خیموں
کی دنیا، مشترک انسانیت
غزہ، لبنان اور غربِ اردن
میں جاری المیے پر عالمی سیاست کی بے حسی
ایران
کے محاذ پر وقتی خاموشی اور مفاہمتی یادداشت (MOU) کی خبروں نے خلیج
فارس کے گرد ایک محتاط سی امید پیدا کردی ہے، لیکن بحیرۂ روم کے مشرقی ساحل پر
ظلم، محاصرہ اور خونریزی کا حبس بدستور قائم ہے۔ غزہ، لبنان اور غربِ اردن اب بھی
خوف، بے گھری اور اجتماعی اذیت کی علامت بنے ہوئے ہیں۔
غزہ: امن کے نام پر ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ
غزہ
میں مجلسِ امن (Board of Peace) کی توجہ اب بھی مزاحمت کاروں کے ہتھیار
ڈالنے پر مرکوز ہے۔ گزشتہ ہفتے بورڈ کے سربراہ نکولائی ملادینوف
(Nickolay Mladenov) نے سلامتی کونسل کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ اگر مزاحمت
کار غیر مسلح نہ ہوئے تو اسرائیل کو غزہ پر مکمل قبضے کا جواز مل جائے گا۔ ان کے
مطابق اس وقت غزہ کے تقریباً ساٹھ فیصد علاقے پر اسرائیلی فوج قابض ہے جبکہ پچیس
لاکھ فلسطینی صرف ڈیڑھ سو مربع کلومیٹر کے محدود خطے میں محصور ہوچکے ہیں۔
المیہ
یہ ہے کہ قیامِ امن کے دعوے دار ادارے جارح سے انخلا کا مطالبہ کرنے کے بجائے
مظلوم سے ہتھیار ڈالنے کا تقاضا کررہے ہیں، حالانکہ مزاحمت کار واضح کرچکے ہیں کہ
اسرائیلی افواج کی واپسی کے بعد وہ اپنی تلواریں نیام میں رکھ لیں گے۔ اہلِ غزہ کا
سوال سادہ مگر تلخ ہے کہ جب زمین پر دشمن قابض ہو تو غیر مسلح ہوکر خود کو بے دست
و پا کیسے کردیا جائے؟
قافلۂ صمود اور کھلے سمندر میں طاقت کا مظاہرہ
اسی
ہفتے “قافلۂ صمود” (Flotilla) کے ساتھ پیش آنے
والا واقعہ عالمی ضمیر کیلئے ایک اور آزمائش بن گیا۔ اسرائیلی بحریہ نے بین
الاقوامی پانیوں میں کارروائی کرتے ہوئے سینکڑوں کشتیوں پر سوار تقریباً چار سو
پچاس کارکنوں کو حراست میں لے لیا۔ قافلے میں شامل عمر رسیدہ اسرائیلی خاتون زہر
رجب کو ہتھکڑی لگا کر جیل بھیج دیا گیا، جہاں ان پر “غداری” کا مقدمہ چلانے کی
تیاری کی جارہی ہے۔اس سے بھی زیادہ تشویشناک پہلو گرفتار کارکنوں کے ساتھ مبینہ
سلوک ہے۔ رہائی کے بعد استنبول پہنچنے والے متعدد کارکن زخمی حالت میں اسپتال
منتقل کئے گئے جبکہ کم از کم پندرہ افراد نے جنسی تشدد، حتیٰ کہ عصمت دری، جیسے
سنگین الزامات عائد کئے ہیں۔ اگرچہ اسرائیلی جیل سروس نے ان الزامات کی تردید کی
ہے، لیکن متاثرین کے جسموں پر موجود نشانات ان دعوؤں کو مزید سنگین بناتے ہیں۔
چند
ماہ قبل اقوامِ متحدہ کی خصوصی نمائندہ فرانسسکا البانیز (Francesca Albanese) اسرائیلی
جیلوں میں فلسطینی قیدیوں پر تشدد سے متعلق ایک تفصیلی رپورٹ پیش کرچکی ہیں۔ اب
تازہ الزامات اس امر کے متقاضی ہیں کہ آزادانہ، غیر جانب دار اور شفاف تحقیقات کسی
بین الاقوامی ادارے کے ذریعے کرائی جائیں۔دلچسپ اور حیرت انگیز بات یہ ہے کہ
بدترین تشدد کا شکار ہونے والے یہی کارکن دوبارہ غزہ جانے کیلئے پُرعزم ہیں۔
ملبے پر زندگی کی ضد
غزہ پر
بمباری، ڈرون حملوں اور نشانہ بازوں کی فائرنگ کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔ بیت لاہیہ
میں سڑک پر کھیلتے بچوں کو ڈرون حملے میں نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں ایک کم
سن بچہ جاں بحق جبکہ متعدد زخمی ہوگئے۔ اسرائیلی فوج نے وضاحت پیش کی کہ بچوں کے
ہاتھ میں موجود فٹبال “غلطی سے دستی بم محسوس ہوئی”۔قانون نافذ کرنے والے فلسطینی
ادارے بھی مسلسل نشانے پر ہیں۔ شمالی غزہ میں پولیس کی ایک گاڑی پر ڈرون حملے میں
پانچ فلسطینی پولیس افسران اور قریب موجود تیرہ سالہ بچہ جاں بحق ہوگیا۔
لیکن
تباہی کے اس منظرنامے میں بھی اہلِ غزہ نے زندگی سے دستبردار ہونے سے انکار کردیا
ہے۔ ملبے کے درمیان نئے تعلیمی سال کی کلاسیں سج رہی ہیں جبکہ ایڈورڈ سعید میوزک
سینٹر کی تباہ شدہ عمارت کے بچے کھچے حصے میں موسیقی کا مدرسہ قائم کردیا گیا ہے
جہاں نوجوان راک موسیقی کی دھنیں ترتیب دے رہے ہیں۔ غزہ اب صرف موت کی علامت نہیں
بلکہ زندگی کی ضد کا استعارہ بھی بنتا جارہا ہے۔
لبنان اور غربِ اردن: پھیلتی ہوئی آگ
جنوبی
لبنان پر بمباری اور ڈرون حملے جاری ہیں جبکہ مزاحمتی کارروائیاں بھی کمزور نہیں
پڑیں۔ متعدد اسرائیلی فوجیوں کے ہلاک و زخمی ہونے کی اطلاعات سامنے آئیں۔ غزہ کی
طرح بیروت کے ساحل پر بھی خیمہ بستیاں آباد ہورہی ہیں۔یہ خیمے صرف عارضی پناہ
گاہیں نہیں بلکہ جنگ، بے دخلی اور عالمی بے حسی کے ایسے نشان ہیں جو انسانیت کے
ماتھے پر مستقل داغ بنتے جارہے ہیں۔
غربِ
اردن میں بھی قبضہ گردی اور تشدد کا سلسلہ جاری ہے۔ الجزیرہ کے مطابق گزشتہ ایک
برس میں37 ہزار فلسطینی اپنے گھروں سے بے دخل کئے جاچکے ہیں۔ حلحول میں حملہ آوروں
نے توڑ پھوڑ اور آتشزنی کے بعد دیواروں پر عبرانی زبان میں “נקמה” یعنی
“انتقام” لکھ دیا۔ المغیر میں فلسطینیوں کے کھیت جلادیئے گئے جبکہ حملہ آوروں کے
خلاف کارروائی کے بجائے مقامی فلسطینیوں کی گرفتاریاں شروع کردی گئیں۔اس دوران آٹھ
اور دس برس کے بچوں کو بھی “دہشت گردی” کے الزامات میں گرفتار کیا گیا۔ رام اللہ
کے گاؤں عطارہ میں حملہ آوروں نے نہ صرف فلسطینیوں بلکہ ان کے پالتو جانوروں تک کو
تشدد کا نشانہ بنایا۔ کھیتوں کی حفاظت کرنے والے کتوں کو ڈنڈوں سے مارا گیا اور
گھروں کی بلیوں کو اذیت دی گئی۔ سنگدلی کا یہ عالم کہ ان واقعات کے بصری تراشے خود
حملہ آوروں نے جاری کئے۔
سیاستدان خاموش، فنکار ماتم کناں، عالمی فوجداری عدالت
سرگرم
امریکہ،
یورپ اور مغربی دنیا کے اکثر سیاستدان اسرائیلی ترغیب کاری (Lobbying) کے دباؤ میں خاموش
دکھائی دیتے ہیں، لیکن وہ فنکار، گلوکار اور اداکار جنہیں مسلم معاشروں میں اکثر
سطحی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے، فلسطینیوں کے حق میں زیادہ بلند آواز بن کر سامنے
آرہے ہیں۔
فرانس
کے معروف کانز فلم فیسٹیول (Cannes Film Festival) میں
آسکر یافتہ ہسپانوی ہدایتکار پیڈرو المودووَر (Pedro Almodóvar) نے امریکی صدر
ڈونلڈ ٹرمپ، اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو اور روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کو
“عفریت” قرار دیا۔ انہوں نے فلسطینیوں سے اظہارِ یکجہتی کیلئے اپنی جیکٹ پر
“Free Palestine” کا بیج بھی آویزاں کررکھا تھا۔
ادھر
عالمی فوجداری عدالت (ICC) نے غربِ اردن میں
انسانی حقوق کی مبینہ خلاف ورزیوں کے معاملے پر اسرائیلی وزیرِ خزانہ بیزلیل
اسموٹرچ کے وارنٹِ گرفتاری جاری کردیئے ہیں۔ اس سے قبل اسرائیلی وزیراعظم، سابق
وزیرِ دفاع اور فوجی قیادت کے خلاف بھی وارنٹ جاری ہوچکے ہیں۔
بیت اللحم: جہاں کلیسا نے دروازے کھول دیئے
اس
تمام تاریکی کے درمیان عیدالاضحیٰ کے موقع پر بیت اللحم (Bethlehem) سے آنے والا ایک
منظر انسانیت کیلئے امید کی نرم روشنی بن کر ابھرا۔اس برس ہزاروں فلسطینی مسلمانوں
نے تاریخی Church of the Nativity کے باہر عید کی
نماز ادا کی۔ یہ وہ مقدس مقام ہے جسے دنیا بھر کے مسیحی حضرت عیسیٰؑ کی جائے
پیدائش مانتے ہیں۔مسجد اقصیٰ، مشرقی یروشلم اور مغربی کنارے میں پابندیوں کے باعث
ہزاروں فلسطینی اس بار عید کی نماز ادا نہ کرسکے۔ ایسے میں بیت اللحم کی مسیحی
برادری نے اپنے مقدس ترین مقام کے دروازے مسلمانوں کیلئے کھول دیئے۔
یہ
منظر صرف مذہبی رواداری نہیں بلکہ مظلوم انسانوں کے ساتھ کھڑے ہونے کی ایک عظیم
مثال بھی تھا۔ حضرت عیسیٰؑ مسلمانوں کیلئے بھی اللہ کے جلیل القدر رسول ہیں جبکہ
ان کی والدہ حضرت مریمؑ کو قرآن مجید “تمام جہانوں کی عورتوں سے برتر” قرار دیتا
ہے۔ شاید اسی لئے بیت اللحم میں ادا ہونے والی یہ نماز کسی اجنبیت کا منظر نہیں
بلکہ مشترکہ روحانی ورثے کی ایک خوبصورت جھلک محسوس ہوتی ہے۔بیت اللحم کا یہ منظر قرآن کی اُس دعوت کی عملی تفسیر ہے کہ :
اے اہلِ کتاب! آؤ ایک ایسی بات کی طرف جو
ہمارے اور تمہارے درمیان مشترک ہے، یہ کہ ہم اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کریں۔
سورۂ آلِ عمران ، آئت 64
ایک
ایسے وقت میں جب نفرت کے سوداگر دیواریں کھڑی کررہے ہیں، بیت اللحم کے اس کلیسا نے
انسانیت کیلئے ایک دروازہ کھول دیا۔
تاریخ
ضرور یاد رکھے گی کہ جب دنیا کے طاقتور لوگ خاموش تھے، تب ملبے پر بیٹھے بچے،
خیموں میں رہنے والے خاندان، سمندر میں سفر کرنے والے کارکن، اور بیت اللحم میں
کلیسا کے دروازے کھولنے والے لوگوں نے انسانیت کا چراغ بجھنے نہیں دیا۔
ہفت
روزہ فرائیڈے اسپیشل کراچی 29 مئی 2026
ہفت روزہ دعوت دہلی 29 مئی 2026
ہفت روزہ رہبر سرینگر 31 مئی 2026