Thursday, February 5, 2026

 

ایپسٹین فائلز: طاقت، راز اور احتساب سے ماورا اشرافیہ

معروف امریکی سرمایہ کار جیفری ایبسٹین (Jeffrey Epstein) بظاہر دولت، فلاحی سرگرمیوں اور بااثر سماجی حلقوں سے وابستہ تھا، مگر حقیقت میں اس کا نام کم عمر لڑکیوں کے جنسی استحصال اور منظم جرائم کے ایک ہولناک نیٹ ورک سے جُڑا پایا گیا۔ ایپسٹین کو  2019 میں گرفتار کیا گیا جسکے بعد یہ  محض ایک فوجداری مقدمہ نہ رہا بلکہ طاقت، سیاست اور احتساب کے عالمی نظام پر ایک سنجیدہ سوال بن گیا اور امریکی محکمہ انصاف (DOJ) نے اس کیس سے متعلق تمام مواد کو تحفظ اور تحقیقات کی ضروریات کی وجہ سے خفیہ (sealed) رکھا۔ اس مقدمے کی نوعیت بچوں کے جنسی استحصال، منظم بردہ فروشی اور بااثر افراد کے ممکنہ روابط پر مشتمل تھی، جس کے باعث دنیا بھر میں شدید ردِعمل سامنے آیا۔ معلومات اور تفتیشی ریکارڈ کا طویل عرصے تک صیغہ راز میں رہنے سے عوامی سطح پر شکوک و شبہات پیدا ہوئے۔ ماضی کے عدالتی فیصلے اور 2008 میں دی جانے والی غیر معمولی طور پر نرم سزا سخت تنقید کا نشانہ بنی۔

امریکی کانگریس، شفافیت کی قرارداد اور قانون سازی

گزشتہ برس امریکی کانگریس نے Epstein Files Transparency Act متعارف کروایا، جس کا مقصد غیر خفیہ (unclassified) ایبسٹین فائلز کو اشاعت عام کیلئے جاری کرنا تھا۔مسودہ قانون میں بہت وضاحت سے کہا گیا کہ تمام غیر خفیہ مواد 30 دنوں میں شایع کردیا جائے گا اور کسی بھی نام یا مواد کو صرف “امکانی نقصان” یا سیاسی حساسیت کی بنیاد پر چُھپایا نہ جائے ۔ امریکی ایوان نمائندگان نے اسے ایک کے مقابلے میں 427 ووٹوں سے منطور کیا جبک سینٹ میں اس پر کامل اتفاق پایا گیا۔ جسکے بعد صدر ٹرمپ نے دستخط کر کے  بل کو  قانونی شکل دے دی

دستاویزات کی  مرحلہ وار اشاعت:

قانون کے تحت محکمۂ انصاف کو تمام غیر خفیہ ریکارڈز، خطوط، تحقیقات اور برقی خطوط (ای میلز) مقررہ مدت میں منظرِ عام پر لانا تھا۔

پہلا مرحلہ (19 دسمبر 2025):

اس روز لاکھوں صفحات، ہزاروں تصاویر اور بصری تراشوں پر مشتمل مواد کا پہلا بڑا حصہ جاری کیا گیا، جن میں عدالتی ریکارڈ، خطوط، فلائٹ لاگز (پروازوں کا ریکارڈ) اور بعض نئی تصاویر شامل تھیں۔ تاہم متعدد قانون سازوں اور متاثرین کا موقف تھا کہ کئی فائلز مکمل طور پر سامنے نہیں آئیں۔

دوسرا مرحلہ: (30 جنوری 2026):

دوسری قسط میں تقریباً پینتیس لاکھ صفحات جاری کئے گئے، جن میں خط و کتابت، تصاویر، دستاویزی مواد، ای میلز اور فلائٹ لاگز شامل تھے۔ اگرچہ مزید معلومات سامنے آئیں، مگر ناقدین کے نزدیک اہم مواد کا ایک حصہ اب بھی محفوظ رکھا گیا۔

گمان سے پرہیز لازم ہیں

ایبسٹین فائلز کا مواد نہایت وسیع اور متنوع ہے۔ اس میں ایبسٹین کی سفری دستاویزات، جہازوں کے بورڈنگ کارڈ، مسافروں کی فہرستیں، ہوٹلوں میں قیام کی تفصیلات، معمولی ملاقاتوں اور سرسری ملاقاتوں کا ذکر بھی شامل ہے۔ اس نوعیت کا کوئی بھی اندراج بذاتِ خود  کسی مثبت کردار کا ثبوت ہے اور نہ ہی منفی۔ اس کا مطلب محض یہ ہے کہ کسی مرحلے پر متعلقہ فرد کا ایبسٹین یا اس کے نیٹ ورک سے کسی نہ کسی سطح پر رابطہ یا گفتگو ہوئی۔

ان دستاویزات میں امریکی صدور، برطانوی شاہی خاندان کے بعض افراد اور دنیا کی متعدد معروف شخصیات کے حوالے موجود ہیں، حتیٰ کہ بعض مواقع پر ایبسٹین کی جانب سے راہ چلتے افراد پر غیر شائستہ تبصرے بھی ریکارڈ کا حصہ بنے ہیں۔ اس تمام مواد کی اہمیت افراد کی فہرست سے زیادہ اس غیر معمولی رسائی میں مضمر ہے جو ایبسٹین کو عالمی اشرافیہ تک حاصل تھی۔

اسی تناظر میں عمران خان، سابق وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی سمیت چند معروف پاکستانی شخصیات کا ذکر بھی سامنے آیا ہے، تاہم کسی بھی مواد میں ان میں سے کسی پر الزام، کردار کشی یا نجی زندگی سے متعلق کوئی منفی بات موجود نہیں۔ محض کسی نام کا آ جانا، اسے ایبسٹین کے جرائم یا سہولت کاری سے جوڑ دینا صریح بدگمانی اور ناانصافی ہے۔

اصل سوال: فرد یا نظام؟

ایبسٹین فائلز دراصل ایک بڑے سوال کو جنم دیتی ہیں۔ یعنی ایک ایسا شخص، جس پر سنگین الزامات تھے، وہ دہائیوں تک عالمی اشرافیہ میں آزادانہ کیوں گھومتا رہا؟ کیا یہ محض اس کی ذاتی چالاکی تھی، یا اسے کسی ایسے نظامی تحفظ (structural protection) کا سہارا حاصل تھا جو عام شہریوں کے لئے کبھی دستیاب نہیں ہوتا؟

امریکہ اور دیگر مغربی ریاستوں میں یہ بحث شدت اختیار کر چکی ہے کہ آیا ایبسٹین محض ایک فرد تھا یا کسی بڑے، منظم نیٹ ورک کا حصہ۔ یہی وہ مقام ہے جہاں Deep State کی اصطلاح  سیاسی نعرے سے بلند ہوکر ایک سنجیدہ سوال کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔ کیا ایبسٹین بعض طاقتور حلقوں کے لئے تعلقات جوڑنے، معلومات اکٹھی کرنے یا دباؤ کے غیر اعلانیہ ذرائع فراہم کرنے والا کردار ادا کرتا تھا؟ اور اگر ایسا تھا تو پھر اس نیٹ ورک کے دیگر کردار کہاں ہیں؟

ایبسٹین 10 اگست 2019 کو نیویارک کی جیل میں مردہ پایا گیا۔ جیل حکام کے مطابق اس نے خودکشی کی تھی۔ لیکن یہ واردات آج بھی شک و شبہات میں گھری ہوئی ہے۔ نگرانی کے کیمروں کا ناکارہ ہونا، سکیورٹی اہلکاروں کی غفلت اور ریکارڈ کی عدم دستیابی نے عام لوگوں کے ذہن میں یہ سوال پیدا کر دیا کہ  یہ واقعی خودکشی تھی یا پھر ایک ایسا انجام جس نے کئی طاقتور شخصیتوں کو تحفظ فراہم کردیا۔

ایبسٹین فائلز کا سب سے تشویشناک پہلو یہی ہے کہ انکشافات کے باوجود طاقت کے اصل مراکز تاحال واضح طور پر جواب دہ نظر نہیں آتے۔ بحث ہوتی ہے، میڈیا میں شور اٹھتا ہے، مگر بالآخر معاملہ قانونی موشگافیوں اور سیاسی تقسیم کے دبیز پردوں میں دب جاتا ہے۔ نظام کی اپنے بقا کی خاطر خاموشی اختیار کرلینے سے،  انصاف متاثرین کے لئے محض ایک تسلی بن کر رہ  گیا ہے۔

تاریخ گواہ ہے کہ جب ریاستیں اپنے بااثر طبقات کا احتساب کرنے میں ناکام ہو جائیں تو اس کا انجام محض قانونی بحران نہیں بلکہ اخلاقی زوال کی صورت میں نکلتا ہے۔ ایبسٹین فائلز اسی زوال کی علامت ہیں،جہاں جرم سے زیادہ خوفناک بات جرم کی اجتماعی پردہ پوشی ہے۔

یہ معاملہ اب چند ناموں یا ایک فرد تک محدود نہیں رہا۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا 'مہذب دنیا'  میں قانون واقعی سب کے لئے برابر ہے، یا طاقتور حلقے ہمیشہ کی طرح احتساب سے بالاتر رہیں گے؟ ایبسٹین مر چکا ہے، مگر ایبسٹین فائلز زندہ ہیں اور وہ سوال بھی، جن سے فرار اب شاید پہلے جتنا آسان نہیں رہا۔

ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل کراچی 6 فروری 2026

ہفت روزہ دعوت دہلی 6 فروری 2026

ہفت روزہ رہبر سرینگر 8 فروری 2026


 

اسرائیلی معاشرہ       ۔۔۔فتح کے دعوے، شکست کا احساس

مجلسِ السلام (Board of Peace) کے تاسیسی اجلاس کے بعد سے بظاہر "امن کے محاذ" پر غیر معمولی خاموشی ہے۔ شاید اس لئے کہ خود ساختہ پیامبرِ امن اسی خاموشی کے سائے میں ایک خوفناک بحری قافلے کے ساتھ ایران پر چڑھ دوڑنے کی تیاری کررہے ہیں۔ بیرحم طاقت و سیاست میں امن کے بلند بانگ دعوے اکثر توپ و تفنگ کی گھن گرج میں دب جاتے ہیں۔

غزہ سے متعلق نام نہاد امن معاہدے کا کھوکھلا پن اس وقت پوری طرح بے نقاب ہو گیا جب 29 جنوری کو مزاحمتی دھڑے کے ایک سینئر رہنما نے الجزیرہ سے گفتگو میں واضح کیا کہ اہلِ غزہ نے کبھی غیر مسلح ہونے پر اتفاق نہیں کیا۔ انکاکہنا تھا کہ امریکہ اور نہ ہی ثالثوں نے ہتھیاروں کے معاملے پر کوئی براہِ راست بات چیت کی، اس لئے کسی ایسے مطالبے پر گفتگو ممکن ہی نہیں جس کی نوعیت اور مقصد مبہم ہو۔ یہ مؤقف اسرائیلی وزیراعظم اور امریکی صدر کے اس دعوے سے براہِ راست متصادم ہے کہ جنگ بندی کے دوسرے مرحلے میں مزاحمتی دھڑے غیر مسلح ہوجائیں گے۔

یہ اعلان کسی سنجیدہ تجزیہ نگار کے لیے حیران کن نہیں۔ دنیا کی کسی بھی جنگ یا تنازعے میں پائیدار پیش رفت اس وقت تک ممکن نہیں جب تک تمام فریقین ایک ہی میز پر موجود نہ ہوں۔ غزہ کے معاملے میں یہ بنیادی اصول کبھی اپنایا ہی نہیں گیا۔

جنگ بندی کا فریب اور نیتن یاہو کی جھینپ

مزاحمتی قیادت کے اس دوٹوک مؤقف نے وزیراعظم نیتن یاہو کو سبکی سے دوچار کیا جوآخری اسرائیلی کی باقیات کی واپسی پر فتح کے دعوے کر رہے تھے۔ شرمندگی مٹانے کے لئے 31 جنوری کو اسرائیلی فضائیہ نے غزہ کے کم از کم سات مقامات پر بمباری کی۔ کئی پناہ گزین خیموں میں آگ بھڑک اٹھی اور چھ بچوں سمیت 32 فلسطینی جاں بحق ہوئے۔ یہ کارروائیاں اس حقیقت کی یاد دہانی تھیں کہ جنگ بندی کا بیانیہ زمینی حقائق سے بہت دور ہے۔

اسرائیلیوں کا فتح پر عدمِ یقین

انتہا پسند حلقوں کی شیخی اپنی جگہ لیکن فتح کے نعروں کو خود اسرائیل کے اندر بھی پذیرائی حاصل نہیں۔ چینل 12 اور ٹائمز آف اسرائیل کے عبرانی روزنامے زمانِ اسرائیل (Zman Yisrael) کے 29 جنوری کو شائع ہونے والے جائزے سے پتہ چلا  کہ ایک تہائی سے بھی کم اسرائیلی اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ ان کی فوج نے غزہ میں فتح حاصل کی ہے۔ یہ رائے سیاسی تقسیم سے بالاتر ہے۔ دائیں بازو کے سخت گیر حلقے ہوں یا لبرل و سیکولر طبقہ، سوچ تقریباً یکساں ہے۔صرف 29 فیصد اسرائیلی خود کو فاتح سمجھتے ہیں، 54 فیصد کے نزدیک اسرائیل کو کوئی کامیابی حاصل نہیں ہوئی، جبکہ 17 فیصد نے رائے دینے سے گریز کیا۔ جہاں تک اہلِ غزہ کے غیر مسلح ہونے کا سوال ہے تو مجموعی طور پر صرف 17 فیصد اسرائیلی اسے ممکن سمجھتے ہیں۔ البتہ حکومتی اتحاد کے حامیوں میں سے 29 فیصد اس خوش فہمی میں مبتلا ہیں کہ مزاحمت کار ہتھیار ڈال دیں گے۔یہ جائزہ اسرائیلی معاشرے میں پائی جانے والی گہری بے یقینی کی عکاسی کرتا ہے۔

ذہنی صحت کا بحران: ایک خاموش شکست

جنگ کے نتائج پر اسرائیلی عوام کا شک و شبہ بے بنیاد نہیں ۔امریکی جریدے بلومبرگ (Bloomberg) کے مطابق اسرائیل کو اپنی تاریخ کے بدترین ذہنی صحت کے بحران کا سامنا ہے۔ ہزاروں فوجی اور عام شہری شدید اضطراب، نفسیاتی صدمات اور PTSD میں مبتلا ہیں، اور یہ تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے۔ جب کوئی معاشرہ دوسروں کی انسانیت کو روند کر تشدد کو اپنی شناخت بنا لے تو وہ اپنی روحانی اور ذہنی تندرستی بھی کھو دیتا ہے۔ یہ بحران صرف جسمانی نہیں بلکہ گہرے نفسیاتی اور اخلاقی پہلو بھی رکھتا ہے۔

خوف بطور انتخابی سرمایہ

اس المئے کی تلخ حقیقت یہ ہے کہ خوف اور عدمِ تحفظ کا ماحول دائیں بازو کی سیاست کے لیے انتخابی ایندھن بن چکا ہے۔ غرب اردن کی جامعہ ایریل(Ariel University) میں نفسیات اور سماجی علوم کی پروفیسر یافِت لیون (Yafit Levin)کہتی ہیں کہ 'لوگ بقا کے موڈ میں چلے گئے ہیں، اور یہ کیفیت دائیں بازو کے لئے سیاسی فائدہ بن سکتی ہے'۔ معاشرے میں جنگ، سخت گیری اور جارحیت کو "سلامتی" کے نام پر قابلِ قبول بنا دیا گیا ہے۔ فلسطینیوں پر ظلم اب  انسانی سانحہ نہیں رہا بلکہ سیاسی سرمایہ بن چکا ہے۔

داخلی سیاسی بحران اور بجٹ کی جنگ

اسرائیل میں قدامت پسند اور لبرل حلقوں کے درمیان کشمکش عروج پر ہے۔ کشیدگی کے نتیجے میں 2026 کا قومی بجٹ تاحال منظور نہیں ہو سکا۔ اگر مارچ کے اختتام تک بجٹ منظور نہ ہوا تو حکومت تحلیل ہو جائے گی اور قبل از وقت انتخابات ناگزیر ہوں گے۔ بجٹ بحران کی بنیادی وجہ لازمی فوجی بھرتی کے قانون پر اختلاف ہے۔ حریدی طبقہ توریت مدارس کے طلبہ کے لئے فوجی خدمت سے استثنا چاہتا ہے، جبکہ لبرل حلقے اسے ناانصافی قرار دیتے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق 180 ارب ڈالر کے مجموعی بجٹ میں 35 ارب ڈالر دفاعی و جنگی اخراجات کے لئے مختص کیے گئے ہیں، تاکہ سخت گیر وزرا اتامر بن گویر اور بیزلیل اسموترچ کو مطمئن رکھا جا سکے، لیکن حریدی جماعتیں بھرتی کے معاملے پر کسی لچک کے لئےتیار نہیں۔

غزہ اور غربِ اردن: تباہی کا تسلسل

اسرائیلی فوج نے غزہ میں رہائشی عمارات کے ساتھ اسپتالوں، اسکولوں، بجلی گھروں اور بنیادی ڈھانچے کو چن چن کر تباہ کیا۔ پناہ گزین خیمے بھی حملوں سے محفوظ نہ رہے اور اب قبرستانوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ مغربی کنارے پر بھی فلسطینیوں پر حملے، بیدخلی اور املاک کی تباہی جاری ہے۔ الخلیل، جنین، نابلوس اور مشرقی یروشلم میں گھروں، گاڑیوں اور باغات  کو نذرِ آتش کیا گیا، جبکہ زیتون کے باغات، جو فلسطینی معیشت اور شناخت کی علامت ہیں۔ خاص طور پر نشانہ بنے۔

امتِ مسلم سوتی ہے، مسجد اقصیٰ روتی ہے

القدس شریف کی اسلامی شناخت مٹانے کا سلسلہ تیز ہو چکا ہے۔ گزشتہ ہفتے اسرائیلی پولیس نے یہودی زائرین کو دعائیہ متن کے ساتھ الاقصیٰ جانے کی اجازت دے دی، جو 1967 کے اسٹیٹس کو (Status Que)معاہدے کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ اب مسجد اقصیٰ سے متصل فلسطینی آبادی کو مارچ تک مکانات خالی کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔یہودی زائرین کی دراندازی کے بعد مسجد اقصٰی سے لگے علاقے میں اسرائیلیوں کی آبادکاری، یہاں کی مذہبی، معاشرتی اور ثقافتی شناخت ختم کرنے کا اعلان ہے۔

عالمی حمایت اور اخلاقی دیوالیہ پن

انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے باوجود امریکی حمایت میں کوئی کمی نہیں آئی۔ گزشتہ ہفتے امریکی وزاتِ جنگ نے اسرائیل کو ساڑھے چھ ارب ڈالر مالیت کے اسلحے کی منظوری دےدی۔ ایک طرف امریکی عوام بنیادی سہولتوں سے محروم ہیں، دوسری جانب انہی کے ٹیکس سے جنگ کو ایندھن فراہم کیا جا رہا ہے۔

جمہوریت کا بحران: فلسطین سے الجزائر، مصروایران تک

مقتدرہ فلسطین (PA) غزہ اور غربِ اردن میں مظالم روکنے میں ناکام رہی، مگر اس نے مزاحمتی جماعت کو بلدیاتی انتخابات میں حصہ لینے سے روک دیا۔ یہ وہی طرزِ عمل ہے جو الجزائر، مصر اور ایران میں  دہرایا جاچکا ہے۔ یہ بات اب کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ جب Ballot کا پُرامن راستہ بند کر دیا جاتا ہے تو پھر Bullet کے دروازے کھلتے ہیں، اور اس کے ساتھ ہی مغربی دنیا کی اسلحہ ساز کمپنیوں کی نفع بخش تجوریاں بھی۔

مزاحمت اور امید کی کرن

تباہی کے باوجود فلسطینیوں کے اعصاب حیرت انگیز طور پر مضبوط ہیں۔ اسرائیل نے تعلیمی ادارے تباہ کردئے، لیکن خیموں میں 110 اسکول قائم ہو چکے ہیں جہاں ایک لاکھ سے زائد بچے تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ یونیسف (UNICEF)نے طلبہ کی تعداد کو اس سال ساڑھے تین لاکھ سے زیادہ کردینے کا منصوبہ بنایا ہے۔

یہ جنگ فلسطینیوں کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا گئی، لیکن یہ خونریزی اسرائیلی معاشرے کو بھی ایک ایسی اخلاقی، نفسیاتی اور سیاسی دلدل میں دھکیل چکی ہے ،جہاں فتح کا دعویٰ کھوکھلا اور مستقبل غیریقینی ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ طاقت کے زور پر دبائے گئے سچ دیر تک چھپےنہیں رہتے۔

ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل کراچی 6 فروری 2026

ہفت روزہ دعوت دہلی 6 فروری 2026

ہفت روزہ رہبر سرینگر 8 فروری 2026


 

Thursday, January 29, 2026

 

مجلسِ السلام، غزہ اور عالمی ضمیر

امن کے نام پر طاقت، خاموشی اور مزاحمت کی کہانی

غزہ کی مٹی شہیدوں کے لہو سے تر ہے۔ خیموں میں ٹھٹھرتے بچے پوری دنیا کے اجتماعی ضمیر پر سوال بن کر دستک دے رہے ہیں۔ ایسے میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ڈیووس (Davos) میں “مجلسِ السلام” (Board of Peace) کے قیام کا اعلان ایک نئے عالمی امن منصوبے کے طور پر سامنے آیا ہے۔ پاکستان سمیت تقریباً انیس ممالک کی شمولیت کے بعد اس منصوبے کو کہیں امید کی کرن اور کہیں سیاسی فریب کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ امن کون نہیں چاہتا، مگر سوال یہ ہے کہ کیا یہ واقعی امن کا منصوبہ ہے یا طاقت کے توازن کو نئے نام سے برقرار رکھنے کی ایک نئی کوشش؟

مجلسِ السلام: ساخت، دعوے اور بنیادی تضادات

بظاہر مجلسِ السلام کا مقصد غزہ میں جنگ بندی کی نگرانی، عبوری نظمِ حکمرانی اور بحالی کا عالمی فریم ورک فراہم کرنا ہے، مگر اس کی ساخت کئی بنیادی سوالات کو جنم دیتی ہے۔ یہ فورم کسی ہمہ گیر عالمی نمائندگی کا مظہر نہیں۔ بڑے یورپی اور مغربی ممالک کی عدم شرکت نے اس کی غیر جانبداری اور ساکھ کو کمزور کر دیا ہے۔ مزید یہ کہ فیصلوں کا محور واشنگٹن میں مرتکز دکھائی دیتا ہے، جس سے یہ ایک آزاد عالمی ادارے کے بجائے امریکی خارجہ پالیسی کا توسیعی بازو محسوس ہوتا ہے۔

سب سے بڑا تضاد اسلحے کے معاملے میں ہے۔ ایک فریق سے غیر مسلح ہونے کا مطالبہ، جبکہ دوسرے فریق کی عسکری برتری، ناکہ بندی، فضائی حملے اور زمینی پیش قدمی بدستور جاری اور امن کے علمبردار بلکہ بزعمِ خود ثالث، ظالموں کی پشت پناہی کے لیے پرعزم۔

 ہتھیار رکھو، یا ختم ہو جاؤ” — طاقت کا بیانیہ

مجلسِ السلام کے تاسیسی اجلاس میں صدر ٹرمپ کا بیان نہایت معنی خیز تھا۔ انہوں نے کہا'ہمیں امید ہے مزاحمت کار اسلحہ رکھ دیں گے، لیکن شاید وہ ایسا نہ کریں، کیونکہ پیدا ہوتے ہی ان کے ہاتھ میں رائفل تھما دی جاتی ہے۔ اگر ایسا ہوا تو انہیں ختم کر دیا جائے گا'۔

یہ وہی لب و لہجہ ہے جو گزشتہ 78 برس سے دہرایا جا رہا ہے۔ مگر مزاحمت ختم نہیں ہوئی۔ فرعون نے بنی اسرائیل کی  نسل کشی کیلئے  لغزش کے امکانات سے پاک (foolproof) حکمتِ عملی اپنائی تھی، لیکن انجام غرقابی نکلا۔ جبر سے امن قائم ہوتا ہے نہ مزاحمت طاقت سے مٹائی جا سکتی ہے۔ جب تک قبضہ باقی ہے، مزاحمت بھی باقی رہے گی، یہ تاریخ کا اٹل اصول ہے۔

مجلسِ السلام کا دوسرا رخ — اسرائیل دفاعی پوزیشن میں؟

سوشل میڈیا اور بعض ابلاغی حلقوں نے مجلس میں پاکستان اور دیگر مسلم ممالک کی شمولیت کو اسرائیلی مفادات کی حمایت قرار دیا، مگر اب تصویر کا دوسرا رخ بھی سامنے آرہا ہے۔

وزیراعظم نیتن یاہو سے ملاقات کے بعد اسرائیلی حکام نے امریکی نمائندے اسٹیو وٹکوف (Steve Witkoff) پر شدید تنقید کی اور انہیں “قطری مفادات کا ترغیب کار” قرار دیا۔ یہ ردِعمل اس حقیقت کی علامت ہے کہ مجلسِ السلام نے اسرائیل کو بھی ایک حد تک دفاعی پوزیشن میں لا کھڑا کیا ہے۔ یہ کہنا درست نہیں کہ مجلس السلام  مکمل طور پر اسرائیلی مفادات کی ترجمان ہے۔ حقیقت میں  یہ ایک ایسا سیاسی تجربہ ہے جس سے خود اسرائیلی قیادت بھی مطمئن نہیں۔

جنگ بندی کے سائے میں جنگ

رائٹرز کی تحقیق اور سیٹلائٹ تصاویر کے مطابق اسرائیلی فوج جنگ بندی کی “پیلی لکیر” سے پانچ کلومیٹر آگے مورچے قائم کرکے فلسطینیوں کو ساحل کی طرف دھکیل رہی ہے۔ مسلسل حملوں کے ساتھ یہ پیش قدمی جاری ہے، اور نام نہاد امن معاہدے کے بعد سے اب تک چار سو سے زائد فلسطینی جان سے جا چکے ہیں۔

اسرائیلی تحقیقاتی رپورٹ: “یہ حالات انسانوں کے لیے نہیں

ٹائمز آف اسرائیل میں شائع ہونے والی Public Defender’s Office کی رپورٹ خود اسرائیلی ریاست کے خلاف ایک سنگین فردِ جرم ہے۔ رپورٹ کے مطابق فلسطینی قیدیوں کو:

  • غیر انسانی تشدد
  • خوراک اور علاج کی شدید کمی
  • غیر صحت مند رہائشی حالات
  • اہل خانہ سے طویل لاتعلقی

جیسے حالات کا سامنا ہے۔

یہ اعتراف کسی فلسطینی یا عالمی ادارے کا نہیں بلکہ یہ آواز اسرائیلی ریاست کے اندر سے اٹھ رہی ہے۔ مگر مغربی میڈیا اسی ظلم کو نظرانداز کرکے ردِعمل کو “دہشت گردی” قرار دیتا ہے۔

غزہ: سردی، ملبہ اور زندگی  و زمین سے چمٹے لوگ

غزہ میں لکڑیاں ایندھن نہیں، زندگی کا آخری سہارا ہیں۔ کچرے کے ڈھیر، جلتی آگ، منجمد راتیں اور پھر ڈرون حملے، غزہ کی نئی شناخت بن چکے ہیں۔ یہودی سبت کے دن، 24 جنوری کو لکڑیاں چننے والے 14 اور 15 سالہ دو بھائی اسرائیلی ڈرون حملے میں جاں بحق ہوگئے۔ لکڑیاں دہشت گردی کے لیے نہیں، زندہ رہنے کے لیے چنی جارہی تھیں۔ اس غیر انسانی ماحول کے باوجود لوگ غزہ چھوڑنے کو تیار نہیں، کہ  'ملک تو آخر اپنا ہے'

غربِ اردن: کیمروں کے بغیر تباہی

دنیا کی نظریں غزہ پر ہیں، اور اسی دوران غربِ اردن میں تلکرم اور اریحا کھنڈر بنا دیے گئے۔ یہ محض ایک ہفتے کی کارروائی ہے، جبکہ وحشیانہ آپریشن دو سال سے جاری ہے۔ جہاں کیمرہ نہ ہو، وہاں ظلم سب سے محفوظ ہوتا ہےاور یہی اسرائیلی حکمتِ عملی کی کامیابی ہے۔ ستم ظریفی  کہ فلسطین کو آزاد ریاست تسلیم کرنے والے یورپی ممالک بھی اس پر خاموش ہیں۔

القدس شریف میں دراندازی، اسٹیٹس کو معاہدے (Status Quo Agreement)کی تدفین

نیتن یاہو کی انتہا پسند حکومت القدس شریف میں مداخلت کو معمول بنا چکی ہے۔ گزشتہ ہفتے اسرائیلی پولیس نے یہودی زائرین کو مخصوص دعائیہ متن ساتھ لیکر الاقصیٰ (Temple Mount) جانے کی اجازت دے دی، جو طویل عرصے سے نافذ “غیر مسلم عبادت پر پابندی” کے اصول سے واضح انحراف ہے۔ وضاحت کیلئے عرض ہے کہ الاقصیٰ اس پورے احاطے کا نام ہے جہاں مسجد اقصیٰ اور گنبدِ صحرا (Dome of Rock) واقع ہے۔ بیت المقدس پر 1967 میں قبضے کے بعد اسرائیل نے القدس کی مذہبی و قانونی حیثیت برقرار رکھنے کا تحریری عہد کیا تھا، جسے Status Quo Agreement کہا جاتا ہے۔ اس کے مطابق الاقصیٰ کے احاطے میں صرف مسلمانوں کو عبادت کی اجازت ہے۔مگر موجودہ حکومت اس معاہدے سے مسلسل انحراف کر رہی ہےاور اب اس احاطے میں یہودیوں کو رسمی عبادت کی اجازت دیکر اسٹیٹس کو معاہدے کو عملاً منسوخ کردیا گیا۔

اسرائیلی معاشرہ اور “غیر مرئی” فلسطینی

غزہ میں برپا ظلم ساری دنیا کے لیے سوہانِ روح بنا ہوا ہے۔ لیکن اسرائیلی معاشرے پر وحشت کی ان وارداتوں کا کوئی قابلِ ذکر اثر دکھائی نہیں دیتا، حالانکہ چھ سات دہائیاں قبل یہی قوم ہولوکاسٹ جیسے ایک ہولناک اور قابلِ مذمت انسانی سانحے سے گزرچکی ہے۔اس حوالے سے معروف اسرائیلی صحافی اور سماجی کارکن گرشون باسکن (Gershon Baskin) کا کہنا ہے کہ ایک منظم میڈیائی نظم و ضبط کے ذریعے  یہ تصور اسرائیلی معاشرتی لاشعور میں راسخ کر دیا گیا ہے کہ اسرائیلی فوج کے سامنے کھڑے لوگ اگرچہ انسان نما ہیں، مگر انسان نہیں۔باسکن کے خیال میں اسرائیلیوں کیلئے فلسطینی “invisible” بنا دئے گئے ہیں اورجب انسان دکھائی نہ دے، تو اس کی موت بھی شمار میں نہیں آتی۔ اظہارِ رائے کی آزادی پر فخر کرنے والے مغرب کا غالب بیانیہ بھی اسی خودساختہ اندھے پن کا شاہکار ہے۔

یہ اخلاقی اندھا پن صرف مقبوضہ علاقوں تک محدود نہیں رہا، بلکہ اب خود اسرائیلی ریاست کے اندرونی ڈھانچے میں دراڑیں ڈال رہا ہے۔ فلسطینیوں کو “غیر مرئی” بنا دینے والا بیانیہ بالآخر اسرائیلی معاشرے کے اندر بھی ذمہ داری، قربانی اور اجتماعی انصاف کے تصورات کو نگلنے لگا ہے۔ غزہ میں جاری جنگ اور بڑھتے جانی نقصان کے باوجود لازمی فوجی بھرتی سے فرار کی بڑھتی ہوئی شرح، حریدی طبقے کے استثنیٰ پر شدید سیاسی کشمکش اور بجٹ کی منظوری میں تعطل اسی اخلاقی بحران کی علامت ہیں۔ جو ریاست دوسروں کی انسانیت ماننے سے انکار کر دے، وہ بالآخر اپنے شہریوں سے بھی قربانی کا مطالبہ اخلاقی جواز کے بغیر کرنے لگتی ہے، اور یہی وہ مقام ہے جہاں داخلی انتشار، سیاسی بحران اور جنگی جنون ایک دوسرے میں مدغم ہو جاتے ہیں۔

اندرونی بحران: فوجی بھرتی سے فرار

اسرائیلی فوج کے محکمہ افرادی قوت (Personnel Directorate) کے مطابق فوجی بھرتی سے فرار ہونے والوں کی تعداد 30 ہزار سے تجاوز کر چکی ہےیعنی  فوج کی تقریباً 18 فیصد افرادی قوت۔حریدی طبقہ، مذہبی سیاست اور جنگی دباؤ نے  خود اسرائیل کو اندر سے  کمزور کر دیا ہے۔

نسل کشی کے مرتکب مجرموں کے گرد انصاف کا گھیرا تنگ

عالمی فوجداری عدالت (ICJ)کے جاری کردہ پروانہ گرفتاری کے خوف سے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو Davos کے اقتصادی اجتماع میں شریک نہیں ہوئے۔اسرائیلی صدر اسحاق ہرزوگ اگلے ماہ آسٹریلیا جارہے ہیں، جہاں انسانی حقوق کی تنظیموں نے وفاقی پولیس کو ان کے خلاف مقدمہ درج کرنے کی درخواست دے دی ہے۔ دلچسپ بات کہ جیوش کونسل آف آسٹریلیا بھی ان کی آمد کی مخالفت کر رہی ہے۔

فلسطین! پرعزم و پرامن مزاحمت کا استعارہ

امریکی شہر منیاپولس (Minneapolis) میں ایمگریشن پولیس (ICE) کے خلاف مظاہروں کے دوران فلسطینی پرچم لہراتے نوجوان “When land is occupied, resistance is justified”  کے نعرے لگارہے ہیں۔ گویا فلسطینی پرچم اورقبضے کے خلاف مزاحمت کا نعرہ  ظلم کے خلاف آفاقی جدوجہد کی علامت بن چکا ہے۔

ہرچند اس میں ہاتھ ہمارے قلم ہوئے

نیستاریم (Netzarim)راہداری (وسط غزہ) کے قریب اسرائیلی حملے میں تین مصری صحافی محمد صالح قشطہ، عبدالروف شعث اور انس غنیم جاں بحق ہوگئے۔ یہ تینوں امدادی قافلے کیساتھ دستاویزی فلم بنانے آئے تھے۔اسرائیل کوسب سے بڑا خوف قلم کاروں سےہے۔ اسی بنا پر غزہ میں اب تک 300 سے زیادہ  صحافی قتل کئے جاچکے ہیں۔

ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل کراچی 30 جنوری 2026

ہفت روزہ دعوت دہلی 30 جنوری 2026

ہفت روزہ رہبر سرینگر یکم فروری 2026


Friday, January 23, 2026

 

بے حسی، سنگدلی یا لاعلمی و بے خبری؟  اسرائیلی صحافی کا نقطہ نظر

غزہ میں برپا ظلم ساری دنیا کے لیے سوہانِ روح بنا ہوا ہے۔ خون جما دینے والی سردی میں کھلے آسمان تلے ماں کے سینے سے چمٹے بچوں کے پھول جیسے جسم منجمد ہوتے دیکھ کر جلاد صفت لوگ بھی لرز اٹھتے ہیں۔ ایمبولینسوں پر بمباری سے مریضوں کا زندہ جل جانا، خیموں پر ڈرون حملوں کے بعد شیر خوار بچوں کے راکھ بنے ننھے لاشے ایسے مناظر دیکھ کر تو پتھر دل کی آنکھ بھی بھر آئے۔
لیکن حیرت انگیز طور پر اسرائیلی معاشرے پر وحشت کی ان وارداتوں کا کوئی قابلِ ذکر اثر دکھائی نہیں دیتا، حالانکہ چھ سات دہائیاں قبل یہی قوم ہولوکاسٹ جیسے ایک ہولناک اور قابلِ مذمت انسانی سانحے سے گزر چکی ہے۔

اس حوالے سے معروف اسرائیلی صحافی اور سماجی کارکن گرشون باسکن (Gershon Baskin) کے کئی چشم کشا تبصرے اور تجزیے اسرائیلی اور فلسطینی ذرائع ابلاغ، خصوصاً الجزیرہ پر شائع ہو چکے ہیں۔ باسکن کے مطابق، انتہا پسند اسرائیلی حکومت اور اس کے سفاک اتحادیوں نے نہایت مہارت سے فلسطینیوں کو invisible یعنی غیر مرئی انسان بنا دیا ہے۔ یوں یہ تصور اسرائیلی معاشرتی لاشعور میں راسخ کر دیا گیا ہے کہ اسرائیلی فوج کے سامنے کھڑے لوگ اگرچہ انسان نما ہیں، مگر انسان نہیں۔

جب ایک معاشرہ یہ ماننے سے ہی انکار کر دے کہ سامنے والا بھی انسان ہے، یا یہ تسلیم کرنے سے گریز کرے کہ کسی سرحد نام کی شے کا وجود ہے، تو وہاں اخلاقی احتساب خود بخود معطل ہو جاتا ہے۔ باسکن کے بقول، اسرائیلی معاشرے کی اکثریت نہ یہ جانتی ہے کہ سرحد کے اُس پار کیا ہو رہا ہے، نہ جاننے میں دلچسپی رکھتی ہے۔ سرحد ان کے نزدیک سرحد نہیں، بلکہ “بس ہماری زمین” ہے۔ چنانچہ لاشیں گنتی میں نہیں آتیں، کیونکہ مرنے والے پہلے ہی ذہنی طور پر “غائب” کر دیے گئے ہوتے ہیں۔

باسکن کا کہنا ہے کہ یہ لاعلمی کسی اتفاق یا محض قوم پرستی کا شاخسانہ نہیں، بلکہ ایک منظم میڈیائی نظم و ضبط کے ذریعے پیدا کی گئی ہے۔ اسرائیلی ناظرین کو غزہ کی تباہی براہِ راست دکھائی ہی نہیں جاتی۔ ٹی وی اسکرینوں پر پرانے، گھسے پٹے سمعی و بصری تراشے مسلسل دہرائے جاتے ہیں، جبکہ اصل اور تازہ مناظر سوشل میڈیا میں دفن رہتے ہیں، جہاں تک صرف وہی پہنچتا ہے جو جان بوجھ کر سچ دیکھنے کا ارادہ رکھتا ہو۔ اور جب ایک معاشرہ اجتماعی طور پر “نہ دیکھنے” کا فیصلہ کر لے، تو اخلاقی احتساب لازماً معطل ہو جاتا ہے۔

میڈیائی نظم و ضبط کے ساتھ “موقع” کا بروقت استعمال بھی اسرائیل کی ایک انتہائی کامیاب تزویراتی حکمتِ عملی ہے۔ جس وقت دنیا کی نظریں غزہ کی تباہی پر مرکوز تھیں، عین اسی دوران غربِ اردن کے بڑے حصے خاموشی سے کھنڈر بنا دیے گئے۔ بستیاں اجاڑی گئیں، گھروں کو مسمار کیا گیا، سڑکیں اور کھیت برباد ہوئے، اور آبادیوں کو اجتماعی سزا کا نشانہ بنایا گیا۔ مگر چونکہ کیمرے غزہ پر تھے، اس لیے یہ سب کچھ عالمی ضمیر کی اسکرین سے باہر ہی رہا۔ یعنی 'جہاں توجہ ہو، وہاں شور؛ جہاں توجہ نہ ہو، وہاں تباہی۔ غربِ اردن میں ہونے والی کارروائیاں اسی اصول کے تحت کی گئیں۔ نہ کسی بڑے اعلان کے ساتھ، نہ کسی اخلاقی جواز کی حاجت محسوس کیے بغیر۔

اظہارِ رائے کی آزادی پر فخر کرنے والے مغرب کا غالب بیانیہ بھی اسی خودساختہ اندھے پن کا شاہکار ہے۔ فلسطینی مزاحمت کو “تشدد” اور “دہشت گردی” کا لیبل دے کر اس عدمِ انصاف کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے جس نے نسل در نسل ایک پوری آبادی کو عملاً غیر موجود بنا دیا ہے۔ جب انسان دکھائی ہی نہ دے، تو اس کی چیخ بھی شور نہیں بنتی—اور پھر یہی چیخ جب کسی دھماکے میں ڈھل جائے، تو دنیا یکایک “دہشت گردی کے خاتمے” کے لیے پرعزم ہو جاتی ہے، مگر اس ناانصافی پر بات کرنے سے پھر کتراتی ہے جس نے اس ردِعمل کو جنم دیا۔



Thursday, January 22, 2026

 

غزہ جنگ  بندی : کمیٹیوں کے سائے میں جاری المیہ

نام نہاد غزہ جنگ بندی کو تین ماہ سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا ہے، مگر پٹی کے طول و عرض میں بمباری، ڈرون پروازیں اور فائرنگ رکنے کے بجائے روزمرہ کا معمول بنی ہوئی ہے۔ اسکولوں کو چن چن کر نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ گزشتہ ہفتے جبالیہ، وسطِ شہر، دیرالبلاح، البریج اور النصیرات کے علاقوں میں قائم عارضی اسکولوں اور خیمہ بستیوں پر فائرنگ سے پانچ افراد جاں بحق اور پہلی جماعت کی ایک بچی شدید زخمی ہوگئی۔ اگر پرائمری اسکولوں کے بچے بھی محفوظ نہ رہیں تو جنگ بندی کی اصطلاح اپنی معنویت کھو دیتی ہے۔ سوال یہ نہیں کہ جنگ کب رکے گی بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ کیا واقعی جنگ کبھی رکی بھی تھی؟ جب زمینی حقیقت آگ اور خون سے لکھی جا رہی ہو تو سیاسی بیانات اور سفارتی اعلانات محض الفاظ رہ جاتے ہیں۔

سردی، ناکہ بندی اور منجمد ہوتی زندگیاں

بھوک، بمباری اور فائرنگ کے ساتھ ساتھ موسم کی شدت نے بحران کو مزید گہرا کر دیا ہے۔ مسلسل ناکہ بندی کے باعث گرم کپڑوں، کمبلوں، رہائشی کنٹینرز اور ادویات تک رسائی انتہائی محدود ہے۔ بارہ جنوری کو دیرالبلاح میں سات دن کے محمود الاقریٰ کا جسم اس کی ماں کی گود میں عملاً منجمد ہوگیا۔ اسی دن دو ماہ کا محمد ابو حربید الرنتیسی ہسپتال میں دم توڑ گیا۔ سخت سردی اور خیمے میسر نہ ہونے کے باعث بہت سے لوگوں نے بمباری سے کھنڈر بنے شکستہ مکانات میں پناہ لے رکھی ہے۔ غزہ شہر میں ایسا ہی ایک مخدوش گھر بارش اور تیز ہوا سے منہدم ہوگیا اور وہاں پناہ گزین ایک 15 سالہ بچی ملبے میں زندہ دفن ہوگئی۔ اسکولوں کے ساتھ ہسپتال اور شفاخانے بھی ہدف ہیں۔ خان یونس میں ایک ایمبولینس کو ڈرون نے نشانہ بنایا اور اسپتال کے لیے محوِ سفر زخمی زندہ جل گیا۔

ٹرمپ امن منصوبہ—امید یا نیا بحران

دوسری طرف صدر ٹرمپ کے 22 نکاتی امن منصوبے پر کام جاری ہے۔ قومی کمیٹی برائے نظمِ غزہ (NCAG) کا 16 جنوری کو قاہرہ میں پہلا اجلاس ہوا۔ غزہ کے عبوری انتظام کے لیے قائم کی جانے والی فلسطینی ماہرین (ٹیکنوکریٹس) پر مشتمل یہ 15 رکنی کمیٹی مقتدرۂ فلسطین (PA) کے سابق نائب وزیر علی شعث کی قیادت میں کام کرے گی۔ بورڈ آف پیس کی جانب سے بلغاریہ سے تعلق رکھنے والے سفارت کار نکولائی ملادینوف اس کمیٹی کے نگران مقرر کیے گئے ہیں۔ کمیٹی اور بورڈ آف پیس کی تشکیل پر ایک سرسری نظر ہی اس منصوبے میں مضمر خرابی کو نمایاں کر دیتی ہے۔ غزہ پر جہنم کے دروازے کھول دینے کی دھمکی دینے والے امریکی تاریخ کے سب سے پرجوش اسرائیل دوست ڈونلڈ ٹرمپ بورڈ آف پیس کے سربراہ ہیں۔ امریکی صدر کی غزہ کو پرتعیش ساحلی تفریح گاہ بنانے کی خواہش بھی کسی سے پوشیدہ نہیں۔ سونے پر سہاگہ، نکولائی ملادینوف کا انتخاب  ہے۔کیا واقعی خطے کی حقیقت، زبان اور دکھ کو سمجھنے کے لیے کسی عرب یا مسلم سفارت کار کا انتخاب ممکن نہ تھا؟ یا فیصلہ سازی ایک بار پھر انہی ہاتھوں میں رکھی جا رہی ہے جو خود اس بحران کا حصہ رہے ہیں؟

کمیٹی اور بورڈ کے کھیل

کمیٹی کے قیام کے بعد Founding Executive Board (FEB) اور Gaza Executive Board (GEB) قائم کر دیے گئے ہیں۔ قصرِ مرمریں سے جاری اعلامیے کے مطابقFEB،سفارتکاری، غزہ کے تباہ شدہ بنیادی ڈھانچے کی تعمیرِ نو اور معاشی سرگرمیوں کی نگرانی کرے گا۔ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو، صدر ٹرمپ کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکاف، دامادِ اول جیرڈ کشنر اور برطانیہ کے سابق وزیراعظم ٹونی بلیئر FEB رکن ہیں۔ غزہ ایگزیکیٹو بورڈ شفاف طرزِ حکمرانی کے لیے کام کرے گا , جسکے اہم ارکان میں اسٹیو وٹکاف، جیرڈ کشنر، ٹونی بلیئر کے علاوہ ترک وزیر خارجہ، قطری سفارتکار علی توحیدی، مصری انٹیلیجنس کے سربراہ حسن رشاد اور اماراتی وزیر محترمہ ریم الہاشمی شامل ہیں۔ اعلان سے ایسا لگ رہا ہے کہ جناب نکولائی ملادینوف تمام کمیٹیوں کے روحِ رواں ہوں گے۔ خبروں کے مطابق صدر ٹرمپ نے اپنے ترک ہم منصب، طیب رجب ایردوان اور مصر کے جنرل السیسی کو بھی بورڈ آف پیس میں شرکت کی دعوت دی ہے۔ اسرائیل کو غزہ میں ترکیہ اور قطر کا کردار پسند نہیں اور اسرائیلی جنگی کابینہ کے ہنگامی اجلاس میں امن بورڈ میں قطر اور ترکیہ کی شرکت پر شدید ناگواری کا اظہار کیا گیا۔

اسی کے ساتھ یہ مژدہ بھی سنایا گیا کہ امریکی مرکزی کمان کے آپریشنز کمانڈر میجر جنرل جیسپر جیفر بین الاقوامی استحکامی دستے (ISF)کے سربراہ ہوں گے۔ بریفنگ کے دوران کہا گیا کہ ISF کی بنیادی ذمہ داری امن و امان اور امدادی سرگرمیاں منظم کرنا ہوگی۔ اس دوران مزاحمت کاروں کو غیر مسلح کرنے کا نکتہ نہیں اٹھایا گیا۔ بورڈ آف پس کے چارٹر پر  22 جنوری کو ڈیوس (Davos)مین دستخط ہونگے جسکے  لئےصدر ترمپ نےعالمی رہنماوں کا مدعو کیا ہے۔

سفارتی بساط پر غزہ کی قیمت

غزہ کے لہو پر بچھائی جانے والی سفارتی بساط کے بارے میں اسرائیلی میڈیا نے انکشاف کیا کہ بورڈ آف پیس کی مدت تین سال ہوگی اور ہر رکن ملک کو ایک ارب ڈالر کی رکنیت فیس ادا کرنی ہوگی۔ ان اطلاعات میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ اس مد میں جمع ہونے والی رقوم غزہ کی تعمیرِ نو پر خرچ ہوں گی یا یہ بورڈ کے انتظامی اخراجات کی نذر ہو جائیں گی۔ غزہ کو اسرائیل، امریکہ اور یورپی یونین نے مٹی میں ملایا ہے لیکن اس کی تعمیرِ نو کی قیمت عرب و اسلامی دنیا سے وصول کی جائے گی۔

غربِ اردن: قبضہ، گرفتاری اور امید کی نخلستانیں

غزہ کے ساتھ غربِ اردن میں بھی کشیدگی برقرار ہے۔ آبائی مکانات کی مسماری، گرفتاریوں اور تشدد کے ساتھ پناہ گزین کیمپوں میں تفریحی مقامات کو منہدم کیا جا رہا ہے۔ بیت اللحم کے قریب عائدہ پناہ گزین کیمپ میں علاقے کے واحد فٹبال گراؤنڈ کو گرانے کا حکم جاری کر دیا گیا ہے۔ یہ محض ایک کھیل کا میدان نہیں بلکہ تنگ اور کھچاکھچ بھرے کیمپ میں فلسطینی بچوں کے لیے سانس لینے، دوڑنے اور مسکرانے کی واحد جگہ ہے۔ اس میدان کی ایک خاص اہمیت یہ بھی ہے کہ یہاں لڑکیاں فٹبال کھیلتی ہیں۔ کیا بچوں کی ہنسی اور کھیل بھی خطرہ بن چکے ہیں؟

بیرحم جبر اور پرعزم صبر۔

ان مظالم کے باوجود فلسطینی شہری ہار ماننے کو تیار نہیں۔ مشرقی یروشلم کے فخری ابوذہب کا گھر اسرائیلی فوج نے مسمار کردیا لیکن فخری نے ہجرت کے بجائے وہیں ملبے پر خیمہ ڈال لیا۔ صحافیوں سے بات کرتے ہوئے فخری ابوذہب کی اہلیہ نے کہا: "گھر مسمار کردیا گیا تو کیا ہوا، ہم ملبے پر زندگی گزار دیں گے لیکن اپنا وطن نہیں چھوڑیں گے۔"

برطانیہ نے اسرائیلی کمپنی کا معاہدہ معطل کردیا۔

انتقامی کاروائیاں اور بدسلوکی اپنی جگہ لیکن فلسطینیوں سے یکجہتی کا اظہار کرنے والوں کی ثابت قدمی کے مثبت نتائج بھی سامنے آرہے ہیں۔ گزشتہ ہفتے برطانوی حکومت نے اسرائیلی اسلحہ ساز کمپنی سے معاہدہ منسوخ کردیا۔ برطانیہ نے ایلبٹ سسٹمز یو کے (Elbit Systems UK)سے دوراب پاونڈ مالیت کا معاہدہ کیا تھا جسکے خلاف فلسطین ایکشن کے کارکنوں نے بھوک ہڑتال کردی۔ موت کے منہہ تک پہنچ جانے کے باوجود حِبا مراتسی، کامران احمد اور عمر خالد نے بھوک ہرٹال جاری رکھی اور آخرکار حکومت نے معاہدہ منسوخ کردینے کا فیصلہ کیا جسکے بعد ان لوگوں نے بھوک ہڑتال ختم کردی۔یہ واقعہ اس بیانیے کو تقویت دیتا ہے کہ تشدد کے شور میں دب جانے والی پرامن آوازیں اگر مستقل، منظم اور اخلاقی بنیادوں پر ہوں تو وہ اقتدار کے ایوانوں تک سنی جا تی ہیں۔

اسرائیل غزہ میں نسل کشی کا مرتکب ہورہا ہے۔ امریکہ کے اسرائیل نواز سیاستدان کا اعتراف

قانونی و پرامن عوامی دباؤ کی ایک اور مثال امریکی سیاست میں نظر آئی۔ ریاست کیلیفورنیا سے کانگریس کے امیدوار سینیٹر اسکاٹ وینر (Scott Wiener)نے صاف صاف کہا'وہ اس نتیجے پر پہنچ چکے ہیں کہ اسرائیل غزہ میں نسل کشی کا ارتکاب کر رہا ہے'۔ گزشتہ برس تک موصوف اسرائیل کے پُرجوش حامی سمجھے جاتے تھے۔ اکتوبر 2023 کے واقعات کی دوسری برسی پر انہوں نے اپنے ایک ٹویٹ میں اسرائیل کو تنقید سے بالاتر سمجھتے ہوئے اسرائیل مخالف آوازوں کو یہودیوں کے وجود کے لیے خطرہ قرار دیا تھا۔ یہ ’’ماہیتِ قلب‘‘ محض ذاتی فکری ارتقا نہیں بلکہ سوشل میڈیا نے زمینی حقائق کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے میں فیصلہ کن کردار ادا کیا ہے، جس سے رائے عامہ پر پڑنے والا اثر اب نظرانداز کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔

عرب دنیا میں گھٹن و زباں بندی

دوسری طرف عرب دنیا میں جبر کے ہتھکنڈے برقرار ہیں۔ بحرین کی ایک عدالت نے سیاسی و انسانی حقوق کے کارکن اور جمعیۃ العمل الوطنی الديمقراطی (وَعْد) کے سابق جنرل سیکریٹری ابراہیم شریف کو اسرائیل سے تعلقات پر تنقید کے الزام میں چھ ماہ قید اور 200 بحرینی دینار (تقریباً 530 امریکی ڈالر) جرمانے کی سزا سنا دی ہے۔

زمین پر جب آگ بجھانے کے بجائے شعلوں کو ہوا دی جا رہی ہو تو اجلاسوں، کمیٹیوں اور منصوبوں سے معجزے کی توقع نہیں رکھی جا سکتی۔ امن کی پہلی اور بنیادی شرط مکمل فائر بندی اور محاصرے کا خاتمہ ہے۔ اس کے بغیر ہر نیا ڈھانچہ محض کاغذی امید رہے گا۔ اس سب کے بیچ، غزہ کی ایک نوجوان لڑکی کے ہاتھ میں تھاما ہوا پلے کارڈ We Are Still Here شاید سب سے سادہ اور سچی گواہی ہے کہ تباہی کے باوجود لوگ موجود ہیں، اور موجود رہنے کا یہی اصرار اصل مزاحمت ہے۔

ہفت روزہ فرائیدے اسپیشل کراچی 23 جنوری 2026

ہفت روزہ دعوت دہلی 23 جنوری 2026

ہفت روزہ رببر سرینگر 25 جنوری 2026