اصل
فریق کے بغیر امن مذاکرات
ہر گزرتے دن کے ساتھ غزہ، غربِ اردن اور
جنوبی لبنان میں عام لوگوں کی زندگی مزید دشوار ہوتی جا رہی ہے۔ اسرائیل اپنے فوجی
آپریشن کا دائرہ وسیع کر رہا ہے، شہری علاقوں پر بمباری جاری ہے اور دوسری جانب
مزاحمتی تنظیمیں ہتھیار ڈالنے پر آمادہ نہیں۔ گزشتہ ہفتے غزہ مزاحمت کے رہنما حسام
بدران نے الجزیرہ کو انٹرویو دیتے ہوئے دوٹوک اعلان کیا کہ مزاحمت کار ہتھیار نہیں
ڈالیں گے۔ وحشیانہ کاروائیوں اور نسل کشی کے باوجود 32 مہینے بعد بھی اہل غزہ کی مزاحمت جاری ہے۔
لبنان
میں بدلتا ہوا منظرنامہ
لبنان میں صورتحال اس لحاظ سے مختلف ہے کہ
یہاں پہلی مرتبہ خود اسرائیلی عسکری قیادت جنگ بندی کی ضرورت پر زور دیتی دکھائی
دے رہی ہے۔ اسرائیلی نشریاتی ادارے
Kan کے مطابق چیف آف
اسٹاف جنرل ایال ضمیر نے کابینہ کے اجلاس میں کہا کہ اگر چند ماہ بعد وہی شرائط
قبول کرنی ہیں جو آج میز پر موجود ہیں تو بہتر ہے کہ جنگ بندی اب ہی کر لی جائے۔
ان کے بقول حزب اللہ مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی، تاہم اس کی قوت ماضی کے مقابلے
میں کمزور ہوئی ہے اور شمالی اسرائیل کو درپیش دراندازی کا خطرہ بڑی حد تک محدود
ہو چکا ہے۔
ظاہری طور پر اس مؤقف کی منطق واضح ہے: فوج
اپنے بنیادی عسکری اہداف حاصل کر چکی ہے اور اب ان کامیابیوں کو سیاسی نتائج میں
تبدیل کیا جانا چاہیے۔ تاہم غیر جانب دار مبصرین اسے ایک وسیع تر تناظر میں دیکھ
رہے ہیں۔ کئی مہینوں سے اسرائیلی فوج میں نفسیاتی دباؤ، خودکشیوں کے واقعات، مسلسل
جنگی تعیناتیوں اور افرادی قوت کی کمی کے مسائل پر بحث جاری ہے۔ خود جنرل ضمیر نے ماضی
میں مذہبی مدارس کے طلبہ کی فوجی بھرتی کے تنازع اور افرادی قوت کے بحران کی
نشاندہی کی ہے۔
جنگ بندی کی خواہش عسکری کامیابیوں کا
نتیجہ نہیں بلکہ اس کے پیچھے جنگی تھکن اور افرادی قوت کے مسائل کارفرما ہیں۔ اگر
حزب اللہ واقعی فیصلہ کن حد تک کمزور ہو چکی ہے تو پھر فوری سیاسی تصفیے پر زور
کیوں دیا جا رہا ہے؟ کیا زمینی حقائق اسرائیل کو سیاسی مفاہمت کی طرف دھکیل رہے
ہیں؟
امن
مذاکرات کا بنیادی مسئلہ
لبنان اور غزہ کے معاملات میں ایک مشترک
مسئلہ نمایاں ہے: اصل فریق مذاکراتی میز پر موجود نہیں۔ غزہ کے حوالے سے مختلف بین
الاقوامی کانفرنسیں اور امن فورم منعقد ہو رہے ہیں، لیکن مزاحمتی قوتوں کو براہِ
راست شریکِ گفتگو نہیں بنایا جا رہا۔ لبنان میں بھی مذاکرات اسرائیل اور لبنانی
حکومت کے درمیان ہو رہے ہیں، جبکہ اصل عسکری فریق حزب اللہ ہے۔
گزشتہ ہفتے امریکی ثالثی میں
لبنان اور اسرائیل کے درمیان طویل مذاکرات کے بعد ایک فارمولے پر اتفاق ہوا۔ مجوزہ
بندوبست میں تجویز کیا گیا ہے کہ حزب اللہ اپنی عسکری کارروائیاں روک دے، جبکہ
اسرائیلی افواج اور حزب اللہ کے زیرِ اثر علاقوں کے درمیان ایک عبوری یا
"پائلٹ زون" قائم کرکے وہاں لبنانی فوج تعینات کردی جائے۔المنار ٹی وی کے مطابق حزب اللہ کے
سیکریٹری جنرل نعیم قاسم نے اس تجویز کو مسترد کرتے ہوئے اسے عملاً "ہتھیار
ڈالنے" کے مترادف قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ جب تک لبنانی سرزمین پر
اسرائیلی افواج موجود ہیں مزاحمت جاری رہے گی۔
اگرچہ واشنگٹن اور تل ابیب سیاسی پیش رفت
کے خواہاں دکھائی دیتے ہیں، لیکن حزب اللہ کو اعتماد میں لئے بغیر کسی جامع معاہدے
کی کامیابی مشکوک نظر آتی ہے۔ دوسری طرف ایران نے لبنان جنگ بندی کو امریکہ سے اپنے معاہدے کی
بنیادی شرط قراردیدیا ہے۔امن بات چیت کیساتھ اسرائیل لبنان پر خوفناک بمباری جاری
رکھے ہوے ہے۔لبنانی وزیراعظم نواف سلام نے اقوام متحدہ کو مطلع کیا کہ 16اپریل کو امن معاہدے کے بعد
سے اسرائیل نے لبنان پر 3500 حملے کئے ہیں اور بمباری کے علاوہ 400 سے زیادہ شہری
و دیہی آبادی پر بلڈوزر پھیردئے گئے۔
غربِ
اردن: خاموش جنگ
غرب اردن میں قبضہ گردوں کے حملے، آتشزنی اور لوٹ مار کا سلسلہ جاری ہے۔ رام
اللہ کے گاوں بیتن میں مسلح قبضہ گردوں سے
بچاو کیلئے پتھراو کرنے والے فلسطینیوں پر اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے 18 سالہ لڑکا
ہیثم عزالدین حمیدہ جاں بحق۔ ہوگیا ہیثم کے خلاف دہشت گردی کو پرچہ کاٹ دیا گیا
تاکہ فوجی عدالت سے الزام ثابت ہونے پر اسکے گھر کو مسمار کیا جاسکے۔ نابلوس کے
علاقے حوارہ پر 6 جون کو قبضہ گردوں کے حملے میں سات افراد زخمی ہوئے۔ نقاب پوش
دہشت گردوں نے کاروں کو نقصان پہنچایا اور درجنوں بھیڑ اور دوسرے مویشی چراکر لے
گئے۔ الخلیل (Hebron)میں فلسطینیوں کے مکانات
نذرِ آتش کردئے گئے۔ فلسطینیوں کا کہنا ہے ہے کہ اس 'اپریشن' کی نگرانی اور تحفظ
مسلح افواج نے فراہم کی۔ الخلیل ہی کے علاقے تل رمیدہ میں چلتی کار پر اسرائیلی
فوج کی فائرنگ سے سات ماہ کا فہد ابو ہیکل اپنی ماں کی گود میں جاں بحق ہوگیا۔معصوم
جان کے زیاں پر اسرائیلی فوج کی طرف سے افسوس کا اظہار ہوا، جس پر فہد کی دادی نے
بچے کی تصویر دکھاتے ہوئے کہا کہ کہ
تمہاری معذرت سے میرا پوتا واپس آئیگا نہ میری بہو اور بیٹے کے زخم بھرینگے۔
بیت
المقدس: مذہبی آزادی کا سوال
مشرقِ وسطیٰ کے تنازعات میں بیت المقدس کی
حیثیت منفرد ہے۔ یہ شہر تین بڑے مذاہب کے ماننے والوں کیلئے یکساں تقدس رکھتا ہے۔
لیکن حالیہ برسوں میں مسیحی مذہبی رہنماؤں نے بھی مقدس مقامات تک رسائی اور عبادت
کی آزادی کے بارے میں تشویش کا اظہار شروع کر دیا ہے۔
یروشلم کے یونانی آرتھوڈوکس پٹریارک
تھیوفیلوس سوم نے گزشتہ ہفتے امریکی صدر سے ملاقات کے دوران کہا کہ مسیحی برادری
بڑھتے ہوئے دباؤ اور عدم تحفظ کا سامنا کر رہی ہے۔ ان کا مطالبہ صرف اتنا تھا کہ
مقدس مقامات تک رسائی اور مذہبی آزادی کو یقینی بنایا جائے۔یہ مطالبہ اس لیے بھی
اہم ہے کہ چند ماہ قبل پام سنڈے کے موقع پر بعض مسیحی مذہبی رہنماؤں کو کلیسائے
مقبرۂ مقدس تک رسائی میں مشکلات پیش آئیں۔ مسلمانوں کی جانب سے بیت المقدس میں
مذہبی پابندیوں کی شکایات تو عشروں سے سامنے آتی رہی ہیں، لیکن اب مسیحی برادری کی
تشویش نے اس مسئلے کو ایک نئے زاویے سے اجاگر کیا ہے۔اسرائیل نے 1967ء کے بعد مقدس
مقامات کے "اسٹیٹس کو" کو برقرار رکھنے کا وعدہ کیا تھا۔ اگر آج مختلف
مذاہب کے ماننے والے اپنی عبادات کے حوالے سے سوالات اٹھا رہے ہیں تو یہ معاملہ
صرف سیاست کا نہیں بلکہ مذہبی آزادی کے ایک بنیادی اصول کا بھی ہے۔
جنگ کی
قیمت
اسرائیل کی توسیع پسندانہ جارحیت نے جہاں معصوم فلسطینیوں، شامیوں،
لبنانیوں، یمنیوں اور ایرانیوں کی زندگی جہنم بنا رکھی ہے وہیں اس عذاب کا مزہ
ہوائی سفر کرنے والے اسرائیلی بھی چکھ رہے ہیں۔خلیج فارس سے لے کر بحیرۂ روم کے
مشرقی ساحل تک ہزاروں اہداف پر فضائی کارروائیوں کیلئے طویل فاصلے تک پرواز کرنے
والے جنگی طیاروں کو فضا میں ایندھن بھرنے کی ضرورت پیش آتی ہے۔ اسی مقصد کیلئے
امریکی فضائیہ نے اسرائیل کو KC-135 Refueling طیارے فراہم کئے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق 59 ایندھن برداررطیارے
تقریباً ہر وقت بن گوریان ائرپورٹ پر کھڑے رہتے ہیں جبکہ اس ہوائی اڈے پر طیارے کھڑی
کرنے کی مجموعی گنجائش 99 ہے، جس کے باعث ہوائی اڈے کی پارکنگ پر غیر معمولی دباؤ
پیدا ہوگیا ہے۔
اس "فضائی ٹریفک جام" کی قیمت عام مسافر ادا کر رہے ہیں۔
شہری ہوابازی حکام کے مطابق رواں موسمِ گرما میں تقریباً پندرہ لاکھ مسافروں کو
پروازوں کی منسوخی یا تاخیر کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ یکم جون کو بن گوریان
ائیرپورٹ سے صرف 61 ہزار 600 مسافروں نے سفر کیا، جبکہ معمول کے دنوں میں یہ تعداد
ایک لاکھ کے قریب ہوتی ہے۔ ریاستیں جب اپنی ترجیحات میں جنگی تقاضوں
کو فوقیت دیتی ہیں تو اس کے اثرات معیشت، نقل و حمل، سیاحت اور روزمرہ زندگی تک
پھیل جاتے ہیں۔ جنگ کے حقیقی اخراجات کا اندازہ صرف فوجی بجٹ سے نہیں لگایا جا
سکتا۔
امید
اب بھی زندہ ہے
اس تمام تاریکی کے باوجود زندگی نے ہار
نہیں مانی۔ تباہ حال غزہ میں جامعہ کے سات طلبہ نے خان یونس کے قریب آئس کریم کی ایک دوکان
کھول لی۔ 'مالکان' میں چار طِب، دو دندان سازی (Dentistry)اور ایک سوفٹ وئر انجینیرنگ
کے طالب علم ہیں۔جنگ، محاصرہ اور تباہی کے درمیان یہ چھوٹی
سی دکان محض ایک کاروبار نہیں بلکہ امید کی علامت ہے۔ شاید یہی مشرقِ وسطیٰ کا سب
سے بڑا سبق بھی ہے: بمباری عمارتیں گرا سکتی ہے، لیکن زندگی کی خواہش کو مکمل طور
پر ختم نہیں کر سکتی۔ جب تک ایسے نوجوان موجود ہیں جو ملبے کے درمیان مستقبل کے
خواب دیکھتے ہیں، تب تک امن کی امید بھی زندہ رہے گی۔
ہفت روزہ رہبر سرینگر 14 جون 2026