غزہ، غربِ اردن اور عالمی ضمیر
مزاحمت، الحاق اور خاموش اتحادی
جب
قبضہ مستقل ہو جائے تو مزاحمت جرم نہیں رہتی، بلکہ عزت و استقلال کیلئے ضروری ہوجاتی
ہے۔ یہی وہ نکتہ ہے جو غزہ سے لے کر غربِ اردن، واشنگٹن سے دہلی اور لندن تک آج
عالمی سیاست کے ضمیر کو کچوکے لگا رہا ہے۔
مزاحمت کارو ں کا غیر مسلح ہونے سے انکار
سات فروری
کو دوحہ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے فلسطینی مزاحمتی تحریک کے سینئر قائد نے
ایک بار پھر واضح کر دیا کہ فلسطینی مزاحمت نہ غیر مسلح ہوگی اور نہ غزہ میں کسی
غیر ملکی حکمرانی یا مداخلت کو قبول کرے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ قومی مزاحمت،
اس کے ہتھیار اور کارکنوں کو مجرم یا دہشت گرد قرار دینا ناقابلِ قبول ہے۔ جب تک
قبضہ برقرار ہے، مزاحمت بھی رہے گی۔ یہ ان لوگوں کا فطری حق ہے جو ایک غیر منصفانہ
قبضے کے تحت زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ امریکی منصوبے Board of Peace کے
بارے میں انہوں نے کہا کہ غزہ کی تعمیرِ نو اور امداد قابلِ قبول لیکن کسی بیرونی
کنٹرول یا انتظامیہ کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ یہی موقف دس دن قبل الجزیرہ سے
گفتگو میں بھی سامنے آیا تھا۔
امداد کے دروازے بند، قبضے کے خیمے کھلے
دوسری
طرف غزہ کے لئے امداد میں اضافے کے بجائے چند محدود ٹرکوں کا راستہ بھی روکا جا
رہا ہے۔ ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق 2 فروری کو انتہا پسند آبادکاروں نے کریم سلام
(Kerem Shalom) پھاٹک پر امدادی ٹرک روک دئے۔ مزید تشویشناک امر یہ ہے
کہ گزشتہ ہفتے درجنوں انتہا پسند، ایک اسرائیلی خاتون رکنِ پارلیمان Limor Son
Har-Melech کی
قیادت میں غزہ پہنچے اور علامتی قبضے کے طور پر خیمے نصب کر دئے۔ یعنی اب غزہ میں
بھی وہی نقشہ دہرانے کی کوشش ہو رہی ہے جو برسوں سے غربِ اردن میں جاری ہے۔
پمفلٹ، بمباری اور ننھے جنازے
نمازِ
جمعہ کے دوران 6 فروری کو غزہ شہر کے زیتون محلے میں اسرائیلی فوج نے عربی پمفلٹ
گرائے جن میں شہریوں کو عمارتوں سے دور رہنے کا حکم دیا گیااور چند ہی گھنٹوں بعد
رہائشی عمارتیں زمین بوس کر دی گئیں۔ بمبار طیاروں، ڈرون، نشانہ بازوں اور ٹینکوں
کے مشترکہ حملے میں پانچ ماہ کی میرا
الخباش سمیت 20 افراد جاں بحق ہوئے۔میرا کی لاش اٹھائے اس کی ماں کی تصویر نے دنیا
بھر میں دل دہلا دئے، لیکن آٹھ ارب انسانوں میں سے اکثر کو یہ جنازے نظر ہی
نہیں آئے۔
کھجور کی مٹھاس اور نفرت کی کڑواہٹ
اسرائیلی
اخبار الارض (Haaretz) نے گزشتہ ہفتے غربِ اردن کے دو دیہات خربة
الفخِیت اور خربة الحلاوة پر حملوں کی لمحہ بہ لمحہ روداد شائع کی۔شام پانچ
بجے سے رات گیارہ بجے تک، فوجی تحفظ میں آبادکار، گھروں کو آگ لگاتے، مویشی ہنکاتے
اور مقامی آبادی پر حملے کرتے رہے۔آتشزدگی کو حتمی انجام تک
پہنچانے کیلئے فائر بریگیڈ کا راستہ بھی روکا گیا۔خربة الحلاوة انتہائی میٹھے کھجور کیلئے مشہور ہے جسکی
وجہ سے یہ حلاوہ یا مٹھاس کہلایا لیکن صدیوں سے آباد اس گاوں میں شیریں کھجور کے
پھلدار درخت غارت کردینے کے بعد فلسطینی کسانوں کو نئی فصل
لگانے سے روکدیاگیا
آئینی راستے سے الحاق
اسی
دوران اسرائیل کی دفاعی (سیکیورٹی) کابینہ
نے ایسے قوانین کی منظوری دی ہے جن کے تحت:
- اسرائیلی شہری مغربی کنارے میں زمین و جائیداد
خرید سکیں گے
- پانی، سیوریج اور شہری سہولیات فلسطینی مقتدرہ کے
بجائے اسرائیلی اداروں کے سپرد ہوں گی
یہ
اقدامات مغربی کنارے کے عملی الحاق (de facto annexation) کی سمت
واضح پیش رفت سمجھے جا رہے ہیں۔اس کا پہلا ہدف یروشلم سے 30 کلومیٹر جنوب میں الخلیل
(Hebron) ہے،
جہاں بلدیاتی اختیار اسرائیلی نظام میں ضم کیا جا رہا ہےجبکہ مسجدِ اقصیٰ سے متصل
آبادیوں کو پہلے ہی انہدامی نوٹس دئے جا چکے ہیں۔
مزاحمت
کاروں کا شدید ردعمل
فلسطینیوں
کی مزاحمتی تحریک نے اسرائیلی حکومت کے حالیہ الحاقی اقدامات پر شدید ردعمل کا
اظہار کرتے ہوئے اسرائیل کے خلاف عسکری کاروائیاں تیز کرنے کااعلان کیا ہے۔ اپنے
ایک بیان میں مزاحمت کاروں نے کہا کہ چوری کی یہ نئی واردات، مقبوضہ فلسطین کے
عملی انضمام (Annexation)کو تیز کرنے کی طرف ایک قدم ہے۔بیان میں عرب و اسلامی ریاستوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ قبضے کے خلاف
تاریخی ذمہ داری ادا کرتے ہوئے اسرائیلی سفیروں کو اپنے دارالحکومتوں سے نکال باہر
کریں، تاکہ مغربی کنارے اور بیت المقدس میں جاری قبضے، اسرائیلی آبادکاری (settlements) اور بے دخلی کو روکا جا سکے۔
صدر ٹرمپ کی ’ہومیوپیتھک‘
مذمت
ایوانِ مرمریں (وائٹ ہاؤس) نے اسرائیلی فیصلے کی مخالفت کرتے ہوئے علاقائی استحکام کی اہمیت
پر زوردیا۔صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ وہ غربِ
اردن پر اسرائیلی قبضے (annexation) کی حمایت نہیں کرتے۔ ان کے نزدیک ایک مستحکم غربِ اردن، اسرائیل کو
محفوظ رکھنے اور علاقائی استحکام کے لئے ضروری ہے۔
اسرائیلی حکومت کا فیصلہ،
عالمی قانون، اقوامِ متحدہ کی قراردادوں اور اوسلو معاہدے کی صریح خلاف ورزی ہے،
مگر واشنگٹن کی جانب سے ردِعمل محض تشویش کے چند مدھم جملوں تک محدود رہا۔احتیاط
کا یہ عالم کہ پورے بیان میں ہر جگہ صرف غربِ اردن استعمال ہوا اور مقبوضہ کا لفظ
ہو یا فلسطین، دونوں سے مکمل اجتناب برتا گیا۔جب مزاحمت کاروں کا معاملہ ہوتا ہے
تو صدر ٹرمپ کی زبان شعلے اگلتی ہے، دھمکیاں، سرخ لکیریں اور جہنم بنادینے کا وعدہ۔
قانون توڑنے پر نرمی، اور قبضے کے خلاف کھڑے ہونے پر آتشِ غضب۔ یہ ہے مغرب کا
انصاف۔
آبادی: ایک تزویراتی ہتھیار
یہ
تمام اقدامات حالیہ Epstein Files میں سامنے آنے
والے انکشافات سے بھی جڑے نظر آتے ہیں، جہاں سابق اسرائیلی وزیراعظم ایہود باراک
نے روسی صدر ولادیمر پیوٹن سے گفتگو میں اعتراف کیا کہ فلسطینی آبادی کا فطری
اضافہ اسرائیل کے لیے ایک تزویراتی کمزوری ہے۔ جسے ہجرت (عَلیاہ)کے ذریعے متوازن
کیا جانا چاہئے۔ جناب باراک کے مطابق روسی بولنے والے
ممالک (یوکرین، بلاروس وغیرہ)
سے اضافی ہجرت اسرائیل کے اندر فلسطینی آبادی کے بڑھتے ہوئے اثر کو
کم کر سکتی ہے۔ اگر غزہ میں جاری نسل کشی اور غربِ اردن میں قبضے گردی کو اس زاوئے
سے دیکھا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ یہ محض فوجی تصادم یا وقتی سیاسی اختلافات نہیں،
بلکہ آبادیاتی توازن، ریاستی کنٹرول اور طویل المدت حکمتِ عملی کا حصہ ہیں۔ یہ
صورتِ حال اس وسیع تر رجحان کی بھی عکاس ہے کہ فلسطین سےکشمیر اور بنگال سے برما
تک طاقتور ریاستیں اپنے آبادیاتی اور سیاسی اہداف کو انسانی مصائب پر ترجیح دے رہی
ہیں۔
آزادیِ اظہار؟ صرف نعروں تک
اسی
ہفتے راجستھان کے شہر پشکر میں آزاد فلسطین کے اسٹکر لگانے پر دو برطانوی شہریوں
کے سیاحتی ویزے منسوخ کر کے بھارت بدر کر دیا گیا۔ دیکھنا یہ ہے کہ آزادیِ اظہار
کے علمبردار ،برطانیہ کا اس پر ردعمل کیا ہوتا ہے۔
پرامن مزاحمت: موثر ہتھیار
جہاں
ریاستی تشدد کو سیاسی پشت پناہی حاصل ہے، وہیں دنیا بھر میں پُرامن بائیکاٹ مؤثر
ثابت ہو رہا ہے۔گزشتہ برس اکتوبر میں امریکہ کے مقبول
کوشر (یہودی حلال) ریستوران “شوق” (Shouk) نے عوامی بائیکاٹ کی وجہ سے
واشنگٹن ڈی سی اور اس کے نواحی علاقوں میں اپنی تمام شاخیں بند کر دیں۔ انہی حالات
کے تناظر میں اب نیویارک کے معروف اسرائیلی ریستوران Reunion نے بھی اپنے دروازوں کو تالہ لگانے کا اعلان کیا ہے۔واشنگٹن اور نیویارک میں اسرائیلی
ریستورانوں کی بندش اس حقیقت کا ثبوت ہے کہ شائستہ، مسلسل اور پرامن جدوجہد بندوق سے زیادہ طاقتور ثابت ہو سکتی ہے۔
غزہ واپسی: مصائب اور حوصلہ
رفح
پھاٹک کھلنے کے بعد واپس آنے والی خواتین کو ہراساں کیا جا رہا ہے آنکھوں پر
پٹیاں، ہتھکڑی اور دھمکیاں۔ دوسری جانب مقامی لوگوں کے
اعصاب بھی ناقابل شکست ہیں۔ بیوہ و بے سہارا، 73 سالہ کفایہ الاثر کو پیشکش کی گئی
کہ وہ ہجرت کرکے مصر چلی جائیں جہاں انکے لئے رہائش کا بندوبست کردیا گیا ہے۔ وطن
کی محبت سےسرشار اس خاتون نے صاف انکار کرتے ہوئے کہا کہ “1948
میں ہجرت غلطی تھی۔ اب ہم کہیں نہیں جائیں
گے۔”
ہوتا ہے جادہ پیما پھر کارواں ہمارا
Global
Sumud / Freedom Flotilla کے تحت مارچ کے آخر میں ایک بڑا قافلہ خشکی
اور سمندر کے راستے غزہ کی طرف روانہ ہونے والا ہے۔یہ پیغام ہے کہ طاقتوروں کی
خاموشی کے باوجود دنیا غزہ کو تنہا چھوڑنے پر آمادہ نہیں۔جب سفارت کاری
مفلوج ہو جائے، تو ضمیر اپنا خود راستہ بنا لیتا ہے۔
ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل کراچی 13 فروری 2026
ہفت روزہ دعوت دہلی 13 فروری 2026
ہفت روزہ رہبر سرینگر 15 فرروری 2026
No comments:
Post a Comment