یمن: علاقائی طاقتوں
کی کشمکش، ٹوٹتا اتحاد اور آگ میں گھرا خطہ
فیلڈ
مارشل عاصم منیر کی عسکری سفارتکاری؟؟؟؟
جزیرۂ عرب کا جنوبی
کنارہ، جسے تاریخ میں وادیِ رحمت اور سرزمینِ یُمن کہا جاتا تھا، آج
بھی خون، بھوک اور بارود کی نذر ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ 2022 میں اس جنگ کے کردار
واضح تھے، جبکہ 2025 میں وہی اتحادی ایک دوسرے کے مدِمقابل کھڑے دکھائی دے رہے
ہیں۔
یمن کی تباہی کا آغاز
کسی ایک دن یا ایک فریق سے نہیں ہوا۔ یہ ایک طویل سلسلہ ہے جس میں مقامی محرومیوں
کو عالمی و علاقائی طاقتوں کی ہوسِ اقتدار نے ایندھن فراہم کیا۔ سعودی عرب اور
متحدہ عرب امارات نے 2015 میں عاصفہ الحزم کے نام سے جو عسکری مہم شروع کی،
اس کا اعلان تو یمن کی “قانونی حکومت” کی بحالی تھا، مگر عملی میدان میں یہ مداخلت
یمن کو ایک اجتماعی قبر میں بدلتی چلی گئی۔
امارات: اتحادی سے حریف تک
اب ایک دہائی بعد، وہی
خلیجی اتحاد خود اندر سے ٹوٹتا دکھائی دے رہا ہے۔ حالیہ دنوں میں سعودی جنگی
طیاروں کی جانب سے یمنی بندرگاہ مکلا میں اماراتی فوجی سازوسامان کو نشانہ
بنانا محض ایک عسکری واقعہ نہیں، بلکہ ایک کھلا سیاسی پیغام تھا۔ اس حملے کے بعد
ریاض نے ابوظبی کو ایک سخت الٹی میٹم دیا:
یمن سے
فوراً تمام افواج نکالی جائیں اور ملک کے اندر تمام دھڑوں کی حمایت بند کی جائے۔
امارات نے بظاہر اس
دباؤ کو تسلیم کر لیا اور اعلان کیا کہ وہ یمن سے اپنی باقی ماندہ فوج بھی واپس
بلا رہا ہے۔ اگرچہ ابوظبی نے حسبِ روایت اسے “اپنا خودمختار فیصلہ” قرار دیا اور
سعودی الٹی میٹم کا ذکر تک نہ کیا، مگر سفارتی زبان کے پردے میں چھپا تناؤ کسی سے
مخفی نہیں۔
اماراتی وزارتِ دفاع کا
کہنا ہے کہ اس کی اصل فوجی موجودگی تو 2019 میں ہی ختم ہو چکی تھی اور باقی اہلکار
صرف انسدادِ دہشت گردی کے لیے تھے۔ مگر سوال یہ ہے کہ اگر سب کچھ معمول کے مطابق
تھا تو سعودی طیاروں نے اماراتی اہداف کیوں بمباری کی؟ اور ریاض کو 24 گھنٹے کی
ڈیڈ لائن دینے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟
مسکراہٹوں میں ملفوف
گرم اشارے؟؟
یہ پیش رفت ایک ایسے
وقت پر ہوئی ہے جب صرف
ایک دن پہلے اماراتی صدر نے اسلام آباد میں فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقات کی
اور اسی حوالے سے سعودی پاکستان دفاعی تعاون میں
پیش رفت کی بھی خبریں ہیں۔ اگرچہ کوئی سرکاری بیان ان نکات کو
براہِ راست جوڑ نہیں رہا، مگر علاقائی سیاست میں ایسے اتفاقات اکثر محض اتفاق نہیں
ہوتے۔کیا ٰیمن سے امارات کا بلا مزاحمت
انخلا فیلڈ مارشل صاحب کی سفارتی کامیابی مسکراہٹوں
میں ملفوف
گرم اشاروں کا نتیجہ ہے؟
سقطریٰ، عدن اور مفادات کی جنگ
حقیقت یہ ہے کہ یمن میں
جنگ اب صرف حوثیوں یا منصور ہادی کی واپسی کا مسئلہ نہیں رہی۔ یہ جنگ بندرگاہوں،
آبی شاہراہوں اور تنگ گزرگاہوں یا Choke Points پر کنٹرول کی ہے۔امارات کی نظریں شروع دن سے عدن، المکلا اور
خصوصاً جزیرہ سقطریٰ پر تھیں۔ خلیجِ عدن اور بحرِ عرب کے سنگم پر واقع یہ جزیرہ
خطے کی بحری سیاست میں سونے کی کنجی سمجھا جاتا ہے۔ یہی مفادات سعودی عرب اور
امارات کو ایک ہی مورچے میں زیادہ دیر اکٹھا نہ رکھ سکے۔
سوڈان سے یمن تک ایک ہی کہانی
یہی فساد سوڈان میں بھی
نظر آتا ہے، جہاں امارات مختلف عسکری دھڑوں کی سرپرستی کے ذریعے بندرگاہوں اور
سونے کی کانوں تک رسائی چاہتا ہے۔ یمن ہو یا سوڈان، نیت و حکمت ایک ہی ہے یعنی ریاست
کو کمزور اور بغل بچہ دھڑوں کو مضبوط کرکے وسائل ہتھیائے جائیں۔
حوثی، اسرائیل اور باب المندب
حوثی تحریک اب محض یمنی
خانہ جنگی کا فریق نہیں رہی۔ غزہ پر اسرائیلی جارحیت کے بعد بحیرۂ احمر اور باب
المندب میں اسرائیلی و مغربی مفادات کو نشانہ بناکرحوثی خود کو ایک موثر و پرعزم علاقائی
کھلاڑی ثابت کرچکے ہیں۔دوسری طرف یمن کی جنگ اب ایران سعودی مخاصمت سے بلند ہوکر
اسرائیل، امریکہ اور خلیج کے وسیع تر تنازعہ کا حصہ ہے۔
تباہی کا اصل چہرہ
ان تمام جغرافیائی
شطرنجی چالوں کا خمیازہ یمنی عوام بھگت رہے ہیں جن کے لیے اب زندہ رہنا بھی ایک
جنگ بن چکا ہے۔ہسپتال خالی، ایمبولینس ناپید، پینے کا پانی زہر آلود اور بھوک ایک
ہتھیار کی صورت استعمال ہو رہی ہے۔ اتحادی بدل رہے ہیں، بیانات کی زبان نرم و گرم
ہو رہی ہے، مگر یمن کے لیے کچھ نہیں بدلا۔ سعودی–اماراتی دراڑ یہ واضح کر رہی ہے
کہ یہ اتحاد اصولی نہیں بلکہ علاقاتی
بالا دستی اور وسائل کی بندربانٹ کیلئے تھا۔جب تک یمن کو علاقائی طاقتوں کی
تجربہ گاہ بنائے رکھا جائے گا، امن محض ایک سراب رہے گا۔
ہفت روزہ فرائیڈے
اسپیشل کراچی 9 جنوری 2026
ہفت روزہ دعوت دہلی 9 جنوری 2026
No comments:
Post a Comment