Thursday, July 16, 2026

 

غزہ: امن کی امید یا جنگ کا نیا مرحلہ؟

حماس کی حکومتی دستبرداری کے باوجود حملے، قبضہ اور انسانی المیہ برقرار

جب حماس نے امن معاہدے کے تحت غزہ کی انتظامی حکومت تحلیل کرنے اور اختیارات ایک غیر جماعتی اللجنۃ الوطنیہ لادارۃ غزہ یاNational Committee for the Administration of Gaza (NCAG) کے سپرد کرنے پر آمادگی ظاہر کی تو یہ امید پیدا ہوئی کہ اب غزہ میں سول انتظامیہ بحال ہوگی، اسرائیلی فوج کے انخلا کی راہ ہموار ہوگی اور تعمیرِ نو کا عمل شروع ہو سکے گا۔ اس پیش رفت کو نہ صرف متعدد سفارتی حلقوں نے مثبت قرار دیا بلکہ NCAG کے سربراہ ڈاکٹر علی شعث نے بھی اعلان کیا کہ کمیٹی غزہ کی سول انتظامیہ سنبھالنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے، بشرطیکہ اسے کام کرنے کا موقع اور ضروری وسائل فراہم کیے جائیں۔ اسی طرح Board of Peace کے اعلیٰ نمائندے نکولائی ملادینوف نے بھی اسے ایک اہم پیش رفت قرار دیا تھا۔ لیکن اب تک زمینی صورتحال اس امید کی تائید نہیں کرتی۔ بظاہر وہ خدشہ درست ثابت ہو رہا ہے جس کا اظہار ڈاکٹر علی شعث نے ابتدا ہی میں کیا تھا کہ اگر نئی انتظامیہ کو اختیار اور وسائل نہ ملے تو یہ تبدیلی محض ایک علامتی اقدام بن کر رہ جائے گی۔

جنگ بندی کے باوجود شہری نشانہ

غزہ میں مزاحمتی گروہوں کے نسبتاً مصالحت آمیز روئے کے باوجود اسرائیلی فوجی کارروائیاں رکتی دکھائی نہیں دیتیں۔ خوراک اور پانی کے حصول کے لیے نکلنے والے شہری بھی محفوظ نہیں۔ گزشتہ ہفتے اپنے بچوں کے لئے پانی لینے جانے والے احمد سلامہ اسرائیلی فائرنگ میں جان سے گئے۔ احمد کی لاش کے قریب انکے خوف زدہ یتیم بچوں کی تصاویر نے دنیا بھر میں دل دہلا دینے والا منظر پیش کیا۔اسی ہفتے خان یونس کی ایک خیمہ بستی پر حملہ کیا گیا، جس کا ہدف حماس کے ترجمان حازم قاسم تھے۔ حملے میں چھ فلسطینی زندہ جل گئے، تاہم حازم قاسم محفوظ رہے۔

کھیل بھی محفوظ نہیں

غزہ میں اب کھیل اور تفریح کے لمحات بھی محفوظ نہیں رہے۔ نصیرات کے علاقے میں جب لوگ ایک بڑی اسکرین پر مصر اور ارجنٹینا کے درمیان فیفا مقابلہ دیکھ رہے تھے تو ڈرون حملے میں آٹھ افراد جاں بحق ہوگئے۔ فلسطینی ذرائع کے مطابق جاں بحق ہونے والوں میں آٹھ اور دس سال کے دو سگے بھائی، غزہ کمیٹی کے مصری رکن محمد الوحیدی اور وہ آئی ٹی ماہر بھی شامل تھے جس نے اسکرین پر میچ کی نمائش کا انتظام کیا تھا۔

غربِ اردن: کھلے آسمان تلے جیل خانے

غربِ اردن میں بھی پابندیاں مسلسل سخت ہوتی جا رہی ہیں۔ متعدد فلسطینی آبادیوں کے گرد آہنی باڑیں اور دروازے نصب کر دئے گئے ہیں، جہاں جامہ تلاشی کے بعد ہی آمدورفت ممکن ہے۔ بہت سے فلسطینی ان علاقوں کو "کھلے آسمان تلے جیل خانے" قرار دیتے ہیں۔

ادھر الخلیل (Hebron) میں مزید مکانات پر قبضے کی اطلاعات سامنے آئیں، جس کے نتیجے میں متعدد فلسطینی خاندان بے گھر ہوئے۔ انہی واقعات کا جائزہ لینے کے لئے  جب امریکی ریاست کیلیفورنیا سے ڈیموکریٹک رکنِ کانگریس رو کھنہ  جنوبی غربِ اردن کے گاؤں خربت زنوتہ (Khirbet Zanuta)  پہنچے تو مسلح اسرائیلی آبادکاروں نے ان کے قافلے کا راستہ روک لیا۔ رو کھنہ نے بتایا کہ آبادکار امریکی ساختہ M4 رائفلوں سے مسلح تھے اور انہیں ایک گھنٹے سے زائد عرصہ آگے نہیں جانے دیا گیا۔ بعد ازاں امریکی سفارت خانے اور اسرائیلی پولیس سے رابطے کے بعد راستہ کھلوایا گیا۔

اسرائیلی فوج نے تصدیق کی ہے کہ قبضہ گردوں  نے گاڑیوں کو روکا تھا، تاہم  عسکری اعلامئے میں اس بات کی تردید کی گئی کہ فوج نے امریکی وفد کو حراست میں لیا۔ بیان کے مطابق اہلکار موقع پر پہنچے، آبادکاروں کو منتشر کیا اور وفد کو آگے جانے دیا۔ بعد میں رو کھنہ نے بتایا کہ وہ اس گاؤں کا جائزہ لینے گئے تھے جہاں چند روز قبل آبادکاروں کے مبینہ حملے میں اسکول سمیت متعدد عمارتوں کو نقصان پہنچا تھا۔

یہ واقعہ صرف ایک امریکی رکن کانگریس کے ساتھ پیش آنے والا ناخوشگوار واقعہ نہیں، بلکہ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ نیتن یاہو حکومت کی جانب سے کھلی چھٹی نے ان انتہاپسندوں کو کیسا بیخوف کردیا ہے کہ اب یہ لوگ امریکہ کا فراہم کردہ اسلحہ لے کر امریکی ارکان کانگریس پر بھی جھپٹ رہے ہیں۔

اسرائیل کا داخلی بحران

دوسری جانب اسرائیل کے اندر بھی لازمی فوجی بھرتی کا بحران شدت اختیار کر رہا ہے۔ حفظِ توریت مدارس (Yeshiva) کے طلبہ کو فوجی خدمت سے حاصل استثنا ختم کرنے کی کوششوں کے خلاف ربائیوں اور طلبہ نے شدید احتجاج کیا۔ بعض مظاہرین فوجی اڈے بیت لِد کے مرکزی دروازے تک پہنچ گئے اور سکیورٹی حصار توڑنے کی کوشش کی۔

اسی دوران "سبت" کے نفاذ پر بھی مذہبی اور سیکولر حلقوں کے درمیان کشمکش بڑھ رہی ہے۔ مذہبی جماعتیں ہفتے کے روز کاروبار بند رکھنے پر زور دے رہی ہیں، جبکہ سیکولر حلقے اسے شہری آزادیوں میں مداخلت قرار دیتے ہیں۔ ہفتے کے دن کھلی دکانوں کے باہر مذہبی مظاہرے اور بند بازاروں کے سامنے سیکولر احتجاج اب معمول بنتے جا رہے ہیں۔

ستم ظریفی یہ ہے کہ جس معاشرے میں ہفتے کے روز کاروبار پر اتنا شدید اختلاف موجود ہے، وہاں جنگ اور بمباری کے لئے کسی اخلاقی یا مذہبی وقفے کی گنجائش کی بات نہیں ہوتی۔ اگر سبت آرام، عبادت اور حرمتِ جان کا دن ہے تواس کا اطلاق جنگی کارروائیوں پر بھی ہونا چاہئے

حماس کی انتظامی دستبرداری سے یہ امید پیدا ہوئی تھی کہ غزہ میں جنگ کے بجائے تعمیرِ نو کا مرحلہ شروع ہوگا، مگر زمینی حقائق اس کے برعکس دکھائی دیتے ہیں۔ حملے جاری ہیں، شہری اب بھی عدم تحفظ کا شکار ہیں، غربِ اردن میں پابندیاں مزید سخت ہو رہی ہیں اور اسرائیل خود اندرونی سیاسی و سماجی کشمکش سے گزر رہا ہے۔اگر نئی سول انتظامیہ کو اختیار، وسائل اور آزادیِ عمل نہیں ملتی، اور جنگ بندی صرف کاغذوں تک محدود رہتی ہے، تو خدشہ یہی ہے کہ غزہ ایک بار پھر سفارتی وعدوں اور انسانی المیوں کے درمیان پھنسا رہے گا۔ پائیدار امن صرف اس وقت ممکن ہے جب سیاسی معاہدوں کے ساتھ ان پر غیر جانب دارانہ عمل درآمد بھی یقینی بنایا جائے۔

ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل کراچی 17 جولائی 2026

ہفت روزہ ددعوت دہلی 17 جولائی 2026

ہفت روزہ رہبر سرینگر 19 جولائی 2026


 

ایران، امریکہ اور اسرائیل کشیدگی

عسکری قوت، سفارت کاری، بین الاقوامی قانون  اور اخلاقیات کا امتحان

رہبرِ انقلاب حضرت سید علی خامنہ ای کی تدفین کے بعد یہ تاثر پیدا ہو رہا تھا کہ ایران اور امریکہ ایک بار پھر مذاکرات کی میز پر واپس آ جائیں گے۔ دونوں جانب سے نسبتاً مثبت اشارے بھی مل رہے تھے۔ صدر ٹرمپ نے اپنے مخصوص طنزیہ انداز میں ایران کو "بگڑا ہوا بچہ" قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ تہران ان کی شرائط ماننے پر آمادہ ہے، جبکہ مالیاتی حلقوں میں یہ اطلاعات گردش کر رہی تھیں کہ ایرانی منجمد اثاثوں کی مرحلہ وار بحالی شروع ہونے والی ہے۔ لیکن چند ہی روز میں واقعات نے ایسا رخ اختیار کیا کہ جنگ بندی، مذاکرات، اعتماد سازی اور اب بین الاقوامی قانون بھی ایک نئے امتحان میں داخل ہو گئے۔

ہرمز میں فائرنگ اور کشیدگی کی نئی لہر

سات جولائی کو آبنائے ہرمز سے گزرنے والے قطری ایل این جی بردار جہاز Al Rekayyat پر ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی فائرنگ نے ماحول یکسر بدل دیا۔ ایرانی حکام نے اس کارروائی کا دفاع کرتے ہوئے عالمی جہاز رانی کمپنیوں کو متنبہ کیا کہ آبنائے سے گزرنے والے تمام جہاز مقررہ بحری راستے اختیار کریں۔ اسی روز امریکی فضائیہ نے ایران کے ساحلی علاقوں، سریک، جزیرہ قشم اور بندرعباس کے اطراف کارروائیاں کیں، تو دوسری طرف امریکی وزارت تجارت نے کچھ ہی عرصہ پہلے جاری ہونے والا وہ حکم نامہ معطل کردیا جسکے تحت ایرانی تیل کی فروخت پر پابندی ختم کی گئی تھی۔ امریکی حملوں کے جواب میں ایران نے اردن،  کوئت اور بحرین کے امریکی اڈوں کی جانب میزائیل داغ دئے۔ دوسرے دن ایران پر امریکی بمباری سےچاہ بہار بندرگاہ کے ایک حصے میں آگ لگ گئی۔ جواب میں ایران نے متحدہ عرب امارات، کوئت، قطر اور بحرین  کے علاوہ عمان کی دقم بندرگاہ کو نشانہ بنایا، ایراانیوں کا دعویٰ ہے کہ امریکی بحری جہاز اس بندرگاہ سے ایندھن حاصل کرتے ہیں۔ اسی کیساتھ ایران نے آبنائے ہرمز کو 5 روز کیلئے مکمل طور پر بند کردینے کا اعلان کیا۔ کشیدگی میں مزید شدت اسوقت پیدا ہوئی جب اسرائیلی میڈیا نے انکشاف کیا کہ ایران پر حملوں میں اسرائیلی فضائیہ بھی حصہ لینےکو تیار ہے اور وزیراعظم نیتن یاہو،  ٹرمپ کی اجازت کا انتظار کررہے ہیں۔ یوں چند دنوں میں اعتماد سازی کا ماحول دوبارہ عسکری محاذ آرائی میں تبدیل ہوگیا۔

جنگ بندی اور یادداشتِ اسلام آباد ختم شد؟؟

نیٹو کے سکریٹری جنرل کے ہمراہ انقرہ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہاکہ یادداشتِ اسلام آباد اور جنگ بندی ختم ہوچکی۔ ایرانی قائدین 'غلیظ لوگ' ہیں۔ ہم اب ایران پر مزید اور شدید حملے کرینگے۔ اسی سانس میں موصوف نے یہ بھی فرمایا کہ جنگ بندی ختم لیکن امن بات چیت جاری رہیگی۔ چنانچہ شدید کشیدگئ میں ثالثوں نے کام جاری رکھا اور  سفارتی رابطے مکمل طور پر منقطع نہیں ہوئے۔ امریکی ذرائع ابلاغ کے مطابق نائب صدر جے ڈی وانس، وزیر خارجہ مارکو روبیو، خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور دامادِ اول جیرڈ کشنر پر مشتمل وفد قطر کے ذریعے مذاکرات کے لیے تیار تھا۔ دوسری طرف ایرانی خبر رساں ایجنسی فارس نے ایک ذریعے کے حوالے سے کہا کہ تہران اس وقت تک باضابطہ مذاکرات شروع نہیں کرے گا جب تک واشنگٹن جنگ بندی اور یادداشتِ اسلام آباد کے بارے میں اپنے حالیہ مؤقف سے رجوع نہیں کرتا۔ ایران کے نزدیک اعتماد کی بحالی کسی بھی نئے معاہدے کی بنیادی شرط ہے۔

اسی دوران عمان بھی، پاکستان اور قطر کے ساتھ ثالثی کے عمل میں سرگرم دکھائی دیا۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے دورہِ مسقط کو اسی سفارتی کوشش کا حصہ قرار دیا گیا، جہاں آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کے تحفظ سمیت متعدد عملی امور زیرِ بحث آئے۔

صدر ٹرمپ کے  قتل کی سازش!!!

امن کی کوششوں کے دوران ایک اور حساس موڑ اس وقت آیا جب اسرائیلی انٹیلی جنس ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا گیا کہ ایران صدر ٹرمپ کو نشانہ بنانے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔ اس خبر کے بعد صدر ٹرمپ نے انتہائی سخت لہجہ اختیار کرتے ہوئے کہا کہ اگر انہیں قتل کیا گیا تو "پورا ایران تباہ کر دیا جائے گا۔"

یہ دعویٰ اپنی نوعیت میں نہایت سنگین تو ہے، لیکن اب تک اس کے حق میں کوئی آزاد اور قابلِ اعتماد ثبوت سامنے نہیں آیا۔ اطلاعات کے مطابق اس تاثر کی بنیاد ایرانی قیادت کی تقاریر، رہبرِ انقلاب کے جنازے میں لگائے گئے نعروں اور بینروں کو بنایا گیا ہے۔ تاہم ایران میں "مرگ بر امریکہ" اور "مرگ بر اسرائیل" کے نعرے 1979ء کے انقلاب کے بعد سے ریاستی اور عوامی سیاسی بیانئے کا حصہ رہے ہیں۔ ان نعروں کو اشتعال انگیز ضرور کہا جا سکتا ہے، لیکن انہیں ازخود کسی قتل کی عملی سازش کا ثبوت قرار دینا ایک الگ دعویٰ ہے جس کے لیے ٹھوس شواہد درکار ہیں۔یہ بھی حقیقت ہے کہ گزشتہ ایک برس کے دوران صدر ٹرمپ پر ہونے والی تمام مبینہ قاتلانہ کوششوں کی تحقیقات میں اب تک کسی غیر ملکی ریاست یا تنظیم کے ملوث ہونے کا مصدقہ ثبوت سامنے نہیں آیا۔ کشیدگی صرف ایک جانب سے نہیں بڑھ رہی۔ امریکی اور اسرائیلی رہنما بھی کئی مواقع پر ایرانی قیادت کے خلاف سخت زبان استعمال کر چکے ہیں۔ صدر ٹرمپ کا یہ بیان کہ امریکہ چاہتا تو ایرانی قیادت کو ایک ہی حملے میں نشانہ بنا سکتا تھا، یا یہ کہنا کہ ان کی ہلاکت کی صورت میں پورا ایران تباہ کر دیا جائے گا، سفارتی ماحول کو مزید پیچیدہ بناتا ہے۔ ایسے بیانات مذاکرات کے بجائے بداعتمادی کو فروغ دیتے ہیں۔

جوہری پروگرام: نئی بحث

چند روز پہلے امریکی نشریاتی ادارے CNN نے سیٹلائٹ تصاویر کی بنیاد پر دعویٰ کیا کہ ایران اپنی متاثرہ جوہری تنصیبات کی بحالی کی کوشش کر رہا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ اگر یہ سرگرمیاں درست ثابت ہوئیں تو انہیں یادداشتِ اسلام آباد کی روح سے متصادم سمجھا جا سکتا ہے۔ تاہم اس رپورٹ میں ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق موجود نہیں،لہذا حتمی نتیجہ اخذ کرنا قبل از وقت ہوگا۔

راہداری محصول ایک نئی قانونی بحث

اسی کشیدگی کے دوران آبنائے ہرمز ایک نئے قانونی اور سفارتی تنازع کا مرکز بن گئی۔ ابتدا میں ایران کی جانب سے اس بین الاقوامی آبی شاہراہ  سے گزرنے والے جہازوں پر راہداری محصول (Toll) عائد کرنے کی تجویز سامنے آئی، جس پر اقوامِ عالم نے یہ اعتراض کیا کہ کسی بھی ریاست کو بین الاقوامی آبی گزرگاہ پر یک طرفہ مالی پابندی عائد کرنے کا اختیار حاصل نہیں۔ اس کے جواب میں گزشتہ ہفتے صدر ٹرمپ نے اعلان کیا کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر "20 فیصد تلافی محصول (Reimbursement Fee)"عائد کیا جائیگا۔ ابتدا میں یہ اقدام ایران کے مجوزہ ٹول کا جواب محسوس ہوا، تاہم 13 جولائی کو صدر ٹرمپ نے وضاحت کی کہ امریکہ اس بین الاقوامی آبی گزرگاہ کو کھلا اور محفوظ رکھنے کی بھاری جانی و مالی قیمت ادا کر رہا ہے، لہٰذا اس راستے سے اپنے تجارتی مفادات حاصل کرنے والے خوش حال ممالک، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، بحرین اور کویت کو امریکی فوجی کارروائیوں کے اخراجات کی تلافی (Reimbursement) کرنی چاہئے۔ یہ دلیل سیاسی طور پر قابلِ فہم ہو سکتی ہے، لیکن قانونی اعتبار سے اس پر بھی وہی سوالات اٹھتے ہیں جو ایران کی مجوزہ راہداری فیس پر اٹھائے گئے تھے۔ آبنائے ہرمز کسی ایک ریاست کی نجی گزرگاہ نہیں بلکہ ایک عالمی آبی شاہراہ ہے، جہاں جہاز رانی کی آزادی بین الاقوامی قانون کا بنیادی اصول سمجھی جاتی ہے۔ اگر ایران کا یک طرفہ راہداری لگان قابلِ اعتراض ہے تو امریکہ کی جانب سے یک طرفہ مالی وصولی کی تجویز بھی اسی قانونی پیمانے پر پرکھی جانی چاہئے۔

اس معاملے کا ایک امریکی آئینی پہلو بھی ہے۔ امریکی دستور کے مطابق نئے وفاقی ٹیکس یا محصول کے نفاذ کے لئے کانگریس سے قانون سازی ضروری ہے۔ چنانچہ اگر یہ اعلان محض سیاسی بیان نہیں بلکہ عملی پالیسی میں تبدیل کرنا مقصود ہو تو اسے آئینی اور قانونی مراحل سے گزرنا ہوگا۔ اس میں ایک دلچسپ تاریخی ستم ظریفی بھی پوشیدہ ہے۔ امریکی آزادی کی تحریک کا آغاز 1773ء کی مشہور Boston Tea Party سے جوڑا جاتا ہے، جس کا بنیادی نعرہ "No Taxation Without Representation" تھا، یعنی نمائندگی کے بغیر ٹیکس قبول نہیں۔ دو سو پچاس برس بعد عالمی تجارت پر یک طرفہ مالی بوجھ ڈالنے کی بحث اس تاریخی اصول کی نئی تعبیر سامنے لا رہی ہے۔

ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان موجودہ کشیدگی صرف میزائلوں اور فضائی حملوں کی جنگ نہیں، بلکہ اطلاعات، انٹیلی جنس دعوؤں، نفسیاتی  و معاشی دباؤ، سفارتی چالوں اور بین الاقوامی قانون کی تعبیرات کی جنگ بھی  ہے۔ یہی وجہ ہے کہ شدید عسکری کارروائیوں کے باوجود مذاکرات کے دروازے مکمل طور پر بند نہیں ہوئے۔

اصل سوال اب یہ نہیں کہ کون زیادہ سخت بیان دیتا ہے یا کس کے پاس زیادہ طاقت ہے، بلکہ یہ ہے کہ کیا عالمی برادری ایک ہی قانونی اصول کو تمام فریقوں پر یکساں طور پر نافذ کر پائے گی؟ اگر ہر غیر مصدقہ دعوے کو جنگ کا جواز، ہر اقتصادی اقدام کو سیاسی ہتھیار اور ہر بین الاقوامی اصول کو صرف مخالفین کے لیے مخصوص معیار بنا دیا گیا تو امن کا راستہ مزید طویل اور پیچیدہ ہو جائے گا۔

ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل کراچی، 17 جولائی 2026

ہفت روزہ دعوت دہلی 17 جولائی 2026

ہفت روزہ رہبر سرینگر 19 جولائی 2026


Friday, July 10, 2026

 

امن کی میز اور جنگ کی زبان

ایران، امریکہ اور اعتماد کا بحران

ایران کے  رہبرِ معظم حضرت آیت اللہ سید علی خامنہ ای اور ان کے خاندان کے چار افراد کی نمازِ جنازہ تہران میں ادا کردی گئی۔ اس موقع پر پاکستانی وزیراعظم، نائب افغان وزیراعظم ملا عبدالغنی برادر سمیت ایک سو سے زائد ممالک کے سرکاری نمائندوں اور متعدد اسلامی تحریکوں کے قائدین نے شرکت کی۔ ایرانی میڈیا کے مطابق لاکھوں افراد اس تاریخی جنازے میں شریک ہوئے۔ مرحوم کے صاحبزادگان مسعود خامنہ ای، میثم خامنہ ای اور مصطفیٰ خامنہ ای جنازے میں موجود تھے، تاہم بڑے صاحبزادے اور موجودہ رہبرِ معظم مجتبیٰ خامنہ ای دکھائی نہیں دئے۔ آیت اللہ خامنہ ای 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ فضائی حملے میں اپنی بہو اور دو پوتوں سمیت جاں بحق ہوئے تھے۔ خیال ہے کہ میت کی نجف و کربلا زیارت کے بعد انکی تدفین مشہد میں ہوگی۔

صدر ٹرمپ کا متنازع بیان

جنازے کے موقع پر ایک امریکی خبررساں ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایرانی عوام کو آیت اللہ خامنہ ای پر گریہ کرتے دیکھ کر انہیں حیرت ہوئی، ممکن ہے یہ "بناوٹی آنسو" ہوں، اس لیے کہ لوگ ان سے نفرت کرتے تھے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر امریکہ چاہتا تو اس موقع پر جمع پوری ایرانی قیادت کو ایک ہی حملے میں نشانہ بنا سکتا تھا، لیکن ایسا نہیں کیا کیونکہ پھر مذاکرات کے لیے کوئی باقی نہ رہتا۔امریکی آزادی کی 250ویں سالگرہ پر خطاب کرتے ہوئے بھی صدر ٹرمپ نے کہا: "وینزویلا کو دیکھیں، ایران کو دیکھیں، ہم نے اسے تباہ کر دیا۔ دنیا کی سب سے طاقتور فوج امریکہ کے پاس ہے۔"

اس وقت جب دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات مثبت سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں تو ایسے موقع پر اس نوعیت کے اشتعال انگیز اور دھمکی آمیز بیانات سفارتی ماحول کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ خصوصاً ایرانی قیادت کو بالواسطہ قتل کی دھمکی، اعتماد سازی کی کوششوں سے مطابقت نہیں رکھتی۔

نیویارک ٹائمز کی رپورٹ اور بڑھتی بداعتمادی

اس سے قبل نیویارک ٹائمز نے موجودہ اور سابق امریکی حکام کے حوالے سے انکشاف کیا تھا کہ اسرائیل، ایرانی مذاکرات کاروں، خصوصاً عباس عراقچی اور محمد باقر قالیباف، کو ممکنہ طور پر نشانہ بنانے پر غور کر رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اسی خدشے کے پیش نظر امریکی حکام نے مشرقِ وسطیٰ کے بعض میزبان ممالک کے ذریعے تہران کو غیر رسمی انتباہ بھی پہنچایا تاکہ جنگ بندی اور سفارتی عمل متاثر نہ ہو۔

رپورٹ میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا کہ عراقچی اور قالیباف مبینہ طور پر اسرائیل کی ممکنہ ہدفی فہرست (hit list)میں شامل ہیں اور ان کے طیارے کو بھی خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔ اگرچہ ان اطلاعات کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی، تاہم صدر ٹرمپ کے حالیہ بیانات نے پہلے سے موجود بداعتمادی کو مزید گہرا کر دیا ہے۔

ایران کا ردعمل

گزشتہ ہفتے ایرانی سرکاری ٹی وی سے باتیں کرتے ہوئے ایرانی اسپیکر باقر قالیباف نے کہا کہ امریکہ سے مذاکرات ایک مسلسل کشمکش ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ ہم دوست سے نہیں بلکہ ایسے مکار دشمن کے سامنے بیٹھے ہیں جو ہم پر حملہ کرنے کیلئے موقع کی تاک میں ہے۔ اپنے قائدین کو اسرائیلی وزیردفاع کی جانب سے قتل کی دھمکی پر ایرانی وزیرخارجہ بھی شدید ردعمل کا اظہار کرچکے ہیں۔ اپنے ٹویٹ میں جناب عباس عراقچی نے کہاکہ یادداشتِ اسلام آباد کے مطابق یہ امریکی صدر کی ذمہ داری ہے کہ وہ تل ابیب میں اپنے پالتو کو قابو میں رکھیں۔ اگر وہ مالک سے کنٹرول نہیں ہوگا تو ایران اُسے پٹہ ڈالے گا۔

امریکہ کے اندر بھی اختلاف

ایران پر حالیہ امریکی حملوں کے بعد صرف تہران ہی نہیں بلکہ واشنگٹن میں بھی اختلافی آوازیں بلند ہو رہی ہیں۔ ڈیموکریٹ رکنِ کانگریس رو کھنہ نے ان کارروائیوں کو کانگریس کی حالیہ وار پاورز (War Powers)قرارداد کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے خبردار کیا ہےکہ اگر ایسے حملے جاری رہے تو وہ اس معاملے کو عدالت لے جائیں گے۔ یہ ردعمل اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ ایران سے متعلق امریکی پالیسی پر داخلی سطح پر بھی مکمل اتفاقِ رائے موجود نہیں۔

مذاکرات جاری، مگر زبان اب بھی جنگ کی

اگرچہ امریکہ اور ایران کے درمیان ثالث ممالک کی نگرانی میں اسلام آباد MOU پر عمل درآمد اور ایک جامع امن معاہدے کے لیے مذاکرات جاری ہیں، لیکن دونوں جانب سے آنے والے سیاسی بیانات سفارتی پیش رفت کو مسلسل متاثر کر رہے ہیں۔ صدر ٹرمپ نے گزشتہ ہفتے CNBC سے گفتگو میں مذاکرات پر اطمینان کا اظہار کیا، تاہم ساتھ ہی یہ دعویٰ بھی کیا کہ امریکہ نے ایران کو "شکستِ فاش" دی ہے، اس کے بیشتر میزائل تباہ کر دیے اور "بگڑا ہوا بچہ" امریکی شرائط ماننے پر آمادہ ہو چکا ہے۔

اصل مسئلہ جوہری پروگرام نہیں اعتماد ہے

ایران مسلسل یہ مؤقف دہراتا آیا ہے کہ وہ جوہری ہتھیار بنانے کا خواہش مند نہیں اور افزودہ یورینیم کے مسئلے کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنا چاہتا ہے۔ اس تناظر میں موجودہ مرحلے پر اصل چیلنج مذاکرات  نہیں بلکہ باہمی اعتماد کی بحالی ہے۔ ایرانی قیادت واضح کر چکی ہے کہ کسی بھی جامع معاہدے میں پیش رفت کا انحصار یادداشتِ اسلام آباد پر عملی عمل درآمد سے مشروط ہے۔ تہران کے نزدیک اس یادداشت کا سب سے اہم اور فوری نکتہ ایران کے منجمد مالی اثاثوں کی واپسی ہے۔ صدر ٹرمپ خود کہہ چکے ہیں کہ یہ اثاثے بنیادی طور پر ایران کے ہیں جنھیں واپس ہونا چاہئے لیکن امریکہ میں صدر ٹرمپ کے سیاسی مخالفین ان اثاثوں کی واپسی کو ایران کے سامنے امریکی پسپائی سے تعبیر کررہے ہیں۔ یہی داخلی دباؤ واشنگٹن کے لئے اس معاملے کو مزید پیچیدہ بنا رہا ہے۔

ایران اور امریکہ کے درمیان موجودہ مذاکرات شاید گزشتہ کئی برسوں کا سب سے اہم سفارتی موقع ہیں، لیکن امن صرف گفتگو سے قائم نہیں ہوتا بلکہ اس کے لیے سیاسی ضبط، ذمہ دارانہ طرزِ بیان اور باہمی اعتماد ناگزیر  ہیں۔ جب مذاکرات کی میز پر بیٹھے فریق ایک دوسرے کو دھمکیاں دیتے رہیں یا اپنے حلیفوں کو بے لگام چھوڑ دیں تو ہر مثبت پیش رفت ایک نئے بحران کی نذر ہو سکتی ہے۔اسلام آباد یادداشت ہو یا مستقبل کا کوئی جامع معاہدہ، اس کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ دونوں فریق طاقت کے بجائے اعتماد کی زبان اختیار کر پاتے ہیں یا نہیں۔

ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل کراچی 10 جولائی 2026

ہفت روزہ دعوت دہلی 10 جولائی 2026

ہفت روزہ رہبر سرینگر 12 جولائی 2026


 

غزہ! وحشت و دہشت   کے ایک ہزار دن

تباہی سے تعمیرِ نو تک: جنگ، قبضہ اور بدلتی سیاست

غزہ جنگ کے ایک ہزار دن مکمل ہو چکے ہیں۔ان پونے تین سالوں میں 73،000 افراد جاں بحق ہوئے۔ جان سے جانے والوں میں  1022 شیرخوار سمیت 21500 بچے  شامل ہیں۔ نوہزار سے زائد افراد لاپتہ یعنی ملبے تلے دفن ہیں جبکہ زخمیوں کی تعداد پونے دولاکھ کے قریب  ہے۔ ایک اندازے کے مطابق اسرائیل نے غزہ پر دولاکھ ٹن بارود برسایا یعنی ہیروشما پرگرائے جانیوالے جوہری بم سے 16 گنا زیادہ دھماکہ خیز مواد استعمال ہوا۔اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ زمین پر پڑے ملبے کا حجم چھ کروڑ 68 لاکھ ٹن سے زیادہ ہے۔

جنگ بندی بھی شہریوں کو نہ بچا سکی

اکتوبر میں ہونے والی جنگ بندی کے بعد یہ توقع کی جا رہی تھی اہلِ غزہ  کو کچھ مہلت ملے گی، لیکن اسکے بعد بھی ایک ہزار سے زیادہ فلسطینی مختلف فضائی حملوں، ڈرون کارروائیوں اور گولہ باری میں مارے جا چکے ہیں۔ اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ غزہ کی 90 فیصد رہائشی عمارتیں اور 79 فیصد ہسپتال مکمل یا جزوی طور پر تباہ ہوچکے ہیں اور غذائی بحران ایسا سنگین کہ  چارلاکھ افراد کو دن میں ایک بار کھانا میسر ہے۔اسرائیلی فوج غزہ کے تقریباً اسی فیصد علاقے پرقابض ہے۔اب بے گھر لوگوں کے خیمے اسرائیلی فوج کا نشانہ ہیں۔ گزشتہ ہفتے غزہ شہر اورخان یونس کے پناہ گزین خیموں پر مبینہ طور پر فیول بم برسائے گئے جس سے درجنوں خیمے جل گئے۔

مسجدِ ابراہیمی اور 'معاہدہ اسٹیٹس کو'

مسجداقصیٰ اور نابلوس میں مزارِ یوسفؑ کے بعد الخلیل (Hebron)کی قدیم ترین مسجد ابراہیمی تک مسلمانوں کی رسائی محدود کردی گئی ہے۔یروشلم سے 30 کلومیٹر جنوب کی طرف الحرم الابراہیمی میں مسجد کے علاوہ حضرت ابراہیمؑ، حضرت اسحاقؑ اور حضرت یعقوبؑ کے مزارات مقدس بھی ہیں۔ اس اعتبار سے یہ مسلم، مسیحی اور یہودی تینوں مذاہب کے ماننے والوں کیلئے مقدس جگہ ہے۔ فلسطینیوں کا دعویٰ ہے کہ ابراہیمی مسجد فتحِ یروشلم کے فوراً بعد قائم ہوئی تھی۔جب 1967 میں القدس شریف سمیت متعدد اسلامی مقدسات اسرائیلی انتظام کے تحت آگئے تو اسرائیل نے اقوام متحدہ کو تحریری طور پر یقین دلایا تھا تمام عبادت گاہوں کی حیثیت برقرار رہیگی ۔ یہ وعدہ Status Que کے نام سے مشہور ہوا۔ترک خبر رساں ادارے TRT کے مطابق اب حرم الابراہیمی کے گرد 106 آہنی پھاٹک لگاکر مسجد تک رسائی محدود کردی گئی ہے۔ چند ہفتے قبل لاوڈ اسپیکر کے ذریعے اذان دینے پر پابندی عائد کی گئی، جمعہ کی نماز کے حوالے سے نئی پابندیاں نافذ کی گئیں، جبکہ عام نمازوں کے لیے بھی مسجد کے دروازے صرف جماعت سے کچھ دیر پہلے کھولے جاتے ہیں۔الخلیل کے گورنر خالد دودین کا کہنا ہے کہ مسجد کی طرف آنے والی 16 سڑکوں کو مٹی کے پشتے کھڑے کرکے بند کردیا گیا ہے، جس سے مقامی آبادی اور زائرین کی نقل و حرکت مزید دشوار ہوگئی ہے۔

اسرائیل کے اندر بڑھتا داخلی بحران

فلسطینی علاقوں میں جاری جنگ کے ساتھ لازمی فوجی بھرتی کے معاملے پر اسرائیل خود بھی ایک اہم داخلی بحران سے دوچار ہے۔ گزشتہ ہفتے فوجی بھرتی کے وارنٹ کی تعمیل نہ کرنے والے حفظِ توریت مدارس (Yeshiva)کے طلبہ کی گرفتاری کے خلاف تل ابیب میں ربائیوں (یہودی ائمہ) نے زبردست احتجاج کیا۔ کچھ مبصرین استثنیٰ کے  مسئلے پر خانہ جنگی کا خظرہ بھی ظاہر کررہے ہیں۔ شائد اسی خدشے کے پیش نظر وزیردفاع نے یشیوا طلبہ کے طلبی حکم ناموں کا اجرا معطل کردیا ہے۔

لبنان محاذ: جنگ بندی مگر مکمل امن نہیں

لبنان اور اسرائیل کے درمیان واشنگٹن میں طئے پانے والے اصولی معاہدے (Framework Agreement) کے بعد اسرائیلی بمباری میں کمی تو آئی ہے لیکن تقریباً ہر روز ہی کسی نہ کسی جگہ سے حملے کی خبریں آرہی ہیں۔ اسرائیل نے معاہدے کی فوجی انخلا سے متعلق شقوں کو عملاً مسترد کردیا ہے۔ مزاحمت کاروں کا کہنا ہے کہ مقبوضہ علاقوں میں اسرائیلی فوج اپنے مورچے مزید مضبوط کررہی ہے۔ اس ہفتے اسرائیلی فوج کے سربراہ جنرل ایال زامیر  نے مقبوضہ علاقے میں ملی و ثقافتی اہمیت کے حامل مقامات اور تنصیبات کے سامنے اس طرح فوٹو کھچوائے جیسے مال غنیمت کی نمائش ہو۔

امریکہ میں اسرائیل پہلی مرتبہ انتخابی مسئلہ؟

آجکل جبکہ امریکہ میں وسط مدتی انتخابات کیلئے دونوں جماعتیں اپنے امیدوار چن رہی ہیں۔ ڈیموکریٹک پارٹی میں فلسطین کے معاملے پر خاصی بیچینی پائی جاتی ہے اور اکثر جگہ غزہ نسل کشی موضوع بحث ہے۔ نیویارک کے بعد ریاست کولوریڈو (Colorado)میں بھی وہی رنگ نظر آیا جب حلقہ 1 سے 29 سالہ ایتھیوپیائی نژاد میلات کیروس نے 15 مرتبہ منتخب ہونے والی رکن Diana DeGette کو ڈیموکریٹک ٹکٹ سے محروم کردیا۔ کامیابی کے بعد تقریر کرتے ہوئے میلات نے کہا کہ ہم سیاسی ترغیب کاروں خصوصاً AIPAC (امریکن اسرائیل پولیٹیکل ایکشن کمیٹی) کو مسترد کرتے ہوئے فلسطین میں جاری نسل کشی کے خاتمے کے مطالبے پر قائم و پرعزم ہیں۔ یہ کامیابیاں  ڈیموکریٹک پارٹی کے اندر اسرائیل کے مسئلے پر بدلتے ہوئے سیاسی رجحان کا پتہ دیتی ہیں۔ اسلئے کہ کئی دہائیوں تک امریکی سیاست میں اسرائیل کی حمایت، متفقہ یا Bipartisan Consensus پالیسی سمجھی جاتی تھی۔ ریپبلکن ہوں یا ڈیموکریٹ، دونوں جماعتیں اسرائیل کی سلامتی اور فوجی امداد پر یک زباں رہتی تھیں۔ لیکن غزہ کی جنگ نے اس روایت کو پہلی بار سنجیدگی سے چیلنج کیا ہے۔

کیا حماس نے اسرائیل کا ایک بڑا جواز ختم کر دیا؟

غزہ جنگ کے ایک ہزار دن مکمل ہونے پر ایک اہم سیاسی پیش رفت بھی سامنے آئی ہے۔ تقریباً دو دہائیوں تک غزہ کی سول حکومت چلانے کے بعد حماس نے اپنی انتظامی حکومت تحلیل کرنے اور اختیارات ایک غیر جماعتی ٹیکنوکریٹک کمیٹی کے سپرد کرنے پر آمادگی ظاہر کر دی ہے۔ بظاہر یہ ایک انتظامی فیصلہ ہے، لیکن اس کےسیاسی اثرات، امکانات، خدشات اور مضمرات، توقعات سے کہیں زیادہ گہرے ہو سکتے ہیں۔ اس اقدام  حماس کی پسپائی یا ہتھیار ڈالنے سے تعبیر کرنا درست نہیں ہوگا۔ حماس نے نہ اپنی سیاسی حیثیت سے دستبرداری اختیار کی ہے اور نہ ہی اپنی مزاحمتی پالیسی ترک کرنے کا اعلان کیا ہے۔ تنظیم کے ترجمان حازم قاسم کے مطابق اس فیصلے کا مقصد یہ ہے کہ "اسرائیل کے پاس اپنی جارحیت، محاصرے اور تعمیرِ نو میں رکاوٹ کا کوئی بہانہ باقی نہ رہے۔"

اسی سلسلے میں غزہ کی حکومتی ایمرجنسی کمیٹی کے سربراہ محمد الفراء نے استعفیٰ دے کر انتظامی ڈھانچہ تحلیل کرنے کا اعلان کیا تاکہ اقتدار کی منتقلی کا عمل آسان بنایا جا سکے۔ دوسری جانب مجوزہ نیشنل کمیٹی برائے انتظامِ غزہ (National Committee for the Administration of Gaza – NCAG) کے سربراہ ڈاکٹر علی شعث (Ali Shaath) نے کہا ہے کہ اگر مناسب وسائل اور آزادیِ عمل فراہم کی جائے تو کمیٹی فوری طور پر غزہ کی سول انتظامیہ سنبھالنے کے لیے تیار ہے۔

اس پیش رفت کو بین الاقوامی سطح پر بھی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ غزہ کے لیے قائم بورڈ آف پیس کے اعلیٰ نمائندے نکولائی ملادینوف  کے مطابق یہ اعلان "بیانات اور عملی نفاذ کے درمیان ایک پل" ثابت ہو سکتا ہے، بشرطیکہ فریقین متفقہ روڈ میپ پر بھی پیش رفت کریں۔

اسرائیل کا بنیادی مؤقف یہ تھا کہ غزہ میں تعمیرِ نو اور سول انتظامیہ کی بحالی اس لئے ممکن نہیں کہ وہاں حماس برسرِ اقتدار ہے۔ مزاحمت کاروں کے اس اعلان کے بعد یہ دلیل کمزور پڑتی دکھائی دیتی ہے۔ اب اگر غیر جماعتی انتظامیہ کو کام کرنے سے روکا جاتا ہے، تعمیرِ نو مؤخر رہتی ہے یا فوجی قبضہ برقرار رکھا جاتا ہے تو عالمی برادری میں یہ سوال پہلے سے زیادہ شدت سے اٹھے گا کہ غزہ کی بحالی میں اصل رکاوٹ حماس تھی یا اسرائیلی پالیسی؟

غزہ کے ایک ہزار دن اس حقیقت کی تلخ یاد دہانی ہیں کہ جدید جنگیں صرف میدانِ جنگ میں نہیں لڑی جاتیں بلکہ سفارت کاری، بین الاقوامی قانون، میڈیا، رائے عامہ اور داخلی سیاست میں بھی ان کی بازگشت سنائی دیتی ہے۔ غربِ اردن میں بڑھتی پابندیاں، لبنان کی غیر یقینی صورتِ حال، امریکہ میں اسرائیل پر ابھرتی سیاسی تقسیم اور اب غزہ میں حماس کی انتظامی دستبرداری اس بات کی علامت ہیں کہ فلسطین کا مسئلہ ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔اگر حماس کا یہ اقدام واقعی غزہ کی تعمیرِ نو اور غیر جماعتی سول انتظامیہ کی راہ ہموار کرتا ہے تو اب نظریں اسرائیل اور اس کے بین الاقوامی اتحادیوں پر ہوں گی۔ آنے والے دن  یہ طے کریں گے کہ غزہ کی تباہی کا سب سے بڑا جواز واقعی ختم ہو چکا ہے یا پھر جنگ کی وجوہات کچھ اور تھیں اور رہیں گی۔

ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل کراچی 10 جولائی 2026

ہفت روزہ دعوت دہلی 10 جولائی 2026

ہفت روزہ رہبر سرینگر 12 جولائی 2026


 

Thursday, July 2, 2026

 

ٹرمپ کو اپنے ہی ججوں سے دھچکا

امریکی سپریم کورٹ، چودھویں ترمیم اور آئین کی بالادستی کا ایک تاریخی سبق

امریکی عدالتِ عظمیٰ نے 3 کے مقابلے میں 6 کی اکثریت سے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس صدارتی حکم کو غیر آئینی قرار دے دیا جس کے تحت امریکہ میں غیر قانونی یا عارضی حیثیت رکھنے والے والدین کے ہاں پیدا ہونے والے بچوں کو پیدائشی امریکی شہریت (Birthright Citizenship) سے محروم کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔

اس فیصلے کی سب سے اہم بات صرف یہ نہیں کہ ٹرمپ کو عدالتی شکست ہوئی، بلکہ یہ ہے کہ اکثریت میں شامل تین جج ایسے تھے جن سے شاید صدر ٹرمپ کو مختلف توقعات تھیں۔ چیف جسٹس جان رابرٹس، اور ٹرمپ کے نامزد کردہ دو قدامت پسند جج، محترمہ ایمی کونی بیریٹ اور بریٹ کیوانا، بھی اس نتیجے پر پہنچے کہ صدر کا ایگزیکٹو آرڈر امریکی آئین سے مطابقت نہیں رکھتا۔ اختلاف صرف تین قدامت پسند ججوں نے کیا۔

یہ واقعہ ان معاشروں کے لیے بھی غور طلب ہے جہاں عدلیہ کو اکثر حکومت، اپوزیشن یا کسی خاص سیاسی جماعت کے چشمے سے دیکھا جاتا ہے۔ امریکہ میں سپریم کورٹ کے ججوں کی نامزدگی یقیناً سیاسی عمل کا حصہ ہوتی ہے، لیکن حلف اٹھانے کے بعد ان سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ کسی صدر یا جماعت کے نہیں بلکہ آئین کے محافظ ہوں گے۔ اسی لیے امریکی عدالتی تاریخ میں متعدد مواقع پر ایسے فیصلے سامنے آئے ہیں جن میں کسی صدر کے نامزد کردہ جج نے اسی صدر یا اس کی جماعت کے مؤقف سے اختلاف کیا۔

چودھویں ترمیم کیا ہے؟

اس مقدمے کی بنیاد امریکی آئین کی چودھویں ترمیم (Fourteenth Amendment) ہے، جو 1868ء میں امریکی خانہ جنگی کے بعد منظور کی گئی تھی۔ خانہ جنگی کے خاتمے کے باوجود ایک بنیادی سوال باقی تھا: کیا سابق غلام اور ان کی آئندہ نسلیں مکمل امریکی شہری تصور ہوں گی یا نہیں؟ اسی سوال کا مستقل جواب دینے کے لیے چودھویں ترمیم منظور کی گئی، جس کے پہلے شق کے مطابق: "جو شخص امریکہ میں پیدا ہو اور امریکی دائرۂ اختیار کے تحت ہو، وہ ریاستہائے متحدہ اور اس ریاست دونوں کا شہری ہے جہاں وہ پیدا ہوا۔"

یہ محض ایک قانونی جملہ نہیں تھا بلکہ امریکی تاریخ کا ایک انقلابی موڑ تھا۔ اس نے لاکھوں سابق غلاموں کو آئینی تحفظ دیا اور مساوی شہری حقوق کی بنیاد رکھی۔ بعد کے عشروں میں یہی ترمیم نسلی امتیاز، شہری آزادیوں، ووٹنگ کے حقوق، مساوی قانونی تحفظ اور بے شمار تاریخی فیصلوں کی بنیاد بنی۔

پیدائشی شہریت کیوں اہم ہے؟

امریکہ دنیا کے ان چند ممالک میں شامل ہے جہاں Birthright Citizenship یا Jus Soli (حقِ ولادت کی بنیاد پر شہریت) کا اصول نافذ ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی بچہ امریکی سرزمین پر پیدا ہوتا ہے تو، چند محدود سفارتی استثناؤں کے علاوہ، وہ پیدائش کے ساتھ ہی امریکی شہری بن جاتا ہے، خواہ اس کے والدین امریکی شہری ہوں، مستقل رہائشی ہوں یا ان کی امیگریشن حیثیت متنازع ہو۔ صدر ٹرمپ کا مؤقف تھا کہ اس اصول کا غلط استعمال ہو رہا ہے اور اسے صدارتی حکم کے ذریعے محدود کیا جا سکتا ہے۔ لیکن عدالت نے واضح کر دیا کہ آئین میں درج حق کو محض ایک ایگزیکٹو آرڈر سے تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔

صرف امیگریشن نہیں، آئینی اختیارات کا مقدمہ

اس مقدمے کو صرف امیگریشن کے زاویے سے دیکھنا درست نہیں ہوگا۔ اصل سوال یہ تھا کہ کیا ایک صدر محض انتظامی حکم کے ذریعے آئین کی صریح عبارت کا مفہوم بدل سکتا ہے؟ سپریم کورٹ کی اکثریت کا جواب نفی میں ہے۔ یہ فیصلہ اس اصول کی تجدید بھی ہے کہ امریکی صدر کے اختیارات وسیع ضرور ہیں، لیکن وہ آئین سے بالاتر نہیں۔ آئین کی تشریح کا آخری اختیار سپریم کورٹ کے پاس ہے، اور اگر صدر کا حکم آئینی حدود سے تجاوز کرے تو عدالت اسے کالعدم قرار دے سکتی ہے۔

برصغیر کے لیے ایک سبق

پاکستان اور ہندوستان میں آئین، عدلیہ اور انتظامیہ کے اختیارات پر بحث کوئی نئی بات نہیں۔ ہر چند سال بعد یہ سوال دوبارہ اٹھتا ہے کہ کیا عوامی مینڈیٹ رکھنے والی حکومت کو آئینی حدود سے ماورا اختیارات حاصل ہو سکتے ہیں؟امریکہ کا یہ فیصلہ یاد دلاتا ہے کہ مضبوط جمہوریتوں کی اصل طاقت کسی طاقتور صدر یا وزیراعظم میں نہیں بلکہ ایسے اداروں میں ہوتی ہے جو ضرورت پڑنے پر سب سے طاقتور حکمران کو بھی "نہیں" کہنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔

اس مقدمے نے ایک اور دلچسپ حقیقت بھی اجاگر کی ہے کہ عدالتی فیصلے ہمیشہ قدامت پسند بمقابلہ لبرل تقسیم کے مطابق نہیں ہوتے۔ بعض اوقات آئین کی عبارت، عدالتی نظائر اور قانونی اصول نظریاتی وابستگی پر غالب آ جاتے ہیں۔ یہی وہ چیز ہے جو کسی بھی آئینی ریاست کو محض اکثریتی حکومت سے ممتاز کرتی ہے۔ جمہوریت صرف انتخابات کا نام نہیں؛ جمہوریت کی اصل روح آئین کی بالادستی، اداروں کی آزادی اور قانون کی حکمرانی میں پوشیدہ ہوتی ہے۔

آپ مسعود ابدالی  کی   پوسٹ اور اخباری کالم masoodabdali.blogspot.comاور ٹویٹر Masood@MasoodAbdali پربھی ملاحظہ کرسکتے ہیں۔