ایران، امریکہ اور اعتماد کا بحران
ایران کے
رہبرِ معظم حضرت آیت اللہ سید علی خامنہ ای اور ان کے خاندان کے چار افراد
کی نمازِ جنازہ تہران میں ادا کردی گئی۔ اس موقع پر پاکستانی وزیراعظم، نائب افغان
وزیراعظم ملا عبدالغنی برادر سمیت ایک سو سے زائد ممالک کے سرکاری نمائندوں اور
متعدد اسلامی تحریکوں کے قائدین نے شرکت کی۔ ایرانی میڈیا کے مطابق لاکھوں افراد
اس تاریخی جنازے میں شریک ہوئے۔ مرحوم کے صاحبزادگان مسعود خامنہ ای، میثم خامنہ
ای اور مصطفیٰ خامنہ ای جنازے میں موجود تھے، تاہم بڑے صاحبزادے اور موجودہ رہبرِ
معظم مجتبیٰ خامنہ ای دکھائی نہیں دئے۔ آیت اللہ خامنہ ای 28 فروری کو امریکہ اور
اسرائیل کے مشترکہ فضائی حملے میں اپنی بہو اور دو پوتوں سمیت جاں بحق ہوئے تھے۔ خیال ہے
کہ میت کی نجف و کربلا زیارت کے بعد انکی تدفین مشہد میں ہوگی۔
صدر
ٹرمپ کا متنازع بیان
جنازے کے موقع پر ایک امریکی خبررساں ادارے
سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایرانی عوام کو آیت اللہ خامنہ ای پر
گریہ کرتے دیکھ کر انہیں حیرت ہوئی، ممکن ہے یہ "بناوٹی آنسو" ہوں، اس
لیے کہ لوگ ان سے نفرت کرتے تھے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر امریکہ چاہتا تو اس
موقع پر جمع پوری ایرانی قیادت کو ایک ہی حملے میں نشانہ بنا سکتا تھا، لیکن ایسا
نہیں کیا کیونکہ پھر مذاکرات کے لیے کوئی باقی نہ رہتا۔امریکی آزادی کی 250ویں
سالگرہ پر خطاب کرتے ہوئے بھی صدر ٹرمپ نے کہا: "وینزویلا کو دیکھیں، ایران
کو دیکھیں، ہم نے اسے تباہ کر دیا۔ دنیا کی سب سے طاقتور فوج امریکہ کے پاس ہے۔"
اس وقت جب دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات
مثبت سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں تو ایسے موقع پر اس نوعیت کے اشتعال انگیز اور دھمکی
آمیز بیانات سفارتی ماحول کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ خصوصاً ایرانی قیادت کو
بالواسطہ قتل کی دھمکی، اعتماد سازی کی کوششوں سے مطابقت نہیں رکھتی۔
نیویارک
ٹائمز کی رپورٹ اور بڑھتی بداعتمادی
اس سے قبل نیویارک ٹائمز نے موجودہ اور
سابق امریکی حکام کے حوالے سے انکشاف کیا تھا کہ اسرائیل، ایرانی مذاکرات کاروں،
خصوصاً عباس عراقچی اور محمد باقر قالیباف، کو ممکنہ طور پر نشانہ بنانے پر غور کر
رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اسی خدشے کے پیش نظر امریکی حکام نے مشرقِ وسطیٰ کے بعض
میزبان ممالک کے ذریعے تہران کو غیر رسمی انتباہ بھی پہنچایا تاکہ جنگ بندی اور
سفارتی عمل متاثر نہ ہو۔
رپورٹ میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا کہ عراقچی
اور قالیباف مبینہ طور پر اسرائیل کی ممکنہ ہدفی فہرست (hit list)میں شامل ہیں اور ان کے طیارے کو بھی خطرات
لاحق ہو سکتے ہیں۔ اگرچہ ان اطلاعات کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی، تاہم صدر
ٹرمپ کے حالیہ بیانات نے پہلے سے موجود بداعتمادی کو مزید گہرا کر دیا ہے۔
ایران
کا ردعمل
گزشتہ ہفتے ایرانی سرکاری ٹی وی سے باتیں کرتے ہوئے ایرانی اسپیکر باقر قالیباف نے کہا کہ امریکہ سے
مذاکرات ایک مسلسل کشمکش ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ ہم دوست سے نہیں بلکہ ایسے مکار دشمن
کے سامنے بیٹھے ہیں جو ہم پر حملہ کرنے کیلئے موقع کی تاک میں ہے۔ اپنے قائدین کو
اسرائیلی وزیردفاع کی جانب سے قتل کی دھمکی پر ایرانی وزیرخارجہ بھی شدید ردعمل کا
اظہار کرچکے ہیں۔ اپنے ٹویٹ میں جناب عباس عراقچی نے کہاکہ یادداشتِ اسلام
آباد کے مطابق یہ امریکی صدر کی ذمہ داری ہے کہ وہ تل ابیب میں اپنے پالتو کو قابو
میں رکھیں۔ اگر وہ مالک سے کنٹرول نہیں ہوگا تو ایران اُسے پٹہ ڈالے گا۔
امریکہ
کے اندر بھی اختلاف
ایران پر حالیہ امریکی حملوں کے بعد صرف
تہران ہی نہیں بلکہ واشنگٹن میں بھی اختلافی آوازیں بلند ہو رہی ہیں۔ ڈیموکریٹ
رکنِ کانگریس رو کھنہ نے ان کارروائیوں کو کانگریس کی حالیہ وار پاورز (War Powers)قرارداد کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے
خبردار کیا ہےکہ اگر
ایسے حملے جاری رہے تو وہ اس معاملے کو عدالت لے جائیں گے۔ یہ ردعمل اس امر کی
نشاندہی کرتا ہے کہ ایران سے متعلق امریکی پالیسی پر داخلی سطح پر بھی مکمل اتفاقِ
رائے موجود نہیں۔
مذاکرات
جاری، مگر زبان اب بھی جنگ کی
اگرچہ امریکہ اور ایران کے درمیان ثالث
ممالک کی نگرانی میں اسلام آباد MOU پر عمل درآمد اور ایک جامع امن معاہدے کے
لیے مذاکرات جاری ہیں، لیکن دونوں جانب سے آنے والے سیاسی بیانات سفارتی پیش رفت
کو مسلسل متاثر کر رہے ہیں۔ صدر ٹرمپ نے گزشتہ ہفتے CNBC سے
گفتگو میں مذاکرات پر اطمینان کا اظہار کیا، تاہم ساتھ ہی یہ دعویٰ بھی کیا کہ
امریکہ نے ایران کو "شکستِ فاش" دی ہے، اس کے بیشتر میزائل تباہ کر دیے
اور "بگڑا ہوا بچہ" امریکی شرائط ماننے پر آمادہ ہو چکا ہے۔
اصل
مسئلہ جوہری پروگرام نہیں اعتماد ہے
ایران مسلسل یہ مؤقف دہراتا آیا ہے کہ وہ
جوہری ہتھیار بنانے کا خواہش مند نہیں اور افزودہ یورینیم کے مسئلے کو مذاکرات کے
ذریعے حل کرنا چاہتا ہے۔ اس تناظر میں موجودہ مرحلے پر اصل چیلنج مذاکرات نہیں بلکہ باہمی اعتماد کی بحالی ہے۔ ایرانی
قیادت واضح کر چکی ہے کہ کسی بھی جامع معاہدے میں پیش رفت کا انحصار یادداشتِ
اسلام آباد پر عملی عمل درآمد سے مشروط ہے۔ تہران کے نزدیک اس یادداشت کا سب سے
اہم اور فوری نکتہ ایران کے منجمد مالی اثاثوں کی واپسی ہے۔ صدر ٹرمپ خود کہہ چکے
ہیں کہ یہ اثاثے بنیادی طور پر ایران کے ہیں جنھیں واپس ہونا چاہئے لیکن امریکہ
میں صدر ٹرمپ کے سیاسی مخالفین ان اثاثوں کی واپسی کو ایران کے سامنے امریکی
پسپائی سے تعبیر کررہے ہیں۔ یہی داخلی دباؤ واشنگٹن کے لئے اس معاملے کو مزید
پیچیدہ بنا رہا ہے۔
ایران اور امریکہ کے درمیان موجودہ مذاکرات
شاید گزشتہ کئی برسوں کا سب سے اہم سفارتی موقع ہیں، لیکن امن صرف گفتگو سے قائم
نہیں ہوتا بلکہ اس کے لیے سیاسی ضبط، ذمہ دارانہ طرزِ بیان اور باہمی اعتماد
ناگزیر ہیں۔ جب مذاکرات کی میز پر بیٹھے
فریق ایک دوسرے کو دھمکیاں دیتے رہیں یا اپنے حلیفوں کو بے لگام چھوڑ دیں تو ہر
مثبت پیش رفت ایک نئے بحران کی نذر ہو سکتی ہے۔اسلام آباد یادداشت ہو یا مستقبل کا
کوئی جامع معاہدہ، اس کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ دونوں فریق طاقت کے
بجائے اعتماد کی زبان اختیار کر پاتے ہیں یا نہیں۔
ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل
کراچی 10 جولائی 2026
ہفت روزہ دعوت دہلی
10 جولائی 2026
ہفت روزہ رہبر سرینگر 12 جولائی 2026
No comments:
Post a Comment