی آبادی کتنی ہی کم یا زیادہ ہو۔ اس طرح سینیٹ کے کل ارکان کی تعداد 100 ہے۔ تسلسل برقرار رکھنے کے لیے سینیٹرز کی چھ سالہ مدت اس انداز میں تقسیم کی گئی ہے کہ ہر دو سال بعد تقریباً ایک تہائی نشستوں پر انتخابات ہوں۔

تین نومبر کو سینیٹ کی 35 نشستوں کے لیے ووٹنگ ہوگی۔ ان میں 33 نشستیں معمول کے انتخابی دور کا حصہ ہیں، جبکہ فلوریڈا اور اوہائیو کی دو نشستوں پر خصوصی انتخابات ہورہے ہیں۔ یہ نشستیں مارکو روبیو کے وزیر خارجہ اور جے ڈی وینس کے نائب صدر بننے کے بعد خالی ہوئی ہیں۔ جن 35 نشستوں پر انتخاب ہورے ہیں ان میں سے 22 اس وقت ریپبلکن پارٹی کے پاس ہیں، جبکہ 13 پرڈیموکریٹس ارکان براجمان  ہیں۔

کانگریس میں موجودہ جماعتی پوزیشن

اس وقت ایوانِ نمائندگان میں ریپبلکن پارٹی کے 219 اور ڈیموکریٹک پارٹی کے 214 ارکان ہیں اور دو نشستیں خالی ہیں۔سینیٹ میں ریپبلکنز کے 53 اور ڈیموکریٹس کے 45 ارکان کے علاوہ دو آزاد سینیٹرز، برنی سینڈرز اور انگس کنگ، ڈیموکریٹک جماعتی صف بندی کے ساتھ کام کرتے ہیں۔ یوں ڈیموکریٹس کے ساتھ ووٹ دینے والے ارکان کی مجموعی تعداد 47 بنتی ہے۔ اسکامطلب ہواکہ ریپبلکن پارٹی اپنی جن 22 نشستوں کا دفاع کررہی ہے ان میں سے اگر 3 تنشستوں پر شکست کھاجائے تب بھی ایوان بالا پر انکی برتری قاتم رہیگی جبکہ ڈیموکریٹس کو برتری حاصل کرنے کیلئے اپنی تمام نشستوں کا دفاع کرنے کے ساتھ کم از کم چار اُن نشستوں پر جیتنا ہوگا جن پر اس وقت ریپبلکن سینیٹر بیٹھے ہیں۔ دلچسپ بات کہ ریپبلکن پارٹی کو برتری کیلئے سینیٹ کی 50 لیکن ڈیموکریٹک پارٹی کو 51 نشستیں درکار ہیں۔ اسکی وجہ یہ ہے کہ امریکی قانون کے تحت نائب صدر بر بنائے عہدہ سینیٹ کی سربراہ ہیں اور ووٹ برابر ہوجانے کی صورت میں فیصلہ کن یا tie-breakerووٹ ڈال کر اپنی پارٹی کی نیّاپار لگاسکتے ہیں لہذا حکمراں جماعت کے لئے کسی تحریک کو منظور کرانے کیلئے 50 ارکان ہی کافی ہیں۔

مہنگائی، ایران جنگ اور امیگریشن انتخابی موضوعات

ایران جنگ اور اسکے نتیجے میں تیل کی قیمتوں میں اضافے سے مہنگائی ایک اہم انتخابی نکتہ ہے۔بھاری درآمدی محصول (ٹیرف) کی وجہ بھی سے اشیائے ضرورت مہنگی ہوگئی ہیں۔سخت امیگریشن پالیسی اور امیگریشن پولیس (ICE)کی کاروائیوں پر ہسپانوی اور ایشیائی امریکنوں کو گہرے تحفظات ہیں۔اس بنا پر صدرٹرمپ کی مقبولیت میں کمی آئی ہے۔رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق 65 فیصد سے زیادہ امریکی، حکومت کی کارکردگی سے مطمئن نہیں۔ ان جائزوں کے مطابق ایوان نمائندگی کا کنٹرول ڈیموکریٹک پارٹی کے ہاتھوں میں آنے کا امکان ہے۔ سینیٹ کی جنگ میں  بھی ریپبلکن پارٹی دباو میں ہے۔ تاہم، قومی سطح کے جائزوں کو انفرادی ریاستوں کے نتائج کا متبادل نہیں سمجھنا چاہیے۔ امریکہ میں ریاستی سیاسی رجحانات، امیدواروں کی مقبولیت، مقامی مسائل اور ووٹرز کی شرکت بھی فیصلہ کن کردار ادا کرسکتے ہیں۔ اسی لئے سینیٹ کی چند ریاستوں کے مقابلے قومی سیاسی بحث کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔

الاسکا: ریپبلکن گڑھ میں ڈیموکریٹس کی امید

الاسکا (Alasak)امریکہ کی غیر متصل ریاست ہے، یعنی اس کی زمینی سرحدیں باقی امریکی ریاستوں سے نہیں ملتیں۔ الاسکا ریپبلکن پارٹی کا گڑھ ہے۔ یہاں سے سینیٹ کی نشست پر کسی ڈیموکریٹک امیدوار نے آخری بار 2008 میں کامیابی حاصل کی تھی لیکن اس مرتبہ ڈیموکریٹک پارٹی کی امیدوار میری پیلٹولا (Mary Peltola)خاصی مقبول نظر آرہی ہیں۔ دلچسپ بات کہ ریپبلکن امیدوارڈین سولیون کے ہم نام ایک آزاد امیدوار بھی میدان میں ہیں۔

آیووا: زرعی معیشت اور مہنگی توانائی کا سوال

زرعی ریاست آیوا بھی ریپبلکن پارٹی کا قلعہ ہے جہاں سے 2024کے صدارتی انتخابات میں صدر ٹرمپ نے 13 فیصد کی برتری حاصل کی تھی۔ گزشتہ دومدتوں سے سینیٹر منتخب ہونے والی جونی ارنسٹ (Joni Ernst)نے نئی مدت کا انتخاب لڑنے سے معذرت کرلی ہے۔ یہاں ریپبلکن پارٹی کی ایشلے ہنسن کا مقابلہ ڈیموکریٹک امیدوار جاش ترک سے ہے اور رائے عامہ کے جائزے کہہ رہے ہیں کہ مقابلہ خاصہ سخت ہے۔ آیووا کے کسانوں کے لئے ایندھن، کھاد اور دوسری پیداواری لاگت میں اضافہ بہت اہم ہے۔

شمالی کیرولائنا: رائے کوپر کو حاصل برتری

شمالی کیرولینا میں ریپبلکن پارٹی کے ٹام ٹلس (Tom Tllis) 2014 اور اسکے بعد 2020 میں سینیٹر منتخب ہوئے لیکن اس بار ٹلس صاحب انتخاب نہیں لڑرہے۔ یہاں مقابلہ ریپبلکن پارٹی کے ریاستی صدر مائکل وہٹلے اور سابق گورنر رائے کوپر میں ہے۔ رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق رائے کوپر کو اپنے حریف پر معمولی سی برتری حاصل ہے۔

مین: سوزن کولنز کے لیے سخت مقابلہ

مین (Maine) سیاسی اعتبار سے نسبتاً آزاد خیال ریاست سمجھی جاتی ہے. یہاں ریپبلکن سینیٹر سوزن کولنز 1996 سے مسلسل منتخب ہوتی رہی ہیں۔ اس بار ان کا مقابلہ ڈیموکریٹک امیدوار ٹرائے جیکسن (Troy Jackson) سے ہے، جو ریاستی سینیٹ کے سابق صدر رہ چکے ہیں۔کولنز نے انتخابی مہم کے دوران بعض معاملات میں صدر ٹرمپ سے اختلاف ظاہر کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ سینیٹ میں انہوں نے ٹرمپ کے موقف کے خلاف متعدد بار ووٹ دیا، اور 2021 میں ان کے پہلے مواخذے کے مقدمے میں بھی ٹرمپ کو سزا دینے کے حق میں ووٹ دیا تھا۔ تازہ جائزوں میں دونوں امیدواروں کے درمیان مقابلہ سخت دکھائی دیتا ہے۔

جنوبی کیرولائنا: لنڈسے گراہم کی خالی نشست

جنوبی کیرولائنا روایتی طور پر ریپبلکن پارٹی کا مضبوط گڑھ رہی ہے۔ طویل عرصے تک اس ریاست کی نمائندگی کرنے والے سینیٹر لنڈسے گراہم کے انتقال کے بعد ان کی ہمشیرہ،  ڈارلین گراہم (Darline Graham) ریپبلکن امیدوار ہیں۔ ان کا مقابلہ ڈیموکریٹک امیدوار اور ماہرِ اطفال ڈاکٹر اینی اینڈریوز (Annie Andrews) سے ہے۔ اگرچہ جنوبی کیرولائنا میں ریپبلکن امیدوار کو روایتی سیاسی برتری حاصل رہی ہے، لیکن قومی سیاسی ماحول اور امیدواروں کی ذاتی مقبولیت کے باعث اس نشست پر بھی نظر رکھی جارہی ہے۔

ٹیکساس: کیا ڈیموکریٹس کے لیے نئی راہ کھل سکتی ہے؟

ٹیکسس (Texas) ریپبلکن پارٹی کا مضبوط گڑھ ہے۔ یہاں سے آخری بار 1993 میں ڈیموکریٹک امیدوار باب کروگر سینیٹر منتخب ہوئے تھے۔ اس بار ڈیموکریٹک پارٹی کے جیمز ٹیلاریکو (James Talarico) اور ریپبلکن امیدوار کین پیکسٹن (Ken Paxton) کے درمیان  کانٹے کا مقابلہ ہے۔حالیہ جائزوں میں ٹیلاریکو کو برتری حاصل دکھائی گئی ہے، لیکن ٹیکسس کی روایتی سیاسی سمت اور ووٹروں کی شرکت کے فرق کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا

مشیگن: عبدالسید، مائک راجرز اور AIPAC کا کردار

مشیگن میں سینیٹ کے مقابلے کو امریکہ سے زیادہ اسرائیل میں دلچسپی سے دیکھا جارہا ہے جہاں مصر نژاد ڈاکٹر عبدالرحیم محمد السید المعروف عبدل السید ریپبلکن پارٹی کے مائک راجرز کا مقابلہ کررہے ہیں۔ عبدل السید کو پارٹی ٹکٹ سے محروم کرنے کیلئے امریکہ اسرائیل سیاسی مجلس عمل (AIPAC) نے کروڑوں ڈالر خرچ  کئے لیکن وہ بہت معمولی فرق سے اپنی مخالف کو ہرانے میں کامیاب ہوگئے۔ اب AIPAC نے ایک بار پھر عبدالسید کو ہرانے کیلئے خزانے کے منہہ کھولدئے ہیں۔عبدالسید 2018 میں ریاستی گورنر کے لئے میدان میں اترے تھے لیکن انھیں پرائمری انتخابات میں شکست ہوگئی۔

بظاہر ایسا لگ رہا ہے کہ معاشی پریشانی، امیگریشن پولیس کی کاروائیوں،  مہنگائی اور  اور ایران سے جنگ کی بنا پر وسط مدتی انتخابات کے نتائج صدر ٹرمپ کیلئے ناخوشگوار ہونگے۔اسوقت ریپبلکن پارٹی کو کانگریس کے دونوں ایوانوں میں برتری حاصل ہے۔اس تناظر میں اگر ڈیموکریٹک پارٹی دونوں یا ایک بھی ایوان سے حکمراں جماعت کی بالادستی ختم کرنے میں کامیاب ہوگئی تو اپنے اقتدار کے آخری دوسالوں میں صدر ٹرمپ کو مشکل پیش آسکتی ہے۔ تاہم یہ تجزیہ اور تاثر انتخابی جائزوں کی بنیاد پر ہے جبکہ اصل فیصلہ  رائے دہندگان نے کرنا ہے، کئی ریاستوں میں قبل ازوقت یا early voting کا آغاز ہوچکا ہے۔ موسم اور مزاجِ یار کی طرح نیرنگی سیاست کے اپنے ہی رنگ ڈھنگ ہیں اور اس باب میں تیقن سے کچھ کہنا ممکن و مناسب نہیں۔

ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل کراچی 16 اکتوبر 2026

ہفت روز دعوت دہلی 16 اکتوبر 2026

ہفت روزہ رہبر سرینگر 18 اکتوبر 2026