Thursday, March 26, 2026

 

جنگ، بیانیہ اور حقیقت — کیا “obliteration” ممکن ہے؟

تلسی گیبارڈ کا بیان،  آبنائے ہرمز، جزیرہ خارگ اور عالمی طاقتوں کی خاموش چالیں

مشرقِ وسطیٰ ایک خطرناک موڑ پر

ایران پر امریکی و اسرائیلی حملوں کو ایک ماہ گزر چکا ہے، مگر جنگ کا دھواں چھٹنے کے بجائے مزید گہرا ہوتا جا رہا ہے۔ بیانات میں “فتح” اور “obliteration” کے دعوے ہیں، مگر زمینی حقیقت اس کے برعکس پیچیدہ، غیر یقینی اور خطرناک دکھائی دیتی ہے۔ کسی کو نہیں معلوم کہ یہ خونریزی کہاں جا کر رکے گی۔

بیانیہ اور حقیقت کا تضاد

گزشتہ ہفتے امریکی کانگریس کے روبرو بیان دیتے ہوئے ڈائریکٹر نیشنل انٹیلیجنس شیریمتی تلسی گیبارڈ (Tulsi Gabbard) نے کہا  کہ امریکی انٹیلیجنس کے مطابق ایران گزشتہ سال کے حملوں کے بعد اپنی جوہری افزودگی کی صلاحیت دوبارہ بحال نہیں کر رہا۔جب سینیٹر جان آسف (jon Assoff) نے پوچھا کہ 'اگر افزودگی کا کام معطل ہوچکا تو امریکی حملہ پیشگی دفاع (preemptive strike) ہے یا خطرے کی نوعیت کو بڑھا کر پیش کیا گیا؟ جواب ملا: خطرے کا تعین صدر کی ذمہ داری ہے۔

یہ جملہ محض جواب نہیں، بلکہ پالیسی کا نچوڑ ہے۔یادش بخیر،عراق پر حملے سے پہلے “بڑے پیمانے پر تباہی کے ہتھیار” (WMD) کا بیانیہ بھی اسی انداز میں گھڑا گیا تھا اور بعد میں خود صدر ٹرمپ نے تسلیم کیا کہ یہ دعویٰ بے بنیاد تھا۔

جنگ کا پھیلاؤ اور ایٹمی سایہ

امریکی نائب صدر جی ڈی وانس کے قریبی حلقوں میں مبینہ طور پر جوہری تصادم کے خدشات زیرِ بحث ہیں۔اس حوالے سے 21 مارچ کو دو انتہائی خطرناک پیش رفت سامنے آئیں ہیں۔ ایران نے اسرائیل کے دیمونہ جوہری تحقیقی مرکز المعروف دیمونہ ری ایکٹر پر میزائیل داغے۔ اسرائیلی حکام کے مطابق میزائیل، ری ایکٹرکے رہائشی علاقے کے باہر گرے تاہم عالمی جوہری توانائی ایجنسی IAEAنے اس پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے  تابکاری مواد کی پھیلاو کا جائزہ لینے کی تلقین ہے۔کیا  IAEAکو اسرائیلی جوہری تنصیبات تک رسائی حاصل ہے؟ اور کیا ایجنسی، اسرائیل کے جوہری عدم پھیلاؤ کے انتظامات سے مطمئن ہے؟دونوں سوالوں کا جواب نفی میں ہے۔

اسی دن امریکی و اسرائیلی  طیاروں نے ایرانی شہر نطنز میں اس زیرزمین گودام کو نشانہ بنایا جہاں مبینہ طور پر افزودہ یورنیم ذخیرہ کیا گیا ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق نطنز میں تابکاری آلودگی کے کوئی شواہد نہں ملے۔ اسرائیلی اور ایرانی جوہری تنصیبات پر حملے اور امریکی قیادت میں “nuclear option” کی سرگوشیاں ایک بڑے سانحے کی پیش بندی محسوس ہوتی ہیں۔

تنہائی، اشتعال اور آبنائے ہرمز

آبنائے ہرمز کی بندش نے عالمی معیشت کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔اس معاملے پر صدر ٹرمپ خود کو تنہا محسوس کررہے ہیں۔آبنائے ہرمز بزور طاقت کھلوانے کیلئے جہاں روس اور چین صدر ٹرمپ کا ساتھ دینے کو تیار نہیں وہیں نیٹو، یورپی یونین اور جاپان و جنوبی کوریا بھی تنازعے کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے کے حامی ہیں۔ اس تنہائی سے صدر ٹرمپ جھنجھلائے اور مشتعل نظر آرہے ہیں۔انھوں نے دھمکی دی کہ اگر ایران نے  48 گھنٹوں کےاندر آبنائے ہرمز کو غیر مشروط طور پر نہ کھولا تو وہ ایران کے پاور پلانٹس کو خاک یا Obliterate  کردینگے، جسکا جواب دیتے ہوئے ایرانی فوج کے ترجمان نے کہا کہ اگر توانائی کے کسی ایرانی مرکز یا تنصیبات پر حملہ ہوا تو علاقے میں تیل و گیس کی کا کوئی اثاثہ محفوظ نہیں رہیگا۔ اسی کیساتھ ایران نے دنیا بھر میں امریکی و اسرائیلی فوج کے اہلکاروں پر حملوں کی دھمکی دی ہے۔ مسلح افواج کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا کہ ایران ،امریکی و اسرائیلی عہدیداروں اور کمانڈروں پر نظر رکھے ہوئے ہے اور اب دنیا بھر کی سیرگاہیں، تفریحی مقامات اور سیاحتی مراکز دشمنوں کیلئے محفوظ نہیں رہیں گے۔

ایران کی “rope-a-dope” حکمتِ عملی؟

امریکی ماہرِ معاشیات اور سابق صدر رونلڈ ریگن کے مشیر Steve Hanke کا خیال ہے کہ ایران عظیم باکسر محمد علی کی طرح براہِ راست تصادم کے بجائے ایک طویل کھیل کھیل رہا ہے  یعنی معاشی دباؤ، علاقائی کشیدگی اور محدود ردعمل کے ذریعے اپنے حریف کو تھکانے کی کوشش۔محمد علی نے اپنے سے کہیں زیادہ طاقتور حریف جارج فورمین کو شکست دینے کے لیے ایک غیر معمولی طریقہ اختیار کیا تھا۔ وہ خود کو کمزور ظاہر کرتے ہوئے رِنگ کی رسّیوں کے ساتھ لگ گئے اور حریف کو حملہ کرنے دیا، یہاں تک کہ اس کی طاقت جواب دے گئی اور پھر ایک بھرپور وار میں انھوں نے جارج فورمین کو ناک آوٹ کر دیا۔کیا یہ واقعی ایرانیوں کا rope-a-dope ہے؟ یا یہ محض وقتی دفاع جسے حکمتِ عملی کا نام دیا جا رہا ہے؟ اگر یہ علی کی چال ہے، تو تاریخ بتاتی ہے کہ فیصلہ کن وار ہمیشہ آخر میں آتا ہے۔ لیکن کیا ایران، علی کی طرح آخری وار کے لئے خود کو محفوظ رکھ پاۓ گا؟یا یہ حکمتِ عملی خود اس پر بھاری پڑے گی؟

چین کی خاموشی—حکمت یا مصلحت؟

چین ایرانی تیل کا سب سے بڑا خریدار اور معاشی شراکت دار ہے۔ تہران کے اس اعلان کے بعد بھی کہ ایران میں تیل کاقابل فروخت ذخٰیرہ ختم ہوچکا ہے، چین کی خاموشی و غیر جانبداری معنی خیز ہے۔ بعض تجزیوں کے مطابق یہ بھی ایک “rope-a-dope” ہے۔ امریکہ مشرقِ وسطیٰ میں ایک کے بعد ایک محاذ کھول کر خود کو الجھا رہا ہے۔اسکےخلیجی اتحادی اپنے قیمتی اثاثوں اور وسائل کو خاک ہوتا دیکھ کر اپنے معاشی اور سفارتی راستوں کا متبادل ڈھونڈھ رہے ہیں۔ اسکے مقابلے میں چین کئی  دہائیوں سے گولی و بارود کے بغیر سڑکیں، بندرگاہیں، ریل نیٹ ورک اور مالیاتی متبادل نظام تعمیر کر رہا ہے۔ یعنی بیجنگ رسّیوں سے ٹیک لگائے اس انتظار میں ہے کہ کب حریف خود تھک کر کمزور پڑ جائے۔

میدانی حقیقت: حادثات، دعوے اور ابہام

عالمی خبر رساں ادارے Reuters کے مطابق امریکی وزارتِ دفاع کے ذرائع نے ایران کے خلاف جاری جنگ میں مصروف طیارہ بردار جہاز USS Gerald R. Ford پر آتشزدگی اور مرمت کے لیے اس کی عارضی واپسی کی تصدیق کی ہے۔ جہاز کو مرمت کیلئے یونان کے جزیرے کریٹ کی Souda Bay بندرگاہ لے جانے کا امکان ہے۔امریکی وزارت دفاع کے مطابق آتشزدگی ایک حادثہ ہےلیکن ایک ہفتہ قبل پاسداران انقلاب اسلامی (IRGC) نے اس جہاز پر حملے کا دعویٰ کیا تھا جسے صدرٹرمپ نے fake news قرار دیا۔

امریکہ کے مشہور زمانہ F-35کے ناقابل تسخیر ہونے کا دعوی بھی مشکوک ہوگیاہے۔امریکی مرکزی کمان کے ترجمان کیپٹن ٹم ہاکنز کے مطابق ایک F-35کو ایران پر پرواز (بمباری) کرتے ہوئے غیردوستانہ” فائر کے نتیجے میں ہنگامی طور پر مشرق وسطیٰ کے اڈے پر اترنا پڑا۔ یہ طیارہ اپنی تاریخ میں پہلی بار اس آزمائش سے گزرا ہے۔ یہ واقعات اس جنگ کی پیچیدگی اور غیر یقینی کو ظاہر کرتے ہیں۔

توانائی کا محاذ

اسرائیل نے 17 مارچ کو خلیج فارس میں ایران اور قطر کےمشترکہ جنوب پارس گیس میدان (South Pars Gas Field)پر میزائیل حملہ کیا جس سے وہاں آگ لگ گئی۔ اس میدان سے ایران یومیہ 2 ارب مکعب فٹ گیس حاصل کرتا ہے۔ جواب میں ایران نے قطر کے راس لفاں (Ras Laffan)پلانٹ پر میزائیل برسادئے۔ جس سے تنصیابت کو بھاری نقصان پہنچا۔دنیا کا اس سب سے بڑے LNG پلانٹ کی پیداواری گنجائش سات کروڑ 70 لاکھ ٹن سالانہ ہے جو LNGکی مجموعی عالمی پیداوار کا 20 فیصد ہے۔ دو دن بعد ایران نے کوئت کی مینا الاحمدی ریفائنری پر بھی حملہ جس سے کئی جگہ آگ بھڑک اٹھی۔ اس ریفائنری میں 7 لاکھ 30 ہزار بیرل تیل روزانہ صاف ہوتا ہے۔ ایرانی حملوں کے خوف سے متحدہ عرب امارات کی سرکاری تیل کمپنی ADNOC نے حبشان پراسیسنگ پلانٹ کو عارضی طور پر بندکردیا۔ یہاں سے یومیہ 6 ارب مکعب فٹ گیس فراہم کی جاتی ہے

انسدادِ دہشت گردی کے سربراہ کا استعفیٰ

امریکی قومی انسدادِ دہشت گردی مرکز کے سربراہ Joe Kent نے ایران کے خلاف جاری جنگ پر اختلاف کرتے ہوئے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ ان کے مطابق ایران فوری خطرہ نہیں تھا، بلکہ ایک مخصوص بیانیہ تشکیل دے کر جنگ کی راہ ہموار کی گئی۔ جو کینٹ کااستعفیٰ اس جنگ کے بیانیے پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔

امریکی اسلحہ فروشوں کی چاندی

ٹرمپ انتطامیہ نے متحدہ عرب امارات کو Patriotفضائی دفاعی نظام اور CH4ہیلی کاپٹر فروخت کرنے کی منظوری دیدی۔ سودے کا محموعی حجم 7 ارب ڈالر ہے۔

تنازعے کے آغاز سے ہی لفظِ obliteration (مکمل تباہی) صدر ٹرمپ کا تکیہ کلام بناہواہے۔ ایرانی جوہری تنصیبات، اسکی بحریہ، فضائیہ، جزیرہ خرگ، ایرانی قیادت سب کو وہ اپنی تقریروں میں  Obliterateکرچکے ہیں۔ مگر تاریخ بتاتی ہے کہ جنگیں الفاظ سے نہیں جیتی جاتیں۔ عراق سے افغانستان تک، ہر “فیصلہ کن فتح” کا دعویٰ بالآخر ایک طویل اور پیچیدہ کہانی میں بدل گیا۔مشرقِ وسطیٰ بھی اسی موڑ پر کھڑا ہے، جہاں طاقت، بیانیہ اور حقیقت تین مختلف سمتوں میں چل رہے ہیں۔کیا یہ جنگ کسی واضح انجام کی طرف بڑھ رہی ہےیا ایک  طویل عدم استحکام کی تمہید لکھی جا رہی ہے؟

ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل کراچی 27 مارچ 2026

ہفت روزہ دعوت دہلی 27 مارچ 2026

ہفت روزہ رہبر سرینگر 29 مارچ 2026


No comments:

Post a Comment