Thursday, July 30, 2026

 

غزہ: بھوک، آبادکاری اور بدلتے ہوئے زمینی حقائق

پٹی کو ناقابلِ رہائش بنانے اور نئے سیاسی و جغرافیائی نقشے کی تیاری

غزہ کی جنگ اب صرف بمباری، میزائل حملوں اور زمینی کارروائیوں تک محدود دکھائی نہیں دیتی۔ اقوامِ متحدہ، امدادی اداروں اور انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق محاصرہ، غذائی قلت، بنیادی ڈھانچے کی تباہی اور آبادی کی مسلسل نقل مکانی ایک ایسے بحران کو جنم دے رہے ہیں جس کے اثرات جنگ بندی کے بعد بھی برسوں باقی رہ سکتے ہیں۔ دوسری جانب غربِ اردن میں آبادکاری کی رفتار تیز ہو رہی ہے، جبکہ مسجدِ اقصیٰ کے حوالے سے برسوں سے قائم Status Quo بھی مسلسل دباؤ میں نظر آتا ہے۔ ان تمام واقعات کو الگ الگ نہیں بلکہ ایک وسیع تر سیاسی حکمتِ عملی کے تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔

غزہ میں بھوک: ایک انسانی المیہ

اقوامِ متحدہ کے ورلڈ فوڈ پروگرام (WFP) نے خبردار کیا ہے کہ اگر اضافی مالی وسائل فوری طور پر فراہم نہ ہوئے تو اکتوبر سے اہلِ غزہ کیلئے خوراک کی امداد میں نمایاں کمی کرنا پڑے گی۔ ادارے کے مطابق جون میں شدید غذائی قلت (Acute Hunger) کا شکار افراد کی تعداد تقریباً بارہ لاکھ تھی، جو دسمبر تک بڑھ کر چودہ لاکھ ہوجائیگی، یعنی غزہ کی تقریباً دو تہائی آبادی غذائی قلت کا عذاب سہہ رہی ہے۔مسلسل بمباری، پانی اور بجلی کے نظام کی تباہی، اسپتالوں کی بندش، زرعی زمینوں کی بربادی اور امدادی سرگرمیوں میں رکاوٹوں نے ایسی صورت حال پیدا کردی ہے کہ متعدد بین الاقوامی ادارے اسرائیل پر  بھوک کو بطور جنگی ہتھیار استعمال کرنے کا الزام عائد کر رہے ہیں۔

ناقابلِ رہائش غزہ؟

اگر موجودہ صورت حال برقرار رہی تو غزہ بتدریج ایک ایسے خطے میں تبدیل ہوسکتا ہے جہاں معمول کی انسانی زندگی قائم رکھنا انتہائی دشوار ہوگا۔ بمباری، بیماری، مکانوں کی بربادی اور بھوک کے باعث آبادی کی مسلسل نقل مکانی ایک خاموش مگر گہرا انسانی بحران پیدا کر رہی ہے۔اسی تناظر میں امریکی دامادِ اول جیرڈ کشنر کا وہ بیان یاد آتا ہے جس میں انہوں نے غزہ کو مستقبل میں ایک پرتعیش ساحلی ترقیاتی علاقے (Waterfront Development) میں تبدیل کرنے  کا عزم ظاہر کیا تھا۔

مقامی نظم و نسق بھی ہدف؟

غزہ میں بمباری کا رخ صرف عسکری اہداف تک محدود نہیں رہا۔ شمالی غزہ کے علاقے شیخ رضوان پر ڈرون حملے میں پولیس کے سربراہ بریگیڈیئر جنرل عبد الناصر محمد المقادمة کو نشانہ بنایا گیا۔ اسی روز دیر البلح کی پولیس چوکی پر حملوں میں مزید جانی نقصان ہوا۔ایسے واقعات سے یہ تاثر تقویت پاتا ہے کہ شہری نظم و نسق کو بھی کمزور کیا جا رہا ہے تاکہ جنگ کے بعد بھی غزہ میں معمول کی شہری زندگی کی بحالی دشوار رہے۔

غربِ اردن: آبادکاری اور تشدد کا دائرہ وسیع

غربِ اردن میں بھی کشیدگی مسلسل بڑھ رہی ہے۔ نابلوس کے گاو تل پر مسلح قبضہ گردوں نے  درجنوں گھروں کو آگ لگادی۔اس واقعہ میں چار فلسطینی زندہ جل گئے۔ حفاظتی پتھراوسے ایک اسرائیلی ہلاک ہوا جس پر مسلح قبضہ گرد انتقام کے نعرے لگاتے ہوئے فلسطینی آباد پرٹوٹ پڑے۔ حملے کے دوران ایک نہتے فلسطینی نے قبضہ گرد سے رائفل چھین کر اسرائیل فوج کے  ایک میجر سمیت دوفوجیوں کو ہلاک کردیا۔یہ تو گویا غدر کی ایک کیفیت تھی چنانچہ سارے غرب اردن میں کرفیو لگاکر آپریشن کا آغاز ہوا۔ الخلیل کے علاقے سوسیہ پر مسلح قبضہ گردوں کے حملے میں 25 افراد زخمی ہوئے۔ ایک فلسطینی نے قبضہ گرد سے رائفل چھین کر فضا میں گولی چلائی جسکے بعد قبضہ گرد بھاگ کھڑے ہوئے۔ بعد میں معلوم ہوا کہ یہ بندوق بردار شخص تعطیلات پر آیا اسرائیلی فوج کاافسر اور اسلحہ سرکاری تھا۔ چنانچہ سوسیہ کے ایک درجن سے زیادہ افراد کے خلاف سرکاری اسلحہ لوٹنے پردہشت گردی کے پرچے کاٹ دئے گئے۔جمعہ 24 جولائی کو نابلوس، الخلیل، قلقیلیہ اور دوسرے علاقوں میں دہشت گرد دندناتے رہے گھروں، گاڑیوں اور زرعی اراضی کو نقصان پہنچایا گیا، مختلف علاقوں سے یہ فسادی سینکڑوں مویشی بھی ہنکا لے گئے۔  نابلوس کے گاوں قصرہ اور تلکرم کے قریب کور میں دومساجد جلادی گئیں۔ نئے ہنگامی حکم کے تحت غرب اردن میں فسطینیوں کے جنازوں پر پابندی لگادی گئی ہے، میتیں صرف رات کو دفن کی جائیں گی اور 25 سے زیادہ افراد کا تدفین کیلئے قبرستان جانا ممنوع قراردے دیا کیا ہے

مسجدِ اقصیٰ اور بدلتا ہوا Status Quo

یہودی تقویم کے تہوار تِیشا بآو (Tisha B'Av) کے موقع پر دو ہزار سے زائد یہودی زائرین، پولیس کی نگرانی میں مسجدِ اقصیٰ کے احاطے میں داخل ہوگئے۔ اسرائیلی میڈیا کے مطابق قومی سلامتی کے وزیر اتمار بن گویر ان لوگوں کی قیادت کر رہے تھے۔ نمازیوں کو مسجد جانے سے روکا گیا اور بعض مقامات پر جھڑپیں بھی ہوئیں۔

یہ پیش رفت اس لیے بھی اہم ہے کہ 1967ء میں مشرقی یروشلم پر قبضے کے بعد اسرائیل نے اسلامی مقدسات کے انتظام کو اردنی اوقاف کے سپرد رکھنے اور Status Quo برقرار رکھنے کی یقین دہانی کرائی تھی۔ اس انتظام کے تحت غیر مسلم، مخصوص اوقات کے دوران بطور سیاح القدس شریف آسکتے ہیں لیکن وہاں اجتماعی عبادت یا مذہبی رسومات ادا کرنے کی اجازت نہیں۔ تاہم حالیہ برسوں میں یہ انتظام مسلسل کمزور ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ مسجدِ اقصیٰ، مسجدِ ابراہیمی اور دیگر مقدس مقامات پر بار بار پیش آنے والے واقعات سے یہ تاثر مضبوط ہو رہا ہے کہ زمینی حقائق بتدریج تبدیل کئے جارہے ہیں۔ اگر یہی رجحان جاری رہا تو خدشہ ہے کہ "Status Quo" صرف ایک تاریخی اصطلاح بن کر رہ جائے گا۔

غزہ کی آبادکاری: انتخابی سیاست کا نیا نعرہ

اسی دوران حکمران جماعت لیکوڈ سے وابستہ آبادکار تنظیمیں غزہ میں دوبارہ اسرائیلی بستیاں قائم کرنے کی مہم تیز کر رہی ہیں، جبکہ بعض ارکانِ پارلیمان اور وزرا بھی کھلے عام اس کی حمایت کر رہے ہیں۔اگر یہ مطالبہ سرکاری پالیسی کی شکل اختیار کرتا ہے تو غزہ کی جنگ محض سلامتی یا حماس تک محدود نہیں رہے گی بلکہ مستقل قبضے اور نئی آبادکاری کا مرحلہ بھی اس کا حصہ بن جائے گا۔ آئندہ اسرائیلی انتخابات میں یہ نعرہ مذہبی اور قوم پرست ووٹروں کو متحرک کرنے کا مؤثر ذریعہ بھی بن سکتا ہے۔

یہودی دنیا ایک جیسی نہیں

تِیشا بآو کے موقع پر ایک دلچسپ منظر نیویارک میں بھی دیکھنے کو ملا۔ جہاں بعض قدامت پسند حلقوں نے نیویارک کے میئر زہران ممدانی کیلئے بددعا کی وہیں نطورے کارتا (Neturei Karta) سے وابستہ حریدی یہودیوں  نے توریت میں درج وہ دعا پڑھی جو عادل حکمرانوں اور فرمانرواؤں کے لئے کی جاتی ہے، اور اس میں زہران ممدانی کے لئے کامیابی، عدل اور رہنمائی کی دعا مانگی گئی ۔ یہ واقعہ اس حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ یہودی اور صہیونی مترادف اصطلاحیں نہیں۔ خود یہودی مذہبی دنیا کے اندر ایسے مکاتبِ فکر موجود ہیں جو مذہبی بنیادوں پر موجودہ اسرائیلی ریاست اور صہیونیت سے اختلاف رکھتے ہیں۔

غزہ میں بھوک، غربِ اردن میں آبادکاری، مسجدِ اقصیٰ میں پئے در پئے دراندازی اور اسرائیلی سیاست میں مذہبی قوم پرستی کے بڑھتے اثرات ، بظاہر الگ الگ دکھائی دیتے ہیں ، لیکن ان کے مجموعی رخ سے اندازہ ہوتا ہے کہ خطے میں ایک نیا جغرافیائی، آبادیاتی اور سیاسی نقشہ ترتیب دیا جا رہا ہے۔ اگر یہ رجحان برقرار رہا تو مستقبل کا سب سے بڑا سوال صرف جنگ بندی نہیں ہوگا بلکہ یہ ہوگا کہ جنگ کے بعد غزہ میں کون کس سیاسی حقیقت و بندو بست کے تحت رہے گا۔

ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل کراچی 31جولائی 2026

ہفت روزہ دعوت دہلی 31 جولائی 2026

ہفت روزہ رہبر سرینگر 2 اگست 2026


 

خاموش رات، خالی ہوتے ترکش اور سفارت کاری؟
ایران۔امریکہ جنگ میں وقفہ: مذاکرات، عسکری دباؤ اور بدلتی ترجیحات

تیرہ راتوں تک مسلسل بمباری، میزائل حملوں اور دھماکوں کی گونج کے بعد 25 جولائی کی شب ایران اور خلیج فارس نے ایک غیر معمولی خاموشی دیکھی۔ نہ امریکی فضائیہ نے حملے کئے، نہ ہی کویت، بحرین اور اردن میں قائم امریکی فوجی اڈوں کے اطراف ایرانی میزائلوں کی بازگشت سنائی دی۔ جنگوں میں ایک رات کی خاموشی بھی معمولی واقعہ نہیں کہ یہی وقفے سفارت کاری کو سانس لینے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔  یہ خاموشی مذاکرات کی شروعات ہے یا اہداف کے حصول میں ناکامی پرامریکہ، اپنی عسکری حکمتِ عملی ازسرِنو ترتیب دینے پر مجبور ہو گیا ہے؟

کیا جنگی ذخائر بھی فیصلہ سازی پر اثرانداز ہوئے؟

اسی دوران امریکی ذرائع ابلاغ میں ایک اور پہلو بھی زیرِ بحث آیا۔رائٹرز اور وال اسٹریٹ جرنل سمیت متعدد معتبر اداروں کے مطابق قصر مرمریں کی قومی سلامتی ٹیم کے حالیہ اجلاسوں میں امریکی فضائی دفاعی میزائلوں، خصوصاً Patriot interceptors اور دیگر حساس گولہ بارود کے تیزی سے استعمال پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔ عسکری قیادت نے نشاندہی کی ہے کہ اگر یہی رفتار برقرار رہی تو خطے میں موجود امریکی اڈوں اور اتحادی ممالک کے دفاعی ذخائر پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔ تاہم امریکی ایوان صدر نے اس تاثر کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ امریکی افواج کے پاس مہم جاری رکھنے کے لیے وافر اسلحہ موجود ہے اور حملوں میں عارضی وقفہ سفارت کاری کو ایک اور موقع دینے کی حکمتِ عملی کا حصہ ہے۔ غالب امکان یہی ہے کہ حقیقت ان دونوں مؤقف کے درمیان کہیں موجود ہے۔ اسلحے کے ذخائر شاید واحد وجہ نہ ہوں، لیکن بڑھتی ہوئی جنگی لاگت، فضائی دفاعی میزائلوں کے تیز رفتار استعمال، خلیجی اتحادیوں کے تحفظات، عالمی تیل منڈی کے دباؤ اور مذاکرات کے لئے گنجائش پیدا کرنے کی خواہش—یہ سب عوامل مل کر واشنگٹن کی حالیہ حکمتِ عملی پر اثرانداز ہوتے دکھائی دیتے ہیں۔

جنگی تیاری و  سفارت کاری ساتھ ساتھ؟

امریکی خبر رساں ادارے Axios کے مطابق صدر ٹرمپ نے امریکی مرکزی کمان کو بڑے حملوں کی تیاری برقرار رکھنے کی ہدایت دیتے ہوئے شبانہ فضائی کارروائیاں عارضی طور پر روکنے کا حکم دیا ہے۔ دوسری جانب اسرائیلی چینل 12 کا دعویٰ ہے کہ  بڑے آپریشن کی تیاری جاری ہے اور امریکہ کے تقریباً 90 ایندھن بردار طیارے (Refueling Aircraft) اسرائیلی اڈوں پر موجود ہیں۔ امریکی ذرایع ابلاغ کے مطابق 23 جولائی کو  امریکہ نے ایران کے خلاف جاری کارروائیوں میں پہلی مرتبہ B-1 Lancer بمبار استعمال کئے۔ یہ دیوپیکر طیارے 2000 پاونڈ کے 24 بم اور درجنوں کروز میزائیل اٹھانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔عسکری ماہرین نے B-1 کی شمولیت کو زمینی کارروائی (Ground Operation) کی تمہید قراردیا۔ ٹائمز آف اسرائیل کا کہنا ہے  کہ تباہ کن B52بمبار بھی خلیج بھیج دئے گئے  ہیں اور خدشہ ہے کہ اب کوه کلنگ‌گزلا (Pickaxe Mountain)کے دامن میں مبینہ طورپر قائم جوہری تنصیبات کو نشانہ بنایا جائیگا۔ان متضاد اطلاعات سے یہی تاثر ابھرتا ہے کہ واشنگٹن عسکری دباؤ برقرار رکھتے ہوئے سفارت کاری کا دروازہ بھی کھلا رکھنا چاہتاہے۔

کیا اصل  مسئلہ ایران کا جوہری پروگرام ہے؟

اگر دونوں ممالک کے سرکاری مؤقف کا غیر جانب دارانہ جائزہ لیا جائے تو بنیادی اختلاف اتنا وسیع دکھائی نہیں دیتا جتنا میدانِ جنگ سے محسوس ہوتا ہے۔امریکہ کا مطالبہ ہے کہ ایران جوہری ہتھیار حاصل نہ کرے، جبکہ ایران برسوں سے یہ مؤقف دہراتا آیا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام بجلی کی پیداوار، طب اور صنعتی تحقیق تک محدود ہے۔ یہی موقف 2015ء کے جوہری معاہدے (JCPOA) میں بھی درج تھا اور اس سال یادداشتِ اسلام آباد میں بھی یہی عزم من و عن  دہرایا گیا۔ ایران یہ  اشارہ بھی دے چکا ہے کہ افزودہ یورینیم کے ذخائر اور ان کے استعمال کے طریقۂ کار پر مذاکرات کئے جا سکتے ہیں، بشرطیکہ اس کے سلامتی کے خدشات کو بھی تسلیم کیا جائے۔اصل رکاوٹ شاید تکنیکی سے زیادہ سیاسی ہے، جہاں اعتماد کا فقدان اور مسلسل بدلتے ہوئے بیانات ہر پیش رفت کو غیر یقینی بنا دیتے ہیں۔

ہر بار مذاکرات، پھر جنگ

اس معاملے پر کم از کم تین بار مذاکرات کی میزیں سجیں اور تینوں بار جب مذکرات کار معاہدے کے قریب پہنچ گئے تو صدر ٹرمپ نے بات چیت ختم کرکے ایران پر بارود کی بارش کردی۔

اپریل۔ مئی 2025 میں مذاکرات بہت کامیابی سے جاری تھے اور جون کے پہلے ہفتے میں امریکی وفد کے سربراہ اسٹیو وٹکاف نے خود کہا کہ بات چیت بہت ہی مثبت رخ اختیار کرچکی ہے اور خیال ہے کہ اس ماہ کے اختتام تک ہم معاہدے کے متن پر کام کررہے ہونگے کہ 22 جون کو امریکی فضائیہ نے 14 بنکر بسٹر بموں سے فردو، نظنز اور اصفہان میں مبینہ جوہری اثاثوں کو بقولِ  صدر ٹرمپ فنا یا Obliterate   کردیا۔

اسکے بعد عمان میں مذکرات کی میز دوبارہ بچھی اور ابتدائی دوتین نشستوں کے بعد عمان کی ثالثی میں فریقین جینوا میں سرجوڑ کر بیٹھے۔ جمعہ 27 فروری کی صبح  دامادِ اول جیررڈ کشنر نے بہت پراعتماد لہجے میں کہا کہ معاہدے کی راہ میں حائل اکثر رکاوٹیں دور کرلی گئی ہیں اور امید ہےاگلے ہفتے معاملہ طئے پاجائیگا۔ ابھی اس خوشگوار اعلان کی بازگشت  ختم نہں بھی ہوئی تھی امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر حملہ کردیا۔

اس بار پاکستان نے ثالثی کا بیڑہ اٹھایا اور 8 اپریل کو عارضی جنگ بندی ہوگئی۔ دونوں فریق اسلام آباد میں جمع ہوئے۔ اسلام آباد مذاکرات بے نتیجہ ختم ہوگئے لیکن بندوقیں خاموش رہیں اور اخرکار ایک 14 نکاتی یادداشتِ اسلام آباد نے تہران و امریکہ کو ایک بار پھر معاہدے کے قریب پہنچا دیا۔ لیکن آبنائے ہرمز میں پیش آنے والے واقعے کے بعد وہ عمل بھی تعطل کا شکار ہو گیا اور جنگ دوبارہ شدت اختیار کر گئی۔یہ واقعات اس تاثر کو مضبوط کرتے ہیں کہ دونوں ممالک کے درمیان صرف اعتماد کا بحران نہیں بلکہ ہر مرحلے پر سیاسی حساب کتاب بھی مذاکرات پر اثر انداز ہوتا ہے۔

سخت بیانات، خفیہ رابطے

گزشتہ ہفتے صدر ٹرمپ نے ایک مرتبہ پھر ایران کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی اور کہا کہ امریکہ ایران کو "Piece by Piece" تباہ کر رہا ہے۔ انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ تہران مذاکرات کے لئے بے تاب ہے، لیکن فوجی کارروائی جاری رہے گی۔دوسری طرف ایرانی قیادت نے واضح کیا کہ اگر ایران کے معاشی اور سلامتی سے متعلق بنیادی مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو کسی عارضی جنگ بندی کی گنجائش نہیں۔

اسی دوران نیویارک ٹائمز نے خبر دی کہ عراقی وزیراعظم علی الزیدی امریکی تجویز لے کر تہران پہنچے، مگر ایران نے اس بنیاد پر عبوری جنگ بندی مسترد کر دی کہ اس میں آبنائے ہرمز، جہاز رانی اور خطے کے سلامتی کے انتظامات پر کوئی واضح ضمانت موجود نہیں تھی۔یہ صورت حال ظاہر کرتی ہے کہ پس پردہ رابطے بند نہیں ہوئے، لیکن ایران جزوی سمجھوتوں کے بجائے زیادہ جامع سیاسی تصفیہ چاہتاہے۔

جنگ کا پھیلتا ہوا دائرہ

اسی دوران بحران صرف ایران اور امریکہ تک محدود نہیں رہا۔یمن کے حوثیوں اور سعودی عرب کے درمیان دوبارہ کشیدگی پیدا ہوئی۔ بحیرۂ احمر میں سعودی تیل بردار جہازوں کو نشانہ بنانے اور اس کے جواب میں سعودی فضائی کارروائیوں نے یہ خدشہ بڑھا دیا ہے کہ اگر باب المندب بھی غیر محفوظ ہو گیا تو خلیجی توانائی کی عالمی ترسیل مزید متاثر ہو سکتی ہے۔یوں آبنائے ہرمز اور باب المندب دونوں عالمی تجارت کے لیے بیک وقت خطرے کی علامت بنتے جا رہے ہیں۔

سیاسی دباؤ بھی فیصلہ کن عنصر

تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتیں امریکی معیشت پر دباؤ ڈال رہی ہیں، جبکہ وسط مدتی انتخابات قریب آ رہے ہیں۔ وائٹ ہاؤس کے اندر اسوقت دو مختلف سوچیں دکھائی دیتی ہیں۔ ایک حلقہ سفارت کاری کے ذریعے جلد سمجھوتہ چاہتا ہے، جبکہ دوسرا طاقت کے بھرپور استعمال کے ذریعے فیصلہ کن کامیابی حاصل کرنے کا حامی ہے تاکہ انتخابات سے پہلے صدر ٹرمپ ایک مضبوط رہنما کے طور پر سامنے آئیں۔متوقع انتخابات کے تناظر میں اسرائیلی قیادت  بھی اسی سوچ کی حامل نظرآتی ہے کہ سخت گیر مؤقف سیاسی فائدہ دے سکتا ہے۔

پچیس جولائی کی خاموش رات یقیناً امید کی ایک ہلکی سی کرن ہے، مگر اسے امن کی نوید قرار دینا ابھی قبل از وقت ہوگا۔ گزشتہ برسوں کا تجربہ یہی بتاتا ہے کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان مذاکرات اور میزائل ساتھ ساتھ چلتے  ہیں۔ اس بحران کا سب سے بڑا المیہ بھی یہی ہے کہ جب بھی سفارت کاری کامیابی کے قریب محسوس ہوتی ہے، میدانِ جنگ دوبارہ گرم ہو جاتا ہے۔ تاہم اس مرتبہ ایک فرق ضرور دکھائی دیتا ہے۔ جنگ صرف ایران ہی نہیں، امریکہ کے وسائل، اتحادیوں، عالمی توانائی کی منڈی اور داخلی سیاست پر بھی بوجھ بنتی جا رہی ہے۔ اگر واقعی جنگی ذخائر، معاشی دباؤ اور انتخابی سیاست فیصلہ سازی پر اثرانداز ہونے لگے ہیں تو شاید یہی وہ عوامل ہوں جو دونوں فریقوں کو بالآخر مذاکرات کی میز پر واپس لے آئیں۔ کیونکہ ایران کا جوہری تنازع نہ بمبار طیارے مستقل طور پر حل کر سکتے ہیں، نہ میزائل؛ اس کا پائیدار حل آخرکار سفارت کاری ہی میں پوشیدہ ہے، اگرچہ اس منزل تک پہنچنے کا راستہ ابھی بھی دھماکوں کے دھوئیں میں گم دکھائی دیتا ہے۔

ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل کراچی 31 جولائی 2026

ہفت روزہ دعوت دہلی 31 جولائی 2026

ہفت روزہ رہبر سرینگر 2 اگست 2026


Thursday, July 23, 2026

 

غزہ  تا غربِ اردن : آبادکاری، انتہاپسندی اور بدلتی ہوئی اسرائیلی سیاست

خلیج فارس سے لے کر بحیرۂ روم کے مشرقی ساحل تک جنگ کی آگ مسلسل بھڑک رہی ہے۔ ایک طرف ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لینے کی دھمکیاں دے رہی ہے تو دوسری جانب غزہ کی پٹی پر مسلط خونریزی کو عالمی مجلسِ امن (Board of Peace) کی جانب سے اعلان کردہ جنگ بندی بھی نہ روک سکی۔ غزہ کے طول و عرض پر بمباری، ڈرون حملوں اور زمینی کارروائیوں کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔ انسانی المیہ ہر گزرتے دن کے ساتھ مزید گہرا ہوتا جا رہا ہے۔ عمارتیں ملبے کاڈھیر اوراسپتال ناکارہ ہو چکے ہیں۔ اب بے گھر خاندانوں کے خیمے بھی محفوظ نہیں رہے۔

جنگ بندی کے باوجود موت کا سفر

غزہ میں جنگ بندی کے بعد بھی شہری ہلاکتوں کا سلسلہ نہیں تھما۔ کھیلتے ہوئے بچے ہوں، پانی بھرنے والی خواتین، عبادت میں مصروف نمازی یا امداد کے منتظر شہری، کوئی بھی محفوظ دکھائی نہیں دیتا۔ گزشتہ ہفتے غزہ کی احمد یاسین مسجد پر بمباری کے بعد جنازے کے اجتماع کو بھی نشانہ بنایا گیا، جس میں متعدد افراد جاں بحق ہوئے۔ اسی دوران وسطی غزہ، المغازی کی خیمہ بستی، البریج، دیر البلح، جبالیہ اور خان یونس سمیت کئی علاقوں میں فضائی حملوں اور فائرنگ سے مزید شہری ہلاک ہوئے، جن میں بڑی تعداد بچوں کی تھی۔

یہ وہ جنگ ہے جس میں ہلاکتوں کے درست اعداد و شمار بھی متنازع ہوتے جا رہے ہیں، کیونکہ بیشتر اسپتال تباہ ہو چکے ہیں، طبی عملہ خود نشانہ بن رہا ہے اور ہزاروں زخمی علاج کے بغیر اپنے خیموں یا ملبے تلے دم توڑ دیتے ہیں۔ ایک فلسطینی خاتون نے خان یونس سے سوشل میڈیا پر اپنے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ "پہلے ہمارے بچوں کے نرم جسم کنکریٹ کے نیچے کچلے گئے، اب یہی بچے شعلہ فشاں خیموں میں زندہ جل رہے ہیں۔" شاید اس ایک جملے میں غزہ کے موجودہ المیے کی پوری تصویر سمٹ آتی ہے۔

غزہ کا اگلا مرحلہ: کیا آبادکاری کی واپسی ہونے جا رہی ہے؟

اسرائیلی دائیں بازو کے انتہا پسند غزہ کے سیاسی اور جغرافیائی مستقبل کی نئی منصوبہ بندی میں مصروف دکھائی دیتے ہیں۔ حکمران جماعت لیکوڈ کی حمایت یافتہ آبادکار تنظیم نحالا (Nachala) نے غزہ میں اسرائیلی بستیاں قائم کرنے کے مطالبے کے لئے ایک بڑا مارچ منظم کیا، جس کی قیادت حکمران اتحاد سے وابستہ ارکانِ پارلیمان اور بعض وزراء نے کی۔

اگرچہ اسرائیلی فوج نے غزہ میں داخلے کے تمام راستے بند کرکےجلوس کو فلسطینی آبادی تک نہیں پہنچنے  دیا، لیکن اس مظاہرے کی اصل اہمیت اس کے سیاسی پیغام میں مضمر ہے۔ پہلی مرتبہ حکمران اتحاد سے تعلق رکھنے والے منتخب ارکانِ پارلیمان نہ صرف غزہ میں دوبارہ آبادکاری کی کھل کر حمایت کر رہے ہیں بلکہ اسے اسرائیل کے مستقبل کا ناگزیر حصہ بھی قرار دے رہے ہیں۔

یہ پیش رفت معمولی نہیں۔ 2005ء میں اسرائیل نے یک طرفہ طور پر غزہ سے اپنی تمام آبادکار بستیاں ختم کر دی تھیں، لیکن آج تقریباً دو دہائیوں بعد انہی بستیوں کی بحالی کا مطالبہ حکومتی اتحاد کے اندر سے بلند ہو رہا ہے۔ اگر یہ سوچ سرکاری پالیسی کی شکل اختیار کرتی ہے تو غزہ کی جنگ صرف سلامتی یا عسکری کارروائی کا مسئلہ نہیں رہے گی بلکہ مستقل قبضے، آبادیاتی تبدیلی اور نئے جغرافئے کی تشکیل کا معاملہ بھی بن جائے گی۔

انتخابات اور انتہاپسندی کا باہمی تعلق

اسرائیل میں متوقع انتخابات نے اس بحث کو مزید اہم بنا دیا ہے۔ گزشتہ چند برسوں میں دائیں بازو کی جماعتوں کے درمیان مقابلہ زیادہ تر اس بات پر ہوتا رہا ہے کہ فلسطینی علاقوں کے بارے میں کس کا مؤقف زیادہ سخت ہے۔ ایسے ماحول میں غزہ میں دوبارہ آبادکاری کا نعرہ صرف ایک نظریاتی مطالبہ نہیں بلکہ ایک مؤثر انتخابی ہتھیار بھی بن سکتا ہے۔

غربِ اردن: خاموش مگر مسلسل بدلتا ہوا نقشہ

غزہ کے ساتھ غربِ اردن میں بھی زمینی حقائق تیزی سے تبدیل ہو رہے ہیں۔ اسرائیلی فوج نے گزشتہ ہفتے الخلیل کے مختلف علاقوں کا محاصرہ کیا اور فلسطینی ذرائع کے مطابق متعدد نوجوانوں کو گرفتار کیا۔ شمالی رام اللہ کے گاوں دیر الجریر قبضہ گردوں نے مکانوں کو آگ لگادی۔یہ وحشی 70 مویشی بھی ہنکالے گئے، مزاحمت پر فوج کی فائرنگ سے دو افراد جان بحق ہوگئے۔ اسی دوران اسرائیلی کابینہ نے غرب اردن میں 34 نئی بستیوں کی  تعمیر کیلئے 43 کروڑ 40 لاکھ ڈالر کی منظوری دیدی۔ اسکے نتیجے میں کم از کم 1000 فلسطینی خاندانوں کے بے گھر ہونے کا اندیشہ ہے۔بادی النظر میں غزہ اور غربِ اردن دو الگ محاذ  ہیں،لیکن حقیقت میں دونوں ایک ہی بڑی حکمتِ عملی کے مختلف پہلو محسوس ہوتے ہیں۔ یعنی ایک طرف عسکری دباؤ اور دوسری جانب زمینی حقائق کو مستقل طور پر تبدیل کرنے کی کوشش۔

حوات گیلعاد کی آگ: حادثہ، تفتیش یا ایک نیا سیاسی بیانیہ؟

اٹھارہ جولائی کو اسرائیلی قبضہ بستی حوات گیلعاد (Havat Gilad) میں اچانک آگ بھڑک اٹھی۔ یہ بستی 2002ء میں غیر رسمی طور پر قائم کی گئی تھی جسے 2018ء میں  قانونی حیثیت دے دی گئی۔ شدید گرمی، خشک موسم اور تیز ہواؤں کے باعث آگ تیزی سے پھیلی اور درجنوں مکانات اس کی لپیٹ میں آ گئے۔ سرکاری اطلاعات کے مطابق تیرہ مکانات مکمل طور پر جل گئے، متعدد دیگر کو نقصان پہنچا اور تقریباً ایک سو خاندان عارضی طور پر بے گھر ہو گئے۔

واقعے کے فوراً بعد اسرائیلی داخلی سلامتی کی ایجنسی شاباک (Shin Bet) نے تحقیقات شروع کیں۔ ابتدائی تفتیش میں دھماکا خیز مواد یا منظم آتش زنی کا کوئی واضح ثبوت سامنے نہیں آیا، البتہ جائے وقوعہ سے ملنے والا ایک جلا ہوا سگریٹ اور گاڑی کے ٹائروں کے چند نشانات تفتیش کا مرکز بن گئے۔ اب سوال اٹھا کہ سگریٹ کا ٹکڑا یہاں کس نے پھینکا؟اس حوالے سے شاباک کی کوئی رائے اب تک سامنے نہیں آئی لیکن اسرائیلی میڈیا اور آبادکار حلقوں میں یہ قیاس آرائیاں شروع ہوگئیں کہ یہ ضرور کسی فلسطینی کی شرارت ہے کیونکہ آگ سبت (ہفتے) کے روز لگی ہے اور یہودی سبت کے دوران گاڑی چلانے اور آگ جلانے سے گریز کرتے ہیں۔ جدید فرانزک سائنس، مصنوعی ذہانت، ڈرون نگرانی اور ہزاروں کیمروں کے دور میں اگر کسی واقعے کی سمت مذہبی معمولات یا سماجی قیاس آرائیوں سے متعین ہونے لگے تو یہ صرف ایک تفتیشی مسئلہ نہیں رہتا بلکہ سیاسی بیانئے کی تشکیل کا حصہ بن جاتا ہے۔

اسرائیل کی داخلی سیاست: مذہبی جماعتوں کا بڑھتا ہوا اثر

صرف فلسطینی علاقوں میں ہی نہیں، اسرائیل کی داخلی سیاست میں بھی واضح تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں۔ گزشتہ ہفتے پارلیمان نے ایک متنازع قرارداد منظور کی جسے مذہبی حلقوں کی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔ قرارداد کا مقصد اعلیٰ تعلیمی اداروں میں مخلوط تعلیم کی حوصلہ شکنی ہے۔ اگرچہ اس کی عملی شکل ابھی واضح نہیں، تاہم سیاسی مبصرین کے نزدیک اس قانون سازی کا اصل مقصد مذہبی جماعتوں کو مطمئن رکھنا ہے۔

اسی طرح مدارس (Yeshiva) کے طلبہ کو لازمی فوجی خدمت سے استثنا دینے کے معاملے پر بھی حکومت نے ایک درمیانی راستہ اختیار کیا ہے۔ فوج اور سیکولر جماعتیں اس استثنا کے خاتمے کا مطالبہ کر رہی ہیں، جبکہ مذہبی جماعتیں اسے اپنی سرخ لکیر قرار دیتی ہیں۔ تازہ مسودۂ قانون میں اگرچہ فوجی خدمت کی ذمہ داری برقرار رکھی گئی ہے، لیکن بھرتی سے گریز کرنے والے طلبہ کی گرفتاری کا اختیار محدود کر دیا گیا ہے۔ یوں حکومت نے وقتی طور پر اپنے مذہبی اتحادیوں کو مطمئن کرنے کی کوشش کی ہے۔

یہ دونوں مثالیں اس بات کی غمازی کرتی ہیں کہ اسرائیلی سیاست میں مذہبی اور قوم پرست جماعتوں کا اثر مسلسل بڑھ رہا ہے، اور یہی جماعتیں فلسطینی علاقوں میں مزید سخت پالیسیوں کی سب سے بڑی داعی بھی ہیں۔

امریکہ میں بدلتا ہوا سیاسی منظرنامہ

اسرائیل کے بارے میں ایک اہم تبدیلی امریکہ کے اندر بھی محسوس کی جا رہی ہے۔ حال ہی میں ریپبلکن رکنِ کانگریس تھامس میسی نے اسرائیل کی فوجی امداد ختم کرنے کی ترمیم پیش کی۔ اگرچہ یہ ترمیم بھاری اکثریت سے مسترد ہو گئی، لیکن اس پر ہونے والی بحث نے امریکی سیاست میں ایک نئی دراڑ کو نمایاں کر دیا۔

تقریباً نصف صدی سے اسرائیل کی فوجی امداد ریپبلکن اور ڈیموکریٹ دونوں جماعتوں کی مشترکہ پالیسی سمجھی جاتی رہی ہے، مگر حالیہ رائے شماری میں ایک سو سے زائد ڈیموکریٹ ارکان نے امداد روکنے کے حق میں ووٹ دیا۔ تقریباً اتنی ہی تعداد نے امداد جاری رکھنے کی حمایت کی، جبکہ بعض ارکان نے رائے شماری میں غیر جانب دار رہنے کو ترجیح دی۔

یہ محض ایک عددی تقسیم نہیں بلکہ امریکی رائے عامہ میں آنے والی تبدیلی کا عکس ہے۔ غزہ کی جنگ، بڑھتا ہوا انسانی بحران اور نوجوان امریکی ووٹروں کے بدلتے رجحانات نے پہلی مرتبہ اسرائیل کی فوجی امداد کو کھلی سیاسی بحث کا موضوع بنا دیا ہے۔مزید دلچسپ بات  یہ کہ امداد روکنے کی تجویز ایک قدامت پسند ریپبلکن نے پیش کی، جبکہ اس کی سب سے زیادہ حمایت ترقی پسند ڈیموکریٹس نے کی۔ مختلف نظریاتی دھاروں کا ایک نکتے پر جمع ہونا اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ آئندہ برسوں میں اسرائیل کی غیر مشروط حمایت امریکی سیاست میں پہلے جیسی مسلمہ حقیقت شاید نہ رہے۔

بدلتا ہوا منظرنامہ

غزہ میں جاری جنگ، غربِ اردن میں آبادکاری کی توسیع، اسرائیل کے اندر مذہبی اور قوم پرست سیاست کا بڑھتا ہوا اثر اور امریکہ میں اسرائیل کے بارے میں بدلتی ہوئی رائے،  بظاہر الگ الگ واقعات دکھائی دیتے ہیں، لیکن درحقیقت یہ ایک بڑی تصویر کے مختلف رنگ ہیں۔اگر غزہ میں دوبارہ آبادکاری کا منصوبہ عملی صورت اختیار کرتا ہے، غربِ اردن میں نئی بستیاں مسلسل پھیلتی رہتی ہیں، اور اسرائیل کے اندر انتخابی سیاست مزید دائیں بازو کی طرف جھکتی ہے تو دو ریاستی حل کا تصور پہلے سے کہیں زیادہ کمزور ہو جائے گا۔ دوسری طرف اگر امریکی سیاست میں اسرائیل کی غیر مشروط حمایت پر سوالات بڑھتے رہے تو آنے والے برسوں میں واشنگٹن اور تل ابیب کے تعلقات کی نوعیت میں بھی تدریجی تبدیلی آ سکتی ہے۔

ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل کراچی 24 جولائی 2026

ہفت روزہ دعوت دہلی 24 جولائی 2026

ہفت روزہ رہبر سرینگر 26 جولائی 2026


 

آبنائے ہرمز سے  بلوچستان کی دہلیز تک

ایران، امریکہ اور بدلتی ہوئی خلیجی جنگ

سات جولائی کو آبنائے ہرمز سے گزرنے والے ایک قطری جہاز پر ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی مبینہ فائرنگ کے بعد خلیج فارس میں کشیدگی کی جو نئی لہر اٹھی، وہ اب ایک وسیع تر علاقائی بحران کی شکل اختیار کرتی دکھائی دے رہی ہے۔ ابتدا میں یہ واقعہ محض سمندری سلامتی کا مسئلہ محسوس ہوا، لیکن چند ہی دنوں میں امریکہ اور ایران کے درمیان جاری محدود عسکری کشمکش خلیجی ریاستوں، بحیرہ احمر اور یہاں تک کہ پاکستان کی سرحدوں تک اثر انداز ہوتی نظر آنے لگی۔ اس دوران سفارتی رابطوں کی متضاد اطلاعات، امریکی بمباری میں اضافہ، ایرانی جوابی حملے، اور واشنگٹن میں اسرائیل کے کردار پر کھل کر ہونے والی بحث نے صورتِ حال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔

دھمکیوں کے سائے میں مذاکرات

گزشتہ ہفتے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا کہ ایران کے خلاف حملے جاری رہیں گے اور آئندہ مرحلے میں بجلی گھروں، پلوں اور دیگر بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران مذاکرات کی میز پر آ جائے، اس سے پہلے کہ بات چیت کے لیے کچھ باقی نہ رہے۔ اس کے جواب میں ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ "گالی اور گولی کے ماحول میں مذاکرات ممکن نہیں"۔

دلچسپ بات کہ پندرہ جولائی کو سخت لہجے میں ایران کو خبردار کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ ایرانی اور امریکی وفود نے ایک روز قبل عمان میں گیارہ گھنٹے مذاکرات کئے ہیں۔ تاہم ایرانی نائب وزیرِ خارجہ کاظم غریب آبادی نے اس دعوے کی فوری تردید کرتے ہوئے کہا کہ ایسی کوئی ملاقات نہیں ہوئی۔ یہ متضاد بیانات اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ پسِ پردہ رابطوں کا سلسلہ مکمل طور پر منقطع نہیں ہوا، لیکن دونوں فریق اسے عوامی سطح پر تسلیم کرنے سے گریز کر رہے ہیں۔

ایران میں حملوں کا دائرہ وسیع

ایرانی عسکری حکام کے مطابق 15 جولائی سے حملوں کا رخ شہری بنیادی ڈھانچے کی طرف بھی بڑھ گیا ہے۔ تہران کا دعویٰ ہے کہ بجلی گھروں، بندرگاہی تنصیبات اور مواصلاتی ڈھانچے کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، جس کے باعث بعض علاقوں میں بجلی کی قلت پیدا ہوئی ہے۔ ایرانی ذرائع نے اہواز، ایلام اور خوزستان میں ہسپتالوں، پانی کی فراہمی اور خوراک کے ذخائر کو نقصان پہنچنے کے دعوے بھی کئے ہیں۔

اٹھارہ جولائی کو الارزق (اردن) کے امریکی اڈے پر ایرانی ڈرون حملے میں ایک خاتون سپاہی اور ایک افسر سمیت سمیت تین امریکی فوجی ہلاک ہوگئے۔ اسکے دوسرے دن عراق کے الحریر اڈے پر حملے میں ایک امریکی فوجی ماراگیا۔ اس جانی نقصان پر صدر ٹرمپ شدید مشتعل ہیں اور انھوں نے خون کا بدلہ لینے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ رائٹرز کے مطابق برطانیہ کے امریکی اڈوں سے مزید لڑاکا اور بمبار طیارے خلیج بھیج دئے گئے ہیں۔ اسے پہلے ٹائمز آف اسرائیل نے خبر دی  تھی کہ دوران پرواز ایندھن بھرنے والے طیاروں (Refueling aircraft) کے کئی اسکواڈرن تل ابیب بھیجے جارہے ہیں۔

پاکستانی سرحد کے قریب نئی تشویش

اس بحران کا ایک اہم پہلو ایرانی بلوچستان میں بنپور کے قریب مبینہ امریکی میزائل حملے ہیں۔ ایرانی ذرائع کے مطابق اس حملے میں شہری ہلاکتیں ہوئیں۔ بنپور پاکستان کے ضلع چاغی کے قریب واقع ہے،چنانچہ اس پیش رفت نے اسلام آباد میں فطری تشویش پیدا کی ہے۔ اگر لڑائی سرحدی علاقوں تک پھیلتی ہے تو پاکستان کو سلامتی، پناہ گزینوں اور علاقائی سفارت کاری کے نئے مسائل ہو سکتے ہیں۔

خلیجی ممالک جنگ کے دائرے میں

ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر اس کے بنیادی ڈھانچے اور تیل کی برآمدات کو نشانہ بنایا گیا تو خطے میں کسی کے توانائی اثاثے محفوظ نہیں رہیں گے۔ اس تناظر میں اردن، بحرین اور کویت میں امریکی فوجی تنصیبات پر ایرانی میزائل اور ڈرون حملوں کیساتھ کوئت کے بجلی گھروں کو نشانہ بنانے کی خبریں آرہی ہیں۔ جنگ اب صرف ایران اور امریکہ تک محدود نہیں رہی، بلکہ ان خلیجی ریاستوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے رہی ہے جن کی سرزمین یا فضائی حدود مبینہ طور پر امریکی کارروائیوں کے لیے استعمال ہو رہی ہیں۔

باب المندب اور توانائی کی عالمی شہ رگ

ادھر یمنی حوثیوں نے اعلان کیا ہے کہ وہ سعودی عرب کے خلاف بحری ناکہ بندی نافذ کر رہے ہیں ہے۔ اعلان میں آبنائے باب المندب کو تمام عالمی جہازوں کے لئے بند کرنے کے جائے صرف سعودی جہاز رانی کو ہدف بنانے کی بات کی گئی ہے۔پورے باب المندب کو بند کرنے  سے یورپ، ایشیا اور افریقہ کے درمیان تجارت متاثر ہوتی اور  امکان تھا کہ امریکہ، یورپی ممالک اور علاقائی اتحادی ایک نیا بین الاقوامی بحری اتحاد قائم کر دیتے، جیسا کہ ماضی میں بحیرۂ احمر میں جہاز رانی کے تحفظ کے لیے کیا جا چکا ہے۔حوثیوں نے ایک ایسا راستہ اختیار کیا ہے جس میں زیادہ سے زیادہ معاشی دباؤ اور کم سے کم بین الاقوامی محاذ آرائی پیدا کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ یہ تنگ آبی راستہ بحیرہ احمر کو خلیج عدن کے ذریعے بحرِ ہند سے ملاتا ہے۔ اگر آبنائے ہرمز میں رکاوٹ پیدا ہو جائے تو سعودی تیل کی بڑی مقدار ایشیائی منڈیوں تک اسی راستے سے پہنچتی ہے۔

اسلام آباد مفاہمت کی ناکامی؟

صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ شدید حملوں کے باوجود سفارتی رابطے جاری ہیں، لیکن وہ خود جنگ بندی اور مبینہ "اسلام آباد مفاہمتی یادداشت" (Islamabad MOU) کے خاتمے کا اعلان کر چکے ہیں۔ تہران سے بھی ایسے اشارے مل رہے ہیں کہ سابقہ سفارتی فریم ورک اب مؤثر نہیں رہا۔

جے ڈی وانس کا غیر معمولی انکشاف

بظاہر آبنائے ہرمز میں ایک جہاز پر فائرنگ  جنگ بندی کے خاتمےاور اور MOUکی منسوخی کا سبب بنی لیکن اس حوالے سے امن مذاکرات میں امریکی وفد کے سربراہ,  نائب صدر  جے ڈی وانس نے چشم کشا انکشاف کئے ہیں۔معروف پوڈکاسٹر جو روگن (Joe Rogan)کو دئے گئے طویل انٹرویو میں انہوں نے دعویٰ کیا کہ اسرائیلی حکومت کے بعض حلقے ایران کے ساتھ جاری امن مذاکرات کو ناکام بنانے اور جنگ کو طول دینے کے لئے امریکی رائے عامہ پر اثر انداز ہونے کی کوشش کر رہے تھے۔ ان کے مطابق اس مقصد کے لیے ایک "منظم اور مالی وسائل سے بھرپور مہم" چلائی گئی۔وانس نے اسرائیل کی مذمت نہیں کی لیکن یہ مؤقف اختیار کیا کہ امریکی خارجہ پالیسی کا تعین واشنگٹن میں ہونا چاہیے نہ کہ کسی دوسرے ملک کے سیاسی مفادات کے زیرِ اثر۔ امریکی سیاست میں یہ بیان اس لئے غیر معمولی سمجھا جا رہا ہے کہ اعلیٰ سطح پر اسرائیل کے کردار پر اس قدر کھل کر تنقید اس سے پہلے نہیں سنی گئی ۔

نیتن یاہو کا مؤخر شدہ دورہ اور بیانیوں کی جنگ

اسی پس منظر میں اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے واشنگٹن کے مجوزہ دورے کا مؤخر ہونا بھی قابلِ توجہ ہے۔ اسرائیلی ذرائع کے مطابق صدر ٹرمپ کے ساتھ ملاقات حتمی شکل اختیار نہ کر سکی، جبکہ وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ ایسی کوئی باضابطہ ملاقات طے ہی نہیں ہوئی تھی۔

کیا دورے کی منسوخی واشنگٹن میں نیتن یاہو کے کم ہوتے ہوئے سیاسی اثر و رسوخ کی عکاس ہے؟ اس سلسلے ترکیہ کو F-35 طیاروں کی ممکنہ فروخت کی مثال دی جارہی ہے۔ دوسری جانب کچھ ماہرینِ امور مشرقِ وسطی کے نزدیک یہ ایک طرح کا "ہجرِ بالرضا" بھی ہو سکتا ہے۔ ان کے مطابق امریکہ ایران کے خلاف اپنی حالیہ عسکری کارروائیوں میں مبینہ طور پر اردن، کویت اور بحرین کی سرزمین، فضائی حدود اور اڈے استعمال کر رہا ہے، جس کے نتیجے میں یہ ممالک ایرانی جوابی حملوں کے خطرے سے دوچار ہیں۔

اسی دوران اسلامی دنیا میں ایک ایسا بیانیہ پروان چڑھایا جا رہا ہے کہ ایران، امریکہ کو براہِ راست نشانہ بنانے کے بجائے خلیجی ممالک کو نقصان پہنچا رہا ہے اور اسرائیل کی خواہش بھی یہی ہے کہ ایران و عرب ریاستیں ایک دوسرے کے مقابل آ جائیں تاکہ دونوں کی قوت کمزور ہو۔ اس کے برعکس تہران مسلسل یہ مؤقف اختیار کئے ہوئے ہے کہ اس کے خلاف تمام کارروائیوں کا اصل منصوبہ اسرائیل نے تیار کیا ہے، جبکہ امریکہ محض اس پر عمل درآمد کر رہا ہے۔ ایرانی قیادت اور سرکاری ذرائع میں یہ تاثر بھی نمایاں ہے کہ صدر ٹرمپ، نیتن یاہو کی پالیسیوں کے عملی نفاذ کا ذریعہ بن چکے ہیں۔ بعض مبصرین کا خیال ہے کہ اسی تاثر کو زائل کرنے کے لئے واشنگٹن اس مرحلے پر ایران کے خلاف حالیہ مہم میں اسرائیل کے نمایاں کردار سے گریز کر رہا ہے۔ بعض تجزیہ نکار اسی پس منظر میں  نیتن یاہو کے مؤخر شدہ دورے کو بھی دیکھ رہے ہیں، یعنی یہ تاثر قائم کرنے کی کوشش کہ موجودہ امریکی مہم کا مقصد اسرائیلی مفادات نہیں بلکہ ایران کے جوہری پروگرام پر دباؤ میں اضافہ اور آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کو یقینی بنانا ہے۔

امریکہ کا اصل ہدف کیا ہے؟

موجودہ جنگ کے بارے میں سب سے اہم سوال یہ ہے کہ امریکہ کا اصل ہدف کیا ہے۔ سرکاری طور پر واشنگٹن ایران کے جوہری پروگرام، افزودہ یورینیم اور آبنائے ہرمز میں محفوظ جہاز رانی کو اپنی ترجیحات قرار دیتا ہے۔ تاہم بعض عسکری مبصرین کا خیال ہے کہ ایرانی ساحلی تنصیبات، بندرگاہوں اور مواصلاتی ڈھانچے پر بڑھتے ہوئے حملے محض دفاعی نوعیت کے نہیں بلکہ ممکنہ طور پر مستقبل کی کسی بڑی فوجی کارروائی کی تیاری بھی ہو سکتے ہیں۔ابھی تک امریکہ نے زمینی فوجی مداخلت کا باضابطہ اعلان نہیں کیا، لیکن صدر ٹرمپ نے اسے مکمل طور پر خارج از امکان بھی قرار نہیں دیا۔ اس لئے قیاس آرائیاں جاری ہیں کہ آیا واشنگٹن صرف دباؤ بڑھانا چاہتا ہے یا ایران کی ساحلی صلاحیت کو مستقل طور پر کمزور کرنے کی حکمتِ عملی اختیار کر رہا ہے۔

یہ تنازع اب صرف ایران اور امریکہ کی لڑائی نہیں رہا، بلکہ مشرقِ وسطیٰ کے مستقبل، عالمی توانائی کے بہاؤ اور امریکی خارجہ پالیسی کی سمت کے بارے میں ایک بڑے سوال میں تبدیل ہو چکا ہے۔ آنے والے دن فیصلہ کریں گے کہ آیا یہ بحران محدود جنگ کی صورت میں تھم جائے گا، یا خطہ ایک ایسے تصادم کی طرف بڑھ رہا ہے جس کے اثرات دہائیوں تک محسوس کیے جائیں گے۔

ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل کراچی 24 جولائی 2026

ہفت روزہ دعوت دہلی 24 جولائی 2026

ہفت روزہ رہبر 26 جولائی 2026