ایران، امریکہ اور اسرائیل کشیدگی
عسکری قوت، سفارت کاری، بین الاقوامی قانون اور اخلاقیات کا امتحان
ہرمز میں فائرنگ اور کشیدگی کی نئی لہر
سات
جولائی کو آبنائے ہرمز سے گزرنے والے قطری ایل این جی بردار جہاز Al
Rekayyat پر ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی فائرنگ نے
ماحول یکسر بدل دیا۔ ایرانی حکام نے اس کارروائی کا دفاع کرتے ہوئے عالمی جہاز
رانی کمپنیوں کو متنبہ کیا کہ آبنائے سے گزرنے والے تمام جہاز مقررہ بحری راستے
اختیار کریں۔ اسی روز امریکی فضائیہ نے ایران کے ساحلی علاقوں، سریک، جزیرہ قشم
اور بندرعباس کے اطراف کارروائیاں کیں، تو دوسری طرف
امریکی وزارت تجارت نے کچھ ہی عرصہ پہلے جاری ہونے والا وہ حکم نامہ معطل کردیا
جسکے تحت ایرانی تیل کی فروخت پر پابندی ختم کی گئی تھی۔ امریکی حملوں کے جواب میں ایران نے اردن، کوئت اور بحرین کے امریکی اڈوں کی جانب میزائیل
داغ دئے۔ دوسرے دن ایران پر امریکی بمباری سےچاہ
بہار بندرگاہ کے ایک حصے میں آگ لگ گئی۔ جواب میں ایران نے متحدہ عرب امارات،
کوئت، قطر اور بحرین کے علاوہ عمان کی دقم
بندرگاہ کو نشانہ بنایا، ایراانیوں کا دعویٰ ہے کہ امریکی بحری جہاز اس بندرگاہ سے
ایندھن حاصل کرتے ہیں۔ اسی کیساتھ ایران نے آبنائے ہرمز کو 5 روز کیلئے مکمل طور
پر بند کردینے کا اعلان کیا۔ کشیدگی میں مزید شدت اسوقت پیدا ہوئی جب اسرائیلی
میڈیا نے انکشاف کیا کہ ایران پر حملوں میں اسرائیلی فضائیہ بھی حصہ لینےکو تیار
ہے اور وزیراعظم نیتن یاہو، ٹرمپ
کی اجازت کا انتظار کررہے ہیں۔ یوں چند دنوں میں اعتماد سازی کا ماحول
دوبارہ عسکری محاذ آرائی میں تبدیل ہوگیا۔
جنگ بندی
اور یادداشتِ اسلام آباد ختم شد؟؟
نیٹو کے
سکریٹری جنرل کے ہمراہ انقرہ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہاکہ یادداشتِ
اسلام آباد اور جنگ بندی ختم ہوچکی۔ ایرانی قائدین 'غلیظ لوگ' ہیں۔ ہم اب ایران پر
مزید اور شدید حملے کرینگے۔ اسی
سانس میں موصوف نے یہ بھی فرمایا کہ جنگ
بندی ختم لیکن امن بات چیت جاری رہیگی۔ چنانچہ شدید کشیدگئ میں ثالثوں نے کام جاری
رکھا اور سفارتی رابطے مکمل طور پر منقطع نہیں ہوئے۔
امریکی ذرائع ابلاغ کے مطابق نائب صدر جے ڈی وانس، وزیر خارجہ مارکو روبیو، خصوصی
ایلچی اسٹیو وٹکوف اور دامادِ اول جیرڈ کشنر پر مشتمل وفد قطر کے ذریعے مذاکرات کے
لیے تیار تھا۔ دوسری طرف ایرانی خبر رساں ایجنسی فارس نے ایک ذریعے کے حوالے سے
کہا کہ تہران اس وقت تک باضابطہ مذاکرات شروع نہیں کرے گا جب تک واشنگٹن جنگ بندی
اور یادداشتِ اسلام آباد کے بارے میں اپنے حالیہ مؤقف سے رجوع نہیں کرتا۔ ایران کے
نزدیک اعتماد کی بحالی کسی بھی نئے معاہدے کی بنیادی شرط ہے۔
اسی
دوران عمان بھی، پاکستان اور قطر کے ساتھ ثالثی کے عمل میں سرگرم دکھائی دیا۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے دورہِ مسقط کو اسی سفارتی کوشش کا حصہ قرار دیا
گیا، جہاں آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کے تحفظ سمیت متعدد عملی امور زیرِ بحث
آئے۔
صدر ٹرمپ کے قتل کی سازش!!!
امن کی
کوششوں کے دوران ایک اور حساس موڑ اس وقت آیا جب اسرائیلی انٹیلی جنس ذرائع کے
حوالے سے دعویٰ کیا گیا کہ ایران صدر ٹرمپ کو نشانہ بنانے کی منصوبہ بندی کر رہا
ہے۔ اس خبر کے بعد صدر ٹرمپ نے انتہائی سخت لہجہ اختیار کرتے ہوئے کہا کہ اگر
انہیں قتل کیا گیا تو "پورا ایران تباہ کر دیا جائے گا۔"
یہ
دعویٰ اپنی نوعیت میں نہایت سنگین تو ہے، لیکن اب تک اس کے حق میں کوئی آزاد اور
قابلِ اعتماد ثبوت سامنے نہیں آیا۔ اطلاعات کے مطابق اس تاثر کی بنیاد ایرانی
قیادت کی تقاریر، رہبرِ انقلاب کے جنازے میں لگائے گئے نعروں اور بینروں کو بنایا
گیا ہے۔ تاہم ایران میں "مرگ بر امریکہ" اور "مرگ بر اسرائیل"
کے نعرے 1979ء کے انقلاب کے بعد سے ریاستی اور عوامی سیاسی بیانئے کا حصہ رہے ہیں۔
ان نعروں کو اشتعال انگیز ضرور کہا جا سکتا ہے، لیکن انہیں ازخود کسی قتل کی عملی
سازش کا ثبوت قرار دینا ایک الگ دعویٰ ہے جس کے لیے ٹھوس شواہد درکار ہیں۔یہ بھی
حقیقت ہے کہ گزشتہ ایک برس کے دوران صدر ٹرمپ پر ہونے والی تمام مبینہ قاتلانہ
کوششوں کی تحقیقات میں اب تک کسی غیر ملکی ریاست یا تنظیم کے ملوث ہونے کا مصدقہ
ثبوت سامنے نہیں آیا۔ کشیدگی صرف ایک جانب سے نہیں بڑھ رہی۔ امریکی اور اسرائیلی
رہنما بھی کئی مواقع پر ایرانی قیادت کے خلاف سخت زبان استعمال کر چکے ہیں۔ صدر
ٹرمپ کا یہ بیان کہ امریکہ چاہتا تو ایرانی قیادت کو ایک ہی حملے میں نشانہ بنا
سکتا تھا، یا یہ کہنا کہ ان کی ہلاکت کی صورت میں پورا ایران تباہ کر دیا جائے گا،
سفارتی ماحول کو مزید پیچیدہ بناتا ہے۔ ایسے بیانات مذاکرات کے بجائے بداعتمادی کو
فروغ دیتے ہیں۔
جوہری پروگرام: نئی بحث
چند
روز پہلے امریکی نشریاتی ادارے CNN نے
سیٹلائٹ تصاویر کی بنیاد پر دعویٰ کیا کہ ایران اپنی متاثرہ جوہری تنصیبات کی
بحالی کی کوشش کر رہا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ اگر یہ سرگرمیاں درست ثابت ہوئیں
تو انہیں یادداشتِ اسلام آباد کی روح سے متصادم سمجھا جا سکتا ہے۔ تاہم اس رپورٹ
میں ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق موجود نہیں،لہذا حتمی نتیجہ اخذ کرنا قبل از وقت
ہوگا۔
راہداری
محصول ایک نئی قانونی بحث
اسی کشیدگی کے دوران آبنائے ہرمز ایک نئے
قانونی اور سفارتی تنازع کا مرکز بن گئی۔ ابتدا میں ایران کی جانب سے اس بین
الاقوامی آبی شاہراہ سے گزرنے والے جہازوں
پر راہداری محصول
(Toll) عائد کرنے کی
تجویز سامنے آئی، جس پر اقوامِ عالم نے یہ اعتراض کیا کہ کسی بھی ریاست کو بین
الاقوامی آبی گزرگاہ پر یک طرفہ مالی پابندی عائد کرنے کا اختیار حاصل نہیں۔ اس کے
جواب میں گزشتہ ہفتے صدر ٹرمپ نے اعلان کیا کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں
پر "20 فیصد تلافی محصول (Reimbursement Fee)"عائد کیا جائیگا۔ ابتدا میں یہ اقدام ایران
کے مجوزہ ٹول کا جواب محسوس ہوا، تاہم 13 جولائی کو صدر ٹرمپ نے وضاحت کی کہ
امریکہ اس بین الاقوامی آبی گزرگاہ کو کھلا اور محفوظ رکھنے کی بھاری جانی و مالی
قیمت ادا کر رہا ہے، لہٰذا اس راستے سے اپنے تجارتی مفادات حاصل کرنے والے خوش حال
ممالک، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، بحرین اور کویت کو امریکی فوجی
کارروائیوں کے اخراجات کی تلافی
(Reimbursement) کرنی
چاہئے۔ یہ دلیل سیاسی طور پر قابلِ فہم ہو سکتی ہے، لیکن قانونی اعتبار سے اس پر
بھی وہی سوالات اٹھتے ہیں جو ایران کی مجوزہ راہداری فیس پر اٹھائے گئے تھے۔ آبنائے
ہرمز کسی ایک ریاست کی نجی گزرگاہ نہیں بلکہ ایک عالمی آبی شاہراہ ہے، جہاں جہاز
رانی کی آزادی بین الاقوامی قانون کا بنیادی اصول سمجھی جاتی ہے۔ اگر ایران کا یک
طرفہ راہداری لگان قابلِ اعتراض ہے تو امریکہ کی جانب سے یک طرفہ مالی وصولی کی
تجویز بھی اسی قانونی پیمانے پر پرکھی جانی چاہئے۔
اس معاملے کا ایک امریکی آئینی پہلو بھی
ہے۔ امریکی دستور کے مطابق نئے وفاقی ٹیکس یا محصول کے نفاذ کے لئے کانگریس سے
قانون سازی ضروری ہے۔ چنانچہ اگر یہ اعلان محض سیاسی بیان نہیں بلکہ عملی پالیسی
میں تبدیل کرنا مقصود ہو تو اسے آئینی اور قانونی مراحل سے گزرنا ہوگا۔ اس میں ایک
دلچسپ تاریخی ستم ظریفی بھی پوشیدہ ہے۔ امریکی آزادی کی تحریک کا آغاز 1773ء کی
مشہور Boston Tea Party سے جوڑا جاتا ہے، جس کا بنیادی نعرہ "No Taxation Without
Representation"
تھا، یعنی نمائندگی کے بغیر ٹیکس قبول نہیں۔ دو سو پچاس برس
بعد عالمی تجارت پر یک طرفہ مالی بوجھ ڈالنے کی بحث اس تاریخی اصول کی نئی تعبیر
سامنے لا رہی ہے۔
ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان
موجودہ کشیدگی صرف میزائلوں اور فضائی حملوں کی جنگ نہیں، بلکہ اطلاعات، انٹیلی
جنس دعوؤں، نفسیاتی و معاشی دباؤ، سفارتی
چالوں اور بین الاقوامی قانون کی تعبیرات کی جنگ بھی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ شدید عسکری کارروائیوں کے
باوجود مذاکرات کے دروازے مکمل طور پر بند نہیں ہوئے۔
اصل سوال اب یہ نہیں کہ کون زیادہ سخت بیان
دیتا ہے یا کس کے پاس زیادہ طاقت ہے، بلکہ یہ ہے کہ کیا عالمی برادری ایک ہی
قانونی اصول کو تمام فریقوں پر یکساں طور پر نافذ کر پائے گی؟ اگر ہر غیر مصدقہ
دعوے کو جنگ کا جواز، ہر اقتصادی اقدام کو سیاسی ہتھیار اور ہر بین الاقوامی اصول
کو صرف مخالفین کے لیے مخصوص معیار بنا دیا گیا تو امن کا راستہ مزید طویل اور
پیچیدہ ہو جائے گا۔
ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل کراچی، 17 جولائی
2026
ہفت روزہ دعوت دہلی 17 جولائی 2026
ہفت روزہ رہبر سرینگر 19 جولائی 2026
No comments:
Post a Comment