Thursday, May 7, 2026

 

جنگ بندی کے سائے میں جنگ

لبنان و غزہ: سفارت کاری کی ناکامی یا طاقت کی نئی حکمتِ عملی؟

عبوری جنگ بندیوں اور سفارتی بیانات کے شور میں مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر اس حقیقت کی یاد دہانی کرا رہا ہے کہ امن اور زمینی حقائق کے درمیان مہلک خلیج بہت گہری ہے۔ حالیہ جنگ بندی کوامن کی تمہید سمجھا جائے یا محض ایک وقفہ اور ایک بڑے طوفان سے پہلے کی خاموشی؟

لبنان: جنگ بندی یا جاری محاذ آرائی؟

عبوری جنگ بندی اور امن بات چیت کے باوجود لبنان اور غزہ پر اسرائیلی حملے جاری ہیں۔ لبنانی ہلال احمر کے مطابق   2 مارچ کی جنگ بندی کے بعد سے اپریل کے آخر تک اسرائیلی حملوں میں 2659 لبنانی شہری جاں بحق ہوچکے ہیں۔صدر ٹرمپ مصر ہیں کہ لبنانی صدر جوزف خلیل عون اسرائیلی وزیراعظم سے براہ راست مذاکرات کریں لیکن لبنان کی سرکاری پالیسی کے مطابق اسرائیل کو باضابطہ تسلیم نہ کرنے کی وجہ سے ایسا مکالمہ ناممکن حد تک پیچیدہ اور محدود نوعیت کا حامل ہے۔

غزہ: جنگ بندی کے باوجود بمباری اور بڑی جنگ کی تیاری

غزہ پر اسرائیلی فوج کی بمباری اور ڈرون حملے جاری ہیں۔ مختلف علاقوں پر بمباری سے متعدد افراد جاں بحق ہوئے۔خان یونس میں 9 سالہ عادل النجار اسرائیلی درندگی کا نشانہ بنا اور ڈرون حملے میں اس پھول سے بچے کا جسم بکھر گیا۔اسرائیلی فوج اب ایک بڑی فوجی کاروائی کا منصوبہ بنارہی ہے جسکی تفصیلات طئے کرنے کیلئے وزیراعظم نیتن یاہو نے اپنی ہنگامی کابینہ کا اجلاس طلب  کرلیا ہے۔ اس کی وجہ مزاحمتی گروہوں کا غیر مسلح ہونے سے انکار بتایا جا رہا ہے,،مزاحمت کار، اسرائیلی انخلا اور آزاد فلسطینی ریاست کے قیام سے پہلے غیر مسلح ہونے کو تیار نہیں۔ صدرٹرمپ کی تشکیل کردہ مجلس السلام یا Board of Peace نے مزاحمت کاروں سے11 اپریل تک ہتھیار ڈالنے کو کہا تھا جسے اہلِ غزہ نے مسترد کردیا۔ یہ نئی پیشرفت تعطل اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ مذاکراتی عمل ابھی ابتدائی اور غیر مستحکم مرحلے میں ہے۔

عبادت گاہوں اور مقدسات کی توہین

اس ہفتے  لبنان میں کئی مسیحی عبادت گاہیں اسرائیلی بمباری کا نشانہ بنیں۔ جنوبی لبنان کے شہر یارون میں بمباری سے کیتھولک مسیحیوں کی خانقاہ (Monastery) کو نقصان پہنچا۔ اس سے پہلے ایک اسرائیلی فوجی نے ہتھوڑے کے وار سے حضرت عیسیٰؑ کے مجسمے کو توڑ دیا تھا۔ انتہا پسندوں کی حوصلہ افزائی کی وجہ سے دوسرے مذاہب کے متبرکات کی توہین اور حملوں میں شدت آتی جارہی ہے۔ یکم مئی کو ایک فرانس نژاد راہبہ (nun) بیت المقدس کے بابِ داودؑ کے قریب سے گزرہی تھی کہ 36 سالہ  اسرائیلی نے  بلا اشتعال اس نہتی عورت کو لات ماردی جسکی ضرب سےیہ کمزور عورت زمین پر گرپڑی۔سفاک شخص کی اس پر بھی تسلی نہ ہوئی تو اس نے ٹھوکریں مار کر راہبہ کو زخمی کردیا۔

معذور دہشت گرد” ؟ ایک چونکا دینے والا واقعہ

مشرقی یروشلم میں شعفاط مہاجر کیمپ کے قریب ڈاون سنڈروم (Down Syndrome) کا شکار ایک لڑکا مہدی العربی فوجی ٹرک دیکھ کر خوف سے بھاگنے لگا۔ تعاقب کرکے مسلح سپاہیوں نے اسے پکڑکر تشدد کا نشانہ بنایا۔ مہدی کے خلاف دہشت گردی کا پرچہ کاٹا گیا ہے۔ ڈاؤن سنڈروم ایک پیدائشی جینیاتی کیفیت ہے جس سے جسمانی ساخت میں مخصوص خصوصیات، سیکھنے کی رفتار میں سستی اور بعض اوقات صحت سے متعلق مسائل (جیسے دل کے امراض) دیکھنے میں آ سکتے ہیں۔

سیاسی بیانیہ اور نفرت کا اظہار

انتہا پسند وزیرِاندرونی سلامتی اور عظمتِ یہود پارٹی کے سربراہ، اتامر بن گوئر نے اپنی  50 ویں پر  جو کیک کاٹا اس پر پھانسی کے پھندے کے ساتھ عبرانی میں 'دہشت گردوں کی موت 'لکھا تھا۔یہ درصل اسرائیلی کنیسہ (پارلیمان) میں چند ہفتہ قبل منظور کئے جانیوالے اس قانون کا حوالہ تھا جس کے مطابق عدالت سے دہشت گردی کا الزام ثابت ہوجانے والے فلسطینیوں کو پھانسی کے ذریعے سزائے موت دی جائیگی۔

فلسطینیوں سے یکجہتی کے اظہار کے لئےایک برطانوی نژاد اسرائیلی ماہرِ تعلیم و مصنف Alex Sinclair نے اپنی مذہبی ٹوپی، المعروف کِپّاہ پر اسرائیلی اور فلسطینی پرچم اکٹھے بُنوا کر اس کی تصویر فیس بک پر نصب کردی۔موصوف فوراً دھر لئے گئے ۔ پوچھ گچھ کے بعد انہیں اس تنبیہ کے ساتھ رہا کیا گیا کہ وہ آئندہ اس نوعیت کی “شرپسندانہ حرکت” سے گریز کریں گے۔ رہائی سے قبل ان کی ٹوپی سے فلسطینی پرچم کاٹ کر کِپّاہ انھیں واپس کی گئی۔

جنگی جنون کی ایک اور مثال لبنان کی سرحد پر واقع  شہر کریات شمعونہ میں  جنگ بندی کے خلاف مظاہرہ تھا جس کی قیادت رئیسِ شہر نے خود کی۔ موصوف پلے کارڈ لئے کھڑے تھے جس پر عبرانی میں لکھاتھا

'جنگ بندی، مزاحمت کاروں کے ہاتھ مضبوط کرنے کی ایک کوشش ہے'

قافلہ صمود

غزہ کی ناکہ بندی توڑ کر امدادی سامان پہنچانے کی ایک اور کوشش ناکام ہوگئی اور اسرائیلی بحریہ نے یونانی جزیرے کریٹ کے قرہب 58 کشتیوں پر قبضہ کرکے سینکڑوں کارکنوں کو گرفتار کرلیا۔ پاکستان کے سابق سینیڑ مشتاق احمد خان سمیت تمام کارکن  رہا کردئے گئے، لیکن  برازیل کے Thiago Avila اور فلسطین نژاد ہسپانوی شہری سیف ابوکیشک تادم تحریر زیرحراست ہیں۔ غیر انسانی ناکہ بندی کےخلاف باضمیر دنیا کی مزاحمت 2010 سے جاری ہے جب ترک کشتی ماوی مرمرہ (MV Mavi Marmara)کی قیادت میں چھ کشیتیوں پر مشتمل پہلا Freedom Flotilla غزہ روانہ ہوا۔اس قافلے میں پاکستان کے مشہور صحافی طلعت حسین بھی شامل تھے۔ جب فلوٹیلا غزہ سے 190 کلومیٹر دور تھا تو ہیلی کاپٹروں کی مدد سے اسرائیلی کمانڈو ان کشتیوں پر اترآئے، انکی اندھا دھند فائرنگ سے 10 ترک کارکن جاں بحق ہوئے تھے۔

امریکی بیانیہ: تنقید اور احتیاط

بائیڈن دور کی نائب وزیرِ خارجہ محترمہ وینڈی شرمن نے بلومبرگ ٹیلی ویژن سے باتیں کرتے ہوئےاسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو کو غزہ میں “نسل کشی” کا ذمہ دار قرار دے دیا۔ مگر اس سنگین الزام کے باوجود وہ اسرائیل کے حقِ تحفظ کے مؤقف سے پیچھے نہ ہٹیں اور کہا کہ یہ نہایت اہم ہے کہ اسرائیل امریکہ کا اتحادی رہے اور ایک یہودی ریاست کے حق کا دفاع کیا جائے۔محترمہ نے بہت ہی محتاط انداز میں کہا 'میرے لئے غزہ آپریشن کو یقینی طور پر نسل کشی کہنا مشکل ہے، لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ غزہ تباہ ہو چکا۔ فلسطینیوں کو گھر، وقار اور امن کا حق حاصل ہے اور اسرائیل بھی سلامتی اور امن کا مستحق ہے۔' یہ رویہ امریکی سیاست میں اسرائیل کے حوالے سے موجود گہرے اثر و رسوخ (lobbying) کی نشاندہی کرتا ہے، جہاں بیانیہ ایک غیر مرئی حد کے اندر رہ کر ہی تشکیل پاتا ہے۔

لبنان اور غزہ کی موجودہ صورتحال اس حقیقت کو اجاگر کرتی ہے کہ جنگ بندی محض ایک کاغذی معاہدہ نہیں بلکہ اس پیچیدہ عمل کی کامیابی کیلئے سیاسی عزم، باہمی اعتماد اور زمینی حقائق کا ادراک لازمی ہے۔ طاقت کے زور اور دھماکوں کے شور میں سفارتکاری کے ذریعے امن کی تلاش وقت کا زیاں ہے ۔

ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل کراچی 8 مئی 2026

ہفت روزہ دعوت دہلی 8 مئی 2026

ہفت روزہ رہبر سرینگر 10 مئی 2026


 

 

ایران۔امریکہ کشیدگی: سفارت، دھمکی اور اعصاب کی جنگ

امن کی پیشکشیں، جنگی تیاری اور طاقت کی نفسیات

دو ہفتے قبل اسلام آباد امن بیٹھک کی منسوخی اور اس کے بعد امریکی صدر کے آتشیں بیانات نے خطے میں کشیدگی کو نئی شدت دے دی تھی۔ ایسے میں 27 اپریل کو ایران کی جانب سے جوہری معاملات کو مؤخر کرکے آبنائے ہرمز کھولنے اور بحری ناکہ بندی کے خاتمے کی مشروط پیشکش، گھٹن زدہ فضا میں ہوا کا ایک تازہ جھونکا محسوس ہوئی۔ اگلے روز قصرِ مرمریں کی ترجمان محترمہ کیرولائں لیوٹ نے عندیہ دیا کہ امریکی صدر اپنے قومی سلامتی کے مشیروں کے ساتھ اس پیشکش پر غور کر رہے ہیں۔ ساتھ ہی یہ خبر بھی آئی کہ اجلاس کے دوران ہی فون کرکے فیلڈ مارشل عاصم منیر نے صدر ٹرمپ پر زور دیا کہ ایرانی پیشکش قبول کرکے سفارتکاری کو ایک اور موقع دیں۔ تاہم امریکی صدر نے پاکستان کے ذریعے موصول ہونے والی جنگ بندی کیلئے تہران کی نئی پیشکش مسترد کردی اور متکبرانہ لہجے میں فرمایا کہ اگر کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو انہیں ایران کو 'جہنم برد' کرنے کے ممکنہ طریقوں پر بریفنگ دے دی گئی ہے۔

متضاد اشارے: جنگ یا واپسی؟

اسی دوران رائٹرز نے انکشاف کیا کہ امریکی قیادت ایران کے خلاف جنگ میں یکطرفہ فتح کا اعلان کرکے فوجی انخلا پر غور کر رہی ہے، اور اس ضمن میں امریکی خفیہ ایجنسی CIA سے ایران کے ممکنہ ردعمل کا جائزہ لینے کو کہا گیا ہے۔ اگرچہ سی آئی اے کی ترجمان Liz Lyons نے اس خبر کی تردید کی، لیکن واشنگٹن کے سیاسی حلقوں میں اس امکان کو مکمل طور پر مسترد نہیں کیا جا رہا۔

ابھی تجزیہ نگار اس خبر کو کھنگھال ہی رہے تھے کہ یکم جون کو ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی IRNA نے 14 نکاتی نئی تجویز کی خبر جاری کردی جس میں عدم جارحیت کی ضمانت، بحری ناکہ بندی کے خاتمے، آبنائے ہرمز کھولنے اور لبنان سمیت تمام محاذ پر کشیدگی ختم کرنے جیسے اقدامات تجویز کئے گئے ہیں۔ تاہم ان امور کی مکمل تفصیل تاحال سامنے نہیں آئی، جس سے شکوک و شبہات برقرار ہیں۔

امریکی صدر کیلئے ایران کا یہ 14 نکاتی امن منصوبہ قابل قبول نہیں لیکن انہوں نے آبنائے ہرمز کھولنے کیلئے ایک جارحانہ فوجی منصوبہ بھی مسترد کردیا۔ بظاہر یہ فیصلہ جنگ سے گریز کی علامت ہے، مگر اسی کے ساتھ 4 مئی کو امریکی بحریہ نے “Project Freedom” شروع کردیا، جس کے تحت امریکی بحریہ، تجارتی جہازوں کو محفوظ راستہ دینے کی کوشش کر رہی ہے۔ خبروں کے مطابق دو امریکی پرچم بردار جہاز بخیریت گزر گئے، جبکہ  جنوبی کوریا کے ایک جہازکو نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں۔ ایران نے فجیرہ ( متحدہ عرب امارات) بندرگاہ کے آئل ٹرمینل کو بھی نشانہ بنایا جس سے ٹرمینل کے کچھ حصوں میں آگ لگ گئی۔

شاخِ زیتون یا بارود کی پوٹلی؟

اس تمام عرصے میں صدر ٹرمپ اپنے  متصاد بیانات کے ذریعے شاخ زیتون لہراتے اور بارود کی پوٹلی ہلاتے رہے۔ سوشل میڈیا پر انھوں نے انکشاف کیا کہ اپنی معیشت کے تحلیل ہونے کا ایرانی اعتراف کرچکے ہیں اور وہ آبنائے ہرمز کھولنے کو بیچین ہیں۔الجزیرہ کے مطابق صدر ٹرمپ نے کہا کہ وہ ایران کے نئے منصوبہ امن پر غور کررہے ہیں اور ساتھ ہی فرمایا 'خوفناک حملوں' کا راستہ بھی کھلا ہے۔ جواب میں ایران کے رہبر معظم حضرت مجتبیٰ خامنہ ای بولے 'خلیجِ فارس میں امریکیوں کی واحد مناسب جگہ 'اس کے پانیوں کی تہہ ہے' ۔ صدر ٹرمپ کے تضادات اور ایرانی قائد کا سخت ردعمل اس بات کی علامت ہے کہ تنازعہ اب سفارت کاری سے زیادہ نفسیاتی دباؤ کا کھیل بن چکا ہے۔ان آتش فشانیوں کے درمیان ایران کے نائب وزیرخارجہ کاظم غریب آبادی نے نسبتاً معتدل لہجے میں کہا کہ ہم نے معاملے کے پرامن حل کیلئے اپنی تجاویز پیش کردیں ہیں اور گیند اب امریکہ کے کورٹ میں ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ ایران وقت خریدنا اور امریکہ دباؤ بڑھانا چاہتا ہے۔ یاں یوں کہئے کہ تنازعہ اب اعصاب کی جنگ میں تبدیل ہوگیا ہے۔ صدر ٹرمپ بیک وقت دو راستوں پر چلتے دکھائی دے رہے ہیں، ایک طرف براہِ راست جنگ سے گریز، اور دوسری جانب سخت بیانات کے ذریعے شدید دباو۔ گویا میزِ مذاکرات کے نیچے چمکتے ہتھیار۔

عسکری تیاری: سفارت کے سائے میں جنگ

امن بات چیت میں تعطل و تاخیر کوئی غیر معمولی بات نہیں کہ اس طویل و گنجلک تنازعے کی گتھیاں سلجھانے کیلئے  صبروضبط اور حوصلے کی ضرورت ہے اور تجاویز کے تبادلے سے فریقین کی سنجیدگی ظاہر ہوتی ہے لیکن اسی کیساتھ خوفناک فوجی تیاریوں کی خبریں بھی آرہی ہیں۔آن لائن خبر رساں ایجنسی  Axios کے مطابق امریکی عسکری قیادت ایران کے خلاف تیز اور فیصلہ کن کارروائی کے امکانات پر غور کر رہی ہے، جبکہ اسرائیلی فوجی قیادت بھی متحرک ہے۔اسرائیلی جرنیلوں کاکہنا ہے کہ اگر ایران کے افزودہ یورینیم کے ذخیرے کو ختم نہ کیا گیا تو حالیہ جنگ کو “ایک بڑی ناکامی” تصور کیا جائے گا۔ معلوم نہیں یہ اعترافِ ناکامی ہے یا پھر آنے والے کسی بڑے اقدام کیلئے ذہن سازی؟؟؟

معاشی دباؤ: فیصلہ کن یا محدود؟

اگرچہ امریکہ و اسرائیل کی طرف سے ایک فیصلہ کن فوجی کاروائی خارج از امکان نہیں تاہم صد ٹرمپ کا خیال ہے کہ بحری ناکہ بندی ایرانی معیشت کا گلا گھونٹ رہی ہے اور تہران کیلئے بہت دن تک کھڑا رہنا ممکن نہیں۔ جبکہ ایرانی سمجھ رہے ہیں کہ آبنائے ہرمز کی بندش سے پیدا ہونے والا عالمی بحران صدر ٹرمپ کو معقولیت اختیار کرنے پر مجبور کردیگا۔رائٹرز نے ماہرین سے مشوروں کے بعد جو رپورٹ جاری کی ہے اسکے مطابق ایرانی معیشت دباؤ میں تو  ہے لیکن سخت پابندیوں، تیل کی برآمدات میں رکاوٹ اور مالیاتی دباؤ کے باوجود ایرانی نظام مکمل طور پر بکھرتا نظر نہیں آتا۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ بتائی جا رہی ہے کہ نصف صدی پر محیط پابندیوں نے ایرانیوں کو دباو میں جینے کا سلیقہ سکھادیا ہے۔ اس کے برعکس امریکہ کو مہنگائی، عوامی دباؤ اور وسط مدتی انتخابات کا سامنا ہے۔کچھ منچلے کہہ رہے ہیں کہ امریک و اسرائیل، ایران میں رجیم چینج نہ کرسکے لیکن اگر ایرانی صبر سے کھڑے رہے تو نومبر میں امریکہ پارلیمانی محاذ پر رجیم چینج کا مشاہدہ کرسکتا ہے۔ بقول جرمن چانسلر ایران نے میدان اور میز دونوں جگہ امریکہ کو شرمندہ کردیا ہے۔

قزاقی” کا اعتراف؟ سیاسی بیان یااعتراف

الفاظ کا غلط استعمال بھی صدر ٹرمپ کیلئے شر مندگی کا سبب بن رہا ہے۔ گزشتہ دنوں ایک تقریب میں انھوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ جنگ کے دوران ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کرتے ہوئے امریکی بحریہ قزاقوں (Pirates)جیسا” کردار ادا کر رہی تھی۔ مزید وضاحت کرتے ہوئے انھوں نے فرمایا  ہم نے جہاز پر قبضہ کیا، ہم نے اس کا سامان لے لیا، ہم نے تیل لے لیا۔ یہ ایک بہت منافع بخش کاروبار ہے۔ ہم قزاقوں جیسے ہیں کسی حد تک قزاق، مگر ہم کھیل نہیں کھیل رہے۔ جب ایک ریاست کا سربراہ خود اپنی کارروائی کو قزاقی سے تشبیہ دے، تو اسے محض سیاسی بیان سمجھا جائے ہے یا بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کا اقرار؟

خلیج میں نئی صف بندی: طاقت اور توانائی

رجیم چینج اور ایران کی جوہری صلاحیتوں کے خاتمے کےساتھ اسرائیل، مشرق وسطیٰ میں توانائی کے وسائل تک رسائی کا خواہشمند ہے اور اس ضمن میں متحدہ عرب امارات سے اسکے تعلقات بہت ہی نپے تلے انداز میں آگے بڑھ رہے ہیں۔برطانوی اخبار Financial Times کے مطابق اسرائیل نے ایرانی میزائیل اور ڈرونوں کے مقابلے کیلئے لیزر پر مبنی فضائی دفاعی نظام Iron Beam ، میزائیل شکن Iron Domeاور نگرانی کا ایک جدید  نظام Spectro  امارات منتقل کیا ہے۔ اس اسلحے کیساتھ فوجی اہلکار بھی ہیں جنکی تعداد سینکڑوں میں ہے۔ امارات میں  تیل اور گیس کے سارے بڑے میدان عملاً اب اسرائیلی فوج کی زیر حفاظت و نگرانی آچکے ہیں۔ یہ پیش رفت محض دفاعی تعاون نہیں بلکہ خلیج میں نئی عسکری صف بندی اور توانائی کے وسائل پر اسرائیل کے بڑھتے ہوئے اثر رسوخ کا نقطہ آغاز نظرآرہاہے۔

ایران اور امریکہ کے درمیان  کشمکش اب محض جغرافیائی یا عسکری تنازع نہیں رہی، بلکہ یہ ارادوں، اعصاب اور بیانئے کی جنگ بن چکی ہے۔ اسوقت سوال یہ نہیں کہ کون جیتے گا ، بلکہ یہ ہے کہ کون کب تک کھڑا رہ سکے گا؟

ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل کراچی 8 مئی 2026

ہفت روزہ دعوت دہلی 8 مئی 2026

ہفت روزہ رہبر سری نگر 10 مئی 2026


Thursday, April 30, 2026

 

ایران۔امریکہ کشیدگی: جنگ کے سائے میں سفارت کاری کی آخری کھڑکی

تعطل، صف بندی اور آبنائے ہرمز پر نئی پیشکش—طاقت اور مفاہمت کی کشمکش

ایران اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی ایک بار پھر ایسے موڑ پر آ کھڑی ہوئی ہے جہاں سفارت کاری اور عسکری دباؤ ساتھ ساتھ چلتے دکھائی دیتے ہیں۔ بظاہر مذاکرات کے دروازے کھلے ہیں، مگر پسِ پردہ طاقت کی صف بندی اس خطے کو ایک نئے عدم استحکام کی طرف دھکیلتی محسوس ہوتی ہے۔تنازعے کے پرامن اختتام کی کوششوں کو اسوقت شدید دھچکا لگا جب 25 اپریل کو صدر ٹرمپ نے اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر کا اسلام آباد کا دورہ یہ کہتے ہوئے منسوخ کردیا کہ سفر میں بہت وقت ضائع ہو رہا ہے” اور ایرانی قیادت میں “ابہام” پایا جاتا ہے۔ یہ فیصلہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا جب پاکستان کی ثالثی میں جاری مذاکرات پہلے ہی تعطل کا شکار تھے اور ایرانی وزیر خارجہ کسی پیش رفت کے بغیر واپس جا چکے تھے۔

ایک قدرے مثبت اشارہ دیتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ مذاکرات میں تعطل کا مطلب یہ نہیں کہ جنگ دوبارہ شروع ہو جائے گی۔تاہم ماضی کے تجربے کی بنیاد پر امریکی صدر کی یقین دہانی مشکوک لگ رہی ہے۔ اس حوالے سے خلیج میں غیر  معمولی فوجی کمک بھی معنی خیز ہے۔ امریکہ نے ایک اور طیارہ بردار جنگی جہاز خلیج فارس کی جانب روانہ کر دیا ہے۔چھ ہزار اضافی فوجیوں کیساتھ USS George H. W. Bush کے ہمراہ متعدد تباہ کن جنگی جہاز اور ایک جوہری آبدوز بھی محو سفر ہیں۔طیارہ بردار جہاز USS Abraham Lincoln اور USS Gerald R. Ford خطے میں پہلے سے ہی موجود ہیں۔ اگرچہ جیرالڈ فورڈ کو حالیہ دنوں میں مرمت کے لیے یونان کے جزیرے کریٹ کی بندرگاہ بھیجا گیا تھا، تاہم مجموعی طور پر امریکی بحری موجودگی میں واضح اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ یہ محض عسکری نقل و حرکت نہیں بلکہ سفارت کاری کے ساتھ ساتھ دباؤ بڑھانے کی ایک منظم حکمتِ عملی کا حصہ معلوم ہوتی ہے۔

واشنگٹن میں یہ اطلاعات بھی گشت کررہی ہیں کہ امریکہ واسرائیل، ایران کے خلاف بمباری کی ایک نئی مہم شروع کرنے والے ہیں۔اسرائیلی وزیردفاع نےکہا ہے کہ امریکہ سے گرین سگنل ملتے ہی رہبر معظم کا نشانہ بنایا جائیگا۔ کشیدگی کے ماحول میں اسرائیل سے آنے والے بیانات جلتی ہر تیل کا کام کررہے ہیں کہ جب قتل کی دھمکیاں اور انتہا پسندانہ زبان سفارت کاری کی جگہ لے لے، تو مصالحت کے دروازے خود بخود تنگ ہونے لگتے ہیں۔

ایران میں قیادت کی منتقلی کا ایک باقاعدہ آئینی نظام موجود ہے، جسے مجلسِ خبرگانِ رہبری  جیسے ادارے آگے بڑھاتے ہیں۔ ایسے میں کسی ایک شخصیت کو ہدف بنا کر مسئلے کے حل کی امید رکھنا نہ صرف سادہ لوحی بلکہ عملی طور پر غیر مؤثر حکمت عملی ہے۔یہ افراد کا نہیں بلکہ نظام، مفادات اور بیانیوں کا تصادم ہے، جسے صرف مکالمے سے ہی حل کیا جا سکتا ہے۔

بحری ناکہ بندی اور جوابی اقدامات

حالیہ کشیدگی کی  اصل وجہ ایران کی بحری ناکہ بندی ہے جسکا دائرہ اب ساری دنیا تک بڑھادیا گیا ہے۔ گزشتہ ہفتے بحر ہند سے گزرتےایران کے ایک آئل ٹینکر پر امریکی بحریہ نے قبضہ کرلیا۔ اس معاملے میں ایران بھی پیچھے نہیں۔ ایرانی بحریہ نے دوجہاز قبضے میں لے لئے ہیں جن میں سے ایک جہاز MSC Francesca اسرائیل سے وابستہ بتایا جارہا ہے۔ اس معاملے میں ایرانی موقف بہت ہی غیر مبہم اور منطقی ہے، تہران کا کہنا ہے کہ ناکہ بندی اور دھمکی کے ماحول میں میزِ مذاکرات سجانے کا کیا فائدہ؟

فیصلہ سازی کا فرق: واشنگٹن بمقابلہ تہران

دوسری طرف صدر ٹرمپ ایرانی قیادت میں اختلافات کو تعطل کی وجہ قرار دیتے ہیں، مگر یہ تاثر ایران کے نظامِ حکومت کی مکمل تفہیم کے بغیر قائم کیا جا رہا ہے۔ ایران میں فیصلے مشاورت سے ہوتے ہیں، اور اتفاقِ رائے تک بحث جاری رہتی ہے۔ ایرانی طرز سیاست میں دوستوں اور اتحادیوں کو بھی اعتماد میں لیا جاتا ہے ۔ وزیر خارجہ سید عباس عراقچی کے مختلف ممالک، خصوصاً پاکستان، عمان اور روس کے دورے اسی مشاورتی عمل کا حصہ ہیں۔

گھڑی  اور وقت: ایک تاریخی سبق

جنگ کی طوالت کسی کے حق میں نہیں  اور امریکہ کو یہ گمان ہے کہ وہ طویل کشیدگی برداشت کر سکتا ہے، مگر تاریخ اس مفروضے کی تردید کرتی ہے۔ امریکہ کوایسی ہی غلط فہمی افغانستان میں تھی اور اس حوالے سے ملا عبدالغنی برادر کا  یہ جملہ آج بھی گونج رہاہے کہ گھڑی آپ کے اور وقت ہمارے پاس ہے۔ایران 1979 سے پابندیوں اور دباؤ کا سامنا کر رہا ہے۔ صدر ٹرمپ کو سوچنا چاہئے کہ وہ کب تک امریکی عوام کو مہنگائی اور ہیجان میں مبتلا رکھ سکتے ہیں۔ سات ماہ بعد امریکی حکومت کو وسط مدتی انتخابات کا سامنا ہے ۔ایران جنگ کو امریکی عوام کی غالب اکثریت پسند نہیں کرتی  اور کہیں ایسا نہ ہو کہ  صدر ٹرمپ آبنائے ہرمز کے کنارے Bulletکی جنگ ہارنے کے ساتھ گھر میں Ballotکی جنگ بھی ہار جائیں ۔

اسلحہ، معیشت اور جنگی منافع

ایران کے خلاف امریکہ بہادر نے اس شدت سے میزائیل اور میزائیل و ڈرون شکن گولے استعمال کئے ہیں کہ ان ہتھیاروں کے ذخیرے میں تشویشناک حد تک کمی ہوگئی ہے۔ دفاعی امور کے تحقیقاتی ادارے Center for Strategic and International Studies کی ایک تجزیاتی رپورٹ کے مطابق، ایران کے ساتھ جنگ میں حملہ اور Precision Strike Missiles کے ذخیرے کا ایک بڑا حصہ پھونکا جا چکا ہے، کچھ اندازوں میں یہ شرح تقریباً 40 سے 45 فیصد تک بتائی جا رہی ہے۔دفاعی ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اگر اسی رفتار سے وسائل استعمال ہوتے رہے تو امریکہ کو رسد، پیداوار اور ترجیحات کے محاذ پر سنجیدہ مشکلات پیش آسکتی ہیں۔امریکہ کی عسکری قیادت اس معاملے پر اپنی فکر کا اظہار کررہی ہے اور کچھ لوگ خیال ظاہر کررہے ہیں کہ وزیربحریہ جان فیلن کی برطرفی اسی اندرونی بحث و مباحثے کا نتیجہ ہے

اسی کیساتھ متاثرہ توانائی تنصیبات کی مرمت کیلئے ٹھیکوں کی بات بھی شروع ہوچکی ہے۔یورپ کے آن لائن جریدے Middle East Eye (MEE) کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ خلیجی ممالک پر دباؤ ڈال رہی ہے کہ وہ ایرانی حملوں سے متاثر ہونے والی توانائی تنصیبات کی مرمت امریکی اداروں سے کروائیں۔متحدہ عرب امارات، بحرین اور کویت میں تیل و گیس کی تنصیبات کو پہنچنے والے نقصان کی مرمت کا تخمینہ تقریباً 39 ارب ڈالر لگایا جا رہا ہے۔ یہ اعداد و شمار اس تلخ حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ جنگ کے ملبے سے بھی کاروبار جنم لیتا ہے۔جب بارود گرتا ہے تو صرف شہر نہیں بکھرتے،بلکہ کہیں نہ کہیں معاہدوں، ٹھیکوں اور منافع کی نئی فائلیں بھی کھل جاتی ہیں۔

نئی پیشکش: بند دروازوں پر دستک

اسی تناظر میں Axios کے مطابق ایران نے  آبنائے ہرمز کھولنے اور کشیدگی کم کرنے کی ایک نئی تجویز پیش کی ہے، جس میں جوہری مذاکرات کو بعد کے مرحلے تک مؤخر کرنے کی بات کی گئی ہے۔اس پر تبصرہ کرتے ہوئے 27 اپریل کو قصرِ مرمریں کی ترجمان  کیرولائن لیوٹ نے بتایا کہ پاکستان کے ذریعے موصول ہونے والی اس تجویز پر صدر ٹرمپ اپنے رفقا کے ساتھ Situation Room میں مشاورت کر رہے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر نے بھی صدر ٹرمپ سے مواصلاتی گفتگو میں اس پیشکش کو قبول کرنے پر زور دیا ہے۔اسرائیلی ذرائع کہہ رہے ہیں کہ صدر ٹرمپ اس تجویز سے 'خوش' نہیں، لیکن سوچ بچار کے طویل دورانئے نے اس تنازعے کے پرامن حل کی ایک ہلکی سی امید ضرور پیدا کر دی ہے۔

ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل کراچی یکم مئی 2026

ہفت روزہ دعوت دہلی یکم مئی 2026

ہفت روزہ رہبر سرینگر 3 مئی 2026


 

غزہ و لبنان میں جاری آگ ۔۔۔  جنگ بندی یا فریبِ امن؟

بیانات میں امن، زمین پر بارود—اصل فریق کی عدم شمولیت اور بگڑتی ہوئی انسانی صورتِ حال

مشرقِ وسطیٰ ایک ایسے نازک مرحلے سے گزر رہا ہے جہاں امن کے دعوے اور جنگ کی حقیقتیں ایک دوسرے سے متصادم دکھائی دیتی ہیں۔ سفارتی بیانات میں نرمی اور زمینی حالات میں شدت اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ مسئلہ صرف جنگ بندی کا نہیں بلکہ اس کے پسِ پردہ موجود سیاسی ترجیحات اور طاقت کے توازن کا ہے۔

جنگ بندی میں توسیع: امن یا وقتی مہلت؟

صدر ٹرمپ نے اسرائیل۔لبنان جنگ بندی میں مزید تین ہفتوں کی توسیع کا اعلان کیا جو 26 اپریل کو ختم ہونے والی تھی۔ تاہم اسی کے ساتھ لبنانی مزاحمتی قوتوں کے مکمل خاتمے کے عزم کا اظہار ایک واضح تضاد کو جنم دیتا ہے۔ امن کی بات اور ایک فریق کے خاتمے کی خواہش، یہ دونوں بیانئے بیک وقت ساتھ نہیں چل سکتے۔

اصل فریق کی عدم شمولیت: مذاکرات کی کمزوری

صدر ٹرمپ بظاہر امن کے خواہاں ہیں، مگر عملی طور پر وہ اصل فریق سے براہِ راست مکالمے سے گریزاں نظر آتے ہیں۔ غزہ میں مزاحمتی قوتوں کو مذاکراتی عمل سے باہر رکھا گیا، اور لبنان میں بھی یہی طرزِ عمل برقرار ہے۔جب اصل قوت کو نظرانداز کیا جائے تو مذاکرات محض رسمی کارروائی بن جاتے ہیں۔ یہی تجربہ صدر باراک حسین اوباما نے افغانستان میں کیا۔کابل کی کٹھ پتلی حکومت سے بات چیت  کئی برس جاری رہی جبکہ زمینی حقیقت کچھ اور تھی۔ بعد ازخرابیِ بسیار ملاوں سے براہِ راست مذاکرات نے ہی راستہ نکالا۔

لبنان: لوٹ مار اور مذہبی علامات کی بیحرمتی

لبنان میں جنگ بندی کے باوجود بمباری اور ڈرون حملوں کا سلسلہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا۔ جنوبی لبنان میں نہ صرف عسکری کارروائیاں جاری ہیں بلکہ شہری املاک اور مذہبی علامات بھی محفوظ نہیں۔ ایک اسرائیلی فوجی نے ہتھوڑے کی ضربات سے حضرت عیسیٰؑ کا مجسمہ توڑ دیا۔ایک ایسا واقعہ جو عالمگیرسطح پر تشویش کا سبب بنا۔معروف جریدے الارض (Haaretz)کے مطابق اسرائیل کے فوجی  کمانڈروں نے اخبار کو بتایا کہ انکے سپاہی جنوبی لبنان کے مقبوضہ علاقوں میں گھروں سے موٹر سائیکلیں، ٹی وی، قالین، صوفے، تصویریں اور دیگر سامان چوری کررہے ہیں۔لوٹ مار کایہ  عمل اب معمول بن چکاہے۔ مقامی سطح کے کمانڈر اس سے واقف ہیں لیکن نظم و ضبط کے مؤثر اقدامات نہیں کئے جا رہے۔ اسرائیلی فوج کے ترجمان نے اس خبر کو جھوٹ اور بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ فوجی پولیس لبنان اسرائیلی سرحد پر چیکنگ کرتی ہے۔ تاہم رپورٹ کے مطابق اکثر مقامات پر چوکیاں موجود ہی نہیں اور جہاں تھیں وہاں کئی مقامات سے فوجی پولیس کی چوکیاں ہٹا دی گئیں ہیں۔یہ لبنانی مزاحمت کاروں یا اسرائیل مخالفوں کے الزامات نہیں بلکہ اسرائیلی فوجی افسروں کے اپنے مشاہدے ہیں جو انھوں نے خود ایک موقر اسرائیلی جریدے سے بیان کئے ۔ کئی جگہ گھروں کو لوٹنے کے بعد یہ درندے دیواروں پر نفرت آمیز نعرے بھی لکھ گئے یہ چاکنگ ان جرائم کا دستاویزی ثبوت ہے۔

غزہ: مسلسل تباہی اور انسانی المیہ

غزہ میں بمباری، ڈرون حملے اور فائرنگ کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔ دیرالبلاح اور خان یونس میں حالیہ حملوں میں خواتین سمیت متعدد افراد جان سے گئے۔کمال عدوان ہسپتال کے باہر ایک ماں اور اس کا بچہ بھی گولہ باری کا شکار ہوئے۔

پولیس اہلکاروں کو بھی نشانہ بنایا جا رہا ہے، جس کے نتیجے میں کئی افسران اور ایک کمسن بچہ جاں بحق ہوا۔ یہ صورتحال اس بات کی عکاس ہے کہ شہری ڈھانچہ اور نظم و نسق بھی اس جنگ کا ہدف بنتا جا رہا ہے۔

جمہوری عزم: تباہی میں بھی زندگی

ان تمام حالات کے باوجود 25 اپریل کو دیرالبلاح میں بلدیاتی انتخابات کا انعقاد ایک غیر معمولی واقعہ ہے۔ تقریباً ستر ہزار افراد نے حقِ رائے دہی استعمال کرتے ہوئے 15 رکنی کونسل کا انتخاب کیا۔یہ عمل اس حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ جمہوری اقدار صرف پرامن حالات کی مرہونِ منت نہیں ہوتیں، بلکہ آزمائش کے دور میں ہی ان کی اصل روح سامنے آتی ہے۔

ہردم رواں ہے زندگی

شدید تباہی اور بے گھر ہونے کے باوجود غزہ میں زندگی کی رمق باقی ہے۔اس ہفتے  اجتماعی شادی کے بعد  300 لڑکیاں 'پیا کے خیمے' چلی گئیں۔ بیچاروں کے گھر تو ملبہ بن چکے ہیں اسلئے رخصتی ایک خیمے سے دوسرے خیمے میں ہوئی۔ شدید مشکات لیکن امید کا چراغ پھر بھی روشن ہے۔

مغربی کنارہ: مسلسل جبر اور بے یقینی

مغربی کنارے میں بھی حالات مختلف نہیں۔ رام اللہ کے قریب مغیر گاؤں میں فائرنگ سے ایک طالب علم اور اس کا استاد جاں بحق ہوئے۔ دیواروں پر نفرت آمیز نعرے لکھنے اور بستیوں کو نذرِ آتش کئے جانے کے واقعات اس خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کی نشاندہی کرتے ہیں۔ ان وحشیانہ کاروائیوں کے دوران اسرائیل میں یومِ آزادی کی رنگا رنگ تقریبات جاری تھیں۔ ایک ایسا تضاد جو خطے کی پیچیدہ حقیقت کو عیاں کرتا ہے۔

سچائی نشانے پر

جنوبی لبنان کے شہر الطیری میں بمباری کے دوران خاتون صحافی امل خلیل جاں بحق ہو گئیں۔  فلسطین و لبنان میں قلم کے مزدور اسرائیل کا خاص ہدف ہیں

جنگ بندی کے باوجود فلسطین و لبنان میں جاری کشیدگی نے مجلس السلام (بورڑ آف پیس) اور ملاقات و مذکرات سمیت 'امن' کیلئے جاری تمام کوششوں کو مہمل ثابت کردیا ہے۔جب تک تمام فریقوں کو اعتماد میں لے کر سنجیدہ اور جامع مذاکرات نہیں کئے جاتے، اس خطے میں پائیدار امن ایک خواب ہی رہے گا۔بندوق کی گونج وقتی خاموشی تو لا سکتی ہے، مگر دیرپا سکون صرف مکالمے، انصاف اور باہمی احترام سے ہی حاصل ہوگا۔

ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل کراچی یکم مئی 2026

ہفت روزہ دعوت دہلی یکم مئی 2026

ہفت روزہ رہبر سرینگر 3 مئی 2026


 

Thursday, April 23, 2026

 

جنگ بندی یا وقفہ جنگ؟؟؟

متضاد بیانیہ، امید، بے یقینی اور  پاکستان کی خاموش سفارت کاری

دو ہفتے قبل ایران اور امریکہ کے درمیان ہونے والی جنگ بندی نے یہ امید پیدا کی تھی کہ شاید ایک خطرناک تصادم اپنے انجام کو پہنچنے والا ہے۔ مگر مہلت ختم ہونے پرایران کوتباہ کردینے کی دھمکی سے صدر ٹرمپ کے یوٹرن کے باوجود کشیدگی میں فوری کمی کے امکانات معدوم نہیں تو کم از کم دھندلا ضرور چکے ہیں ایرانی قیادت خدشہ ظاہر کررہی ہے کہ نامہ و پیام کی آڑ میں صدر ٹرمپ اسرائیل کی مدد سے ایک بھرپور حملے کی تیاری اور اس تنازعے کو قومی سلامتی کا معاملہ بنانے کی کوشش کررہے ہیں۔ اسی سبب 21 اپریل کو انھوں نے انکشاف کیا کہ امریکی بحریہ نے جس ایرانی جہاز پر قبضہ کیا ہے وہ روس سے 'تحفہ' لے کر یران آرہاتھا۔ صدر ٹرمپ نے اس تحفےکی تفصیل تو نہیں بتائی لیکن فرمایاکہ انھیں روس کی اس پیشرفت پر حیرت ہوئی اسلئے کہ وہ صدر ژی جن پنگ کو اپنا دوست سمجھتے ہیں۔

مذاکرات یا فاصلہ؟ — اسلام آباد میں خاموشی

ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی تسنیم کے مطابق تہران نے پاکستان میں امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے دوسرے دور میں شرکت نہ کرنے کا حتمی فیصلہ کر لیا ہے، اور پاکستانی ثالث کو اس سے آگاہ بھی کر دیا گیا ہے۔

کیا تہران واقعی دروازہ بند کر رہا ہے یا بہتر پیشکش کا منتظر ہے؟ صدر ٹرمپ کی جانب سے جنگ بندی میں یکطرفہ توسیع کو ابتدا میں ایک سفارتی رغبت کے طور پر دیکھا گیا، لیکن ایران واضح کر چکا ہے کہ ناکہ بندی کے خاتمے سے پہلے کسی بامعنی بات چیت کا امکان نہیں۔ ایسے میں اگر واشنگٹن اشتعال کے بجائے نرم اشاروں اور خاموش دعوت کی حکمتِ عملی جاری رکھتا ہے، تو شاید یہی فائر بندی مستقبل کی کسی سنجیدہ پیش رفت کا پیش خیمہ بن سکے۔

جنگ بندی کی لبنان تک توسیع، منڈیوں سے مثبت اشارے

امن کوششوں کا آغاز بڑا خوش آئند تھا کہ اسلام آباد میں بات چیت کا پہلا مرحلہ بے نتیجہ ختم ہونے کے باوجود پاکستان نے ثالثی کا سلسلہ جاری رکھا اورصدر ٹرمپ نے بات چیت کا نیا دور جلد شروع کرنے کا اعلان کیا۔ ایک مرحلے پر صدر ٹرمپ اتنے پر امید نظر آئے کہ انھوں نے بات چیت کیلئے خود اسلام آباد آنے کی خواہش ظاہر کی۔ اسرائیل و لبنان کے درمیاں 10 روزہ عارضی جنگ بندی سے امن کی کوششوں کو مزید تقویت ملی۔ امریکی صدر کے مثبت بیانات کا ایران نے خیر مقدم کیا اور آبنائے ہرمز کو کھولدی گئی۔ان مثبت اشاروں کا اثر عالمی معیشت پر بھی پڑا۔ تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی آئی اور عالمی بازارِحصص میں تیزی دیکھی گئی، گویا دنیا نے سکھ کا سانس لیا۔

متضاد بیانیہ اور ہرمز کی کشمکش

صدر ٹرمپ نے اس موقعہ پر دعویٰ کیا کہ افزودہ یورینیم کے معاملے پر اختلافات تقریباً ختم ہو چکے ہیں اور کوئی “sticky point” باقی نہیں رہا۔ تاہم ایرانی قیادت نے اس تاثر کی نفی کی۔ ایرانی پارلیمان کے اسپیکر اور مذاکراتی وفد کے قائد محمد باقر قالیباف نے کہا کہ افزودہ یورینیم کی حوالگی پر کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا۔بات چیت ابھی ابتدائی مرحلے میں ہے اور کسی ٹھوس نتیجے تک پہنچنے میں ہفتوں لگ سکتے ہیں۔ انھوں نے مذاکرات کی حمائت کرتے ہوئے کہا کہ معاملات میں پیشرفت تو ہے لیکن خلیج اب بھی کافی گہری ہے۔

صورتحال اس وقت مزید بگڑی جب امریکہ نے ایران کی بحری ناکہ بندی برقرار رکھنے کا اعلان کیا، حالانکہ ایران پہلے ہی آبنائے ہرمز کھول چکا تھا۔ اس اقدام کو تہران نے اشتعال انگیزی قرار دیتے ہوئے دوبارہ پابندیاں عائد کر دیں، اور یوں خطے کی اہم ترین گزرگاہ ایک بار پھر کشیدگی کا مرکز بن گئی۔

تاہم امریکی صدر اسکے بعد بھی پرامید نظر آئے اوراسرائیلی چینل 12 پر ایک انٹرویو میں انھوں نے بہت ہی پراعتماد لہجے میں فرمایا “(ایران سے) معاہدے کا بنیادی تصور طے پا چکا ہے۔ میرا خیال ہے کہ اسے مکمل کرنے کے ہمارے پاس بہت اچھا موقع ہے،” پھر فوراً ہی بولے “اگر ایرانی راضی نہ ہوئے تو سب کچھ تباہ کر دیں گےاس پر اسرائیلی محکہ دفاع کے ایک  اہلکار نے کہا کہ ' امریکی صدر کے بیانات میں اسقدر ابہام اور تضاد ہوتا ہے کہ انسانی دماغ کیلئے اسکی تشریح ممکن نہیں بلکہ اگر ایران سے متعلق انکے بیانات کے تجزئے کیلئے ChatGPT سے مدد لیں تو وہ بھی تضادات کے بوجھ تلے اندر سے بکھر جائے۔

جنگی تیاری اور مختلف ترجیحات

اسرائیل اور امریکہ میں جنگی تیاریوں کی خبروں سے حالات مزید سنگین ہوگئے۔ذرایع ابلاغ کے اسرائیلی اداروں Ynet, چینل 12 اور چینل 13 کے مطابق فوج کے سربراہ جنرل ایال زامیز نے اپنے کمانڈروں کو کاروائی شروع کرنے کیلئے تیار رہنے کا حکم دیدیا ہے۔ ایسا ہی تاثر امریکی وزیر جنگ پیٹ ہیگسیتھ کی جانب سے بھی موصول ہواجسکا جواب دیتے ہوئے پاسداران انقلاب اسلامی کے سربراہ حسین سلامی نے کہا کہ ایران جنگ شروع نہیں  کریگا لیکن ہم پر جنگ مسلط کرنے والے بچ کر نہیں جاسکیں گے

اس تمام صورت حال میں امریکہ اور اسرائیل کے اہداف کا فرق نمایاں ہے۔ واشنگٹن کے نزدیک مسئلہ ایران کا جوہری پروگرام ہے، جبکہ اسرائیل کیلئے  اسلامی تشخص کیساتھ ٖغیر جوہری ایران بھی قابل قبول نہیں اسی تضاد نےاس تنازعے کو مزید پیچیدہ کردیا ہے۔

پاکستان کی خاموش سفارت کاری

اس نازک مرحلے پر پاکستان نے پسِ پردہ مگر مؤثر سفارت کاری کے ذریعے ایک پل بنانے کی کوشش کی اور اسلام آباد کے اس  کردار کو علاقائی اور عالمی سطح پر سراہا گیا۔ تاہم حالیہ پیش رفت، مذکرات سے ایرانی انکار، ناکہ بندی، اور بڑھتی ہوئی عسکری تیاریوں نے ان کوششوں کے اثرات کو وقتی طور پر دھندلا دیا ہے۔

موجودہ صورتحال کا سب سے نازک پہلوصدر ٹرمپ کی ساکھ اور  ہر لمحہ بدلتے انکے بیانئے ہیں یعنی ایک ہی سانس میں معاہدے کی نوید اور تباہی کی دھمکی۔ یہ تضاد صرف سفارتی ابہام نہیں بلکہ اعتماد کے بحران کو جنم دیتا ہے۔ ان کی کسی بات پر کسی کو اعتماد نہیں جسکی ایک تازہ ترین مثال اسلام آباد مذاکرات ہیں۔بیس اپریل کی صبح صدر ٹرمپ نے نیویارک پوسٹ کو بتایا کہ نائب صدر جے ڈی وانس اسلام آباد کیلئے روانہ ہوچکے ہیں اور وہ شام تک وہاں ہونگے۔لیکن اسی لمحے CNNکی صحافی الیانہ نے نائب صدر کی واشنگتں میں موجودگی کی اطلاع دی۔ الیانہ کو  بتایا گیا کہ جناب وانس 21 اپریل کو روانہ ہونگے اور ملاقات بدھ کو متوقع ہے لیکن اسی شام نائب صدر کے دفتر نے بتایا کہ جناب وانس کی اسلام روانگی فی الحال موخر کردی گئی ہے۔

بظاہر جنگ بندی کو غیر معینہ مدت تک بڑھا دیا گیا ہے، لیکن اگر یہ مہلت ٹھوس پیش رفت میں تبدیل نہ ہو سکی تو تاریخ اسے امن کا وقفہ نہیں، بلکہ اگلی جنگ کی تمہید کے طور پر یاد رکھے گی۔

ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل کراچی 24 اپریل 2026

ہفت روزہ دعوت دہلی 24 اپریل 2026

ہفت روزہ رہبر سرینگر 26 اپریل 2026