Friday, August 14, 2026

 

امن کے معاہدے، جنگ کے شعلے اور نیتن یاہو کا سیاسی دوراہا

اسرائیلی عوام کی بدلتی رائے اور مزاحمت کاروں کی تزویراتی چال

جنگ کے خاتمے کے لئے معاہدے، مذاکرات اور یقین دہانیاں اپنی جگہ، مگر مشرقِ وسطیٰ میں امن کا راستہ ابھی بھی بارود سے بھرا ہوا ہے۔ لبنان میں اسرائیل اور لبنانی حکام کے درمیان امریکی ثالثی میں مذاکرات جاری ہیں جبکہ غزہ میں جنگ کے خاتمے کے لئے امریکی حمایت یافتہ منصوبہ زیرِ بحث ہے، لیکن دونوں محاذوں پر وقفے وقفے سے گولہ باری اور فوجی کارروائیاں سے اندازہ ہوتا ہے کہ جنگ جاری رکھنے کی عسکری و داخلی سیاست امن کی طرف بڑھنے کی سیاسی خواہش زیادہ طاقتور ہے

لبنان: مذاکرات کی میز اور میدانِ جنگ

لبنان کے معاملے میں ایک بنیادی پیچیدگی یہ ہے کہ حزب اللہ، جو اس تنازع کا ایک اہم عسکری فریق ہے، مذاکرات کی میز پر موجود نہیں۔ امریکہ کی ثالثی میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان امن مذاکرات جاری ہیں۔خبروں کے مطابق اسرائیلی فوج کے جنوبی لبنان سے مرحلہ وار انخلا اور حزب اللہ کے اسلحے کے خاتمے کی نگرانی کے لئے کسی تیسرے فریق کی موجودگی جیسے امور پر اتفاق ہوچکاہے۔ حالیہ پیش رفت میں دونوں جانب سے نگرانیِ امن کیلئے ممکنہ ممالک کی ایک فہرست پر اتفاق بھی سامنے آیا ہے، تاہم حزب اللہ نے غیر مسلح ہونے سے انکار کردیا ہے۔ اس سفارتی عمل کے ساتھ ساتھ جنوبی لبنان میں اسرائیلی فوجی کارروائیاں بھی جاری ہیں۔ جمعہ 7 اگست کو مزاحمت کاروں نے جنوبی لبنان کے شہر مجدل سلم میں میجرسمیت  دو اسرائیلی فوجیوں کو ہلاک اور کئی زخمی کردئے، جواب میں دوسرے دن اسرائیلی فضائیہ نے قریبی گاوں تبنین کے قرستان کی مسجد کو نشانہ بنایا جس میں ایک شخص جاں بحق اور درجنوں زخمی ہوگئے۔ستم ظریفی کہ سبت یعنی ہفتے کے روز جب اسرائیلی طیارے جنوبی لبنان کی اس شہری آبادی پر آگ برسارہے تھے۔ عین اسی وقت یروشلم کے کئی علاقوں میں کھلے ریستورانوں کے سامنے بہت سے اسرائیلی حرمتِ سبت کی پامالی پر احتجاج کر رہے تھے جبکہ اشدود کے ساحل کو قدامت پسند اسرائیلیوں نے عارضی رکاوٹیں لگا کر مردو خواتین کی الگ الگ غسل گاہوں میں تبدیلی کردیاکہ اختلاطِ مردوزن توریت کے مطابق درست نہیں۔ کیا مذہبی حساسیت صرف سبت اور حجاب تک محدود ہے؟ جس مذہبی روایت میں سبت کے احترام اور اخلاقی پاکیزگی پر زور دیا گیا ہے، وہی بے گناہ انسان کے خون، ظلم اور ناانصافی کو بھی سختی سے رد کرتی ہے۔ حضرت عیسیٰؑ نے ایسے ہی رویے پر تنبیہ کرتے ہوئے فرمایا تھا:  "اَے اندھے راہ دکھانے والو! تم مچھر تو چھانتے ہو مگر اونٹ نگل جاتے ہو۔" انجیلِ متی 23:24

غربِ اردن: جنگ کا تیسرا محاذ

غزہ اور لبنان کے ساتھ غرب اردن میں اس ہفتے بھی فلسطینیوں پر حملے اور بیدخلی کا سلسلہ جاری رہا۔ نابلوس کے علاقے جالود پر مسلح قبضہ گردوں نے گاڑیوں اور مکانوں کو آگ لگادی اور پولیس نے وہاں پہنچ کر اپنے اثاثوں کا دفاع کرنے والے کئی فلسطینیوں کو گرفتار کرلیا۔

ادھر کچھ عرصے سے گھر خالی کرانے کیلئے مکینوں کو یرغمال بنانے کی واردات بھی شروع ہوچکی ہے۔ نابلوس کے قصبے قصرہ میں یوسف حسن کا گھر گزشتہ کئی دنوں سےمسلح قبضہ گردوں کے محاصرے میں ہے۔ آبادکاروں نے گھر کے مرکزی دروازے کے سامنے ایک عارضی ڈھانچہ کھڑا کردیا ہے جس کے باعث حسن، ان کی اہلیہ اور  دو کم سن بیٹیاں، جن کی عمریں صرف دو اور چار سال ہیں، گھر سے باہر نہیں نکل سکتے اور کوئی شخص اندر داخل نہیں ہوسکتا۔یوسف نے گھر کے اندر سے فون پر بتایا کہ بجلی کی تاریں بھی کاٹ دی گئی ہیں۔ ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق اسرائیلی فوجی موقع پر پہنچے، آبادکاروں کے ساتھ گفتگو کی اور پھر واپس چلے گئے، لیکن خاندان کا محاصرہ ختم نہیں کرایا گیا۔

ملبے سے نکلتی ہوئی لاشیں

حالات نسبتاً پرسکوں ہونے پر غزہ شہر کے محلے الصبرہ میں نومبر 2023 کی اسرائیلی بمباری سے زمیں بوس ہونے والی عمارت کے ملبے سے لاشوں کی تلاش کا کام شروع ہوا۔ کارکنوں نے ابو شریعہ اور الحساینہ خاندانوں کے 112 افراد کی لاشیں بازیاب کرلیں جنکی 4 اگست کو اجتماعی تدفین کی گئی۔ صرف دو خاندان کی میتوں کی تعداد 100 سے زیادہ۔عینی شاہدین کے مطابق کے ان خاندانوں کا کوئی فرد بھی زندہ نہ بچا

اسرائیلی رائے عامہ کا بدلتا ہوا منظرنامہ

ایک طرف بمباری اور حملوں کی شدت دوسری طرف اسرائیلی ٹی وی چینل 12 کے تازہ سروے نے زمینی صورتحال کی  حیران کن تصویر پیش کی ہے۔ تین برس سے جاری جنگ، ہزاروں فلسطینیوں کے قتل اور غزہ کی مکمل تباہی کے باوجود 62 فیصد اسرائیلیوں کا خیال ہے کہ وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو غزہ کو فتح (Total Victory) نہیں کر سکیں گے۔ صرف 25 فیصد اس دعوے سے اتفاق کرتے ہیں۔ جائزے کے مطابق اکثریت کا خیال ہے کہ حماس اور نہ ہی حزب اللہ مستقبلِ قریب میں رضاکارانہ طور پر ہتھیار ڈالیں گے۔

نیتن یاہو کے بعد کون؟

اگر اسرائیلی عوام کی اکثریت جنگی اہداف کو ناقابل حصول اور قیادت کی کارکردگی کو غیر تسلی بخش سمجھتی ہے تو کیا اس کا سیاسی اظہار آئندہ انتخابات میں ہوگا؟ ایک رائے یہ ہے کہ جنگی تھکن (War Fatigue)، معاشی دباؤ اور بین الاقوامی تنہائی اسرائیلی ووٹروں کو نسبتاً معتدل اور مفاہمت پسند قیادت کی طرف مائل کر سکتی ہے، جو عسکری کارروائی کے ساتھ سفارت کاری کو بھی اہمیت دے۔ دوسری رائے اس کے برعکس ہے۔ اسرائیل کی سیاسی تاریخ بتاتی ہے کہ جب بھی قومی سلامتی کا احساس شدید ہو،عوام تبدیلی کے بجائے ایسی قیادت کو ترجیح دیتے ہیں جسے وہ سخت گیر اور سلامتی کے معاملات میں زیادہ مضبوط سمجھتے ہیں۔ اس تناظر میں یہ بھی ممکن ہے کہ نیتن یاہو کی مقبولیت میں کمی کے باوجود قدامت پسند یا دائیں بازو کا کوئی دوسرا رہنما عوام کی پہلی ترجیح بن جائے۔علمائے سیاست کا خیال ہے کہ نیتن یاہو کی مقبولیت میں کمی اور دائیں بازو کی مجموعی مقبولیت میں کمی ایک ہی بات نہیں۔ اسرائیلی سیاست میں یہ فرق بہت اہم ہے۔ اسی بنا پر یہ کہنا مشکل ہے کہ آئندہ انتخابات میں متبادل شخصیت منتخب ہوگی یا متبادل پالیسی؟؟

غزہ: مزاحمت کی تزویراتی چال؟

میدان جنگ کیساتھ نیتن یاہو حکومت کو مزاحمت کاروں کی تزویراتی (اسٹریٹیجک) مزاحمت کابھی سامنا ہے۔

امریکی حمایت یافتہ بورڈ آف پیس کے منصوبہ امن کو تسلیم کرتے ہوئے حماس، انتظامی اختیار سے دستبردار اور اسرائیلی انخلا کے بعد غیر مسلح ہونے پر آمادگی ظاہر کر چکی ہے  لیکن  نیتن یاہو اپنے انتہاپسند اتحادیوں کے دباؤ میں اس منصوبے کی شرائط قبول کرنے سے ہچکچا رہے ہیں۔ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق 6 اگست کو اسرائیلی کابینہ اور سکیورٹی حکام کے اجلاس میں اسی صورتِ حال پر غور کیا گیا۔ اسرائیلی فوج کے انٹیلی جنس ریسرچ ڈپارٹمنٹ کے سربراہ بریگیڈیئر جنرل Ofir Mizrahi-Rozen نے خبردار کیا کہ حماس نے 15 نکاتی منصوبہ قبول کرنے کے باوجود اسرائیل کو تباہ کرنے کے اپنے نظرئے سے دستبرداری اختیار نہیں کی۔ ان کاکہنا تھا کہ " حماس نے گیند اسرائیل کے کورٹ میں ڈالنے" کی حکمت عملی اختیار کی ہے۔ اسرائیلی خفیہ ادارے شاباک کے سربراہ ڈیوڈ زینی نے تو اسے مبینہ طور پر "Strategic Ambush" یعنی تزویراتی گھات قرار دیا۔ ان کے مطابق حماس کا معاہدے پر دستخط کرنا وقت حاصل کرنے اور اسرائیل کوغزہ میں فوجی کارروائی روکنے کی حکمت عملی ہوسکتی ہے۔

امن کا پل یا جنگ کا تسلسل؟

نیتن یاہو کے سامنے مشکل یہ ہے کہ امریکی حمایت یافتہ منصوبے کو قبول کرنے کا مطلب غزہ سے فوجی انخلا اور غزہ پٹی کی مکمل آزادی ہے۔انتہاپسند وزیرخزانہ بیزلیل اسموتریخ ، وزیر اندرونی سلامتی اور دوسرے اتحادی نیتن یاہو سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ وہ 15 نکاتی منصوبے کو مسترد کرکے غزہ میں فوجی کارروائیاں دوبارہ شروع کریں۔دوسری طرف انکے لئے حماس کی اس پیشکش کو مسترد کرنے کا کوئی اخلاقی و سیاسی جواز نہیں۔

کیا نیتن یاہو جنگ ختم کرنے کے لئے امریکی منصوبے کو قبول کریں گے یا اپنے انتہاپسند اتحادیوں کو مطمئن رکھنے کی خاطر  جنگ جاری رکھیں گے؟ ضد و ہٹ دھرمی اور بات لیکن اگر مسلح مزاحمت کا خاتمہ اور غزہ کی انتظامی منتقلی بھی کافی نہیں تو آخر امن کی اسرائیلی شرائط کیا ہیں؟۔حماس کی اس تزویراتی گھات نے اسرائیل کو جنگ جاری رکھنے کے بجائے امن کی بھاری سیاسی قیمت ادا کرنے پر مجبور کردیا ہے۔ کیا نیتن یاہو اپنے اتحادیوں کے دباؤ سے نکل کر امن کے پلِ صراط کی سے گزرنے کی سیاسی قیمت ادا کرنے پر تیار ہیں؟؟؟

اصل امتحان اسرائیل کا

اسرائیل کو یہ سمجھنا ہوگا کہ سلامتی،  عسکری برتری سے حاصل نہیں ہوتی۔ سرحد کے دوسری جانب رہنے والے انسان اگر مستقل خوف، محرومی اور بے دخلی میں زندگی گزاریں تو آج کی فوجی کامیابی کل ایک نئی مزاحمت کو جنم دے گی۔ جب اسرائیلی عوام یہ محسوس کرنے لگے ہیں کہ تین برس کی جنگ کے بعد بھی "مکمل فتح" دور ہے، تو آنے والے انتخابات میں انھیں یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ جنگ کا تسلسل  چاہئے ہیں یا ایک نئی سیاسی حکمتِ عملی؟

ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل کراچی 14 اگست 2026

ہفت روزہ دعوت دہلی 14 اگست 2026

ہفت روزہ رہبر سرینگر 16 اگست 2026


 

جنگ سے باوقار اخراج کی تلاش

پاکستان کے لئے سفارتی موقع؟

صدر ٹرمپ کی جانب سے ایرانیوں کو ’’سر قلم کر دینے‘‘ کی دھمکی کے باوجود گزشتہ دس دنوں میں کسی مسلح تصادم کی خبر نہیں آئی۔ تین اگست کو امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات جاری ہیں اور آبنائے ہرمز جلد مکمل طور پر کھول دی جائے گی۔ ان کے مطابق یہ پیش رفت ایران کی ’’جوہری صلاحیت کے خاتمے‘‘ کے معاہدے کی طرف بڑھنے کا راستہ ہموار کرے گی۔ تاہم ان دعوؤں کی سختی سے تردیدکرتے ہوئے ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے واضح کیا کہ نہ کوئی ملاقات طے ہے اور نہ ہی آبنائے ہرمز امریکی شرائط پر کھلے گی۔ ایران کا مؤقف ہے کہ آبنائے سے بحری ٹریفک اس کی مرضی کے مطابق ہی گزرے گی۔

ہرمز: جوہری پروگرام سے بڑا سوال؟

چار اگست کو امریکی وزیرِ خزانہ اسکاٹ بیسینٹ نے بھی مذاکرات اور ممکنہ معاہدے کی بات کی، مگر زمینی حقیقت یہ ہے کہ آبنائے ہرمز اب بھی عملاً بند ہے۔ رائٹرز نے ایران–عمان مشاورت کی تصدیق کی ہے لیکن اس منصوبے میں ایران نہ صرف اپنی حدود کی حفاظت بلکہ آنے والے جہازوں پر براہِ راست کنٹرول اور جانے والے جہازوں کی مکمل نگرانی چاہتا ہے۔ تجزیہ نگاروں کے مطابق اصل سوال اب یہ نہیں کہ ایران کتنی یورینیم افزودہ کرے گا، بلکہ یہ ہے کہ آبنائے ہرمز پر عملی اختیار کس کے پاس ہوگا۔ پاسدارانِ انقلاب نے بھی واضح کر دیا کہ ایران–عمان گفتگو کا آبنائے ہرمز کے کھلنے سے کوئی تعلق نہیں۔ آبنائے صرف اسی وقت کھلے گی جب امریکہ ایرانی شرائط تسلیم کرے گا۔

امریکی اسلحہ ذخائر کی کمی: فیصلہ سازی پر اثر؟

اسی دوران امریکی اسلحے کے ذخائر میں کمی کی خبریں بھی سامنے آئیں۔ واشنگٹن پوسٹ کے مطابق صدر ٹرمپ نے کابینہ اجلاس میں طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں کی کمی پر شدید برہمی کا اظہار کیا۔ اگرچہ وائٹ ہاؤس نے اس کی تردید کی، لیکن امریکی صدر کے لہجے میں نمایاں تبدیلی محسوس کی گئی۔ ایران کو فوجی دھمکیوں کے بعد اچانک سفارت کاری کو ’’ایک اور موقع‘‘ دینے کی باتیں اس تبدیلی کی علامت ہیں۔ ممکن ہے کہ یہ سفارتی پیش رفت کا نتیجہ ہو، لیکن یہ امکان بھی موجود ہے کہ عسکری ذخائر پر دباؤ نے واشنگٹن کو  حکمتِ عملی تبدیل کرنے پر پر مجبور کیا ہو۔

جنگ سے باوقار اخراج کی تلاش

اسی پس منظر میں CNN کی وہ رپورٹ خاصی معنی خیز ہے جس کے مطابق جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین جنرل ڈین کین نے نجی گفتگو میں ایران کی جنگ سے نکلنے کے لیے ایک ’’Off-ramp‘‘ کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ اس اصطلاح کا بہتر اردو مفہوم ’’جنگ سے باوقار اخراج کی راہ‘‘ ہوسکتا ہے۔یعنی ایسا راستہ جس کے ذریعے امریکہ اپنے بنیادی مفادات کو ممکنہ حد تک محفوظ رکھتے ہوئے مزید جنگ میں الجھنے سے نکل آئے اور اسے شکست تسلیم کے بجائے سیاسی یا سفارتی نتیجے کے طور پر پیش کرسکے۔رپورٹ کے مطابق جنرل صاحب کا خیال ہے کہ زیرِ غور بعض عسکری متبادل الٹا نقصان دہ ثابت ہوسکتے ہیں اور صرف فضائی طاقت کے ذریعے ٹرمپ انتظامیہ کے مطلوبہ سیاسی اہداف حاصل کرنا مشکل ہوگا۔ امریکی نائب صدر جے ڈی وانس ، سی آئی اے کے ڈائریکٹر  جان ریٹکلف اور وزیر خارجہ مارکو روبیو سمیت اعلیٰ حکام بھی جنگ کو کسی قابلِ قبول انجام تک پہنچانے کے امکانات پر غور کررہے ہیں۔

فضائی طاقت کی حدود اور زمینی جنگ کے خطرات

امریکی عسکری قیادت جانتی ہے کہ فضائی طاقت ایران کو مکمل طور پر زیر نہیں کر سکتی۔ اہداف کی تعداد بڑھتی جائے گی، حملے طویل ہوں گے اور ایران کے جوابی حملوں کا خطرہ بھی بڑھے گا۔ یوں ایک محدود فوجی مہم بتدریج طویل جنگ بلکہ افغانستان کی طرح دلدل میں تبدیل ہوسکتی ہے۔امریکہ کے بعض حلقے زمینی کاروائی کی سفارش کررہے ہیں، لیکن زمینی کارروائی اس سے بھی کہیں زیادہ پیچیدہ ہوگی۔ ایران جیسے بڑے، پہاڑی اور جغرافیائی اعتبار سے پیچیدہ ملک میں  زمینی فوج اتارنے کا مطلب محض چند فوجی اڈوں پر قبضہ نہیں ہوگا بلکہ وسیع پیمانے پر فوج، رسد، فضائی دفاع اور طویل مدتی موجودگی درکار ہوگی۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ امریکی فوجیوں کے جانی نقصان اور ایران کی جانب سے خلیج، عراق، شام اور دیگر مقامات پر جوابی کارروائیوں کا خطرہ کئی گنا بڑھ جائے گا۔امریکی فیصلہ ساز بظاہر ایک ایسے دائرے میں پھنس گئے ہیں جس سے نکلنے کا کوئی آسان راستہ نظر نہیں آتا۔ فضائی حملے مطلوبہ سیاسی نتیجہ نہیں دے رہے اور زمینی جنگ کے مضمرات اس سے بھی زیادہ سنگین ہوسکتے ہیں۔

سفارت کاری کی طرف جھکاؤ: آبنائے ہرمز بطور Off-ramp

صدر ٹرمپ کے بیانات میں آنے والی نرمی اسی عسکری دباؤ کا نتیجہ لگ رہی ہے۔ واشنگٹن اب مذاکرات کے ذریعے آبنائے ہرمز کھولنے کی بات کر تے ہوئے  ایران–عمان مشاورت کی حوصلہ افزائی کر رہا ہے۔ اگر آبنائے کھل جاتی ہے تو نہ صرف توانائی اور تجارت کا بحران کم ہوگا بلکہ امریکہ اسے ایک Off-ramp کے طور پر استعمال کر سکتا ہے۔یعنی یہ تاثر دیا جائے کہ فوجی دباؤ نے مذاکرات کی راہ ہموار کی اور اب سفارت کاری کامیاب ہو رہی ہے۔

پابندیوٓں میں نرمی ۔۔  موہوم اشارہ؟؟

اسی تناظر میں  5 اگست کو امریکہ کی جانب سے عراقی فضائی کمپنی Fly Baghdadالمعروف Iraq Express اور متعلقہ دو طیاروں پر عائد انسدادِ دہشت گردی پابندیاں ختم کرنے کا فیصلہ بھی معنی خیز محسوس ہوتا ہے۔امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق یہ پابندیاں پاسداران انقلاب سے تعلق کے الزام میں عائد کی گئی تھیں۔ اسکی وضاحت کرتے ہوئے امریکی محکمہ خزانہ کے ایک عہدیدار نے واضح طور پر کہا ہے کہ یہ فیصلہ ان اداروں کے "طرزِ عمل میں نمایاں تبدیلی" (significant behavioral changes) کی بنیاد پر کیا گیا ہے اور اس کا ایران کے بارے میں امریکی پالیسی یا جاری مذاکرات سے  کوئی تعلق نہیں۔ واشنگٹن کی اس وضاحت کے باوجود اسے مفاہمت کا ایک موہوم یا بالواسطہ اشارہ ضرور کہا جاسکتا ہے تاہم اسے کوئی واضح سفارتی پیش رفت قرار دینا قبل از وقت ہوگا۔

امریکہ–ایران کشیدگی ایک ایسے موڑ پر کھڑی ہے جہاں جنگ اور سفارت کاری دونوں راستے موجود ہیں۔ واشنگٹن کی عسکری قیادت اور سیاسی حلقے بظاہر جنگ کو ایک قابلِ قبول انجام تک پہنچانے کے خواہاں ہیں۔ آبنائے ہرمز اس پورے منظرنامے میں مرکزی حیثیت اختیار کر چکی ہے، اور اگر مذاکرات کامیاب ہوتے ہیں تو یہ نہ صرف خطے میں استحکام کا باعث بنے گا بلکہ پاکستان کے لیے بھی ایک اہم سفارتی کردار ادا کرنے کا موقع فراہم کرے گا۔ آنے والے دنوں میں اصل جنگ شاید میدانِ جنگ میں نہیں بلکہ مذاکرات کی میز پر لڑی جائے گی۔

ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل کراچی 14 اگست 2026

ہفت روزہ دعوت دہلی 14 اگست 2026

ہفت روزہ رہبر سرینگر 16 اگست 2026


Thursday, August 6, 2026

 

غزہ، لبنان اور بدلتا ہوا عالمی منظرنامہ

غزہ اور لبنان میں جنگ بندی، ثالثی کی کوششوں اور بارہا کی سفارتی یقین دہانیوں کے باوجود مشرقِ وسطیٰ اب بھی پائیدار امن سے خاصا دور دکھائی دیتا ہے۔ اسرائیلی وزیرِ دفاع اسرائیل کاٹز کے ایک حالیہ ٹیلی وژن انٹرویو نے خطے میں تشویش کی نئی لہر دوڑا دی ہے۔ انھوں نے کہا کہ  ہم نے سینکڑوں سال پرانے وہ 24 لبنانی دیہات تباہ کردئےجن کے شیعہ باشندے حزب اللہ کی حمائت میں اسرائیل کے دشمن کے طور پر کام کرتے تھے۔وزیر دفاع نے دوٹوک انداز میں کہا کہ صرف چند مکانات نہیں بلکہ پورے دیہات مسمار کئے گئے اور اندازاً 15 سے 20 ہزار مکانات منہدم کئے جا چکے ہیں۔

فوجی کارروائی کا دعویٰ اپنی جگہ، لیکن اس بیان کا سب سے تشویش ناک پہلو یہ ہے کہ متاثرہ آبادی کو صرف "حزب اللہ کے حامی" نہیں بلکہ "شیعہ باشندے" کہہ کر متعارف کرایا گیا۔ جب کسی فوجی مہم میں مذہبی شناخت کو اس انداز سے نمایاں کیا جائے تو اس سے سیاسی اور عسکری تنازع کو فرقہ وارانہ رنگ ملنے کا خدشہ پیدا ہو جاتا ہے۔صدیوں سے آباد دودرجن دیہات، 15 سے 20 ہزار مکانات اور تقریباً 700 مربع کلومیٹر علاقے کی تباہی صرف ایک عسکری کارروائی نہیں بلکہ جنوبی لبنان کے جغرافیے اور آبادیاتی نقشے (Demographic Landscape) میں ایک بڑی تبدیلی بلکہ نسل کشی کی بدترین مثال ہے۔

غزہ: جب نشانہ صرف انسان نہیں رہتے

غزہ میں بھی بمباری اور ڈرون حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔ گزشتہ ہفتے دیر البلاح ، خان یونس اور دوسرے شہروں پر بمباری میں 8 اور ڈیڑھ سال کی بچیوں سمیت متعدد افرادجاں بحق ہوئے۔ فلسطینی ذرایع کے مطابق جولائی میں  ایک سو سے زیادہ شہری اسرائیلی حملوں کا نشانہ بنے۔ کچے گھروندوں اور خیموں  کیساتھ غزہ شہر میں امدادی خوراک کے گودام پر بھی بمباری کی گئی گویا حیات کیساتھ اب اسباب حیات کو بھی غارت کیا جارہا ہے۔

غضب کیا ترے وعدے پہ اعتماد کیا

ٹائمز آف اسرائیل  کے مطابق مقتدرہ فلسطین (PA)کے رہنمامحمد دحلان کو امریکی دامادِ اول جیررڈ کشنر نے یقین دلایا تھا کہ 2 اگست سے اسرائیل غزہ پر بمباری روک دیگا۔ اہل غزہ کو کشنر کا یہ بیاں تازہ ہوا کا ایک خوشگوار جھونکا محسوس ہوا لیکن مقررہ دن  صبح سویرے غزہ شہر پر بمباری کرکے اسرائیل نے اس وعدے کی حقیقت عیاں کردی۔ان حملوں میں خواتین اور بچوں سمیت 19 افراد جاں بحق ہوئے۔

جنگ کی تلخیوں میں شہد کی مٹھاس

تباہی و مایوسی کے ان لمحات میں بھی اہل غزہ امید کے چراغ روشن کئے ہوئے ہیں۔ جنگ سے پہلے غزہ میں تقریباً تیس ہزار شہد کے چھتے تھے جن سے ہر سال سینکڑوں ٹن شہد حاصل ہوتا تھا۔ اب یہاں سات سو سے بھی کم چھتے باقی رہ گئے ہیں اور پیداوار اپنے سابقہ حجم کے صرف دس فیصد تک محدود ہو چکی ہے۔ باغات تباہ ہو چکے ہیں، زرعی زمینوں تک رسائی محدود ہے اور شہد کی مکھیوں کے لیے پھول بھی نایاب ہو گئے ہیں۔اس کے باوجود غزہ کے شہد بان ہمت ہارنے پر آمادہ نہیں۔ ایک مقامی شہد بان ابراہیم الدبہ نے نہایت درد بھرے مگر پُرامید انداز میں کہا: "شہد کی مکھیاں درخت مانگتی ہیں، مگر ہم انہیں ملبے کے درمیان پال رہے ہیں۔"

یہ ایک جملہ غزہ کی سب سے مؤثر تصویر ہے۔ عمارتیں گرائی جا سکتی ہیں، باغات جلائے جا سکتے ہیں اور روزگار چھینا جا سکتا ہے، لیکن امید اور محنت کا جذبہ ختم کرنا آسان نہیں۔ شاید اسی لئےغزہ کے کھنڈرات میں گونجتی شہد کی مکھیوں کی بھنبھناہٹ ایک خاموش اعلان ہے کہ اگر زندگی کو ذرا سا موقع مل جائے تو وہ ملبے میں بھی اپنا راستہ بنا لیتی ہے۔

غربِ اردن: زمین کی خاموش جنگ

غربِ اردن میں حملے، بیدخلی اور قبضے کی کاروائیاں جاری ہیں۔ الخلیل (Hebron)کے گاوں صوریف پر قبضہ گردوں نے حملہ کرکے مکانوں، گاڑیوں اور فصلیں کو آگ لگادی گئی۔ نابلوس کے علاقے تل پر ایسے ہی ایک حملے میں  6 افراد جاں بحق ہوگئے۔ حد تو یہ کہ نابلوس میں قبضہ گردوں نے قبریں بھی مسمار کردیں

یہاں اسرائیلی آبادکاری کا دائرہ اب صرف نجی فلسطینی زمینوں تک محدود نہیں رہا۔ ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق اسرائیلی حکام نے مقتدرہ فلسطین (PA) کے زیرِ انتظام بعض علاقوں کو نئی اسرائیلی بستیوں کے درمیان زمینی ربط قائم کرنے کے لئے استعمال کرنے کا عمل شروع کیا ہے۔ یہ صرف چند ایکڑ زمین کا معاملہ نہیں بلکہ اس طرزعمل سے 1993ء کے معاہدۂ اوسلو کے تحت قائم انتظامی ڈھانچے کی عملی حیثیت مشکوک ہوگئی ہے۔اب تک تنازع زیادہ تر نجی فلسطینی زمینوں یا زرعی اراضی تک محدود سمجھا جاتا تھا، لیکن اگر PA کے انتظامی دائرے میں بھی بتدریج تبدیلیاں آتی رہیں تو دو ریاستی حل (Two-State Solution) کی عملی بنیاد مزید کمزور ہو سکتی ہے۔

اسرائیلی فوج: کیا طویل جنگ کے آثار نمایاں ہونے لگے ہیں؟

جنگ کا دباؤ صرف محاذ پر موجود سپاہیوں ہی کو متاثر نہیں کرتا، بلکہ عسکری اداروں کے اندر بھی اس کے اثرات بتدریج ظاہر ہونے لگتے ہیں۔ گزشتہ ہفتے اسرائیلی فوج کی گیواتی بریگیڈ کے متعدد فوجیوں نے اپنے کمانڈر سے اختلاف کے بعد عارضی طور پر فوجی اڈہ چھوڑ دیا۔ بظاہر تنازع ایک ایسے بینر پر تھا جو سینئر فوجیوں نے نئے آنے والے سپاہیوں کے استقبال کے لیے نصب کیا تھا،جسے کمانڈر نے نوواردوں کی تحقیر قرار دیتے ہوئے ہٹانے کا حکم دیا۔ اس فیصلے پر احتجاج ہوا تاہم چند ہی گھنٹوں بعد بیشتر فوجی اپنی ڈیوٹی پر واپس آ گئے۔

اس واقعے کو "فوجی بغاوت" قرار دینا درست نہیں ہوگا، کیونکہ فوجیوں نے اسلحہ اٹھایا نہ  کسی فوجی تنصیب پر قبضے کی کوشش کی اور نہ ہی مسلح مزاحمت کی۔ کیا یہ صرف بینروں کا تنازع تھا، یا پھر تقریباً تین برس سے جاری مسلسل جنگ کا نفسیاتی اثر اب فوج کے اندر بھی نمایاں ہونے لگا ہے؟یہ پہلا موقع نہیں کہ اسرائیلی فوج میں اجتماعی احتجاج یا ڈیوٹی سے انکار کا واقعہ پیش آیا۔ ماضی میں بھی ریزرو اہلکاروں کی جانب سے احتجاج، اجتماعی استعفے اور غیر حاضری کے خبریں آتی رہی ہیں۔ گیواتی بریگیڈ کا حالیہ واقعہ صرف ایک نظم و ضبط کا مسئلہ نہیں بلکہ فوجی مورال کے بارے میں بھی سوالات پیدا کر رہا ہے۔طویل جنگیں صرف دشمن کو ہی نہیں تھکاتیں، اپنی فوج کے اعصاب بھی آزماتی ہیں۔

یورپ میں بدلتی ہوئی فضا

جنگ کا ایک اثر عالمی رائے عامہ پر بھی واضح طور پر دکھائی دے رہا ہے۔ برطانیہ کے مشرقی لندن میں واقع ہیکنی کونسل (Hackney Council) نے حال ہی میں اسرائیلی شہر حیفہ کے ساتھ اپنی "ٹوئن سٹی" (Twin City) شراکت داری ختم کرنے کے حق میں ووٹ دیا۔ قرارداد کے حامی ارکان کا مؤقف تھا کہ غزہ میں انسانی بحران کے تناظر میں معمول کے تعلقات برقرار رکھنا ان کے ووٹروں کے جذبات اور انسانی حقوق کے اصولوں سے مطابقت نہیں رکھتا۔ اگرچہ اس فیصلے سے برطانوی حکومت کی خارجہ پالیسی تبدیل نہیں ہوگی، لیکن اس سے یہ ضرور ظاہر ہوتا ہے کہ غزہ کی جنگ اب صرف سفارتی یا عسکری معاملہ نہیں رہی بلکہ یورپ کی مقامی سیاست اور عوامی رائے کو بھی متاثر کر رہی ہے۔

امریکہ میں بدلتی رائے عامہ

اسی نوعیت کی تبدیلی امریکہ میں بھی محسوس کی جا رہی ہے۔ اسرائیلی وزیراعظم کی امریکہ آٓمد پر نیویارک کے رئیس شہر زہران ممدانی نے اعلان کیا کہ اگر نیتن یاہو نیویارک آئے تو وہ ICCکے وارنٹ کی تعمیل کی کوشش کرینگے۔ یعنی اسرائیلی وزیراعظم کو گرفتار کرکے ICCکے حوالے کردیا جائیگا۔ جناب ممدانی نے حتمی لہجہ اختیار کرنے کے بجائے 'کوشش' کہا کہ اس حوالے سے مئیر اور شہری انتظامیہ کے اختیارات محدود ہیں۔ اسی تناظر میں Economist/YouGov کے ایک سروے میں یہ سوال کیا گیا کہ اگر نیتن یاہو امریکہ آئیں تو کیا امریکی حکام کو ICC کے وارنٹ پر عمل کرنا چاہیے؟ سروے کے مطابق 49 فیصد امریکیوں  نے اس کی حمایت کی، 27 فیصد نے مخالفت کی جبکہ باقی غیر جانب دار رہے۔

کسی ایک سروے کو امریکی عوام کی حتمی رائے قرار نہیں دیا جا سکتا، لیکن یہ نتائج اس امر کی نشاندہی ضرور کرتے ہیں کہ غزہ کی جنگ کے بعد اسرائیل، خصوصاً نیتن یاہو، کے بارے میں امریکی رائے عامہ میں پہلے کے مقابلے میں نمایاں تبدیلی آ رہی ہے۔ چند برس پہلے ایسا سوال امریکی سیاست میں تقریباً ناقابلِ تصور تھا۔

غزہ، لبنان اور غربِ اردن کے یہ تمام واقعات بظاہر ایک دوسرے سے الگ دکھائی دیتے ہیں، مگر درحقیقت یہ ایک ہی بڑی تصویر کے مختلف رخ ہیں۔ ایک طرف جنگ بندی کی کوششیں جاری ہیں، دوسری طرف بمباری، آبادکاری اور زمینی حقائق میں تبدیلی کا سلسلہ بھی رکا نہیں۔ شاید غزہ کے شہد بان ابراہیم الدبہ کے الفاظ ہی اس پورے منظرنامے کی سب سے جامع تعبیر ہیں۔ شہد کی مکھیاں آج بھی ملبے کے درمیان اپنا راستہ تلاش کر رہی ہیں۔ سوال صرف یہ ہے کہ کیا انسان بھی اتنی ہی دانش مندی سے امن کا راستہ تلاش کر پائیں گے، یا آنے والی نسلوں کے لیے بھی جنگ ہی اس خطے کی واحد میراث بنے گی؟

ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل کراچی 7 اگست 2026

ہفت روزہ دعوت دہلی 7 اگست 2026

ہفت روزہ رہبر سرینگر 9 اگست 2026


 

امن کی دہلیز پر جنگ کے سائے

مشرقِ وسطیٰ کی نئی کشمکش، امن، تیل اور اسلحہ کی سیاست

تیرہ راتوں سے جاری کشیدگی میں 25 جولائی کا وقفہ بہت مختصر ثابت ہوا اور 28 جولائی کی صبح  اردن کے الازرق فوجی اڈے پر ایران کے مبینہ میزائیل حملے سے  خلیج فارس کا میدان دوبارہ چمک اٹھا۔ تہران نے حملے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ اس اڈے سے ایران پر حملے کے لئےامریکی F‑35 طیارے اڑان بھرنے والے تھے جنہیں ایرانی میزائلوں نے نشانہ بنایا۔ پاسدارانِ انقلاب (IRGC) کا دعوی ہے کہ میزائل حملے میں 3 امریکی F-35 طیارے تباہ اور 3 کو بھاری نقصان پہنچا۔ تاہم امریکی مرکزی کمان (CENTCOM) نے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ کوئی امریکی طیارہ تباہ یا نقصان کا شکار نہیں ہوا اور ایرانی حملہ اپنے اہداف حاصل نہیں کر سکا۔ اگلے روز امریکہ نے ایران میں ایک درجن سے زیادہ اہداف کو نشانہ بنایا، جس سے دونوں جانب کشیدگی مزید بڑھ گئی۔

نیتن یاہو کا دورۂ امریکہ: رسومات کے ساتھ خفیہ سفارتکاری

اسی دوران اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو امریکہ کے دورے پر تھے۔ انکی امریکہ یاترا کا مقصد سینیٹر لنڈسے گراہم کی آخری رسومات میں شرکت تھا، مگر اس موقع پر انہوں نے امریکی صدر، وزیرِ جنگ پیٹ ہیگسیتھ اور قومی سلامتی کے اعلیٰ حکام سے ملاقاتیں بھی کیں۔ ان ملاقاتوں میں ایران کا معاملہ سرِفہرست رہا، جس نے خطے میں جاری کشیدگی کو مزید حساس بنا دیا۔

دمیاط بندرگاہ پر حملہ: نہرِ سوئز تک جنگ کے پھیلنے کا خدشہ

کشیدگی میں مزید اضافہ اسوقت ہوا  جب 28 جولائی کو دمیاط (Damietta)کی مصری بندرگاہ پر گیس ذخیرہ کرنے والے دوجہاز  ڈرون حملوں کا نشانہ بن گئے۔امریکی حلقوں کے خیال میں یہ ڈرون ایران یا انکے حوثی اتحادیوں  نے داغے تھے جبکہ تہران نے اسے اسرائیل کی خفیہ یا False Flagکاروئی قراردیا۔ دمیاط وہ بندرگاہ ہے جہاں سے خلیجی تیل اور عالمی تجارت کا بڑا حصہ نہرِ سوئز کے ذریعے یورپ جاتا ہے۔ نہرِ سوئز دنیا کی 10 سے 12 فیصد سمندری تجارت کا راستہ ہے۔ اس حملے نے یہ خدشہ پیدا کیا کہ ایران اور اس کے اتحادی، جنگ کا دائرہ آبنائے ہرمز اور باب المندب سے آگے بڑھا کر نہرِ سوئز تک لے جانا چاہتے ہیں۔اسی دوران سعودی بمباری کے جواب میں حوثیوں نے ابقیق کی ارامکو تنصیبات کو نشانہ بنایا، جس سے خلیجی توانائی کا پورا نظام لرز اٹھا۔

سعودی–عراق تناؤ اور علاقائی ثالثی کی ناکامی

دوسرے دن  امریکہ اور سعودی عرب نے عراق کی الحشد الشعبی (PMU) ملیشیا کے ٹھکانوں پر حملے کئے جن میں 20 افراد جاں بحق ہوئے۔ اس حملے نے سعودی عرب اور عراق کو آمنے سامنے لا کھڑا کیا۔ عراقی وزیراعظم علی الزیدی نے سعودی ولی عہد سے اپنی ملاقات احتجاجاً منسوخ کر دی,  جو ایک دن بعد جدہ میں طے تھی۔ چند دن پہلے تک عراقی وزیراعظم ، امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی کی کوشش کر رہے تھے اور نیویارک ٹائمز کے مطابق عارضی جنگ بندی کی امریکی تجویز انھوں نے بنفس نفیس تہران پہنچائی تھی۔ حملوں کے بعد یہ کوششیں شدید متاثر ہوئیں۔

واشنگٹن کی دھمکیاں اور ممکنہ مشترکہ حملے کی خبریں

کشیدگی کے اس ماحول میں واشنگٹن سے آنے والی خبریں انتہائی تشویشناک تھیں۔ صدر ٹرمپ نے اپنے مخصوص لہجے میں کہا کہ ایران کو اردن کے امریکی اڈے پر حملے کی بھاری قیمت چکانا ہوگی۔ وال اسٹریٹ جرنل نے انکشاف کیا کہ صدر نے اپنے جرنیلوں کو شدید بمباری کی نئی مہم کی تیاری کا حکم دیا ہے۔ ادھر CBS نے یروشلم سے خبر دی کہ امریکہ اور اسرائیل ، ایران کی توانائی تنصیبات پر مشترکہ حملوں کا منصوبہ بنا رہے ہیں، اور یہ کارروائی یکم اگست کی صبح شروع ہوسکتی ہے۔ اسی روز مشرقِ وسطیٰ میں امریکی سفارتخانوں نے اپنے شہریوں کو انخلا کی تیاری کا حکم دے دیا، جس سے ان اطلاعات کی سنجیدگی مزید بڑھ گئی۔

پاکستان کی ثالثی اور سفارتکاری کو ایک اور موقع

اسی دوران 28جولائی کو  پاکستانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان طاہر اندارابی نے بتایا کہ حملوں اور دھمکیوں کے باوجود پاکستان کی ثالثی میں بات چیت جاری ہے اور کچھ امور پر مثبت پیش رفت بھی دکھائی دے رہی ہے۔ اگرچہ کئی تجزیہ نگاروں نے اسے پاکستان کا روایتی پرامید رویہ قرار دیا، لیکن یکم اگست کی شام صدر ٹرمپ نے اعلان کیا کہ ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدے کی امید پر انہوں نے مجوزہ حملہ روک دیا ہے۔ ان کے مطابق امریکی فوج Locked & Loaded تھی مگر وہ سفارتکاری کو ایک اور موقع دینا چاہتے ہیں۔سفارتکاری کو موقع دینا قابلِ تحسین ہے، لیکن اگر مذاکرات ہی مطلوب ہیں تو وقتاً فوقتاً سخت دھمکیاں اور تباہ کر دینے والے بیانات کس مقصد کی تکمیل کرتے ہیں؟ مہذب دنیا تمام فریقوں سے تحمل، شائستگی اور ذمہ دارانہ طرزِ گفتگو کی توقع رکھتی ہے۔

مذاکرات کا ایک نیا دور، تشریحات میں ابہام اور سعودی کردار

اتوار کو ہفتہ وار تعطیل کے بعد واشنگٹن واپسی پر صدارتی طیارے میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ موجودہ تنازع کا سفارتی حل ان کی اولین ترجیح ہے۔ انھوں نے یہ انکشاف بھی کیا کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان مذاکرات کا نیا دور 3 اگست کو شروع ہوگا۔ امریکی صدرپُراعتماد لہجے میں بولے کہ ایران 60 دن کے لئے آبنائے ہرمز کھولنے پر آمادہ ہو جائے گا۔دوسری جانب بات چیت سے لاعلمی کا اظہار کرتے ہوئے ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ آبنائے ہرمز کے بارے میں کسی بھی عملی پیش رفت سے پہلے "یادداشتِ اسلام آباد" پر عمل درآمد کا آغاز ہونا چاہیے۔حالیہ کشیدگی کے دوران امریکی حملوں کے التوا کی وجوہات پر بھی دونوں دارالحکومتوں کی تشریحات ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ ایران کی جانب سے سفارت کاری کو ایک موقع دینے کی درخواست پر حملے عین وقت پر ملتوی کئے۔اس کے برعکس ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی مہر نے وزارتِ خارجہ کے حوالے سے اس دعوے کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ تہران نے ایسی کوئی درخواست نہیں کی۔ دوسری طرف مغرب کے صحافتی ذاریع انکشاف کررہے ہیں کہ حملہ مؤخر کرنے کی درخواست دراصل سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے کی تھی۔ سعودی قیادت کو خدشہ تھا کہ اگر ایران پر بڑے پیمانے پر حملہ ہوا تو جوابی کارروائی میں خطے کی تیل و گیس تنصیبات نشانہ بن سکتی ہیں۔

جنگی معیشت: تیل کمپنیوں اور اسلحہ ساز اداروں کے غیر معمولی منافع

بدقسمتی سے یہ خونریزی کچھ اداروں کیلئے غیر معمولی یکبارگی یا طوفانی منافع (Windfall Profit)کا سبب بھی بن رہی ہے۔اس جنگ اور اسکے نتیجے میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کا سب سے بڑا فائدہ عالمی تیل کمپنیوں کو ہوا۔ صرف تین بڑی مغربی کمپنیوںShell، ExxonMobil اور Chevronنے گزشتہ سہ ماہی میں مجموعی طور پر تقریباً 39 ارب ڈالر منافع کمایا، جو یومیہ تقریباً 40 کروڑ ڈالر بنتا ہے۔ اس کے برعکس دنیا بھر کے صارفین نے مہنگے ایندھن، بڑھتی مہنگائی اور نقل و حمل کے اضافی اخراجات کا بوجھ برداشت کیا۔ دلچسپ بلکہ کسی حد تک ستم ظریفی کہ اس غیر معمولی منافع کو تیل و گیس کے نئے وسائل کی تلاش،  پیداوار میں اضافہ یا بڑے منصوبوں میں سرمایہ کاری کرنے کے بجائے  شیئر بائی بیک اور حصص یافتگان کو ادائیگی ان اداروں کی ترجیح رہی۔

اسی طرح اسلحہ ساز اداروں کے لئے بھی نئے دروازے کھل گئے ہیں۔امریکی حکومت، جہاں ضعیف لوگوں کے صحت بیمے (MEDICARE)کیلئے مختص رقم میں کٹوتی کررہی ہے وہیں  وزارت دفاع نے  لاک ہینڈ مارٹن (Lockheed Martin) کو پیٹریاٹ دفاعی نظام کے میزائیل اور ڈرون شکن گولوں (Interceptors) کیلئے 58 ارب 60 کروڑ ڈالر کا نیا ٹھیکہ دینے کا اعلان کیا ہے،

جنگ کا ٹل جانا خوش آئند ہے، لیکن امن کے لیے صرف انگلیاں لبلبی سے ہٹانا کافی نہیں۔ زبان کی توپیں خاموش کرنا بھی ضروری ہے۔ طاقت کا اصل اظہار جنگ شروع کرنے میں نہیں بلکہ جنگ کو روکنے اور اختلافات کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے میں ہے۔ اب بیانات نہیں، عملی اقدامات، معاہدوں کی پاسداری اور باہمی اعتماد ہی تاریخ کا رخ متعین کریں گے۔

ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل کراچی ، 7 اگست 2026

ہفت روزہ دعوت دہلی، 7 اگست 2026

ہفت روزہ رہبر سرینگر 9 اگست 2026