Thursday, August 6, 2026

 

غزہ، لبنان اور بدلتا ہوا عالمی منظرنامہ

غزہ اور لبنان میں جنگ بندی، ثالثی کی کوششوں اور بارہا کی سفارتی یقین دہانیوں کے باوجود مشرقِ وسطیٰ اب بھی پائیدار امن سے خاصا دور دکھائی دیتا ہے۔ اسرائیلی وزیرِ دفاع اسرائیل کاٹز کے ایک حالیہ ٹیلی وژن انٹرویو نے خطے میں تشویش کی نئی لہر دوڑا دی ہے۔ انھوں نے کہا کہ  ہم نے سینکڑوں سال پرانے وہ 24 لبنانی دیہات تباہ کردئےجن کے شیعہ باشندے حزب اللہ کی حمائت میں اسرائیل کے دشمن کے طور پر کام کرتے تھے۔وزیر دفاع نے دوٹوک انداز میں کہا کہ صرف چند مکانات نہیں بلکہ پورے دیہات مسمار کئے گئے اور اندازاً 15 سے 20 ہزار مکانات منہدم کئے جا چکے ہیں۔

فوجی کارروائی کا دعویٰ اپنی جگہ، لیکن اس بیان کا سب سے تشویش ناک پہلو یہ ہے کہ متاثرہ آبادی کو صرف "حزب اللہ کے حامی" نہیں بلکہ "شیعہ باشندے" کہہ کر متعارف کرایا گیا۔ جب کسی فوجی مہم میں مذہبی شناخت کو اس انداز سے نمایاں کیا جائے تو اس سے سیاسی اور عسکری تنازع کو فرقہ وارانہ رنگ ملنے کا خدشہ پیدا ہو جاتا ہے۔صدیوں سے آباد دودرجن دیہات، 15 سے 20 ہزار مکانات اور تقریباً 700 مربع کلومیٹر علاقے کی تباہی صرف ایک عسکری کارروائی نہیں بلکہ جنوبی لبنان کے جغرافیے اور آبادیاتی نقشے (Demographic Landscape) میں ایک بڑی تبدیلی بلکہ نسل کشی کی بدترین مثال ہے۔

غزہ: جب نشانہ صرف انسان نہیں رہتے

غزہ میں بھی بمباری اور ڈرون حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔ گزشتہ ہفتے دیر البلاح ، خان یونس اور دوسرے شہروں پر بمباری میں 8 اور ڈیڑھ سال کی بچیوں سمیت متعدد افرادجاں بحق ہوئے۔ فلسطینی ذرایع کے مطابق جولائی میں  ایک سو سے زیادہ شہری اسرائیلی حملوں کا نشانہ بنے۔ کچے گھروندوں اور خیموں  کیساتھ غزہ شہر میں امدادی خوراک کے گودام پر بھی بمباری کی گئی گویا حیات کیساتھ اب اسباب حیات کو بھی غارت کیا جارہا ہے۔

غضب کیا ترے وعدے پہ اعتماد کیا

ٹائمز آف اسرائیل  کے مطابق مقتدرہ فلسطین (PA)کے رہنمامحمد دحلان کو امریکی دامادِ اول جیررڈ کشنر نے یقین دلایا تھا کہ 2 اگست سے اسرائیل غزہ پر بمباری روک دیگا۔ اہل غزہ کو کشنر کا یہ بیاں تازہ ہوا کا ایک خوشگوار جھونکا محسوس ہوا لیکن مقررہ دن  صبح سویرے غزہ شہر پر بمباری کرکے اسرائیل نے اس وعدے کی حقیقت عیاں کردی۔ان حملوں میں خواتین اور بچوں سمیت 19 افراد جاں بحق ہوئے۔

جنگ کی تلخیوں میں شہد کی مٹھاس

تباہی و مایوسی کے ان لمحات میں بھی اہل غزہ امید کے چراغ روشن کئے ہوئے ہیں۔ جنگ سے پہلے غزہ میں تقریباً تیس ہزار شہد کے چھتے تھے جن سے ہر سال سینکڑوں ٹن شہد حاصل ہوتا تھا۔ اب یہاں سات سو سے بھی کم چھتے باقی رہ گئے ہیں اور پیداوار اپنے سابقہ حجم کے صرف دس فیصد تک محدود ہو چکی ہے۔ باغات تباہ ہو چکے ہیں، زرعی زمینوں تک رسائی محدود ہے اور شہد کی مکھیوں کے لیے پھول بھی نایاب ہو گئے ہیں۔اس کے باوجود غزہ کے شہد بان ہمت ہارنے پر آمادہ نہیں۔ ایک مقامی شہد بان ابراہیم الدبہ نے نہایت درد بھرے مگر پُرامید انداز میں کہا: "شہد کی مکھیاں درخت مانگتی ہیں، مگر ہم انہیں ملبے کے درمیان پال رہے ہیں۔"

یہ ایک جملہ غزہ کی سب سے مؤثر تصویر ہے۔ عمارتیں گرائی جا سکتی ہیں، باغات جلائے جا سکتے ہیں اور روزگار چھینا جا سکتا ہے، لیکن امید اور محنت کا جذبہ ختم کرنا آسان نہیں۔ شاید اسی لئےغزہ کے کھنڈرات میں گونجتی شہد کی مکھیوں کی بھنبھناہٹ ایک خاموش اعلان ہے کہ اگر زندگی کو ذرا سا موقع مل جائے تو وہ ملبے میں بھی اپنا راستہ بنا لیتی ہے۔

غربِ اردن: زمین کی خاموش جنگ

غربِ اردن میں حملے، بیدخلی اور قبضے کی کاروائیاں جاری ہیں۔ الخلیل (Hebron)کے گاوں صوریف پر قبضہ گردوں نے حملہ کرکے مکانوں، گاڑیوں اور فصلیں کو آگ لگادی گئی۔ نابلوس کے علاقے تل پر ایسے ہی ایک حملے میں  6 افراد جاں بحق ہوگئے۔ حد تو یہ کہ نابلوس میں قبضہ گردوں نے قبریں بھی مسمار کردیں

یہاں اسرائیلی آبادکاری کا دائرہ اب صرف نجی فلسطینی زمینوں تک محدود نہیں رہا۔ ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق اسرائیلی حکام نے مقتدرہ فلسطین (PA) کے زیرِ انتظام بعض علاقوں کو نئی اسرائیلی بستیوں کے درمیان زمینی ربط قائم کرنے کے لئے استعمال کرنے کا عمل شروع کیا ہے۔ یہ صرف چند ایکڑ زمین کا معاملہ نہیں بلکہ اس طرزعمل سے 1993ء کے معاہدۂ اوسلو کے تحت قائم انتظامی ڈھانچے کی عملی حیثیت مشکوک ہوگئی ہے۔اب تک تنازع زیادہ تر نجی فلسطینی زمینوں یا زرعی اراضی تک محدود سمجھا جاتا تھا، لیکن اگر PA کے انتظامی دائرے میں بھی بتدریج تبدیلیاں آتی رہیں تو دو ریاستی حل (Two-State Solution) کی عملی بنیاد مزید کمزور ہو سکتی ہے۔

اسرائیلی فوج: کیا طویل جنگ کے آثار نمایاں ہونے لگے ہیں؟

جنگ کا دباؤ صرف محاذ پر موجود سپاہیوں ہی کو متاثر نہیں کرتا، بلکہ عسکری اداروں کے اندر بھی اس کے اثرات بتدریج ظاہر ہونے لگتے ہیں۔ گزشتہ ہفتے اسرائیلی فوج کی گیواتی بریگیڈ کے متعدد فوجیوں نے اپنے کمانڈر سے اختلاف کے بعد عارضی طور پر فوجی اڈہ چھوڑ دیا۔ بظاہر تنازع ایک ایسے بینر پر تھا جو سینئر فوجیوں نے نئے آنے والے سپاہیوں کے استقبال کے لیے نصب کیا تھا،جسے کمانڈر نے نوواردوں کی تحقیر قرار دیتے ہوئے ہٹانے کا حکم دیا۔ اس فیصلے پر احتجاج ہوا تاہم چند ہی گھنٹوں بعد بیشتر فوجی اپنی ڈیوٹی پر واپس آ گئے۔

اس واقعے کو "فوجی بغاوت" قرار دینا درست نہیں ہوگا، کیونکہ فوجیوں نے اسلحہ اٹھایا نہ  کسی فوجی تنصیب پر قبضے کی کوشش کی اور نہ ہی مسلح مزاحمت کی۔ کیا یہ صرف بینروں کا تنازع تھا، یا پھر تقریباً تین برس سے جاری مسلسل جنگ کا نفسیاتی اثر اب فوج کے اندر بھی نمایاں ہونے لگا ہے؟یہ پہلا موقع نہیں کہ اسرائیلی فوج میں اجتماعی احتجاج یا ڈیوٹی سے انکار کا واقعہ پیش آیا۔ ماضی میں بھی ریزرو اہلکاروں کی جانب سے احتجاج، اجتماعی استعفے اور غیر حاضری کے خبریں آتی رہی ہیں۔ گیواتی بریگیڈ کا حالیہ واقعہ صرف ایک نظم و ضبط کا مسئلہ نہیں بلکہ فوجی مورال کے بارے میں بھی سوالات پیدا کر رہا ہے۔طویل جنگیں صرف دشمن کو ہی نہیں تھکاتیں، اپنی فوج کے اعصاب بھی آزماتی ہیں۔

یورپ میں بدلتی ہوئی فضا

جنگ کا ایک اثر عالمی رائے عامہ پر بھی واضح طور پر دکھائی دے رہا ہے۔ برطانیہ کے مشرقی لندن میں واقع ہیکنی کونسل (Hackney Council) نے حال ہی میں اسرائیلی شہر حیفہ کے ساتھ اپنی "ٹوئن سٹی" (Twin City) شراکت داری ختم کرنے کے حق میں ووٹ دیا۔ قرارداد کے حامی ارکان کا مؤقف تھا کہ غزہ میں انسانی بحران کے تناظر میں معمول کے تعلقات برقرار رکھنا ان کے ووٹروں کے جذبات اور انسانی حقوق کے اصولوں سے مطابقت نہیں رکھتا۔ اگرچہ اس فیصلے سے برطانوی حکومت کی خارجہ پالیسی تبدیل نہیں ہوگی، لیکن اس سے یہ ضرور ظاہر ہوتا ہے کہ غزہ کی جنگ اب صرف سفارتی یا عسکری معاملہ نہیں رہی بلکہ یورپ کی مقامی سیاست اور عوامی رائے کو بھی متاثر کر رہی ہے۔

امریکہ میں بدلتی رائے عامہ

اسی نوعیت کی تبدیلی امریکہ میں بھی محسوس کی جا رہی ہے۔ اسرائیلی وزیراعظم کی امریکہ آٓمد پر نیویارک کے رئیس شہر زہران ممدانی نے اعلان کیا کہ اگر نیتن یاہو نیویارک آئے تو وہ ICCکے وارنٹ کی تعمیل کی کوشش کرینگے۔ یعنی اسرائیلی وزیراعظم کو گرفتار کرکے ICCکے حوالے کردیا جائیگا۔ جناب ممدانی نے حتمی لہجہ اختیار کرنے کے بجائے 'کوشش' کہا کہ اس حوالے سے مئیر اور شہری انتظامیہ کے اختیارات محدود ہیں۔ اسی تناظر میں Economist/YouGov کے ایک سروے میں یہ سوال کیا گیا کہ اگر نیتن یاہو امریکہ آئیں تو کیا امریکی حکام کو ICC کے وارنٹ پر عمل کرنا چاہیے؟ سروے کے مطابق 49 فیصد امریکیوں  نے اس کی حمایت کی، 27 فیصد نے مخالفت کی جبکہ باقی غیر جانب دار رہے۔

کسی ایک سروے کو امریکی عوام کی حتمی رائے قرار نہیں دیا جا سکتا، لیکن یہ نتائج اس امر کی نشاندہی ضرور کرتے ہیں کہ غزہ کی جنگ کے بعد اسرائیل، خصوصاً نیتن یاہو، کے بارے میں امریکی رائے عامہ میں پہلے کے مقابلے میں نمایاں تبدیلی آ رہی ہے۔ چند برس پہلے ایسا سوال امریکی سیاست میں تقریباً ناقابلِ تصور تھا۔

غزہ، لبنان اور غربِ اردن کے یہ تمام واقعات بظاہر ایک دوسرے سے الگ دکھائی دیتے ہیں، مگر درحقیقت یہ ایک ہی بڑی تصویر کے مختلف رخ ہیں۔ ایک طرف جنگ بندی کی کوششیں جاری ہیں، دوسری طرف بمباری، آبادکاری اور زمینی حقائق میں تبدیلی کا سلسلہ بھی رکا نہیں۔ شاید غزہ کے شہد بان ابراہیم الدبہ کے الفاظ ہی اس پورے منظرنامے کی سب سے جامع تعبیر ہیں۔ شہد کی مکھیاں آج بھی ملبے کے درمیان اپنا راستہ تلاش کر رہی ہیں۔ سوال صرف یہ ہے کہ کیا انسان بھی اتنی ہی دانش مندی سے امن کا راستہ تلاش کر پائیں گے، یا آنے والی نسلوں کے لیے بھی جنگ ہی اس خطے کی واحد میراث بنے گی؟

ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل کراچی 7 اگست 2026

ہفت روزہ دعوت دہلی 7 اگست 2026

ہفت روزہ رہبر سرینگر 9 اگست 2026


 

امن کی دہلیز پر جنگ کے سائے

مشرقِ وسطیٰ کی نئی کشمکش، امن، تیل اور اسلحہ کی سیاست

تیرہ راتوں سے جاری کشیدگی میں 25 جولائی کا وقفہ بہت مختصر ثابت ہوا اور 28 جولائی کی صبح  اردن کے الازرق فوجی اڈے پر ایران کے مبینہ میزائیل حملے سے  خلیج فارس کا میدان دوبارہ چمک اٹھا۔ تہران نے حملے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ اس اڈے سے ایران پر حملے کے لئےامریکی F‑35 طیارے اڑان بھرنے والے تھے جنہیں ایرانی میزائلوں نے نشانہ بنایا۔ پاسدارانِ انقلاب (IRGC) کا دعوی ہے کہ میزائل حملے میں 3 امریکی F-35 طیارے تباہ اور 3 کو بھاری نقصان پہنچا۔ تاہم امریکی مرکزی کمان (CENTCOM) نے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ کوئی امریکی طیارہ تباہ یا نقصان کا شکار نہیں ہوا اور ایرانی حملہ اپنے اہداف حاصل نہیں کر سکا۔ اگلے روز امریکہ نے ایران میں ایک درجن سے زیادہ اہداف کو نشانہ بنایا، جس سے دونوں جانب کشیدگی مزید بڑھ گئی۔

نیتن یاہو کا دورۂ امریکہ: رسومات کے ساتھ خفیہ سفارتکاری

اسی دوران اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو امریکہ کے دورے پر تھے۔ انکی امریکہ یاترا کا مقصد سینیٹر لنڈسے گراہم کی آخری رسومات میں شرکت تھا، مگر اس موقع پر انہوں نے امریکی صدر، وزیرِ جنگ پیٹ ہیگسیتھ اور قومی سلامتی کے اعلیٰ حکام سے ملاقاتیں بھی کیں۔ ان ملاقاتوں میں ایران کا معاملہ سرِفہرست رہا، جس نے خطے میں جاری کشیدگی کو مزید حساس بنا دیا۔

دمیاط بندرگاہ پر حملہ: نہرِ سوئز تک جنگ کے پھیلنے کا خدشہ

کشیدگی میں مزید اضافہ اسوقت ہوا  جب 28 جولائی کو دمیاط (Damietta)کی مصری بندرگاہ پر گیس ذخیرہ کرنے والے دوجہاز  ڈرون حملوں کا نشانہ بن گئے۔امریکی حلقوں کے خیال میں یہ ڈرون ایران یا انکے حوثی اتحادیوں  نے داغے تھے جبکہ تہران نے اسے اسرائیل کی خفیہ یا False Flagکاروئی قراردیا۔ دمیاط وہ بندرگاہ ہے جہاں سے خلیجی تیل اور عالمی تجارت کا بڑا حصہ نہرِ سوئز کے ذریعے یورپ جاتا ہے۔ نہرِ سوئز دنیا کی 10 سے 12 فیصد سمندری تجارت کا راستہ ہے۔ اس حملے نے یہ خدشہ پیدا کیا کہ ایران اور اس کے اتحادی، جنگ کا دائرہ آبنائے ہرمز اور باب المندب سے آگے بڑھا کر نہرِ سوئز تک لے جانا چاہتے ہیں۔اسی دوران سعودی بمباری کے جواب میں حوثیوں نے ابقیق کی ارامکو تنصیبات کو نشانہ بنایا، جس سے خلیجی توانائی کا پورا نظام لرز اٹھا۔

سعودی–عراق تناؤ اور علاقائی ثالثی کی ناکامی

دوسرے دن  امریکہ اور سعودی عرب نے عراق کی الحشد الشعبی (PMU) ملیشیا کے ٹھکانوں پر حملے کئے جن میں 20 افراد جاں بحق ہوئے۔ اس حملے نے سعودی عرب اور عراق کو آمنے سامنے لا کھڑا کیا۔ عراقی وزیراعظم علی الزیدی نے سعودی ولی عہد سے اپنی ملاقات احتجاجاً منسوخ کر دی,  جو ایک دن بعد جدہ میں طے تھی۔ چند دن پہلے تک عراقی وزیراعظم ، امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی کی کوشش کر رہے تھے اور نیویارک ٹائمز کے مطابق عارضی جنگ بندی کی امریکی تجویز انھوں نے بنفس نفیس تہران پہنچائی تھی۔ حملوں کے بعد یہ کوششیں شدید متاثر ہوئیں۔

واشنگٹن کی دھمکیاں اور ممکنہ مشترکہ حملے کی خبریں

کشیدگی کے اس ماحول میں واشنگٹن سے آنے والی خبریں انتہائی تشویشناک تھیں۔ صدر ٹرمپ نے اپنے مخصوص لہجے میں کہا کہ ایران کو اردن کے امریکی اڈے پر حملے کی بھاری قیمت چکانا ہوگی۔ وال اسٹریٹ جرنل نے انکشاف کیا کہ صدر نے اپنے جرنیلوں کو شدید بمباری کی نئی مہم کی تیاری کا حکم دیا ہے۔ ادھر CBS نے یروشلم سے خبر دی کہ امریکہ اور اسرائیل ، ایران کی توانائی تنصیبات پر مشترکہ حملوں کا منصوبہ بنا رہے ہیں، اور یہ کارروائی یکم اگست کی صبح شروع ہوسکتی ہے۔ اسی روز مشرقِ وسطیٰ میں امریکی سفارتخانوں نے اپنے شہریوں کو انخلا کی تیاری کا حکم دے دیا، جس سے ان اطلاعات کی سنجیدگی مزید بڑھ گئی۔

پاکستان کی ثالثی اور سفارتکاری کو ایک اور موقع

اسی دوران 28جولائی کو  پاکستانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان طاہر اندارابی نے بتایا کہ حملوں اور دھمکیوں کے باوجود پاکستان کی ثالثی میں بات چیت جاری ہے اور کچھ امور پر مثبت پیش رفت بھی دکھائی دے رہی ہے۔ اگرچہ کئی تجزیہ نگاروں نے اسے پاکستان کا روایتی پرامید رویہ قرار دیا، لیکن یکم اگست کی شام صدر ٹرمپ نے اعلان کیا کہ ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدے کی امید پر انہوں نے مجوزہ حملہ روک دیا ہے۔ ان کے مطابق امریکی فوج Locked & Loaded تھی مگر وہ سفارتکاری کو ایک اور موقع دینا چاہتے ہیں۔سفارتکاری کو موقع دینا قابلِ تحسین ہے، لیکن اگر مذاکرات ہی مطلوب ہیں تو وقتاً فوقتاً سخت دھمکیاں اور تباہ کر دینے والے بیانات کس مقصد کی تکمیل کرتے ہیں؟ مہذب دنیا تمام فریقوں سے تحمل، شائستگی اور ذمہ دارانہ طرزِ گفتگو کی توقع رکھتی ہے۔

مذاکرات کا ایک نیا دور، تشریحات میں ابہام اور سعودی کردار

اتوار کو ہفتہ وار تعطیل کے بعد واشنگٹن واپسی پر صدارتی طیارے میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ موجودہ تنازع کا سفارتی حل ان کی اولین ترجیح ہے۔ انھوں نے یہ انکشاف بھی کیا کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان مذاکرات کا نیا دور 3 اگست کو شروع ہوگا۔ امریکی صدرپُراعتماد لہجے میں بولے کہ ایران 60 دن کے لئے آبنائے ہرمز کھولنے پر آمادہ ہو جائے گا۔دوسری جانب بات چیت سے لاعلمی کا اظہار کرتے ہوئے ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ آبنائے ہرمز کے بارے میں کسی بھی عملی پیش رفت سے پہلے "یادداشتِ اسلام آباد" پر عمل درآمد کا آغاز ہونا چاہیے۔حالیہ کشیدگی کے دوران امریکی حملوں کے التوا کی وجوہات پر بھی دونوں دارالحکومتوں کی تشریحات ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ ایران کی جانب سے سفارت کاری کو ایک موقع دینے کی درخواست پر حملے عین وقت پر ملتوی کئے۔اس کے برعکس ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی مہر نے وزارتِ خارجہ کے حوالے سے اس دعوے کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ تہران نے ایسی کوئی درخواست نہیں کی۔ دوسری طرف مغرب کے صحافتی ذاریع انکشاف کررہے ہیں کہ حملہ مؤخر کرنے کی درخواست دراصل سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے کی تھی۔ سعودی قیادت کو خدشہ تھا کہ اگر ایران پر بڑے پیمانے پر حملہ ہوا تو جوابی کارروائی میں خطے کی تیل و گیس تنصیبات نشانہ بن سکتی ہیں۔

جنگی معیشت: تیل کمپنیوں اور اسلحہ ساز اداروں کے غیر معمولی منافع

بدقسمتی سے یہ خونریزی کچھ اداروں کیلئے غیر معمولی یکبارگی یا طوفانی منافع (Windfall Profit)کا سبب بھی بن رہی ہے۔اس جنگ اور اسکے نتیجے میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کا سب سے بڑا فائدہ عالمی تیل کمپنیوں کو ہوا۔ صرف تین بڑی مغربی کمپنیوںShell، ExxonMobil اور Chevronنے گزشتہ سہ ماہی میں مجموعی طور پر تقریباً 39 ارب ڈالر منافع کمایا، جو یومیہ تقریباً 40 کروڑ ڈالر بنتا ہے۔ اس کے برعکس دنیا بھر کے صارفین نے مہنگے ایندھن، بڑھتی مہنگائی اور نقل و حمل کے اضافی اخراجات کا بوجھ برداشت کیا۔ دلچسپ بلکہ کسی حد تک ستم ظریفی کہ اس غیر معمولی منافع کو تیل و گیس کے نئے وسائل کی تلاش،  پیداوار میں اضافہ یا بڑے منصوبوں میں سرمایہ کاری کرنے کے بجائے  شیئر بائی بیک اور حصص یافتگان کو ادائیگی ان اداروں کی ترجیح رہی۔

اسی طرح اسلحہ ساز اداروں کے لئے بھی نئے دروازے کھل گئے ہیں۔امریکی حکومت، جہاں ضعیف لوگوں کے صحت بیمے (MEDICARE)کیلئے مختص رقم میں کٹوتی کررہی ہے وہیں  وزارت دفاع نے  لاک ہینڈ مارٹن (Lockheed Martin) کو پیٹریاٹ دفاعی نظام کے میزائیل اور ڈرون شکن گولوں (Interceptors) کیلئے 58 ارب 60 کروڑ ڈالر کا نیا ٹھیکہ دینے کا اعلان کیا ہے،

جنگ کا ٹل جانا خوش آئند ہے، لیکن امن کے لیے صرف انگلیاں لبلبی سے ہٹانا کافی نہیں۔ زبان کی توپیں خاموش کرنا بھی ضروری ہے۔ طاقت کا اصل اظہار جنگ شروع کرنے میں نہیں بلکہ جنگ کو روکنے اور اختلافات کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے میں ہے۔ اب بیانات نہیں، عملی اقدامات، معاہدوں کی پاسداری اور باہمی اعتماد ہی تاریخ کا رخ متعین کریں گے۔

ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل کراچی ، 7 اگست 2026

ہفت روزہ دعوت دہلی، 7 اگست 2026

ہفت روزہ رہبر سرینگر 9 اگست 2026