Thursday, August 27, 2026

 

ایران کے خلاف  "Economic D‑Day"

عسکری زورآزمائی کے بعد معاشی محاذ کی نئی کشمکش

خلیج میں تقریباً چھ ماہ سے جاری جنگ نے مشرقِ وسطیٰ کی سیاسی حرکیات، عالمی توانائی کی منڈی اور بین الاقوامی سفارت کاری کو ایک نئے موڑ پر لاکھڑا کیا ہے۔ عسکری محاذ پر فیصلہ کن کامیابی حاصل نہ ہونے کے بعد واشنگٹن نے اب ایران کے خلاف معاشی دباؤ کو فیصلہ کن ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کا اعلان کردیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا اقتصادی محاذ وہ کامیابی دالا سکے گا جو عسکری کارروائیاں نہ لاسکیں؟ اور اگر معاشی دباؤ بھی تہران کو جھکانے میں ناکام رہا تو اس تنازعے کا اگلا باب کیا ہوگا؟

جمعرات (20 اگست) کو صدر ٹرمپ نے بمباری اور میزائل حملوں کے محدود اثرات کے بعد ایران کی اقتصادیات کا گلا گھونٹنے کیلئے تہران کے خلاف "Economic D‑Day" کا اعلان کیا۔امریکی وزیرِ خزانہ اسکاٹ بیسنٹ (Scoot Bessent) نے 24 اگست کو معاشی D-Dayکی تفصیلات بناتے ہوئے کہا کہ امریکہ کا مقصد ایران کو عالمی سطح پر موجود ہر اس معاشی ذریعے سے محروم کرنا ہے جو اس کی معیشت کو سہارا دے رہا ہے۔ ان کے الفاظ میں یہ ایران کی “economic asphyxiation” یعنی ’’معاشی گلا گھونٹنے‘‘ کی مہم ہے۔

پانچ شعبے، ساٹھ اہداف اور ایک عالمی پیغام

نئی امریکی کارروائی میں ایران کی معیشت کے پانچ اہم شعبوں کو نشانہ بنایا گیا ہے,  جن میں ڈیجیٹل اثاثے، ٹیکنالوجی، سونا، ہوا بازی اور بحری جہاز رانی شامل ہیں امریکی محکمۂ خزانہ نے تقریباً 60 افراد، اداروں اور جہازوں کو بھی پابندیوں کی زد میں لانے کا اعلان کیا ہے۔ جناب بیسنٹ نے خبردار کیا کہ جو ادارے ایران کے لئے منی لانڈرنگ یا مالیاتی منتقلی میں سہولت فراہم کریں گے انہیں امریکی ڈالر پر مبنی مالیاتی نظام سے نکال دیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ اب ایران کے ساتھ تجارت کے لئے ’’گرے ایریاز‘‘ میں رہنے کا وقت ختم ہوچکا ہے۔ گویا واشنگٹن صرف ایران کو نشانہ نہیں بنا رہا بلکہ ان ممالک اور کمپنیوں کو بھی خبردار کررہا ہے جو تہران کے ساتھ کاروباری روابط برقرار رکھیں گے۔

ایران کے دوست بھی امریکی نشانے پر

چین، ترکیہ اور متحدہ عرب امارات ایران کے بڑے تجارتی شراکت دار ہیں۔ امریکی وزیرِ خزانہ نے واضح کیا ہے کہ ایران کے ساتھ اقتصادی روابط رکھنے والے اداروں کو امریکی پابندیوں کی مکمل طاقت کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ چینی بینکوں کے بارے میں سوال پر بیسنٹ کا جواب تھا کہ کوئی بھی ادارہ امریکی پابندیوں کی پہنچ سے باہر نہیں۔ تاہم واشنگٹن نے فی الحال چین کے ان بڑے مالیاتی اداروں پر انتہائی سخت ثانوی پابندیاں عائد نہیں کیں جو ایرانی تیل کی تجارت میں سہولت فراہم کرتے ہیں۔ امریکی وزیرخزانہ نے کہا کہ امریکہ دوسرے ممالک کو ایران سے تعلقات ختم کرنے کے لیے ایک مہلت دے رہا ہے، لیکن یہ عمل بہت تیزی سے آگے بڑھے گا۔ یعنی واشنگٹن نے فی الحال بندوق چلانے کے بجائے بندوق دکھائی ہے، مگر یہ بھی واضح کردیا ہے کہ اگلا قدم زیادہ سخت ہوسکتا ہے۔ یہ دراصل ایران سے زیادہ عالمی معیشت کے لیے بھی ایک امتحان ہے۔ امریکہ دنیا کو یہ انتخاب دے رہا ہے کہ وہ تہران کے ساتھ تجارت کرے یا امریکی مالیاتی نظام تک رسائی برقرار رکھے۔ امریکی وزیرخارجہ کی اخباری کانفرنس کے فوراً بعد متحدہ عرب امارات نے ایران سے تجارتی روابط ختم کرنے کا اعلان کردیا ۔

ایران کا جواب: ہمارے پاس دو سال کا منصوبہ ہے

تہران نے نئی پابندیوں کو تسلیم کرنے کے بجائے مقابلہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ایرانی وزیرِ معیشت سید علی مدنی زادہ  نے کہا ہے کہ ایران کے پاس نئی پابندیوں سے نمٹنے کے لیے دو سالہ منصوبہ موجود ہے۔ ان کے بقول امریکہ،  ایرانی عوام اور حکومت کے عزم کو پہلے بھی آزما چکا ہے اور چچا سام ہر بار ناکام رہے۔ اس دعویٰ کو سیاسی بیان کہہ کر نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ ایران کی تاریخ یہ بتاتی ہے کہ طویل عرصے سے جاری امریکی پابندیوں کے باوجود تہران متبادل تجارتی راستے، فرنٹ کمپنیاں، متبادل جہازوں کی رجسٹریشن اور غیر ڈالر مالیاتی ذرائع استعمال کرکے پابندیوں کو غیر موثر بنانے میں بڑی حد تک کامیاب رہا ہے۔ امریکی محکمۂ خزانہ نے خود تسلیم کیا ہے کہ ایران پابندیوں سے بچنے کے لئے نئے ادارے اور جہازوں کی تیزی سے رجسٹریشن میں مہارت رکھتا ہے۔

معاشی دباؤ پہلے ہی محسوس ہورہا ہے

تاہم اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ ایران پر پابندیوں کا کوئی اثر نہیں ہورہا۔ نئی پابندیوں کے اعلان کے وقت ایرانی ریال غیر رسمی مارکیٹ میں تقریباً 2.02 ملین ریال فی ڈالر کی نئی کم ترین سطح پر پہنچ گیا۔ ایران پہلے ہی بلند افراطِ زر، منفی اقتصادی نمو اور تقریباً چھ ماہ کی جنگ کے معاشی اثرات سے دوچار ہے۔ چنانچہ دیکھنا ہے کہ تہران نئی پابندیوں کے اثرات کو کتنی دیر اور کس قیمت پر برداشت کرسکتا ہے۔

حکمتِ عملی کی الٹی ترتیب

بین الاقوامی تنازعات میں دباؤ عموماً بتدریج بڑھایا جاتا ہے۔ پہلے مذاکرات، پھر سفارتی دباؤ، اس کے بعد معاشی پابندیاں اور آخر میں فوجی طاقت۔ مگر ایران کے معاملے میں ترتیب بڑی حد تک الٹ گئی ہے۔ امریکہ اور اسرائیل نے پہلے فوجی طاقت استعمال کی، جنگ تقریباً چھ ماہ تک جاری رہی، مگر ایران واشنگٹن کی تمام شرائط ماننے پر آمادہ نہیں ہوا۔ اب جنگ کے بعد معاشی محاذ کو فیصلہ کن بنانے کی کوشش کی جارہی ہے۔

یہی وجہ ہے کہ Economic D-Day محض ایک نئی پابندیوں کا پیکیج نہیں بلکہ جنگی حکمتِ عملی کے اگلے مرحلے کا نام ہے۔ واشنگٹن اب دیکھنا چاہتا ہے کہ جو دباؤ میزائلوں اور بموں سے حاصل نہیں ہوسکا، وہ ڈالر، بینکنگ اور عالمی تجارت کے ذریعے حاصل کیا جاسکتا ہے یا نہیں۔

آبنائے ہرمز: معاشی جنگ کا سب سے حساس محاذ

ایران کے خلاف معاشی دباؤ کا سب سے خطرناک پہلو آبنائے ہرمز ہے۔ عالمی تجارت کے لئے یہ تنگ آبی راستہ پہلے ہی تنازع کا مرکزی نقطہ بن چکا ہے۔ صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر ایک نقشہ جاری کرکے آبنائے ہرمز کو امریکی علاقہ قرار دینے کا دعویٰ کیا، جسے ایران نے سختی سے مسترد کردیا۔ تہران کا موقف ہے کہ اس آبی گزرگاہ کے بارے میں امریکہ کا دعویٰ بے بنیاد ہے۔ اگر نئی اقتصادی پابندیاں ایران کے تیل اور اس کی برآمدی آمدنی کو مزید محدود کرتی ہیں تو تہران کے پاس آبنائے ہرمز کو دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کرنے کی ترغیب بھی بڑھ سکتی ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں ایران کے خلاف معاشی جنگ عالمی معیشت کے لیے بھی مسئلہ بن سکتی ہے، کیونکہ ہرمز میں کسی بڑی رکاوٹ کا اثر صرف تہران یا واشنگٹن تک محدود نہیں رہےگا۔

امریکی جانی نقصان بھی معمولی نہیں

ایران کے ساتھ جنگ میں امریکی جانی نقصان کے اعدادوشمار بھی چشم کشا ہیں۔ پینٹاگون کے مطابق 21 اگست تک 18 امریکی فوجی ہلاک اور 756 زخمی ہوچکے تھے۔ یہ اعداد اس لئے اہم ہیں کہ امریکی صدر نے جنگ کو ابتدا میں نسبتاً مختصر کارروائی کے طور پر پیش کیا تھا، مگر یہ جنگ اب ساتویں ماہ میں داخل ہوچکی ہے۔ عسکری اخراجات، جانی نقصان اور عالمی توانائی کی قیمتوں کے اثرات کے ساتھ جنگ کی سیاسی قیمت بھی بڑھ رہی ہے۔

امریکی معیشت کا بوجھ — قرض کی نئی بلند ترین سطح

دوسری طرف امریکی معیشت بھی دباؤ میں ہے۔امریکی قومی قرض نے گزشتہ روز پہلی مرتبہ 40 ٹریلین ڈالر کی حد عبور کرلی۔ مگر اصل حیرت اس ہندسے سے زیادہ اس رفتار پر ہے جس سے یہ قرض بڑھ رہا ہے۔گزشتہ برس  اکتوبر  میں امریکی قرض 38 ٹریلین ڈالر تھا جو اس سال مارچ میں بڑھ کر  39 ٹریلین ڈالر ہوگیا اور اب  40 ٹریلین کے نشان سے اوپر چلا گیا  یعنی تقریباً ہر پانچ ماہ میں مزید ایک ہزار ارب ڈالر کا نیاقرض۔ اگرگزشتہ دس ماہ کی اوسط نکالی جائے تو امریکی وفاقی قرض میں روزانہ تقریباً 6.8 ارب ڈالر کا اضافہ ہوا ہے۔اسوقت امریکہ سود کی مد میں 2.85 ارب ڈالر یومیہ خرچ کررہا ہے۔ اگرچہ امریکی معیشت ایران کے مقابلے میں کہیں زیادہ بڑی اور مضبوط ہے، لیکن جنگ جتنی طویل ہوگی، اس کی مالی اور سیاسی قیمت بھی اتنی ہی بڑھے گی۔

جنگ کے ممکنہ تزویراتی اثرات

ایران کے خلاف کامیابی کے دعووں کے باوجود جنگ کے ممکنہ تزویراتی نتائج صدر ٹرمپ کیلئے حوصلہ افزا نہیں۔ امریکی ذرائع ابلاغ کے مطابق پینٹاگون اور امریکی مرکزی کمان خلیج میں فوجی موجودگی پر نظرثانی کر رہے ہیں۔ ایران کے حملوں سے متعدد امریکی اڈوں کو پہنچنے والے نقصان کے بعد واشنگٹن اس امکان پر غور کر رہا ہے کہ بعض تنصیبات کو دوبارہ تعمیر نہ کیا جائے اور فوج کے کچھ حصے کو اردن یا اسرائیل کے قریب منتقل کردیا جائے۔ اگرچہ یہ پسپائی نہیں بلکہ عسکری نقشِ پا کی جغرافیائی تبدیلی ہوگی، مگر بعض تجزیہ نگاروں کے مطابق جنگ نے امریکہ کو خلیج میں اپنی حکمتِ عملی ازسرنو ترتیب دینے پر مجبور کردیا ہے، یعنی جنگ ایران کو کمزور کرنے کے بجائے خطے میں امریکی طاقت کے اندازِ موجودگی کو تبدیل کر رہی ہے۔

مذاکرات کی کوششیں — عسکری و معاشی دباؤ کے ساتھ سفارت کاری

صدر ٹرمپ کی جانب سے جنگ کو ’’طلائی گولیوں‘‘ سے لڑنے کی حکمت عملی کے ساتھ ساتھ مذاکرات کی کوششیں بھی جاری ہیں۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر، ایرانی اور امریکی قیادت سے مسلسل رابطے میں ہیں۔ گزشتہ ہفتے سید عباس عراقچی سے ان کی فون پر گفتگو کو ایرانی وزارتِ خارجہ نے ’’مثبت اور حوصلہ افزا‘‘ قرار دیا۔بات چیت کا سلسلہ آگے بڑھانے کیلئے 24 اگست کو فیلڈ مارشل تہران پہنچے۔ یہ چھ ماہ کے دوران یہ انکا تیسرا دورہ ایران تھا۔ ائرپورٹ پر جنرل عاصم منیر نے کہا کہ پاکستان امن اورعلاقائی استحکام کیلئے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔ایرانی پارلیمان کے اسپیکر باقر قالیباف نے جنرل صاحب سے ملاقات میں انکی کوششوں کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ایران،  یادداشتِ اسلام آباد کو امن کیلئے ایک معتبر اور منصفانہ دستاویز سمجھتا ہے جس پر مخلصانہ و منصفانہ عملدرآمد سے ہی علاقے میں پائیدار امن قائم ہوسکتا ہے۔ایرانی اسپیکر نے کہا کہ انکا ملک، تنازعات کے منصفانہ حل کیلئے مخلص ہے لیکن دھمکیوں اور پابندیوں سے ایران کو جھکایا نہیں جاسکتا

ایران اور امریکہ کے درمیان کشمکش اب صرف میزائلوں اور فوجی اڈوں تک محدود نہیں رہی۔ یہ بیک وقت عسکری، معاشی، سفارتی اور توانائی کے محاذوں پر لڑی جارہی ہے۔ واشنگٹن نے اب اپنی معاشی توپیں میدان میں اتار دی ہیں۔ ایران پہلے ہی کمزور کرنسی، بلند افراطِ زر اور جنگی تباہ کاریوں سے دوچار ہے، اس لئے نئی پابندیاں اس کے لیے ایک بڑا امتحان ہیں۔ مگر دوسری طرف تہران نے بھی واضح کردیا ہے کہ وہ دباؤ کے سامنے گھٹنے ٹیکنے کے بجائے متبادل راستے تلاش کرے گا اور اس کے پاس اس مقصد کے لیے دو سالہ منصوبہ موجود ہے۔اگر واشنگٹن،  چین، ترکیہ اور دوسرے ممالک کو بھی تہران سے اقتصادی تعلقات ختم کرنے پر مجبور کرلیتا ہے تو امریکی مالیاتی طاقت کی عالمی گرفت مزید واضح ہوجائے گی۔ لیکن اگر بڑے تجارتی شراکت دار امریکی دباؤ کے باوجود ایران کے ساتھ کھڑے رہے تو Economic D-Day ایران کے خلاف فیصلہ کن وار کے بجائے ایک طویل معاشی کشمکش کا آغاز ثابت ہوسکتا ہے۔ اگر معاشی دباؤ بھی مطلوبہ نتائج نہ دے سکا تو واشنگٹن کو ایک بار پھر فیصلہ کرنا ہوگا کہ اس تنازعے کا حل مزید طاقت میں ہے یا مذاکرات کی میز پر۔

ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل کراچی 28 اگست 2026

ہفت روزہ دعوت دہلی 28 اگست 2026

ہفت روزہ رہبر سرینگر 30 اگست 2026


 

غزہ کا خون، امریکی بیلٹ اور مشرقِ وسطیٰ کا پھیلتا ہوا محاذ

اسرائیل کی جنگ اب شام تک

مشرقِ وسطیٰ اس وقت ایک ایسے دوراہے پر کھڑا ہے جہاں جنگ کے محاذ، سفارتی کشمکش، انسانی بحران اور عالمی سیاست ایک دوسرے میں گتھم گتھا ہوچکے ہیں۔ اسرائیل کی عسکری کارروائیوں نے نہ صرف جغرافیائی دائرہ وسیع کیا ہے بلکہ خطے کی سیاسی بساط پر بھی نئے سوالات اٹھا دیے ہیں۔ شام سے غزہ، غربِ اردن سے امریکی سیاست تک ہر جگہ اس جنگ کے اثرات محسوس کیے جا رہے ہیں۔

شام پر حملہ — جنگ کا دائرہ مزید وسیع

اسرائیل نے اس ہفتے جنگ کے دائرے کو لبنان، غزہ و غربِ اردن سے بڑھا کر شام تک توسیع دے دی اور18 اگست کو شمالی شام میں ادلب کے ابوالظہور فوجی اڈے کو نشانہ بنایا گیا۔ اسرائیل نے حملے کی تصدیق کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ترکیہ وہاں اپنی افواج تعینات کرنے کی تیاری کر رہا تھا۔ وزیراعظم نیتن یاہو نے ترک صدر کو ’’ڈکٹیٹر‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ شام میں ترک فوج کی موجودگی ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی۔ تاہم اس جواز کو خود امریکہ نے بھی مسترد کردیا۔ شام و عراق کے لئے امریکہ کے خصوصی ایلچی ٹام باراک نے اسے ’’غیر ضروری اشتعال انگیزی‘‘ قرار دیا۔ بطور آزاد ریاست، شام کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنی سلامتی کے لیے کسی بھی ملک سے دفاعی تعاون کرے۔ اگر اسرائیل کو ترکیہ اور شام کے درمیان فوجی تعاون پر اعتراض ہے بھی تو شامی سرزمین پر حملے کا کوئی اخلاقی جواز نہیں۔ شام برسوں کی خانہ جنگی اور بیرونی مداخلت کے بعد استحکام کی طرف بڑھنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ان حالات میں اسکے خلاف جارحیت نہ صرف شام بلکہ پورے خطے کو مزید غیر مستحکم کرسکتی ہے۔ تشویش ناک پہلو یہ ہے کہ شام اب اسرائیل اور ترکیہ کے درمیان نئی کشمکش کا ممکنہ میدان بنتا نظرآرہا ہے۔

غزہ — بمباری، ڈرون حملے اور شہری نظم کا انہدام

بورڈ آف پیس کے اجلاسوں اور امریکی داماد اول جیرڈ کشنر کی اسرائیل و حماس قیادت سے ملاقاتوں کے باوجود غزہ پر بمباری اور ڈرون حملے جاری رہے۔ نصیرات خیمہ بستی اور غزہ شہر پر حملوں میں 10 فلسطینی جاں بحق اور درجنوں زخمی ہوئے۔ غزہ کے ساحل پر خیمے میں بنے ریستوران کو ڈرون نے نشانہ بنایا جس میں 6 افراد جان سے گئے۔اس ہفتے اسرائیل نے پولیس چوکیاں اور قانون نافذ کرنے والے اہلکار، اسرائیل کا خاص ہدف رہے، جس سے واضح ہے کہ اسرائیل غزہ کے شہری نظم و نسق کو جان بوجھ کر مفلوج کر رہا ہے۔

غزہ کی روزمرہ زندگی — ایک لائٹر کی قیمت

غزہ کے لوگوں کی مشکلات کا اندازہ 46 سالہ رباب کے بیان سے ہوتا ہے۔ اس نے الجزیرہ کو بتایا کہ یہاں آگ جلانا بھی ایک ’’بڑا کام‘‘ ہے۔ درخت کاٹ کر لکڑیاں جمع کی جاتی ہیں، انہی پر کھانا بنتا ہے۔ مگر آگ جلانے کے لئےلائٹر چاہیے کیونکہ ماچس بھی ممنوعہ اشیا میں شامل ہے۔ کبھی ایک ڈالر میں تین لائٹر مل جاتے تھے، اب ایک لائٹر 30 ڈالر کا ہے۔ رباب نے اپنا پرانا لائٹر 12 ڈالر میں مرمت کروایا کیونکہ نیا خریدنے کی استطاعت نہیں۔ اہلِ غزہ کی زندگی کی قیمت اور محرومی کی شدت سمجھنے کے لیے شاید یہ ایک لائٹر ہی کافی ہے۔

غزہ جنگ کے اثرات امریکی سیاست تک پہنچ گئے

غزہ میں جاری نسل کشی کے اثرات اب امریکی سیاست میں بھی دکھائی دے رہے ہیں۔ امریکہ میں اسرائیل کی حمایت کو سیاسی اثاثہ سمجھا جاتا تھا، مگر مشیگن سے آنے والی خبر مختلف ہے۔ ریپبلکن امیدوار مائک روجرز اسرائیل کے پرجوش حامی ہیں، مگر ان کی ٹیم نے امریکہ اسرائیل سیاسی مجلس عمل یا AIPAC سے درخواست کی ہے کہ وہ ان کی انتخابی مہم کے حق میں اشتہارات نہ چلائے۔ خدشہ ہے کہ AIPAC کی کھلی حمایت نومبر کے انتخابات میں فائدے کے بجائے نقصان کا باعث بن سکتی ہے۔ یہ رجحان اگر مضبوط ہوا تو یہ صرف AIPAC کی حکمتِ عملی کی ناکامی نہیں بلکہ امریکی عوامی رائے میں اسرائیل اور غزہ جنگ کے بارے میں آنے والی بڑی تبدیلی کا اشارہ ہوگا۔ گویا غزہ میں بہنے والا blood امریکی ballot کو متاثر کر رہا ہے۔

غربِ اردن — بیدخلی، گرفتاری اور نئی سزائیں

غربِ اردن میں بیدخلی، گرفتاری اور حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔ گزشتہ ہفتے پھانسی گھاٹ کا سنگِ بنیاد رکھا جہاں فلسطینی قیدیوں کو تختہ دار پر لٹکایا جائیگا۔ وزیرِ اندرونی سلامتی بن گوئر نے کہا کہ تختہ دار کے سامنے 'مجرموں' کے اہلِ خانہ کے لیے خصوصی گیلری بنائی جائے گی تاکہ وہ اپنے پیاروں کو پھانسی پر تڑپتا دیکھ کر ’’عبرت‘‘ حاصل کریں۔

آبادکاروں کا تشدد — معاشی تباہی اور انسانی المیہ

اس ہفتے بن گوئر کی جانب سے آبادکاروں میں جدید اسلحے کی تقسیم کی تصاویر بھی سامنے آئیں۔ غربِ اردن کے علاقے سعر میں 17 سالہ کریم سند شلادیح کو اسرائیلی گارڈ نے گولی مار کر قتل کردیا۔ شمالی غربِ اردن میں قبضہ گروہوں کے پتھراو سے 15 سالہ بچہ شدید زخمی ہوا۔ الخلیل میں آبادکاروں نے تعمیراتی پتھر کی کان کو آگ لگا دی۔ بھاری مشینری جل کر خاک ہوگئی، جس سے مقامی معاشی سرگرمی طویل عرصے کے لیے مفلوج ہوسکتی ہے۔ یہ واقعہ محض ایک کان کو آگ لگانے کا نہیں بلکہ مقامی لوگوں کے معاشی قتل کی ایک شکل ہے۔

معذور فلسطینی پر تشدد — انسانیت کی شکست

ٹائمز آف اسرائیل نے جنوبی الخلیل کے علاقے مسافر یطا میں آبادکاروں کے حملے کا بصری تراشہ جاری کیا، جس میں  ایک معمر و معذور فلسطینی سعید العمور کو دھاتی ڈنڈے سے پیٹاجارہا ہے۔ سب سے تکلیف دہ پہلو یہ ہے کہ سعید ایک ٹانگ سے محروم اور اپنا دفاع کرنے سے قاصر تھا۔ یہ منظر دنیا کی خاموشی اور ہومیوپیتھک ردِعمل کی عکاسی کرتا ہے۔

یورپی یونین کا ’عندیہ‘ — عملی اقدام کب؟

فلسطینیوں کے خلاف مسلسل تشدد کی ایک بڑی وجہ عالمی برادری کا وہ کمزور اور سست ردِعمل بھی ہے جو اکثر مذمت اور تشویش کے بیانات سے آگے نہیں بڑھتا۔ غربِ اردن کے متنازع E1 علاقے میں نئی اسرائیلی آبادکاری کے لیے ٹینڈرز جاری ہونے کے بعد  یورپی یونین نے سخت ردِعمل کا اظہار کرتے ہوئے اسرائیل کے خلاف ممکنہ پابندیوں کا عندیہ دیا ہے۔ یہ محض ایک نئی آبادکاری کا منصوبہ نہیں۔ یہ وہ جغرافیائی مقام ہے جو مشرقی یروشلم اور غربِ اردن کے درمیان واقع ہے۔ یہاں بڑے پیمانے پر آبادکاری مغربی کنارے کے شمالی اور جنوبی حصوں کے درمیان جغرافیائی رابطہ ختم کردیگی، جس سے ایک قابلِ عمل فلسطینی ریاست کا قیام مزید مشکل   گا۔ سوال یہ ہے کہ کیا یورپ کی مذمت عملی اقدام میں بھی تبدیل ہوگی؟ جب فلسطینی زمین پر تعمیراتی منصوبے آگے بڑھتے رہیں اور عالمی طاقتیں ’’تشویش‘‘ اور ’’مذمت‘‘ سے آگے نہ بڑھیں  تو ایسی سفارت کاری کی حیثیت محض اخلاقی بیان سے زیادہ نہیں رہتی۔ اسرائیل اصل دباؤ اس وقت محسوس کرے گا جب مذمت کے ساتھ کوئی حقیقی اقتصادی قیمت بھی وابستہ ہو۔

اسرائیلی سیاست — جمہوریت اور عدم برداشت

ترک صدر طیب رجب ایردوان کو ڈکٹیٹر کہتے ہوئے وزیراعظم نیتن یاہو نے اسرائیل کو مشرق وسطیٰ اکلوتی جمہوریت قرار دیا لیکن اس جمہوریت میں عدم برداشت کا یہ عالم کہ انتخابی مہم کے دوران پارٹی اجلاس میں اخوانی فکر سے وابستہ رعم پارٹی کے قائد منصور عباس نےکہا کہ فلسطینی ریاست ایک حقیقت ہے جسے جتنی جلد تسلیم کرلیا جائے اتنا ہی بہتر ہے۔ منصور صاحب کے اس بیان پر حکمراں اور حزب اختلاف دونوں مشتعل ہیں، نیتن یاہو نے کہا کہ اخوان المسلمون کا گھناونا چہرہ سامنے آگیا ہے، جب تک میں وزیر اعظم ہوں ایران کے زیر اثر فلسطینی ریاست کبھی قائم نہیں ہوگی۔حزب اختلاف کی سب سے بڑی جماعت Yasharپارٹی کے سربراہ آئزن کاٹ نے بھی اس پر شدید ررعمل کا اظہار کرتے ہوئے یقین دلایا کہ انکی جماعت کسی قیمت پر فلسطینی ریاست قائم نہیں ہونے دیگی۔ انتہاپسند جماعتوں نے مطالبہ کیا ہے کہ رعم پارٹی پر پابندی لگاگر اسکا نام بیلٹ سے حذف کیا جائے۔ یہ صورتِ حال اسرائیلی جمہوریت کے ایک بنیادی تضاد کو نمایاں کرتی ہے: انتخابی سیاست میں عرب شہریوں اور عرب سیاسی جماعتوں کی شرکت تو موجود ہے، مگر فلسطینی ریاست کی بات اسرائیلی سیاسی دھارے کے بڑا حصہ سننے کو بھی تیار نہیں ۔

اسرائیل کے اندر سے ضمیر کی آواز

اس تاریک صورتحال کا ایک نسبتاً امید افزا پہلو یہ ہے کہ اسرائیل کے اندر بھی ایسے لوگ موجود ہیں جو فلسطینیوں کے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک پر آواز بلند کررہے ہیں۔چند باضمیر سیاسی کارکنوں نے  19 اگست کو تل ابیب میں احتجاج کرتے ہوئے اپنے جسموں پر مصنوعی خون لگایا اور ایسے نعروں والے پلے کارڈ اٹھائے جن میں غزہ کی تباہی اور غربِ اردن میں فلسطینیوں کی بے دخلی کو ریاستی پالیسی قرار دیا گیا۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ یہ محض انفرادی غلطیاں نہیں بلکہ ایک پالیسی کا حصہ ہے۔امریکی شہری حقوق کے معروف رہنما ڈاکٹر مارٹن لوتھر کنگ کا مشہور قول ہے: ’’کہیں بھی ہونے والی ناانصافی، ہر جگہ انصاف کے لیے خطرہ ہے۔‘‘ یہی اصول فلسطین پر بھی لاگو ہوتا ہے۔

مشرقِ وسطیٰ کے موجودہ منظرنامے میں ایک عجیب تضاد نمایاں ہے۔ ایک طرف امن کے منصوبے، مذاکرات، خصوصی ایلچی، سربراہانِ حکومت کی ملاقاتیں اور سفارتی کوششیں جاری ہیں؛ دوسری طرف بمباری، آبادکاری، بیدخلی، گرفتاری، تشدد اور معاشی تباہی کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ گویا سفارت کاری کی زبان امن کی بات کررہی ہے، مگر زمین پر طاقت کی زبان فیصلہ سنا رہی ہے۔ دنیا اگر فلسطینیوں کے حقوق کی پامالی پر خاموش رہی تو یہی خاموشی کل کسی اور قوم کے لئے ظلم کا راستہ ہموار کرے گی۔ ظلم کی اصل قوت ظالم نہیں، مظلوم کی بے بسی پر دنیا کی خاموشی ہے۔

ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل کراچی 26 اگست 2026

ہفت روزہ دعوت دہلی 26 اگست 2026

ہفت روزہ رہبر سرینگر 28 اگست 2026


Thursday, August 20, 2026

 

امن کے وعدے، جنگ کی حقیقت اور انسانیت کا سوال

امریکہ میں جاری مذاکرات، سفارتی سرگرمیوں اور Board of Peace کی نشستوں کے باوجود لبنان، غزہ اور غربِ اردن کی زمینی صورتِ حال میں کسی پائیدار مثبت تبدیلی کے آثار دکھائی نہیں دیتے۔ واشنگٹن میں امن کے نقشے بن رہے ہیں، لیکن خطے میں بم گر رہے ہیں، گھر مسمار ہورہے ہیں اور بے گھر ہونے والوں کی تعداد بڑھ رہی ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ مذاکرات کی میز اور میدانِ جنگ کے درمیان فاصلہ کم ہونے کے بجائے بڑھتا جارہا ہے۔

جنوبی لبنان میں پھر بارود

جنوبی لبنان میں اسرائیلی حملوں کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔ پندرہ اگست کو اسرائیلی فضائی حملوں میں کم از کم 11 افراد جاں بحق ہوئے، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل تھے۔ یہ واقعہ جون کی جنگ بندی کے بعد لبنان میں خونریز ترین دنوں میں شمار کیا جارہا ہے۔

غزہ میں امن کی شرط: حماس کا مکمل غیر مسلح ہونا

اسرائیل کے لئے حماس کا مکمل غیر مسلح ہونا فوجی انخلا کی بنیادی شرط بن چکا ہے، جبکہ حماس اس کے بدلے اسرائیلی انخلا اور جنگ بندی کی اپنی شرائط پر قائم ہے۔ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے امریکی منصوبے میں موجود مرحلہ وار انخلا کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اسرائیل حماس کے مکمل غیر مسلح ہونے سے پہلے فوجی انخلا قبول نہیں کرے گا۔ اس ہفتے اسرائیلی بمباری اور ڈرون حملوں نے غزہ شہر اور خان یونس میں کئی افراد کی جان لے لی۔

ایک اور 7 اکتوبر کا شوشہ؟

اسی ماحول میں غزہ سے ایک نئے ’’7 اکتوبر‘‘ کی بازگشت بھی سنائی دینے لگی ہے۔ٹائمز آف اسرائیل  کے مطابق  نگرانی کرنے والی اسرائیلی فوجی اہلکاروں نے غزہ کے اندر مسلح سرگرمیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ صورتِ حال انہیں 7 اکتوبر 2023 سے پہلے کے حالات کی یاد دلا رہی ہے۔ کسی نئے بڑے حملے کی نہ کوئی واضح اطلاع سامنے آئی ہے، نہ تاریخ اور نہ ہی کوئی مصدقہ منصوبہ۔ فی الحال معاملہ ان اہلکاروں کی ’’تشویش‘‘ اور ان اطلاعات تک محدود ہے کہ جن کی تنبیہ 7 اکتوبر سے پہلے نظرانداز کردی گئی تھی۔ یہ خواتین اہلکار اب دوبارہ خطرے کی گھنٹی بجا رہی ہیں۔ یہاں معاملہ کچھ حد تک ایران جیسا دکھائی دیتا ہے۔ صدر ٹرمپ ایک طرف سینہ پھلا کر پاسدارانِ انقلاب کی بربادی اور ایرانی فوج کو فنا کردینے کا دعویٰ کرتے ہیں، تو دوسری طرف اسی ’’مدفون‘‘ دشمن کے ممکنہ خطرے کے باعث اپنے سفر کے دوران طیارہ تبدیل کرنے جیسے انتہائی حفاظتی اقدامات بھی کرتے ہیں۔

نیتن یاہو مُصر ہیں کہ غزہ مزاحمت کار مٹادئے گئے لیکن اب نئے حملے کا شوشہ۔ پیالی میں اٹھائے جانیوالے  ان طوفانوں کو امریکہ کے وسط مدتی اور اسرائیل کے قومی انتخابات کے حوالے میں سمجھنے کی ضرورت ہے۔تجزیہ نگاروں کا خیال ہے  کہ اسرائیل میں انتخابات سے پہلے ’’حماس کا خطرہ‘‘ ایک بار پھر سیاسی بیانیے کا حصہ بن رہا ہے۔

جب دشمن انسان نہ رہے

اس تناظر میں اسرائیلی وزیر اتمار بن گویر کے بیان سے اسرائیل کی نیت کا اظہار ہوتا ہے۔ غزہ پر بمباری میں کمی کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انھوں نے کہا کہ اسرائیل کو ہر رات 30 سے 40 افراد کو ہدف بنا کر قتل کرنا چاہیے۔ بن گوئر کا کہنا تھا کہ 'صرف ان لوگوں کو نہیں جو فوری خطرہ ہیں۔ نہیں، وہاں ایسے لوگ بھی ہیں جو زندگی کے قابل نہیں۔ انہیں زندہ نہیں رہنا چاہیے۔ وہ تو انسان بھی نہیں ہیں'۔ حوالہ: ٹائمز آف اسرائیل

بمباری کے بیچ انگور کی فصل

لیکن غزہ کی کہانی صرف بمباری، بھوک اور بربادی کی داستان نہیں۔ اہلِ غزہ کا حوصلہ بھی تاریخ کا ایک اہم باب ہے۔ غزہ شہر میں بمباروں کی گھن گرج کے دوران کسانوں نے روایتی جوش و خروش سے انگور کی فصل کاٹی۔ جنگ، آب پاشی کے  تباہ شدہ نظام اور وسائل کی شدید کمی کے باعث اس سال بہت کم رقبہ زیرِ کاشت آسکا، مگر جتنی فصل ہوئی، اس کی کٹائی بھی شکرانے اور حمد کے ترانوں کے ساتھ ہوئی اور چند لمحوں کے لئے جنگ زدہ لوگوں کے چہروں پر مسکراہٹ آگئی۔ اس پر تبصرہ کرتے ہوئےکسی نے کیا خوب کہا کہ ’’ان کے بزرگ تلواروں کے سائے میں نماز ادا کرتے تھے، آج یہ کسان بمباروں اور ڈرونوں کے سائے میں فصل کاٹ رہے ہیں

غربِ اردن: حملے، بے دخلی، آتشزدگی اور معصوم بچوں کی آنکھوں میں مرچ کا اسپرے

غربِ اردن میں بھی قبضہ گردوں کی کارروائیاں جاری ہیں۔ کہیں فلسطینی گھروں کو مسمار کیا جارہا ہے،  زمینوں پر قبضے کے لیے دباؤ بڑھایا جارہا ہے  تو کہیں گھروں کے مکینوں کو محاصرے کے ذریعے ہجرت پر مجبور کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ کئی خاندانوں نے گھر مسمار ہونے کے بعد اسی ملبے پر خیمے گاڑ کر نئی زندگی شروع کردی ہے۔ ان کا کہنا ہے: گھر رہے نہ رہے، ہم اپنا وطن نہیں چھوڑیں گے۔ الخلیل (Hebron) کے اطراف میں بھی فلسطینی مکانات اور زرعی ڈھانچوں کی مسماری اور تعمیراتی پابندیوں کا سلسلہ جاری ہے۔

رام اللہ کے مضافاتی علاقے ترمسعيّا میں قبضہ گردوں نے کھڑی فصلیں جلادیں۔ عینی شاہدین کے مطابق اسرائیلی فوج نے فلسطینی فائربریگیڈ اور ایمبیولنسوں کا راستہ اسوقت تک روکے رکھا جب تک کھیت جل کر خاک نہ ہوگئے۔ بیت اللحم میں ایک گاڑی روک کر معصوم فلسطینی بچے کی آنکھوں میں سرخ مرچوں کا اسپرے کردیا گیا۔ بچے کی دونوں آنکھیں شدید زخمی اوراسکی بینائی ضائع ہونے کا خطرہ ہے

قصرہ: محاصرہ گھر کا یا خاندان کا؟

کئی علاقوں میں گھر خالی نہ کرنے والے فلسطینیوں کے مکانوں کا محاصرہ کرکے پورے خاندانوں پر دباؤ ڈالا جارہا ہے۔ نابلوس کے قصبے قصرہ میں مسلح آبادکاروں نے یوسف حسن کے گھر کا محاصرہ کرلیا۔ قبضہ گردوں نے گھر کے مرکزی دروازے کے سامنے ایک عارضی ڈھانچہ کھڑا کردیا، جس کے باعث حسن، ان کی اہلیہ اور ان کی دو کم سن بیٹیاں، جن کی عمریں صرف دو اور چار سال ہیں، گھر سے باہر نہیں نکل سکتے تھے اور نہ کوئی شخص اندر داخل ہوسکتا تھا۔یوسف نے گھر کے اندر سے فون پر بتایا کہ بجلی کی تاریں بھی کاٹ دی گئی ہیں۔ ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق اسرائیلی فوجی موقع پر پہنچے، آبادکاروں کے ساتھ گفتگو کی اور واپس چلے گئے، جبکہ خاندان کا محاصرہ ختم نہیں کرایا گیا۔ اس خبر پر اسرائیل میں امریکہ کے سفیر مائک ہکابی کو بھی شدید تشویش ہوئی، جو خود اسرائیلی آبادکاری کے پرجوش حامی سمجھے جاتے ہیں۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر محاصرہ کرنے والے آبادکاروں کو ’’اسرائیلی دہشت گرد‘‘ قرار دیتے ہوئے اسرائیلی فوج سے مداخلت کی درخواست کی۔ جناب ہکابی کی التجا پر اسرائیلی فوج وہاں پہنچی اور آبادکاروں کو ہٹانے کے بجائے 15 فلسطینی گھروں سے مکینوں کو نکال دیا گیا۔ یعنی جن لوگوں نے فلسطینی گھروں کا محاصرہ کیا، ان کی گوشمالی کے بجائے محصور فلسطینیوں ہی اپنے گھروں سے بیدخل کردئے گئے۔ محاصرے کا مقصد فلسطینوں کو ان کے گھروں سے نکالنا تھا۔ قبضہ گردوں کا یہ ہدف سرکاری بندوقوں سے حاصل کرلیا گیا۔

سبت کی حرمت اور محصور بچیاں

اس واقعے سے ایک عجیب تضاد بھی نمایاں ہوا۔ یوسف کے خاندن کو یرغمال بنانے کا واقعہ سبت کو پیش آیا۔ سبت (ہفتے) کے  دن چھری سے سبزی کاٹنا بھی منع ہے، لیکن شدید گرمی میں معصوم فلسطینی بچیوں کے گھر کی بجلی اور پانی بند کردینا جائز

غزہ کا کسان بمباروں کے سائے میں انگور کا خوشہ کاٹ کر ہمیں بتارہا ہے کہ زندگی ابھی ہاری نہیں۔ قصرہ کا محصور خاندان ملبے اور بند دروازوں کے درمیان کہہ رہا ہے کہ گھر چھن جائے تو بھی وطن نہیں چھوڑیں گے۔ لبنان کے ملبے سے اٹھتا دھواں خبر دے رہا ہے کہ جنگ بندی کے الفاظ ابھی زمینی حقیقت نہیں بنے اور بن گویر کے الفاظ سے لگتا ہے کہ غزہ نسل کشی اپنے خطرناک ترین مرحلے میں داخل ہوچکی ہے۔ امن صرف میز پر بیٹھنے سے نہیں آتا۔ امن کے لیے بندوق کو خاموش، محاصرہ ختم، گھر محفوظ اور انسان کو انسان سمجھنا ضروری ہے۔

ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل کراچی 21 اگست 2026

ہفت روزہ دعوت دہلی 21 اگست 2026

ہفت روزہ رہبر سرینگر 23 اگست 2026


 

ہرمز کھولو، ایٹمی ایران بعد میں

جنگی اہداف کی بدلتی ترجیحات، تہران کی نئی شرائط اور واشنگٹن کی بڑھتی ہوئی مشکلات

ایران کے بارے میں امریکہ کی ترجیحات میں ایک نمایاں تبدیلی دکھائی دے رہی ہے۔ کل تک واشنگٹن کا مرکزی پیغام یہ تھا کہ ایران کو جوہری ہتھیار بنانے سے ہر قیمت پر روکا جائے گا، لیکن اب ایسا محسوس ہورہا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی فوری ترجیح آبنائے ہرمز کھلوانا اور توانائی کی قیمتوں پر قابو ہے۔

وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق صدر ٹرمپ نے اپنے اعلیٰ معاونین کے سامنے یہ خیال پیش کیا ہے کہ ایران اگر آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر کھول دے تو امریکہ کسی نئے جوہری معاہدے کے بغیر بھی موجودہ جنگ بندی برقرار رکھتے ہوئے ایران پر عائد بحری ناکہ بندی اٹھا سکتا ہے۔ اس طرح صدر ٹرمپ، ایران کے ساتھ ایک نئے جوہری معاہدے کے بغیر جنگ ختم کرکے اسے امریکی کامیابی قرار دینے کی راہ بھی ہموار کرسکتے ہیں۔ اس تبدیلی کی سب سے واضح تصدیق نائب صدر جے ڈی وانس کے حالیہ بیان سے ہوتی ہے۔ فاکس نیوز پرگفتگو میں انہوں نے کہا کہ امریکی انتظامیہ کی پہلی ترجیح امریکیوں کے لئے تیل اور پٹرول سستا رکھنا ہے، جبکہ ایران کو جوہری طاقت بننے سے روکنا ’’نمبر دو‘‘ ہدف ہے۔

تیل نے ایٹم بم کو پیچھے چھوڑ دیا؟

یہ تبدیلی محض سفارتی حکمتِ عملی نہیں، اس کے پیچھے ایک طاقتور معاشی محرک بھی ہے۔ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین توانائی گزرگاہوں میں سے ایک ہے۔ اس کی مسلسل بندش یا محدود آمدورفت عالمی تیل و گیس کی رسد کو متاثر کرنے کے ساتھ ساتھ امریکہ کے اتحادیوں اور خود امریکی صارفین کے لیے بھی مہنگائی اور ایندھن کی قیمتوں کے مسائل پیدا کررہی ہے۔ یوں کل تک واشنگٹن کا پیغام تھا ایران کو ایٹم بم نہیں بنانے دیں گے۔ اب ترجیح کچھ یوں دکھائی دیتی ہے: آبنائے ہرمز کھولو، جوہری تنازعہ بعد میں دیکھا جائے گا۔

تہران نے گیند واپس واشنگٹن کے کورٹ میں پھینک دی

دوسری طرف ایران آبنائے ہرمز کو محض ایک سمندری راستہ نہیں بلکہ اپنے ہاتھ میں موجود ایک بڑے تزویراتی مہرے کے طور پر استعمال کررہا ہے۔ ایرانی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل نے اعلان کیا ہے کہ امریکہ جب تک اپنا طرزِ عمل درست نہیں کرتا، آبنائے ہرمز نہیں کھولی جائے گی۔ کونسل کے سیکریٹری اور پاسداران (IRGC)کے کمانڈر محمد باقر ذوالقدر نے ایک بیان میں کہا کہ تہران، امریکہ سے ایران کو دوبارہ دھمکی نہ دینے، جنگ ختم کرنے، ایرانی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی اٹھانے،  خطے سے امریکی فوجی انخلا، جنگ میں ہونے والے نقصانات کا مکمل معاوضہ، تمام پابندیوں کا خاتمہ اور منجمد ایرانی اثاثوں کی غیر مشروط واپسی  چاہتا ہے۔

ہرمز کا جھٹکا پانامہ تک

آبنائے ہرمز کی بندش کا اثر صرف خلیج فارس تک محدود نہیں رہا۔ اس کے جھٹکے تقریباً 8 ہزار میل دور نہرِ پانامہ (Panama Canal) تک پہنچ گئے ہیں۔ہرمز بند ہونے پر جب خلیج فارس سے ایشیا جانے والی تیل اور LPG کی ترسیل متاثر ہوئی تو ایشیائی خریداروں نے امریکہ سے توانائی خریدنا شروع کردی۔ ٹیکسس (Texas)کی بندرگاہوں سے بحرالکاہل کے راستے ایشیا جانے والے جہازوں کے لیے پانامہ کینال ایک اہم مختصر راستہ ہے۔ نتیجتاً کینال میں ترجیحی گزرگاہوں کی طلب بڑھی اور ان کے لئے ہونے والی نیلامی میں قیمتیں غیر معمولی سطح تک پہنچ گئیں۔ حالیہ دنوں ایک گیس سپر ٹینکر نے قطار سے پہلے گزرنے کے لیے ریکارڈ 46لاکھ ڈالر  ادا کئے۔ یہ کینال فیس نہیں بلکہ ترجیحی گزرنے کی قیمت تھی۔ دوسری طرف پانامہ کینال،  پانی کی کمی اور محدود گنجائش کے مسائل سے دوچار ہے۔ یوں ہرمز کی بندش نے جہاں ایک سمندری راستے کو متاثر کیا، وہیں ہزاروں میل دور دوسرے راستے پر بھی  ’’ٹریفک جام‘‘ پیدا کردیا۔

امریکی میزائلوں کا ذخیرہ بھی دباؤ میں

خلیج فارس کی جنگ جہاں  عالمی معاشی بحران کو جنم دے رہی ہے وہاں اس طویل جنگ نے امریکی فوجی طاقت کے ایک ایسے پہلو کو نمایاں کردیا ہے جو واشنگٹں کیلئے زیادہ خوش کن نہیں۔طویل فاصلے کے میزائلوں اور فضائی دفاعی گولوں(Interceptor) کے ذخائر خطرناک حد تک سکڑنے کی خبریں آ رہی ہیں۔ رائٹرز کے مطابق THAAD اور Patriot جیسے دفاعی نظام کے ذخائر میں بھی نمایاں کمی کی باتیں ہورہی ہیں۔

اب امریکی بحریہ بھی دباؤ میں دکھائی دے رہی ہے۔ طیارہ بردار جہاز ابراہام لنکن مسلسل ڈھائی سو دن سے سمندر میں ہے۔ اس کے بارے میں خوراک، پانی، مرمت اور اہلکاروں کی ذہنی صحت سے متعلق شکایات سامنے آنے پر سینیٹ کے ارکان نے وزیرجنگ اور وزیربحریہ سے جواب طلب کرلیا ہے۔امریکی ذرایع ابلاغ پر بعض اہلکاروں کے سمندر میں چھلانگ لگانے کی بھی خبر آئی جسکی امریکی بحریہ کی جانب سے ترنت تردید آگئی۔ لیکن ان خبروں کا سلسلہ جاری ہے۔اس حوالے سے تازہ ترین خبر یہ ہے کہ بحرالکاہل میں تعینات طیارہ بردار جہاز جارج واشنگٹن کو بحیرہ احمر کی طرف کوچ کا حکم دیدیا گیا ہے تاکہ ابراہام لنکن کے تھکے عملے کو رخصت مل سکے۔ ایران کے خلاف جنگ میں واشنگٹن نے اپنی عسکری برتری ضرور دکھائی، مگر کیا امریکہ طویل جنگ جاری رکھنے کی فوجی صلاحیت بھی رکھتا ہے؟

صدر کی حفاظت یا ’’decoy‘‘ طیارہ؟

اسی دوران نیٹو سربراہی اجلاس  کے بعد انقرہ سے صدرٹرمپ کی پراسرار روانگی نے ایک نئی بحث کو جنم دیا۔ واشنگٹن پوسٹ کے مطابق صدر ٹرمپ وطن واپسی کیلئے انقرہ سے  اپنے Air Force Oneمیں سوار ہوئے۔ امریکی وزیرخارجہ و وزیرخزانہ کے علاوہ صدر ٹرمپ کے ساتھ ترکیہ آنے والے صحافی بھی جہاز پر موجود تھے۔ کچھ دیر بعد طیارے کے دوسرے حصے سے امریکی صدر کو ایئرپورٹ کیٹرنگ ٹرک کے ذریعے باہر نکالا گیا۔ ٹرک نے انہیں ایک دوسرے مقام پر کھڑے چھوٹے فوجی طیارے C-32A تک پہنچایا اور ٹرمپ اس میں سوار ہوکر خفیہ طور پر برطانیہ پہنچے۔ جبکہ  Air Force One  بھی لندن کے سفر پر روانہ ہوگیا۔ دوسرے دن جناب ٹرمپ نے اس 'واردات' کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ یہ سب کچھ سیکیورٹی ماہرین کی سفارش پر کیا گیا۔ اس خبر پر جہاں ایرانیوں نے مذاق اڑایا وہیں امریکی سینیٹ میں حزب اختلاف کے قائد نے بھی تشویش کا اظہار کیا۔ سینٹر چک شومر نے سی آئی اے سے مطالبہ کیا ہےکہ ایران کی جانب سے صدر ٹرمپ کی جان کو لاحق خطرات اور ان خطرات کے ازالے کیلئے اٹھائے گئے اقدامات سے امریکی قانون سازوں کو آگاہ کیا جائے۔ ناقدین کو اس بات بھی سخت تشویش ہے کہ خطرے سے آگاہی کے باجود اعلی امریکی حکام کو موت کے منہہ یعنی Decoyطیارے میں چھوڑ دیا گیا۔

اسرائیلی انٹیلی جنس پر خود امریکہ کو کتنا اعتماد؟

گزشتہ ہفتے یہ  کہانی اسوقت ایک نئے اور مزید سنگین موڑ پر پہنچ گئی جب واشنگٹن پوسٹ نے انکشاف کیا کہ ترکیہ میں صدرٹرمپ کے طیارے کوایران کی جانب سے نشانہ بنانے کی اطلاع اسرائیلی خفیہ ایجنس نے فراہم کی تھی۔تاہم امریکی سراغرساں اداروں کے حوالے سےواشنگٹن پوسٹ کا کہنا ہے کہCIAکو اسرائیل سے ملنے والی انٹیلی جنس پر گہرے تحفظات تھےاور اسکے تجزیہ کاروں نے اسے اتنا قابلِ اعتماد نہیں سمجھا کہ اس سے کسی فوری ایرانی حملے کا نتیجہ اخذ کیا جاسکے۔ ایک سابق امریکی اہلکار کے مطابق بعض حکام  کا خیال ہے کہ اسرائیلی ادارے امریکی صدر کو باور کرانا چاہتے ہیں کہ ایران صدر ٹرمپ کو قتل کرنے کی سازش کررہا ہے تاکہ صدر ٹرمپ کو ایران کے خلاف سخت عسکری کاروائی کیلئے آمادہ کیا جائے۔امریکی ان اطلاعات کو ایسی معلومات بھی سمجھتے ہیں جو صدر کے فیصلوں کو متاثر کرنے کے لیے استعمال ہوسکتی ہیں۔

نیتن یاہو کا مذاق، یا انتخابی سیاست؟

اس تناظر میں نیتن یاہو کا بدلتی برطانوی سیاست پر اسے ’’اسلامی جمہوریہ برطانیہ‘‘ کہنا  محض طنز سمجھ کر نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ اسرائیلی ریڈیو سے باتیں کرتے ہوئے اسرائیلی وزیراعظم نے ازراہ مذاق کہا کہ اگر برطانیہ جوہری ہتھیار حاصل کرلے تو وہ ’’پہلی جوہری اسلامی جمہوریہ‘‘ ہوگا۔ ساتھ ہی فخر سے بولے کہ وہ اس بات کو یقینی بنا رہے ہیں کہ ایران دوسری ایسی ریاست نہ بن سکے۔مذاق اپنی جگہ، مگر نیتن یاہو کی یہ بات ان کی دلی کیفیت، ایران کے جوہری پروگرام کے خوف کی ایک جھلک اور انکی انتخابی مہم کا حصہ محسوس ہوتی ہے۔ اسرائیلی سیاست میں ایران کا خطرہ پہلے ہی ایک مؤثر سیاسی بیانیہ ہے، اور انتخابات کے قریب اس بیانئے کی اہمیت مزید بڑھ سکتی ہے۔

ایران کے خلاف جنگ نے اب ایک عجیب تضاد پیدا کردیا ہے۔ امریکہ نے فوجی اعتبار سے اپنی زبردست طاقت کا مظاہرہ کیا، لیکن اب اسکے میزائل ذخائر، بحریہ، مالی وسائل اور سیاسی گنجائش دباو میں نظر آرہے ہیں۔دوسری طرف ایران، جسے واشنگٹن کمزور اور مذاکرات کے لیے مجبور سمجھ رہا تھا، آبنائے ہرمز کو انتہائی مؤثر معاشی اور تزویراتی ہتھیار کے طور پر استعمال کررہا ہے۔ واشنگٹن کیلئے ایران کو شکست دینے سےبڑی ترجیح اب یہ ہوچکی ہے کہ جنگ کو ایسی قیمت پر کیسے ختم کیا جائے جسے امریکی عوام فتح سمجھ سکیں؟

ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل کراچی 21 اگست 2026

ہفت روزہ دعوت دہلی 21 اگست 2026

ہفت روزہ رہبر سرینگر 23 اگست 2026