کیا واشنگٹن کی جنگ تل ابیب کا ایجنڈا ہے؟
روبیو
کے اعتراف اور نیتن یاہو کے بیان سے اٹھتے سوالات
سیاست دان کبھی کبھی وہ بات خود ہی کہہ
دیتے ہیں جس کے بارے میں خدشات زباں زدِ عام ہوتے ہیں۔امریکی وزیر خارجہ کا ایک
بیان اور اسرائیلی وزیراعظم کے بصری پیغام نے ایسے
ہی ایک 'سوال' کو بے نقاب کردیا ہے جسے
طویل عرصے سے دبانے کی کوشش کی جا رہی تھی یعنی امریکہ مشرقِ وسطیٰ میں اپنی
سلامتی کی جنگ لڑ رہا ہے یا کسی اور کی حکمتِ عملی کو قوت فراہم کر رہا ہے؟
"ہمیں معلوم تھا…" — مارکو روبیو کا
بیان
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے واشنگٹن
میں صحافیوں کو بتایا “ہمیں معلوم تھا کہ اسرائیل کاروائی کرنے
والا ہے اور ہم زیادہ نقصان برداشت نہیں کرنا چاہتے تھے، اس لیے ہم نے پہلے حملہ
کیا تاکہ بڑے جانی نقصان سے بچا جا سکے “یعنی
فیصلہ امریکی مفاد کی روشنی میں نہیں بلکہ اسرائیلی حکمتِ عملی کو مدنظر رکھ کر
کیا گیا۔
“چالیس سالہ آرزو” — نیتن یاہو کا اعتراف
اسی دوران اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن
یاہو نے ایک بصری پیغام میں کہا “(امریکہ اور
اسرائیل کے) فوجی اتحاد نے
مجھے وہ طاقت فراہم کردی جس سے میری وہ آرزو پوری ہوگئی جسے میں پچھلے چالیس سالوں
سے اپنے دل میں لئے بیٹھا تھا'
چالیس سالہ آرزو۔۔۔؟، اس فقرے نے حقیقت
آشکار کردی کہ یہ وقتی دفاعی کارروائی نہیں بلکہ ایک طویل المدت نظریاتی منصوبے بلکہ شیطانی آرزو و تمنا کی تکمیل ہے۔
اگر اسرائیلی قیادت اسے تاریخی موقع سمجھ
رہی ہے اور امریکی وزیر خارجہ اس بات کا اعتراف کر رہے ہیں کہ حملے کی ساعت (timing) اسرائیلی منصوبے سے متاثر تھی، تو یہ بات
بالکل واضح ہوگئی ہے کہ حالیہ وحشت کے اصل
محرکات کیا ہیں
آئت اللہ خامنہ ای کا قتل ۔۔ پرانا منصوبہ
اب نیتن یاہو کے وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے انکشاف کیا ہے کہ گزشتہ
سال نومبر ہی میں آئت اللہ سید علی خامنہ ای کو نشانہ بنانے کا ہدف طے کیا جا چکا
تھا، اور ایران میں حکومت مخالف مظاہروں نے اس منصوبے کی رفتار تیز کر دی، جس سے
امریکہ اور اسرائیل کی مشترکہ کارروائی کے حالات پیدا ہوئے۔یعنی یہ محض حالات کا
جبر نہیں تھا، بلکہ درندگی کی یہ خواہش چاردہائیوں سے دل میں چھپی تھی۔
خطیر امریکی امداد اور جنگ کا تسلسل
غزہ پر اسرائیلی حملے کے بعد سے امریکہ، اسرائیل کو تقریباً 21 ارب ڈالر
کی اضافی فوجی مدد فراہم کر چکا ہے۔جبکہ حالیہ عسکری مہم پر امریکی فوج کے خرچ کا
تخمینہ 90 کروڑ ڈالر روزانہ ہے۔ اسرائیل کے اخراجات اس سے کہیں زیادہ ہیں کیونکہ
اسے ایرانی میزائیل حملوں سے دفاع کا خرچ بھی برداشت کرنا پڑہا ہے۔ اسرائیل کے
اخراجات کی ادائیگی بھی امریکی خزانے سے ہی ہوگی۔ ایسے وقت جب خود امریکہ میں
افراطِ زر، بیرورگاری، صحت عامہ، اور بنیادی ڈھانچے کے مسائل شدت اختیار کئے ہوئے
ہیں، ٹیکس دہندگان کے سرمائے کو بے گناہ ایرانیوں کے قتل عام و بربادی کیلئے
استعمال کرنے کا کیامقصد ہے؟
ہتھیار ڈالنے کی انوکھی تعریف
امریکی صدر کا اصرار ہے کہ ایران غیر مشروط طور پر ہتھیار ڈال
دے۔ہتھیار ڈالنے کی تعریف بیان کرتے ہوئے انہوں نے کہا “غیر مشروط ہتھیار ڈالنے کا
مطلب اس صورت میں بھی ہو سکتا ہے جب وہ مزید لڑنے کے قابل نہ رہیں، یعنی ان کے پاس
لڑنے والے باقی ہوں اور نہ اسلحہ“
اب امریکی صدر کو کون سمجھائے کہ آخری سپاہی اور آخری گولی تک لڑنے
کو ہتھیار ڈالنا نہیں کہا جاتا۔ یہ تو شجاعت اور عزم کی وہ معراج ہے جس میں سپاہی
اپنے خون کے آخری قطرے تک آزادی کا دفاع کرتا ہے۔ تاریخ شاہد ہے کہ ایسے جذبے سے
لڑنے والی قوموں نے کبھی شکست نہیں کھائی۔ہتھیار ڈالنے کی ایک نمایاں مثال تو خود
صدر ٹرمپ نے اپنے پہلے دورِ اقتدار میں قائم کی تھی، جب انہوں نے قطر میں ملا
عبدالغنی برادر کو فون کر کے افغانستان میں تعینات امریکی فوجیوں کی بحفاظت واپسی
کی درخواست کی۔ طے یہ پایا کہ امریکی سپاہ اپنا بھاری اسلحہ وہیں چھوڑ کر صرف ذاتی
ہتھیاروں کے ساتھ واپس جائے گی۔یادش بخیر 14 سوسال ایسی ہی شرائط پر بنونضیر اور
بنوع قیننقاع کی جاں بخشی ہوئی تھی۔
ایران،
غزہ اور پھیلتی ہوئی جنگ
ایران پر حملہ اور غزہ کی تباہی ایک مربوط
زنجیر کا حصہ ہے۔ غزہ خونریزی ابھی جاری ہی ہے کہ اس کا دائرہ مزید وسیع کردیا
گیا۔امریکی وزیرخارجہ کے اعتراف اور نیتن یاہو کے اظہارِ تمنا نے امریکی عوام کی
بدنصیبی اور قیادت کے فتورِ نیت پر پڑے پردے کو تارتار کردیاہے۔اس بات میں اب کوئی
شبہہ باقی نہیں رہا کہ واشنگٹن کی حالیہ عسکری پیش رفت، اسرائیلی منصوبہ بندی سے ہم آہنگ اور ڈانلڈ ٹرمپ
و نیتن یاہو کی مسلم نفرت پر مبنی مشترکہ تزویراتی (اسٹریٹیجک) مہم ہے۔
بیچارے
امریکی ٹیکس دہندگان
امریکہ ایک جمہوری ریاست ہے جہاں خارجہ
پالیسی بالآخر عوامی احتساب کے دائرے میں آتی ہے۔جب اربوں ڈالر بیرونِ ملک فوجی
مہمات پر خرچ ہوں اور خود وزراء یہ عندیہ دیں کہ فیصلے کی گھڑی کسی اتحادی ملک کی
حکمتِ عملی سے متاثر ہے، تو سوال محض نظریاتی نہیں رہتا بلکہ یہ مالی اور آئینی
مسئلہ بھی بن جاتا ہے۔کیا امریکی شہری اس خطے کی طویل المدت فوجی کشمکش کی قیمت
ادا کرنے کے لیے تیار ہیں؟یا یہ فیصلہ ان سے پوچھے بغیر کیا جا رہا ہے؟
لمحہِ
فکریہ
یہ درست کہ عالمی اتحاد مفادات کی بنیاد پر
ہی بنتے ہیں، مگر جب اتحاد کے ایک رکن کی جانب سے “چالیس سالہ آرزو” کا ذکر اور
دوسرا ساتھی وقت کے انتخاب میں اس کے اثر
کا اعتراف کرے، تو معاملہ محض دفاعی کارروائی نہیں رہتا۔ یہ وقتی ردِعمل نہیں بلکہ
اسکا ہدف خطے کے جغرافئےاور سیاسی توازن کو مستقل طور پر بدلنا ہے
ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل کراچی 13 مارچ 2026
ہفت روزہ دعوت دہلی 13 مارچ 2026
ہفت روزہ رہبر سرینگر 15 مارچ 1026
No comments:
Post a Comment