Thursday, July 2, 2026

 

ٹرمپ کو اپنے ہی ججوں سے دھچکا

امریکی سپریم کورٹ، چودھویں ترمیم اور آئین کی بالادستی کا ایک تاریخی سبق

امریکی عدالتِ عظمیٰ نے 3 کے مقابلے میں 6 کی اکثریت سے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس صدارتی حکم کو غیر آئینی قرار دے دیا جس کے تحت امریکہ میں غیر قانونی یا عارضی حیثیت رکھنے والے والدین کے ہاں پیدا ہونے والے بچوں کو پیدائشی امریکی شہریت (Birthright Citizenship) سے محروم کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔

اس فیصلے کی سب سے اہم بات صرف یہ نہیں کہ ٹرمپ کو عدالتی شکست ہوئی، بلکہ یہ ہے کہ اکثریت میں شامل تین جج ایسے تھے جن سے شاید صدر ٹرمپ کو مختلف توقعات تھیں۔ چیف جسٹس جان رابرٹس، اور ٹرمپ کے نامزد کردہ دو قدامت پسند جج، محترمہ ایمی کونی بیریٹ اور بریٹ کیوانا، بھی اس نتیجے پر پہنچے کہ صدر کا ایگزیکٹو آرڈر امریکی آئین سے مطابقت نہیں رکھتا۔ اختلاف صرف تین قدامت پسند ججوں نے کیا۔

یہ واقعہ ان معاشروں کے لیے بھی غور طلب ہے جہاں عدلیہ کو اکثر حکومت، اپوزیشن یا کسی خاص سیاسی جماعت کے چشمے سے دیکھا جاتا ہے۔ امریکہ میں سپریم کورٹ کے ججوں کی نامزدگی یقیناً سیاسی عمل کا حصہ ہوتی ہے، لیکن حلف اٹھانے کے بعد ان سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ کسی صدر یا جماعت کے نہیں بلکہ آئین کے محافظ ہوں گے۔ اسی لیے امریکی عدالتی تاریخ میں متعدد مواقع پر ایسے فیصلے سامنے آئے ہیں جن میں کسی صدر کے نامزد کردہ جج نے اسی صدر یا اس کی جماعت کے مؤقف سے اختلاف کیا۔

چودھویں ترمیم کیا ہے؟

اس مقدمے کی بنیاد امریکی آئین کی چودھویں ترمیم (Fourteenth Amendment) ہے، جو 1868ء میں امریکی خانہ جنگی کے بعد منظور کی گئی تھی۔ خانہ جنگی کے خاتمے کے باوجود ایک بنیادی سوال باقی تھا: کیا سابق غلام اور ان کی آئندہ نسلیں مکمل امریکی شہری تصور ہوں گی یا نہیں؟ اسی سوال کا مستقل جواب دینے کے لیے چودھویں ترمیم منظور کی گئی، جس کے پہلے شق کے مطابق: "جو شخص امریکہ میں پیدا ہو اور امریکی دائرۂ اختیار کے تحت ہو، وہ ریاستہائے متحدہ اور اس ریاست دونوں کا شہری ہے جہاں وہ پیدا ہوا۔"

یہ محض ایک قانونی جملہ نہیں تھا بلکہ امریکی تاریخ کا ایک انقلابی موڑ تھا۔ اس نے لاکھوں سابق غلاموں کو آئینی تحفظ دیا اور مساوی شہری حقوق کی بنیاد رکھی۔ بعد کے عشروں میں یہی ترمیم نسلی امتیاز، شہری آزادیوں، ووٹنگ کے حقوق، مساوی قانونی تحفظ اور بے شمار تاریخی فیصلوں کی بنیاد بنی۔

پیدائشی شہریت کیوں اہم ہے؟

امریکہ دنیا کے ان چند ممالک میں شامل ہے جہاں Birthright Citizenship یا Jus Soli (حقِ ولادت کی بنیاد پر شہریت) کا اصول نافذ ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی بچہ امریکی سرزمین پر پیدا ہوتا ہے تو، چند محدود سفارتی استثناؤں کے علاوہ، وہ پیدائش کے ساتھ ہی امریکی شہری بن جاتا ہے، خواہ اس کے والدین امریکی شہری ہوں، مستقل رہائشی ہوں یا ان کی امیگریشن حیثیت متنازع ہو۔ صدر ٹرمپ کا مؤقف تھا کہ اس اصول کا غلط استعمال ہو رہا ہے اور اسے صدارتی حکم کے ذریعے محدود کیا جا سکتا ہے۔ لیکن عدالت نے واضح کر دیا کہ آئین میں درج حق کو محض ایک ایگزیکٹو آرڈر سے تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔

صرف امیگریشن نہیں، آئینی اختیارات کا مقدمہ

اس مقدمے کو صرف امیگریشن کے زاویے سے دیکھنا درست نہیں ہوگا۔ اصل سوال یہ تھا کہ کیا ایک صدر محض انتظامی حکم کے ذریعے آئین کی صریح عبارت کا مفہوم بدل سکتا ہے؟ سپریم کورٹ کی اکثریت کا جواب نفی میں ہے۔ یہ فیصلہ اس اصول کی تجدید بھی ہے کہ امریکی صدر کے اختیارات وسیع ضرور ہیں، لیکن وہ آئین سے بالاتر نہیں۔ آئین کی تشریح کا آخری اختیار سپریم کورٹ کے پاس ہے، اور اگر صدر کا حکم آئینی حدود سے تجاوز کرے تو عدالت اسے کالعدم قرار دے سکتی ہے۔

برصغیر کے لیے ایک سبق

پاکستان اور ہندوستان میں آئین، عدلیہ اور انتظامیہ کے اختیارات پر بحث کوئی نئی بات نہیں۔ ہر چند سال بعد یہ سوال دوبارہ اٹھتا ہے کہ کیا عوامی مینڈیٹ رکھنے والی حکومت کو آئینی حدود سے ماورا اختیارات حاصل ہو سکتے ہیں؟امریکہ کا یہ فیصلہ یاد دلاتا ہے کہ مضبوط جمہوریتوں کی اصل طاقت کسی طاقتور صدر یا وزیراعظم میں نہیں بلکہ ایسے اداروں میں ہوتی ہے جو ضرورت پڑنے پر سب سے طاقتور حکمران کو بھی "نہیں" کہنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔

اس مقدمے نے ایک اور دلچسپ حقیقت بھی اجاگر کی ہے کہ عدالتی فیصلے ہمیشہ قدامت پسند بمقابلہ لبرل تقسیم کے مطابق نہیں ہوتے۔ بعض اوقات آئین کی عبارت، عدالتی نظائر اور قانونی اصول نظریاتی وابستگی پر غالب آ جاتے ہیں۔ یہی وہ چیز ہے جو کسی بھی آئینی ریاست کو محض اکثریتی حکومت سے ممتاز کرتی ہے۔ جمہوریت صرف انتخابات کا نام نہیں؛ جمہوریت کی اصل روح آئین کی بالادستی، اداروں کی آزادی اور قانون کی حکمرانی میں پوشیدہ ہوتی ہے۔

آپ مسعود ابدالی  کی   پوسٹ اور اخباری کالم masoodabdali.blogspot.comاور ٹویٹر Masood@MasoodAbdali پربھی ملاحظہ کرسکتے ہیں۔


No comments:

Post a Comment