ایران، اسرائیل امریکہ جنگ
معیشت، میزائیل اور مذاکرات
امریکہ
کی جانب سے ایران کی “Economic Asphyxiation” یعنی
’’معاشی گلا گھونٹنے‘‘ کی مہم عروج پر پہنچتی دکھائی دے رہی ہے۔ جنگ اب صرف میزائیلوں
اور بموں تک محدود نہیں رہی بلکہ بینکوں، تجارت، تیل، گیس اور عالمی مالیاتی نظام
تک رسائی بھی اس کشمکش کا اہم میدان بن چکی ہے۔ واشنگٹن ایک طرف ایران کے مالیاتی
راستے بند کرنے کی کوشش کررہا ہے تو دوسری طرف ایک ماہ کی خاموشی کے بعد 30 ا گست
کو بموں اور میزائیلوں کی گونج بھی سنائی دی۔
گزشتہ
ہفتے مصر کے سرکاری بینک Banque Misr کی متحدہ عرب
امارات میں قائم شاخوں کو امریکی مالیاتی نظام سے کاٹنے کی کارروائی شروع کردی گئی
ہے۔ امریکی وزارتِ خزانہ کا الزام ہے کہ بینک مصر کی اماراتی شاخوں نے جنوری 2024
سے جون 2026 کے دوران ایران کے متوازی یا Shadow Banking نیٹ
ورک سے وابستہ 103 کمپنیوں کے لئے تقریباً 1.8 ارب ڈالر کے مالیاتی لین دین کئے۔ مجوزہ
کارروائی کے تحت امریکی مالیاتی ادارے ان شاخوں کے ساتھ مراسل بینکاری
(Correspondent Banking) کے تعلقات قائم یا برقرار نہیں رکھ سکیں
گے، جس کے نتیجے میں ان کی ڈالر اور امریکی مالیاتی نظام تک رسائی شدید متاثر
ہوگی۔ تاہم مصری مرکزی بینک نے واضح کیا ہے کہ امریکی اقدام صرف بینک مصر کی متحدہ
عرب امارات میں قائم شاخوں تک محدود ہے اور مصر میں بینک کے مرکزی آپریشن اس سے
براہِ راست متاثر نہیں ہوں گے۔ البتہ اماراتی شاخوں کے لیے یہ ایک بڑا دھچکا ہے،
کیونکہ مراسل بینکاری اور ڈالر کلیئرنگ سے محرومی بین الاقوامی تجارت اور مالیاتی
لین دین کو خاصا مشکل بنا سکتی ہے۔
متحدہ عرب امارات بھی ایران سے دور
دلچسپ
بات یہ ہے کہ متحدہ عرب امارات 19 اگست سے ایران کے ساتھ تمام تجارتی اور مالیاتی
لین دین ’’تا اطلاعِ ثانی‘‘ معطل کرچکا ہے۔ جب امارات نے ایران کے ساتھ تجارت کا
دروازہ خود بند کردیا تو امریکہ نے وہاں موجود ایک مصری بینک کی شاخ کو نشانہ کیوں
بنایا؟۔ اسکا جواب دیتے ہوئے امریکی وزیرِ خزانہ نے کہا کہ واشنگٹن صرف موجودہ
تجارت کو نہیں دیکھ رہا بلکہ گزشتہ اور بالواسطہ مالیاتی روابط کو بھی ہدف بنا رہا
ہے۔ امریکی موقف ہے کہ پابندیوں سے بچنے کے لئے ایران طویل عرصے سے دوسرے ملکوں کے
بینکوں، Exchange
Houses اور
Front
Companies کا
نیٹ ورک استعمال کرتا رہا ہے۔ چنانچہ اب امریکی پیغام یہ ہے کہ ایران کے ساتھ
براہِ راست کاروبار ہی نہیں بلکہ اس کے لئے مالیاتی راستے فراہم کرنا بھی قابلِ
سزا ہوگا۔
اصل ہدف مالیاتی راستے ہیں
یہ
دراصل ’’Economic D-Day‘‘ حکمتِ عملی کا اہم پہلو ہے۔ امریکہ
ایران کو صرف اس کے اپنے بینکوں سے محروم نہیں کرنا چاہتا بلکہ ان دروازوں کو بھی
بند کرنا چاہتا ہے جو اسے عالمی مالیاتی نظام سے جوڑتے ہیں۔ اگر امریکہ ایران کے
مالیاتی راستے ایک ایک کرکے بند کرتا گیا تو کیا تہران واقعی گھٹنے ٹیک دے گا، یا
چین، روس، ترکیہ، عراق اور دیگر ممالک کے ذریعے متبادل مالیاتی راستے مزید تیزی سے
تشکیل پائیں گے؟ ایران کے خلاف امریکی معاشی جنگ کی کامیابی کا فیصلہ صرف پابندیوں
کی تعداد اور شدت سے نہیں ہوگا؛ اصل امتحان یہ ہے کہ ایران کے کتنے متبادل راستے
باقی رہتے ہیں اور اس کے تجارتی شراکت دار واشنگٹن کے دباؤ کے مقابلے میں کب تک
اور کس حد تک اس کے ساتھ کھڑے رہتے ہیں۔
شکنجے کا اثر، معیشت پر دباؤ
معاشی
شکنجہ کسنے کے اثرات ایرانی معیشت پر واضح ہیں۔ ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزیشکیان
کے مطابق ایران کی غیر ملکی تجارت کا حجم کم از کم 35 فیصد سکڑ چکا ہے۔ ایرانی
ذرائع ابلاغ سے گفتگو کرتے ہوئے صدر پزیشکیان نے بتایا کہ پاکستانی ثالثی میں طے
پانے والے انتظام کے مختصر عرصے کے دوران ایران نے تقریباً نو کروڑ ڈالر مالیت کا
خام تیل فروخت کیا، لیکن اب یہ فروخت عملاً معطل ہے۔ تاہم تہران کا موقف ہے کہ
معاشی دباؤ کے باوجود ایران امریکی شرائط قبول نہیں کرے گا۔ پابندیوں کا مقابلہ
کرنے کے ساتھ ساتھ خود انحصاری کے عمل کو تیز کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ جہاں
امریکہ ایران کے بیرونی مالیاتی راستے محدود کررہا ہے، وہیں تہران اندرونی پیداوار
اور متبادل تجارتی ذرائع پر انحصار بڑھانے کی کوشش میں ہے۔
نئی گیس، پرانے وسائل کا نیا سہارا
اس
حکمتِ عملی میں تیل و گیس کے شعبے پر خصوصی توجہ دی جارہی ہے۔ گزشتہ ہفتے ایرانی
وزیرِ پٹرولیم محسن پاک نژاد نے جنوبی صوبے فارس میں 7.5 ٹریلین مکعب فٹ سے زیادہ
قدرتی گیس کے نئے ذخیرے کی دریافت کا اعلان کیا۔ ان کے مطابق پاژان گیس فیلڈ میں
قابلِ استخراج (Recoverable) گیس کا تخمینہ تقریباً 5.7 ٹریلین مکعب فٹ
ہے، جو جنوبی پارس کے ایک مرحلے کی تقریباً 15 سالہ پیداوار کے برابر بتایا گیا
ہے۔
یہ
دریافت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران پر معاشی دباؤ بڑھایا جارہا ہے اور
توانائی کا شعبہ اس کی معیشت اور آمدنی کا بنیادی ستون ہے۔ قطر اور ایران کا
مشترکہ South
Pars/North Dome گیس میدان اپنے حجم کے اعتبار سے دنیا کا سب سے بڑا گیس
ذخیرہ سمجھا جاتا ہے۔ چنانچہ نئی دریافتیں ایران کے لئے محض توانائی کے نئے ذخائر
نہیں بلکہ طویل مدتی معاشی مزاحمت کا ممکنہ ذریعہ بھی ہیں۔
جنگ کے زخم، مرمت کا کام جاری
اسی
دوران جنوبی پارس کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو پہنچنے والے نقصان کی مرمت بھی
جاری ہے۔ فیز 14 گیس ریفائنری کی تقریباً 70 فیصد مرمت مکمل ہوچکی ہے اور اسے رواں
سال کے اختتام تک مکمل طور پر بحال کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ایران کی مشکلات
اور جنگ کی بھاری قیمت اپنی جگہ، لیکن مشکل ترین حالات میں بھی زندگی اور معیشت کا
پہیہ مکمل طور پر رک نہ جانا بذاتِ خود ایک اہم تزویراتی صلاحیت ہے۔ جنگ کسی ملک
کی عمارتیں اور تنصیبات تباہ کرسکتی ہے، لیکن اگر وہ قوم اپنے پیداواری نظام کو
دوبارہ کھڑا کرنے کی صلاحیت برقرار رکھے تو جنگ کے نتائج حملہ آور کی خواہش کے مطابق نہیں نکلتے۔
معاشی جنگ کے ساتھ عسکری محاذ بھی گرم
ایران
کے خلاف امریکی کارروائی صرف اقتصادی محاذ تک محدود نہیں رہی۔ اتوار، 27 اگست کی
شب امریکہ نے ایرانی جزیرہ لارک اور آبنائے ہرمز کے علاقے میں میزائیل اور بم
برسائے۔ ایرانی خبر رساں ایجنسی فارس کے مطابق حملے میں چندایرانی فوجی جاں بحق
ہوئے۔ جواباً ایرانی میزائلوں اور ڈرونز نے اردن میں شاہ حسین اور الازرق کے
امریکی فوجی اڈوں پر امریکی تنصیبات کو نشانہ بنایا۔ پاسدارانِ انقلاب کے مطابق
متحدہ عرب امارات میں موجود امریکی اڈے کی جانب بھی ایرانی میزائل داغے گئے۔ صدر
ٹرمپ نے اردن میں امریکی اڈے پر حملے کا جواب دینے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ
ایران کے جزیرہ خارگ کو ’’ریزہ ریزہ‘‘ کیا جارہا ہے۔یوں معاشی شکنجے کے ساتھ عسکری
محاذ بھی ایک بار پھر فعال ہوگیا ہے۔ دیکھنا ہے کہ یہ 'محدود عسکری کارروائیاں'
کسی بڑے تصادم کا پیش خیمہ بنتی ہیں یا دونوں فریق ایک ایسی حد پر رک جائیں گے
جہاں سے مذاکرات کا راستہ کھلا رہے؟
اپنی فوج بھی طویل جنگ سے پریشان
اس
سوال کی اہمیت اس لئے بھی بڑھ گئی ہے کہ خود امریکی فوجی قیادت، اپنی وزارت جنگ کو
ایران کے خلاف طویل جنگ کے خطرات سے خبردار کررہی ہے۔ واشنگٹن پوسٹ کے مطابق
امریکی فوج کے اعلیٰ کمانڈروں نے وزیرِ جنگ پیٹ ہیگسیتھ کو متنبہ کیا ہے کہ ایران
کے خلاف بڑے پیمانے کی فوجی کارروائیوں کو طول دینا امریکی عسکری صلاحیت کے لیے
نقصان دہ ہوسکتا ہے اور اس سے دنیا کے دوسرے محاذوں، حتیٰ کہ امریکی سرزمین کے
دفاع کی تیاری بھی متاثر ہوسکتی ہے۔ یہ انتباہ 14 اگست کے Secretary of
Defense Orders Book (SDOB) میں درج ہے۔ اس اعلیٰ سطحی عسکری دستاویز
میں بری فوج، بحریہ اور فضائیہ کے سربراہوں کے علاوہ یورپ، ایشیا اور لاطینی
امریکا میں امریکی فوجی کارروائیوں کی نگرانی کرنے والے چار ستارہ کمانڈروں کی
آراء بھی شامل ہیں۔واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ یورپی کمان،
بحرالکاہل کمان اور جنوبی کمان کے سربراہوں اور امریکی بحریہ کے اعلیٰ ترین افسران
نے ایران جنگ کے لئےاپنے وسائل اور فوجی دستے مزید عرصے تک برقرار رکھنے کے
احکامات پر اختلاف، یا عسکری اصطلاح میں “non-concur” کیا، تاہم جرنیلوں
نے احکامات کے نفاذ پر آمادگی ظاہر کی۔ امریکی بحریہ کے سربراہ ایڈمرل Daryl
Caudle نے
مؤقف اختیار کیا کہ ایران جنگ کے لئے موجودہ سطح کی فوجی مدد برقرار رکھنا ممکن
نہیں، کیونکہ جنگ کے خاتمے کی کوئی واضح مدت نظر نہیں آرہی۔ دوسری طرف بری فوج اور
فضائیہ کی قیادت نے بھی اضافی تعیناتی سے پیدا ہونے والے سنگین خطرات کی نشاندہی
کی۔ یہ محض فوجی افسران کی معمول کی احتیاط نہیں۔ جب مختلف محاذوں کے چار ستارہ
کمانڈر اور عسکری سربرایان (سروس چیفس) یہ بتانے لگیں کہ ایک جنگ دوسرے محاذوں پر
امریکی تیاری کو کمزور کرسکتی ہے تو معاملے کی نزاکت کو سمجھنا مشکل نہیں۔ایران
جنگ نے امریکی بحری جہازوں، طیاروں، میزائلوں اور دیگر وسائل پر بھی خاصا دباؤ
ڈالا ہے۔ یعنی جنگ کا ایک محاذ ایران ہے اور دوسرا خود امریکی فوج کی برداشت کی
حد۔
پابندیاں بمقابلہ مذاکرات
ایران
1979 سے امریکی پابندیوں کا سامنا کرتا چلا آرہا ہے۔ اسی لئے بعض تجزیہ نگاروں کا
خیال ہے کہ معاشی پابندیوں کے ذریعے صدر ٹرمپ اپنے تمام اہداف حاصل نہیں کرسکیں گے
اور بالآخر معاملہ مذاکرات کی میز پر ہی طئے ہوگا۔ علاقائی ممالک نے بھی سفارتی
سرگرمیاں تیز کردی ہیں۔ قطر کے وزیراعظم و وزیرِ خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمان بن
جاسم الثانی نے 27 اگست کو تہران میں ایرانی قیادت سے ملاقات کی، جس میں تنازع کے
سفارتی حل اور آبنائے ہرمز کھولنے کے امکانات پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔ ایرانی وزیرِ
خارجہ سید عباس عراقچی نے ان مذاکرات کو ’’جدت پر مبنی‘‘ قرار دیا۔
طلائی گولیاں یا روایتی بندوق؟
بظاہر
امریکہ نے ایران کے خلاف معاشی دباؤ کو جنگ کا ایک اہم ہتھیار بنا لیا ہے، لیکن
حالیہ میزائل حملوں نے یہ واضح کردیا ہے کہ واشنگٹن نے روایتی عسکری متبادل کو
مکمل طور پر ترک نہیں کیا۔ یوں ایران کے خلاف امریکی حکمتِ عملی اب ’’طلائی گولی‘‘
اور ’’روایتی بندوق‘‘ دونوں کا امتزاج دکھائی دیتی ہے۔فرق صرف یہ ہے کہ معاشی
پابندیوں کا اثر نسبتاً بتدریج ظاہر ہوتا ہے، جبکہ میزائل فوری تباہی لاتے ہیں۔
مگر دونوں میں ایک بنیادی مسئلہ مشترک ہے: ان کا حتمی نتیجہ ایران کے عزم، صبر،
اقتصادی حکمت عملی اور مزاحمت پر منحصر ہے۔ اگر معاشی دباؤ تہران کو مذاکرات کی
میز تک لاتا ہے تو واشنگٹن اسے کامیابی قرار دے سکتا ہے، لیکن اگر یہی دباؤ ایران
کو مزید سخت مزاحمت اور متبادل مالیاتی و تجارتی نظام کی طرف دھکیلتا ہے تو جنگ
ایک طویل کشمکش میں تبدیل ہوسکتی ہے۔اسرائیل کے لئے معاملہ مختلف ہے۔ یروشلم میں
ایک سیاسی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اسرائیلی محکمہ سراغرسانی موساد کے سابق سربراہ
ڈیوڈ برنی نے کہا کہ ایران پر اس وقت تک حملے جاری رہنے چاہئیں جب تک وہاں اسلامی
حکومت کا خاتمہ نہ ہوجائے۔ ان کے بقول اسرائیل کے تحفظ اور مشرقِ وسطیٰ میں
پائیدار امن کا دوسرا کوئی اور راستہ نہیں۔یوں واشنگٹن میں معاشی دباؤ اور سفارت
کاری کے راستے پر غور ہورہا ہے، امریکی فوجی قیادت طویل جنگ کے نقصانات گنوا رہی
ہے، جبکہ اسرائیل کے بعض فیصلہ کن حلقے اب بھی عسکری دباؤ کو حتمی حل سمجھتے ہیں۔
جنگ کا
اگلا مرحلہ
فی
الحال یہ کہنا مشکل ہے کہ ایرانی مزاحمت کی معاشی حد کہاں ختم اور امریکی پابندیوں کی تاثیر کی حد کہاں سے
شروع ہوگی۔ایسا لگتا ہے کہ اب جنگ، بینکوں، بندرگاہوں، تیل ٹینکروں، گیس میدانوں اور مذاکرات کی میز پر لڑی جارہی ہے۔
ہفت
روزہ فرائیڈے اسپیشل کراچی 4 ستمبر 2026
ہفت
روزہ دعوت دہلی 4 ستمبر 2026
ہفت روزہ رہبر سرینگر 6 ستمبر 2026
No comments:
Post a Comment