غزہ،
لبنان اور بدلتا ہوا عالمی منظرنامہ
غزہ اور لبنان میں جنگ بندی، ثالثی کی
کوششوں اور بارہا کی سفارتی یقین دہانیوں کے باوجود مشرقِ وسطیٰ اب بھی پائیدار
امن سے خاصا دور دکھائی دیتا ہے۔ اسرائیلی وزیرِ دفاع اسرائیل کاٹز کے ایک حالیہ
ٹیلی وژن انٹرویو نے خطے میں تشویش کی نئی لہر دوڑا دی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ہم
نے سینکڑوں سال پرانے وہ 24 لبنانی دیہات تباہ کردئےجن
کے شیعہ باشندے حزب اللہ کی حمائت میں اسرائیل کے دشمن کے طور پر کام کرتے تھے۔وزیر
دفاع نے دوٹوک انداز میں
کہا کہ صرف چند مکانات نہیں بلکہ پورے دیہات مسمار کئے گئے اور اندازاً 15 سے 20 ہزار مکانات منہدم کئے جا چکے ہیں۔
فوجی کارروائی کا دعویٰ اپنی جگہ، لیکن اس بیان کا سب سے تشویش ناک
پہلو یہ ہے کہ متاثرہ آبادی کو صرف "حزب اللہ کے حامی" نہیں بلکہ
"شیعہ باشندے" کہہ کر متعارف کرایا گیا۔ جب کسی فوجی مہم میں مذہبی
شناخت کو اس انداز سے نمایاں کیا جائے تو اس سے سیاسی اور عسکری تنازع کو فرقہ
وارانہ رنگ ملنے کا خدشہ پیدا ہو جاتا ہے۔صدیوں سے آباد دودرجن دیہات، 15 سے 20
ہزار مکانات اور تقریباً 700 مربع کلومیٹر علاقے کی تباہی صرف ایک عسکری کارروائی
نہیں بلکہ جنوبی لبنان کے جغرافیے اور آبادیاتی نقشے (Demographic
Landscape) میں ایک بڑی تبدیلی بلکہ نسل کشی کی بدترین مثال ہے۔
غزہ:
جب نشانہ صرف انسان نہیں رہتے
غزہ میں بھی بمباری اور ڈرون حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔ گزشتہ ہفتے دیر البلاح ، خان یونس اور دوسرے شہروں پر بمباری میں 8
اور ڈیڑھ سال کی بچیوں سمیت متعدد افرادجاں بحق ہوئے۔ فلسطینی ذرایع کے مطابق
جولائی میں ایک سو سے زیادہ شہری اسرائیلی
حملوں کا نشانہ بنے۔ کچے گھروندوں اور خیموں
کیساتھ غزہ شہر میں امدادی خوراک کے گودام پر بھی بمباری کی گئی گویا حیات
کیساتھ اب اسباب حیات کو بھی غارت کیا جارہا ہے۔
غضب
کیا ترے وعدے پہ اعتماد کیا
ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق
مقتدرہ فلسطین (PA)کے رہنمامحمد دحلان کو امریکی دامادِ اول جیررڈ کشنر نے یقین دلایا
تھا کہ 2 اگست سے اسرائیل غزہ پر بمباری روک دیگا۔ اہل غزہ کو کشنر کا یہ بیاں
تازہ ہوا کا ایک خوشگوار جھونکا محسوس ہوا لیکن مقررہ
دن صبح سویرے غزہ شہر پر بمباری کرکے
اسرائیل نے اس وعدے کی حقیقت عیاں کردی۔ان حملوں میں خواتین اور بچوں سمیت
19 افراد جاں بحق ہوئے۔
جنگ کی
تلخیوں میں شہد کی مٹھاس
تباہی و مایوسی کے ان لمحات
میں بھی اہل غزہ امید کے چراغ روشن کئے ہوئے ہیں۔ جنگ سے پہلے غزہ میں تقریباً تیس ہزار شہد
کے چھتے تھے جن سے ہر سال سینکڑوں ٹن شہد حاصل ہوتا تھا۔ اب یہاں سات سو سے بھی کم
چھتے باقی رہ گئے ہیں اور پیداوار اپنے سابقہ حجم کے صرف دس فیصد تک محدود ہو چکی
ہے۔ باغات تباہ ہو چکے ہیں، زرعی زمینوں تک رسائی محدود ہے اور شہد کی مکھیوں کے
لیے پھول بھی نایاب ہو گئے ہیں۔اس کے باوجود غزہ کے شہد بان ہمت ہارنے پر آمادہ نہیں۔
ایک مقامی شہد بان ابراہیم الدبہ نے نہایت درد بھرے مگر پُرامید انداز میں کہا: "شہد کی مکھیاں درخت مانگتی ہیں، مگر ہم
انہیں ملبے کے درمیان پال رہے ہیں۔"
یہ ایک جملہ غزہ کی سب سے مؤثر تصویر ہے۔
عمارتیں گرائی جا سکتی ہیں، باغات جلائے جا سکتے ہیں اور روزگار چھینا جا سکتا ہے،
لیکن امید اور محنت کا جذبہ ختم کرنا آسان نہیں۔ شاید اسی لئےغزہ کے کھنڈرات میں
گونجتی شہد کی مکھیوں کی بھنبھناہٹ ایک خاموش اعلان ہے کہ اگر زندگی کو ذرا سا
موقع مل جائے تو وہ ملبے میں بھی اپنا راستہ بنا لیتی ہے۔
غربِ اردن: زمین کی خاموش جنگ
غربِ اردن میں حملے، بیدخلی اور قبضے کی
کاروائیاں جاری ہیں۔ الخلیل
(Hebron)کے گاوں صوریف پر قبضہ گردوں نے حملہ کرکے مکانوں،
گاڑیوں اور فصلیں کو آگ لگادی گئی۔ نابلوس کے علاقے تل پر ایسے ہی ایک حملے میں 6 افراد جاں بحق ہوگئے۔ حد تو یہ کہ نابلوس میں قبضہ گردوں نے
قبریں بھی مسمار کردیں
یہاں اسرائیلی آبادکاری کا دائرہ اب صرف نجی فلسطینی زمینوں تک
محدود نہیں رہا۔ ٹائمز آف اسرائیل کے
مطابق اسرائیلی حکام نے مقتدرہ فلسطین
(PA) کے زیرِ انتظام بعض علاقوں کو نئی اسرائیلی
بستیوں کے درمیان زمینی ربط قائم کرنے کے لئے استعمال کرنے کا عمل شروع کیا ہے۔ یہ
صرف چند ایکڑ زمین کا معاملہ نہیں بلکہ اس طرزعمل سے 1993ء کے معاہدۂ اوسلو کے تحت
قائم انتظامی ڈھانچے کی عملی حیثیت مشکوک ہوگئی ہے۔اب تک تنازع زیادہ تر نجی
فلسطینی زمینوں یا زرعی اراضی تک محدود سمجھا جاتا تھا، لیکن اگر PA
کے انتظامی دائرے میں بھی بتدریج تبدیلیاں آتی رہیں تو دو ریاستی حل
(Two-State Solution) کی عملی بنیاد مزید کمزور ہو سکتی ہے۔
اسرائیلی
فوج: کیا طویل جنگ کے آثار نمایاں ہونے لگے ہیں؟
جنگ کا
دباؤ صرف محاذ پر موجود سپاہیوں ہی کو متاثر نہیں کرتا، بلکہ عسکری اداروں کے اندر
بھی اس کے اثرات بتدریج ظاہر ہونے لگتے ہیں۔ گزشتہ ہفتے اسرائیلی فوج کی گیواتی
بریگیڈ کے متعدد فوجیوں نے اپنے کمانڈر سے اختلاف کے بعد عارضی طور پر فوجی اڈہ
چھوڑ دیا۔ بظاہر تنازع ایک ایسے بینر پر تھا جو سینئر فوجیوں نے نئے آنے والے
سپاہیوں کے استقبال کے لیے نصب کیا تھا،جسے کمانڈر نے نوواردوں کی تحقیر قرار دیتے
ہوئے ہٹانے کا حکم دیا۔ اس فیصلے پر احتجاج ہوا تاہم چند ہی گھنٹوں بعد بیشتر فوجی
اپنی ڈیوٹی پر واپس آ گئے۔
اس واقعے کو "فوجی بغاوت" قرار
دینا درست نہیں ہوگا، کیونکہ فوجیوں نے اسلحہ اٹھایا نہ کسی فوجی تنصیب پر قبضے کی کوشش کی اور نہ ہی
مسلح مزاحمت کی۔ کیا یہ صرف بینروں کا تنازع تھا، یا پھر تقریباً تین برس سے جاری
مسلسل جنگ کا نفسیاتی اثر اب فوج کے اندر بھی نمایاں ہونے لگا ہے؟یہ پہلا موقع
نہیں کہ اسرائیلی فوج میں اجتماعی احتجاج یا ڈیوٹی سے انکار کا واقعہ پیش آیا۔
ماضی میں بھی ریزرو اہلکاروں کی جانب سے احتجاج، اجتماعی استعفے اور غیر حاضری کے خبریں
آتی رہی ہیں۔ گیواتی بریگیڈ کا حالیہ واقعہ صرف ایک نظم و ضبط کا مسئلہ نہیں بلکہ
فوجی مورال کے بارے میں بھی سوالات پیدا کر رہا ہے۔طویل
جنگیں صرف دشمن کو ہی نہیں تھکاتیں، اپنی فوج کے اعصاب بھی آزماتی ہیں۔
یورپ
میں بدلتی ہوئی فضا
جنگ کا ایک اثر عالمی رائے عامہ پر بھی
واضح طور پر دکھائی دے رہا ہے۔ برطانیہ کے مشرقی لندن میں واقع ہیکنی کونسل (Hackney Council) نے حال ہی میں اسرائیلی شہر حیفہ کے ساتھ
اپنی "ٹوئن سٹی"
(Twin City) شراکت
داری ختم کرنے کے حق میں ووٹ دیا۔ قرارداد کے حامی ارکان کا مؤقف تھا کہ غزہ میں
انسانی بحران کے تناظر میں معمول کے تعلقات برقرار رکھنا ان کے ووٹروں کے جذبات
اور انسانی حقوق کے اصولوں سے مطابقت نہیں رکھتا۔ اگرچہ اس فیصلے سے برطانوی حکومت
کی خارجہ پالیسی تبدیل نہیں ہوگی، لیکن اس سے یہ ضرور ظاہر ہوتا ہے کہ غزہ کی جنگ
اب صرف سفارتی یا عسکری معاملہ نہیں رہی بلکہ یورپ کی مقامی سیاست اور عوامی رائے
کو بھی متاثر کر رہی ہے۔
امریکہ
میں بدلتی رائے عامہ
اسی نوعیت کی تبدیلی امریکہ میں بھی محسوس
کی جا رہی ہے۔ اسرائیلی وزیراعظم کی امریکہ آٓمد پر نیویارک
کے رئیس شہر زہران ممدانی نے اعلان کیا کہ اگر نیتن یاہو نیویارک آئے تو وہ ICCکے وارنٹ کی تعمیل کی کوشش
کرینگے۔ یعنی اسرائیلی وزیراعظم کو گرفتار کرکے ICCکے حوالے کردیا جائیگا۔ جناب
ممدانی نے حتمی لہجہ اختیار کرنے کے بجائے 'کوشش' کہا کہ اس حوالے سے مئیر اور
شہری انتظامیہ کے اختیارات محدود ہیں۔ اسی تناظر میں Economist/YouGov کے ایک سروے میں یہ سوال کیا گیا کہ اگر
نیتن یاہو امریکہ آئیں تو کیا امریکی حکام کو ICC کے وارنٹ پر عمل کرنا چاہیے؟ سروے کے مطابق
49
فیصد امریکیوں
نے اس کی حمایت کی، 27 فیصد نے مخالفت کی جبکہ باقی غیر جانب دار
رہے۔
کسی ایک سروے کو امریکی عوام کی حتمی رائے
قرار نہیں دیا جا سکتا، لیکن یہ نتائج اس امر کی نشاندہی ضرور کرتے ہیں کہ غزہ کی
جنگ کے بعد اسرائیل، خصوصاً نیتن یاہو، کے بارے میں امریکی رائے عامہ میں پہلے کے
مقابلے میں نمایاں تبدیلی آ رہی ہے۔ چند برس پہلے ایسا سوال امریکی سیاست میں
تقریباً ناقابلِ تصور تھا۔
غزہ، لبنان اور غربِ اردن کے یہ تمام
واقعات بظاہر ایک دوسرے سے الگ دکھائی دیتے ہیں، مگر درحقیقت یہ ایک ہی بڑی تصویر
کے مختلف رخ ہیں۔ ایک طرف جنگ بندی کی کوششیں جاری ہیں، دوسری طرف بمباری،
آبادکاری اور زمینی حقائق میں تبدیلی کا سلسلہ بھی رکا نہیں۔ شاید غزہ کے شہد بان
ابراہیم الدبہ کے الفاظ ہی اس پورے منظرنامے کی سب سے جامع تعبیر ہیں۔ شہد کی
مکھیاں آج بھی ملبے کے درمیان اپنا راستہ تلاش کر رہی ہیں۔ سوال صرف یہ ہے کہ کیا
انسان بھی اتنی ہی دانش مندی سے امن کا راستہ تلاش کر پائیں گے، یا آنے والی نسلوں
کے لیے بھی جنگ ہی اس خطے کی واحد میراث بنے گی؟
ہفت
روزہ فرائیڈے اسپیشل کراچی 7 اگست 2026
ہفت روزہ دعوت دہلی 7 اگست 2026
ہفت روزہ رہبر سرینگر 9 اگست 2026