Friday, July 10, 2026

 

امن کی میز اور جنگ کی زبان

ایران، امریکہ اور اعتماد کا بحران

ایران کے  رہبرِ معظم حضرت آیت اللہ سید علی خامنہ ای اور ان کے خاندان کے چار افراد کی نمازِ جنازہ تہران میں ادا کردی گئی۔ اس موقع پر پاکستانی وزیراعظم، نائب افغان وزیراعظم ملا عبدالغنی برادر سمیت ایک سو سے زائد ممالک کے سرکاری نمائندوں اور متعدد اسلامی تحریکوں کے قائدین نے شرکت کی۔ ایرانی میڈیا کے مطابق لاکھوں افراد اس تاریخی جنازے میں شریک ہوئے۔ مرحوم کے صاحبزادگان مسعود خامنہ ای، میثم خامنہ ای اور مصطفیٰ خامنہ ای جنازے میں موجود تھے، تاہم بڑے صاحبزادے اور موجودہ رہبرِ معظم مجتبیٰ خامنہ ای دکھائی نہیں دئے۔ آیت اللہ خامنہ ای 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ فضائی حملے میں اپنی بہو اور دو پوتوں سمیت جاں بحق ہوئے تھے۔ خیال ہے کہ میت کی نجف و کربلا زیارت کے بعد انکی تدفین مشہد میں ہوگی۔

صدر ٹرمپ کا متنازع بیان

جنازے کے موقع پر ایک امریکی خبررساں ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایرانی عوام کو آیت اللہ خامنہ ای پر گریہ کرتے دیکھ کر انہیں حیرت ہوئی، ممکن ہے یہ "بناوٹی آنسو" ہوں، اس لیے کہ لوگ ان سے نفرت کرتے تھے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر امریکہ چاہتا تو اس موقع پر جمع پوری ایرانی قیادت کو ایک ہی حملے میں نشانہ بنا سکتا تھا، لیکن ایسا نہیں کیا کیونکہ پھر مذاکرات کے لیے کوئی باقی نہ رہتا۔امریکی آزادی کی 250ویں سالگرہ پر خطاب کرتے ہوئے بھی صدر ٹرمپ نے کہا: "وینزویلا کو دیکھیں، ایران کو دیکھیں، ہم نے اسے تباہ کر دیا۔ دنیا کی سب سے طاقتور فوج امریکہ کے پاس ہے۔"

اس وقت جب دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات مثبت سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں تو ایسے موقع پر اس نوعیت کے اشتعال انگیز اور دھمکی آمیز بیانات سفارتی ماحول کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ خصوصاً ایرانی قیادت کو بالواسطہ قتل کی دھمکی، اعتماد سازی کی کوششوں سے مطابقت نہیں رکھتی۔

نیویارک ٹائمز کی رپورٹ اور بڑھتی بداعتمادی

اس سے قبل نیویارک ٹائمز نے موجودہ اور سابق امریکی حکام کے حوالے سے انکشاف کیا تھا کہ اسرائیل، ایرانی مذاکرات کاروں، خصوصاً عباس عراقچی اور محمد باقر قالیباف، کو ممکنہ طور پر نشانہ بنانے پر غور کر رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اسی خدشے کے پیش نظر امریکی حکام نے مشرقِ وسطیٰ کے بعض میزبان ممالک کے ذریعے تہران کو غیر رسمی انتباہ بھی پہنچایا تاکہ جنگ بندی اور سفارتی عمل متاثر نہ ہو۔

رپورٹ میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا کہ عراقچی اور قالیباف مبینہ طور پر اسرائیل کی ممکنہ ہدفی فہرست (hit list)میں شامل ہیں اور ان کے طیارے کو بھی خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔ اگرچہ ان اطلاعات کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی، تاہم صدر ٹرمپ کے حالیہ بیانات نے پہلے سے موجود بداعتمادی کو مزید گہرا کر دیا ہے۔

ایران کا ردعمل

گزشتہ ہفتے ایرانی سرکاری ٹی وی سے باتیں کرتے ہوئے ایرانی اسپیکر باقر قالیباف نے کہا کہ امریکہ سے مذاکرات ایک مسلسل کشمکش ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ ہم دوست سے نہیں بلکہ ایسے مکار دشمن کے سامنے بیٹھے ہیں جو ہم پر حملہ کرنے کیلئے موقع کی تاک میں ہے۔ اپنے قائدین کو اسرائیلی وزیردفاع کی جانب سے قتل کی دھمکی پر ایرانی وزیرخارجہ بھی شدید ردعمل کا اظہار کرچکے ہیں۔ اپنے ٹویٹ میں جناب عباس عراقچی نے کہاکہ یادداشتِ اسلام آباد کے مطابق یہ امریکی صدر کی ذمہ داری ہے کہ وہ تل ابیب میں اپنے پالتو کو قابو میں رکھیں۔ اگر وہ مالک سے کنٹرول نہیں ہوگا تو ایران اُسے پٹہ ڈالے گا۔

امریکہ کے اندر بھی اختلاف

ایران پر حالیہ امریکی حملوں کے بعد صرف تہران ہی نہیں بلکہ واشنگٹن میں بھی اختلافی آوازیں بلند ہو رہی ہیں۔ ڈیموکریٹ رکنِ کانگریس رو کھنہ نے ان کارروائیوں کو کانگریس کی حالیہ وار پاورز (War Powers)قرارداد کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے خبردار کیا ہےکہ اگر ایسے حملے جاری رہے تو وہ اس معاملے کو عدالت لے جائیں گے۔ یہ ردعمل اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ ایران سے متعلق امریکی پالیسی پر داخلی سطح پر بھی مکمل اتفاقِ رائے موجود نہیں۔

مذاکرات جاری، مگر زبان اب بھی جنگ کی

اگرچہ امریکہ اور ایران کے درمیان ثالث ممالک کی نگرانی میں اسلام آباد MOU پر عمل درآمد اور ایک جامع امن معاہدے کے لیے مذاکرات جاری ہیں، لیکن دونوں جانب سے آنے والے سیاسی بیانات سفارتی پیش رفت کو مسلسل متاثر کر رہے ہیں۔ صدر ٹرمپ نے گزشتہ ہفتے CNBC سے گفتگو میں مذاکرات پر اطمینان کا اظہار کیا، تاہم ساتھ ہی یہ دعویٰ بھی کیا کہ امریکہ نے ایران کو "شکستِ فاش" دی ہے، اس کے بیشتر میزائل تباہ کر دیے اور "بگڑا ہوا بچہ" امریکی شرائط ماننے پر آمادہ ہو چکا ہے۔

اصل مسئلہ جوہری پروگرام نہیں اعتماد ہے

ایران مسلسل یہ مؤقف دہراتا آیا ہے کہ وہ جوہری ہتھیار بنانے کا خواہش مند نہیں اور افزودہ یورینیم کے مسئلے کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنا چاہتا ہے۔ اس تناظر میں موجودہ مرحلے پر اصل چیلنج مذاکرات  نہیں بلکہ باہمی اعتماد کی بحالی ہے۔ ایرانی قیادت واضح کر چکی ہے کہ کسی بھی جامع معاہدے میں پیش رفت کا انحصار یادداشتِ اسلام آباد پر عملی عمل درآمد سے مشروط ہے۔ تہران کے نزدیک اس یادداشت کا سب سے اہم اور فوری نکتہ ایران کے منجمد مالی اثاثوں کی واپسی ہے۔ صدر ٹرمپ خود کہہ چکے ہیں کہ یہ اثاثے بنیادی طور پر ایران کے ہیں جنھیں واپس ہونا چاہئے لیکن امریکہ میں صدر ٹرمپ کے سیاسی مخالفین ان اثاثوں کی واپسی کو ایران کے سامنے امریکی پسپائی سے تعبیر کررہے ہیں۔ یہی داخلی دباؤ واشنگٹن کے لئے اس معاملے کو مزید پیچیدہ بنا رہا ہے۔

ایران اور امریکہ کے درمیان موجودہ مذاکرات شاید گزشتہ کئی برسوں کا سب سے اہم سفارتی موقع ہیں، لیکن امن صرف گفتگو سے قائم نہیں ہوتا بلکہ اس کے لیے سیاسی ضبط، ذمہ دارانہ طرزِ بیان اور باہمی اعتماد ناگزیر  ہیں۔ جب مذاکرات کی میز پر بیٹھے فریق ایک دوسرے کو دھمکیاں دیتے رہیں یا اپنے حلیفوں کو بے لگام چھوڑ دیں تو ہر مثبت پیش رفت ایک نئے بحران کی نذر ہو سکتی ہے۔اسلام آباد یادداشت ہو یا مستقبل کا کوئی جامع معاہدہ، اس کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ دونوں فریق طاقت کے بجائے اعتماد کی زبان اختیار کر پاتے ہیں یا نہیں۔

ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل کراچی 10 جولائی 2026

ہفت روزہ دعوت دہلی 10 جولائی 2026

ہفت روزہ رہبر سرینگر 12 جولائی 2026


 

غزہ! وحشت و دہشت   کے ایک ہزار دن

تباہی سے تعمیرِ نو تک: جنگ، قبضہ اور بدلتی سیاست

غزہ جنگ کے ایک ہزار دن مکمل ہو چکے ہیں۔ان پونے تین سالوں میں 73،000 افراد جاں بحق ہوئے۔ جان سے جانے والوں میں  1022 شیرخوار سمیت 21500 بچے  شامل ہیں۔ نوہزار سے زائد افراد لاپتہ یعنی ملبے تلے دفن ہیں جبکہ زخمیوں کی تعداد پونے دولاکھ کے قریب  ہے۔ ایک اندازے کے مطابق اسرائیل نے غزہ پر دولاکھ ٹن بارود برسایا یعنی ہیروشما پرگرائے جانیوالے جوہری بم سے 16 گنا زیادہ دھماکہ خیز مواد استعمال ہوا۔اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ زمین پر پڑے ملبے کا حجم چھ کروڑ 68 لاکھ ٹن سے زیادہ ہے۔

جنگ بندی بھی شہریوں کو نہ بچا سکی

اکتوبر میں ہونے والی جنگ بندی کے بعد یہ توقع کی جا رہی تھی اہلِ غزہ  کو کچھ مہلت ملے گی، لیکن اسکے بعد بھی ایک ہزار سے زیادہ فلسطینی مختلف فضائی حملوں، ڈرون کارروائیوں اور گولہ باری میں مارے جا چکے ہیں۔ اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ غزہ کی 90 فیصد رہائشی عمارتیں اور 79 فیصد ہسپتال مکمل یا جزوی طور پر تباہ ہوچکے ہیں اور غذائی بحران ایسا سنگین کہ  چارلاکھ افراد کو دن میں ایک بار کھانا میسر ہے۔اسرائیلی فوج غزہ کے تقریباً اسی فیصد علاقے پرقابض ہے۔اب بے گھر لوگوں کے خیمے اسرائیلی فوج کا نشانہ ہیں۔ گزشتہ ہفتے غزہ شہر اورخان یونس کے پناہ گزین خیموں پر مبینہ طور پر فیول بم برسائے گئے جس سے درجنوں خیمے جل گئے۔

مسجدِ ابراہیمی اور 'معاہدہ اسٹیٹس کو'

مسجداقصیٰ اور نابلوس میں مزارِ یوسفؑ کے بعد الخلیل (Hebron)کی قدیم ترین مسجد ابراہیمی تک مسلمانوں کی رسائی محدود کردی گئی ہے۔یروشلم سے 30 کلومیٹر جنوب کی طرف الحرم الابراہیمی میں مسجد کے علاوہ حضرت ابراہیمؑ، حضرت اسحاقؑ اور حضرت یعقوبؑ کے مزارات مقدس بھی ہیں۔ اس اعتبار سے یہ مسلم، مسیحی اور یہودی تینوں مذاہب کے ماننے والوں کیلئے مقدس جگہ ہے۔ فلسطینیوں کا دعویٰ ہے کہ ابراہیمی مسجد فتحِ یروشلم کے فوراً بعد قائم ہوئی تھی۔جب 1967 میں القدس شریف سمیت متعدد اسلامی مقدسات اسرائیلی انتظام کے تحت آگئے تو اسرائیل نے اقوام متحدہ کو تحریری طور پر یقین دلایا تھا تمام عبادت گاہوں کی حیثیت برقرار رہیگی ۔ یہ وعدہ Status Que کے نام سے مشہور ہوا۔ترک خبر رساں ادارے TRT کے مطابق اب حرم الابراہیمی کے گرد 106 آہنی پھاٹک لگاکر مسجد تک رسائی محدود کردی گئی ہے۔ چند ہفتے قبل لاوڈ اسپیکر کے ذریعے اذان دینے پر پابندی عائد کی گئی، جمعہ کی نماز کے حوالے سے نئی پابندیاں نافذ کی گئیں، جبکہ عام نمازوں کے لیے بھی مسجد کے دروازے صرف جماعت سے کچھ دیر پہلے کھولے جاتے ہیں۔الخلیل کے گورنر خالد دودین کا کہنا ہے کہ مسجد کی طرف آنے والی 16 سڑکوں کو مٹی کے پشتے کھڑے کرکے بند کردیا گیا ہے، جس سے مقامی آبادی اور زائرین کی نقل و حرکت مزید دشوار ہوگئی ہے۔

اسرائیل کے اندر بڑھتا داخلی بحران

فلسطینی علاقوں میں جاری جنگ کے ساتھ لازمی فوجی بھرتی کے معاملے پر اسرائیل خود بھی ایک اہم داخلی بحران سے دوچار ہے۔ گزشتہ ہفتے فوجی بھرتی کے وارنٹ کی تعمیل نہ کرنے والے حفظِ توریت مدارس (Yeshiva)کے طلبہ کی گرفتاری کے خلاف تل ابیب میں ربائیوں (یہودی ائمہ) نے زبردست احتجاج کیا۔ کچھ مبصرین استثنیٰ کے  مسئلے پر خانہ جنگی کا خظرہ بھی ظاہر کررہے ہیں۔ شائد اسی خدشے کے پیش نظر وزیردفاع نے یشیوا طلبہ کے طلبی حکم ناموں کا اجرا معطل کردیا ہے۔

لبنان محاذ: جنگ بندی مگر مکمل امن نہیں

لبنان اور اسرائیل کے درمیان واشنگٹن میں طئے پانے والے اصولی معاہدے (Framework Agreement) کے بعد اسرائیلی بمباری میں کمی تو آئی ہے لیکن تقریباً ہر روز ہی کسی نہ کسی جگہ سے حملے کی خبریں آرہی ہیں۔ اسرائیل نے معاہدے کی فوجی انخلا سے متعلق شقوں کو عملاً مسترد کردیا ہے۔ مزاحمت کاروں کا کہنا ہے کہ مقبوضہ علاقوں میں اسرائیلی فوج اپنے مورچے مزید مضبوط کررہی ہے۔ اس ہفتے اسرائیلی فوج کے سربراہ جنرل ایال زامیر  نے مقبوضہ علاقے میں ملی و ثقافتی اہمیت کے حامل مقامات اور تنصیبات کے سامنے اس طرح فوٹو کھچوائے جیسے مال غنیمت کی نمائش ہو۔

امریکہ میں اسرائیل پہلی مرتبہ انتخابی مسئلہ؟

آجکل جبکہ امریکہ میں وسط مدتی انتخابات کیلئے دونوں جماعتیں اپنے امیدوار چن رہی ہیں۔ ڈیموکریٹک پارٹی میں فلسطین کے معاملے پر خاصی بیچینی پائی جاتی ہے اور اکثر جگہ غزہ نسل کشی موضوع بحث ہے۔ نیویارک کے بعد ریاست کولوریڈو (Colorado)میں بھی وہی رنگ نظر آیا جب حلقہ 1 سے 29 سالہ ایتھیوپیائی نژاد میلات کیروس نے 15 مرتبہ منتخب ہونے والی رکن Diana DeGette کو ڈیموکریٹک ٹکٹ سے محروم کردیا۔ کامیابی کے بعد تقریر کرتے ہوئے میلات نے کہا کہ ہم سیاسی ترغیب کاروں خصوصاً AIPAC (امریکن اسرائیل پولیٹیکل ایکشن کمیٹی) کو مسترد کرتے ہوئے فلسطین میں جاری نسل کشی کے خاتمے کے مطالبے پر قائم و پرعزم ہیں۔ یہ کامیابیاں  ڈیموکریٹک پارٹی کے اندر اسرائیل کے مسئلے پر بدلتے ہوئے سیاسی رجحان کا پتہ دیتی ہیں۔ اسلئے کہ کئی دہائیوں تک امریکی سیاست میں اسرائیل کی حمایت، متفقہ یا Bipartisan Consensus پالیسی سمجھی جاتی تھی۔ ریپبلکن ہوں یا ڈیموکریٹ، دونوں جماعتیں اسرائیل کی سلامتی اور فوجی امداد پر یک زباں رہتی تھیں۔ لیکن غزہ کی جنگ نے اس روایت کو پہلی بار سنجیدگی سے چیلنج کیا ہے۔

کیا حماس نے اسرائیل کا ایک بڑا جواز ختم کر دیا؟

غزہ جنگ کے ایک ہزار دن مکمل ہونے پر ایک اہم سیاسی پیش رفت بھی سامنے آئی ہے۔ تقریباً دو دہائیوں تک غزہ کی سول حکومت چلانے کے بعد حماس نے اپنی انتظامی حکومت تحلیل کرنے اور اختیارات ایک غیر جماعتی ٹیکنوکریٹک کمیٹی کے سپرد کرنے پر آمادگی ظاہر کر دی ہے۔ بظاہر یہ ایک انتظامی فیصلہ ہے، لیکن اس کےسیاسی اثرات، امکانات، خدشات اور مضمرات، توقعات سے کہیں زیادہ گہرے ہو سکتے ہیں۔ اس اقدام  حماس کی پسپائی یا ہتھیار ڈالنے سے تعبیر کرنا درست نہیں ہوگا۔ حماس نے نہ اپنی سیاسی حیثیت سے دستبرداری اختیار کی ہے اور نہ ہی اپنی مزاحمتی پالیسی ترک کرنے کا اعلان کیا ہے۔ تنظیم کے ترجمان حازم قاسم کے مطابق اس فیصلے کا مقصد یہ ہے کہ "اسرائیل کے پاس اپنی جارحیت، محاصرے اور تعمیرِ نو میں رکاوٹ کا کوئی بہانہ باقی نہ رہے۔"

اسی سلسلے میں غزہ کی حکومتی ایمرجنسی کمیٹی کے سربراہ محمد الفراء نے استعفیٰ دے کر انتظامی ڈھانچہ تحلیل کرنے کا اعلان کیا تاکہ اقتدار کی منتقلی کا عمل آسان بنایا جا سکے۔ دوسری جانب مجوزہ نیشنل کمیٹی برائے انتظامِ غزہ (National Committee for the Administration of Gaza – NCAG) کے سربراہ ڈاکٹر علی شعث (Ali Shaath) نے کہا ہے کہ اگر مناسب وسائل اور آزادیِ عمل فراہم کی جائے تو کمیٹی فوری طور پر غزہ کی سول انتظامیہ سنبھالنے کے لیے تیار ہے۔

اس پیش رفت کو بین الاقوامی سطح پر بھی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ غزہ کے لیے قائم بورڈ آف پیس کے اعلیٰ نمائندے نکولائی ملادینوف  کے مطابق یہ اعلان "بیانات اور عملی نفاذ کے درمیان ایک پل" ثابت ہو سکتا ہے، بشرطیکہ فریقین متفقہ روڈ میپ پر بھی پیش رفت کریں۔

اسرائیل کا بنیادی مؤقف یہ تھا کہ غزہ میں تعمیرِ نو اور سول انتظامیہ کی بحالی اس لئے ممکن نہیں کہ وہاں حماس برسرِ اقتدار ہے۔ مزاحمت کاروں کے اس اعلان کے بعد یہ دلیل کمزور پڑتی دکھائی دیتی ہے۔ اب اگر غیر جماعتی انتظامیہ کو کام کرنے سے روکا جاتا ہے، تعمیرِ نو مؤخر رہتی ہے یا فوجی قبضہ برقرار رکھا جاتا ہے تو عالمی برادری میں یہ سوال پہلے سے زیادہ شدت سے اٹھے گا کہ غزہ کی بحالی میں اصل رکاوٹ حماس تھی یا اسرائیلی پالیسی؟

غزہ کے ایک ہزار دن اس حقیقت کی تلخ یاد دہانی ہیں کہ جدید جنگیں صرف میدانِ جنگ میں نہیں لڑی جاتیں بلکہ سفارت کاری، بین الاقوامی قانون، میڈیا، رائے عامہ اور داخلی سیاست میں بھی ان کی بازگشت سنائی دیتی ہے۔ غربِ اردن میں بڑھتی پابندیاں، لبنان کی غیر یقینی صورتِ حال، امریکہ میں اسرائیل پر ابھرتی سیاسی تقسیم اور اب غزہ میں حماس کی انتظامی دستبرداری اس بات کی علامت ہیں کہ فلسطین کا مسئلہ ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔اگر حماس کا یہ اقدام واقعی غزہ کی تعمیرِ نو اور غیر جماعتی سول انتظامیہ کی راہ ہموار کرتا ہے تو اب نظریں اسرائیل اور اس کے بین الاقوامی اتحادیوں پر ہوں گی۔ آنے والے دن  یہ طے کریں گے کہ غزہ کی تباہی کا سب سے بڑا جواز واقعی ختم ہو چکا ہے یا پھر جنگ کی وجوہات کچھ اور تھیں اور رہیں گی۔

ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل کراچی 10 جولائی 2026

ہفت روزہ دعوت دہلی 10 جولائی 2026

ہفت روزہ رہبر سرینگر 12 جولائی 2026


 

Thursday, July 2, 2026

 

ٹرمپ کو اپنے ہی ججوں سے دھچکا

امریکی سپریم کورٹ، چودھویں ترمیم اور آئین کی بالادستی کا ایک تاریخی سبق

امریکی عدالتِ عظمیٰ نے 3 کے مقابلے میں 6 کی اکثریت سے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس صدارتی حکم کو غیر آئینی قرار دے دیا جس کے تحت امریکہ میں غیر قانونی یا عارضی حیثیت رکھنے والے والدین کے ہاں پیدا ہونے والے بچوں کو پیدائشی امریکی شہریت (Birthright Citizenship) سے محروم کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔

اس فیصلے کی سب سے اہم بات صرف یہ نہیں کہ ٹرمپ کو عدالتی شکست ہوئی، بلکہ یہ ہے کہ اکثریت میں شامل تین جج ایسے تھے جن سے شاید صدر ٹرمپ کو مختلف توقعات تھیں۔ چیف جسٹس جان رابرٹس، اور ٹرمپ کے نامزد کردہ دو قدامت پسند جج، محترمہ ایمی کونی بیریٹ اور بریٹ کیوانا، بھی اس نتیجے پر پہنچے کہ صدر کا ایگزیکٹو آرڈر امریکی آئین سے مطابقت نہیں رکھتا۔ اختلاف صرف تین قدامت پسند ججوں نے کیا۔

یہ واقعہ ان معاشروں کے لیے بھی غور طلب ہے جہاں عدلیہ کو اکثر حکومت، اپوزیشن یا کسی خاص سیاسی جماعت کے چشمے سے دیکھا جاتا ہے۔ امریکہ میں سپریم کورٹ کے ججوں کی نامزدگی یقیناً سیاسی عمل کا حصہ ہوتی ہے، لیکن حلف اٹھانے کے بعد ان سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ کسی صدر یا جماعت کے نہیں بلکہ آئین کے محافظ ہوں گے۔ اسی لیے امریکی عدالتی تاریخ میں متعدد مواقع پر ایسے فیصلے سامنے آئے ہیں جن میں کسی صدر کے نامزد کردہ جج نے اسی صدر یا اس کی جماعت کے مؤقف سے اختلاف کیا۔

چودھویں ترمیم کیا ہے؟

اس مقدمے کی بنیاد امریکی آئین کی چودھویں ترمیم (Fourteenth Amendment) ہے، جو 1868ء میں امریکی خانہ جنگی کے بعد منظور کی گئی تھی۔ خانہ جنگی کے خاتمے کے باوجود ایک بنیادی سوال باقی تھا: کیا سابق غلام اور ان کی آئندہ نسلیں مکمل امریکی شہری تصور ہوں گی یا نہیں؟ اسی سوال کا مستقل جواب دینے کے لیے چودھویں ترمیم منظور کی گئی، جس کے پہلے شق کے مطابق: "جو شخص امریکہ میں پیدا ہو اور امریکی دائرۂ اختیار کے تحت ہو، وہ ریاستہائے متحدہ اور اس ریاست دونوں کا شہری ہے جہاں وہ پیدا ہوا۔"

یہ محض ایک قانونی جملہ نہیں تھا بلکہ امریکی تاریخ کا ایک انقلابی موڑ تھا۔ اس نے لاکھوں سابق غلاموں کو آئینی تحفظ دیا اور مساوی شہری حقوق کی بنیاد رکھی۔ بعد کے عشروں میں یہی ترمیم نسلی امتیاز، شہری آزادیوں، ووٹنگ کے حقوق، مساوی قانونی تحفظ اور بے شمار تاریخی فیصلوں کی بنیاد بنی۔

پیدائشی شہریت کیوں اہم ہے؟

امریکہ دنیا کے ان چند ممالک میں شامل ہے جہاں Birthright Citizenship یا Jus Soli (حقِ ولادت کی بنیاد پر شہریت) کا اصول نافذ ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی بچہ امریکی سرزمین پر پیدا ہوتا ہے تو، چند محدود سفارتی استثناؤں کے علاوہ، وہ پیدائش کے ساتھ ہی امریکی شہری بن جاتا ہے، خواہ اس کے والدین امریکی شہری ہوں، مستقل رہائشی ہوں یا ان کی امیگریشن حیثیت متنازع ہو۔ صدر ٹرمپ کا مؤقف تھا کہ اس اصول کا غلط استعمال ہو رہا ہے اور اسے صدارتی حکم کے ذریعے محدود کیا جا سکتا ہے۔ لیکن عدالت نے واضح کر دیا کہ آئین میں درج حق کو محض ایک ایگزیکٹو آرڈر سے تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔

صرف امیگریشن نہیں، آئینی اختیارات کا مقدمہ

اس مقدمے کو صرف امیگریشن کے زاویے سے دیکھنا درست نہیں ہوگا۔ اصل سوال یہ تھا کہ کیا ایک صدر محض انتظامی حکم کے ذریعے آئین کی صریح عبارت کا مفہوم بدل سکتا ہے؟ سپریم کورٹ کی اکثریت کا جواب نفی میں ہے۔ یہ فیصلہ اس اصول کی تجدید بھی ہے کہ امریکی صدر کے اختیارات وسیع ضرور ہیں، لیکن وہ آئین سے بالاتر نہیں۔ آئین کی تشریح کا آخری اختیار سپریم کورٹ کے پاس ہے، اور اگر صدر کا حکم آئینی حدود سے تجاوز کرے تو عدالت اسے کالعدم قرار دے سکتی ہے۔

برصغیر کے لیے ایک سبق

پاکستان اور ہندوستان میں آئین، عدلیہ اور انتظامیہ کے اختیارات پر بحث کوئی نئی بات نہیں۔ ہر چند سال بعد یہ سوال دوبارہ اٹھتا ہے کہ کیا عوامی مینڈیٹ رکھنے والی حکومت کو آئینی حدود سے ماورا اختیارات حاصل ہو سکتے ہیں؟امریکہ کا یہ فیصلہ یاد دلاتا ہے کہ مضبوط جمہوریتوں کی اصل طاقت کسی طاقتور صدر یا وزیراعظم میں نہیں بلکہ ایسے اداروں میں ہوتی ہے جو ضرورت پڑنے پر سب سے طاقتور حکمران کو بھی "نہیں" کہنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔

اس مقدمے نے ایک اور دلچسپ حقیقت بھی اجاگر کی ہے کہ عدالتی فیصلے ہمیشہ قدامت پسند بمقابلہ لبرل تقسیم کے مطابق نہیں ہوتے۔ بعض اوقات آئین کی عبارت، عدالتی نظائر اور قانونی اصول نظریاتی وابستگی پر غالب آ جاتے ہیں۔ یہی وہ چیز ہے جو کسی بھی آئینی ریاست کو محض اکثریتی حکومت سے ممتاز کرتی ہے۔ جمہوریت صرف انتخابات کا نام نہیں؛ جمہوریت کی اصل روح آئین کی بالادستی، اداروں کی آزادی اور قانون کی حکمرانی میں پوشیدہ ہوتی ہے۔

آپ مسعود ابدالی  کی   پوسٹ اور اخباری کالم masoodabdali.blogspot.comاور ٹویٹر Masood@MasoodAbdali پربھی ملاحظہ کرسکتے ہیں۔


 

جنگ بندی کے بعد نئی کشمکش

یادداشتِ اسلام آباد، سوئٹزرلینڈ مذاکرات اور اب خلیج میں نئی کشیدگی

سوئٹزرلینڈ میں ایران اور امریکہ کے درمیان ہونے والے مذاکرات کے پہلے دور کو دونوں فریقوں نے حوصلہ افزا قرار دیا۔ امریکی نائب صدر جے ڈی وانس نے کہا کہ تنازع کے پرامن اور باوقار حل کی بنیاد رکھ دی گئی ہے، جبکہ ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی کے مطابق مذاکرات خوشگوار ماحول میں ہوئے اور اب تکنیکی ٹیمیں مجوزہ معاہدے پر عمل درآمد کی تفصیلات طے کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر ضرورت پیش آئی تو ایران، امریکی وفد سے مزید ملاقاتوں کے لیے بھی  تیار ہے۔

مذاکرات کے بعد ابتدائی طور پر حالات میں بہتری کے آثار دکھائی دئے۔ امریکہ نے ایران کے خلاف بعض پابندیوں اور بحری ناکہ بندی میں نرمی کے اقدامات کئے، جبکہ بعض غیر مصدقہ اطلاعات میں ایران کے منجمد اثاثوں کے جزوی اجرا کا بھی دعویٰ کیا گیا۔دوسری طرف ایران نے آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کی آمدورفت بحال کردی، جس کا عالمی سطح پر خیر مقدم ہوا اور تیل کی قیمتوں میں کمی سے درآمد کنندہ ممالک نے بھی اطمینان کا سانس لیا۔

جنگ بندی پر پہلا دھچکا

یہ خوش آئند فضا زیادہ دیر برقرار نہ رہ سکی۔ ایرانی حکام کے مطابق 25 جون کو چار تجارتی ٹینکر آبنائے ہرمز میں مقررہ بحری راستوں سے ہٹ کر سفر کر رہے تھے۔ پاسدارانِ انقلاب نے انہیں روکنے کے لئے تنبیہی فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں سنگاپور کے پرچم بردار ایک جہاز کو نقصان پہنچا۔ایرانی فوج کا موقف تھا کہ تمام جہاز راں اداروں کو تحریری طور پر آگاہ کیا جا چکا تھا کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تمام جہاز نہادِ مدیریتِ آبراہِ خلیج فارس (PGSA) کی جانب سے مقرر کردہ بحری راستوں کی پابندی کریں۔ لیکن متعلقہ جہازوں نے ان ہدایات کو نظر انداز کیا، جس کے بعد انہیں واپس مڑنے پر مجبور کیا گیا۔ ساتھ ہی تہران نے یہ بھی اعلان کیا کہ جو جہاز PGSA کی ہدایات پر عمل کریں گے، انہیں یادداشتِ اسلام آباد کی  شق 5 کے مطابق مکمل تحفظ فراہم کیا جائے گا۔

واشنگٹن نے ایرانی وضاحت مسترد کرتے ہوئے محدود فضائی کارروائیاں کیں، جس کے جواب میں پاسدارانِ انقلاب نے بحرین میں امریکی پانچویں بحری بیڑے کے صدر مقام سمیت خطے میں متعدد امریکی تنصیبات کو نشانہ بنایا۔ امریکی نائب صدر جے ڈی وانس نے دھمکی میں گندھی مفاہمت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ تشدد کا جواب تشدد سے ملے گا۔ کیا ہی اچھا ہو کہ MOUکی تشریح میں کسی ابہام پر لبلبی دبانے کے بجائے فون کرلیا جائے۔ صدر ٹرمپ نے بھی جہازوں پر ایرانی فائرنگ کو جنگ بندی کی "احمقانہ خلاف ورزی" قرار دیا، لیکن ان کے ابتدائی بیانات سے یہ تاثر نہیں ملا کہ امریکہ کسی وسیع عسکری کارروائی کی تیاری کر رہا ہے۔

کشیدگی کا دوسرا مرحلہ ۔۔ صدر ٹرمپ کی آتش فشانی

دوسرے  دن کشیدگی اسوقت شدت اختیار کر گئی جب امریکی طیاروں نے ایران کے ساحلی علاقوں، سیریک، بندر لنگہ اور جزیرہ قشم میں اہداف کو نشانہ بنایا۔ اس کے جواب میں ایران نے بحرین میں امریکی بحری اڈے، کویت کے علی السالم فضائی اڈے اور خطے میں دیگر امریکی تنصیبات پر میزائل حملے کئے۔ صدر ٹرمپ نے دھمکی آمیز ٹویٹ میں کہا کہ اگر خلاف ورزیاں جاری رہیں تو امریکہ اپنے فروری میں شروع کئے گئے مشن کو "منطقی انجام" تک پہنچائے گا، اور اگر ایسا ہوا تو "اسلامی جمہوریہ کا نام و نشان مٹ جائے گا"۔اس دھمکی پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے ایران نے امریکہ سے امن معاہدے کیلئے تیکینکل کمیٹی کی گفتگو یہ کہہ کر معطل کردی واشنگٹن  کو  بات چیت اور بارود میں سے ایک کا اتخاب کرنا ہوگا۔

ثالثوں کی کامیاب سفارتی مداخلت

اس مرحلے پر ایسا لگا کہ بھرپور جنگ اب کسی بھی لمحے دوبارہ شروع ہوبے کو ہے۔ لیکن فیلڈ مارشل عاصم منیر اور قطر کے وزیراعظم نے امریکی نائب صدر جے ڈی وانس سے کانفرنس کال پر بات کی اور آن لائن خبر رساں ایجنسی Axiosکے مطابق امریکہ کشیدگی کم کرنے پر آمادہ ہوگیا، دوسری طرف ایران نے بھی تحمل کا مطاہرہ کیا۔ دوسرے دن صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پر لکھا کہ 'ایران کی درخواست پر امریکہ نے گفتگو دوبارہ شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور 30 جون کو قطر میں ملاقات سے اس نئے سلسلے کا آغاز ہوگا۔ لیکن ایران کے نائب وزیرخارجہ کاظم غریب آبادی نے اسکی تردید کرتے ہوئے کہاکہ ایرانی وفد کے قطر جانے کا فی الحال کوئی پروگرام نہیں۔اسی دوان 28 جون کو مسقط میں ایرانی و عُمانی حکام کی ملاقات ہوئی جس میں طئے کیا گیا کہ آبنائے ہرمز کا انتظام ایران اور عُمان مل کر سنبھالیں گے۔شائد، ایران، آبنائے ہرمز پر عمان سے بات چیت کے بعد امریکی وفد سے ملنا چاہتا تھا اسی لئے قطر ملاقات ملتوی کی گئی  ہے۔ توقع کی جارہی ہے اسی ہفتے امریکہ ایران تیکنیکی کمیٹی،  MOUکی تشریح و عمدرآمد اور جامع امن معاہدے پر کام دوبارشروع کردیگی

کیا یہ  اسرائیل کی جنگ ہے؟ امریکہ میں ایک نئی بحث کا آغاز

امریکہ میں صدر ٹرمپ کے مخالفین مسلسل الزام لگاریے ہیں کہ ایران کے خلاف جنگ میں اسرائیل نے امریکہ کو گھسیٹا ہے۔ جبکہ صدر ٹرمپ کا اصرار ہے کہ امریکی کارروائیاں امریکی قومی مفادات اور عسکری منصوبہ بندی کے تحت کی گئیں۔

اس بحث کو اس وقت نئی تقویت ملی جب گزشتہ ہفتے وزیراعظم نیتن یاہو نے تل ابیب میں بلدیاتی نمائش MUNI Expoکی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 13 جون 2025 کو ایران کے خلاف عسکری کارروائی کا فیصلہ اسرائیل نے خود کیا تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس کارروائی کے لئے صدر ٹرمپ سے اجازت نہیں لی گئی،بس انہیں پیشگی اطلاع دے دی گئی تھی اور خوشی کی بات یہ ہے کہ چند دن بعد امریکہ بھی اس مہم میں ہمارے ساتھ شامل ہوگیا۔ نیتن یاہو نے اپنے دفاع میں یہودی فقہ اور مذہبی تشریحات کے بنیادی ماخذ، تلمود کا حوالہ پیش کیا جسکے مطابق اگرکوئی تمہیں قتل کرنے کے لئے آرہا ہو تو بہتر ہے کہ آگے بڑھ کر تم خود اسے قتل کردو۔ اس بیان نے واشنگٹن میں جاری بحث کو نئی جہت دے دی ہے کہ آیا امریکہ نے اپنے تزویراتی مفادات کے تحت جنگ میں شمولیت اختیار کی، یا وہ اپنے قریبی اتحادی کی ابتدائی کارروائی کے نتیجے میں اس تنازعے کا حصہ بن گیا؟

بڑے بے آبرو ہوکر ترے کوچے سے ہم نکلے

وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق، ایرانی میزائل حملوں سے پہنچنے والے نقصانات کے بعد امریکی وزارت جنگ، خلیج میں قائم اپنے بعض فوجی اڈوں کو مزید مغرب کی جانب منتقل کرنے کے مختلف امکانات پر غور کر رہی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایرانی حملوں میں امریکی عسکری تنصیبات کو خاصہ نقصان پہنچا، 13 کے قریب فوجی جان سے گئے اور زخمیوں کی تعداد سینکڑوں میں بیان کی جارہی ہے۔ رپورٹ کے مطابق، بحرین میں واقع امریکی بحری اڈے NSA Bahrain کو پہنچنے والے نقصانات کا ابتدائی تخمینہ تقریباً 40 کروڑ ڈالر لگایا گیا ہے۔ یہی اڈہ امریکی پانچویں بحری بیڑے (Fifth Fleet) کا صدر مقام ہے اور ایران سے اس کا فاصلہ تقریباً 240 کلومیٹر ہے، جس کے باعث یہ تزویراتی اعتبار سے ہمیشہ حساس مقام رہا ہے۔اگر بحرینی اڈے کی منتقلی کا فیصلہ ہوا تو یہ طوفانِ بلا کہاں جائیگا؟ جغرافیائی اعتبار سے اسرائیل کی بندرگاہ ایلات ایک ممکنہ انتخاب سمجھی جا سکتی ہے، جہاں سے خلیجِ عقبہ، بحیرۂ احمر، نہرِ سویز اور بحیرۂ روم تک نسبتاً آسان رسائی حاصل ہے۔ اسی طرح حیفہ بھی امریکی بحری موجودگی کے لئے ایک متبادل مقام بن سکتا ہے۔ تاہم اس حوالے سے ابھی کوئی باضابطہ فیصلہ سامنے نہیں آیا۔رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ کویت اور سعودی عرب میں موجود بعض امریکی تنصیبات کے حجم میں کمی (downsizing)اور کچھ عسکری اثاثوں کی منتقلی پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔اگر یہ اطلاعات درست ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ حالیہ جنگ نے صرف عسکری نقصان ہی نہیں پہنچایا بلکہ امریکہ کو خلیج میں اپنی دفاعی حکمتِ عملی پر بھی نظرِثانی پر مجبور کر دیا ہے۔ کسی فوجی اڈے کی منتقلی محض مقام کی تبدیلی نہیں ہوتی بلکہ اس کے ساتھ اربوں ڈالر کے اخراجات، نقل و حمل کا نیا نظام ، دفاعی ڈھانچے اور سب سے بڑھ کر علاقائی سیاسی و عسکری توازن پر نظرِ ثانی کرنی پڑتی ہے۔ اسی تناظر میں وزیرِ جنگ پیٹ ہیگستھ کی کانگریس سے ایرانی جنگ کے اخراجات کی مد میں 80 ارب ڈالر طلب کئے جانے کی اطلاعات بھی قابلِ فہم محسوس ہوتی ہیں، اگرچہ اس رقم کی حتمی منظوری اور تفصیلات ابھی سامنے آنا باقی ہیں۔

ایران کا نیا علاقائی تصور  ۔ نیا نیو ورلڈ آرڈر؟؟؟

دوسری جانب ایران اس بحران کو اپنے علاقائی کردار کے نئے تصور کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ آذربائیجان کے دارالحکومت باکو میں اسلامی ممالک کی پارلیمانی یونین (PUIC)کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا کہ کہ خطے کی بدقسمتیوں کی جڑ صہیونی حکومت ہے اور اب جبکہ امریکی طاقت کا بھرم ٹوٹ چکا ہے، مسلم ممالک کو اپنی صلاحیتوں پر اعتماد کرتے ہوئے ایک "مسلم علاقائی نظام" تشکیل دینا چاہیے۔ انہوں نے ترک اور آذربائیجانی اسپیکرز سے ملاقات میں بھی مسلم اتحاد پر زور دیا۔ اگرچہ کہ ایسے علاقائی نظام کی تشکیل آسان نہیں، لیکن یہ حقیقت ہے کہ ایران اب اپنے سفارتی بیانئے میں "علاقائی خود انحصاری" کو پہلے سے کہیں زیادہ نمایاں انداز میں پیش کر رہا ہے یا یوں کہئے کہ قالیباف صاحب علامہ اقبال کی اس نصیحت پر عمل پیرا دکھائی دیتے ہیں کہ تہران کو عالمِ مشرق کا "جنیوا" بننا چاہئے۔

ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل کراچی 3 جولائی 2026

ہفت روزہ دعوت دہلی 3 جولائی 2026

ہفت روزہ رہبر سرینگر 3 جولائی 2026


 

 

لبنان کا نازک امن، غزہ کا انسانی المیہ اور غربِ اردن کی علمی مزاحمت

ایران کی جانب سے شدید دباو کے باجود امریکہ،  لبنان میں امن کیلئے اسرائیل کو معقولیت کی طرف مائل کرنے میں کامیاب ہوتا نظر نہیں آرہا۔واشنگٹن میں ہونے والے اسرائیل لبنان اصولی معاہدے (Framework Agreement) کی تعبیر اور تشریح ہی غیر مبہم ہے۔ امریکی وزارتِ خارجہ نے معاہدے کے فوراً بعد دعویٰ کیا کہ اسرائیلی فوج کی جنوبی لبنان سے واپسی شروع ہو چکی ہے۔لیکن فوجی ترجمان نے فوری طور پر اس کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ انہیں حکومت کی جانب سے کسی قسم کی واپسی کا حکم موصول نہیں ہوا۔ لبنانی حکومت نے بھی اسرائیلی انخلا کی خبروں کو غلط قرار دیا۔اسی دوران اسرائیلی وزیرِ دفاع اسرائیل کاٹز نے دوٹوک انداز میں اعلان کیا کہ اسرائیلی فوج غزہ، شام اور لبنان میں غیر معینہ مدت تک موجود رہے گی اور اسرائیل کے دفاع پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔دوسری طرف CNN نے اطلاع دی کہ وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے اسرائیلی فوج کو دریائے لیطانی کے اطراف سے مرحلہ وار پیچھے ہٹنے کی ہدایت دی ہے۔ساتھ ہی اسرائیلی حکام کی یہ وضاحت بھی سامنے آگئی کہ اس کا مطلب جنوبی لبنان سے انخلا نہیں بلکہ صرف محدود فوجی ردوبدل ہے اور اہم فوجی چوکیاں حزب اللہ کے غیر مسلح ہونے تک برقرار رہیں گی۔لبنانی صدر جوزف عون نے اس مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ لبنان صرف مکمل فوجی انخلا کو ہی معاہدے پر عمل درآمد تصور کرے گا۔ ادھر حزب اللہ اور دیگر مزاحمتی گروہوں نے بھی اس اصولی معاہدے کو ناقابلِ قبول قرار دیتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ اسرائیلی فوج کے مکمل انخلا تک مزاحمت جاری رہے گی۔ لبنانی پارلیمان کے اسپیکر نبی بیری نے اسرائیل لبنان اصولی معاہدے (Framework Agreement) کو مسلط کردہ یکطرفہ شرائط قرار دیکر مسترد کردیا۔ لبنانی روزنامہ الاخبار سے باتیں کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ لبنان اسرائیل کو تسلیم نہیں کرتا لہذا 'افراد' کی بات چیت کی کوئی اہمیت نہیں۔

جنگ بندی کے دوران بھی بمباری

امن معاہدے کے باوجود جنوبی لبنان پر اسرائیلی فضائی حملوں کا سلسلہ جاری رہا۔ ان حملوں کا افسوسناک پہلو یہ ہے کہ نبطیحہ شہر میں مرکزی امام بارگاہ کے قریب بم گرائے گئے جسکا مقصد  عاشور کی مجلس میں آنے والے مزاحمت کار رہنماوں کو نشانہ بناناتھا۔جنگ کے دوران بھی مذہبی عقائد و مقامات کا احترام لازمی ہے۔ سوگواری وعزہ داری کی مجلسوں کو جان کرنشانہ بنانا کسی بھی اصول و قانون کے تحت مناسب نہیں۔ اس تمام صورتحال کے باوجود لبنان بھر میں محرم روایتی عقیدت، وقار اور نظم و ضبط کے ساتھ منایا گیا۔ بڑے جلوس نکلے، عزاداری کی مجالس منعقد ہوئیں اور یوں لبنانی معاشرے نے یہ پیغام دیا کہ مسلسل بمباری بھی اس کی مذہبی اور سماجی زندگی کو مفلوج نہیں کر سکی۔

امریکہ اور ایران: دشمنی سے رابطے تک

سوئٹزرلینڈ میں جاری مذاکرات کے دوران ایک غیر معمولی پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب امریکی نائب صدر جے ڈی وانس نے انکشاف کیا کہ لبنان میں جنگ بندی کو مؤثر بنانے کے لیے تصادم سے بچاؤ کے نظام (Deconfliction Mechanism) پر کام جاری ہے۔ان کے مطابق اس طریقۂ کار کے تحت امریکی مرکزی کمان (CENTCOM) اور ایرانی پاسدارانِ انقلاب (IRGC) کے درمیان عملی رابطے اور ہم آہنگی کا ایک محدود نظام وضع کیا جا رہا ہے تاکہ لبنان میں کسی غیر ارادی عسکری تصادم سے بچا جا سکے۔ انہوں نے یہاں تک کہا کہ مستقبل میں قطر میں دونوں جانب کے نمائندوں کے درمیان غیر رسمی ملاقاتیں بھی خارج از امکان نہیں۔

یہ پیش رفت اپنی نوعیت میں غیر معمولی ہے۔ امریکہ آج بھی پاسدارانِ انقلاب کو دہشت گرد تنظیم قرار دیتا ہے۔صدر ٹرمپ اپنے پہلے دورِ اقتدار میں بغداد میں جنرل قاسم سلیمانی کے خلاف کارروائی کو اپنی بڑی کامیابی قرار دیتے رہے ہیں۔بین الاقوامی سیاست میں مستقل دوست اور مستقل دشمن نہیں ہوتے کہ اصل چیرمفادات ہیں۔ جب جنگ کے خطرات بڑھ جائیں تو کل کا ناقابلِ قبول فریق بھی آج مذاکرات اور رابطے کے لئے ناگزیر بن جاتا ہے۔

شام کا محتاط مؤقف

لبنان کے معاملے میں شام نے بھی محتاط سفارتی رویہ اختیار کیا ہے۔شامی صدر احمد الشرع نے واضح کیا ہے کہ شام لبنان کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا احترام کرتا ہے اور اس کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہیں کرے گا۔ صدر ٹرمپ چاہتے ہیں کہ اسرائیل کے بجائے شامی افواج لبنانی حزب اللہ کے خلاف کاروائی کریں جسے صدر الشرع نے مسترد کردیا

غزہ:  صرف بچے نہیں 'امید' دم توڑ رہی ہے

غزہ کی صورتحال ہر روز بد سے بدتر ہوتی جارہی ہے ۔اس بحران کا سب سے دردناک پہلو بچوں اور ماؤں کی حالت ہے۔ غزہ کے محکمۂ صحت کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر منیر البرش کے مطابق نومبر 2025 سے اپریل 2026 کے درمیان غزہ میں شرحِ پیدائش میں تقریباً 67 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، جبکہ حمل ضائع ہونے کے واقعات اور حاملہ خواتین میں خون کی شدید کمی تشویشناک حد تک بڑھ چکی ہے۔ ان اعداد و شمار کی عمومی تائید متعدد بین الاقوامی اور علاقائی ذرائع سے بھی ہوتی ہے۔جنگ میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد تو شمار کی جا سکتی ہے، مگر کسی قوم کی آئندہ نسل کے سکڑتے ہوئے وجود کو صرف اعداد و شمار میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔ جب اسپتال کھنڈر بن جائیں، ادویات ناپید ہوں، غذائی قلت معمول بن جائے اور حاملہ خواتین بنیادی طبی سہولتوں سے محروم رہ جائیں تو یہ صرف صحتِ عامہ کا بحران نہیں رہتا بلکہ پورے معاشرے کے مستقبل پر براہِ راست حملہ بن جاتا ہے۔ ایک ایسی سرزمین جہاں بچوں کی پیدائش تیزی سے کم ہو رہی ہو، وہاں درحقیقت صرف آبادی نہیں بلکہ امید بھی دم توڑنے لگتی ہے۔

اقوامِ متحدہ کی رپورٹ: بچوں پر دانستہ حملوں کا الزام

اطفالِ غزہ کے بارے میں اقوام مٹحدہ کی حالیہ رپورٹ بھی انتہائی تشویشناک ہے جسکے مطابق  غزہ کی جنگ کے دوران اسرائیلی کارروائیوں میں فلسطینی بچوں کو دانستہ طور پر نشانہ بنایا گیا۔ مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے متعلق آزاد بین الاقوامی تحقیقاتی کمیشن (Independent International Commission of Inquiry on the Occupied Palestinian Territory) کی 94 صفحات پر مشتمل اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بچوں کو پہنچنے والا نقصان اتفاقی یا جنگ کا ضمنی نتیجہ نہیں بلکہ اس کا مقصد غزہ میں فلسطینیوں کو ایک نسل کے طور پر کمزور اور تباہ کرنا تھا۔ بچے کسی بھی قوم یا گروہ کی حیاتیاتی اور سماجی بقا کے ضامن ہوتے ہیں، اس لیے ان کے خلاف مسلسل اور منظم کارروائیاں مستقبل کی پوری نسل کو متاثر کرتی ہیں۔ کمیشن نے اسی بنیاد پر یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ بچوں کو نشانہ بنانا فلسطینی معاشرے کے مستقبل کو کمزور کرنے کی ایک دانستہ حکمتِ عملی کا حصہ معلوم ہوتا ہے۔اسی رپورٹ میں اسرائیل سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ غزہ میں اپنی فوجی کارروائیاں فوری طور پر بند کرے۔

نسل کشی کی بحث: قانون کیا کہتا ہے؟

بین الاقوامی قانون میں نسل کشی (Genocide) کا تعین صرف ہلاکتوں کی تعداد سے نہیں کیا جاتا۔نسل کشی یا  Genocide Convention مجریہ 1948کے مطابق اگر کسی قومی، نسلی، مذہبی یا نسلی گروہ کو مکمل یا جزوی طور پر تباہ کرنے کی نیت سے ایسے اقدامات کئے جائیں جو اس گروہ کی جسمانی، حیاتیاتی یا سماجی بقا کو متاثر کریں، تو وہ بھی قانونی بحث کا حصہ بنتے ہیں۔ اسی لئے جدید بین الاقوامی قانون میں صرف قتلِ عام ہی نہیں بلکہ کسی گروہ کی تولیدی صلاحیت (Reproductive Capacity) کو متاثر کرنے والے عوامل بھی غیر معمولی اہمیت رکھتے ہیں۔ اگر جنگ کے نتیجے میں بچوں کی پیدائش نمایاں حد تک کم ہو جائے، حمل ضائع ہونے کی شرح کئی گنا بڑھ جائے، حاملہ خواتین علاج سے محروم رہ جائیں اور پہلے سے پیدا ہونے والے بچے بھی مسلسل جان سے جاتے رہیں تو یہ انسانی بحران  سے کہیں زیادہ سنگین المیہ ہے۔ اس تناظر میں یہ رپورٹ اسرائیل کے خلاف نسل کشی کا قانونی ثبوت ہے۔

غربِ اردن: بڑھتا ہوا تشدد اور نئی حکمتِ عملی

غرب اردن میں فائرنگ، چھاپوں اور قبضہ گردی کیساتھ فلسطینیوں کی آنکھوں میں مرچیں جھونکنے کی کاروائیاں عروج پر ہیں، جسکے نتیجے کئی کم عمر بچوں کی بینائی متاثر ہونے کا خطرہ پیدا ہوگیا ہے۔ ستم ظریفی کہ ان وارداتوں کو معمولی جھگڑا اور شرارت کہہ کر نظر انداز کیا جارہا ہے۔

دوریاستی حل نامنظور

وزیراعظم نیتن یاہو نے آزاد فلسطین یا دو ریاست فارمولے کو سختی ے مسترد کردیا ہے۔ ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ اسرائیل، اسرائیل (حضرت یعقوبؑ) کے وقت سے ایک ہے اور ہمیشہ ایک رہیگا، یہاں دوریاست کی کوئی جگہ نہیں۔ فلسطینی ریاست کسی صورت نہیں بنے گی۔اس معاملے پر اسرائیل میں مکمل اتفاق رائے ہے۔انھوں نے اس بیانئے کو قومی عزم قرارد ینے کیلئے وسیع البنیاد قومی حکومت قائم کرنے کی تجویز بھی پیش کی۔  

سرنگ کا دعویٰ اور بڑے آپریشن کے خدشات

اسرائیلی فوج نے غربِ اردن سے یروشلم تک ایک سرنگ کا 'انکشاف' کیا ہے۔ سطح زمین سے 25 میٹر نیچے کھودی گئی اس سرنگ کا مقصد مشرقی یروشلم کی فلسطینی آبادی کو اسلحہ پہنچانا تھا۔غزب اردن کے ہر چوک اور چوارہے پر فوجی چوکیاں ہیں۔ جب پانی کا ایک قطرہ اور غذا کاایک دانہ بھی اسرائیلی فوج کی اجازت کے بغیر یہاں نہیں پینچ سکتا تو سخت پتھریلی زمین میں سرنگ کھودنے اور اسے کنکریٹ سے مضبوط کرنے کیلئے بھاری مشنری، سریا، سمینٹ اور بجری کیسے یہاں لائی گئی؟۔ فلسطینیوں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ یہ انکشاف غرب اردن میں ایک بڑے آپریشن کی پیش بندی ہے۔

جامعہ القدس: جنگ کے سائے میں علم کی فتح

غربِ اردن کے نہایت دشوار حالات اور مسلسل کشیدگی کے باوجود جامعہ القدس (Al-Quds University) نے دنیا کی ممتاز 1000 جامعات میں اپنی جگہ بنا لی۔ یہ درجہ بندی برطانوی ادارہ Quacquarelli Symonds (QS) ہر سال جاری کرتا ہے، جسے دنیا بھر میں QS World University Rankings کے نام سے جانا جاتا ہے۔اسرائیلی جریدے الارض (Haaretz) کے مطابق، جامعہ القدس نے طب (Medicine) ، دندان سازی (Dentistry) فارمیسی اور قانون کے شعبے میں تدریس، تحقیق اور اخلاقی معیارات کے حوالے سے نمایاں مقام حاصل کیا ہے۔ اب اسکے لبرل آرٹس اور کلیاتِ سائنس کا معیار بھی قابل رشک ہوگیا ہے۔جامعہ القدس 1970ء میں قائم ہوئی۔ اس کا مرکزی کیمپس تقریباً 47 ایکڑ پر محیط ہے، جہاں لگ بھگ 15 ہزار طلبہ زیرِ تعلیم ہیں اور انہیں ایک ہزار اساتذہ تعلیم و تحقیق کی خدمات فراہم کر رہے ہیں۔تعلیم کا چراغ اگر روشن رہے تو جنگ، محاصرہ اور سیاسی بے یقینی بھی کسی قوم کی علمی پیش قدمی کو مکمل طور پر نہیں روک سکتے۔ جامعہ القدس کی یہ کامیابی اسی حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ قوموں کی اصل طاقت ہتھیار نہیں، علم اور تحقیق ہوتے ہیں۔اعلیٰ ترین علمی معیار کیساتھ جامعہ کا نظریاتی تشخص بہت واضح ہے اور اسکی دیواروں پر کندہ عزم و حوصلے کے نعرے پاکستانی جامعات کی یاد دلاتے ہیں۔

ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل کراچی 3 جولائی 2026

ہفت روزہ دعوت دہلی 3جولائی 2026

ہفت روزہ رہبر سری نگر 5جولائی 2026