Thursday, February 5, 2026

 

ایپسٹین فائلز: طاقت، راز اور احتساب سے ماورا اشرافیہ

معروف امریکی سرمایہ کار جیفری ایبسٹین (Jeffrey Epstein) بظاہر دولت، فلاحی سرگرمیوں اور بااثر سماجی حلقوں سے وابستہ تھا، مگر حقیقت میں اس کا نام کم عمر لڑکیوں کے جنسی استحصال اور منظم جرائم کے ایک ہولناک نیٹ ورک سے جُڑا پایا گیا۔ ایپسٹین کو  2019 میں گرفتار کیا گیا جسکے بعد یہ  محض ایک فوجداری مقدمہ نہ رہا بلکہ طاقت، سیاست اور احتساب کے عالمی نظام پر ایک سنجیدہ سوال بن گیا اور امریکی محکمہ انصاف (DOJ) نے اس کیس سے متعلق تمام مواد کو تحفظ اور تحقیقات کی ضروریات کی وجہ سے خفیہ (sealed) رکھا۔ اس مقدمے کی نوعیت بچوں کے جنسی استحصال، منظم بردہ فروشی اور بااثر افراد کے ممکنہ روابط پر مشتمل تھی، جس کے باعث دنیا بھر میں شدید ردِعمل سامنے آیا۔ معلومات اور تفتیشی ریکارڈ کا طویل عرصے تک صیغہ راز میں رہنے سے عوامی سطح پر شکوک و شبہات پیدا ہوئے۔ ماضی کے عدالتی فیصلے اور 2008 میں دی جانے والی غیر معمولی طور پر نرم سزا سخت تنقید کا نشانہ بنی۔

امریکی کانگریس، شفافیت کی قرارداد اور قانون سازی

گزشتہ برس امریکی کانگریس نے Epstein Files Transparency Act متعارف کروایا، جس کا مقصد غیر خفیہ (unclassified) ایبسٹین فائلز کو اشاعت عام کیلئے جاری کرنا تھا۔مسودہ قانون میں بہت وضاحت سے کہا گیا کہ تمام غیر خفیہ مواد 30 دنوں میں شایع کردیا جائے گا اور کسی بھی نام یا مواد کو صرف “امکانی نقصان” یا سیاسی حساسیت کی بنیاد پر چُھپایا نہ جائے ۔ امریکی ایوان نمائندگان نے اسے ایک کے مقابلے میں 427 ووٹوں سے منطور کیا جبک سینٹ میں اس پر کامل اتفاق پایا گیا۔ جسکے بعد صدر ٹرمپ نے دستخط کر کے  بل کو  قانونی شکل دے دی

دستاویزات کی  مرحلہ وار اشاعت:

قانون کے تحت محکمۂ انصاف کو تمام غیر خفیہ ریکارڈز، خطوط، تحقیقات اور برقی خطوط (ای میلز) مقررہ مدت میں منظرِ عام پر لانا تھا۔

پہلا مرحلہ (19 دسمبر 2025):

اس روز لاکھوں صفحات، ہزاروں تصاویر اور بصری تراشوں پر مشتمل مواد کا پہلا بڑا حصہ جاری کیا گیا، جن میں عدالتی ریکارڈ، خطوط، فلائٹ لاگز (پروازوں کا ریکارڈ) اور بعض نئی تصاویر شامل تھیں۔ تاہم متعدد قانون سازوں اور متاثرین کا موقف تھا کہ کئی فائلز مکمل طور پر سامنے نہیں آئیں۔

دوسرا مرحلہ: (30 جنوری 2026):

دوسری قسط میں تقریباً پینتیس لاکھ صفحات جاری کئے گئے، جن میں خط و کتابت، تصاویر، دستاویزی مواد، ای میلز اور فلائٹ لاگز شامل تھے۔ اگرچہ مزید معلومات سامنے آئیں، مگر ناقدین کے نزدیک اہم مواد کا ایک حصہ اب بھی محفوظ رکھا گیا۔

گمان سے پرہیز لازم ہیں

ایبسٹین فائلز کا مواد نہایت وسیع اور متنوع ہے۔ اس میں ایبسٹین کی سفری دستاویزات، جہازوں کے بورڈنگ کارڈ، مسافروں کی فہرستیں، ہوٹلوں میں قیام کی تفصیلات، معمولی ملاقاتوں اور سرسری ملاقاتوں کا ذکر بھی شامل ہے۔ اس نوعیت کا کوئی بھی اندراج بذاتِ خود  کسی مثبت کردار کا ثبوت ہے اور نہ ہی منفی۔ اس کا مطلب محض یہ ہے کہ کسی مرحلے پر متعلقہ فرد کا ایبسٹین یا اس کے نیٹ ورک سے کسی نہ کسی سطح پر رابطہ یا گفتگو ہوئی۔

ان دستاویزات میں امریکی صدور، برطانوی شاہی خاندان کے بعض افراد اور دنیا کی متعدد معروف شخصیات کے حوالے موجود ہیں، حتیٰ کہ بعض مواقع پر ایبسٹین کی جانب سے راہ چلتے افراد پر غیر شائستہ تبصرے بھی ریکارڈ کا حصہ بنے ہیں۔ اس تمام مواد کی اہمیت افراد کی فہرست سے زیادہ اس غیر معمولی رسائی میں مضمر ہے جو ایبسٹین کو عالمی اشرافیہ تک حاصل تھی۔

اسی تناظر میں عمران خان، سابق وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی سمیت چند معروف پاکستانی شخصیات کا ذکر بھی سامنے آیا ہے، تاہم کسی بھی مواد میں ان میں سے کسی پر الزام، کردار کشی یا نجی زندگی سے متعلق کوئی منفی بات موجود نہیں۔ محض کسی نام کا آ جانا، اسے ایبسٹین کے جرائم یا سہولت کاری سے جوڑ دینا صریح بدگمانی اور ناانصافی ہے۔

اصل سوال: فرد یا نظام؟

ایبسٹین فائلز دراصل ایک بڑے سوال کو جنم دیتی ہیں۔ یعنی ایک ایسا شخص، جس پر سنگین الزامات تھے، وہ دہائیوں تک عالمی اشرافیہ میں آزادانہ کیوں گھومتا رہا؟ کیا یہ محض اس کی ذاتی چالاکی تھی، یا اسے کسی ایسے نظامی تحفظ (structural protection) کا سہارا حاصل تھا جو عام شہریوں کے لئے کبھی دستیاب نہیں ہوتا؟

امریکہ اور دیگر مغربی ریاستوں میں یہ بحث شدت اختیار کر چکی ہے کہ آیا ایبسٹین محض ایک فرد تھا یا کسی بڑے، منظم نیٹ ورک کا حصہ۔ یہی وہ مقام ہے جہاں Deep State کی اصطلاح  سیاسی نعرے سے بلند ہوکر ایک سنجیدہ سوال کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔ کیا ایبسٹین بعض طاقتور حلقوں کے لئے تعلقات جوڑنے، معلومات اکٹھی کرنے یا دباؤ کے غیر اعلانیہ ذرائع فراہم کرنے والا کردار ادا کرتا تھا؟ اور اگر ایسا تھا تو پھر اس نیٹ ورک کے دیگر کردار کہاں ہیں؟

ایبسٹین 10 اگست 2019 کو نیویارک کی جیل میں مردہ پایا گیا۔ جیل حکام کے مطابق اس نے خودکشی کی تھی۔ لیکن یہ واردات آج بھی شک و شبہات میں گھری ہوئی ہے۔ نگرانی کے کیمروں کا ناکارہ ہونا، سکیورٹی اہلکاروں کی غفلت اور ریکارڈ کی عدم دستیابی نے عام لوگوں کے ذہن میں یہ سوال پیدا کر دیا کہ  یہ واقعی خودکشی تھی یا پھر ایک ایسا انجام جس نے کئی طاقتور شخصیتوں کو تحفظ فراہم کردیا۔

ایبسٹین فائلز کا سب سے تشویشناک پہلو یہی ہے کہ انکشافات کے باوجود طاقت کے اصل مراکز تاحال واضح طور پر جواب دہ نظر نہیں آتے۔ بحث ہوتی ہے، میڈیا میں شور اٹھتا ہے، مگر بالآخر معاملہ قانونی موشگافیوں اور سیاسی تقسیم کے دبیز پردوں میں دب جاتا ہے۔ نظام کی اپنے بقا کی خاطر خاموشی اختیار کرلینے سے،  انصاف متاثرین کے لئے محض ایک تسلی بن کر رہ  گیا ہے۔

تاریخ گواہ ہے کہ جب ریاستیں اپنے بااثر طبقات کا احتساب کرنے میں ناکام ہو جائیں تو اس کا انجام محض قانونی بحران نہیں بلکہ اخلاقی زوال کی صورت میں نکلتا ہے۔ ایبسٹین فائلز اسی زوال کی علامت ہیں،جہاں جرم سے زیادہ خوفناک بات جرم کی اجتماعی پردہ پوشی ہے۔

یہ معاملہ اب چند ناموں یا ایک فرد تک محدود نہیں رہا۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا 'مہذب دنیا'  میں قانون واقعی سب کے لئے برابر ہے، یا طاقتور حلقے ہمیشہ کی طرح احتساب سے بالاتر رہیں گے؟ ایبسٹین مر چکا ہے، مگر ایبسٹین فائلز زندہ ہیں اور وہ سوال بھی، جن سے فرار اب شاید پہلے جتنا آسان نہیں رہا۔

ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل کراچی 6 فروری 2026

ہفت روزہ دعوت دہلی 6 فروری 2026

ہفت روزہ رہبر سرینگر 8 فروری 2026


No comments:

Post a Comment