امن کے معاہدے، جنگ کے شعلے اور نیتن یاہو
کا سیاسی دوراہا
اسرائیلی
عوام کی بدلتی رائے اور مزاحمت کاروں کی تزویراتی چال
جنگ کے خاتمے کے لئے معاہدے، مذاکرات اور
یقین دہانیاں اپنی جگہ، مگر مشرقِ وسطیٰ میں امن کا راستہ ابھی بھی بارود سے بھرا
ہوا ہے۔ لبنان میں اسرائیل اور لبنانی حکام کے درمیان امریکی ثالثی میں مذاکرات
جاری ہیں جبکہ غزہ میں جنگ کے خاتمے کے لئے امریکی حمایت یافتہ منصوبہ زیرِ بحث
ہے، لیکن دونوں محاذوں پر وقفے وقفے سے گولہ باری اور فوجی کارروائیاں سے اندازہ
ہوتا ہے کہ جنگ جاری رکھنے کی عسکری و داخلی سیاست امن کی طرف بڑھنے کی سیاسی
خواہش زیادہ طاقتور ہے
لبنان:
مذاکرات کی میز اور میدانِ جنگ
لبنان کے معاملے میں ایک بنیادی پیچیدگی یہ
ہے کہ حزب اللہ، جو اس تنازع کا ایک اہم عسکری فریق ہے، مذاکرات کی میز پر موجود
نہیں۔ امریکہ کی ثالثی میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان امن مذاکرات جاری
ہیں۔خبروں کے مطابق اسرائیلی فوج کے جنوبی لبنان سے مرحلہ وار انخلا اور حزب اللہ
کے اسلحے کے خاتمے کی نگرانی کے لئے کسی تیسرے فریق کی موجودگی جیسے امور پر اتفاق
ہوچکاہے۔ حالیہ پیش رفت میں دونوں جانب سے نگرانیِ امن کیلئے ممکنہ ممالک کی ایک
فہرست پر اتفاق بھی سامنے آیا ہے، تاہم حزب اللہ نے غیر مسلح ہونے سے انکار کردیا
ہے۔ اس سفارتی عمل کے ساتھ ساتھ جنوبی لبنان میں اسرائیلی فوجی کارروائیاں بھی
جاری ہیں۔ جمعہ 7 اگست کو مزاحمت
کاروں نے جنوبی لبنان کے شہر مجدل سلم میں میجرسمیت دو اسرائیلی فوجیوں کو ہلاک اور کئی زخمی کردئے،
جواب میں دوسرے دن اسرائیلی فضائیہ نے قریبی گاوں تبنین کے قرستان کی مسجد
کو نشانہ بنایا جس میں ایک شخص جاں بحق اور درجنوں زخمی ہوگئے۔ستم ظریفی کہ سبت
یعنی ہفتے کے روز جب اسرائیلی طیارے جنوبی لبنان کی اس شہری آبادی پر آگ برسارہے
تھے۔ عین اسی وقت یروشلم کے کئی علاقوں میں کھلے ریستورانوں کے سامنے بہت سے
اسرائیلی حرمتِ سبت کی پامالی پر احتجاج کر رہے تھے جبکہ اشدود کے ساحل کو قدامت
پسند اسرائیلیوں نے عارضی رکاوٹیں لگا کر مردو خواتین کی الگ الگ غسل گاہوں میں
تبدیلی کردیاکہ اختلاطِ مردوزن توریت کے مطابق درست نہیں۔ کیا مذہبی حساسیت صرف سبت
اور حجاب تک محدود ہے؟ جس مذہبی روایت میں سبت کے احترام اور اخلاقی پاکیزگی پر
زور دیا گیا ہے، وہی بے گناہ انسان کے خون، ظلم اور ناانصافی کو بھی سختی سے رد
کرتی ہے۔ حضرت عیسیٰؑ نے ایسے ہی رویے پر تنبیہ کرتے ہوئے فرمایا تھا: "اَے اندھے راہ دکھانے والو!
تم مچھر تو چھانتے ہو مگر اونٹ نگل جاتے ہو۔" انجیلِ متی 23:24
غربِ
اردن: جنگ کا تیسرا محاذ
غزہ اور لبنان کے ساتھ غرب اردن میں اس ہفتے بھی
فلسطینیوں پر حملے اور بیدخلی کا سلسلہ جاری رہا۔ نابلوس
کے علاقے جالود پر مسلح قبضہ گردوں نے گاڑیوں اور مکانوں کو آگ لگادی اور پولیس نے
وہاں پہنچ کر اپنے اثاثوں کا دفاع کرنے والے کئی فلسطینیوں کو گرفتار کرلیا۔
ادھر کچھ عرصے سے گھر خالی
کرانے کیلئے مکینوں کو یرغمال بنانے کی واردات بھی شروع ہوچکی ہے۔ نابلوس کے قصبے قصرہ میں یوسف
حسن کا گھر گزشتہ کئی دنوں سےمسلح قبضہ گردوں کے محاصرے میں ہے۔ آبادکاروں نے گھر
کے مرکزی دروازے کے سامنے ایک عارضی ڈھانچہ کھڑا کردیا ہے جس کے باعث حسن، ان کی
اہلیہ اور دو کم سن بیٹیاں، جن کی عمریں
صرف دو اور چار سال ہیں، گھر سے باہر نہیں نکل سکتے اور کوئی شخص اندر داخل نہیں ہوسکتا۔یوسف
نے گھر کے اندر سے فون پر بتایا کہ بجلی کی تاریں بھی کاٹ دی گئی ہیں۔ ٹائمز آف
اسرائیل کے مطابق اسرائیلی فوجی موقع پر پہنچے، آبادکاروں کے ساتھ گفتگو کی اور
پھر واپس چلے گئے، لیکن خاندان کا محاصرہ ختم نہیں کرایا گیا۔
ملبے
سے نکلتی ہوئی لاشیں
حالات نسبتاً پرسکوں ہونے پر غزہ شہر کے محلے الصبرہ میں نومبر
2023 کی اسرائیلی بمباری سے زمیں بوس ہونے والی عمارت کے ملبے سے لاشوں کی تلاش کا
کام شروع ہوا۔ کارکنوں نے ابو شریعہ اور الحساینہ
خاندانوں کے 112 افراد کی لاشیں بازیاب کرلیں جنکی 4 اگست کو اجتماعی تدفین
کی گئی۔ صرف دو خاندان کی میتوں کی تعداد 100 سے زیادہ۔عینی شاہدین کے مطابق کے ان
خاندانوں کا کوئی فرد بھی زندہ نہ بچا
اسرائیلی
رائے عامہ کا بدلتا ہوا منظرنامہ
ایک طرف بمباری اور حملوں کی شدت دوسری طرف اسرائیلی ٹی وی چینل 12
کے تازہ سروے نے زمینی صورتحال کی حیران
کن تصویر پیش کی ہے۔ تین برس سے جاری جنگ، ہزاروں فلسطینیوں کے قتل اور غزہ کی
مکمل تباہی کے باوجود 62 فیصد اسرائیلیوں کا خیال ہے کہ وزیراعظم بن یامین نیتن
یاہو غزہ کو فتح (Total Victory) نہیں کر سکیں گے۔ صرف 25
فیصد اس دعوے سے اتفاق کرتے ہیں۔ جائزے کے مطابق اکثریت کا خیال ہے کہ حماس اور نہ
ہی حزب اللہ مستقبلِ قریب میں رضاکارانہ طور پر ہتھیار ڈالیں گے۔
نیتن
یاہو کے بعد کون؟
اگر اسرائیلی عوام کی اکثریت جنگی اہداف کو ناقابل حصول اور قیادت
کی کارکردگی کو غیر تسلی بخش سمجھتی ہے تو کیا اس کا سیاسی اظہار آئندہ انتخابات
میں ہوگا؟ ایک رائے یہ ہے کہ جنگی تھکن (War Fatigue)، معاشی دباؤ اور بین
الاقوامی تنہائی اسرائیلی ووٹروں کو نسبتاً معتدل اور مفاہمت پسند قیادت کی طرف
مائل کر سکتی ہے، جو عسکری کارروائی کے ساتھ سفارت کاری کو بھی اہمیت دے۔ دوسری
رائے اس کے برعکس ہے۔ اسرائیل کی سیاسی تاریخ بتاتی ہے کہ جب بھی قومی سلامتی کا
احساس شدید ہو،عوام تبدیلی کے بجائے ایسی قیادت کو ترجیح دیتے ہیں جسے وہ سخت گیر
اور سلامتی کے معاملات میں زیادہ مضبوط سمجھتے ہیں۔ اس تناظر میں یہ بھی ممکن ہے
کہ نیتن یاہو کی مقبولیت میں کمی کے باوجود قدامت پسند یا دائیں بازو کا کوئی
دوسرا رہنما عوام کی پہلی ترجیح بن جائے۔علمائے سیاست کا خیال ہے کہ نیتن یاہو کی
مقبولیت میں کمی اور دائیں بازو کی مجموعی مقبولیت میں کمی ایک ہی بات نہیں۔
اسرائیلی سیاست میں یہ فرق بہت اہم ہے۔ اسی بنا پر یہ کہنا مشکل ہے کہ آئندہ
انتخابات میں متبادل شخصیت منتخب ہوگی یا متبادل پالیسی؟؟
غزہ:
مزاحمت کی تزویراتی چال؟
میدان جنگ کیساتھ نیتن یاہو حکومت کو مزاحمت کاروں کی تزویراتی
(اسٹریٹیجک) مزاحمت کابھی سامنا ہے۔
امریکی حمایت یافتہ بورڈ آف پیس کے منصوبہ امن کو تسلیم کرتے ہوئے
حماس، انتظامی اختیار سے دستبردار اور اسرائیلی انخلا کے بعد غیر مسلح ہونے پر
آمادگی ظاہر کر چکی ہے لیکن نیتن یاہو اپنے انتہاپسند اتحادیوں کے دباؤ میں
اس منصوبے کی شرائط قبول کرنے سے ہچکچا رہے ہیں۔ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق 6 اگست
کو اسرائیلی کابینہ اور سکیورٹی حکام کے اجلاس میں اسی صورتِ حال پر غور کیا گیا۔
اسرائیلی فوج کے انٹیلی جنس ریسرچ ڈپارٹمنٹ کے سربراہ بریگیڈیئر جنرل Ofir Mizrahi-Rozen نے خبردار کیا کہ حماس نے 15
نکاتی منصوبہ قبول کرنے کے باوجود اسرائیل کو تباہ کرنے کے اپنے نظرئے سے
دستبرداری اختیار نہیں کی۔ ان کاکہنا تھا کہ " حماس نے گیند اسرائیل کے
کورٹ میں ڈالنے" کی حکمت عملی اختیار کی ہے۔ اسرائیلی خفیہ ادارے شاباک کے
سربراہ ڈیوڈ زینی نے تو اسے مبینہ طور پر "Strategic
Ambush" یعنی تزویراتی گھات قرار دیا۔ ان کے مطابق حماس کا معاہدے پر دستخط
کرنا وقت حاصل کرنے اور اسرائیل کوغزہ میں فوجی کارروائی روکنے کی حکمت عملی
ہوسکتی ہے۔
امن کا
پل یا جنگ کا تسلسل؟
نیتن یاہو کے سامنے مشکل یہ ہے کہ امریکی حمایت یافتہ منصوبے کو
قبول کرنے کا مطلب غزہ سے فوجی انخلا اور غزہ پٹی کی مکمل آزادی ہے۔انتہاپسند
وزیرخزانہ بیزلیل اسموتریخ ، وزیر اندرونی سلامتی اور دوسرے اتحادی نیتن یاہو سے
مطالبہ کر رہے ہیں کہ وہ 15 نکاتی منصوبے کو مسترد کرکے غزہ میں فوجی کارروائیاں
دوبارہ شروع کریں۔دوسری طرف انکے لئے حماس کی اس پیشکش کو مسترد کرنے کا کوئی
اخلاقی و سیاسی جواز نہیں۔
کیا نیتن یاہو جنگ ختم کرنے کے لئے امریکی منصوبے کو قبول کریں گے
یا اپنے انتہاپسند اتحادیوں کو مطمئن رکھنے کی خاطر جنگ جاری رکھیں گے؟ ضد و ہٹ دھرمی اور بات لیکن
اگر مسلح مزاحمت کا خاتمہ اور غزہ کی انتظامی منتقلی بھی کافی نہیں تو آخر امن کی
اسرائیلی شرائط کیا ہیں؟۔حماس کی اس تزویراتی گھات نے اسرائیل کو جنگ جاری رکھنے
کے بجائے امن کی بھاری سیاسی قیمت ادا کرنے پر مجبور کردیا ہے۔ کیا نیتن یاہو اپنے
اتحادیوں کے دباؤ سے نکل کر امن کے پلِ صراط کی سے گزرنے کی سیاسی قیمت ادا کرنے
پر تیار ہیں؟؟؟
اصل
امتحان اسرائیل کا
اسرائیل کو یہ سمجھنا ہوگا کہ سلامتی، عسکری برتری سے حاصل نہیں ہوتی۔ سرحد کے دوسری
جانب رہنے والے انسان اگر مستقل خوف، محرومی اور بے دخلی میں زندگی گزاریں تو آج
کی فوجی کامیابی کل ایک نئی مزاحمت کو جنم دے گی۔ جب اسرائیلی عوام یہ محسوس کرنے
لگے ہیں کہ تین برس کی جنگ کے بعد بھی "مکمل فتح" دور ہے، تو آنے والے
انتخابات میں انھیں یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ جنگ کا تسلسل چاہئے ہیں یا ایک نئی سیاسی حکمتِ عملی؟
ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل کراچی 14 اگست 2026
ہفت روزہ دعوت دہلی 14 اگست 2026
ہفت روزہ رہبر سرینگر 16 اگست 2026
No comments:
Post a Comment