Thursday, March 12, 2026

 

جنگ کا پھیلتا دائرہ: غزہ سے ایران تک

القدس، جنگ اور مذہبی آزادی کے نئے سوال

مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ اب محض غزہ تک محدود نہیں رہی۔اس جارحیت کا دائرہ بتدریج لبنان اور ایران تک پھیل چکا ہے۔ اگرچہ شام، لبنان، یمن اور ایران پر مختلف نوعیت کے حملے پہلے بھی ہوتے رہے ہیں، لیکن ایران اور لبنان کے محاذ پر حالیہ شدت کا آغاز 28 فروری کو سبتِ ذکر (Shabbat Zachor) پر ہوا۔ یہودی تہوار پیورم (Purim) سے پہلے آنے والے ہفتے کو سبتِ ذکر(یاددہانی) کہا جاتا ہے۔

پیورم یہودی مذہب کا ایک قدیم تہوار ہے جس کی بنیاد کتابِ استر (Book of Esther) میں بیان کردہ اس واقعے پر ہے جب روایت کے مطابق قدیم فارس میں ملکہ استر اور مردخائی کی کوششوں سے یہودیوں کو ایک منصوبہ بند قتلِ عام سے نجات ملی تھی۔ اسی یاد میں اس تہوار کے دوران عبادات، جلوس، خیرات اور خوشی کی تقریبات منعقد کی جاتی ہیں۔

جنگ کا ایک جیسا نقشہ

غزہ میں جس منظم انداز سے اسکولوں، ہسپتالوں، عبادت گاہوں، آبی وسائل، ایندھن، بجلی گھروں اور بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا گیا، اسی نوعیت کی ترجیحات اب ایران اور لبنان کے محاذ پر بھی دکھائی دے رہی ہیں۔ لبنان میں بمباری کی شدت کے باعث شہری آبادی براہِ راست متاثر ہو رہی ہے۔ اندازوں کے مطابق تقریباً پانچ لاکھ افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔ بیروت کے پارکوں اور سڑکوں کے کنارے خیمہ بستیاں آباد ہو رہی ہیں، ایک ایسا منظر جو کچھ عرصہ پہلے تک صرف غزہ کا مقدر سمجھا جا رہا تھا۔

ایران پر حملوں کے آغاز کے ساتھ ہی اسرائیل نے غزہ کی سرحد پر واقع رفح پھاٹک بند کردیا ، جس سے روزوں کے دوران اہلِ غزہ کی مشکلات مزید بڑھ گئیں۔فلسطینی ذرائع کے مطابق 6 مارچ سے  کریم سلام (Karem Shalom) پھاٹک کو امدادی سامان کے لیے جزوی طور پر کھول دیا گیاہے۔ اب اسرائیلی حکام اس بات پر زور دے رہے کہ غزہ کے لیے امدادی سامان اسرائیل سے خریدا جائے۔یعنی اہل غزہ کو برباد کرنے کے بعد  انکی آبادکاری کے نام پر اسرائیل میں سرمایہ کاری کے نئے راستے تلاش کئے جارہے ہیں۔

غزہ پر بمباری کا سلسلہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا

ایران اور لبنان پر نئی جارحیت کے ساتھ غزہ پر بمباری میں کوئی کمی نہیں آئی۔ جمعہ کو سحری کے وقت ڈرون حملے میں خان یونس کا ایک آدمی اپنے معصوم بچی سمیت جان سے گیا۔ غزہ شہر کے التفاح محلے پر شدید بمباری کیساتھ بحیرہ روم میں تعینات جہازوں سے گولے برسائے گئے جس سے کئی افراد جاں بحق اور ایک درجن کے قریب لوگ زخمی ہوگئے۔ اسی دوران اسرائیلی ٹینکوں نے فائربندی کی لکیر سے آگے بڑھ کرمورچے سنبھال لئے۔ اکتوبر کی نام نہاد جنگ بندی کے بعد  سے اسرائیلی حملوں میں اب تک 640 افراد جاں بحق اور 17000 سے زیادہ افراد زخمی ہوئے ہیں۔

ایران ، لبنان اور اسرائیل ۔۔ خوف کی فضا

ایران پر اسرائیل و امریکہ کی شدید بمباری کے جواب میں ایران کے میزائیل اور ڈرون حملوں نے اسرائیل میں خوف اور بے چینی کی فضا پیدا کر دی ہے۔ تل ابیب اور یروشلم سمیت کئی علاقوں میں شہری زیرزمین پناہ گاہوں میں چھپے ہوئے ہیں۔ایک واقعے میں تل ابیب کے قریب ایرانی میزائل زیرزمین پناہ گاہ کے نزدیک جا گرا جس نے وہاں خوف کو مزید بڑھا دیا۔ لبنان میں قابض اسرائیلی فوج کی چوکی پر راکٹ حملے میں ایک اسرائیلی سپاہی ہلاک اور انتہا پسند وزیرخزانہ بیزلیل اسموترچ کے بیٹے سمیت آٹھ سپاہی شدید زخمی ہوگئے جن میں سے پانچ کی حالت نازک ہے ۔

مسجد اقصیٰ: سیکیورٹی یا پابندی؟

اس کشیدہ صورتحال میں اسرائیلی حکومت نے سیکیورٹی کے نام پر مسجد اقصیٰ تک رسائی محدود کر دی ہے،  6 مارچ کو وہاں نمازِ جمعہ بھی ادا نہیں ہو سکی۔ مغربی کنارے میں شہریوں کے لئے، نہ تو پناہ گاہوں کا کوئی اہتمام ہے اور نہ ہی دیگر حفاظتی انتظامات دکھائی دیتے ہیں، لیکن مسجد اقصیٰ کے دروازے بند کر دیے گئے۔

اسی دوران اسرائیلی ذرائع ابلاغ میں ایسی تصاویر بھی شائع ہوئیں جن میں انتہا پسند عناصر کو احاطۂ اقصیٰ میں عبادت اور چہل قدمی کرتے دکھایا گیا۔ اس صورتحال نے القدس کی مذہبی حیثیت سے متعلق جاری تنازع کو مزید گہرا کر دیا ہے۔ عجیب تضاد کہ حفاظت کے نام پر مسجد اقصیٰ مقفل ہے، لیکن پیورم کی تقریبات معمول کے مطابق جاری ہیں۔

مسجد ابراہیمی کی مثال

یہ صورتحال فلسطینیوں کے لیے نئی نہیں۔ مقبوضہ شہر الخلیل میں واقع مسجد ابراہیمی اس کی ایک واضح مثال ہے۔ روایت کے مطابق یہاں حضرت ابراہیمؑ اور ان کے خاندان کی قبریں موجود ہیں اور اسی وجہ سے یہ مقام تینوں ابراہیمی مذاہب کے ماننے والوں کے لیے مقدس سمجھا جاتا ہے۔

اسلامی روایت میں اسے فلسطین کے اہم ترین مذہبی مراکز میں شمار کیا جاتا ہے اور بعض مؤرخین کے نزدیک تقدس کے اعتبار سے یہ مکہ، مدینہ اور القدس کے بعد چوتھا اہم مقام ہے۔ مگر گزشتہ دہائیوں میں یہ مسجد سخت پابندیوں اور انتظامی تقسیم کا شکار ہو چکی ہے، جہاں مختلف اوقات میں مختلف مذاہب کے پیروکاروں کو عبادت کی اجازت دی جاتی ہے۔

اسی پس منظر میں انسانی حقوق کے حلقے خدشہ ظاہر کر رہے ہیں کہ اگر مسجد ابراہیمی کی طرح مسجد اقصیٰ پر بھی بتدریج پابندیاں بڑھتی گئیں تو اس کے مذہبی اور تاریخی تشخص پر گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

جنگ کے سائے میں بڑھتا تشدد

جنگ کے شور کے پیچھے ایک اور کہانی بھی چل رہی ہے۔ مغربی کنارے میں کام کرنے والی انسانی حقوق کی تنظیم Yesh Din کے مطابق ایران کے ساتھ جاری جنگ کے ابتدائی چار دنوں (28 فروری سے 3 مارچ) میں فلسطینیوں پر حملوں کے 50واقعات پیش آئے۔اس دوران37 فلسطینی بستیوں کو نشانہ بنایا گیا۔ دہشت گرد وارداتوں میں فائرنگ، تشدد، املاک کی تباہی اور دھمکیاں شامل ہیں۔

تنظیم کے مطابق جنگی فضا کے پردے میں تشدد کی شدت میں اضافہ ہو رہا ہے اور زمینی حقائق کو طاقت کے ذریعے تبدیل کرنے کی کوششیں تیز ہو گئی ہیں۔ عالمی توجہ چونکہ اس وقت ایران کی جانب مرکوز ہے، اس لئے مقبوضہ علاقوں میں ہونے والے واقعات اکثر عالمی خبروں میں جگہ نہیں بنا پاتے۔اتوار 8 مارچ کو رام اللہ کے گاوں ابوفلاح پر قبضہ گردوں نے اسرائیلی فوج کی حفاظت اور سرپرستی میں حملہ کیا۔ اس دوران مکانوں اور زرعی اراضی کو آگ لگادی گئی۔ فائرنگ سے 24 سالہ ثائر حمائل اور 57 سالہ فارع حمائل جاں بحق ہوگئے

امن کی شاہراہ یا جنگ کا تسلسل؟

اس ہفتے بھی مجلس السلام یا Board of Peaceکی سرگرمیاں عملاً معطل نظر آئیں جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ صدر ٹرمپ کیلئے  یہ شغلِ فراغت کے سوا کچھ اور نہیں۔ واشنگٹن کی موجودہ ترجیح اسرائیل سے ایران تک ایک نئی شاہراہِ امن یا Road to Peace تعمیر کرنا ہے، اگرچہ زمینی حقائق اس تصور سے ہم آہنگ دکھائی نہیں دیتے۔یہ کہنا قبل ازوقت ہے کہ مجلس السلام کی طرح پاکستانی حکمرانوں کو اس شاہراہ پر خیمہ زنی کی اجازت بلکہ سعادت ملے گی یا نہیں جو امریکہ کے حکم پر افغانستان میں شاہراہ امن تعمیر کررہے ہیں۔

ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل کراچی 13 مارچ 2026

ہفت روزہ دعوت دہلی 13 مارچ 2026

ہفت روزہ رہبر سرینگر 15 مارچ 2026


No comments:

Post a Comment