غزہ
، غرب اردن تا جنوبِی لبنان
مسلسل بمباری، بڑھتی
عسکریت اور سفارتی جمود
غزہ پر اسرائیلی حملوں کو ڈھائی برس سے
زائد عرصہ گزر گیا جبکہ تقریباً اسی مدت سے جنوبی لبنان بھی مسلسل کشیدگی اور
جھڑپوں کی زد میں ہے۔ اس طویل تنازع نے نہ صرف خطے کے امن کو یرغمال بنا رکھا ہے
بلکہ عالمی ضمیر، سفارتی اداروں اور انسانی حقوق کے دعووں کی قلعی بھی کھولدی ہے۔
جنگ اب محض ایک جغرافیائی تنازع نہیں رہی بلکہ یہ ایک اخلاقی امتحان بن چکی ہے۔
سرحدی
محاذ: لبنان میں بڑھتی کشیدگی
جنوبی لبنان میں اسرائیلی کارروائیوں کے
ساتھ ساتھ لبنانی مزاحمتی گروہوں کی جانب سے جوابی راکٹ حملوں میں بھی شدت دیکھی
جا رہی ہے۔ اطلاعات کے مطابق اسرائیلی سرحدی شہر کریات شمونہ کی سمیت حالیہ دنوں
میں متعدد راکٹ داغے گئے، جن کے نتیجے میں درجنوں افراد کے زخمی ہونے کی خبریں
سامنے آئیں۔ اسی دوران لبنان اور غزہ پر بمباری اور ڈرون حملوں کا سلسلہ بھی جاری
رہااور 31 مارچ کو اقوام متحدہ کے امن مشن کے اہلکاروں پر فائرنگ کے واقعے میں
انڈونیشیا سے تعلق رکھنے والے تین فوجی جاں بحق ہوگئے۔
غزہ:
انسانی المیہ اور امدادی بحران
جمعہ 3 اپریل، اہل غزہ کیلئے انتہائی مشکل دن رہا۔ صبح سویرے جبالیہ خیمہ بستی پر اسرائیلی فوج کی اندھا دھند فائرنگ سے بچوں سمیت 6 افراد
زخمی ہوئے۔ ہسپتال یا ہنگامی طبی امداد کے مراکز نہ ہونے کی وجہ سے زخمی دیر تک
سڑک پر تڑپتے رہے۔ اسی دن ساحلی علاقے مواصی پر
وحشیانہ بمباری سے چار افراد جاں بحق اور درجنوں زخمی ہوئے۔
دودن بعد مشرقی غزہ شہر کی خیمہ بستی کو ایک اسرائیلی ڈرون نے
نشانہ بنایا۔ خیموں میں آگ بھڑک اٹھنے سے تین افراد زندہ جل گئے۔ اکتوبر کی نام
نہاد جنگ بندی کے بعد سے غزہ پر اسرائیلی حملوں میں 756افراد جاں بحق ہوئے اور
2000 زخمی ہیں۔ یہ اعدادوشمار اس بڑے انسانی بحران کی
عکاسی کرتے ہیں جہاں بنیادی طبی ڈھانچہ مفلوج ہو چکا ہے۔
سفارتی
محاذ: خاموشی اور غیر یقینی
بڑے دعووں کے ساتھ قائم کی جانے والی
"مجلسِ امن"
(Board of Peace) تاحال
کوئی مؤثر کردار ادا کرتی نظر نہیں آتی۔ البتہ یہ اطلاعات سامنے آئی ہیں کہ
مزاحمتی قیادت استنبول میں ترک اور مصری حکام سے رابطے میں ہے۔ذرائع کے مطابق
مزاحمتی گروہوں نے اپنے اس مؤقف کو دہرایا ہے کہ آزاد فلسطینی ریاست کے قیام سے
قبل ہتھیار ڈالنے یا مزاحمت ترک کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
اسرائیل:
افرادی قوت کا دباؤ
اسرائیلی میڈیا کے مطابق ریزرو (reserve)فوجیوں کی خدمات کا دورانیہ بڑھایا جا رہا
ہے، جو افرادی قوت کے دباؤ کی نشاندہی کرتا ہے۔ یہ پیش رفت اس بات کا عندیہ ہو
سکتی ہے کہ جنگ طویل اور پیچیدہ رخ اختیار کر چکی ہے۔
امریکی
پالیسی: عسکری ترجیحات کا غلبہ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں میں
سفارتکاری کے مقابلے میں عسکری طاقت پر انحصار بڑھتا دکھائی دیتا ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ نے اگلے مالی سال کیلئے امریکی کانگریس (پارلیمان) کو جو بجٹ تجاویز
جمع کرائی ہیں اسکےمطابق دفاع کی مد میں 1500 ارب یا 1.5 ٹریلین ڈالر تجویز کئے جارہے
ہیں جبکہ سماجی بہبود کے پروگراموں میں دس فیصد کٹوتی ہوگی۔
آئندہ برسوں میں غیر عسکری اخراجات میں مزید کمی کا امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔اس
رجحان سے مستقبل کے عالمی منظر نامے میں امریکی کردار پر تجزیاتی بحث کا آغاز
ہوگیا ہے۔
غربِ
اردن: بڑھتی قبضہ گردی اور بے دخلی
غربِ اردن میں کشیدگی اور آبادکاری کے
واقعات میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ نابلوس کے علاقے میں املاک کو نقصان پہنچایا
گیا اور زرعی زمینوں پر اسرائیلی فوج کی نگرانی میں نئی بستیاں قائم کی جا رہی
ہیں۔اسرائیلی میڈیا پر متاثرین کے بیانات اس المیے کی شدت کو اجاگر کرتے ہیں، جہاں
لوگ اپنے گھروں، زمینوں اور بنیادی وسائل سے محروم ہو رہے ہیں۔
مذہبی
مقامات اور روحانی بحران
انتہاپسند عناصر فلسطینیوں کے خلاف اپنی
کارروائیوں کو مذہبی جواز فراہم کرتے ہیں، مگر درحقیقت یہ طرزِ عمل بیت المقدس کی
روحانی عظمت کو دیمک کی طرح چاٹ رہا ہے۔ کشیدگی اس حد تک بڑھ چکی ہے کہ مسجد اقصیٰ
کے دروازے مقفل ہیں، یروشلم میں کلیسائے قبرِ مقدس (Church of the Holy Sepulcher) تک رسائی محدود و مسدود اور دیوارِ گریہ، عیدِ فسح (Passover) جیسے اہم مذہبی موقع پر بھی غیرمعمولی
سناٹے کا منظر پیش کر رہی ہے۔یہ محض سکیورٹی اقدامات نہیں، بلکہ ایک ایسے شہر کی
روح پر پڑنے والی دراڑیں ہیں جو تینوں ابراہیمی مذاہب کے ماننے والوں کیلئے مقدس
ہے۔ شاید اسی پس منظر میں کھجوروں کے تہوار (Palm Sunday) کے
موقع پر اپنے خطبے میں کیتھولک دنیا کے روحانی پیشوا پوپ لیو چہاردہم (Pope Leo XIV) نے نہایت رقت آمیز انداز میں خبردار کیا کہ
'خدا اُن لوگوں کی دعائیں قبول نہیں کرتا جن کے ہاتھ خون سے رنگے ہوں'۔کاش دنیا کے
مقتدر حلقے اس صدا کو محض ایک مذہبی وعظ نہیں بلکہ ایک عالمی اخلاقی حکم نامہ سمجھ
کر سنیں۔
امید
کی کرن: بحری قافلہ "صمود"
گزشتہ برس غزہ پہنچنے کی کوشش کرنے والے
بحری قافلے "صمود" کے کارکن ایک نئے مشن کی تیاری کر رہے ہیں۔ اطلاعات
کے مطابق 12 اپریل کو بارسلونا سے اس مہم کا آغاز متوقع ہے، جس میں درجنوں کشتیوں
اور سینکڑوں بین الاقوامی رضاکاروں کی شرکت کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔منتظمین
کے مطابق اس اقدام کا مقصد محاصرے کے خلاف آواز بلند کرنا اور عالمی سطح پر دباؤ
بڑھانا ہے۔
غزہ اور لبنان میں جاری یہ طویل جنگ محض
سرحدوں کا تنازع نہیں بلکہ انسانیت، اخلاقیات اور عالمی نظام کے ضمیر کا امتحان بن
چکی ہے۔ طاقت کے توازن، سفارتی ناکامیوں اور خاموش عالمی ردعمل کے بیچ سب سے بڑی
قیمت عام انسان ادا کر رہا ہے۔اگر عالمی برادری نے اب بھی مؤثر اور منصفانہ کردار
ادا نہ کیا تو تاریخ اس خاموشی کو ایک جرم کے طور پر یاد رکھے گی۔
ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل کراچی 10 اپریل 2026
ہفت دوزہ دعوت دہلی 10 اپریل 2026
ہفت روزہ رہبر سرینگر 12آپریل 2026