Thursday, May 14, 2026

 

ایران۔امریکہ کشمکش: سفارتکاری، جنگ بندی اور اعصاب کی جنگ

تہران کا مدلل جواب، ٹرمپ کی دھمکیاں اور مشرقِ وسطیٰ میں طاقت کے توازن کی نئی کشمکش

ایران نے 10 مئی کو امریکہ کی 14 نکاتی مفاہمتی یادداشت (MOU) کا جواب پاکستان کے ذریعے واشنگٹن پہنچا دیا۔ سرکاری خبر رساں ایجنسی IRNA کے مطابق تہران نے واضح کیا ہے کہ کسی بھی پیش رفت کیلئے لبنان سمیت سارے مشرق وسطیٰ میں غیر مشروط جنگ بندی، آبنائے ہرمز پر تہران کا مکمل اختیار اور ایرانی تیل پر عائد پابندیوں کا خاتمہ ضروری ہے۔ایران کے جوہری پروگرام پر گفتگو کو خطے میں امن کی بحالی سے مشروط کیا گیا ہے۔

ایران کا یہ جواب زبان اور اسلوب، دونوں اعتبار سے شائستہ، مدلل اور منطقی دکھائی دیتا ہے۔ تہران کا بنیادی مؤقف یہ ہے کہ جب پورا خطہ جنگ کے دہانے پر کھڑا ہو تو ایسے ماحول میں کسی کلیدی قومی منصوبے پر بامقصد مذاکرات کیسے ممکن ہیں؟ جہاں تک جوہری ہتھیار نہ بنانے کا تعلق ہے تو ایران 2015 کے معاہدہِ برجام (JCPOA) کی صورت میں امریکہ سمیت عالمی طاقتوں کو یہ یقین دہانی پہلے ہی کراچکا ہے۔ ایرانی سندیسہ ملتے ہی اپنے نجی سوشل میڈیا پلیٹ فارم TRUTH پر صدر ٹرمپ نے لکھا: “یہ جواب یکسر ناقابلِ قبول ہے۔” اس سے قبل اخباری نمائندوں سے گفتگو میں امریکی صدر مفاہمتی یادداشت کا “تسلی بخش جواب” نہ ملنے کی صورت میں “Project Freedom PLUS” شروع کرنے کی دھمکی بھی دے چکے تھے۔ اسرائیل کی جانب سے اگرچہ تاحال کوئی باضابطہ ردِعمل سامنے نہیں آیا، تاہم نیتن یاہو مسلسل یہ دہرا رہے ہیں کہ “جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی”۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ سفارتکاری اور عسکری دباؤ ایک ساتھ استعمال ہورہے ہیں؛ ایک ہاتھ میں مفاہمتی یادداشت، دوسرے میں چمکتے ہتھیار۔

جواب میں تاخیر اور پھر جوہری پروگرام کے معاملے کو پورے مشرقِ وسطیٰ میں مکمل جنگ بندی سے مشروط کرنے کا مطلب یہ ہے کہ تہران وقت کو اپنے حق میں استعمال کررہا ہے۔امریکی خفیہ ادارے CIA کے بعض تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ نصف صدی سے پابندیوں، دباؤ اور معاشی آزمائشوں کی عادی ایرانی معیشت امریکی ناکہ بندی کا بوجھ طویل عرصے تک برداشت کرسکتی ہے۔ ایران کے وزیرِ تیل محسن پاک نژاد نے دعویٰ کیا ہے کہ بمباری اور بعض تنصیبات کو نقصان پہنچنے کے باوجود تیل و گیس کی پیداوار اور برآمدات معمول کے مطابق جاری ہیں۔ اگرچہ اس دعوے کی آزادانہ تصدیق ممکن نہیں، لیکن پابندیوں کے طویل تجربے نے ایرانیوں کو متبادل نظام، فوری مرمت اور محدود وسائل میں بقا کا ہنر ضرور سکھا دیا ہے۔

دوسری طرف آبنائے ہرمز کی ممکنہ بندش سے پیدا ہونے والا عالمی دباؤ، تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور مہنگائی کے خدشات خود امریکی عوام کیلئے بھی ایک نئی آزمائش بنتے جارہے ہیں۔ واشنگٹن کے بعض حلقوں میں یہ سوال ابھر رہا ہے کہ صدر ٹرمپ امریکی قوم کو “بس چند دن اور” کے لالی پاپ پر آخر کب تک مطمئن رکھ سکیں گے؟

صدر ٹرمپ کے آتشیں بیانات اور ایرانی قیادت، خصوصاً پارلیمان کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کی طنزیہ چٹکیوں کے باوجود ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی ابھی تک ایک نازک توازن کے ساتھ قائم ہے۔ گزشتہ ہفتے صورتحال اس وقت اچانک بگڑتی محسوس ہوئی جب صدر ٹرمپ نے “Project Freedom” کے نام سے ایک نئی بحری مہم کا اعلان کیا، جس کے تحت آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں کو امریکی بحری تحفظ فراہم کرنے کی پیشکش کی گئی۔ اپنے مخصوص جارحانہ انداز میں امریکی صدر نے خبردار کیا کہ “اگر ہمارے جہازوں پر حملہ ہوا تو ایران کو دنیا کے نقشے سے مٹا دیا جائے گا۔

آبنائے ہرمز: طاقت آزمائی کا نیا مرحلہ

اطلاعات کے مطابق دو امریکی پرچم بردار جہاز بخیریت آبنائے سے گزر گئے، تاہم ایرانی کشتیوں کی مبینہ فائرنگ کے بعد کئی تجارتی جہازوں نے سفر مؤخر کردیا۔ ایرانی بحریہ کا دعویٰ ہے کہ امریکی جنگی جہازوں نے جاسک بندرگاہ کی جانب پیش قدمی کی کوشش کی جسے ناکام بنادیا گیا۔ اس کے بعد امریکی فضائیہ نے بندر عباس اور جزیرہ قشم کے اطراف اہداف پر حملے کئے، جبکہ جواباً ایران نے  متحدہ عرب امارات کے فجیرہ آئل ٹرمینل اور آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بعض جہازوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا۔ خلیجِ عمان میں تیل بردار جہاز Ocean Koi پر قبضے اور فرانسیسی جہاز CMA-CGM San Antonio کو نقصان پہنچنے کی اطلاعات نے عالمی منڈیوں میں بے چینی پیدا کردی۔

بحری مہم Project Freedom کی معطلی اور سفارتکاری کا دباؤ

سات مئی کو صدر ٹرمپ نے اچانک “Project Freedom” معطل کرنے کا اعلان کردیا۔ ان کے مطابق یہ فیصلہ پاکستان کے فیلڈ مارشل عاصم منیر کی درخواست پر کیا گیا، جنہوں نے سفارتکاری کو مزید موقع دینے کا مشورہ دیا تھا۔ تاہم امریکی میڈیا، خصوصاً NBCنے دعویٰ کیا کہ سعودی عرب نے ایران کے خلاف کارروائی کیلئے اپنی فضائی حدود اور اڈے استعمال کرنے سے انکار کردیا تھا، جس کے بعد واشنگٹن کو قدم پیچھے ہٹانا پڑا۔

اس پر ایرانی پارلیمان کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے طنزیہ انداز میں X پر لکھا “Operation Trust Me Bro ناکام ہوگیا، اب معاملات ‘Operation Fauxios’ کے ساتھ معمول پر آرہے ہیں۔یعنی پہلے “بھائی جان یقین کرو” والا آپریشن ناکام ہوا، اب “خبروں اور دعووں” کے ذریعے ماحول بنایا جارہا ہے،  Fauxios غالباً Fox News اور Axios کی طرف اشارہ تھا۔ ایرانی قیادت کے بیانات طنز، اعتماد اور شگفتگی سے مزین نظر آتے ہیں  جبکہ واشنگٹن کے بیانات میں غصہ اور اضطراب جھلک رہا ہے۔ شکست خوردگی اکثر سب سے پہلے متانت اور شائستگی کو متاثر کرتی ہے۔

قطر، پاکستان اور ممکنہ بڑا امن منصوبہ

اس دوران ایک اہم سفارتی پیشرفت بھی سامنے آئی۔امریکی وزیرخارجہ مارکو روبیو اور صدر ٹرمپ کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکاف  نے امریکی شہر میامی (Miami)میں قطری وزیراعظم محمد بن عبدالرحمان الثانی سے ملاقات کی، جہاں ایران مذاکرات سمیت خطے کی مجموعی صورتحال پر گفتگو ہوئی۔

بظاہر یہ ایک رسمی ملاقات تھی، مگر اس کے پس منظر میں کہیں بڑی تصویر ابھرتی دکھائی دیتی ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ صدر ٹرمپ، پاکستان کے ثالثی کردار کو برقرار رکھتے ہوئے قطر اور ایران کے تعلقات سے فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں۔ دوحہ اس سے قبل غزہ، افغانستان اور ایران۔امریکہ قیدیوں کے تبادلوں میں اہم کردار ادا کرچکا ہے۔ سفارتی حلقوں کے مطابق واشنگٹن اب ایک ایسے جامع فریم ورک کی تلاش میں ہے جس میں غزہ، ایران، افغانستان اور خلیجی سلامتی کے معاملات کو ایک بڑی مفاہمتی ترتیب میں سمویا جاسکے۔

امریکی حلقے یہ تاثر دے رہے ہیں کہ ایران کی خاموشی اندرونی اختلافات کا نتیجہ ہے، مگر بظاہر ایسا لگتا ہے کہ تہران خود کو میدان اور میز، دونوں جگہ نسبتاً بہتر پوزیشن میں محسوس کررہا ہے اور تنازعے کا اختتام اپنی شرائط کے قریب تر چاہتا ہے۔

جنگی جرائم کا خوف اور فوجی قیادت کو پیغام

واشنگٹن میں ایک اور دلچسپ بحث بھی جنم لے رہی ہے۔ امریکی سینیٹ کے 12 ڈیموکریٹ ارکان نے اسرائیلی فوج کی جانب سے ایران اور لبنان میں بڑے پیمانے پر “Mass Evacuation Orders” پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے براہِ راست امریکی مرکزی کمان CENTCOM کے سربراہ امیر البحر (ایڈمرل) بریڈ کوپر کو خط لکھا ہے۔

اہم بات یہ ہے کہ یہ خط صدر، وزیرِ جنگ یا وزیرِ خارجہ کو نہیں بلکہ براہِ راست فوجی کمانڈر کو بھیجا گیا۔ بعض مبصرین کے مطابق اس کا مقصد عسکری قیادت کو یہ باور کرانا ہے کہ “صرف احکامات کی تعمیل” مستقبل میں قانونی یا اخلاقی ذمہ داری سے بری الذمہ ہونے کیلئے کافی نہیں ہوگی۔ یہ پیشرفت اس امر کی علامت ہے کہ واشنگٹن میں پہلی بار یہ خوف سنجیدگی سے محسوس کیا جارہا ہے کہ اگر کل جنگی جرائم کے سوالات اٹھے تو تاریخ صرف سیاسی قیادت ہی نہیں بلکہ فوجی کمان سے بھی جواب طلب کرسکتی ہے۔

اوباما کا اعتراف اور امریکی سیاست پر اسرائیلی اثر

امریکی حکومت کے فیصلوں پر اسرائیلی حکومت کس قدر اثر انداز ہوتی ہے ہے۔ اسکا اندازہ سابق صدر بارک حسین اوبابا کے ایک بیان سے ہوتا ہے۔ امریکی جریدے  The New Yorkerکو انٹرویو دیتے ہوئے انھوں نے انکشاف کیا  کہ اسرائیلی وزیرِ اعظم بن یامین نیتن یاہو نے ایک دہائی قبل انہیں بھی ایران پر حملے کیلئے قائل کرنے کی کوشش کی تھی۔انکا خیال ہے کہ اسرائیلی وزیراعظم نے ایران کے خلاف جنگ شروع کرنے کیلئے صدر ٹرمپ کو انھیں دلائل سے آمادہ  کیا جو نیتن یاہو نے انھیں پیش کئے تھے۔جناب اوباما کو اس بات پر شدید تحفظات تھے کہ ایران کے خلاف فوجی کارروائی مؤثر ثابت ہوگی، اور ان کے بقول وقت نے ان کے اس تجزیے کو درست ثابت کیا۔ سابق امریکی صدر نے یہ اہم سوال بھی اٹھایا کہ آیا ایسی پالیسی امریکہ اور اس کے عوام کے مفاد میں ہے یا نہیں۔ یہ سوال صرف امریکہ کیلئے نہیں بلکہ پوری دنیا کیلئے اہم ہے، کیونکہ جب عالمی طاقتوں کے فیصلے جنگ اور امن کے بجائے سیاسی دباؤ اور مفادات کے تابع ہوجائیں تو اس کی قیمت ہمیشہ عام انسان ادا کرتا ہے۔

ایران اور امریکہ کی یہ کشمکش اب صرف عسکری یا جغرافیائی تنازع نہیں رہی، بلکہ یہ اعصاب، برداشت، معیشت اور بیانئے کی جنگ بن چکی ہے۔ صدر ٹرمپ ایک ساتھ دو راستوں پر چلتے دکھائی دیتے ہیں؛ ایک طرف دھمکیاں، بحری ناکہ بندی اور فوجی دباؤ، دوسری طرف پسِ پردہ سفارتکاری، ثالثی اور مفاہمت کی کوششیں۔دیکھنا ہے کہ کون زیادہ دیر اعصاب قابو میں رہ کر کھڑا رہ سکتا ہے۔

ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل کراچی 15 مئی 2026

ہفت روزہ دعوت دہلی 15 مئی 2026

ہفت روزہ رہبر سرینگر 17 مئی 2026


Thursday, May 7, 2026

 

جنگ بندی کے سائے میں جنگ

لبنان و غزہ: سفارت کاری کی ناکامی یا طاقت کی نئی حکمتِ عملی؟

عبوری جنگ بندیوں اور سفارتی بیانات کے شور میں مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر اس حقیقت کی یاد دہانی کرا رہا ہے کہ امن اور زمینی حقائق کے درمیان مہلک خلیج بہت گہری ہے۔ حالیہ جنگ بندی کوامن کی تمہید سمجھا جائے یا محض ایک وقفہ اور ایک بڑے طوفان سے پہلے کی خاموشی؟

لبنان: جنگ بندی یا جاری محاذ آرائی؟

عبوری جنگ بندی اور امن بات چیت کے باوجود لبنان اور غزہ پر اسرائیلی حملے جاری ہیں۔ لبنانی ہلال احمر کے مطابق   2 مارچ کی جنگ بندی کے بعد سے اپریل کے آخر تک اسرائیلی حملوں میں 2659 لبنانی شہری جاں بحق ہوچکے ہیں۔صدر ٹرمپ مصر ہیں کہ لبنانی صدر جوزف خلیل عون اسرائیلی وزیراعظم سے براہ راست مذاکرات کریں لیکن لبنان کی سرکاری پالیسی کے مطابق اسرائیل کو باضابطہ تسلیم نہ کرنے کی وجہ سے ایسا مکالمہ ناممکن حد تک پیچیدہ اور محدود نوعیت کا حامل ہے۔

غزہ: جنگ بندی کے باوجود بمباری اور بڑی جنگ کی تیاری

غزہ پر اسرائیلی فوج کی بمباری اور ڈرون حملے جاری ہیں۔ مختلف علاقوں پر بمباری سے متعدد افراد جاں بحق ہوئے۔خان یونس میں 9 سالہ عادل النجار اسرائیلی درندگی کا نشانہ بنا اور ڈرون حملے میں اس پھول سے بچے کا جسم بکھر گیا۔اسرائیلی فوج اب ایک بڑی فوجی کاروائی کا منصوبہ بنارہی ہے جسکی تفصیلات طئے کرنے کیلئے وزیراعظم نیتن یاہو نے اپنی ہنگامی کابینہ کا اجلاس طلب  کرلیا ہے۔ اس کی وجہ مزاحمتی گروہوں کا غیر مسلح ہونے سے انکار بتایا جا رہا ہے,،مزاحمت کار، اسرائیلی انخلا اور آزاد فلسطینی ریاست کے قیام سے پہلے غیر مسلح ہونے کو تیار نہیں۔ صدرٹرمپ کی تشکیل کردہ مجلس السلام یا Board of Peace نے مزاحمت کاروں سے11 اپریل تک ہتھیار ڈالنے کو کہا تھا جسے اہلِ غزہ نے مسترد کردیا۔ یہ نئی پیشرفت تعطل اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ مذاکراتی عمل ابھی ابتدائی اور غیر مستحکم مرحلے میں ہے۔

عبادت گاہوں اور مقدسات کی توہین

اس ہفتے  لبنان میں کئی مسیحی عبادت گاہیں اسرائیلی بمباری کا نشانہ بنیں۔ جنوبی لبنان کے شہر یارون میں بمباری سے کیتھولک مسیحیوں کی خانقاہ (Monastery) کو نقصان پہنچا۔ اس سے پہلے ایک اسرائیلی فوجی نے ہتھوڑے کے وار سے حضرت عیسیٰؑ کے مجسمے کو توڑ دیا تھا۔ انتہا پسندوں کی حوصلہ افزائی کی وجہ سے دوسرے مذاہب کے متبرکات کی توہین اور حملوں میں شدت آتی جارہی ہے۔ یکم مئی کو ایک فرانس نژاد راہبہ (nun) بیت المقدس کے بابِ داودؑ کے قریب سے گزرہی تھی کہ 36 سالہ  اسرائیلی نے  بلا اشتعال اس نہتی عورت کو لات ماردی جسکی ضرب سےیہ کمزور عورت زمین پر گرپڑی۔سفاک شخص کی اس پر بھی تسلی نہ ہوئی تو اس نے ٹھوکریں مار کر راہبہ کو زخمی کردیا۔

معذور دہشت گرد” ؟ ایک چونکا دینے والا واقعہ

مشرقی یروشلم میں شعفاط مہاجر کیمپ کے قریب ڈاون سنڈروم (Down Syndrome) کا شکار ایک لڑکا مہدی العربی فوجی ٹرک دیکھ کر خوف سے بھاگنے لگا۔ تعاقب کرکے مسلح سپاہیوں نے اسے پکڑکر تشدد کا نشانہ بنایا۔ مہدی کے خلاف دہشت گردی کا پرچہ کاٹا گیا ہے۔ ڈاؤن سنڈروم ایک پیدائشی جینیاتی کیفیت ہے جس سے جسمانی ساخت میں مخصوص خصوصیات، سیکھنے کی رفتار میں سستی اور بعض اوقات صحت سے متعلق مسائل (جیسے دل کے امراض) دیکھنے میں آ سکتے ہیں۔

سیاسی بیانیہ اور نفرت کا اظہار

انتہا پسند وزیرِاندرونی سلامتی اور عظمتِ یہود پارٹی کے سربراہ، اتامر بن گوئر نے اپنی  50 ویں پر  جو کیک کاٹا اس پر پھانسی کے پھندے کے ساتھ عبرانی میں 'دہشت گردوں کی موت 'لکھا تھا۔یہ درصل اسرائیلی کنیسہ (پارلیمان) میں چند ہفتہ قبل منظور کئے جانیوالے اس قانون کا حوالہ تھا جس کے مطابق عدالت سے دہشت گردی کا الزام ثابت ہوجانے والے فلسطینیوں کو پھانسی کے ذریعے سزائے موت دی جائیگی۔

فلسطینیوں سے یکجہتی کے اظہار کے لئےایک برطانوی نژاد اسرائیلی ماہرِ تعلیم و مصنف Alex Sinclair نے اپنی مذہبی ٹوپی، المعروف کِپّاہ پر اسرائیلی اور فلسطینی پرچم اکٹھے بُنوا کر اس کی تصویر فیس بک پر نصب کردی۔موصوف فوراً دھر لئے گئے ۔ پوچھ گچھ کے بعد انہیں اس تنبیہ کے ساتھ رہا کیا گیا کہ وہ آئندہ اس نوعیت کی “شرپسندانہ حرکت” سے گریز کریں گے۔ رہائی سے قبل ان کی ٹوپی سے فلسطینی پرچم کاٹ کر کِپّاہ انھیں واپس کی گئی۔

جنگی جنون کی ایک اور مثال لبنان کی سرحد پر واقع  شہر کریات شمعونہ میں  جنگ بندی کے خلاف مظاہرہ تھا جس کی قیادت رئیسِ شہر نے خود کی۔ موصوف پلے کارڈ لئے کھڑے تھے جس پر عبرانی میں لکھاتھا

'جنگ بندی، مزاحمت کاروں کے ہاتھ مضبوط کرنے کی ایک کوشش ہے'

قافلہ صمود

غزہ کی ناکہ بندی توڑ کر امدادی سامان پہنچانے کی ایک اور کوشش ناکام ہوگئی اور اسرائیلی بحریہ نے یونانی جزیرے کریٹ کے قرہب 58 کشتیوں پر قبضہ کرکے سینکڑوں کارکنوں کو گرفتار کرلیا۔ پاکستان کے سابق سینیڑ مشتاق احمد خان سمیت تمام کارکن  رہا کردئے گئے، لیکن  برازیل کے Thiago Avila اور فلسطین نژاد ہسپانوی شہری سیف ابوکیشک تادم تحریر زیرحراست ہیں۔ غیر انسانی ناکہ بندی کےخلاف باضمیر دنیا کی مزاحمت 2010 سے جاری ہے جب ترک کشتی ماوی مرمرہ (MV Mavi Marmara)کی قیادت میں چھ کشیتیوں پر مشتمل پہلا Freedom Flotilla غزہ روانہ ہوا۔اس قافلے میں پاکستان کے مشہور صحافی طلعت حسین بھی شامل تھے۔ جب فلوٹیلا غزہ سے 190 کلومیٹر دور تھا تو ہیلی کاپٹروں کی مدد سے اسرائیلی کمانڈو ان کشتیوں پر اترآئے، انکی اندھا دھند فائرنگ سے 10 ترک کارکن جاں بحق ہوئے تھے۔

امریکی بیانیہ: تنقید اور احتیاط

بائیڈن دور کی نائب وزیرِ خارجہ محترمہ وینڈی شرمن نے بلومبرگ ٹیلی ویژن سے باتیں کرتے ہوئےاسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو کو غزہ میں “نسل کشی” کا ذمہ دار قرار دے دیا۔ مگر اس سنگین الزام کے باوجود وہ اسرائیل کے حقِ تحفظ کے مؤقف سے پیچھے نہ ہٹیں اور کہا کہ یہ نہایت اہم ہے کہ اسرائیل امریکہ کا اتحادی رہے اور ایک یہودی ریاست کے حق کا دفاع کیا جائے۔محترمہ نے بہت ہی محتاط انداز میں کہا 'میرے لئے غزہ آپریشن کو یقینی طور پر نسل کشی کہنا مشکل ہے، لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ غزہ تباہ ہو چکا۔ فلسطینیوں کو گھر، وقار اور امن کا حق حاصل ہے اور اسرائیل بھی سلامتی اور امن کا مستحق ہے۔' یہ رویہ امریکی سیاست میں اسرائیل کے حوالے سے موجود گہرے اثر و رسوخ (lobbying) کی نشاندہی کرتا ہے، جہاں بیانیہ ایک غیر مرئی حد کے اندر رہ کر ہی تشکیل پاتا ہے۔

لبنان اور غزہ کی موجودہ صورتحال اس حقیقت کو اجاگر کرتی ہے کہ جنگ بندی محض ایک کاغذی معاہدہ نہیں بلکہ اس پیچیدہ عمل کی کامیابی کیلئے سیاسی عزم، باہمی اعتماد اور زمینی حقائق کا ادراک لازمی ہے۔ طاقت کے زور اور دھماکوں کے شور میں سفارتکاری کے ذریعے امن کی تلاش وقت کا زیاں ہے ۔

ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل کراچی 8 مئی 2026

ہفت روزہ دعوت دہلی 8 مئی 2026

ہفت روزہ رہبر سرینگر 10 مئی 2026


 

 

ایران۔امریکہ کشیدگی: سفارت، دھمکی اور اعصاب کی جنگ

امن کی پیشکشیں، جنگی تیاری اور طاقت کی نفسیات

دو ہفتے قبل اسلام آباد امن بیٹھک کی منسوخی اور اس کے بعد امریکی صدر کے آتشیں بیانات نے خطے میں کشیدگی کو نئی شدت دے دی تھی۔ ایسے میں 27 اپریل کو ایران کی جانب سے جوہری معاملات کو مؤخر کرکے آبنائے ہرمز کھولنے اور بحری ناکہ بندی کے خاتمے کی مشروط پیشکش، گھٹن زدہ فضا میں ہوا کا ایک تازہ جھونکا محسوس ہوئی۔ اگلے روز قصرِ مرمریں کی ترجمان محترمہ کیرولائں لیوٹ نے عندیہ دیا کہ امریکی صدر اپنے قومی سلامتی کے مشیروں کے ساتھ اس پیشکش پر غور کر رہے ہیں۔ ساتھ ہی یہ خبر بھی آئی کہ اجلاس کے دوران ہی فون کرکے فیلڈ مارشل عاصم منیر نے صدر ٹرمپ پر زور دیا کہ ایرانی پیشکش قبول کرکے سفارتکاری کو ایک اور موقع دیں۔ تاہم امریکی صدر نے پاکستان کے ذریعے موصول ہونے والی جنگ بندی کیلئے تہران کی نئی پیشکش مسترد کردی اور متکبرانہ لہجے میں فرمایا کہ اگر کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو انہیں ایران کو 'جہنم برد' کرنے کے ممکنہ طریقوں پر بریفنگ دے دی گئی ہے۔

متضاد اشارے: جنگ یا واپسی؟

اسی دوران رائٹرز نے انکشاف کیا کہ امریکی قیادت ایران کے خلاف جنگ میں یکطرفہ فتح کا اعلان کرکے فوجی انخلا پر غور کر رہی ہے، اور اس ضمن میں امریکی خفیہ ایجنسی CIA سے ایران کے ممکنہ ردعمل کا جائزہ لینے کو کہا گیا ہے۔ اگرچہ سی آئی اے کی ترجمان Liz Lyons نے اس خبر کی تردید کی، لیکن واشنگٹن کے سیاسی حلقوں میں اس امکان کو مکمل طور پر مسترد نہیں کیا جا رہا۔

ابھی تجزیہ نگار اس خبر کو کھنگھال ہی رہے تھے کہ یکم جون کو ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی IRNA نے 14 نکاتی نئی تجویز کی خبر جاری کردی جس میں عدم جارحیت کی ضمانت، بحری ناکہ بندی کے خاتمے، آبنائے ہرمز کھولنے اور لبنان سمیت تمام محاذ پر کشیدگی ختم کرنے جیسے اقدامات تجویز کئے گئے ہیں۔ تاہم ان امور کی مکمل تفصیل تاحال سامنے نہیں آئی، جس سے شکوک و شبہات برقرار ہیں۔

امریکی صدر کیلئے ایران کا یہ 14 نکاتی امن منصوبہ قابل قبول نہیں لیکن انہوں نے آبنائے ہرمز کھولنے کیلئے ایک جارحانہ فوجی منصوبہ بھی مسترد کردیا۔ بظاہر یہ فیصلہ جنگ سے گریز کی علامت ہے، مگر اسی کے ساتھ 4 مئی کو امریکی بحریہ نے “Project Freedom” شروع کردیا، جس کے تحت امریکی بحریہ، تجارتی جہازوں کو محفوظ راستہ دینے کی کوشش کر رہی ہے۔ خبروں کے مطابق دو امریکی پرچم بردار جہاز بخیریت گزر گئے، جبکہ  جنوبی کوریا کے ایک جہازکو نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں۔ ایران نے فجیرہ ( متحدہ عرب امارات) بندرگاہ کے آئل ٹرمینل کو بھی نشانہ بنایا جس سے ٹرمینل کے کچھ حصوں میں آگ لگ گئی۔

شاخِ زیتون یا بارود کی پوٹلی؟

اس تمام عرصے میں صدر ٹرمپ اپنے  متصاد بیانات کے ذریعے شاخ زیتون لہراتے اور بارود کی پوٹلی ہلاتے رہے۔ سوشل میڈیا پر انھوں نے انکشاف کیا کہ اپنی معیشت کے تحلیل ہونے کا ایرانی اعتراف کرچکے ہیں اور وہ آبنائے ہرمز کھولنے کو بیچین ہیں۔الجزیرہ کے مطابق صدر ٹرمپ نے کہا کہ وہ ایران کے نئے منصوبہ امن پر غور کررہے ہیں اور ساتھ ہی فرمایا 'خوفناک حملوں' کا راستہ بھی کھلا ہے۔ جواب میں ایران کے رہبر معظم حضرت مجتبیٰ خامنہ ای بولے 'خلیجِ فارس میں امریکیوں کی واحد مناسب جگہ 'اس کے پانیوں کی تہہ ہے' ۔ صدر ٹرمپ کے تضادات اور ایرانی قائد کا سخت ردعمل اس بات کی علامت ہے کہ تنازعہ اب سفارت کاری سے زیادہ نفسیاتی دباؤ کا کھیل بن چکا ہے۔ان آتش فشانیوں کے درمیان ایران کے نائب وزیرخارجہ کاظم غریب آبادی نے نسبتاً معتدل لہجے میں کہا کہ ہم نے معاملے کے پرامن حل کیلئے اپنی تجاویز پیش کردیں ہیں اور گیند اب امریکہ کے کورٹ میں ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ ایران وقت خریدنا اور امریکہ دباؤ بڑھانا چاہتا ہے۔ یاں یوں کہئے کہ تنازعہ اب اعصاب کی جنگ میں تبدیل ہوگیا ہے۔ صدر ٹرمپ بیک وقت دو راستوں پر چلتے دکھائی دے رہے ہیں، ایک طرف براہِ راست جنگ سے گریز، اور دوسری جانب سخت بیانات کے ذریعے شدید دباو۔ گویا میزِ مذاکرات کے نیچے چمکتے ہتھیار۔

عسکری تیاری: سفارت کے سائے میں جنگ

امن بات چیت میں تعطل و تاخیر کوئی غیر معمولی بات نہیں کہ اس طویل و گنجلک تنازعے کی گتھیاں سلجھانے کیلئے  صبروضبط اور حوصلے کی ضرورت ہے اور تجاویز کے تبادلے سے فریقین کی سنجیدگی ظاہر ہوتی ہے لیکن اسی کیساتھ خوفناک فوجی تیاریوں کی خبریں بھی آرہی ہیں۔آن لائن خبر رساں ایجنسی  Axios کے مطابق امریکی عسکری قیادت ایران کے خلاف تیز اور فیصلہ کن کارروائی کے امکانات پر غور کر رہی ہے، جبکہ اسرائیلی فوجی قیادت بھی متحرک ہے۔اسرائیلی جرنیلوں کاکہنا ہے کہ اگر ایران کے افزودہ یورینیم کے ذخیرے کو ختم نہ کیا گیا تو حالیہ جنگ کو “ایک بڑی ناکامی” تصور کیا جائے گا۔ معلوم نہیں یہ اعترافِ ناکامی ہے یا پھر آنے والے کسی بڑے اقدام کیلئے ذہن سازی؟؟؟

معاشی دباؤ: فیصلہ کن یا محدود؟

اگرچہ امریکہ و اسرائیل کی طرف سے ایک فیصلہ کن فوجی کاروائی خارج از امکان نہیں تاہم صد ٹرمپ کا خیال ہے کہ بحری ناکہ بندی ایرانی معیشت کا گلا گھونٹ رہی ہے اور تہران کیلئے بہت دن تک کھڑا رہنا ممکن نہیں۔ جبکہ ایرانی سمجھ رہے ہیں کہ آبنائے ہرمز کی بندش سے پیدا ہونے والا عالمی بحران صدر ٹرمپ کو معقولیت اختیار کرنے پر مجبور کردیگا۔رائٹرز نے ماہرین سے مشوروں کے بعد جو رپورٹ جاری کی ہے اسکے مطابق ایرانی معیشت دباؤ میں تو  ہے لیکن سخت پابندیوں، تیل کی برآمدات میں رکاوٹ اور مالیاتی دباؤ کے باوجود ایرانی نظام مکمل طور پر بکھرتا نظر نہیں آتا۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ بتائی جا رہی ہے کہ نصف صدی پر محیط پابندیوں نے ایرانیوں کو دباو میں جینے کا سلیقہ سکھادیا ہے۔ اس کے برعکس امریکہ کو مہنگائی، عوامی دباؤ اور وسط مدتی انتخابات کا سامنا ہے۔کچھ منچلے کہہ رہے ہیں کہ امریک و اسرائیل، ایران میں رجیم چینج نہ کرسکے لیکن اگر ایرانی صبر سے کھڑے رہے تو نومبر میں امریکہ پارلیمانی محاذ پر رجیم چینج کا مشاہدہ کرسکتا ہے۔ بقول جرمن چانسلر ایران نے میدان اور میز دونوں جگہ امریکہ کو شرمندہ کردیا ہے۔

قزاقی” کا اعتراف؟ سیاسی بیان یااعتراف

الفاظ کا غلط استعمال بھی صدر ٹرمپ کیلئے شر مندگی کا سبب بن رہا ہے۔ گزشتہ دنوں ایک تقریب میں انھوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ جنگ کے دوران ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کرتے ہوئے امریکی بحریہ قزاقوں (Pirates)جیسا” کردار ادا کر رہی تھی۔ مزید وضاحت کرتے ہوئے انھوں نے فرمایا  ہم نے جہاز پر قبضہ کیا، ہم نے اس کا سامان لے لیا، ہم نے تیل لے لیا۔ یہ ایک بہت منافع بخش کاروبار ہے۔ ہم قزاقوں جیسے ہیں کسی حد تک قزاق، مگر ہم کھیل نہیں کھیل رہے۔ جب ایک ریاست کا سربراہ خود اپنی کارروائی کو قزاقی سے تشبیہ دے، تو اسے محض سیاسی بیان سمجھا جائے ہے یا بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کا اقرار؟

خلیج میں نئی صف بندی: طاقت اور توانائی

رجیم چینج اور ایران کی جوہری صلاحیتوں کے خاتمے کےساتھ اسرائیل، مشرق وسطیٰ میں توانائی کے وسائل تک رسائی کا خواہشمند ہے اور اس ضمن میں متحدہ عرب امارات سے اسکے تعلقات بہت ہی نپے تلے انداز میں آگے بڑھ رہے ہیں۔برطانوی اخبار Financial Times کے مطابق اسرائیل نے ایرانی میزائیل اور ڈرونوں کے مقابلے کیلئے لیزر پر مبنی فضائی دفاعی نظام Iron Beam ، میزائیل شکن Iron Domeاور نگرانی کا ایک جدید  نظام Spectro  امارات منتقل کیا ہے۔ اس اسلحے کیساتھ فوجی اہلکار بھی ہیں جنکی تعداد سینکڑوں میں ہے۔ امارات میں  تیل اور گیس کے سارے بڑے میدان عملاً اب اسرائیلی فوج کی زیر حفاظت و نگرانی آچکے ہیں۔ یہ پیش رفت محض دفاعی تعاون نہیں بلکہ خلیج میں نئی عسکری صف بندی اور توانائی کے وسائل پر اسرائیل کے بڑھتے ہوئے اثر رسوخ کا نقطہ آغاز نظرآرہاہے۔

ایران اور امریکہ کے درمیان  کشمکش اب محض جغرافیائی یا عسکری تنازع نہیں رہی، بلکہ یہ ارادوں، اعصاب اور بیانئے کی جنگ بن چکی ہے۔ اسوقت سوال یہ نہیں کہ کون جیتے گا ، بلکہ یہ ہے کہ کون کب تک کھڑا رہ سکے گا؟

ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل کراچی 8 مئی 2026

ہفت روزہ دعوت دہلی 8 مئی 2026

ہفت روزہ رہبر سری نگر 10 مئی 2026


Thursday, April 30, 2026

 

ایران۔امریکہ کشیدگی: جنگ کے سائے میں سفارت کاری کی آخری کھڑکی

تعطل، صف بندی اور آبنائے ہرمز پر نئی پیشکش—طاقت اور مفاہمت کی کشمکش

ایران اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی ایک بار پھر ایسے موڑ پر آ کھڑی ہوئی ہے جہاں سفارت کاری اور عسکری دباؤ ساتھ ساتھ چلتے دکھائی دیتے ہیں۔ بظاہر مذاکرات کے دروازے کھلے ہیں، مگر پسِ پردہ طاقت کی صف بندی اس خطے کو ایک نئے عدم استحکام کی طرف دھکیلتی محسوس ہوتی ہے۔تنازعے کے پرامن اختتام کی کوششوں کو اسوقت شدید دھچکا لگا جب 25 اپریل کو صدر ٹرمپ نے اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر کا اسلام آباد کا دورہ یہ کہتے ہوئے منسوخ کردیا کہ سفر میں بہت وقت ضائع ہو رہا ہے” اور ایرانی قیادت میں “ابہام” پایا جاتا ہے۔ یہ فیصلہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا جب پاکستان کی ثالثی میں جاری مذاکرات پہلے ہی تعطل کا شکار تھے اور ایرانی وزیر خارجہ کسی پیش رفت کے بغیر واپس جا چکے تھے۔

ایک قدرے مثبت اشارہ دیتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ مذاکرات میں تعطل کا مطلب یہ نہیں کہ جنگ دوبارہ شروع ہو جائے گی۔تاہم ماضی کے تجربے کی بنیاد پر امریکی صدر کی یقین دہانی مشکوک لگ رہی ہے۔ اس حوالے سے خلیج میں غیر  معمولی فوجی کمک بھی معنی خیز ہے۔ امریکہ نے ایک اور طیارہ بردار جنگی جہاز خلیج فارس کی جانب روانہ کر دیا ہے۔چھ ہزار اضافی فوجیوں کیساتھ USS George H. W. Bush کے ہمراہ متعدد تباہ کن جنگی جہاز اور ایک جوہری آبدوز بھی محو سفر ہیں۔طیارہ بردار جہاز USS Abraham Lincoln اور USS Gerald R. Ford خطے میں پہلے سے ہی موجود ہیں۔ اگرچہ جیرالڈ فورڈ کو حالیہ دنوں میں مرمت کے لیے یونان کے جزیرے کریٹ کی بندرگاہ بھیجا گیا تھا، تاہم مجموعی طور پر امریکی بحری موجودگی میں واضح اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ یہ محض عسکری نقل و حرکت نہیں بلکہ سفارت کاری کے ساتھ ساتھ دباؤ بڑھانے کی ایک منظم حکمتِ عملی کا حصہ معلوم ہوتی ہے۔

واشنگٹن میں یہ اطلاعات بھی گشت کررہی ہیں کہ امریکہ واسرائیل، ایران کے خلاف بمباری کی ایک نئی مہم شروع کرنے والے ہیں۔اسرائیلی وزیردفاع نےکہا ہے کہ امریکہ سے گرین سگنل ملتے ہی رہبر معظم کا نشانہ بنایا جائیگا۔ کشیدگی کے ماحول میں اسرائیل سے آنے والے بیانات جلتی ہر تیل کا کام کررہے ہیں کہ جب قتل کی دھمکیاں اور انتہا پسندانہ زبان سفارت کاری کی جگہ لے لے، تو مصالحت کے دروازے خود بخود تنگ ہونے لگتے ہیں۔

ایران میں قیادت کی منتقلی کا ایک باقاعدہ آئینی نظام موجود ہے، جسے مجلسِ خبرگانِ رہبری  جیسے ادارے آگے بڑھاتے ہیں۔ ایسے میں کسی ایک شخصیت کو ہدف بنا کر مسئلے کے حل کی امید رکھنا نہ صرف سادہ لوحی بلکہ عملی طور پر غیر مؤثر حکمت عملی ہے۔یہ افراد کا نہیں بلکہ نظام، مفادات اور بیانیوں کا تصادم ہے، جسے صرف مکالمے سے ہی حل کیا جا سکتا ہے۔

بحری ناکہ بندی اور جوابی اقدامات

حالیہ کشیدگی کی  اصل وجہ ایران کی بحری ناکہ بندی ہے جسکا دائرہ اب ساری دنیا تک بڑھادیا گیا ہے۔ گزشتہ ہفتے بحر ہند سے گزرتےایران کے ایک آئل ٹینکر پر امریکی بحریہ نے قبضہ کرلیا۔ اس معاملے میں ایران بھی پیچھے نہیں۔ ایرانی بحریہ نے دوجہاز قبضے میں لے لئے ہیں جن میں سے ایک جہاز MSC Francesca اسرائیل سے وابستہ بتایا جارہا ہے۔ اس معاملے میں ایرانی موقف بہت ہی غیر مبہم اور منطقی ہے، تہران کا کہنا ہے کہ ناکہ بندی اور دھمکی کے ماحول میں میزِ مذاکرات سجانے کا کیا فائدہ؟

فیصلہ سازی کا فرق: واشنگٹن بمقابلہ تہران

دوسری طرف صدر ٹرمپ ایرانی قیادت میں اختلافات کو تعطل کی وجہ قرار دیتے ہیں، مگر یہ تاثر ایران کے نظامِ حکومت کی مکمل تفہیم کے بغیر قائم کیا جا رہا ہے۔ ایران میں فیصلے مشاورت سے ہوتے ہیں، اور اتفاقِ رائے تک بحث جاری رہتی ہے۔ ایرانی طرز سیاست میں دوستوں اور اتحادیوں کو بھی اعتماد میں لیا جاتا ہے ۔ وزیر خارجہ سید عباس عراقچی کے مختلف ممالک، خصوصاً پاکستان، عمان اور روس کے دورے اسی مشاورتی عمل کا حصہ ہیں۔

گھڑی  اور وقت: ایک تاریخی سبق

جنگ کی طوالت کسی کے حق میں نہیں  اور امریکہ کو یہ گمان ہے کہ وہ طویل کشیدگی برداشت کر سکتا ہے، مگر تاریخ اس مفروضے کی تردید کرتی ہے۔ امریکہ کوایسی ہی غلط فہمی افغانستان میں تھی اور اس حوالے سے ملا عبدالغنی برادر کا  یہ جملہ آج بھی گونج رہاہے کہ گھڑی آپ کے اور وقت ہمارے پاس ہے۔ایران 1979 سے پابندیوں اور دباؤ کا سامنا کر رہا ہے۔ صدر ٹرمپ کو سوچنا چاہئے کہ وہ کب تک امریکی عوام کو مہنگائی اور ہیجان میں مبتلا رکھ سکتے ہیں۔ سات ماہ بعد امریکی حکومت کو وسط مدتی انتخابات کا سامنا ہے ۔ایران جنگ کو امریکی عوام کی غالب اکثریت پسند نہیں کرتی  اور کہیں ایسا نہ ہو کہ  صدر ٹرمپ آبنائے ہرمز کے کنارے Bulletکی جنگ ہارنے کے ساتھ گھر میں Ballotکی جنگ بھی ہار جائیں ۔

اسلحہ، معیشت اور جنگی منافع

ایران کے خلاف امریکہ بہادر نے اس شدت سے میزائیل اور میزائیل و ڈرون شکن گولے استعمال کئے ہیں کہ ان ہتھیاروں کے ذخیرے میں تشویشناک حد تک کمی ہوگئی ہے۔ دفاعی امور کے تحقیقاتی ادارے Center for Strategic and International Studies کی ایک تجزیاتی رپورٹ کے مطابق، ایران کے ساتھ جنگ میں حملہ اور Precision Strike Missiles کے ذخیرے کا ایک بڑا حصہ پھونکا جا چکا ہے، کچھ اندازوں میں یہ شرح تقریباً 40 سے 45 فیصد تک بتائی جا رہی ہے۔دفاعی ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اگر اسی رفتار سے وسائل استعمال ہوتے رہے تو امریکہ کو رسد، پیداوار اور ترجیحات کے محاذ پر سنجیدہ مشکلات پیش آسکتی ہیں۔امریکہ کی عسکری قیادت اس معاملے پر اپنی فکر کا اظہار کررہی ہے اور کچھ لوگ خیال ظاہر کررہے ہیں کہ وزیربحریہ جان فیلن کی برطرفی اسی اندرونی بحث و مباحثے کا نتیجہ ہے

اسی کیساتھ متاثرہ توانائی تنصیبات کی مرمت کیلئے ٹھیکوں کی بات بھی شروع ہوچکی ہے۔یورپ کے آن لائن جریدے Middle East Eye (MEE) کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ خلیجی ممالک پر دباؤ ڈال رہی ہے کہ وہ ایرانی حملوں سے متاثر ہونے والی توانائی تنصیبات کی مرمت امریکی اداروں سے کروائیں۔متحدہ عرب امارات، بحرین اور کویت میں تیل و گیس کی تنصیبات کو پہنچنے والے نقصان کی مرمت کا تخمینہ تقریباً 39 ارب ڈالر لگایا جا رہا ہے۔ یہ اعداد و شمار اس تلخ حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ جنگ کے ملبے سے بھی کاروبار جنم لیتا ہے۔جب بارود گرتا ہے تو صرف شہر نہیں بکھرتے،بلکہ کہیں نہ کہیں معاہدوں، ٹھیکوں اور منافع کی نئی فائلیں بھی کھل جاتی ہیں۔

نئی پیشکش: بند دروازوں پر دستک

اسی تناظر میں Axios کے مطابق ایران نے  آبنائے ہرمز کھولنے اور کشیدگی کم کرنے کی ایک نئی تجویز پیش کی ہے، جس میں جوہری مذاکرات کو بعد کے مرحلے تک مؤخر کرنے کی بات کی گئی ہے۔اس پر تبصرہ کرتے ہوئے 27 اپریل کو قصرِ مرمریں کی ترجمان  کیرولائن لیوٹ نے بتایا کہ پاکستان کے ذریعے موصول ہونے والی اس تجویز پر صدر ٹرمپ اپنے رفقا کے ساتھ Situation Room میں مشاورت کر رہے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر نے بھی صدر ٹرمپ سے مواصلاتی گفتگو میں اس پیشکش کو قبول کرنے پر زور دیا ہے۔اسرائیلی ذرائع کہہ رہے ہیں کہ صدر ٹرمپ اس تجویز سے 'خوش' نہیں، لیکن سوچ بچار کے طویل دورانئے نے اس تنازعے کے پرامن حل کی ایک ہلکی سی امید ضرور پیدا کر دی ہے۔

ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل کراچی یکم مئی 2026

ہفت روزہ دعوت دہلی یکم مئی 2026

ہفت روزہ رہبر سرینگر 3 مئی 2026