Friday, January 9, 2026

غزہ سے مغربی کنارے تک: نئے سال میں بند ہوتے امن کے دروازے

اہلِ غزہ نے 2024 اور 2025 کی طرح موجودہ نئے سال کو بھی بمباری اور گولہ باری کی گھن گرج میں خوش آمدید کہا۔ مائیں شدید سردی، بارش اور تیز ہوا میں کھلے آسمان تلے اپنے بچوں کو سینے سے لگائے بیٹھی تھیں، کیونکہ یہاں شیر خواروں کیلئے سردی سے بچاؤ کا واحد ذریعہ مامتا کی حرارت ہے۔

نئے سال پر “New Year’s Resolution” کا شور عموماً وزن کم کرنے، صحت بہتر بنانے یا بری عادات چھوڑنے کے گرد گھومتا ہے۔ مگر جب الجزیرہ کے رپورٹر نے سات بچوں کے ساتھ ایک خیمے میں بیٹھی غزہ کی ثنا سے اس کا نیا عہد پوچھا تو تو اس نے سادگی سے کہا اگر ہر ہفتے پانچ کلو آٹا مل جائے تو یہی میرا رزولوشن ہے۔ یہ ایک جملہ غزہ کی پوری الم ناک حقیقت بیان کرنے کیلئے کافی ہے۔

اعدادوشمار جو لرزا دیتے ہیں

نام نہاد جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی کارروائیاں جاری رہیں۔ گزشتہ سال کے دوران:

  • انتیس   ہزار سے زائد فلسطینی جاں بحق ہوئے، جن میں اکثریت خواتین، بچوں اور بزرگوں کی تھی۔
  • پانچ سو فلسطینی بھوک سے دم توڑ گئے، جن میں 165 بچے شامل ہیں۔
  • ساٹھ ہزار  افراد شدید زخمی ہوئے۔
  • گردوں کے 600 مریض ڈائیلاسس نہ ملنے سے ٹڑپ تڑپ کر مرگئے۔
  • طبی سہولتوں کی عدم فراہمی  کے باعث ساڑھے سات ہزار اسقاطِ حمل (miscarriages) ریکارڈ ہوئے
  • شدید سردی میں نوزائیدہ بچوں سمیت ساڑھے 4 ہزار افراد جاں بحق ہوئے
  • طوفان سے عمارتیں گرنے کے باعث 19 افراد زندہ دفن ہو گئے

یہ سب اعداد نہیں، انسان تھے۔

جب خیمے بھی محفوظ نہ رہیں

رہائشی عمارتیں مسمار کرنے کے بعد اب خیمے نشانہ بن رہے ہیں۔ غزہ میں ہر سمت وہ مناظر بکھرے ہیں جہاں سینکڑوں خاندان اپنا کل اثاثہ سروں پر رکھے ایک نئی پناہ کی تلاش میں بھٹک رہے ہیں۔اپنے ہی وطن میں دربدر ہونا شاید سب سے گہرا انسانی زخم ہے۔

تعلیم سے خوف: کتاب دشمنی کی سیاست

اسرائیلی جارحیت نے تعلیم کو بھی جنگی ہدف بنا لیا ہے۔ اساتذہ، تعلیمی عملہ، اسکول اور جامعات سب نشانے پر ہیں۔ شاید اس لیے کہ تعلیم سوال کرنا سکھاتی ہے جو طاقتوروں کوناگوار ہیں۔ گزشتہ برس اسرائیل نے غزہ میں 7488 طالب علموں کو قتل کیا اوران حملوں میں 10577 طلبہ و طالبات زخمی ہوئے، غرب اردن میں 38 طلبہ اپنی جانوں سے گئے، 327 زخمی اور 324 عقوبت کدوں کی زینت بنے۔ غزہ میں اساتذہ اور غیر تدریسی عملے کی 45 افراد پیوند خاک ہوئے، 912 معماران قوم زخمی ہیں جبکہ غرب اردن میں 48 اساتذہ گرفتار کئے گئے۔

ثالث یا فریق؟ “جہنم” کی دھمکی اور امریکی دوہرا معیار

دوسری طرف غزہ کو جہنم بنادینے کی رٹ جاری ہے۔ اپنی پُرتعیش تفریح گاہ میں اسرائیلی وزیرِاعظم سے ملاقات کے دوران صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر خبردار کیا کہ اگر غزہ میں مزاحمت کار غیر مسلح نہ ہوئے تو “جہنم کے دروازے کھول دیے جائیں گے۔ ستم ظریفی کہ جہنم کی دھمکیاں اس قوت کی جانب سے آ رہی ہیں جس کی سیاسی، عسکری اور سفارتی سرپرستی نے پہلے ہی اس خطے کو جہنم بنا رکھا ہے۔ طاقتور جب ثالثی کا لبادہ اوڑھ لے تو اس کی حقیقت الفاظ سے نہیں، اعمال سے عیاں ہوتی ہے۔ یہ حقیقت بھی نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ قیدیوں کی رہائی صدر ٹرمپ کی دی گئی یقین دہانیوں پر ہوئی، مگر اس کے باوجود نہ جارحیت رکی، نہ محاصرہ ختم ہوا۔ جنگ بندی کے اعلان کے بعد بھی سینکڑوں فلسطینی مارے جا چکے ہیں، جبکہ شدید سردی میں لاکھوں انسان بنیادی ضروریات سے محروم ہیں۔ مزاحمت کاروں کو غیر مسلح کرنے کے حوالے سے انتہائی منصفانہ موقف نیویارک کے رئیس شہر زہران ممدانی کا ہے جو کہتے ہیں کہ مزاحمت کار اور اسرائیل دونوں کو اپنا اسلحہ رکھدینا چاہئے کہ یہی جنگ بندی کی حقیقی روح ہے۔

یورپ کی تشویش اور بے بسی

عالمی سطح پر تشویش کے بیانات کی کمی نہیں۔، فرانس، کینیڈا اور جاپان سمیت دس ممالک کے وزرائے خارجہ نے باضابطہ طور پر خبردار کیا ہے کہ غزہ کی انسانی صورتِ حال “تباہ کن” سطح پر پہنچ چکی ہے۔ شدید سردی، بارش، تباہ شدہ بنیادی ڈھانچہ، ناکارہ اسپتال اور لاکھوں بے گھر انسان, اب محض رپورٹس نہیں بلکہ ایک کھلی ہنگامی صورتحال ہے۔تاہم  معاملہ تشویش کے بیانات سے آگے نہیں بڑھ رہا ور اسرائیل کو عملی، ٹھوس و مؤثر دباؤ کا سامنا نہیں، جبکہ محاصرہ، پابندیاں اور امدادی کاموں میں رکاوٹیں بدستور جاری ہیں۔

دو ریاستی حل کا جنازہ

یورپی یونین کے زعما کو کچھ ایسی ہی تشویش غرب اردن میں اسرائیل کی توسیع پسندانہ پالیسیوں پر بھی ہے۔ برطانیہ، کینیڈا، فرانس، جرمنی، ڈنمارک اور اسپین سمیت 14 یورپی ممالک نے مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیل کی جانب سے 19 نئی بستیوں (Settlements) کی منظوری پر سخت تشویش اور مذمت کا اظہار کیا ہے۔ ان ممالک کے مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ یہ اقدام بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہے۔ اس قسم کی قبضہ گرد کاروائیوں سے غزہ کی جنگ بندی کیساتھ خطے میں طویل المدت امن و سلامتی کے امکانات مزید کمزورہورہے ہیں۔

اسرائیلی حکومت نے اس بین الاقوامی مذمت کو مسترد کرتے ہوئے اسے یہودیوں کے خلاف امتیازی رویّہ قرار دیا۔ اسرائیلی وزیرِ خارجہ گیڈیون ساعر کا کہنا تھا کہ غیر ملکی حکومتیں یہودیوں کے اسرائیلی سرزمین پر رہنے کے حق کو محدود نہیں کر سکتیں۔ اس خبر کا سب سے اہم اور چونکا دینے والا پہلو اسرائیلی وزیرِ خزانہ بیزالیل سموترچ کا کھلا اعتراف ہے، جنہوں نے صاف صاف  کہا کہ'ہم زمین پر فلسطینی ریاست کے قیام کو روک رہے ہیں۔' یہ بیان اس حقیقت پر آخری مہر ہے کہ مغربی کنارے میں بستیوں کی توسیع کوئی وقتی یا سیکیورٹی نوعیت کا اقدام نہیں بلکہ ایک منظم ریاستی پالیسی ہے، جس کا واحد مقصد دو ریاستی حل کو ہمیشہ کے لیے دفن کرنا ہے۔

یورپی ممالک، اسرائیلی جارحیت پر تو محض لفظی مذمت تک محدود ہیں، لیکن اپنے ملکوں میں انھوں نے غزہ سے ہم آہنگی کیلئے ہونے والے مظاہروں پر Antisemitism اور امنِ عامہ کے نام پر پابندیاں عائد کررکھی ہے یعنی سفارتی دباؤ کے بجائے اسرائیل کو مکمل سیاسی تحفظ فراہم کیا جارہا ہے۔یہ تضاد اس حقیقت کو بے نقاب کرتا ہے کہ اصل کھیل طاقت، مفادات اور ترجیحات کا ہے ، حسین بیانات، مشغلہ زبان سے زیادہ کچھ نہیں۔

اسلامی دنیا: تشویش بہت، اقدام کم

اسلامی ممالک کو بھی غزہ کی صورتحال پر سخت تشویش ہے، دو جنوری کو پاکستان، مصر، انڈونیشیا، اردن، قطر، ترکیہ، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے وزرائے خارجہ نے غزہ کی پٹی میں بگڑتی ہوئی انسانی صورتحال پر اپنی گہری تشویش کا اظہار کیا ہے جو شدید، سخت اور غیر مستحکم موسمی حالات بشمول موسلا دھار بارشوں اور طوفانوں کے باعث مزید سنگین ہو چکی ہے۔لیکن یہاں بھی معاملہ گفتند و برخواستند سے آگے نہ بڑھا۔ جب دنیا ایک انسانی بحران کو “catastrophic” کہہ رہی ہو تو مطالبہ و مذمت میں مظلوموں کیلئے راحت کا کوئی سامان نہیں

روشن سنگِ میل

سال کے اختتامی ہفتے الشفا ہسپتال کے ملبے پر نئے ڈاکٹروں کا جلسہ تقسیم اسناد منعقد ہوا اور آتش آہن کی کبھی نہ رکنے والی بارش میں طب کی تعلیم مکمل کرلینے والے 170 حوصلہ مند حضرات و خواتین کو طب کی اسناد عطاہوئیں۔

جہاں اسرائیل کی انتہا پسند حکومت اخلاقیات کے زوال کو چھو رہی ہے وہیں یہودی مذہب سے تعلق رکھنے والے سلیم الفطرت افراد ان مظالم پر آواز بھی بلند کررہے ہیں۔ گزشتہ ہفتے یہودی اداکارہ Odessa A’Zion نے کہا کہ 'میں یہودی ہوں، مگر صیہونیت یا کسی سرکاری پالیسی کی حامی نہیں' ۔ سوشل میڈیا پر جوانسال اوڈیسا نے دوٹوک اعلان کیا کہ وہ اسرائیلی فوج، کسی حکومتی قیادت یا وزیرِ اعظم کے فیصلوں کی حامی نہیں، اور انسانی سطح پر ان کی ہمدردی فلسطینی عوام کے ساتھ ہے۔اوڈیسا نے یہ بھی اعتراف کیا کہ پانچ سال قبل اسرائیلی فوج کی ٹی شرٹ پہن کر تصویر پوسٹ کرنا ایک ایسی چیز تھی، جس پر آج وہ ندامت محسوس کرتی ہیں، اور کہتی ہیں کہ کاش وہ ایسا نہ کرتیں

غزہ صرف فلسطینیوں کا زخم نہیں، یہ عالمی ضمیر کا امتحان ہے۔تاریخ یہ ضرور یاد رکھے گی کہ نئے سال کی شب جب دنیا آتش بازی کے نظارے دیکھ رہی تھی وہیں بمباری کے شور میں سردی سے ٹھٹھرتی غزہ کی مائیں اپنے بچوں کو سینوں سے لگائےانکی زندگی کی دعائیں مانگ رہی تھیں۔

ہفت روزہ فرائیڈے اسیشل کراچی 9 جنوری 2026

ہفت روزہ دعوت دہلی 9 جنوری 2026

ہفت روزہ رہبر سرینگر 11 جنوری 2026


 



No comments:

Post a Comment