Thursday, January 29, 2026

 

مجلسِ السلام، غزہ اور عالمی ضمیر

امن کے نام پر طاقت، خاموشی اور مزاحمت کی کہانی

غزہ کی مٹی شہیدوں کے لہو سے تر ہے۔ خیموں میں ٹھٹھرتے بچے پوری دنیا کے اجتماعی ضمیر پر سوال بن کر دستک دے رہے ہیں۔ ایسے میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ڈیووس (Davos) میں “مجلسِ السلام” (Board of Peace) کے قیام کا اعلان ایک نئے عالمی امن منصوبے کے طور پر سامنے آیا ہے۔ پاکستان سمیت تقریباً انیس ممالک کی شمولیت کے بعد اس منصوبے کو کہیں امید کی کرن اور کہیں سیاسی فریب کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ امن کون نہیں چاہتا، مگر سوال یہ ہے کہ کیا یہ واقعی امن کا منصوبہ ہے یا طاقت کے توازن کو نئے نام سے برقرار رکھنے کی ایک نئی کوشش؟

مجلسِ السلام: ساخت، دعوے اور بنیادی تضادات

بظاہر مجلسِ السلام کا مقصد غزہ میں جنگ بندی کی نگرانی، عبوری نظمِ حکمرانی اور بحالی کا عالمی فریم ورک فراہم کرنا ہے، مگر اس کی ساخت کئی بنیادی سوالات کو جنم دیتی ہے۔ یہ فورم کسی ہمہ گیر عالمی نمائندگی کا مظہر نہیں۔ بڑے یورپی اور مغربی ممالک کی عدم شرکت نے اس کی غیر جانبداری اور ساکھ کو کمزور کر دیا ہے۔ مزید یہ کہ فیصلوں کا محور واشنگٹن میں مرتکز دکھائی دیتا ہے، جس سے یہ ایک آزاد عالمی ادارے کے بجائے امریکی خارجہ پالیسی کا توسیعی بازو محسوس ہوتا ہے۔

سب سے بڑا تضاد اسلحے کے معاملے میں ہے۔ ایک فریق سے غیر مسلح ہونے کا مطالبہ، جبکہ دوسرے فریق کی عسکری برتری، ناکہ بندی، فضائی حملے اور زمینی پیش قدمی بدستور جاری اور امن کے علمبردار بلکہ بزعمِ خود ثالث، ظالموں کی پشت پناہی کے لیے پرعزم۔

 ہتھیار رکھو، یا ختم ہو جاؤ” — طاقت کا بیانیہ

مجلسِ السلام کے تاسیسی اجلاس میں صدر ٹرمپ کا بیان نہایت معنی خیز تھا۔ انہوں نے کہا'ہمیں امید ہے مزاحمت کار اسلحہ رکھ دیں گے، لیکن شاید وہ ایسا نہ کریں، کیونکہ پیدا ہوتے ہی ان کے ہاتھ میں رائفل تھما دی جاتی ہے۔ اگر ایسا ہوا تو انہیں ختم کر دیا جائے گا'۔

یہ وہی لب و لہجہ ہے جو گزشتہ 78 برس سے دہرایا جا رہا ہے۔ مگر مزاحمت ختم نہیں ہوئی۔ فرعون نے بنی اسرائیل کی  نسل کشی کیلئے  لغزش کے امکانات سے پاک (foolproof) حکمتِ عملی اپنائی تھی، لیکن انجام غرقابی نکلا۔ جبر سے امن قائم ہوتا ہے نہ مزاحمت طاقت سے مٹائی جا سکتی ہے۔ جب تک قبضہ باقی ہے، مزاحمت بھی باقی رہے گی، یہ تاریخ کا اٹل اصول ہے۔

مجلسِ السلام کا دوسرا رخ — اسرائیل دفاعی پوزیشن میں؟

سوشل میڈیا اور بعض ابلاغی حلقوں نے مجلس میں پاکستان اور دیگر مسلم ممالک کی شمولیت کو اسرائیلی مفادات کی حمایت قرار دیا، مگر اب تصویر کا دوسرا رخ بھی سامنے آرہا ہے۔

وزیراعظم نیتن یاہو سے ملاقات کے بعد اسرائیلی حکام نے امریکی نمائندے اسٹیو وٹکوف (Steve Witkoff) پر شدید تنقید کی اور انہیں “قطری مفادات کا ترغیب کار” قرار دیا۔ یہ ردِعمل اس حقیقت کی علامت ہے کہ مجلسِ السلام نے اسرائیل کو بھی ایک حد تک دفاعی پوزیشن میں لا کھڑا کیا ہے۔ یہ کہنا درست نہیں کہ مجلس السلام  مکمل طور پر اسرائیلی مفادات کی ترجمان ہے۔ حقیقت میں  یہ ایک ایسا سیاسی تجربہ ہے جس سے خود اسرائیلی قیادت بھی مطمئن نہیں۔

جنگ بندی کے سائے میں جنگ

رائٹرز کی تحقیق اور سیٹلائٹ تصاویر کے مطابق اسرائیلی فوج جنگ بندی کی “پیلی لکیر” سے پانچ کلومیٹر آگے مورچے قائم کرکے فلسطینیوں کو ساحل کی طرف دھکیل رہی ہے۔ مسلسل حملوں کے ساتھ یہ پیش قدمی جاری ہے، اور نام نہاد امن معاہدے کے بعد سے اب تک چار سو سے زائد فلسطینی جان سے جا چکے ہیں۔

اسرائیلی تحقیقاتی رپورٹ: “یہ حالات انسانوں کے لیے نہیں

ٹائمز آف اسرائیل میں شائع ہونے والی Public Defender’s Office کی رپورٹ خود اسرائیلی ریاست کے خلاف ایک سنگین فردِ جرم ہے۔ رپورٹ کے مطابق فلسطینی قیدیوں کو:

  • غیر انسانی تشدد
  • خوراک اور علاج کی شدید کمی
  • غیر صحت مند رہائشی حالات
  • اہل خانہ سے طویل لاتعلقی

جیسے حالات کا سامنا ہے۔

یہ اعتراف کسی فلسطینی یا عالمی ادارے کا نہیں بلکہ یہ آواز اسرائیلی ریاست کے اندر سے اٹھ رہی ہے۔ مگر مغربی میڈیا اسی ظلم کو نظرانداز کرکے ردِعمل کو “دہشت گردی” قرار دیتا ہے۔

غزہ: سردی، ملبہ اور زندگی  و زمین سے چمٹے لوگ

غزہ میں لکڑیاں ایندھن نہیں، زندگی کا آخری سہارا ہیں۔ کچرے کے ڈھیر، جلتی آگ، منجمد راتیں اور پھر ڈرون حملے، غزہ کی نئی شناخت بن چکے ہیں۔ یہودی سبت کے دن، 24 جنوری کو لکڑیاں چننے والے 14 اور 15 سالہ دو بھائی اسرائیلی ڈرون حملے میں جاں بحق ہوگئے۔ لکڑیاں دہشت گردی کے لیے نہیں، زندہ رہنے کے لیے چنی جارہی تھیں۔ اس غیر انسانی ماحول کے باوجود لوگ غزہ چھوڑنے کو تیار نہیں، کہ  'ملک تو آخر اپنا ہے'

غربِ اردن: کیمروں کے بغیر تباہی

دنیا کی نظریں غزہ پر ہیں، اور اسی دوران غربِ اردن میں تلکرم اور اریحا کھنڈر بنا دیے گئے۔ یہ محض ایک ہفتے کی کارروائی ہے، جبکہ وحشیانہ آپریشن دو سال سے جاری ہے۔ جہاں کیمرہ نہ ہو، وہاں ظلم سب سے محفوظ ہوتا ہےاور یہی اسرائیلی حکمتِ عملی کی کامیابی ہے۔ ستم ظریفی  کہ فلسطین کو آزاد ریاست تسلیم کرنے والے یورپی ممالک بھی اس پر خاموش ہیں۔

القدس شریف میں دراندازی، اسٹیٹس کو معاہدے (Status Quo Agreement)کی تدفین

نیتن یاہو کی انتہا پسند حکومت القدس شریف میں مداخلت کو معمول بنا چکی ہے۔ گزشتہ ہفتے اسرائیلی پولیس نے یہودی زائرین کو مخصوص دعائیہ متن ساتھ لیکر الاقصیٰ (Temple Mount) جانے کی اجازت دے دی، جو طویل عرصے سے نافذ “غیر مسلم عبادت پر پابندی” کے اصول سے واضح انحراف ہے۔ وضاحت کیلئے عرض ہے کہ الاقصیٰ اس پورے احاطے کا نام ہے جہاں مسجد اقصیٰ اور گنبدِ صحرا (Dome of Rock) واقع ہے۔ بیت المقدس پر 1967 میں قبضے کے بعد اسرائیل نے القدس کی مذہبی و قانونی حیثیت برقرار رکھنے کا تحریری عہد کیا تھا، جسے Status Quo Agreement کہا جاتا ہے۔ اس کے مطابق الاقصیٰ کے احاطے میں صرف مسلمانوں کو عبادت کی اجازت ہے۔مگر موجودہ حکومت اس معاہدے سے مسلسل انحراف کر رہی ہےاور اب اس احاطے میں یہودیوں کو رسمی عبادت کی اجازت دیکر اسٹیٹس کو معاہدے کو عملاً منسوخ کردیا گیا۔

اسرائیلی معاشرہ اور “غیر مرئی” فلسطینی

غزہ میں برپا ظلم ساری دنیا کے لیے سوہانِ روح بنا ہوا ہے۔ لیکن اسرائیلی معاشرے پر وحشت کی ان وارداتوں کا کوئی قابلِ ذکر اثر دکھائی نہیں دیتا، حالانکہ چھ سات دہائیاں قبل یہی قوم ہولوکاسٹ جیسے ایک ہولناک اور قابلِ مذمت انسانی سانحے سے گزرچکی ہے۔اس حوالے سے معروف اسرائیلی صحافی اور سماجی کارکن گرشون باسکن (Gershon Baskin) کا کہنا ہے کہ ایک منظم میڈیائی نظم و ضبط کے ذریعے  یہ تصور اسرائیلی معاشرتی لاشعور میں راسخ کر دیا گیا ہے کہ اسرائیلی فوج کے سامنے کھڑے لوگ اگرچہ انسان نما ہیں، مگر انسان نہیں۔باسکن کے خیال میں اسرائیلیوں کیلئے فلسطینی “invisible” بنا دئے گئے ہیں اورجب انسان دکھائی نہ دے، تو اس کی موت بھی شمار میں نہیں آتی۔ اظہارِ رائے کی آزادی پر فخر کرنے والے مغرب کا غالب بیانیہ بھی اسی خودساختہ اندھے پن کا شاہکار ہے۔

یہ اخلاقی اندھا پن صرف مقبوضہ علاقوں تک محدود نہیں رہا، بلکہ اب خود اسرائیلی ریاست کے اندرونی ڈھانچے میں دراڑیں ڈال رہا ہے۔ فلسطینیوں کو “غیر مرئی” بنا دینے والا بیانیہ بالآخر اسرائیلی معاشرے کے اندر بھی ذمہ داری، قربانی اور اجتماعی انصاف کے تصورات کو نگلنے لگا ہے۔ غزہ میں جاری جنگ اور بڑھتے جانی نقصان کے باوجود لازمی فوجی بھرتی سے فرار کی بڑھتی ہوئی شرح، حریدی طبقے کے استثنیٰ پر شدید سیاسی کشمکش اور بجٹ کی منظوری میں تعطل اسی اخلاقی بحران کی علامت ہیں۔ جو ریاست دوسروں کی انسانیت ماننے سے انکار کر دے، وہ بالآخر اپنے شہریوں سے بھی قربانی کا مطالبہ اخلاقی جواز کے بغیر کرنے لگتی ہے، اور یہی وہ مقام ہے جہاں داخلی انتشار، سیاسی بحران اور جنگی جنون ایک دوسرے میں مدغم ہو جاتے ہیں۔

اندرونی بحران: فوجی بھرتی سے فرار

اسرائیلی فوج کے محکمہ افرادی قوت (Personnel Directorate) کے مطابق فوجی بھرتی سے فرار ہونے والوں کی تعداد 30 ہزار سے تجاوز کر چکی ہےیعنی  فوج کی تقریباً 18 فیصد افرادی قوت۔حریدی طبقہ، مذہبی سیاست اور جنگی دباؤ نے  خود اسرائیل کو اندر سے  کمزور کر دیا ہے۔

نسل کشی کے مرتکب مجرموں کے گرد انصاف کا گھیرا تنگ

عالمی فوجداری عدالت (ICJ)کے جاری کردہ پروانہ گرفتاری کے خوف سے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو Davos کے اقتصادی اجتماع میں شریک نہیں ہوئے۔اسرائیلی صدر اسحاق ہرزوگ اگلے ماہ آسٹریلیا جارہے ہیں، جہاں انسانی حقوق کی تنظیموں نے وفاقی پولیس کو ان کے خلاف مقدمہ درج کرنے کی درخواست دے دی ہے۔ دلچسپ بات کہ جیوش کونسل آف آسٹریلیا بھی ان کی آمد کی مخالفت کر رہی ہے۔

فلسطین! پرعزم و پرامن مزاحمت کا استعارہ

امریکی شہر منیاپولس (Minneapolis) میں ایمگریشن پولیس (ICE) کے خلاف مظاہروں کے دوران فلسطینی پرچم لہراتے نوجوان “When land is occupied, resistance is justified”  کے نعرے لگارہے ہیں۔ گویا فلسطینی پرچم اورقبضے کے خلاف مزاحمت کا نعرہ  ظلم کے خلاف آفاقی جدوجہد کی علامت بن چکا ہے۔

ہرچند اس میں ہاتھ ہمارے قلم ہوئے

نیستاریم (Netzarim)راہداری (وسط غزہ) کے قریب اسرائیلی حملے میں تین مصری صحافی محمد صالح قشطہ، عبدالروف شعث اور انس غنیم جاں بحق ہوگئے۔ یہ تینوں امدادی قافلے کیساتھ دستاویزی فلم بنانے آئے تھے۔اسرائیل کوسب سے بڑا خوف قلم کاروں سےہے۔ اسی بنا پر غزہ میں اب تک 300 سے زیادہ  صحافی قتل کئے جاچکے ہیں۔

ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل کراچی 30 جنوری 2026

ہفت روزہ دعوت دہلی 30 جنوری 2026

ہفت روزہ رہبر سرینگر یکم فروری 2026


Friday, January 23, 2026

 

بے حسی، سنگدلی یا لاعلمی و بے خبری؟  اسرائیلی صحافی کا نقطہ نظر

غزہ میں برپا ظلم ساری دنیا کے لیے سوہانِ روح بنا ہوا ہے۔ خون جما دینے والی سردی میں کھلے آسمان تلے ماں کے سینے سے چمٹے بچوں کے پھول جیسے جسم منجمد ہوتے دیکھ کر جلاد صفت لوگ بھی لرز اٹھتے ہیں۔ ایمبولینسوں پر بمباری سے مریضوں کا زندہ جل جانا، خیموں پر ڈرون حملوں کے بعد شیر خوار بچوں کے راکھ بنے ننھے لاشے ایسے مناظر دیکھ کر تو پتھر دل کی آنکھ بھی بھر آئے۔
لیکن حیرت انگیز طور پر اسرائیلی معاشرے پر وحشت کی ان وارداتوں کا کوئی قابلِ ذکر اثر دکھائی نہیں دیتا، حالانکہ چھ سات دہائیاں قبل یہی قوم ہولوکاسٹ جیسے ایک ہولناک اور قابلِ مذمت انسانی سانحے سے گزر چکی ہے۔

اس حوالے سے معروف اسرائیلی صحافی اور سماجی کارکن گرشون باسکن (Gershon Baskin) کے کئی چشم کشا تبصرے اور تجزیے اسرائیلی اور فلسطینی ذرائع ابلاغ، خصوصاً الجزیرہ پر شائع ہو چکے ہیں۔ باسکن کے مطابق، انتہا پسند اسرائیلی حکومت اور اس کے سفاک اتحادیوں نے نہایت مہارت سے فلسطینیوں کو invisible یعنی غیر مرئی انسان بنا دیا ہے۔ یوں یہ تصور اسرائیلی معاشرتی لاشعور میں راسخ کر دیا گیا ہے کہ اسرائیلی فوج کے سامنے کھڑے لوگ اگرچہ انسان نما ہیں، مگر انسان نہیں۔

جب ایک معاشرہ یہ ماننے سے ہی انکار کر دے کہ سامنے والا بھی انسان ہے، یا یہ تسلیم کرنے سے گریز کرے کہ کسی سرحد نام کی شے کا وجود ہے، تو وہاں اخلاقی احتساب خود بخود معطل ہو جاتا ہے۔ باسکن کے بقول، اسرائیلی معاشرے کی اکثریت نہ یہ جانتی ہے کہ سرحد کے اُس پار کیا ہو رہا ہے، نہ جاننے میں دلچسپی رکھتی ہے۔ سرحد ان کے نزدیک سرحد نہیں، بلکہ “بس ہماری زمین” ہے۔ چنانچہ لاشیں گنتی میں نہیں آتیں، کیونکہ مرنے والے پہلے ہی ذہنی طور پر “غائب” کر دیے گئے ہوتے ہیں۔

باسکن کا کہنا ہے کہ یہ لاعلمی کسی اتفاق یا محض قوم پرستی کا شاخسانہ نہیں، بلکہ ایک منظم میڈیائی نظم و ضبط کے ذریعے پیدا کی گئی ہے۔ اسرائیلی ناظرین کو غزہ کی تباہی براہِ راست دکھائی ہی نہیں جاتی۔ ٹی وی اسکرینوں پر پرانے، گھسے پٹے سمعی و بصری تراشے مسلسل دہرائے جاتے ہیں، جبکہ اصل اور تازہ مناظر سوشل میڈیا میں دفن رہتے ہیں، جہاں تک صرف وہی پہنچتا ہے جو جان بوجھ کر سچ دیکھنے کا ارادہ رکھتا ہو۔ اور جب ایک معاشرہ اجتماعی طور پر “نہ دیکھنے” کا فیصلہ کر لے، تو اخلاقی احتساب لازماً معطل ہو جاتا ہے۔

میڈیائی نظم و ضبط کے ساتھ “موقع” کا بروقت استعمال بھی اسرائیل کی ایک انتہائی کامیاب تزویراتی حکمتِ عملی ہے۔ جس وقت دنیا کی نظریں غزہ کی تباہی پر مرکوز تھیں، عین اسی دوران غربِ اردن کے بڑے حصے خاموشی سے کھنڈر بنا دیے گئے۔ بستیاں اجاڑی گئیں، گھروں کو مسمار کیا گیا، سڑکیں اور کھیت برباد ہوئے، اور آبادیوں کو اجتماعی سزا کا نشانہ بنایا گیا۔ مگر چونکہ کیمرے غزہ پر تھے، اس لیے یہ سب کچھ عالمی ضمیر کی اسکرین سے باہر ہی رہا۔ یعنی 'جہاں توجہ ہو، وہاں شور؛ جہاں توجہ نہ ہو، وہاں تباہی۔ غربِ اردن میں ہونے والی کارروائیاں اسی اصول کے تحت کی گئیں۔ نہ کسی بڑے اعلان کے ساتھ، نہ کسی اخلاقی جواز کی حاجت محسوس کیے بغیر۔

اظہارِ رائے کی آزادی پر فخر کرنے والے مغرب کا غالب بیانیہ بھی اسی خودساختہ اندھے پن کا شاہکار ہے۔ فلسطینی مزاحمت کو “تشدد” اور “دہشت گردی” کا لیبل دے کر اس عدمِ انصاف کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے جس نے نسل در نسل ایک پوری آبادی کو عملاً غیر موجود بنا دیا ہے۔ جب انسان دکھائی ہی نہ دے، تو اس کی چیخ بھی شور نہیں بنتی—اور پھر یہی چیخ جب کسی دھماکے میں ڈھل جائے، تو دنیا یکایک “دہشت گردی کے خاتمے” کے لیے پرعزم ہو جاتی ہے، مگر اس ناانصافی پر بات کرنے سے پھر کتراتی ہے جس نے اس ردِعمل کو جنم دیا۔



Thursday, January 22, 2026

 

غزہ جنگ  بندی : کمیٹیوں کے سائے میں جاری المیہ

نام نہاد غزہ جنگ بندی کو تین ماہ سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا ہے، مگر پٹی کے طول و عرض میں بمباری، ڈرون پروازیں اور فائرنگ رکنے کے بجائے روزمرہ کا معمول بنی ہوئی ہے۔ اسکولوں کو چن چن کر نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ گزشتہ ہفتے جبالیہ، وسطِ شہر، دیرالبلاح، البریج اور النصیرات کے علاقوں میں قائم عارضی اسکولوں اور خیمہ بستیوں پر فائرنگ سے پانچ افراد جاں بحق اور پہلی جماعت کی ایک بچی شدید زخمی ہوگئی۔ اگر پرائمری اسکولوں کے بچے بھی محفوظ نہ رہیں تو جنگ بندی کی اصطلاح اپنی معنویت کھو دیتی ہے۔ سوال یہ نہیں کہ جنگ کب رکے گی بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ کیا واقعی جنگ کبھی رکی بھی تھی؟ جب زمینی حقیقت آگ اور خون سے لکھی جا رہی ہو تو سیاسی بیانات اور سفارتی اعلانات محض الفاظ رہ جاتے ہیں۔

سردی، ناکہ بندی اور منجمد ہوتی زندگیاں

بھوک، بمباری اور فائرنگ کے ساتھ ساتھ موسم کی شدت نے بحران کو مزید گہرا کر دیا ہے۔ مسلسل ناکہ بندی کے باعث گرم کپڑوں، کمبلوں، رہائشی کنٹینرز اور ادویات تک رسائی انتہائی محدود ہے۔ بارہ جنوری کو دیرالبلاح میں سات دن کے محمود الاقریٰ کا جسم اس کی ماں کی گود میں عملاً منجمد ہوگیا۔ اسی دن دو ماہ کا محمد ابو حربید الرنتیسی ہسپتال میں دم توڑ گیا۔ سخت سردی اور خیمے میسر نہ ہونے کے باعث بہت سے لوگوں نے بمباری سے کھنڈر بنے شکستہ مکانات میں پناہ لے رکھی ہے۔ غزہ شہر میں ایسا ہی ایک مخدوش گھر بارش اور تیز ہوا سے منہدم ہوگیا اور وہاں پناہ گزین ایک 15 سالہ بچی ملبے میں زندہ دفن ہوگئی۔ اسکولوں کے ساتھ ہسپتال اور شفاخانے بھی ہدف ہیں۔ خان یونس میں ایک ایمبولینس کو ڈرون نے نشانہ بنایا اور اسپتال کے لیے محوِ سفر زخمی زندہ جل گیا۔

ٹرمپ امن منصوبہ—امید یا نیا بحران

دوسری طرف صدر ٹرمپ کے 22 نکاتی امن منصوبے پر کام جاری ہے۔ قومی کمیٹی برائے نظمِ غزہ (NCAG) کا 16 جنوری کو قاہرہ میں پہلا اجلاس ہوا۔ غزہ کے عبوری انتظام کے لیے قائم کی جانے والی فلسطینی ماہرین (ٹیکنوکریٹس) پر مشتمل یہ 15 رکنی کمیٹی مقتدرۂ فلسطین (PA) کے سابق نائب وزیر علی شعث کی قیادت میں کام کرے گی۔ بورڈ آف پیس کی جانب سے بلغاریہ سے تعلق رکھنے والے سفارت کار نکولائی ملادینوف اس کمیٹی کے نگران مقرر کیے گئے ہیں۔ کمیٹی اور بورڈ آف پیس کی تشکیل پر ایک سرسری نظر ہی اس منصوبے میں مضمر خرابی کو نمایاں کر دیتی ہے۔ غزہ پر جہنم کے دروازے کھول دینے کی دھمکی دینے والے امریکی تاریخ کے سب سے پرجوش اسرائیل دوست ڈونلڈ ٹرمپ بورڈ آف پیس کے سربراہ ہیں۔ امریکی صدر کی غزہ کو پرتعیش ساحلی تفریح گاہ بنانے کی خواہش بھی کسی سے پوشیدہ نہیں۔ سونے پر سہاگہ، نکولائی ملادینوف کا انتخاب  ہے۔کیا واقعی خطے کی حقیقت، زبان اور دکھ کو سمجھنے کے لیے کسی عرب یا مسلم سفارت کار کا انتخاب ممکن نہ تھا؟ یا فیصلہ سازی ایک بار پھر انہی ہاتھوں میں رکھی جا رہی ہے جو خود اس بحران کا حصہ رہے ہیں؟

کمیٹی اور بورڈ کے کھیل

کمیٹی کے قیام کے بعد Founding Executive Board (FEB) اور Gaza Executive Board (GEB) قائم کر دیے گئے ہیں۔ قصرِ مرمریں سے جاری اعلامیے کے مطابقFEB،سفارتکاری، غزہ کے تباہ شدہ بنیادی ڈھانچے کی تعمیرِ نو اور معاشی سرگرمیوں کی نگرانی کرے گا۔ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو، صدر ٹرمپ کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکاف، دامادِ اول جیرڈ کشنر اور برطانیہ کے سابق وزیراعظم ٹونی بلیئر FEB رکن ہیں۔ غزہ ایگزیکیٹو بورڈ شفاف طرزِ حکمرانی کے لیے کام کرے گا , جسکے اہم ارکان میں اسٹیو وٹکاف، جیرڈ کشنر، ٹونی بلیئر کے علاوہ ترک وزیر خارجہ، قطری سفارتکار علی توحیدی، مصری انٹیلیجنس کے سربراہ حسن رشاد اور اماراتی وزیر محترمہ ریم الہاشمی شامل ہیں۔ اعلان سے ایسا لگ رہا ہے کہ جناب نکولائی ملادینوف تمام کمیٹیوں کے روحِ رواں ہوں گے۔ خبروں کے مطابق صدر ٹرمپ نے اپنے ترک ہم منصب، طیب رجب ایردوان اور مصر کے جنرل السیسی کو بھی بورڈ آف پیس میں شرکت کی دعوت دی ہے۔ اسرائیل کو غزہ میں ترکیہ اور قطر کا کردار پسند نہیں اور اسرائیلی جنگی کابینہ کے ہنگامی اجلاس میں امن بورڈ میں قطر اور ترکیہ کی شرکت پر شدید ناگواری کا اظہار کیا گیا۔

اسی کے ساتھ یہ مژدہ بھی سنایا گیا کہ امریکی مرکزی کمان کے آپریشنز کمانڈر میجر جنرل جیسپر جیفر بین الاقوامی استحکامی دستے (ISF)کے سربراہ ہوں گے۔ بریفنگ کے دوران کہا گیا کہ ISF کی بنیادی ذمہ داری امن و امان اور امدادی سرگرمیاں منظم کرنا ہوگی۔ اس دوران مزاحمت کاروں کو غیر مسلح کرنے کا نکتہ نہیں اٹھایا گیا۔ بورڈ آف پس کے چارٹر پر  22 جنوری کو ڈیوس (Davos)مین دستخط ہونگے جسکے  لئےصدر ترمپ نےعالمی رہنماوں کا مدعو کیا ہے۔

سفارتی بساط پر غزہ کی قیمت

غزہ کے لہو پر بچھائی جانے والی سفارتی بساط کے بارے میں اسرائیلی میڈیا نے انکشاف کیا کہ بورڈ آف پیس کی مدت تین سال ہوگی اور ہر رکن ملک کو ایک ارب ڈالر کی رکنیت فیس ادا کرنی ہوگی۔ ان اطلاعات میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ اس مد میں جمع ہونے والی رقوم غزہ کی تعمیرِ نو پر خرچ ہوں گی یا یہ بورڈ کے انتظامی اخراجات کی نذر ہو جائیں گی۔ غزہ کو اسرائیل، امریکہ اور یورپی یونین نے مٹی میں ملایا ہے لیکن اس کی تعمیرِ نو کی قیمت عرب و اسلامی دنیا سے وصول کی جائے گی۔

غربِ اردن: قبضہ، گرفتاری اور امید کی نخلستانیں

غزہ کے ساتھ غربِ اردن میں بھی کشیدگی برقرار ہے۔ آبائی مکانات کی مسماری، گرفتاریوں اور تشدد کے ساتھ پناہ گزین کیمپوں میں تفریحی مقامات کو منہدم کیا جا رہا ہے۔ بیت اللحم کے قریب عائدہ پناہ گزین کیمپ میں علاقے کے واحد فٹبال گراؤنڈ کو گرانے کا حکم جاری کر دیا گیا ہے۔ یہ محض ایک کھیل کا میدان نہیں بلکہ تنگ اور کھچاکھچ بھرے کیمپ میں فلسطینی بچوں کے لیے سانس لینے، دوڑنے اور مسکرانے کی واحد جگہ ہے۔ اس میدان کی ایک خاص اہمیت یہ بھی ہے کہ یہاں لڑکیاں فٹبال کھیلتی ہیں۔ کیا بچوں کی ہنسی اور کھیل بھی خطرہ بن چکے ہیں؟

بیرحم جبر اور پرعزم صبر۔

ان مظالم کے باوجود فلسطینی شہری ہار ماننے کو تیار نہیں۔ مشرقی یروشلم کے فخری ابوذہب کا گھر اسرائیلی فوج نے مسمار کردیا لیکن فخری نے ہجرت کے بجائے وہیں ملبے پر خیمہ ڈال لیا۔ صحافیوں سے بات کرتے ہوئے فخری ابوذہب کی اہلیہ نے کہا: "گھر مسمار کردیا گیا تو کیا ہوا، ہم ملبے پر زندگی گزار دیں گے لیکن اپنا وطن نہیں چھوڑیں گے۔"

برطانیہ نے اسرائیلی کمپنی کا معاہدہ معطل کردیا۔

انتقامی کاروائیاں اور بدسلوکی اپنی جگہ لیکن فلسطینیوں سے یکجہتی کا اظہار کرنے والوں کی ثابت قدمی کے مثبت نتائج بھی سامنے آرہے ہیں۔ گزشتہ ہفتے برطانوی حکومت نے اسرائیلی اسلحہ ساز کمپنی سے معاہدہ منسوخ کردیا۔ برطانیہ نے ایلبٹ سسٹمز یو کے (Elbit Systems UK)سے دوراب پاونڈ مالیت کا معاہدہ کیا تھا جسکے خلاف فلسطین ایکشن کے کارکنوں نے بھوک ہڑتال کردی۔ موت کے منہہ تک پہنچ جانے کے باوجود حِبا مراتسی، کامران احمد اور عمر خالد نے بھوک ہرٹال جاری رکھی اور آخرکار حکومت نے معاہدہ منسوخ کردینے کا فیصلہ کیا جسکے بعد ان لوگوں نے بھوک ہڑتال ختم کردی۔یہ واقعہ اس بیانیے کو تقویت دیتا ہے کہ تشدد کے شور میں دب جانے والی پرامن آوازیں اگر مستقل، منظم اور اخلاقی بنیادوں پر ہوں تو وہ اقتدار کے ایوانوں تک سنی جا تی ہیں۔

اسرائیل غزہ میں نسل کشی کا مرتکب ہورہا ہے۔ امریکہ کے اسرائیل نواز سیاستدان کا اعتراف

قانونی و پرامن عوامی دباؤ کی ایک اور مثال امریکی سیاست میں نظر آئی۔ ریاست کیلیفورنیا سے کانگریس کے امیدوار سینیٹر اسکاٹ وینر (Scott Wiener)نے صاف صاف کہا'وہ اس نتیجے پر پہنچ چکے ہیں کہ اسرائیل غزہ میں نسل کشی کا ارتکاب کر رہا ہے'۔ گزشتہ برس تک موصوف اسرائیل کے پُرجوش حامی سمجھے جاتے تھے۔ اکتوبر 2023 کے واقعات کی دوسری برسی پر انہوں نے اپنے ایک ٹویٹ میں اسرائیل کو تنقید سے بالاتر سمجھتے ہوئے اسرائیل مخالف آوازوں کو یہودیوں کے وجود کے لیے خطرہ قرار دیا تھا۔ یہ ’’ماہیتِ قلب‘‘ محض ذاتی فکری ارتقا نہیں بلکہ سوشل میڈیا نے زمینی حقائق کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے میں فیصلہ کن کردار ادا کیا ہے، جس سے رائے عامہ پر پڑنے والا اثر اب نظرانداز کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔

عرب دنیا میں گھٹن و زباں بندی

دوسری طرف عرب دنیا میں جبر کے ہتھکنڈے برقرار ہیں۔ بحرین کی ایک عدالت نے سیاسی و انسانی حقوق کے کارکن اور جمعیۃ العمل الوطنی الديمقراطی (وَعْد) کے سابق جنرل سیکریٹری ابراہیم شریف کو اسرائیل سے تعلقات پر تنقید کے الزام میں چھ ماہ قید اور 200 بحرینی دینار (تقریباً 530 امریکی ڈالر) جرمانے کی سزا سنا دی ہے۔

زمین پر جب آگ بجھانے کے بجائے شعلوں کو ہوا دی جا رہی ہو تو اجلاسوں، کمیٹیوں اور منصوبوں سے معجزے کی توقع نہیں رکھی جا سکتی۔ امن کی پہلی اور بنیادی شرط مکمل فائر بندی اور محاصرے کا خاتمہ ہے۔ اس کے بغیر ہر نیا ڈھانچہ محض کاغذی امید رہے گا۔ اس سب کے بیچ، غزہ کی ایک نوجوان لڑکی کے ہاتھ میں تھاما ہوا پلے کارڈ We Are Still Here شاید سب سے سادہ اور سچی گواہی ہے کہ تباہی کے باوجود لوگ موجود ہیں، اور موجود رہنے کا یہی اصرار اصل مزاحمت ہے۔

ہفت روزہ فرائیدے اسپیشل کراچی 23 جنوری 2026

ہفت روزہ دعوت دہلی 23 جنوری 2026

ہفت روزہ رببر سرینگر 25 جنوری 2026


Thursday, January 15, 2026

 

غزہ: جنگ بندی، جنگ کی تیاری اور خاموش دنیا

اہلِ غزہ نے رمضان المبارک کے انتظار کا آغاز کر دیا ہے۔ یہاں رجب کا چاند نظر آتے ہی استقبالِ رمضان کی تیاریاں شروع ہو جاتی ہیں۔ طویل عرصے کے بعد بارش اور ابر آلود موسم کا سلسلہ تھما تو 3 جنوری کی رات، چودھویں کا چاند تباہ حال پٹی پر پوری آب و تاب سے جگمگایا۔ مکمل تاریکی کے باعث اہلِ غزہ نے ماہِ کامل کا بڑے اشتیاق سے نظارہ کیا۔ملبے پر کھڑے بچوں سے جب ایک صحافی نے پوچھا کہ چاند کو دیکھتے ہوئے تم زیرِ لب کیا کہہ رہے تھے، تو ایک لڑکے نے کہا:

میں تاریک غزہ پرروشنی بکھیرنے والے چاند سے کہہ رہا تھا کہ دنیا بہری ہو چکی ہے۔ ائے خوبصورت اور روشن چاند! تو ہی ہماری فریاد اپنے اور ہمارے خالق و مالک تک پہنچا دے۔

وحشی تعلیم سے خوفزدہ

اقوام متحدہ کے ادارے UNICEFکے مطابق غزہ کیلئےامدادی سامان کی جانچ پڑتال کے دوران اسکولوں کیلئے آنے والی نصابی کتب پر اسرائیل نے مکمل پابندی لگارکھی ہے۔ یونیسیف کے ترجمان کاظم ابوخلف نے کہا کہ درسی کتب کیساتھ کاپیاں، کاغذ،ربر، پینسل، مارکر تک لانے کی اجازت نہیں۔ غزہ میں اسکولوں اور اساتذہ کو چُن چُن کر نشانہ بنایا گیا۔ تقریباً تمام تعلیمی ادارے تباہ ہو گئے، مگر زندہ دل و حوصلہ مند فلسطینیوں نے خیموں میں اسکول قائم کر کے بچوں کی تعلیم کا سلسلہ دوبارہ شروع کر دیا۔ اب صبح سویرے اسکول جاتے بچے گولیوں کے خطرے کا سامنا کرتے ہیں، مگر وہ سینہ تان کر نکلتے ہیں کہ زندگی اور موت اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ ظالموں کو سب سے زیادہ خطرہ تعلیم سے ہے، کیونکہ تعلیم سوال کرنا سکھاتی ہے۔

جنگ بندی یا جنگ کی تیاری؟

ایک طرف صدر ٹرمپ خود کو "غزہ امن" کا داعی ظاہر کر رہے ہیں، دوسری جانب اسرائیل ایک نئے حملے کے لیے امریکی آشیرباد کا منتظر ہے۔ ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق اسرائیلی فوج نے مارچ میں نئے اور شدید فوجی آپریشن کے منصوبے تیار کر لیے ہیں، جن میں غزہ شہر کو نشانہ بنانے والی ایک بڑی زمینی کارروائی شامل ہے۔

اس آپریشن کا مقصد جنگ بندی کی حد، یعنی ییلو لائن کو مزید مغرب کی جانب، ساحلی پٹی کی طرف دھکیلنا ہے تاکہ غزہ کے مزید رقبے پر اسرائیلی کنٹرول قائم کیا جا سکے۔ یہ معلومات ایک اسرائیلی عہدے دار اور ایک عرب سفارت کار کے حوالے سے سامنے آئی ہیں۔ مبینہ عرب سفارت کار کے مطابق یہ کارروائی امریکا کی مکمل حمایت کے بغیر ممکن نہیں، کیونکہ واشنگٹن اکتوبر 2025 میں طے پانے والی نازک جنگ بندی کو دوسرے مرحلے تک لے جانا چاہتا ہے، جس میں مزاحمت کاروں  کو غیر مسلح کرنا بھی شامل ہے۔ یوں کہا جا سکتا ہے کہ امن مذاکرات کے سائے میں فوجی نقشے تیار کیے جا رہے ہیں۔

یہ اطلاعات محض قیاس آرائی نہیں بلکہ ایک منظم اور پہلے سے طے شدہ حکمتِ عملی کی عکاس ہیں۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ اسرائیل کے نزدیک جنگ بندی کسی مستقل امن کا ذریعہ نہیں بلکہ ایک عارضی وقفہ ہے۔ اگر نیت واقعی امن ہوتی تو زمینی کنٹرول بڑھانے، نئی حد بندیوں اور بڑے فوجی آپریشنز کی منصوبہ بندی زیرِ غور ہی نہ ہوتی۔

امریکی کردار: سوالیہ نشان

اس پورے منظرنامے میں امریکی کردار بھی سوالیہ نشان بنا ہوا ہے۔ صدر ٹرمپ سے  اس بھیانک جنگی منصوبے کو مسترد کئے جانے کی کسی کی توقع نہیں کہ واشنگٹن میں اسرائیلی اثر و رسوخ رکھنے والے حلقوں کا خوف منصفانہ فیصلوں کی راہ میں سب سے بڑی  بڑی رکاوٹ ہے۔ تل ابیب اور واشنگٹن میں جاری سفارتی سرگرمیاں اس تاثر کو مزید تقویت دے رہی ہیں کہ اصل ہدف امن نہیں بلکہ طاقت کے ذریعے نئے زمینی حقائق مسلط کرنا ہے۔

تولیدی نسل کُشی؟؟؟؟

انسانی حقوق کے کارکن اور اقوامِ متحدہ کے ماہرین غزہ میں جاری قتلِ عام کے ساتھ ایک اور نہایت سنگین جرم کی نشاندہی کر رہے ہیں، جسے Reproductive Genocide یعنی تولیدی نسل کُشی کہا جا رہا ہے۔ اس اصطلاح سے مراد وہ اقدامات ہیں جن کے ذریعے کسی قوم کی اولاد پیدا کرنے کی صلاحیت، ماؤں کی صحت اور آئندہ نسلوں کے وجود کو عملاً تباہ کر دیا جائے۔

اس الزام کی بنیاد چند تلخ حقائق پر ہے:

  • زچگی وارڈز اور تولیدی صحت کے مراکز کی منظم تباہی
  • حاملہ خواتین کو بنیادی طبی سہولتوں کے بغیر ولادت پر مجبور کرنا
  • نوزائیدہ بچوں کی اموات، غذائی قلت اور سردی سے بڑھتی ہلاکتیں
  • ایسا محاصرہ جو ماں اور بچے دونوں کی بقا کے لیے خطرہ بن چکا ہے

یہ محض زندہ لوگوں پر حملہ نہیں، بلکہ آنے والی نسلوں کے راستے بند کرنے کا عمل ہے۔اور دنیا اس عمل کو خاموشی سے دیکھ رہی ہے۔

غربِ اردن یا وادیِ گھٹن

غرب اردن میں بڑے پیمانے پر پکڑ دھکڑ جاری ہے۔ گزشتہ ہفتےخاتون صحافی اناس اخلاوی کو گرفتار کرلیا گیا۔ تلکرم سے ایک 15 سالہ بچے کو بھی اسرائیلی فوجی پکڑ کر لے گئے۔ جامعہ بیرزیت طلبہ یونین کی جانب سے غزہ میں جاں بحق ہونے والی بچی ہند رجب کے آخری لمحات پر مبنی دستاویزی فلم کی نمائش کا اہتمام کیا گیا تھا کہ اسرائیلی فوج مرکزی دروازہ توڑ کر کیمپس میں داخل ہو گئی اور طلبہ و اساتذہ پر تشدد کیا۔ آنسو گیس اور گولیوں سے کم از کم 11 افراد شدید زخمی ہوئے۔

عالمی فوج کی تعیناتی ۔۔ آذربائیجان کا انکار، بنگلہ دیش تیار

اسرائیلی بدنیتی کے تناظر میں جنگ بندی کی نگرانی کے لیے بین الاقوامی فوج کی تعیناتی کا امکان کم ہی دکھائی دیتا ہے۔ آذربائیجان کے صدر الہام علیوف واضح کر چکے ہیں کہ ان کا ملک غزہ سمیت کسی بھی بیرونی محاذ پر فوج نہیں بھیجے گا۔ دوسری جانب بنگلہ دیش کے مشیرِ سلامتی خلیل الرحمان نے غزہ میں مجوزہ بین الاقوامی استحکامی دستے (ISF)میں شمولیت میں اصولی دلچسپی ظاہر کی ہے، تاہم اس کی نوعیت یا دائرۂ کار واضح نہیں۔ امریکی محکمہ خارجہ نے اس پیش رفت پر کوئی فوری تبصرہ نہیں کیا۔

بمباری کا نہ رکنے والا سلسلہ

جمعہ، 2 جنوری کی صبح وسطی غزہ کے مغازی کیمپ پرزبردست بمباری سے بچوں سمیت 13 افراد جاں بحق اور  درجنوں شدید زخمی ہوگئے۔ ستم ظریفی کہ کئی روز  سے بارش اور مطلع ابرآلود رہنے کے بعد اسی دن دھوب نکلی تھی۔ لیکن یہ روشن صبح خون کے چھینٹوں کے ساتھ آہوں اور سسکیوں میں شانِ غریباں بن گئی۔

درندگی کی قیمت

بمباری و فوج کشی کی اہل غزہ و غربِ اردن بھاری قیمت ادا کررہے ہیں لیکن اسکے اثرات سے خود اسرائیل بھی محفوظ نہیں۔اسرائیلی فوج کا شعبہ بحالیِ معذوراں (Rehabilitation Department)شدید دباؤ کا شکار ہے۔ مزدور یونین Histadrut کے مطابق جنگ کے نتیجے میں معذور ہونے والوں کی تعداد تقریباً 82 ہزار تک پہنچ چکی ہے، جبکہ ہر ماہ اوسطاً 1500 نئے افراد رجوع کر رہے ہیں۔نئے مریضوں میں اضافے کے باوجود وزارت دفاع، عملے اور سہولتوں میں توسیع کیلئے تیار نہیں جسکی وجہ سے معذورین کی پریشانیوں میں اضافہ ہورہا ہے۔

جنگی جنون و ہیجان سے خود اسرائیلیوں کے مابین عدم برداشت میں اضافہ ہورہا ہے۔ لازمی فوجی بھرتی کے خلاف مظاہرہ کرنے حفظ توریت مدارس (Yeshiva)کے طلبہ پر تیز رفتار گاڑی چڑھادی گئی جس سے مدرسے کا ایک 18 سالہ لڑکا ہلاک ہوگیا۔

فلسطین میں تشدد پر پوپ کا اظہارِ تشویش

مسیحیوں کے روحانی پیشوا اعلیٰ حضرت پوپ لیو چہاردہم نے غربِ اردن میں بڑھتے ہوئے تشدد اور غزہ میں جاری انسانی بحران پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ فلسطینیوں کو اپنی سرزمین پر پُرامن زندگی گزارنے کا حق حاصل ہے۔ پوپ لیو نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ سفارت کاری، مکالمے اور اتفاقِ رائے کے بجائے طاقت ، دباؤ اور جنگ قابلِ قبول بیانیہ بنتی جارہی ہے۔امریکی نژاد پوپ کے اس بیان کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ جاتی ہے کہ غربِ اردن میں واقع بیت اللحم وہ مقدس مقام ہے جہاں مسیحی عقیدے کے مطابق حضرت عیسیٰؑ کی ولادت ہوئی۔ اس مقدس شہر اور اس کے گردونواح میں تشدد، جبر اور عدم تحفظ نہ صرف فلسطینی عوام بلکہ دنیا بھر کے مسیحیوں کے لیے بھی شدید تشویش کا باعث ہے۔

عالمی ردِعمل کا تسلسل: پرتگال میں ایک ریسٹورنٹ بند

عالمی سطح پر بھی اثرات نمایاں ہیں۔ پرتگال کے دارالحکومت لزبن میں ایک اسرائیلی ملکیتیMediterranean ریستوران طنطورہ (Tantura) کو مسلسل دباؤ، سوشل میڈیا مہمات اور بائیکاٹ کے باعث تالے لگ گئے۔یہی رجحان یورپ اور امریکا کے دیگر شہروں میں بھی دیکھا جا رہا ہے، جہاں بعض کاروبار بدلتی ہوئی عالمی رائے عامہ اور اخلاقی دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔ مشرق وسطئٰ کے مختلف ممالک میٰں فرانسیسی ادارے Carrefour کی بندش اسکی ایک بڑی مثال ہے۔

غزہ اور غربِ اردن آج بمباری، محاصرے اور سفارتی منافقت کی بھاری قیمت ادا کر رہے ہیں۔ لیکن تاریخ بتاتی ہے کہ طاقت کے ذریعے مسلط کیے گئے زمینی حقائق کبھی پائیدار امن میں تبدیل نہیں ہو سکے۔ سوال یہ نہیں کہ جنگ کہاں تک جائے گی بلکہ دیکھنا یہ ہے کہ دنیا کب سننا شروع کرے گی۔

ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل 16 جنوری 2026

ہفت روزہ دعوت دہلی 16 جنوری 2026

ہفتتوزہ رہبر سرینگر 18 جنوری 2026


 

Wednesday, January 14, 2026

 

ایران : تاریخ، پابندیاں، بیچینی — آگ کو ہوا دیتی عالمی سیاست

ایران میں حالیہ عوامی بیچینی کو محض داخلی معاملہ یا وقتی ردِعمل قرار دینا تاریخ سے صرفِ نظر کے مترادف ہے۔ یہ اضطراب نہ اچانک پیدا ہوا اور نہ ہی اس کی جڑیں صرف حالیہ مہنگائی یا کرنسی کی گراوٹ تک محدود ہیں۔ ایران کی موجودہ کیفیت ایک طویل تاریخی عمل، بیرونی مداخلت، معاشی پابندیوں اور مسلسل دباؤ کا منطقی نتیجہ ہے۔ جو قوتیں آج ایرانی عوام کے نام پر بیانات دے رہی ہیں، وہی ممالک گزشتہ سات دہائیوں سے اس ملک کے زخموں پر نمک چھڑکتے آئے ہیں۔

تیل کی قومی تحویل اور مغربی دنیا کی پہلی خفگی

ایران اور مغربی دنیا کے درمیان کشیدگی کا آغاز اس وقت ہوا جب ایران کے پہلے منتخب وزیراعظم محمد مصدق نے 1951 میں ملک کے تیل کے وسائل کو قومی ملکیت میں لینے کا فیصلہ کیا۔ اس وقت ایرانی تیل اور گیس کے تمام اثاثے  BPکے ذیلی ادارے اینگلو ایرانی آئل کمپنی (AIOC)کے پاس تھے۔ مصدق کا یہ فیصلہ ایرانی خودمختاری کا علامتی اظہار تھا، مگر لندن اور واشنگٹن کیلئے ناقابلِ قبول ثابت ہوا۔ امریکی صدر ڈوائٹ آئزن ہاور اور برطانوی وزیراعظم ونسٹن چرچل اس نتیجے پر پہنچے کہ مصدق اب فرمانبردار نہیں رہے اور کمیونسٹ تودہ پارٹی کے زیرِ اثر آچکے ہیں۔ اسی سوچ نے ایران کی پہلی جمہوریت کے خاتمے کی بنیاد رکھی۔

ایجیکس اور بوٹ: ایران کی پہلی جمہوریت کا خاتمہ

اگست 1953 میں امریکی سی آئی اے اور برطانوی ایم آئی 6 نے خفیہ آپریشن کے ذریعے مصدق حکومت کا تختہ الٹ دیا۔ سی آئی اے نے اسے آپریشن کوایجیکس (AJAX)جبکہ ایم آئی 6 نے بوٹ (BOOT)کا نام دیا۔ پندرہ اگست سے شروع ہونے والے اس نسبتاً پُرامن مگر فیصلہ کن کاروائی نے ایران کی پہلی جمہوری حکومت کو محض دو برس بعد ختم کر دیا۔ یہی وہ موڑ تھا جس نے ایرانی عوام کے اجتماعی شعور میں مغرب کے بارے میں مستقل بداعتمادی کو جنم دیا۔ دلچسپ اور معنی خیز بات یہ ہے کہ وینیزویلا اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کی بنیاد بھی تیل کمپنیوں کو قومی تحویل میں لینے کا فیصلہ ہی بنا۔

شاہ ایران، مغربی حمایت اور عوامی ردِعمل

 اس مداخلت کے بعد شاہ ایران کو مکمل مغربی سرپرستی حاصل رہی۔ تاہم یہ حمایت عوامی تائید میں تبدیل نہ ہو سکی اور 1978 میں اٹھنے والی عوامی تحریک کے نتیجے میں بھرپور امریکی حمایت کے باوجود 1979 میں شاہ کو ملک چھوڑنا پڑا۔ ایران، جمہوری اسلامی ریاست میں تبدیل ہو گیا اور اسی لمحے سے امریکہ اور ایران کے تعلقات معمول کی سفارتی کشیدگی سے بڑھ کر کھلی دشمنی میں داخل ہو گئے۔

ایران۔عراق جنگ: ایک طویل زخم

ایرانی موقف کے مطابق ستمبر 1980 میں عراق کا حملہ بھی امریکی اشارے پر ہوا۔ آٹھ برس جاری رہنے والی اس جنگ نے ایران کو انسانی اور معاشی دونوں اعتبار سے کھوکھلا کر دیا۔ امریکہ کے خلیجی اتحادیوں خصوصاً سعودی عرب نے اس جنگ میں عراق کی بھرپور مالی معاونت کی، جس سے خطے میں طاقت کا توازن ایران کے خلاف رکھنے کی کوشش کی گئی۔

جوہری پروگرام: تعاون سے تنازعے تک

 ایرانی جوہری پروگرام  کسی خفیہ ایجنڈے کا حصہ نہیں تھا۔ یہ 1950 کی دہائی میں امریکی تعاون سے شروع ہوا اور 1957 میں صدر آئزن ہاور نے ’ایٹم برائے امن‘ منصوبے کے تحت اس کی توثیق کی۔ مگر وقت کے ساتھ یہی پروگرام عالمی خوف کی علامت بنا دیا گیا اور اس صدی کے آغاز میں ایران پر سخت پابندیاں عائد کر دی گئیں۔

برجام: امید کی ایک مختصر کھڑکی

 مسلسل دباؤ کے باعث ایران مذاکرات پر آمادہ ہوا اور طویل بات چیت کے بعد 14 جولائی 2015 کو برجام (JCPOA)طے پایا۔ سلامتی کونسل کے پانچوں مستقل ارکان یعنی امریکہ، برطانیہ، فرانس، روس اور چین کے علاوہ جرمنی  بھی برجام  میں فریق تھے چانچہ اسے5+1معاہدہ بھی کہا جاتاہے۔ بعد میں ضامن کی حیثیت سے یورپی یونین نے بھی اس پر دستخط کئے۔برجام کی امریکی سینیٹ سے 1 کے مقابلے میں 98 اور ایوان زیریں سے 25 کے مقابلے میں 400 ووٹوں سے توثیق ہوچکی ہے۔اس معاہدے کے تحت ایران نے اپنے جوہری پروگرام کو محدود کرنے پر رضامندی ظاہر کی جبکہ بدلے میں پابندیاں اٹھانے کا وعدہ کیا گیا۔ اقوام متحدہ اور صدر اوباما نے اسے سفارتکاری کی بڑی کامیابی قرار دیا لیکن اسرائیل اس معاہدے کا سخت مخالف تھا۔

برجام سے دستبرداری اور نئی پابندیاں

 اقتدار میں آنے کے بعد صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 8 مئی 2018 کو برجام سے یکطرفہ علیحدگی اختیار کر لی اور ایران پر سخت پابندیاں دوبارہ نافذ کر دیں۔ ان پابندیوں نے ایرانی معیشت کو مفلوج کر دیا، کرنسی کی قدر گر گئی اور افراطِ زر نے عام آدمی کی زندگی کو شدید متاثر کیا۔ یہی معاشی دباؤ حالیہ عوامی بیچینی کی بنیادی وجہ ہے۔

حالیہ ہنگامے اور بیرونی کردار کے الزامات

 ابتدا میں یہ مظاہرے مہنکائی کےخلاف تھے لیکن اسرائیلی وزیراعظم اور امریکی صدر ٹرمپ نے مظاہروں کے حق میں جوشیلے بیانات دیکر یہ تاثر دیا کہ گویا ایرانی عوام ملاوں سے آزادی چاہتے ہیں۔ ایرانی حکومت الزام لگارہی ہے کہ ان ہنکاموں کی پشت پر اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد ہے۔ مظاہروں کے دوران 100 سے زیادہ سیکیورٹی افسران مارے جاچکے ہیں، جنھیں ننھے ڈرون، چھوٹے دستی بموں اور زہر میں بجھے چھروں سے نشانہ بنایا گیا۔یہ ہتھیار مبینہ طور پر اسرائیلی فوج فراہم کررہی ہے۔ سابق امریکی وزیرخارجہ مائک پومپیو نے بھی ایک نجی چینل کو انٹرویو میں کہا کہ کئی جگہ حکومت مخالف مظاہرین کی قیادت موساد کے ایجنٹ کررہے ہیں۔

پابندیاں، عوام اور دوہرا معیار

 یہ حقیقت ناقابلِ تردید ہے کہ ایرانی عوام کی مشکلات کی بنیادی وجہ امریکی پابندیاں ہیں۔ اگر واشنگٹن کو ایرانی عوام سے واقعی ہمدردی ہے تو پابندیاں ختم یا نرم کر کے انہیں راحت فراہم کی جا سکتی ہے۔ مگر اس کے برعکس، دھمکی آمیز بیانات اور اشتعال انگیزی نےامن کے بجائے کشیدگی میں اضافہ کردیا ہے۔

عدم استحکام کسی کے حق میں نہیں

 کسی ملک میں پیدا ہونے والی بیچینی سے فائدہ اٹھانا اچھی سفارتکاری نہیں۔ آج کی دنیا ایک عالمی گاؤں بن چکی ہے، جہاں کسی ایک ملک کا عدم استحکام پورے خطے بلکہ دنیا کو متاثر کرتا ہے۔ ایران کے معاملے میں تاریخ بار بار یہ بتاتی ہے کہ طاقت اور پابندیاں مسئلے کا حل نہیں بلکہ فساد کی جڑ ہیں۔ اگر عالمی امن مطلوب ہے تو آگ کو ہوا دینے کے بجائے اسے بجھانے کی سنجیدہ کوشش وقت کی ضرورت ہے

ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل کراچی 16 جنوری 2026

ہفت روزہ دعوت دہلی 16 جنوری 2026

ہفت روزہ رہبر سرینگر 18 جنوری 2026