غزہ میں رمضان کا پرجوش استقبال ۔ ملبے پر
تراویح
اسرائیلی جیلوں میں بند تمام فلسطینی خواتین
رہا
اہل غزہ نے عارضی جنگ بندی میں توسیع کی
تجویز مسترد کردی، مکمل فوجی انخلا پر اصرار
اسلحے کا انبار۔ ٹرمپ انتظامیہ نے اسرائیل
کیلئے ارب ڈالر کی عسکری امداد منظور کرلی
'ٹرمپ غزہ' کے عنوان سے امریکی صدر کا شرمناک
بصری تراشہ
نیتن یاہو بیان بازی کر کے ہمارے زخموں پر
نمک نہ چھڑکیں۔ لواحقین کی فریاد
غربِ اردن کی پامالی پر بنائی گئی دستاو یزی فلم کیلئے آسکر ایوارڈ
غزہ کے تمام مردوں کو فنا کردیا جائے۔
اسرائیلی رکن پارلیمان کی تجویز
یکم مارچ کو غزہ پر رمضان اس
حال میں سایہ فگن ہوا کہ ساری پٹی ملبے کا ڈھیر ہے، آبنوشی کے ذخائر تباہ اور انکے
باغات و زرعی میدان غارت ہوچکے ہیں۔ اہل غزہ نے گزشتہ رمضان بموں اور میزائیلوں کی
برستی بارش میں گزارہ تھا جبکہ اس بار یہاں ایک مبہم و مشکوک سا امن قائم ہے۔ استقبالِ
رمضان پورے تزک و احتشام سے ہوا۔ جگہ جگہ رنگین جھنڈیاں لگی ہیں۔ٹوٹی پھوٹی دیواروں اور
ملبے پر رمضان سے متعلق قرآنی آیات اور احادیث خوبصورت خط میں درج کی گئیں۔بلدیہ
غزہ نے کئی جگہ سڑکوں کو پیدل چلنے والوں کیلئے قابلِ استعمال بنالیا۔مسمار مساجدکے
ملبے پرتراویح کا انتظام ہے۔ سب سے اہم بات لوگوں کاپرعزم صبر۔ گھر برباد، قبرستان
آباد، جسم چھلنی لیکن زبان پر الْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى كُلِّ حَالٍ (ہر حال میں
اللہ کا شکر) کا ورد۔
عشق میں تیرے کوہِ غم، سر پہ
لیا جو ہو سو ہو۔
غزہ کیساتھ
تباہ حال غرب اردن میں بھی رمضان روائتی جوش وخروش سے منایا جارہا ہے۔ راستوں کی
بندش، ناکوں، ناشائستہ جامہ تلاشی اور پکڑ دھکڑ کے باجودمسجد اقصیٰ آباد ہےاور
تراویح کے دوران نمازیوں کی صفیں گنبدصخراتک آجاتی ہیں۔
جنگ بندی کا معاملہ یہ ہے کہ
27 فروری کو چار اسرائیلی لاشیں مصر حوالے
کردینے کے بعد اسرائیلی عقوبت کدوں سے 602 فلسطینی رہا کردئے گئے، جن میں غزہ کی خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔ ایک جان بلب
قیدی کو مصر کے اسپتال منتقل کردیا گیا۔ مزاحمت کاروں نے ایک بیان میں کہا
کہ '27 فروری کا دن اس لحاظ سے تاریخی ہے کہ اسرائیلی جیلوں سے تمام فلسطینی
خواتین رہاہوگئیں اور اب ان عقوبت کدوں میں ہماری ایک بھی بیٹی بند نہیں'۔ فلسطینی
قیدیوں کو 22 فروری کو اسوقت رہا کیا جانا تھا جب اہل غزہ نے 6 اسرائیلی اقوام
متحدہ کے حوالے لیکن غزہ میں رہائی کی 'ہتک آمیز' تقریب پر مشتعل ہوکر اسرائیل نے
انھیں آزاد کرنے سے انکار کردیاتھا۔
معاہدے کی خلاف ورزی کے بعد
ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اسرائیلی حکام نے دھمکی دی کہ اگر 28 فروری تک مزید
قیدی رہا نہ کئے گئے تو عبوری جنگ بندی ختم کرکے غزہ پر بمباری کا سلسلہ دوباہ
شروع کردیا جائیگا۔اسی کےساتھ اسرائیلی فوج نے مزید ٹینک غزہ اسرائیل سرحد پر
پہنچادئے اور ایسا محسوس ہوا کہ کسی بھی وقت غزہ پر حملہ ہوسکتا ہے۔ اہل غزہ نے خوفزدہ
یا مشتعل ہونے بجائے اپنے مصری مصالحت کاروں کے ذریعے اسرائیل کو پیغام بھیجا کہ
مزاحمت کاروں نے عبوری معاہدے کے پہلے مرحلے پر اپنی ذمہ داریاں اخلاص سے پوری
کردی ہیں اور جب تک مکمل جنگ بندی کا معاہدہ نہیں ہوجاتا، مزید کسی قیدی کی رہائی
کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
غزہ سے آنے والے اس سخت بیان
پر اسرائیلی قیدیوں کے لواحقین میں تشویش
پھیلی اور سارے اسرائیل میں مظاہرے شروع ہوگئے۔ دباو میں آکر اسرائیلی وزیراعظم
دوسرے مرحلے کے مذکرات پر آمادہ ہوگئے اور پائیدار جنگ بندی کیلئے قاہرہ میں
اسرائیل اور اہل غزہ کے درمیان براہ راست بات چیت کا آغاز ہوا جس میں قطر، مصر اور
امریکی حکام بھی موجود تھے۔ واشنگٹن میں برطانوی وزیراعظم سے ملاقات کے بعد مشترکہ
پریس کانفرنس میں مذاکرات کی تصدیق کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا 'غزہ کے حوالے سے
قاہرہ میں "اچھی
بات چیت" جاری ہے۔ دلچسپ بات کہ اسرائیلی اعلامیوں میں اس ملاقات کو Indirectکہا گیاکہ 'دہشت گردوں'
کیساتھ بیٹھنے کا اعتراف کرنے سے انا کا بت مسمار ہونے کا خطرہ ہے۔ مذاکرات شروع
ہوتے ہی اسوقت تعطل پیدا ہوگیا جب اسرائیل نے غزہ مصری سرحد پر واقع فلاڈلفی
راہداری خالی کرنےسے انکار کردیا۔ سو میٹر چوڑی یہ راہداری جنوب میں کریم سلام
پھاٹک سے شمال میں بحیرہ روم تک جاتی ہے۔ امریکہ، قطر اور مصر کی ضمانت پر ہونے
والے معاہدے میں طئے پایا تھا کہ دوسرے مرحلے کے مذاکرات سے پہلے اسرائیلی فوج
فلاڈلفی راہداری خالی کردیگی۔ساتھ ہی اسرائیل نے مکمل جنگ بندی کیلئے اہل غزہ کو
غیر مسلح کرنے کی شرط عائد کردی۔فلاڈلفی پر قبضہ ہی مزاحمت کاروں کیلئے ناقابل
قبول تھا۔ ہتھیار ڈالنے کی شرط سنتے ہی انکا وفد اٹھ کر چلاگیا اور مذااکرات معطل
ہوگئے۔
ادھر امریکہ کا دورہ کرنے
والے اسرائیل کے قائدِ حزب اختلاف یار لیپڈ نے کشیدگی ختم کرنے کیلئے غزہ کو 8 سال کیلئے مصر کی سرپرستی میں دینے کی
تجویز پیش کی ہے۔ اسرائیلی قائدحزب اختلاف کا کہنا تھا کہ اسکے عوض عالمی برادری
کو مصر پر لدے قرضوں کا بوجھ اتارنا ہوگا۔ تاہم اس تجویز کو خود مصر نے مسترد
کردیا۔ مصری وزارت خارجہ کے ترجمان ثمیم خلف نے ایک بیان میں کہا کہ غزہ کے بارے
میں مصری اور عرب موقف کو نظر انداز کرکے وضع کیا جانیوالا کوئی بھی تصور یا تجویز
ہمارے لئے ناقابل قبول ہے۔
مذاکرات میں تعطل پر اسرائیل
اور امریکہ دونوں جانب سے دھمکیوں کا سلسلہ شروع ہوا۔ امریکی وزیرخارجہ مارکو روبیو
نے ایک بیان میں کہا کہ اگر تمام قیدی جلد رہا نہ کئے گئے تو امن معاہدہ ختم کردیا
جائیگا۔ چھبیس فروری کو سماجی رابطے کیلئے امریکی صدر کے نجی پلیٹ فارم TRUTHپر مصنوعی ذہانت (AI)کی مدد سے تیار کیا گیا TRUMP GAZAکے عنوان سے ایک سمعی
بصری پیغام سامنے آیا جس میں پہلے غزہ کی تباہی کے مناظر ہیں جسکے بعد ٹرمپ کے
سنہری مجسمے، نیم عریاں فنکاروں کے ساتھ محو رقص امریکی صدر، غزہ کے ساحل پر نیتن
یاہو کے پہلو میں مشروبات سے لطف اندوز ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔ یہ دراصل غزہ پر امریکی قبضے
کے ارادے کی تجدید ہے۔ اس اشتعال انگیزی کا بھی اہل غزہ نے شائستہ مگر دوٹوک جواب
دیا۔ انکے بیان میں کہا گیا کہ 'غزہ کے عوام اس دن کے منتظر ہیں جب وہ اپنے وطن،
معاشی بحالی اور اپنے بچوں کے لیے ایک بہتر مستقبل کی تعمیر دیکھیں گے، لیکن یہ
بڑی جیل کے اندر ممکن نہیں۔ ہماری جدجہد جیل کے حالات کو بہتر بنانے کے لئے نہیں،
بلکہ یہ قربانیاں جیل اور جیلر سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لئے دی جارہی ہیں'۔ ساتھ
ہی امریکی صدر کو یہ بھی گوش گزار کردیا گیا کہ بصری تراشہ جاری کرنے والوں کو اہل
غزہ کے عقیدے، ثقافت اور ترجیحات کا ادراک ہی نہیں۔
دوسری جانب اپنے انتہا پسند
اتحادیوں کے دباو پر نیتن یاہو اہل غزہ سے ہتھیار رکھنے پر اصرار کرتے رہے۔ یکم
مارچ کو مصر سے تجویز آئی کہ مزاحمت کاراپنے
راکٹوں اور میزائیلوں کا ذخیرہ یورپی یونین اور اقوام متحدہ امن فوج کی نگرانی میں
دے دیں۔ جس پر تبصرہ کرتے ہوئے مزاحمت کاروں نے کہا کہ وہ اس تجویز کا جواب دینا
بھی مناسب نہیں سمجھتے، ساتھ ہی انھوں نے مصالحت کاروں کو یاددلادیا کہ پہلے مرحلے
کی 42 روزہ جنگ بندی آج رات بارہ ختم ہورہی ہے۔ پیغام ملتے ہی تل ابیب نے مصری
مصالحت کاروں کے ذریعے اہلِ غزہ سے عارضی جنگ بندی میں چھ ہفتہ توسیع کی درخواست کردی۔
جسکے جواب میں بانکوں نے کہا کہ عارضی فائر بندی میں توسیع سے بہتر ہے کہ غزہ سے
مکمل و غیر مشروط فوجی انخلا اور دونوں طرف سے قیدیوں کے تبادلے پر اتفاق کرلو۔
اہل غزہ کی
طرف سے عارضی جنگ بندی میں توسیع کی اسرائیلی درخواست مسترد
کردئے جانے کے بعد وزیراعظم نیتن یاہو نے رمضان اور یہودی تہوار ، عبور عظیم (Passover) کے اختتام تک جنگ بندی میں یکطرفہ توسیع کا اعلان کیا ہے۔ صدر
ٹرمپ کے مشیر اسٹیو وٹکاف پرامید ہیں کہ اس عرصے میں امن اور قیدیوں کے رہائی کا
مسئلہ حل کرلیا جائیگا۔ عبور عظیم کا آٹھ روزہ تہوار 20 اپریل کو غروب آفتاب پر
ختم ہورہا ہے۔ اس پیشکش کو اہل غزہ نے مسترد تو نہیں کیا تاہم یہ کہہ دیا گیا ہے
کہ اس عرصے میں قیدیوں کا تبادلہ نہیں ہوگا۔ مزاحمت کاروں پر دباو ٖڈالنے کیلے اسرائیلی
وزیراعظم نے غزہ کیلئے امدادی سامان روکنےکا حکم دیدیاہے۔ دو مارچ کو وزیراعظم کے
دفتر (PMO)سے جاری ہونے والے بیان میں نے کہا گیا ہے کہ اہل
غزہ نے رمضان اور یہودی تہوار عبورِعظیم تک عارضی جنگ بندی میں توسیع کی وہ تجویز
مسترد کردی ہے جسکی درخواست امریکی صدر کے مشیر اسٹیو وٹکاف
(Steve Wikoff) نے کی تھی لہذا ب مزید
کوئی امدادی ٹرک غزہ نہیں جانے دیا جائیگا۔
اس دوران اسرائیل میں امریکی
اسلحے کا انبار لگ رہا ہے۔ گزشتہ ہفتے ٹرمپ
انتظامیہ نے اسرائیل کیلئے تین ارب ڈالر اسلحے کی نئی کھیپ بھیجنے کی درخواست
منظوری کی غرض سے کانگریس (پارلیمان) کو بھیجدی۔ مجوزہ اسلحے میں غرب اردن کی
فلسطینی بستیاں مسمار کرنے کیلئے بکتر بند بلڈوزر بھی شامل ہیں۔ یکم مارچ کو وزیرخارجہ
مارکو روبیو نے اسرائیل کیلئے 4 ارب ڈالر عسکری امداد کی فراہمی میں تیزی لانے کا
حکم دیدیا۔اپنے ایک بیان میں مسٹر روبیو نے کہا کہ 20 جنوری کو حکومت سنبھالنے کے
بعد سے ٹرمپ انتظامیہ نے اسرائیل کی عسکری مدد کیلئے 12 ارب ڈالر منظور کئے ہیں۔
امریکی وزیرخارجہ نے عزم ظاہر کیا کہ اسرائیل کی سلامتی کے لیے امریکہ تمام دستیاب
ذرائع استعمال کریگا۔
غزہ اور غربِ اردن کیساتھ ،
شام کےخلاف اسرائیلی کاروائیوں میں بھی شدت آگئی ہے۔ دمشق کے مضافاتی علاقے کسوٰۃ
اور اردن کی سرحد کے قریب درعا پر مسلسل فضائی حملے ہورہے ہیں۔ وزیر دفاع اسرائیل
کاٹز ننے ایک بیان میں کہا کہ جنوبی شام سے سرکاری فوج کی واپسی اور عسکری تنصیات
تلف ہونے تک حملے جاری رہیں گے۔ انکا کہنا تھا کہ دمشق کی 'نئی انتہا پسند' حکومت
سے جنوبی شام کے دروزوں کو لاحق خطرات دور
کرنے کیلئے شامی فوج کا انخلا ضروری ہے۔حکومتی سطح پر دروزوں میں اشتعال پیدا کرنے
کا نتیجہ ہے کہ 3 مارچ کو حیفہ لاری اڈے پر ایک 20
سالہ اسرائیلی دروز جترو شاہیں نے چھرا گھونپ کر ستر سالہ فلسطینی حسن کریم کو قتل
کردیا۔
غزہ سے آنے والی اسرائیلی
لاشوں کے بارے میں نیتن یاہو جس بیباکی سے جھوٹ بول رہے ہیں اس پر لواحقین کو سخت
اعتراض ہے۔اسرائیل کی بمباری سے ایک خاتون، شری بیباس اور اسکے دوکمسن بچے ہلاک
ہوگئے تھے۔ اسرائیلی وزیراعظم الزام لگارہے ہیں ان تینوں کو مزاحمت کاروں نے قتل
کیا۔شری بیباس کی نند آفری بیباس نے 25 فروری کو فیس بک پیغام میں نیتن یاہو کو
تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وہ 'خاموش رہیں' کیونکہ وہ بار بار میری بھابھی اور
بھتیجوں کی ہلاکت کے بارے میں خاندان کی مرضی کے خلاف بیان دے رہے پیں۔یہ ایک ایسے
خاندان سے بدسلوکی ہے جسکی زندگی 16 ماہ سے جہنم بنی ہوئی ہے اور یہ بدترین صورت
حال ختم ہوتی نظر نہیں آتی۔
فن و
ثقافت کے اعتبار سے اس ہفتے کی سب سے اہم خبر غربِ اردن کی پامالی پر بنائی گئی دستاویزی فلم No Other Land کیلئے اکیڈمی (آسکر) ایوارڈ ہے۔ دو یہودی اور دو فلسطینی ڈائریکٹروں کی تیار کردہ یہ فلم
الخلیل (Hebron)کے
گاوں مسافر یطا میں اسرائیلی فوج کے ہاتھوں فلسطینی مکانات منہدم کرنے کے بارے میں
ہے۔ ایوارڈ وصول کرتے ہوئے یہودی ڈائریکٹر جوال ابراہیم نے کہا کہ غزہ اور اس کے
عوام کی وحشیانہ تباہی ختم اور 7 اکتوبر کو پکڑے جانیوالے یرغمالیوں رہا ہونا جانا
چاہیے۔انہوں نے مغربی کنارے کے فلسطینیوں کے ساتھ اسرائیل کے "غیر
مساوی" سلوک کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ خطے میں امریکی پالیسی
منفی کردار ادا کر رہی ہے۔جوال ابراہیم نے فلم کے فلسطینی ڈائریکٹر باسل عدرا ک
طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر باسل کے لوگ آزاد اور محفوظ ہوجائیں تو میرے لوگ
بھی محفوظ ہوسکتے ہیں۔اسرائیلی وزیر ثقافت مخلوف جوہر نے فلم کیلئے ایوارڈ اور
تعریف وتحسین کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے اسرائیل کو سبوتاژ کرنے کی مہم کا
حصہ قراردیا۔
اختتام
ایک نفرت انگیز نوٹ پر۔ اسرائیلی حکمران لیکڈ پارٹی کے رکن کنیسہ (پارلیمان) نیسم وتوئیدی
نے ایک بیان میں کہا' اہل غزہ منحوس ہیں، دنیا میں انھیں کوئی قبول نہیں کرنا چاہتا۔ بہتر
ہوگا کہ عورتوں اور بچوں کو علیحدہ کرکے باقی کو ٹھکانے لگادیا دیاجائے' بنو قریظہ
کا بدلہ؟؟؟؟
ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل کراچی 7 مارچ 20
25
ہفت روزہ دعوت دہلی 7 مارچ 2025
روزنامہ امت 7 مارچ 2025
ہفت روزہ رہبر سرینگر 9 مارچ 2025
No comments:
Post a Comment