نریندرا
مودی کا دورہ اسرائیل ۔۔ شش جہتی اتحاد کی
بازگشت
ترکیہ
اور پاکستان نئے ہدف؟؟؟ا
بھارتی وزیراعظم نریندرا مودی اپنا دورہ اسرائیل مکمل کرکے وطن واپس چلے گئے۔اس دورے میں انھوں نے اسرائیلی کنیسہ (پارلیمان) سے
خطاب کیا۔یاد واشیم (ہولوکاسٹ یادگار) کی زیارت، ڈرون کارخانے کا دورہ
اور اسرائیلی وزارت تزویرات (Strategy)کے اعلیٰ حکام سے ملاقات انکی مصروفیات میں شامل
تھی۔جناب مودی جولائی 2017 میں پہلی بار اسرائیل آئے تھے جو کسی بھی ہندوستانی
وزیراعظم کا پہلا دورہ اسرائیل تھا۔
تل ابیب آمد پر استقبالی تقریب کے بعد
اسرائیلی وزیراعظم نے اپنے بھارتی ہم منصب سے نجی ملاقات کی۔ اس خصوصی نشست میں
نریندرا مودی کا استقبال کرتے ہوئے نیتن یاہو نے کہا ' یہ محض سفارتی تعلق نہیں
بلکہ حقیقی رفاقت کا بندھن ہے۔ یہ سچی دوستی کا رشتہ ہے' ۔اسرائیلی
وزیراعظم کی وارفتگی سے انکا اخلاص پھوٹا پڑرہا تھا۔ اس تناظر میں یہ جملہ محض
روائتی خیرمقدم نہیں، بلکہ بدلتے عالمی منظرنامے کی عکاسی کرتا ہے۔
ان دونوں رہنماوں کی “دوستی” اب رسمی سفارت
کاری سے آگے بڑھ چکی ہے۔ یہ مشترکہ مفادات، دفاعی تعاون، ٹیکنالوجی، انٹیلی جنس
اشتراک، علاقائی توازن کا عنوان اور دہلی و تل ابیب کے مابین تعلقات کی نئی جہت کی
علامت ہے۔
اسرائیلی کنیسہ (پارلیمان) سے مودی کا خطاب
پارلیمان سے اپنے خطاب میں نریندرا مودی نے
کہا کہ “بھارت اس وقت اور آئندہ بھی اسرائیل کے ساتھ پختہ یقین کے ساتھ کھڑا ہے۔”
انھوں نے 7 اکتوبر 2023 کے حملے میں ہلاک ہونے والوں کے اہلِ خانہ سے
ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہم آپ کا درد محسوس کرتے ہیں اور آپ کے دکھ میں
شریک ہیں۔ وزیراعظم مودی نے 'دہشت گردی
'کی شدید مذمت کرتے ہوئے دوٹوک انداز میں کہا کہ کسی بھی مقصد کے لیے عام شہریوں
کا قتل جائز نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔ ان کے بقول بھارت بغیر کسی دوہرے معیار کے دہشت
گردی کے خلاف صفِ اول میں کھڑا ہے۔اس حوالے سے انھوں نے 26/11 ممبئی حملوں کا خصوصی ذکر کیا۔ جناب مودی
کا کہنا تھا کہ اس سانحے میں اسرائیلی شہری بھی ہلاک ہوئے تھے، جس کے باعث دونوں
ممالک کے تجربات اور نقطۂ نظر میں مماثلت پائی جاتی ہے۔ اپنے خطاب کے آغاز میں
انہوں نے خود کو ایک قدیم تہذیب کا نمائندہ قرار دیا، گویا ہند اسرائیل تعلق کو سیاسی
مفادات سے بلند تر تاریخی رشتے میں باندھنے کی کوشش کی۔
یروشلم میں ہونے والی یہ تقریر ایک اور پہلو سے بھی معنی خیز تھی۔
بھارت طویل عرصے سے مشرقی یروشلم کو متنازعہ علاقہ قرار دیتا رہا ہے، مگر اس خطاب
میں اس حساس حیثیت کا کوئی ذکر نہ تھا۔ اس سے بھی زیادہ اہم بات یہ کہ مودی نے دو
ریاستی حل کا ذکر نہیں کیا، حالانکہ یہ دہلی کی سرکاری اور طویل المدتی پالیسی کا
بنیادی ستون رہا ہے۔ یہ خاموشی محض سفارتی احتیاط ہے یا پالیسی کی تدریجی تبدیلی
کا اشارہ؟ عالمی سیاست میں تقریریں محض الفاظ نہیں ہوتیں۔ اشارے، ترجیحات اور
خاموشیاں بھی اتنی ہی معنی خیز ہوتی ہیں اور کبھی کبھی نہ کہی گئی بات کہی ہوئی
باتوں سے زیادہ اثر رکھتی ہے۔
دہلی، تل ابیب اور
جنوبی ایشیا کا بدلتا توازن
عالمی سیاست میں
اعلانات سے زیادہ اشارے اہم ہوتے ہیں۔بسا اوقات بظاہر معمول دکھائی دینے والے دورے
آنے والے زمانوں کی سمت طے کر دیتے ہیں۔ جناب مودی کا حالیہ دورۂ اسرائیل اسی
نوعیت کا واقعہ محسوس ہوتا ہے۔ اسے محض رسمی سفارت کہہ کر نظر انداز کردینا شاید
بدلتے ہوئے جغرافیائی حقائق سے آنکھیں چرانے کے مترادف ہوگا۔اس وقت عالمی نظام ایک
نئی صف بندی کی طرف بڑھ رہا ہے۔ طاقت کے مراکز اپنی ترجیحات کو ازسرِ نو مرتب کر
رہے ہیں، اور ریاستیں اپنے دیرینہ تعلقات کو نئے مفادات کے پیمانے پر پرکھ رہی
ہیں۔
نظریاتی ہم آہنگی سے تزویراتی
شراکت داری تک
دہلی اور تل ابیب کے
تعلقات اب محض سفارتی خیرسگالی یا محدود دفاعی تعاون تک محدود نہیں رہے۔ وزیر اعظم
مودی اور اسرائیلی وزیر اعظم بن یامین نیتن یاہو کے تعلقات طبعی و فکری مناسبت یا شخصی کیمسٹری سے
کہیں آگے جا چکے ہیں۔ دونوں انتہا پسند قیادتیں داخلی سیاست میں قومی بیانیے کو
سلامتی کے تصور سے جوڑتی ہیں اور خارجی خطرات کو داخلی استحکام کے استدلال کے طور
پر پیش کرتی ہیں۔ بھارت اسرائیلی دفاعی ٹیکنالوجی کا نمایاں خریدار ہے۔ ڈرون نظام،
میزائل دفاعی پروگرام، سرحدی نگرانی، انٹیلیجنس اشتراک اور سائبر سکیورٹی جیسے اہم
شعبوں میں اسرائیل ہند تعاون خاصہ گہرا ہوچکا ہے۔
شش جہتی یا Hexagon تصور اور خاموش صف بندیاں ۔ پاکستان، ترکیہ اور ایران
گزشتہ برسوں میں ایک
غیر رسمی ہم آہنگی، شش جہت اتحاد یا Hexagon
Alignment کے
نام سے نمایاں ہوئی ہے، جس میں اسرائیل، بھارت، متحدہ عرب امارات، سعودی عرب،
امریکہ اور اردن شامل ہیں۔بعض بیانات میں اسے چھ ملکی
تزویراتی راہداری یا “Six-Nation Strategic Corridor” کہا گہا ہے۔ بظاہر یہ کوئی فوجی اتحاد نہیں۔اب تک اس کی کوئی باقاعدہ
معاہداتی شکل بھی سامنے نہیں آئی اور یہ ایک کثیرالسمتی اقتصادی و تزویراتی شراکت
داری کے تصور کے طور پر پیش کیا جارہا ہے۔ لیکن مفادات ہم سمت دکھائی دے رہے ہیں۔یعنی
بحر ہند میں اثر، مشرق وسطیٰ تک رسائی،
چین کے بڑھتے کردار پر نظر، اور جدید دفاعی صلاحیتوں میں شراکت داری۔ گرچہ غزہ اور
غربِ اردن کی موجودہ صورتحال کے باعث یہ عمل وقتی طور پر سست پڑا ہے، لیکن باہمی
مفادات کی بنیاد پر دلچسپی برقرار ہے۔ اگر اس مجوزہ راہداری میں سعودی عرب
اور امارات جیسے ممالک زیادہ فعال کردار ادا کرتے ہیں تو پاکستان کے لیے خارجہ
پالیسی کا توازن برقرار رکھنا مزید پیچیدہ ہوسکتا ہے، کیونکہ اسلام آباد روایتی
طور پر خلیجی ریاستوں کے ساتھ قریبی تعلقات رکھتا ہے۔ اس حوالے سے یہ بات بھی
مدنظر رہنی چاہیے کہ بھارت “کیمپ بندی” کے بجائے کثیر جہتی و متنوع مفاہمت کی حکمت
اپنائے ہوئے ہے۔ یعنی ایک جانب وہ اسرائیل کا دوست ہے تو دوسری طرف عرب دنیا اور
ایران سے بھی قریبی روابط رکھتا ہے۔ جبکہ ایک نظریاتی ریاست کی حیثیت سے پاکستان
کیلئے اس نوعیت کا سفارتی تنوع کسی حد تک محدود ہے ۔
شش جہتی ڈھانچہ پہلے سے
موجود آئی 2 اور یو 2 (I2U2 Group) میں توسیع تصور کی جارہا
ہے۔ امریکہ، متحدہ عرب امارات، اسرائیل اور ہندوستان کے درمیان اس ہم آہنگی کو
اربعہِ مشرق وسطیٰ یا Middle Eastern Quadبھی کہا جاتا ہے جو 2021 میں
قائم ہوا جسکا ہدف خلیجی اور یورپی مالک کے درمیاں
تجارتی تعلقات کو فروغ دینا ہے۔
پاکستان کا جوہری پروگرام
پاکستان کا جوہری
پروگرام اس خطے میں استحکام و توازن کا بنیادی ستون اورجنوبی ایشیا میں کسی بڑے
عسکری تصادم کو محدود رکھنے کا سبب سمجھا جاتا ہے۔ تاہم اسرائیل اور ہندوستان کے
تزویراتی برتری اور تکنیکی تفوق جیسے تصورات کو نظر انداز کرنادانشمندی نہیں۔
اسلئے کہ یہی وہ نکتہ ہے جہاں مفادات کا خاموش اشتراک جنم لے سکتا ہے یعنی دشمن کا
دشمن دوست۔
ایران کا ممکنہ منظرنامہ اور نئے اندیشے
ایک اور اہم پہلو ایران
کی صورت حال ہے۔ اگر امریکہ ایران کشیدگی کسی کھلے تصادم میں تبدیل ہوتی ہے اور
کسی مرحلے پر تہران میں ایسی حکومت وجود میں آتی ہے جو اسرائیل سے قربت اختیار
کرے، تو پورے خطے کی سیاسی بساط بدل سکتی ہے۔ایسی تبدیلی کی صورت میں مشرقِ وسطیٰ
سے جنوبی ایشیا تک ایک نئی سفارتی اور دفاعی ہم آہنگی ابھرنے کا امکان ہے۔ایران کی
اسرائیل نواز حکومت کے اثرات براہِ راست اسلام آباد تک محسوس ہوں گے۔ دہلی اور
تہران کے مابین پہلے ہی اقتصادی روابط موجود ہیں۔ اگر ان میں اسرائیل نواز جہت
شامل ہوجائے تو پاکستان کے لیے سفارتی توازن مزید پیچیدہ ہوسکتا ہے۔
پاکستان پہلے ہی
بلوچستان میں منظم دہشت گردی اور سرحدی عدم استحکام کا سامنا کر رہا ہے۔ اگر مشرق
اور مغرب دونوں اطراف ایسے تزویراتی مراکز ابھریں جو دہلی سے ہم آہنگ ہوں، تو
اسلام آباد کے لیے داخلی سلامتی اور خارجہ حکمت عملی دونوں میدانوں میں چیلنج بڑھ
سکتا ہے۔ پاکستان کیلئے یہ اندیشہ، پریشانی کا سبب ہے کہ علاقائی سیاست کا کوئی غیر
متوقع موڑ جنوبی ایشیا کے طاقت کے توازن کو نئی سمت نہ دے دے۔
ترکیہ اسرائیل کا نیا
ہدف؟؟
اسرائیل میں حکومت اور حزبِ اختلاف دونوں
ترکیہ کو اب محض ایک علاقائی حریف نہیں بلکہ ایک سنجیدہ تزویراتی چیلنج کے طور پر
دیکھ رہے ہیں۔ ایسا چیلنج جس کا تقابل ایران اور غزہ کی مزاحمتی قوتوں سے کیا جا
رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کچھ عرصہ قبل اسرائیل، یونان اور یونانی قبرص کا سربراہی
اجلاس منعقد ہوا، جسے علاقائی سفارت کاری میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا گیا۔اب
وزیراعظم بنجامن نیتن یاہو نے کھل کر اعلان کیا ہے کہ اسرائیل خطے میں اور اس کے
گرد ایک ایسے ممالک کا “محور” قائم کرنا چاہتا ہے جن میں ہندوستان، یونان اور
یونانی قبرض شامل ہیں۔ مجوزہ اتحاد میں کچھ ایسے عرب، افریقی اور ایشیائی ممالک
بھی ہیں جن کے نام ظاہر نہیں کئے گئے ۔نیتن یاہو کے مطابق یہ وہ ریاستیں ہوں گی
“جو زمینی حقائق، چیلنجز اور اہداف کو ایک ہی زاویے سے دیکھتی ہیں” اور یہ اتحاد
اُن کے بقول “شدت پسند شیعہ محور” اور “ابھرتے ہوئے شدت پسند سنی محور” کے مقابل
میں تشکیل دیا جائے گا۔وزیراعظم مودی نے ان محوروں کی قبل ازوقت سرکوبی کیلئے
اسرائیل سے تعاون میں دلچسپی ظاہر کی۔
قابلِ غور پہلو یہ ہے کہ اسرائیل ہند دوستی،
اب جغرافیائی یا تزویراتی ترجیحات کے
بجائے صریح مذہبی رخ اختیار کرتی نظر آرہی
ہے۔ “شیعہ محور” اور “سنی محور” جیسے الفاظ محض تجزیاتی اصطلاحات نہیں بلکہ عالمی
سیاست کی زبان میں فرقہ وارانہ تقسیم کو رسمی حیثیت دینے کے مترادف ہیں۔
اصل امتحان: ردعمل نہیں، بصیرت
یہ کہنا قبل از وقت
ہوگا کہ کوئی کھلا محاذ وجود میں آچکا ہے۔ تاہم عالمی سیاست میں خاموش تبدیلیاں ہی
سب سے زیادہ اثر انداز ہوتی ہیں۔کیا ایران، ترک اور پاکستانی قیادتیں بدلتے جغرافیائی حقائق کو پوری گہرائی سے سمجھ
رہی ہیں؟ کیا یہ ممالک سفارتی تنوع، علاقائی روابط اور پُرجوش دل لیکن ٹھنڈے
دماغ 'سے اپنے مفاد کو محفوظ بنانے کی تیاری کر رہے ہیں ؟دنیا
میں طاقت کا توازن جامد نہیں رہتا۔ آج کے معاشی تعلقات کل کی عسکری ہم آہنگی میں
بدل سکتے ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ تینوں ملک اپنی پالیسی کو تدبر اور پیش بینی پر
استوار کریں۔
No comments:
Post a Comment