Thursday, August 20, 2026

 

امن کے وعدے، جنگ کی حقیقت اور انسانیت کا سوال

امریکہ میں جاری مذاکرات، سفارتی سرگرمیوں اور Board of Peace کی نشستوں کے باوجود لبنان، غزہ اور غربِ اردن کی زمینی صورتِ حال میں کسی پائیدار مثبت تبدیلی کے آثار دکھائی نہیں دیتے۔ واشنگٹن میں امن کے نقشے بن رہے ہیں، لیکن خطے میں بم گر رہے ہیں، گھر مسمار ہورہے ہیں اور بے گھر ہونے والوں کی تعداد بڑھ رہی ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ مذاکرات کی میز اور میدانِ جنگ کے درمیان فاصلہ کم ہونے کے بجائے بڑھتا جارہا ہے۔

جنوبی لبنان میں پھر بارود

جنوبی لبنان میں اسرائیلی حملوں کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔ پندرہ اگست کو اسرائیلی فضائی حملوں میں کم از کم 11 افراد جاں بحق ہوئے، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل تھے۔ یہ واقعہ جون کی جنگ بندی کے بعد لبنان میں خونریز ترین دنوں میں شمار کیا جارہا ہے۔

غزہ میں امن کی شرط: حماس کا مکمل غیر مسلح ہونا

اسرائیل کے لئے حماس کا مکمل غیر مسلح ہونا فوجی انخلا کی بنیادی شرط بن چکا ہے، جبکہ حماس اس کے بدلے اسرائیلی انخلا اور جنگ بندی کی اپنی شرائط پر قائم ہے۔ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے امریکی منصوبے میں موجود مرحلہ وار انخلا کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اسرائیل حماس کے مکمل غیر مسلح ہونے سے پہلے فوجی انخلا قبول نہیں کرے گا۔ اس ہفتے اسرائیلی بمباری اور ڈرون حملوں نے غزہ شہر اور خان یونس میں کئی افراد کی جان لے لی۔

ایک اور 7 اکتوبر کا شوشہ؟

اسی ماحول میں غزہ سے ایک نئے ’’7 اکتوبر‘‘ کی بازگشت بھی سنائی دینے لگی ہے۔ٹائمز آف اسرائیل  کے مطابق  نگرانی کرنے والی اسرائیلی فوجی اہلکاروں نے غزہ کے اندر مسلح سرگرمیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ صورتِ حال انہیں 7 اکتوبر 2023 سے پہلے کے حالات کی یاد دلا رہی ہے۔ کسی نئے بڑے حملے کی نہ کوئی واضح اطلاع سامنے آئی ہے، نہ تاریخ اور نہ ہی کوئی مصدقہ منصوبہ۔ فی الحال معاملہ ان اہلکاروں کی ’’تشویش‘‘ اور ان اطلاعات تک محدود ہے کہ جن کی تنبیہ 7 اکتوبر سے پہلے نظرانداز کردی گئی تھی۔ یہ خواتین اہلکار اب دوبارہ خطرے کی گھنٹی بجا رہی ہیں۔ یہاں معاملہ کچھ حد تک ایران جیسا دکھائی دیتا ہے۔ صدر ٹرمپ ایک طرف سینہ پھلا کر پاسدارانِ انقلاب کی بربادی اور ایرانی فوج کو فنا کردینے کا دعویٰ کرتے ہیں، تو دوسری طرف اسی ’’مدفون‘‘ دشمن کے ممکنہ خطرے کے باعث اپنے سفر کے دوران طیارہ تبدیل کرنے جیسے انتہائی حفاظتی اقدامات بھی کرتے ہیں۔

نیتن یاہو مُصر ہیں کہ غزہ مزاحمت کار مٹادئے گئے لیکن اب نئے حملے کا شوشہ۔ پیالی میں اٹھائے جانیوالے  ان طوفانوں کو امریکہ کے وسط مدتی اور اسرائیل کے قومی انتخابات کے حوالے میں سمجھنے کی ضرورت ہے۔تجزیہ نگاروں کا خیال ہے  کہ اسرائیل میں انتخابات سے پہلے ’’حماس کا خطرہ‘‘ ایک بار پھر سیاسی بیانیے کا حصہ بن رہا ہے۔

جب دشمن انسان نہ رہے

اس تناظر میں اسرائیلی وزیر اتمار بن گویر کے بیان سے اسرائیل کی نیت کا اظہار ہوتا ہے۔ غزہ پر بمباری میں کمی کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انھوں نے کہا کہ اسرائیل کو ہر رات 30 سے 40 افراد کو ہدف بنا کر قتل کرنا چاہیے۔ بن گوئر کا کہنا تھا کہ 'صرف ان لوگوں کو نہیں جو فوری خطرہ ہیں۔ نہیں، وہاں ایسے لوگ بھی ہیں جو زندگی کے قابل نہیں۔ انہیں زندہ نہیں رہنا چاہیے۔ وہ تو انسان بھی نہیں ہیں'۔ حوالہ: ٹائمز آف اسرائیل

بمباری کے بیچ انگور کی فصل

لیکن غزہ کی کہانی صرف بمباری، بھوک اور بربادی کی داستان نہیں۔ اہلِ غزہ کا حوصلہ بھی تاریخ کا ایک اہم باب ہے۔ غزہ شہر میں بمباروں کی گھن گرج کے دوران کسانوں نے روایتی جوش و خروش سے انگور کی فصل کاٹی۔ جنگ، آب پاشی کے  تباہ شدہ نظام اور وسائل کی شدید کمی کے باعث اس سال بہت کم رقبہ زیرِ کاشت آسکا، مگر جتنی فصل ہوئی، اس کی کٹائی بھی شکرانے اور حمد کے ترانوں کے ساتھ ہوئی اور چند لمحوں کے لئے جنگ زدہ لوگوں کے چہروں پر مسکراہٹ آگئی۔ اس پر تبصرہ کرتے ہوئےکسی نے کیا خوب کہا کہ ’’ان کے بزرگ تلواروں کے سائے میں نماز ادا کرتے تھے، آج یہ کسان بمباروں اور ڈرونوں کے سائے میں فصل کاٹ رہے ہیں

غربِ اردن: حملے، بے دخلی، آتشزدگی اور معصوم بچوں کی آنکھوں میں مرچ کا اسپرے

غربِ اردن میں بھی قبضہ گردوں کی کارروائیاں جاری ہیں۔ کہیں فلسطینی گھروں کو مسمار کیا جارہا ہے،  زمینوں پر قبضے کے لیے دباؤ بڑھایا جارہا ہے  تو کہیں گھروں کے مکینوں کو محاصرے کے ذریعے ہجرت پر مجبور کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ کئی خاندانوں نے گھر مسمار ہونے کے بعد اسی ملبے پر خیمے گاڑ کر نئی زندگی شروع کردی ہے۔ ان کا کہنا ہے: گھر رہے نہ رہے، ہم اپنا وطن نہیں چھوڑیں گے۔ الخلیل (Hebron) کے اطراف میں بھی فلسطینی مکانات اور زرعی ڈھانچوں کی مسماری اور تعمیراتی پابندیوں کا سلسلہ جاری ہے۔

رام اللہ کے مضافاتی علاقے ترمسعيّا میں قبضہ گردوں نے کھڑی فصلیں جلادیں۔ عینی شاہدین کے مطابق اسرائیلی فوج نے فلسطینی فائربریگیڈ اور ایمبیولنسوں کا راستہ اسوقت تک روکے رکھا جب تک کھیت جل کر خاک نہ ہوگئے۔ بیت اللحم میں ایک گاڑی روک کر معصوم فلسطینی بچے کی آنکھوں میں سرخ مرچوں کا اسپرے کردیا گیا۔ بچے کی دونوں آنکھیں شدید زخمی اوراسکی بینائی ضائع ہونے کا خطرہ ہے

قصرہ: محاصرہ گھر کا یا خاندان کا؟

کئی علاقوں میں گھر خالی نہ کرنے والے فلسطینیوں کے مکانوں کا محاصرہ کرکے پورے خاندانوں پر دباؤ ڈالا جارہا ہے۔ نابلوس کے قصبے قصرہ میں مسلح آبادکاروں نے یوسف حسن کے گھر کا محاصرہ کرلیا۔ قبضہ گردوں نے گھر کے مرکزی دروازے کے سامنے ایک عارضی ڈھانچہ کھڑا کردیا، جس کے باعث حسن، ان کی اہلیہ اور ان کی دو کم سن بیٹیاں، جن کی عمریں صرف دو اور چار سال ہیں، گھر سے باہر نہیں نکل سکتے تھے اور نہ کوئی شخص اندر داخل ہوسکتا تھا۔یوسف نے گھر کے اندر سے فون پر بتایا کہ بجلی کی تاریں بھی کاٹ دی گئی ہیں۔ ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق اسرائیلی فوجی موقع پر پہنچے، آبادکاروں کے ساتھ گفتگو کی اور واپس چلے گئے، جبکہ خاندان کا محاصرہ ختم نہیں کرایا گیا۔ اس خبر پر اسرائیل میں امریکہ کے سفیر مائک ہکابی کو بھی شدید تشویش ہوئی، جو خود اسرائیلی آبادکاری کے پرجوش حامی سمجھے جاتے ہیں۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر محاصرہ کرنے والے آبادکاروں کو ’’اسرائیلی دہشت گرد‘‘ قرار دیتے ہوئے اسرائیلی فوج سے مداخلت کی درخواست کی۔ جناب ہکابی کی التجا پر اسرائیلی فوج وہاں پہنچی اور آبادکاروں کو ہٹانے کے بجائے 15 فلسطینی گھروں سے مکینوں کو نکال دیا گیا۔ یعنی جن لوگوں نے فلسطینی گھروں کا محاصرہ کیا، ان کی گوشمالی کے بجائے محصور فلسطینیوں ہی اپنے گھروں سے بیدخل کردئے گئے۔ محاصرے کا مقصد فلسطینوں کو ان کے گھروں سے نکالنا تھا۔ قبضہ گردوں کا یہ ہدف سرکاری بندوقوں سے حاصل کرلیا گیا۔

سبت کی حرمت اور محصور بچیاں

اس واقعے سے ایک عجیب تضاد بھی نمایاں ہوا۔ یوسف کے خاندن کو یرغمال بنانے کا واقعہ سبت کو پیش آیا۔ سبت (ہفتے) کے  دن چھری سے سبزی کاٹنا بھی منع ہے، لیکن شدید گرمی میں معصوم فلسطینی بچیوں کے گھر کی بجلی اور پانی بند کردینا جائز

غزہ کا کسان بمباروں کے سائے میں انگور کا خوشہ کاٹ کر ہمیں بتارہا ہے کہ زندگی ابھی ہاری نہیں۔ قصرہ کا محصور خاندان ملبے اور بند دروازوں کے درمیان کہہ رہا ہے کہ گھر چھن جائے تو بھی وطن نہیں چھوڑیں گے۔ لبنان کے ملبے سے اٹھتا دھواں خبر دے رہا ہے کہ جنگ بندی کے الفاظ ابھی زمینی حقیقت نہیں بنے اور بن گویر کے الفاظ سے لگتا ہے کہ غزہ نسل کشی اپنے خطرناک ترین مرحلے میں داخل ہوچکی ہے۔ امن صرف میز پر بیٹھنے سے نہیں آتا۔ امن کے لیے بندوق کو خاموش، محاصرہ ختم، گھر محفوظ اور انسان کو انسان سمجھنا ضروری ہے۔

ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل کراچی 21 اگست 2026

ہفت روزہ دعوت دہلی 21 اگست 2026

ہفت روزہ رہبر سرینگر 23 اگست 2026


 

ہرمز کھولو، ایٹمی ایران بعد میں

جنگی اہداف کی بدلتی ترجیحات، تہران کی نئی شرائط اور واشنگٹن کی بڑھتی ہوئی مشکلات

ایران کے بارے میں امریکہ کی ترجیحات میں ایک نمایاں تبدیلی دکھائی دے رہی ہے۔ کل تک واشنگٹن کا مرکزی پیغام یہ تھا کہ ایران کو جوہری ہتھیار بنانے سے ہر قیمت پر روکا جائے گا، لیکن اب ایسا محسوس ہورہا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی فوری ترجیح آبنائے ہرمز کھلوانا اور توانائی کی قیمتوں پر قابو ہے۔

وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق صدر ٹرمپ نے اپنے اعلیٰ معاونین کے سامنے یہ خیال پیش کیا ہے کہ ایران اگر آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر کھول دے تو امریکہ کسی نئے جوہری معاہدے کے بغیر بھی موجودہ جنگ بندی برقرار رکھتے ہوئے ایران پر عائد بحری ناکہ بندی اٹھا سکتا ہے۔ اس طرح صدر ٹرمپ، ایران کے ساتھ ایک نئے جوہری معاہدے کے بغیر جنگ ختم کرکے اسے امریکی کامیابی قرار دینے کی راہ بھی ہموار کرسکتے ہیں۔ اس تبدیلی کی سب سے واضح تصدیق نائب صدر جے ڈی وانس کے حالیہ بیان سے ہوتی ہے۔ فاکس نیوز پرگفتگو میں انہوں نے کہا کہ امریکی انتظامیہ کی پہلی ترجیح امریکیوں کے لئے تیل اور پٹرول سستا رکھنا ہے، جبکہ ایران کو جوہری طاقت بننے سے روکنا ’’نمبر دو‘‘ ہدف ہے۔

تیل نے ایٹم بم کو پیچھے چھوڑ دیا؟

یہ تبدیلی محض سفارتی حکمتِ عملی نہیں، اس کے پیچھے ایک طاقتور معاشی محرک بھی ہے۔ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین توانائی گزرگاہوں میں سے ایک ہے۔ اس کی مسلسل بندش یا محدود آمدورفت عالمی تیل و گیس کی رسد کو متاثر کرنے کے ساتھ ساتھ امریکہ کے اتحادیوں اور خود امریکی صارفین کے لیے بھی مہنگائی اور ایندھن کی قیمتوں کے مسائل پیدا کررہی ہے۔ یوں کل تک واشنگٹن کا پیغام تھا ایران کو ایٹم بم نہیں بنانے دیں گے۔ اب ترجیح کچھ یوں دکھائی دیتی ہے: آبنائے ہرمز کھولو، جوہری تنازعہ بعد میں دیکھا جائے گا۔

تہران نے گیند واپس واشنگٹن کے کورٹ میں پھینک دی

دوسری طرف ایران آبنائے ہرمز کو محض ایک سمندری راستہ نہیں بلکہ اپنے ہاتھ میں موجود ایک بڑے تزویراتی مہرے کے طور پر استعمال کررہا ہے۔ ایرانی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل نے اعلان کیا ہے کہ امریکہ جب تک اپنا طرزِ عمل درست نہیں کرتا، آبنائے ہرمز نہیں کھولی جائے گی۔ کونسل کے سیکریٹری اور پاسداران (IRGC)کے کمانڈر محمد باقر ذوالقدر نے ایک بیان میں کہا کہ تہران، امریکہ سے ایران کو دوبارہ دھمکی نہ دینے، جنگ ختم کرنے، ایرانی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی اٹھانے،  خطے سے امریکی فوجی انخلا، جنگ میں ہونے والے نقصانات کا مکمل معاوضہ، تمام پابندیوں کا خاتمہ اور منجمد ایرانی اثاثوں کی غیر مشروط واپسی  چاہتا ہے۔

ہرمز کا جھٹکا پانامہ تک

آبنائے ہرمز کی بندش کا اثر صرف خلیج فارس تک محدود نہیں رہا۔ اس کے جھٹکے تقریباً 8 ہزار میل دور نہرِ پانامہ (Panama Canal) تک پہنچ گئے ہیں۔ہرمز بند ہونے پر جب خلیج فارس سے ایشیا جانے والی تیل اور LPG کی ترسیل متاثر ہوئی تو ایشیائی خریداروں نے امریکہ سے توانائی خریدنا شروع کردی۔ ٹیکسس (Texas)کی بندرگاہوں سے بحرالکاہل کے راستے ایشیا جانے والے جہازوں کے لیے پانامہ کینال ایک اہم مختصر راستہ ہے۔ نتیجتاً کینال میں ترجیحی گزرگاہوں کی طلب بڑھی اور ان کے لئے ہونے والی نیلامی میں قیمتیں غیر معمولی سطح تک پہنچ گئیں۔ حالیہ دنوں ایک گیس سپر ٹینکر نے قطار سے پہلے گزرنے کے لیے ریکارڈ 46لاکھ ڈالر  ادا کئے۔ یہ کینال فیس نہیں بلکہ ترجیحی گزرنے کی قیمت تھی۔ دوسری طرف پانامہ کینال،  پانی کی کمی اور محدود گنجائش کے مسائل سے دوچار ہے۔ یوں ہرمز کی بندش نے جہاں ایک سمندری راستے کو متاثر کیا، وہیں ہزاروں میل دور دوسرے راستے پر بھی  ’’ٹریفک جام‘‘ پیدا کردیا۔

امریکی میزائلوں کا ذخیرہ بھی دباؤ میں

خلیج فارس کی جنگ جہاں  عالمی معاشی بحران کو جنم دے رہی ہے وہاں اس طویل جنگ نے امریکی فوجی طاقت کے ایک ایسے پہلو کو نمایاں کردیا ہے جو واشنگٹں کیلئے زیادہ خوش کن نہیں۔طویل فاصلے کے میزائلوں اور فضائی دفاعی گولوں(Interceptor) کے ذخائر خطرناک حد تک سکڑنے کی خبریں آ رہی ہیں۔ رائٹرز کے مطابق THAAD اور Patriot جیسے دفاعی نظام کے ذخائر میں بھی نمایاں کمی کی باتیں ہورہی ہیں۔

اب امریکی بحریہ بھی دباؤ میں دکھائی دے رہی ہے۔ طیارہ بردار جہاز ابراہام لنکن مسلسل ڈھائی سو دن سے سمندر میں ہے۔ اس کے بارے میں خوراک، پانی، مرمت اور اہلکاروں کی ذہنی صحت سے متعلق شکایات سامنے آنے پر سینیٹ کے ارکان نے وزیرجنگ اور وزیربحریہ سے جواب طلب کرلیا ہے۔امریکی ذرایع ابلاغ پر بعض اہلکاروں کے سمندر میں چھلانگ لگانے کی بھی خبر آئی جسکی امریکی بحریہ کی جانب سے ترنت تردید آگئی۔ لیکن ان خبروں کا سلسلہ جاری ہے۔اس حوالے سے تازہ ترین خبر یہ ہے کہ بحرالکاہل میں تعینات طیارہ بردار جہاز جارج واشنگٹن کو بحیرہ احمر کی طرف کوچ کا حکم دیدیا گیا ہے تاکہ ابراہام لنکن کے تھکے عملے کو رخصت مل سکے۔ ایران کے خلاف جنگ میں واشنگٹن نے اپنی عسکری برتری ضرور دکھائی، مگر کیا امریکہ طویل جنگ جاری رکھنے کی فوجی صلاحیت بھی رکھتا ہے؟

صدر کی حفاظت یا ’’decoy‘‘ طیارہ؟

اسی دوران نیٹو سربراہی اجلاس  کے بعد انقرہ سے صدرٹرمپ کی پراسرار روانگی نے ایک نئی بحث کو جنم دیا۔ واشنگٹن پوسٹ کے مطابق صدر ٹرمپ وطن واپسی کیلئے انقرہ سے  اپنے Air Force Oneمیں سوار ہوئے۔ امریکی وزیرخارجہ و وزیرخزانہ کے علاوہ صدر ٹرمپ کے ساتھ ترکیہ آنے والے صحافی بھی جہاز پر موجود تھے۔ کچھ دیر بعد طیارے کے دوسرے حصے سے امریکی صدر کو ایئرپورٹ کیٹرنگ ٹرک کے ذریعے باہر نکالا گیا۔ ٹرک نے انہیں ایک دوسرے مقام پر کھڑے چھوٹے فوجی طیارے C-32A تک پہنچایا اور ٹرمپ اس میں سوار ہوکر خفیہ طور پر برطانیہ پہنچے۔ جبکہ  Air Force One  بھی لندن کے سفر پر روانہ ہوگیا۔ دوسرے دن جناب ٹرمپ نے اس 'واردات' کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ یہ سب کچھ سیکیورٹی ماہرین کی سفارش پر کیا گیا۔ اس خبر پر جہاں ایرانیوں نے مذاق اڑایا وہیں امریکی سینیٹ میں حزب اختلاف کے قائد نے بھی تشویش کا اظہار کیا۔ سینٹر چک شومر نے سی آئی اے سے مطالبہ کیا ہےکہ ایران کی جانب سے صدر ٹرمپ کی جان کو لاحق خطرات اور ان خطرات کے ازالے کیلئے اٹھائے گئے اقدامات سے امریکی قانون سازوں کو آگاہ کیا جائے۔ ناقدین کو اس بات بھی سخت تشویش ہے کہ خطرے سے آگاہی کے باجود اعلی امریکی حکام کو موت کے منہہ یعنی Decoyطیارے میں چھوڑ دیا گیا۔

اسرائیلی انٹیلی جنس پر خود امریکہ کو کتنا اعتماد؟

گزشتہ ہفتے یہ  کہانی اسوقت ایک نئے اور مزید سنگین موڑ پر پہنچ گئی جب واشنگٹن پوسٹ نے انکشاف کیا کہ ترکیہ میں صدرٹرمپ کے طیارے کوایران کی جانب سے نشانہ بنانے کی اطلاع اسرائیلی خفیہ ایجنس نے فراہم کی تھی۔تاہم امریکی سراغرساں اداروں کے حوالے سےواشنگٹن پوسٹ کا کہنا ہے کہCIAکو اسرائیل سے ملنے والی انٹیلی جنس پر گہرے تحفظات تھےاور اسکے تجزیہ کاروں نے اسے اتنا قابلِ اعتماد نہیں سمجھا کہ اس سے کسی فوری ایرانی حملے کا نتیجہ اخذ کیا جاسکے۔ ایک سابق امریکی اہلکار کے مطابق بعض حکام  کا خیال ہے کہ اسرائیلی ادارے امریکی صدر کو باور کرانا چاہتے ہیں کہ ایران صدر ٹرمپ کو قتل کرنے کی سازش کررہا ہے تاکہ صدر ٹرمپ کو ایران کے خلاف سخت عسکری کاروائی کیلئے آمادہ کیا جائے۔امریکی ان اطلاعات کو ایسی معلومات بھی سمجھتے ہیں جو صدر کے فیصلوں کو متاثر کرنے کے لیے استعمال ہوسکتی ہیں۔

نیتن یاہو کا مذاق، یا انتخابی سیاست؟

اس تناظر میں نیتن یاہو کا بدلتی برطانوی سیاست پر اسے ’’اسلامی جمہوریہ برطانیہ‘‘ کہنا  محض طنز سمجھ کر نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ اسرائیلی ریڈیو سے باتیں کرتے ہوئے اسرائیلی وزیراعظم نے ازراہ مذاق کہا کہ اگر برطانیہ جوہری ہتھیار حاصل کرلے تو وہ ’’پہلی جوہری اسلامی جمہوریہ‘‘ ہوگا۔ ساتھ ہی فخر سے بولے کہ وہ اس بات کو یقینی بنا رہے ہیں کہ ایران دوسری ایسی ریاست نہ بن سکے۔مذاق اپنی جگہ، مگر نیتن یاہو کی یہ بات ان کی دلی کیفیت، ایران کے جوہری پروگرام کے خوف کی ایک جھلک اور انکی انتخابی مہم کا حصہ محسوس ہوتی ہے۔ اسرائیلی سیاست میں ایران کا خطرہ پہلے ہی ایک مؤثر سیاسی بیانیہ ہے، اور انتخابات کے قریب اس بیانئے کی اہمیت مزید بڑھ سکتی ہے۔

ایران کے خلاف جنگ نے اب ایک عجیب تضاد پیدا کردیا ہے۔ امریکہ نے فوجی اعتبار سے اپنی زبردست طاقت کا مظاہرہ کیا، لیکن اب اسکے میزائل ذخائر، بحریہ، مالی وسائل اور سیاسی گنجائش دباو میں نظر آرہے ہیں۔دوسری طرف ایران، جسے واشنگٹن کمزور اور مذاکرات کے لیے مجبور سمجھ رہا تھا، آبنائے ہرمز کو انتہائی مؤثر معاشی اور تزویراتی ہتھیار کے طور پر استعمال کررہا ہے۔ واشنگٹن کیلئے ایران کو شکست دینے سےبڑی ترجیح اب یہ ہوچکی ہے کہ جنگ کو ایسی قیمت پر کیسے ختم کیا جائے جسے امریکی عوام فتح سمجھ سکیں؟

ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل کراچی 21 اگست 2026

ہفت روزہ دعوت دہلی 21 اگست 2026

ہفت روزہ رہبر سرینگر 23 اگست 2026


Friday, August 14, 2026

 

امن کے معاہدے، جنگ کے شعلے اور نیتن یاہو کا سیاسی دوراہا

اسرائیلی عوام کی بدلتی رائے اور مزاحمت کاروں کی تزویراتی چال

جنگ کے خاتمے کے لئے معاہدے، مذاکرات اور یقین دہانیاں اپنی جگہ، مگر مشرقِ وسطیٰ میں امن کا راستہ ابھی بھی بارود سے بھرا ہوا ہے۔ لبنان میں اسرائیل اور لبنانی حکام کے درمیان امریکی ثالثی میں مذاکرات جاری ہیں جبکہ غزہ میں جنگ کے خاتمے کے لئے امریکی حمایت یافتہ منصوبہ زیرِ بحث ہے، لیکن دونوں محاذوں پر وقفے وقفے سے گولہ باری اور فوجی کارروائیاں سے اندازہ ہوتا ہے کہ جنگ جاری رکھنے کی عسکری و داخلی سیاست امن کی طرف بڑھنے کی سیاسی خواہش زیادہ طاقتور ہے

لبنان: مذاکرات کی میز اور میدانِ جنگ

لبنان کے معاملے میں ایک بنیادی پیچیدگی یہ ہے کہ حزب اللہ، جو اس تنازع کا ایک اہم عسکری فریق ہے، مذاکرات کی میز پر موجود نہیں۔ امریکہ کی ثالثی میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان امن مذاکرات جاری ہیں۔خبروں کے مطابق اسرائیلی فوج کے جنوبی لبنان سے مرحلہ وار انخلا اور حزب اللہ کے اسلحے کے خاتمے کی نگرانی کے لئے کسی تیسرے فریق کی موجودگی جیسے امور پر اتفاق ہوچکاہے۔ حالیہ پیش رفت میں دونوں جانب سے نگرانیِ امن کیلئے ممکنہ ممالک کی ایک فہرست پر اتفاق بھی سامنے آیا ہے، تاہم حزب اللہ نے غیر مسلح ہونے سے انکار کردیا ہے۔ اس سفارتی عمل کے ساتھ ساتھ جنوبی لبنان میں اسرائیلی فوجی کارروائیاں بھی جاری ہیں۔ جمعہ 7 اگست کو مزاحمت کاروں نے جنوبی لبنان کے شہر مجدل سلم میں میجرسمیت  دو اسرائیلی فوجیوں کو ہلاک اور کئی زخمی کردئے، جواب میں دوسرے دن اسرائیلی فضائیہ نے قریبی گاوں تبنین کے قرستان کی مسجد کو نشانہ بنایا جس میں ایک شخص جاں بحق اور درجنوں زخمی ہوگئے۔ستم ظریفی کہ سبت یعنی ہفتے کے روز جب اسرائیلی طیارے جنوبی لبنان کی اس شہری آبادی پر آگ برسارہے تھے۔ عین اسی وقت یروشلم کے کئی علاقوں میں کھلے ریستورانوں کے سامنے بہت سے اسرائیلی حرمتِ سبت کی پامالی پر احتجاج کر رہے تھے جبکہ اشدود کے ساحل کو قدامت پسند اسرائیلیوں نے عارضی رکاوٹیں لگا کر مردو خواتین کی الگ الگ غسل گاہوں میں تبدیلی کردیاکہ اختلاطِ مردوزن توریت کے مطابق درست نہیں۔ کیا مذہبی حساسیت صرف سبت اور حجاب تک محدود ہے؟ جس مذہبی روایت میں سبت کے احترام اور اخلاقی پاکیزگی پر زور دیا گیا ہے، وہی بے گناہ انسان کے خون، ظلم اور ناانصافی کو بھی سختی سے رد کرتی ہے۔ حضرت عیسیٰؑ نے ایسے ہی رویے پر تنبیہ کرتے ہوئے فرمایا تھا:  "اَے اندھے راہ دکھانے والو! تم مچھر تو چھانتے ہو مگر اونٹ نگل جاتے ہو۔" انجیلِ متی 23:24

غربِ اردن: جنگ کا تیسرا محاذ

غزہ اور لبنان کے ساتھ غرب اردن میں اس ہفتے بھی فلسطینیوں پر حملے اور بیدخلی کا سلسلہ جاری رہا۔ نابلوس کے علاقے جالود پر مسلح قبضہ گردوں نے گاڑیوں اور مکانوں کو آگ لگادی اور پولیس نے وہاں پہنچ کر اپنے اثاثوں کا دفاع کرنے والے کئی فلسطینیوں کو گرفتار کرلیا۔

ادھر کچھ عرصے سے گھر خالی کرانے کیلئے مکینوں کو یرغمال بنانے کی واردات بھی شروع ہوچکی ہے۔ نابلوس کے قصبے قصرہ میں یوسف حسن کا گھر گزشتہ کئی دنوں سےمسلح قبضہ گردوں کے محاصرے میں ہے۔ آبادکاروں نے گھر کے مرکزی دروازے کے سامنے ایک عارضی ڈھانچہ کھڑا کردیا ہے جس کے باعث حسن، ان کی اہلیہ اور  دو کم سن بیٹیاں، جن کی عمریں صرف دو اور چار سال ہیں، گھر سے باہر نہیں نکل سکتے اور کوئی شخص اندر داخل نہیں ہوسکتا۔یوسف نے گھر کے اندر سے فون پر بتایا کہ بجلی کی تاریں بھی کاٹ دی گئی ہیں۔ ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق اسرائیلی فوجی موقع پر پہنچے، آبادکاروں کے ساتھ گفتگو کی اور پھر واپس چلے گئے، لیکن خاندان کا محاصرہ ختم نہیں کرایا گیا۔

ملبے سے نکلتی ہوئی لاشیں

حالات نسبتاً پرسکوں ہونے پر غزہ شہر کے محلے الصبرہ میں نومبر 2023 کی اسرائیلی بمباری سے زمیں بوس ہونے والی عمارت کے ملبے سے لاشوں کی تلاش کا کام شروع ہوا۔ کارکنوں نے ابو شریعہ اور الحساینہ خاندانوں کے 112 افراد کی لاشیں بازیاب کرلیں جنکی 4 اگست کو اجتماعی تدفین کی گئی۔ صرف دو خاندان کی میتوں کی تعداد 100 سے زیادہ۔عینی شاہدین کے مطابق کے ان خاندانوں کا کوئی فرد بھی زندہ نہ بچا

اسرائیلی رائے عامہ کا بدلتا ہوا منظرنامہ

ایک طرف بمباری اور حملوں کی شدت دوسری طرف اسرائیلی ٹی وی چینل 12 کے تازہ سروے نے زمینی صورتحال کی  حیران کن تصویر پیش کی ہے۔ تین برس سے جاری جنگ، ہزاروں فلسطینیوں کے قتل اور غزہ کی مکمل تباہی کے باوجود 62 فیصد اسرائیلیوں کا خیال ہے کہ وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو غزہ کو فتح (Total Victory) نہیں کر سکیں گے۔ صرف 25 فیصد اس دعوے سے اتفاق کرتے ہیں۔ جائزے کے مطابق اکثریت کا خیال ہے کہ حماس اور نہ ہی حزب اللہ مستقبلِ قریب میں رضاکارانہ طور پر ہتھیار ڈالیں گے۔

نیتن یاہو کے بعد کون؟

اگر اسرائیلی عوام کی اکثریت جنگی اہداف کو ناقابل حصول اور قیادت کی کارکردگی کو غیر تسلی بخش سمجھتی ہے تو کیا اس کا سیاسی اظہار آئندہ انتخابات میں ہوگا؟ ایک رائے یہ ہے کہ جنگی تھکن (War Fatigue)، معاشی دباؤ اور بین الاقوامی تنہائی اسرائیلی ووٹروں کو نسبتاً معتدل اور مفاہمت پسند قیادت کی طرف مائل کر سکتی ہے، جو عسکری کارروائی کے ساتھ سفارت کاری کو بھی اہمیت دے۔ دوسری رائے اس کے برعکس ہے۔ اسرائیل کی سیاسی تاریخ بتاتی ہے کہ جب بھی قومی سلامتی کا احساس شدید ہو،عوام تبدیلی کے بجائے ایسی قیادت کو ترجیح دیتے ہیں جسے وہ سخت گیر اور سلامتی کے معاملات میں زیادہ مضبوط سمجھتے ہیں۔ اس تناظر میں یہ بھی ممکن ہے کہ نیتن یاہو کی مقبولیت میں کمی کے باوجود قدامت پسند یا دائیں بازو کا کوئی دوسرا رہنما عوام کی پہلی ترجیح بن جائے۔علمائے سیاست کا خیال ہے کہ نیتن یاہو کی مقبولیت میں کمی اور دائیں بازو کی مجموعی مقبولیت میں کمی ایک ہی بات نہیں۔ اسرائیلی سیاست میں یہ فرق بہت اہم ہے۔ اسی بنا پر یہ کہنا مشکل ہے کہ آئندہ انتخابات میں متبادل شخصیت منتخب ہوگی یا متبادل پالیسی؟؟

غزہ: مزاحمت کی تزویراتی چال؟

میدان جنگ کیساتھ نیتن یاہو حکومت کو مزاحمت کاروں کی تزویراتی (اسٹریٹیجک) مزاحمت کابھی سامنا ہے۔

امریکی حمایت یافتہ بورڈ آف پیس کے منصوبہ امن کو تسلیم کرتے ہوئے حماس، انتظامی اختیار سے دستبردار اور اسرائیلی انخلا کے بعد غیر مسلح ہونے پر آمادگی ظاہر کر چکی ہے  لیکن  نیتن یاہو اپنے انتہاپسند اتحادیوں کے دباؤ میں اس منصوبے کی شرائط قبول کرنے سے ہچکچا رہے ہیں۔ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق 6 اگست کو اسرائیلی کابینہ اور سکیورٹی حکام کے اجلاس میں اسی صورتِ حال پر غور کیا گیا۔ اسرائیلی فوج کے انٹیلی جنس ریسرچ ڈپارٹمنٹ کے سربراہ بریگیڈیئر جنرل Ofir Mizrahi-Rozen نے خبردار کیا کہ حماس نے 15 نکاتی منصوبہ قبول کرنے کے باوجود اسرائیل کو تباہ کرنے کے اپنے نظرئے سے دستبرداری اختیار نہیں کی۔ ان کاکہنا تھا کہ " حماس نے گیند اسرائیل کے کورٹ میں ڈالنے" کی حکمت عملی اختیار کی ہے۔ اسرائیلی خفیہ ادارے شاباک کے سربراہ ڈیوڈ زینی نے تو اسے مبینہ طور پر "Strategic Ambush" یعنی تزویراتی گھات قرار دیا۔ ان کے مطابق حماس کا معاہدے پر دستخط کرنا وقت حاصل کرنے اور اسرائیل کوغزہ میں فوجی کارروائی روکنے کی حکمت عملی ہوسکتی ہے۔

امن کا پل یا جنگ کا تسلسل؟

نیتن یاہو کے سامنے مشکل یہ ہے کہ امریکی حمایت یافتہ منصوبے کو قبول کرنے کا مطلب غزہ سے فوجی انخلا اور غزہ پٹی کی مکمل آزادی ہے۔انتہاپسند وزیرخزانہ بیزلیل اسموتریخ ، وزیر اندرونی سلامتی اور دوسرے اتحادی نیتن یاہو سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ وہ 15 نکاتی منصوبے کو مسترد کرکے غزہ میں فوجی کارروائیاں دوبارہ شروع کریں۔دوسری طرف انکے لئے حماس کی اس پیشکش کو مسترد کرنے کا کوئی اخلاقی و سیاسی جواز نہیں۔

کیا نیتن یاہو جنگ ختم کرنے کے لئے امریکی منصوبے کو قبول کریں گے یا اپنے انتہاپسند اتحادیوں کو مطمئن رکھنے کی خاطر  جنگ جاری رکھیں گے؟ ضد و ہٹ دھرمی اور بات لیکن اگر مسلح مزاحمت کا خاتمہ اور غزہ کی انتظامی منتقلی بھی کافی نہیں تو آخر امن کی اسرائیلی شرائط کیا ہیں؟۔حماس کی اس تزویراتی گھات نے اسرائیل کو جنگ جاری رکھنے کے بجائے امن کی بھاری سیاسی قیمت ادا کرنے پر مجبور کردیا ہے۔ کیا نیتن یاہو اپنے اتحادیوں کے دباؤ سے نکل کر امن کے پلِ صراط کی سے گزرنے کی سیاسی قیمت ادا کرنے پر تیار ہیں؟؟؟

اصل امتحان اسرائیل کا

اسرائیل کو یہ سمجھنا ہوگا کہ سلامتی،  عسکری برتری سے حاصل نہیں ہوتی۔ سرحد کے دوسری جانب رہنے والے انسان اگر مستقل خوف، محرومی اور بے دخلی میں زندگی گزاریں تو آج کی فوجی کامیابی کل ایک نئی مزاحمت کو جنم دے گی۔ جب اسرائیلی عوام یہ محسوس کرنے لگے ہیں کہ تین برس کی جنگ کے بعد بھی "مکمل فتح" دور ہے، تو آنے والے انتخابات میں انھیں یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ جنگ کا تسلسل  چاہئے ہیں یا ایک نئی سیاسی حکمتِ عملی؟

ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل کراچی 14 اگست 2026

ہفت روزہ دعوت دہلی 14 اگست 2026

ہفت روزہ رہبر سرینگر 16 اگست 2026


 

جنگ سے باوقار اخراج کی تلاش

پاکستان کے لئے سفارتی موقع؟

صدر ٹرمپ کی جانب سے ایرانیوں کو ’’سر قلم کر دینے‘‘ کی دھمکی کے باوجود گزشتہ دس دنوں میں کسی مسلح تصادم کی خبر نہیں آئی۔ تین اگست کو امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات جاری ہیں اور آبنائے ہرمز جلد مکمل طور پر کھول دی جائے گی۔ ان کے مطابق یہ پیش رفت ایران کی ’’جوہری صلاحیت کے خاتمے‘‘ کے معاہدے کی طرف بڑھنے کا راستہ ہموار کرے گی۔ تاہم ان دعوؤں کی سختی سے تردیدکرتے ہوئے ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے واضح کیا کہ نہ کوئی ملاقات طے ہے اور نہ ہی آبنائے ہرمز امریکی شرائط پر کھلے گی۔ ایران کا مؤقف ہے کہ آبنائے سے بحری ٹریفک اس کی مرضی کے مطابق ہی گزرے گی۔

ہرمز: جوہری پروگرام سے بڑا سوال؟

چار اگست کو امریکی وزیرِ خزانہ اسکاٹ بیسینٹ نے بھی مذاکرات اور ممکنہ معاہدے کی بات کی، مگر زمینی حقیقت یہ ہے کہ آبنائے ہرمز اب بھی عملاً بند ہے۔ رائٹرز نے ایران–عمان مشاورت کی تصدیق کی ہے لیکن اس منصوبے میں ایران نہ صرف اپنی حدود کی حفاظت بلکہ آنے والے جہازوں پر براہِ راست کنٹرول اور جانے والے جہازوں کی مکمل نگرانی چاہتا ہے۔ تجزیہ نگاروں کے مطابق اصل سوال اب یہ نہیں کہ ایران کتنی یورینیم افزودہ کرے گا، بلکہ یہ ہے کہ آبنائے ہرمز پر عملی اختیار کس کے پاس ہوگا۔ پاسدارانِ انقلاب نے بھی واضح کر دیا کہ ایران–عمان گفتگو کا آبنائے ہرمز کے کھلنے سے کوئی تعلق نہیں۔ آبنائے صرف اسی وقت کھلے گی جب امریکہ ایرانی شرائط تسلیم کرے گا۔

امریکی اسلحہ ذخائر کی کمی: فیصلہ سازی پر اثر؟

اسی دوران امریکی اسلحے کے ذخائر میں کمی کی خبریں بھی سامنے آئیں۔ واشنگٹن پوسٹ کے مطابق صدر ٹرمپ نے کابینہ اجلاس میں طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں کی کمی پر شدید برہمی کا اظہار کیا۔ اگرچہ وائٹ ہاؤس نے اس کی تردید کی، لیکن امریکی صدر کے لہجے میں نمایاں تبدیلی محسوس کی گئی۔ ایران کو فوجی دھمکیوں کے بعد اچانک سفارت کاری کو ’’ایک اور موقع‘‘ دینے کی باتیں اس تبدیلی کی علامت ہیں۔ ممکن ہے کہ یہ سفارتی پیش رفت کا نتیجہ ہو، لیکن یہ امکان بھی موجود ہے کہ عسکری ذخائر پر دباؤ نے واشنگٹن کو  حکمتِ عملی تبدیل کرنے پر پر مجبور کیا ہو۔

جنگ سے باوقار اخراج کی تلاش

اسی پس منظر میں CNN کی وہ رپورٹ خاصی معنی خیز ہے جس کے مطابق جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین جنرل ڈین کین نے نجی گفتگو میں ایران کی جنگ سے نکلنے کے لیے ایک ’’Off-ramp‘‘ کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ اس اصطلاح کا بہتر اردو مفہوم ’’جنگ سے باوقار اخراج کی راہ‘‘ ہوسکتا ہے۔یعنی ایسا راستہ جس کے ذریعے امریکہ اپنے بنیادی مفادات کو ممکنہ حد تک محفوظ رکھتے ہوئے مزید جنگ میں الجھنے سے نکل آئے اور اسے شکست تسلیم کے بجائے سیاسی یا سفارتی نتیجے کے طور پر پیش کرسکے۔رپورٹ کے مطابق جنرل صاحب کا خیال ہے کہ زیرِ غور بعض عسکری متبادل الٹا نقصان دہ ثابت ہوسکتے ہیں اور صرف فضائی طاقت کے ذریعے ٹرمپ انتظامیہ کے مطلوبہ سیاسی اہداف حاصل کرنا مشکل ہوگا۔ امریکی نائب صدر جے ڈی وانس ، سی آئی اے کے ڈائریکٹر  جان ریٹکلف اور وزیر خارجہ مارکو روبیو سمیت اعلیٰ حکام بھی جنگ کو کسی قابلِ قبول انجام تک پہنچانے کے امکانات پر غور کررہے ہیں۔

فضائی طاقت کی حدود اور زمینی جنگ کے خطرات

امریکی عسکری قیادت جانتی ہے کہ فضائی طاقت ایران کو مکمل طور پر زیر نہیں کر سکتی۔ اہداف کی تعداد بڑھتی جائے گی، حملے طویل ہوں گے اور ایران کے جوابی حملوں کا خطرہ بھی بڑھے گا۔ یوں ایک محدود فوجی مہم بتدریج طویل جنگ بلکہ افغانستان کی طرح دلدل میں تبدیل ہوسکتی ہے۔امریکہ کے بعض حلقے زمینی کاروائی کی سفارش کررہے ہیں، لیکن زمینی کارروائی اس سے بھی کہیں زیادہ پیچیدہ ہوگی۔ ایران جیسے بڑے، پہاڑی اور جغرافیائی اعتبار سے پیچیدہ ملک میں  زمینی فوج اتارنے کا مطلب محض چند فوجی اڈوں پر قبضہ نہیں ہوگا بلکہ وسیع پیمانے پر فوج، رسد، فضائی دفاع اور طویل مدتی موجودگی درکار ہوگی۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ امریکی فوجیوں کے جانی نقصان اور ایران کی جانب سے خلیج، عراق، شام اور دیگر مقامات پر جوابی کارروائیوں کا خطرہ کئی گنا بڑھ جائے گا۔امریکی فیصلہ ساز بظاہر ایک ایسے دائرے میں پھنس گئے ہیں جس سے نکلنے کا کوئی آسان راستہ نظر نہیں آتا۔ فضائی حملے مطلوبہ سیاسی نتیجہ نہیں دے رہے اور زمینی جنگ کے مضمرات اس سے بھی زیادہ سنگین ہوسکتے ہیں۔

سفارت کاری کی طرف جھکاؤ: آبنائے ہرمز بطور Off-ramp

صدر ٹرمپ کے بیانات میں آنے والی نرمی اسی عسکری دباؤ کا نتیجہ لگ رہی ہے۔ واشنگٹن اب مذاکرات کے ذریعے آبنائے ہرمز کھولنے کی بات کر تے ہوئے  ایران–عمان مشاورت کی حوصلہ افزائی کر رہا ہے۔ اگر آبنائے کھل جاتی ہے تو نہ صرف توانائی اور تجارت کا بحران کم ہوگا بلکہ امریکہ اسے ایک Off-ramp کے طور پر استعمال کر سکتا ہے۔یعنی یہ تاثر دیا جائے کہ فوجی دباؤ نے مذاکرات کی راہ ہموار کی اور اب سفارت کاری کامیاب ہو رہی ہے۔

پابندیوٓں میں نرمی ۔۔  موہوم اشارہ؟؟

اسی تناظر میں  5 اگست کو امریکہ کی جانب سے عراقی فضائی کمپنی Fly Baghdadالمعروف Iraq Express اور متعلقہ دو طیاروں پر عائد انسدادِ دہشت گردی پابندیاں ختم کرنے کا فیصلہ بھی معنی خیز محسوس ہوتا ہے۔امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق یہ پابندیاں پاسداران انقلاب سے تعلق کے الزام میں عائد کی گئی تھیں۔ اسکی وضاحت کرتے ہوئے امریکی محکمہ خزانہ کے ایک عہدیدار نے واضح طور پر کہا ہے کہ یہ فیصلہ ان اداروں کے "طرزِ عمل میں نمایاں تبدیلی" (significant behavioral changes) کی بنیاد پر کیا گیا ہے اور اس کا ایران کے بارے میں امریکی پالیسی یا جاری مذاکرات سے  کوئی تعلق نہیں۔ واشنگٹن کی اس وضاحت کے باوجود اسے مفاہمت کا ایک موہوم یا بالواسطہ اشارہ ضرور کہا جاسکتا ہے تاہم اسے کوئی واضح سفارتی پیش رفت قرار دینا قبل از وقت ہوگا۔

امریکہ–ایران کشیدگی ایک ایسے موڑ پر کھڑی ہے جہاں جنگ اور سفارت کاری دونوں راستے موجود ہیں۔ واشنگٹن کی عسکری قیادت اور سیاسی حلقے بظاہر جنگ کو ایک قابلِ قبول انجام تک پہنچانے کے خواہاں ہیں۔ آبنائے ہرمز اس پورے منظرنامے میں مرکزی حیثیت اختیار کر چکی ہے، اور اگر مذاکرات کامیاب ہوتے ہیں تو یہ نہ صرف خطے میں استحکام کا باعث بنے گا بلکہ پاکستان کے لیے بھی ایک اہم سفارتی کردار ادا کرنے کا موقع فراہم کرے گا۔ آنے والے دنوں میں اصل جنگ شاید میدانِ جنگ میں نہیں بلکہ مذاکرات کی میز پر لڑی جائے گی۔

ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل کراچی 14 اگست 2026

ہفت روزہ دعوت دہلی 14 اگست 2026

ہفت روزہ رہبر سرینگر 16 اگست 2026