غزہ تا غربِ اردن :
آبادکاری، انتہاپسندی اور بدلتی ہوئی اسرائیلی سیاست
خلیج
فارس سے لے کر بحیرۂ روم کے مشرقی ساحل تک جنگ کی آگ مسلسل بھڑک رہی ہے۔ ایک طرف
ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لینے کی دھمکیاں دے
رہی ہے تو دوسری جانب غزہ کی پٹی پر مسلط خونریزی کو عالمی مجلسِ امن
(Board of Peace) کی جانب سے اعلان کردہ جنگ بندی بھی نہ روک
سکی۔ غزہ کے طول و عرض پر بمباری، ڈرون حملوں اور زمینی کارروائیوں کا سلسلہ
بدستور جاری ہے۔ انسانی المیہ ہر گزرتے دن کے ساتھ مزید گہرا ہوتا جا رہا ہے۔
عمارتیں ملبے کاڈھیر اوراسپتال ناکارہ ہو چکے ہیں۔ اب بے گھر خاندانوں کے خیمے بھی
محفوظ نہیں رہے۔
جنگ بندی کے باوجود موت کا سفر
غزہ
میں جنگ بندی کے بعد بھی شہری ہلاکتوں کا سلسلہ نہیں تھما۔ کھیلتے ہوئے بچے ہوں،
پانی بھرنے والی خواتین، عبادت میں مصروف نمازی یا امداد کے منتظر شہری، کوئی بھی
محفوظ دکھائی نہیں دیتا۔ گزشتہ ہفتے غزہ کی احمد یاسین مسجد پر بمباری کے بعد
جنازے کے اجتماع کو بھی نشانہ بنایا گیا، جس میں متعدد افراد جاں بحق ہوئے۔ اسی
دوران وسطی غزہ، المغازی کی خیمہ بستی، البریج، دیر البلح، جبالیہ اور خان یونس
سمیت کئی علاقوں میں فضائی حملوں اور فائرنگ سے مزید شہری ہلاک ہوئے، جن میں بڑی
تعداد بچوں کی تھی۔
یہ وہ
جنگ ہے جس میں ہلاکتوں کے درست اعداد و شمار بھی متنازع ہوتے جا رہے ہیں، کیونکہ
بیشتر اسپتال تباہ ہو چکے ہیں، طبی عملہ خود نشانہ بن رہا ہے اور ہزاروں زخمی علاج
کے بغیر اپنے خیموں یا ملبے تلے دم توڑ دیتے ہیں۔ ایک فلسطینی خاتون نے خان یونس
سے سوشل میڈیا پر اپنے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ "پہلے ہمارے بچوں کے
نرم جسم کنکریٹ کے نیچے کچلے گئے، اب یہی بچے شعلہ فشاں خیموں میں زندہ جل رہے
ہیں۔" شاید اس ایک جملے میں غزہ کے موجودہ المیے کی پوری تصویر سمٹ آتی ہے۔
غزہ کا اگلا مرحلہ: کیا آبادکاری کی واپسی
ہونے جا رہی ہے؟
اسرائیلی
دائیں بازو کے انتہا پسند غزہ کے سیاسی اور جغرافیائی مستقبل کی نئی منصوبہ بندی
میں مصروف دکھائی دیتے ہیں۔ حکمران جماعت لیکوڈ کی حمایت یافتہ آبادکار تنظیم
نحالا (Nachala) نے غزہ
میں اسرائیلی بستیاں قائم کرنے کے مطالبے کے لئے ایک بڑا مارچ منظم کیا، جس کی
قیادت حکمران اتحاد سے وابستہ ارکانِ پارلیمان اور بعض وزراء نے کی۔
اگرچہ
اسرائیلی فوج نے غزہ میں داخلے کے تمام راستے بند کرکےجلوس کو فلسطینی آبادی تک نہیں
پہنچنے دیا، لیکن اس مظاہرے کی اصل اہمیت
اس کے سیاسی پیغام میں مضمر ہے۔ پہلی مرتبہ حکمران اتحاد سے تعلق رکھنے والے منتخب
ارکانِ پارلیمان نہ صرف غزہ میں دوبارہ آبادکاری کی کھل کر حمایت کر رہے ہیں بلکہ
اسے اسرائیل کے مستقبل کا ناگزیر حصہ بھی قرار دے رہے ہیں۔
یہ پیش
رفت معمولی نہیں۔ 2005ء میں اسرائیل نے یک طرفہ طور پر غزہ سے اپنی تمام آبادکار
بستیاں ختم کر دی تھیں، لیکن آج تقریباً دو دہائیوں بعد انہی بستیوں کی بحالی کا
مطالبہ حکومتی اتحاد کے اندر سے بلند ہو رہا ہے۔ اگر یہ سوچ سرکاری پالیسی کی شکل
اختیار کرتی ہے تو غزہ کی جنگ صرف سلامتی یا عسکری کارروائی کا مسئلہ نہیں رہے گی
بلکہ مستقل قبضے، آبادیاتی تبدیلی اور نئے جغرافئے کی تشکیل کا معاملہ بھی بن جائے
گی۔
انتخابات اور انتہاپسندی کا باہمی تعلق
اسرائیل
میں متوقع انتخابات نے اس بحث کو مزید اہم بنا دیا ہے۔ گزشتہ چند برسوں میں دائیں
بازو کی جماعتوں کے درمیان مقابلہ زیادہ تر اس بات پر ہوتا رہا ہے کہ فلسطینی
علاقوں کے بارے میں کس کا مؤقف زیادہ سخت ہے۔ ایسے ماحول میں غزہ میں دوبارہ
آبادکاری کا نعرہ صرف ایک نظریاتی مطالبہ نہیں بلکہ ایک مؤثر انتخابی ہتھیار بھی
بن سکتا ہے۔
غربِ اردن: خاموش مگر مسلسل بدلتا ہوا نقشہ
غزہ کے ساتھ غربِ اردن میں بھی زمینی حقائق
تیزی سے تبدیل ہو رہے ہیں۔ اسرائیلی فوج نے گزشتہ ہفتے الخلیل کے مختلف علاقوں کا
محاصرہ کیا اور فلسطینی ذرائع کے مطابق متعدد نوجوانوں کو گرفتار کیا۔ شمالی رام اللہ کے
گاوں دیر الجریر قبضہ گردوں نے مکانوں کو آگ لگادی۔یہ وحشی 70 مویشی بھی ہنکالے
گئے، مزاحمت پر فوج کی فائرنگ سے دو افراد جان بحق ہوگئے۔ اسی دوران اسرائیلی کابینہ نے غرب اردن میں 34 نئی بستیوں کی تعمیر کیلئے 43 کروڑ 40 لاکھ ڈالر کی منظوری
دیدی۔ اسکے نتیجے میں کم از کم 1000 فلسطینی خاندانوں کے بے گھر ہونے کا اندیشہ
ہے۔بادی النظر میں غزہ اور غربِ اردن دو الگ محاذ
ہیں،لیکن حقیقت میں دونوں ایک ہی بڑی
حکمتِ عملی کے مختلف پہلو محسوس ہوتے ہیں۔ یعنی ایک طرف عسکری دباؤ اور دوسری جانب
زمینی حقائق کو مستقل طور پر تبدیل کرنے کی کوشش۔
حوات گیلعاد کی آگ: حادثہ، تفتیش یا ایک
نیا سیاسی بیانیہ؟
اٹھارہ جولائی کو اسرائیلی قبضہ بستی حوات
گیلعاد (Havat Gilad) میں
اچانک آگ بھڑک اٹھی۔ یہ بستی 2002ء میں غیر رسمی طور پر قائم کی گئی تھی جسے 2018ء
میں قانونی حیثیت دے دی گئی۔ شدید گرمی،
خشک موسم اور تیز ہواؤں کے باعث آگ تیزی سے پھیلی اور درجنوں مکانات اس کی لپیٹ
میں آ گئے۔ سرکاری اطلاعات کے مطابق تیرہ مکانات مکمل طور پر جل گئے، متعدد دیگر
کو نقصان پہنچا اور تقریباً ایک سو خاندان عارضی طور پر بے گھر ہو گئے۔
واقعے
کے فوراً بعد اسرائیلی داخلی سلامتی کی ایجنسی شاباک
(Shin Bet) نے تحقیقات شروع کیں۔ ابتدائی تفتیش میں
دھماکا خیز مواد یا منظم آتش زنی کا کوئی واضح ثبوت سامنے نہیں آیا، البتہ جائے
وقوعہ سے ملنے والا ایک جلا ہوا سگریٹ اور گاڑی کے ٹائروں کے چند نشانات تفتیش کا
مرکز بن گئے۔ اب سوال اٹھا کہ سگریٹ کا ٹکڑا یہاں کس
نے پھینکا؟اس حوالے سے شاباک کی کوئی رائے اب تک سامنے نہیں آئی لیکن اسرائیلی
میڈیا اور آبادکار حلقوں میں یہ قیاس آرائیاں شروع ہوگئیں کہ یہ ضرور کسی فلسطینی
کی شرارت ہے کیونکہ آگ سبت (ہفتے) کے روز لگی ہے اور یہودی سبت کے دوران گاڑی
چلانے اور آگ جلانے سے گریز کرتے ہیں۔ جدید فرانزک سائنس، مصنوعی ذہانت،
ڈرون نگرانی اور ہزاروں کیمروں کے دور میں اگر کسی واقعے کی سمت مذہبی معمولات یا
سماجی قیاس آرائیوں سے متعین ہونے لگے تو یہ صرف ایک تفتیشی مسئلہ نہیں رہتا بلکہ
سیاسی بیانئے کی تشکیل کا حصہ بن جاتا ہے۔
اسرائیل کی داخلی سیاست: مذہبی جماعتوں کا
بڑھتا ہوا اثر
صرف
فلسطینی علاقوں میں ہی نہیں، اسرائیل کی داخلی سیاست میں بھی واضح تبدیلیاں رونما
ہو رہی ہیں۔ گزشتہ ہفتے پارلیمان نے ایک متنازع قرارداد منظور کی جسے مذہبی حلقوں
کی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔ قرارداد کا مقصد اعلیٰ تعلیمی اداروں میں مخلوط
تعلیم کی حوصلہ شکنی ہے۔ اگرچہ اس کی عملی شکل ابھی واضح نہیں، تاہم سیاسی مبصرین
کے نزدیک اس قانون سازی کا اصل مقصد مذہبی جماعتوں کو مطمئن رکھنا ہے۔
اسی
طرح مدارس (Yeshiva) کے
طلبہ کو لازمی فوجی خدمت سے استثنا دینے کے معاملے پر بھی حکومت نے ایک درمیانی
راستہ اختیار کیا ہے۔ فوج اور سیکولر جماعتیں اس استثنا کے خاتمے کا مطالبہ کر رہی
ہیں، جبکہ مذہبی جماعتیں اسے اپنی سرخ لکیر قرار دیتی ہیں۔ تازہ مسودۂ قانون میں
اگرچہ فوجی خدمت کی ذمہ داری برقرار رکھی گئی ہے، لیکن بھرتی سے گریز کرنے والے
طلبہ کی گرفتاری کا اختیار محدود کر دیا گیا ہے۔ یوں حکومت نے وقتی طور پر اپنے
مذہبی اتحادیوں کو مطمئن کرنے کی کوشش کی ہے۔
یہ
دونوں مثالیں اس بات کی غمازی کرتی ہیں کہ اسرائیلی سیاست میں مذہبی اور قوم پرست
جماعتوں کا اثر مسلسل بڑھ رہا ہے، اور یہی جماعتیں فلسطینی علاقوں میں مزید سخت
پالیسیوں کی سب سے بڑی داعی بھی ہیں۔
امریکہ میں بدلتا ہوا سیاسی منظرنامہ
اسرائیل
کے بارے میں ایک اہم تبدیلی امریکہ کے اندر بھی محسوس کی جا رہی ہے۔ حال ہی میں
ریپبلکن رکنِ کانگریس تھامس میسی نے اسرائیل کی فوجی امداد ختم کرنے کی ترمیم پیش
کی۔ اگرچہ یہ ترمیم بھاری اکثریت سے مسترد ہو گئی، لیکن اس پر ہونے والی بحث نے
امریکی سیاست میں ایک نئی دراڑ کو نمایاں کر دیا۔
تقریباً
نصف صدی سے اسرائیل کی فوجی امداد ریپبلکن اور ڈیموکریٹ دونوں جماعتوں کی مشترکہ
پالیسی سمجھی جاتی رہی ہے، مگر حالیہ رائے شماری میں ایک سو سے زائد ڈیموکریٹ
ارکان نے امداد روکنے کے حق میں ووٹ دیا۔ تقریباً اتنی ہی تعداد نے امداد جاری
رکھنے کی حمایت کی، جبکہ بعض ارکان نے رائے شماری میں غیر جانب دار رہنے کو ترجیح
دی۔
یہ محض
ایک عددی تقسیم نہیں بلکہ امریکی رائے عامہ میں آنے والی تبدیلی کا عکس ہے۔ غزہ کی
جنگ، بڑھتا ہوا انسانی بحران اور نوجوان امریکی ووٹروں کے بدلتے رجحانات نے پہلی
مرتبہ اسرائیل کی فوجی امداد کو کھلی سیاسی بحث کا موضوع بنا دیا ہے۔مزید دلچسپ
بات یہ کہ امداد روکنے کی تجویز ایک قدامت
پسند ریپبلکن نے پیش کی، جبکہ اس کی سب سے زیادہ حمایت ترقی پسند ڈیموکریٹس نے کی۔
مختلف نظریاتی دھاروں کا ایک نکتے پر جمع ہونا اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ آئندہ
برسوں میں اسرائیل کی غیر مشروط حمایت امریکی سیاست میں پہلے جیسی مسلمہ حقیقت
شاید نہ رہے۔
بدلتا ہوا منظرنامہ
غزہ
میں جاری جنگ، غربِ اردن میں آبادکاری کی توسیع، اسرائیل کے اندر مذہبی اور قوم
پرست سیاست کا بڑھتا ہوا اثر اور امریکہ میں اسرائیل کے بارے میں بدلتی ہوئی رائے،
بظاہر الگ الگ واقعات دکھائی دیتے ہیں،
لیکن درحقیقت یہ ایک بڑی تصویر کے مختلف رنگ ہیں۔اگر غزہ میں دوبارہ آبادکاری کا
منصوبہ عملی صورت اختیار کرتا ہے، غربِ اردن میں نئی بستیاں مسلسل پھیلتی رہتی
ہیں، اور اسرائیل کے اندر انتخابی سیاست مزید دائیں بازو کی طرف جھکتی ہے تو دو
ریاستی حل کا تصور پہلے سے کہیں زیادہ کمزور ہو جائے گا۔ دوسری طرف اگر امریکی
سیاست میں اسرائیل کی غیر مشروط حمایت پر سوالات بڑھتے رہے تو آنے والے برسوں میں
واشنگٹن اور تل ابیب کے تعلقات کی نوعیت میں بھی تدریجی تبدیلی آ سکتی ہے۔
ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل
کراچی 24 جولائی 2026
ہفت روزہ دعوت دہلی 24 جولائی
2026
ہفت روزہ رہبر سرینگر 26 جولائی 2026