Thursday, April 30, 2026

 

ایران۔امریکہ کشیدگی: جنگ کے سائے میں سفارت کاری کی آخری کھڑکی

تعطل، صف بندی اور آبنائے ہرمز پر نئی پیشکش—طاقت اور مفاہمت کی کشمکش

ایران اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی ایک بار پھر ایسے موڑ پر آ کھڑی ہوئی ہے جہاں سفارت کاری اور عسکری دباؤ ساتھ ساتھ چلتے دکھائی دیتے ہیں۔ بظاہر مذاکرات کے دروازے کھلے ہیں، مگر پسِ پردہ طاقت کی صف بندی اس خطے کو ایک نئے عدم استحکام کی طرف دھکیلتی محسوس ہوتی ہے۔تنازعے کے پرامن اختتام کی کوششوں کو اسوقت شدید دھچکا لگا جب 25 اپریل کو صدر ٹرمپ نے اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر کا اسلام آباد کا دورہ یہ کہتے ہوئے منسوخ کردیا کہ سفر میں بہت وقت ضائع ہو رہا ہے” اور ایرانی قیادت میں “ابہام” پایا جاتا ہے۔ یہ فیصلہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا جب پاکستان کی ثالثی میں جاری مذاکرات پہلے ہی تعطل کا شکار تھے اور ایرانی وزیر خارجہ کسی پیش رفت کے بغیر واپس جا چکے تھے۔

ایک قدرے مثبت اشارہ دیتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ مذاکرات میں تعطل کا مطلب یہ نہیں کہ جنگ دوبارہ شروع ہو جائے گی۔تاہم ماضی کے تجربے کی بنیاد پر امریکی صدر کی یقین دہانی مشکوک لگ رہی ہے۔ اس حوالے سے خلیج میں غیر  معمولی فوجی کمک بھی معنی خیز ہے۔ امریکہ نے ایک اور طیارہ بردار جنگی جہاز خلیج فارس کی جانب روانہ کر دیا ہے۔چھ ہزار اضافی فوجیوں کیساتھ USS George H. W. Bush کے ہمراہ متعدد تباہ کن جنگی جہاز اور ایک جوہری آبدوز بھی محو سفر ہیں۔طیارہ بردار جہاز USS Abraham Lincoln اور USS Gerald R. Ford خطے میں پہلے سے ہی موجود ہیں۔ اگرچہ جیرالڈ فورڈ کو حالیہ دنوں میں مرمت کے لیے یونان کے جزیرے کریٹ کی بندرگاہ بھیجا گیا تھا، تاہم مجموعی طور پر امریکی بحری موجودگی میں واضح اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ یہ محض عسکری نقل و حرکت نہیں بلکہ سفارت کاری کے ساتھ ساتھ دباؤ بڑھانے کی ایک منظم حکمتِ عملی کا حصہ معلوم ہوتی ہے۔

واشنگٹن میں یہ اطلاعات بھی گشت کررہی ہیں کہ امریکہ واسرائیل، ایران کے خلاف بمباری کی ایک نئی مہم شروع کرنے والے ہیں۔اسرائیلی وزیردفاع نےکہا ہے کہ امریکہ سے گرین سگنل ملتے ہی رہبر معظم کا نشانہ بنایا جائیگا۔ کشیدگی کے ماحول میں اسرائیل سے آنے والے بیانات جلتی ہر تیل کا کام کررہے ہیں کہ جب قتل کی دھمکیاں اور انتہا پسندانہ زبان سفارت کاری کی جگہ لے لے، تو مصالحت کے دروازے خود بخود تنگ ہونے لگتے ہیں۔

ایران میں قیادت کی منتقلی کا ایک باقاعدہ آئینی نظام موجود ہے، جسے مجلسِ خبرگانِ رہبری  جیسے ادارے آگے بڑھاتے ہیں۔ ایسے میں کسی ایک شخصیت کو ہدف بنا کر مسئلے کے حل کی امید رکھنا نہ صرف سادہ لوحی بلکہ عملی طور پر غیر مؤثر حکمت عملی ہے۔یہ افراد کا نہیں بلکہ نظام، مفادات اور بیانیوں کا تصادم ہے، جسے صرف مکالمے سے ہی حل کیا جا سکتا ہے۔

بحری ناکہ بندی اور جوابی اقدامات

حالیہ کشیدگی کی  اصل وجہ ایران کی بحری ناکہ بندی ہے جسکا دائرہ اب ساری دنیا تک بڑھادیا گیا ہے۔ گزشتہ ہفتے بحر ہند سے گزرتےایران کے ایک آئل ٹینکر پر امریکی بحریہ نے قبضہ کرلیا۔ اس معاملے میں ایران بھی پیچھے نہیں۔ ایرانی بحریہ نے دوجہاز قبضے میں لے لئے ہیں جن میں سے ایک جہاز MSC Francesca اسرائیل سے وابستہ بتایا جارہا ہے۔ اس معاملے میں ایرانی موقف بہت ہی غیر مبہم اور منطقی ہے، تہران کا کہنا ہے کہ ناکہ بندی اور دھمکی کے ماحول میں میزِ مذاکرات سجانے کا کیا فائدہ؟

فیصلہ سازی کا فرق: واشنگٹن بمقابلہ تہران

دوسری طرف صدر ٹرمپ ایرانی قیادت میں اختلافات کو تعطل کی وجہ قرار دیتے ہیں، مگر یہ تاثر ایران کے نظامِ حکومت کی مکمل تفہیم کے بغیر قائم کیا جا رہا ہے۔ ایران میں فیصلے مشاورت سے ہوتے ہیں، اور اتفاقِ رائے تک بحث جاری رہتی ہے۔ ایرانی طرز سیاست میں دوستوں اور اتحادیوں کو بھی اعتماد میں لیا جاتا ہے ۔ وزیر خارجہ سید عباس عراقچی کے مختلف ممالک، خصوصاً پاکستان، عمان اور روس کے دورے اسی مشاورتی عمل کا حصہ ہیں۔

گھڑی  اور وقت: ایک تاریخی سبق

جنگ کی طوالت کسی کے حق میں نہیں  اور امریکہ کو یہ گمان ہے کہ وہ طویل کشیدگی برداشت کر سکتا ہے، مگر تاریخ اس مفروضے کی تردید کرتی ہے۔ امریکہ کوایسی ہی غلط فہمی افغانستان میں تھی اور اس حوالے سے ملا عبدالغنی برادر کا  یہ جملہ آج بھی گونج رہاہے کہ گھڑی آپ کے اور وقت ہمارے پاس ہے۔ایران 1979 سے پابندیوں اور دباؤ کا سامنا کر رہا ہے۔ صدر ٹرمپ کو سوچنا چاہئے کہ وہ کب تک امریکی عوام کو مہنگائی اور ہیجان میں مبتلا رکھ سکتے ہیں۔ سات ماہ بعد امریکی حکومت کو وسط مدتی انتخابات کا سامنا ہے ۔ایران جنگ کو امریکی عوام کی غالب اکثریت پسند نہیں کرتی  اور کہیں ایسا نہ ہو کہ  صدر ٹرمپ آبنائے ہرمز کے کنارے Bulletکی جنگ ہارنے کے ساتھ گھر میں Ballotکی جنگ بھی ہار جائیں ۔

اسلحہ، معیشت اور جنگی منافع

ایران کے خلاف امریکہ بہادر نے اس شدت سے میزائیل اور میزائیل و ڈرون شکن گولے استعمال کئے ہیں کہ ان ہتھیاروں کے ذخیرے میں تشویشناک حد تک کمی ہوگئی ہے۔ دفاعی امور کے تحقیقاتی ادارے Center for Strategic and International Studies کی ایک تجزیاتی رپورٹ کے مطابق، ایران کے ساتھ جنگ میں حملہ اور Precision Strike Missiles کے ذخیرے کا ایک بڑا حصہ پھونکا جا چکا ہے، کچھ اندازوں میں یہ شرح تقریباً 40 سے 45 فیصد تک بتائی جا رہی ہے۔دفاعی ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اگر اسی رفتار سے وسائل استعمال ہوتے رہے تو امریکہ کو رسد، پیداوار اور ترجیحات کے محاذ پر سنجیدہ مشکلات پیش آسکتی ہیں۔امریکہ کی عسکری قیادت اس معاملے پر اپنی فکر کا اظہار کررہی ہے اور کچھ لوگ خیال ظاہر کررہے ہیں کہ وزیربحریہ جان فیلن کی برطرفی اسی اندرونی بحث و مباحثے کا نتیجہ ہے

اسی کیساتھ متاثرہ توانائی تنصیبات کی مرمت کیلئے ٹھیکوں کی بات بھی شروع ہوچکی ہے۔یورپ کے آن لائن جریدے Middle East Eye (MEE) کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ خلیجی ممالک پر دباؤ ڈال رہی ہے کہ وہ ایرانی حملوں سے متاثر ہونے والی توانائی تنصیبات کی مرمت امریکی اداروں سے کروائیں۔متحدہ عرب امارات، بحرین اور کویت میں تیل و گیس کی تنصیبات کو پہنچنے والے نقصان کی مرمت کا تخمینہ تقریباً 39 ارب ڈالر لگایا جا رہا ہے۔ یہ اعداد و شمار اس تلخ حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ جنگ کے ملبے سے بھی کاروبار جنم لیتا ہے۔جب بارود گرتا ہے تو صرف شہر نہیں بکھرتے،بلکہ کہیں نہ کہیں معاہدوں، ٹھیکوں اور منافع کی نئی فائلیں بھی کھل جاتی ہیں۔

نئی پیشکش: بند دروازوں پر دستک

اسی تناظر میں Axios کے مطابق ایران نے  آبنائے ہرمز کھولنے اور کشیدگی کم کرنے کی ایک نئی تجویز پیش کی ہے، جس میں جوہری مذاکرات کو بعد کے مرحلے تک مؤخر کرنے کی بات کی گئی ہے۔اس پر تبصرہ کرتے ہوئے 27 اپریل کو قصرِ مرمریں کی ترجمان  کیرولائن لیوٹ نے بتایا کہ پاکستان کے ذریعے موصول ہونے والی اس تجویز پر صدر ٹرمپ اپنے رفقا کے ساتھ Situation Room میں مشاورت کر رہے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر نے بھی صدر ٹرمپ سے مواصلاتی گفتگو میں اس پیشکش کو قبول کرنے پر زور دیا ہے۔اسرائیلی ذرائع کہہ رہے ہیں کہ صدر ٹرمپ اس تجویز سے 'خوش' نہیں، لیکن سوچ بچار کے طویل دورانئے نے اس تنازعے کے پرامن حل کی ایک ہلکی سی امید ضرور پیدا کر دی ہے۔

ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل کراچی یکم مئی 2026

ہفت روزہ دعوت دہلی یکم مئی 2026

ہفت روزہ رہبر سرینگر 3 مئی 2026


 

غزہ و لبنان میں جاری آگ ۔۔۔  جنگ بندی یا فریبِ امن؟

بیانات میں امن، زمین پر بارود—اصل فریق کی عدم شمولیت اور بگڑتی ہوئی انسانی صورتِ حال

مشرقِ وسطیٰ ایک ایسے نازک مرحلے سے گزر رہا ہے جہاں امن کے دعوے اور جنگ کی حقیقتیں ایک دوسرے سے متصادم دکھائی دیتی ہیں۔ سفارتی بیانات میں نرمی اور زمینی حالات میں شدت اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ مسئلہ صرف جنگ بندی کا نہیں بلکہ اس کے پسِ پردہ موجود سیاسی ترجیحات اور طاقت کے توازن کا ہے۔

جنگ بندی میں توسیع: امن یا وقتی مہلت؟

صدر ٹرمپ نے اسرائیل۔لبنان جنگ بندی میں مزید تین ہفتوں کی توسیع کا اعلان کیا جو 26 اپریل کو ختم ہونے والی تھی۔ تاہم اسی کے ساتھ لبنانی مزاحمتی قوتوں کے مکمل خاتمے کے عزم کا اظہار ایک واضح تضاد کو جنم دیتا ہے۔ امن کی بات اور ایک فریق کے خاتمے کی خواہش، یہ دونوں بیانئے بیک وقت ساتھ نہیں چل سکتے۔

اصل فریق کی عدم شمولیت: مذاکرات کی کمزوری

صدر ٹرمپ بظاہر امن کے خواہاں ہیں، مگر عملی طور پر وہ اصل فریق سے براہِ راست مکالمے سے گریزاں نظر آتے ہیں۔ غزہ میں مزاحمتی قوتوں کو مذاکراتی عمل سے باہر رکھا گیا، اور لبنان میں بھی یہی طرزِ عمل برقرار ہے۔جب اصل قوت کو نظرانداز کیا جائے تو مذاکرات محض رسمی کارروائی بن جاتے ہیں۔ یہی تجربہ صدر باراک حسین اوباما نے افغانستان میں کیا۔کابل کی کٹھ پتلی حکومت سے بات چیت  کئی برس جاری رہی جبکہ زمینی حقیقت کچھ اور تھی۔ بعد ازخرابیِ بسیار ملاوں سے براہِ راست مذاکرات نے ہی راستہ نکالا۔

لبنان: لوٹ مار اور مذہبی علامات کی بیحرمتی

لبنان میں جنگ بندی کے باوجود بمباری اور ڈرون حملوں کا سلسلہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا۔ جنوبی لبنان میں نہ صرف عسکری کارروائیاں جاری ہیں بلکہ شہری املاک اور مذہبی علامات بھی محفوظ نہیں۔ ایک اسرائیلی فوجی نے ہتھوڑے کی ضربات سے حضرت عیسیٰؑ کا مجسمہ توڑ دیا۔ایک ایسا واقعہ جو عالمگیرسطح پر تشویش کا سبب بنا۔معروف جریدے الارض (Haaretz)کے مطابق اسرائیل کے فوجی  کمانڈروں نے اخبار کو بتایا کہ انکے سپاہی جنوبی لبنان کے مقبوضہ علاقوں میں گھروں سے موٹر سائیکلیں، ٹی وی، قالین، صوفے، تصویریں اور دیگر سامان چوری کررہے ہیں۔لوٹ مار کایہ  عمل اب معمول بن چکاہے۔ مقامی سطح کے کمانڈر اس سے واقف ہیں لیکن نظم و ضبط کے مؤثر اقدامات نہیں کئے جا رہے۔ اسرائیلی فوج کے ترجمان نے اس خبر کو جھوٹ اور بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ فوجی پولیس لبنان اسرائیلی سرحد پر چیکنگ کرتی ہے۔ تاہم رپورٹ کے مطابق اکثر مقامات پر چوکیاں موجود ہی نہیں اور جہاں تھیں وہاں کئی مقامات سے فوجی پولیس کی چوکیاں ہٹا دی گئیں ہیں۔یہ لبنانی مزاحمت کاروں یا اسرائیل مخالفوں کے الزامات نہیں بلکہ اسرائیلی فوجی افسروں کے اپنے مشاہدے ہیں جو انھوں نے خود ایک موقر اسرائیلی جریدے سے بیان کئے ۔ کئی جگہ گھروں کو لوٹنے کے بعد یہ درندے دیواروں پر نفرت آمیز نعرے بھی لکھ گئے یہ چاکنگ ان جرائم کا دستاویزی ثبوت ہے۔

غزہ: مسلسل تباہی اور انسانی المیہ

غزہ میں بمباری، ڈرون حملے اور فائرنگ کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔ دیرالبلاح اور خان یونس میں حالیہ حملوں میں خواتین سمیت متعدد افراد جان سے گئے۔کمال عدوان ہسپتال کے باہر ایک ماں اور اس کا بچہ بھی گولہ باری کا شکار ہوئے۔

پولیس اہلکاروں کو بھی نشانہ بنایا جا رہا ہے، جس کے نتیجے میں کئی افسران اور ایک کمسن بچہ جاں بحق ہوا۔ یہ صورتحال اس بات کی عکاس ہے کہ شہری ڈھانچہ اور نظم و نسق بھی اس جنگ کا ہدف بنتا جا رہا ہے۔

جمہوری عزم: تباہی میں بھی زندگی

ان تمام حالات کے باوجود 25 اپریل کو دیرالبلاح میں بلدیاتی انتخابات کا انعقاد ایک غیر معمولی واقعہ ہے۔ تقریباً ستر ہزار افراد نے حقِ رائے دہی استعمال کرتے ہوئے 15 رکنی کونسل کا انتخاب کیا۔یہ عمل اس حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ جمہوری اقدار صرف پرامن حالات کی مرہونِ منت نہیں ہوتیں، بلکہ آزمائش کے دور میں ہی ان کی اصل روح سامنے آتی ہے۔

ہردم رواں ہے زندگی

شدید تباہی اور بے گھر ہونے کے باوجود غزہ میں زندگی کی رمق باقی ہے۔اس ہفتے  اجتماعی شادی کے بعد  300 لڑکیاں 'پیا کے خیمے' چلی گئیں۔ بیچاروں کے گھر تو ملبہ بن چکے ہیں اسلئے رخصتی ایک خیمے سے دوسرے خیمے میں ہوئی۔ شدید مشکات لیکن امید کا چراغ پھر بھی روشن ہے۔

مغربی کنارہ: مسلسل جبر اور بے یقینی

مغربی کنارے میں بھی حالات مختلف نہیں۔ رام اللہ کے قریب مغیر گاؤں میں فائرنگ سے ایک طالب علم اور اس کا استاد جاں بحق ہوئے۔ دیواروں پر نفرت آمیز نعرے لکھنے اور بستیوں کو نذرِ آتش کئے جانے کے واقعات اس خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کی نشاندہی کرتے ہیں۔ ان وحشیانہ کاروائیوں کے دوران اسرائیل میں یومِ آزادی کی رنگا رنگ تقریبات جاری تھیں۔ ایک ایسا تضاد جو خطے کی پیچیدہ حقیقت کو عیاں کرتا ہے۔

سچائی نشانے پر

جنوبی لبنان کے شہر الطیری میں بمباری کے دوران خاتون صحافی امل خلیل جاں بحق ہو گئیں۔  فلسطین و لبنان میں قلم کے مزدور اسرائیل کا خاص ہدف ہیں

جنگ بندی کے باوجود فلسطین و لبنان میں جاری کشیدگی نے مجلس السلام (بورڑ آف پیس) اور ملاقات و مذکرات سمیت 'امن' کیلئے جاری تمام کوششوں کو مہمل ثابت کردیا ہے۔جب تک تمام فریقوں کو اعتماد میں لے کر سنجیدہ اور جامع مذاکرات نہیں کئے جاتے، اس خطے میں پائیدار امن ایک خواب ہی رہے گا۔بندوق کی گونج وقتی خاموشی تو لا سکتی ہے، مگر دیرپا سکون صرف مکالمے، انصاف اور باہمی احترام سے ہی حاصل ہوگا۔

ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل کراچی یکم مئی 2026

ہفت روزہ دعوت دہلی یکم مئی 2026

ہفت روزہ رہبر سرینگر 3 مئی 2026


 

Thursday, April 23, 2026

 

جنگ بندی یا وقفہ جنگ؟؟؟

متضاد بیانیہ، امید، بے یقینی اور  پاکستان کی خاموش سفارت کاری

دو ہفتے قبل ایران اور امریکہ کے درمیان ہونے والی جنگ بندی نے یہ امید پیدا کی تھی کہ شاید ایک خطرناک تصادم اپنے انجام کو پہنچنے والا ہے۔ مگر مہلت ختم ہونے پرایران کوتباہ کردینے کی دھمکی سے صدر ٹرمپ کے یوٹرن کے باوجود کشیدگی میں فوری کمی کے امکانات معدوم نہیں تو کم از کم دھندلا ضرور چکے ہیں ایرانی قیادت خدشہ ظاہر کررہی ہے کہ نامہ و پیام کی آڑ میں صدر ٹرمپ اسرائیل کی مدد سے ایک بھرپور حملے کی تیاری اور اس تنازعے کو قومی سلامتی کا معاملہ بنانے کی کوشش کررہے ہیں۔ اسی سبب 21 اپریل کو انھوں نے انکشاف کیا کہ امریکی بحریہ نے جس ایرانی جہاز پر قبضہ کیا ہے وہ روس سے 'تحفہ' لے کر یران آرہاتھا۔ صدر ٹرمپ نے اس تحفےکی تفصیل تو نہیں بتائی لیکن فرمایاکہ انھیں روس کی اس پیشرفت پر حیرت ہوئی اسلئے کہ وہ صدر ژی جن پنگ کو اپنا دوست سمجھتے ہیں۔

مذاکرات یا فاصلہ؟ — اسلام آباد میں خاموشی

ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی تسنیم کے مطابق تہران نے پاکستان میں امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے دوسرے دور میں شرکت نہ کرنے کا حتمی فیصلہ کر لیا ہے، اور پاکستانی ثالث کو اس سے آگاہ بھی کر دیا گیا ہے۔

کیا تہران واقعی دروازہ بند کر رہا ہے یا بہتر پیشکش کا منتظر ہے؟ صدر ٹرمپ کی جانب سے جنگ بندی میں یکطرفہ توسیع کو ابتدا میں ایک سفارتی رغبت کے طور پر دیکھا گیا، لیکن ایران واضح کر چکا ہے کہ ناکہ بندی کے خاتمے سے پہلے کسی بامعنی بات چیت کا امکان نہیں۔ ایسے میں اگر واشنگٹن اشتعال کے بجائے نرم اشاروں اور خاموش دعوت کی حکمتِ عملی جاری رکھتا ہے، تو شاید یہی فائر بندی مستقبل کی کسی سنجیدہ پیش رفت کا پیش خیمہ بن سکے۔

جنگ بندی کی لبنان تک توسیع، منڈیوں سے مثبت اشارے

امن کوششوں کا آغاز بڑا خوش آئند تھا کہ اسلام آباد میں بات چیت کا پہلا مرحلہ بے نتیجہ ختم ہونے کے باوجود پاکستان نے ثالثی کا سلسلہ جاری رکھا اورصدر ٹرمپ نے بات چیت کا نیا دور جلد شروع کرنے کا اعلان کیا۔ ایک مرحلے پر صدر ٹرمپ اتنے پر امید نظر آئے کہ انھوں نے بات چیت کیلئے خود اسلام آباد آنے کی خواہش ظاہر کی۔ اسرائیل و لبنان کے درمیاں 10 روزہ عارضی جنگ بندی سے امن کی کوششوں کو مزید تقویت ملی۔ امریکی صدر کے مثبت بیانات کا ایران نے خیر مقدم کیا اور آبنائے ہرمز کو کھولدی گئی۔ان مثبت اشاروں کا اثر عالمی معیشت پر بھی پڑا۔ تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی آئی اور عالمی بازارِحصص میں تیزی دیکھی گئی، گویا دنیا نے سکھ کا سانس لیا۔

متضاد بیانیہ اور ہرمز کی کشمکش

صدر ٹرمپ نے اس موقعہ پر دعویٰ کیا کہ افزودہ یورینیم کے معاملے پر اختلافات تقریباً ختم ہو چکے ہیں اور کوئی “sticky point” باقی نہیں رہا۔ تاہم ایرانی قیادت نے اس تاثر کی نفی کی۔ ایرانی پارلیمان کے اسپیکر اور مذاکراتی وفد کے قائد محمد باقر قالیباف نے کہا کہ افزودہ یورینیم کی حوالگی پر کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا۔بات چیت ابھی ابتدائی مرحلے میں ہے اور کسی ٹھوس نتیجے تک پہنچنے میں ہفتوں لگ سکتے ہیں۔ انھوں نے مذاکرات کی حمائت کرتے ہوئے کہا کہ معاملات میں پیشرفت تو ہے لیکن خلیج اب بھی کافی گہری ہے۔

صورتحال اس وقت مزید بگڑی جب امریکہ نے ایران کی بحری ناکہ بندی برقرار رکھنے کا اعلان کیا، حالانکہ ایران پہلے ہی آبنائے ہرمز کھول چکا تھا۔ اس اقدام کو تہران نے اشتعال انگیزی قرار دیتے ہوئے دوبارہ پابندیاں عائد کر دیں، اور یوں خطے کی اہم ترین گزرگاہ ایک بار پھر کشیدگی کا مرکز بن گئی۔

تاہم امریکی صدر اسکے بعد بھی پرامید نظر آئے اوراسرائیلی چینل 12 پر ایک انٹرویو میں انھوں نے بہت ہی پراعتماد لہجے میں فرمایا “(ایران سے) معاہدے کا بنیادی تصور طے پا چکا ہے۔ میرا خیال ہے کہ اسے مکمل کرنے کے ہمارے پاس بہت اچھا موقع ہے،” پھر فوراً ہی بولے “اگر ایرانی راضی نہ ہوئے تو سب کچھ تباہ کر دیں گےاس پر اسرائیلی محکہ دفاع کے ایک  اہلکار نے کہا کہ ' امریکی صدر کے بیانات میں اسقدر ابہام اور تضاد ہوتا ہے کہ انسانی دماغ کیلئے اسکی تشریح ممکن نہیں بلکہ اگر ایران سے متعلق انکے بیانات کے تجزئے کیلئے ChatGPT سے مدد لیں تو وہ بھی تضادات کے بوجھ تلے اندر سے بکھر جائے۔

جنگی تیاری اور مختلف ترجیحات

اسرائیل اور امریکہ میں جنگی تیاریوں کی خبروں سے حالات مزید سنگین ہوگئے۔ذرایع ابلاغ کے اسرائیلی اداروں Ynet, چینل 12 اور چینل 13 کے مطابق فوج کے سربراہ جنرل ایال زامیز نے اپنے کمانڈروں کو کاروائی شروع کرنے کیلئے تیار رہنے کا حکم دیدیا ہے۔ ایسا ہی تاثر امریکی وزیر جنگ پیٹ ہیگسیتھ کی جانب سے بھی موصول ہواجسکا جواب دیتے ہوئے پاسداران انقلاب اسلامی کے سربراہ حسین سلامی نے کہا کہ ایران جنگ شروع نہیں  کریگا لیکن ہم پر جنگ مسلط کرنے والے بچ کر نہیں جاسکیں گے

اس تمام صورت حال میں امریکہ اور اسرائیل کے اہداف کا فرق نمایاں ہے۔ واشنگٹن کے نزدیک مسئلہ ایران کا جوہری پروگرام ہے، جبکہ اسرائیل کیلئے  اسلامی تشخص کیساتھ ٖغیر جوہری ایران بھی قابل قبول نہیں اسی تضاد نےاس تنازعے کو مزید پیچیدہ کردیا ہے۔

پاکستان کی خاموش سفارت کاری

اس نازک مرحلے پر پاکستان نے پسِ پردہ مگر مؤثر سفارت کاری کے ذریعے ایک پل بنانے کی کوشش کی اور اسلام آباد کے اس  کردار کو علاقائی اور عالمی سطح پر سراہا گیا۔ تاہم حالیہ پیش رفت، مذکرات سے ایرانی انکار، ناکہ بندی، اور بڑھتی ہوئی عسکری تیاریوں نے ان کوششوں کے اثرات کو وقتی طور پر دھندلا دیا ہے۔

موجودہ صورتحال کا سب سے نازک پہلوصدر ٹرمپ کی ساکھ اور  ہر لمحہ بدلتے انکے بیانئے ہیں یعنی ایک ہی سانس میں معاہدے کی نوید اور تباہی کی دھمکی۔ یہ تضاد صرف سفارتی ابہام نہیں بلکہ اعتماد کے بحران کو جنم دیتا ہے۔ ان کی کسی بات پر کسی کو اعتماد نہیں جسکی ایک تازہ ترین مثال اسلام آباد مذاکرات ہیں۔بیس اپریل کی صبح صدر ٹرمپ نے نیویارک پوسٹ کو بتایا کہ نائب صدر جے ڈی وانس اسلام آباد کیلئے روانہ ہوچکے ہیں اور وہ شام تک وہاں ہونگے۔لیکن اسی لمحے CNNکی صحافی الیانہ نے نائب صدر کی واشنگتں میں موجودگی کی اطلاع دی۔ الیانہ کو  بتایا گیا کہ جناب وانس 21 اپریل کو روانہ ہونگے اور ملاقات بدھ کو متوقع ہے لیکن اسی شام نائب صدر کے دفتر نے بتایا کہ جناب وانس کی اسلام روانگی فی الحال موخر کردی گئی ہے۔

بظاہر جنگ بندی کو غیر معینہ مدت تک بڑھا دیا گیا ہے، لیکن اگر یہ مہلت ٹھوس پیش رفت میں تبدیل نہ ہو سکی تو تاریخ اسے امن کا وقفہ نہیں، بلکہ اگلی جنگ کی تمہید کے طور پر یاد رکھے گی۔

ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل کراچی 24 اپریل 2026

ہفت روزہ دعوت دہلی 24 اپریل 2026

ہفت روزہ رہبر سرینگر 26 اپریل 2026


 

بارود کے سائے میں امن کی تلاش

غزہ، لبنان اور عالمی ضمیر—جنگ، سفارت اور دوہرے معیار کا المیہ

غزہ کی گلیوں سے اٹھتی دھول ابھی بیٹھی بھی نہیں کہ مزاحمت کاروں کو غیر مسلح کرنے کے نام پر ایک بڑے آپریشن کی بازگشت سنائی دے رہی ہے۔ایک طرف جنگ بندی اور مذاکرات کے دعوے ہیں تو  دوسری جانب خون، خوف اور بے یقینی کا سلسلہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا۔ کیا واقعی امن کی کوئی سنجیدہ کوشش ہو رہی ہے، یا یہ سب محض ایک ایسے کھیل کا حصہ ہے جس میں اصول بدلتے رہتے ہیں مگر مظلوم کا مقدر نہیں بدلتا؟

ہتھیار ڈالنے پر اصرار

مزاحمتی گروہوں اور نام نہاد “بورڈ آف پیس” کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ حالیہ اجلاس میں مزاحمت کاروں سے اسلحہ ترک کرنے کا مطالبہ ایک حکم کے انداز میں دہرایا گیا، جسے انہوں نے مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ اسرائیلی فوج کے مکمل انخلا سے قبل مسلح جدوجہد ترک نہیں کی جائے گی۔ اس تناظر میں بورڈ کے سربراہNickolay Mladenov کے کردار پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق اجلاس کسی نتیجے کے بغیر ملتوی ہو گیا، جو اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ امن کے تقاضے یکطرفہ رکھے جا رہے ہیں۔

ایک طرف مزاحمت کاروں سے غیر مسلح ہونے  کا مطالبہ، اور دوسری جانب اسرائیلی فوجی انخلا پر خاموشی۔یہ تضاد خود بہت کچھ کہتا ہے۔ اطلاعات ہیں کہ اگر مزاحمت کاروں نے ہتھیار نہ ڈالے تو انہیں بزور طاقت غیر مسلح کرنے کے منصوبے زیر غور ہیں۔کیا امن واقعی ہدف ہے یا طاقت کے توازن کو یکطرفہ بنانے کی کوشش؟

سارے غزہ میں بمباری، ڈرون حملوں اور فائرنگ کے واقعات بدستور جاری ہیں۔المواصی، خان یونس اور رفح کے علاقوں میں نہتے افراد نشانہ بنے، جن میں ہلاکتیں اور درجنوں زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔

فوج کے ساتھ اسرائیل نواز ملیشیا کی سرگرمیاں بھی بڑھتی جارہی ہیں اور کئی محلوں سے بچوں کے اغوا کی خبریں آرہی ہیں۔ غزہ شہر میں فلسطینی پولیس ایسی ہی ایک شکائت پر جب ان اوباشوں کو گرفتارکرنے پہنچی تو اسرائیلی فوج نے پولیس پارٹی پر حملہ کردیا جس سے چار فلسطینی جاں بحق ہوگئے

لبنان: جنگ بندی کے باوجود شعلے

لبنان میں عارضی جنگ بندی کے باجود اسرائیل کے زیرقبضہ علاقوں میں عسکری کاروائیاں جاری ہیں۔ اس ہفتے جنوبی لبنان میں کم ازکم چار گاوں خالی کراکر اسرائیلی فوج نے مکانوں اور فصلوں کو آگ لگادی۔

اسرائیلی جریدے Haaretz کے مطابق لبنان پر اسرائیلی حملوں میں اب تک 172 بچے جان کی بازی ہار چکے ہیں۔ نیتن یاہو اور صدر ٹرمپ کا مؤقف ہے کہ یہ کارروائیاں ایران نواز عسکری گروہوں کے خلاف ہیں۔ پارکوں اور میدانوں میں کھیلتے یہ 11–12 سال کے معصوم بچے آخر کس “دہشت گردی” میں ملوث تھے؟ سچ ہے کہ جنگ کا سب سے بڑا بوجھ ہمیشہ عام شہری ہی اٹھاتے ہیں۔

غربِ اردن: خاموش محاذ

غرب اردن میں فلسطینیوں پر حملے، فصلیں اجاڑنے اورگھروں پر قبضے کاسلسلہ جاری ہے۔ رام اللہ کے قصبے ترمسعیا پر قبضہ گردوں نے مکانات اور گاڑیوں کو آگ لگادی، جاتے ہوئے  یہ لوگ دیواروں پر 'انتقام ' کے نعرے لکھ گئے۔ معلوم نہیں مظلوموں سے کس بات کا انتقام لیا جارہا ہے۔

اکیس اپریل کو رام اللہ کے المغیر اسکول پر قبضہ گردوں نے حملہ کیا جس میں ایک 14 سالہ طالب علم حمدی نسان اور استاد ابو نعیم گولے لگنے سے موقع پر دم توڑ گئے۔ سات سال قبل حمدی کا باپ بھی اسرائیلی فوج کی درندگی کی نذر ہوچکا ہے۔ جاتے جاتے  غارتگرد دیواروں پر 'عرب مردہ باد' کے نعرے لکھ گئے

قبضہ گردوں نے فلسطینی بچوں کے خلاف اب تشدد کا ایک نیا انداز اختیار کرلیا ہے۔ کھیل کے میدانوں اور اسکولوں میں پانی کی گن سے بچوں کی آنکھوں میں سرخ مرچ کے محلول کی پچکاریای ماری جاتی ہیں۔ بیت الحم کے گاوں تقوع اور وادی اردن کے شہر عین الحلوہ میں بچوں کو گھیر کر مرچ کے پانی کے علاوہ کچھ کی آنکھوں میں سرخ مرچیں جھونک دی گئیں۔ جس سے درجنوں بچوں کی آنکھوں میں زخم آگئے۔ کچھ کی بینائی متاثر ہونے کا خطرہ ہے

القدس شریف میں دراندازی

مسجد اقصیٰ کے دروازے کھلتے ہی دراندازی کا سلسلہ دوبارہ شروع ہوگیا ہے، اسرائیل کے انتہا پسند وزیر داخلہ اتامر بن گویر نے مسجد اقصیٰ کے دالان میں  سنگینوں کے سائے تلے عبادت کی۔ اسرائیل نے 1967میں القدس پر قبضے کے فورا بعد اقوام عالم کو یقین دلایا تھا کہ مسجد اقصیٰ و القدس شریف کی اسلامی حیثیت برقرار رکھی جائیگی اور دیوار گریہ کے سوا کسی بھی جگہ غیرمسلموں کا داخلہ اوقاف کی تحریری اجازت سے مشروط ہوگا۔

ایمسٹرڈیم کی خاموش گواہی

نازی مظالم کا نشانہ بننے والے یہودیوں کی یاد میں 14 اپریل کو Holocaust Remembrance Dayمنایا جاتاہے جسے عبرانی میں Yom HaShoahکہتے ہیں ۔اس مناسبت سے ڈچ شہر ایمسٹرڈیم کے مرکزی Dam Square پر درندگی کا شکار ہونے والے نونہالانِ غزہ کی یاد میں ننھے جوتوں کی ایک علامتی قطار سجائی گئی۔

یہ منظر اس بات کی یاد دہانی تھا کہ تاریخ کے زخم صرف ماضی کا قصہ نہیں، بلکہ حال کے دکھوں میں بھی جھلکتے ہیں۔

آزادیٔ اظہار کا مغربی انداز

گزشتہ ہفتے برطانیہ میں فلسطینی حقوق کیلئے مظاہرہ کرنے والے 500 افراد گرفتارکرلئے گئے۔کیا انسانی حقوق کا معیار سب کیلئے یکساں ہے، یا حالات کے مطابق بدل جاتا ہے؟

بلبل نے آشیانہ چمن سے اٹھا لیا

ترک نژاد طالبہ رمیسہ اوزترک، قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرنے کے بعد بالآخر خود ہی امریکہ چھوڑ کی اپنے وطن واپس چلی گئیں۔ رمیسہ، Tufts University میں پی ایچ ڈی کی طالبہ تھیں۔ جامعہ کے میگزین میں اسرائیل پر تنقیدی مضمون لکھنے کے بعد انہیں امریکی امیگریشن ادارے ICE نے حراست میں لے لیا۔ انہیں لوزیانا کی ایک دور افتادہ جیل میں تقریباً 45 دن رکھا گیا، جہاں انہیں سخت حالات کا سامنا کرنا پڑا، حتیٰ کہ عدالت کے حکم پر رہائی ممکن ہوئی۔ رہائی کے بعد بھی Fulbright اسکالر، رمیسہ کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں اور امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو خود اس معاملے کی نگرانی کرتے رہے۔ گزشتہ ہفتے صدر ٹرمپ نے اس وفاقی جج کو برطرف کر دیا جس نے رمیسہ کی ملک بدری (deportation) کے احکامات کو غیر قانونی قرار دیا تھا۔اس حوصلہ مند لڑکی نے امریکہ میں آزادیِ اظہارِ رائے کیساتھ، عدالتی نظام کی بھی قلعی کھول دی۔

ہفت روزہ فرائیڈے اسہیشل کراچی 24 اپریل 2026

ہفت روزہ دعوت دہلی 24 اپریل 2026

ہفت روزہ رہبر سرینگر 26 اپریل 2026




 

Thursday, April 16, 2026

 

اسلام آباد مذاکرات: ناکامی، ابہام اور جنگ کے سائے

سرخ لکیروں کا تصادم ، سفارت کاری کی شکست

اسلام آباد میں ایران اور امریکہ کے درمیان ہونے والے مذاکرات کو ایک فیصلہ کن موڑ قرار دیا جا رہا تھا، مگر 21 گھنٹوں پر محیط یہ طویل نشست کسی ٹھوس نتیجے کے بغیر اختتام پذیر ہوگئی۔ سوال یہ نہیں کہ مذاکرات ناکام کیوں ہوئے، بلکہ یہ ہے کہ کیا واقعی ان کی کامیابی مطلوب بھی تھی؟

سرخ  دیواریں

طویل دورانئے کے مذاکرات کے بعد امریکی نائب صدر جے ڈی وانس اپنے وفد کے ہمراہ وطن واپس چلے گئے۔ روانگی سے قبل مختصر پریس کانفرنس میں ان کا کہنا تھا کہ “ہمارے لئے ایران کی اور ان کے لئے ہماری ریڈ لائنز ناقابلِ قبول ہیں، تاہم بعض دیگر امور پر پیش رفت ہوئی ہے۔

ابتدائی اطلاعات کے مطابق ایرانی مؤقف خاصا واضح اور سخت تھا۔ تہران کی جانب سے آبنائے ہرمز پر مکمل خودمختاری، افزودہ یورینیم کی ملکیت، ایران اور اس کے اتحادیوں کے خلاف جارحیت کا خاتمہ، جنگی تاوان کی ادائیگی، منجمد اثاثوں کی واپسی اور پابندیوں کے خاتمے جیسے مطالبات پیش کئے گئے۔ دوسری جانب امریکہ افزودہ یورینیم کی حوالگی اور آبنائے ہرمز میں بلا رکاوٹ جہاز رانی پر مصر تھا۔ گویا ابتدا ہی سے دونوں فریقوں کے درمیان خلیج گہری تھی۔

عدم اعتماد کا سایہ

پاکستان پہنچنے پر ایرانی وفد کے سربراہ محمد باقر قالیباف نے واضح کیا کہ وہ پاکستان کے لئے خیرسگالی اور قدردانی کے طور پر آئے ہیں ورنہ انہیں امریکہ پر اعتماد نہیں۔ دوسری طرف صدر ٹرمپ  کا رویہ بھی سرد مہری کا عکاس تھا۔ انھوں نے صاف صاف کہا کہ مذاکرات کامیاب ہوں یا ناکام، انہیں کوئی فرق نہیں پڑتا کیونکہ “واشنگٹن جنگ جیت چکا ہے۔” بے نیازی کے اس ماحول میں کسی سنجیدہ پیش رفت کی توقع کم ہی رہ جاتی ہے۔ایرانی وفد کی جانب سے کہا گیا کہ تکنیکی ماہرین دستاویزات کا جائزہ لے رہے ہیں اور مذاکرات جاری رہیں گے، لیکن امریکی وفد کی عجلت میں واپسی نے اس عمل کی سنجیدگی پر سوال اٹھا دئے۔

ایران کیساتھ مذاکرات میں ٹرمپ انتظامیہ نے کبھی بھی سنجیدگی نہں دکھائی۔ گزشتہ برس جوہری مسئلے پر مذاکرات جاری ہی تھے کہ امریکہ نے تیشہ نیم شب یا Mid Night Hammerنامی آپریشن کے ذریعے ایران کی جوہری تنصیبات کو صدر ٹرمپ کے الفاظ میں Obliterateیا خاک کردیا۔ اسکے بعد فروری میں مذاکرات کی میز عمان کی ثالثی میں دوبارہ بچھائی  گئی اور 27 فروری کو ایک مرحلے کے  اختتام پر صدرٹرمپ کے ایلچی اسٹیو وٹکاف نے کہا کہ ہم مذاکرات کے مثبت اختتام کی طرف پیش قدمی کررہے ہیں کہ 28 فروری کو صدر ٹرمپ نے اسرائیل کیساتھ مل کر قہر عظیم یا Epic Furyنازل کردیا

اسرائیل: پسِ پردہ مگر مرکزی کردار

اس پورے تناظر میں اسرائیل کا کردار نہایت اہم ہے۔ وزیرِاعظم بن یامین نیتن یاہو پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ جنگ بندی ان کے لیے حتمی منزل نہیں بلکہ ایک مرحلہ ہے، اور اسرائیل کسی بھی وقت جنگ دوبارہ شروع کرنے کے لیے تیار ہے۔تجزیہ کاروں کے مطابق اسرائیل کے اہداف میں ایران کے اسلامی تشخص کا خاتمہ اور خطے میں توانائی کے ذخائر پر اثر و رسوخ بڑھانا شامل ہے۔ امریکی سیاست پر نظر رکھنے والے ماہرین جانتے ہیں کہ واشنگٹں کیلئے اسرائیل کی مرضی کے بغیر کوئی فیصلہ کرنا ممکن نہیں۔ صدر ٹرمپ بظاہر کتنے ہی مضبوط و خودمختار کیوں نہ لگیں وہ  اسرائیل کی مرضی کے خلاف نہیں جاسکتے۔عسکری تجزیہ نگاروں کاخیال ہے کہ ایران پر حملے کا فیصلہ نیتن یاہو کا تھا جسے صدر ٹرمپ نے تسلیم کرلیا۔ یا یوں کہتے کہ وہ ایران میں اسرائیل کی جنگ لڑرہے ہیں۔

ایران کے معاملے میں تل ابیب کی خوشنودی صدر ٹرمپ کو کتنی عزیز  ہے اسکا بہت فخریہ اظہار نیتن یاہو نے خود کیا۔پیر 13 اپریل کو کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا ' اسلام آباد سے واپسی پر نائب صدر جے ڈی وینس نے طیارے سے فون کرکے مجھے مذاکرات کی پیش رفت اور گفتگو بے نتیجہ ختم ہوجانے کی تفصیلات بتائیں، بالکل اسی طرح جیسے ٹرمپ انتظامیہ کے ارکان روزانہ ہمیں بریف کرتے ہیں'

اس پر ڈیموکریٹک پارٹی کے رکن کانگریس مارک پوکن (Mark Pocan)نے بہت بے چارگی سے کہا 'ٹرمپ انتظامیہ ایران جنگ کے بارے میں امریکی کانگریس اور امریکی عوام کو تو کچھ نہیں بتاتی لیکن اسرائیل کو روزانہ کی بنیاد پر آگاہی دی جارہی ہے'

آگے کا راستہ: امن یا تصادم؟

حالیہ صورتحال میں یہ تاثر مضبوط ہو رہا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کے لیے سفارت کاری کے مقابلے میں عسکری دباؤ زیادہ اہم ہے۔ دوسری طرف ایران اب بھی مذاکرات جاری رکھنے کی بات کر رہا ہے، گویا ایک جانب بارود کو ترجیح دی جا رہی ہے، جبکہ دوسری سِمت امید کا چراغ ابھی بجھا نہیں۔

سوال یہ ہے کہ جب امریکی نائب صدر  اپنے وفد کے ہمراہ واپس جا چکے تو بات چیت آگے کیسے بڑھے گی؟ کیا رسمی نشست ختم  ہونے کے بعد پسِ پردہ اور ڈیجیٹل ذرائع سے نامہ و پیام کا سلسلہ جاری ہے؟ ان تفصیلات پر ابھی پردہ ہے۔ البتہ اطلاعات ہیں کہ مذاکرات کے دوران دونوں فریق ایک مرحلے پر آمنے سامنے آئے اور شاید ایک مشترکہ عشائیہ بھی ہوا۔ چلمن سے باہر آکر ناز و نیاز کے یہ اشارے معنی خیز ہیں۔کیا “Absolutely not” کی تکرار کبھی “maybe” یا “sure” میں بدل سکتی ہے؟ کیا انکار کے پردے میں اقرار کی کوئی گنجائش موجود ہے؟ یہ ممکن تو ہے لیکن جب میزِ مذاکرہ اور میدانِ جنگ ساتھ ساتھ چلیں تو امن محض ایک خواہش بن کر رہ جاتا ہے۔

گیند ایران کے کورٹ میں؟؟

امریکہ واپس آکر  جے ڈی وینس نے  فاکس نیوز سے گفتگو میں کہا کہ اب “گیند ایران کے کورٹ میں ہے” اور اگلا قدم ایران کو اٹھانا ہوگا۔ انہوں نے زور دیکر کہا کہ اگر ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق امریکہ کی “ریڈ لائنز” تسلیم کر لی جائیں تو یہ دونوں ممالک کے لیے ایک “بہت اچھا معاہدہ” ثابت ہو سکتا ہے۔ اگر اس تمام کشمکش کا مرکزی نکتہ جوہری پروگرام ہی ہے تو پھر وہ آزمودہ راستہ کیوں نہیں اپنایا جاتا جس نے پہلے نتائج دئے تھے۔

دو سال طویل مذاکرات کے بعد 2015 میں Joint Comprehensive Plan of Action (JCPOA) طئے پایا جسے فارسی میں برجام کہا جاتا ہے ۔اس معاہدے کی امریکی کانگریس کے دونوں ایوانوں نے غیر معمولی اکثریت سے توثیق کی، اور یہ دو برس تک مؤثر انداز میں چلتا رہا۔ اقوام متحدہ کی عالمی جوہری توانائی ایجنسی (IAEA) نے متعدد بار ایرانی تنصیبات کے معائنے کے بعد اس پر اعتماد کا اظہار کیا۔ یہ معاہدہ اس لحاظ سے بھی منفرد تھا کہ اس پر دنیا کی بڑی طاقتوں کے ساتھ جرمنی نے بھی دستخط کیے، جس کی بنا پر اسے P5+1 کہا جاتا ہے، اور یورپی ممالک نے اس کی مکمل حمایت کی۔

تاہم صدر ٹرمپ نے اپنے پہلے دورِ اقتدار کے آغاز میں کانگریس سے مشاورت کے بغیر امریکہ کو اس معاہدے سے علیحدہ کر لیا۔ آج جب دوبارہ “ریڈ لائنز” اور “ڈیل” کی بات ہو رہی ہے تو JCPOAکو بحال کیوں نہیں کرلیا جاتااور وہ راستہ اختیار کرنے سے گریز کیوں ہے جس نے پہلے عملی نتائج دیے تھے۔ ہر بار نئے سرے سے اعتماد کی عمارت کھڑی کرنے کی ضرورت کیوں پیش آتی ہے۔ امن کے لیے صرف شرائط کافی نہیں، تسلسل اور اعتبار بھی ضروری ہے۔دیکھنا ہے کہ اب اہلِ فارس کی خواہشِ امن حقیقت کا روپ دھاریگی یاڈانلڈ ٹرمپ اور نیتن یاہو کی حکمتِ عملی ایک اور طویل تصادم کی تمہید ثابت ہوگی۔

ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل کراچی 17 اپریل 2026

ہفت روزہ دعوت دہلی 17 اپریل 2026

ہفت روزہ رہبر سرینگر 19 اپریل 2026