Thursday, February 19, 2026

 

سنار بنگلہ کی جماعت ۔۔ پھانسی گھاٹ سے پارلیمان

بنگلہ دیش میں حالیہ عام انتخابات کئی حوالوں سے غیر معمولی قرار دیے جا رہے ہیں۔باشبہہ 2008 کے بعد یہ پہلا نسبتاً آزاد اور مسابقتی چناو تھا۔اس سے قبل 2014 اور 2018 کے انتخابات پر نہ صرف حزبِ اختلاف بلکہ بین الاقوامی مبصرین کی جانب سے بھی سنجیدہ تحفظات کا اظہار کیا گیا تھا، 2014 میں حزب اختلاف کی بڑی جماعتوں کے بائیکاٹ اور 2018 میں بے ضابطگیوں کے الزامات نے جمہوری عمل کی ساکھ کو متاثر کیا۔

جولائی 2024 طلبہ تحریک اور سیاسی درجہ حرارت

جولائی 2024 میں طلبہ کی تحریک اور اس سے جڑے تشدد کے واقعات نے ملک کو شدید سیاسی کشیدگی میں مبتلا کر دیا تھا۔ اسی پس منظر میں خدشہ ظاہر کیا جا رہا تھا کہ عام انتخابات کے دوران وسیع پیمانے پر بدامنی پھیل سکتی ہے۔ اگرچہ بعض علاقوں میں جھڑپوں اور ہلاکتوں کے افسوسناک واقعات پیش آئے، مگر مجموعی طور پر انتخابی عمل ملک گیر انتشار میں تبدیل نہیں ہوا۔ یہ امر بذاتِ خود خود ایک اہم پیش رفت سمجھا جا سکتا ہے۔

نوجوان اور خواتین کی بھرپور شرکت

ان انتخابات کی ایک نمایاں خصوصیت نوجوانوں اور خواتین کی بڑھتی ہوئی شرکت رہی۔ نہ صرف بطور ووٹر بلکہ بطور امیدوار اور انتخابی کارکن بھی ان کی موجودگی نمایاں رہی، جو بنگلہ دیشی سیاست میں نسلی و صنفی تبدیلیوں کی علامت ہے۔

بی این پی کی واپسی اور قیادت کا سوال

نتائج کے مطابق بنگلہ دیش نیشنل پارٹی (BNP) نے نمایاں اکثریت حاصل کی اور پارلیمان میں دو تہائی سے زائد نشستیں جیت لیں۔ یہ کامیابی اسے قانون سازی میں غیر معمولی طاقت دیتی ہے۔تاہم BNP قیادت کے وراثتی پہلو پر سوالات برقرار ہیں۔ پارٹی کے رہنما طارق الرحمن مشکل سیاسی دور میں بیرونِ ملک رہے اور انتخابی مرحلے پر واپس آکر اپنی والدہ خالدہ ضیا کے سیاسی وارث کے طور پر قیادت سنبھالی۔ نوجوان سیاسی کارکنوں میں یہ پہلو مایوسی یا کم از کم سوالات کو جنم دے سکتا ہے کہ آیا BNP اندرونی جمہوریت کو مضبوط کرپائے گی یا نہیں۔

جماعتِ اسلامی: دیوار سے مرکزِ سیاست تک؟

ان انتخابات میں جماعتِ اسلامی بنگلہ دیش کی کارکردگی غیر معمولی رہی۔ اگرچہ جماعت اکثریت نہ حاصل کرسکی لیکن جماعت کی قیادت میں بننے والے 11 جماعتی اتحاد کے مجموعی ووٹوں کا تناسب  39 فیصد سے زائد ہے جبکہ کھلنا ڈویژن میں اسے واضح برتری حاصل ہوئی۔ ماضیِ قریب میں قانونی پابندیوں، شدید تنقید اور 1971 کی جنگِ آزادی میں کردار سے وابستہ منفی تاثر کے باعث جماعت اسلامی طویل عرصہ سیاسی حاشیے پر رہی۔آج بھی اس کا ماضی جماعت کے مخالفین کے لیے ایک اہم سیاسی ہتھیار ہے۔ تاہم ووٹروں کے ایک حصے کے لئے یہ مسئلہ اب فیصلہ کن عنصر نہیں رہا۔ بعض شہری طبقات جماعت کو نسبتاً کم بدعنوان متبادل اور فلاحی نیٹ ورک رکھنے والی سیاسی قوت کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ حالیہ برسوں میں جماعت کی قیادت نے اسے سخت گیر مذہبی جماعت کے بجائے ایک منظم، سماجی خدمات پر مبنی، نسبتاً معتدل سیاسی بیانیے کے ساتھ پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔

اصل امتحان: معیشت اور استحکام

بی این پی کے لیے سب سے بڑا چیلنج اب انتخابی فتح نہیں بلکہ حکمرانی ہے۔ جولائی 2024 کے ہنگاموں نے ملک کی ٹیکسٹائل صنعت کو متاثر کیا، جو بنگلہ دیشی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے۔ عالمی منڈی میں دباؤ اور امریکی ٹیرف جیسے عوامل بھی معاشی مشکلات میں اضافہ کر سکتے ہیں۔

ساتھ ہی سیاسی درجہ حرارت کم کرنا بھی حکومت کی فوری ترجیح ہونی چاہیے۔ جامعات میں طلبہ تنظیمیں،بی این پی کی چھاترو دل اور جماعت کی شِبر، طویل عرصے سے ایک دوسرے کی حریف رہی ہیں۔ صحت مند سیاسی مقابلہ جمہوریت کا حسن ہے، مگر جب یہ تشدد میں تبدیل ہو جائے تو قومی استحکام خطرے میں پڑ سکتا ہے۔

تعاون یا تصادم؟

پارلیمان میں دو تہائی اکثریت کے باعث بی این پی کو قانون سازی کے لیے جماعت اسلامی کی فوری ضرورت نہیں، لیکن اسٹریٹ پاور، طلبہ سیاست اور منظم تنظیمی قوت کے اعتبار سے جماعت حکومت کے لیے اثرانداز عنصر بن سکتی ہے۔

جشن فتح کے بجائے شکرانہ

حالیہ انتخابات میں ایک دلچسپ اور مثبت علامت قیادت کی جانب سے ضبط اور نظم و ضبط کا پیغام تھا۔ جماعتِ اسلامی کے امیر ڈاکٹر شفیق الرحمان نے نتائج سے قبل ہی کارکنوں کو ہدایت کر دی تھی کی کہ فتح صورت میں سڑکوں پر طاقت کے مظاہرے اور جلوس نکالنے کے بجائے مساجد میں سجدۂ شکر ادا کیا جائے۔ بی این پی کے رہنما طارق الرحمن نے بھی جشنِ فتح کے بجائے نمازِ جمعہ کے بعد شکرانے کی اپیل کی۔ یہ دونوں بیانات اس روایتی “اسٹریٹ پاور” سیاست سے مختلف تھے جہاں انتخابی کامیابی اکثر طاقت کے عوامی مظاہروں میں بدل جاتی ہے۔ مذہبی و روحانی اظہار کو ترجیح دینے کا یہ انداز، اگر مستقل روایت بن جائے، تو بنگلہ دیشی سیاست میں تصادم کے بجائے نظم و ذمہ داری کی ثقافت کو فروغ دے سکتا ہے۔ خاص طور پر ایسے معاشرے میں جہاں طلبہ تنظیمیں اور جماعتی وابستگیاں جلد جذباتی رخ اختیار کر لیتی ہیں۔

بنگلہ دیش کے مستقبل کا انحصار اس بات پر ہے کہ بڑی سیاسی قوتیں باہمی رقابت کے باوجود قومی مفاد پر مشترکہ حکمت عملی اختیار کر پاتی ہیں یا نہیں۔ اگر معیشت کی بحالی، سیاسی مفاہمت اور ادارہ جاتی استحکام پر توجہ دی گئی تو یہ انتخابات جمہوریت کے استحکام کا آغاز ثابت ہو سکتے ہیں۔ بصورتِ دیگر، اکثریت بھی سیاسی عدم استحکام کو روکنے کے لیے کافی نہیں ہوگی۔

آپ مسعود ابدالی  کی   پوسٹ اور اخباری کالم masoodabdali.blogspot.comاور ٹویٹر Masood@MasoodAbdaliپربھی ملاحظہ کرسکتے ہیں۔


Thursday, February 12, 2026

 

امریکی سیاہ فام — اسلامی تاریخ کا فراموش شدہ باب

فروری کا مہینہ امریکہ، کینیڈا اور یورپ کے کئی ممالک میں Black History Month کے طور پر منایا جاتا ہے۔ یہ مہینہ صرف افریقی نژاد امریکیوں کی جدوجہد اور قربانیوں کی یاد دہانی نہیں، بلکہ امریکی تاریخ کے اُس باب کو بھی نمایاں کرتا ہے جسے جان بوجھ کر یا لاعلمی میں پس منظر میں دھکیل دیا گیا، یعنی سیاہ فام امریکیوں اور اسلام کا تاریخی تعلق۔

امریکی مسلمانوں کے لیے افریقی نژاد امریکیوں کی تاریخ درحقیقت شمالی امریکہ میں اسلام کی ابتدائی تاریخ بھی ہے۔ افریقہ سے امریکہ غلاموں کی جبری منتقلی کا باقاعدہ آغاز  1619 سے جوڑا جاتا ہے، جب غلاموں سے بھرا پہلا جہاز ورجینیا (Virgina)کے ساحل پر لنگرانداز ہوا۔ بعض مورخین کے خیال میں غلامی کی ابتدائی شکلوں کا آغاز اس سے کئی دہائی پہلے ہوچکا تھ. تاہم Atlantic Slave Trade کو منظم تجارتی نظام کی حیثیت سترھویں صدی ہی میں ملی۔

اس سفاکانہ تجارت کے تحت افریقہ کے مغربی اور وسطی ساحلی علاقوں سے لاکھوں انسانوں کو پکڑ کر یورپی بندرگاہوں۔ خصوصاً ہالینڈ، پرتگال اور برطانیہ کے راستے براعظم امریکہ منتقل کیا گیا۔ دورانِ سفر تشدد، بھوک، بیماری اور دم گھٹنے کے باعث لاکھوں افریقی جان سے گئے۔ مزاحمت کرنے والوں کو زنجیروں سمیت سمندر میں پھینک دینا معمول کی بات تھی۔ یہ انسان نہیں، محض مالِ تجارت سمجھے جاتے تھے۔

تاریخی ریکارڈ اس امر کی تائید کرتے ہیں کہ افریقی غلاموں میں قابلِ ذکر تعداد اُن افراد کی تھی جو کسی نہ کسی صورت اسلامی تہذیب سے وابستہ تھے۔ مغربی افریقہ کے کئی خطے اُس وقت اسلامی تعلیم و تدریس کے مراکز سمجھے جاتے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ غلام بنا کر لائے گئے متعدد افریقی عربی لکھنا پڑھنا جانتے تھے، قرآن سے واقف تھے، اور منظم سماجی نظم و ضبط رکھتے تھے۔

غلامی کے دور میں ورجینیا، جنوبی کیرولائنا، شمالی کیرولائنا اور جارجیا جیسے علاقوں میں غلاموں کی منڈیاں قائم ہوئیں۔ اُس وقت امریکہ برطانوی سلطنت کی تیرہ کالونیوں پر مشتمل تھا، جنہوں نے 1776 میں آزادی کا اعلان کیا اور بعد ازاں ریاست ہائے متحدہ امریکہ وجود میں آیا۔ امریکی پرچم پر موجود تیرہ سرخ و سفید پٹیاں انہی ابتدائی ریاستوں کی علامت ہیں۔

آبادی کا تناسب غلام مالکوں کے لیے مستقل خطرہ بنا رہا، اسی لیے غلاموں کو قابو میں رکھنے کے لیے سخت اور غیر انسانی قوانین نافذ کیے گئے۔ بغاوت کی سزا اکثر سرِعام پھانسی ہوتی، اور یہی وہ پس منظر ہے جس سے “Get the rope” جیسی اصطلاحات امریکی سماج میں رچ بس گئیں۔

انیسویں صدی کے اختتام اور بیسویں صدی کے آغاز میں مشرقی یورپ، روس اور پولینڈ سے مسلمان تارکینِ وطن، خصوصاً تاتار، امریکہ پہنچے۔ ان کی آمد سے سیاہ فام مسلم شناخت کو نئی توانائی ملی۔ اسی دور میں Detroit صنعتی مرکز کے طور پر ابھرا جہاں مسلم تارکینِ وطن نے نمایاں کردار ادا کیا۔

1930 کی دہائی میں والیس فرد محمد نے Nation of Islam کی بنیاد رکھی، جسے بعد میں ایلیجا محمد نے منظم تحریک کی صورت دی۔ دوسری جنگِ عظیم کے دوران فوجی بھرتی کی مخالفت پر اس تحریک کو ریاستی جبر کا سامنا کرنا پڑا۔ یہی مزاحمتی روایت بعد میں محمد علی نے ویتنام جنگ میں شرکت سے انکار کر کے زندہ رکھی۔

مالکم ایکس (الحاج ملک الشہباز) کی نیشن آف اسلام میں شمولیت امریکی شہری حقوق کی تحریک میں ایک فیصلہ کن موڑ ثابت ہوئی۔ اگرچہ ان کے اور ڈاکٹر مارٹن لوتھر کنگ کے طریقِ کار مختلف تھے، لیکن مقصد مشترک تھایعنی برابری، انسانی وقار اور انصاف۔ ان تحریکوں کے نتیجے میں نسلی امتیاز کے قوانین ختم ہوئے، ووٹنگ رائٹس منظور ہوئیں، اور 1965 کا Immigration and Nationality Act نافذ ہوا جس نے یورپی اجارہ داری کو توڑ کر دنیا بھر کے لوگوں کے لیے امریکہ کے دروازے کھول دیے۔

یہ حقیقت ناقابلِ تردید ہے کہ افریقی نژاد امریکیوں کی قربانیوں نے نہ صرف امریکی جمہوریت کو مکمل کیا بلکہ اسے اخلاقی جواز بھی فراہم کیا۔ اس کے باوجود تاریخ کا ایک المناک پہلو یہ ہے کہ غلامی، نسلی تشدد اور ریاستی جبر کو امریکی تعلیمی نصاب میں ہمیشہ محدود اور محتاط انداز میں پیش کیا گیا۔

اسی ناانصافی کے ازالے کے لیے 1989 میں رکنِ کانگریس جان کونیئرز (John Conyers) نے افریقی امریکیوں کے لیے Reparations سے متعلق بل HR-40 پیش کیا۔ تین دہائیوں سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود یہ بل آج بھی کانگریس کی ذیلی کمیٹیوں میں زیرِ التوا ہے۔ جان کونیئرز 2019 میں اس ناامیدی کے ساتھ دنیا سے رخصت ہوئے کہ شاید یہ بل کبھی منظور ہو سکے۔

سیاہ فام امریکیوں کی تاریخ محض ایک نسلی داستان نہیں، بلکہ یہ امریکہ کے ضمیر کی تاریخ ہے۔ نوبل ڈریو علی، والیس فرد محمد، ایلیجا محمد، مالکم ایکس، مارٹن لوتھر کنگ اور محمد علی جیسے نام اُس جدوجہد کے درخشاں ستارے ہیں جس نے ایک نامکمل جمہوریت کو معنویت بخشی۔

یہ تاریخ یاد دلاتی ہے کہ امریکہ کی طاقت، دولت اور عالمی حیثیت محض ایوانوں میں نہیں بنی، بلکہ اُن ہاتھوں نے تراشی جو زنجیروں میں جکڑے ہوئے تھے، اور جن کی آواز آج بھی انصاف کی گونج ہے

ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل کراچی 26 فروری 2026

ہفت روزہ دعوت دہلی 26 فروری 2026

ہفت روزہ رہبر سرینگر 28 فروری 2026


 

غزہ، غربِ اردن اور عالمی ضمیر

مزاحمت، الحاق اور خاموش اتحادی

جب قبضہ مستقل ہو جائے تو مزاحمت جرم نہیں رہتی، بلکہ عزت و استقلال کیلئے ضروری ہوجاتی ہے۔ یہی وہ نکتہ ہے جو غزہ سے لے کر غربِ اردن، واشنگٹن سے دہلی اور لندن تک آج عالمی سیاست کے ضمیر کو کچوکے لگا رہا ہے۔

مزاحمت کارو ں  کا غیر مسلح ہونے سے انکار

سات فروری کو دوحہ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے فلسطینی مزاحمتی تحریک کے سینئر قائد نے ایک بار پھر واضح کر دیا کہ فلسطینی مزاحمت نہ غیر مسلح ہوگی اور نہ غزہ میں کسی غیر ملکی حکمرانی یا مداخلت کو قبول کرے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ قومی مزاحمت، اس کے ہتھیار اور کارکنوں کو مجرم یا دہشت گرد قرار دینا ناقابلِ قبول ہے۔ جب تک قبضہ برقرار ہے، مزاحمت بھی رہے گی۔ یہ ان لوگوں کا فطری حق ہے جو ایک غیر منصفانہ قبضے کے تحت زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ امریکی منصوبے Board of Peace کے بارے میں انہوں نے کہا کہ غزہ کی تعمیرِ نو اور امداد قابلِ قبول لیکن کسی بیرونی کنٹرول یا انتظامیہ کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ یہی موقف دس دن قبل الجزیرہ سے گفتگو میں بھی سامنے آیا تھا۔

امداد کے دروازے بند، قبضے کے  خیمے کھلے

دوسری طرف غزہ کے لئے امداد میں اضافے کے بجائے چند محدود ٹرکوں کا راستہ بھی روکا جا رہا ہے۔ ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق 2 فروری کو انتہا پسند آبادکاروں نے کریم سلام (Kerem Shalom) پھاٹک پر امدادی ٹرک روک دئے۔ مزید تشویشناک امر یہ ہے کہ گزشتہ ہفتے درجنوں انتہا پسند، ایک اسرائیلی خاتون رکنِ پارلیمان Limor Son Har-Melech کی قیادت میں غزہ پہنچے اور علامتی قبضے کے طور پر خیمے نصب کر دئے۔ یعنی اب غزہ میں بھی وہی نقشہ دہرانے کی کوشش ہو رہی ہے جو برسوں سے غربِ اردن میں جاری ہے۔

پمفلٹ، بمباری اور ننھے جنازے

نمازِ جمعہ کے دوران 6 فروری کو غزہ شہر کے زیتون محلے میں اسرائیلی فوج نے عربی پمفلٹ گرائے جن میں شہریوں کو عمارتوں سے دور رہنے کا حکم دیا گیااور چند ہی گھنٹوں بعد رہائشی عمارتیں زمین بوس کر دی گئیں۔ بمبار طیاروں، ڈرون، نشانہ بازوں اور ٹینکوں کے مشترکہ حملے میں پانچ ماہ کی  میرا الخباش سمیت 20 افراد جاں بحق ہوئے۔میرا کی لاش اٹھائے اس کی ماں کی تصویر نے دنیا بھر میں دل دہلا دئے، لیکن آٹھ ارب انسانوں میں سے اکثر کو یہ جنازے نظر ہی نہیں آئے۔

کھجور کی مٹھاس اور نفرت کی کڑواہٹ

اسرائیلی اخبار الارض (Haaretz) نے گزشتہ ہفتے غربِ اردن کے دو دیہات خربة الفخِیت اور خربة الحلاوة پر حملوں کی لمحہ بہ لمحہ روداد شائع کی۔شام پانچ بجے سے رات گیارہ بجے تک، فوجی تحفظ میں آبادکار، گھروں کو آگ لگاتے، مویشی ہنکاتے اور مقامی آبادی پر حملے کرتے رہے۔آتشزدگی کو حتمی انجام تک پہنچانے کیلئے فائر بریگیڈ کا راستہ بھی روکا گیا۔خربة الحلاوة انتہائی میٹھے کھجور کیلئے مشہور ہے جسکی وجہ سے یہ حلاوہ یا مٹھاس کہلایا لیکن صدیوں سے آباد اس گاوں میں شیریں کھجور کے پھلدار درخت غارت کردینے کے بعد فلسطینی کسانوں کو نئی فصل لگانے سے روکدیاگیا

آئینی راستے سے الحاق

اسی دوران اسرائیل کی  دفاعی (سیکیورٹی) کابینہ نے ایسے قوانین کی منظوری دی ہے جن کے تحت:

  • اسرائیلی شہری مغربی کنارے میں زمین و جائیداد خرید سکیں گے
  • پانی، سیوریج اور شہری سہولیات فلسطینی مقتدرہ کے بجائے اسرائیلی اداروں کے سپرد ہوں گی

یہ اقدامات مغربی کنارے کے عملی الحاق (de facto annexation) کی سمت واضح پیش رفت سمجھے جا رہے ہیں۔اس کا پہلا ہدف یروشلم سے 30 کلومیٹر جنوب میں الخلیل (Hebron) ہے، جہاں بلدیاتی اختیار اسرائیلی نظام میں ضم کیا جا رہا ہےجبکہ مسجدِ اقصیٰ سے متصل آبادیوں کو پہلے ہی انہدامی نوٹس دئے جا چکے ہیں۔

مزاحمت کاروں کا شدید ردعمل

فلسطینیوں کی مزاحمتی تحریک نے اسرائیلی حکومت کے حالیہ الحاقی اقدامات پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے اسرائیل کے خلاف عسکری کاروائیاں تیز کرنے کااعلان کیا ہے۔ اپنے ایک بیان میں مزاحمت کاروں نے کہا کہ چوری کی یہ نئی واردات، مقبوضہ فلسطین کے عملی انضمام (Annexation)کو تیز کرنے کی طرف ایک قدم ہے۔بیان میں  عرب و اسلامی ریاستوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ قبضے کے خلاف تاریخی ذمہ داری ادا کرتے ہوئے  اسرائیلی سفیروں کو اپنے دارالحکومتوں سے نکال باہر کریں، تاکہ مغربی کنارے اور بیت المقدس میں جاری قبضے، اسرائیلی آبادکاری (settlements) اور بے دخلی کو روکا جا سکے۔

صدر ٹرمپ  کی ’ہومیوپیتھک‘ مذمت

ایوانِ مرمریں (وائٹ ہاؤس) نے اسرائیلی فیصلے  کی مخالفت کرتے ہوئے علاقائی استحکام کی اہمیت پر زوردیا۔صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ  وہ غربِ اردن پر اسرائیلی قبضے (annexation) کی حمایت نہیں کرتے۔ ان کے نزدیک ایک مستحکم غربِ اردن، اسرائیل کو محفوظ رکھنے اور علاقائی استحکام کے لئے ضروری ہے۔

اسرائیلی حکومت کا  فیصلہ، عالمی قانون، اقوامِ متحدہ کی قراردادوں اور اوسلو معاہدے کی صریح خلاف ورزی ہے، مگر واشنگٹن کی جانب سے ردِعمل محض تشویش کے چند مدھم جملوں تک محدود رہا۔احتیاط کا یہ عالم کہ پورے بیان میں ہر جگہ صرف غربِ اردن استعمال ہوا اور مقبوضہ کا لفظ ہو یا فلسطین، دونوں سے مکمل اجتناب برتا گیا۔جب مزاحمت کاروں کا معاملہ ہوتا ہے تو صدر ٹرمپ کی زبان شعلے اگلتی ہے، دھمکیاں، سرخ لکیریں اور جہنم بنادینے کا وعدہ۔ قانون توڑنے پر نرمی، اور قبضے کے خلاف کھڑے ہونے پر آتشِ غضب۔ یہ ہے مغرب کا انصاف۔

آبادی: ایک تزویراتی ہتھیار

یہ تمام اقدامات حالیہ Epstein Files میں سامنے آنے والے انکشافات سے بھی جڑے نظر آتے ہیں، جہاں سابق اسرائیلی وزیراعظم ایہود باراک نے روسی صدر ولادیمر پیوٹن سے گفتگو میں اعتراف کیا کہ فلسطینی آبادی کا فطری اضافہ اسرائیل کے لیے ایک تزویراتی کمزوری ہے۔ جسے ہجرت (عَلیاہ)کے ذریعے متوازن کیا جانا چاہئے۔ جناب باراک کے مطابق روسی بولنے والے ممالک (یوکرین، بلاروس وغیرہ) سے اضافی ہجرت اسرائیل کے اندر فلسطینی آبادی کے بڑھتے ہوئے اثر کو کم کر سکتی ہے۔ اگر غزہ میں جاری نسل کشی اور غربِ اردن میں قبضے گردی کو اس زاوئے سے دیکھا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ یہ محض فوجی تصادم یا وقتی سیاسی اختلافات نہیں، بلکہ آبادیاتی توازن، ریاستی کنٹرول اور طویل المدت حکمتِ عملی کا حصہ ہیں۔ یہ صورتِ حال اس وسیع تر رجحان کی بھی عکاس ہے کہ فلسطین سےکشمیر اور بنگال سے برما تک طاقتور ریاستیں اپنے آبادیاتی اور سیاسی اہداف کو انسانی مصائب پر ترجیح دے رہی ہیں۔

آزادیِ اظہار؟ صرف نعروں تک

اسی ہفتے راجستھان کے شہر پشکر میں آزاد فلسطین کے اسٹکر لگانے پر دو برطانوی شہریوں کے سیاحتی ویزے منسوخ کر کے بھارت بدر کر دیا گیا۔ دیکھنا یہ ہے کہ آزادیِ اظہار کے علمبردار ،برطانیہ کا اس پر ردعمل کیا ہوتا ہے۔

پرامن مزاحمت: موثر ہتھیار

جہاں ریاستی تشدد کو سیاسی پشت پناہی حاصل ہے، وہیں دنیا بھر میں پُرامن بائیکاٹ مؤثر ثابت ہو رہا ہے۔گزشتہ برس اکتوبر میں امریکہ کے مقبول کوشر (یہودی حلال) ریستوران “شوق” (Shouk) نے  عوامی بائیکاٹ کی وجہ سے واشنگٹن ڈی سی اور اس کے نواحی علاقوں میں اپنی تمام شاخیں بند کر دیں۔ انہی حالات کے تناظر میں اب نیویارک کے معروف اسرائیلی ریستوران Reunion نے بھی اپنے دروازوں کو تالہ لگانے کا اعلان کیا ہے۔واشنگٹن اور نیویارک میں اسرائیلی ریستورانوں کی بندش اس حقیقت کا ثبوت ہے کہ شائستہ، مسلسل اور پرامن جدوجہد  بندوق سے زیادہ طاقتور ثابت ہو سکتی ہے۔

غزہ واپسی: مصائب اور حوصلہ

رفح پھاٹک کھلنے کے بعد واپس آنے والی خواتین کو ہراساں کیا جا رہا ہے آنکھوں پر پٹیاں، ہتھکڑی اور دھمکیاں۔ دوسری جانب مقامی لوگوں کے اعصاب بھی ناقابل شکست ہیں۔ بیوہ و بے سہارا، 73 سالہ کفایہ الاثر کو پیشکش کی گئی کہ وہ ہجرت کرکے مصر چلی جائیں جہاں انکے لئے رہائش کا بندوبست کردیا گیا ہے۔ وطن کی محبت سےسرشار اس خاتون نے صاف انکار کرتے ہوئے کہا کہ “1948 میں ہجرت غلطی تھی۔ اب ہم کہیں نہیں جائیں گے۔

ہوتا ہے جادہ پیما پھر کارواں ہمارا

Global Sumud / Freedom Flotilla کے تحت مارچ کے آخر میں ایک بڑا قافلہ خشکی اور سمندر کے راستے غزہ کی طرف روانہ ہونے والا ہے۔یہ پیغام ہے کہ طاقتوروں کی خاموشی کے باوجود دنیا غزہ کو تنہا چھوڑنے پر آمادہ نہیں۔جب سفارت کاری مفلوج ہو جائے، تو ضمیر اپنا خود راستہ بنا لیتا ہے۔

ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل کراچی 13 فروری 2026

ہفت روزہ دعوت  دہلی 13 فروری 2026

ہفت روزہ رہبر سرینگر 15 فرروری 2026


 

 

Thursday, February 5, 2026

 

ایپسٹین فائلز: طاقت، راز اور احتساب سے ماورا اشرافیہ

معروف امریکی سرمایہ کار جیفری ایبسٹین (Jeffrey Epstein) بظاہر دولت، فلاحی سرگرمیوں اور بااثر سماجی حلقوں سے وابستہ تھا، مگر حقیقت میں اس کا نام کم عمر لڑکیوں کے جنسی استحصال اور منظم جرائم کے ایک ہولناک نیٹ ورک سے جُڑا پایا گیا۔ ایپسٹین کو  2019 میں گرفتار کیا گیا جسکے بعد یہ  محض ایک فوجداری مقدمہ نہ رہا بلکہ طاقت، سیاست اور احتساب کے عالمی نظام پر ایک سنجیدہ سوال بن گیا اور امریکی محکمہ انصاف (DOJ) نے اس کیس سے متعلق تمام مواد کو تحفظ اور تحقیقات کی ضروریات کی وجہ سے خفیہ (sealed) رکھا۔ اس مقدمے کی نوعیت بچوں کے جنسی استحصال، منظم بردہ فروشی اور بااثر افراد کے ممکنہ روابط پر مشتمل تھی، جس کے باعث دنیا بھر میں شدید ردِعمل سامنے آیا۔ معلومات اور تفتیشی ریکارڈ کا طویل عرصے تک صیغہ راز میں رہنے سے عوامی سطح پر شکوک و شبہات پیدا ہوئے۔ ماضی کے عدالتی فیصلے اور 2008 میں دی جانے والی غیر معمولی طور پر نرم سزا سخت تنقید کا نشانہ بنی۔

امریکی کانگریس، شفافیت کی قرارداد اور قانون سازی

گزشتہ برس امریکی کانگریس نے Epstein Files Transparency Act متعارف کروایا، جس کا مقصد غیر خفیہ (unclassified) ایبسٹین فائلز کو اشاعت عام کیلئے جاری کرنا تھا۔مسودہ قانون میں بہت وضاحت سے کہا گیا کہ تمام غیر خفیہ مواد 30 دنوں میں شایع کردیا جائے گا اور کسی بھی نام یا مواد کو صرف “امکانی نقصان” یا سیاسی حساسیت کی بنیاد پر چُھپایا نہ جائے ۔ امریکی ایوان نمائندگان نے اسے ایک کے مقابلے میں 427 ووٹوں سے منطور کیا جبک سینٹ میں اس پر کامل اتفاق پایا گیا۔ جسکے بعد صدر ٹرمپ نے دستخط کر کے  بل کو  قانونی شکل دے دی

دستاویزات کی  مرحلہ وار اشاعت:

قانون کے تحت محکمۂ انصاف کو تمام غیر خفیہ ریکارڈز، خطوط، تحقیقات اور برقی خطوط (ای میلز) مقررہ مدت میں منظرِ عام پر لانا تھا۔

پہلا مرحلہ (19 دسمبر 2025):

اس روز لاکھوں صفحات، ہزاروں تصاویر اور بصری تراشوں پر مشتمل مواد کا پہلا بڑا حصہ جاری کیا گیا، جن میں عدالتی ریکارڈ، خطوط، فلائٹ لاگز (پروازوں کا ریکارڈ) اور بعض نئی تصاویر شامل تھیں۔ تاہم متعدد قانون سازوں اور متاثرین کا موقف تھا کہ کئی فائلز مکمل طور پر سامنے نہیں آئیں۔

دوسرا مرحلہ: (30 جنوری 2026):

دوسری قسط میں تقریباً پینتیس لاکھ صفحات جاری کئے گئے، جن میں خط و کتابت، تصاویر، دستاویزی مواد، ای میلز اور فلائٹ لاگز شامل تھے۔ اگرچہ مزید معلومات سامنے آئیں، مگر ناقدین کے نزدیک اہم مواد کا ایک حصہ اب بھی محفوظ رکھا گیا۔

گمان سے پرہیز لازم ہیں

ایبسٹین فائلز کا مواد نہایت وسیع اور متنوع ہے۔ اس میں ایبسٹین کی سفری دستاویزات، جہازوں کے بورڈنگ کارڈ، مسافروں کی فہرستیں، ہوٹلوں میں قیام کی تفصیلات، معمولی ملاقاتوں اور سرسری ملاقاتوں کا ذکر بھی شامل ہے۔ اس نوعیت کا کوئی بھی اندراج بذاتِ خود  کسی مثبت کردار کا ثبوت ہے اور نہ ہی منفی۔ اس کا مطلب محض یہ ہے کہ کسی مرحلے پر متعلقہ فرد کا ایبسٹین یا اس کے نیٹ ورک سے کسی نہ کسی سطح پر رابطہ یا گفتگو ہوئی۔

ان دستاویزات میں امریکی صدور، برطانوی شاہی خاندان کے بعض افراد اور دنیا کی متعدد معروف شخصیات کے حوالے موجود ہیں، حتیٰ کہ بعض مواقع پر ایبسٹین کی جانب سے راہ چلتے افراد پر غیر شائستہ تبصرے بھی ریکارڈ کا حصہ بنے ہیں۔ اس تمام مواد کی اہمیت افراد کی فہرست سے زیادہ اس غیر معمولی رسائی میں مضمر ہے جو ایبسٹین کو عالمی اشرافیہ تک حاصل تھی۔

اسی تناظر میں عمران خان، سابق وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی سمیت چند معروف پاکستانی شخصیات کا ذکر بھی سامنے آیا ہے، تاہم کسی بھی مواد میں ان میں سے کسی پر الزام، کردار کشی یا نجی زندگی سے متعلق کوئی منفی بات موجود نہیں۔ محض کسی نام کا آ جانا، اسے ایبسٹین کے جرائم یا سہولت کاری سے جوڑ دینا صریح بدگمانی اور ناانصافی ہے۔

اصل سوال: فرد یا نظام؟

ایبسٹین فائلز دراصل ایک بڑے سوال کو جنم دیتی ہیں۔ یعنی ایک ایسا شخص، جس پر سنگین الزامات تھے، وہ دہائیوں تک عالمی اشرافیہ میں آزادانہ کیوں گھومتا رہا؟ کیا یہ محض اس کی ذاتی چالاکی تھی، یا اسے کسی ایسے نظامی تحفظ (structural protection) کا سہارا حاصل تھا جو عام شہریوں کے لئے کبھی دستیاب نہیں ہوتا؟

امریکہ اور دیگر مغربی ریاستوں میں یہ بحث شدت اختیار کر چکی ہے کہ آیا ایبسٹین محض ایک فرد تھا یا کسی بڑے، منظم نیٹ ورک کا حصہ۔ یہی وہ مقام ہے جہاں Deep State کی اصطلاح  سیاسی نعرے سے بلند ہوکر ایک سنجیدہ سوال کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔ کیا ایبسٹین بعض طاقتور حلقوں کے لئے تعلقات جوڑنے، معلومات اکٹھی کرنے یا دباؤ کے غیر اعلانیہ ذرائع فراہم کرنے والا کردار ادا کرتا تھا؟ اور اگر ایسا تھا تو پھر اس نیٹ ورک کے دیگر کردار کہاں ہیں؟

ایبسٹین 10 اگست 2019 کو نیویارک کی جیل میں مردہ پایا گیا۔ جیل حکام کے مطابق اس نے خودکشی کی تھی۔ لیکن یہ واردات آج بھی شک و شبہات میں گھری ہوئی ہے۔ نگرانی کے کیمروں کا ناکارہ ہونا، سکیورٹی اہلکاروں کی غفلت اور ریکارڈ کی عدم دستیابی نے عام لوگوں کے ذہن میں یہ سوال پیدا کر دیا کہ  یہ واقعی خودکشی تھی یا پھر ایک ایسا انجام جس نے کئی طاقتور شخصیتوں کو تحفظ فراہم کردیا۔

ایبسٹین فائلز کا سب سے تشویشناک پہلو یہی ہے کہ انکشافات کے باوجود طاقت کے اصل مراکز تاحال واضح طور پر جواب دہ نظر نہیں آتے۔ بحث ہوتی ہے، میڈیا میں شور اٹھتا ہے، مگر بالآخر معاملہ قانونی موشگافیوں اور سیاسی تقسیم کے دبیز پردوں میں دب جاتا ہے۔ نظام کی اپنے بقا کی خاطر خاموشی اختیار کرلینے سے،  انصاف متاثرین کے لئے محض ایک تسلی بن کر رہ  گیا ہے۔

تاریخ گواہ ہے کہ جب ریاستیں اپنے بااثر طبقات کا احتساب کرنے میں ناکام ہو جائیں تو اس کا انجام محض قانونی بحران نہیں بلکہ اخلاقی زوال کی صورت میں نکلتا ہے۔ ایبسٹین فائلز اسی زوال کی علامت ہیں،جہاں جرم سے زیادہ خوفناک بات جرم کی اجتماعی پردہ پوشی ہے۔

یہ معاملہ اب چند ناموں یا ایک فرد تک محدود نہیں رہا۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا 'مہذب دنیا'  میں قانون واقعی سب کے لئے برابر ہے، یا طاقتور حلقے ہمیشہ کی طرح احتساب سے بالاتر رہیں گے؟ ایبسٹین مر چکا ہے، مگر ایبسٹین فائلز زندہ ہیں اور وہ سوال بھی، جن سے فرار اب شاید پہلے جتنا آسان نہیں رہا۔

ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل کراچی 6 فروری 2026

ہفت روزہ دعوت دہلی 6 فروری 2026

ہفت روزہ رہبر سرینگر 8 فروری 2026


 

اسرائیلی معاشرہ       ۔۔۔فتح کے دعوے، شکست کا احساس

مجلسِ السلام (Board of Peace) کے تاسیسی اجلاس کے بعد سے بظاہر "امن کے محاذ" پر غیر معمولی خاموشی ہے۔ شاید اس لئے کہ خود ساختہ پیامبرِ امن اسی خاموشی کے سائے میں ایک خوفناک بحری قافلے کے ساتھ ایران پر چڑھ دوڑنے کی تیاری کررہے ہیں۔ بیرحم طاقت و سیاست میں امن کے بلند بانگ دعوے اکثر توپ و تفنگ کی گھن گرج میں دب جاتے ہیں۔

غزہ سے متعلق نام نہاد امن معاہدے کا کھوکھلا پن اس وقت پوری طرح بے نقاب ہو گیا جب 29 جنوری کو مزاحمتی دھڑے کے ایک سینئر رہنما نے الجزیرہ سے گفتگو میں واضح کیا کہ اہلِ غزہ نے کبھی غیر مسلح ہونے پر اتفاق نہیں کیا۔ انکاکہنا تھا کہ امریکہ اور نہ ہی ثالثوں نے ہتھیاروں کے معاملے پر کوئی براہِ راست بات چیت کی، اس لئے کسی ایسے مطالبے پر گفتگو ممکن ہی نہیں جس کی نوعیت اور مقصد مبہم ہو۔ یہ مؤقف اسرائیلی وزیراعظم اور امریکی صدر کے اس دعوے سے براہِ راست متصادم ہے کہ جنگ بندی کے دوسرے مرحلے میں مزاحمتی دھڑے غیر مسلح ہوجائیں گے۔

یہ اعلان کسی سنجیدہ تجزیہ نگار کے لیے حیران کن نہیں۔ دنیا کی کسی بھی جنگ یا تنازعے میں پائیدار پیش رفت اس وقت تک ممکن نہیں جب تک تمام فریقین ایک ہی میز پر موجود نہ ہوں۔ غزہ کے معاملے میں یہ بنیادی اصول کبھی اپنایا ہی نہیں گیا۔

جنگ بندی کا فریب اور نیتن یاہو کی جھینپ

مزاحمتی قیادت کے اس دوٹوک مؤقف نے وزیراعظم نیتن یاہو کو سبکی سے دوچار کیا جوآخری اسرائیلی کی باقیات کی واپسی پر فتح کے دعوے کر رہے تھے۔ شرمندگی مٹانے کے لئے 31 جنوری کو اسرائیلی فضائیہ نے غزہ کے کم از کم سات مقامات پر بمباری کی۔ کئی پناہ گزین خیموں میں آگ بھڑک اٹھی اور چھ بچوں سمیت 32 فلسطینی جاں بحق ہوئے۔ یہ کارروائیاں اس حقیقت کی یاد دہانی تھیں کہ جنگ بندی کا بیانیہ زمینی حقائق سے بہت دور ہے۔

اسرائیلیوں کا فتح پر عدمِ یقین

انتہا پسند حلقوں کی شیخی اپنی جگہ لیکن فتح کے نعروں کو خود اسرائیل کے اندر بھی پذیرائی حاصل نہیں۔ چینل 12 اور ٹائمز آف اسرائیل کے عبرانی روزنامے زمانِ اسرائیل (Zman Yisrael) کے 29 جنوری کو شائع ہونے والے جائزے سے پتہ چلا  کہ ایک تہائی سے بھی کم اسرائیلی اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ ان کی فوج نے غزہ میں فتح حاصل کی ہے۔ یہ رائے سیاسی تقسیم سے بالاتر ہے۔ دائیں بازو کے سخت گیر حلقے ہوں یا لبرل و سیکولر طبقہ، سوچ تقریباً یکساں ہے۔صرف 29 فیصد اسرائیلی خود کو فاتح سمجھتے ہیں، 54 فیصد کے نزدیک اسرائیل کو کوئی کامیابی حاصل نہیں ہوئی، جبکہ 17 فیصد نے رائے دینے سے گریز کیا۔ جہاں تک اہلِ غزہ کے غیر مسلح ہونے کا سوال ہے تو مجموعی طور پر صرف 17 فیصد اسرائیلی اسے ممکن سمجھتے ہیں۔ البتہ حکومتی اتحاد کے حامیوں میں سے 29 فیصد اس خوش فہمی میں مبتلا ہیں کہ مزاحمت کار ہتھیار ڈال دیں گے۔یہ جائزہ اسرائیلی معاشرے میں پائی جانے والی گہری بے یقینی کی عکاسی کرتا ہے۔

ذہنی صحت کا بحران: ایک خاموش شکست

جنگ کے نتائج پر اسرائیلی عوام کا شک و شبہ بے بنیاد نہیں ۔امریکی جریدے بلومبرگ (Bloomberg) کے مطابق اسرائیل کو اپنی تاریخ کے بدترین ذہنی صحت کے بحران کا سامنا ہے۔ ہزاروں فوجی اور عام شہری شدید اضطراب، نفسیاتی صدمات اور PTSD میں مبتلا ہیں، اور یہ تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے۔ جب کوئی معاشرہ دوسروں کی انسانیت کو روند کر تشدد کو اپنی شناخت بنا لے تو وہ اپنی روحانی اور ذہنی تندرستی بھی کھو دیتا ہے۔ یہ بحران صرف جسمانی نہیں بلکہ گہرے نفسیاتی اور اخلاقی پہلو بھی رکھتا ہے۔

خوف بطور انتخابی سرمایہ

اس المئے کی تلخ حقیقت یہ ہے کہ خوف اور عدمِ تحفظ کا ماحول دائیں بازو کی سیاست کے لیے انتخابی ایندھن بن چکا ہے۔ غرب اردن کی جامعہ ایریل(Ariel University) میں نفسیات اور سماجی علوم کی پروفیسر یافِت لیون (Yafit Levin)کہتی ہیں کہ 'لوگ بقا کے موڈ میں چلے گئے ہیں، اور یہ کیفیت دائیں بازو کے لئے سیاسی فائدہ بن سکتی ہے'۔ معاشرے میں جنگ، سخت گیری اور جارحیت کو "سلامتی" کے نام پر قابلِ قبول بنا دیا گیا ہے۔ فلسطینیوں پر ظلم اب  انسانی سانحہ نہیں رہا بلکہ سیاسی سرمایہ بن چکا ہے۔

داخلی سیاسی بحران اور بجٹ کی جنگ

اسرائیل میں قدامت پسند اور لبرل حلقوں کے درمیان کشمکش عروج پر ہے۔ کشیدگی کے نتیجے میں 2026 کا قومی بجٹ تاحال منظور نہیں ہو سکا۔ اگر مارچ کے اختتام تک بجٹ منظور نہ ہوا تو حکومت تحلیل ہو جائے گی اور قبل از وقت انتخابات ناگزیر ہوں گے۔ بجٹ بحران کی بنیادی وجہ لازمی فوجی بھرتی کے قانون پر اختلاف ہے۔ حریدی طبقہ توریت مدارس کے طلبہ کے لئے فوجی خدمت سے استثنا چاہتا ہے، جبکہ لبرل حلقے اسے ناانصافی قرار دیتے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق 180 ارب ڈالر کے مجموعی بجٹ میں 35 ارب ڈالر دفاعی و جنگی اخراجات کے لئے مختص کیے گئے ہیں، تاکہ سخت گیر وزرا اتامر بن گویر اور بیزلیل اسموترچ کو مطمئن رکھا جا سکے، لیکن حریدی جماعتیں بھرتی کے معاملے پر کسی لچک کے لئےتیار نہیں۔

غزہ اور غربِ اردن: تباہی کا تسلسل

اسرائیلی فوج نے غزہ میں رہائشی عمارات کے ساتھ اسپتالوں، اسکولوں، بجلی گھروں اور بنیادی ڈھانچے کو چن چن کر تباہ کیا۔ پناہ گزین خیمے بھی حملوں سے محفوظ نہ رہے اور اب قبرستانوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ مغربی کنارے پر بھی فلسطینیوں پر حملے، بیدخلی اور املاک کی تباہی جاری ہے۔ الخلیل، جنین، نابلوس اور مشرقی یروشلم میں گھروں، گاڑیوں اور باغات  کو نذرِ آتش کیا گیا، جبکہ زیتون کے باغات، جو فلسطینی معیشت اور شناخت کی علامت ہیں۔ خاص طور پر نشانہ بنے۔

امتِ مسلم سوتی ہے، مسجد اقصیٰ روتی ہے

القدس شریف کی اسلامی شناخت مٹانے کا سلسلہ تیز ہو چکا ہے۔ گزشتہ ہفتے اسرائیلی پولیس نے یہودی زائرین کو دعائیہ متن کے ساتھ الاقصیٰ جانے کی اجازت دے دی، جو 1967 کے اسٹیٹس کو (Status Que)معاہدے کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ اب مسجد اقصیٰ سے متصل فلسطینی آبادی کو مارچ تک مکانات خالی کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔یہودی زائرین کی دراندازی کے بعد مسجد اقصٰی سے لگے علاقے میں اسرائیلیوں کی آبادکاری، یہاں کی مذہبی، معاشرتی اور ثقافتی شناخت ختم کرنے کا اعلان ہے۔

عالمی حمایت اور اخلاقی دیوالیہ پن

انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے باوجود امریکی حمایت میں کوئی کمی نہیں آئی۔ گزشتہ ہفتے امریکی وزاتِ جنگ نے اسرائیل کو ساڑھے چھ ارب ڈالر مالیت کے اسلحے کی منظوری دےدی۔ ایک طرف امریکی عوام بنیادی سہولتوں سے محروم ہیں، دوسری جانب انہی کے ٹیکس سے جنگ کو ایندھن فراہم کیا جا رہا ہے۔

جمہوریت کا بحران: فلسطین سے الجزائر، مصروایران تک

مقتدرہ فلسطین (PA) غزہ اور غربِ اردن میں مظالم روکنے میں ناکام رہی، مگر اس نے مزاحمتی جماعت کو بلدیاتی انتخابات میں حصہ لینے سے روک دیا۔ یہ وہی طرزِ عمل ہے جو الجزائر، مصر اور ایران میں  دہرایا جاچکا ہے۔ یہ بات اب کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ جب Ballot کا پُرامن راستہ بند کر دیا جاتا ہے تو پھر Bullet کے دروازے کھلتے ہیں، اور اس کے ساتھ ہی مغربی دنیا کی اسلحہ ساز کمپنیوں کی نفع بخش تجوریاں بھی۔

مزاحمت اور امید کی کرن

تباہی کے باوجود فلسطینیوں کے اعصاب حیرت انگیز طور پر مضبوط ہیں۔ اسرائیل نے تعلیمی ادارے تباہ کردئے، لیکن خیموں میں 110 اسکول قائم ہو چکے ہیں جہاں ایک لاکھ سے زائد بچے تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ یونیسف (UNICEF)نے طلبہ کی تعداد کو اس سال ساڑھے تین لاکھ سے زیادہ کردینے کا منصوبہ بنایا ہے۔

یہ جنگ فلسطینیوں کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا گئی، لیکن یہ خونریزی اسرائیلی معاشرے کو بھی ایک ایسی اخلاقی، نفسیاتی اور سیاسی دلدل میں دھکیل چکی ہے ،جہاں فتح کا دعویٰ کھوکھلا اور مستقبل غیریقینی ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ طاقت کے زور پر دبائے گئے سچ دیر تک چھپےنہیں رہتے۔

ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل کراچی 6 فروری 2026

ہفت روزہ دعوت دہلی 6 فروری 2026

ہفت روزہ رہبر سرینگر 8 فروری 2026