غزہ: امن کی امید یا جنگ کا نیا مرحلہ؟
حماس کی حکومتی دستبرداری کے باوجود حملے، قبضہ اور انسانی المیہ
برقرار
جب
حماس نے امن معاہدے کے تحت غزہ کی انتظامی حکومت تحلیل کرنے اور اختیارات ایک غیر
جماعتی اللجنۃ الوطنیہ لادارۃ غزہ یاNational Committee for the Administration
of Gaza (NCAG) کے سپرد کرنے پر آمادگی ظاہر کی تو یہ امید پیدا ہوئی
کہ اب غزہ میں سول انتظامیہ بحال ہوگی، اسرائیلی فوج کے انخلا کی راہ ہموار ہوگی
اور تعمیرِ نو کا عمل شروع ہو سکے گا۔ اس پیش رفت کو نہ صرف متعدد سفارتی حلقوں نے
مثبت قرار دیا بلکہ NCAG کے سربراہ ڈاکٹر علی شعث نے بھی اعلان کیا
کہ کمیٹی غزہ کی سول انتظامیہ سنبھالنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے، بشرطیکہ اسے
کام کرنے کا موقع اور ضروری وسائل فراہم کیے جائیں۔ اسی طرح Board of Peace کے
اعلیٰ نمائندے نکولائی ملادینوف نے بھی اسے ایک اہم پیش رفت قرار دیا تھا۔ لیکن اب
تک زمینی صورتحال اس امید کی تائید نہیں کرتی۔ بظاہر وہ خدشہ درست ثابت ہو رہا ہے
جس کا اظہار ڈاکٹر علی شعث نے ابتدا ہی میں کیا تھا کہ اگر نئی انتظامیہ کو اختیار
اور وسائل نہ ملے تو یہ تبدیلی محض ایک علامتی اقدام بن کر رہ جائے گی۔
جنگ بندی کے باوجود شہری نشانہ
غزہ
میں مزاحمتی گروہوں کے نسبتاً مصالحت آمیز روئے کے باوجود اسرائیلی فوجی
کارروائیاں رکتی دکھائی نہیں دیتیں۔ خوراک اور پانی کے حصول کے لیے نکلنے والے
شہری بھی محفوظ نہیں۔ گزشتہ ہفتے اپنے بچوں کے لئے پانی لینے جانے والے احمد سلامہ
اسرائیلی فائرنگ میں جان سے گئے۔ احمد کی لاش کے قریب انکے خوف زدہ یتیم بچوں کی
تصاویر نے دنیا بھر میں دل دہلا دینے والا منظر پیش کیا۔اسی ہفتے خان یونس کی ایک
خیمہ بستی پر حملہ کیا گیا، جس کا ہدف حماس کے ترجمان حازم قاسم تھے۔ حملے میں چھ
فلسطینی زندہ جل گئے، تاہم حازم قاسم محفوظ رہے۔
کھیل بھی محفوظ نہیں
غزہ
میں اب کھیل اور تفریح کے لمحات بھی محفوظ نہیں رہے۔ نصیرات کے علاقے میں جب لوگ
ایک بڑی اسکرین پر مصر اور ارجنٹینا کے درمیان فیفا مقابلہ دیکھ رہے تھے تو ڈرون
حملے میں آٹھ افراد جاں بحق ہوگئے۔ فلسطینی ذرائع کے مطابق جاں بحق ہونے والوں میں
آٹھ اور دس سال کے دو سگے بھائی، غزہ کمیٹی کے مصری رکن محمد الوحیدی اور وہ آئی
ٹی ماہر بھی شامل تھے جس نے اسکرین پر میچ کی نمائش کا انتظام کیا تھا۔
غربِ اردن: کھلے آسمان تلے جیل خانے
غربِ
اردن میں بھی پابندیاں مسلسل سخت ہوتی جا رہی ہیں۔ متعدد فلسطینی آبادیوں کے گرد
آہنی باڑیں اور دروازے نصب کر دئے گئے ہیں، جہاں جامہ تلاشی کے بعد ہی آمدورفت
ممکن ہے۔ بہت سے فلسطینی ان علاقوں کو "کھلے آسمان تلے جیل خانے" قرار
دیتے ہیں۔
ادھر
الخلیل (Hebron) میں مزید مکانات پر قبضے کی اطلاعات سامنے
آئیں، جس کے نتیجے میں متعدد فلسطینی خاندان بے گھر ہوئے۔ انہی واقعات کا جائزہ
لینے کے لئے جب امریکی ریاست کیلیفورنیا
سے ڈیموکریٹک رکنِ کانگریس رو کھنہ جنوبی غربِ اردن کے گاؤں خربت زنوتہ (Khirbet Zanuta) پہنچے تو مسلح اسرائیلی آبادکاروں نے ان کے
قافلے کا راستہ روک لیا۔ رو کھنہ نے بتایا کہ آبادکار امریکی ساختہ M4 رائفلوں
سے مسلح تھے اور انہیں ایک گھنٹے سے زائد عرصہ آگے نہیں جانے دیا گیا۔ بعد ازاں
امریکی سفارت خانے اور اسرائیلی پولیس سے رابطے کے بعد راستہ کھلوایا گیا۔
اسرائیلی
فوج نے تصدیق کی ہے کہ قبضہ گردوں نے
گاڑیوں کو روکا تھا، تاہم عسکری اعلامئے
میں اس بات کی تردید کی گئی کہ فوج نے امریکی وفد کو حراست میں لیا۔ بیان کے مطابق
اہلکار موقع پر پہنچے، آبادکاروں کو منتشر کیا اور وفد کو آگے جانے دیا۔ بعد میں
رو کھنہ نے بتایا کہ وہ اس گاؤں کا جائزہ لینے گئے تھے جہاں چند روز قبل آبادکاروں
کے مبینہ حملے میں اسکول سمیت متعدد عمارتوں کو نقصان پہنچا تھا۔
یہ واقعہ صرف ایک امریکی رکن
کانگریس کے ساتھ پیش آنے والا ناخوشگوار واقعہ نہیں، بلکہ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ
نیتن یاہو حکومت کی جانب سے کھلی چھٹی نے ان انتہاپسندوں کو کیسا بیخوف کردیا ہے
کہ اب یہ لوگ امریکہ کا فراہم کردہ اسلحہ لے کر امریکی ارکان کانگریس پر بھی جھپٹ
رہے ہیں۔
اسرائیل کا داخلی بحران
دوسری
جانب اسرائیل کے اندر بھی لازمی فوجی بھرتی کا بحران شدت اختیار کر رہا ہے۔ حفظِ
توریت مدارس (Yeshiva) کے طلبہ کو فوجی خدمت سے حاصل استثنا ختم
کرنے کی کوششوں کے خلاف ربائیوں اور طلبہ نے شدید احتجاج کیا۔ بعض مظاہرین فوجی
اڈے بیت لِد کے مرکزی دروازے تک پہنچ گئے اور سکیورٹی حصار توڑنے کی کوشش کی۔
اسی
دوران "سبت" کے نفاذ پر بھی مذہبی اور سیکولر حلقوں کے درمیان کشمکش بڑھ
رہی ہے۔ مذہبی جماعتیں ہفتے کے روز کاروبار بند رکھنے پر زور دے رہی ہیں، جبکہ
سیکولر حلقے اسے شہری آزادیوں میں مداخلت قرار دیتے ہیں۔ ہفتے کے دن کھلی دکانوں
کے باہر مذہبی مظاہرے اور بند بازاروں کے سامنے سیکولر احتجاج اب معمول بنتے جا
رہے ہیں۔
ستم
ظریفی یہ ہے کہ جس معاشرے میں ہفتے کے روز کاروبار پر اتنا شدید اختلاف موجود ہے،
وہاں جنگ اور بمباری کے لئے کسی اخلاقی یا مذہبی وقفے کی گنجائش کی بات نہیں ہوتی۔
اگر سبت آرام، عبادت اور حرمتِ جان کا دن ہے تواس کا اطلاق جنگی کارروائیوں پر بھی
ہونا چاہئے
حماس
کی انتظامی دستبرداری سے یہ امید پیدا ہوئی تھی کہ غزہ میں جنگ کے بجائے تعمیرِ نو
کا مرحلہ شروع ہوگا، مگر زمینی حقائق اس کے برعکس دکھائی دیتے ہیں۔ حملے جاری ہیں،
شہری اب بھی عدم تحفظ کا شکار ہیں، غربِ اردن میں پابندیاں مزید سخت ہو رہی ہیں
اور اسرائیل خود اندرونی سیاسی و سماجی کشمکش سے گزر رہا ہے۔اگر نئی سول انتظامیہ
کو اختیار، وسائل اور آزادیِ عمل نہیں ملتی، اور جنگ بندی صرف کاغذوں تک محدود
رہتی ہے، تو خدشہ یہی ہے کہ غزہ ایک بار پھر سفارتی وعدوں اور انسانی المیوں کے
درمیان پھنسا رہے گا۔ پائیدار امن صرف اس وقت ممکن ہے جب سیاسی معاہدوں کے ساتھ ان
پر غیر جانب دارانہ عمل درآمد بھی یقینی بنایا جائے۔
ہفت روزہ
فرائیڈے اسپیشل کراچی 17 جولائی 2026
ہفت
روزہ ددعوت دہلی 17 جولائی 2026
ہفت روزہ رہبر سرینگر 19 جولائی 2026
No comments:
Post a Comment