ایران کے خلاف "Economic D‑Day"
عسکری زورآزمائی کے بعد
معاشی محاذ کی نئی کشمکش
خلیج
میں تقریباً چھ ماہ سے جاری جنگ نے مشرقِ وسطیٰ کی سیاسی حرکیات، عالمی توانائی کی
منڈی اور بین الاقوامی سفارت کاری کو ایک نئے موڑ پر لاکھڑا کیا ہے۔ عسکری محاذ پر
فیصلہ کن کامیابی حاصل نہ ہونے کے بعد واشنگٹن نے اب ایران کے خلاف معاشی دباؤ کو
فیصلہ کن ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کا اعلان کردیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا
اقتصادی محاذ وہ کامیابی دالا سکے گا جو عسکری کارروائیاں نہ لاسکیں؟ اور اگر
معاشی دباؤ بھی تہران کو جھکانے میں ناکام رہا تو اس تنازعے کا اگلا باب کیا ہوگا؟
جمعرات
(20 اگست) کو صدر ٹرمپ نے بمباری اور میزائل حملوں کے محدود اثرات کے بعد ایران کی
اقتصادیات کا گلا گھونٹنے کیلئے تہران کے خلاف "Economic D‑Day" کا
اعلان کیا۔امریکی وزیرِ خزانہ اسکاٹ بیسنٹ (Scoot Bessent) نے 24 اگست کو
معاشی D-Dayکی تفصیلات بناتے ہوئے کہا کہ امریکہ کا
مقصد ایران کو عالمی سطح پر موجود ہر اس معاشی ذریعے سے محروم کرنا ہے جو اس کی
معیشت کو سہارا دے رہا ہے۔ ان کے الفاظ میں یہ ایران کی “economic asphyxiation” یعنی
’’معاشی گلا گھونٹنے‘‘ کی مہم ہے۔
پانچ شعبے، ساٹھ اہداف اور ایک عالمی پیغام
نئی
امریکی کارروائی میں ایران کی معیشت کے پانچ اہم شعبوں کو نشانہ بنایا گیا ہے,
جن میں ڈیجیٹل اثاثے، ٹیکنالوجی، سونا، ہوا بازی اور بحری جہاز
رانی شامل ہیں امریکی محکمۂ خزانہ نے تقریباً 60 افراد، اداروں اور جہازوں کو بھی
پابندیوں کی زد میں لانے کا اعلان کیا ہے۔ جناب بیسنٹ نے خبردار کیا کہ جو ادارے
ایران کے لئے منی لانڈرنگ یا مالیاتی منتقلی میں سہولت
فراہم کریں گے انہیں امریکی ڈالر پر مبنی مالیاتی نظام سے نکال دیا جائے گا۔ ان کا
کہنا تھا کہ اب ایران کے ساتھ تجارت کے لئے ’’گرے ایریاز‘‘ میں رہنے کا وقت ختم ہوچکا
ہے۔ گویا واشنگٹن صرف ایران کو نشانہ نہیں بنا رہا بلکہ ان ممالک اور کمپنیوں کو
بھی خبردار کررہا ہے جو تہران کے ساتھ کاروباری روابط برقرار رکھیں گے۔
ایران کے دوست بھی امریکی نشانے پر
چین،
ترکیہ اور متحدہ عرب امارات ایران کے بڑے تجارتی شراکت دار ہیں۔ امریکی وزیرِ
خزانہ نے واضح کیا ہے کہ ایران کے ساتھ اقتصادی روابط رکھنے والے اداروں کو امریکی
پابندیوں کی مکمل طاقت کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ چینی بینکوں کے بارے میں سوال پر
بیسنٹ کا جواب تھا کہ کوئی بھی ادارہ امریکی پابندیوں کی پہنچ سے باہر نہیں۔ تاہم
واشنگٹن نے فی الحال چین کے ان بڑے مالیاتی اداروں پر انتہائی سخت ثانوی پابندیاں
عائد نہیں کیں جو ایرانی تیل کی تجارت میں سہولت فراہم کرتے ہیں۔ امریکی وزیرخزانہ
نے کہا کہ امریکہ دوسرے ممالک کو ایران سے تعلقات ختم کرنے کے لیے ایک مہلت دے رہا
ہے، لیکن یہ عمل بہت تیزی سے آگے بڑھے گا۔ یعنی واشنگٹن نے فی الحال بندوق چلانے
کے بجائے بندوق دکھائی ہے، مگر یہ بھی واضح کردیا ہے کہ اگلا قدم زیادہ سخت ہوسکتا
ہے۔ یہ دراصل ایران سے زیادہ عالمی معیشت کے لیے بھی ایک امتحان ہے۔ امریکہ دنیا
کو یہ انتخاب دے رہا ہے کہ وہ تہران کے ساتھ تجارت کرے یا امریکی مالیاتی نظام تک
رسائی برقرار رکھے۔ امریکی وزیرخارجہ کی اخباری کانفرنس کے فوراً بعد متحدہ عرب
امارات نے ایران سے تجارتی روابط ختم کرنے کا اعلان کردیا ۔
ایران کا جواب: ہمارے پاس دو سال کا منصوبہ ہے
تہران
نے نئی پابندیوں کو تسلیم کرنے کے بجائے مقابلہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ایرانی
وزیرِ معیشت سید علی مدنی زادہ نے کہا
ہے کہ ایران کے پاس نئی پابندیوں سے نمٹنے کے لیے دو سالہ منصوبہ موجود ہے۔ ان کے
بقول امریکہ، ایرانی عوام اور حکومت کے
عزم کو پہلے بھی آزما چکا ہے اور چچا سام ہر بار ناکام رہے۔ اس دعویٰ کو سیاسی
بیان کہہ کر نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ ایران کی تاریخ یہ بتاتی ہے کہ طویل عرصے
سے جاری امریکی پابندیوں کے باوجود تہران متبادل تجارتی راستے، فرنٹ کمپنیاں،
متبادل جہازوں کی رجسٹریشن اور غیر ڈالر مالیاتی ذرائع استعمال کرکے پابندیوں کو غیر
موثر بنانے میں بڑی حد تک کامیاب رہا ہے۔ امریکی محکمۂ خزانہ نے خود تسلیم کیا ہے
کہ ایران پابندیوں سے بچنے کے لئے نئے ادارے اور جہازوں کی تیزی سے رجسٹریشن میں
مہارت رکھتا ہے۔
معاشی دباؤ پہلے ہی محسوس ہورہا ہے
تاہم
اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ ایران پر پابندیوں کا کوئی اثر نہیں ہورہا۔ نئی
پابندیوں کے اعلان کے وقت ایرانی ریال غیر رسمی مارکیٹ میں تقریباً 2.02
ملین
ریال فی ڈالر کی نئی کم ترین سطح پر پہنچ گیا۔ ایران پہلے ہی بلند افراطِ زر، منفی
اقتصادی نمو اور تقریباً چھ ماہ کی جنگ کے معاشی اثرات سے دوچار ہے۔ چنانچہ دیکھنا
ہے کہ تہران نئی پابندیوں کے اثرات کو کتنی دیر اور کس قیمت پر برداشت کرسکتا ہے۔
حکمتِ عملی کی الٹی ترتیب
بین
الاقوامی تنازعات میں دباؤ عموماً بتدریج بڑھایا جاتا ہے۔ پہلے مذاکرات، پھر
سفارتی دباؤ، اس کے بعد معاشی پابندیاں اور آخر میں فوجی طاقت۔ مگر ایران کے
معاملے میں ترتیب بڑی حد تک الٹ گئی ہے۔ امریکہ اور اسرائیل نے پہلے فوجی طاقت
استعمال کی، جنگ تقریباً چھ ماہ تک جاری رہی، مگر ایران واشنگٹن کی تمام شرائط
ماننے پر آمادہ نہیں ہوا۔ اب جنگ کے بعد معاشی محاذ کو فیصلہ کن بنانے کی کوشش کی
جارہی ہے۔
یہی
وجہ ہے کہ Economic
D-Day محض
ایک نئی پابندیوں کا پیکیج نہیں بلکہ جنگی حکمتِ عملی کے اگلے مرحلے کا نام ہے۔
واشنگٹن اب دیکھنا چاہتا ہے کہ جو دباؤ میزائلوں اور بموں سے حاصل نہیں ہوسکا، وہ
ڈالر، بینکنگ اور عالمی تجارت کے ذریعے حاصل کیا جاسکتا ہے یا نہیں۔
آبنائے ہرمز: معاشی جنگ کا سب سے حساس محاذ
ایران
کے خلاف معاشی دباؤ کا سب سے خطرناک پہلو آبنائے ہرمز ہے۔ عالمی تجارت کے لئے یہ
تنگ آبی راستہ پہلے ہی تنازع کا مرکزی نقطہ بن چکا ہے۔ صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر ایک نقشہ جاری کرکے آبنائے ہرمز کو
امریکی علاقہ قرار دینے کا دعویٰ کیا، جسے ایران نے سختی سے مسترد کردیا۔ تہران کا
موقف ہے کہ اس آبی گزرگاہ کے بارے میں امریکہ کا دعویٰ بے بنیاد ہے۔ اگر نئی
اقتصادی پابندیاں ایران کے تیل اور اس کی برآمدی آمدنی کو مزید محدود کرتی ہیں تو
تہران کے پاس آبنائے ہرمز کو دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کرنے کی ترغیب بھی بڑھ
سکتی ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں ایران کے خلاف معاشی جنگ عالمی معیشت کے لیے بھی
مسئلہ بن سکتی ہے، کیونکہ ہرمز میں کسی بڑی رکاوٹ کا اثر صرف تہران یا واشنگٹن تک
محدود نہیں رہےگا۔
امریکی جانی نقصان بھی معمولی نہیں
ایران
کے ساتھ جنگ میں امریکی جانی نقصان کے اعدادوشمار بھی چشم کشا ہیں۔ پینٹاگون کے
مطابق 21 اگست تک 18 امریکی فوجی ہلاک
اور 756 زخمی ہوچکے تھے۔ یہ اعداد اس لئے اہم ہیں کہ امریکی صدر نے جنگ کو ابتدا
میں نسبتاً مختصر کارروائی کے طور پر پیش کیا تھا، مگر یہ جنگ اب ساتویں ماہ میں
داخل ہوچکی ہے۔ عسکری اخراجات، جانی نقصان اور عالمی توانائی کی قیمتوں کے اثرات
کے ساتھ جنگ کی سیاسی قیمت بھی بڑھ رہی ہے۔
امریکی معیشت کا بوجھ — قرض کی نئی بلند ترین سطح
دوسری طرف امریکی
معیشت بھی دباؤ میں ہے۔امریکی قومی قرض نے گزشتہ
روز پہلی مرتبہ 40 ٹریلین ڈالر کی حد عبور کرلی۔ مگر اصل حیرت اس ہندسے سے زیادہ
اس رفتار پر ہے جس سے یہ قرض بڑھ رہا ہے۔گزشتہ برس اکتوبر
میں امریکی قرض 38 ٹریلین ڈالر تھا جو اس سال مارچ میں بڑھ کر 39 ٹریلین ڈالر ہوگیا اور اب 40 ٹریلین کے نشان سے اوپر چلا گیا یعنی تقریباً ہر پانچ ماہ میں مزید ایک ہزار
ارب ڈالر کا نیاقرض۔ اگرگزشتہ دس ماہ کی اوسط نکالی جائے تو امریکی وفاقی قرض میں
روزانہ تقریباً 6.8 ارب ڈالر کا اضافہ ہوا ہے۔اسوقت امریکہ سود کی مد میں 2.85 ارب
ڈالر یومیہ خرچ کررہا ہے۔ اگرچہ
امریکی معیشت ایران کے مقابلے میں کہیں زیادہ بڑی اور مضبوط ہے، لیکن جنگ جتنی
طویل ہوگی، اس کی مالی اور سیاسی قیمت بھی اتنی ہی بڑھے گی۔
جنگ کے ممکنہ تزویراتی اثرات
ایران
کے خلاف کامیابی کے دعووں کے باوجود جنگ کے ممکنہ تزویراتی نتائج صدر ٹرمپ کیلئے حوصلہ
افزا نہیں۔ امریکی ذرائع ابلاغ کے مطابق پینٹاگون اور امریکی مرکزی کمان خلیج میں
فوجی موجودگی پر نظرثانی کر رہے ہیں۔ ایران کے حملوں سے متعدد امریکی اڈوں کو
پہنچنے والے نقصان کے بعد واشنگٹن اس امکان پر غور کر رہا ہے کہ بعض تنصیبات کو
دوبارہ تعمیر نہ کیا جائے اور فوج کے کچھ حصے کو اردن یا اسرائیل کے قریب منتقل
کردیا جائے۔ اگرچہ یہ پسپائی نہیں بلکہ عسکری نقشِ پا کی جغرافیائی تبدیلی ہوگی،
مگر بعض تجزیہ نگاروں کے مطابق جنگ نے امریکہ کو خلیج میں اپنی حکمتِ عملی ازسرنو
ترتیب دینے پر مجبور کردیا ہے، یعنی جنگ ایران کو کمزور کرنے کے بجائے خطے میں
امریکی طاقت کے اندازِ موجودگی کو تبدیل کر رہی ہے۔
مذاکرات کی کوششیں — عسکری و معاشی دباؤ کے ساتھ سفارت
کاری
صدر
ٹرمپ کی جانب سے جنگ کو ’’طلائی گولیوں‘‘ سے لڑنے کی حکمت عملی کے ساتھ ساتھ
مذاکرات کی کوششیں بھی جاری ہیں۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر، ایرانی اور امریکی قیادت
سے مسلسل رابطے میں ہیں۔ گزشتہ ہفتے سید عباس عراقچی سے ان کی فون پر گفتگو کو
ایرانی وزارتِ خارجہ نے ’’مثبت اور حوصلہ افزا‘‘ قرار دیا۔بات چیت کا سلسلہ آگے
بڑھانے کیلئے 24 اگست کو فیلڈ مارشل تہران پہنچے۔ یہ
چھ ماہ کے دوران یہ انکا تیسرا دورہ ایران تھا۔ ائرپورٹ پر جنرل عاصم منیر نے کہا
کہ پاکستان امن اورعلاقائی استحکام کیلئے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔ایرانی پارلیمان
کے اسپیکر باقر قالیباف نے جنرل صاحب سے ملاقات میں انکی کوششوں کی تعریف کرتے
ہوئے کہا کہ ایران، یادداشتِ اسلام آباد
کو امن کیلئے ایک معتبر اور منصفانہ دستاویز سمجھتا ہے جس پر مخلصانہ و منصفانہ
عملدرآمد سے ہی علاقے میں پائیدار امن قائم ہوسکتا ہے۔ایرانی اسپیکر نے کہا کہ
انکا ملک، تنازعات کے منصفانہ حل کیلئے مخلص ہے لیکن دھمکیوں اور پابندیوں سے
ایران کو جھکایا نہیں جاسکتا
ایران
اور امریکہ کے درمیان کشمکش اب صرف میزائلوں اور فوجی اڈوں تک محدود نہیں رہی۔ یہ
بیک وقت عسکری، معاشی، سفارتی اور توانائی کے محاذوں پر لڑی جارہی ہے۔ واشنگٹن نے
اب اپنی معاشی توپیں میدان میں اتار دی ہیں۔ ایران پہلے ہی کمزور کرنسی، بلند
افراطِ زر اور جنگی تباہ کاریوں سے دوچار ہے، اس لئے نئی پابندیاں اس کے لیے ایک
بڑا امتحان ہیں۔ مگر دوسری طرف تہران نے بھی واضح کردیا ہے کہ وہ دباؤ کے سامنے
گھٹنے ٹیکنے کے بجائے متبادل راستے تلاش کرے گا اور اس کے پاس اس مقصد کے لیے دو
سالہ منصوبہ موجود ہے۔اگر واشنگٹن، چین، ترکیہ
اور دوسرے ممالک کو بھی تہران سے اقتصادی تعلقات ختم کرنے پر مجبور کرلیتا ہے تو
امریکی مالیاتی طاقت کی عالمی گرفت مزید واضح ہوجائے گی۔ لیکن اگر بڑے تجارتی
شراکت دار امریکی دباؤ کے باوجود ایران کے ساتھ کھڑے رہے تو Economic D-Day ایران
کے خلاف فیصلہ کن وار کے بجائے ایک طویل معاشی کشمکش کا آغاز ثابت ہوسکتا ہے۔ اگر
معاشی دباؤ بھی مطلوبہ نتائج نہ دے سکا تو واشنگٹن کو ایک بار پھر فیصلہ کرنا ہوگا
کہ اس تنازعے کا حل مزید طاقت میں ہے یا مذاکرات کی میز پر۔
ہفت
روزہ فرائیڈے اسپیشل کراچی 28 اگست 2026
ہفت
روزہ دعوت دہلی 28 اگست 2026
ہفت روزہ رہبر سرینگر 30 اگست 2026