عید ملبے پر — غزہ و
لبنان میں انسانیت کا امتحان
بمباری،
محاصرہ اور خوف کے سائے میں عبادت، مزاحمت اور امید کی کہانی
جب دنیاخوشیوں، رنگوں اور رونقوں کے ساتھ عید منارہی تھی، وہیں غزہ، غربِ اردن اور بیروت میں عید ملبے،
آنسوؤں اور بارود کی بو میں ڈھلی ایک خاموش پکار بنی ہوئی تھی۔ یہ وہ خطہ ہے جہاں
خوشی بھی مزاحمت ہے اور شکر استقامت کا دوسرا نام۔
ملبے پر عید — زندگی کا
اعلان
اہلِ غزہ نے بمباری اور بے گھری کے سائے میں تیسری عیدالفطر
منائی۔ ٹوٹے گھروں کے ملبے پر صفیں بنیں، تکبیریں بلند ہوئیں اور فاقوں کے باوجود
اللہ کا شکر ادا کیا گیا۔ ڈھائی برس سے بھوک اور محرومی ان کا مقدر ہے۔چند دانے
اور پانی کے چند گھونٹ ہی ان کی کل کائنات، مگر مایوسی ان کے قریب بھی نہیں پھٹکی۔
اہتمام سے چاند دیکھا گیا، بچیوں نے عید کے گیت گائے۔ حالات
کیسے ہی کیوں نہ ہوں۔ روزوں کی تکمیل پر خوشی اور شکر کا اظہار لازم اور شُکر کا
اعلان شَکر (مٹھائی) کے بغیر ممکن نہیں
چنانچہ جہاں ممکن ہوا علامتی کنافے بھی بنائے اور بانٹے گئے۔ یہ اعلان تھا
کہ ہم زندہ قوم ہیں، پائندہ قوم ہیں۔
غربِ اردن — مزاحمت اور
انتقام
غربِ اردن میں چھاپے، گرفتاریوں اور لوٹ مار کا سلسلہ جاری ہے۔ گزشتہ ہفتے بھیڑیں چھیننے
کیلئے قبضہ گرد اسرائیلی فوج کی بکتر بند گاڑی میں سوار ہوکر غربِ اردن کا گاوں
بیت عمرین آئے۔ایک فلسطینی نے اپنی گاڑی بکتر بند سے ٹکرادی۔ جس کے
نتیجے میں آگ بھڑک اٹھی اور ایک حملہ آور ہلاک ہو گیا۔ اس واقعے کے بعد پورے گاؤں
کو اجتماعی سزا کا سامنا ہے۔ یہ وہ سرزمین ہے جہاں مزاحمت کی ہر چنگاری، انتقام کی
آگ کو مزید بھڑکا دیتی ہے۔
مسجدِ اقصیٰ — بند
دروازے، کھلی پیشانیاں
مسجد اقصیٰ کے دروازے اگرچہ مقفل کر دیے گئے، مگر عقیدت کے راستے بند
نہ ہو سکے۔ لوگ گلیوں، سڑکوں اور دیواروں کے سائے میں سجدہ ریز ہوئے۔ متعدد مقامات
پر پولیس نے لاٹھی چارج کیا، نمازیوں کو منتشر کیا اور گرفتاریاں بھی ہوئیں، مگر
نماز کا سلسلہ جاری رہا۔ ہر باجماعت نماز کے گرد مسلح سپاہیوں کی بندوقوں کا رخ نمازیوں
کی طرف اور انگلیاں لبلبیوں پر تھیں۔ بقول علامہ اقبال 'کلمہ پڑھتے تھے ہم چھاوں میں تلواروں کی۔
تراویح کی آزمائش —
عبادت یا محاصرہ؟
اسی دوران CNN کی ایک رپورٹ نے ان آزمائشوں کی روشن جھلک پیش کی۔ ایک ہی
رات میں نمازیوں کو بار بار جگہ بدلنے پر مجبور کیا گیا؛ جہاں صفیں بنتیں، وہیں
انہیں منتشر کر دیا جاتا۔ یوں عبادت صرف عبادت نہ رہی بلکہ صبر و استقامت کا
امتحان بن گئی۔
یہ عید
کے دن اور ہیں عاشور سے بدتر
عید کے
دوسرے دن سارے غرب اردن پر دہشت گردوں کا راج رہا۔ اتفاق سے یہ یوم سبت (ہفتہ) تھا
جب توریت کے مطابق گھروں میں چھری سے سبزی کاٹنا بھی منع ہے لیکن اس دن جنوب میں الخلیل (Hebron)سے شمال میں جنین اور
وادی اردن تک مسلح قبضہ گرد غارتگری میں مصروف رہے۔ بکتر بند سوار اسرائیلی فوجی
ان غندوں کی پشت پناہی کو موجود تھے۔ جنین کے گاوں جالوت، سیلۃ الظہر، سلفیت شہر، نابلوس کے گاوں
الفندقومیہ، اور وادی اردن کے علاقہ مسافر یطہ ان کا خاص ہدف تھا۔ اس دوران گھروں
کو آگ لگادی گئی، لاٹھیوں اور لوہے کے سریوں سے خواتین پر تشدد کیساتھ معصوم بچوں
کی آنکھوں میں سرخ مرچ چھڑک دی گئی۔ کھڑی فصلوں کو آگ لگانے کے بعد یہ قبضہ گرد سینکڑوں
بھیڑیں بھی چرالئے گئے۔
لبنان — ملبہ، ہجرت اور
خوف
غزہ اور غربِ اردن کی طرح لبنان بھی تباہی کی لپیٹ میں ہے۔ بیروت اور اس کے اطراف میں لاکھوں افراد بے گھر ہو چکے ہیں اور یہ
تعداد بڑھتی جا رہی ہے۔ غزہ اور لبنان پر ڈھائی جانے
والے وحشت کا سنگدلانہ پہلو اسرائیلی
وزارت دفاع کی ابلاغی دہشت گردی ہے۔ بمباری کے بعد بلند و بالا عمارت کے زمیں بوس
ہونے کے مناطر پر مشتمل سمعی و بصری تراشے اسرائیلی فوج براہ راست نشر کرتی ہے۔ گرتی عمارت کا خوفناک منظر اور ملبے تلے دبتے لوگوں کی
چیخیوں سے دل ڈوبنے لگتا ہے۔ خوف کے ہتھیار سے دلوں کو نشانہ بنایا
جارہا ہے۔
بچوں کی قیمت پر جنگ
اس وحشت کی بھاری قیمت بچے ادا کررہے ہیں۔اقوام متحدہ کے
ادارے UNICEF کے مطابق لبنان میں روزانہ ایک کلاس روم کے برابر بچے جاں بحق اور زخمی ہورہے ہیں۔ ادارے کے نائب
ایگزیکٹو ڈائریکٹر Ted Chaiban کے الفاظ میں یہ بچے صرف اپنی جانیں نہیں کھو رہے بلکہ ان
سے معمول کی زندگی کا احساس بھی چھن چکا ہے۔ یہ اعداد و شمار محض ہندسے نہیں بلکہ
ٹوٹتے خواب اور بکھرتے بچپن ہیں۔
سچائی نشانے پر
جنگ صرف جسموں کو نہیں، سچ کو بھی نشانہ بناتی ہے۔ غزہ، غرب اردن اور ایران سے لبنان تک بچوں،
ہسپتالوں اور اسکولوں کیساتھ صحافی اور اہلِ قلم اسرائیل کا خاص ہدف ہیں۔ غزہ میں
200 سے زیادہ صحافیوں کو ہدف بناکر ختم کیا گیا۔بدھ 18 مارچ کو لبنانی المنار ٹی
وی کے ڈائریکٹر سیاسی پروگرام حاجی محمد شریع کے گھر کو اسرائیلی ڈرون نے نشانہ
بنایا جس میں حاجی صاحب کیساتھ انکی اہلیہ بھی جاں بحق ہوگئیں۔دوسرے دن جنوبی بیروت
میں اسرائیلی ڈرون نے برطانوی صحافی
Steve Sweeneyکو ہدف
بنایا لیکن وہ اور انکے عکاس (کیمرہ مین) علی رضا بال بال بچ گئے۔منگل 17 مارچ کو تراویح کے دوران نمازیوں پر پولیس
تشدد کی رپورٹنگ کرنے والے صحافیوں پر
حملہ کیا گیا۔ جب CNN کی بیورو چیف عبیر سلمان نے احتجاج کیا تو ایک سپاہی نے انکا ہاتھ
پکڑ کر زور سے جھٹکا دیا جس کی وجہ سے عبیر سلمان کی کلائی کی ہڈی ٹوٹ گئی۔سینسر کی سختی کا یہ عالم
کہ واقعے کے چار دن بعد فوج نے
CNNکو یہ خبر شائع
کرنےکی اجازت دی۔
حوصلہ و اعصاب شکن حالات کے باوجود اہلِ غزہ، ساکنانِ غربِ
اردن اور بیروت کے شہریوں نے روائتی جوش و
خروش سے عید منائی، اور یہی اس کہانی کا سب سے روشن پہلو ہے۔یہ عید خوشیوں کی
نہیں، حوصلے کی عید تھی؛ یہ جشن نہیں، اعلان تھا کہ زندگی اب بھی موجود ہے۔ ملبے
پر کھڑے ہو کر شکر ادا کرنا، بھوک میں مسکرانا اور بندوقوں کے سائے میں سجدہ کرنا
بڑے حوصلے کا کام ہے اوراس بات کی دلیل ہے جسم، بے جان کئے جاسکتے لیکن جذبہ و روحِ
آزادی کو شکست نہیں دی جا سکتی۔
طاقت،اقتدار اور سیاست کے ایوانوں میں یہ سب شاید محض خبریں
ہوں، مگر تاریخ کے اوراق میں یہ انسانیت کی سب سے بڑی گواہی بنیں گی۔ سوال صرف یہ
نہیں کہ وہاں کیا ہو رہا ہے،اصل سوال یہ ہے کہ ہم کہاں کھڑے ہیں۔
ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل کراچی 27 مارچ 2026
ہفت روزہ دعوت دہلی 27 مارچ 2026
ہفت روزہ رہبر سرینگر 29 مارچ 2026
No comments:
Post a Comment