Thursday, September 3, 2026

 

اسرائیل کی امریکی حمایت میں دراڑیں

مشرقِ وسطیٰ میں جاری خونریزی کو تین سال مکمل ہونے کو ہیں، مگر نہتے انسانوں کا قتل عام رکنے کے کوئی آثار دکھائی نہیں دیتے۔ لبنان سے غزہ اور غربِ اردن تک ہر طرف آگ، دھواں، بربادی اور بے بسی کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ جاری ہے۔ اس ہفتے بھی جنگ کے مختلف محاذوں پر ہونے والی کارروائیاں اس حقیقت کو مزید نمایاں کرتی ہیں کہ یہ تنازعہ اب محض عسکری نہیں رہا بلکہ انسانی، سیاسی اور اخلاقی بحران کی شکل اختیار کر چکا ہے۔

جنوبی لبنان—آگ جو دو دن نہ بجھی

جنوبی لبنان پر بمباری کا سلسلہ اس ہفتے بھی جاری رہا۔ لبنانی قصبے مرجیعون پر 25 اگست  کی بمباری سے لگنے والی آگ دو دن تک بجھائی نہ جاسکی۔ اسی دوران صور کے قصبے بیوت السید اور النبطیہ الفوق پر بمباری اور ڈرون حملوں نے فصلوں اور باغات کو شدید نقصان پہنچایا۔ جنگ کا یہ پہلو کم ہی زیرِ بحث آتا ہے کہ بمباری صرف انسانوں کو نہیں، بلکہ ان کی روزی، زمین اور معاشی زندگی کو بھی جلا کر راکھ کر دیتی ہے۔

غزہ کے آسمان پر بچوں کی پتنگیں۔ خطرے کی گھنٹیاں   

غزہ میں بچوں کے کھیل اب اسرائیلی نشانے پر ہیں۔ اسکول تباہ ہوچکے، لائبریریاں ملبے میں بدل گئیں، کھیل کے میدان اجڑ گئے۔ بچوں نے کھیلنے کو کچھ نہ پایا تو پتنگیں اڑانا شروع کردیں۔ ساحلی ہوائیں غزہ کی ’’گڈی‘‘ کو چند لمحوں میں آسمان پر پہنچا دیتی ہیں۔ کبھی ڈور ہاتھ سے چھوٹ جائے تو پتنگ اسرائیلی چوکیوں کے قریب جاگرتی ہے۔ اب تک کسی پتنگ سے کوئی دھماکہ نہیں ہوا، نہ کسی جانی نقصان کی اطلاع ہے، مگر اسرائیلی حکام اسے ’’ممکنہ خطرہ‘‘ اور ’’نئے 7 اکتوبر‘‘ کی پیش بندی کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ نتیجتاً غزہ کے ساحلی خیمہ بستیوں میں ’’پتنگ فیکٹریوں‘‘ کو تباہ کرنے کے لئے بمباری اور ڈرون حملے شروع کر دیے گئے ہیں۔ بورڈ آف پیس نے اسرائیلی ردِعمل کو غیر ضروری قرار دیا ہے، مگر غزہ کے بڑوں سے مطالبہ کیا ہے کہ پتنگ بازی بند کی جائے۔ جس انداز میں ان معمولی پتنگوں کو پیش کیا جا رہا ہے، یوں محسوس ہوتا ہے جیسے آسمان پر بچوں کی گڈیاں نہیں بلکہ ڈرون اور میزائل پرواز کر رہے ہوں۔

خان یونس اور شیخ رضوان—خیمہ بستیاں اور مسجدیں بھی محفوظ نہیں

خان یونس میں بے گھر فلسطینیوں کے خیموں پر بمباری جاری رہی۔ غزہ کے شیخ رضوان محلے کی مرکزی جامع مسجد اور پانی صاف کرنے کے پلانٹ (Desalination Plant) کو نشانہ بنایا گیا۔ ان حملوں میں ایک بچے سمیت چھ افراد جاں بحق ہوئے، جبکہ علاقے میں پینے کے پانی کی شدید قلت پیدا ہوگئی۔ الزویدہ اور دیرالبلاح پر بمباری سے متعدد افراد جان سے گئے۔ غزہ میں اب نہ عبادت گاہ محفوظ ہے، نہ پانی، نہ گھر، نہ کھیل، زندگی کا ہر پہلو جنگ کے نشانے پر ہے۔

مذہبی حساسیت یا انسانی حساسیت؟ اسرائیلی فوجیوں کا انکار

اسرائیلی فوج کی گیواتی بریگیڈ کے روتم بٹالین کے کچھ سپاہیوں نے غزہ میں ایک آپریشن کے لئے اس بکتر بند گاڑی میں سوار ہونے سے انکار کردیا جس میں ایک خاتون طبی کارکن بھی موجود تھی۔ کمانڈر کی ہدایات کے باوجود فوجی اپنی اختلاطِ مردوزن کے بارے میں تلمود و توریت کا  کا حوالہ دیتے رہے اور بالآخر مشن منسوخ کردیا گیا۔ مذہبی اصولوں کا احترام اپنی جگہ، مگر سوال یہ ہے کہ مذہبی حساسیت صرف اپنے طرزِ زندگی تک محدود رہتی ہے یا میدانِ جنگ میں دوسرے انسانوں کی جان کے احترام تک بھی پہنچتی ہے؟ تورات میں پاکیزگی اور عصمت کی تعلیم کے ساتھ انسانی جان اور انصاف کی حرمت بھی بنیادی اصول ہے۔ ایک خاتون پیرامیڈک کے ساتھ بیٹھنا ناقابلِ قبول، مگر نہتے شہریوں کی جان اور گھروں کی تباہی پر مذہبی حساسیت خاموش۔ حضرت عیسیٰؑ نے کیا خوب فرمایا تھا  "تم مچھر چھانتے اور سموچے اونٹ نگل جاتے ہو۔"

غربِ اردن—قبضے، حملے اور یادگاروں کی مسماری

غربِ اردن میں فلسطینی مکانوں پر قبضے، حملے اور لوٹ مار جاری ہے۔ نابلوس کے قصبے قصریٰ میں کئی گھروں پر آبادکاروں نے قبضہ کرلیا، اور فلسطینی ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی فوجی نگرانی میں ہوئی۔ مدما قبرستان میں شہدا کی یادگار بھی محفوظ نہ رہ سکی۔ عظمتِ یہود جماعت کے رکنِ پارلیمان زوی یدیدیا سوکوٹ نے خود تیشہ چلا کر یادگار کو مسمار کیا اور کتبے پر درج قرآنی آیات کی بے حرمتی کی۔ تصاویر میں فوجی جوان بھی موجود تھے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ کارروائی حکومتی سرپرستی میں ہوئی۔

صحافیوں اور کارکنوں پر حملے—تشدد کی نئی حدیں

نابلوس کے قصبے جالود میں آبادکاروں نے ایک پچاس سالہ خاتون کو تشدد کا نشانہ بنایا اور واقعے کی تصویر کشی کرنے والے NBC کے صحافیوں پر حملہ کیا۔جب 25 اگست کو جناتۃ میں اسرائیلی انسانی حقوق کے کارکن اور AFP کے صحافی فلسطینی گھروں کے گرد حفاظتی باڑ لگانے میں مدد کے لیے پہنچے تو نقاب پوش آبادکاروں نے ان پر دھاوا بول دیا۔ ڈنڈے برسائے، پتھر پھینکے، مرچوں کا اسپرے کیا۔ ایک 70 سالہ اسرائیلی کارکن کو شدید تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ چار گاڑیوں کے شیشے توڑے گئے، ٹائر پھاڑ دیے گئے۔اس ہفتے 28 اگست کو جنین پر ڈرون حملے میں تین نوجوان جاں بحق ہوئے۔

امریکی سینیٹ کا خط—بدلتی رائے عامہ کا اشارہ

غربِ اردن میں تشدد اور بیدخلی پر واشنگٹن میں بھی بے چینی بڑھ رہی ہے۔ امریکی سینیٹ میں ڈیموکریٹک پارٹی کے تمام 45 سینیٹروں نے وزیراعظم نیتن یاہو کو مشترکہ خط لکھ کر آبادکاروں کے تشدد، فلسطینیوں کی گرفتاریوں اور نئی آبادکاریوں پر سخت تشویش ظاہر کی۔ چشم کشا پہلو یہ ہے کہ دستخط کنندگان میں چک شومر، آدم شِف، کوری بوکر اور نو یہودی سینیٹرز شامل ہیں، یعنی وہ لوگ جو روایتی طور پر اسرائیل کے مضبوط حامی سمجھے جاتے ہیں۔ اس سال اپریل کے Pew سروے کے مطابق ڈیموکریٹک امیدواروں کو ووٹ دینے کا عندیہ دینے والے 80 فیصد افراد نے اسرائیل کے بارے میں منفی رائے ظاہر کی ہے ، جو گزشتہ سال 69 فیصد اور 2022 میں 53 فیصد تھی۔

انتخابی نتائج—نئی نسل کا بدلتا مزاج

ظہران ممدانی، عبدل السید اور عائشہ وہاب کی کامیابیاں اس بات کا اشارہ ہیں کہ ڈیموکریٹک حلقوں میں اسرائیل کے بارے میں پرانی غیر مشروط حمایت کمزور پڑ رہی ہے۔ کیا یہ کامیابیاں اسرائیل نواز ڈیموکریٹس کو اپنی حکمتِ عملی پر نظرثانی پر مجبور کر رہی ہیں؟ کچھ تجزیہ نگار اسے عارضی رجحان کہتے ہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ نئی نسل کے ووٹر، غزہ و غربِ اردن کی تصاویر، اور اسرائیلی پالیسیوں پر بڑھتی تنقید سب مل کر سیاسی فضا بدل رہے ہیں۔ اگر چک شومر جیسے دیرینہ حامی بھی اب نیتن یاہو حکومت سے بازپرس کر رہے ہیں تو یہ معمولی واقعہ نہیں بلکہ ایک بڑا سیاسی اشارہ ہے۔

نیتن یاہو کی انتخابی حکمتِ عملی—خوف کو ووٹ میں بدلنا

دوسری طرف نیتن یاہو نے خوف اور دشمنی کو اپنی انتخابی مہم کا عنوان بنالیا ہے۔ تل ابیب کی سڑک پر نصب ایک بڑے بل بورڈ پر رہبرِ ایران آئت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای، نیویارک کے رئیسِ شہر زہران ممدانئ، ترک صدر طیب اردوان اور حزب اللہ کے سربراہ شیخ نعیم قاسم کی تصویر کیساتھ عبرانی میں لکھا ہے ’’وہ چاہتے ہیں کہ نیتن یاہو ہار جائیں، انہیں جیتنے نہ دیں۔‘‘ یعنی نیتن یاہو کی شکست کو اسرائیل کے دشمنوں کی کامیابی کے طور پر پیش کیا جارہا ہے۔ دلچسپ بات کہ 2019 کے انتخابات میں نیتن یاہو،  ٹرمپ، پوتن اور مودی جیسے عالمی رہنماؤں کے ساتھ اپنی قربت کو طاقت کے نشان کے طور پر پیش کرتے تھے اور اس بار وہ اپنے مخالفین کو خوف کے استعاروں کے طور پر پیش کررہے ہیں تاکہ  خوف اور دشمنی کو ووٹ میں تبدیل کیا جائے۔

تین سال کی خونریزی نے یہ ثابت کردیا ہے کہ فوجی طاقت کسی ملک کو تباہ کرسکتی ہے، مگر سیاسی مسئلے کو لازماً حل نہیں کرتی۔ غزہ کے بچے اگر ملبے کے درمیان بھی پتنگ اڑانے کی خواہش رکھتے ہیں تو یہ صرف ایک بچے کا کھیل نہیں؛ یہ اس انسانی جبلت کی علامت ہے جو جنگ کے باوجود زندگی کی طرف لوٹنا چاہتی ہے۔ دوسری طرف واشنگٹن میں اسرائیل کے دیرینہ حامیوں کی زبان بدل رہی ہے، امریکی ووٹر کا مزاج تبدیل ہورہا ہے اور اسرائیل کے اندر انتخابی سیاست پہلے سے زیادہ خوف، دشمنی اور ’’وجودی خطرے‘‘ کے گرد گھوم رہی ہے۔ اسرائیل اور امریکہ  کو یہ جان لینا چاہئے کہ  فتح  ہمیشہ  طاقتور کی نہیں ہوتی بلکہ جیتتا وہ ہے جو یہ جان لے کہ طاقت کی بھی ایک حد ہوتی ہے۔ جنگ میدانِ جنگ میں جیتی جاسکتی ہے، مگر پائیدار امن صرف سیاست اور انصاف کی میز پر حاصل ہوتا ہے۔

ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل کراچی 4 ستمبر 2026

ہفت روزہ دعوت دہلی 4 ستمبر 2026

ہفت روزہ رہبر سرینگر 6 ستمبر 2026


 

ایران، اسرائیل امریکہ جنگ

معیشت، میزائیل اور مذاکرات

امریکہ کی جانب سے ایران کی “Economic Asphyxiation” یعنی ’’معاشی گلا گھونٹنے‘‘ کی مہم عروج پر پہنچتی دکھائی دے رہی ہے۔ جنگ اب صرف میزائیلوں اور بموں تک محدود نہیں رہی بلکہ بینکوں، تجارت، تیل، گیس اور عالمی مالیاتی نظام تک رسائی بھی اس کشمکش کا اہم میدان بن چکی ہے۔ واشنگٹن ایک طرف ایران کے مالیاتی راستے بند کرنے کی کوشش کررہا ہے تو دوسری طرف ایک ماہ کی خاموشی کے بعد 30 ا گست کو بموں اور میزائیلوں کی گونج بھی سنائی دی۔

گزشتہ ہفتے مصر کے سرکاری بینک Banque Misr کی متحدہ عرب امارات میں قائم شاخوں کو امریکی مالیاتی نظام سے کاٹنے کی کارروائی شروع کردی گئی ہے۔ امریکی وزارتِ خزانہ کا الزام ہے کہ بینک مصر کی اماراتی شاخوں نے جنوری 2024 سے جون 2026 کے دوران ایران کے متوازی یا Shadow Banking نیٹ ورک سے وابستہ 103 کمپنیوں کے لئے تقریباً 1.8 ارب ڈالر کے مالیاتی لین دین کئے۔ مجوزہ کارروائی کے تحت امریکی مالیاتی ادارے ان شاخوں کے ساتھ مراسل بینکاری (Correspondent Banking) کے تعلقات قائم یا برقرار نہیں رکھ سکیں گے، جس کے نتیجے میں ان کی ڈالر اور امریکی مالیاتی نظام تک رسائی شدید متاثر ہوگی۔ تاہم مصری مرکزی بینک نے واضح کیا ہے کہ امریکی اقدام صرف بینک مصر کی متحدہ عرب امارات میں قائم شاخوں تک محدود ہے اور مصر میں بینک کے مرکزی آپریشن اس سے براہِ راست متاثر نہیں ہوں گے۔ البتہ اماراتی شاخوں کے لیے یہ ایک بڑا دھچکا ہے، کیونکہ مراسل بینکاری اور ڈالر کلیئرنگ سے محرومی بین الاقوامی تجارت اور مالیاتی لین دین کو خاصا مشکل بنا سکتی ہے۔

متحدہ عرب امارات بھی ایران سے دور

دلچسپ بات یہ ہے کہ متحدہ عرب امارات 19 اگست سے ایران کے ساتھ تمام تجارتی اور مالیاتی لین دین ’’تا اطلاعِ ثانی‘‘ معطل کرچکا ہے۔ جب امارات نے ایران کے ساتھ تجارت کا دروازہ خود بند کردیا تو امریکہ نے وہاں موجود ایک مصری بینک کی شاخ کو نشانہ کیوں بنایا؟۔ اسکا جواب دیتے ہوئے امریکی وزیرِ خزانہ نے کہا کہ واشنگٹن صرف موجودہ تجارت کو نہیں دیکھ رہا بلکہ گزشتہ اور بالواسطہ مالیاتی روابط کو بھی ہدف بنا رہا ہے۔ امریکی موقف ہے کہ پابندیوں سے بچنے کے لئے ایران طویل عرصے سے دوسرے ملکوں کے بینکوں، Exchange Houses اور Front Companies کا نیٹ ورک استعمال کرتا رہا ہے۔ چنانچہ اب امریکی پیغام یہ ہے کہ ایران کے ساتھ براہِ راست کاروبار ہی نہیں بلکہ اس کے لئے مالیاتی راستے فراہم کرنا بھی قابلِ سزا ہوگا۔

اصل ہدف مالیاتی راستے ہیں

یہ دراصل ’’Economic D-Day‘‘ حکمتِ عملی کا اہم پہلو ہے۔ امریکہ ایران کو صرف اس کے اپنے بینکوں سے محروم نہیں کرنا چاہتا بلکہ ان دروازوں کو بھی بند کرنا چاہتا ہے جو اسے عالمی مالیاتی نظام سے جوڑتے ہیں۔ اگر امریکہ ایران کے مالیاتی راستے ایک ایک کرکے بند کرتا گیا تو کیا تہران واقعی گھٹنے ٹیک دے گا، یا چین، روس، ترکیہ، عراق اور دیگر ممالک کے ذریعے متبادل مالیاتی راستے مزید تیزی سے تشکیل پائیں گے؟ ایران کے خلاف امریکی معاشی جنگ کی کامیابی کا فیصلہ صرف پابندیوں کی تعداد اور شدت سے نہیں ہوگا؛ اصل امتحان یہ ہے کہ ایران کے کتنے متبادل راستے باقی رہتے ہیں اور اس کے تجارتی شراکت دار واشنگٹن کے دباؤ کے مقابلے میں کب تک اور کس حد تک اس کے ساتھ کھڑے رہتے ہیں۔

شکنجے کا اثر، معیشت پر دباؤ

معاشی شکنجہ کسنے کے اثرات ایرانی معیشت پر واضح ہیں۔ ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزیشکیان کے مطابق ایران کی غیر ملکی تجارت کا حجم کم از کم 35 فیصد سکڑ چکا ہے۔ ایرانی ذرائع ابلاغ سے گفتگو کرتے ہوئے صدر پزیشکیان نے بتایا کہ پاکستانی ثالثی میں طے پانے والے انتظام کے مختصر عرصے کے دوران ایران نے تقریباً نو کروڑ ڈالر مالیت کا خام تیل فروخت کیا، لیکن اب یہ فروخت عملاً معطل ہے۔ تاہم تہران کا موقف ہے کہ معاشی دباؤ کے باوجود ایران امریکی شرائط قبول نہیں کرے گا۔ پابندیوں کا مقابلہ کرنے کے ساتھ ساتھ خود انحصاری کے عمل کو تیز کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ جہاں امریکہ ایران کے بیرونی مالیاتی راستے محدود کررہا ہے، وہیں تہران اندرونی پیداوار اور متبادل تجارتی ذرائع پر انحصار بڑھانے کی کوشش میں ہے۔

نئی گیس، پرانے وسائل کا نیا سہارا

اس حکمتِ عملی میں تیل و گیس کے شعبے پر خصوصی توجہ دی جارہی ہے۔ گزشتہ ہفتے ایرانی وزیرِ پٹرولیم محسن پاک نژاد نے جنوبی صوبے فارس میں 7.5 ٹریلین مکعب فٹ سے زیادہ قدرتی گیس کے نئے ذخیرے کی دریافت کا اعلان کیا۔ ان کے مطابق پاژان گیس فیلڈ میں قابلِ استخراج (Recoverable) گیس کا تخمینہ تقریباً 5.7 ٹریلین مکعب فٹ ہے، جو جنوبی پارس کے ایک مرحلے کی تقریباً 15 سالہ پیداوار کے برابر بتایا گیا ہے۔

یہ دریافت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران پر معاشی دباؤ بڑھایا جارہا ہے اور توانائی کا شعبہ اس کی معیشت اور آمدنی کا بنیادی ستون ہے۔ قطر اور ایران کا مشترکہ South Pars/North Dome گیس میدان اپنے حجم کے اعتبار سے دنیا کا سب سے بڑا گیس ذخیرہ سمجھا جاتا ہے۔ چنانچہ نئی دریافتیں ایران کے لئے محض توانائی کے نئے ذخائر نہیں بلکہ طویل مدتی معاشی مزاحمت کا ممکنہ ذریعہ بھی ہیں۔

جنگ کے زخم، مرمت کا کام جاری

اسی دوران جنوبی پارس کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو پہنچنے والے نقصان کی مرمت بھی جاری ہے۔ فیز 14 گیس ریفائنری کی تقریباً 70 فیصد مرمت مکمل ہوچکی ہے اور اسے رواں سال کے اختتام تک مکمل طور پر بحال کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ایران کی مشکلات اور جنگ کی بھاری قیمت اپنی جگہ، لیکن مشکل ترین حالات میں بھی زندگی اور معیشت کا پہیہ مکمل طور پر رک نہ جانا بذاتِ خود ایک اہم تزویراتی صلاحیت ہے۔ جنگ کسی ملک کی عمارتیں اور تنصیبات تباہ کرسکتی ہے، لیکن اگر وہ قوم اپنے پیداواری نظام کو دوبارہ کھڑا کرنے کی صلاحیت برقرار رکھے تو جنگ کے نتائج  حملہ آور کی خواہش کے مطابق نہیں نکلتے۔

معاشی جنگ کے ساتھ عسکری محاذ بھی گرم

ایران کے خلاف امریکی کارروائی صرف اقتصادی محاذ تک محدود نہیں رہی۔ اتوار، 27 اگست کی شب امریکہ نے ایرانی جزیرہ لارک اور آبنائے ہرمز کے علاقے میں میزائیل اور بم برسائے۔ ایرانی خبر رساں ایجنسی فارس کے مطابق حملے میں چندایرانی فوجی جاں بحق ہوئے۔ جواباً ایرانی میزائلوں اور ڈرونز نے اردن میں شاہ حسین اور الازرق کے امریکی فوجی اڈوں پر امریکی تنصیبات کو نشانہ بنایا۔ پاسدارانِ انقلاب کے مطابق متحدہ عرب امارات میں موجود امریکی اڈے کی جانب بھی ایرانی میزائل داغے گئے۔ صدر ٹرمپ نے اردن میں امریکی اڈے پر حملے کا جواب دینے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے جزیرہ خارگ کو ’’ریزہ ریزہ‘‘ کیا جارہا ہے۔یوں معاشی شکنجے کے ساتھ عسکری محاذ بھی ایک بار پھر فعال ہوگیا ہے۔ دیکھنا ہے کہ یہ 'محدود عسکری کارروائیاں' کسی بڑے تصادم کا پیش خیمہ بنتی ہیں یا دونوں فریق ایک ایسی حد پر رک جائیں گے جہاں سے مذاکرات کا راستہ کھلا رہے؟

اپنی فوج بھی طویل جنگ سے پریشان

اس سوال کی اہمیت اس لئے بھی بڑھ گئی ہے کہ خود امریکی فوجی قیادت، اپنی وزارت جنگ کو ایران کے خلاف طویل جنگ کے خطرات سے خبردار کررہی ہے۔ واشنگٹن پوسٹ کے مطابق امریکی فوج کے اعلیٰ کمانڈروں نے وزیرِ جنگ پیٹ ہیگسیتھ کو متنبہ کیا ہے کہ ایران کے خلاف بڑے پیمانے کی فوجی کارروائیوں کو طول دینا امریکی عسکری صلاحیت کے لیے نقصان دہ ہوسکتا ہے اور اس سے دنیا کے دوسرے محاذوں، حتیٰ کہ امریکی سرزمین کے دفاع کی تیاری بھی متاثر ہوسکتی ہے۔ یہ انتباہ 14 اگست کے Secretary of Defense Orders Book (SDOB) میں درج ہے۔ اس اعلیٰ سطحی عسکری دستاویز میں بری فوج، بحریہ اور فضائیہ کے سربراہوں کے علاوہ یورپ، ایشیا اور لاطینی امریکا میں امریکی فوجی کارروائیوں کی نگرانی کرنے والے چار ستارہ کمانڈروں کی آراء بھی شامل ہیں۔واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ یورپی کمان، بحرالکاہل کمان اور جنوبی کمان کے سربراہوں اور امریکی بحریہ کے اعلیٰ ترین افسران نے ایران جنگ کے لئےاپنے وسائل اور فوجی دستے مزید عرصے تک برقرار رکھنے کے احکامات پر اختلاف، یا عسکری اصطلاح میں “non-concur” کیا، تاہم جرنیلوں نے احکامات کے نفاذ پر آمادگی ظاہر کی۔ امریکی بحریہ کے سربراہ ایڈمرل Daryl Caudle نے مؤقف اختیار کیا کہ ایران جنگ کے لئے موجودہ سطح کی فوجی مدد برقرار رکھنا ممکن نہیں، کیونکہ جنگ کے خاتمے کی کوئی واضح مدت نظر نہیں آرہی۔ دوسری طرف بری فوج اور فضائیہ کی قیادت نے بھی اضافی تعیناتی سے پیدا ہونے والے سنگین خطرات کی نشاندہی کی۔ یہ محض فوجی افسران کی معمول کی احتیاط نہیں۔ جب مختلف محاذوں کے چار ستارہ کمانڈر اور عسکری سربرایان (سروس چیفس) یہ بتانے لگیں کہ ایک جنگ دوسرے محاذوں پر امریکی تیاری کو کمزور کرسکتی ہے تو معاملے کی نزاکت کو سمجھنا مشکل نہیں۔ایران جنگ نے امریکی بحری جہازوں، طیاروں، میزائلوں اور دیگر وسائل پر بھی خاصا دباؤ ڈالا ہے۔ یعنی جنگ کا ایک محاذ ایران ہے اور دوسرا خود امریکی فوج کی برداشت کی حد۔

پابندیاں بمقابلہ مذاکرات

ایران 1979 سے امریکی پابندیوں کا سامنا کرتا چلا آرہا ہے۔ اسی لئے بعض تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ معاشی پابندیوں کے ذریعے صدر ٹرمپ اپنے تمام اہداف حاصل نہیں کرسکیں گے اور بالآخر معاملہ مذاکرات کی میز پر ہی طئے ہوگا۔ علاقائی ممالک نے بھی سفارتی سرگرمیاں تیز کردی ہیں۔ قطر کے وزیراعظم و وزیرِ خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمان بن جاسم الثانی نے 27 اگست کو تہران میں ایرانی قیادت سے ملاقات کی، جس میں تنازع کے سفارتی حل اور آبنائے ہرمز کھولنے کے امکانات پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔ ایرانی وزیرِ خارجہ سید عباس عراقچی نے ان مذاکرات کو ’’جدت پر مبنی‘‘ قرار دیا۔

طلائی گولیاں یا روایتی بندوق؟

بظاہر امریکہ نے ایران کے خلاف معاشی دباؤ کو جنگ کا ایک اہم ہتھیار بنا لیا ہے، لیکن حالیہ میزائل حملوں نے یہ واضح کردیا ہے کہ واشنگٹن نے روایتی عسکری متبادل کو مکمل طور پر ترک نہیں کیا۔ یوں ایران کے خلاف امریکی حکمتِ عملی اب ’’طلائی گولی‘‘ اور ’’روایتی بندوق‘‘ دونوں کا امتزاج دکھائی دیتی ہے۔فرق صرف یہ ہے کہ معاشی پابندیوں کا اثر نسبتاً بتدریج ظاہر ہوتا ہے، جبکہ میزائل فوری تباہی لاتے ہیں۔ مگر دونوں میں ایک بنیادی مسئلہ مشترک ہے: ان کا حتمی نتیجہ ایران کے عزم، صبر، اقتصادی حکمت عملی اور مزاحمت پر منحصر ہے۔ اگر معاشی دباؤ تہران کو مذاکرات کی میز تک لاتا ہے تو واشنگٹن اسے کامیابی قرار دے سکتا ہے، لیکن اگر یہی دباؤ ایران کو مزید سخت مزاحمت اور متبادل مالیاتی و تجارتی نظام کی طرف دھکیلتا ہے تو جنگ ایک طویل کشمکش میں تبدیل ہوسکتی ہے۔اسرائیل کے لئے معاملہ مختلف ہے۔ یروشلم میں ایک سیاسی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اسرائیلی محکمہ سراغرسانی موساد کے سابق سربراہ ڈیوڈ برنی نے کہا کہ ایران پر اس وقت تک حملے جاری رہنے چاہئیں جب تک وہاں اسلامی حکومت کا خاتمہ نہ ہوجائے۔ ان کے بقول اسرائیل کے تحفظ اور مشرقِ وسطیٰ میں پائیدار امن کا دوسرا کوئی اور راستہ نہیں۔یوں واشنگٹن میں معاشی دباؤ اور سفارت کاری کے راستے پر غور ہورہا ہے، امریکی فوجی قیادت طویل جنگ کے نقصانات گنوا رہی ہے، جبکہ اسرائیل کے بعض فیصلہ کن حلقے اب بھی عسکری دباؤ کو حتمی حل سمجھتے ہیں۔

جنگ کا اگلا مرحلہ

فی الحال یہ کہنا مشکل ہے کہ ایرانی مزاحمت کی معاشی حد کہاں ختم  اور امریکی پابندیوں کی تاثیر کی حد کہاں سے شروع ہوگی۔ایسا لگتا ہے کہ اب جنگ،  بینکوں، بندرگاہوں، تیل ٹینکروں، گیس میدانوں  اور مذاکرات کی میز پر لڑی جارہی ہے۔

ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل کراچی 4 ستمبر 2026

ہفت روزہ دعوت دہلی 4 ستمبر 2026

ہفت روزہ رہبر سرینگر 6 ستمبر 2026