Wednesday, January 14, 2026

 

ایران : تاریخ، پابندیاں، بیچینی — آگ کو ہوا دیتی عالمی سیاست

ایران میں حالیہ عوامی بیچینی کو محض داخلی معاملہ یا وقتی ردِعمل قرار دینا تاریخ سے صرفِ نظر کے مترادف ہے۔ یہ اضطراب نہ اچانک پیدا ہوا اور نہ ہی اس کی جڑیں صرف حالیہ مہنگائی یا کرنسی کی گراوٹ تک محدود ہیں۔ ایران کی موجودہ کیفیت ایک طویل تاریخی عمل، بیرونی مداخلت، معاشی پابندیوں اور مسلسل دباؤ کا منطقی نتیجہ ہے۔ جو قوتیں آج ایرانی عوام کے نام پر بیانات دے رہی ہیں، وہی ممالک گزشتہ سات دہائیوں سے اس ملک کے زخموں پر نمک چھڑکتے آئے ہیں۔

تیل کی قومی تحویل اور مغربی دنیا کی پہلی خفگی

ایران اور مغربی دنیا کے درمیان کشیدگی کا آغاز اس وقت ہوا جب ایران کے پہلے منتخب وزیراعظم محمد مصدق نے 1951 میں ملک کے تیل کے وسائل کو قومی ملکیت میں لینے کا فیصلہ کیا۔ اس وقت ایرانی تیل اور گیس کے تمام اثاثے  BPکے ذیلی ادارے اینگلو ایرانی آئل کمپنی (AIOC)کے پاس تھے۔ مصدق کا یہ فیصلہ ایرانی خودمختاری کا علامتی اظہار تھا، مگر لندن اور واشنگٹن کیلئے ناقابلِ قبول ثابت ہوا۔ امریکی صدر ڈوائٹ آئزن ہاور اور برطانوی وزیراعظم ونسٹن چرچل اس نتیجے پر پہنچے کہ مصدق اب فرمانبردار نہیں رہے اور کمیونسٹ تودہ پارٹی کے زیرِ اثر آچکے ہیں۔ اسی سوچ نے ایران کی پہلی جمہوریت کے خاتمے کی بنیاد رکھی۔

ایجیکس اور بوٹ: ایران کی پہلی جمہوریت کا خاتمہ

اگست 1953 میں امریکی سی آئی اے اور برطانوی ایم آئی 6 نے خفیہ آپریشن کے ذریعے مصدق حکومت کا تختہ الٹ دیا۔ سی آئی اے نے اسے آپریشن کوایجیکس (AJAX)جبکہ ایم آئی 6 نے بوٹ (BOOT)کا نام دیا۔ پندرہ اگست سے شروع ہونے والے اس نسبتاً پُرامن مگر فیصلہ کن کاروائی نے ایران کی پہلی جمہوری حکومت کو محض دو برس بعد ختم کر دیا۔ یہی وہ موڑ تھا جس نے ایرانی عوام کے اجتماعی شعور میں مغرب کے بارے میں مستقل بداعتمادی کو جنم دیا۔ دلچسپ اور معنی خیز بات یہ ہے کہ وینیزویلا اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کی بنیاد بھی تیل کمپنیوں کو قومی تحویل میں لینے کا فیصلہ ہی بنا۔

شاہ ایران، مغربی حمایت اور عوامی ردِعمل

 اس مداخلت کے بعد شاہ ایران کو مکمل مغربی سرپرستی حاصل رہی۔ تاہم یہ حمایت عوامی تائید میں تبدیل نہ ہو سکی اور 1978 میں اٹھنے والی عوامی تحریک کے نتیجے میں بھرپور امریکی حمایت کے باوجود 1979 میں شاہ کو ملک چھوڑنا پڑا۔ ایران، جمہوری اسلامی ریاست میں تبدیل ہو گیا اور اسی لمحے سے امریکہ اور ایران کے تعلقات معمول کی سفارتی کشیدگی سے بڑھ کر کھلی دشمنی میں داخل ہو گئے۔

ایران۔عراق جنگ: ایک طویل زخم

ایرانی موقف کے مطابق ستمبر 1980 میں عراق کا حملہ بھی امریکی اشارے پر ہوا۔ آٹھ برس جاری رہنے والی اس جنگ نے ایران کو انسانی اور معاشی دونوں اعتبار سے کھوکھلا کر دیا۔ امریکہ کے خلیجی اتحادیوں خصوصاً سعودی عرب نے اس جنگ میں عراق کی بھرپور مالی معاونت کی، جس سے خطے میں طاقت کا توازن ایران کے خلاف رکھنے کی کوشش کی گئی۔

جوہری پروگرام: تعاون سے تنازعے تک

 ایرانی جوہری پروگرام  کسی خفیہ ایجنڈے کا حصہ نہیں تھا۔ یہ 1950 کی دہائی میں امریکی تعاون سے شروع ہوا اور 1957 میں صدر آئزن ہاور نے ’ایٹم برائے امن‘ منصوبے کے تحت اس کی توثیق کی۔ مگر وقت کے ساتھ یہی پروگرام عالمی خوف کی علامت بنا دیا گیا اور اس صدی کے آغاز میں ایران پر سخت پابندیاں عائد کر دی گئیں۔

برجام: امید کی ایک مختصر کھڑکی

 مسلسل دباؤ کے باعث ایران مذاکرات پر آمادہ ہوا اور طویل بات چیت کے بعد 14 جولائی 2015 کو برجام (JCPOA)طے پایا۔ سلامتی کونسل کے پانچوں مستقل ارکان یعنی امریکہ، برطانیہ، فرانس، روس اور چین کے علاوہ جرمنی  بھی برجام  میں فریق تھے چانچہ اسے5+1معاہدہ بھی کہا جاتاہے۔ بعد میں ضامن کی حیثیت سے یورپی یونین نے بھی اس پر دستخط کئے۔برجام کی امریکی سینیٹ سے 1 کے مقابلے میں 98 اور ایوان زیریں سے 25 کے مقابلے میں 400 ووٹوں سے توثیق ہوچکی ہے۔اس معاہدے کے تحت ایران نے اپنے جوہری پروگرام کو محدود کرنے پر رضامندی ظاہر کی جبکہ بدلے میں پابندیاں اٹھانے کا وعدہ کیا گیا۔ اقوام متحدہ اور صدر اوباما نے اسے سفارتکاری کی بڑی کامیابی قرار دیا لیکن اسرائیل اس معاہدے کا سخت مخالف تھا۔

برجام سے دستبرداری اور نئی پابندیاں

 اقتدار میں آنے کے بعد صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 8 مئی 2018 کو برجام سے یکطرفہ علیحدگی اختیار کر لی اور ایران پر سخت پابندیاں دوبارہ نافذ کر دیں۔ ان پابندیوں نے ایرانی معیشت کو مفلوج کر دیا، کرنسی کی قدر گر گئی اور افراطِ زر نے عام آدمی کی زندگی کو شدید متاثر کیا۔ یہی معاشی دباؤ حالیہ عوامی بیچینی کی بنیادی وجہ ہے۔

حالیہ ہنگامے اور بیرونی کردار کے الزامات

 ابتدا میں یہ مظاہرے مہنکائی کےخلاف تھے لیکن اسرائیلی وزیراعظم اور امریکی صدر ٹرمپ نے مظاہروں کے حق میں جوشیلے بیانات دیکر یہ تاثر دیا کہ گویا ایرانی عوام ملاوں سے آزادی چاہتے ہیں۔ ایرانی حکومت الزام لگارہی ہے کہ ان ہنکاموں کی پشت پر اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد ہے۔ مظاہروں کے دوران 100 سے زیادہ سیکیورٹی افسران مارے جاچکے ہیں، جنھیں ننھے ڈرون، چھوٹے دستی بموں اور زہر میں بجھے چھروں سے نشانہ بنایا گیا۔یہ ہتھیار مبینہ طور پر اسرائیلی فوج فراہم کررہی ہے۔ سابق امریکی وزیرخارجہ مائک پومپیو نے بھی ایک نجی چینل کو انٹرویو میں کہا کہ کئی جگہ حکومت مخالف مظاہرین کی قیادت موساد کے ایجنٹ کررہے ہیں۔

پابندیاں، عوام اور دوہرا معیار

 یہ حقیقت ناقابلِ تردید ہے کہ ایرانی عوام کی مشکلات کی بنیادی وجہ امریکی پابندیاں ہیں۔ اگر واشنگٹن کو ایرانی عوام سے واقعی ہمدردی ہے تو پابندیاں ختم یا نرم کر کے انہیں راحت فراہم کی جا سکتی ہے۔ مگر اس کے برعکس، دھمکی آمیز بیانات اور اشتعال انگیزی نےامن کے بجائے کشیدگی میں اضافہ کردیا ہے۔

عدم استحکام کسی کے حق میں نہیں

 کسی ملک میں پیدا ہونے والی بیچینی سے فائدہ اٹھانا اچھی سفارتکاری نہیں۔ آج کی دنیا ایک عالمی گاؤں بن چکی ہے، جہاں کسی ایک ملک کا عدم استحکام پورے خطے بلکہ دنیا کو متاثر کرتا ہے۔ ایران کے معاملے میں تاریخ بار بار یہ بتاتی ہے کہ طاقت اور پابندیاں مسئلے کا حل نہیں بلکہ فساد کی جڑ ہیں۔ اگر عالمی امن مطلوب ہے تو آگ کو ہوا دینے کے بجائے اسے بجھانے کی سنجیدہ کوشش وقت کی ضرورت ہے

ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل کراچی 16 جنوری 2026

ہفت روزہ دعوت دہلی 16 جنوری 2026

ہفت روزہ رہبر سرینگر 18 جنوری 2026




No comments:

Post a Comment