فلائی
دبئی کا واقعہ: دہشت گردی، مذہب اور انتخابی سیاست
فضائی سانحہ یا اسلام دشمن بیانیہ
دبئی
سے تل ابیب جانے والی فلائی دبئی کی پرواز FZ1073 پر پائلٹ
اور نائب پائلٹ کے درمیان پُر تشدد تصادم کی کہانی نے اب 'اسلامی دہشت گردی' کا رخ
دھار لیا ہے۔ واقعے کی تفصیل کچھ اسطرح ہے کہ 30 ستمبر کو بوئنگ 737 MAX-8کی
پرواز 174 مسافروں اور عملے کے چھ افراد
کو لے کر ابوظہبی سے روانہ ہوئی۔ تقریباً ڈھائی گھنٹے بعد نائب پائلٹ حمام
الحمامی اور پائلٹ سمت مچھر کے درمیان
مبینہ طور پر لڑائی شروع ہوگئی۔ پائلٹ کا کہنا ہے کہ نائب کپتان نے اس پر کلہاڑے
سے حملہ کیا تھا۔ اس کشکمش میں پرواز ناہموار ہوگئی اور جہاز چند لمحوں میں 33
ہزار فٹ سے 17 ہزار فٹ پر آگیا۔ زخمی کپتان نے ساری قوت جمع کرکے کاک پٹ کا دروازہ
کھولدیا اور بہت سے مسافر اندر پہنچ گئے۔ اسرائیلی
وزیراعظم کے مطابق جہاز میں موجود ایک پلمبر نے طیارے کو سنبھالنے میں مدد دی۔امریکی
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی اس "پلمبر" کی تعریف کی۔ بعض اطلاعات میں ایک
دندان ساز سمیت دیگر مسافروں کے کردار کا ذکر بھی کیا گیا ہے جنہوں نے مبینہ حملہ
آور کو قابو کرنے اور زخمی کپتان کی مدد کرنے میں حصہ لیا۔ بعد ازاں طیارے کو
سعودی عرب کے تبوک ایئرپورٹ پر بحفاظت اتار لیا گیا اور خوش قسمتی سے تمام مسافر
محفوظ رہے۔
ایک فضائی واقعے کا دہشت گردی کے بیانیے میں تبدیل ہونا
یہ
تو واقعے کی بیان کردہ روداد ہے، لیکن اس کے بعد رونما ہونے والی پیش رفت زیادہ
اہم ہے۔ روزانہ نئی کہانیاں سامنے آ رہی ہیں اور کاک پٹ میں ہونے والی مبینہ لڑائی
دھیرے دھیرے روایتی "اسلامک ٹیررازم" کے سانچے میں ڈھالی جا رہی ہے۔ بعض
حلقے اسے 11 ستمبر 2001ء کے حملوں کی نئی شکل قرار دینے لگے ہیں۔
دلچسپ
بات یہ ہے کہ پائلٹوں کی مکمل شناخت سامنے آنے سے پہلے ہی اسرائیلی وزیراعظم
بنیامین نیتن یاہو نے عندیہ دیا کہ واقعے کے پیچھے دہشت گردی کا امکان مسترد نہیں
کیا جا سکتا۔ ان کے بقول عمانی معاون پائلٹ " انتہاپسندانہ ذہن سازی" کا
شکار تھا۔ ساتھ ہی انہوں نے اعتراف بھی کیا کہ تحقیقات ابھی جاری ہیں اور یہ واضح
نہیں کہ وہ اکیلا کارروائی کر رہا تھا یا کسی نیٹ ورک کا حصہ تھا۔
ابوظبی اور تل ابیب کے بیانیوں میں تضاد
اس
معاملے میں ایک اور دلچسپ پہلو متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے مؤقف میں دکھائی
دینے والا فرق ہے۔ اسرائیلی چینل 12 کے مطابق اماراتی حکومت کے قریب ایک ذریعے نے
الزام لگایا کہ اسرائیلی قیادت اس واقعے کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کر رہی ہے
اور اس معاملے میں "منطق سے زیادہ انتخابات کارفرما ہیں"۔ اسی ذریعے کا
کہنا تھا کہ امارات اپنے طور پر تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہے اور معاملے کو منطقی
انجام تک پہنچانا چاہتا ہے، جبکہ اسرائیل کی جانب سے رکاوٹیں پیدا کی جا رہی ہیں۔
تاہم اگلے ہی روز متحدہ عرب امارات کے سفارتی مشیر انور قرقاش نے اس واقعے کو دہشت
گردی سے تعبیر کر دیا، جس کے بعد معاملہ مزید پیچیدہ ہوگیا۔
انتہاپسندی کی تعریف یا مذہبی شناخت؟
عمانی
نائب پائلٹ کے بارے میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ وہ مذہبی انتہاپسند تھا۔ مگر جو
علامات بطور ثبوت پیش کی جا رہی ہیں، وہ غیر معمولی نہیں۔ بتایا گیا کہ وہ نماز کا
پابند تھا اور خواتین سے مصافحہ نہیں کرتا تھا۔ مزید یہ کہ اس کی مبینہ دوہری
شہریت کی بات بھی کی جا رہی ہے لیکن یہ واضح نہیں کیا گیا کہ دوسری شہریت کس ملک
کی تھی۔سوال یہ ہے کہ جب ابھی تک اس شخص کی مکمل شناخت اور شہریت کے بارے میں غیر
یقینی صورتحال موجود ہے تو اس کی نظریاتی وابستگی کے بارے میں اس قدر قطعی رائے
کیسے قائم کر لی گئی؟ مزید یہ کہ جن اوصاف کو انتہاپسندی کی علامات قرار دیا جا
رہا ہے، وہ دنیا کے ہر پابند شریعت مسلمان میں پائی جاتی ہیں۔
انتخابی سیاست کا تناظر
اس
واقعے کو وسیع سیاسی تناظر میں بھی دیکھنے کی ضرورت ہے۔ اسرائیل میں 27 اکتوبر کو
عام انتخابات ہورہے ہیں اور نیتن یاہو قومی سلامتی اور بیرونی خطرات کو اپنی
انتخابی مہم کا بنیادی موضوع بنا چکے ہیں۔ چند روز قبل انہوں نے خبردار کیا تھا کہ
انتخابات سے پہلے اسرائیل پر حملے کے اشارے مل رہے ہیں اور ساتھ ہی یہ پیغام بھی
دیا گیا کہ اسرائیل کا "لمبا ہاتھ" اپنے دشمنوں تک کسی بھی وقت پہنچ
سکتا ہے۔ اتنے سنسنی خیز انکشاف کے حق میں نیتن یاہو نے کسی مخصوص دشمن،
حملے یا انٹیلی جنس معلومات کی تفصیل نہیں دی۔فلائی دبئی کے واقعے کو اس دھمکی سے
جوڑنا محض قیاس ہوگا۔ لیکن اس واقعے نے اسرائیل کے انتخابی ماحول میں سلامتی کے
سوال کو مزید نمایاں کردیا ہے۔
نیتن یاہو کا خفیہ دورۂ ابوظبی
اس
تمام پس منظر میں نیتن یاہو کا حالیہ دورۂ ابوظبی بھی توجہ کا مستحق ہے۔ انہوں نے
27 ستمبر کو متحدہ عرب امارات کا دورہ کیا۔ تل ابیب اور ابوظبی دونوں نے اس دورے
کو خفیہ رکھنے کی کوشش کی، تاہم سوشل میڈیا کے عہد میں ایسی معلومات کو پوشیدہ
رکھنا آسان نہیں رہا۔ بالآخر اماراتی خبر رساں ایجنسی WAM کو اس ملاقات کی تصدیق
کرنا پڑی۔ اہم سوال یہ ہے کہ اس ملاقات میں کیا گفتگو ہوئی اور وہ ایساکون سا
معاملہ تھا جس کے لئے اسرائیلی وزیراعظم انتخابی مصروفیات کے باوجود ابوظبی پہنچے؟
اگر موضوع معمول کا سفارتی رابطہ تھا تو پھر اتنی رازداری کیوں برتی گئی؟ کچھ تو
ہے جسکی پردہ داری ہے؟
سعودی عرب کا کردار اور غیر معمولی اجازت
ایک
عجیب اتفاق یہ بھی ہے کہ طیارہ سعودی فضائی حدودکے قریب پہنچا اور اسرائیل کے ساتھ
باضابطہ سفارتی تعلقات نہ ہونے کے باوجود سعودیوں نے ہنگامی صورتحال میں اسرائیلی
مسافروں کے طیارے کو اپنی سرزمین پر اترنے کی اجازت دیدی۔
میڈیا کی دیومالائی داستانیں یا اسلاموفوبیا
فلائی
دبئی کے نائب پائلٹ حمام الحمّامی کی انتہاپسندی کے بارے میں دیومالائی حکائتوں سے امریکی و اسرائیلی میڈیا بھرا پڑا پے۔ ساتھ ہی جہاز پر سوار
اسرائیلی مسافروں کی بے مثال جرات کی کہانیاں الگ کہ ایک پلمبر نے دندان ساز کی
مدد سے بے قابو جہاز کو ہموار کردیا۔ جہاز اڑانے کا باتصویر قاعدہ دیکھ کر پائلٹ بن جانیوالے پلمبر، شاباش لینے مقبوضہ یروشلم کے امریکی سفارت خانے پہنچے۔ اس
موقع پر امریکی سفیر مائک ہکابی نے انھیں صدر ٹرمپ کی MAGA ٹوپی پیش
کی۔ اسرائیلی مسافروں کی بہادری کی علامت کے طور
پر خون آلود قیمصوں کی نمائش بھی جاری ہے۔
گویا برادران یوسفؑ کی طرح جھوٹ موٹ خون کے دھبے دکھانے کا ہزاروں سال پرانا حربہ
استعمال ہورہاہے۔ اسرائیل میں بھارتی نژاد کپتان کو ہیرو کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے
اور نیتن یاہو نے اسے اسرائیل کے لئے بھارتی قوم کے اخلاص کی ایک
روشن و قابلِ تقلید مثال قرار دیا ہے۔اس حوالے
سے تازہ ترین انکشاف عبرانی ذرایع ابلاغ کے ذریعہ آیا ہے، جسکے مطابق حمام الحمامی
کا ارادہ تھا کہ پائلٹ کو قتل کرنے کے بعد جہاز کا کنٹرول سنبھال کر اسے تل ابیب
میں کسی بلند وبالا عمارت یا بن گوریان ائرپورٹ پرکھڑے جہازوں سے ٹکرادے۔ ٹائمز آف
اسرائیل نے 4 اکتوبر کو یہ خبر ان اماراتی حکام کے حوالے سے شایع کی ہے جو مبینہ
طور پر نائب پائلٹ سے تفتیش کررہے ہیں۔
یوں
محسوس ہوتا ہے کہ ایک مخصوص عوامی تاثر پیدا کرنے کے لئے خوفناک مفروضے اور علامتی
منظرنامے تشکیل دیے جا رہے ہیں۔ اس پوری مہم کا ہدف صرف ایک فضائی واقعے کی تشریح
نہیں بلکہ یہ مسلمانوں کے خلاف عالمی سطح پر پھیلائے گئے شکوک اور خدشات کو مزید
تقویت دینے کی ایک منظم کوشش نظر آرہی ہے جسے سنسنی خیز صحافت کہہ کر نظر انداز
نہیں کیا جاسکتا۔عمانی نائب پائلٹ کے انتہا پسند مسلمان ہونے کی
کہانیاں مسلمان پائلٹوں پر عالمی فضا بندکردینے کی پیش بندی لگ رہی ہے۔
ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل کراچی 11 اکتوبر 2026
ہفت روزہ دعوت دہلی 11 اکتوبر 2026
ہفت روزہ رہبر سرینگر 13 اکتوبر 2026

