Thursday, April 23, 2026

 

جنگ بندی یا وقفہ جنگ؟؟؟

متضاد بیانیہ، امید، بے یقینی اور  پاکستان کی خاموش سفارت کاری

دو ہفتے قبل ایران اور امریکہ کے درمیان ہونے والی جنگ بندی نے یہ امید پیدا کی تھی کہ شاید ایک خطرناک تصادم اپنے انجام کو پہنچنے والا ہے۔ مگر مہلت ختم ہونے پرایران کوتباہ کردینے کی دھمکی سے صدر ٹرمپ کے یوٹرن کے باوجود کشیدگی میں فوری کمی کے امکانات معدوم نہیں تو کم از کم دھندلا ضرور چکے ہیں ایرانی قیادت خدشہ ظاہر کررہی ہے کہ نامہ و پیام کی آڑ میں صدر ٹرمپ اسرائیل کی مدد سے ایک بھرپور حملے کی تیاری اور اس تنازعے کو قومی سلامتی کا معاملہ بنانے کی کوشش کررہے ہیں۔ اسی سبب 21 اپریل کو انھوں نے انکشاف کیا کہ امریکی بحریہ نے جس ایرانی جہاز پر قبضہ کیا ہے وہ روس سے 'تحفہ' لے کر یران آرہاتھا۔ صدر ٹرمپ نے اس تحفےکی تفصیل تو نہیں بتائی لیکن فرمایاکہ انھیں روس کی اس پیشرفت پر حیرت ہوئی اسلئے کہ وہ صدر ژی جن پنگ کو اپنا دوست سمجھتے ہیں۔

مذاکرات یا فاصلہ؟ — اسلام آباد میں خاموشی

ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی تسنیم کے مطابق تہران نے پاکستان میں امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے دوسرے دور میں شرکت نہ کرنے کا حتمی فیصلہ کر لیا ہے، اور پاکستانی ثالث کو اس سے آگاہ بھی کر دیا گیا ہے۔

کیا تہران واقعی دروازہ بند کر رہا ہے یا بہتر پیشکش کا منتظر ہے؟ صدر ٹرمپ کی جانب سے جنگ بندی میں یکطرفہ توسیع کو ابتدا میں ایک سفارتی رغبت کے طور پر دیکھا گیا، لیکن ایران واضح کر چکا ہے کہ ناکہ بندی کے خاتمے سے پہلے کسی بامعنی بات چیت کا امکان نہیں۔ ایسے میں اگر واشنگٹن اشتعال کے بجائے نرم اشاروں اور خاموش دعوت کی حکمتِ عملی جاری رکھتا ہے، تو شاید یہی فائر بندی مستقبل کی کسی سنجیدہ پیش رفت کا پیش خیمہ بن سکے۔

جنگ بندی کی لبنان تک توسیع، منڈیوں سے مثبت اشارے

امن کوششوں کا آغاز بڑا خوش آئند تھا کہ اسلام آباد میں بات چیت کا پہلا مرحلہ بے نتیجہ ختم ہونے کے باوجود پاکستان نے ثالثی کا سلسلہ جاری رکھا اورصدر ٹرمپ نے بات چیت کا نیا دور جلد شروع کرنے کا اعلان کیا۔ ایک مرحلے پر صدر ٹرمپ اتنے پر امید نظر آئے کہ انھوں نے بات چیت کیلئے خود اسلام آباد آنے کی خواہش ظاہر کی۔ اسرائیل و لبنان کے درمیاں 10 روزہ عارضی جنگ بندی سے امن کی کوششوں کو مزید تقویت ملی۔ امریکی صدر کے مثبت بیانات کا ایران نے خیر مقدم کیا اور آبنائے ہرمز کو کھولدی گئی۔ان مثبت اشاروں کا اثر عالمی معیشت پر بھی پڑا۔ تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی آئی اور عالمی بازارِحصص میں تیزی دیکھی گئی، گویا دنیا نے سکھ کا سانس لیا۔

متضاد بیانیہ اور ہرمز کی کشمکش

صدر ٹرمپ نے اس موقعہ پر دعویٰ کیا کہ افزودہ یورینیم کے معاملے پر اختلافات تقریباً ختم ہو چکے ہیں اور کوئی “sticky point” باقی نہیں رہا۔ تاہم ایرانی قیادت نے اس تاثر کی نفی کی۔ ایرانی پارلیمان کے اسپیکر اور مذاکراتی وفد کے قائد محمد باقر قالیباف نے کہا کہ افزودہ یورینیم کی حوالگی پر کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا۔بات چیت ابھی ابتدائی مرحلے میں ہے اور کسی ٹھوس نتیجے تک پہنچنے میں ہفتوں لگ سکتے ہیں۔ انھوں نے مذاکرات کی حمائت کرتے ہوئے کہا کہ معاملات میں پیشرفت تو ہے لیکن خلیج اب بھی کافی گہری ہے۔

صورتحال اس وقت مزید بگڑی جب امریکہ نے ایران کی بحری ناکہ بندی برقرار رکھنے کا اعلان کیا، حالانکہ ایران پہلے ہی آبنائے ہرمز کھول چکا تھا۔ اس اقدام کو تہران نے اشتعال انگیزی قرار دیتے ہوئے دوبارہ پابندیاں عائد کر دیں، اور یوں خطے کی اہم ترین گزرگاہ ایک بار پھر کشیدگی کا مرکز بن گئی۔

تاہم امریکی صدر اسکے بعد بھی پرامید نظر آئے اوراسرائیلی چینل 12 پر ایک انٹرویو میں انھوں نے بہت ہی پراعتماد لہجے میں فرمایا “(ایران سے) معاہدے کا بنیادی تصور طے پا چکا ہے۔ میرا خیال ہے کہ اسے مکمل کرنے کے ہمارے پاس بہت اچھا موقع ہے،” پھر فوراً ہی بولے “اگر ایرانی راضی نہ ہوئے تو سب کچھ تباہ کر دیں گےاس پر اسرائیلی محکہ دفاع کے ایک  اہلکار نے کہا کہ ' امریکی صدر کے بیانات میں اسقدر ابہام اور تضاد ہوتا ہے کہ انسانی دماغ کیلئے اسکی تشریح ممکن نہیں بلکہ اگر ایران سے متعلق انکے بیانات کے تجزئے کیلئے ChatGPT سے مدد لیں تو وہ بھی تضادات کے بوجھ تلے اندر سے بکھر جائے۔

جنگی تیاری اور مختلف ترجیحات

اسرائیل اور امریکہ میں جنگی تیاریوں کی خبروں سے حالات مزید سنگین ہوگئے۔ذرایع ابلاغ کے اسرائیلی اداروں Ynet, چینل 12 اور چینل 13 کے مطابق فوج کے سربراہ جنرل ایال زامیز نے اپنے کمانڈروں کو کاروائی شروع کرنے کیلئے تیار رہنے کا حکم دیدیا ہے۔ ایسا ہی تاثر امریکی وزیر جنگ پیٹ ہیگسیتھ کی جانب سے بھی موصول ہواجسکا جواب دیتے ہوئے پاسداران انقلاب اسلامی کے سربراہ حسین سلامی نے کہا کہ ایران جنگ شروع نہیں  کریگا لیکن ہم پر جنگ مسلط کرنے والے بچ کر نہیں جاسکیں گے

اس تمام صورت حال میں امریکہ اور اسرائیل کے اہداف کا فرق نمایاں ہے۔ واشنگٹن کے نزدیک مسئلہ ایران کا جوہری پروگرام ہے، جبکہ اسرائیل کیلئے  اسلامی تشخص کیساتھ ٖغیر جوہری ایران بھی قابل قبول نہیں اسی تضاد نےاس تنازعے کو مزید پیچیدہ کردیا ہے۔

پاکستان کی خاموش سفارت کاری

اس نازک مرحلے پر پاکستان نے پسِ پردہ مگر مؤثر سفارت کاری کے ذریعے ایک پل بنانے کی کوشش کی اور اسلام آباد کے اس  کردار کو علاقائی اور عالمی سطح پر سراہا گیا۔ تاہم حالیہ پیش رفت، مذکرات سے ایرانی انکار، ناکہ بندی، اور بڑھتی ہوئی عسکری تیاریوں نے ان کوششوں کے اثرات کو وقتی طور پر دھندلا دیا ہے۔

موجودہ صورتحال کا سب سے نازک پہلوصدر ٹرمپ کی ساکھ اور  ہر لمحہ بدلتے انکے بیانئے ہیں یعنی ایک ہی سانس میں معاہدے کی نوید اور تباہی کی دھمکی۔ یہ تضاد صرف سفارتی ابہام نہیں بلکہ اعتماد کے بحران کو جنم دیتا ہے۔ ان کی کسی بات پر کسی کو اعتماد نہیں جسکی ایک تازہ ترین مثال اسلام آباد مذاکرات ہیں۔بیس اپریل کی صبح صدر ٹرمپ نے نیویارک پوسٹ کو بتایا کہ نائب صدر جے ڈی وانس اسلام آباد کیلئے روانہ ہوچکے ہیں اور وہ شام تک وہاں ہونگے۔لیکن اسی لمحے CNNکی صحافی الیانہ نے نائب صدر کی واشنگتں میں موجودگی کی اطلاع دی۔ الیانہ کو  بتایا گیا کہ جناب وانس 21 اپریل کو روانہ ہونگے اور ملاقات بدھ کو متوقع ہے لیکن اسی شام نائب صدر کے دفتر نے بتایا کہ جناب وانس کی اسلام روانگی فی الحال موخر کردی گئی ہے۔

بظاہر جنگ بندی کو غیر معینہ مدت تک بڑھا دیا گیا ہے، لیکن اگر یہ مہلت ٹھوس پیش رفت میں تبدیل نہ ہو سکی تو تاریخ اسے امن کا وقفہ نہیں، بلکہ اگلی جنگ کی تمہید کے طور پر یاد رکھے گی۔

ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل کراچی 24 اپریل 2026

ہفت روزہ دعوت دہلی 24 اپریل 2026

ہفت روزہ رہبر سرینگر 26 اپریل 2026


 

بارود کے سائے میں امن کی تلاش

غزہ، لبنان اور عالمی ضمیر—جنگ، سفارت اور دوہرے معیار کا المیہ

غزہ کی گلیوں سے اٹھتی دھول ابھی بیٹھی بھی نہیں کہ مزاحمت کاروں کو غیر مسلح کرنے کے نام پر ایک بڑے آپریشن کی بازگشت سنائی دے رہی ہے۔ایک طرف جنگ بندی اور مذاکرات کے دعوے ہیں تو  دوسری جانب خون، خوف اور بے یقینی کا سلسلہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا۔ کیا واقعی امن کی کوئی سنجیدہ کوشش ہو رہی ہے، یا یہ سب محض ایک ایسے کھیل کا حصہ ہے جس میں اصول بدلتے رہتے ہیں مگر مظلوم کا مقدر نہیں بدلتا؟

ہتھیار ڈالنے پر اصرار

مزاحمتی گروہوں اور نام نہاد “بورڈ آف پیس” کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ حالیہ اجلاس میں مزاحمت کاروں سے اسلحہ ترک کرنے کا مطالبہ ایک حکم کے انداز میں دہرایا گیا، جسے انہوں نے مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ اسرائیلی فوج کے مکمل انخلا سے قبل مسلح جدوجہد ترک نہیں کی جائے گی۔ اس تناظر میں بورڈ کے سربراہNickolay Mladenov کے کردار پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق اجلاس کسی نتیجے کے بغیر ملتوی ہو گیا، جو اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ امن کے تقاضے یکطرفہ رکھے جا رہے ہیں۔

ایک طرف مزاحمت کاروں سے غیر مسلح ہونے  کا مطالبہ، اور دوسری جانب اسرائیلی فوجی انخلا پر خاموشی۔یہ تضاد خود بہت کچھ کہتا ہے۔ اطلاعات ہیں کہ اگر مزاحمت کاروں نے ہتھیار نہ ڈالے تو انہیں بزور طاقت غیر مسلح کرنے کے منصوبے زیر غور ہیں۔کیا امن واقعی ہدف ہے یا طاقت کے توازن کو یکطرفہ بنانے کی کوشش؟

سارے غزہ میں بمباری، ڈرون حملوں اور فائرنگ کے واقعات بدستور جاری ہیں۔المواصی، خان یونس اور رفح کے علاقوں میں نہتے افراد نشانہ بنے، جن میں ہلاکتیں اور درجنوں زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔

فوج کے ساتھ اسرائیل نواز ملیشیا کی سرگرمیاں بھی بڑھتی جارہی ہیں اور کئی محلوں سے بچوں کے اغوا کی خبریں آرہی ہیں۔ غزہ شہر میں فلسطینی پولیس ایسی ہی ایک شکائت پر جب ان اوباشوں کو گرفتارکرنے پہنچی تو اسرائیلی فوج نے پولیس پارٹی پر حملہ کردیا جس سے چار فلسطینی جاں بحق ہوگئے

لبنان: جنگ بندی کے باوجود شعلے

لبنان میں عارضی جنگ بندی کے باجود اسرائیل کے زیرقبضہ علاقوں میں عسکری کاروائیاں جاری ہیں۔ اس ہفتے جنوبی لبنان میں کم ازکم چار گاوں خالی کراکر اسرائیلی فوج نے مکانوں اور فصلوں کو آگ لگادی۔

اسرائیلی جریدے Haaretz کے مطابق لبنان پر اسرائیلی حملوں میں اب تک 172 بچے جان کی بازی ہار چکے ہیں۔ نیتن یاہو اور صدر ٹرمپ کا مؤقف ہے کہ یہ کارروائیاں ایران نواز عسکری گروہوں کے خلاف ہیں۔ پارکوں اور میدانوں میں کھیلتے یہ 11–12 سال کے معصوم بچے آخر کس “دہشت گردی” میں ملوث تھے؟ سچ ہے کہ جنگ کا سب سے بڑا بوجھ ہمیشہ عام شہری ہی اٹھاتے ہیں۔

غربِ اردن: خاموش محاذ

غرب اردن میں فلسطینیوں پر حملے، فصلیں اجاڑنے اورگھروں پر قبضے کاسلسلہ جاری ہے۔ رام اللہ کے قصبے ترمسعیا پر قبضہ گردوں نے مکانات اور گاڑیوں کو آگ لگادی، جاتے ہوئے  یہ لوگ دیواروں پر 'انتقام ' کے نعرے لکھ گئے۔ معلوم نہیں مظلوموں سے کس بات کا انتقام لیا جارہا ہے۔

اکیس اپریل کو رام اللہ کے المغیر اسکول پر قبضہ گردوں نے حملہ کیا جس میں ایک 14 سالہ طالب علم حمدی نسان اور استاد ابو نعیم گولے لگنے سے موقع پر دم توڑ گئے۔ سات سال قبل حمدی کا باپ بھی اسرائیلی فوج کی درندگی کی نذر ہوچکا ہے۔ جاتے جاتے  غارتگرد دیواروں پر 'عرب مردہ باد' کے نعرے لکھ گئے

قبضہ گردوں نے فلسطینی بچوں کے خلاف اب تشدد کا ایک نیا انداز اختیار کرلیا ہے۔ کھیل کے میدانوں اور اسکولوں میں پانی کی گن سے بچوں کی آنکھوں میں سرخ مرچ کے محلول کی پچکاریای ماری جاتی ہیں۔ بیت الحم کے گاوں تقوع اور وادی اردن کے شہر عین الحلوہ میں بچوں کو گھیر کر مرچ کے پانی کے علاوہ کچھ کی آنکھوں میں سرخ مرچیں جھونک دی گئیں۔ جس سے درجنوں بچوں کی آنکھوں میں زخم آگئے۔ کچھ کی بینائی متاثر ہونے کا خطرہ ہے

القدس شریف میں دراندازی

مسجد اقصیٰ کے دروازے کھلتے ہی دراندازی کا سلسلہ دوبارہ شروع ہوگیا ہے، اسرائیل کے انتہا پسند وزیر داخلہ اتامر بن گویر نے مسجد اقصیٰ کے دالان میں  سنگینوں کے سائے تلے عبادت کی۔ اسرائیل نے 1967میں القدس پر قبضے کے فورا بعد اقوام عالم کو یقین دلایا تھا کہ مسجد اقصیٰ و القدس شریف کی اسلامی حیثیت برقرار رکھی جائیگی اور دیوار گریہ کے سوا کسی بھی جگہ غیرمسلموں کا داخلہ اوقاف کی تحریری اجازت سے مشروط ہوگا۔

ایمسٹرڈیم کی خاموش گواہی

نازی مظالم کا نشانہ بننے والے یہودیوں کی یاد میں 14 اپریل کو Holocaust Remembrance Dayمنایا جاتاہے جسے عبرانی میں Yom HaShoahکہتے ہیں ۔اس مناسبت سے ڈچ شہر ایمسٹرڈیم کے مرکزی Dam Square پر درندگی کا شکار ہونے والے نونہالانِ غزہ کی یاد میں ننھے جوتوں کی ایک علامتی قطار سجائی گئی۔

یہ منظر اس بات کی یاد دہانی تھا کہ تاریخ کے زخم صرف ماضی کا قصہ نہیں، بلکہ حال کے دکھوں میں بھی جھلکتے ہیں۔

آزادیٔ اظہار کا مغربی انداز

گزشتہ ہفتے برطانیہ میں فلسطینی حقوق کیلئے مظاہرہ کرنے والے 500 افراد گرفتارکرلئے گئے۔کیا انسانی حقوق کا معیار سب کیلئے یکساں ہے، یا حالات کے مطابق بدل جاتا ہے؟

بلبل نے آشیانہ چمن سے اٹھا لیا

ترک نژاد طالبہ رمیسہ اوزترک، قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرنے کے بعد بالآخر خود ہی امریکہ چھوڑ کی اپنے وطن واپس چلی گئیں۔ رمیسہ، Tufts University میں پی ایچ ڈی کی طالبہ تھیں۔ جامعہ کے میگزین میں اسرائیل پر تنقیدی مضمون لکھنے کے بعد انہیں امریکی امیگریشن ادارے ICE نے حراست میں لے لیا۔ انہیں لوزیانا کی ایک دور افتادہ جیل میں تقریباً 45 دن رکھا گیا، جہاں انہیں سخت حالات کا سامنا کرنا پڑا، حتیٰ کہ عدالت کے حکم پر رہائی ممکن ہوئی۔ رہائی کے بعد بھی Fulbright اسکالر، رمیسہ کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں اور امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو خود اس معاملے کی نگرانی کرتے رہے۔ گزشتہ ہفتے صدر ٹرمپ نے اس وفاقی جج کو برطرف کر دیا جس نے رمیسہ کی ملک بدری (deportation) کے احکامات کو غیر قانونی قرار دیا تھا۔اس حوصلہ مند لڑکی نے امریکہ میں آزادیِ اظہارِ رائے کیساتھ، عدالتی نظام کی بھی قلعی کھول دی۔

ہفت روزہ فرائیڈے اسہیشل کراچی 24 اپریل 2026

ہفت روزہ دعوت دہلی 24 اپریل 2026

ہفت روزہ رہبر سرینگر 26 اپریل 2026




 

Thursday, April 16, 2026

 

اسلام آباد مذاکرات: ناکامی، ابہام اور جنگ کے سائے

سرخ لکیروں کا تصادم ، سفارت کاری کی شکست

اسلام آباد میں ایران اور امریکہ کے درمیان ہونے والے مذاکرات کو ایک فیصلہ کن موڑ قرار دیا جا رہا تھا، مگر 21 گھنٹوں پر محیط یہ طویل نشست کسی ٹھوس نتیجے کے بغیر اختتام پذیر ہوگئی۔ سوال یہ نہیں کہ مذاکرات ناکام کیوں ہوئے، بلکہ یہ ہے کہ کیا واقعی ان کی کامیابی مطلوب بھی تھی؟

سرخ  دیواریں

طویل دورانئے کے مذاکرات کے بعد امریکی نائب صدر جے ڈی وانس اپنے وفد کے ہمراہ وطن واپس چلے گئے۔ روانگی سے قبل مختصر پریس کانفرنس میں ان کا کہنا تھا کہ “ہمارے لئے ایران کی اور ان کے لئے ہماری ریڈ لائنز ناقابلِ قبول ہیں، تاہم بعض دیگر امور پر پیش رفت ہوئی ہے۔

ابتدائی اطلاعات کے مطابق ایرانی مؤقف خاصا واضح اور سخت تھا۔ تہران کی جانب سے آبنائے ہرمز پر مکمل خودمختاری، افزودہ یورینیم کی ملکیت، ایران اور اس کے اتحادیوں کے خلاف جارحیت کا خاتمہ، جنگی تاوان کی ادائیگی، منجمد اثاثوں کی واپسی اور پابندیوں کے خاتمے جیسے مطالبات پیش کئے گئے۔ دوسری جانب امریکہ افزودہ یورینیم کی حوالگی اور آبنائے ہرمز میں بلا رکاوٹ جہاز رانی پر مصر تھا۔ گویا ابتدا ہی سے دونوں فریقوں کے درمیان خلیج گہری تھی۔

عدم اعتماد کا سایہ

پاکستان پہنچنے پر ایرانی وفد کے سربراہ محمد باقر قالیباف نے واضح کیا کہ وہ پاکستان کے لئے خیرسگالی اور قدردانی کے طور پر آئے ہیں ورنہ انہیں امریکہ پر اعتماد نہیں۔ دوسری طرف صدر ٹرمپ  کا رویہ بھی سرد مہری کا عکاس تھا۔ انھوں نے صاف صاف کہا کہ مذاکرات کامیاب ہوں یا ناکام، انہیں کوئی فرق نہیں پڑتا کیونکہ “واشنگٹن جنگ جیت چکا ہے۔” بے نیازی کے اس ماحول میں کسی سنجیدہ پیش رفت کی توقع کم ہی رہ جاتی ہے۔ایرانی وفد کی جانب سے کہا گیا کہ تکنیکی ماہرین دستاویزات کا جائزہ لے رہے ہیں اور مذاکرات جاری رہیں گے، لیکن امریکی وفد کی عجلت میں واپسی نے اس عمل کی سنجیدگی پر سوال اٹھا دئے۔

ایران کیساتھ مذاکرات میں ٹرمپ انتظامیہ نے کبھی بھی سنجیدگی نہں دکھائی۔ گزشتہ برس جوہری مسئلے پر مذاکرات جاری ہی تھے کہ امریکہ نے تیشہ نیم شب یا Mid Night Hammerنامی آپریشن کے ذریعے ایران کی جوہری تنصیبات کو صدر ٹرمپ کے الفاظ میں Obliterateیا خاک کردیا۔ اسکے بعد فروری میں مذاکرات کی میز عمان کی ثالثی میں دوبارہ بچھائی  گئی اور 27 فروری کو ایک مرحلے کے  اختتام پر صدرٹرمپ کے ایلچی اسٹیو وٹکاف نے کہا کہ ہم مذاکرات کے مثبت اختتام کی طرف پیش قدمی کررہے ہیں کہ 28 فروری کو صدر ٹرمپ نے اسرائیل کیساتھ مل کر قہر عظیم یا Epic Furyنازل کردیا

اسرائیل: پسِ پردہ مگر مرکزی کردار

اس پورے تناظر میں اسرائیل کا کردار نہایت اہم ہے۔ وزیرِاعظم بن یامین نیتن یاہو پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ جنگ بندی ان کے لیے حتمی منزل نہیں بلکہ ایک مرحلہ ہے، اور اسرائیل کسی بھی وقت جنگ دوبارہ شروع کرنے کے لیے تیار ہے۔تجزیہ کاروں کے مطابق اسرائیل کے اہداف میں ایران کے اسلامی تشخص کا خاتمہ اور خطے میں توانائی کے ذخائر پر اثر و رسوخ بڑھانا شامل ہے۔ امریکی سیاست پر نظر رکھنے والے ماہرین جانتے ہیں کہ واشنگٹں کیلئے اسرائیل کی مرضی کے بغیر کوئی فیصلہ کرنا ممکن نہیں۔ صدر ٹرمپ بظاہر کتنے ہی مضبوط و خودمختار کیوں نہ لگیں وہ  اسرائیل کی مرضی کے خلاف نہیں جاسکتے۔عسکری تجزیہ نگاروں کاخیال ہے کہ ایران پر حملے کا فیصلہ نیتن یاہو کا تھا جسے صدر ٹرمپ نے تسلیم کرلیا۔ یا یوں کہتے کہ وہ ایران میں اسرائیل کی جنگ لڑرہے ہیں۔

ایران کے معاملے میں تل ابیب کی خوشنودی صدر ٹرمپ کو کتنی عزیز  ہے اسکا بہت فخریہ اظہار نیتن یاہو نے خود کیا۔پیر 13 اپریل کو کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا ' اسلام آباد سے واپسی پر نائب صدر جے ڈی وینس نے طیارے سے فون کرکے مجھے مذاکرات کی پیش رفت اور گفتگو بے نتیجہ ختم ہوجانے کی تفصیلات بتائیں، بالکل اسی طرح جیسے ٹرمپ انتظامیہ کے ارکان روزانہ ہمیں بریف کرتے ہیں'

اس پر ڈیموکریٹک پارٹی کے رکن کانگریس مارک پوکن (Mark Pocan)نے بہت بے چارگی سے کہا 'ٹرمپ انتظامیہ ایران جنگ کے بارے میں امریکی کانگریس اور امریکی عوام کو تو کچھ نہیں بتاتی لیکن اسرائیل کو روزانہ کی بنیاد پر آگاہی دی جارہی ہے'

آگے کا راستہ: امن یا تصادم؟

حالیہ صورتحال میں یہ تاثر مضبوط ہو رہا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کے لیے سفارت کاری کے مقابلے میں عسکری دباؤ زیادہ اہم ہے۔ دوسری طرف ایران اب بھی مذاکرات جاری رکھنے کی بات کر رہا ہے، گویا ایک جانب بارود کو ترجیح دی جا رہی ہے، جبکہ دوسری سِمت امید کا چراغ ابھی بجھا نہیں۔

سوال یہ ہے کہ جب امریکی نائب صدر  اپنے وفد کے ہمراہ واپس جا چکے تو بات چیت آگے کیسے بڑھے گی؟ کیا رسمی نشست ختم  ہونے کے بعد پسِ پردہ اور ڈیجیٹل ذرائع سے نامہ و پیام کا سلسلہ جاری ہے؟ ان تفصیلات پر ابھی پردہ ہے۔ البتہ اطلاعات ہیں کہ مذاکرات کے دوران دونوں فریق ایک مرحلے پر آمنے سامنے آئے اور شاید ایک مشترکہ عشائیہ بھی ہوا۔ چلمن سے باہر آکر ناز و نیاز کے یہ اشارے معنی خیز ہیں۔کیا “Absolutely not” کی تکرار کبھی “maybe” یا “sure” میں بدل سکتی ہے؟ کیا انکار کے پردے میں اقرار کی کوئی گنجائش موجود ہے؟ یہ ممکن تو ہے لیکن جب میزِ مذاکرہ اور میدانِ جنگ ساتھ ساتھ چلیں تو امن محض ایک خواہش بن کر رہ جاتا ہے۔

گیند ایران کے کورٹ میں؟؟

امریکہ واپس آکر  جے ڈی وینس نے  فاکس نیوز سے گفتگو میں کہا کہ اب “گیند ایران کے کورٹ میں ہے” اور اگلا قدم ایران کو اٹھانا ہوگا۔ انہوں نے زور دیکر کہا کہ اگر ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق امریکہ کی “ریڈ لائنز” تسلیم کر لی جائیں تو یہ دونوں ممالک کے لیے ایک “بہت اچھا معاہدہ” ثابت ہو سکتا ہے۔ اگر اس تمام کشمکش کا مرکزی نکتہ جوہری پروگرام ہی ہے تو پھر وہ آزمودہ راستہ کیوں نہیں اپنایا جاتا جس نے پہلے نتائج دئے تھے۔

دو سال طویل مذاکرات کے بعد 2015 میں Joint Comprehensive Plan of Action (JCPOA) طئے پایا جسے فارسی میں برجام کہا جاتا ہے ۔اس معاہدے کی امریکی کانگریس کے دونوں ایوانوں نے غیر معمولی اکثریت سے توثیق کی، اور یہ دو برس تک مؤثر انداز میں چلتا رہا۔ اقوام متحدہ کی عالمی جوہری توانائی ایجنسی (IAEA) نے متعدد بار ایرانی تنصیبات کے معائنے کے بعد اس پر اعتماد کا اظہار کیا۔ یہ معاہدہ اس لحاظ سے بھی منفرد تھا کہ اس پر دنیا کی بڑی طاقتوں کے ساتھ جرمنی نے بھی دستخط کیے، جس کی بنا پر اسے P5+1 کہا جاتا ہے، اور یورپی ممالک نے اس کی مکمل حمایت کی۔

تاہم صدر ٹرمپ نے اپنے پہلے دورِ اقتدار کے آغاز میں کانگریس سے مشاورت کے بغیر امریکہ کو اس معاہدے سے علیحدہ کر لیا۔ آج جب دوبارہ “ریڈ لائنز” اور “ڈیل” کی بات ہو رہی ہے تو JCPOAکو بحال کیوں نہیں کرلیا جاتااور وہ راستہ اختیار کرنے سے گریز کیوں ہے جس نے پہلے عملی نتائج دیے تھے۔ ہر بار نئے سرے سے اعتماد کی عمارت کھڑی کرنے کی ضرورت کیوں پیش آتی ہے۔ امن کے لیے صرف شرائط کافی نہیں، تسلسل اور اعتبار بھی ضروری ہے۔دیکھنا ہے کہ اب اہلِ فارس کی خواہشِ امن حقیقت کا روپ دھاریگی یاڈانلڈ ٹرمپ اور نیتن یاہو کی حکمتِ عملی ایک اور طویل تصادم کی تمہید ثابت ہوگی۔

ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل کراچی 17 اپریل 2026

ہفت روزہ دعوت دہلی 17 اپریل 2026

ہفت روزہ رہبر سرینگر 19 اپریل 2026


 

جنگ بندی کا فریب، لبنان پر قیامت

عبوری معاہدہ یا سفارتی دھوکہ

ایران اور امریکہ کے درمیان  جنگ بندی نے بظاہر ایک بڑے تصادم کو روک دیا، مگر اس کے فوری بعد جو منظر لبنان میں ابھرا، اس نے اس معاہدے کی روح پر ہی سوال اٹھا دئے ہیں۔ کیا یہ واقعی امن کی جانب پیش رفت تھی، یا محض ایک محاذ خاموش کرکے دوسرے کو مزید بھڑکانے کی حکمتِ عملی؟

جنگ بندی کے سائے میں لبنان پر قیامت

ایران امریکہ جنگ بندی کے فوراً بعد اسرائیل نے لبنان پر حملے تیز کر دیے۔ منگل کو ایرانی محاذ پر توپیں ٹھنڈی پڑتے ہی لبنان پر قیامت ٹوٹ پڑی۔ اہلِ لبنان کے لیے یہ “سیاہ بدھ” تھا، جب بیروت کی بلند و بالا عمارتیں تباہ کن بنکر بسٹر بموں سے زمین بوس کر دی گئیں۔

لبنانی ہلالِ احمر کے مطابق اس روز 254 افراد جاں بحق اور 1165 زخمی ہوئے۔ بمباری سے ہسپتالوں اور طبی مراکز کو بھی شدید نقصان پہنچا، جس کے باعث زخمیوں کی دیکھ بھال مزید مشکل ہو گئی۔ بعض عسکری تجزیہ کاروں کے مطابق یہ حملے ایک روز قبل سرحدی جھڑپ میں زخمی ہونے والے اسرائیلی فوجیوں کے ردِعمل میں کئے گئے۔ اسی روز جنوبی لبنان میں اقوام متحدہ امن فوج کا اطالوی دستہ بھی اسرائیلی فوج کا نشانہ بنا۔ حملے میں کوئی جانی نقصان تو نہ ہوا لیکن اطالوی فوج کی گاڑی تباہ ہوگئی۔گزشتہ ہفتے اقوام متحدہ کے امن مشن کے اہلکاروں پر اسرائیلی فائرنگ سے انڈونیشیا کے تین فوجی جاں بحق ہوگئے تھے۔

جنگ بندی: مفہوم کا تنازع

پاکستانی وزیرِاعظم کی جانب سے جاری کردہ بیان میں واضح طور پر کہا گیا تھا کہ جنگ بندی “ہر جگہ، بشمول لبنان” نافذ ہوگی۔ تاہم صدر ٹرمپ نے اس کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ لبنان اس معاہدے کا حصہ نہیں۔ اسکی مزید وضاحت کرتے ہوئے امریکی نائب صدر جے ڈی وانس  بولےکہ “ایک جائز غلط فہمی” (Legitimate Misunderstanding) کے باعث ایران نے یہ سمجھ لیا کہ کل اعلان کی گئی دو ہفتوں کی جنگ بندی میں لبنان بھی شامل ہے، حالانکہ واشنگٹن نے کبھی ایسی کسی شرط سے اتفاق نہیں کیا تھا۔

سفارتکاری کی یہ ناکامی انسانی المئے کا ماتم ہے، وہ خونریز حقیقت جو لبنان کی گلیوں میں بکھری پڑی ہے۔کیا انسانی جانوں کی قیمت محض بیانات اور “تشویش” تک محدود رہ گئی ہے؟معاملہ صرف جنگ بندی کا نہیں، بلکہ انسانیت کے مستقبل کا ہے۔طاقتور ممالک کی وعدہ خلافی کے نتیجے میں آج معصوم لاشوں کیساتھ انسانی ضمیر لبنان کے ملبے تلے دفن ہورہا ہے۔

غزہ: ایک اور جلتا ہوا محاذ

غزہ پر حملوں کیساتھ مصر میں مجلس السلام یا Board of Peace کے اجلاس بھی جاری ہیں۔مجلس کا سارا زور مزاحمت کاروں سے اسلحہ رکھوانے پر ہے۔ دوسری طرف  مزاحمت کار کہتے ہیں کہ مسلسل حملوں کے دوران ہتھیار رکھنا ممکن نہیں۔

اسرائیلی فوج کے ساتھ اسرائیل نواز ملیشیا کی سرگرمیاں بھی بڑھتی جارہی ہیں۔ گزشتہ ہفتے وسطی غزہ کے علاقے مغازی میں لڑکیوں کے خیمہ اسکول میں گھس کرملیشیاکے غندوں نے معصوم بچیوں کو اغوا کرنے کی کوشش کی۔ نہتی طالبات اور انکے والدین نے غنڈوں کو ماربھگایا۔ جواب میں اسرائیل نے اسکول پر بمباری کردی، جس میں بچیوں سمیت دس سے زیادہ افراد جاں بحق ہوگئے۔ مسلسل بمباری و ڈرون حملوں نے زندگی کو عذاب بنا دیا ہے۔

غربِ اردن: خاموش تصادم

غرب اردن میں فوج کی فائرنگ، انتہا پسندوں کے حملے اور جبری بیدخلی کا سلسلہ جاری ہے۔ شمالی وادی اردن  کے قصبے تیسر میں قبضہ گرد علاقے کے مکینیوں کو انکے گھروں سے نکال رہے تھے جس پر تصادم ہوا اور سادہ کپڑوں میں وہاں موجود ایک اسرائیلی فوجی نے 19 سالہ اعلیٰ خالد کے سینے میں گولی ماردی۔ بعد میں مقتول کے خلاف پسِ مرگ دہشت گردی کا مقدمہ قائم کردیا گیا تاکہ  الزام ثابت ہوجانے کی صورت میں اعلیٰ کے آبائی گھر کو مسمار کیا جاسکے۔ وادی اردن ہی کے ایک اور شہر عین الشباب پر اسرائیلی فوج کی کاروائی میں  ایک 15 سالہ بچہ زخمی ہوگیا جبک درجنوں نوجوان گرفتار کرلئے گئے۔ نابلوس کے گاوں لبن الشرقیہ پر اسرائیلی قبضہ گردوں نے حملہ کرکے مکانوں، گاڑیوں اور مویشی کے باڑوں کو آگ لگادی گئی۔ جیسا کہ نام سے ظاہر ہے یہ گاوں دودھ کی پیداوار کیلئے مشہور ہے۔پولیس کاروائی میں درجنوں نوجوان گرفتار کرکے ان سب کے خلاف دہشت گردی کے پرچے کاٹ دئے گئے

بستیاں، انتہا پسندی اور سرکاری سرپرستی

اس ہفتےاسرائیلی حکومت نے فلسطینیوں کو انکی آبائی زمینوں سے بیدخل کرکے 34 نئی اسرائیلی بستیاں تعمیر کرنے کی منظوری دیدی۔اس پر تبصرہ کرتے ہوئے اسرائیلی ڈیموکریٹک پارٹی کے ترجمان نے کہا کہ نیتن یاہو کے جنگی جنون کی وجہ سے سارا ملک غیر محفوظ ہوچکا ہے اور اسرائیل کو نئی بستیوں کی نہیں میزائیل حملوں سے دفاع کیلئے مزید پناہ گاہوں کی ضرورت ہے۔

الاقصیٰ: امید کی ایک کرن

چالیس دن کی بندش کے بعد 8 اپریل کو مسجدِ اقصیٰ کے دروازے کھولدئے گئے۔ پہلے جمعے کو ایک لاکھ سے زائد افراد کی شرکت اور “القدس لنا” کے نعروں نے یہ بات ظاہر کردی کہ  مزاحمت صرف ہتھیاروں سے نہیں، ایمان اور امید سے بھی جاری رہتی ہے۔

ایک اور صحافی جان سے گیا۔

غزہ شہر پر اسرائیلی ڈرون نے الجزیرہ کے ایک صحافی محمد وشاح کی جان لے لی۔ غزہ میں سچ شایع کرنے کے الزام میں تین سو سے زیادہ صحافی قلم کی حرمت پر قربان ہوچکے ہیں

فائربندی کے ٹویٹ اور میدانِ جنگ کی حقیقتوں میں ایک گہری خلیج موجود ہے۔ اگر جنگ بندی کے معاہدے زمینی حقائق کو نہ بدل سکیں تو وہ محض الفاظ رہ جاتے ہیں۔آج لبنان اور غزہ میں جو کچھ ہو رہا ہے، وہ اس تلخ حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ طاقتوروں کی سفارت کاری اکثر کمزوروں کے لئے تباہی کا پیش خیمہ بن جاتی ہے۔کیا یہ جنگ بندی واقعی امن کی جانب قدم ہے، یا ایک مختصر سی مہلت، نئے طوفان سے پہلے؟

ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل کراچی 17 اپریل 2026

ہفت روزہ دعوت دہلی 17 اپریل 2026

ہفت روزہ رہبر  سری نگر 19 اپریل 2026


 

ہنگری کے انتخابات: یورپ کی دھڑکن یا سیاست کا نیا موڑ؟

صدر ٹرمپ  کے اتحادی کی شرمناک شکست

مشرقی یورپ کا چھوٹا مگر تاریخی اہمیت کا حامل ملک ہنگری ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بن گیا۔ حالیہ انتخابات نے نہ صرف داخلی سیاست کا نقشہ بدل دیا بلکہ یورپی اتحاد، امریکہ اور مشرقِ وسطیٰ کی سیاست کے تناظر میں بھی نئے سوالات کھڑے کر دیئےہیں۔ کیا یہ محض اقتدار کی تبدیلی ہے، یا ایک بڑی جغرافیائی و نظریاتی تبدیلی کا آغاز؟

تاریخی پس منظر اور قومی شناخت

مشرقی یورپ کا یہ 96 لاکھ آبادی والا ملک خشکی سے گھرا ہواہے۔ ترک خلیفہ سلیمان اعظم (Suleman the Magnificent)نے  1526 کی جنگ موہاچ Mohács میں  صلیبیوں و شکست دیکر اس علاقے کو عثمانی خلافت کا حصہ بنایا۔ ہنگری پر ترک خلافت 1699 تک برقرار رہی۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد ہنگری آزاد تو ہوا لیکن عملاً سوویت یونین کے زیراثر رہا۔ افغانستان میں شکست کے بعد جب سوویت یونین کی شکست و ریخت کا سلسلہ شروع ہوا تو انقلاب 1989 کے نتیجے میں ہنگری جمہوری ریاست بن گیا اور 2004 میں ہنگری نے یورہی یونین کی رکنیت اختیار کرلی جسکے تین سال بعد ہنگری یورپ کے  کھلی سرحد معاہدے شیینگن (Schengen)کا حصہ بن گیا۔ ہنگری قوم کو مجیّار (Magyar)کہا جاتا ہے اسلئے ہنگری کا سرکاری نام Magyar Orszag یا مجیاروں کا وطن ہے۔

 انتخابی نظام اور حالیہ نتائج

اتوار 12 اپریل کو ہنگری کی 199 رکنی قومی اسمبلی کے انتخابات ہوئے۔ یہاں کے مخلوط طرز انتخاب کے تحت 106 نشستیں پاکستان اور ہندوستان کی طرح حلقہ جات کی بنیاد پر ہیں جبکہ 93 نشستیں متناسب نمائندگی کے اصول پر پر جماعتوں کو اسکے حاصل کردہ ووٹوں کی بنیاد پرعطاہوتی ہیں۔ ہنگری ایک ایوانی (Unicameral) پارلیمانی جمہوریت ہے اور قومی اسمبلی کے علاوہ کوئی دوسرا ایوان، یعنی سینیٹ یا ایوانِ بالا موجود نہیں۔

نتائج کے مطابق افتخارِ حریت پارٹی (Tisza)نے 53.3 فیصد ووٹ لیکر قومی اسمبلی کی 138 نشستیں جیت لیں۔ وزیراعظم اوربن کے ہنگری اتحاد (Fidsez-KDNP) 55 نشستوں کیساتھ دوسرے نمبر پر رہا۔ حکمراں اتحاد نے مجموعی طور ہر 38.3 فیصد ووٹ لئے۔چار سال پہلے ہونے والے انتخابات میں اوربن کی جماعت نے 135 نشستیں حاصل کی تھیں۔انتخابات میں ووٹ ڈالنے کا تناسب 79.51فیصد رہا جو گزشتہ انتخابات سے تقریباً 10 فیصد زیادہ ہے۔

سیاسی صف بندیاں اور عالمی تناظر

ہہ انتخابات مشرق وسطیٰ کی حالیہ کشیدگی کے تناظر میں بے حد اہم تھے کہ 2010 سے برسراقتدار قدامت پسند وزیراعظم وکٹر اوربن اسرائیل اور صدر ٹرمپ کے پرجوش حامی ہیں۔ عالمی فوجداری عدالت (ICC)کے وارنٹ پر انہوں نے نیتن یاہو کے حق میں کھل کر مؤقف اپنایا، جس سے ان کی خارجہ پالیسی کا جھکاؤ واضح ہوتا ہے۔ باسٹھ سالہ اوربن خود کوصدر ٹرمپ کا نظریاتی اتحادی کہتے ہیں۔

دوسری جانب، Tisza پارٹی اور اس کے قائد پیٹر مجیار) (Péter Magyar،یورپی یونین کے ساتھ مضبوط تعلقات کے حامی ہیں۔ یورپی یونین کی سربراہ محترمہ ارسلا وانڈڑلین نے اس تبدیلی کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ آج یورپ کے دل کی دھڑکن تیز ہوگئی ہے۔

 

انتخابات سے قبل حلقہ بندیوں میں تبدیلی پر حزب اختلاف نے “gerrymandering”  کا الزام لگایا، جس سے انتخابی عمل کی شفافیت پر سوالات اٹھے۔ تاہم بلند ٹرن آؤٹ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ عوام نے بھرپور انداز میں جمہوری عمل میں حصہ لیا۔

ہنگری کے عوام نے تبدیلی کے حق میں فیصلہ دے دیا ہے، مگر اصل امتحان اب شروع ہوگا جناب پیٹر مجیار کی قیادت میں نئی حکومت کو ایک نازک توازن قائم کرنا ہوگا۔ ایک طرف یورپی یونین کے ساتھ تعلقات کی بحالی، اور دوسری جانب داخلی معیشت، مہنگائی اور عوامی توقعات کا دباؤ۔

وکٹر اوربن کے طویل دورِ اقتدار کے بعد ریاستی اداروں، پالیسیوں اور سیاسی کلچر میں تبدیلی آسان نہیں ہوگی۔ مزید یہ کہ عالمی سیاست میں بڑھتی ہوئی تقسیم خصوصاً امریکہ، یورپ اور مشرقِ وسطیٰ کے تناظر میں ہنگری کے لیے نئی آزمائشیں لے کر آئے گی۔

اگر نئی قیادت شفافیت، جمہوری اقدار اور معاشی استحکام کو یقینی بنانے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو ہنگری واقعی یورپ کے دل کی ایک نئی دھڑکن بن سکتا ہے۔ بصورتِ دیگر، یہ تبدیلی بھی محض ایک اور سیاسی تجربہ ثابت ہوگی، جس کے اثرات صرف ہنگری تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پورے یورپ میں محسوس کیے جائیں گے۔

ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل کراچی 26 اپریل 2026