Thursday, July 30, 2026

 

غزہ: بھوک، آبادکاری اور بدلتے ہوئے زمینی حقائق

پٹی کو ناقابلِ رہائش بنانے اور نئے سیاسی و جغرافیائی نقشے کی تیاری

غزہ کی جنگ اب صرف بمباری، میزائل حملوں اور زمینی کارروائیوں تک محدود دکھائی نہیں دیتی۔ اقوامِ متحدہ، امدادی اداروں اور انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق محاصرہ، غذائی قلت، بنیادی ڈھانچے کی تباہی اور آبادی کی مسلسل نقل مکانی ایک ایسے بحران کو جنم دے رہے ہیں جس کے اثرات جنگ بندی کے بعد بھی برسوں باقی رہ سکتے ہیں۔ دوسری جانب غربِ اردن میں آبادکاری کی رفتار تیز ہو رہی ہے، جبکہ مسجدِ اقصیٰ کے حوالے سے برسوں سے قائم Status Quo بھی مسلسل دباؤ میں نظر آتا ہے۔ ان تمام واقعات کو الگ الگ نہیں بلکہ ایک وسیع تر سیاسی حکمتِ عملی کے تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔

غزہ میں بھوک: ایک انسانی المیہ

اقوامِ متحدہ کے ورلڈ فوڈ پروگرام (WFP) نے خبردار کیا ہے کہ اگر اضافی مالی وسائل فوری طور پر فراہم نہ ہوئے تو اکتوبر سے اہلِ غزہ کیلئے خوراک کی امداد میں نمایاں کمی کرنا پڑے گی۔ ادارے کے مطابق جون میں شدید غذائی قلت (Acute Hunger) کا شکار افراد کی تعداد تقریباً بارہ لاکھ تھی، جو دسمبر تک بڑھ کر چودہ لاکھ ہوجائیگی، یعنی غزہ کی تقریباً دو تہائی آبادی غذائی قلت کا عذاب سہہ رہی ہے۔مسلسل بمباری، پانی اور بجلی کے نظام کی تباہی، اسپتالوں کی بندش، زرعی زمینوں کی بربادی اور امدادی سرگرمیوں میں رکاوٹوں نے ایسی صورت حال پیدا کردی ہے کہ متعدد بین الاقوامی ادارے اسرائیل پر  بھوک کو بطور جنگی ہتھیار استعمال کرنے کا الزام عائد کر رہے ہیں۔

ناقابلِ رہائش غزہ؟

اگر موجودہ صورت حال برقرار رہی تو غزہ بتدریج ایک ایسے خطے میں تبدیل ہوسکتا ہے جہاں معمول کی انسانی زندگی قائم رکھنا انتہائی دشوار ہوگا۔ بمباری، بیماری، مکانوں کی بربادی اور بھوک کے باعث آبادی کی مسلسل نقل مکانی ایک خاموش مگر گہرا انسانی بحران پیدا کر رہی ہے۔اسی تناظر میں امریکی دامادِ اول جیرڈ کشنر کا وہ بیان یاد آتا ہے جس میں انہوں نے غزہ کو مستقبل میں ایک پرتعیش ساحلی ترقیاتی علاقے (Waterfront Development) میں تبدیل کرنے  کا عزم ظاہر کیا تھا۔

مقامی نظم و نسق بھی ہدف؟

غزہ میں بمباری کا رخ صرف عسکری اہداف تک محدود نہیں رہا۔ شمالی غزہ کے علاقے شیخ رضوان پر ڈرون حملے میں پولیس کے سربراہ بریگیڈیئر جنرل عبد الناصر محمد المقادمة کو نشانہ بنایا گیا۔ اسی روز دیر البلح کی پولیس چوکی پر حملوں میں مزید جانی نقصان ہوا۔ایسے واقعات سے یہ تاثر تقویت پاتا ہے کہ شہری نظم و نسق کو بھی کمزور کیا جا رہا ہے تاکہ جنگ کے بعد بھی غزہ میں معمول کی شہری زندگی کی بحالی دشوار رہے۔

غربِ اردن: آبادکاری اور تشدد کا دائرہ وسیع

غربِ اردن میں بھی کشیدگی مسلسل بڑھ رہی ہے۔ نابلوس کے گاو تل پر مسلح قبضہ گردوں نے  درجنوں گھروں کو آگ لگادی۔اس واقعہ میں چار فلسطینی زندہ جل گئے۔ حفاظتی پتھراوسے ایک اسرائیلی ہلاک ہوا جس پر مسلح قبضہ گرد انتقام کے نعرے لگاتے ہوئے فلسطینی آباد پرٹوٹ پڑے۔ حملے کے دوران ایک نہتے فلسطینی نے قبضہ گرد سے رائفل چھین کر اسرائیل فوج کے  ایک میجر سمیت دوفوجیوں کو ہلاک کردیا۔یہ تو گویا غدر کی ایک کیفیت تھی چنانچہ سارے غرب اردن میں کرفیو لگاکر آپریشن کا آغاز ہوا۔ الخلیل کے علاقے سوسیہ پر مسلح قبضہ گردوں کے حملے میں 25 افراد زخمی ہوئے۔ ایک فلسطینی نے قبضہ گرد سے رائفل چھین کر فضا میں گولی چلائی جسکے بعد قبضہ گرد بھاگ کھڑے ہوئے۔ بعد میں معلوم ہوا کہ یہ بندوق بردار شخص تعطیلات پر آیا اسرائیلی فوج کاافسر اور اسلحہ سرکاری تھا۔ چنانچہ سوسیہ کے ایک درجن سے زیادہ افراد کے خلاف سرکاری اسلحہ لوٹنے پردہشت گردی کے پرچے کاٹ دئے گئے۔جمعہ 24 جولائی کو نابلوس، الخلیل، قلقیلیہ اور دوسرے علاقوں میں دہشت گرد دندناتے رہے گھروں، گاڑیوں اور زرعی اراضی کو نقصان پہنچایا گیا، مختلف علاقوں سے یہ فسادی سینکڑوں مویشی بھی ہنکا لے گئے۔  نابلوس کے گاوں قصرہ اور تلکرم کے قریب کور میں دومساجد جلادی گئیں۔ نئے ہنگامی حکم کے تحت غرب اردن میں فسطینیوں کے جنازوں پر پابندی لگادی گئی ہے، میتیں صرف رات کو دفن کی جائیں گی اور 25 سے زیادہ افراد کا تدفین کیلئے قبرستان جانا ممنوع قراردے دیا کیا ہے

مسجدِ اقصیٰ اور بدلتا ہوا Status Quo

یہودی تقویم کے تہوار تِیشا بآو (Tisha B'Av) کے موقع پر دو ہزار سے زائد یہودی زائرین، پولیس کی نگرانی میں مسجدِ اقصیٰ کے احاطے میں داخل ہوگئے۔ اسرائیلی میڈیا کے مطابق قومی سلامتی کے وزیر اتمار بن گویر ان لوگوں کی قیادت کر رہے تھے۔ نمازیوں کو مسجد جانے سے روکا گیا اور بعض مقامات پر جھڑپیں بھی ہوئیں۔

یہ پیش رفت اس لیے بھی اہم ہے کہ 1967ء میں مشرقی یروشلم پر قبضے کے بعد اسرائیل نے اسلامی مقدسات کے انتظام کو اردنی اوقاف کے سپرد رکھنے اور Status Quo برقرار رکھنے کی یقین دہانی کرائی تھی۔ اس انتظام کے تحت غیر مسلم، مخصوص اوقات کے دوران بطور سیاح القدس شریف آسکتے ہیں لیکن وہاں اجتماعی عبادت یا مذہبی رسومات ادا کرنے کی اجازت نہیں۔ تاہم حالیہ برسوں میں یہ انتظام مسلسل کمزور ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ مسجدِ اقصیٰ، مسجدِ ابراہیمی اور دیگر مقدس مقامات پر بار بار پیش آنے والے واقعات سے یہ تاثر مضبوط ہو رہا ہے کہ زمینی حقائق بتدریج تبدیل کئے جارہے ہیں۔ اگر یہی رجحان جاری رہا تو خدشہ ہے کہ "Status Quo" صرف ایک تاریخی اصطلاح بن کر رہ جائے گا۔

غزہ کی آبادکاری: انتخابی سیاست کا نیا نعرہ

اسی دوران حکمران جماعت لیکوڈ سے وابستہ آبادکار تنظیمیں غزہ میں دوبارہ اسرائیلی بستیاں قائم کرنے کی مہم تیز کر رہی ہیں، جبکہ بعض ارکانِ پارلیمان اور وزرا بھی کھلے عام اس کی حمایت کر رہے ہیں۔اگر یہ مطالبہ سرکاری پالیسی کی شکل اختیار کرتا ہے تو غزہ کی جنگ محض سلامتی یا حماس تک محدود نہیں رہے گی بلکہ مستقل قبضے اور نئی آبادکاری کا مرحلہ بھی اس کا حصہ بن جائے گا۔ آئندہ اسرائیلی انتخابات میں یہ نعرہ مذہبی اور قوم پرست ووٹروں کو متحرک کرنے کا مؤثر ذریعہ بھی بن سکتا ہے۔

یہودی دنیا ایک جیسی نہیں

تِیشا بآو کے موقع پر ایک دلچسپ منظر نیویارک میں بھی دیکھنے کو ملا۔ جہاں بعض قدامت پسند حلقوں نے نیویارک کے میئر زہران ممدانی کیلئے بددعا کی وہیں نطورے کارتا (Neturei Karta) سے وابستہ حریدی یہودیوں  نے توریت میں درج وہ دعا پڑھی جو عادل حکمرانوں اور فرمانرواؤں کے لئے کی جاتی ہے، اور اس میں زہران ممدانی کے لئے کامیابی، عدل اور رہنمائی کی دعا مانگی گئی ۔ یہ واقعہ اس حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ یہودی اور صہیونی مترادف اصطلاحیں نہیں۔ خود یہودی مذہبی دنیا کے اندر ایسے مکاتبِ فکر موجود ہیں جو مذہبی بنیادوں پر موجودہ اسرائیلی ریاست اور صہیونیت سے اختلاف رکھتے ہیں۔

غزہ میں بھوک، غربِ اردن میں آبادکاری، مسجدِ اقصیٰ میں پئے در پئے دراندازی اور اسرائیلی سیاست میں مذہبی قوم پرستی کے بڑھتے اثرات ، بظاہر الگ الگ دکھائی دیتے ہیں ، لیکن ان کے مجموعی رخ سے اندازہ ہوتا ہے کہ خطے میں ایک نیا جغرافیائی، آبادیاتی اور سیاسی نقشہ ترتیب دیا جا رہا ہے۔ اگر یہ رجحان برقرار رہا تو مستقبل کا سب سے بڑا سوال صرف جنگ بندی نہیں ہوگا بلکہ یہ ہوگا کہ جنگ کے بعد غزہ میں کون کس سیاسی حقیقت و بندو بست کے تحت رہے گا۔

ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل کراچی 31جولائی 2026

ہفت روزہ دعوت دہلی 31 جولائی 2026

ہفت روزہ رہبر سرینگر 2 اگست 2026


No comments:

Post a Comment