مجتبیٰ خامنہ ای — ایران کی قیادت کا نیا باب
ایران
کی مجلسِ خبرگان نے مجتبیٰ خامنہ ای کو ملک کا نیا رہبرِ معظم (سپریم لیڈر) منتخب کرلیا۔
وہ ایران کے دوسرے رہبرِ انقلاب سید علی خامنہ ای کے صاحبزادے اور اپنے والد کے بعد ایران کے
تیسرے سپریم لیڈر بنے ہیں۔ اس طرح اسلامی جمہوریہ ایران کی قیادت ایک بار پھر اسی
انقلابی خانوادے کے ہاتھوں میں آ گئی ہے جس کےگزشتہ چار دہائیوں سے
ایران کی سیاست اور ریاستی ڈھانچے پر گہرے اثرات ہیں۔
انقلابی گھرانے میں پرورش
مجتبیٰ
خامنہ ای 1969 میں ایران کے شہر مشہد میں پیدا ہوئے۔ ان کی سیاسی اور فکری تربیت
ایسے ماحول میں ہوئی جہاں اسلامی انقلاب کی گونج ہر طرف سنائی دیتی تھی۔ جب 1979
کا انقلاب برپا ہوا تو وہ کم عمری ہی میں اس تحریک کے اثرات سے آشنا ہو گئے۔ بعد
ازاں انہوں نے قم کے حوزۂ علمیہ میں دینی تعلیم حاصل کی اور شیعہ فقہ و اصول کے
طالب علم اور استاد کے طور پر اپنی شناخت بنائی۔
جنگ اور عسکری تجربہ
نوجوانی
میں انہوں نے ایران۔عراق جنگ کے دوران پاسداران انقلابِ اسلامی ایران یا Islamic
Revolutionary Guard Corps میں شمولیت اختیار کی
اور محاذ پر خدمات انجام دیں۔ اس تجربے نے انہیں ایران کے انقلابی اور دفاعی
اداروں کے ساتھ قریبی تعلقات استوار کرنے کا موقع فراہم کیا۔ بعد کے برسوں میں ان
کے روابط پاسدارانِ انقلاب اور بسیج (Basij)ملیشیا کے حلقوں میں
خاصے مضبوط سمجھے جاتے رہے۔
پردے کے پیچھے اثر و رسوخ
اگرچہ
مجتبیٰ خامنہ ای نے طویل عرصے تک کوئی بڑا عوامی یا انتخابی عہدہ نہیں سنبھالا،
لیکن انہیں ایران کے سیاسی نظام میں ایک بااثر اور طاقتور شخصیت سمجھا جاتا ہے۔ مبصرین کے مطابق وہ
اپنے والد کے دورِ قیادت میں داخلی سیاست اور ریاستی اداروں کے درمیان ایک اہم
رابطہ کار کے طور پر کردار ادا کرتے رہے۔
قیادت کا مشکل مرحلہ
ہفتہ، 27 فروری
کو اسرائیلی حملے میں رہبرِ معظم علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد ایران کی قیادت کا
سوال اچانک سامنے آ گیا۔اس کے بعد مجلسِ خبرگان نے مجتبیٰ خامنہ ای کو ملک کی
اعلیٰ ترین مذہبی و سیاسی قیادت سونپ دی۔ بہت سے تجزیہ کاروں کے نزدیک ان کی قیادت
اسلامی جمہوریہ کے سیاسی ڈھانچے میں تسلسل کی علامت ہے، جبکہ بعض حلقے اسے ایک نئی
اور زیادہ سخت گیر سمت کی علامت بھی قرار دیتے ہیں۔
ایک نئے باب کا آغاز
ایران
کے سیاسی نظام میں رہبرِ معظم کا منصب محض علامتی نہیں بلکہ انتہائی طاقتور اور
فیصلہ کن حیثیت رکھتا ہے۔ یہ منصب ملک کی خارجہ پالیسی، دفاعی حکمت عملی اور اہم
ریاستی اداروں کی نگرانی میں مرکزی کردار ادا کرتا ہے۔ مجتبیٰ خامنہ ایک ایک ایسے
وقت میں ایران کی قیادت سنبھال رہے ہیں جب خطہ شدید کشیدگی کا شکار ہے۔ ان کی
قیادت نہ صرف ایران کی داخلی سیاست بلکہ پورے مشرقِ وسطیٰ کی تزویراتی سمت پر بھی
اثر انداز ہو سکتی ہے۔اسی لیے یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ مجتبیٰ خامنہ ای کی قیادت
صرف ایک شخص کی تبدیلی نہیں بلکہ ایران کی سیاسی تاریخ میں ایک نئے باب کا آغاز
ہے۔
صدر ٹرمپ کا ردعمل
صدر ٹرمپ نے جناب مجتبیٰ خامنہ ای کے تقرر کو مسترد کردیا ہے۔ انکا
کا کہنا ہے کہ امریکہ کی منظوری کے بغیر ایران کا اگلا رہنما زیادہ دیر نہیں ٹک
سکے گا۔ اس تکبر کو مسترد کرتے ہوئے ایرانی قائدین نے کہا کہ اگر کسی قوم کی قیادت
کیلئے بیرونی توثیق لازمی قرار دی جائے تو پھر اسے جمہوریت نہیں قبضہ، غلامی اور
نوآبادیات کا تسلسل کہتے ہیں۔ صدر ٹرمپ یہ نہ بھولیں کہ ایران قیام امریکہ کے
ہزاروں سال پہلے سے ایک آزاد و خودمختار ریاست ہے ۔اسی کیساتھ اسرائیلی وزیر دفاع
نے نئے رہبر معظم کو نشانے پر رکھنے کا اعلان کیا ہے۔
ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل کراچی 13 مارچ 2026
No comments:
Post a Comment