سنار بنگلہ کی جماعت ۔۔ پھانسی گھاٹ
سے پارلیمان
بنگلہ
دیش میں حالیہ عام انتخابات کئی حوالوں سے غیر معمولی قرار دیے جا رہے ہیں۔باشبہہ 2008 کے بعد یہ پہلا نسبتاً آزاد اور
مسابقتی چناو تھا۔اس سے قبل 2014 اور 2018 کے انتخابات پر نہ صرف حزبِ اختلاف بلکہ
بین الاقوامی مبصرین کی جانب سے بھی سنجیدہ تحفظات کا اظہار کیا گیا تھا، 2014 میں
حزب اختلاف کی بڑی جماعتوں کے بائیکاٹ اور 2018 میں بے ضابطگیوں کے الزامات نے
جمہوری عمل کی ساکھ کو متاثر کیا۔
جولائی 2024 طلبہ تحریک اور سیاسی درجہ حرارت
جولائی
2024 میں طلبہ کی تحریک اور اس سے جڑے تشدد کے واقعات نے ملک کو شدید سیاسی کشیدگی
میں مبتلا کر دیا تھا۔ اسی پس منظر میں خدشہ ظاہر کیا جا رہا تھا کہ عام انتخابات
کے دوران وسیع پیمانے پر بدامنی پھیل سکتی ہے۔ اگرچہ بعض علاقوں میں جھڑپوں اور
ہلاکتوں کے افسوسناک واقعات پیش آئے، مگر مجموعی طور پر انتخابی عمل ملک گیر
انتشار میں تبدیل نہیں ہوا۔ یہ امر بذاتِ خود خود ایک اہم پیش رفت سمجھا جا سکتا
ہے۔
نوجوان اور خواتین کی بھرپور شرکت
ان
انتخابات کی ایک نمایاں خصوصیت نوجوانوں اور خواتین کی بڑھتی ہوئی شرکت رہی۔ نہ
صرف بطور ووٹر بلکہ بطور امیدوار اور انتخابی کارکن بھی ان کی موجودگی نمایاں رہی،
جو بنگلہ دیشی سیاست میں نسلی و صنفی تبدیلیوں کی علامت ہے۔
بی این پی کی واپسی اور قیادت کا سوال
نتائج
کے مطابق بنگلہ دیش نیشنل پارٹی (BNP) نے نمایاں اکثریت
حاصل کی اور پارلیمان میں دو تہائی سے زائد نشستیں جیت لیں۔ یہ کامیابی اسے قانون
سازی میں غیر معمولی طاقت دیتی ہے۔تاہم BNP
قیادت کے وراثتی پہلو پر سوالات برقرار ہیں۔ پارٹی کے رہنما طارق الرحمن مشکل
سیاسی دور میں بیرونِ ملک رہے اور انتخابی مرحلے پر واپس آکر اپنی والدہ خالدہ ضیا
کے سیاسی وارث کے طور پر قیادت سنبھالی۔ نوجوان سیاسی کارکنوں میں یہ پہلو مایوسی
یا کم از کم سوالات کو جنم دے سکتا ہے کہ آیا BNP
اندرونی جمہوریت کو مضبوط کرپائے گی یا نہیں۔
جماعتِ اسلامی: دیوار سے مرکزِ سیاست تک؟
ان
انتخابات میں جماعتِ اسلامی بنگلہ دیش کی کارکردگی غیر معمولی رہی۔ اگرچہ جماعت اکثریت نہ حاصل کرسکی لیکن جماعت کی قیادت میں
بننے والے 11 جماعتی اتحاد کے مجموعی ووٹوں کا تناسب 39 فیصد سے زائد ہے جبکہ کھلنا ڈویژن میں اسے
واضح برتری حاصل ہوئی۔ ماضیِ قریب میں قانونی پابندیوں، شدید تنقید اور 1971 کی
جنگِ آزادی میں کردار سے وابستہ منفی تاثر کے باعث جماعت اسلامی طویل عرصہ سیاسی
حاشیے پر رہی۔آج بھی اس کا ماضی جماعت کے مخالفین کے لیے ایک اہم سیاسی ہتھیار ہے۔
تاہم ووٹروں کے ایک حصے کے لئے یہ مسئلہ اب فیصلہ کن عنصر نہیں رہا۔ بعض شہری طبقات
جماعت کو نسبتاً کم بدعنوان متبادل اور فلاحی نیٹ ورک رکھنے والی سیاسی قوت کے طور
پر دیکھ رہے ہیں۔ حالیہ برسوں میں جماعت کی قیادت نے اسے سخت گیر مذہبی جماعت کے
بجائے ایک منظم، سماجی خدمات پر مبنی، نسبتاً معتدل سیاسی بیانیے کے ساتھ پیش کرنے
کی کوشش کی ہے۔
اصل امتحان: معیشت اور استحکام
بی این
پی کے لیے سب سے بڑا چیلنج اب انتخابی فتح نہیں بلکہ حکمرانی ہے۔ جولائی 2024 کے
ہنگاموں نے ملک کی ٹیکسٹائل صنعت کو متاثر کیا، جو بنگلہ دیشی معیشت کی ریڑھ کی
ہڈی ہے۔ عالمی منڈی میں دباؤ اور امریکی ٹیرف جیسے عوامل بھی معاشی مشکلات میں
اضافہ کر سکتے ہیں۔
ساتھ
ہی سیاسی درجہ حرارت کم کرنا بھی حکومت کی فوری ترجیح ہونی چاہیے۔ جامعات میں طلبہ
تنظیمیں،بی این پی کی چھاترو دل اور جماعت کی شِبر، طویل عرصے سے ایک دوسرے کی
حریف رہی ہیں۔ صحت مند سیاسی مقابلہ جمہوریت کا حسن ہے، مگر جب یہ تشدد میں تبدیل
ہو جائے تو قومی استحکام خطرے میں پڑ سکتا ہے۔
تعاون یا تصادم؟
پارلیمان
میں دو تہائی اکثریت کے باعث بی این پی کو قانون سازی کے لیے جماعت اسلامی کی فوری
ضرورت نہیں، لیکن اسٹریٹ پاور، طلبہ سیاست اور منظم تنظیمی قوت کے اعتبار سے جماعت
حکومت کے لیے اثرانداز عنصر بن سکتی ہے۔
جشن
فتح کے بجائے شکرانہ
حالیہ
انتخابات میں ایک دلچسپ اور مثبت علامت قیادت کی جانب سے ضبط اور نظم و ضبط کا
پیغام تھا۔ جماعتِ اسلامی کے امیر ڈاکٹر شفیق الرحمان نے نتائج سے قبل ہی کارکنوں
کو ہدایت کر دی تھی کی کہ فتح صورت میں سڑکوں پر طاقت کے مظاہرے اور جلوس نکالنے
کے بجائے مساجد میں سجدۂ شکر ادا کیا جائے۔ بی این پی کے رہنما طارق الرحمن نے بھی
جشنِ فتح کے بجائے نمازِ جمعہ کے بعد شکرانے کی اپیل کی۔ یہ دونوں بیانات اس
روایتی “اسٹریٹ پاور” سیاست سے مختلف تھے جہاں انتخابی کامیابی اکثر طاقت کے عوامی
مظاہروں میں بدل جاتی ہے۔ مذہبی و روحانی اظہار کو ترجیح دینے کا یہ انداز، اگر
مستقل روایت بن جائے، تو بنگلہ دیشی سیاست میں تصادم کے بجائے نظم و ذمہ داری کی
ثقافت کو فروغ دے سکتا ہے۔ خاص طور پر ایسے معاشرے میں جہاں طلبہ تنظیمیں اور
جماعتی وابستگیاں جلد جذباتی رخ اختیار کر لیتی ہیں۔
بنگلہ
دیش کے مستقبل کا انحصار اس بات پر ہے کہ بڑی سیاسی قوتیں باہمی رقابت کے باوجود
قومی مفاد پر مشترکہ حکمت عملی اختیار کر پاتی ہیں یا نہیں۔ اگر معیشت کی بحالی،
سیاسی مفاہمت اور ادارہ جاتی استحکام پر توجہ دی گئی تو یہ انتخابات جمہوریت کے
استحکام کا آغاز ثابت ہو سکتے ہیں۔ بصورتِ دیگر، اکثریت بھی سیاسی عدم استحکام کو
روکنے کے لیے کافی نہیں ہوگی۔
آپ مسعود ابدالی کی پوسٹ اور اخباری کالم masoodabdali.blogspot.comاور ٹویٹر Masood@MasoodAbdaliپربھی ملاحظہ کرسکتے ہیں۔
No comments:
Post a Comment