غزہ! وحشت و دہشت کے ایک ہزار دن
تباہی سے تعمیرِ نو تک: جنگ، قبضہ اور بدلتی سیاست
غزہ جنگ کے ایک
ہزار دن مکمل ہو چکے ہیں۔ان پونے تین سالوں میں 73،000
افراد جاں بحق ہوئے۔ جان سے جانے والوں میں
1022 شیرخوار سمیت 21500 بچے شامل ہیں۔ نوہزار سے زائد افراد لاپتہ یعنی ملبے تلے دفن ہیں جبکہ
زخمیوں کی تعداد پونے دولاکھ کے قریب ہے۔ ایک اندازے کے مطابق اسرائیل نے غزہ پر
دولاکھ ٹن بارود برسایا یعنی ہیروشما پرگرائے جانیوالے جوہری بم سے 16 گنا زیادہ
دھماکہ خیز مواد استعمال ہوا۔اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ زمین پر پڑے ملبے کا حجم
چھ کروڑ 68 لاکھ ٹن سے زیادہ ہے۔
جنگ بندی بھی شہریوں کو نہ بچا سکی
اکتوبر
میں ہونے والی جنگ بندی کے بعد یہ توقع کی جا رہی تھی اہلِ غزہ کو کچھ مہلت ملے گی، لیکن اسکے بعد
بھی ایک ہزار سے زیادہ فلسطینی مختلف فضائی حملوں، ڈرون کارروائیوں اور گولہ باری
میں مارے جا چکے ہیں۔ اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ غزہ کی 90 فیصد
رہائشی عمارتیں اور 79 فیصد ہسپتال مکمل یا جزوی طور پر تباہ ہوچکے ہیں اور غذائی
بحران ایسا سنگین کہ چارلاکھ افراد کو دن
میں ایک بار کھانا میسر ہے۔اسرائیلی فوج غزہ کے تقریباً اسی فیصد علاقے پرقابض ہے۔اب
بے گھر لوگوں کے خیمے اسرائیلی فوج کا نشانہ ہیں۔ گزشتہ ہفتے غزہ شہر اورخان یونس کے پناہ گزین خیموں پر
مبینہ طور پر فیول بم برسائے گئے جس سے درجنوں خیمے جل گئے۔
مسجدِ ابراہیمی اور 'معاہدہ اسٹیٹس کو'
مسجداقصیٰ
اور نابلوس میں مزارِ یوسفؑ کے بعد الخلیل (Hebron)کی قدیم ترین مسجد ابراہیمی تک مسلمانوں کی
رسائی محدود کردی گئی ہے۔یروشلم سے 30 کلومیٹر جنوب کی طرف الحرم الابراہیمی میں
مسجد کے علاوہ حضرت ابراہیمؑ، حضرت اسحاقؑ اور حضرت یعقوبؑ کے مزارات مقدس بھی
ہیں۔ اس اعتبار سے یہ مسلم، مسیحی اور یہودی تینوں مذاہب کے ماننے والوں کیلئے
مقدس جگہ ہے۔ فلسطینیوں کا دعویٰ ہے کہ ابراہیمی مسجد فتحِ یروشلم کے فوراً بعد
قائم ہوئی تھی۔جب 1967 میں القدس شریف سمیت متعدد اسلامی مقدسات اسرائیلی انتظام
کے تحت آگئے تو اسرائیل نے اقوام متحدہ کو تحریری طور پر یقین دلایا تھا تمام
عبادت گاہوں کی حیثیت برقرار رہیگی ۔ یہ وعدہ Status Que کے نام سے مشہور ہوا۔ترک خبر رساں ادارے TRT کے مطابق اب حرم الابراہیمی کے گرد 106
آہنی پھاٹک لگاکر مسجد تک رسائی محدود کردی گئی ہے۔ چند ہفتے قبل لاوڈ اسپیکر کے
ذریعے اذان دینے پر پابندی عائد کی گئی، جمعہ کی نماز کے حوالے سے نئی پابندیاں
نافذ کی گئیں، جبکہ عام نمازوں کے لیے بھی مسجد کے دروازے صرف جماعت سے کچھ دیر
پہلے کھولے جاتے ہیں۔الخلیل کے گورنر خالد دودین کا کہنا ہے کہ مسجد کی طرف آنے
والی 16 سڑکوں کو مٹی کے پشتے کھڑے کرکے بند کردیا گیا ہے، جس سے مقامی آبادی اور
زائرین کی نقل و حرکت مزید دشوار ہوگئی ہے۔
اسرائیل کے اندر بڑھتا داخلی بحران
فلسطینی
علاقوں میں جاری جنگ کے ساتھ لازمی فوجی بھرتی کے معاملے پر اسرائیل خود بھی ایک
اہم داخلی بحران سے دوچار ہے۔ گزشتہ ہفتے فوجی بھرتی کے وارنٹ کی تعمیل نہ کرنے
والے حفظِ توریت مدارس (Yeshiva)کے
طلبہ کی گرفتاری کے خلاف تل ابیب میں ربائیوں (یہودی ائمہ) نے زبردست احتجاج کیا۔
کچھ مبصرین استثنیٰ کے مسئلے پر خانہ جنگی
کا خظرہ بھی ظاہر کررہے ہیں۔ شائد اسی خدشے کے پیش نظر وزیردفاع نے یشیوا طلبہ کے
طلبی حکم ناموں کا اجرا معطل کردیا ہے۔
لبنان محاذ: جنگ بندی مگر مکمل امن نہیں
لبنان
اور اسرائیل کے درمیان واشنگٹن میں طئے پانے والے
اصولی معاہدے (Framework Agreement) کے بعد اسرائیلی بمباری
میں کمی تو آئی ہے لیکن تقریباً ہر روز ہی کسی نہ کسی جگہ سے حملے کی خبریں آرہی
ہیں۔ اسرائیل نے معاہدے کی فوجی انخلا سے متعلق شقوں کو عملاً مسترد کردیا ہے۔
مزاحمت کاروں کا کہنا ہے کہ مقبوضہ علاقوں میں اسرائیلی فوج اپنے مورچے مزید مضبوط
کررہی ہے۔ اس
ہفتے اسرائیلی فوج کے سربراہ جنرل ایال زامیر
نے مقبوضہ علاقے میں ملی و ثقافتی اہمیت کے حامل مقامات اور تنصیبات کے
سامنے اس طرح فوٹو کھچوائے جیسے مال غنیمت کی نمائش ہو۔
امریکہ میں اسرائیل پہلی مرتبہ انتخابی
مسئلہ؟
آجکل
جبکہ امریکہ میں وسط مدتی انتخابات کیلئے دونوں جماعتیں اپنے امیدوار چن رہی ہیں۔
ڈیموکریٹک پارٹی میں فلسطین کے معاملے پر خاصی بیچینی پائی جاتی ہے اور اکثر جگہ
غزہ نسل کشی موضوع بحث ہے۔ نیویارک کے بعد ریاست کولوریڈو (Colorado)میں بھی وہی رنگ نظر آیا جب حلقہ 1 سے 29 سالہ ایتھیوپیائی نژاد میلات کیروس نے 15 مرتبہ منتخب ہونے والی رکن Diana DeGette کو ڈیموکریٹک ٹکٹ سے محروم کردیا۔ کامیابی
کے بعد تقریر کرتے ہوئے میلات نے کہا کہ ہم سیاسی ترغیب کاروں خصوصاً AIPAC (امریکن اسرائیل پولیٹیکل ایکشن کمیٹی) کو
مسترد کرتے ہوئے فلسطین میں جاری نسل کشی کے خاتمے کے مطالبے پر قائم و پرعزم ہیں۔
یہ کامیابیاں ڈیموکریٹک پارٹی کے اندر
اسرائیل کے مسئلے پر بدلتے ہوئے سیاسی رجحان کا پتہ دیتی ہیں۔ اسلئے کہ کئی
دہائیوں تک امریکی سیاست میں اسرائیل کی حمایت، متفقہ یا Bipartisan Consensus پالیسی سمجھی جاتی تھی۔ ریپبلکن ہوں یا
ڈیموکریٹ، دونوں جماعتیں اسرائیل کی سلامتی اور فوجی امداد پر یک زباں رہتی تھیں۔ لیکن
غزہ کی جنگ نے اس روایت کو پہلی بار سنجیدگی سے چیلنج کیا ہے۔
کیا حماس نے اسرائیل کا ایک بڑا جواز ختم
کر دیا؟
غزہ
جنگ کے ایک ہزار دن مکمل ہونے پر ایک اہم سیاسی پیش رفت بھی سامنے آئی ہے۔ تقریباً
دو دہائیوں تک غزہ کی سول حکومت چلانے کے بعد حماس نے اپنی انتظامی حکومت تحلیل
کرنے اور اختیارات ایک غیر جماعتی ٹیکنوکریٹک کمیٹی کے سپرد کرنے پر آمادگی ظاہر
کر دی ہے۔ بظاہر یہ ایک انتظامی فیصلہ ہے، لیکن اس کےسیاسی اثرات، امکانات، خدشات اور مضمرات، توقعات سے کہیں
زیادہ گہرے ہو سکتے ہیں۔ اس اقدام حماس کی
پسپائی یا ہتھیار ڈالنے سے تعبیر کرنا درست نہیں ہوگا۔ حماس نے نہ اپنی سیاسی
حیثیت سے دستبرداری اختیار کی ہے اور نہ ہی اپنی مزاحمتی پالیسی ترک کرنے کا اعلان
کیا ہے۔ تنظیم کے ترجمان حازم قاسم کے
مطابق اس فیصلے کا مقصد یہ ہے کہ "اسرائیل کے پاس اپنی جارحیت، محاصرے اور
تعمیرِ نو میں رکاوٹ کا کوئی بہانہ باقی نہ رہے۔"
اسی
سلسلے میں غزہ کی حکومتی ایمرجنسی کمیٹی کے سربراہ محمد الفراء نے استعفیٰ دے کر انتظامی ڈھانچہ تحلیل
کرنے کا اعلان کیا تاکہ اقتدار کی منتقلی کا عمل آسان بنایا جا سکے۔ دوسری جانب
مجوزہ نیشنل کمیٹی برائے انتظامِ غزہ (National Committee for the Administration
of Gaza – NCAG) کے سربراہ ڈاکٹر علی شعث (Ali Shaath) نے کہا
ہے کہ اگر مناسب وسائل اور آزادیِ عمل فراہم کی جائے تو کمیٹی فوری طور پر غزہ کی
سول انتظامیہ سنبھالنے کے لیے تیار ہے۔
اس پیش
رفت کو بین الاقوامی سطح پر بھی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ غزہ کے لیے قائم بورڈ آف
پیس کے
اعلیٰ نمائندے نکولائی ملادینوف کے مطابق یہ اعلان
"بیانات اور عملی نفاذ کے درمیان ایک پل" ثابت ہو سکتا ہے، بشرطیکہ
فریقین متفقہ روڈ میپ پر بھی پیش رفت کریں۔
اسرائیل
کا بنیادی مؤقف یہ تھا کہ غزہ میں تعمیرِ نو اور سول انتظامیہ کی بحالی اس لئے
ممکن نہیں کہ وہاں حماس برسرِ اقتدار ہے۔ مزاحمت کاروں کے اس اعلان کے بعد یہ دلیل
کمزور پڑتی دکھائی دیتی ہے۔ اب اگر غیر جماعتی انتظامیہ کو کام کرنے سے روکا جاتا
ہے، تعمیرِ نو مؤخر رہتی ہے یا فوجی قبضہ برقرار رکھا جاتا ہے تو عالمی برادری میں
یہ سوال پہلے سے زیادہ شدت سے اٹھے گا کہ غزہ کی بحالی میں اصل رکاوٹ حماس تھی یا
اسرائیلی پالیسی؟
غزہ کے
ایک ہزار دن اس حقیقت کی تلخ یاد دہانی ہیں کہ جدید جنگیں صرف میدانِ جنگ میں نہیں
لڑی جاتیں بلکہ سفارت کاری، بین الاقوامی قانون، میڈیا، رائے عامہ اور داخلی سیاست
میں بھی ان کی بازگشت سنائی دیتی ہے۔ غربِ اردن میں بڑھتی پابندیاں، لبنان کی غیر
یقینی صورتِ حال، امریکہ میں اسرائیل پر ابھرتی سیاسی تقسیم اور اب غزہ میں حماس
کی انتظامی دستبرداری اس بات کی علامت ہیں کہ فلسطین کا مسئلہ ایک نئے مرحلے میں
داخل ہو چکا ہے۔اگر حماس کا یہ اقدام واقعی غزہ کی تعمیرِ نو اور غیر جماعتی سول
انتظامیہ کی راہ ہموار کرتا ہے تو اب نظریں اسرائیل اور اس کے بین الاقوامی
اتحادیوں پر ہوں گی۔ آنے والے دن یہ طے
کریں گے کہ غزہ کی تباہی کا سب سے بڑا جواز واقعی ختم ہو چکا ہے یا پھر جنگ کی
وجوہات کچھ اور تھیں اور رہیں گی۔
ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل
کراچی 10 جولائی 2026
ہفت روزہ دعوت دہلی 10
جولائی 2026
ہفت روزہ رہبر سرینگر 12 جولائی 2026
No comments:
Post a Comment