Thursday, November 5, 2026

 

ووٹ اور بارود کے درمیان عشرہ انتخابات

برازیل، اسرائیل اور امریکہ کے انتخابی معرکے؛ جمہوری عمل پر جنگی سیاست کے سائے

اتوار 25 اکتوبر سے 3 نومبر تک کے دس دنوں کو بجا طور پر ’’عشرۂ انتخابات‘‘ کہا جا سکتا ہے۔ اس عرصے میں لاطینی امریکہ کی سب سے بڑی معیشت،  برازیل میں صدارتی انتخاب کا فیصلہ کن مرحلہ مکمل ہوا، اسرائیل میں پارلیمانی انتخابات ہوئے اور امریکہ میں وسط مدتی انتخابات کی مہم اپنے عروج پر پہنچ گئی۔ بظاہر یہ تین الگ ملکوں کے انتخابی معرکے ہیں، لیکن ان کے پس منظر میں عالمی سیاست، مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی اور جنگ کے امکانات نمایاں رہے۔

برازیل: فلسطین کے حامی لولا کی کامیابی

برازیل میں 25 اکتوبر کو صدارتی انتخابات کا دوسرا اور فیصلہ کن مرحلہ مکمل ہوا، جس میں فلسطینی ریاست کے حامی صدر لوئیز اناسِیو لولا دا سلوا (Luiz Inácio Lula da Silva) چوتھی صدارتی مدت کے لیے منتخب ہوگئے۔ چار اکتوبر کو ہونے والے پہلے مرحلے میں لبرل پارٹی (PL) کے فلاویو بولسونارو (Flávio Bolsonaro) 47.03 فیصد ووٹوں کے ساتھ پہلے نمبر پر آئے تھے، جبکہ صدر لولا کو 45.16 فیصد ووٹ ملے تھے۔ چونکہ کوئی امیدوار مطلوبہ اکثریت حاصل نہ کرسکا، اس لیے دونوں کے درمیان براہِ راست مقابلہ ہوا، جس میں لولا نے 51.79 فیصد ووٹ لے کر کامیابی حاصل کی۔

ٹرمپ اور بولسونارو خاندان کی قربت

فلاویو بولسونارو سابق صدر جائر بولسونارو کے صاحبزادے ہیں، جنہیں ڈونلڈ ٹرمپ کا سیاسی حلیف سمجھا جاتا ہے۔ ٹرمپ نے جائر بولسونارو کے خلاف عدالتی کارروائی پر سخت اعتراض کیا تھا اور ان کے خلاف مقدمے کو ’’وِچ ہنٹ‘‘ (Witch Hunt) یعنی سیاسی انتقام قرار دیتے ہوئے برازیل پر بھاری درآمدی محصولات بھی عائد کیے تھے۔ لولا کی کامیابی کے اگلے ہی روز ٹرمپ نے، کسی قابلِ تصدیق ثبوت کے بغیر، برازیل کے انتخاب کو ’’دھاندلی زدہ‘‘ قرار دے دیا۔

فلسطین کے لئے ایک اہم سفارتی آواز

صدر لولا نے غزہ کی جنگ میں اسرائیلی حکومت کی پالیسیوں پر سخت تنقید کی، فلسطینیوں کے حقِ خود ارادیت اور آزاد فلسطینی ریاست کی حمایت کی اور برازیل کی خارجہ پالیسی میں فلسطین کے مسئلے کو نمایاں رکھا۔ کولمبیا میں  فلسطین کے حامی امیدوار ایوان سیپیڈا (Iván Cepeda) جون کے صدارتی انتخاب میں شکست کھا چکے ہیں۔ ایسے ماحول میں لولا کی کامیابی سے فلسطینیوں کو عالمی سطح پر ایک اہم سفارتی حامی میسر رہے گا۔

اسرائیل: انتخابی مہم میں ایران کا خطرہ

دو دن بعد، 27 اکتوبر کو اسرائیل میں پارلیمانی انتخابات ہوئے۔ وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو کی انتخابی مہم میں ایران کے ساتھ کشیدگی اور جنگی بیانیہ نمایاں رہا۔ تل ابیب اور دوسرے بڑے شہروں میں ان کے انتخابی بل بورڈوں پر عبرانی زبان میں لکھا تھا: ’’ہمارے پاس جیتنے کا ایک ہی موقع ہے!‘‘ ان کے ساتھ نیتن یاہو اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تصاویر، اسرائیلی پرچم اور جنگی طیارے دکھائے گئے۔ اس تشہیری مہم کا تاثر یہ تھا کہ عسکری قوت اور ٹرمپ سے قربت ہی اسرائیل کو ایران کے خلاف فتح دلا سکتی ہے۔

ایران: انتخابی سیاست کا مرکزی موضوع

نیتن یاہو اور ٹرمپ دونوں نے انتخابی مہم کے دوران ایران کے جوہری پروگرام کو اپنی کامیابی کے طور پر پیش کیا۔ نیتن یاہو نے ایرانی جوہری خطرے کو اسرائیلی ووٹروں کی حمایت حاصل کرنے کے لیے استعمال کیا۔ انہوں نے تل ابیب پر ایرانی جوہری حملے کی ایک تخیلاتی تصویر بھی ٹویٹر پر شائع کی۔ ان کے پیغام کا خلاصہ یہ تھا کہ ایران کا جوہری خطرہ باقی تمام سیاسی تنازعات سے بڑا ہے اور ٹرمپ کے اقتدار کے باقی دو سال اسرائیل کے لئے اس خطرے کے خاتمے کا تاریخی موقع ہیں۔ گویا نیتن یاہو کی مخالفت کرنے والے ووٹر اسرائیل کی بقا کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔ دوسری طرف ٹرمپ ایران کے جوہری پروگرام کو تباہ یا غیر مؤثر بنانے کا کریڈٹ لیتے ہوئے یہ تاثر دے رہے تھے کہ اس کامیابی کے مقابلے میں موجودہ مہنگائی کی قیمت معمولی ہے۔ یوں ٹرمپ اپنی فوجی کامیابی کا دعویٰ کرکے امریکی ووٹروں کو متاثر کرنا چاہتے تھے، جبکہ نیتن یاہو ایرانی خطرے کو اپنی قیادت کے حق میں دلیل بنا رہے تھے۔

واشنگٹن: انتخابات کے بعد نئی جنگ کا خدشہ

امریکہ میں 3 نومبر کو وسط مدتی انتخابات (Midterm Elections) ہوئے۔ انتخابی مہم کے دوران صدر ٹرمپ نے کبھی مبہم اور کبھی واضح انداز میں اشارہ دیا کہ ووٹنگ کے بعد ایران کے خلاف ایک مختصر مگر شدید فوجی کارروائی ہوسکتی ہے، جس میں عسکری اہداف کے ساتھ توانائی کی تنصیبات بھی نشانہ بن سکتی ہیں۔ صدر نے ایک موقع پر کہا کہ امریکہ ایران کے باقی ماندہ ایک یا دو اہم اہداف کو چند منٹوں میں نشانہ بنا سکتا ہے۔ نیتن یاہو کے بیانات سے بھی یہی تاثر ملتا ہے کہ کسی نئی کارروائی میں اسرائیل امریکہ کے شانہ بشانہ ہوگا۔

امریکی سینیٹر کی تشویش

انتخابی مہم کے بعد ایران پر حملے کے امکان کو محض قیاس آرائی سمجھنا درست نہیں۔ امریکی سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کے رکن کرس مرفی (Chris Murphy) نے 28 اکتوبر کو انکشاف کیا کہ بعض سینیٹروں کو ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی کے منصوبے پر تفصیلی بریفنگ دی گئی ہے۔ مرفی نے اس منصوبے پر سخت تشویش ظاہر کرتے ہوئے خبردار کیا کہ ایسی کارروائی جنگ کو مزید پھیلا اور طویل کرسکتی ہے۔ ان کا بیان اس امر کا اشارہ ہے کہ واشنگٹن میں نئی فوجی کارروائی کے امکانات پر سنجیدہ غور جاری ہے، اگرچہ صدر ٹرمپ نے ابھی حتمی فیصلہ نہیں کیا۔

تہران کا جواب: اگلی جنگ زیادہ طویل ہوسکتی ہے

امریکی دھمکیوں کے جواب میں ایرانی فوج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل محمد اکرم نیا (Mohammad Akraminia) نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکہ نے دوبارہ جنگ مسلط کی تو یہ گزشتہ معرکے سے بھی زیادہ طویل ہوسکتی ہے۔ ان کے بقول جنگ کے دورانیے اور اختتام کی شرائط کا فیصلہ صدر ٹرمپ نہیں کرسکیں گے۔ اس سے ایک روز قبل ایران کے رہبرِ معظم آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای نے بھی فوجی قیادت کو ہدایت کی تھی کہ کسی نئے امریکی یا اسرائیلی حملے کی صورت میں جواب جغرافیائی حدود تک محدود نہ رکھا جائے اور امریکی و اسرائیلی اہداف کے دائرے کو وسیع کیا جائے۔ یہ بیانات خطے میں ممکنہ نئے تصادم کے خطرے کی شدت ظاہر کرتے ہیں، اگرچہ دھمکیوں کو حقیقی عسکری صلاحیت کا مکمل پیمانہ نہیں سمجھنا چاہیے۔

دوحہ: سفارت کاری کا دروازہ ابھی کھلا ہے

جنگی دھمکیوں کے متوازی سفارتی محاذ پر بھی مثبت پیش رفت جاری ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سفارت کاری کا راستہ کھلا رکھنے کی بات کر رہے ہیں، جبکہ ان کے امریکی ہم منصب مارکو روبیو نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے ابھی نئے حملوں کا فیصلہ نہیں کیا اورسفارتی حل امریکہ کی ترجیح ہے۔ رائٹرز کے مطابق ایرانی مذاکرات کار 31 اکتوبر کو دوحہ میں قطری ثالثوں سے ملے، جہاں جنگ بندی اور تنازعے کے خاتمے کے امکانات پر بات ہوئی۔ اس سے پہلے قطری وفد تہران میں ایرانی حکام سے بارہ گھنٹے سے زیادہ مذاکرات کرچکا تھا اور واشنگٹن سے بھی مسلسل رابطے میں تھا۔ امریکہ چاہتا ہے کہ ایران کا جوہری پروگرام ابتدا ہی سے مذاکرات کا حصہ ہو، جبکہ تہران کا اصرار ہے کہ پہلے امریکی بحری ناکہ بندی ختم اور ایرانی تیل کی برآمدات پر پابندیاں اٹھائی جائیں۔ اختلافات گہرے ضرور ہیں، لیکن مذاکرات کا جاری رہنا امید کا ایک اہم پہلو ہے۔

اسرائیل میں بھی نئی جنگ پر اختلاف

اسرائیلی انتخابات کے بعد ایران کے خلاف ممکنہ نئی کارروائی پر داخلی اختلاف بھی نمایاں ہونے لگا ہے۔ حزبِ اختلاف کی جماعت ڈیموکریٹس کے سربراہ یائر گولان (Yair Golan) نے خبردار کیا ہے کہ ایران کے ساتھ ایک اور فوجی تصادم کا امکان بڑھ رہا ہے، لیکن نیتن یاہو کے پاس ایسی جنگ کی قیادت کے لیے مطلوبہ عوامی اعتماد، اخلاقی جواز اور بنیادی صلاحیت موجود نہیں۔ گولان کے مطابق اسرائیل ایران کے ساتھ بار بار فوجی تصادم کے ایک ایسے سلسلے میں داخل ہوچکا ہے جو نیتن یاہو کی ناکامی کو نمایاں کرتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اسرائیل کی سلامتی کو وزیراعظم کی سیاسی بقا کی جدوجہد کا ذریعہ نہیں بننا چاہیے۔ یہ بیان ظاہر کرتا ہے کہ ایران پالیسی پر اختلاف صرف اسرائیل اور اس کے بیرونی ناقدین کے درمیان نہیں، خود اسرائیلی سیاسی قیادت میں بھی موجود ہے۔

مکہ دفاعی معاہدہ: خطے میں مکالمے کی کوشش

اسی پس منظر میں مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے رکن ممالک کے اعلیٰ عہدیداروں اور ایرانی قیادت کی ملاقات بھی خاصی اہمیت رکھتی ہے۔ 26 اکتوبر کو تہران میں ہونے والی اس ملاقات میں سعودی وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان، پاکستان کے فیلڈ مارشل عاصم منیر اور ترکیہ کے سربراہِ قومی سراغرسانی ابراہیم قالن نے شرکت کی۔ ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزیشکیان اور قومی سلامتی کونسل کے سربراہ محسن رضائی سے بھی بات چیت ہوئی۔ ایرانی صدر نے اس ملاقات کو حوصلہ افزا قرار دیتے ہوئے کہا کہ برادر ممالک کے درمیان علاقائی سلامتی اور تعاون پر نتیجہ خیز گفتگو ہوئی۔ اس پیش رفت کا مثبت پہلو یہ ہے کہ سعودی عرب کے دفاع کے لیے قائم ہونے والا یہ تعاون ایران کے ساتھ براہِ راست مکالمے اور کشیدگی کم کرنے کی کوشش بھی کر رہا ہے۔ یمن میں حوثی تنازعے اور ایران سعودی کشیدگی کو مزید پھیلنے سے روکنا پورے خطے کے مفاد میں ہے۔ امریکہ ایران کشیدگی کے تناظر میں یہ علاقائی سفارت کاری خصوصی اہمیت اختیار کرگئی ہے۔

ووٹ کی خوشبو اور بارود کا تعفن

منصفانہ، آزادانہ، غیر جانب دار اور شفاف انتخابات مہذب معاشروں کی باوقار اور قابلِ فخر سرگرمی ہیں، جن کے ذریعے شہری حقِ حکمرانی کی تجدید یا تبدیلی کا فیصلہ bloodکے بجائے Ballot سے کرتے ہیں۔ برازیل اور اسرائیل دونوں میں عوامی شرکت نمایاں رہی۔ برازیل میں ووٹ ڈالنے کا تناسب تقریباً 80.8 فیصد اور اسرائیل میں 77.9 فیصد رہا۔ امریکہ میں بھی انتخابی جوش و خروش دیدنی ہے۔ 29 اکتوبر تک تین کروڑ نوے لاکھ سے زیادہ امریکی قبل از وقت یا ڈاک کے ذریعے ووٹ ڈال چکے تھے۔ ٹیکساس میں ہم نے خود وہیل چیئر پر بیٹھے درجنوں بیمار اور ضعیف افراد کو ووٹ ڈالتے دیکھا، جن کے ساتھ آکسیجن سلنڈر بھی تھے۔ یہ منظر جمہوری عمل میں شہریوں کی شرکت اور اپنے حقِ رائے دہی کے استعمال کے عزم کی یاد دہانی ہے۔ امریکی انتخابات کے نتائج کچھ بھی ہوں، انتخابی عمل میں عوام کی اس کثرت سے شرکت جمہوریت کے لیے خوش آئند ہے۔ لیکن افسوس کہ بیلٹ پیپر کی خوشبوئے جانفزا کے پس منظر میں بارود کا تعفن اس کی مسرت کو گہنا رہا ہے۔ برازیل، اسرائیل اور امریکہ کے انتخابی مناظر ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ جمہوریت کا اصل حسن عوام کے حقِ انتخاب میں ہے، جبکہ جنگی سیاست اس حق کے ثمرات کو خوف، عدم تحفظ اور تباہی میں بدل سکتی ہے۔ دنیا کو اس وقت انتخابی نعروں سے زیادہ ایسے سیاسی فیصلوں کی ضرورت ہے جو عوام کے ووٹ کا احترام کریں اور انہیں ایک اور جنگ کی قیمت ادا کرنے پر مجبور نہ کریں۔

ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل کراچی 6 نومبر 2026


 

اسرائیلی انتخابات: عرب ووٹ سے خوف یا جمہوریت کا امتحان؟

نیتن یاہو کے اقتدار کی کشمکش، حکومت سازی کے تین راستے اور عرب جماعتوں کی تاریخی پیش رفت

اسرائیل کے حالیہ انتخابات نے ایک بار پھر ثابت کیا ہے کہ جمہوریت کا اصل امتحان صرف ووٹ گننے اور نشستیں تقسیم کرنے میں نہیں، بلکہ انتخابی نتائج کو تسلیم کرنے اور ان کے سیاسی تقاضے قبول کرنے میں ہوتا ہے۔ وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے حامی اتحاد کو 53 نشستیں ملیں، جبکہ ان کے مخالفین 48 اور عرب قیادت والی جماعتیں مجموعی طور پر 19 نشستیں حاصل کرنے میں کامیاب ہوئیں۔ یوں 120 رکنی کنیسہ (پارلیمان) میں حکومت سازی کے لیے درکار 61 نشستوں کی اکثریت کسی ایک سیاسی اکائی کو حاصل نہیں ہوئی۔عرب جماعتیں پہلی بار اس قدر مضبوط پارلیمانی حیثیت میں سامنے آئی ہیں کہ ان کی حمایت کے بغیر نیتن یاہو مخالف جماعتوں کے لیے حکومت بنانا مشکل ہے۔

متناسب نمائندگی: ووٹ کی طاقت اور انتخابی نظام

اسرائیل کے انتخابی نظام کا اجمالی تعارف قارئین کے لئے دلچسپی کا باعث ہو سکتا ہے۔ یہاں کنیسہ کے انتخابات متناسب نمائندگی (Proportional Representation) کے اصول پر ہوتے ہیں۔ ملک کو انفرادی انتخابی حلقوں میں تقسیم کرکے ہر حلقے سے ایک رکن منتخب کرنے کے بجائے، پورا ملک ایک واحد انتخابی حلقہ شمار ہوتا ہے اور ووٹر کسی امیدوار کے بجائے سیاسی جماعت کو ووٹ دیتے ہیں۔ جماعتوں کو ملک بھر میں حاصل ہونے والے ووٹوں کے تناسب سے پارلیمان میں نشستیں ملتی ہیں، البتہ 3.25 فیصد سے کم ووٹ لینے والی جماعتیں پارلیمانی نمائندگی سے محروم رہتی ہیں۔ اس نظام کا اہم فائدہ یہ ہے کہ کسی حلقے میں دوسرے نمبر پر آنے والی جماعت کے ووٹ مکمل طور پر بے اثر نہیں ہوتے، ملک بھر میں حاصل ہونے والی حمایت پارلیمانی نشستوں میں تبدیل ہو سکتی ہے۔ پاکستان اور ہندوستان میں اس کے برعکس قومی اسمبلی یا لوک سبھا کے بیشتر عام انتخابات میں ہر حلقے سے سب سے زیادہ ووٹ لینے والا امیدوار کامیاب قرار پاتا ہے۔ چنانچہ کسی جماعت کو ملک بھر میں خاصے ووٹ ملنے کے باوجود، اگر وہ مختلف حلقوں میں دوسرے نمبر پر رہے تو ان ووٹوں کے تناسب سے نشستیں نہیں ملتیں۔

اسرائیل کے عرب شہری اور ان کا سیاسی وزن

اسرائیل کی آبادی کا تقریباً پانچواں حصہ فلسطینی نژاد عرب شہریوں پر مشتمل ہے، جن میں مسلمان، عیسائی اور دروز شامل ہیں۔ قانونی طور پر انہیں ووٹ ڈالنے، سیاسی جماعتیں بنانے، پارلیمان کا رکن منتخب ہونے اور دیگر شہری سرگرمیوں میں حصہ لینے کے حقوق حاصل ہیں۔ تاہم 2018 کے بنیادی قانون (Nation-State Law) نے قومی حقِ خودارادیت کو یہودی عوام کے ساتھ مخصوص کیا، جس سے عرب شہریوں کے مساوی قومی تشخص کا سوال مزید نمایاں ہوا۔ ایک اہم تضاد یہ بھی ہے کہ غربِ اردن کی اسرائیلی قبضہ بستیوں میں رہنے والے اسرائیلی شہری کنیسہ کے انتخابات میں ووٹ دے سکتے ہیں، جبکہ ان کے قریب رہنے والے فلسطینیوں کو یہ حق حاصل نہیں۔

اہم عرب سیاسی جماعتیں

رَعَم (Ra’am) عرب شہریوں کے مسائل اور اسرائیلی پارلیمانی سیاست میں عملی شرکت پر توجہ دیتی ہے۔ اس کا تعلق جنوبی اسلامی تحریک سے ہے اور 2021 میں یہ نفتالی بینیٹ اور یائیر لاپید کی مخلوط حکومت میں شامل ہوئی تھی۔ حَدَاش (Hadash) بائیں بازو کا یہودی عرب مشترکہ سیاسی اتحاد ہے، جبکہ تَعال (Ta’al) احمد طیبی کی قیادت میں عرب سیاسی جماعت ہے۔ بَلَد (Balad) فلسطینی عرب قومی شناخت اور شہری مساوات پر زور دیتی ہے۔ ان جماعتوں کی سیاسی ترجیحات ایک جیسی نہیں؛ بعض اسرائیلی حکومتوں میں شامل ہوکر عرب آبادی کے مسائل حل کرنے کی حامی ہیں، جبکہ دوسری فلسطینی قومی حقوق اور اسرائیل کی ریاستی شناخت سے متعلق بنیادی سوالات اٹھاتی ہیں۔ اس انتخاب میں رَعَم کے سوا باقی تین عرب جماعتوں نے قائمہ المشترکہ (Joint List) کے بینر تلے حصہ لیا۔ اس اتحاد نے 11 اور رَعَم نے 8 نشستیں حاصل کیں۔ یوں عرب جماعتوں کی مجموعی نمائندگی 19 نشستوں تک پہنچ گئی، جو ان کے لئے ایک تاریخی کامیابی ہے۔

عرب جماعتیں: انتخابی حاشیے سے فیصلہ کن مقام تک

انتخابی کامیابی کے بعد جوائنٹ لسٹ کے سربراہ یوسف جبارین نے اعلان کیا کہ ان کی جماعت نیتن یاہو حکومت کے خاتمے کے لیے سیاسی تعاون پر آمادہ ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ عرب شہریوں نے اس انتخاب کو اپنی سیاسی بقا اور مستقبل کا معاملہ سمجھ کر ووٹ دیا۔ تاہم جبارین نے واضح کیا ہے کہ تعاون کے لیے سیاسی مفاہمت اور باہمی احترام ضروری ہے۔ وہ عرب جماعتوں سے متعلق شکوک و شبہات اور ان کے ووٹ کو مشکوک بنانے کی کوششوں کو خطرناک سیاسی مہم قرار دیتے ہیں۔

جبارین نے چینل 12 کو انٹرویو میں کہا کہ ان کی جماعت 7 اکتوبر 2023 کو غزہ کے سرحدی اسرائیلی آبادیوں میں ہونے والے قتلِ عام کی مذمت کر چکی ہے۔ تاہم جب ان سے فلسطینی مزاحمتی تنظیم کو دہشت گرد قرار دینے کے بارے میں براہِ راست سوال کیا گیا تو انہوں نے یہ مطالبہ قبول نہیں کیا اور کہا کہ فلسطینی سیاسی تحریکوں کو دہشت گرد کہنا درست نہیں۔ اس موقف سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت مخالف یہودی جماعتوں اور عرب قیادت کے درمیان تعاون کی راہ ہموار نہیں ۔

یائر گولان: عرب ووٹ بھی یہودی ووٹ کے برابر ہے

اسرائیلی بائیں بازو کی جماعت ڈیموکریٹس کے سربراہ یائر گولان نے حکومت مخالف جماعتوں سے مطالبہ کیا ہے کہ عرب جماعتوں کو سیاسی عمل سے الگ رکھنے کے بجائے ان کے ساتھ حکومت سازی کے امکان پر غور کیا جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ جمہوری اسرائیل میں کوئی شہری دوسرے درجے کا نہیں۔ عرب علاقوں سخنین یا رہط میں ووٹ ڈالنے والے شہری کا ووٹ تل ابیب یا سدروت میں ووٹ ڈالنے والے یہودی شہری کے ووٹ کے برابر ہے۔ گولان نے کہا کہ جو لوگ صبح جمہوریت کے دفاع کی بات کرتے ہیں، وہ شام کو لاکھوں شہریوں کے ووٹ کو ان کے نام یا نسلی پس منظر کی بنیاد پر مسترد نہیں کر سکتے۔

اسی سلسلے میں گولان نے یائیر لاپید اور رَعَم کے سربراہ منصور عباس سے الگ الگ ملاقاتیں بھی کیں۔ یہ ملاقاتیں نیتن یاہو کی حکومت کا متبادل تلاش کرنے کے لیے سیاسی رابطوں کا حصہ ہیں۔ تاہم گولان کے اس مؤقف کو ابھی حزب اختلاف کی تمام جماعتوں کی حمایت حاصل نہیں۔ گادی آئزنکوٹ، نفتالی بینیٹ اور ایوگدور لیبرمین سمیت بعض اہم رہنماؤں نے عرب جماعتوں کو حکومتی اتحاد میں شامل کرنے یا ان پر انحصار کرنے کے بارے میں تحفظات ظاہر کئےہیں۔ منصور عباس نے بھی تسلیم کیا ہے کہ عرب ارکان کی حمایت سے اقلیتی حکومت بنانا آسان نہیں ہوگا۔

تل ابیب کا بل بورڈ: 67 نشستوں نے تبدیلی کا انتخاب کیا

تل ابیب میں انتخابی نتائج کے بعد لگائے گئے ایک بل بورڈ پر لکھا ہے: ’’67 نشستوں کے ووٹروں نے تبدیلی کا انتخاب کیا‘‘ اور اس کے نیچے درج ہے: ’’عوام کی اکثریت نے نیتن یاہو کو ہٹانے کا فیصلہ کیا ہے۔‘‘ اس کا اشارہ اس حقیقت کی طرف ہے کہ نیتن یاہو کے 53 کے مقابلے میں حکومت مخالف اور عرب جماعتوں نے مجموعی طور پر 67 نشستیں حاصل کی ہیں۔ یہ بل بورڈ دراصل ایک سیاسی پیغام ہے کہ اکثریت کو حکومت سازی کا حق ملنا چاہیے اور منتخب عرب نمائندوں کے لیے ایوانِ اقتدار کے دروازے بند نہیں کیے جانے چاہییں۔

حکومت سازی کے تین ممکنہ راستے ۔ نیتن یاہو کی پانچوں انگلیاں گھی میں

پہلا راستہ یہ ہے کہ نیتن یاہو مخالف محاذ قائمہ المشترکہ کے تعاون سے حکومت قائم کرلے۔ اس صورت میں 67 نشستوں کی طاقت سے ایک مستحکم حکومت قائم ہوسکتی ہے۔ فی الحال حزبِ اختلاف 'اچھوتوں' کی طرف دیکھنے کی روادار نہیں۔ لیکن سیاست میں کوئی راستہ ہمیشہ کے لیے بند نہیں ہوتا۔

دوسرا راستہ قومی اتحاد کی حکومت ہے، جس میں نیتن یاہو اور ان کے مخالفین کی بعض جماعتیں مل کر حکومت چلائیں۔ لیکن اس کے لیئے وزارتِ عظمیٰ، کابینہ کی تشکیل اور مذہبی و انتہا پسند جماعتوں کے کردار پر اتفاق ضروری ہوگا۔ نیتن یاہو کے بعض مخالفین ان کی زیرِ قیادت  کام کرنے کو تیارنہیں۔،دوسری طرف دائیں بازو کے اتحادیوں کو چھوڑنا بھی نیتن یاہو کے لیے آسان نہیں ہوگا۔

تیسرا راستہ ایک اور انتخاب ہے۔ اگر سیاسی جماعتیں اپنے اختلافات کم نہ کر سکیں اور کوئی قابلِ عمل اتحاد سامنے نہ آئے تو اسرائیل کو دوبارہ انتخابات کی طرف جانا پڑ سکتا ہے۔ اس صورت میں نیتن یاہو نئی حکومت قائم ہونے تک نگران وزیراعظم کے طور پر برقرار رہ سکتے ہیں۔ پارلیمانی نظام میں نگراں حکومت کے اختیارات بہت محدود ہوتے ہیں لیکن ہنگامی صورتحال کی بناپر بطور نگراں وزیراعظم انھیں لامحدود اختیارات حاصل ہیں اور اسوقت انھیں کینیسہ کے احتساب کا بھی کوئی ڈر نہیں۔ گویا حکومت سازی میں تعطل نیتن یاہو کیلئے طول اقتدار کا نادر موقع بن گیا ہے۔ تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ نئے انتخاب کے نتائج حالیہ چناو سے بہت زیادہ مختلف نہیں ہونگے اور سیاسی تعطل برقرار رہیگا۔

جمہوریت کا اصل امتحان

اسرائیل کے حالیہ انتخابات نے عرب شہریوں کی سیاسی شرکت کو ایک اقلیتی مسئلے سے بڑھا کر حکومت سازی کا مرکزی سوال بنا دیا ہے۔ اگر عرب شہری اسرائیل کے قانونی انتخابی نظام کے تحت ووٹ دیتے ہیں، پارلیمان میں نمائندگی حاصل کرتے ہیں اور حکومت سازی میں حصہ لینا چاہتے ہیں تو محض عرب شناخت کی بنیاد پر ان کے سیاسی کردار کو مسترد کرنے کا جواز کیا ہے؟ کیا جمہوریت کا اصول صرف اسی وقت قابلِ قبول رہتا ہے جب انتخابی نتائج اکثریتی گروہ کی سیاسی ترجیحات کے مطابق ہوں؟ فلسطینیوں کے جائز حقوق کی حمایت اور ان کی قومی جدوجہد کے بارے میں اختلافِ رائے کو دہشت گردی کے لیبل میں سمیٹ دینا مسئلے کا حل نہیں۔ اسرائیل کے لیے اصل امتحان یہ ہے کہ وہ اپنے عرب شہریوں کو محض ووٹ ڈالنے کا حق دینے پر اکتفا کرتا ہے یا ان کے منتخب نمائندوں کو بھی اقتدار کی تشکیل میں جائز شریک تسلیم کرتا ہے۔ جمہوریت کی ساکھ کا فیصلہ نعروں سے نہیں، اسی عملی رویے سے ہوگا۔

ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل کراچی 6 نومبر 2026

ہفت روزہ دعوت دہلی 6 نومبر 2026

ہفت روزہ رہبر سرینگر 8 نومبر 2026


Thursday, October 29, 2026

 

فلسطین: خون، بھوک اور  شناخت کی جنگ

 نسلی تطہیر، زمین و روزگار پر حملے، امداد میں کمی

 اسرائیلی انتخابات میں فلسطین مخالف نعروں کی سیاست

غزہ میں خونریزی بدستور جاری ہے۔ اٹھارہ اکتوبر کو اسرائیلی فوج نے  صبح سویرے  المغزی کے علاقے میں ایک سات سالہ لڑکی مسک الدالو کو گولی ماردی اور کچھ ہی دیر بعد بیت لاہیہ میں ایک بچہ، تعمر صبوح ان درندوں کا نشانہ بنا۔گویا ایک ہی دن میں دو معصوم بچوں کا خون بہہ گیا۔عینی شاہدین کے مطابق، دونوں بچوں کو قریب سے گولی ماری گئی۔ اسکے دودن بعد نصیرات خیمہ بستی پر بمباری میں ایک، 21 اکتوبر کو غزہ شہر میں ایک اور پھر 25 اکتوبر کو مزید ایک فلسطینی اپنی جان سے گیا۔نام نہاد جنگ بندی کے باوجود غزہ میں فلسطینیوں کا قتل عام جاری ہے ۔

الخلیل کی نسلی تطہیر

غربِ اردن کے شہر الخلیل (ہیبرون) میں 23 اکتوبر کو ایک فوجی چوکی پر فائرنگ سے دو اسرائیلی فوجی ہلاک اور تین زخمی ہوگئے۔ فوجی اعلامئے کے مطابق دونوں مبینہ حملہ آور ماردئے گئے لیکن تحقیق و تلاش کے نام پر سارا غرب اردن تادم تحریر محصور ہے اور اس ناکہ بندی یا لاک ڈاون کا حکم براہ راست وزیراعظم نیتن یاہو نے جاری کیا ہے۔ سڑکیں بند اور غیر اعلانیہ کرفیو لگاکر الخلیل میں غرب اردن کی نسلی تطہیر (Ethnic Cleansing) کا آغاز ہوچکا ہے۔ واقعے کے دوسرے دن تک  دوسو مکانات گراکر عورتوں اور چھوٹے بچوں سمیت 1500افراد اردنی سرحد کی طرف دھکیل دئے گئے۔ خیال ہے کہ اگلے چند دنوں  میں مزید تین سو مکانات منہدم کردئے جائینگے اور اسکے نتیجے میں ہزاروں افراد بے گھر ہونگے۔

بھوک کا پھیلتا بحران اور اقوامِ متحدہ کے وسائل میں کمی

الجزیرہ کے مطابق، اقوامِ متحدہ کے عالمی غذائی پروگرام (WFP) نے فنڈز کی قلت کے باعث ستمبر سے غربِ اردن میں امداد حاصل کرنے والوں کی تعداد چار لاکھ سے گھٹا کر دو لاکھ کردی، جبکہ تقریباً نو لاکھ فلسطینی غذائی عدم تحفظ کا شکار ہیں۔ مسئلہ صرف خوراک کی کمی نہیں۔ گھر، روزگار اور معاش کے ذرائع سے محرومی نے بھی زندگی دشوار کردی ہے۔ اسرائیلی فوجی کارروائیوں سے خاندان بے گھر ہوئے، آبادکاروں کے حملوں سے کھیتوں اور زیتون کے باغات کو نقصان پہنچا، اور نقل و حرکت کی پابندیوں نے ہزاروں فلسطینی مزدوروں کے روزگار کو متاثر کیا۔

غزہ میں بھوک سے نڈھال بچوں کی تصویریں دیکھنے کی دنیا عادی ہوچکی ہے اور اب غربِ اردن میں بھی غذائی بحران سنگین صورت اختیار کررہا ہے۔ نقل و حرکت اور امدادی تنظیموں کے کام میں رکاوٹوں کی اطلاعات اپنی جگہ، لیکن WFP نے حالیہ امدادی کٹوتی کی براہِ راست وجہ فنڈز کی کمی بتائی ہے۔ سوال یہ ہے کہ خطے کے مال دار عرب اور اسلامی ممالک ہنگامی بنیادوں پر آگے کیوں نہیں آتے؟ کیا وہ عالمی غذائی پروگرام اور دوسری امدادی تنظیموں کو اضافی وسائل فراہم کرکے امداد بحال نہیں کراسکتے؟ فلسطینیوں کی حمایت کے اعلانات کرنے والی حکومتوں سے یہ سوال ضرور پوچھنا چاہیے۔ جب بے گھر خاندان روٹی خریدنے سے بھی محروم ہوں تو محض بیانات کافی نہیں۔

چار مسلم ممالک کا مشترکہ مؤقف اور عملی اقدامات کی ضرورت

اسی دوران استنبول میں سعودی عرب، ترکیہ، مصر اور پاکستان کے وزرائے خارجہ نے مشترکہ بیان میں کہا کہ اسرائیلی قبضہ مشرقِ وسطیٰ اور اس سے آگے عدم استحکام کا بنیادی سبب ہے۔ چاروں ممالک نے 1967ء سے پہلے کی سرحدوں کی بنیاد پر ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام اور مشرقی بیت المقدس کو اس کا دارالحکومت بنانے کے مؤقف کا اعادہ کیا۔وزرائے خارجہ نے غربِ اردن اور مشرقی بیت المقدس میں اسرائیلی قبضہ بستیوں کی توسیع روکنے، آبادکاروں کے حملے بند کرانے، غزہ میں انسانی امداد کی بلاتعطل فراہمی اور تعمیرِ نو تیز کرنے پر بھی زور دیا۔ یہ مطالبات اہم اور قابل تحسین ہیں،لیکن فلسطینیوں کو صرف ہمدردی کے الفاظ نہیں، خوراک، علاج، محفوظ پناہ گاہ اور اپنے گھروں کو واپس جانے کا حق بھی درکار ہے۔ عرب اور اسلامی ممالک کی سفارت کاری اسی وقت مؤثر ثابت ہوگی جب اس کے ساتھ انسانی امداد اور شہریوں کے تحفظ کے لئے ٹھوس اقدامات بھی دنیا کو نظر آئیں۔

زیتون کے بعد صبّار کے باغات بھی نشانے پر

غرب اردن اور جنوبی لبنان میں زیتون کے درخت اور باغات انتہاپسندوں کا خاص نشانہ ہیں۔ لیکن اب کانٹے دار صحرائی پودا ناک پھنی (عربی نام صبّار) بھی ان فسادیوں سے محفوظ نہیں۔ فلسطینی خبر رساں ایجنسی وفا کے مطابق قبضہ گردوں نے الخلیل کے قصبے خِربۃ صوبا  میں صبّار کے باغات پر  کام کرنے والے فلسطینی مزدوروں کو حملہ کرکے زخمی کردیا اور اسرائیلی فوج نے ایمبولینس کو زخمیوں تک پہنچنے سے روکا۔صبّار محض ایک کانٹے دار پودا نہیں۔ اس کے پھل خوراک اور تجارتی مصنوعات میں استعمال ہوتے ہیں، جبکہ اس کے بعض حصے مویشیوں کے چارے کے کام آتے ہیں۔ اس کی کاشت دیہی آبادی کے لئے آمدنی اور روزگار کا اہم ذریعہ ہے۔

صبّار: آبائی زمین اور فلسطینی شناخت کی علامت

فلسطینی معاشرے میں صبّار کی اہمیت معاشی فوائد سے کہیں آگے ہے۔ یہ دیہی زندگی، آبائی زمین اور ثابت قدمی کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ گھروں اور کھیتوں کی حدبندی کے لیے صبّار کی کانٹے دار باڑھیں لگائی جاتی ھیں۔ بعض مقامات پر آج بھی یہ پودے ان زمینوں کی یاد دلاتے ہیں جن سے فلسطینی خاندان بے دخل ہوئے یا جن سے ان کا روایتی تعلق چھن گیا۔ اسی تاریخی پس منظر میں صبّار فلسطینیوں کی اپنے وطن سے وابستگی اور واپسی کی امید کی علامت بھی بن گیا ہے۔ زیتون ہو یا صبّار، فلسطینیوں کی زمین اور اس سے وابستہ معاش ان کی زندگی اور شناخت کا حصہ ہیں جنھیں مٹانے کی منظم کوششیں کی جارہی ہیں۔

اسرائیلی انتخابات: ’’یمین یا فلسطین‘‘ کا نعرہ

جب قارئین یہ سطور پڑھ رہے ہوں گے تو ممکن ہے اسوقت تک اسرائیلی انتخابات کے نتائج سامنے آچکے ہوں۔ ان انتخابات میں فلسطین،  حکمران و حزب اختلاف دونوں کا انتخابی نکتہ بنا ہوا ہے۔ غزہ اور غربِ اردن کی مکمل تباہی کے باوجود فلسطینی ریاست اسرائیلی رہنماوں کے سرپر سوار ہے اور اسے سیاسی خوف اور مخالفت کے تناظر میں پیش کیا جارہا ہے۔

نیتن یاہو کی انتخابی مہم کا نمایاں نعرہ ״ימין או פלסטין״  ’’یمین یا فلسطین‘‘، یعنی ’’دایاں بازو یا فلسطین‘‘ ہے۔ عربی کی طرح عبرانی میں بھی دائیں کو یمین کہتے ہیں۔اس نعرے کے ذریعے فلسطینی ریاست کے قیام کو دائیں بازو کے اقتدار کے مقابل ایک خطرے کے طور پر پیش کیا جارہا ہے۔ انتخابی جائزوں کے مطابق، فلسطین کا سوال ووٹروں کو متحرک کرنے اور سیاسی مخالفین کو گھیرنے کی حکمتِ عملی کا حصہ بن چکا ہے۔

نوجوان نسل اور فلسطین مخالف سیاست

دنیا بھر میں نوجوان نسل جسے عموماً جنریشن زی (Gen Z) کہا جاتا ہے، انتہاپسندی کے بجائے انصاف، مساوات، شہری حقوق اور مذہبی رواداری کے لیے آواز اٹھا رہی ہے  لیکن حالیہ جائزے کے مطابق اسرائیلیGen Z فلسطینیوں سے شدید نفرت میں مبتلا ہیں۔ چنانچہ نیتن یاہو اور انکے مذہبی اتحادیوں نے آنے والے انتخابات میں ساری توقعات اپنے نوجوانوں سے باندھ رکھی ہیں۔ اسی لئے 'یمین یمین نہ کہ فلسطین' اسرائیل میں مقبول انتخابی نعرہ ہے

ٹرمپ کی حمایت اور مذہبی شناخت کا سوال

اسرائیلی انتخابات سے چند روز پہلے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نیتن یاہو المعروف بی بی کی کھل کر حمایت کی۔ اپنے بیان میں انہوں نے بی بی کو ’’عظیم جنگجو وزیراعظم‘‘ اور ایران کے خلاف جنگ میں ’’امن کا بڑا شراکت دار‘‘ قرار دیا۔ ٹرمپ نے یہ تاثر بھی دیا کہ ان انتخابات میں اگر نیتن یاہو شکست کھاگئے  تو ایران کے خلاف کارروائی کی ذمہ داری امریکہ کو اکیلے اٹھانا پڑسکتی ہے۔ قطع نظر اس بات سے کہ دوسرے ملک کے انتخابات میں امریکی صدر کی جانب سے کسی امیدوار کی حمائت کو ذاتی دوستی کا اظہار سمجھا جائے یا انتخابی عمل میں بیرونی مداخلت، بیان میں ٹرمپ کی زبان کا پہلو بھی قابلِ غور ہے۔ ایران کے خلاف بات کرتے ہوئے وہ بار بار اسے 'اسلامک' ریپبلک آف ایران کہتے ہیں حالانکہ عام گفتگو میں اکثر ممالک کو ان کے معروف مختصر ناموں سے پکارا جاتا ہے۔ جب یہ نام ایران کو فوجی دشمن کے طور پر پیش کرنے، اسلامی شناخت کو نمایاں کرنے اور مسلمانوں سے متعلق تضحیک آمیز بیانات کے ساتھ استعمال ہو تو اس سے صاف ظاہر ہے کہ ایرانی حکومت پر تنقید کے ساتھ مذہبی شناخت کو بھی عوامی ردعمل بھڑکانے کے لیے نمایاں کیا جارہا ہے۔ مشی گن میں سینیٹ کیلئے مسلمان امیدوار عبدالسید کے معاملے میں ٹرمپ کا رویہ اس بحث کو مزید اہم بناتا ہے۔ انہوں نے عبدل کو بار بار ’’محمد‘‘ کہہ کر پکارا، حالانکہ وہ عبدالسید کے نام سے معروف ہیں، اور کہا کہ وہ انہیں اپنی مرضی سے پکار سکتے ہیں۔یہ دراصل مسلمان شناخت کا مذاق اڑانے اور مذہبی تعصب کو سیاسی مہم میں استعمال کرنے کے مترادف ہے۔

غزہ کے بچوں کی ہلاکتیں، غربِ اردن میں بھوک اور بے گھری، زیتون اور صبّار کے باغات پر حملے اور انتخابی مہم میں فلسطینی ریاست کی مخالفت کو محض علاقائی کشیدگی کا شاخسانہ قرار دیکر نظر اندز نہیں کیا جاسکتا۔ اگر مسلم حکومتیں  فلسطینیوں کی پشت پناہ ہیں تو انہیں مذمتی بیانات سے آگے بڑھ کر شہریوں کے تحفظ، انسانی امداد کی فراہمی، قبضے کے خاتمے اور منصفانہ سیاسی حل کے لئے عملی اقدامات کرنا ہوں گے۔ تل ابیب کو بھی یہ بات سمجھ لینی چاہئے کہ فلسطینیوں کی زمین اور شناخت مٹانے کی کوششوں سے اسرائیل مضبوط ومحفوظ نہیں ہوگا۔ استحکام اور اطمینان و خوشحالی کا راستہ انصاف اور حقوق کے احترام سے ہی نکل سکتا ہے

ہفت روزہ دعوت دہلی 30 اکتوبر 2026

ہفت روزہ رہبر دہلی یکم نومبر 2026


 

لاہور سے پیرس ، دلی اور روم    ۔۔  عوامی غصے کی مشترک زبان

مہنگائی، جنگ، نجکاری، انتخابی شفافیت اور خراب طرزِ حکمرانی کے خلاف ابھرتی تحریکیں

فرانس میں مہنگائی، تعلیم اور عوامی خدمات سے متعلق پالیسیوں اور نجکاری کے خلاف احتجاج میں شدت آگئی ہے۔بعض منچلے ان مظاہروں کو ’’انقلابِ فرانس کا دوسرا ایڈیشن‘‘ قرار دے رہے ہیں۔ یہ درست کہ انقلاب محض نعروں سے برپا نہیں ہوتے۔ ان کے لئے مخصوص حالات، عوامی تنظیم، سیاسی قیادت اور نظام میں بنیادی تبدیلی کے عوامل بھی درکار ہوتے ہیں۔ لیکن ان نعروں میں عوامی بے چینی کی شدت ضرور جھلکتی ہے۔ جب لوگوں کو محسوس ہو کہ روزمرہ زندگی مسلسل مہنگی اور تعلیم و صحت سمیت بنیادی سہولتوں تک رسائی مشکل ہورہی ہے اور حکمران ان کے مسائل کو ترجیح نہیں دے رہے تو احتجاج محض وقتی غصے کے بجائے سیاسی نظام سے مایوسی کا اظہار بن جاتا ہے۔

البانیہ، اٹلی اور اسپین: مسائل مختلف، اضطراب مشترک

یورپ کے دوسرے ملکوں میں بھی عوامی احتجاج مختلف وجوہ سے جاری ہیں۔ کہیں بدعنوانی اور حکومتی طرزِ عمل پر سوال اٹھ رہے ہیں، کہیں روزگار اور اجرتوں کا مسئلہ ہے، اور کہیں نوجوانوں کے لئے رہائش کا حصول دشوار ہوتا جارہا ہے۔ ان تمام تحریکوں کو ایک ہی مقصد کے تحت چلنے والی مہم قرار دینا درست نہیں، لیکن ان میں ایک قدرِ مشترک ضرور دکھائی دیتی ہے۔ عام شہری محسوس کررہا ہے کہ معاشی ترقی کے باوجود اس کی زندگی زیادہ محفوظ، آسان اور باعزت نہیں ہورہی۔

جنگ کا خرچ کون اٹھارہا ہے؟

مشرقِ وسطیٰ میں جنگ اور کشیدگی نے عالمی معیشت، توانائی کی فراہمی اور تیل کی قیمتوں کے بارے میں خدشات کو بڑھایا ہے۔ ایندھن مہنگا ہو تو اس کے اثرات نقل و حمل، اشیائے خورونوش اور روزمرہ اخراجات تک پہنچتے ہیں۔ اسی لئے یورپ میں تقریباً ہر جگہ امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ ختم کرنے اور مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کم کرنے کے مطالبات بھی سنائی دیتے ہیں۔

فلسطین کے پرچم اور عالمی ضمیر

یورپ کے بعض مظاہروں میں فلسطینی پرچم بھی دکھائی دے رہےہیں۔ یہ منظر اس بات کی علامت ہے کہ مظاہرین اپنے مقامی مسائل کو عالمی سطح پر جنگ، قبضے اور انسانی حقوق کے سوالات سے جوڑ  رہے ہیں۔ ان کے نزدیک فلسطین کا مسئلہ محض ایک دور دراز خطے کا تنازع نہیں، بلکہ انصاف، شہری حقوق اور طاقت کے استعمال سے متعلق ایک وسیع تر سوال ہے۔ البتہ ہر ملک اور ہر مظاہرے کے مطالبات یکساں نہیں۔ کہیں فلسطین مرکزی موضوع ہے، کہیں معاشی مسائل اور کہیں بدعنوانی یا عوامی خدمات۔ اس فرق کے باوجود ایسا لگ رہا ہے کہ مغرب میں جنگ کے خاتمے، فلسطینیوں کے حقوق اور انسانی جانوں کے تحفظ کے لئے آوازیں بلند ہو رہی ہیں۔

پاکستان: بجلی اور ایندھن کے بلوں کے خلاف آواز

ان عالمی تحریکوں کے تناظر میں پاکستان کو بھی نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ حافظ نعیم الرحمان کی قیادت میں جماعتِ اسلامی بجلی کے بھاری بلوں، ایندھن کی قیمتوں، تعلیم کی نجکاری اور عوام پر بڑھتے ہوئے معاشی بوجھ کے خلاف کئی ماہ سے سڑکوں اور چوراہوں پر  ہے۔ پاکستان اور یورپی ملکوں کے سیاسی و معاشی حالات یقیناً مختلف ہیں، لیکن عام شہری کی شکایت میں مماثلت ہے۔ آمدنی کے مقابلے میں اخراجات بڑھ رہے ہیں، بنیادی سہولتیں مہنگی ہورہی ہیں اور حکمرانوں سے جواب دہی کا مطالبہ زور پکڑ رہا ہے۔

یہ تحریکیں ایک دوسرے سے مربوط ہوں یا نہ ہوں، ان کا تقابل ایک اہم حقیقت سامنے لاتا ہے۔ عوام کے بنیادی مسائل نظریاتی اختلافات سے زیادہ فوری اور محسوس ہونے والے ہوتے ہیں۔ بجلی کا بل، روزگار، تعلیم اور خوراک کا خرچ شہری سے یہ نہیں پوچھتا کہ اس کا مذہب کیا ہے یا وہ کس سیاسی نظریے کا حامی ہے۔

دہلی کا جنتر منتر: پرچے سے انتخابی شفافیت تک

بھارت میں دہلی کے جنتر منتر پر جاری دھرنے کو بھی اسی وسیع تناظر میں دیکھا جاسکتا ہے۔اس احتجاج کا آغاز امتحانی پرچے کے افشا ہونے کے معاملے سے ہوا، لیکن اب اس کے گرد انتخابی نظام کی شفافیت اور حکومتی طرزِ عمل کے سوالات بھی اہمیت اختیار کررہے ہیں۔ امتحانی پرچے کا افشا، قابلیت ، نوجوانوں کے مستقبل اور ادارہ جاتی دیانت کا مسئلہ ہے، جبکہ انتخابی شفافیت عوام کے اس حق سے متعلق ہے کہ ان کے ووٹ کی گنتی، انتخابی عمل اور سیاسی نمائندگی پر اعتماد قائم رہے۔ دونوں معاملات الگ ہیں، مگر ان کے پیچھے ایک مشترک سوال موجود ہے۔ کیا ادارے عام شہری کے ساتھ انصاف کررہے ہیں، اور کیا شکایت کی صورت میں اسے قابلِ اعتماد احتساب میسر ہے؟ اگر کسی احتجاج کے شرکا کو محسوس ہو کہ ان کی شکایات نہیں سنی جارہیں، تو مطالبات ایک محدود مسئلے سے نکل کر وسیع تر حکمرانی اور ادارہ جاتی اعتماد کے سوالات تک پہنچ سکتے ہیں۔

بنگلہ دیش: کوٹے سے حکومت کی معزولی تک

اس حوالے سے حکمرانوں کے لئے بنگلہ دیش کا تجربہ ایک اہم سبق رکھتا ہے۔ جولائی 2024 میں وہاں طلبہ کی تحریک سرکاری ملازمتوں میں کوٹے کے نظام کی اصلاح کے مطالبے سے شروع ہوئی۔ لیکن احتجاج کے خلاف حکومتی ردِعمل، مظاہرین پر وحشیانہ تشدد، گرفتاریوں اور بڑھتی ہوئی ہلاکتوں نے بحران کو مزید شدید کردیا۔ وقت گزرنے کے ساتھ تحریک کے مطالبات کوٹے کی اصلاح سے آگے بڑھ کر حکومتی جواب دہی اور شیخ حسینہ کی حکومت کے خاتمے تک پہنچ گئے۔

یہی اس واقعے کا اصل سبق ہے کہ کبھی کبھی ایک محدود اور بظاہر بے ضرر مطالبہ ان مسائل کی علامت بن جاتا ہے جنہیں لوگ طویل عرصے سے اپنے اندر دبائے ہوئے ہوتے ہیں۔ جب حکومت بروقت مکالمہ، شفاف تحقیقات اور اصلاحات کے ذریعے ان شکایات کا ازالہ نہیں کرتی تو معاملہ ابتدائی مطالبے سے کہیں آگے نکل سکتا ہے۔

مختلف نظریات، مگر بنیادی مطالبات مشترک

فرانس سے پاکستان،البنانیہ، اٹلی، اسپین اور دہلی سے ڈھاکا تک ان واقعات میں نہ قیادت ایک ہے، نہ نظریہ، نہ سیاسی نظام اور نہ ہی نتائج یکساں ہیں۔ پھر بھی ان میں بعض مشترک مطالبات نمایاں ہیں: مہنگائی سے نجات، روزگار کے منصفانہ مواقع، معیاری تعلیم، بدعنوانی کا خاتمہ، انتخابی شفافیت، بہتر طرزِ حکمرانی اور جنگ کے بجائے امن۔ یہ مماثلت اس بات کا اعلان نہیں کہ دنیا بھر میں ایک ہی نوعیت کا انقلاب آنے والا ہے۔ البتہ یہ ضرور بتاتی ہے کہ عوامی اعتماد کسی بھی سیاسی نظام کے لئے بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ جہاں شہریوں کو محسوس ہو کہ ان کی آواز بے اثر ہے، ادارے غیر شفاف ہیں اور حکمران جواب دہ نہیں، وہاں ناراضی بتدریج وسیع تر تحریک میں بدل سکتی ہے۔

ان مظاہروں کا انجام کیا ہوگا، یہ کہنا قبل از وقت ہے۔ کچھ حکومتیں اصلاحات کے ذریعے عوامی اعتماد بحال کرسکتی ہیں، کچھ محدود رعایتیں دے کر احتجاج کو ٹالنے کی کوشش کریں گی، جبکہ بعض تحریکیں وقت کے ساتھ کمزور بھی پڑسکتی ہیں۔ لیکن حکمرانوں کے لئے دانش مندی اسی میں ہے کہ وہ عوامی بے چینی کو محض وقتی شور سمجھ کر نظرانداز نہ کریں۔بنگلہ دیش کی مثال یاد دلاتی ہے کہ احتجاج کا آغاز کسی ایک مسئلے سے ہوسکتا ہے، لیکن اگر اس کے پیچھے موجود وسیع تر شکایات کو مسلسل نظرانداز کیا جائے تو سیاسی بحران کی نوعیت بدل سکتی ہے۔

پیرس ہو یا لاہور، دہلی ہو یا ڈھاکا—عوام کی زبان، مذہب اور نظریات مختلف ہوسکتے ہیں، لیکن روٹی، روزگار، تعلیم، انصاف اور باعزت زندگی کی ضرورت مشترک ہے۔ حکومتوں کے لئے اصل امتحان یہ نہیں کہ وہ احتجاج کتنی جلدی ختم کراتی ہیں، بلکہ یہ ہے کہ وہ ان شکایات کا ازالہ کس حد تک کرتی ہیں جنہوں نے لوگوں کو سڑکوں پر آنے پر مجبور کیا۔حکمرانوں کے لئے ضروری ہے کہ وہ ہر اختلاف کو محض سیاسی مخالفت نہ سمجھیں، بلکہ اس کے اسباب کا جائزہ لیں اور شفاف تحقیقات کے ذریعے اعتماد بحال کریں۔

ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل کراچی 30 اکتوبر 2026

ہفت روزہ دعوت دہلی 30 اکتوبر 2026


ہفت روزہ رہبر سرینگر یکم نومبر 

Thursday, October 22, 2026

 

غزہ سے غربِ اردن : خونریزی، قبضہ اور انصاف کا سوال

مغربی سیاست میں بدلتی ہوئی آوازیں

غزہ میں اسرائیلی حملوں کے تین سال مکمل ہونے پر الجزیرہ کے شائع کردہ اعدادوشمار کے مطابق، کم از کم 74 ہزار فلسطینی جاں بحق ہوچکے ہیں، یعنی یہاں آباد ہر 30 میں سے ایک۔ ان میں وہ ہزاروں افراد شامل نہیں جو اب بھی ملبے تلے دبے یا لاپتا ہیں۔ زخمی ہونے والوں کا تناسب 13 میں ایک ہے۔ زخمیوں کی بڑی تعداد زندگی بھر کی معذوری اور طویل بحالی کی محتاج ہے۔

اس ہفتے بھی غزہ پر بمباری، ڈرون حملے، ٹینکوں سے گولہ باری اور نشانچیوں کی فائرنگ جاری رہی۔ جامع مسجد رفح  کے قریب حملے میں دو افراد جاں بحق ہوئے، جبکہ 17 اکتوبر کو وسطی غزہ میں 14 سالہ محمد ابو حماد ڈرون حملے میں جان  سے گیا۔ اسکے دوسرے دن صبح کو المغزی کے علاقے میں ایک سات سالہ لڑکی مسک الدالو کو اسرائیلی فوج نے گولی ماردی اور کچھ ہی دیر بعد بیت لاہیہ میں ایک بچہ تعمر صبوح ان درندوں کا نشانہ بن گیا۔ دونوں بچوں پر بہت قریب سے گولی چلائی گئی۔ تفح محلے اور خان یونس پر حملوں میں بھی متعدد افراد مارے گئے۔ خان یونس کی ڈھائی سالہ مریم کی داستان اس انسانی المیے کی ایک اور تصویر ہے۔ اس کے خیمے پر حملے میں مریم کی والدہ زندہ جل گئیں۔اس کا باپ کچھ عرصہ پہلے ایسے ہی ایک حملے میں جل کر دم توڑ چکا ہے۔گویا بری طرح جھلسی یہ بچی اب بالکل بے سہارا ہے۔

زیتون کی فصل: فلسطینیوں کے لیے موسمِ برداشت یا موسمِ خوف؟

غربِ اردن میں زیتون کی کٹائی کا وقت فلسطینی کسانوں کے لئے خوشی، محنت اور شکرگزاری کا موقع ہوتا ہے۔ چند ہفتوں بعد امریکہ میں قومی تہوار Thanksgiving منایا جائے گا، جس کی روایت شمالی امریکہ میں ابتدائی آبادکاروں کی فصل کی کٹائی سے منسوب ہے۔ لیکن فلسطینی کسانوں کے لئے کٹائی کا  موسم تشدد، آتش زنی، لوٹ مار اور بے دخلی کے خوف میں بدل چکا ہے۔

جنوبی نابلس کے علاقے تلفیت میں اسرائیلی آبادکاروں نے ایک گھر پر حملہ کرکے خاتونِ خانہ اور اس کی 14 اور 18 سالہ بیٹیوں کو اغوا کرنے کی کوشش کی۔ مزاحمت پر لڑکیوں کے والد کا ہاتھ توڑ دیا گیا۔ رام اللہ کے گاؤں راس کرکر میں آبادکاروں کی مزاحمت کرنے والے فلسطینیوں پر اسرائیلی فوج نے ربڑ کی گولیاں چلائیں، جس سے دو افراد زخمی ہوئے۔ جنوبی الخلیل کے گاؤں سموع، مسافر یطّا اور رام اللہ کے قصبے برزیت میں بھی زیتون توڑنے والوں پر حملے ہوئے۔ ان واقعات میں شیرخوار بچے، چار خواتین اور ایک 70 سالہ بزرگ سمیت متعدد افراد زخمی ہوئے۔ کھڑی فصلوں کو آگ لگائی گئی اور گاڑیاں نذرِ آتش کی گئیں۔

بھیڑ بکریاں بھی تشدد سے محفوظ نہیں

سترہ اکتوبر کو رام اللہ کے گاؤں کفر ملک میں آبادکاروں نے بھیڑیں ہتھیانے کی کوشش کی۔ فلسطینیوں کی مزاحمت پر درندوں نے 20 بھیڑوں کو چھروں سے کاٹ ڈلا اور پھر زمین پر تڑپتے جانوروں کو اپنے بھاری جوتوں تلے کچل کر پیوندِ خاک کردیا۔

امریکی صحافی ہیدی لیوائن پر ہجومی تشدد

سولہ اکتوبر کو رام اللہ کے گاؤں ابو فلاح میں ہونے والا حملہ اس تشدد کی سنگینی کو دنیا کے سامنے لے آیا۔ نقاب پوش مسلح آبادکاروں نے زیتون کے باغات میں آگ لگائی، فلسطینیوں پر پتھراؤ کیا اور وہاں موجود واشنگٹن پوسٹ کی 64 سالہ فوٹو جرنلسٹ ہیدی لیوائن (Heidi Levine) کو بھی تشدد کا نشانہ بنایا۔ ان کی جیکٹ پر واضح طور پر ’’صحافی‘‘ درج تھا، لیکن اس شناخت نے بھی انہیں حملے سے محفوظ نہ رکھا۔ ہیدی کی ایک پسلی اور ریڑھ کی ہڈی کے چار مہرے ٹوٹ گئے، جبکہ ان کے  دائیں ہاتھ کی ایک انگلی اس قدر شدید زخمی ہوئی کہ جراحی کرنا پڑی۔ اسپتال سے جاری بصری  بیان میں انہوں نے بتایا کہ کم از کم 50 نقاب پوش افراد غلیلیں لئے پہاڑی سے ان کی طرف دوڑے، انہیں زمین پر گرایا اور لاتیں ماریں۔ حملہ آور ان کا موبائل فون اور کیمرے بھی لے گئے۔ عینی شاہدین کے مطابق، موقع پر موجود اسرائیلی فوجیوں نے فلسطینیوں پر آنسو گیس پھینکی، لیکن حملہ آوروں کو روکنے کی کوشش نہیں کی۔

ہیدی کے بیٹے مائیکل ملنر کے مطابق، ان کی والدہ جسمانی تکلیف کے ساتھ شدید ذہنی صدمے سے بھی دوچار ہیں۔ مائیکل کا کہنا ہے کہ اخبار کے ارب پتی مالک جیف بیزوز نے ہیدی سے بات کرنے اور حملہ آوروں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لئے ہر ممکن قدم اٹھانے  کا ارادہ ظاہر کیا ہے۔ دوسری طرف اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے  ہیڈی پر حملے کی خبر کو 'مشکوک ' قرار دیا ہے۔ وہ غزہ میں مارے جانے والے ہر صحافی کو حماس کا کارکن قرار دیکر تحقیقات سے انکار کرچکےہیں۔ ہیڈی لیوائن کوئی نوآموز صحافی نہیں۔ وہ چار دہائیوں سے جنگی علاقوں میں رپورٹنگ اور عکاسی کرتی رہی ہیں۔ انہوں نے افغانستان، شام، یوکرین اور روس سمیت مختلف جنگ زدہ علاقوں میں کام کیا، اسرائیل اور ایران کے درمیان جنگ کی عکاسی بھی کی۔ کئی جگہ ہیڈی کو ناخوشگوار حالات کا سامنا کرنا پڑا لیکن اسرائیل میں وہ ہجومی تشدد یا Lynchingکا نشانہ بنیں۔ یعنی جمہوریت کا دعوے دار اسرائیل، صحافیوں کے لئےایران، شام اور افغانستان جیسے جنگ زدہ ممالک سے بھی زیادہ خطرناک جگہ بن چکا ہے۔  

اگلے ہی روز تشدد کی زد میں سفارت کار بھی آگئے۔ فرانس، بیلجیم اور پولینڈ کے سفارت کار جب زیتون کی کٹائی کا منظر دیکھنے طیبہ پہنچے تو ان کی گاڑیوں پر پتھراؤ کیا گیا۔ یوں یہ معاملہ محض فلسطینی کسانوں یا صحافیوں کی سلامتی تک محدود نہ رہا، بلکہ اب  غیر ملکی سفارت کار بھی وحشت کا نشانہ ہیں۔

جب ملکیت پر قبضے کو مذہبی جواز دیا جائے

تشدد کے ساتھ قبضے کو مذہبی جواز دینے کی کوششیں بھی سامنے آرہی ہیں۔ ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق، سابق چیف ربی (مفتیِ اعظم) ڈوو لیور (Dov Lior) نے ایک فتویٰ  جاری کیا ہے جس میں فلسطینیوں کے زیتون توڑنے کی اجازت دے دی گئی۔ ان کا استدلال ہے کہ یہودی قوم نے اس سرزمین سے اپنا دعویٰ کبھی ترک نہیں کیا، عربوں نے یہ زمین یہودیوں سے نہیں خریدی، اس لئے زیتون کی فصل حاصل کرنا ملکیت کے دعوے کے اظہار اور اپنی زمین کا قبضہ واپس لینے کے مذہبی فریضے کی تکمیل ہے۔ مجرمانہ فعل کو مذہبی رنگ دینے کا ذکر قرآن میں بھی ہے ' وہ کہتے ہیں کہ امیوں یا غیر یہودیوں کے معاملے میں ہم پر کوئی مواخذہ نہیں' سورہ آل عمران آئت 75۔معتدل آرتھوڈوکس ربیوں کی تنظیم تسوہار (Tzohar) نے ڈوو لیور کے مؤقف کی مخالفت کرتے ہوئے واضح کیا کہ چوری کسی صورت  جائز نہیں، ملکیت خواہ یہودی کی ہو یا کسی Gentiles(اُمی یا غیر یہود ی) کی۔

اوباما اور نیتن یاہو: تاریخی تعلق یا موجودہ حقوق؟

فلسطینیوں کے حقوق کا سوال امریکی سیاست میں بھی اب زیادہ کھل کر اٹھایا جارہا ہے۔ آئرلینڈ کے دارالحکومت بیلفاسٹ میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سابق امریکی صدر باراک اوباما نے اسرائیل کے قیام اور فلسطینیوں کی بے دخلی کے مسئلے پر بات کی۔ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل نے لوگوں کو انکی آبائی زمین سے بے دخل کیا چنانچہ فلسطینیوں کا اسے ناانصافی سمجھنا اور اپنی زمین واپس مانگنا قابلِ فہم ہے۔ سابق امریکی صدر نے یہ بھی کہا کہ اگر اسرائیل اپنی فوجی اور تکنیکی برتری کے بل پر جو چاہے ہتھیالینے اور کسی کو رعایت نہ دینے کی پالیسی اپنائے گا تو اسے شائد وقتی فائدہ تو ہو لیکن وہ اخلاقی برتری کھو بیٹھے گا۔ اس بیان پر اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے سخت ردعمل  دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی ریاست چوری کی ہوئی زمین پر قائم نہیں ہوئی۔ یہ ہمارا وطن ہے۔اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ کہ قیامِ امن کی راہ میں رکاوٹ اسرائیل نہیں بلکہ اس کے دشمنوں کا رویہ ہے۔

کسی قوم کا سرزمین سے تاریخی اور مذہبی تعلق تسلیم کرلینے کا مطلب کیا یہ ہے کہ وہاں صدیوں سے آباد دوسرے لوگوں کے حقوق، ملکیت اور بے دخلی کے مسئلے کو نظرانداز کردیا جائے؟ تاریخی وابستگی اور موجودہ باشندوں کے حقوق دو الگ سوال ہیں۔ اگر تاریخی روائتوں کا ذکر ہورہا ہو تو یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ بنی اسرائیل نے حضرت موسیٰ ؑ کا ارضِ فلسطین میں داخل ہونے کا حکم نظر انداز کردیا تھا۔ (حوالہ سورہ مائدہ)۔ یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ جب خود ہی وہاں جانے سے انکار کردیا تو پھر کیسا حق؟؟؟

اس واقعے کا ایک اہم سیاسی پہلو بھی ہے۔ امریکی سیاست میں اسرائیل کے قیام، فلسطینیوں کی بے دخلی اور اسرائیلی حکومت کی پالیسیوں پر تنقید شجرِ ممنوعہ سمجھی جاتی ہے لیکن اب سابق امریکی صدر کی زبان سے بین الاقوامی اجتماع میں اس طرح کی دو ٹوک بات امریکی سیاست میں ایک مثبت تبدیلی ہے۔ تاہم اس سے یہ نتیجہ نہیں نکالا جاسکتا کہ امریکی پالیسی بھی لازماً اسی رفتار سے تبدیل ہوجائے گی۔

برطانیہ میں صہیونیت پر سیاسی بحث

اسی دوران برطانیہ کی گرین پارٹی کے ملک گیر اجتماعِ ارکان نےایک قرارداد منظور کی جس میں صہیونیت کو نسلی قوم پرستی پر مبنی سیاسی منصوبہ قرار دیتے ہوئے اس کی مخالفت، تاریخی فلسطین میں ایک جمہوری ریاست، مساوی حقوق اور فلسطینیوں اور ان کی اولاد کے حقِ واپسی کی حمایت کی گئی۔ قرارداد کے حق میں 1,022 اور مخالفت میں 813 ووٹ آئے۔ قرارداد میں  مؤقف اختیار کیاگیا ہے کہ صہیونیت کی سیاسی مخالفت کو یہودیوں سے دشمنی کے مترادف نہیں سمجھنا چاہیے۔برطانوی وزیراعظم اینڈی برنہم نے پارلیمان میں اپنے خطاب کے دوران قرارداد کو غلط اور یہود دشمن قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کی جماعت ایسا موقف رکھنے والی جماعت کے ساتھ سیاسی شراکت نہیں کرے گی۔

غزہ کی ایک بچی: ایک ڈاکٹر کی یاد میں زندہ زخم

اور آخر میں ایک مسیحا کا بیان۔اردن نژاد امریکی ڈاکٹر تانیہ حاجی حسن نے کہا کہ 'مجھے انتہائی نگہداشت کے شعبے میں کام کرنے کا وسیع تجربہ ہے اور میں نے کئی مریضوں کو دم توڑتے دیکھا ہے۔ ہر موت المناک اور میرے دل پر نقش ہے لیکن غزہ کی ایک بچی کی شکل ہر وقت میرے آنکھوں کے سامنے رہتی ہے۔ یہ گڑیامیری بانہوں میں مجھ سے ایسی چمٹی ہوئی تھی جیسے میں اسکی ماں ہوں۔ اس ننھی پری کی سانسیں اکھڑ رہی تھیں اورمیں اسے گود میں میں اٹھائے آکسیجن کیلئے بھاگتی رہی لیکن گھپ اندھیرے میں مجھے آکسیجن سلنڈر نہ مل سکا اور بچی نے تڑپ تڑپ کر میری بانہوں میں جان دے دی

تاریخ کے دعوے نہیں، انصاف کا معیار

غزہ کے ملبے تلے دبے انسان، غربِ اردن میں اپنی فصل بچانے والے کسان، حملے کا نشانہ بننے والی صحافی اور اسپتال میں آکسیجن کے لیے ترستی بچی۔ کیا تاریخ، مذہب یا طاقت کے دعوے انسان کے بنیادی حقوق سے زیادہ اہم ہوسکتے ہیں؟ تاریخی روایات پر اختلاف ہوسکتا ہے، سیاسی مؤقف مختلف ہوسکتے ہیں، لیکن انصاف کا بنیادی تقاضا نہیں بدلتا۔ کسی قوم کی شناخت اور تاریخی وابستگی کا احترام اسی وقت بامعنی ہے جب دوسری قوم کے حقِ زندگی، آزادی، ملکیت اور وقار کو بھی تسلیم کیا جائے۔ فلسطین میں پائیدار امن کا راستہ طاقت کے یک طرفہ استعمال سے نہیں، بلکہ حقوق کے تحفظ، قانون کی حکمرانی اور احساسِ جواب دہی سے ہوکر گزرتا ہے۔

ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل کراچی 23 اکتوبر 2026

ہفت روزہ دعوت دہلی 23 اکتوبر 2026

ہفت روزہ رہبر سرینگر 25 اکتوبر 2026