Thursday, August 6, 2026

 

امن کی دہلیز پر جنگ کے سائے

مشرقِ وسطیٰ کی نئی کشمکش، امن، تیل اور اسلحہ کی سیاست

تیرہ راتوں سے جاری کشیدگی میں 25 جولائی کا وقفہ بہت مختصر ثابت ہوا اور 28 جولائی کی صبح  اردن کے الازرق فوجی اڈے پر ایران کے مبینہ میزائیل حملے سے  خلیج فارس کا میدان دوبارہ چمک اٹھا۔ تہران نے حملے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ اس اڈے سے ایران پر حملے کے لئےامریکی F‑35 طیارے اڑان بھرنے والے تھے جنہیں ایرانی میزائلوں نے نشانہ بنایا۔ پاسدارانِ انقلاب (IRGC) کا دعوی ہے کہ میزائل حملے میں 3 امریکی F-35 طیارے تباہ اور 3 کو بھاری نقصان پہنچا۔ تاہم امریکی مرکزی کمان (CENTCOM) نے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ کوئی امریکی طیارہ تباہ یا نقصان کا شکار نہیں ہوا اور ایرانی حملہ اپنے اہداف حاصل نہیں کر سکا۔ اگلے روز امریکہ نے ایران میں ایک درجن سے زیادہ اہداف کو نشانہ بنایا، جس سے دونوں جانب کشیدگی مزید بڑھ گئی۔

نیتن یاہو کا دورۂ امریکہ: رسومات کے ساتھ خفیہ سفارتکاری

اسی دوران اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو امریکہ کے دورے پر تھے۔ انکی امریکہ یاترا کا مقصد سینیٹر لنڈسے گراہم کی آخری رسومات میں شرکت تھا، مگر اس موقع پر انہوں نے امریکی صدر، وزیرِ جنگ پیٹ ہیگسیتھ اور قومی سلامتی کے اعلیٰ حکام سے ملاقاتیں بھی کیں۔ ان ملاقاتوں میں ایران کا معاملہ سرِفہرست رہا، جس نے خطے میں جاری کشیدگی کو مزید حساس بنا دیا۔

دمیاط بندرگاہ پر حملہ: نہرِ سوئز تک جنگ کے پھیلنے کا خدشہ

کشیدگی میں مزید اضافہ اسوقت ہوا  جب 28 جولائی کو دمیاط (Damietta)کی مصری بندرگاہ پر گیس ذخیرہ کرنے والے دوجہاز  ڈرون حملوں کا نشانہ بن گئے۔امریکی حلقوں کے خیال میں یہ ڈرون ایران یا انکے حوثی اتحادیوں  نے داغے تھے جبکہ تہران نے اسے اسرائیل کی خفیہ یا False Flagکاروئی قراردیا۔ دمیاط وہ بندرگاہ ہے جہاں سے خلیجی تیل اور عالمی تجارت کا بڑا حصہ نہرِ سوئز کے ذریعے یورپ جاتا ہے۔ نہرِ سوئز دنیا کی 10 سے 12 فیصد سمندری تجارت کا راستہ ہے۔ اس حملے نے یہ خدشہ پیدا کیا کہ ایران اور اس کے اتحادی، جنگ کا دائرہ آبنائے ہرمز اور باب المندب سے آگے بڑھا کر نہرِ سوئز تک لے جانا چاہتے ہیں۔اسی دوران سعودی بمباری کے جواب میں حوثیوں نے ابقیق کی ارامکو تنصیبات کو نشانہ بنایا، جس سے خلیجی توانائی کا پورا نظام لرز اٹھا۔

سعودی–عراق تناؤ اور علاقائی ثالثی کی ناکامی

دوسرے دن  امریکہ اور سعودی عرب نے عراق کی الحشد الشعبی (PMU) ملیشیا کے ٹھکانوں پر حملے کئے جن میں 20 افراد جاں بحق ہوئے۔ اس حملے نے سعودی عرب اور عراق کو آمنے سامنے لا کھڑا کیا۔ عراقی وزیراعظم علی الزیدی نے سعودی ولی عہد سے اپنی ملاقات احتجاجاً منسوخ کر دی,  جو ایک دن بعد جدہ میں طے تھی۔ چند دن پہلے تک عراقی وزیراعظم ، امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی کی کوشش کر رہے تھے اور نیویارک ٹائمز کے مطابق عارضی جنگ بندی کی امریکی تجویز انھوں نے بنفس نفیس تہران پہنچائی تھی۔ حملوں کے بعد یہ کوششیں شدید متاثر ہوئیں۔

واشنگٹن کی دھمکیاں اور ممکنہ مشترکہ حملے کی خبریں

کشیدگی کے اس ماحول میں واشنگٹن سے آنے والی خبریں انتہائی تشویشناک تھیں۔ صدر ٹرمپ نے اپنے مخصوص لہجے میں کہا کہ ایران کو اردن کے امریکی اڈے پر حملے کی بھاری قیمت چکانا ہوگی۔ وال اسٹریٹ جرنل نے انکشاف کیا کہ صدر نے اپنے جرنیلوں کو شدید بمباری کی نئی مہم کی تیاری کا حکم دیا ہے۔ ادھر CBS نے یروشلم سے خبر دی کہ امریکہ اور اسرائیل ، ایران کی توانائی تنصیبات پر مشترکہ حملوں کا منصوبہ بنا رہے ہیں، اور یہ کارروائی یکم اگست کی صبح شروع ہوسکتی ہے۔ اسی روز مشرقِ وسطیٰ میں امریکی سفارتخانوں نے اپنے شہریوں کو انخلا کی تیاری کا حکم دے دیا، جس سے ان اطلاعات کی سنجیدگی مزید بڑھ گئی۔

پاکستان کی ثالثی اور سفارتکاری کو ایک اور موقع

اسی دوران 28جولائی کو  پاکستانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان طاہر اندارابی نے بتایا کہ حملوں اور دھمکیوں کے باوجود پاکستان کی ثالثی میں بات چیت جاری ہے اور کچھ امور پر مثبت پیش رفت بھی دکھائی دے رہی ہے۔ اگرچہ کئی تجزیہ نگاروں نے اسے پاکستان کا روایتی پرامید رویہ قرار دیا، لیکن یکم اگست کی شام صدر ٹرمپ نے اعلان کیا کہ ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدے کی امید پر انہوں نے مجوزہ حملہ روک دیا ہے۔ ان کے مطابق امریکی فوج Locked & Loaded تھی مگر وہ سفارتکاری کو ایک اور موقع دینا چاہتے ہیں۔سفارتکاری کو موقع دینا قابلِ تحسین ہے، لیکن اگر مذاکرات ہی مطلوب ہیں تو وقتاً فوقتاً سخت دھمکیاں اور تباہ کر دینے والے بیانات کس مقصد کی تکمیل کرتے ہیں؟ مہذب دنیا تمام فریقوں سے تحمل، شائستگی اور ذمہ دارانہ طرزِ گفتگو کی توقع رکھتی ہے۔

مذاکرات کا ایک نیا دور، تشریحات میں ابہام اور سعودی کردار

اتوار کو ہفتہ وار تعطیل کے بعد واشنگٹن واپسی پر صدارتی طیارے میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ موجودہ تنازع کا سفارتی حل ان کی اولین ترجیح ہے۔ انھوں نے یہ انکشاف بھی کیا کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان مذاکرات کا نیا دور 3 اگست کو شروع ہوگا۔ امریکی صدرپُراعتماد لہجے میں بولے کہ ایران 60 دن کے لئے آبنائے ہرمز کھولنے پر آمادہ ہو جائے گا۔دوسری جانب بات چیت سے لاعلمی کا اظہار کرتے ہوئے ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ آبنائے ہرمز کے بارے میں کسی بھی عملی پیش رفت سے پہلے "یادداشتِ اسلام آباد" پر عمل درآمد کا آغاز ہونا چاہیے۔حالیہ کشیدگی کے دوران امریکی حملوں کے التوا کی وجوہات پر بھی دونوں دارالحکومتوں کی تشریحات ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ ایران کی جانب سے سفارت کاری کو ایک موقع دینے کی درخواست پر حملے عین وقت پر ملتوی کئے۔اس کے برعکس ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی مہر نے وزارتِ خارجہ کے حوالے سے اس دعوے کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ تہران نے ایسی کوئی درخواست نہیں کی۔ دوسری طرف مغرب کے صحافتی ذاریع انکشاف کررہے ہیں کہ حملہ مؤخر کرنے کی درخواست دراصل سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے کی تھی۔ سعودی قیادت کو خدشہ تھا کہ اگر ایران پر بڑے پیمانے پر حملہ ہوا تو جوابی کارروائی میں خطے کی تیل و گیس تنصیبات نشانہ بن سکتی ہیں۔

جنگی معیشت: تیل کمپنیوں اور اسلحہ ساز اداروں کے غیر معمولی منافع

بدقسمتی سے یہ خونریزی کچھ اداروں کیلئے غیر معمولی یکبارگی یا طوفانی منافع (Windfall Profit)کا سبب بھی بن رہی ہے۔اس جنگ اور اسکے نتیجے میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کا سب سے بڑا فائدہ عالمی تیل کمپنیوں کو ہوا۔ صرف تین بڑی مغربی کمپنیوںShell، ExxonMobil اور Chevronنے گزشتہ سہ ماہی میں مجموعی طور پر تقریباً 39 ارب ڈالر منافع کمایا، جو یومیہ تقریباً 40 کروڑ ڈالر بنتا ہے۔ اس کے برعکس دنیا بھر کے صارفین نے مہنگے ایندھن، بڑھتی مہنگائی اور نقل و حمل کے اضافی اخراجات کا بوجھ برداشت کیا۔ دلچسپ بلکہ کسی حد تک ستم ظریفی کہ اس غیر معمولی منافع کو تیل و گیس کے نئے وسائل کی تلاش،  پیداوار میں اضافہ یا بڑے منصوبوں میں سرمایہ کاری کرنے کے بجائے  شیئر بائی بیک اور حصص یافتگان کو ادائیگی ان اداروں کی ترجیح رہی۔

اسی طرح اسلحہ ساز اداروں کے لئے بھی نئے دروازے کھل گئے ہیں۔امریکی حکومت، جہاں ضعیف لوگوں کے صحت بیمے (MEDICARE)کیلئے مختص رقم میں کٹوتی کررہی ہے وہیں  وزارت دفاع نے  لاک ہینڈ مارٹن (Lockheed Martin) کو پیٹریاٹ دفاعی نظام کے میزائیل اور ڈرون شکن گولوں (Interceptors) کیلئے 58 ارب 60 کروڑ ڈالر کا نیا ٹھیکہ دینے کا اعلان کیا ہے،

جنگ کا ٹل جانا خوش آئند ہے، لیکن امن کے لیے صرف انگلیاں لبلبی سے ہٹانا کافی نہیں۔ زبان کی توپیں خاموش کرنا بھی ضروری ہے۔ طاقت کا اصل اظہار جنگ شروع کرنے میں نہیں بلکہ جنگ کو روکنے اور اختلافات کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے میں ہے۔ اب بیانات نہیں، عملی اقدامات، معاہدوں کی پاسداری اور باہمی اعتماد ہی تاریخ کا رخ متعین کریں گے۔

ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل کراچی ، 7 اگست 2026

ہفت روزہ دعوت دہلی، 7 اگست 2026

ہفت روزہ رہبر سرینگر 9 اگست 2026


No comments:

Post a Comment