Thursday, February 12, 2026

 

امریکی سیاہ فام — اسلامی تاریخ کا فراموش شدہ باب

فروری کا مہینہ امریکہ، کینیڈا اور یورپ کے کئی ممالک میں Black History Month کے طور پر منایا جاتا ہے۔ یہ مہینہ صرف افریقی نژاد امریکیوں کی جدوجہد اور قربانیوں کی یاد دہانی نہیں، بلکہ امریکی تاریخ کے اُس باب کو بھی نمایاں کرتا ہے جسے جان بوجھ کر یا لاعلمی میں پس منظر میں دھکیل دیا گیا، یعنی سیاہ فام امریکیوں اور اسلام کا تاریخی تعلق۔

امریکی مسلمانوں کے لیے افریقی نژاد امریکیوں کی تاریخ درحقیقت شمالی امریکہ میں اسلام کی ابتدائی تاریخ بھی ہے۔ افریقہ سے امریکہ غلاموں کی جبری منتقلی کا باقاعدہ آغاز  1619 سے جوڑا جاتا ہے، جب غلاموں سے بھرا پہلا جہاز ورجینیا (Virgina)کے ساحل پر لنگرانداز ہوا۔ بعض مورخین کے خیال میں غلامی کی ابتدائی شکلوں کا آغاز اس سے کئی دہائی پہلے ہوچکا تھ. تاہم Atlantic Slave Trade کو منظم تجارتی نظام کی حیثیت سترھویں صدی ہی میں ملی۔

اس سفاکانہ تجارت کے تحت افریقہ کے مغربی اور وسطی ساحلی علاقوں سے لاکھوں انسانوں کو پکڑ کر یورپی بندرگاہوں۔ خصوصاً ہالینڈ، پرتگال اور برطانیہ کے راستے براعظم امریکہ منتقل کیا گیا۔ دورانِ سفر تشدد، بھوک، بیماری اور دم گھٹنے کے باعث لاکھوں افریقی جان سے گئے۔ مزاحمت کرنے والوں کو زنجیروں سمیت سمندر میں پھینک دینا معمول کی بات تھی۔ یہ انسان نہیں، محض مالِ تجارت سمجھے جاتے تھے۔

تاریخی ریکارڈ اس امر کی تائید کرتے ہیں کہ افریقی غلاموں میں قابلِ ذکر تعداد اُن افراد کی تھی جو کسی نہ کسی صورت اسلامی تہذیب سے وابستہ تھے۔ مغربی افریقہ کے کئی خطے اُس وقت اسلامی تعلیم و تدریس کے مراکز سمجھے جاتے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ غلام بنا کر لائے گئے متعدد افریقی عربی لکھنا پڑھنا جانتے تھے، قرآن سے واقف تھے، اور منظم سماجی نظم و ضبط رکھتے تھے۔

غلامی کے دور میں ورجینیا، جنوبی کیرولائنا، شمالی کیرولائنا اور جارجیا جیسے علاقوں میں غلاموں کی منڈیاں قائم ہوئیں۔ اُس وقت امریکہ برطانوی سلطنت کی تیرہ کالونیوں پر مشتمل تھا، جنہوں نے 1776 میں آزادی کا اعلان کیا اور بعد ازاں ریاست ہائے متحدہ امریکہ وجود میں آیا۔ امریکی پرچم پر موجود تیرہ سرخ و سفید پٹیاں انہی ابتدائی ریاستوں کی علامت ہیں۔

آبادی کا تناسب غلام مالکوں کے لیے مستقل خطرہ بنا رہا، اسی لیے غلاموں کو قابو میں رکھنے کے لیے سخت اور غیر انسانی قوانین نافذ کیے گئے۔ بغاوت کی سزا اکثر سرِعام پھانسی ہوتی، اور یہی وہ پس منظر ہے جس سے “Get the rope” جیسی اصطلاحات امریکی سماج میں رچ بس گئیں۔

انیسویں صدی کے اختتام اور بیسویں صدی کے آغاز میں مشرقی یورپ، روس اور پولینڈ سے مسلمان تارکینِ وطن، خصوصاً تاتار، امریکہ پہنچے۔ ان کی آمد سے سیاہ فام مسلم شناخت کو نئی توانائی ملی۔ اسی دور میں Detroit صنعتی مرکز کے طور پر ابھرا جہاں مسلم تارکینِ وطن نے نمایاں کردار ادا کیا۔

1930 کی دہائی میں والیس فرد محمد نے Nation of Islam کی بنیاد رکھی، جسے بعد میں ایلیجا محمد نے منظم تحریک کی صورت دی۔ دوسری جنگِ عظیم کے دوران فوجی بھرتی کی مخالفت پر اس تحریک کو ریاستی جبر کا سامنا کرنا پڑا۔ یہی مزاحمتی روایت بعد میں محمد علی نے ویتنام جنگ میں شرکت سے انکار کر کے زندہ رکھی۔

مالکم ایکس (الحاج ملک الشہباز) کی نیشن آف اسلام میں شمولیت امریکی شہری حقوق کی تحریک میں ایک فیصلہ کن موڑ ثابت ہوئی۔ اگرچہ ان کے اور ڈاکٹر مارٹن لوتھر کنگ کے طریقِ کار مختلف تھے، لیکن مقصد مشترک تھایعنی برابری، انسانی وقار اور انصاف۔ ان تحریکوں کے نتیجے میں نسلی امتیاز کے قوانین ختم ہوئے، ووٹنگ رائٹس منظور ہوئیں، اور 1965 کا Immigration and Nationality Act نافذ ہوا جس نے یورپی اجارہ داری کو توڑ کر دنیا بھر کے لوگوں کے لیے امریکہ کے دروازے کھول دیے۔

یہ حقیقت ناقابلِ تردید ہے کہ افریقی نژاد امریکیوں کی قربانیوں نے نہ صرف امریکی جمہوریت کو مکمل کیا بلکہ اسے اخلاقی جواز بھی فراہم کیا۔ اس کے باوجود تاریخ کا ایک المناک پہلو یہ ہے کہ غلامی، نسلی تشدد اور ریاستی جبر کو امریکی تعلیمی نصاب میں ہمیشہ محدود اور محتاط انداز میں پیش کیا گیا۔

اسی ناانصافی کے ازالے کے لیے 1989 میں رکنِ کانگریس جان کونیئرز (John Conyers) نے افریقی امریکیوں کے لیے Reparations سے متعلق بل HR-40 پیش کیا۔ تین دہائیوں سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود یہ بل آج بھی کانگریس کی ذیلی کمیٹیوں میں زیرِ التوا ہے۔ جان کونیئرز 2019 میں اس ناامیدی کے ساتھ دنیا سے رخصت ہوئے کہ شاید یہ بل کبھی منظور ہو سکے۔

سیاہ فام امریکیوں کی تاریخ محض ایک نسلی داستان نہیں، بلکہ یہ امریکہ کے ضمیر کی تاریخ ہے۔ نوبل ڈریو علی، والیس فرد محمد، ایلیجا محمد، مالکم ایکس، مارٹن لوتھر کنگ اور محمد علی جیسے نام اُس جدوجہد کے درخشاں ستارے ہیں جس نے ایک نامکمل جمہوریت کو معنویت بخشی۔

یہ تاریخ یاد دلاتی ہے کہ امریکہ کی طاقت، دولت اور عالمی حیثیت محض ایوانوں میں نہیں بنی، بلکہ اُن ہاتھوں نے تراشی جو زنجیروں میں جکڑے ہوئے تھے، اور جن کی آواز آج بھی انصاف کی گونج ہے

ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل کراچی 26 فروری 2026

ہفت روزہ دعوت دہلی 26 فروری 2026

ہفت روزہ رہبر سرینگر 28 فروری 2026


No comments:

Post a Comment