امن کے وعدے، جنگ کی حقیقت اور انسانیت کا سوال
امریکہ میں جاری مذاکرات، سفارتی سرگرمیوں
اور Board of
Peace کی
نشستوں کے باوجود لبنان، غزہ اور غربِ اردن کی زمینی صورتِ حال میں کسی پائیدار
مثبت تبدیلی کے آثار دکھائی نہیں دیتے۔ واشنگٹن میں امن کے نقشے بن رہے ہیں، لیکن
خطے میں بم گر رہے ہیں، گھر مسمار ہورہے ہیں اور بے گھر ہونے والوں کی تعداد بڑھ
رہی ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ مذاکرات کی میز اور میدانِ جنگ کے درمیان فاصلہ کم
ہونے کے بجائے بڑھتا جارہا ہے۔
جنوبی
لبنان میں پھر بارود
جنوبی لبنان میں اسرائیلی حملوں کا سلسلہ
بدستور جاری ہے۔ پندرہ اگست کو اسرائیلی فضائی حملوں میں کم از کم 11 افراد جاں
بحق ہوئے، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل تھے۔ یہ واقعہ جون کی جنگ بندی کے بعد
لبنان میں خونریز ترین دنوں میں شمار کیا جارہا ہے۔
غزہ میں امن کی شرط: حماس کا مکمل غیر مسلح ہونا
اسرائیل کے لئے حماس کا مکمل غیر مسلح ہونا فوجی انخلا کی بنیادی شرط
بن چکا ہے، جبکہ حماس اس کے بدلے اسرائیلی انخلا اور جنگ بندی کی اپنی شرائط پر
قائم ہے۔ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے امریکی منصوبے میں موجود مرحلہ وار انخلا
کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اسرائیل حماس کے مکمل غیر مسلح ہونے سے پہلے
فوجی انخلا قبول نہیں کرے گا۔ اس ہفتے اسرائیلی بمباری اور ڈرون حملوں نے غزہ شہر
اور خان یونس میں کئی افراد کی جان لے لی۔
ایک اور 7 اکتوبر کا شوشہ؟
اسی ماحول میں غزہ سے ایک نئے
’’7 اکتوبر‘‘ کی بازگشت بھی سنائی دینے لگی ہے۔ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق
نگرانی کرنے والی اسرائیلی فوجی اہلکاروں نے غزہ کے اندر مسلح سرگرمیوں کی
نشاندہی کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ صورتِ حال انہیں 7 اکتوبر 2023 سے پہلے کے
حالات کی یاد دلا رہی ہے۔ کسی نئے بڑے حملے کی نہ کوئی واضح اطلاع سامنے آئی ہے،
نہ تاریخ اور نہ ہی کوئی مصدقہ منصوبہ۔ فی الحال معاملہ ان اہلکاروں کی
’’تشویش‘‘ اور ان اطلاعات تک محدود ہے کہ جن کی تنبیہ 7 اکتوبر سے پہلے نظرانداز
کردی گئی تھی۔ یہ خواتین اہلکار اب دوبارہ خطرے کی گھنٹی بجا رہی ہیں۔ یہاں معاملہ
کچھ حد تک ایران جیسا دکھائی دیتا ہے۔ صدر ٹرمپ ایک طرف سینہ پھلا کر پاسدارانِ
انقلاب کی بربادی اور ایرانی فوج کو فنا کردینے کا دعویٰ کرتے ہیں، تو دوسری طرف
اسی ’’مدفون‘‘ دشمن کے ممکنہ خطرے کے باعث اپنے سفر کے دوران طیارہ تبدیل کرنے
جیسے انتہائی حفاظتی اقدامات بھی کرتے ہیں۔
نیتن یاہو مُصر ہیں کہ غزہ مزاحمت کار مٹادئے گئے لیکن اب نئے حملے
کا شوشہ۔ پیالی میں اٹھائے جانیوالے ان
طوفانوں کو امریکہ کے وسط مدتی اور اسرائیل کے قومی انتخابات کے حوالے میں سمجھنے
کی ضرورت ہے۔تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ
اسرائیل میں انتخابات سے پہلے ’’حماس کا خطرہ‘‘ ایک بار پھر سیاسی بیانیے کا حصہ
بن رہا ہے۔
جب
دشمن انسان نہ رہے
اس تناظر میں اسرائیلی وزیر اتمار بن گویر
کے بیان سے اسرائیل کی نیت کا اظہار ہوتا ہے۔ غزہ پر بمباری میں کمی کو
شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انھوں نے کہا کہ اسرائیل کو ہر رات 30 سے 40 افراد
کو ہدف بنا کر قتل کرنا چاہیے۔ بن گوئر کا کہنا تھا کہ 'صرف ان لوگوں کو نہیں جو
فوری خطرہ ہیں۔ نہیں، وہاں ایسے لوگ بھی ہیں جو زندگی کے قابل نہیں۔ انہیں زندہ
نہیں رہنا چاہیے۔ وہ تو انسان بھی نہیں ہیں'۔ حوالہ: ٹائمز آف اسرائیل
بمباری
کے بیچ انگور کی فصل
لیکن غزہ کی کہانی صرف بمباری، بھوک اور
بربادی کی داستان نہیں۔ اہلِ غزہ کا حوصلہ بھی تاریخ کا ایک اہم باب ہے۔ غزہ شہر
میں بمباروں کی گھن گرج کے دوران کسانوں نے روایتی جوش و خروش سے انگور کی فصل
کاٹی۔ جنگ، آب پاشی کے تباہ شدہ نظام اور
وسائل کی شدید کمی کے باعث اس سال بہت کم رقبہ زیرِ کاشت آسکا، مگر جتنی فصل ہوئی،
اس کی کٹائی بھی شکرانے اور حمد کے ترانوں کے ساتھ ہوئی اور چند لمحوں کے لئے جنگ
زدہ لوگوں کے چہروں پر مسکراہٹ آگئی۔ اس پر تبصرہ کرتے ہوئےکسی نے کیا خوب کہا کہ ’’ان کے بزرگ تلواروں کے سائے میں نماز ادا
کرتے تھے، آج یہ کسان بمباروں اور ڈرونوں کے سائے میں فصل کاٹ رہے ہیں
غربِ اردن: حملے، بے دخلی، آتشزدگی اور معصوم بچوں کی آنکھوں میں مرچ
کا اسپرے
غربِ اردن میں بھی قبضہ گردوں
کی کارروائیاں جاری ہیں۔ کہیں فلسطینی گھروں کو مسمار کیا جارہا ہے، زمینوں پر قبضے کے لیے دباؤ بڑھایا جارہا
ہے تو کہیں گھروں کے مکینوں کو محاصرے کے
ذریعے ہجرت پر مجبور کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ کئی خاندانوں نے گھر مسمار ہونے کے
بعد اسی ملبے پر خیمے گاڑ کر نئی زندگی شروع کردی ہے۔ ان کا کہنا ہے: گھر رہے نہ رہے، ہم اپنا وطن
نہیں چھوڑیں گے۔ الخلیل (Hebron) کے اطراف میں بھی فلسطینی
مکانات اور زرعی ڈھانچوں کی مسماری اور تعمیراتی پابندیوں کا سلسلہ جاری ہے۔
رام اللہ کے
مضافاتی علاقے ترمسعيّا میں قبضہ گردوں نے کھڑی فصلیں جلادیں۔ عینی شاہدین کے
مطابق اسرائیلی فوج نے فلسطینی فائربریگیڈ اور ایمبیولنسوں کا راستہ اسوقت تک روکے
رکھا جب تک کھیت جل کر خاک نہ ہوگئے۔ بیت اللحم میں ایک گاڑی روک
کر معصوم فلسطینی بچے کی آنکھوں میں سرخ مرچوں کا اسپرے کردیا گیا۔ بچے کی دونوں
آنکھیں شدید زخمی اوراسکی بینائی ضائع ہونے کا خطرہ ہے
قصرہ:
محاصرہ گھر کا یا خاندان کا؟
کئی علاقوں میں گھر خالی نہ کرنے والے
فلسطینیوں کے مکانوں کا محاصرہ کرکے پورے خاندانوں پر دباؤ ڈالا جارہا ہے۔ نابلوس
کے قصبے قصرہ میں مسلح آبادکاروں نے یوسف حسن کے گھر کا محاصرہ کرلیا۔ قبضہ گردوں نے
گھر کے مرکزی دروازے کے سامنے ایک عارضی ڈھانچہ کھڑا کردیا، جس کے باعث حسن، ان کی
اہلیہ اور ان کی دو کم سن بیٹیاں، جن کی عمریں صرف دو اور چار سال ہیں، گھر سے
باہر نہیں نکل سکتے تھے اور نہ کوئی شخص اندر داخل ہوسکتا تھا۔یوسف نے گھر کے اندر
سے فون پر بتایا کہ بجلی کی تاریں بھی کاٹ دی گئی ہیں۔ ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق
اسرائیلی فوجی موقع پر پہنچے، آبادکاروں کے ساتھ گفتگو کی اور واپس چلے گئے، جبکہ
خاندان کا محاصرہ ختم نہیں کرایا گیا۔ اس خبر پر اسرائیل میں امریکہ کے سفیر مائک
ہکابی کو بھی شدید تشویش ہوئی، جو خود اسرائیلی آبادکاری کے پرجوش حامی سمجھے جاتے
ہیں۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر محاصرہ کرنے والے آبادکاروں کو ’’اسرائیلی دہشت گرد‘‘
قرار دیتے ہوئے اسرائیلی فوج سے مداخلت کی درخواست کی۔ جناب ہکابی کی التجا پر اسرائیلی فوج وہاں پہنچی اور آبادکاروں کو
ہٹانے کے بجائے 15 فلسطینی گھروں سے مکینوں کو نکال دیا گیا۔ یعنی جن لوگوں نے فلسطینی
گھروں کا محاصرہ کیا، ان کی گوشمالی کے بجائے محصور فلسطینیوں ہی اپنے گھروں سے بیدخل
کردئے گئے۔ محاصرے کا مقصد فلسطینوں کو ان کے گھروں سے نکالنا تھا۔ قبضہ گردوں کا
یہ ہدف سرکاری بندوقوں سے حاصل کرلیا گیا۔
سبت کی حرمت اور محصور بچیاں
اس واقعے سے ایک عجیب تضاد بھی
نمایاں ہوا۔ یوسف کے خاندن کو یرغمال بنانے کا واقعہ سبت کو پیش آیا۔ سبت (ہفتے)
کے دن چھری سے سبزی کاٹنا بھی منع
ہے، لیکن شدید گرمی میں معصوم فلسطینی بچیوں کے گھر کی بجلی اور پانی بند کردینا
جائز
غزہ کا کسان بمباروں کے سائے میں انگور کا
خوشہ کاٹ کر ہمیں بتارہا ہے کہ زندگی ابھی ہاری نہیں۔ قصرہ کا محصور خاندان ملبے
اور بند دروازوں کے درمیان کہہ رہا ہے کہ گھر چھن جائے تو بھی وطن نہیں چھوڑیں گے۔
لبنان کے ملبے سے اٹھتا دھواں خبر دے رہا ہے کہ جنگ بندی کے الفاظ ابھی زمینی
حقیقت نہیں بنے اور بن گویر کے الفاظ سے لگتا ہے کہ غزہ نسل کشی اپنے خطرناک ترین
مرحلے میں داخل ہوچکی ہے۔ امن صرف میز پر بیٹھنے سے نہیں آتا۔ امن کے لیے
بندوق کو خاموش، محاصرہ ختم، گھر محفوظ اور انسان کو انسان سمجھنا ضروری ہے۔
ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل کراچی 21 اگست 2026
ہفت روزہ دعوت دہلی 21 اگست 2026
ہفت روزہ رہبر سرینگر 23 اگست 2026