Thursday, March 12, 2026

 

آبنائے ہرمز — عالمی معیشت کی شہ رگ

ایران کے خلاف امریکہ و اسرائیل کی مشترکہ جارحیت نے دنیا،  خاص طور سے ایشیائی ممالک کو تیل کے سنگین بحران میں مبتلا کردیا ہے۔اس کی وجہ ایک تنگ مگر انتہائی اہم سمندری گزرگاہ، آبنائے ہرمز (Hormuz Strait)کی ممکنہ بندش ہے۔ یہ آبی راستہ، خلیج فارس کو خلیج عمان اور پھر بحرِ ہند سے ملاتا ہے۔ اس کے شمال میں ایران اور جنوب میں عمان اور متحدہ عرب امارات واقع ہیں جغرافیائی اعتبار سے یہ گزرگاہ زیادہ وسیع نہیں, تنگ ترین مقام پر اس کی چوڑائی تقریباً 34 کلومیٹر ہے، لیکن عالمی معیشت کے لیے اس کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ روزانہ تقریباً دوکروڑ بیرل تیل اس راستے سے عالمی منڈیوں تک پہنچتا ہے، جو دنیا کی کل یومیہ کھپت کا تقریباً بیس فیصد ہے۔ سمندری راستوں سے ہونے والی عالمی تیل تجارت کا تقریباً ایک چوتھائی حصہ اسی آبنائے سے گزرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب بھی خلیج میں کشیدگی بڑھتی ہے تو عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتیں فوراً بے چینی کا شکار ہو جاتی ہیں۔ ماہرین، آبنائے ہرمز کو توانائی کی “شہ رگ” قرار دیتے ہیں۔

خلیجی ریاستوں کی معیشت بڑی حد تک اسی راستے پر منحصر ہے۔ سعودی عرب، عراق، متحدہ عرب امارات، کویت، قطر اور ایران اپنے تیل کی بڑی مقدار اسی آبی گزرگاہ کے ذریعے دنیا بھر میں بھیجتے ہیں۔قطر کی مائع قدرتی گیس (LNG) کی برآمدات بھی اسی راستے سے ہوتی ہیں۔ ایران نے دھمکیوں کے باوجود باضابطہ طور پرآبنائے ہرمز کو بند کرنے کا اب تک اعلان نہیں کیا، لیکن عملی طور پر جہاز رانی شدید متاثر ہے اور بہت حد تک راستہ بند جیسی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔جسکی وجہ سے  توانائی کی عالمی منڈیاں بحران کا شکار ہیں اور 8 مارچ کو تیل کی قیمت 110 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرگئی۔

اس راستے کی بندش کا سب سے بڑااور بُرا اثر پاکستان، بنگلہ دیش اور ایشیا کی بڑی معیشتوں پر پڑرہا ہے۔ چین، بھارت اور جنوبی کوریا اپنی توانائی کی ضروریات کا بڑا حصہ خلیج سے حاصل کرتے ہیں۔جاپان اپنی ضرورت کا تقریباً ستر فیصد تیل اسی راستے سے درآمد کرتا ہے۔ چنانچہ آبنائے ہرمز میں رکاوٹ نے ایشیا کی صنعتی معیشتوں کو بحران سے دوچار کردیا ہے۔

اسی خطرے کے پیش نظر سعودی عرب نے کئی سال پہلے ایک متبادل راستہ تیار کیا تھا۔ اسے “ایسٹ ویسٹ پائپ لائن” کہا جاتا ہے۔ اس پائپ لائن کے ذریعے خلیج کے ساحل سے نکلنے والا تیل سعودی عرب کے مغربی ساحل پر واقع بندرگاہ ینبع تک پہنچایا جا سکتا ہے، جہاں سے اسے بحیرہ احمر کے ذریعے عالمی منڈیوں تک بھیجا جاتا ہے۔ اس طرح تیل کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی ضرورت نہیں رہتی۔

مگر یہ راستہ بھی مکمل طور پر محفوظ نہیں۔ بحیرہ احمر سے گزر کر ایشیا کی طرف سفر کیلئےجہازوں کو آبنائے باب المندب سے گزرنا پڑتا ہے جو یمن اور افریقہ کے ساحلوں کے درمیان واقع ہے ۔حالیہ برسوں میں یمن کے حوثی جنگجوؤں نے اس علاقے میں جہازوں کو نشانہ بنایا ہے جس کے باعث اس راستے کی سلامتی بھی غیر یقینی ہو چکی ہے۔ ادھر کچھ عرصے سے آبنائے باب مندب پر کوئی بڑی کاروائی نہیں دیکھی گئی لیکن اس نوعیت کی کاروائیاں خارج از امکان نہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پراعتماد ہیں کہ امریکی بحریہ آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ بلاشبہ امریکی بحریہ دنیا کی سب سے طاقتور بحری قوت ہے اور ماضی میں اس نے خلیج میں جہازوں کی حفاظت کے لیے کارروائیاں کی ہیں۔ تاہم عسکری ماہرین اس معاملے کو اتنا سادہ نہیں سمجھتے۔ آبنائے ہرمز ایک تنگ آبی راستہ ہے جہاں سینکڑوں تجارتی جہاز مسلسل آمد و رفت کرتے ہیں۔ اگرایران بارودی سرنگیں بچھانے میں کامیاب ہوگیا یا ساحلی میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے حملے شروع کر دئے تو ہر جہاز کو محفوظ راستہ فراہم کرنا ممکن نہیں ہوگا۔

ماہرین خبردار کررہے ہیں کہ اگر ہرمز میں چند دن کے لیے بھی جہاز رانی متاثر ہو جائے تو عالمی تیل کی قیمتیں آسمان کو چھونے لگیں گی۔ توانائی کی منڈیوں میں عدم استحکام کا یہ سلسلہ نہ صرف تیل درآمد کرنے والے ممالک بلکہ عالمی معیشت کے ہر شعبے کو متاثر کرے گا۔

حقیقت یہ ہے کہ آبنائے ہرمز عالمی معیشت کی دھڑکن ہے۔ اس کی بندش کا مطلب صرف خلیج میں بحران نہیں بلکہ دنیا بھر میں معاشی بے یقینی کا طوفان ہے۔ اس لئےخلیج میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پس منظر میں سب سے بڑا سوال یہی ہے کہ کیا عالمی طاقتیں اس شہ رگ کو کھلا رکھنے میں کامیاب رہیں گی یا دنیا ایک نئے توانائی بحران کی طرف بڑھ رہی ہے؟ امریکہ و اسرائیل کی جارحیت کا راستہ روک ہی اس کلیدی آبی گزرگاہ کو محفوظ اور کھلا رکھا جاسکتا ہے۔ دیکھنا ہے کہ اقوام عالم اس معاملے پر اپنا کردار کیسے نبھاتی ہیں۔

ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل کراچی 13 مارچ 2026

ہفت روزہ دعوت دہلی 13 مارچ 2026

ہفت روزہ رہبر سرینگر 15 مارچ 2026


No comments:

Post a Comment