Thursday, July 23, 2026

 

غزہ  تا غربِ اردن : آبادکاری، انتہاپسندی اور بدلتی ہوئی اسرائیلی سیاست

خلیج فارس سے لے کر بحیرۂ روم کے مشرقی ساحل تک جنگ کی آگ مسلسل بھڑک رہی ہے۔ ایک طرف ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لینے کی دھمکیاں دے رہی ہے تو دوسری جانب غزہ کی پٹی پر مسلط خونریزی کو عالمی مجلسِ امن (Board of Peace) کی جانب سے اعلان کردہ جنگ بندی بھی نہ روک سکی۔ غزہ کے طول و عرض پر بمباری، ڈرون حملوں اور زمینی کارروائیوں کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔ انسانی المیہ ہر گزرتے دن کے ساتھ مزید گہرا ہوتا جا رہا ہے۔ عمارتیں ملبے کاڈھیر اوراسپتال ناکارہ ہو چکے ہیں۔ اب بے گھر خاندانوں کے خیمے بھی محفوظ نہیں رہے۔

جنگ بندی کے باوجود موت کا سفر

غزہ میں جنگ بندی کے بعد بھی شہری ہلاکتوں کا سلسلہ نہیں تھما۔ کھیلتے ہوئے بچے ہوں، پانی بھرنے والی خواتین، عبادت میں مصروف نمازی یا امداد کے منتظر شہری، کوئی بھی محفوظ دکھائی نہیں دیتا۔ گزشتہ ہفتے غزہ کی احمد یاسین مسجد پر بمباری کے بعد جنازے کے اجتماع کو بھی نشانہ بنایا گیا، جس میں متعدد افراد جاں بحق ہوئے۔ اسی دوران وسطی غزہ، المغازی کی خیمہ بستی، البریج، دیر البلح، جبالیہ اور خان یونس سمیت کئی علاقوں میں فضائی حملوں اور فائرنگ سے مزید شہری ہلاک ہوئے، جن میں بڑی تعداد بچوں کی تھی۔

یہ وہ جنگ ہے جس میں ہلاکتوں کے درست اعداد و شمار بھی متنازع ہوتے جا رہے ہیں، کیونکہ بیشتر اسپتال تباہ ہو چکے ہیں، طبی عملہ خود نشانہ بن رہا ہے اور ہزاروں زخمی علاج کے بغیر اپنے خیموں یا ملبے تلے دم توڑ دیتے ہیں۔ ایک فلسطینی خاتون نے خان یونس سے سوشل میڈیا پر اپنے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ "پہلے ہمارے بچوں کے نرم جسم کنکریٹ کے نیچے کچلے گئے، اب یہی بچے شعلہ فشاں خیموں میں زندہ جل رہے ہیں۔" شاید اس ایک جملے میں غزہ کے موجودہ المیے کی پوری تصویر سمٹ آتی ہے۔

غزہ کا اگلا مرحلہ: کیا آبادکاری کی واپسی ہونے جا رہی ہے؟

اسرائیلی دائیں بازو کے انتہا پسند غزہ کے سیاسی اور جغرافیائی مستقبل کی نئی منصوبہ بندی میں مصروف دکھائی دیتے ہیں۔ حکمران جماعت لیکوڈ کی حمایت یافتہ آبادکار تنظیم نحالا (Nachala) نے غزہ میں اسرائیلی بستیاں قائم کرنے کے مطالبے کے لئے ایک بڑا مارچ منظم کیا، جس کی قیادت حکمران اتحاد سے وابستہ ارکانِ پارلیمان اور بعض وزراء نے کی۔

اگرچہ اسرائیلی فوج نے غزہ میں داخلے کے تمام راستے بند کرکےجلوس کو فلسطینی آبادی تک نہیں پہنچنے  دیا، لیکن اس مظاہرے کی اصل اہمیت اس کے سیاسی پیغام میں مضمر ہے۔ پہلی مرتبہ حکمران اتحاد سے تعلق رکھنے والے منتخب ارکانِ پارلیمان نہ صرف غزہ میں دوبارہ آبادکاری کی کھل کر حمایت کر رہے ہیں بلکہ اسے اسرائیل کے مستقبل کا ناگزیر حصہ بھی قرار دے رہے ہیں۔

یہ پیش رفت معمولی نہیں۔ 2005ء میں اسرائیل نے یک طرفہ طور پر غزہ سے اپنی تمام آبادکار بستیاں ختم کر دی تھیں، لیکن آج تقریباً دو دہائیوں بعد انہی بستیوں کی بحالی کا مطالبہ حکومتی اتحاد کے اندر سے بلند ہو رہا ہے۔ اگر یہ سوچ سرکاری پالیسی کی شکل اختیار کرتی ہے تو غزہ کی جنگ صرف سلامتی یا عسکری کارروائی کا مسئلہ نہیں رہے گی بلکہ مستقل قبضے، آبادیاتی تبدیلی اور نئے جغرافئے کی تشکیل کا معاملہ بھی بن جائے گی۔

انتخابات اور انتہاپسندی کا باہمی تعلق

اسرائیل میں متوقع انتخابات نے اس بحث کو مزید اہم بنا دیا ہے۔ گزشتہ چند برسوں میں دائیں بازو کی جماعتوں کے درمیان مقابلہ زیادہ تر اس بات پر ہوتا رہا ہے کہ فلسطینی علاقوں کے بارے میں کس کا مؤقف زیادہ سخت ہے۔ ایسے ماحول میں غزہ میں دوبارہ آبادکاری کا نعرہ صرف ایک نظریاتی مطالبہ نہیں بلکہ ایک مؤثر انتخابی ہتھیار بھی بن سکتا ہے۔

غربِ اردن: خاموش مگر مسلسل بدلتا ہوا نقشہ

غزہ کے ساتھ غربِ اردن میں بھی زمینی حقائق تیزی سے تبدیل ہو رہے ہیں۔ اسرائیلی فوج نے گزشتہ ہفتے الخلیل کے مختلف علاقوں کا محاصرہ کیا اور فلسطینی ذرائع کے مطابق متعدد نوجوانوں کو گرفتار کیا۔ شمالی رام اللہ کے گاوں دیر الجریر قبضہ گردوں نے مکانوں کو آگ لگادی۔یہ وحشی 70 مویشی بھی ہنکالے گئے، مزاحمت پر فوج کی فائرنگ سے دو افراد جان بحق ہوگئے۔ اسی دوران اسرائیلی کابینہ نے غرب اردن میں 34 نئی بستیوں کی  تعمیر کیلئے 43 کروڑ 40 لاکھ ڈالر کی منظوری دیدی۔ اسکے نتیجے میں کم از کم 1000 فلسطینی خاندانوں کے بے گھر ہونے کا اندیشہ ہے۔بادی النظر میں غزہ اور غربِ اردن دو الگ محاذ  ہیں،لیکن حقیقت میں دونوں ایک ہی بڑی حکمتِ عملی کے مختلف پہلو محسوس ہوتے ہیں۔ یعنی ایک طرف عسکری دباؤ اور دوسری جانب زمینی حقائق کو مستقل طور پر تبدیل کرنے کی کوشش۔

حوات گیلعاد کی آگ: حادثہ، تفتیش یا ایک نیا سیاسی بیانیہ؟

اٹھارہ جولائی کو اسرائیلی قبضہ بستی حوات گیلعاد (Havat Gilad) میں اچانک آگ بھڑک اٹھی۔ یہ بستی 2002ء میں غیر رسمی طور پر قائم کی گئی تھی جسے 2018ء میں  قانونی حیثیت دے دی گئی۔ شدید گرمی، خشک موسم اور تیز ہواؤں کے باعث آگ تیزی سے پھیلی اور درجنوں مکانات اس کی لپیٹ میں آ گئے۔ سرکاری اطلاعات کے مطابق تیرہ مکانات مکمل طور پر جل گئے، متعدد دیگر کو نقصان پہنچا اور تقریباً ایک سو خاندان عارضی طور پر بے گھر ہو گئے۔

واقعے کے فوراً بعد اسرائیلی داخلی سلامتی کی ایجنسی شاباک (Shin Bet) نے تحقیقات شروع کیں۔ ابتدائی تفتیش میں دھماکا خیز مواد یا منظم آتش زنی کا کوئی واضح ثبوت سامنے نہیں آیا، البتہ جائے وقوعہ سے ملنے والا ایک جلا ہوا سگریٹ اور گاڑی کے ٹائروں کے چند نشانات تفتیش کا مرکز بن گئے۔ اب سوال اٹھا کہ سگریٹ کا ٹکڑا یہاں کس نے پھینکا؟اس حوالے سے شاباک کی کوئی رائے اب تک سامنے نہیں آئی لیکن اسرائیلی میڈیا اور آبادکار حلقوں میں یہ قیاس آرائیاں شروع ہوگئیں کہ یہ ضرور کسی فلسطینی کی شرارت ہے کیونکہ آگ سبت (ہفتے) کے روز لگی ہے اور یہودی سبت کے دوران گاڑی چلانے اور آگ جلانے سے گریز کرتے ہیں۔ جدید فرانزک سائنس، مصنوعی ذہانت، ڈرون نگرانی اور ہزاروں کیمروں کے دور میں اگر کسی واقعے کی سمت مذہبی معمولات یا سماجی قیاس آرائیوں سے متعین ہونے لگے تو یہ صرف ایک تفتیشی مسئلہ نہیں رہتا بلکہ سیاسی بیانئے کی تشکیل کا حصہ بن جاتا ہے۔

اسرائیل کی داخلی سیاست: مذہبی جماعتوں کا بڑھتا ہوا اثر

صرف فلسطینی علاقوں میں ہی نہیں، اسرائیل کی داخلی سیاست میں بھی واضح تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں۔ گزشتہ ہفتے پارلیمان نے ایک متنازع قرارداد منظور کی جسے مذہبی حلقوں کی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔ قرارداد کا مقصد اعلیٰ تعلیمی اداروں میں مخلوط تعلیم کی حوصلہ شکنی ہے۔ اگرچہ اس کی عملی شکل ابھی واضح نہیں، تاہم سیاسی مبصرین کے نزدیک اس قانون سازی کا اصل مقصد مذہبی جماعتوں کو مطمئن رکھنا ہے۔

اسی طرح مدارس (Yeshiva) کے طلبہ کو لازمی فوجی خدمت سے استثنا دینے کے معاملے پر بھی حکومت نے ایک درمیانی راستہ اختیار کیا ہے۔ فوج اور سیکولر جماعتیں اس استثنا کے خاتمے کا مطالبہ کر رہی ہیں، جبکہ مذہبی جماعتیں اسے اپنی سرخ لکیر قرار دیتی ہیں۔ تازہ مسودۂ قانون میں اگرچہ فوجی خدمت کی ذمہ داری برقرار رکھی گئی ہے، لیکن بھرتی سے گریز کرنے والے طلبہ کی گرفتاری کا اختیار محدود کر دیا گیا ہے۔ یوں حکومت نے وقتی طور پر اپنے مذہبی اتحادیوں کو مطمئن کرنے کی کوشش کی ہے۔

یہ دونوں مثالیں اس بات کی غمازی کرتی ہیں کہ اسرائیلی سیاست میں مذہبی اور قوم پرست جماعتوں کا اثر مسلسل بڑھ رہا ہے، اور یہی جماعتیں فلسطینی علاقوں میں مزید سخت پالیسیوں کی سب سے بڑی داعی بھی ہیں۔

امریکہ میں بدلتا ہوا سیاسی منظرنامہ

اسرائیل کے بارے میں ایک اہم تبدیلی امریکہ کے اندر بھی محسوس کی جا رہی ہے۔ حال ہی میں ریپبلکن رکنِ کانگریس تھامس میسی نے اسرائیل کی فوجی امداد ختم کرنے کی ترمیم پیش کی۔ اگرچہ یہ ترمیم بھاری اکثریت سے مسترد ہو گئی، لیکن اس پر ہونے والی بحث نے امریکی سیاست میں ایک نئی دراڑ کو نمایاں کر دیا۔

تقریباً نصف صدی سے اسرائیل کی فوجی امداد ریپبلکن اور ڈیموکریٹ دونوں جماعتوں کی مشترکہ پالیسی سمجھی جاتی رہی ہے، مگر حالیہ رائے شماری میں ایک سو سے زائد ڈیموکریٹ ارکان نے امداد روکنے کے حق میں ووٹ دیا۔ تقریباً اتنی ہی تعداد نے امداد جاری رکھنے کی حمایت کی، جبکہ بعض ارکان نے رائے شماری میں غیر جانب دار رہنے کو ترجیح دی۔

یہ محض ایک عددی تقسیم نہیں بلکہ امریکی رائے عامہ میں آنے والی تبدیلی کا عکس ہے۔ غزہ کی جنگ، بڑھتا ہوا انسانی بحران اور نوجوان امریکی ووٹروں کے بدلتے رجحانات نے پہلی مرتبہ اسرائیل کی فوجی امداد کو کھلی سیاسی بحث کا موضوع بنا دیا ہے۔مزید دلچسپ بات  یہ کہ امداد روکنے کی تجویز ایک قدامت پسند ریپبلکن نے پیش کی، جبکہ اس کی سب سے زیادہ حمایت ترقی پسند ڈیموکریٹس نے کی۔ مختلف نظریاتی دھاروں کا ایک نکتے پر جمع ہونا اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ آئندہ برسوں میں اسرائیل کی غیر مشروط حمایت امریکی سیاست میں پہلے جیسی مسلمہ حقیقت شاید نہ رہے۔

بدلتا ہوا منظرنامہ

غزہ میں جاری جنگ، غربِ اردن میں آبادکاری کی توسیع، اسرائیل کے اندر مذہبی اور قوم پرست سیاست کا بڑھتا ہوا اثر اور امریکہ میں اسرائیل کے بارے میں بدلتی ہوئی رائے،  بظاہر الگ الگ واقعات دکھائی دیتے ہیں، لیکن درحقیقت یہ ایک بڑی تصویر کے مختلف رنگ ہیں۔اگر غزہ میں دوبارہ آبادکاری کا منصوبہ عملی صورت اختیار کرتا ہے، غربِ اردن میں نئی بستیاں مسلسل پھیلتی رہتی ہیں، اور اسرائیل کے اندر انتخابی سیاست مزید دائیں بازو کی طرف جھکتی ہے تو دو ریاستی حل کا تصور پہلے سے کہیں زیادہ کمزور ہو جائے گا۔ دوسری طرف اگر امریکی سیاست میں اسرائیل کی غیر مشروط حمایت پر سوالات بڑھتے رہے تو آنے والے برسوں میں واشنگٹن اور تل ابیب کے تعلقات کی نوعیت میں بھی تدریجی تبدیلی آ سکتی ہے۔

ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل کراچی 24 جولائی 2026

ہفت روزہ دعوت دہلی 24 جولائی 2026

ہفت روزہ رہبر سرینگر 26 جولائی 2026


 

آبنائے ہرمز سے  بلوچستان کی دہلیز تک

ایران، امریکہ اور بدلتی ہوئی خلیجی جنگ

سات جولائی کو آبنائے ہرمز سے گزرنے والے ایک قطری جہاز پر ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی مبینہ فائرنگ کے بعد خلیج فارس میں کشیدگی کی جو نئی لہر اٹھی، وہ اب ایک وسیع تر علاقائی بحران کی شکل اختیار کرتی دکھائی دے رہی ہے۔ ابتدا میں یہ واقعہ محض سمندری سلامتی کا مسئلہ محسوس ہوا، لیکن چند ہی دنوں میں امریکہ اور ایران کے درمیان جاری محدود عسکری کشمکش خلیجی ریاستوں، بحیرہ احمر اور یہاں تک کہ پاکستان کی سرحدوں تک اثر انداز ہوتی نظر آنے لگی۔ اس دوران سفارتی رابطوں کی متضاد اطلاعات، امریکی بمباری میں اضافہ، ایرانی جوابی حملے، اور واشنگٹن میں اسرائیل کے کردار پر کھل کر ہونے والی بحث نے صورتِ حال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔

دھمکیوں کے سائے میں مذاکرات

گزشتہ ہفتے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا کہ ایران کے خلاف حملے جاری رہیں گے اور آئندہ مرحلے میں بجلی گھروں، پلوں اور دیگر بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران مذاکرات کی میز پر آ جائے، اس سے پہلے کہ بات چیت کے لیے کچھ باقی نہ رہے۔ اس کے جواب میں ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ "گالی اور گولی کے ماحول میں مذاکرات ممکن نہیں"۔

دلچسپ بات کہ پندرہ جولائی کو سخت لہجے میں ایران کو خبردار کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ ایرانی اور امریکی وفود نے ایک روز قبل عمان میں گیارہ گھنٹے مذاکرات کئے ہیں۔ تاہم ایرانی نائب وزیرِ خارجہ کاظم غریب آبادی نے اس دعوے کی فوری تردید کرتے ہوئے کہا کہ ایسی کوئی ملاقات نہیں ہوئی۔ یہ متضاد بیانات اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ پسِ پردہ رابطوں کا سلسلہ مکمل طور پر منقطع نہیں ہوا، لیکن دونوں فریق اسے عوامی سطح پر تسلیم کرنے سے گریز کر رہے ہیں۔

ایران میں حملوں کا دائرہ وسیع

ایرانی عسکری حکام کے مطابق 15 جولائی سے حملوں کا رخ شہری بنیادی ڈھانچے کی طرف بھی بڑھ گیا ہے۔ تہران کا دعویٰ ہے کہ بجلی گھروں، بندرگاہی تنصیبات اور مواصلاتی ڈھانچے کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، جس کے باعث بعض علاقوں میں بجلی کی قلت پیدا ہوئی ہے۔ ایرانی ذرائع نے اہواز، ایلام اور خوزستان میں ہسپتالوں، پانی کی فراہمی اور خوراک کے ذخائر کو نقصان پہنچنے کے دعوے بھی کئے ہیں۔

اٹھارہ جولائی کو الارزق (اردن) کے امریکی اڈے پر ایرانی ڈرون حملے میں ایک خاتون سپاہی اور ایک افسر سمیت سمیت تین امریکی فوجی ہلاک ہوگئے۔ اسکے دوسرے دن عراق کے الحریر اڈے پر حملے میں ایک امریکی فوجی ماراگیا۔ اس جانی نقصان پر صدر ٹرمپ شدید مشتعل ہیں اور انھوں نے خون کا بدلہ لینے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ رائٹرز کے مطابق برطانیہ کے امریکی اڈوں سے مزید لڑاکا اور بمبار طیارے خلیج بھیج دئے گئے ہیں۔ اسے پہلے ٹائمز آف اسرائیل نے خبر دی  تھی کہ دوران پرواز ایندھن بھرنے والے طیاروں (Refueling aircraft) کے کئی اسکواڈرن تل ابیب بھیجے جارہے ہیں۔

پاکستانی سرحد کے قریب نئی تشویش

اس بحران کا ایک اہم پہلو ایرانی بلوچستان میں بنپور کے قریب مبینہ امریکی میزائل حملے ہیں۔ ایرانی ذرائع کے مطابق اس حملے میں شہری ہلاکتیں ہوئیں۔ بنپور پاکستان کے ضلع چاغی کے قریب واقع ہے،چنانچہ اس پیش رفت نے اسلام آباد میں فطری تشویش پیدا کی ہے۔ اگر لڑائی سرحدی علاقوں تک پھیلتی ہے تو پاکستان کو سلامتی، پناہ گزینوں اور علاقائی سفارت کاری کے نئے مسائل ہو سکتے ہیں۔

خلیجی ممالک جنگ کے دائرے میں

ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر اس کے بنیادی ڈھانچے اور تیل کی برآمدات کو نشانہ بنایا گیا تو خطے میں کسی کے توانائی اثاثے محفوظ نہیں رہیں گے۔ اس تناظر میں اردن، بحرین اور کویت میں امریکی فوجی تنصیبات پر ایرانی میزائل اور ڈرون حملوں کیساتھ کوئت کے بجلی گھروں کو نشانہ بنانے کی خبریں آرہی ہیں۔ جنگ اب صرف ایران اور امریکہ تک محدود نہیں رہی، بلکہ ان خلیجی ریاستوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے رہی ہے جن کی سرزمین یا فضائی حدود مبینہ طور پر امریکی کارروائیوں کے لیے استعمال ہو رہی ہیں۔

باب المندب اور توانائی کی عالمی شہ رگ

ادھر یمنی حوثیوں نے اعلان کیا ہے کہ وہ سعودی عرب کے خلاف بحری ناکہ بندی نافذ کر رہے ہیں ہے۔ اعلان میں آبنائے باب المندب کو تمام عالمی جہازوں کے لئے بند کرنے کے جائے صرف سعودی جہاز رانی کو ہدف بنانے کی بات کی گئی ہے۔پورے باب المندب کو بند کرنے  سے یورپ، ایشیا اور افریقہ کے درمیان تجارت متاثر ہوتی اور  امکان تھا کہ امریکہ، یورپی ممالک اور علاقائی اتحادی ایک نیا بین الاقوامی بحری اتحاد قائم کر دیتے، جیسا کہ ماضی میں بحیرۂ احمر میں جہاز رانی کے تحفظ کے لیے کیا جا چکا ہے۔حوثیوں نے ایک ایسا راستہ اختیار کیا ہے جس میں زیادہ سے زیادہ معاشی دباؤ اور کم سے کم بین الاقوامی محاذ آرائی پیدا کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ یہ تنگ آبی راستہ بحیرہ احمر کو خلیج عدن کے ذریعے بحرِ ہند سے ملاتا ہے۔ اگر آبنائے ہرمز میں رکاوٹ پیدا ہو جائے تو سعودی تیل کی بڑی مقدار ایشیائی منڈیوں تک اسی راستے سے پہنچتی ہے۔

اسلام آباد مفاہمت کی ناکامی؟

صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ شدید حملوں کے باوجود سفارتی رابطے جاری ہیں، لیکن وہ خود جنگ بندی اور مبینہ "اسلام آباد مفاہمتی یادداشت" (Islamabad MOU) کے خاتمے کا اعلان کر چکے ہیں۔ تہران سے بھی ایسے اشارے مل رہے ہیں کہ سابقہ سفارتی فریم ورک اب مؤثر نہیں رہا۔

جے ڈی وانس کا غیر معمولی انکشاف

بظاہر آبنائے ہرمز میں ایک جہاز پر فائرنگ  جنگ بندی کے خاتمےاور اور MOUکی منسوخی کا سبب بنی لیکن اس حوالے سے امن مذاکرات میں امریکی وفد کے سربراہ,  نائب صدر  جے ڈی وانس نے چشم کشا انکشاف کئے ہیں۔معروف پوڈکاسٹر جو روگن (Joe Rogan)کو دئے گئے طویل انٹرویو میں انہوں نے دعویٰ کیا کہ اسرائیلی حکومت کے بعض حلقے ایران کے ساتھ جاری امن مذاکرات کو ناکام بنانے اور جنگ کو طول دینے کے لئے امریکی رائے عامہ پر اثر انداز ہونے کی کوشش کر رہے تھے۔ ان کے مطابق اس مقصد کے لیے ایک "منظم اور مالی وسائل سے بھرپور مہم" چلائی گئی۔وانس نے اسرائیل کی مذمت نہیں کی لیکن یہ مؤقف اختیار کیا کہ امریکی خارجہ پالیسی کا تعین واشنگٹن میں ہونا چاہیے نہ کہ کسی دوسرے ملک کے سیاسی مفادات کے زیرِ اثر۔ امریکی سیاست میں یہ بیان اس لئے غیر معمولی سمجھا جا رہا ہے کہ اعلیٰ سطح پر اسرائیل کے کردار پر اس قدر کھل کر تنقید اس سے پہلے نہیں سنی گئی ۔

نیتن یاہو کا مؤخر شدہ دورہ اور بیانیوں کی جنگ

اسی پس منظر میں اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے واشنگٹن کے مجوزہ دورے کا مؤخر ہونا بھی قابلِ توجہ ہے۔ اسرائیلی ذرائع کے مطابق صدر ٹرمپ کے ساتھ ملاقات حتمی شکل اختیار نہ کر سکی، جبکہ وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ ایسی کوئی باضابطہ ملاقات طے ہی نہیں ہوئی تھی۔

کیا دورے کی منسوخی واشنگٹن میں نیتن یاہو کے کم ہوتے ہوئے سیاسی اثر و رسوخ کی عکاس ہے؟ اس سلسلے ترکیہ کو F-35 طیاروں کی ممکنہ فروخت کی مثال دی جارہی ہے۔ دوسری جانب کچھ ماہرینِ امور مشرقِ وسطی کے نزدیک یہ ایک طرح کا "ہجرِ بالرضا" بھی ہو سکتا ہے۔ ان کے مطابق امریکہ ایران کے خلاف اپنی حالیہ عسکری کارروائیوں میں مبینہ طور پر اردن، کویت اور بحرین کی سرزمین، فضائی حدود اور اڈے استعمال کر رہا ہے، جس کے نتیجے میں یہ ممالک ایرانی جوابی حملوں کے خطرے سے دوچار ہیں۔

اسی دوران اسلامی دنیا میں ایک ایسا بیانیہ پروان چڑھایا جا رہا ہے کہ ایران، امریکہ کو براہِ راست نشانہ بنانے کے بجائے خلیجی ممالک کو نقصان پہنچا رہا ہے اور اسرائیل کی خواہش بھی یہی ہے کہ ایران و عرب ریاستیں ایک دوسرے کے مقابل آ جائیں تاکہ دونوں کی قوت کمزور ہو۔ اس کے برعکس تہران مسلسل یہ مؤقف اختیار کئے ہوئے ہے کہ اس کے خلاف تمام کارروائیوں کا اصل منصوبہ اسرائیل نے تیار کیا ہے، جبکہ امریکہ محض اس پر عمل درآمد کر رہا ہے۔ ایرانی قیادت اور سرکاری ذرائع میں یہ تاثر بھی نمایاں ہے کہ صدر ٹرمپ، نیتن یاہو کی پالیسیوں کے عملی نفاذ کا ذریعہ بن چکے ہیں۔ بعض مبصرین کا خیال ہے کہ اسی تاثر کو زائل کرنے کے لئے واشنگٹن اس مرحلے پر ایران کے خلاف حالیہ مہم میں اسرائیل کے نمایاں کردار سے گریز کر رہا ہے۔ بعض تجزیہ نکار اسی پس منظر میں  نیتن یاہو کے مؤخر شدہ دورے کو بھی دیکھ رہے ہیں، یعنی یہ تاثر قائم کرنے کی کوشش کہ موجودہ امریکی مہم کا مقصد اسرائیلی مفادات نہیں بلکہ ایران کے جوہری پروگرام پر دباؤ میں اضافہ اور آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کو یقینی بنانا ہے۔

امریکہ کا اصل ہدف کیا ہے؟

موجودہ جنگ کے بارے میں سب سے اہم سوال یہ ہے کہ امریکہ کا اصل ہدف کیا ہے۔ سرکاری طور پر واشنگٹن ایران کے جوہری پروگرام، افزودہ یورینیم اور آبنائے ہرمز میں محفوظ جہاز رانی کو اپنی ترجیحات قرار دیتا ہے۔ تاہم بعض عسکری مبصرین کا خیال ہے کہ ایرانی ساحلی تنصیبات، بندرگاہوں اور مواصلاتی ڈھانچے پر بڑھتے ہوئے حملے محض دفاعی نوعیت کے نہیں بلکہ ممکنہ طور پر مستقبل کی کسی بڑی فوجی کارروائی کی تیاری بھی ہو سکتے ہیں۔ابھی تک امریکہ نے زمینی فوجی مداخلت کا باضابطہ اعلان نہیں کیا، لیکن صدر ٹرمپ نے اسے مکمل طور پر خارج از امکان بھی قرار نہیں دیا۔ اس لئے قیاس آرائیاں جاری ہیں کہ آیا واشنگٹن صرف دباؤ بڑھانا چاہتا ہے یا ایران کی ساحلی صلاحیت کو مستقل طور پر کمزور کرنے کی حکمتِ عملی اختیار کر رہا ہے۔

یہ تنازع اب صرف ایران اور امریکہ کی لڑائی نہیں رہا، بلکہ مشرقِ وسطیٰ کے مستقبل، عالمی توانائی کے بہاؤ اور امریکی خارجہ پالیسی کی سمت کے بارے میں ایک بڑے سوال میں تبدیل ہو چکا ہے۔ آنے والے دن فیصلہ کریں گے کہ آیا یہ بحران محدود جنگ کی صورت میں تھم جائے گا، یا خطہ ایک ایسے تصادم کی طرف بڑھ رہا ہے جس کے اثرات دہائیوں تک محسوس کیے جائیں گے۔

ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل کراچی 24 جولائی 2026

ہفت روزہ دعوت دہلی 24 جولائی 2026

ہفت روزہ رہبر 26 جولائی 2026


 

Thursday, July 16, 2026

 

غزہ: امن کی امید یا جنگ کا نیا مرحلہ؟

حماس کی حکومتی دستبرداری کے باوجود حملے، قبضہ اور انسانی المیہ برقرار

جب حماس نے امن معاہدے کے تحت غزہ کی انتظامی حکومت تحلیل کرنے اور اختیارات ایک غیر جماعتی اللجنۃ الوطنیہ لادارۃ غزہ یاNational Committee for the Administration of Gaza (NCAG) کے سپرد کرنے پر آمادگی ظاہر کی تو یہ امید پیدا ہوئی کہ اب غزہ میں سول انتظامیہ بحال ہوگی، اسرائیلی فوج کے انخلا کی راہ ہموار ہوگی اور تعمیرِ نو کا عمل شروع ہو سکے گا۔ اس پیش رفت کو نہ صرف متعدد سفارتی حلقوں نے مثبت قرار دیا بلکہ NCAG کے سربراہ ڈاکٹر علی شعث نے بھی اعلان کیا کہ کمیٹی غزہ کی سول انتظامیہ سنبھالنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے، بشرطیکہ اسے کام کرنے کا موقع اور ضروری وسائل فراہم کیے جائیں۔ اسی طرح Board of Peace کے اعلیٰ نمائندے نکولائی ملادینوف نے بھی اسے ایک اہم پیش رفت قرار دیا تھا۔ لیکن اب تک زمینی صورتحال اس امید کی تائید نہیں کرتی۔ بظاہر وہ خدشہ درست ثابت ہو رہا ہے جس کا اظہار ڈاکٹر علی شعث نے ابتدا ہی میں کیا تھا کہ اگر نئی انتظامیہ کو اختیار اور وسائل نہ ملے تو یہ تبدیلی محض ایک علامتی اقدام بن کر رہ جائے گی۔

جنگ بندی کے باوجود شہری نشانہ

غزہ میں مزاحمتی گروہوں کے نسبتاً مصالحت آمیز روئے کے باوجود اسرائیلی فوجی کارروائیاں رکتی دکھائی نہیں دیتیں۔ خوراک اور پانی کے حصول کے لیے نکلنے والے شہری بھی محفوظ نہیں۔ گزشتہ ہفتے اپنے بچوں کے لئے پانی لینے جانے والے احمد سلامہ اسرائیلی فائرنگ میں جان سے گئے۔ احمد کی لاش کے قریب انکے خوف زدہ یتیم بچوں کی تصاویر نے دنیا بھر میں دل دہلا دینے والا منظر پیش کیا۔اسی ہفتے خان یونس کی ایک خیمہ بستی پر حملہ کیا گیا، جس کا ہدف حماس کے ترجمان حازم قاسم تھے۔ حملے میں چھ فلسطینی زندہ جل گئے، تاہم حازم قاسم محفوظ رہے۔

کھیل بھی محفوظ نہیں

غزہ میں اب کھیل اور تفریح کے لمحات بھی محفوظ نہیں رہے۔ نصیرات کے علاقے میں جب لوگ ایک بڑی اسکرین پر مصر اور ارجنٹینا کے درمیان فیفا مقابلہ دیکھ رہے تھے تو ڈرون حملے میں آٹھ افراد جاں بحق ہوگئے۔ فلسطینی ذرائع کے مطابق جاں بحق ہونے والوں میں آٹھ اور دس سال کے دو سگے بھائی، غزہ کمیٹی کے مصری رکن محمد الوحیدی اور وہ آئی ٹی ماہر بھی شامل تھے جس نے اسکرین پر میچ کی نمائش کا انتظام کیا تھا۔

غربِ اردن: کھلے آسمان تلے جیل خانے

غربِ اردن میں بھی پابندیاں مسلسل سخت ہوتی جا رہی ہیں۔ متعدد فلسطینی آبادیوں کے گرد آہنی باڑیں اور دروازے نصب کر دئے گئے ہیں، جہاں جامہ تلاشی کے بعد ہی آمدورفت ممکن ہے۔ بہت سے فلسطینی ان علاقوں کو "کھلے آسمان تلے جیل خانے" قرار دیتے ہیں۔

ادھر الخلیل (Hebron) میں مزید مکانات پر قبضے کی اطلاعات سامنے آئیں، جس کے نتیجے میں متعدد فلسطینی خاندان بے گھر ہوئے۔ انہی واقعات کا جائزہ لینے کے لئے  جب امریکی ریاست کیلیفورنیا سے ڈیموکریٹک رکنِ کانگریس رو کھنہ  جنوبی غربِ اردن کے گاؤں خربت زنوتہ (Khirbet Zanuta)  پہنچے تو مسلح اسرائیلی آبادکاروں نے ان کے قافلے کا راستہ روک لیا۔ رو کھنہ نے بتایا کہ آبادکار امریکی ساختہ M4 رائفلوں سے مسلح تھے اور انہیں ایک گھنٹے سے زائد عرصہ آگے نہیں جانے دیا گیا۔ بعد ازاں امریکی سفارت خانے اور اسرائیلی پولیس سے رابطے کے بعد راستہ کھلوایا گیا۔

اسرائیلی فوج نے تصدیق کی ہے کہ قبضہ گردوں  نے گاڑیوں کو روکا تھا، تاہم  عسکری اعلامئے میں اس بات کی تردید کی گئی کہ فوج نے امریکی وفد کو حراست میں لیا۔ بیان کے مطابق اہلکار موقع پر پہنچے، آبادکاروں کو منتشر کیا اور وفد کو آگے جانے دیا۔ بعد میں رو کھنہ نے بتایا کہ وہ اس گاؤں کا جائزہ لینے گئے تھے جہاں چند روز قبل آبادکاروں کے مبینہ حملے میں اسکول سمیت متعدد عمارتوں کو نقصان پہنچا تھا۔

یہ واقعہ صرف ایک امریکی رکن کانگریس کے ساتھ پیش آنے والا ناخوشگوار واقعہ نہیں، بلکہ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ نیتن یاہو حکومت کی جانب سے کھلی چھٹی نے ان انتہاپسندوں کو کیسا بیخوف کردیا ہے کہ اب یہ لوگ امریکہ کا فراہم کردہ اسلحہ لے کر امریکی ارکان کانگریس پر بھی جھپٹ رہے ہیں۔

اسرائیل کا داخلی بحران

دوسری جانب اسرائیل کے اندر بھی لازمی فوجی بھرتی کا بحران شدت اختیار کر رہا ہے۔ حفظِ توریت مدارس (Yeshiva) کے طلبہ کو فوجی خدمت سے حاصل استثنا ختم کرنے کی کوششوں کے خلاف ربائیوں اور طلبہ نے شدید احتجاج کیا۔ بعض مظاہرین فوجی اڈے بیت لِد کے مرکزی دروازے تک پہنچ گئے اور سکیورٹی حصار توڑنے کی کوشش کی۔

اسی دوران "سبت" کے نفاذ پر بھی مذہبی اور سیکولر حلقوں کے درمیان کشمکش بڑھ رہی ہے۔ مذہبی جماعتیں ہفتے کے روز کاروبار بند رکھنے پر زور دے رہی ہیں، جبکہ سیکولر حلقے اسے شہری آزادیوں میں مداخلت قرار دیتے ہیں۔ ہفتے کے دن کھلی دکانوں کے باہر مذہبی مظاہرے اور بند بازاروں کے سامنے سیکولر احتجاج اب معمول بنتے جا رہے ہیں۔

ستم ظریفی یہ ہے کہ جس معاشرے میں ہفتے کے روز کاروبار پر اتنا شدید اختلاف موجود ہے، وہاں جنگ اور بمباری کے لئے کسی اخلاقی یا مذہبی وقفے کی گنجائش کی بات نہیں ہوتی۔ اگر سبت آرام، عبادت اور حرمتِ جان کا دن ہے تواس کا اطلاق جنگی کارروائیوں پر بھی ہونا چاہئے

حماس کی انتظامی دستبرداری سے یہ امید پیدا ہوئی تھی کہ غزہ میں جنگ کے بجائے تعمیرِ نو کا مرحلہ شروع ہوگا، مگر زمینی حقائق اس کے برعکس دکھائی دیتے ہیں۔ حملے جاری ہیں، شہری اب بھی عدم تحفظ کا شکار ہیں، غربِ اردن میں پابندیاں مزید سخت ہو رہی ہیں اور اسرائیل خود اندرونی سیاسی و سماجی کشمکش سے گزر رہا ہے۔اگر نئی سول انتظامیہ کو اختیار، وسائل اور آزادیِ عمل نہیں ملتی، اور جنگ بندی صرف کاغذوں تک محدود رہتی ہے، تو خدشہ یہی ہے کہ غزہ ایک بار پھر سفارتی وعدوں اور انسانی المیوں کے درمیان پھنسا رہے گا۔ پائیدار امن صرف اس وقت ممکن ہے جب سیاسی معاہدوں کے ساتھ ان پر غیر جانب دارانہ عمل درآمد بھی یقینی بنایا جائے۔

ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل کراچی 17 جولائی 2026

ہفت روزہ ددعوت دہلی 17 جولائی 2026

ہفت روزہ رہبر سرینگر 19 جولائی 2026


 

ایران، امریکہ اور اسرائیل کشیدگی

عسکری قوت، سفارت کاری، بین الاقوامی قانون  اور اخلاقیات کا امتحان

رہبرِ انقلاب حضرت سید علی خامنہ ای کی تدفین کے بعد یہ تاثر پیدا ہو رہا تھا کہ ایران اور امریکہ ایک بار پھر مذاکرات کی میز پر واپس آ جائیں گے۔ دونوں جانب سے نسبتاً مثبت اشارے بھی مل رہے تھے۔ صدر ٹرمپ نے اپنے مخصوص طنزیہ انداز میں ایران کو "بگڑا ہوا بچہ" قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ تہران ان کی شرائط ماننے پر آمادہ ہے، جبکہ مالیاتی حلقوں میں یہ اطلاعات گردش کر رہی تھیں کہ ایرانی منجمد اثاثوں کی مرحلہ وار بحالی شروع ہونے والی ہے۔ لیکن چند ہی روز میں واقعات نے ایسا رخ اختیار کیا کہ جنگ بندی، مذاکرات، اعتماد سازی اور اب بین الاقوامی قانون بھی ایک نئے امتحان میں داخل ہو گئے۔

ہرمز میں فائرنگ اور کشیدگی کی نئی لہر

سات جولائی کو آبنائے ہرمز سے گزرنے والے قطری ایل این جی بردار جہاز Al Rekayyat پر ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی فائرنگ نے ماحول یکسر بدل دیا۔ ایرانی حکام نے اس کارروائی کا دفاع کرتے ہوئے عالمی جہاز رانی کمپنیوں کو متنبہ کیا کہ آبنائے سے گزرنے والے تمام جہاز مقررہ بحری راستے اختیار کریں۔ اسی روز امریکی فضائیہ نے ایران کے ساحلی علاقوں، سریک، جزیرہ قشم اور بندرعباس کے اطراف کارروائیاں کیں، تو دوسری طرف امریکی وزارت تجارت نے کچھ ہی عرصہ پہلے جاری ہونے والا وہ حکم نامہ معطل کردیا جسکے تحت ایرانی تیل کی فروخت پر پابندی ختم کی گئی تھی۔ امریکی حملوں کے جواب میں ایران نے اردن،  کوئت اور بحرین کے امریکی اڈوں کی جانب میزائیل داغ دئے۔ دوسرے دن ایران پر امریکی بمباری سےچاہ بہار بندرگاہ کے ایک حصے میں آگ لگ گئی۔ جواب میں ایران نے متحدہ عرب امارات، کوئت، قطر اور بحرین  کے علاوہ عمان کی دقم بندرگاہ کو نشانہ بنایا، ایراانیوں کا دعویٰ ہے کہ امریکی بحری جہاز اس بندرگاہ سے ایندھن حاصل کرتے ہیں۔ اسی کیساتھ ایران نے آبنائے ہرمز کو 5 روز کیلئے مکمل طور پر بند کردینے کا اعلان کیا۔ کشیدگی میں مزید شدت اسوقت پیدا ہوئی جب اسرائیلی میڈیا نے انکشاف کیا کہ ایران پر حملوں میں اسرائیلی فضائیہ بھی حصہ لینےکو تیار ہے اور وزیراعظم نیتن یاہو،  ٹرمپ کی اجازت کا انتظار کررہے ہیں۔ یوں چند دنوں میں اعتماد سازی کا ماحول دوبارہ عسکری محاذ آرائی میں تبدیل ہوگیا۔

جنگ بندی اور یادداشتِ اسلام آباد ختم شد؟؟

نیٹو کے سکریٹری جنرل کے ہمراہ انقرہ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہاکہ یادداشتِ اسلام آباد اور جنگ بندی ختم ہوچکی۔ ایرانی قائدین 'غلیظ لوگ' ہیں۔ ہم اب ایران پر مزید اور شدید حملے کرینگے۔ اسی سانس میں موصوف نے یہ بھی فرمایا کہ جنگ بندی ختم لیکن امن بات چیت جاری رہیگی۔ چنانچہ شدید کشیدگئ میں ثالثوں نے کام جاری رکھا اور  سفارتی رابطے مکمل طور پر منقطع نہیں ہوئے۔ امریکی ذرائع ابلاغ کے مطابق نائب صدر جے ڈی وانس، وزیر خارجہ مارکو روبیو، خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور دامادِ اول جیرڈ کشنر پر مشتمل وفد قطر کے ذریعے مذاکرات کے لیے تیار تھا۔ دوسری طرف ایرانی خبر رساں ایجنسی فارس نے ایک ذریعے کے حوالے سے کہا کہ تہران اس وقت تک باضابطہ مذاکرات شروع نہیں کرے گا جب تک واشنگٹن جنگ بندی اور یادداشتِ اسلام آباد کے بارے میں اپنے حالیہ مؤقف سے رجوع نہیں کرتا۔ ایران کے نزدیک اعتماد کی بحالی کسی بھی نئے معاہدے کی بنیادی شرط ہے۔

اسی دوران عمان بھی، پاکستان اور قطر کے ساتھ ثالثی کے عمل میں سرگرم دکھائی دیا۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے دورہِ مسقط کو اسی سفارتی کوشش کا حصہ قرار دیا گیا، جہاں آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کے تحفظ سمیت متعدد عملی امور زیرِ بحث آئے۔

صدر ٹرمپ کے  قتل کی سازش!!!

امن کی کوششوں کے دوران ایک اور حساس موڑ اس وقت آیا جب اسرائیلی انٹیلی جنس ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا گیا کہ ایران صدر ٹرمپ کو نشانہ بنانے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔ اس خبر کے بعد صدر ٹرمپ نے انتہائی سخت لہجہ اختیار کرتے ہوئے کہا کہ اگر انہیں قتل کیا گیا تو "پورا ایران تباہ کر دیا جائے گا۔"

یہ دعویٰ اپنی نوعیت میں نہایت سنگین تو ہے، لیکن اب تک اس کے حق میں کوئی آزاد اور قابلِ اعتماد ثبوت سامنے نہیں آیا۔ اطلاعات کے مطابق اس تاثر کی بنیاد ایرانی قیادت کی تقاریر، رہبرِ انقلاب کے جنازے میں لگائے گئے نعروں اور بینروں کو بنایا گیا ہے۔ تاہم ایران میں "مرگ بر امریکہ" اور "مرگ بر اسرائیل" کے نعرے 1979ء کے انقلاب کے بعد سے ریاستی اور عوامی سیاسی بیانئے کا حصہ رہے ہیں۔ ان نعروں کو اشتعال انگیز ضرور کہا جا سکتا ہے، لیکن انہیں ازخود کسی قتل کی عملی سازش کا ثبوت قرار دینا ایک الگ دعویٰ ہے جس کے لیے ٹھوس شواہد درکار ہیں۔یہ بھی حقیقت ہے کہ گزشتہ ایک برس کے دوران صدر ٹرمپ پر ہونے والی تمام مبینہ قاتلانہ کوششوں کی تحقیقات میں اب تک کسی غیر ملکی ریاست یا تنظیم کے ملوث ہونے کا مصدقہ ثبوت سامنے نہیں آیا۔ کشیدگی صرف ایک جانب سے نہیں بڑھ رہی۔ امریکی اور اسرائیلی رہنما بھی کئی مواقع پر ایرانی قیادت کے خلاف سخت زبان استعمال کر چکے ہیں۔ صدر ٹرمپ کا یہ بیان کہ امریکہ چاہتا تو ایرانی قیادت کو ایک ہی حملے میں نشانہ بنا سکتا تھا، یا یہ کہنا کہ ان کی ہلاکت کی صورت میں پورا ایران تباہ کر دیا جائے گا، سفارتی ماحول کو مزید پیچیدہ بناتا ہے۔ ایسے بیانات مذاکرات کے بجائے بداعتمادی کو فروغ دیتے ہیں۔

جوہری پروگرام: نئی بحث

چند روز پہلے امریکی نشریاتی ادارے CNN نے سیٹلائٹ تصاویر کی بنیاد پر دعویٰ کیا کہ ایران اپنی متاثرہ جوہری تنصیبات کی بحالی کی کوشش کر رہا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ اگر یہ سرگرمیاں درست ثابت ہوئیں تو انہیں یادداشتِ اسلام آباد کی روح سے متصادم سمجھا جا سکتا ہے۔ تاہم اس رپورٹ میں ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق موجود نہیں،لہذا حتمی نتیجہ اخذ کرنا قبل از وقت ہوگا۔

راہداری محصول ایک نئی قانونی بحث

اسی کشیدگی کے دوران آبنائے ہرمز ایک نئے قانونی اور سفارتی تنازع کا مرکز بن گئی۔ ابتدا میں ایران کی جانب سے اس بین الاقوامی آبی شاہراہ  سے گزرنے والے جہازوں پر راہداری محصول (Toll) عائد کرنے کی تجویز سامنے آئی، جس پر اقوامِ عالم نے یہ اعتراض کیا کہ کسی بھی ریاست کو بین الاقوامی آبی گزرگاہ پر یک طرفہ مالی پابندی عائد کرنے کا اختیار حاصل نہیں۔ اس کے جواب میں گزشتہ ہفتے صدر ٹرمپ نے اعلان کیا کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر "20 فیصد تلافی محصول (Reimbursement Fee)"عائد کیا جائیگا۔ ابتدا میں یہ اقدام ایران کے مجوزہ ٹول کا جواب محسوس ہوا، تاہم 13 جولائی کو صدر ٹرمپ نے وضاحت کی کہ امریکہ اس بین الاقوامی آبی گزرگاہ کو کھلا اور محفوظ رکھنے کی بھاری جانی و مالی قیمت ادا کر رہا ہے، لہٰذا اس راستے سے اپنے تجارتی مفادات حاصل کرنے والے خوش حال ممالک، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، بحرین اور کویت کو امریکی فوجی کارروائیوں کے اخراجات کی تلافی (Reimbursement) کرنی چاہئے۔ یہ دلیل سیاسی طور پر قابلِ فہم ہو سکتی ہے، لیکن قانونی اعتبار سے اس پر بھی وہی سوالات اٹھتے ہیں جو ایران کی مجوزہ راہداری فیس پر اٹھائے گئے تھے۔ آبنائے ہرمز کسی ایک ریاست کی نجی گزرگاہ نہیں بلکہ ایک عالمی آبی شاہراہ ہے، جہاں جہاز رانی کی آزادی بین الاقوامی قانون کا بنیادی اصول سمجھی جاتی ہے۔ اگر ایران کا یک طرفہ راہداری لگان قابلِ اعتراض ہے تو امریکہ کی جانب سے یک طرفہ مالی وصولی کی تجویز بھی اسی قانونی پیمانے پر پرکھی جانی چاہئے۔

اس معاملے کا ایک امریکی آئینی پہلو بھی ہے۔ امریکی دستور کے مطابق نئے وفاقی ٹیکس یا محصول کے نفاذ کے لئے کانگریس سے قانون سازی ضروری ہے۔ چنانچہ اگر یہ اعلان محض سیاسی بیان نہیں بلکہ عملی پالیسی میں تبدیل کرنا مقصود ہو تو اسے آئینی اور قانونی مراحل سے گزرنا ہوگا۔ اس میں ایک دلچسپ تاریخی ستم ظریفی بھی پوشیدہ ہے۔ امریکی آزادی کی تحریک کا آغاز 1773ء کی مشہور Boston Tea Party سے جوڑا جاتا ہے، جس کا بنیادی نعرہ "No Taxation Without Representation" تھا، یعنی نمائندگی کے بغیر ٹیکس قبول نہیں۔ دو سو پچاس برس بعد عالمی تجارت پر یک طرفہ مالی بوجھ ڈالنے کی بحث اس تاریخی اصول کی نئی تعبیر سامنے لا رہی ہے۔

ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان موجودہ کشیدگی صرف میزائلوں اور فضائی حملوں کی جنگ نہیں، بلکہ اطلاعات، انٹیلی جنس دعوؤں، نفسیاتی  و معاشی دباؤ، سفارتی چالوں اور بین الاقوامی قانون کی تعبیرات کی جنگ بھی  ہے۔ یہی وجہ ہے کہ شدید عسکری کارروائیوں کے باوجود مذاکرات کے دروازے مکمل طور پر بند نہیں ہوئے۔

اصل سوال اب یہ نہیں کہ کون زیادہ سخت بیان دیتا ہے یا کس کے پاس زیادہ طاقت ہے، بلکہ یہ ہے کہ کیا عالمی برادری ایک ہی قانونی اصول کو تمام فریقوں پر یکساں طور پر نافذ کر پائے گی؟ اگر ہر غیر مصدقہ دعوے کو جنگ کا جواز، ہر اقتصادی اقدام کو سیاسی ہتھیار اور ہر بین الاقوامی اصول کو صرف مخالفین کے لیے مخصوص معیار بنا دیا گیا تو امن کا راستہ مزید طویل اور پیچیدہ ہو جائے گا۔

ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل کراچی، 17 جولائی 2026

ہفت روزہ دعوت دہلی 17 جولائی 2026

ہفت روزہ رہبر سرینگر 19 جولائی 2026


Friday, July 10, 2026

 

امن کی میز اور جنگ کی زبان

ایران، امریکہ اور اعتماد کا بحران

ایران کے  رہبرِ معظم حضرت آیت اللہ سید علی خامنہ ای اور ان کے خاندان کے چار افراد کی نمازِ جنازہ تہران میں ادا کردی گئی۔ اس موقع پر پاکستانی وزیراعظم، نائب افغان وزیراعظم ملا عبدالغنی برادر سمیت ایک سو سے زائد ممالک کے سرکاری نمائندوں اور متعدد اسلامی تحریکوں کے قائدین نے شرکت کی۔ ایرانی میڈیا کے مطابق لاکھوں افراد اس تاریخی جنازے میں شریک ہوئے۔ مرحوم کے صاحبزادگان مسعود خامنہ ای، میثم خامنہ ای اور مصطفیٰ خامنہ ای جنازے میں موجود تھے، تاہم بڑے صاحبزادے اور موجودہ رہبرِ معظم مجتبیٰ خامنہ ای دکھائی نہیں دئے۔ آیت اللہ خامنہ ای 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ فضائی حملے میں اپنی بہو اور دو پوتوں سمیت جاں بحق ہوئے تھے۔ خیال ہے کہ میت کی نجف و کربلا زیارت کے بعد انکی تدفین مشہد میں ہوگی۔

صدر ٹرمپ کا متنازع بیان

جنازے کے موقع پر ایک امریکی خبررساں ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایرانی عوام کو آیت اللہ خامنہ ای پر گریہ کرتے دیکھ کر انہیں حیرت ہوئی، ممکن ہے یہ "بناوٹی آنسو" ہوں، اس لیے کہ لوگ ان سے نفرت کرتے تھے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر امریکہ چاہتا تو اس موقع پر جمع پوری ایرانی قیادت کو ایک ہی حملے میں نشانہ بنا سکتا تھا، لیکن ایسا نہیں کیا کیونکہ پھر مذاکرات کے لیے کوئی باقی نہ رہتا۔امریکی آزادی کی 250ویں سالگرہ پر خطاب کرتے ہوئے بھی صدر ٹرمپ نے کہا: "وینزویلا کو دیکھیں، ایران کو دیکھیں، ہم نے اسے تباہ کر دیا۔ دنیا کی سب سے طاقتور فوج امریکہ کے پاس ہے۔"

اس وقت جب دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات مثبت سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں تو ایسے موقع پر اس نوعیت کے اشتعال انگیز اور دھمکی آمیز بیانات سفارتی ماحول کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ خصوصاً ایرانی قیادت کو بالواسطہ قتل کی دھمکی، اعتماد سازی کی کوششوں سے مطابقت نہیں رکھتی۔

نیویارک ٹائمز کی رپورٹ اور بڑھتی بداعتمادی

اس سے قبل نیویارک ٹائمز نے موجودہ اور سابق امریکی حکام کے حوالے سے انکشاف کیا تھا کہ اسرائیل، ایرانی مذاکرات کاروں، خصوصاً عباس عراقچی اور محمد باقر قالیباف، کو ممکنہ طور پر نشانہ بنانے پر غور کر رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اسی خدشے کے پیش نظر امریکی حکام نے مشرقِ وسطیٰ کے بعض میزبان ممالک کے ذریعے تہران کو غیر رسمی انتباہ بھی پہنچایا تاکہ جنگ بندی اور سفارتی عمل متاثر نہ ہو۔

رپورٹ میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا کہ عراقچی اور قالیباف مبینہ طور پر اسرائیل کی ممکنہ ہدفی فہرست (hit list)میں شامل ہیں اور ان کے طیارے کو بھی خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔ اگرچہ ان اطلاعات کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی، تاہم صدر ٹرمپ کے حالیہ بیانات نے پہلے سے موجود بداعتمادی کو مزید گہرا کر دیا ہے۔

ایران کا ردعمل

گزشتہ ہفتے ایرانی سرکاری ٹی وی سے باتیں کرتے ہوئے ایرانی اسپیکر باقر قالیباف نے کہا کہ امریکہ سے مذاکرات ایک مسلسل کشمکش ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ ہم دوست سے نہیں بلکہ ایسے مکار دشمن کے سامنے بیٹھے ہیں جو ہم پر حملہ کرنے کیلئے موقع کی تاک میں ہے۔ اپنے قائدین کو اسرائیلی وزیردفاع کی جانب سے قتل کی دھمکی پر ایرانی وزیرخارجہ بھی شدید ردعمل کا اظہار کرچکے ہیں۔ اپنے ٹویٹ میں جناب عباس عراقچی نے کہاکہ یادداشتِ اسلام آباد کے مطابق یہ امریکی صدر کی ذمہ داری ہے کہ وہ تل ابیب میں اپنے پالتو کو قابو میں رکھیں۔ اگر وہ مالک سے کنٹرول نہیں ہوگا تو ایران اُسے پٹہ ڈالے گا۔

امریکہ کے اندر بھی اختلاف

ایران پر حالیہ امریکی حملوں کے بعد صرف تہران ہی نہیں بلکہ واشنگٹن میں بھی اختلافی آوازیں بلند ہو رہی ہیں۔ ڈیموکریٹ رکنِ کانگریس رو کھنہ نے ان کارروائیوں کو کانگریس کی حالیہ وار پاورز (War Powers)قرارداد کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے خبردار کیا ہےکہ اگر ایسے حملے جاری رہے تو وہ اس معاملے کو عدالت لے جائیں گے۔ یہ ردعمل اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ ایران سے متعلق امریکی پالیسی پر داخلی سطح پر بھی مکمل اتفاقِ رائے موجود نہیں۔

مذاکرات جاری، مگر زبان اب بھی جنگ کی

اگرچہ امریکہ اور ایران کے درمیان ثالث ممالک کی نگرانی میں اسلام آباد MOU پر عمل درآمد اور ایک جامع امن معاہدے کے لیے مذاکرات جاری ہیں، لیکن دونوں جانب سے آنے والے سیاسی بیانات سفارتی پیش رفت کو مسلسل متاثر کر رہے ہیں۔ صدر ٹرمپ نے گزشتہ ہفتے CNBC سے گفتگو میں مذاکرات پر اطمینان کا اظہار کیا، تاہم ساتھ ہی یہ دعویٰ بھی کیا کہ امریکہ نے ایران کو "شکستِ فاش" دی ہے، اس کے بیشتر میزائل تباہ کر دیے اور "بگڑا ہوا بچہ" امریکی شرائط ماننے پر آمادہ ہو چکا ہے۔

اصل مسئلہ جوہری پروگرام نہیں اعتماد ہے

ایران مسلسل یہ مؤقف دہراتا آیا ہے کہ وہ جوہری ہتھیار بنانے کا خواہش مند نہیں اور افزودہ یورینیم کے مسئلے کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنا چاہتا ہے۔ اس تناظر میں موجودہ مرحلے پر اصل چیلنج مذاکرات  نہیں بلکہ باہمی اعتماد کی بحالی ہے۔ ایرانی قیادت واضح کر چکی ہے کہ کسی بھی جامع معاہدے میں پیش رفت کا انحصار یادداشتِ اسلام آباد پر عملی عمل درآمد سے مشروط ہے۔ تہران کے نزدیک اس یادداشت کا سب سے اہم اور فوری نکتہ ایران کے منجمد مالی اثاثوں کی واپسی ہے۔ صدر ٹرمپ خود کہہ چکے ہیں کہ یہ اثاثے بنیادی طور پر ایران کے ہیں جنھیں واپس ہونا چاہئے لیکن امریکہ میں صدر ٹرمپ کے سیاسی مخالفین ان اثاثوں کی واپسی کو ایران کے سامنے امریکی پسپائی سے تعبیر کررہے ہیں۔ یہی داخلی دباؤ واشنگٹن کے لئے اس معاملے کو مزید پیچیدہ بنا رہا ہے۔

ایران اور امریکہ کے درمیان موجودہ مذاکرات شاید گزشتہ کئی برسوں کا سب سے اہم سفارتی موقع ہیں، لیکن امن صرف گفتگو سے قائم نہیں ہوتا بلکہ اس کے لیے سیاسی ضبط، ذمہ دارانہ طرزِ بیان اور باہمی اعتماد ناگزیر  ہیں۔ جب مذاکرات کی میز پر بیٹھے فریق ایک دوسرے کو دھمکیاں دیتے رہیں یا اپنے حلیفوں کو بے لگام چھوڑ دیں تو ہر مثبت پیش رفت ایک نئے بحران کی نذر ہو سکتی ہے۔اسلام آباد یادداشت ہو یا مستقبل کا کوئی جامع معاہدہ، اس کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ دونوں فریق طاقت کے بجائے اعتماد کی زبان اختیار کر پاتے ہیں یا نہیں۔

ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل کراچی 10 جولائی 2026

ہفت روزہ دعوت دہلی 10 جولائی 2026

ہفت روزہ رہبر سرینگر 12 جولائی 2026