ایران۔امریکہ
کشمکش: سفارتکاری، جنگ بندی اور اعصاب کی جنگ
تہران
کا مدلل جواب، ٹرمپ کی دھمکیاں اور مشرقِ وسطیٰ میں طاقت کے توازن کی نئی کشمکش
ایران نے 10 مئی کو امریکہ کی 14 نکاتی
مفاہمتی یادداشت
(MOU) کا جواب پاکستان
کے ذریعے واشنگٹن پہنچا دیا۔ سرکاری خبر رساں ایجنسی IRNA کے
مطابق تہران نے واضح کیا ہے کہ کسی بھی پیش رفت کیلئے لبنان سمیت سارے مشرق وسطیٰ
میں غیر مشروط جنگ بندی، آبنائے ہرمز پر تہران کا مکمل اختیار اور ایرانی تیل پر
عائد پابندیوں کا خاتمہ ضروری ہے۔ایران کے جوہری پروگرام پر گفتگو کو خطے میں امن
کی بحالی سے مشروط کیا گیا ہے۔
ایران کا یہ جواب زبان اور اسلوب، دونوں
اعتبار سے شائستہ، مدلل اور منطقی دکھائی دیتا ہے۔ تہران کا بنیادی مؤقف یہ ہے کہ
جب پورا خطہ جنگ کے دہانے پر کھڑا ہو تو ایسے ماحول میں کسی کلیدی قومی منصوبے پر بامقصد
مذاکرات کیسے ممکن ہیں؟ جہاں تک جوہری ہتھیار نہ بنانے کا تعلق ہے تو ایران 2015
کے معاہدہِ برجام
(JCPOA) کی
صورت میں امریکہ سمیت عالمی طاقتوں کو یہ یقین دہانی پہلے ہی کراچکا ہے۔ ایرانی
سندیسہ ملتے ہی اپنے نجی سوشل میڈیا پلیٹ فارم TRUTH پر صدر ٹرمپ نے لکھا: “یہ جواب یکسر
ناقابلِ قبول ہے۔” اس سے قبل اخباری نمائندوں سے گفتگو میں امریکی صدر مفاہمتی
یادداشت کا “تسلی بخش جواب” نہ ملنے کی صورت میں “Project Freedom PLUS” شروع کرنے کی دھمکی بھی دے چکے تھے۔
اسرائیل کی جانب سے اگرچہ تاحال کوئی باضابطہ ردِعمل سامنے نہیں آیا، تاہم نیتن
یاہو مسلسل یہ دہرا رہے ہیں کہ “جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی”۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ
سفارتکاری اور عسکری دباؤ ایک ساتھ استعمال ہورہے ہیں؛ ایک ہاتھ میں مفاہمتی
یادداشت، دوسرے میں چمکتے ہتھیار۔
جواب میں تاخیر اور پھر جوہری پروگرام کے
معاملے کو پورے مشرقِ وسطیٰ میں مکمل جنگ بندی سے مشروط کرنے کا مطلب یہ ہے کہ
تہران وقت کو اپنے حق میں استعمال کررہا ہے۔امریکی خفیہ ادارے CIA کے
بعض تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ نصف صدی سے پابندیوں، دباؤ اور معاشی آزمائشوں کی
عادی ایرانی معیشت امریکی ناکہ بندی کا بوجھ طویل عرصے تک برداشت کرسکتی ہے۔ ایران
کے وزیرِ تیل محسن پاک نژاد نے دعویٰ کیا ہے کہ بمباری اور بعض تنصیبات کو نقصان
پہنچنے کے باوجود تیل و گیس کی پیداوار اور برآمدات معمول کے مطابق جاری ہیں۔
اگرچہ اس دعوے کی آزادانہ تصدیق ممکن نہیں، لیکن پابندیوں کے طویل تجربے نے
ایرانیوں کو متبادل نظام، فوری مرمت اور محدود وسائل میں بقا کا ہنر ضرور سکھا دیا
ہے۔
دوسری طرف آبنائے ہرمز کی ممکنہ بندش سے
پیدا ہونے والا عالمی دباؤ، تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور مہنگائی کے خدشات
خود امریکی عوام کیلئے بھی ایک نئی آزمائش بنتے جارہے ہیں۔ واشنگٹن کے بعض حلقوں
میں یہ سوال ابھر رہا ہے کہ صدر ٹرمپ امریکی قوم کو “بس چند دن اور” کے لالی پاپ
پر آخر کب تک مطمئن رکھ سکیں گے؟
صدر ٹرمپ کے آتشیں بیانات اور ایرانی
قیادت، خصوصاً پارلیمان کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کی طنزیہ چٹکیوں کے باوجود
ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی ابھی تک ایک نازک توازن کے ساتھ قائم ہے۔ گزشتہ
ہفتے صورتحال اس وقت اچانک بگڑتی محسوس ہوئی جب صدر ٹرمپ نے “Project Freedom” کے نام سے ایک نئی بحری مہم کا اعلان کیا،
جس کے تحت آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں کو امریکی بحری تحفظ فراہم
کرنے کی پیشکش کی گئی۔ اپنے مخصوص جارحانہ انداز میں امریکی صدر نے خبردار کیا کہ
“اگر ہمارے جہازوں پر حملہ ہوا تو ایران کو دنیا کے نقشے سے مٹا دیا جائے گا۔”
آبنائے
ہرمز: طاقت آزمائی کا نیا مرحلہ
اطلاعات کے مطابق دو امریکی پرچم بردار
جہاز بخیریت آبنائے سے گزر گئے، تاہم ایرانی کشتیوں کی مبینہ فائرنگ کے بعد کئی
تجارتی جہازوں نے سفر مؤخر کردیا۔ ایرانی بحریہ کا دعویٰ ہے کہ امریکی جنگی جہازوں
نے جاسک بندرگاہ کی جانب پیش قدمی کی کوشش کی جسے ناکام بنادیا گیا۔ اس کے بعد
امریکی فضائیہ نے بندر عباس اور جزیرہ قشم کے اطراف اہداف پر حملے کئے، جبکہ
جواباً ایران نے متحدہ عرب امارات کے فجیرہ
آئل ٹرمینل اور آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بعض جہازوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ
کیا۔ خلیجِ عمان میں تیل بردار جہاز Ocean
Koi پر قبضے اور فرانسیسی جہاز CMA-CGM San Antonio کو
نقصان پہنچنے کی اطلاعات نے عالمی منڈیوں میں بے چینی پیدا کردی۔
بحری
مہم Project
Freedom کی
معطلی اور سفارتکاری کا دباؤ
سات مئی کو صدر ٹرمپ نے اچانک “Project Freedom” معطل کرنے کا اعلان کردیا۔ ان کے مطابق یہ
فیصلہ پاکستان کے فیلڈ مارشل عاصم منیر کی درخواست پر کیا گیا، جنہوں نے سفارتکاری
کو مزید موقع دینے کا مشورہ دیا تھا۔ تاہم امریکی میڈیا، خصوصاً NBCنے
دعویٰ کیا کہ سعودی عرب نے ایران کے خلاف کارروائی کیلئے اپنی فضائی حدود اور اڈے
استعمال کرنے سے انکار کردیا تھا، جس کے بعد واشنگٹن کو قدم پیچھے ہٹانا پڑا۔
اس پر ایرانی پارلیمان کے اسپیکر محمد باقر
قالیباف نے طنزیہ انداز میں
X پر لکھا “Operation Trust Me Bro ناکام ہوگیا، اب معاملات ‘Operation Fauxios’ کے ساتھ معمول پر آرہے ہیں۔یعنی پہلے
“بھائی جان یقین کرو” والا آپریشن ناکام ہوا، اب “خبروں اور دعووں” کے ذریعے ماحول
بنایا جارہا ہے، Fauxios غالباً Fox News اور Axios کی طرف
اشارہ تھا۔ ایرانی قیادت کے بیانات طنز، اعتماد اور شگفتگی سے مزین نظر آتے ہیں جبکہ واشنگٹن کے بیانات میں غصہ اور اضطراب جھلک
رہا ہے۔ شکست خوردگی اکثر سب سے پہلے متانت اور شائستگی کو متاثر کرتی ہے۔
قطر،
پاکستان اور ممکنہ بڑا امن منصوبہ
اس دوران ایک اہم سفارتی پیشرفت بھی سامنے
آئی۔امریکی وزیرخارجہ مارکو روبیو اور صدر ٹرمپ کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکاف نے امریکی شہر میامی (Miami)میں قطری وزیراعظم محمد بن عبدالرحمان
الثانی سے ملاقات کی، جہاں ایران مذاکرات سمیت خطے
کی مجموعی صورتحال پر گفتگو ہوئی۔
بظاہر یہ ایک رسمی ملاقات تھی، مگر اس کے
پس منظر میں کہیں بڑی تصویر ابھرتی دکھائی دیتی ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ صدر
ٹرمپ، پاکستان کے ثالثی کردار کو برقرار رکھتے ہوئے قطر اور ایران کے تعلقات سے
فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں۔ دوحہ اس سے قبل غزہ، افغانستان اور ایران۔امریکہ قیدیوں
کے تبادلوں میں اہم کردار ادا کرچکا ہے۔ سفارتی حلقوں کے مطابق واشنگٹن اب ایک
ایسے جامع فریم ورک کی تلاش میں ہے جس میں غزہ، ایران، افغانستان اور خلیجی سلامتی
کے معاملات کو ایک بڑی مفاہمتی ترتیب میں سمویا جاسکے۔
امریکی حلقے یہ تاثر دے رہے ہیں کہ ایران
کی خاموشی اندرونی اختلافات کا نتیجہ ہے، مگر بظاہر ایسا لگتا ہے کہ تہران خود کو
میدان اور میز، دونوں جگہ نسبتاً بہتر پوزیشن میں محسوس کررہا ہے اور تنازعے کا
اختتام اپنی شرائط کے قریب تر چاہتا ہے۔
جنگی
جرائم کا خوف اور فوجی قیادت کو پیغام
واشنگٹن میں ایک اور دلچسپ بحث بھی جنم لے
رہی ہے۔ امریکی سینیٹ کے 12 ڈیموکریٹ ارکان نے اسرائیلی فوج کی جانب سے ایران اور
لبنان میں بڑے پیمانے پر
“Mass Evacuation Orders” پر
تشویش ظاہر کرتے ہوئے براہِ راست امریکی مرکزی کمان CENTCOM کے سربراہ امیر البحر (ایڈمرل) بریڈ کوپر
کو خط لکھا ہے۔
اہم بات یہ ہے کہ یہ خط صدر، وزیرِ جنگ یا
وزیرِ خارجہ کو نہیں بلکہ براہِ راست فوجی کمانڈر کو بھیجا گیا۔ بعض مبصرین کے
مطابق اس کا مقصد عسکری قیادت کو یہ باور کرانا ہے کہ “صرف احکامات کی تعمیل”
مستقبل میں قانونی یا اخلاقی ذمہ داری سے بری الذمہ ہونے کیلئے کافی نہیں ہوگی۔ یہ
پیشرفت اس امر کی علامت ہے کہ واشنگٹن میں پہلی بار یہ خوف سنجیدگی سے محسوس کیا
جارہا ہے کہ اگر کل جنگی جرائم کے سوالات اٹھے تو تاریخ صرف سیاسی قیادت ہی نہیں
بلکہ فوجی کمان سے بھی جواب طلب کرسکتی ہے۔
اوباما
کا اعتراف اور امریکی سیاست پر اسرائیلی اثر
امریکی حکومت کے فیصلوں پر اسرائیلی حکومت کس قدر اثر انداز ہوتی
ہے ہے۔ اسکا اندازہ سابق صدر بارک حسین اوبابا کے ایک بیان سے ہوتا ہے۔ امریکی
جریدے The New Yorkerکو
انٹرویو دیتے ہوئے انھوں نے انکشاف کیا کہ اسرائیلی
وزیرِ اعظم بن یامین نیتن یاہو نے ایک دہائی قبل انہیں بھی ایران پر حملے کیلئے
قائل کرنے کی کوشش کی تھی۔انکا خیال ہے کہ اسرائیلی وزیراعظم نے ایران کے خلاف جنگ
شروع کرنے کیلئے صدر ٹرمپ کو انھیں دلائل سے آمادہ کیا جو نیتن یاہو نے انھیں پیش کئے تھے۔جناب اوباما
کو اس بات پر شدید تحفظات تھے کہ ایران کے خلاف فوجی کارروائی مؤثر ثابت ہوگی، اور
ان کے بقول وقت نے ان کے اس تجزیے کو درست ثابت کیا۔ سابق
امریکی صدر نے یہ اہم سوال بھی اٹھایا کہ آیا ایسی پالیسی امریکہ اور اس کے عوام
کے مفاد میں ہے یا نہیں۔ یہ سوال صرف امریکہ کیلئے نہیں بلکہ پوری دنیا کیلئے اہم
ہے، کیونکہ جب عالمی طاقتوں کے فیصلے جنگ اور امن کے بجائے سیاسی دباؤ اور مفادات
کے تابع ہوجائیں تو اس کی قیمت ہمیشہ عام انسان ادا کرتا ہے۔
ایران اور امریکہ کی یہ کشمکش اب صرف عسکری
یا جغرافیائی تنازع نہیں رہی، بلکہ یہ اعصاب، برداشت، معیشت اور بیانئے کی جنگ بن
چکی ہے۔ صدر ٹرمپ ایک ساتھ دو راستوں پر چلتے دکھائی دیتے ہیں؛ ایک طرف دھمکیاں،
بحری ناکہ بندی اور فوجی دباؤ، دوسری طرف پسِ پردہ سفارتکاری، ثالثی اور مفاہمت کی
کوششیں۔دیکھنا ہے کہ کون زیادہ دیر اعصاب قابو میں رہ کر کھڑا رہ سکتا ہے۔
ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل کراچی 15 مئی 2026
ہفت روزہ
دعوت دہلی 15 مئی 2026
ہفت روزہ رہبر سرینگر 17 مئی 2026