مجلسِ
السلام، غزہ اور عالمی ضمیر
امن کے نام پر طاقت، خاموشی اور مزاحمت کی کہانی
غزہ کی
مٹی شہیدوں کے لہو سے تر ہے۔ خیموں میں ٹھٹھرتے بچے پوری دنیا کے اجتماعی ضمیر پر
سوال بن کر دستک دے رہے ہیں۔ ایسے میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ڈیووس
(Davos) میں
“مجلسِ السلام” (Board of Peace) کے قیام کا اعلان ایک نئے عالمی امن
منصوبے کے طور پر سامنے آیا ہے۔ پاکستان سمیت تقریباً انیس ممالک کی شمولیت کے بعد
اس منصوبے کو کہیں امید کی کرن اور کہیں سیاسی فریب کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
امن کون نہیں چاہتا، مگر سوال یہ ہے کہ کیا یہ واقعی امن کا منصوبہ ہے یا طاقت کے
توازن کو نئے نام سے برقرار رکھنے کی ایک نئی کوشش؟
مجلسِ السلام: ساخت، دعوے اور بنیادی تضادات
بظاہر
مجلسِ السلام کا مقصد غزہ میں جنگ بندی کی نگرانی، عبوری نظمِ حکمرانی اور بحالی
کا عالمی فریم ورک فراہم کرنا ہے، مگر اس کی ساخت کئی بنیادی سوالات کو جنم دیتی
ہے۔ یہ فورم کسی ہمہ گیر عالمی نمائندگی کا مظہر نہیں۔ بڑے یورپی اور مغربی ممالک
کی عدم شرکت نے اس کی غیر جانبداری اور ساکھ کو کمزور کر دیا ہے۔ مزید یہ کہ
فیصلوں کا محور واشنگٹن میں مرتکز دکھائی دیتا ہے، جس سے یہ ایک آزاد عالمی ادارے
کے بجائے امریکی خارجہ پالیسی کا توسیعی بازو محسوس ہوتا ہے۔
سب سے
بڑا تضاد اسلحے کے معاملے میں ہے۔ ایک فریق سے غیر مسلح ہونے کا مطالبہ، جبکہ
دوسرے فریق کی عسکری برتری، ناکہ بندی، فضائی حملے اور زمینی پیش قدمی بدستور جاری
اور امن کے علمبردار بلکہ بزعمِ خود ثالث، ظالموں کی پشت پناہی کے لیے پرعزم۔
“ہتھیار رکھو، یا ختم ہو جاؤ” — طاقت کا بیانیہ
مجلسِ
السلام کے تاسیسی اجلاس میں صدر ٹرمپ کا بیان نہایت معنی خیز تھا۔ انہوں نے کہا'ہمیں
امید ہے مزاحمت کار اسلحہ رکھ دیں گے، لیکن شاید وہ ایسا نہ کریں، کیونکہ پیدا
ہوتے ہی ان کے ہاتھ میں رائفل تھما دی جاتی ہے۔ اگر ایسا ہوا تو انہیں ختم کر دیا
جائے گا'۔
یہ وہی
لب و لہجہ ہے جو گزشتہ 78 برس سے دہرایا جا رہا ہے۔ مگر مزاحمت ختم نہیں ہوئی۔
فرعون نے بنی اسرائیل کی نسل
کشی کیلئے لغزش کے امکانات سے پاک (foolproof) حکمتِ عملی اپنائی تھی، لیکن انجام غرقابی
نکلا۔ جبر سے امن قائم ہوتا ہے نہ مزاحمت طاقت سے مٹائی جا سکتی ہے۔ جب تک قبضہ
باقی ہے، مزاحمت بھی باقی رہے گی، یہ تاریخ کا اٹل اصول ہے۔
مجلسِ السلام کا دوسرا رخ —
اسرائیل دفاعی پوزیشن میں؟
سوشل
میڈیا اور بعض ابلاغی حلقوں نے مجلس میں پاکستان اور دیگر مسلم ممالک کی شمولیت کو
اسرائیلی مفادات کی حمایت قرار دیا، مگر اب تصویر کا دوسرا رخ بھی سامنے آرہا ہے۔
وزیراعظم
نیتن یاہو سے ملاقات کے بعد اسرائیلی حکام نے امریکی نمائندے اسٹیو وٹکوف
(Steve Witkoff) پر شدید تنقید کی اور انہیں “قطری مفادات کا ترغیب کار”
قرار دیا۔ یہ ردِعمل اس حقیقت کی علامت ہے کہ مجلسِ السلام نے اسرائیل کو بھی ایک
حد تک دفاعی پوزیشن میں لا کھڑا کیا ہے۔ یہ کہنا درست نہیں کہ مجلس السلام مکمل طور پر اسرائیلی مفادات کی ترجمان ہے۔
حقیقت میں یہ ایک ایسا سیاسی تجربہ ہے جس
سے خود اسرائیلی قیادت بھی مطمئن نہیں۔
جنگ بندی کے سائے میں جنگ
رائٹرز
کی تحقیق اور سیٹلائٹ تصاویر کے مطابق اسرائیلی فوج جنگ بندی کی “پیلی لکیر” سے
پانچ کلومیٹر آگے مورچے قائم کرکے فلسطینیوں کو ساحل کی طرف دھکیل رہی ہے۔ مسلسل
حملوں کے ساتھ یہ پیش قدمی جاری ہے، اور نام نہاد امن معاہدے کے بعد سے اب تک چار
سو سے زائد فلسطینی جان سے جا چکے ہیں۔
اسرائیلی تحقیقاتی رپورٹ: “یہ حالات انسانوں کے لیے
نہیں”
ٹائمز
آف اسرائیل میں شائع ہونے والی Public Defender’s Office کی
رپورٹ خود اسرائیلی ریاست کے خلاف ایک سنگین فردِ جرم ہے۔ رپورٹ کے مطابق فلسطینی
قیدیوں کو:
- غیر انسانی تشدد
- خوراک اور علاج کی شدید کمی
- غیر صحت مند رہائشی حالات
- اہل خانہ سے طویل لاتعلقی
جیسے
حالات کا سامنا ہے۔
یہ
اعتراف کسی فلسطینی یا عالمی ادارے کا نہیں بلکہ یہ آواز اسرائیلی ریاست کے اندر
سے اٹھ رہی ہے۔ مگر مغربی میڈیا اسی ظلم کو نظرانداز کرکے ردِعمل کو “دہشت گردی”
قرار دیتا ہے۔
غزہ: سردی، ملبہ اور زندگی و زمین سے چمٹے لوگ
غزہ
میں لکڑیاں ایندھن نہیں، زندگی کا آخری سہارا ہیں۔ کچرے کے ڈھیر، جلتی آگ، منجمد
راتیں اور پھر ڈرون حملے، غزہ کی نئی شناخت بن چکے ہیں۔ یہودی سبت کے دن، 24 جنوری
کو لکڑیاں چننے والے 14 اور 15 سالہ دو بھائی اسرائیلی ڈرون حملے میں جاں بحق
ہوگئے۔ لکڑیاں دہشت گردی کے لیے نہیں، زندہ رہنے کے لیے چنی جارہی تھیں۔ اس غیر
انسانی ماحول کے باوجود لوگ غزہ چھوڑنے کو تیار نہیں، کہ 'ملک تو آخر اپنا ہے'
غربِ اردن: کیمروں کے بغیر تباہی
دنیا
کی نظریں غزہ پر ہیں، اور اسی دوران غربِ اردن میں تلکرم اور اریحا کھنڈر بنا دیے
گئے۔ یہ محض ایک ہفتے کی کارروائی ہے، جبکہ وحشیانہ آپریشن دو سال سے جاری ہے۔ جہاں
کیمرہ نہ ہو، وہاں ظلم سب سے محفوظ ہوتا ہےاور یہی اسرائیلی حکمتِ عملی کی کامیابی
ہے۔ ستم ظریفی کہ فلسطین کو آزاد ریاست
تسلیم کرنے والے یورپی ممالک بھی اس پر خاموش ہیں۔
القدس شریف میں دراندازی، اسٹیٹس
کو معاہدے (Status Quo Agreement)کی
تدفین
نیتن
یاہو کی انتہا پسند حکومت القدس شریف میں مداخلت کو معمول بنا چکی ہے۔ گزشتہ ہفتے اسرائیلی
پولیس نے یہودی زائرین کو مخصوص دعائیہ متن ساتھ لیکر الاقصیٰ (Temple
Mount) جانے کی اجازت دے دی، جو طویل عرصے
سے نافذ “غیر مسلم عبادت پر پابندی” کے اصول سے واضح انحراف ہے۔ وضاحت کیلئے عرض
ہے کہ الاقصیٰ اس پورے احاطے کا نام ہے جہاں مسجد اقصیٰ اور گنبدِ صحرا (Dome
of Rock) واقع ہے۔ بیت المقدس پر 1967 میں قبضے
کے بعد اسرائیل نے القدس کی مذہبی و قانونی
حیثیت برقرار رکھنے کا تحریری عہد کیا تھا، جسے Status Quo
Agreement کہا
جاتا ہے۔ اس کے مطابق الاقصیٰ کے احاطے میں صرف مسلمانوں کو عبادت کی اجازت ہے۔مگر
موجودہ حکومت اس معاہدے سے مسلسل انحراف کر رہی ہےاور اب اس احاطے میں یہودیوں کو رسمی
عبادت کی اجازت دیکر اسٹیٹس کو معاہدے کو عملاً منسوخ کردیا گیا۔
اسرائیلی معاشرہ اور “غیر مرئی” فلسطینی
غزہ میں برپا ظلم ساری دنیا
کے لیے سوہانِ روح بنا ہوا ہے۔ لیکن اسرائیلی معاشرے پر وحشت کی ان وارداتوں کا
کوئی قابلِ ذکر اثر دکھائی نہیں دیتا، حالانکہ چھ سات دہائیاں قبل یہی قوم
ہولوکاسٹ جیسے ایک ہولناک اور قابلِ مذمت انسانی سانحے سے گزرچکی ہے۔اس حوالے سے
معروف اسرائیلی صحافی اور سماجی کارکن گرشون باسکن (Gershon Baskin) کا کہنا ہے کہ ایک
منظم میڈیائی نظم و ضبط کے ذریعے یہ تصور
اسرائیلی معاشرتی لاشعور میں راسخ کر دیا گیا ہے کہ اسرائیلی فوج کے سامنے کھڑے
لوگ اگرچہ انسان نما ہیں، مگر انسان نہیں۔باسکن کے خیال میں اسرائیلیوں کیلئے فلسطینی
“invisible” بنا دئے گئے ہیں اورجب انسان دکھائی نہ دے،
تو اس کی موت بھی شمار میں نہیں آتی۔ اظہارِ رائے کی
آزادی پر فخر کرنے والے مغرب کا غالب بیانیہ بھی اسی خودساختہ اندھے پن کا شاہکار
ہے۔
یہ
اخلاقی اندھا پن صرف مقبوضہ علاقوں تک محدود نہیں رہا، بلکہ اب خود اسرائیلی ریاست
کے اندرونی ڈھانچے میں دراڑیں ڈال رہا ہے۔ فلسطینیوں کو “غیر مرئی” بنا دینے والا
بیانیہ بالآخر اسرائیلی معاشرے کے اندر بھی ذمہ داری، قربانی اور اجتماعی انصاف
کے تصورات کو نگلنے لگا ہے۔ غزہ میں جاری جنگ اور بڑھتے جانی نقصان کے باوجود
لازمی فوجی بھرتی سے فرار کی بڑھتی ہوئی شرح، حریدی طبقے کے استثنیٰ پر شدید سیاسی
کشمکش اور بجٹ کی منظوری میں تعطل اسی اخلاقی بحران کی علامت ہیں۔ جو ریاست دوسروں
کی انسانیت ماننے سے انکار کر دے، وہ بالآخر اپنے شہریوں سے بھی قربانی کا مطالبہ
اخلاقی جواز کے بغیر کرنے لگتی ہے، اور یہی وہ مقام ہے جہاں داخلی انتشار، سیاسی
بحران اور جنگی جنون ایک دوسرے میں مدغم ہو جاتے ہیں۔
اندرونی بحران: فوجی بھرتی سے فرار
اسرائیلی فوج کے محکمہ افرادی قوت (Personnel
Directorate) کے مطابق فوجی بھرتی سے فرار ہونے والوں کی تعداد 30 ہزار سے تجاوز
کر چکی ہےیعنی
فوج کی تقریباً 18 فیصد افرادی قوت۔حریدی
طبقہ، مذہبی سیاست اور جنگی دباؤ نے خود اسرائیل
کو اندر سے کمزور کر دیا ہے۔
نسل کشی کے مرتکب مجرموں کے گرد انصاف کا گھیرا
تنگ
عالمی فوجداری عدالت (ICJ)کے جاری کردہ پروانہ گرفتاری کے خوف سے اسرائیلی وزیراعظم نیتن
یاہو Davos کے
اقتصادی اجتماع میں شریک نہیں ہوئے۔اسرائیلی صدر اسحاق ہرزوگ اگلے ماہ
آسٹریلیا جارہے ہیں، جہاں انسانی حقوق کی تنظیموں نے
وفاقی پولیس کو ان کے خلاف مقدمہ درج کرنے کی درخواست دے دی ہے۔ دلچسپ بات کہ جیوش
کونسل آف آسٹریلیا بھی ان کی آمد کی مخالفت کر رہی ہے۔
فلسطین! پرعزم و پرامن مزاحمت کا استعارہ
امریکی شہر منیاپولس (Minneapolis) میں ایمگریشن پولیس (ICE) کے خلاف مظاہروں کے دوران فلسطینی
پرچم لہراتے نوجوان “When land is
occupied, resistance is justified” کے نعرے لگارہے ہیں۔ گویا فلسطینی پرچم اورقبضے
کے خلاف مزاحمت کا نعرہ ظلم کے خلاف آفاقی
جدوجہد کی علامت بن چکا ہے۔
ہرچند اس میں ہاتھ ہمارے قلم ہوئے
نیستاریم (Netzarim)راہداری (وسط غزہ) کے قریب اسرائیلی
حملے میں تین مصری صحافی محمد صالح قشطہ، عبدالروف شعث اور انس غنیم جاں بحق ہوگئے۔
یہ تینوں امدادی قافلے کیساتھ دستاویزی فلم بنانے آئے تھے۔اسرائیل کوسب سے بڑا خوف
قلم کاروں سےہے۔ اسی بنا پر غزہ میں اب تک 300 سے زیادہ صحافی قتل کئے جاچکے ہیں۔
ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل کراچی 30 جنوری 2026
ہفت روزہ دعوت دہلی 30 جنوری 2026
ہفت روزہ رہبر سرینگر یکم فروری 2026