Thursday, September 10, 2026

 

غزہ سے ’’ہجرت‘‘ یا جبری بے دخلی؟

مقبوضہ فلسطین میں قبضہ گردوں کا تشدد  اور اسرائیل کی بدلتی سیاست

لبنان، غربِ اردن اور غزہ اس ہفتے بھی بمباری، میزائل حملوں، فائرنگ، قبضہ گردی اور فوجی کاروائیوں کی لپیٹ میں رہے۔ جنوبی لبنان کے قصبے مفدون پر حملے میں خواتین اور بچوں سمیت متعدد افراد جاں بحق ہوئے۔ اتوار 6 ستمبر کو کفر ریمن پر شدید بمباری کی گئی جس میں بچوں سمیت 11 افراد مارے گئے۔جسکے بعد اسرائیلی ڈرون نے زخمیوں کو ہسپتال منتقل کرنے والی ایمبیولینس کو نشانہ بنایا اور طبی عملے کے دوافراد اپنی جان سے گئے۔ اسی روز نبطیہ کا جدید غندور ہسپتال اسرائیلی بمباری سے تباہ ہوگیا۔

 فلسطینی علاقوں میں گھروں، کھیتوں، مویشیوں اور زیتون کی فصلوں پر حملے معمول بنتے جارہے ہیں۔ یہ واقعات کسی ایک دن یا ایک محاذ کی کہانی نہیں، بلکہ ایک پوری قوم کے خلاف جاری مسلسل تشدد کا نقشہ ہے، جسے دنیا دیکھ تو رہی ہے مگر روک نہیں پا رہی۔

غزہ کی ’’رضاکارانہ ہجرت‘‘ — ایک نیا بیانیہ

غزہ سے فلسطینیوں کا انخلا اب اسرائیل کا قومی بیانیہ بنتا جارہا ہے۔ قومی سلامتی کے وزیر اتامر بن گوئر نے غزہ کی تقریباً پوری آبادی کو 'رضاکارانہ ہجرت ' کے ذریعے سات برس کے اندر بیرونِ ملک منتقل کرنے کا منصوبہ پیش کردیا۔ منصوبے میں سفر، رہائش، پیشہ ورانہ تربیت اور 24 ماہ تک مالی معاونت شامل ہے۔ فلسطینیوں کو آباد کرنے والے ممالک کو بھی فی فرد ادائیگی کی تجویز ہے۔ اس منصوبے کے لئے ابتدائی طور پر 3 ارب ڈالر اور بعد میں 15.2 ارب ڈالر تک ’’مطابقتی اعانت‘‘ (Matching Fund)کی پیشکش کی گئی ہے۔

جبری بے دخلی کو ہجرت نہیں کہا جاسکتا

وزیرِ دفاع اسرائیل کاٹز بھی کہہ چکے ہیں کہ غزہ کا ’’حقیقی حل‘‘ فلسطینیوں کی ہجرت کے بغیر ممکن نہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ جس سرزمین پر بمباری، محاصرہ، تباہی اور مسلسل بے گھری کے ذریعے زندگی ناقابلِ برداشت بنا دی جائے، وہاں سے جانے کو ’’رضاکارانہ‘‘ کیسے کہا جاسکتا ہے؟ کسی قوم کو اس کی سرزمین سے اجتماعی طور پر بے دخل کرنا بین الاقوامی قانون کے تحت سنگین جرم ہے۔ اگر یہ عمل نسلی شناخت کی بنیاد پر ہو تو اسے ’’نسلی تطہیر‘‘ کے سوا کوئی اورنام نہیں دیا جاسکتا۔ اہم سوال یہ نہیں کہ فلسطینی کہاں جائیں گے، بلکہ یہ ہے کہ کیا دنیا کسی قوم کو اس کی اپنی سرزمین سے نکالنے کے منصوبے کو محض ’’ہجرت‘‘ کے خوبصورت نام پر قبول کرلے گی؟ غزہ خالی کرانا ’’ہجرت‘‘ نہیں، فلسطینیوں کے حقِ وطن کا خاتمہ ہوگا۔

غربِ اردن — عبادت گاہیں، گھر اور کھیت سب نشانہ

اس ہفتے نابلوس قبضہ گروں کا خاص ہدف رہا۔ مداما میں تاریخی جامع مسجد نورالدین زنگی کو آگ لگا دی گئی۔ آگ بجھانے کی کوشش کرنے والے فلسطینیوں کو پولیس نے تشدد کا نشانہ بنایا، جبکہ مسجد میں محصور نمازی آنسو گیس کے شیلوں سے زخمی ہوئے۔ بزاریا کی مسجد بھی نذرِ آتش کردی گئی اور جاتے جاتے دیواروں پر عبرانی میں ’’انتقام‘‘ لکھ دیا گیا۔معلوم نہتے فلسطینیوں پر حملہ کرکے مسلح آبادکار کس سے اور کس بات کا انتقام لے رہے ہیں؟

پتھروں سے ڈرون کا مقابلہ

غرب اردن کے بچے غلیلوں سے اسرائیلی بندوقوں کا مقابلہ کئی دہائی سےکررہے ہیں۔ گزشتہ ہفتے قلقیلیہ کے گاوں ججاج شرقی میں 'لڑکوں' نے پتھراو کرکے قبضہ گردوں کا ایک ڈرون گرالیا۔ یہ ایک ویڈیو بنانے والا ڈرون تھا۔کچھ دیر بعد مسلح قبضہ گرد گاوں پہنچے اور ڈرون کی واپسی کا مطالبہ کیا۔ ان دہشت گردوں کی مدد کیلئے اسرائیلی فوج آگئی۔ سپاہیوں کی فائرنگ سے 20 سالہ عمر محمد طوباسی جاں بحق اور کئی بچے زخمی ہوگئے

 

دیہات اور کھیت — زندگی کی کمائی خاکستر

جنوبی نابلوس کے گاؤں اوصرین میں کئی مکانات جلا دئے گئے۔ عسکر میں فوجی کارروائی کے دوران متعدد نوجوان گرفتار ہوئے۔ قصٰری میں ایک فلسطینی خاندان کے گھر پر قبضہ کرکے آبادکاروں نے بالکونی میں خود گرفتہ تصویر (selfie)بنائی اور اسے فخریہ انداز میں سوشل میڈیا پر نشر کیا۔ایک اور گاؤں میں کاشتکاروں کو گھروں سے نکال کر عارضی حراست کدےمیں بند کیا گیا، جس کے بعد ان کی زیتون کی کھڑی فصلوں پر بلڈوزر پھیر دئے گئے اور جالیوں کے پیچھے کھڑے یہ کسان اپنی زندگی بھر کی کمائی کو مٹی ہوتا دیکھتے رہے۔

رام اللہ — سڑکوں پر حملے، ایک  نوجوان کو چلتی  گاڑی سے باہر پھینک دیا گیا

رام اللہ کے علاقوں المغیر اور ابوالفلاح میں کاروں پر حملوں میں تین سگے بھائیوں سمیت متعدد فلسطینی زخمی ہوئے۔ اسی علاقے میں ایک گرفتار نوجوان کو چلتی فوجی گاڑی سے باہر پھینک دیا گیا۔ اس درندگی کا بصری تراشہ ٹائمز آف اسرائیل نے جاری کیا۔

امریکی تشویش — مگر عملی اقدام؟

اسرائیل میں امریکی سفیر مائک ہکابی نے رام اللہ میں قبضہ گروں کے ہاتھوں تباہ شدہ گھروں اور باغات کا جائزہ لیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’’دہشت گردوں کے خلاف بلا امتیاز کارروائی ہونی چاہیے‘‘۔یادش بغیر تحریک پاکستان کے دوران مسلم کش فسادات کے بعد گاندھی جی بھی متاثرہ علاقے کا دورہ کرتے ہوئے مسلمانوں سے تعزیت کے ساتھ اسی طرح تشویش کا اظہار فرماتے تھے۔

اسرائیل میں داخلی بحران — فوجی بھرتی سے استثنیٰ کا مطالبہ

فلسطینیوں کے خلاف امتیازی روئے کے ساتھ اسرائیل میں ایک اور تنازع شدت اختیار کر رہا ہے اور وہ ہے حفظِ توریت مدارس (یشیوا) کے طلبہ کو لازمی فوجی بھرتی سے استثنیٰ۔ تل ابیب میں فوجی بھرتی مرکز کے باہر حریدی طلبہ اور ربائیوں نے مظاہرہ کیا۔ ان کے پلے کارڈ پر لکھا تھا: ’’فوج میں بھرتی سے بہتر تھا ہم ہولوکاسٹ میں یہودی کی حیثیت سے مر جاتے۔‘‘اسی ہفتے حریدی علما کا ایک وفد واشنگٹن میں صدر ٹرمپ سے ملا اور اسرائیلی حکومت پر دباؤ ڈالنے کی درخواست کی تاکہ استثنیٰ برقرار رکھا جائے۔

امریکی سیاست — اسرائیل کے بائیکاٹ پر پابندی کا بل

امریکی ایوانِ نمائندگان نے 3 ستمبر کو ایک بل منظور کیا ہے جس کے تحت اسرائیل کا بائیکاٹ کرنے والی جامعات کی وفاقی اعانت بند کی جاسکے گی۔ قرارداد 169 کے مقابلے میں 237 ووٹوں سے منظور ہوئی، جن میں ڈیموکریٹک پارٹی کے 33 ارکان بھی شامل تھے۔ یہ بل تعلیمی آزادی اور امریکی آئین کی پہلی ترمیم سے متصادم ہے۔ اس قانون کے بعدجامعات کےبجائے،  واشنگٹن یہ فیصلہ کرے گا کہ وقف رقوم  کی سرمایہ کاری کس ملک میں کی جائے۔  بل اب سینیٹ میں پیش ہوگا، جہاں سے اس کی منظوری یقینی دکھائی دیتی ہے۔

رعم پارٹی کا فیصلہ: سیاسی پل کی تعمیر

انتہاپسندانہ ماحول کے باوجود اخوانی فکر سے وابستہ اسرائیل کی رعم (Ra’am) پارٹی نے یہودی سیاسی رہنما اور سابق رکنِ پارلیمان یوآو سیگالووِٹز کو آئندہ انتخابات کے لیے ٹکٹ جاری کیا ہے۔ اسرائیل میں کنیسہ (پارلیمان) کے انتخابات متناسب نمائندگی (Proportional Representation) کے نظام کے تحت ہوتے ہیں۔ ووٹر کسی امیدوار کو براہِ راست منتخب کرنے کے بجائے جماعت کو ووٹ دیتے ہیں۔ یاوو سیگوکووٹز کانام رعم کی فہرست میں منصور عباس کے بعد دوسرے نمبر پر ہوگا۔ کسی جماعت کی فہرست میں دوسرے نمبر پر ہونا محض علامتی حیثیت نہیں رکھتا بلکہ پارلیمان تک پہنچنے کا مضبوط راستہ ہے۔منصورعباس کافی عرصے سے ایسی سیاست کی بات کررہے ہیں جس میں عرب اور یہودی شہریوں کے مشترکہ مسائل، مساوی شہری حقوق اور سیاسی شراکت کو مذہبی و قومی تقسیم پر ترجیح دی جائے۔ سیگالووِٹز نے بھی عرب و یہودی شہریوں کے درمیان سیاسی پل تعمیر کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ شاید یہی وہ راستہ ہے جس سے بڑھتی ہوئی مذہبی منافرت اور انتہاپسندی کا مقابلہ کیا جاسکتا ہے۔ ایک طرف اسرائیل میں مذہبی، قومی و سیاسی تقسیم گہری ہوتی جارہی ہے، آبادکاروں کا تشدد بڑھ رہا ہے اور غزہ کے فلسطینیوں کو باہر منتقل کرنے کی تجاویز سامنے آرہی ہیں، دوسری طرف اسی اسرائیل میں ایک عرب جماعت، یہودی سیاست دانوں کو اپنی صفِ اول میں شامل کررہی ہے۔

فلسطین میں جاری تشدد، غزہ سے آبادی کے انخلا کی تجاویز، مسجدوں پر حملے، گھروں اور کھیتوں کی تباہی اور امریکی جامعات پر اسرائیل کے بائیکاٹ کے حوالے سے قانون سازی—یہ سب ایک ایسی سیاسی فضا کی عکاسی کرتے ہیں جس میں اختلاف بتدریج دشمنی اور دشمنی تشدد میں تبدیل ہورہی ہے۔ لیکن اسی ماحول میں منصور عباس اور یوآو سیگالووِٹز کا سیاسی اشتراک ایک مختلف امکان کا راستہ ہموار کررہا ہے۔ مذہبی شناخت کو سیاسی دیوار بنانے کے بجائے عدل، مساوات، شہری حقوق، امن اور انسانی وقار کے لئے مشترکہ میدان تلاش کرنا  سب سے مشکل کام لیکن اس خطے کی اہم ترین سیاسی ضرورت  ہے۔

ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل کراچی 11 ستمبر 2026

ہفت روزہ دعوت دہلی 11 ستمبر 2026

ہفت روزہ رہبر سرینگر 13 ستمبر 2026


 

جنگ یا ’Small Potatoes‘؟

بڑھتے ہوئے نقصانات  اور جنگ کے مقاصد کا سوال

امریکی فوج کے اعلیٰ کمانڈروں جانب سے اہم ترین عسکری دستاویز Secretary of Defense Orders Book (SDOB)میں ایران کے خلاف طویل عرصے تک جنگ جاری رکھنے کے مضمرات پر انتباہ کے باوجود صدر ٹرمپ خلیج فارس میں عسکری کاروائی کاروائی جاری رکھے ہوئے ہیں۔بری، بحری اور فضائی افواج کے سربراہوں کے علاوہ متعدد چار ستارہ جرنیلوں نے خبردار کیا ہے کہ ایران کے خلاف بڑے پیمانے کی فوجی کارروائیوں کو طول دینا امریکی عسکری صلاحیت کے لیے نقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے۔

شہری ہلاکتیں

امریکی حملوں میں شہری نقصان کی خبریں بھی ہیں۔ دو ستمبر کو کوہستک بندرگاہ کے قریب  شادی کی ایک تقریب پر امریکی طیاروں نے بم برسائے جس میں ایک بچے سمیت چار افراد جاں بحق اور 50 زخمی ہوگئے۔ جنگ کے آغاز پر 28 فروری کو اسی صوبے ہرمزگان میں کم سن لڑکیوں کا ایک اسکول امریکہ اور اسرائیلی بمباروں کا نشانہ بنا جس میں سینکڑوں بچیاں زندہ دفن ہوگئیں تھیں۔ایران نے جواباً کوئت میں علی السالم اڈے پر امریکی کمانڈ پوسٹ اور ڈرون اڈہ تباہ کرنے کا دعویٰ کیاہے اوراس حملے میں بھی شہری نقصانات کی اطلاعات ہیں۔

آبنائے ہرمز: کھلی ہے یا عملاً رکی ہوئی؟

آبنائے ہرمز کے معاملے میں صدر ٹرمپ کا دعویٰ ہے کہ یہ اہم بحری راستہ کھلا ہوا ہے اور روزانہ لاکھوں بیرل تیل بلا روک ٹوک اس سے گزر رہا ہے۔ تاہم بحری ٹریفک پر نظر رکھنے والے حلقے اس دعوے سے پوری طرح اتفاق نہیں کرتے۔ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ بھی آبنائے ہرمز کے ذریعے آمدورفت میں پیدا ہونے والی رکاوٹوں اور غیر یقینی صورت حال کی طرف اشارہ کرتا ہے۔

رائٹرز اور ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق 28 اگست سے 6ستمبر تک آبنائے ہرمز سے اوسطاً 10 تجارتی جہاز یومیہ گزرے ہیں۔ یہ مئی کے بعد کی کم ترین سطح ہے۔ ایک دن صرف دو اور دوسرے دن چھ جہازوں نے آبنائے عبور کی۔ جنگ سے پہلے آبنائے ہرمز سے روزانہ تقریباً 130 سے 150 تجارتی جہاز گزرتے تھے۔ اگر معمول کے 130 سے 150 جہازوں کے مقابلے میں صرف 10 جہاز روزانہ گزر رہے ہوں تو اسے ’’مکمل طور پر کھلا ہوا‘‘ کہنا کس حد تک درست ہے؟ امریکی صدر اپنے کھلے منہہ سے جو چاہے کہتے پھریں، ہرمز عملاً بند ہے۔ دلچسپ بات کہ گزشتہ ہفتے صدرٹرمپ نے اپنے نجی سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر آبنائے ہرمز کا نام بدل کر آبنائے ٹرمپ  رکھنے کی تجویز بھی پیش کردی۔ جنگی بحران کے دوران نام بدلنے کی یہ تجویز شاید سیاسی طنز کے لئے دلچسپ ہو، لیکن عالمی تجارت اور توانائی کی سلامتی کے لئے یہ آبنائے محض ایک نام نہیں بلکہ دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں سے ایک ہے۔

بہتوں کی جان گئی، آپ کی اداٹہری

امریکی صدر  اس تصادم کو جنگ کہنے کے لئے تیار نہیں۔ گزشتہ ہفتے انہوں نے ایران کے ساتھ جاری چھ ماہ سے زائد عرصے کے فوجی تصادم کو “small potatoes for us” یعنی ’’ہمارے لیے معمولی سی بات‘‘ قرار دیا۔ اسی روز نائب صدر  جے ڈی وانس نے بھی کہا کہ اسے جنگ نہیں کہا جائے گا کیونکہ فائرنگ نہیں ہورہی۔ امریکی وزیر تجارت ہاورڈ لٹنک دو ستمبر کو یہاں تک کہ گئے کہ یہ جنگ ہے ہی نہیں اور اس میں کوئی امریکی فوجی ہلاک نہیں ہوا ہم تو بس ایرانی معیشت کا گلا گھونٹ رے ہیں۔ جنگ کے آغاز پر صدر ٹرمپ نے اسے  Excursionکہا جسکا اردو ترجمہ تو محدود کاروائی ہے لیکن یہ لفظ تفریح کیلئے بھی استعمال ہوتا ہے۔ یوں چھ ماہ سے جاری ایک بڑے فوجی تصادم کے لئے کبھی ’’Excursion‘‘ اور کبھی “Small Potatoes” جیسے الفاظ کا انتخاب سفاکیت اور بے حسی کا اظہار ہے۔ تاہم الفاظ خواہ کچھ بھی ہوں، میدان جنگ کے اعداد و شمار اپنی الگ زبان بولتے ہیں۔ اس تصادم میں اب تک 18 امریکی فوجی ہلاک اور 790 زخمی ہوچکے ہیں۔ ایران میں ہلاک اور زخمی ہونے والے شہریوں کی تعداد بھی ہزاروں میں بتائی جارہی ہے۔

امریکی صدر کے  بیان پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے سینیٹ میں قائد حزب اختلاف سیننٹر چک شومر نے کہا کہ جس جنگ میں ہمارے 18 کڑیل جوان مارے گئے ہوں اسے small potatoes کہنا فوج کے کمانڈر انچیف کو زیب نہیں دیتا۔ ریاست ایریزونا کے سینیٹر اور امریکی بحریہ کے سابق افسر مارک کیلی نے کہا کہ سڑک پر چلتا ایک عام آدمی (Randos)بھی اس جنگ کو ٹرمپ انتظامیہ کے مقابلے بہتر طریقے سے لڑسکتا ہے۔ ٹرمپ صاحب کے ہر small potatoes کے پیچھے ایک انسان، ایک خاندان اور ایک المیہ ہے، ماوں کیلئےایسا سانحہ جو وہ کبھی نہیں نہیں سکیں گی

امریکی زخمیوں کی تعداد بڑھتی جارہی ہے

صدر ٹرمپ اس تصادم کو کوئی بھی عنوان دیں، امریکی فوجیوں کے زخمی ہونے کا سلسلہ رکنے کا نام نہیں لے رہا۔ پانچ ستمبر کو ABC ٹیلی ویژن کی ایک رپورٹ کے مطابق ایران کے ساتھ جاری تصادم میں زخمی ہونے والے امریکی فوجیوں کی تعداد 790 ہوگئی۔ اس سے ایک روز قبل یہی تعداد 767 بتائی گئی تھی، جبکہ 28 اگست کو 758 اور 21 اگست کو 756 تھی۔واشنگٹن اب بھی اس تصادم کو ’’جنگ‘‘ کہنے سے گریزاں ہے۔کہیں ایسا تو نہیں کہ تھکی ہوئی امریکی سپاہ بھی اس ’غیر جنگ‘ کے خاتمے کی منتظر ہے؟

ایران کی اسلامی حکومت کا خاتمہ: اصل ہدف؟

ادھر عبرانی سالِ نو، روش ہشنا پر فوجی جرنیلوں سے خطاب کرتے ہوئے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے کہا کہ اسرائیل کا بنیادی مشن ایران سے اسلامی حکومت کا خاتمہ ہے اور اب یہ ہدف بہت زیادہ دور نہیں۔ انکا کہنا تھا کہ ایرانی حکومت کمزور ہوکر لڑکھڑا رہی ہے جسکا خاتمہ اب ‘بالکل قریب’ ہے۔ یہ کوئی معمولی سیاسی جملہ نہیں بلکہ سالِ نو کے فوجی جشن میں جرنیلوں سے  خطاب اسرائیل کی عسکری حکمتِ عملی کا اعلان ہے۔ اب یہ بات بالکل واضح ہو گئی ہے کہ اسرائیل کا اصل ہدف ایران کا جوہری پروگرام نہیں بلکہ اسلامی حکومت کا خاتمہ ہے۔

کیا امریکہ اور اسرائیل اس معاملے میں ایک صفحے پر ہیں؟

 اسرائیل کی طرح امریکہ کھلے لفظوں میں تبدیلی اقتدار یا رجیم چینج کی بات نہیں کرتا، مگر ایران کو کمزور کرنے، اس کے اثر و رسوخ کو محدود کرنے اور اس کی علاقائی طاقت کو گھٹانے میں دونوں ممالک کی تزویراتی ہم آہنگی نمایاں ہے۔ فرق صرف طریقہ کار کا ہے۔ امریکہ کی ترجیح سفارتی دباؤ اور اقتصادی پابندیاں ہیں جبکہ اسرائیل براہِ راست فوجی کارروائی کو اپنی حکمت عملی کا نمایاں حصہ بنائے ہوئے ہے۔

خونریز جنگ کو Excursion  کہیں یا Small Potatoes، الفاظ بدلنے سے اس کی حقیقت نہیں بدلتی۔ اٹھارہ امریکی فوجیوں کی قبریں، 790 زخمی فوجیوں کے خاندان، ایرانی شہریوں کی ہلاکتیں اور اسکولوں و گھروں میں جان سے جانے والے بے گناہ انسان کسی لغت کے محتاج نہیں۔ صدر ٹرمپ کے لئے شاید یہ تنازعہ ایک بڑے عالمی کھیل کا محض ایک مرحلہ ہو، فوجی حکمت عملی کا ایک باب ہو یا معاشی دباؤ کا ذریعہ، لیکن جس گھر میں تابوت پہنچتا ہے وہاں Small Potatoes نام کی کوئی چیز نہیں ہوتی۔ جس جنگ میں مائیں اپنے بیٹے، بچے اپنے باپ اور خاندان اپنے پیارے کھو رہے ہوں، اسے معمولی کہنا انسانیت کی تذلیل ہے۔

ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل کراچی 11 ستمبر 2026

ہفت روزہ دعوت دہلی 11 ستمبر 2026

ہفت روزہ رہبر سرینگر 13 ستمبر 2026


 

نائن الیون  کی 25ویں برسی

  حملے کے فوراً بعد  جنگ— انصاف یا انتقام؟

گیارہ ستمبر کو امریکہ پر حملہ ہوا اور صرف 26 دن بعد، 7 اکتوبر 2001 کو امریکہ نے افغانستان پر فوجی یلغار کر دی۔طیارے اغوا کرنے والے 19 مبینہ افراد میں ایک بھی افغان شہری شامل نہ تھا۔امریکہ کے وفاقی محکمہ سراغرسانی FBI، کے مطابق ان میں 15 سعودی، دو اماراتی، ایک مصری اور ایک لبنانی تھا۔ امریکہ کے خیال میں اس منصوبے کے خالق و محرک اسامہ بن لادن اور ڈاکٹر ایمن الظواہری تھےجنھیں طالبان حکومت نے پناہ دے رکھی تھی۔جب امریکہ نے بن لادن کی حوالگی کا مطالبہ کیا تو طالبان نے ثبوت مانگے۔ کیا ایسے سنگین الزام پر شفاف تحقیقات کا مطالبہ غیر منطقی تھا؟ سوال یہ ہے کہ دہشت گردی کا جواب جنگ تھا یا انصاف؟

افغانستان کی تباہی اور تاریخ کا خونچکاں دائرہ

امریکہ نے افغانستان میں تقریباً بیس سال تک جاری رہنے والی جنگ شروع کی۔ طالبان حکومت ختم ہوئی، القاعدہ کو شدید نقصان پہنچا، اسامہ بن لادن 2011 میں مارے گئے اور بعد میں ایمن الظواہری بھی جاں بحق ہوگئے۔ اگر اصل مقصد ذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لانا تھا تو عالمی قانون اور عدالتی نظام کو مرکزی کردار کیوں نہ دیا گیا؟ لاکھوں افغان شہریوں کی ہلاکت، بے گھری، کھربوں ڈالر کے اخراجات اور پورے ملک کی تباہی کے بعد امریکہ 2021 میں افغانستان سے نکل گیا اور طالبان دوبارہ اقتدار میں آگئے۔ یعنی بیس سالہ جنگ کے بعد تاریخ ایک خونخوار دائرہ مکمل کرکے وہیں پہنچ گئی جہاں سے شروع ہوئی تھی۔

خالد شیخ محمد — اعتراف موجود، مگر شہادت ناقابلِ قبول

نائن الیون کے مبینہ مرکزی منصوبہ ساز خالد شیخ محمد کو 2003 میں پاکستان سے گرفتار کرکے امریکہ کے حوالے کیا گیا۔ وہ برسوں سی آئی اے کی خفیہ حراست میں رہے، انسانیت سوز تشدد کا سامنا کیا اور 2006 میں گوانتانامو منتقل کئے گئے۔ ان کے خلاف مقدمہ مسلسل قانونی تنازعات میں پھنسا رہا۔ تازہ پیش رفت یہ ہے کہ 28 اگست 2026 کو فوجی جج لیفٹیننٹ کرنل مائیکل شریما نے شیخ محمد کے ایف بی آئی کے سامنے دئے گئے اعترافات کو ناقابلِ قبول قرار دے دیا۔ عدالت کے مطابق استغاثہ یہ ثابت نہ کرسکا کہ یہ بیانات رضاکارانہ تھے۔ سی آئی اے کی حراست میں ہونے والا نفسیاتی و جسمانی جبر بعد کی پوچھ گچھ پر بھی اثر انداز ہوا۔یعنی اعتراف موجود ہے، مگر شہادت ناقابلِ قبول

تاریخ پر تاریخ — مقدمہ کیوں نہیں چل سکا؟

خالد شیخ محمد کا مقدمہ 2012 میں فوجی عدالت کے مرحلے میں پہنچا، مگر تشدد سے حاصل کئے گئے بیانات، شواہد کی قبولیت اور دیگر قانونی مسائل نے کارروائی کو آگے بڑھنے نہ دیا۔بارہ سال بعد 2024 میں سزائے موت کے بجائے عمر قید کے لیے ایک معاہدے (Plea Bargain) کی کوشش ہوئی، مگر وہ بھی ناکام ہوگئی۔ اب 5 جون 2028 کی تاریخ مقرر ہے، لیکن اعترافی شواہد کے اخراج کے بعد استغاثہ اپیل پر غور کر رہا ہے۔ یوں نائن الیون کے 27 سال بعد بھی مقدمے کا فیصلہ یقینی نہیں۔ جس واقعے میں چند گھنٹوں کے دوران دوتین ہزار انسان مارے گئے، اس کے مبینہ منصوبہ ساز کے مقدمے کا ایک چوتھائی صدی میں بھی فیصلہ کیوں نہ ہوسکا؟

نائن الیون کا اصل سبق — دہشت گردی کی مذمت اور انصاف کی ناگزیر شرط

اس سانحے کہ پچیسویں برسی پر حالات و واقعات کے عادلانہ تجزئے سے یہ  حقیقت سامنے آتی ہے کہ  دہشت گردی کی کوئی توجیہ نہیں۔ بے گناہ انسانوں کو نشانہ بنانا جرم ہے، چاہے مجرم کا تعلق کسی بھی مذہب، قوم یا نظریے سے ہو۔ لیکن دہشت گردی کے خلاف جنگ بھی قانون سے بالاتر نہیں ہوسکتی۔ اگر امریکہ دنیا کو قانون کی حکمرانی کا درس دیتا ہے تو نائن الیون کے معاملے میں بھی اسی اصول کو پوری قوت سے نافذ کرنا ہوگا۔ اسامہ بن لادن اور ایمن الظواہری راستے سے ہٹ چکے ہیں، افغانستان پھر طالبان کے ہاتھ میں ہے، اور گوانتانامو میں بیٹھا خالد شیخ محمد اب بھی فیصلے کا منتظر ہے۔ سب سے بڑھ کر پتھروں کے دور میں پہنچادئے جانیوالے لاکھوں افغانی پوچھ رہے ہیں کہ ہم کس جرم میں مارے گئے؟؟

ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل کراچی 11 ستمبر 2026

ہفت روزہ دعوت دہلی 11 ستمبر 2026

ہفت روزہ رہبر سرینگر 13 ستمبر 2026


Thursday, September 3, 2026

 

اسرائیل کی امریکی حمایت میں دراڑیں

مشرقِ وسطیٰ میں جاری خونریزی کو تین سال مکمل ہونے کو ہیں، مگر نہتے انسانوں کا قتل عام رکنے کے کوئی آثار دکھائی نہیں دیتے۔ لبنان سے غزہ اور غربِ اردن تک ہر طرف آگ، دھواں، بربادی اور بے بسی کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ جاری ہے۔ اس ہفتے بھی جنگ کے مختلف محاذوں پر ہونے والی کارروائیاں اس حقیقت کو مزید نمایاں کرتی ہیں کہ یہ تنازعہ اب محض عسکری نہیں رہا بلکہ انسانی، سیاسی اور اخلاقی بحران کی شکل اختیار کر چکا ہے۔

جنوبی لبنان—آگ جو دو دن نہ بجھی

جنوبی لبنان پر بمباری کا سلسلہ اس ہفتے بھی جاری رہا۔ لبنانی قصبے مرجیعون پر 25 اگست  کی بمباری سے لگنے والی آگ دو دن تک بجھائی نہ جاسکی۔ اسی دوران صور کے قصبے بیوت السید اور النبطیہ الفوق پر بمباری اور ڈرون حملوں نے فصلوں اور باغات کو شدید نقصان پہنچایا۔ جنگ کا یہ پہلو کم ہی زیرِ بحث آتا ہے کہ بمباری صرف انسانوں کو نہیں، بلکہ ان کی روزی، زمین اور معاشی زندگی کو بھی جلا کر راکھ کر دیتی ہے۔

غزہ کے آسمان پر بچوں کی پتنگیں۔ خطرے کی گھنٹیاں   

غزہ میں بچوں کے کھیل اب اسرائیلی نشانے پر ہیں۔ اسکول تباہ ہوچکے، لائبریریاں ملبے میں بدل گئیں، کھیل کے میدان اجڑ گئے۔ بچوں نے کھیلنے کو کچھ نہ پایا تو پتنگیں اڑانا شروع کردیں۔ ساحلی ہوائیں غزہ کی ’’گڈی‘‘ کو چند لمحوں میں آسمان پر پہنچا دیتی ہیں۔ کبھی ڈور ہاتھ سے چھوٹ جائے تو پتنگ اسرائیلی چوکیوں کے قریب جاگرتی ہے۔ اب تک کسی پتنگ سے کوئی دھماکہ نہیں ہوا، نہ کسی جانی نقصان کی اطلاع ہے، مگر اسرائیلی حکام اسے ’’ممکنہ خطرہ‘‘ اور ’’نئے 7 اکتوبر‘‘ کی پیش بندی کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ نتیجتاً غزہ کے ساحلی خیمہ بستیوں میں ’’پتنگ فیکٹریوں‘‘ کو تباہ کرنے کے لئے بمباری اور ڈرون حملے شروع کر دیے گئے ہیں۔ بورڈ آف پیس نے اسرائیلی ردِعمل کو غیر ضروری قرار دیا ہے، مگر غزہ کے بڑوں سے مطالبہ کیا ہے کہ پتنگ بازی بند کی جائے۔ جس انداز میں ان معمولی پتنگوں کو پیش کیا جا رہا ہے، یوں محسوس ہوتا ہے جیسے آسمان پر بچوں کی گڈیاں نہیں بلکہ ڈرون اور میزائل پرواز کر رہے ہوں۔

خان یونس اور شیخ رضوان—خیمہ بستیاں اور مسجدیں بھی محفوظ نہیں

خان یونس میں بے گھر فلسطینیوں کے خیموں پر بمباری جاری رہی۔ غزہ کے شیخ رضوان محلے کی مرکزی جامع مسجد اور پانی صاف کرنے کے پلانٹ (Desalination Plant) کو نشانہ بنایا گیا۔ ان حملوں میں ایک بچے سمیت چھ افراد جاں بحق ہوئے، جبکہ علاقے میں پینے کے پانی کی شدید قلت پیدا ہوگئی۔ الزویدہ اور دیرالبلاح پر بمباری سے متعدد افراد جان سے گئے۔ غزہ میں اب نہ عبادت گاہ محفوظ ہے، نہ پانی، نہ گھر، نہ کھیل، زندگی کا ہر پہلو جنگ کے نشانے پر ہے۔

مذہبی حساسیت یا انسانی حساسیت؟ اسرائیلی فوجیوں کا انکار

اسرائیلی فوج کی گیواتی بریگیڈ کے روتم بٹالین کے کچھ سپاہیوں نے غزہ میں ایک آپریشن کے لئے اس بکتر بند گاڑی میں سوار ہونے سے انکار کردیا جس میں ایک خاتون طبی کارکن بھی موجود تھی۔ کمانڈر کی ہدایات کے باوجود فوجی اپنی اختلاطِ مردوزن کے بارے میں تلمود و توریت کا  کا حوالہ دیتے رہے اور بالآخر مشن منسوخ کردیا گیا۔ مذہبی اصولوں کا احترام اپنی جگہ، مگر سوال یہ ہے کہ مذہبی حساسیت صرف اپنے طرزِ زندگی تک محدود رہتی ہے یا میدانِ جنگ میں دوسرے انسانوں کی جان کے احترام تک بھی پہنچتی ہے؟ تورات میں پاکیزگی اور عصمت کی تعلیم کے ساتھ انسانی جان اور انصاف کی حرمت بھی بنیادی اصول ہے۔ ایک خاتون پیرامیڈک کے ساتھ بیٹھنا ناقابلِ قبول، مگر نہتے شہریوں کی جان اور گھروں کی تباہی پر مذہبی حساسیت خاموش۔ حضرت عیسیٰؑ نے کیا خوب فرمایا تھا  "تم مچھر چھانتے اور سموچے اونٹ نگل جاتے ہو۔"

غربِ اردن—قبضے، حملے اور یادگاروں کی مسماری

غربِ اردن میں فلسطینی مکانوں پر قبضے، حملے اور لوٹ مار جاری ہے۔ نابلوس کے قصبے قصریٰ میں کئی گھروں پر آبادکاروں نے قبضہ کرلیا، اور فلسطینی ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی فوجی نگرانی میں ہوئی۔ مدما قبرستان میں شہدا کی یادگار بھی محفوظ نہ رہ سکی۔ عظمتِ یہود جماعت کے رکنِ پارلیمان زوی یدیدیا سوکوٹ نے خود تیشہ چلا کر یادگار کو مسمار کیا اور کتبے پر درج قرآنی آیات کی بے حرمتی کی۔ تصاویر میں فوجی جوان بھی موجود تھے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ کارروائی حکومتی سرپرستی میں ہوئی۔

صحافیوں اور کارکنوں پر حملے—تشدد کی نئی حدیں

نابلوس کے قصبے جالود میں آبادکاروں نے ایک پچاس سالہ خاتون کو تشدد کا نشانہ بنایا اور واقعے کی تصویر کشی کرنے والے NBC کے صحافیوں پر حملہ کیا۔جب 25 اگست کو جناتۃ میں اسرائیلی انسانی حقوق کے کارکن اور AFP کے صحافی فلسطینی گھروں کے گرد حفاظتی باڑ لگانے میں مدد کے لیے پہنچے تو نقاب پوش آبادکاروں نے ان پر دھاوا بول دیا۔ ڈنڈے برسائے، پتھر پھینکے، مرچوں کا اسپرے کیا۔ ایک 70 سالہ اسرائیلی کارکن کو شدید تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ چار گاڑیوں کے شیشے توڑے گئے، ٹائر پھاڑ دیے گئے۔اس ہفتے 28 اگست کو جنین پر ڈرون حملے میں تین نوجوان جاں بحق ہوئے۔

امریکی سینیٹ کا خط—بدلتی رائے عامہ کا اشارہ

غربِ اردن میں تشدد اور بیدخلی پر واشنگٹن میں بھی بے چینی بڑھ رہی ہے۔ امریکی سینیٹ میں ڈیموکریٹک پارٹی کے تمام 45 سینیٹروں نے وزیراعظم نیتن یاہو کو مشترکہ خط لکھ کر آبادکاروں کے تشدد، فلسطینیوں کی گرفتاریوں اور نئی آبادکاریوں پر سخت تشویش ظاہر کی۔ چشم کشا پہلو یہ ہے کہ دستخط کنندگان میں چک شومر، آدم شِف، کوری بوکر اور نو یہودی سینیٹرز شامل ہیں، یعنی وہ لوگ جو روایتی طور پر اسرائیل کے مضبوط حامی سمجھے جاتے ہیں۔ اس سال اپریل کے Pew سروے کے مطابق ڈیموکریٹک امیدواروں کو ووٹ دینے کا عندیہ دینے والے 80 فیصد افراد نے اسرائیل کے بارے میں منفی رائے ظاہر کی ہے ، جو گزشتہ سال 69 فیصد اور 2022 میں 53 فیصد تھی۔

انتخابی نتائج—نئی نسل کا بدلتا مزاج

ظہران ممدانی، عبدل السید اور عائشہ وہاب کی کامیابیاں اس بات کا اشارہ ہیں کہ ڈیموکریٹک حلقوں میں اسرائیل کے بارے میں پرانی غیر مشروط حمایت کمزور پڑ رہی ہے۔ کیا یہ کامیابیاں اسرائیل نواز ڈیموکریٹس کو اپنی حکمتِ عملی پر نظرثانی پر مجبور کر رہی ہیں؟ کچھ تجزیہ نگار اسے عارضی رجحان کہتے ہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ نئی نسل کے ووٹر، غزہ و غربِ اردن کی تصاویر، اور اسرائیلی پالیسیوں پر بڑھتی تنقید سب مل کر سیاسی فضا بدل رہے ہیں۔ اگر چک شومر جیسے دیرینہ حامی بھی اب نیتن یاہو حکومت سے بازپرس کر رہے ہیں تو یہ معمولی واقعہ نہیں بلکہ ایک بڑا سیاسی اشارہ ہے۔

نیتن یاہو کی انتخابی حکمتِ عملی—خوف کو ووٹ میں بدلنا

دوسری طرف نیتن یاہو نے خوف اور دشمنی کو اپنی انتخابی مہم کا عنوان بنالیا ہے۔ تل ابیب کی سڑک پر نصب ایک بڑے بل بورڈ پر رہبرِ ایران آئت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای، نیویارک کے رئیسِ شہر زہران ممدانئ، ترک صدر طیب اردوان اور حزب اللہ کے سربراہ شیخ نعیم قاسم کی تصویر کیساتھ عبرانی میں لکھا ہے ’’وہ چاہتے ہیں کہ نیتن یاہو ہار جائیں، انہیں جیتنے نہ دیں۔‘‘ یعنی نیتن یاہو کی شکست کو اسرائیل کے دشمنوں کی کامیابی کے طور پر پیش کیا جارہا ہے۔ دلچسپ بات کہ 2019 کے انتخابات میں نیتن یاہو،  ٹرمپ، پوتن اور مودی جیسے عالمی رہنماؤں کے ساتھ اپنی قربت کو طاقت کے نشان کے طور پر پیش کرتے تھے اور اس بار وہ اپنے مخالفین کو خوف کے استعاروں کے طور پر پیش کررہے ہیں تاکہ  خوف اور دشمنی کو ووٹ میں تبدیل کیا جائے۔

تین سال کی خونریزی نے یہ ثابت کردیا ہے کہ فوجی طاقت کسی ملک کو تباہ کرسکتی ہے، مگر سیاسی مسئلے کو لازماً حل نہیں کرتی۔ غزہ کے بچے اگر ملبے کے درمیان بھی پتنگ اڑانے کی خواہش رکھتے ہیں تو یہ صرف ایک بچے کا کھیل نہیں؛ یہ اس انسانی جبلت کی علامت ہے جو جنگ کے باوجود زندگی کی طرف لوٹنا چاہتی ہے۔ دوسری طرف واشنگٹن میں اسرائیل کے دیرینہ حامیوں کی زبان بدل رہی ہے، امریکی ووٹر کا مزاج تبدیل ہورہا ہے اور اسرائیل کے اندر انتخابی سیاست پہلے سے زیادہ خوف، دشمنی اور ’’وجودی خطرے‘‘ کے گرد گھوم رہی ہے۔ اسرائیل اور امریکہ  کو یہ جان لینا چاہئے کہ  فتح  ہمیشہ  طاقتور کی نہیں ہوتی بلکہ جیتتا وہ ہے جو یہ جان لے کہ طاقت کی بھی ایک حد ہوتی ہے۔ جنگ میدانِ جنگ میں جیتی جاسکتی ہے، مگر پائیدار امن صرف سیاست اور انصاف کی میز پر حاصل ہوتا ہے۔

ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل کراچی 4 ستمبر 2026

ہفت روزہ دعوت دہلی 4 ستمبر 2026

ہفت روزہ رہبر سرینگر 6 ستمبر 2026