ووٹ اور بارود کے درمیان عشرہ انتخابات
برازیل، اسرائیل اور امریکہ کے انتخابی
معرکے؛ جمہوری عمل پر جنگی سیاست کے سائے
اتوار
25 اکتوبر
سے 3 نومبر تک کے دس دنوں کو بجا طور پر ’’عشرۂ انتخابات‘‘ کہا جا سکتا ہے۔ اس
عرصے میں لاطینی امریکہ کی سب سے بڑی معیشت، برازیل میں صدارتی انتخاب کا فیصلہ کن مرحلہ
مکمل ہوا، اسرائیل میں پارلیمانی انتخابات ہوئے اور امریکہ میں وسط مدتی انتخابات
کی مہم اپنے عروج پر پہنچ گئی۔ بظاہر یہ تین الگ ملکوں کے انتخابی معرکے ہیں، لیکن
ان کے پس منظر میں عالمی سیاست، مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی اور جنگ کے امکانات نمایاں
رہے۔
برازیل:
فلسطین کے حامی لولا کی کامیابی
برازیل
میں 25 اکتوبر کو صدارتی انتخابات
کا دوسرا اور فیصلہ کن مرحلہ مکمل ہوا، جس میں فلسطینی ریاست کے حامی صدر لوئیز
اناسِیو لولا دا سلوا (Luiz Inácio Lula da Silva) چوتھی
صدارتی مدت کے لیے منتخب ہوگئے۔ چار اکتوبر کو ہونے والے پہلے مرحلے میں لبرل
پارٹی (PL) کے
فلاویو بولسونارو (Flávio Bolsonaro) 47.03 فیصد
ووٹوں کے ساتھ پہلے نمبر پر آئے تھے، جبکہ صدر لولا کو 45.16 فیصد ووٹ ملے تھے۔
چونکہ کوئی امیدوار مطلوبہ اکثریت حاصل نہ کرسکا، اس لیے دونوں کے درمیان براہِ
راست مقابلہ ہوا، جس میں لولا نے 51.79 فیصد ووٹ لے کر کامیابی حاصل کی۔
ٹرمپ
اور بولسونارو خاندان کی قربت
فلاویو
بولسونارو سابق صدر جائر بولسونارو کے صاحبزادے ہیں، جنہیں ڈونلڈ ٹرمپ کا سیاسی
حلیف سمجھا جاتا ہے۔ ٹرمپ نے جائر بولسونارو کے خلاف عدالتی کارروائی پر سخت
اعتراض کیا تھا اور ان کے خلاف مقدمے کو ’’وِچ ہنٹ‘‘
(Witch Hunt) یعنی سیاسی انتقام قرار دیتے ہوئے برازیل
پر بھاری درآمدی محصولات بھی عائد کیے تھے۔ لولا کی کامیابی کے اگلے ہی روز ٹرمپ
نے، کسی قابلِ تصدیق ثبوت کے بغیر، برازیل کے انتخاب کو ’’دھاندلی زدہ‘‘ قرار دے
دیا۔
فلسطین
کے لئے ایک اہم سفارتی آواز
صدر
لولا نے غزہ کی جنگ میں اسرائیلی حکومت کی پالیسیوں پر سخت تنقید کی، فلسطینیوں کے
حقِ خود ارادیت اور آزاد فلسطینی ریاست کی حمایت کی اور برازیل کی خارجہ پالیسی
میں فلسطین کے مسئلے کو نمایاں رکھا۔ کولمبیا میں
فلسطین کے حامی امیدوار ایوان سیپیڈا
(Iván Cepeda) جون کے صدارتی انتخاب میں شکست کھا چکے
ہیں۔ ایسے ماحول میں لولا کی کامیابی سے فلسطینیوں کو عالمی سطح پر ایک اہم سفارتی
حامی میسر رہے گا۔
اسرائیل:
انتخابی مہم میں ایران کا خطرہ
دو دن
بعد، 27 اکتوبر کو اسرائیل میں پارلیمانی انتخابات ہوئے۔ وزیراعظم بن یامین نیتن
یاہو کی انتخابی مہم میں ایران کے ساتھ کشیدگی اور جنگی بیانیہ نمایاں رہا۔ تل
ابیب اور دوسرے بڑے شہروں میں ان کے انتخابی بل بورڈوں پر عبرانی زبان میں لکھا
تھا: ’’ہمارے پاس جیتنے کا ایک ہی موقع ہے!‘‘ ان کے ساتھ نیتن یاہو اور امریکی صدر
ڈونلڈ ٹرمپ کی تصاویر، اسرائیلی پرچم اور جنگی طیارے دکھائے گئے۔ اس تشہیری مہم کا
تاثر یہ تھا کہ عسکری قوت اور ٹرمپ سے قربت ہی اسرائیل کو ایران کے خلاف فتح دلا
سکتی ہے۔
ایران:
انتخابی سیاست کا مرکزی موضوع
نیتن
یاہو اور ٹرمپ دونوں نے انتخابی مہم کے دوران ایران کے جوہری پروگرام کو اپنی
کامیابی کے طور پر پیش کیا۔ نیتن یاہو نے ایرانی جوہری خطرے کو اسرائیلی ووٹروں کی
حمایت حاصل کرنے کے لیے استعمال کیا۔ انہوں نے تل ابیب پر ایرانی جوہری حملے کی
ایک تخیلاتی تصویر بھی ٹویٹر پر
شائع کی۔ ان کے پیغام کا خلاصہ یہ تھا کہ ایران کا جوہری خطرہ باقی تمام سیاسی
تنازعات سے بڑا ہے اور ٹرمپ کے اقتدار کے باقی دو سال اسرائیل کے لئے اس خطرے کے
خاتمے کا تاریخی موقع ہیں۔ گویا نیتن یاہو کی مخالفت کرنے والے ووٹر اسرائیل کی
بقا کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔ دوسری طرف ٹرمپ ایران کے جوہری پروگرام کو تباہ یا
غیر مؤثر بنانے کا کریڈٹ لیتے ہوئے یہ تاثر دے رہے تھے کہ اس کامیابی کے مقابلے
میں موجودہ مہنگائی کی قیمت معمولی ہے۔ یوں ٹرمپ اپنی فوجی کامیابی کا دعویٰ کرکے
امریکی ووٹروں کو متاثر کرنا چاہتے تھے، جبکہ نیتن یاہو ایرانی خطرے کو اپنی قیادت
کے حق میں دلیل بنا رہے تھے۔
واشنگٹن:
انتخابات کے بعد نئی جنگ کا خدشہ
امریکہ
میں 3 نومبر کو وسط مدتی انتخابات (Midterm Elections) ہوئے۔
انتخابی مہم کے دوران صدر ٹرمپ نے کبھی مبہم اور کبھی واضح انداز میں اشارہ دیا کہ
ووٹنگ کے بعد ایران کے خلاف ایک مختصر مگر شدید فوجی کارروائی ہوسکتی ہے، جس میں
عسکری اہداف کے ساتھ توانائی کی تنصیبات بھی نشانہ بن سکتی ہیں۔ صدر نے ایک موقع
پر کہا کہ امریکہ ایران کے باقی ماندہ ایک یا دو اہم اہداف کو چند منٹوں میں نشانہ
بنا سکتا ہے۔ نیتن یاہو کے بیانات سے بھی یہی تاثر ملتا ہے کہ کسی نئی کارروائی
میں اسرائیل امریکہ کے شانہ بشانہ ہوگا۔
امریکی
سینیٹر کی تشویش
انتخابی
مہم کے بعد ایران پر حملے کے امکان کو محض قیاس آرائی سمجھنا درست نہیں۔ امریکی
سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کے رکن کرس مرفی
(Chris Murphy) نے 28 اکتوبر کو انکشاف کیا کہ بعض
سینیٹروں کو ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی کے منصوبے پر تفصیلی بریفنگ دی گئی
ہے۔ مرفی نے اس منصوبے پر سخت تشویش ظاہر کرتے ہوئے خبردار کیا کہ ایسی کارروائی
جنگ کو مزید پھیلا اور طویل کرسکتی ہے۔ ان کا بیان اس امر کا اشارہ ہے کہ واشنگٹن
میں نئی فوجی کارروائی کے امکانات پر سنجیدہ غور جاری ہے، اگرچہ صدر ٹرمپ نے ابھی
حتمی فیصلہ نہیں کیا۔
تہران
کا جواب: اگلی جنگ زیادہ طویل ہوسکتی ہے
امریکی
دھمکیوں کے جواب میں ایرانی فوج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل محمد اکرم نیا
(Mohammad Akraminia) نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکہ نے دوبارہ
جنگ مسلط کی تو یہ گزشتہ معرکے سے بھی زیادہ طویل ہوسکتی ہے۔ ان کے بقول جنگ کے
دورانیے اور اختتام کی شرائط کا فیصلہ صدر ٹرمپ نہیں کرسکیں گے۔ اس سے ایک روز قبل
ایران کے رہبرِ معظم آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای نے بھی فوجی قیادت کو ہدایت کی تھی
کہ کسی نئے امریکی یا اسرائیلی حملے کی صورت میں جواب جغرافیائی حدود تک محدود نہ
رکھا جائے اور امریکی و اسرائیلی اہداف کے دائرے کو وسیع کیا جائے۔ یہ بیانات خطے
میں ممکنہ نئے تصادم کے خطرے کی شدت ظاہر کرتے ہیں، اگرچہ دھمکیوں کو حقیقی عسکری
صلاحیت کا مکمل پیمانہ نہیں سمجھنا چاہیے۔
دوحہ:
سفارت کاری کا دروازہ ابھی کھلا ہے
جنگی
دھمکیوں کے متوازی سفارتی محاذ پر بھی مثبت پیش رفت جاری ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ
عباس عراقچی سفارت کاری کا راستہ کھلا رکھنے کی بات کر رہے ہیں، جبکہ ان کے امریکی
ہم منصب مارکو روبیو نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے ابھی نئے حملوں کا فیصلہ نہیں کیا
اورسفارتی حل امریکہ کی ترجیح ہے۔ رائٹرز کے مطابق ایرانی مذاکرات کار 31 اکتوبر
کو دوحہ میں قطری ثالثوں سے ملے، جہاں جنگ بندی اور تنازعے کے خاتمے کے امکانات پر
بات ہوئی۔ اس سے پہلے قطری وفد تہران میں ایرانی حکام سے بارہ گھنٹے سے زیادہ
مذاکرات کرچکا تھا اور واشنگٹن سے بھی مسلسل رابطے میں تھا۔ امریکہ چاہتا ہے کہ
ایران کا جوہری پروگرام ابتدا ہی سے مذاکرات کا حصہ ہو، جبکہ تہران کا اصرار ہے کہ
پہلے امریکی بحری ناکہ بندی ختم اور ایرانی تیل کی برآمدات پر پابندیاں اٹھائی
جائیں۔ اختلافات گہرے ضرور ہیں، لیکن مذاکرات کا جاری رہنا امید کا ایک اہم پہلو
ہے۔
اسرائیل
میں بھی نئی جنگ پر اختلاف
اسرائیلی
انتخابات کے بعد ایران کے خلاف ممکنہ نئی کارروائی پر داخلی اختلاف بھی نمایاں
ہونے لگا ہے۔ حزبِ اختلاف کی جماعت ڈیموکریٹس کے سربراہ یائر گولان
(Yair Golan) نے خبردار کیا ہے کہ ایران کے ساتھ ایک اور
فوجی تصادم کا امکان بڑھ رہا ہے، لیکن نیتن یاہو کے پاس ایسی جنگ کی قیادت کے لیے
مطلوبہ عوامی اعتماد، اخلاقی جواز اور بنیادی صلاحیت موجود نہیں۔ گولان کے مطابق
اسرائیل ایران کے ساتھ بار بار فوجی تصادم کے ایک ایسے سلسلے میں داخل ہوچکا ہے جو
نیتن یاہو کی ناکامی کو نمایاں کرتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اسرائیل کی سلامتی کو
وزیراعظم کی سیاسی بقا کی جدوجہد کا ذریعہ نہیں بننا چاہیے۔ یہ بیان ظاہر کرتا ہے
کہ ایران پالیسی پر اختلاف صرف اسرائیل اور اس کے بیرونی ناقدین کے درمیان نہیں،
خود اسرائیلی سیاسی قیادت میں بھی موجود ہے۔
مکہ
دفاعی معاہدہ: خطے میں مکالمے کی کوشش
اسی پس
منظر میں مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے رکن ممالک کے اعلیٰ عہدیداروں اور ایرانی
قیادت کی ملاقات بھی خاصی اہمیت رکھتی ہے۔ 26 اکتوبر کو تہران میں ہونے والی اس
ملاقات میں سعودی وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان، پاکستان کے فیلڈ مارشل عاصم
منیر اور ترکیہ کے سربراہِ قومی سراغرسانی ابراہیم قالن نے شرکت کی۔ ایرانی صدر
ڈاکٹر مسعود پزیشکیان اور قومی سلامتی کونسل کے سربراہ محسن رضائی سے بھی بات چیت
ہوئی۔ ایرانی صدر نے اس ملاقات کو حوصلہ افزا قرار دیتے ہوئے کہا کہ برادر ممالک
کے درمیان علاقائی سلامتی اور تعاون پر نتیجہ خیز گفتگو ہوئی۔ اس پیش رفت کا مثبت
پہلو یہ ہے کہ سعودی عرب کے دفاع کے لیے قائم ہونے والا یہ تعاون ایران کے ساتھ
براہِ راست مکالمے اور کشیدگی کم کرنے کی کوشش بھی کر رہا ہے۔ یمن میں حوثی تنازعے
اور ایران سعودی کشیدگی کو مزید پھیلنے سے روکنا پورے خطے کے مفاد میں ہے۔ امریکہ
ایران کشیدگی کے تناظر میں یہ علاقائی سفارت کاری خصوصی اہمیت اختیار کرگئی ہے۔
ووٹ کی
خوشبو اور بارود کا تعفن
منصفانہ،
آزادانہ، غیر جانب دار اور شفاف انتخابات مہذب معاشروں کی باوقار اور قابلِ فخر
سرگرمی ہیں، جن کے ذریعے شہری حقِ حکمرانی کی تجدید یا تبدیلی کا فیصلہ bloodکے
بجائے Ballot سے
کرتے ہیں۔ برازیل اور اسرائیل دونوں میں عوامی شرکت نمایاں رہی۔ برازیل میں ووٹ
ڈالنے کا تناسب تقریباً 80.8 فیصد اور اسرائیل میں 77.9 فیصد رہا۔ امریکہ میں بھی
انتخابی جوش و خروش دیدنی ہے۔ 29 اکتوبر تک تین کروڑ نوے لاکھ سے زیادہ امریکی قبل
از وقت یا ڈاک کے ذریعے ووٹ ڈال چکے تھے۔ ٹیکساس میں ہم نے خود وہیل چیئر پر بیٹھے
درجنوں بیمار اور ضعیف افراد کو ووٹ ڈالتے دیکھا، جن کے ساتھ آکسیجن سلنڈر بھی
تھے۔ یہ منظر جمہوری عمل میں شہریوں کی شرکت اور اپنے حقِ رائے دہی کے استعمال کے
عزم کی یاد دہانی ہے۔ امریکی
انتخابات کے نتائج کچھ بھی ہوں، انتخابی عمل میں عوام کی اس کثرت سے شرکت جمہوریت
کے لیے خوش آئند ہے۔ لیکن افسوس کہ بیلٹ پیپر کی خوشبوئے جانفزا کے پس منظر میں
بارود کا تعفن اس کی مسرت کو گہنا رہا ہے۔ برازیل، اسرائیل اور امریکہ کے انتخابی
مناظر ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ جمہوریت کا اصل حسن عوام کے حقِ انتخاب میں ہے، جبکہ
جنگی سیاست اس حق کے ثمرات کو خوف، عدم تحفظ اور تباہی میں بدل سکتی ہے۔ دنیا کو
اس وقت انتخابی نعروں سے زیادہ ایسے سیاسی فیصلوں کی ضرورت ہے جو عوام کے ووٹ کا
احترام کریں اور انہیں ایک اور جنگ کی قیمت ادا کرنے پر مجبور نہ کریں۔
ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل کراچی 6 نومبر 2026




