Thursday, March 5, 2026

 

رمضانِ محاصرہ

غزہ کا دوسرا جمعہ، جنگ کا پھیلتا دائرہ اور بدلتا عالمی بیانیہ

غزہ میں  برکت و رحمت اور حسنِ بندگی سے  مزین رمضان کا مہینہ محاصرے، بمباری اور بے گھری کے سائے میں گزر رہا ہے۔ مگر ایمان کی حرارت توپ و تفنگ سے سرد ہوتی نظر نہیں آتی۔ ملبے پر افطار اور نیم منہدم مساجد میں تراویح اس عزم کا اعلان ہیں کہ پرعزم معاشروں میں زندگی کا چراغ، چاہے ہوا کتنی ہی تیز کیوں نہ ہو، جلتا ہی رہتا ہے۔

ملبے پر افطار، اذان کے سائے میں استقامت

غزہ میں رمضان کا دوسرا جمعہ بھی بمباری اور ناکہ بندی کے درمیان گزر گیا، تاہم روایتی جوش و خروش میں کوئی کمی نہ آئی۔ کئی خاندان ملبے پر افطار کرنے پر مجبور ہیں اور بمباری سے متاثر مساجد میں تراویح کا سلسلہ بھی جاری ہے۔

جمعے کو عین سحری کے وقت خان یونس پر بمباری سے پانچ فلسطینی جاں بحق ہوگئے۔ خیموں میں لگنے والی آگ نے درجنوں خاندانوں کو بے گھر کر دیا۔ سر چھپانے کے لیے نئی جگہ کی تلاش خود ایک خطرناک سفر ہے۔ ملبے میں دبے نہ پھٹنے والے بم ایک مستقل خطرہ ہیں، مگر اس سے بڑا اندیشہ یہ ہے کہ نقل مکانی کرنے والے قافلوں کو مشتبہ قرار دے کر فائرنگ کا نشانہ نہ بنا دیا جائے۔

ہفتے بھر غزہ کے مختلف علاقوں میں فضائی اور زمینی حملوں کا سلسلہ جاری رہا۔ ٹینکوں سے گولہ باری اور ڈرون حملے روزمرہ کا منظر بن چکے ہیں۔

جنگ کا پھیلتا دائرہ: ایران اور خلیج کی گونج

اس ہفتے کے آخر میں ایران پر امریکہ اور اسرائیل کا مشترکہ حملہ ابلاغ عامہ پر چھایا رہا۔ عرب رائے عامہ خلیج میں جاری اس کشیدگی کو غزہ سے شروع ہونے والی اسرائیلی جارحیت کا تسلسل سمجھتی ہے۔ اقوام متحدہ میں عرب لیگ کے نمائندے ماجد عبدالعزیز نے سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس میں کہا کہ اسرائیل اس کشیدگی کو فلسطینی علاقوں پر قبضے کے خاتمے، آزاد فلسطینی ریاست کے قیام، دو ریاستی حل اور اقوام متحدہ میں فلسطین کی مکمل رکنیت کی راہ روکنے کے لیے استعمال کرنا چاہتا ہے۔

ایران پر عالمی توجہ کے باعث صدر ٹرمپ اور ان کی مجلسِ السلام (Board of Peace)نے بھی غزہ امن منصوبے کو پسِ پشت ڈال دیا  اور سفارتی سطح پر غزہ ایک بار پھر ثانوی حیثیت اختیار کرتا دکھائی دے رہا ہے۔

سفارتی محاذ پر غیر متوقع پیش رفت

سفارتی محاذ پر ایک غیر متوقع پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب تحریک آزادی فلسطین (PLO) کے سیکرٹری جنرل عزام الاحمد نے الشروق ٹیلی ویژن سے گفتگو میں کہا کہ “غزہ کے مزاحمت کار دہشت گرد نہیں ہیں اور ہم انہیں غیر مسلح کرنے کی حمایت نہیں کرتے۔

یہ بیان داخلی فلسطینی سیاست میں اہمیت کا حامل ہے، کیونکہ اس سے سیاسی و نظریاتی اختلاف کے باوجود ایک بنیادی نکتے پر ہم آہنگی کا اشارہ ملتا ہے۔

غربِ اردن: آبادیاں، آتش زنی اور انتقامی نعرے

غزہ کے ساتھ ساتھ غربِ اردن بھی مسلسل کشیدگی کا شکار ہے۔ الخلیل (Hebron) کے علاقے مسافر یطا پر حملے کے بعد درجنوں خاندان جنوب کی جانب نقل مکانی کرکے سوسیا پہنچے، مگر تعاقب کا سلسلہ نہ رکا۔ کئی مکانات اور گاڑیاں نذرِ آتش کر دی گئیں۔

کفر کنا میں عین افطار کے وقت ایک گھر کو ڈرون سے نشانہ بنایا گیا جس سے چار افراد زخمی ہوئے۔ رام اللہ کے مضافاتی علاقے المغیر میں کچے مکان منہدم کئےگئے اور مزاحمت پر فائرنگ سے دو نوجوان زخمی ہوگئے۔

نابلوس میں جامع مسجد ابوبکر صدیق کو آگ لگا دی گئی۔ جاتے ہوئے حملہ آوروں نے دیواروں پر عبرانی میں “נקמה עזה” (غزہ کا انتقام) تحریر کیا۔ یہ فقرہ اس نفسیاتی جنگ کی علامت ہے جس میں عبادت گاہیں بھی محفوظ نہیں رہیں۔

انتہا پسند عناصر اس قدر دلیر ہو چکے ہیں کہ فلسطینیوں کے حق میں آواز اٹھانے والے اسرائیلی شہری بھی نشانہ بن رہے ہیں۔جمعہ 27 فروری کو قصریٰ گاؤں میں دو اسرائیلی شہری، جو انہدام شدہ مکانات کی خبر سن کر وہاں پہنچے تھے، شدید زخمی کر دئے گئے۔

قبلۂ اول پر پابندیاں، مگر حاضری برقرار

مسجد اقصیٰ میں پابندیوں کا سلسلہ جاری ہے، مگر فلسطینی قبلۂ اول سے دستبردار ہونے کو تیار نہیں۔ رمضان کے دوسرے جمعے کو ایک لاکھ سے زائد فلسطینیوں نے نماز جمعہ ادا کی۔ سخت تلاشی اور طویل پوچھ گچھ کے باعث خواتین نے فجر کے بعد ہی چوکیوں پر قطاریں بنا لیں۔

دوسری طرف اسرائیلی ذرائع ابلاغ میں شائع تصاویر میں انتہا پسندوں کو احاطۂ اقصیٰ میں عبادت اور چہل قدمی کرتے دکھایا گیا، جو القدس کی مذہبی حیثیت سے متعلق جاری تنازع کو مزید گہرا کرتا ہے۔

بھارت میں اختلافی آوازیں

عالمی سطح پر فلسطینیوں کو بعض ممالک میں حزبِ اختلاف کی حمایت حاصل ہو رہی ہے۔ نریندرا مودی کے حالیہ دورۂ اسرائیل پر تنقید کرتے ہوئے  آل انڈیا کانگریس کے معتمد عام جئے رام رمیش نے کہا کہ موجودہ بھارتی حکومت نے فلسطینی عوام کو تنہا چھوڑ دیا ہے اور مؤثر سفارتی موقف اختیار نہیں کیا۔

انہوں نے یاد دلایا کہ 1988 میں بھارت نے فلسطین کو تسلیم کیا تھا اور اس روایت کو برقرار رکھا جانا چاہئےتھا۔ کانگریس کی سینئر رہنما پریانکا گاندھی نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ بھارتی وزیراعظم نے اسرائیلی قیادت سے ملاقاتوں کے دوران غزہ میں شہری ہلاکتوں اور انسانی بحران کا ذکر نہیں کیا۔

صحافت پر قدغن اور سچ کی نئی راہیں

غربِ اردن میں پانچ میڈیا پلیٹ فارموں پر پابندی عائد کر دی گئی ہے، جن میں العاصمہ نیوز، معراج نیٹ ورک، القدس کمپس، میدان القدس اور قدس پلس شامل ہیں۔ یہ اقدام اس بڑھتے ہوئے دباؤ کی علامت ہے جو مقامی صحافت پر ڈالا جا رہا ہے۔

روایتی میڈیا کی سرد مہری کے باوجود سوشل میڈیا کے ذریعے عام امریکیوں تک متبادل بیانیہ پہنچ رہا ہے۔ تازہ ترین گیلپ پول کے مطابق 41 فیصد امریکی فلسطین اور 36 فیصد اسرائیل کے ساتھ ہمدردی رکھتے ہیں۔ ریپبلکن ووٹروں میں اسرائیل کے حامیوں کا تناسب زیادہ ہے، جبکہ ڈیموکریٹس میں فلسطینیوں کی حمایت نمایاں طور پر بڑھی ہے۔ ایک سال پہلے امریکی رائے عامہ کا جھکاؤ زیادہ واضح طور پر اسرائیل کی جانب تھا۔

ایمان، سیاست اور تاریخ کا موڑ

غزہ میں رمضان کا دوسرا جمعہ یہ یاددہانی ہے کہ محض توپوں کی گھن گرج تاریخ کا فیصلہ نہیں کرتی۔ جنگ کا دائرہ خواہ ایران تک پھیل جائے یا عالمی سفارت کاری کے میزوں پر نئی صف بندیاں ترتیب پائیں، اصل سوال انسانی وقار، انصاف اور حقِ خود ارادیت کا ہے۔

ملبے پر افطار کرنے والے یہ خاندان شاید عالمی سیاست کے ایوانوں میں شمار نہ ہوں، مگر تاریخ کے اوراق میں ایسے ہی لوگوں کی استقامت جگہ پاتی ہے۔ طاقت کا توازن بدلتا رہتا ہے، مگر عوامی حافظہ اور اخلاقی سوال اپنی جگہ قائم رہتے ہیں۔ رمضان کا یہ پیغام بھی شاید یہی ہے کہ اندھیری رات کتنی ہی طویل کیوں نہ ہو، سحر کو روکنا کسی کے بس میں نہیں۔ کہ رات جب کسی خورشید کو شہید کرے ۔ توصبح اک نیا سورج تراش لاتی ہے

ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل کراچی 6 مارچ 2026

ہفت روزہ رہبر سرینگر 6 مارچ 2026


No comments:

Post a Comment