Thursday, August 6, 2026

 

غزہ، لبنان اور بدلتا ہوا عالمی منظرنامہ

غزہ اور لبنان میں جنگ بندی، ثالثی کی کوششوں اور بارہا کی سفارتی یقین دہانیوں کے باوجود مشرقِ وسطیٰ اب بھی پائیدار امن سے خاصا دور دکھائی دیتا ہے۔ اسرائیلی وزیرِ دفاع اسرائیل کاٹز کے ایک حالیہ ٹیلی وژن انٹرویو نے خطے میں تشویش کی نئی لہر دوڑا دی ہے۔ انھوں نے کہا کہ  ہم نے سینکڑوں سال پرانے وہ 24 لبنانی دیہات تباہ کردئےجن کے شیعہ باشندے حزب اللہ کی حمائت میں اسرائیل کے دشمن کے طور پر کام کرتے تھے۔وزیر دفاع نے دوٹوک انداز میں کہا کہ صرف چند مکانات نہیں بلکہ پورے دیہات مسمار کئے گئے اور اندازاً 15 سے 20 ہزار مکانات منہدم کئے جا چکے ہیں۔

فوجی کارروائی کا دعویٰ اپنی جگہ، لیکن اس بیان کا سب سے تشویش ناک پہلو یہ ہے کہ متاثرہ آبادی کو صرف "حزب اللہ کے حامی" نہیں بلکہ "شیعہ باشندے" کہہ کر متعارف کرایا گیا۔ جب کسی فوجی مہم میں مذہبی شناخت کو اس انداز سے نمایاں کیا جائے تو اس سے سیاسی اور عسکری تنازع کو فرقہ وارانہ رنگ ملنے کا خدشہ پیدا ہو جاتا ہے۔صدیوں سے آباد دودرجن دیہات، 15 سے 20 ہزار مکانات اور تقریباً 700 مربع کلومیٹر علاقے کی تباہی صرف ایک عسکری کارروائی نہیں بلکہ جنوبی لبنان کے جغرافیے اور آبادیاتی نقشے (Demographic Landscape) میں ایک بڑی تبدیلی بلکہ نسل کشی کی بدترین مثال ہے۔

غزہ: جب نشانہ صرف انسان نہیں رہتے

غزہ میں بھی بمباری اور ڈرون حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔ گزشتہ ہفتے دیر البلاح ، خان یونس اور دوسرے شہروں پر بمباری میں 8 اور ڈیڑھ سال کی بچیوں سمیت متعدد افرادجاں بحق ہوئے۔ فلسطینی ذرایع کے مطابق جولائی میں  ایک سو سے زیادہ شہری اسرائیلی حملوں کا نشانہ بنے۔ کچے گھروندوں اور خیموں  کیساتھ غزہ شہر میں امدادی خوراک کے گودام پر بھی بمباری کی گئی گویا حیات کیساتھ اب اسباب حیات کو بھی غارت کیا جارہا ہے۔

غضب کیا ترے وعدے پہ اعتماد کیا

ٹائمز آف اسرائیل  کے مطابق مقتدرہ فلسطین (PA)کے رہنمامحمد دحلان کو امریکی دامادِ اول جیررڈ کشنر نے یقین دلایا تھا کہ 2 اگست سے اسرائیل غزہ پر بمباری روک دیگا۔ اہل غزہ کو کشنر کا یہ بیاں تازہ ہوا کا ایک خوشگوار جھونکا محسوس ہوا لیکن مقررہ دن  صبح سویرے غزہ شہر پر بمباری کرکے اسرائیل نے اس وعدے کی حقیقت عیاں کردی۔ان حملوں میں خواتین اور بچوں سمیت 19 افراد جاں بحق ہوئے۔

جنگ کی تلخیوں میں شہد کی مٹھاس

تباہی و مایوسی کے ان لمحات میں بھی اہل غزہ امید کے چراغ روشن کئے ہوئے ہیں۔ جنگ سے پہلے غزہ میں تقریباً تیس ہزار شہد کے چھتے تھے جن سے ہر سال سینکڑوں ٹن شہد حاصل ہوتا تھا۔ اب یہاں سات سو سے بھی کم چھتے باقی رہ گئے ہیں اور پیداوار اپنے سابقہ حجم کے صرف دس فیصد تک محدود ہو چکی ہے۔ باغات تباہ ہو چکے ہیں، زرعی زمینوں تک رسائی محدود ہے اور شہد کی مکھیوں کے لیے پھول بھی نایاب ہو گئے ہیں۔اس کے باوجود غزہ کے شہد بان ہمت ہارنے پر آمادہ نہیں۔ ایک مقامی شہد بان ابراہیم الدبہ نے نہایت درد بھرے مگر پُرامید انداز میں کہا: "شہد کی مکھیاں درخت مانگتی ہیں، مگر ہم انہیں ملبے کے درمیان پال رہے ہیں۔"

یہ ایک جملہ غزہ کی سب سے مؤثر تصویر ہے۔ عمارتیں گرائی جا سکتی ہیں، باغات جلائے جا سکتے ہیں اور روزگار چھینا جا سکتا ہے، لیکن امید اور محنت کا جذبہ ختم کرنا آسان نہیں۔ شاید اسی لئےغزہ کے کھنڈرات میں گونجتی شہد کی مکھیوں کی بھنبھناہٹ ایک خاموش اعلان ہے کہ اگر زندگی کو ذرا سا موقع مل جائے تو وہ ملبے میں بھی اپنا راستہ بنا لیتی ہے۔

غربِ اردن: زمین کی خاموش جنگ

غربِ اردن میں حملے، بیدخلی اور قبضے کی کاروائیاں جاری ہیں۔ الخلیل (Hebron)کے گاوں صوریف پر قبضہ گردوں نے حملہ کرکے مکانوں، گاڑیوں اور فصلیں کو آگ لگادی گئی۔ نابلوس کے علاقے تل پر ایسے ہی ایک حملے میں  6 افراد جاں بحق ہوگئے۔ حد تو یہ کہ نابلوس میں قبضہ گردوں نے قبریں بھی مسمار کردیں

یہاں اسرائیلی آبادکاری کا دائرہ اب صرف نجی فلسطینی زمینوں تک محدود نہیں رہا۔ ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق اسرائیلی حکام نے مقتدرہ فلسطین (PA) کے زیرِ انتظام بعض علاقوں کو نئی اسرائیلی بستیوں کے درمیان زمینی ربط قائم کرنے کے لئے استعمال کرنے کا عمل شروع کیا ہے۔ یہ صرف چند ایکڑ زمین کا معاملہ نہیں بلکہ اس طرزعمل سے 1993ء کے معاہدۂ اوسلو کے تحت قائم انتظامی ڈھانچے کی عملی حیثیت مشکوک ہوگئی ہے۔اب تک تنازع زیادہ تر نجی فلسطینی زمینوں یا زرعی اراضی تک محدود سمجھا جاتا تھا، لیکن اگر PA کے انتظامی دائرے میں بھی بتدریج تبدیلیاں آتی رہیں تو دو ریاستی حل (Two-State Solution) کی عملی بنیاد مزید کمزور ہو سکتی ہے۔

اسرائیلی فوج: کیا طویل جنگ کے آثار نمایاں ہونے لگے ہیں؟

جنگ کا دباؤ صرف محاذ پر موجود سپاہیوں ہی کو متاثر نہیں کرتا، بلکہ عسکری اداروں کے اندر بھی اس کے اثرات بتدریج ظاہر ہونے لگتے ہیں۔ گزشتہ ہفتے اسرائیلی فوج کی گیواتی بریگیڈ کے متعدد فوجیوں نے اپنے کمانڈر سے اختلاف کے بعد عارضی طور پر فوجی اڈہ چھوڑ دیا۔ بظاہر تنازع ایک ایسے بینر پر تھا جو سینئر فوجیوں نے نئے آنے والے سپاہیوں کے استقبال کے لیے نصب کیا تھا،جسے کمانڈر نے نوواردوں کی تحقیر قرار دیتے ہوئے ہٹانے کا حکم دیا۔ اس فیصلے پر احتجاج ہوا تاہم چند ہی گھنٹوں بعد بیشتر فوجی اپنی ڈیوٹی پر واپس آ گئے۔

اس واقعے کو "فوجی بغاوت" قرار دینا درست نہیں ہوگا، کیونکہ فوجیوں نے اسلحہ اٹھایا نہ  کسی فوجی تنصیب پر قبضے کی کوشش کی اور نہ ہی مسلح مزاحمت کی۔ کیا یہ صرف بینروں کا تنازع تھا، یا پھر تقریباً تین برس سے جاری مسلسل جنگ کا نفسیاتی اثر اب فوج کے اندر بھی نمایاں ہونے لگا ہے؟یہ پہلا موقع نہیں کہ اسرائیلی فوج میں اجتماعی احتجاج یا ڈیوٹی سے انکار کا واقعہ پیش آیا۔ ماضی میں بھی ریزرو اہلکاروں کی جانب سے احتجاج، اجتماعی استعفے اور غیر حاضری کے خبریں آتی رہی ہیں۔ گیواتی بریگیڈ کا حالیہ واقعہ صرف ایک نظم و ضبط کا مسئلہ نہیں بلکہ فوجی مورال کے بارے میں بھی سوالات پیدا کر رہا ہے۔طویل جنگیں صرف دشمن کو ہی نہیں تھکاتیں، اپنی فوج کے اعصاب بھی آزماتی ہیں۔

یورپ میں بدلتی ہوئی فضا

جنگ کا ایک اثر عالمی رائے عامہ پر بھی واضح طور پر دکھائی دے رہا ہے۔ برطانیہ کے مشرقی لندن میں واقع ہیکنی کونسل (Hackney Council) نے حال ہی میں اسرائیلی شہر حیفہ کے ساتھ اپنی "ٹوئن سٹی" (Twin City) شراکت داری ختم کرنے کے حق میں ووٹ دیا۔ قرارداد کے حامی ارکان کا مؤقف تھا کہ غزہ میں انسانی بحران کے تناظر میں معمول کے تعلقات برقرار رکھنا ان کے ووٹروں کے جذبات اور انسانی حقوق کے اصولوں سے مطابقت نہیں رکھتا۔ اگرچہ اس فیصلے سے برطانوی حکومت کی خارجہ پالیسی تبدیل نہیں ہوگی، لیکن اس سے یہ ضرور ظاہر ہوتا ہے کہ غزہ کی جنگ اب صرف سفارتی یا عسکری معاملہ نہیں رہی بلکہ یورپ کی مقامی سیاست اور عوامی رائے کو بھی متاثر کر رہی ہے۔

امریکہ میں بدلتی رائے عامہ

اسی نوعیت کی تبدیلی امریکہ میں بھی محسوس کی جا رہی ہے۔ اسرائیلی وزیراعظم کی امریکہ آٓمد پر نیویارک کے رئیس شہر زہران ممدانی نے اعلان کیا کہ اگر نیتن یاہو نیویارک آئے تو وہ ICCکے وارنٹ کی تعمیل کی کوشش کرینگے۔ یعنی اسرائیلی وزیراعظم کو گرفتار کرکے ICCکے حوالے کردیا جائیگا۔ جناب ممدانی نے حتمی لہجہ اختیار کرنے کے بجائے 'کوشش' کہا کہ اس حوالے سے مئیر اور شہری انتظامیہ کے اختیارات محدود ہیں۔ اسی تناظر میں Economist/YouGov کے ایک سروے میں یہ سوال کیا گیا کہ اگر نیتن یاہو امریکہ آئیں تو کیا امریکی حکام کو ICC کے وارنٹ پر عمل کرنا چاہیے؟ سروے کے مطابق 49 فیصد امریکیوں  نے اس کی حمایت کی، 27 فیصد نے مخالفت کی جبکہ باقی غیر جانب دار رہے۔

کسی ایک سروے کو امریکی عوام کی حتمی رائے قرار نہیں دیا جا سکتا، لیکن یہ نتائج اس امر کی نشاندہی ضرور کرتے ہیں کہ غزہ کی جنگ کے بعد اسرائیل، خصوصاً نیتن یاہو، کے بارے میں امریکی رائے عامہ میں پہلے کے مقابلے میں نمایاں تبدیلی آ رہی ہے۔ چند برس پہلے ایسا سوال امریکی سیاست میں تقریباً ناقابلِ تصور تھا۔

غزہ، لبنان اور غربِ اردن کے یہ تمام واقعات بظاہر ایک دوسرے سے الگ دکھائی دیتے ہیں، مگر درحقیقت یہ ایک ہی بڑی تصویر کے مختلف رخ ہیں۔ ایک طرف جنگ بندی کی کوششیں جاری ہیں، دوسری طرف بمباری، آبادکاری اور زمینی حقائق میں تبدیلی کا سلسلہ بھی رکا نہیں۔ شاید غزہ کے شہد بان ابراہیم الدبہ کے الفاظ ہی اس پورے منظرنامے کی سب سے جامع تعبیر ہیں۔ شہد کی مکھیاں آج بھی ملبے کے درمیان اپنا راستہ تلاش کر رہی ہیں۔ سوال صرف یہ ہے کہ کیا انسان بھی اتنی ہی دانش مندی سے امن کا راستہ تلاش کر پائیں گے، یا آنے والی نسلوں کے لیے بھی جنگ ہی اس خطے کی واحد میراث بنے گی؟

ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل کراچی 7 اگست 2026

ہفت روزہ دعوت دہلی 7 اگست 2026

ہفت روزہ رہبر سرینگر 9 اگست 2026


 

امن کی دہلیز پر جنگ کے سائے

مشرقِ وسطیٰ کی نئی کشمکش، امن، تیل اور اسلحہ کی سیاست

تیرہ راتوں سے جاری کشیدگی میں 25 جولائی کا وقفہ بہت مختصر ثابت ہوا اور 28 جولائی کی صبح  اردن کے الازرق فوجی اڈے پر ایران کے مبینہ میزائیل حملے سے  خلیج فارس کا میدان دوبارہ چمک اٹھا۔ تہران نے حملے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ اس اڈے سے ایران پر حملے کے لئےامریکی F‑35 طیارے اڑان بھرنے والے تھے جنہیں ایرانی میزائلوں نے نشانہ بنایا۔ پاسدارانِ انقلاب (IRGC) کا دعوی ہے کہ میزائل حملے میں 3 امریکی F-35 طیارے تباہ اور 3 کو بھاری نقصان پہنچا۔ تاہم امریکی مرکزی کمان (CENTCOM) نے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ کوئی امریکی طیارہ تباہ یا نقصان کا شکار نہیں ہوا اور ایرانی حملہ اپنے اہداف حاصل نہیں کر سکا۔ اگلے روز امریکہ نے ایران میں ایک درجن سے زیادہ اہداف کو نشانہ بنایا، جس سے دونوں جانب کشیدگی مزید بڑھ گئی۔

نیتن یاہو کا دورۂ امریکہ: رسومات کے ساتھ خفیہ سفارتکاری

اسی دوران اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو امریکہ کے دورے پر تھے۔ انکی امریکہ یاترا کا مقصد سینیٹر لنڈسے گراہم کی آخری رسومات میں شرکت تھا، مگر اس موقع پر انہوں نے امریکی صدر، وزیرِ جنگ پیٹ ہیگسیتھ اور قومی سلامتی کے اعلیٰ حکام سے ملاقاتیں بھی کیں۔ ان ملاقاتوں میں ایران کا معاملہ سرِفہرست رہا، جس نے خطے میں جاری کشیدگی کو مزید حساس بنا دیا۔

دمیاط بندرگاہ پر حملہ: نہرِ سوئز تک جنگ کے پھیلنے کا خدشہ

کشیدگی میں مزید اضافہ اسوقت ہوا  جب 28 جولائی کو دمیاط (Damietta)کی مصری بندرگاہ پر گیس ذخیرہ کرنے والے دوجہاز  ڈرون حملوں کا نشانہ بن گئے۔امریکی حلقوں کے خیال میں یہ ڈرون ایران یا انکے حوثی اتحادیوں  نے داغے تھے جبکہ تہران نے اسے اسرائیل کی خفیہ یا False Flagکاروئی قراردیا۔ دمیاط وہ بندرگاہ ہے جہاں سے خلیجی تیل اور عالمی تجارت کا بڑا حصہ نہرِ سوئز کے ذریعے یورپ جاتا ہے۔ نہرِ سوئز دنیا کی 10 سے 12 فیصد سمندری تجارت کا راستہ ہے۔ اس حملے نے یہ خدشہ پیدا کیا کہ ایران اور اس کے اتحادی، جنگ کا دائرہ آبنائے ہرمز اور باب المندب سے آگے بڑھا کر نہرِ سوئز تک لے جانا چاہتے ہیں۔اسی دوران سعودی بمباری کے جواب میں حوثیوں نے ابقیق کی ارامکو تنصیبات کو نشانہ بنایا، جس سے خلیجی توانائی کا پورا نظام لرز اٹھا۔

سعودی–عراق تناؤ اور علاقائی ثالثی کی ناکامی

دوسرے دن  امریکہ اور سعودی عرب نے عراق کی الحشد الشعبی (PMU) ملیشیا کے ٹھکانوں پر حملے کئے جن میں 20 افراد جاں بحق ہوئے۔ اس حملے نے سعودی عرب اور عراق کو آمنے سامنے لا کھڑا کیا۔ عراقی وزیراعظم علی الزیدی نے سعودی ولی عہد سے اپنی ملاقات احتجاجاً منسوخ کر دی,  جو ایک دن بعد جدہ میں طے تھی۔ چند دن پہلے تک عراقی وزیراعظم ، امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی کی کوشش کر رہے تھے اور نیویارک ٹائمز کے مطابق عارضی جنگ بندی کی امریکی تجویز انھوں نے بنفس نفیس تہران پہنچائی تھی۔ حملوں کے بعد یہ کوششیں شدید متاثر ہوئیں۔

واشنگٹن کی دھمکیاں اور ممکنہ مشترکہ حملے کی خبریں

کشیدگی کے اس ماحول میں واشنگٹن سے آنے والی خبریں انتہائی تشویشناک تھیں۔ صدر ٹرمپ نے اپنے مخصوص لہجے میں کہا کہ ایران کو اردن کے امریکی اڈے پر حملے کی بھاری قیمت چکانا ہوگی۔ وال اسٹریٹ جرنل نے انکشاف کیا کہ صدر نے اپنے جرنیلوں کو شدید بمباری کی نئی مہم کی تیاری کا حکم دیا ہے۔ ادھر CBS نے یروشلم سے خبر دی کہ امریکہ اور اسرائیل ، ایران کی توانائی تنصیبات پر مشترکہ حملوں کا منصوبہ بنا رہے ہیں، اور یہ کارروائی یکم اگست کی صبح شروع ہوسکتی ہے۔ اسی روز مشرقِ وسطیٰ میں امریکی سفارتخانوں نے اپنے شہریوں کو انخلا کی تیاری کا حکم دے دیا، جس سے ان اطلاعات کی سنجیدگی مزید بڑھ گئی۔

پاکستان کی ثالثی اور سفارتکاری کو ایک اور موقع

اسی دوران 28جولائی کو  پاکستانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان طاہر اندارابی نے بتایا کہ حملوں اور دھمکیوں کے باوجود پاکستان کی ثالثی میں بات چیت جاری ہے اور کچھ امور پر مثبت پیش رفت بھی دکھائی دے رہی ہے۔ اگرچہ کئی تجزیہ نگاروں نے اسے پاکستان کا روایتی پرامید رویہ قرار دیا، لیکن یکم اگست کی شام صدر ٹرمپ نے اعلان کیا کہ ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدے کی امید پر انہوں نے مجوزہ حملہ روک دیا ہے۔ ان کے مطابق امریکی فوج Locked & Loaded تھی مگر وہ سفارتکاری کو ایک اور موقع دینا چاہتے ہیں۔سفارتکاری کو موقع دینا قابلِ تحسین ہے، لیکن اگر مذاکرات ہی مطلوب ہیں تو وقتاً فوقتاً سخت دھمکیاں اور تباہ کر دینے والے بیانات کس مقصد کی تکمیل کرتے ہیں؟ مہذب دنیا تمام فریقوں سے تحمل، شائستگی اور ذمہ دارانہ طرزِ گفتگو کی توقع رکھتی ہے۔

مذاکرات کا ایک نیا دور، تشریحات میں ابہام اور سعودی کردار

اتوار کو ہفتہ وار تعطیل کے بعد واشنگٹن واپسی پر صدارتی طیارے میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ موجودہ تنازع کا سفارتی حل ان کی اولین ترجیح ہے۔ انھوں نے یہ انکشاف بھی کیا کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان مذاکرات کا نیا دور 3 اگست کو شروع ہوگا۔ امریکی صدرپُراعتماد لہجے میں بولے کہ ایران 60 دن کے لئے آبنائے ہرمز کھولنے پر آمادہ ہو جائے گا۔دوسری جانب بات چیت سے لاعلمی کا اظہار کرتے ہوئے ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ آبنائے ہرمز کے بارے میں کسی بھی عملی پیش رفت سے پہلے "یادداشتِ اسلام آباد" پر عمل درآمد کا آغاز ہونا چاہیے۔حالیہ کشیدگی کے دوران امریکی حملوں کے التوا کی وجوہات پر بھی دونوں دارالحکومتوں کی تشریحات ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ ایران کی جانب سے سفارت کاری کو ایک موقع دینے کی درخواست پر حملے عین وقت پر ملتوی کئے۔اس کے برعکس ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی مہر نے وزارتِ خارجہ کے حوالے سے اس دعوے کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ تہران نے ایسی کوئی درخواست نہیں کی۔ دوسری طرف مغرب کے صحافتی ذاریع انکشاف کررہے ہیں کہ حملہ مؤخر کرنے کی درخواست دراصل سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے کی تھی۔ سعودی قیادت کو خدشہ تھا کہ اگر ایران پر بڑے پیمانے پر حملہ ہوا تو جوابی کارروائی میں خطے کی تیل و گیس تنصیبات نشانہ بن سکتی ہیں۔

جنگی معیشت: تیل کمپنیوں اور اسلحہ ساز اداروں کے غیر معمولی منافع

بدقسمتی سے یہ خونریزی کچھ اداروں کیلئے غیر معمولی یکبارگی یا طوفانی منافع (Windfall Profit)کا سبب بھی بن رہی ہے۔اس جنگ اور اسکے نتیجے میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کا سب سے بڑا فائدہ عالمی تیل کمپنیوں کو ہوا۔ صرف تین بڑی مغربی کمپنیوںShell، ExxonMobil اور Chevronنے گزشتہ سہ ماہی میں مجموعی طور پر تقریباً 39 ارب ڈالر منافع کمایا، جو یومیہ تقریباً 40 کروڑ ڈالر بنتا ہے۔ اس کے برعکس دنیا بھر کے صارفین نے مہنگے ایندھن، بڑھتی مہنگائی اور نقل و حمل کے اضافی اخراجات کا بوجھ برداشت کیا۔ دلچسپ بلکہ کسی حد تک ستم ظریفی کہ اس غیر معمولی منافع کو تیل و گیس کے نئے وسائل کی تلاش،  پیداوار میں اضافہ یا بڑے منصوبوں میں سرمایہ کاری کرنے کے بجائے  شیئر بائی بیک اور حصص یافتگان کو ادائیگی ان اداروں کی ترجیح رہی۔

اسی طرح اسلحہ ساز اداروں کے لئے بھی نئے دروازے کھل گئے ہیں۔امریکی حکومت، جہاں ضعیف لوگوں کے صحت بیمے (MEDICARE)کیلئے مختص رقم میں کٹوتی کررہی ہے وہیں  وزارت دفاع نے  لاک ہینڈ مارٹن (Lockheed Martin) کو پیٹریاٹ دفاعی نظام کے میزائیل اور ڈرون شکن گولوں (Interceptors) کیلئے 58 ارب 60 کروڑ ڈالر کا نیا ٹھیکہ دینے کا اعلان کیا ہے،

جنگ کا ٹل جانا خوش آئند ہے، لیکن امن کے لیے صرف انگلیاں لبلبی سے ہٹانا کافی نہیں۔ زبان کی توپیں خاموش کرنا بھی ضروری ہے۔ طاقت کا اصل اظہار جنگ شروع کرنے میں نہیں بلکہ جنگ کو روکنے اور اختلافات کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے میں ہے۔ اب بیانات نہیں، عملی اقدامات، معاہدوں کی پاسداری اور باہمی اعتماد ہی تاریخ کا رخ متعین کریں گے۔

ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل کراچی ، 7 اگست 2026

ہفت روزہ دعوت دہلی، 7 اگست 2026

ہفت روزہ رہبر سرینگر 9 اگست 2026


Thursday, July 30, 2026

 

غزہ: بھوک، آبادکاری اور بدلتے ہوئے زمینی حقائق

پٹی کو ناقابلِ رہائش بنانے اور نئے سیاسی و جغرافیائی نقشے کی تیاری

غزہ کی جنگ اب صرف بمباری، میزائل حملوں اور زمینی کارروائیوں تک محدود دکھائی نہیں دیتی۔ اقوامِ متحدہ، امدادی اداروں اور انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق محاصرہ، غذائی قلت، بنیادی ڈھانچے کی تباہی اور آبادی کی مسلسل نقل مکانی ایک ایسے بحران کو جنم دے رہے ہیں جس کے اثرات جنگ بندی کے بعد بھی برسوں باقی رہ سکتے ہیں۔ دوسری جانب غربِ اردن میں آبادکاری کی رفتار تیز ہو رہی ہے، جبکہ مسجدِ اقصیٰ کے حوالے سے برسوں سے قائم Status Quo بھی مسلسل دباؤ میں نظر آتا ہے۔ ان تمام واقعات کو الگ الگ نہیں بلکہ ایک وسیع تر سیاسی حکمتِ عملی کے تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔

غزہ میں بھوک: ایک انسانی المیہ

اقوامِ متحدہ کے ورلڈ فوڈ پروگرام (WFP) نے خبردار کیا ہے کہ اگر اضافی مالی وسائل فوری طور پر فراہم نہ ہوئے تو اکتوبر سے اہلِ غزہ کیلئے خوراک کی امداد میں نمایاں کمی کرنا پڑے گی۔ ادارے کے مطابق جون میں شدید غذائی قلت (Acute Hunger) کا شکار افراد کی تعداد تقریباً بارہ لاکھ تھی، جو دسمبر تک بڑھ کر چودہ لاکھ ہوجائیگی، یعنی غزہ کی تقریباً دو تہائی آبادی غذائی قلت کا عذاب سہہ رہی ہے۔مسلسل بمباری، پانی اور بجلی کے نظام کی تباہی، اسپتالوں کی بندش، زرعی زمینوں کی بربادی اور امدادی سرگرمیوں میں رکاوٹوں نے ایسی صورت حال پیدا کردی ہے کہ متعدد بین الاقوامی ادارے اسرائیل پر  بھوک کو بطور جنگی ہتھیار استعمال کرنے کا الزام عائد کر رہے ہیں۔

ناقابلِ رہائش غزہ؟

اگر موجودہ صورت حال برقرار رہی تو غزہ بتدریج ایک ایسے خطے میں تبدیل ہوسکتا ہے جہاں معمول کی انسانی زندگی قائم رکھنا انتہائی دشوار ہوگا۔ بمباری، بیماری، مکانوں کی بربادی اور بھوک کے باعث آبادی کی مسلسل نقل مکانی ایک خاموش مگر گہرا انسانی بحران پیدا کر رہی ہے۔اسی تناظر میں امریکی دامادِ اول جیرڈ کشنر کا وہ بیان یاد آتا ہے جس میں انہوں نے غزہ کو مستقبل میں ایک پرتعیش ساحلی ترقیاتی علاقے (Waterfront Development) میں تبدیل کرنے  کا عزم ظاہر کیا تھا۔

مقامی نظم و نسق بھی ہدف؟

غزہ میں بمباری کا رخ صرف عسکری اہداف تک محدود نہیں رہا۔ شمالی غزہ کے علاقے شیخ رضوان پر ڈرون حملے میں پولیس کے سربراہ بریگیڈیئر جنرل عبد الناصر محمد المقادمة کو نشانہ بنایا گیا۔ اسی روز دیر البلح کی پولیس چوکی پر حملوں میں مزید جانی نقصان ہوا۔ایسے واقعات سے یہ تاثر تقویت پاتا ہے کہ شہری نظم و نسق کو بھی کمزور کیا جا رہا ہے تاکہ جنگ کے بعد بھی غزہ میں معمول کی شہری زندگی کی بحالی دشوار رہے۔

غربِ اردن: آبادکاری اور تشدد کا دائرہ وسیع

غربِ اردن میں بھی کشیدگی مسلسل بڑھ رہی ہے۔ نابلوس کے گاو تل پر مسلح قبضہ گردوں نے  درجنوں گھروں کو آگ لگادی۔اس واقعہ میں چار فلسطینی زندہ جل گئے۔ حفاظتی پتھراوسے ایک اسرائیلی ہلاک ہوا جس پر مسلح قبضہ گرد انتقام کے نعرے لگاتے ہوئے فلسطینی آباد پرٹوٹ پڑے۔ حملے کے دوران ایک نہتے فلسطینی نے قبضہ گرد سے رائفل چھین کر اسرائیل فوج کے  ایک میجر سمیت دوفوجیوں کو ہلاک کردیا۔یہ تو گویا غدر کی ایک کیفیت تھی چنانچہ سارے غرب اردن میں کرفیو لگاکر آپریشن کا آغاز ہوا۔ الخلیل کے علاقے سوسیہ پر مسلح قبضہ گردوں کے حملے میں 25 افراد زخمی ہوئے۔ ایک فلسطینی نے قبضہ گرد سے رائفل چھین کر فضا میں گولی چلائی جسکے بعد قبضہ گرد بھاگ کھڑے ہوئے۔ بعد میں معلوم ہوا کہ یہ بندوق بردار شخص تعطیلات پر آیا اسرائیلی فوج کاافسر اور اسلحہ سرکاری تھا۔ چنانچہ سوسیہ کے ایک درجن سے زیادہ افراد کے خلاف سرکاری اسلحہ لوٹنے پردہشت گردی کے پرچے کاٹ دئے گئے۔جمعہ 24 جولائی کو نابلوس، الخلیل، قلقیلیہ اور دوسرے علاقوں میں دہشت گرد دندناتے رہے گھروں، گاڑیوں اور زرعی اراضی کو نقصان پہنچایا گیا، مختلف علاقوں سے یہ فسادی سینکڑوں مویشی بھی ہنکا لے گئے۔  نابلوس کے گاوں قصرہ اور تلکرم کے قریب کور میں دومساجد جلادی گئیں۔ نئے ہنگامی حکم کے تحت غرب اردن میں فسطینیوں کے جنازوں پر پابندی لگادی گئی ہے، میتیں صرف رات کو دفن کی جائیں گی اور 25 سے زیادہ افراد کا تدفین کیلئے قبرستان جانا ممنوع قراردے دیا کیا ہے

مسجدِ اقصیٰ اور بدلتا ہوا Status Quo

یہودی تقویم کے تہوار تِیشا بآو (Tisha B'Av) کے موقع پر دو ہزار سے زائد یہودی زائرین، پولیس کی نگرانی میں مسجدِ اقصیٰ کے احاطے میں داخل ہوگئے۔ اسرائیلی میڈیا کے مطابق قومی سلامتی کے وزیر اتمار بن گویر ان لوگوں کی قیادت کر رہے تھے۔ نمازیوں کو مسجد جانے سے روکا گیا اور بعض مقامات پر جھڑپیں بھی ہوئیں۔

یہ پیش رفت اس لیے بھی اہم ہے کہ 1967ء میں مشرقی یروشلم پر قبضے کے بعد اسرائیل نے اسلامی مقدسات کے انتظام کو اردنی اوقاف کے سپرد رکھنے اور Status Quo برقرار رکھنے کی یقین دہانی کرائی تھی۔ اس انتظام کے تحت غیر مسلم، مخصوص اوقات کے دوران بطور سیاح القدس شریف آسکتے ہیں لیکن وہاں اجتماعی عبادت یا مذہبی رسومات ادا کرنے کی اجازت نہیں۔ تاہم حالیہ برسوں میں یہ انتظام مسلسل کمزور ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ مسجدِ اقصیٰ، مسجدِ ابراہیمی اور دیگر مقدس مقامات پر بار بار پیش آنے والے واقعات سے یہ تاثر مضبوط ہو رہا ہے کہ زمینی حقائق بتدریج تبدیل کئے جارہے ہیں۔ اگر یہی رجحان جاری رہا تو خدشہ ہے کہ "Status Quo" صرف ایک تاریخی اصطلاح بن کر رہ جائے گا۔

غزہ کی آبادکاری: انتخابی سیاست کا نیا نعرہ

اسی دوران حکمران جماعت لیکوڈ سے وابستہ آبادکار تنظیمیں غزہ میں دوبارہ اسرائیلی بستیاں قائم کرنے کی مہم تیز کر رہی ہیں، جبکہ بعض ارکانِ پارلیمان اور وزرا بھی کھلے عام اس کی حمایت کر رہے ہیں۔اگر یہ مطالبہ سرکاری پالیسی کی شکل اختیار کرتا ہے تو غزہ کی جنگ محض سلامتی یا حماس تک محدود نہیں رہے گی بلکہ مستقل قبضے اور نئی آبادکاری کا مرحلہ بھی اس کا حصہ بن جائے گا۔ آئندہ اسرائیلی انتخابات میں یہ نعرہ مذہبی اور قوم پرست ووٹروں کو متحرک کرنے کا مؤثر ذریعہ بھی بن سکتا ہے۔

یہودی دنیا ایک جیسی نہیں

تِیشا بآو کے موقع پر ایک دلچسپ منظر نیویارک میں بھی دیکھنے کو ملا۔ جہاں بعض قدامت پسند حلقوں نے نیویارک کے میئر زہران ممدانی کیلئے بددعا کی وہیں نطورے کارتا (Neturei Karta) سے وابستہ حریدی یہودیوں  نے توریت میں درج وہ دعا پڑھی جو عادل حکمرانوں اور فرمانرواؤں کے لئے کی جاتی ہے، اور اس میں زہران ممدانی کے لئے کامیابی، عدل اور رہنمائی کی دعا مانگی گئی ۔ یہ واقعہ اس حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ یہودی اور صہیونی مترادف اصطلاحیں نہیں۔ خود یہودی مذہبی دنیا کے اندر ایسے مکاتبِ فکر موجود ہیں جو مذہبی بنیادوں پر موجودہ اسرائیلی ریاست اور صہیونیت سے اختلاف رکھتے ہیں۔

غزہ میں بھوک، غربِ اردن میں آبادکاری، مسجدِ اقصیٰ میں پئے در پئے دراندازی اور اسرائیلی سیاست میں مذہبی قوم پرستی کے بڑھتے اثرات ، بظاہر الگ الگ دکھائی دیتے ہیں ، لیکن ان کے مجموعی رخ سے اندازہ ہوتا ہے کہ خطے میں ایک نیا جغرافیائی، آبادیاتی اور سیاسی نقشہ ترتیب دیا جا رہا ہے۔ اگر یہ رجحان برقرار رہا تو مستقبل کا سب سے بڑا سوال صرف جنگ بندی نہیں ہوگا بلکہ یہ ہوگا کہ جنگ کے بعد غزہ میں کون کس سیاسی حقیقت و بندو بست کے تحت رہے گا۔

ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل کراچی 31جولائی 2026

ہفت روزہ دعوت دہلی 31 جولائی 2026

ہفت روزہ رہبر سرینگر 2 اگست 2026


 

خاموش رات، خالی ہوتے ترکش اور سفارت کاری؟
ایران۔امریکہ جنگ میں وقفہ: مذاکرات، عسکری دباؤ اور بدلتی ترجیحات

تیرہ راتوں تک مسلسل بمباری، میزائل حملوں اور دھماکوں کی گونج کے بعد 25 جولائی کی شب ایران اور خلیج فارس نے ایک غیر معمولی خاموشی دیکھی۔ نہ امریکی فضائیہ نے حملے کئے، نہ ہی کویت، بحرین اور اردن میں قائم امریکی فوجی اڈوں کے اطراف ایرانی میزائلوں کی بازگشت سنائی دی۔ جنگوں میں ایک رات کی خاموشی بھی معمولی واقعہ نہیں کہ یہی وقفے سفارت کاری کو سانس لینے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔  یہ خاموشی مذاکرات کی شروعات ہے یا اہداف کے حصول میں ناکامی پرامریکہ، اپنی عسکری حکمتِ عملی ازسرِنو ترتیب دینے پر مجبور ہو گیا ہے؟

کیا جنگی ذخائر بھی فیصلہ سازی پر اثرانداز ہوئے؟

اسی دوران امریکی ذرائع ابلاغ میں ایک اور پہلو بھی زیرِ بحث آیا۔رائٹرز اور وال اسٹریٹ جرنل سمیت متعدد معتبر اداروں کے مطابق قصر مرمریں کی قومی سلامتی ٹیم کے حالیہ اجلاسوں میں امریکی فضائی دفاعی میزائلوں، خصوصاً Patriot interceptors اور دیگر حساس گولہ بارود کے تیزی سے استعمال پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔ عسکری قیادت نے نشاندہی کی ہے کہ اگر یہی رفتار برقرار رہی تو خطے میں موجود امریکی اڈوں اور اتحادی ممالک کے دفاعی ذخائر پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔ تاہم امریکی ایوان صدر نے اس تاثر کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ امریکی افواج کے پاس مہم جاری رکھنے کے لیے وافر اسلحہ موجود ہے اور حملوں میں عارضی وقفہ سفارت کاری کو ایک اور موقع دینے کی حکمتِ عملی کا حصہ ہے۔ غالب امکان یہی ہے کہ حقیقت ان دونوں مؤقف کے درمیان کہیں موجود ہے۔ اسلحے کے ذخائر شاید واحد وجہ نہ ہوں، لیکن بڑھتی ہوئی جنگی لاگت، فضائی دفاعی میزائلوں کے تیز رفتار استعمال، خلیجی اتحادیوں کے تحفظات، عالمی تیل منڈی کے دباؤ اور مذاکرات کے لئے گنجائش پیدا کرنے کی خواہش—یہ سب عوامل مل کر واشنگٹن کی حالیہ حکمتِ عملی پر اثرانداز ہوتے دکھائی دیتے ہیں۔

جنگی تیاری و  سفارت کاری ساتھ ساتھ؟

امریکی خبر رساں ادارے Axios کے مطابق صدر ٹرمپ نے امریکی مرکزی کمان کو بڑے حملوں کی تیاری برقرار رکھنے کی ہدایت دیتے ہوئے شبانہ فضائی کارروائیاں عارضی طور پر روکنے کا حکم دیا ہے۔ دوسری جانب اسرائیلی چینل 12 کا دعویٰ ہے کہ  بڑے آپریشن کی تیاری جاری ہے اور امریکہ کے تقریباً 90 ایندھن بردار طیارے (Refueling Aircraft) اسرائیلی اڈوں پر موجود ہیں۔ امریکی ذرایع ابلاغ کے مطابق 23 جولائی کو  امریکہ نے ایران کے خلاف جاری کارروائیوں میں پہلی مرتبہ B-1 Lancer بمبار استعمال کئے۔ یہ دیوپیکر طیارے 2000 پاونڈ کے 24 بم اور درجنوں کروز میزائیل اٹھانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔عسکری ماہرین نے B-1 کی شمولیت کو زمینی کارروائی (Ground Operation) کی تمہید قراردیا۔ ٹائمز آف اسرائیل کا کہنا ہے  کہ تباہ کن B52بمبار بھی خلیج بھیج دئے گئے  ہیں اور خدشہ ہے کہ اب کوه کلنگ‌گزلا (Pickaxe Mountain)کے دامن میں مبینہ طورپر قائم جوہری تنصیبات کو نشانہ بنایا جائیگا۔ان متضاد اطلاعات سے یہی تاثر ابھرتا ہے کہ واشنگٹن عسکری دباؤ برقرار رکھتے ہوئے سفارت کاری کا دروازہ بھی کھلا رکھنا چاہتاہے۔

کیا اصل  مسئلہ ایران کا جوہری پروگرام ہے؟

اگر دونوں ممالک کے سرکاری مؤقف کا غیر جانب دارانہ جائزہ لیا جائے تو بنیادی اختلاف اتنا وسیع دکھائی نہیں دیتا جتنا میدانِ جنگ سے محسوس ہوتا ہے۔امریکہ کا مطالبہ ہے کہ ایران جوہری ہتھیار حاصل نہ کرے، جبکہ ایران برسوں سے یہ مؤقف دہراتا آیا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام بجلی کی پیداوار، طب اور صنعتی تحقیق تک محدود ہے۔ یہی موقف 2015ء کے جوہری معاہدے (JCPOA) میں بھی درج تھا اور اس سال یادداشتِ اسلام آباد میں بھی یہی عزم من و عن  دہرایا گیا۔ ایران یہ  اشارہ بھی دے چکا ہے کہ افزودہ یورینیم کے ذخائر اور ان کے استعمال کے طریقۂ کار پر مذاکرات کئے جا سکتے ہیں، بشرطیکہ اس کے سلامتی کے خدشات کو بھی تسلیم کیا جائے۔اصل رکاوٹ شاید تکنیکی سے زیادہ سیاسی ہے، جہاں اعتماد کا فقدان اور مسلسل بدلتے ہوئے بیانات ہر پیش رفت کو غیر یقینی بنا دیتے ہیں۔

ہر بار مذاکرات، پھر جنگ

اس معاملے پر کم از کم تین بار مذاکرات کی میزیں سجیں اور تینوں بار جب مذکرات کار معاہدے کے قریب پہنچ گئے تو صدر ٹرمپ نے بات چیت ختم کرکے ایران پر بارود کی بارش کردی۔

اپریل۔ مئی 2025 میں مذاکرات بہت کامیابی سے جاری تھے اور جون کے پہلے ہفتے میں امریکی وفد کے سربراہ اسٹیو وٹکاف نے خود کہا کہ بات چیت بہت ہی مثبت رخ اختیار کرچکی ہے اور خیال ہے کہ اس ماہ کے اختتام تک ہم معاہدے کے متن پر کام کررہے ہونگے کہ 22 جون کو امریکی فضائیہ نے 14 بنکر بسٹر بموں سے فردو، نظنز اور اصفہان میں مبینہ جوہری اثاثوں کو بقولِ  صدر ٹرمپ فنا یا Obliterate   کردیا۔

اسکے بعد عمان میں مذکرات کی میز دوبارہ بچھی اور ابتدائی دوتین نشستوں کے بعد عمان کی ثالثی میں فریقین جینوا میں سرجوڑ کر بیٹھے۔ جمعہ 27 فروری کی صبح  دامادِ اول جیررڈ کشنر نے بہت پراعتماد لہجے میں کہا کہ معاہدے کی راہ میں حائل اکثر رکاوٹیں دور کرلی گئی ہیں اور امید ہےاگلے ہفتے معاملہ طئے پاجائیگا۔ ابھی اس خوشگوار اعلان کی بازگشت  ختم نہں بھی ہوئی تھی امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر حملہ کردیا۔

اس بار پاکستان نے ثالثی کا بیڑہ اٹھایا اور 8 اپریل کو عارضی جنگ بندی ہوگئی۔ دونوں فریق اسلام آباد میں جمع ہوئے۔ اسلام آباد مذاکرات بے نتیجہ ختم ہوگئے لیکن بندوقیں خاموش رہیں اور اخرکار ایک 14 نکاتی یادداشتِ اسلام آباد نے تہران و امریکہ کو ایک بار پھر معاہدے کے قریب پہنچا دیا۔ لیکن آبنائے ہرمز میں پیش آنے والے واقعے کے بعد وہ عمل بھی تعطل کا شکار ہو گیا اور جنگ دوبارہ شدت اختیار کر گئی۔یہ واقعات اس تاثر کو مضبوط کرتے ہیں کہ دونوں ممالک کے درمیان صرف اعتماد کا بحران نہیں بلکہ ہر مرحلے پر سیاسی حساب کتاب بھی مذاکرات پر اثر انداز ہوتا ہے۔

سخت بیانات، خفیہ رابطے

گزشتہ ہفتے صدر ٹرمپ نے ایک مرتبہ پھر ایران کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی اور کہا کہ امریکہ ایران کو "Piece by Piece" تباہ کر رہا ہے۔ انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ تہران مذاکرات کے لئے بے تاب ہے، لیکن فوجی کارروائی جاری رہے گی۔دوسری طرف ایرانی قیادت نے واضح کیا کہ اگر ایران کے معاشی اور سلامتی سے متعلق بنیادی مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو کسی عارضی جنگ بندی کی گنجائش نہیں۔

اسی دوران نیویارک ٹائمز نے خبر دی کہ عراقی وزیراعظم علی الزیدی امریکی تجویز لے کر تہران پہنچے، مگر ایران نے اس بنیاد پر عبوری جنگ بندی مسترد کر دی کہ اس میں آبنائے ہرمز، جہاز رانی اور خطے کے سلامتی کے انتظامات پر کوئی واضح ضمانت موجود نہیں تھی۔یہ صورت حال ظاہر کرتی ہے کہ پس پردہ رابطے بند نہیں ہوئے، لیکن ایران جزوی سمجھوتوں کے بجائے زیادہ جامع سیاسی تصفیہ چاہتاہے۔

جنگ کا پھیلتا ہوا دائرہ

اسی دوران بحران صرف ایران اور امریکہ تک محدود نہیں رہا۔یمن کے حوثیوں اور سعودی عرب کے درمیان دوبارہ کشیدگی پیدا ہوئی۔ بحیرۂ احمر میں سعودی تیل بردار جہازوں کو نشانہ بنانے اور اس کے جواب میں سعودی فضائی کارروائیوں نے یہ خدشہ بڑھا دیا ہے کہ اگر باب المندب بھی غیر محفوظ ہو گیا تو خلیجی توانائی کی عالمی ترسیل مزید متاثر ہو سکتی ہے۔یوں آبنائے ہرمز اور باب المندب دونوں عالمی تجارت کے لیے بیک وقت خطرے کی علامت بنتے جا رہے ہیں۔

سیاسی دباؤ بھی فیصلہ کن عنصر

تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتیں امریکی معیشت پر دباؤ ڈال رہی ہیں، جبکہ وسط مدتی انتخابات قریب آ رہے ہیں۔ وائٹ ہاؤس کے اندر اسوقت دو مختلف سوچیں دکھائی دیتی ہیں۔ ایک حلقہ سفارت کاری کے ذریعے جلد سمجھوتہ چاہتا ہے، جبکہ دوسرا طاقت کے بھرپور استعمال کے ذریعے فیصلہ کن کامیابی حاصل کرنے کا حامی ہے تاکہ انتخابات سے پہلے صدر ٹرمپ ایک مضبوط رہنما کے طور پر سامنے آئیں۔متوقع انتخابات کے تناظر میں اسرائیلی قیادت  بھی اسی سوچ کی حامل نظرآتی ہے کہ سخت گیر مؤقف سیاسی فائدہ دے سکتا ہے۔

پچیس جولائی کی خاموش رات یقیناً امید کی ایک ہلکی سی کرن ہے، مگر اسے امن کی نوید قرار دینا ابھی قبل از وقت ہوگا۔ گزشتہ برسوں کا تجربہ یہی بتاتا ہے کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان مذاکرات اور میزائل ساتھ ساتھ چلتے  ہیں۔ اس بحران کا سب سے بڑا المیہ بھی یہی ہے کہ جب بھی سفارت کاری کامیابی کے قریب محسوس ہوتی ہے، میدانِ جنگ دوبارہ گرم ہو جاتا ہے۔ تاہم اس مرتبہ ایک فرق ضرور دکھائی دیتا ہے۔ جنگ صرف ایران ہی نہیں، امریکہ کے وسائل، اتحادیوں، عالمی توانائی کی منڈی اور داخلی سیاست پر بھی بوجھ بنتی جا رہی ہے۔ اگر واقعی جنگی ذخائر، معاشی دباؤ اور انتخابی سیاست فیصلہ سازی پر اثرانداز ہونے لگے ہیں تو شاید یہی وہ عوامل ہوں جو دونوں فریقوں کو بالآخر مذاکرات کی میز پر واپس لے آئیں۔ کیونکہ ایران کا جوہری تنازع نہ بمبار طیارے مستقل طور پر حل کر سکتے ہیں، نہ میزائل؛ اس کا پائیدار حل آخرکار سفارت کاری ہی میں پوشیدہ ہے، اگرچہ اس منزل تک پہنچنے کا راستہ ابھی بھی دھماکوں کے دھوئیں میں گم دکھائی دیتا ہے۔

ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل کراچی 31 جولائی 2026

ہفت روزہ دعوت دہلی 31 جولائی 2026

ہفت روزہ رہبر سرینگر 2 اگست 2026