محدود کارروائی یا ایک نئے علاقائی بحران کی ابتدا؟
ایران کے خلاف جاری جنگ تیسرے ہفتے میں
داخل ہو چکی ہے، مگر اس خونریزی کو اب تک کوئی واضح نام نہیں دیا جا سکا۔ امریکی
کانگریس کے اسپیکر اسے معمول کی محدود کاروائی سمجھتے ہیں۔صدر ٹرمپ نے اسے Excursion کہا،جس
کا ایک مفہوم مختصر مہم اور دوسرا سیر و تفریح
ہے۔ دوسری طرف اسرائیلی وزیر اعظم بن یامین نیتن یاہو کے لئے یہ انکی چالیس سال پرانی
آرزو کی تکمیل ہے، جبکہ امریکی وزیر جنگ اسے فیصلہ کن اور بے رحم جنگ قرار
دے رہے ہے۔
صدر ٹرمپ کی یہ خونی سیر تادم تحریر اسکول کی معصوم بچیوں سمیت
1270 نہتے شہریوں کی جان لے چکی ہے اور ہزاروں لوگ زخمی ہیں۔ہسپتال، دواخانے،
بجلی گھر، ایندھن کے ذخائر، آبنوشی و آبپاشی کے وسائل، پُل اور سڑکیں بنیادی ہدف
ہیں۔ وہی منظر جو پہلے غزہ اور لبنان میں دیکھا جا چکا ہے۔ جنگ
کی لغت طاقتور جنگجولکھتے اور اس کی قیمت عام لوگ ادا کرتے ہیں۔
منہہ پر لگنے والا پہلا گھونسہ
تلون مزاج اور انا کے گنبد میں بند امریکی صدر کا دعویٰ ہے کہ
ایران کو کچل دیا گیا۔ لیکن معروف امریکی مبصر Howard Kurtz نے اپنے ایک حالیہ کالم میں
کہا ہے کہ جیسے جیسے جنگ طول پکڑ رہی ہے اور امریکی فوجیوں کی ہلاکتوں کی خبریں
سامنے آ رہی ہیں، ویسے ویسے واشنگٹن میں اس جنگ کے انجام اور اس کی قیمت کے بارے
میں سوالات بڑھتے جا رہے ہیں۔جناب کُرٹز کا خیال ہے کہ ایران نے بھی ایسے طریقے
تلاش کر لئے ہیں جن کے ذریعے وہ جوابی ردعمل دے سکتا ہے، جس سے یہ تاثر پیدا ہوتا
ہے کہ جنگ کا نقشہ اتنا یک طرفہ نہیں رہا جتنا ابتدا میں تصور کیا جا رہا تھا۔انھوں
نے اپنے کالم کے آغاز میں باکسنگ کے عالمی چمپین مائک ٹائسن کا یہ جملہ نقل کیا ہے
کہ 'منہہ پر پہلا گھونسہ پڑتے ہی سارے منصوبے دھرے کے دھرے رہ جاتے ہیں'۔ انکے
حالیہ مضمون کا مرکزی خیال یہی ہے کہ جیسے باکسنگ کے رنگ میں پہلا مُکّا پورے
مقابلے کی سمت بدل دیتا ہے۔ ویسے ہی میدانِ جنگ میں حقیقت کا پہلا جھٹکا پورے
منظرنامے کو بدل کر مستکبرین کے کس بل نکال دیتا ہے۔
فوجی
پیش رفت اور بڑھتے خدشات
امریکی ٹیلی ویژن ABCکے
مطابق تقریباً
5500 میرینز پر مشتمل ایک تیز رفتار مہماتی دستہ یا Marine Expeditionary
Unit (MEU) تین بحری جہازوں پر جاپان سے مشرقِ وسطیٰ کی طرف روانہ کر دیا گیاہے۔ یہ پیش رفت ایران پر دباؤ بڑھانے کی حکمت
عملی ہو سکتی ہے، مگر خدشہ یہ بھی ہے کہ کہیں یہ تنازع ایک وسیع علاقائی جنگ میں
تبدیل نہ ہو جائے۔ امریکی فوجی تاریخ میں ایسی مثالیں پہلے بھی ملتی ہیں۔جنگ
ویتنام بھی محدود مشیروں کی تعیناتی سے
شروع ہوئی تھی، مگر بعد میں ایک طویل اور مہنگی جنگ بن گئی۔
توانائی
کی جنگ
گزشتہ ہفتے خلیج فارس میں جزیرہ خارگ پر امریکہ نے بمباری کی۔ جسکا
اعلان صدر ٹرمپ نے خود کیا۔ اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر انھوں نے لکھا کہ 'ازراہ
مہربانی' ہم نے ایرانی تیل تنصبات کوخاک نہیں کیا لیکن اگر ایران نے آبنائے ہرمز
کو بند کرنے کی کوشش کی تو میں اپنے فیصلے پر نظرِ ثانی کرسکتا ہوں۔ایرانی تیل کی
90 فیصد برآمدات اسی جزیرے پر قائم ٹرمنل سے ہوتی ہیں۔ پچیس مربع کلومیٹر رقبے کا
یہ جزیرہ، آبنائے ہرمز سے شمال مغرب کی جانب 483 کلومیٹر دور ہے۔ جواباً ایران نے فجیرہ (متحدہ عرب امارات) میں خام تیل کی تنصیبات پر زبردست
حملہ کیا۔یوں یہ لڑائی صرف فوجی نہیں بلکہ توانائی
اور عالمی معیشت کی جنگ بن چکی ہے۔
صرف
مزے کے لئے
دوسرے دن NBC News سے باتیں کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے اپنے مخصوص متکبرانہ لہجے میں کہا
کہ امریکہ نے ایران کے اہم تیل برآمدی مرکز جزیرہ خرگ مکمل طور پر تباہ کردیا ہے۔
ساتھ ہی مسکراتے ہوئے بولے کہ اگر ضرورت پڑی تو اس پر “چند مزید حملے بھی کئے جا
سکتے ہیں، صرف مزہ لینے کے لئے۔” we may hit it a few
more times just for fun ۔ یہ الفاظ سن کر تاریخ کے ایک اور کردار کی
یاد تازہ ہو جاتی ہے۔تیمور نے اپنی خودنوشت سوانحعمری میں لکھا ہے کہ “جنگ کے دوران سر قلم ہوتے
سپاہی کی گردن سے پھوٹتے خون کے فوارے سے زیادہ دل آویز منظر میں نے کبھی نہیں
دیکھا۔ وہ مناظر مجھے آج تک یاد ہیں اور ان کے تصور سے اب بھی میرے لبوں پر
مسکراہٹ آ جاتی ہے۔”
کیا انسانیت، تہذیب کے سفر میں آگے بڑھی ہے، یا صرف ہتھیار
جدید ہوئے ہیں؟
افواہوں
کا بازار گرم
اس جنگ میں افواہوں کا بازار بھی گرم ہے۔سوشل میڈیا پر یہ خبر تیزی
سے گردش کر رہی ہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم بن یامین نیتن یاہو ہلاک ہو چکے ہیں ۔لیکن
اب تک کسی معتبر عالمی خبر رساں ادارے نے اس خبر کی تصدیق نہیں کی۔
ایسی ہی ایک سنسنی خیز مہم کا آغاز 15 مارچ کو ہوا جب ایران نے
امریکی طیارہ بردار جہاز USS Abraham Lincoln (CVN-72) پر کامیاب میزائیل حملے اور
اسے ناکارہ کردینے کا دعویٰ کردیا۔امریکی مرکزی کمان نے اس کی واضح تردید کرتے
ہوئے کہا کہ جہاز معمول کے مطابق اپنی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔ یوں
یہ جنگ میدان کے ساتھ ساتھ اطلاعات کے محاذ پر بھی لڑی جا رہی ہے۔
منزل
ہے کہاں تیری؟؟؟
اس بے مقصد جنگ کے بارے میں امریکیوں کی بیچینی بڑھتی دکھائی دے
رہی ہے۔امریکی سینیٹ کو دی گئی خفیہ آگاہی (Classified Briefing) کے بعد کئی ڈیموکریٹ
سینیٹروں نے اعتراف کیا ہے کہ انہیں اس جنگ کے مقاصد اور انجام کے بارے میں اب بھی
واضح جواب نہیں ملا۔ سینیٹر Chris Murphy نے بریفنگ کے بعد کہا کہ حکمتِ عملی “بالکل غیر واضح” ہے، جبکہ
سینیٹر Richard Blumenthal کے مطابق اس جنگ کا کوئی
واضح اختتامی منصوبہ (Endgame) نظر نہیں آ رہا۔اسی دوران سینیٹر Elizabeth Warren نے سوال اٹھایا کہ جب کروڑوں
امریکیوں کے لئےصحت کے وسائل میسر نہیں تو ایران پر بمباری کے لیے روزانہ اربوں
ڈالر کہاں سے آرہے ہیں۔ بعض قانون سازوں کو یہ خدشہ بھی ہے کہ یہ جنگ آگے چل کر
امریکی زمینی فوج کی تعیناتی تک پہنچ سکتی ہے۔کچھ سینیٹرز نے مطالبہ کیا کہ اس
معاملے کو عوام کے سامنے پیش کیا جائے تاکہ امریکیوں کو معلوم ہو کہ انکے خون
پسینے کی کمائی کہاں خرچ ہورہی ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ اسرائیل کی خوشنودی کے لئے
جنگ تو چھیڑ دی گئی، مگر اس کے مقصد، مدت اور انجام کا نقشہ ابھی تک کسی کے پاس
نہیں۔
معاملہ یکطرفہ نہیں
جنگ میں ایران کے بھاری شہری نقصان کیساتھ زمینی حقائق امریکہ
کیلئے بھی خوش کُن نہیں ۔ جنگ کے آغاز پر ہی کویت میں تین F-15دوستانہ فائر کا شکار ہوکر
زمین پر آرہے۔ سعودی عرب کے امریکی اڈے پر ایک میزائیل حملے میں سات فوجی ہلاک
ہوگئے۔ عراق کی فضائی حدود میں امریکی لڑاکا طیاروں کو ایندھن فراہم کرتے ہوئے دو KC-135طیارے آپس میں ٹکرا گئے۔ایک
طیارہ مکمل طور پر تباہ اور اسکا چھ رکنی عملہ ہلاک ہوگیا، دوسرا جہاز بھی ناکارہ
ہوچکا ہے، دوسرے دن سعودی عرب کے اڈے پر میزائیل حملے میں پانچ KC-135طیاروں کونقصان پہنچا۔ یعنی
پندرہ دن میں امریکہ کے 10 طیارے تباہ یا ناقابل استعمال ہوگئے۔ امریکی اڈوں پر
حملوں میں 13ہلاکتوں کے علاوہ 240 فوجی زخمی ہوچکے ہیں
توانائی کی کلیدی شاہرہ بند
ایران آبنائے ہرمز کو مسدود کرنے میں اب تک کامیاب نظر آرہاہے۔ صدر
ٹرمپ نے چین سمیت اقوام عالم سے درخواست کی ہے کہ وہ 'معاشی خطِ حیات' کو چالو
رکھنے کیلئے اپنی ذمہ داری اداکریں۔ بادی النظر میں یہ اس بات کا اعتراف ہے کہ قوت
قاہرہ کے باوجود امریکہ اس اہم آبی شاہراہ کو تن تنہا محفوظ نہیں بناسکتا۔ہرمز کو
بند رکھنے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے ایرانی وزیرخارجہ سید عباس عراقچی نے کہا کہ
جب تک ہماری سرزمین اور اثاثوں پر حملے بند نہیں ہوجاتے ہم اس علاقے سے تیل برآمد
نہیں ہونے دینگے۔
اسرائیل اور امریکی تنصیبات پر ایران کے حملے
علاقے میں امریکی اڈوں اور اسرائیل پر ایران کے ڈرون اور میزائیل
حملے جاری ہیں۔ بغداد میں امریکی سفارتخانے کی عمارت پر نصب امریکی ریڈار، قطر میں
امریکی تنصیبات، بحرین کے امریکی بحری اڈے، سعودی عرب اور کوئت میں امریکی فوج کے
ٹھکانوں کیساتھ دوبئی کو ایرانی میزائیل نشانہ بنارہے ہیں۔ ایرانی خاتم الانبیا(ص)
مرکزی کمان کے ترجمان نے امریکی عسکری
مفادات پر حملے جاری رکھنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ علاقے میں جہاں سے بھی ایران کی طرف میزائیل
داغے گئے یا امریکی و اسرائیلی طیاروں نے اڑان بھری وہ ہمارا ہدف ہے۔
ایران میں Regime Change۔۔ ایں خیال است و محال است و جنوں
ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو ایران میں
تبدیلی اقتدار (Regime Change)کے حوالے سے مایوس ہیں اور نہیں جانتے کہ آیا ایرانی عوام اپنےنظام
کو بدل پائیں گے؟ اسی کیساتھ امریکی خفیہ اداروں کی حالیہ رپورٹوں میں اعتراف کیا
گیا ہے کہ ایرانی حکومت ابھی مضبوط ہے اور اسکی فوری تحلیل ممکن نظر نہیں آتی۔ ان
ماہرین کا خیال ہے کہ سخت فوجی یا سیاسی کارروائیوں کے باوجود ریاستی گرفت مضبوط
اور ممکنہ عوامی بغاوت یا انقلاب کے امکانات کمزور ہیں۔یعنی بیانات اور حقائق کے
درمیان خلا واضح ہے۔ ایک طرف جذباتی، جارح اور امید بھرا بیانیہ؛ دوسری طرف حقیقت
پسندانہ، مضبوط ریاستی ڈھانچے کی تصویر۔
مفلوج سلامتی کونسل
سلامتی کونسل میں ایران کے حملوں کی مذمت کی قرارداد بلا بحث و
مباحثہ تیرہ ووٹوں کی حمایت سے منظور ہوگئی۔ جواب میں ایران پر ہونے والے حملوں کے
بارے میں روس کی جانب سے ایک نہایت محتاط مسودۂ قرارداد سامنے آیا، اتنا محتاط کہ
کسی کا نام لینے کی جرأت بھی نہ کی گئی۔ گویا یہ سفارت کاری کی ہومیوپیتھک خوراک
تھی؛ اثر کی امید بہت، مگر مقدار نہ ہونے کے برابر۔ تاہم یہ بے ضرر قرارداد بھی
اپنے مجوز کنندہ، روس کے علاوہ صرف
پاکستان اور چین کے ووٹ حاصل کرسکی اور چچا سام کے ویٹو کی نوبت نہ آئی۔
ترکش خالی ہورہے ہیں یا کاسہ؟؟
امریکی خبر رساں پلیٹ فارم Semafor نے ایک رپورٹ میں امریکی
حکام کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیل کے فضائی دفاعی نظام کے لئے استعمال
ہونے والے interceptors تیزی سے کم ہو رہے ہیں۔ یہ
وہ میزائل ہیں جو دشمن کے راکٹ یا میزائل کو فضا ہی میں تباہ کرنے کے لیے داغے
جاتے ہیں۔خبر کے مطابق مسلسل حملوں کی وجہ سے اسرائیلی دفاعی نظام پر بوجھ بڑھ رہا
ہے اور ذخائر میں کمی محسوس کی جا رہی ہے۔بین الاقوامی سیاست میں بعض اوقات ایسی
اطلاعات دفاعی صورتحال بیان کرنے کے بجائے اتحادیوں کو متوجہ کرنے کے لئے سامنے
آتی ہیں۔ خاص طور پر جب معاملہ اربوں ڈالر کی فوجی امداد اور ہتھیاروں کی فراہمی
سے جڑا ہو۔ممکن ہے کہ خطرہ حقیقی ہو، لیکن
عالمی سیاست میں یہ بھی ایک پرانا اصول ہے کہ مدد مانگنے سے زیادہ مؤثر طریقہ، کمی
کی خبر پھیلانا ہے۔
پاک بحریہ کی مہم
سمندری آمدورفت (maritime)سے وابستہ حلقے پاک بحریہ کی محافظ البحر مہم سے متاثر ہیں۔اس مہم
کے ذریعے پاک بحریہ، بحیرہ احمر سے پاکستان تک کے بحری راستے کو تحفظ فراہم کررہی
ہے۔ امریکی اصرار کے باجوود آبنائے ہرمز کو رواں رکھنا محافظ البحر کے فرائض میں
شامل نہیں لہذا پاکستانی جہاز خلیج فارس سے فاصلے پر ہیں۔ اس مہم کا بنیادی ہدف
تیل کی ترسیل کیلئے سعودی بندرگاہ ینبوع سے کراچی تک کا بحری سفر محفوظ بنانا ہے۔یہ
راستہ بھی سو فیصد محفوظ نہیں کہ اگر حوثیوں نے آبنائے باب المندب پر نشانہ بازی
شروع کردی تو بس نہر سوئز کا راستہ ہی کھلا رہ جائیگا
تیل کی کی پیداوار میں کٹوتی اور امریکی کمپنیوں کی چاندی
خلیج فارس کا راستہ مخدوش ہونے کی بنا پر سعودی عرب نے تیل کی
پیداوار 25 لاکھ، متحدہ عرب امارات نے 8 لاکھ ، کویت نے 5 لاکھ اور عراق نے 29لاکھ
بیرل یومیہ کی کمی کردی ہے۔ مزے کی بات کہ امریکہ میں تیل کی پیداوار پانچ فیصد
بڑھ چکی ہے اور نقل و حرکت معمول کے مطابق
ہے۔لیکن امریکہ کاWTIبرانڈ بھی عرب لائٹ اور اوپیک مشرق وسطی باسکیٹ کے دام بک رہا ہے ۔
اسے کہتے ہیں منافع خوری
ہفت روزہ دعوت دہلی 20 مارچ 2026
No comments:
Post a Comment