Thursday, April 16, 2026

 

ہنگری کے انتخابات: یورپ کی دھڑکن یا سیاست کا نیا موڑ؟

صدر ٹرمپ  کے اتحادی کی شرمناک شکست

مشرقی یورپ کا چھوٹا مگر تاریخی اہمیت کا حامل ملک ہنگری ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بن گیا۔ حالیہ انتخابات نے نہ صرف داخلی سیاست کا نقشہ بدل دیا بلکہ یورپی اتحاد، امریکہ اور مشرقِ وسطیٰ کی سیاست کے تناظر میں بھی نئے سوالات کھڑے کر دیئےہیں۔ کیا یہ محض اقتدار کی تبدیلی ہے، یا ایک بڑی جغرافیائی و نظریاتی تبدیلی کا آغاز؟

تاریخی پس منظر اور قومی شناخت

مشرقی یورپ کا یہ 96 لاکھ آبادی والا ملک خشکی سے گھرا ہواہے۔ ترک خلیفہ سلیمان اعظم (Suleman the Magnificent)نے  1526 کی جنگ موہاچ Mohács میں  صلیبیوں و شکست دیکر اس علاقے کو عثمانی خلافت کا حصہ بنایا۔ ہنگری پر ترک خلافت 1699 تک برقرار رہی۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد ہنگری آزاد تو ہوا لیکن عملاً سوویت یونین کے زیراثر رہا۔ افغانستان میں شکست کے بعد جب سوویت یونین کی شکست و ریخت کا سلسلہ شروع ہوا تو انقلاب 1989 کے نتیجے میں ہنگری جمہوری ریاست بن گیا اور 2004 میں ہنگری نے یورہی یونین کی رکنیت اختیار کرلی جسکے تین سال بعد ہنگری یورپ کے  کھلی سرحد معاہدے شیینگن (Schengen)کا حصہ بن گیا۔ ہنگری قوم کو مجیّار (Magyar)کہا جاتا ہے اسلئے ہنگری کا سرکاری نام Magyar Orszag یا مجیاروں کا وطن ہے۔

 انتخابی نظام اور حالیہ نتائج

اتوار 12 اپریل کو ہنگری کی 199 رکنی قومی اسمبلی کے انتخابات ہوئے۔ یہاں کے مخلوط طرز انتخاب کے تحت 106 نشستیں پاکستان اور ہندوستان کی طرح حلقہ جات کی بنیاد پر ہیں جبکہ 93 نشستیں متناسب نمائندگی کے اصول پر پر جماعتوں کو اسکے حاصل کردہ ووٹوں کی بنیاد پرعطاہوتی ہیں۔ ہنگری ایک ایوانی (Unicameral) پارلیمانی جمہوریت ہے اور قومی اسمبلی کے علاوہ کوئی دوسرا ایوان، یعنی سینیٹ یا ایوانِ بالا موجود نہیں۔

نتائج کے مطابق افتخارِ حریت پارٹی (Tisza)نے 53.3 فیصد ووٹ لیکر قومی اسمبلی کی 138 نشستیں جیت لیں۔ وزیراعظم اوربن کے ہنگری اتحاد (Fidsez-KDNP) 55 نشستوں کیساتھ دوسرے نمبر پر رہا۔ حکمراں اتحاد نے مجموعی طور ہر 38.3 فیصد ووٹ لئے۔چار سال پہلے ہونے والے انتخابات میں اوربن کی جماعت نے 135 نشستیں حاصل کی تھیں۔انتخابات میں ووٹ ڈالنے کا تناسب 79.51فیصد رہا جو گزشتہ انتخابات سے تقریباً 10 فیصد زیادہ ہے۔

سیاسی صف بندیاں اور عالمی تناظر

ہہ انتخابات مشرق وسطیٰ کی حالیہ کشیدگی کے تناظر میں بے حد اہم تھے کہ 2010 سے برسراقتدار قدامت پسند وزیراعظم وکٹر اوربن اسرائیل اور صدر ٹرمپ کے پرجوش حامی ہیں۔ عالمی فوجداری عدالت (ICC)کے وارنٹ پر انہوں نے نیتن یاہو کے حق میں کھل کر مؤقف اپنایا، جس سے ان کی خارجہ پالیسی کا جھکاؤ واضح ہوتا ہے۔ باسٹھ سالہ اوربن خود کوصدر ٹرمپ کا نظریاتی اتحادی کہتے ہیں۔

دوسری جانب، Tisza پارٹی اور اس کے قائد پیٹر مجیار) (Péter Magyar،یورپی یونین کے ساتھ مضبوط تعلقات کے حامی ہیں۔ یورپی یونین کی سربراہ محترمہ ارسلا وانڈڑلین نے اس تبدیلی کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ آج یورپ کے دل کی دھڑکن تیز ہوگئی ہے۔

 

انتخابات سے قبل حلقہ بندیوں میں تبدیلی پر حزب اختلاف نے “gerrymandering”  کا الزام لگایا، جس سے انتخابی عمل کی شفافیت پر سوالات اٹھے۔ تاہم بلند ٹرن آؤٹ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ عوام نے بھرپور انداز میں جمہوری عمل میں حصہ لیا۔

ہنگری کے عوام نے تبدیلی کے حق میں فیصلہ دے دیا ہے، مگر اصل امتحان اب شروع ہوگا جناب پیٹر مجیار کی قیادت میں نئی حکومت کو ایک نازک توازن قائم کرنا ہوگا۔ ایک طرف یورپی یونین کے ساتھ تعلقات کی بحالی، اور دوسری جانب داخلی معیشت، مہنگائی اور عوامی توقعات کا دباؤ۔

وکٹر اوربن کے طویل دورِ اقتدار کے بعد ریاستی اداروں، پالیسیوں اور سیاسی کلچر میں تبدیلی آسان نہیں ہوگی۔ مزید یہ کہ عالمی سیاست میں بڑھتی ہوئی تقسیم خصوصاً امریکہ، یورپ اور مشرقِ وسطیٰ کے تناظر میں ہنگری کے لیے نئی آزمائشیں لے کر آئے گی۔

اگر نئی قیادت شفافیت، جمہوری اقدار اور معاشی استحکام کو یقینی بنانے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو ہنگری واقعی یورپ کے دل کی ایک نئی دھڑکن بن سکتا ہے۔ بصورتِ دیگر، یہ تبدیلی بھی محض ایک اور سیاسی تجربہ ثابت ہوگی، جس کے اثرات صرف ہنگری تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پورے یورپ میں محسوس کیے جائیں گے۔

ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل کراچی 26 اپریل 2026


No comments:

Post a Comment