اسلام
آباد مذاکرات: ناکامی، ابہام اور جنگ کے سائے
سرخ لکیروں کا تصادم ، سفارت کاری کی شکست
اسلام آباد میں ایران اور امریکہ کے درمیان
ہونے والے مذاکرات کو ایک فیصلہ کن موڑ قرار دیا جا رہا تھا، مگر 21 گھنٹوں پر
محیط یہ طویل نشست کسی ٹھوس نتیجے کے بغیر اختتام پذیر ہوگئی۔ سوال یہ نہیں کہ
مذاکرات ناکام کیوں ہوئے، بلکہ یہ ہے کہ کیا واقعی ان کی کامیابی مطلوب بھی تھی؟
سرخ دیواریں
طویل دورانئے کے مذاکرات کے بعد امریکی
نائب صدر جے ڈی وانس اپنے
وفد کے ہمراہ وطن واپس چلے گئے۔ روانگی سے قبل مختصر پریس کانفرنس میں ان کا کہنا
تھا کہ “ہمارے لئے ایران کی اور ان کے لئے ہماری ریڈ لائنز ناقابلِ قبول ہیں، تاہم
بعض دیگر امور پر پیش رفت ہوئی ہے۔”
ابتدائی اطلاعات کے مطابق ایرانی مؤقف خاصا
واضح اور سخت تھا۔ تہران کی جانب سے آبنائے ہرمز پر مکمل خودمختاری، افزودہ
یورینیم کی ملکیت، ایران اور اس کے اتحادیوں کے خلاف جارحیت کا خاتمہ، جنگی تاوان
کی ادائیگی، منجمد اثاثوں کی واپسی اور پابندیوں کے خاتمے جیسے مطالبات پیش کئے
گئے۔ دوسری جانب امریکہ افزودہ یورینیم کی حوالگی اور آبنائے ہرمز میں بلا رکاوٹ
جہاز رانی پر مصر تھا۔ گویا ابتدا ہی سے دونوں فریقوں کے درمیان خلیج گہری تھی۔
عدم
اعتماد کا سایہ
پاکستان پہنچنے پر ایرانی وفد کے سربراہ
محمد باقر قالیباف نے واضح کیا کہ وہ پاکستان
کے لئے خیرسگالی اور قدردانی کے طور پر آئے ہیں ورنہ انہیں امریکہ پر
اعتماد نہیں۔ دوسری طرف صدر ٹرمپ کا رویہ
بھی سرد مہری کا عکاس تھا۔ انھوں نے صاف صاف کہا کہ مذاکرات کامیاب ہوں یا ناکام،
انہیں کوئی فرق نہیں پڑتا کیونکہ “واشنگٹن جنگ جیت چکا ہے۔” بے نیازی کے اس ماحول
میں کسی سنجیدہ پیش رفت کی توقع کم ہی رہ جاتی ہے۔ایرانی وفد کی جانب سے کہا گیا
کہ تکنیکی ماہرین دستاویزات کا جائزہ لے رہے ہیں اور مذاکرات جاری رہیں گے، لیکن
امریکی وفد کی عجلت میں واپسی نے اس عمل کی سنجیدگی پر سوال اٹھا دئے۔
ایران کیساتھ مذاکرات میں
ٹرمپ انتظامیہ نے کبھی بھی سنجیدگی نہں دکھائی۔ گزشتہ برس جوہری مسئلے پر مذاکرات
جاری ہی تھے کہ امریکہ نے تیشہ نیم شب یا Mid Night Hammerنامی آپریشن کے ذریعے ایران کی جوہری تنصیبات
کو صدر ٹرمپ کے الفاظ میں Obliterateیا خاک
کردیا۔ اسکے بعد فروری میں مذاکرات کی میز عمان کی ثالثی میں دوبارہ بچھائی گئی اور 27 فروری کو ایک مرحلے کے اختتام پر صدرٹرمپ کے ایلچی اسٹیو وٹکاف نے کہا
کہ ہم مذاکرات کے مثبت اختتام کی طرف پیش قدمی کررہے ہیں کہ 28 فروری کو صدر ٹرمپ
نے اسرائیل کیساتھ مل کر قہر عظیم یا Epic Furyنازل
کردیا
اسرائیل:
پسِ پردہ مگر مرکزی کردار
اس پورے تناظر میں اسرائیل کا کردار نہایت
اہم ہے۔ وزیرِاعظم بن یامین نیتن یاہو پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ جنگ بندی ان کے لیے
حتمی منزل نہیں بلکہ ایک مرحلہ ہے، اور اسرائیل کسی بھی وقت جنگ دوبارہ شروع کرنے
کے لیے تیار ہے۔تجزیہ کاروں کے مطابق اسرائیل کے اہداف میں ایران کے اسلامی تشخص کا خاتمہ اور خطے میں توانائی
کے ذخائر پر اثر و رسوخ بڑھانا شامل ہے۔ امریکی سیاست پر نظر رکھنے والے ماہرین
جانتے ہیں کہ واشنگٹں کیلئے اسرائیل کی مرضی کے بغیر کوئی فیصلہ کرنا ممکن نہیں۔ صدر
ٹرمپ بظاہر کتنے ہی مضبوط و خودمختار کیوں نہ لگیں وہ اسرائیل کی مرضی کے خلاف نہیں جاسکتے۔عسکری
تجزیہ نگاروں کاخیال ہے کہ ایران پر حملے کا فیصلہ نیتن یاہو کا تھا جسے صدر ٹرمپ
نے تسلیم کرلیا۔ یا یوں کہتے کہ وہ ایران میں اسرائیل کی جنگ لڑرہے ہیں۔
ایران کے معاملے میں تل ابیب کی خوشنودی
صدر ٹرمپ کو کتنی عزیز ہے اسکا بہت فخریہ
اظہار نیتن یاہو نے خود کیا۔پیر 13 اپریل کو کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا '
اسلام آباد سے واپسی پر نائب صدر جے ڈی وینس نے طیارے سے فون کرکے مجھے مذاکرات کی
پیش رفت اور گفتگو بے نتیجہ ختم ہوجانے کی تفصیلات بتائیں، بالکل اسی طرح جیسے
ٹرمپ انتظامیہ کے ارکان روزانہ ہمیں بریف کرتے ہیں'
اس پر ڈیموکریٹک پارٹی کے رکن کانگریس مارک پوکن (Mark Pocan)نے بہت بے چارگی سے کہا 'ٹرمپ انتظامیہ ایران جنگ کے
بارے میں امریکی کانگریس اور امریکی عوام کو تو کچھ نہیں بتاتی لیکن اسرائیل کو
روزانہ کی بنیاد پر آگاہی دی جارہی ہے'
آگے کا
راستہ: امن یا تصادم؟
حالیہ صورتحال میں
یہ تاثر مضبوط ہو رہا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کے
لیے سفارت کاری کے مقابلے میں عسکری دباؤ زیادہ اہم ہے۔ دوسری طرف ایران اب بھی
مذاکرات جاری رکھنے کی بات کر رہا ہے، گویا ایک جانب بارود کو ترجیح دی جا رہی ہے،
جبکہ دوسری سِمت امید کا چراغ ابھی بجھا نہیں۔
سوال یہ ہے کہ جب
امریکی نائب صدر اپنے وفد کے ہمراہ واپس
جا چکے تو بات چیت آگے کیسے بڑھے گی؟ کیا رسمی نشست ختم ہونے کے بعد پسِ پردہ اور ڈیجیٹل ذرائع سے نامہ
و پیام کا سلسلہ جاری ہے؟ ان تفصیلات پر ابھی پردہ ہے۔ البتہ اطلاعات ہیں کہ
مذاکرات کے دوران دونوں فریق ایک مرحلے پر آمنے سامنے آئے اور شاید ایک مشترکہ
عشائیہ بھی ہوا۔ چلمن سے باہر آکر ناز و نیاز کے یہ اشارے معنی خیز ہیں۔کیا “Absolutely not” کی تکرار کبھی “maybe” یا “sure” میں
بدل سکتی ہے؟ کیا انکار کے پردے میں اقرار کی کوئی گنجائش موجود ہے؟ یہ ممکن تو ہے
لیکن جب میزِ مذاکرہ اور میدانِ جنگ ساتھ ساتھ چلیں تو امن محض ایک خواہش بن کر رہ
جاتا ہے۔
گیند ایران کے کورٹ میں؟؟
امریکہ واپس آکر جے ڈی
وینس نے فاکس نیوز سے گفتگو میں کہا کہ اب
“گیند ایران کے کورٹ میں ہے” اور اگلا قدم ایران کو اٹھانا ہوگا۔ انہوں نے زور
دیکر کہا کہ اگر ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق امریکہ کی “ریڈ لائنز” تسلیم کر
لی جائیں تو یہ دونوں ممالک کے لیے ایک “بہت اچھا معاہدہ” ثابت ہو سکتا ہے۔ اگر اس
تمام کشمکش کا مرکزی نکتہ جوہری پروگرام ہی ہے تو پھر وہ آزمودہ راستہ کیوں نہیں
اپنایا جاتا جس نے پہلے نتائج دئے تھے۔
دو سال طویل مذاکرات کے بعد 2015 میں Joint Comprehensive
Plan of Action (JCPOA) طئے پایا جسے فارسی میں برجام کہا جاتا ہے ۔اس معاہدے کی امریکی
کانگریس کے دونوں ایوانوں نے غیر معمولی اکثریت سے توثیق کی، اور یہ دو برس تک
مؤثر انداز میں چلتا رہا۔ اقوام متحدہ کی عالمی جوہری توانائی ایجنسی (IAEA) نے متعدد بار ایرانی تنصیبات
کے معائنے کے بعد اس پر اعتماد کا اظہار کیا۔ یہ معاہدہ اس لحاظ سے بھی منفرد تھا
کہ اس پر دنیا کی بڑی طاقتوں کے ساتھ جرمنی نے بھی دستخط کیے، جس کی بنا پر اسے P5+1 کہا جاتا ہے، اور یورپی
ممالک نے اس کی مکمل حمایت کی۔
تاہم صدر ٹرمپ نے اپنے پہلے دورِ اقتدار کے آغاز میں کانگریس سے
مشاورت کے بغیر امریکہ کو اس معاہدے سے علیحدہ کر لیا۔ آج جب دوبارہ “ریڈ لائنز”
اور “ڈیل” کی بات ہو رہی ہے تو JCPOAکو بحال کیوں نہیں کرلیا جاتااور وہ راستہ اختیار کرنے سے گریز کیوں
ہے جس نے پہلے عملی نتائج دیے تھے۔ ہر بار نئے سرے سے اعتماد کی عمارت کھڑی کرنے
کی ضرورت کیوں پیش آتی ہے۔ امن کے لیے صرف شرائط کافی نہیں، تسلسل اور اعتبار بھی
ضروری ہے۔دیکھنا ہے کہ اب اہلِ فارس کی خواہشِ امن
حقیقت کا روپ دھاریگی یاڈانلڈ ٹرمپ اور نیتن یاہو کی حکمتِ عملی ایک اور طویل
تصادم کی تمہید ثابت ہوگی۔
ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل کراچی 17 اپریل 2026
ہفت روزہ دعوت دہلی 17 اپریل 2026
ہفت روزہ رہبر سرینگر 19 اپریل 2026