غزہ کا رمضان: ملبے پر سجدے، عالمی ضمیر پر سوال
رمضان المبارک،
روحانی تجدید، تحمل و برادشت اور امید کا مہینہ ہے۔ مگر اس برس غزہ میں رمضان کا
استقبال ایک ایسے پس منظر میں ہوا جہاں زندگی اور بقا خود ایک معرکہ بنی ہوئی ہے۔
بھوک، پیاس، ناکہ بندی اور مسلسل بمباری کے سائے میں یہ تیسرا رمضان ہے جسے اہلِ
غزہ ملبے، خیموں اور مسمار آبادیوں کے درمیان منا رہے ہیں۔ تاہم ویرانی کے اس موسم
میں بھی چراغ روشن، اذانیں بلند اور اجتماعی افطار کے دسترخوان سجے ہوئے ہیں۔
ملبے پر بچھے دسترخوان
لوگوں
نے اپنے عارضی خیموں کو برقی قمقموں سے سجایا۔ دیواروں اور ٹوٹے ہوئے ڈھانچوں پر
استقبالِ رمضان کے نعرے ثبت کئے گئے۔ کئی مقامات پر اجتماعی افطار کا اہتمام ہوا۔
خیموں کے درمیان ملبے پر چادریں بچھا کر روزہ افطار کیا گیا۔ نہ فلافل، نہ کنافہ،
نہ بقلاوہ، بس ایک کھجور اور پانی کے چند
گھونٹ۔ اور غزہ میں پانی بھی کسی نعمت سے کم نہیں۔
رمضان
کا پیغام صبر اور صبر کی مٹھاس سے اہلِ غزہ سے زیادہ کون واقف ہے؟ پیاسے لب اللہ
کے ذکر سے تر ہیں۔ مسمار مساجد اور
مخدوش عمارتوں کے سائے میں تراویح ادا کی جارہی ہے۔ یہ مناظر اُن دھمکیوں کا خاموش
جواب ہیں جن میں “جہنم کے دروازے کھول دینے” کی باتیں کی جاتی ہیں۔ اندھیرا کتنا
ہی گہرا ہو، ایمان اور یقین کے سامنے ٹھہر نہیں سکتا۔ رمضان
کے دنوں اور مبارک راتوں میں بمباری کا سلسلہ بھی جاری ہے جس میں عورتوں اور بچوں
سمیت ایک درجن سے زیادہ افراد جاں بحق ہوئے۔
مسجدِ اقصیٰ میں پابندیاں اور نمازیوں کا عزم
مسجد اقصیٰ کے گرد اسرائیلی
فوج نے گھیرا ڈال کر جمعہ کیلئے نمازیوں کی تعداد 10 ہزار تک محدود کردی ہے۔تیس
برس سے کم کے ہرنمازی کو توہین آمیز جامہ تلاشی کا سامنا ہے لیکن انجام بد کی
دھمکیوں اور خوف و ہراس کے باوجود خواتین سمیت 80 ہزار فرزندان توحید نے نماز جمعہ
ادا کی۔ عام طورسے جمعہ کیلئے سارے غرب اردن سے ایک لاکھ کے قریب افراد القدس شریف
آتے ہیں۔
مجلسِ امن یا سیاسی برانڈنگ؟
اسی
ہفتے واشنگٹن میں مجلس السلام (Board
of Peace)کا ایک اجلاس منعقد ہوا۔ مجلس کی میزبانی
صدر ٹرمپ سے منسوب ڈانلڈ ٹرمپ انسٹیٹیوٹ
برائے امن کے تحت کی گئی، جس نے آغاز ہی سے اس کی ادارہ جاتی شناخت اور دائرۂ کار
پر سوالات کو جنم دیا۔ا امریکی صدر کے حامیوں
کیلئے شاید یہ قیادت کی علامت ہو، لیکن تشہیری شناخت (برانڈنگ) نے ادارے کی وسعت
اور غیر جانب داری پر سوال اٹھادیا ہے۔ پاکستانی قیادت کے حوالے سے تعریفی جملے
میڈیا میں نمایاں رہے۔صدر ٹرمپ نے امریکہ کی جانب
سے 17 ارب ڈالر کے عطیے کے اعلان اور دیگر ممالک سے تعاون کی اپیل کو
تعمیرِ نو کے تناظر میں پیش کیا گیا۔
مجلس السلام کی ساکھ پر سب
سے اہم اور جامع تبصرہ میکسیکو کی صدر ڈاکٹر کلاڈیا شینبام کا تھا۔ اجلاس کی دعوت
مسترد کرتے ہوئے ڈاکٹر صاحبہ نے کہا کہ جب تک آزاد فلسطینی ریاست قائم نہیں
ہوجاتی، اسرائیل محفوظ ہوگا نہ علاقے میں پائیدار امن ممکن ہے۔
تاوان کے بجائے
چندہ؟؟؟
سوال یہ ہے کہ غزہ جس وسیع
انسانی و مادی تباہی سے دوچار ہوا، اس کی قانونی و اخلاقی ذمہ داری کس پر عائد
ہوتی ہے؟ اگر یہ نقصان مسلح کارروائیوں اور طویل محاصرے کے نتیجے میں ہوا اور
اسرائیل کو اس دوران مغربی دنیا خصوصاً امریکہ کی غیر مشروط حمایت حاصل رہی تو کیا
اس کے اثرات کا بوجھ عالمی برادری پر بطور چندہ ڈال دینا کافی ہے؟
بین الاقوامی قانون میں ایک
تسلیم شدہ اصول ریاستی ذمہ داری کا ہے، جس کی تدوین International Law
Commission نے اپنے مسودۂ قواعد (Articles on
Responsibility of States for Internationally Wrongful Acts) میں کی ہے۔ اس کے مطابق اگر کسی ریاست کا عمل بین الاقوامی قانون
کی خلاف ورزی قرار پائے تو اس پر مکمل ازالہ (Full Reparation) لازم ہو سکتا ہے، جس میں مالی معاوضہ، نقصانات کا ازالہ اور بعض
صورتوں میں بحالی شامل ہوتی ہے۔
اسی طرح عالمی عدالتِ انصاف (ICJ)کے متعدد فیصلوں میں بھی یہ اصول دہرایا گیا ہے کہ خلاف ورزی کی
صورت میں ازالہ اس حد تک ہونا چاہیے جو متاثرہ فریق کو اُس حالت کے قریب تر لے آئے
جس میں وہ خلاف ورزی نہ ہونے کی صورت میں ہوتا۔ یہاں سوال چندہ
جمع کرنے کا نہیں بلکہ قانونی و اخلاقی ذمہ داری کا ہے۔
عزمِ جارحیت کی تجدید
جس
لمحے اجلاس میں موجود اسرائیلی وزیرخارجہ گیدون سعر (Gideon Sa’ar)امن کیلئے اپنے ملک کے اخلاص کا ذکر کررہے تھے عین اسی وقت تیل
ابیب میں اسرائیل کے کابینہ سکریٹری یوسی فکس (Yossi Fuchs) نے دھمکی دی کہ اگر
مزاحمت کار 60 دنوں میں غیر مسلح نہ ہوئے تو اسرائیلی فوج غزہ پر بھرپور حملہ کرکے
انھیں ہلاک یا غیر مسلح کردیگی۔
الحاق اور جبری منتقلی کا سوال
غرب اردن میں بھی قبضہ گرد
حملوں میں شدت آگئی ہے۔ اسرائیلی کابینہ سے انتقال اراضی کا قانون منظور ہوتے ہی، قبضہ
گردوں نے الخلیل (Hebron)پر
قومی پرچم لہرا کر غرب اردن کے اسرائیل سے الحاق (Annexation)کی عملی کاروائی شروع کردی۔حالانکہ یہ بل ابھی پارلیمان سے منظور
بھی نہیں ہوا۔
اقوامِ متحدہ نے مغربی کنارے
اور غزہ میں جاری کارروائیوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ موجودہ
اقدامات جبری بے دخلی اور آبادیاتی تبدیلی کے خدشات کو جنم دے رہے ہیں۔ انسانی
حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے یہ اقدامات نہ صرف خطے کی آبادیاتی ساخت پر اثر انداز
ہوں گے بلکہ یہ بین الاقوامی قانون، خصوصاً مقبوضہ علاقوں کی حیثیت سے متعلق
اصولوں سے بھی متصادم ہیں۔مسئلہ صرف علاقائی کنٹرول کا نہیں بلکہ انسانی تحفظ،
شہری حقوق اور پائیدار امن کے امکانات کا ہے۔ جب قانون سازی زمینی حقائق بدلنے کے
لئے استعمال ہو تو اس کے اثرات نسلوں تک رہ سکتے ہیں۔
جامع منصوبہ بندی
اقوام متحدہ کے خدشات کو
اسرائیلی قیادت کے بیانات سے تقویت ملتی ہے۔ گزشتہ ہفتے وزیر خزانہ اور جماعتِ
صیہون (Religious Zionism Party) کے سربراہ بیزلیل اسموترچ نے کہا کہ اسرائیل کی اگلی
حکومت کو چاہیے کہ وہ مغربی کنارے اور غزہ میں آباد فلسطینیوں کو علاقے سے باہر
جانے کی ترغیب دے۔ سموتریچ کے مطابق فلسطینیوں کی موجودگی اسرائیل کی سلامتی اور
یہودی شناخت کے لیے خطرہ ہے، اور ان کے انخلا کو فروغ دینا چاہیے۔ اسرائیلی وزیرخزانہ
کے مطابق فلسطینی آبادیوں کا وجود اسرائیل کی سلامتی، معاشی ترقی اور ریاستی اہداف
کے لیے “سنگین چیلنج” ہے۔
بین الاقوامی قوانین کے
مطابق کسی مقبوضہ علاقے کی مقامی آبادی کی جبری منتقلی یا بیدخلی غیر قانونی سمجھی
جاتی ہے۔ جنگ کے دوران شہریوں کو تحفظ فراہم دئے جانے کے حوالےسے Fourth Geneva Convention واضح
طور پر شہری آبادی کے جبری انخلا اور اجتماعی سزا کی ممانعت کرتا ہے۔ اسی طرح
عالمی فوجداری عدلت (ICC)کے دائرۂ کار میں بھی جبری نقل مکانی جنگی جرم کے زمرے میں آ سکتی
ہے۔
سفارتی بیانات اور غیر جانب داری کا سوال
اس حوالے سے امریکی حکومت کے موقف کا اعلان اسرائیل میں
امریکہ کے سفیر مائک ہکابی کھل کر کرچکے ہیں۔ فاکس (FOX)کے سابق تجزیہ نگار اور
مشہور پوڈ کاسٹر ٹکر کارلسن (Tucker Carlson)سے
انٹرویو میں امریکی سفیر نے کہا کہ اگر اسرائیل پورے مشرقِ وسطیٰ پر
قبضہ کر لے تو یہ اس کا حق ہے، توریت اسے یہ حق دیتی ہے۔ ایسے بیانات ثالثی کے دعووں پر سوالات
اٹھاتے ہیں۔ جب ثالثی اور فریق داری کی سرحد دھندلا جائے تو امن کی میز پر اعتماد
کیسے قائم رہے گا؟
سوشل میڈیا اور متبادل بیانیہ
روائتی
ذرایع ابلاغ کے برعکس، ڈیجیٹل پلیٹ فارمز
پر فلسطینیوں اور ان کے حامیوں نے اپنی کہانیاں براہِ راست دنیا تک پہنچائیں۔ ذاتی شہادتیں، زمینی حقائق اور ثقافتی اظہار نے ایک ایسا متبادل
بیانیہ تشکیل دیا جسے عالمی عوامی رائے مکمل طور پر نظرانداز نہ کر سکی۔اسی فضا
میں فلسطینی موضوعات پر بننے والی دستاویزی فلمیں، خصوصاً Palestine
36، All That’s Left of
You اور The Voice of Hind
Rajabبین الاقوامی میلوں اور آسکر کے حلقوں میں زیرِ بحث ہیں۔ یہ پیش
رفت کچھ مغربی حلقوں میں بے چینی کا باعث بھی بنی۔ معروف کالم نگار Gary Rosenblatt نے اپنے حالیہ مضمون میں ان
فلموں کو “پروپیگنڈا” قرار دیتے ہوئے اس رجحان پر تشویش ظاہر کی ہے۔لیکن سوال یہ
ہے کہ کیا ہر وہ بیانیہ جو طاقت کے مروجہ زاوئے سے مختلف ہو، محض پروپیگنڈا
ہے؟ یا یہ انسانی کہانیوں کی وہ بازگشت ہے جو بالآخر عالمی ضمیر تک پہنچ رہی ہے؟
ممکن ہے پالیسیوں میں فوری
تبدیلی نہ آئے، مگر یہ واضح ہے کہ عوامی سطح پر فلسطینیوں کے حالات کو سمجھنے کا
دائرہ وسیع ہوا ہے۔اصل تبدیلی ایوارڈ جیتنے میں نہیں، بلکہ اس حقیقت میں ہے کہ
انسانی دکھ اب بند کمروں سے نکل کر عالمی مکالمے کا حصہ بن رہا ہے۔
رمضان
کی ساعتیں گزر جائیں گی، اجلاس ختم ہو جائیں گے، بیانات ماند پڑ جائیں گے، لیکن
کیا عالمی نظام محض امدادی اعلانات تک محدود رہے گا یا قانونی و اخلاقی ذمہ داری
کا سامنا بھی کرے گا؟ ملبے پر سجدہ کرنے والے لوگ ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ انسانی
وقار ناقابلِ تقسیم ہے۔ امن چندے سے نہیں، انصاف سے پیدا ہوتا ہے۔ اگر قانون سب پر
یکساں لاگو نہ ہو تو امن کی ہر مجلس محض ایک رسمی تصویر بن کر رہ جاتی ہے۔تاریخ کا
فیصلہ سفارتی اعلامیوں سے نہیں، انصاف کی میزان پر ہوگا۔
ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل کراچی 27 فروری 2026
ہفت روزہ دعوت دہلی 27 فروری 2026
ہفت روزہ رہبر سرینگر 29 فروری 2026
No comments:
Post a Comment